بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ * لا الہٰ الا اللہ محمّد رسول اللہ * قُلْ هُوَ اللّـٰهُ اَحَدٌ - اَللَّـهُ الصَّمَدُ - لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُوْلَدْ - وَلَمْ يَكُنْ لَّـهٝ كُفُوًا اَحَدٌ

قرآن


قرآن حکیم کی شان اعجاز

2017-05-23 07:50:39 

ولید بن مغیرہ قرآن اور صاحب قرآن کا بہت بڑا دشمن تھا۔اس کی قادر الکلامی کی دھوم پورے مکہ میں تھی۔ابوجہل چاہتا تھا کہ اس کی زبان سے قرآن حکیم کے خلاف کچھ کلمات نکلوائے۔ولید بن مغیرہ اسلام کا دشمن تو تھا مگر قرآن کی عظمت نے اسے سرنگوں کر رکھا تھا۔ابوجہل کے اصرار پر اس نے کہا کہ تم جانتے ہو کہ میں تمام اصناف سخن کا تم سے زیادہ شناسا ہوں۔لیکن خدا کی قسم محمد ﷺ کا کلام اصناف سخن میں کسی سے بھی تعلق نہیں رکھتا۔اس موقعہ پر ولید بن مغیرہ نے یہ تاریخی جملے کہے:۔
وَاللّٰہِ اِنَّ لِقَولِہٖ لَحَلَاوَۃََ وَاِنَّ عَلَیہِ لَطَلَاوَۃََ وَاِنَّہُ لَمُنِیرُُ اَعلَاہُ مُشرِقُُ اَسٗفَلُہُ وَاِنَّہُ لَیَعلُوٗ وَمَا یُعلٰی وَاِنَّہُ لَیَحطِمُ مَا تَحتَہُ0
"خدا کی قسم اس کلام میں ایک عجیب قسم کی مٹھاس ہے۔حسن وجمال اس پر سایہ کناں ہے۔اس کا اوپر والا حصہ ضیاء بار اور نیچے والا حصہ تجلی ریز ہے۔یہ غالب آتا ہے مغلوب نہیں ہو سکتا۔جو اس کے نیچے آتا ہے یہ اسے پیس کر رکھ دیتا ہے"
 

قرآںی معلومات

2017-06-06 04:33:24 

معلوماتِ قرآن کریم

قرآن کریم کی پہلی منزل میں چار سورتیں، پچاسی رکوع اور چھے سو انہتر آیات ہیں۔

قرآن کریم کی دوسری منزل میں پانچ سورتیں، چھیاسی رکوع اور چھے سو پچانوے آیات ہیں۔

قرآن کریم کی تیسری منزل میں سات سورتیں، اڑسٹھ رکوع اور چھے سو پینسٹھ آیات ہیں۔

قرآن کریم کی چوتھی منزل میں نو سورتیں، چھہتر رکوع اور نو سو تین آیات ہیں۔

قرآن کریم کی پانچویں منزل میں گیارہ سورتیں، بہتر رکوع اور آٹھ سو چھپن آیات ہیں۔

قرآن کریم کی چھٹی منزل میں چودہ سورتیں، انہتر رکوع اور اور آٹھ سو ستاسی آیات ہیں۔

قرآن کریم کی ساتویں منزل میں چونسٹھ سورتیں، ایک سو دو رکوع اور ایک ہزار پانچ سو اکسٹھ آیات ہیں۔

قرآن کریم کا سب سے بڑا پارہ تیسواں پارہ ہے جس میں سینتیس سورتیں ، انتالیس رکوع اور پانچ سو چونسٹھ آیات ہیں۔

قرآن کریم کا سب سے چھوٹا پارہ چھٹا پارہ ہے جس میں ایک سو گیارہ آیات ہیں۔

قرآن کریم کی سب سے چھوٹی آیات(بامعنی) سورة المدثر کی آیت نمبر اکیس ہے۔
ثم نظر ( پھر تامل کیا)
 سورة المدثر۔۔آیت نمبر اکیس

قرآن کریم کی سب سے بڑی آیت سورة البقرہ کی آیت نمبر دو سو بیاسی ہے۔

قرآن کریم کا سب سے بڑا رکوع سورة صفٰت کا دوسرا رکوع ہے جس میں تریپن آیات ہیں۔

قرآن کریم کا سب سے چھوٹا رکوع سورة المزمل کا دوسرا رکوع ہے جس میں ایک ہی آیت ہے۔

قرآن کریم کی سب سے چھوٹی سورت سورة الکوثر ہے جس کی تین آیات ہیں ، گیارہ الفاظ ہیں اور سینتیس اعراب ہیں۔

قرآن کریم کی سب سے بڑی سورة البقرہ ہے جس کی دو سو چھیاسی آیات ہیں،چالیس رکوع ہیں اور چھے ہزار نو سو اٹھاون الفاظ ہیں۔

سورة اخلاص تہائی قرآن ہے جبکہ سورة کافرون اور سورة زلزال چوتھائی قرآن ہے،
 (ترمذی)

قرآن کریم میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو گیارہ بار "يا أيها النبي " پکارا گیا ہے۔

عرب ممالک میں ہر پارے کے دو حصے ہوتے ہیں ہر حصہ حزب کہلاتا ہے۔

لفظ قرآن، قرآن مجید میں بطور معرفہ پچاس بار اور بطور نکرہ اسی بار آیا ہے ۔یعنی پچاس بار قرآن کا مطلب کلام مجید ہے اور اسی بار ویسے کسی پڑھے جانے والی چیز کے معنی 
 میں استعمال ہوا ہے۔

قرآن کریم کی وہ سورتیں جو سو سے کم آیات والی ہیں مثانی کہلاتی ہیں۔

قرآں کی وہ سورتیں جو سو سے زیادہ آیات والی ہیں مَیں کہلاتی ہیں۔

قرآن کریم کے دوسرے اور پانچویں پارے میں نہ کسی سورت کی ابتداء ہے اور نہ ہی انتہا۔

قرآن کریم کے دو جملے جن کو الٹی سمت میں بھی پڑھا جائے تو مطلب اور تلفظ وہی رہتا ہے
کل فی فلک۔۔۔۔۔۔سورة الانبیا، آیت تینتیس
 ربک فکبر۔۔۔۔۔۔۔سورة المدثر، آیت تین

قرآن پاک کی سورة المجادلہ کی ہر سورت میں لفظ خاص" اللہ " آیا ہے۔

قرآن کریم کے آٹھ پارے ایک نئی سورت سے شروع ہوتے ہیں۔

قرآن کریم میں صحابہ کرام میں سے صرف ایک صحابی کا نام آیا ہے۔۔۔حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔۔

ہدہد کا نام قرآن کریم میں صرف ایک بار آیا ہے۔۔۔سورة النمل آیت بیس۔

قرآن کریم میں ہے کہ قیامت کے دن اللہ پاک کے عرش کو آٹھ فرشتوں نے تھام رکھا ہو گا۔۔۔۔سورة الحاقہ، آیت سترہ۔

قرآن کریم میں سب سے زیادہ دہرائی جانے والی آیت" پس تم اپنے پردوردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاو گے؟
 سورة الرحمن میں اکتیس بار

قرآن کریم میں تین مساجد کا نام آیا ہے
 مسجد اقصٰی، مسجد الحرام اور مسجد ضرار

قرآن کریم کے مطابق سیدنا موسٰی علیہ السلام کو نو معجزے عطاء فرمائے گئے۔۔۔۔
حوالہ
 سورة النمل آیت نمبر بارہ۔۔۔۔۔سورة بنی اسرائیل آیت نمبر ایک سو ایک

پانچ نبی جن کے نام اللہ رب العزت نے ان کی پیدائش سے قبل بتا دیے تھے
سیدنا احمد صلی اللہ علیہ وسلم۔۔۔سورة الصف آیت نمبر چھے
سیدنا یحیٰی علیہ السلام۔۔۔سورة المریم آیت نمبر سات
سیدنا عیسٰی علیہ السلام ۔۔۔سورة آل عمران آیت نمبر پینتالیس
سیدنا اسحاق علیہ السلام
سیدنا یعقوب علیہ السلام
 سورة ھود آیت نمبر اکہتر

قرآن کریم میں اللہ پاک نے اپنی صفت ربوبیت کا ذکر سب سے زیادہ مرتبہ فرمایا ہے قرآن کریم میں لفظ رب ایک ہزار چار سو اٹھانوے مرتبہ آیا ہے۔

قرآن کریم کی سورة الفاتحہ کو سورة واجبہ بھی کہتے ہیں کیوں کہ نماز میں اس کی قرآت واجب ہے۔

قرآن کریم میں دو دریاوں کا ذکر آیا ہے کہ یہ ایک ساتھ ہونے کے باوجود ان کا پانی آپس میں نہیں ملتا ایک کا پانی کھارا ہے ایک کا پانی میٹھا ہے ان دریاوں کا ذکر سورة الرحمٰن آیت نمبر انیس بیس میں ہے یہ دونوں دریا جنوبی افریقہ کے شہر کیپ ٹاون میں واقع ہیں۔

سورة صمد،سورة نجات،سورة اساس، سورة معوذہ،سورة تفرید،سورة تجرید،سورة جمال اور سورة ایمان۔۔یہ سب سورة اخلاص کے نام ہیں۔

سورة الحجر آیت نمبر بہتر میں اللہ پاک نے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان (عمر) کی قسم کھائی ہے

تیری جان(عمر) کی قسم وہ تو اپنی مستیوں میں مدہوش تھے۔

قرآن کریم کی پانچ سورتوں کا آغاز الحمد سے ہوتا ہے۔
 سورة الفاتحہ،سورة الانعام، سورة سبا،سورة الکہف اور سورة فاطر۔

قرآن کریم کی پانچ سورتوں کا آغاز قل سے ہوتا ہے
 سورة االاخلاص،سورة الکافرون ،سورة الفلق،سورة الناس اور سورة الجن

لاالہ الا محمد الرسول اللہ(صلی اللہ علیہ وسلم)
 پورا کلمہ طیبہ قرآن کریم میں کسی ایک جگہ بھی نہیں آیا ہے۔

"بسم اللہ الرحمٰن الرحیم " سب سے پہلے سیدنا خالد بن سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے لکھی تھی۔

قرآن کریم میں چار سبزیوں کا ذکر ہے۔
 ساگ،ککڑی ،لہسن اور پیاز

قرآن کریم کی آخری وحی کے کاتب سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے۔

قرآن کریم میں تین شہروں کا نام آیا ہے
 یثرب،بابل اور مکہ

قرآن کریم میں چار پہاڑوں کا نام آیا ہے
 کوہ جودی،کوہِ صفا،کوہِ مروہ اور کوہِ طور

قرآن کریم میں چار دھاتوں کا ذکر آیا ہے
 لوہا،سونا،چاندی اور تانبا

قرآن کریم میں تین درختوں کا نام آیا ہے
 کھجور،بیری اور زیتون

قرآن کریم میں پانچ پرندوں کا ذکر آیا ہے
 ہدہد،ابابیل،کوا،تیتر اور بٹیر

قرآن کریم نے ابولہب کے علاوہ کسی کو کنیت سے نہیں پکارا
 عرب کسی کو عزت اور شرف سے نوازنے کے لیے کنیت سے پکارتے ہیں لیکن یہاں معاملہ اور ہے ابولہب کا اصل نام عبدالعزیٰ تھا جو ایک کہ شرکیہ نام ہے عزیٰ اس بت کا نام تھا جسے قریش کے کفار پوجتےتھے اور عبدالعزیٰ کا معنی عزیٰ کا غلام۔۔لہذا اللہ پاک نے شرکیہ نام سے پکارنے بجائے ابولہب کو کنیت سے پکارا۔

قرآن کریم میں سب سے طویل نام والی سورت سورة بنی اسرائیل ہے۔

قرآن کریم میں سب سے زیادہ اسماء الحسنےٰ کا ذکر سورة الحشر کی آیت نمبر تئیس میں ہے۔

قرآن کریم میں پیغمبروں کے نام سے چھے سورتیں ہیں
 سورة یونس،سورة یوسف،سورة ہود، سورة ابراہیم،سورة محمد اور سورة نوح

قرآن کریم کی تین سورتیں ہیں جن کا نام ان سورتوں کے پہلے لفظ سے لیا گیا ہے
 سورة طحہٰ، سورة یٰسین اور سورة ق

قرآن کریم کی بارہ سورتیں ہیں جن کے نام میں کوئی نقطہ نہیں آتا
 مائدہ،ہود،رعد،طٰہ،روم،ص،م حمد،طور،،ملک،دہر،اعلی، اور عصر

قرآن کریم لفظ الرحمٰن ستاون اور الرحیم ایک سو چودہ مرتبہ آیا ہے۔

قرآن میں لفظ ابلیس گیارہ مرتبہ آیا ہے،۔

قرآن کریم میں انسانوں میں سب سے زیادہ ذکر سیدنا موسیٰ علیہ السلام کا آیا ہے۔۔چھتیس بار
 (کم و بیش)

نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد قرآن کریم کے سب سے پہلے حافظ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے۔

سورة بنی اسرائیل کا دوسرا نام سورة اسراء بھی ہے۔

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ترجمانِ قرآن بھی کہا جاتا ہے۔

قرآن کریم میں لفظ احمد ایک بار آیا ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم چار مرتبہ

قرآن کریم میں لفظ اللہ دو ہزار چھے سو اٹھانوے دفعہ آیا ہے۔

قرآن کریم کا سب سے پہلے اردو ترجمہ سترہ سو چھہتر میں شاہ رفع الدین نے کیا تھا۔

قرآن کریم کی ایک سورت کا آغاز دو پھلوں کے نام سے ہوا ہے
سورة التین
والتین وزیتون
 انجیر اور زیتون

قرآن کریم کی جس سورت کا اختتام دو نبیوں کے نام پر ہوتا ہے وہ سورة الاعلی ہے
 ابراہیم و موسی

قرآن کریم کی حوامیم(یعنی جن سورتوں کا آغاز حم سے ہوتا ہے) وہ سات ہیں۔
 سورة غافر،، سورة فصلت، سورة زخرف،سورة الدخان ،سورة الجاثیہ ،سورة الاحقاف اور سورة الشوریٰ

قرآن کریم کی پانچ سورتیں ہیں جن کا آغاز الر سے ہوتا ہے
 سورة یونس ، سورة ہود، سورة یوسف، سورة الحجر اور سورة ابراہیم

قرآن کریم کی تین سورتیں سبح سے شروع ہوتی ہیں
سورة الحدید،سورة الحشر، سورة اور سورة الصف
قرآن کریم میں دو سورتیں ہیں جن کا آغاز یسبح سے ہوتا ہے
 سورة الجمعہ اور سورة التغابن

دو سورتیں ہیں جن کی ابتدا تبارک سے ہوتی ہے
 سورة الفرقان اورسورة الملک

چھے سورتیں ہیں جو الم سے شروع ہوتی ہیں
 سورة البقرة ،سورة آل عمران، سورة العنکبوت،سورة الروم،سورة لقمان اور سورة السجدہ

قرآن کریم میں دو سورتیں ہیں جن کا آغاز طسم سے ہوتا ہے۔
 سورة الشعراء اورسورة القصص

چار سورتیں ہیں جن کی ابتداء انا سے ہوتی ہے
 سورة الفتح،سورة نوح،سورة القدر اور سورة الکوثر

دو سورتیں ہیں جو ویل سے شروع ہوتی ہے
 سورة المطفیفین، سورة الھمزہ

تین سورتیں ہیں جن کی ابتداء یاایھالنبی سے ہوتی ہے
 سورة الاحزاب ،سور ة الطلاق اور سورة التحریم

سورة الاخلاص کی تمام آیات د پر ختم ہوتی ہیں۔

سورة التوبہ کی آیت نمبر چھتیس میں ہے کہ مہینوں کی تعداد بارہ ہے۔

سورة المجادلہ کا دوسرا نام سورة ظہار ہے۔

قرآن کریم کہ پے در پے تین سورتیں ہیں جن میں لفظ اللہ نہیں آیا
 سورة الرحمن،سورة الواقعہ اور سورة القمر

سورہ محمد کا دوسرا نام سورة القتال ہے۔

قرآن کریم کی سات سورتیں حیوانوں کے نام پر آئی ہیں۔
 سورة البقرة۔۔ گائے

سورة الانعام۔۔۔مویشی

سورة النحل۔۔۔شہد کی مکھی

سورة النمل ۔۔۔چیونٹیاں

سورة العنکبوت۔۔۔۔مکڑی

سورة العادیات۔۔۔۔۔گھوڑے

سورة الفیل۔۔۔۔۔ہاتھی

اور

قرآن کریم میں
آدم علیہ السلام کا ذکر پچیس بار
ادریس علیہ السلام کا ذکر دو بار
نوح علیہ السلام کا ذکر تینتالیس بار
ہود علیہ السلام کا ذکر سات بار
صالح علیہ السلام کا ذکر نو بار
ابراہیم علیہ السلام کا ذکر انہتر بار
لوط علیہ السلام کا ذکر ستائیس بار
اسماعیل علیہ السلام کا ذکر بارہ بار
اسحاق علیہ السلام کا سترہ مرتبہ
یعقوب علیہ السلام کا سولہ مرتبہ
یوسف علیہ السلام کا ستائیس مرتبہ
ایوب علیہ السلام کا چار بار
شعیب علیہ السلام کا گیارہ بار
ہارون علیہ السلام کا بیس مرتبہ
ذوالفکل علیہ السلام کا دو مرتبہ
داود علیہ السلام کا سولہ مرتبہ
سلیمان علیہ السلام کا سترہ بار
ہارون علیہ السلام کا بیس بار
الیسع علیہ السلام کا کا د وبار
یونس علیہ السلام کا چار بار
زکریا علیہ السلام کا سات مرتبہ
یحییٰ علیہ السلام کا پانچ مرتبہ
اور
 عیسی علیہ السلام کا پچیس مرتبہ

ذکر آیا ہے
اللہ پاک کمی پیشی معاف فرمائے
 آمین

حفاظت قرآن اور اغیار کی گواہی

2017-06-13 03:24:59 

 کلام پاک جب نازل ہو رہا تھا اس زمانے میں عرب میں لکھنے پڑھنے کا رواج بہت ہی کم تھا۔کتاب نام کی کوئی چیز نہ تھی۔ شعراء وغیرہ کا کلام لوگ زبانی یاد رکھا کرتے تھے۔وہ بھی گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ ذہنوں سے مفقود ہو جاتا۔حتیٰ کہ مذاہب عالم کی مقدس کتابیں بھی وقت کے ہاتھوں محفوظ نہ رہیں۔ اکثر تو وہ زبان جس میں یہ نازل ہوئی تھیں ختم ہو گئیں۔ مثلاََ حضرت عیسیٰ علیہ السلام جنہیں آسمانوں کی طرف اٹھائے ہوئے تقریباََ دو ہزار سال ہوئے ان کے خطبات ناپید ہیں ۔ان کی تالیف کردہ انجیل کہیں بھی نہیں اور جو ہے وہ ان کے پیروکاروں کی لکھی باتیں ہیں۔وہ بھی ترجموں میں ، اصل زبان جس میں یہ لکھی گئی وہ بھی ختم ہو چکی۔باقی مذاہب کی کتابوں کا بھی یہی حال ہے۔اس پس منظر میں قرآن حکیم فرقان حمید اعلان کرتا ہے :۔ 
"إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ"
 ہم ہی اس پیغام کو نازل کرنے والے ہیں اور ہم ہی اس کی حفاظت کے ذمہ دار ہیں۔ (سورۃ الحجر آیہ 9)
 یہ ایک بہت بڑی پیشنگوئی تھی۔وقت قرآن کریم کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکا۔بلکہ اس سے عربی زبان کو دوام مل گیا ہے۔قرآن حکیم کے غیر مسلم ناقدین کے نزدیک بھی قرآن حکیم اپنے حروف،الفاظ،آیات،سورتوں کی ترتیب غرض ہر لحاظ سے وہی ہےجو دنیا کو ختم الرسل حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے دیا تھا۔اللہ عزوجل نے اس کی حفاظت کو کاغذ، قلم اور پرنٹنگ کے سپرد کرنے کے بجائےیہ کام لوگوں کے دلوں کو سونپ دیا۔اور اسے یاد رکھنا اتنا آسان بنا دیا کہ چھ سات سال کے بچوں کو بھی قرآن حکیم زبانی یاد ہو جاتا ہے۔چنانچہ آج بھی دنیا میں لاکھوں لوگ حافظ قرآن ہیں۔ مطلب یہ کہ جب تک دنیا میں انسان باقی ہے قرآن باقی ہے۔
 یہ قرآن پاک کا زندہ معجزہ ہے کہ کٹر سے کٹر مخالفین بھی اس کی صحت پر انگلی نہیں اٹھا سکتے۔لیکن ان کے بیانات میں کچھ نہ کچھ حد تک خبث باطن ضرور ہوتا ہے۔چنانچہ قرآن حکیم کے متعلق چند مخالفین کے اقوال درج ذیل ہیں:۔
11۔ہیری گیلارڈ ڈارمن لکھتا ہے کہ "قرآن پاک کے بیانات جو مسلمانوں کے پیغمبر حضرت محمد ﷺ پر اللہ عزوجل نے وحی کے ذریعے نازل کیئےوہ اپنے معنی میں ہر زمانے کے لیئے پکے معجزات کی طرح ہیں"
22۔فرانسیسی مصنفہ لوراویسیا والر لکھتی ہے کہ "قرآن پاک کے کتاب قدسی ہونے کا یہی ایک ثبوت کافی ہے کہ زمانہ اس میں زیر و زبر تک کا تغیر نہ لا سکا" 
33۔روڈی پیرٹ لکھتا ہے کہ "ہمارے پاس ایسا کوئی سبب نہیں جو ہمیں یہ اعتقاد رکھنے پر مجبور کرے کہ قرآن میں کوئی ایک بھی آیہ ایسی ہے جو حضرت محمد ﷺ سے مروی نہیں"4۔ انگریز پروفیسر اے جی ایبرےجس نے قرآن کریم کا ترجمہ بھی کیا، نے یہ دلیل پیش کی کہ"اہل مغرب کے دلوں میں قرآن پاک کے متعلق جو غلط فہمیاں ہیںاس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ان تک قرآن پاک کے صحیح تراجم نہیں پہنچے۔اور مغرب کے سکالروں کو صحیح طور پر کسی نے یہ نہ سمجھایا کہ وہ قرآن پاک کو سمجھنے کے لیئے کیا طریقہ کار اختیار کریں۔وہ جس طرح تورات و انجیل کو پڑھتے ہیں یہ طریقہ قرآن سمجھنے میں مددگار ثابت نہیں ہو سکتا"
5۔ "ایکس لیورزون “ فرانسیسی فلاسفر کا قول ملاحظہ فرمائیے:
 ”قرآن ایک روشن اور پرحکمت کتاب ہے، اس میں کچھ شک نہیں کہ وہ ایسے شخص پرنازل ہوئی جو سچا نبی تھا اور خدا نے اس کو بھیجا تھا۔“
6۔ ”ریورنڈ میکسوئیل کنگ“ لکھتا ہے کہ
 ”قرآن الہامات کا مجموعہ ہے، اس میں اسلام کے قوانین، اصول اوراخلاق کی تعلیم اور روز مرہ کے کاروبار کی نسبت صاف ہدایات ہیں۔ اس لحاظ سے اسلام کو عیسائیت پر فوقیت ہے کہ اس کی مذہبی تعلیم اور قانون علیحدہ چیز نہیں ہیں۔“

قرآنسٹس اور قرآن

2017-06-13 03:59:56 

انگریزوں کے زمانے میں ہندوستان کے ایک شہر میں ایک صاحب ایک انگریز کلکٹر کے میر منشی تھے۔ کلکٹر اگرچہ انگریز تھا مگر اسے یہ زعم تھا کہ وہ اردو بہت اچھی طرح جانتا ہے۔چنانچہ وہ میر منشی سے کہا کرتا کہ ہم تم سے زیادہ اردو جانتے ہیں تو بیچارے منشی خون کے گھونٹ پی کر رہ جاتے کیونکہ ملازمت کا سوال تھا۔ ایک دن کلکٹر نے کسی بات پر جوش میں آ کر میز پر مکّا مارتے ہوئے کہا:
منشی جی! یقیناً ہم تم سے زیادہ اردو جانتے ہیں۔
اس بار منشی کو بھی جوش آ گیا، انھوں نے سوچ لیا کہ ملازمت رہے نہ رہے اسے جواب دے ہی دوں گا۔ انھوں نے بھی میز پر مکّا مار کر کہا:
صاحب بہادر! آپ اردو کی ابجد بھی نہیں جانتے۔
یہ سن کر انگریز کلکٹر بڑا حیران ہوا اور کہا :تم میرا امتحان لے لو۔
تو منشی جی نے کہا :اگر میں آپ کا امتحان لوں گا تو آپ بغلیں جھانکنے لگیں گے۔
 اب صاحب بہادر واقعی بغلیں جھانکنے لگا کہ اس کا کیا مطلب ہوا! بہت غور کیا مگر خاک سمجھ آتی۔ آخر اس نے کہا:
منشی جی! مجھے تین دن کی مہلت دو،میں اس کا مطلب بتا دوں گا۔
منشی جی نے کہا :تین دن نہیں سات دن کی مہلت لے لیجئے۔
 الغرض اس نے اس لفظ کو لغت میں تلاش کیا۔ مگر لغت میں کیا ملتا۔ لغت میں ’’بغل‘‘ مل گیا ’’جھانکنا‘‘ مل گیا مگر مفہوم نہیں ملا۔ آخر سات دنوں کے بعد اس نے کہا:
اس کا مطلب ہے کہ ہاتھ کو اٹھا کر بغل کو دیکھ لیا جائے۔
میر منشی ہنس پڑے،تب کلکٹر نے پوچھا : پھر اس کا مطلب کیا ہے؟
 میر منشی نے کہا : اس کا مطلب آپ کو میں اس شرط پر بتاؤں گا کہ اب آپ کبھی اردو دانی کا دعویٰ نہیں کریں گے۔
 چنانچہ اس نے اقرار کیا تو منشی نے بتایا کہ دراصل یہ جملہ تحیر سے کنایہ ہے یعنی اگر کلکٹر کا میں امتحان لوں تو وہ حیرت میں پڑ جائیں گے۔
 ٭ یہی حالت نام نہاد قرآنسٹ عرف منکرین حدیث کی ہے ان کا بھی دعویٰ ہے کہ یہ قرآن زیادہ جانتے اور سمجھتے ہیں پوری امت مسلمہ کی قرآن کے جس مفہوم تک رسائی نہ ہو سکی وہ چودھویں صدی کے ایک مجہول الحال شخص پرویز خان پر آشکار ہو گیا 
 یہ بھی اس اردو دانی کا دعویٰ رکھنے والے انگریز کی طرح لغات ہی کو اپنا سب کچھ مانے ہوئے ہیں اسی لیئے ہر جگہ ٹھوکریں کھاتے پھرتے ہیں ہر جگہ بدترین تحریف کے مرتکب ہیں !

 

فسلسفہ تسمیہ

2017-06-15 17:15:44 

تسمیہ کی ترکیب نحوی اور ایک لطیف نکتہ بسم اللّٰہ الرحمن الرحیم میں ’’حرف باء،، جار ہے، ’’اسم،، مجرور اور مضاف، ’’لفظ اللہ،، مضاف الیہ اور موصوف ہے، لفظ ’’الرحمن الرحیم،، دونوں یکے بعد دیگرے موصوف یعنی اللہ کی صفات ہیں۔ موصوف (اللہ) اپنی دونوں صفات (الرحمن الرحیم) کے ساتھ مل کر اسم کا مضاف الیہ بن گیا اور مضاف (اسم) اپنے مضاف الیہ (اللہ الرحمن الرحیم) سے مل کر جار یعنی ’’حرف باء،، کا مجرور ہو گیا۔ اب اس حرف باء (جار) کا ایک متعلق ہے جو فعل محذوف ہے۔ وہ یہاں أشرع، أبدا يا أقراء وغیرہ ہو سکتا ہے۔ چنانچہ جار و ’’مجرور،، اور ’’فعل محذوف،، جس میں فاعل بھی ہے۔ سب مل کر ’’جملہ فعلیہ خبریہ،، پر منتج ہو گئے۔ اس کی دوسری صورت یہ بھی ہے کہ یہاں فعل محذوف صیغہ امر أبدا يا أقراء کو مانا جائے۔ اس طرح تسمیہ، ’’جملہ فعلیہ انشائیہ،، قرار پائے گا۔ یہاں ایک لطیف نکتہ قابل غور ہے کہ تسمیہ کا ’’جملہ فعلیہ خبریہ یا جملہ فعلیہ انشائیہ،، ہونا فعل محذوف کی نوعیت پر مبنی تھا۔ اگر فعل محذوف کی بجائے زیادہ توجہ حرف باء کے مفہوم اور اس کی نوعیت کے تعین پر کی جائے جیسے کہ بعد میں بیان کیا جائے گا تو تسمیہ کا کلام ہر صورت میں ’’دعائیہ،، قرار پا جاتا ہے کیونکہ یہاں حرف باء تین حالتوں میں سے یقیناً کسی نہ کسی ایک حالت کا حامل ہے اور وہ ہیں۔ ’’الصاق و مصاجت،، ’’استمداد و استعانت،، اور ’’تبرک و تیمن،، لہذا ’’بائ،، مذکورہ بالا میں سے جس حالت پر بھی دلالت کرے۔ کلام تسمیہ ایک ’’دعا،، بن جاتی ہے اور یہی مقصود الٰہی ہے۔ تسمیہ کی شرعی حیثیت : بسم اﷲ الرحمن الرحیم کے الفاظ کو اصطلاح میں ’’تسمیہ،، کہا جاتا ہے۔ یہی تسمیہ ایک آیت کے حصے کے طور پر قرآن حکیم کی سورۃ النمل میں وارد ہوا ہے۔ اس لحاظ سے یہ بالاتفاق حصہ قرآن بھی ہے۔ ارشاد باری تعا لیٰ ہے۔ إِنَّهُ مِن سُلَيْمَانَ وَإِنَّهُ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِO (النمل، 27 : 30) بے شک وہ (خط) سلیمان کی جانب سے (آیا) ہے اور وہ اللہ کے نام سے شروع (کیا گیا) ہے جو بے حد مہربان بڑا رحم فرمانے والا ہےO آئمہ فقہ میں سے شوافع اسے سورۃ الفاتحہ کاجزو قرار دیتے ہیں۔ جب کہ بعض علماء ہر سورت سے پہلے بسم اﷲ وارد ہونے کی بناء پر سوائے سورۃ برات کے اسے ہر سورت کا جزو تسلیم کرتے ہیں۔ ان میں ابن عباس رضی اللہ عنہ، ابن عمر رضی اللہ عنہ، ابن زبیر رضی اللہ عنہ، ابوہریرۃ رضی اللہ عنہ اور تابعین میں سے عطاء رحمۃ اللہ علیہ، طاؤس رحمۃ اللہ علیہ، سعید بن جبیر رحمۃ اللہ علیہ، مکحول رحمۃ اللہ علیہ اور زہری رحمۃ اللہ علیہ و غیرہم کے اسماء بیان کیے جاتے ہیں۔ امام عبداﷲ بن مبارک رحمۃ اللہ علیہ، امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ اور امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ سے بھی ایک قول اسیطرح منقول ہے۔ قول معروف اور مذہب مختار یہ ہے کہ بسم اﷲ قرآن کا حصہ ہے۔ لیکن سورۃ الفاتحہ یا دوسری سورتوں کا جزو نہیں بلکہ ہر سورت سے پہلے اسے محض امتیاز و انفصال اور تیمن و تبرک کے لیے بیان کیا گیا ہے۔ عبداﷲ بن عباس رضی اللہ عنہ سے اسناد صحيح کے ساتھ مروی ہے : کان المسلمون لايعرفون انقضاء السورة، (وفي رواية لايعرفون فصل السورة) حتي تنزل بسم اﷲ الرحمن الرحيم فاذا نزلت عرفوا ان السورة قد انقضت، وفي رواية ان السورة قد ختمت واستقبلت اوابتداء ت سورة اخري. مسلمانوں دو سورتوں کے درمیان فرق و انفصال کا پتہ نہیں چلتا تھا۔ چنانچہ بسم اﷲ الرحمن الرحیم کے نازل ہونے سے ایسی حد فاصل قائم ہوئی کہ لوگوں کو اس کے ذریعے ہرایک سورت کے شروع ہونے یا ختم ہونے اور دوسری کے شروع ہونے کی معرفت حاصل ہوگئی۔ 1. سنن ابی داؤد، 1 : 122، کتاب الصلاة، باب من جهربها، رقم : 788 2. السنن الکبری للبيهقی، 2 : 43 3. المستدرک للحاکم، 1 : 231، 232، رقم 845، 846 مدینہ، بصرہ اور شام کے قراء و فقہاء بھی اسی قول کے موید ہیں کہ ’’ بسم اﷲ،، ’’سورۃ النمل،، میں وارد ہونے کے اعتبار سے ایک مرتبہ تو قرآن کی مستقل آیت ہے۔ لیکن باقی تمام سورتوں سے اس کا ورود محض علامت فصل کے طور پر ہے تاکہ اس کے ذریعے دو متصل سورتوں کے درمیان واضح فرق کا پتہ چل جائے۔ امام ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ، امام مالک رحمۃ اللہ علیہ، امام سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ، امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ، امام اوزاعی رحمۃ اللہ علیہ وغیرہم کا مذہب بھی یہی ہے۔ نماز میں قراتِ تسمیہ کا حکم : تسمیہ کی شرعی حیثیت کے تحت تسمیہ کا سورہ فاتحہ کا حصہ نہ ہونا اس امر سے بھی مترشح ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جہر ی نمازوں میں قرات بالجہر کا آغاز ’’ الحمد ﷲ رب العالمین،، سے کرتے تھے۔ بسم اﷲ کی قرات جہراً نہ فرماتے تھے۔ اس سلسلے میں چند احادیث ملاحظہ ہوں۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے : ان النبی صلی اﷲ عليه وسلم وابابکر و عمر و عثمان کانوا يفتتحون القراة بالحمد ﷲ رب العلمين وزاد مسلم لايذکرون بسم اﷲ الرحمن الرحيم فی اول قرأة ولا فی آخرها سنن دارمی میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ، اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ جہری قرات کا آغاز الحمدﷲ سے فرمایا کرتے تھے صحيح مسلم کے مزید الفاظ یہ ہیں کہ پہلی اور دوسری مرتبہ دونوں قراتوں میں (جہرا) بسم اﷲ نہیں پڑھتے تھے۔ 1. صحيح لمسلم، 1 : 172، کتاب الصلاة، رقم : 52 2. مسند احمد بن حنبل، 3 : 101، 114 3. سنن الدارمی، 1 : 300 مطبوعه، دارالقلم دمشق 4. سنن النساءی، 2 : 97، رقم : 902 سعید بن منصور سنن میں ابووائل رضی اللہ عنہ سے اسناد صحيح کے ساتھ روایت کرتے ہیں۔ کانوا يسرون التعوذ والبسملة فی الصلٰوة. صحابہ کرام نماز میں تعوذ اور تسمیہ آہستہ پڑھتے تھے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ اسنادِ صحيح کے ساتھ روایت کرتے ہیں۔ قال صليت خلف رسول اﷲ صلي اﷲ عليه وسلم وابي بکر وعمر وعثمان (رضي الله عنهم) فلم أسمع أحدا منهم يجهرء بسم اﷲ الرحمن الرحيم. انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، ابوبکر رضی اللہ عنہ، عمر رضی اللہ عنہ اور عثمان رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی ہے۔ میںنے ان میں سے کسی کو بھی جہراً بسم اﷲ پڑھتے نہیں سنا۔ (سنن نسائی، 2 : 99، رقم : 907) آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکی دور میں ابتداًء دوران نماز بسم اﷲ جہراً پڑھتے تھے۔ اس پر مشرکین مکہ استہزاء کرتے کیونکہ وہ ’’مسلیمہ کذاب،، کو رحمن کہتے تھے اور بسم اﷲ الرحمن الرحیم سن کر وہ طعنہ دیتے کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اہل یمامہ کے معبود ’’مسلیمہ کذاب،، کی طرف بلاتے ہیں۔ اس پر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کو بسم اﷲ کی قرأت آہستہ کرنے کا حکم صادر فرمایا۔ حدیث کے الفاظ یہ ہیں۔ فامر رسول اﷲ صلی اﷲ عليه وسلم باخفائها فما جهر بها حتٰی مات. لہذا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم صادر فرمایا کہ بسم اﷲ الرحمن الرحیم پوشیدہ پڑھا کرو، پھر تاوقتِ وفات کبھی نماز میں بسم اﷲ پکار کر نہیں پڑھی۔ (طبرانی) حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ فلما نزلت هذه الاية أمر رسول اﷲ صلی اﷲ عليه وسلم ان لايجهربها. جب آیت بسم اﷲ نازل ہوئی تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ بسم اﷲ بلند آواز سے نہ پڑھی جائے۔ (طبرانی) اسی طرح صحيح بخاری، صحيح مسلم اور طبرانی کے علاوہ مصنف ابن ابی شیبہ، ترمذی، ابوداؤد، نسائی، ابن ماجہ، ابن خزیمہ، اور بیہقی وغیرہ متعدد کتب حدیث میں اس امر کی صراحت موجود ہے کہ تسمیہ کی قرات سورہ فاتحہ یا کسی اور سورت کے حصے کے طور پر نہیں بلکہ الگ حیثیت سے کی جاتی تھی۔ اگر یہ حصہ سورۃ فاتحہ ہوتی تو یقیناً اس کی قرات بھی اس کے ساتھ بلند آواز سے کی جاتی۔ جن روایات میں بسم اﷲ کی قرات کا دوران نماز بلند آواز سے ہونا مذکور ہے وہ مکی دورکے اوائل ایام سے متعلق ہیں۔ لیکن بعد میں صراحت کے ساتھ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پکار کر پڑھنے کی ممانعت فرما دی۔ لہذا تسمیہ کا نماز میں پڑھا جانا تلاوتِ قرآن کے آغاز و افتتاح کے طور پر ہے۔ کیونکہ حمد وثناء کے بعد جب سورہ فاتحہ کی قرات شروع ہوتی ہے تویہی دوران نماز تلاوت قرآن کا آغاز ہے اور یہاں بھی یہ حکم ہے کہ تلاوت قرآن کا آغاز پہلے تعوذ ( اعوذ باﷲ من الشیطن الرجیم ) اور پھر تسمیہ (بسم اﷲ الرحمن الرحیم) سے کیا جائے۔ تسمیہ سے ہرکام کے آغاز کا حکم (تاریخی پس منظر) : شریعتِ اسلامیہ میں ہمیشہ سے یہی تعلیم دی جاتی رہی ہے کہ ہر جائز اور مشروع کام کا آغاز خدا کے نام سے کیا جائے۔ 1۔ جب نوع علیہ السلام نے طوفان سے بچاؤ کے لیے اِذنِ الٰہی کے مطابق کشتی تیار کرلی اور اپنے ساتھیوں کو اس میں سوار کرلیا تو کشتی چلانے سے قبل فرمایا : وَقَالَ ارْكَبُواْ فِيهَا بِسْمِ اللّهِ مَجْرِهَا وَمُرْسَاهَا إِنَّ رَبِّي لَغَفُورٌ رَّحِيمٌO (هود، 11 : 41) اور نوح نے کہا تم لوگ اس میں سوار ہو جاؤ، اللہ ہی کے نام سے اسکا چلنا اور اسکا ٹھہرنا ہے بے شک میرا رب بڑا ہی بخشنے والا نہایت مہربان ہےo 2۔ اسی طرح حضرت سلیمان علیہ السلام نے ملکہ صبا کو جو تبلیغی خط لکھا۔ اس کا آغاز بھی انہی مبارک کلمات سے کیا گیا تھا۔ إِنَّهُ مِن سُلَيْمَانَ وَإِنَّهُ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِO بے شک وہ(خط) سلیمان کی جانب سے (آیا) ہے اور وہ (اللہ کے نام سے شروع (کیا گیا) ہے جو بے حد مہربان بڑا رحم فرمانے والا ہےo (النمل، 27 : 30) 3۔ عہد عیسوی میں بھی ان کلمات کی برکات و تاثیرات کا پتہ چلتا ہے۔ اسرائیلیات میں ایک روایت مذکور ہے کہ عیسٰے علیہ السلام کا ایک قبر پر گزر ہوا۔ آپ نے فرشتوں کو دیکھا کہ وہ صاحب قبر پر عذاب کررہے ہیں۔ جب دوسری مرتبہ گزر ہوا تو دیکھا کہ رحمت کے فرشتے نور کے طبق اس پر پیش کر رہے ہیں۔ آپ کو بہت تعجب ہوا، نماز پڑھی اور کشف حال کے لیے دعا کی۔ فاوحي اﷲ تعالٰي إليه : يا عيسٰي، کان هذا العبد عاصياً و مذمات کان محبوسا في عذابي، وکان قد ترک إمراة حبلٰي فولدت ولدا وربته حتٰي کبر، فسلمته الٰي الکتاب فلقنة المعلم بسم اﷲ الرحمن الرحيم فاستحييت من عبدي إن أعذبه بناري في بطن الأرض وولد يذکر إسمي علي وج الارض. (التفسيرالکبير، 1 : 172) پس اﷲ تعالیٰ نے وحی کی انکی طرف کہ اے عیسٰی علیہ السلام یہ بندہ گناہ گار تھا اور اپنی موت کے دن سے میرے عذاب میں گرفتار تھا۔ وقتِ مرگ اس کی بیوی حاملہ تھی۔ جس نے بعد میں ایک بچہ پیدا کیا۔ اس کی ماں نے اسے پالا اور معلمِ دین کے سپرد کر دیا۔ اس معلم نے جب اس بچے کو بسم اﷲ الرحمن الرحیم پڑھائی تو ہم کو شرم آگئی کہ اس کا باپ قبر میں عذاب میں مبتلا رہے اوراس کا بیٹا زمین پر ہمارے نام کا ذکر کرے پس ہم نے اس کو بخش دیا۔ 4۔ اسی طرح حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی ہرکام سے پہلے بسم اﷲ پڑھنے کا حکم صادر فرمایا۔ چنانچہ یہ حکم بعض معاملات میں ’’واجب،، کا درجہ رکھتا ہے۔ بعض میں ’’سنت،، کا اور بعض میں ’’مستحب،، کا۔ قرآن حکیم میں ارشاد فرمایا گیا : فَکُلُوْا مِمَّا ذُکِرَ اسْمُ اﷲِ عَلَيْهِ. (الانعام، 6 : 118) سوتم اس(ذبیحہ) سے کھایا کرو جس پر (ذبح کے وقت) اللہ کا نام لیا گیا ہو۔ اس سے آگے مزید حکم دیا گیا۔ وَمَالَکُمْ اَلَّا تَاکُلُوْا مِمَّا ذُکِرِاسْمُ اﷲِ عَلَيْهِ. (الانعام، 6 : 119) اور تمہیں کیا ہے کہ تم (ذبیحہ) سے نہیں کھاتے جس پر (ذبح کے وقت) اللہ کا نام لیا گیا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : کل أمر ذي بال لايبداء فيه بسم اﷲ الرحمن الرحيم فهو أجزم. جو کام بسم اﷲ الرحمن الرحیم سے شروع نہ کیا جائے وہ ناقص رہتا ہے یعنی اپنے کمال کو نہیں پہنچ سکتا۔ 1. سنن ابن ماجه، 1 : 610، رقم : 1894 2. المعجم الکبير، 19 : 68، رقم : 141 3. کنزالعمال، 1 : 555، رقم : 2491 اس حدیث کا مفہوم اس طرح سمجھیں جیسے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : لا وضوء لمن لم يذکر اسم اﷲ عليه. اس شخص کا وضو نہیں جس نے اس پر بسم اﷲ نہ پڑھی۔ مسند احمدبن حنبل، 2 : 418 مسند احمدبن حنبل، 3 : 41 مسند احمدبن حنبل، 4 : 70 مسند احمدبن حنبل، 5 : 381 مسند احمدبن حنبل، 6 : 397 اس کا مطلب ہرگز نہیں کہ بسم اﷲ کے نہ پڑھنے سے وضو کی فرضیت ہی ناقص رہ جاتی ہے بلکہ فرض توادا ہو جاتا ہے۔ لیکن سنن و مستحبات کی شمولیت سے جوکمال نصیب ہوتا ہے اس سے محروم رہ جاتا ہے۔ اسی طرح ہر فعل جو بغیر بسم اﷲ کے شروع کیا جائے۔ ممکن ہے کہ دینوی لحاظ سے مطلوبہ نتائج کے حصول میں تو ناکام نہ ہو لیکن اپنے اجرو ثواب کے اعتبار سے عنداﷲ کامل نہ ہوگا۔ اسی روحانی کمال اور نقص کی طرف متذکرہ بالا حدیث میں ارشاد فرمایا گیا ہے۔ آپ غور فرمائیں کہ کلام الٰہی جو سراسر خیر وبرکت ہے۔ جب اس کے پڑھنے سے بھی پہلے بسم اﷲ کا پڑھنا بطور شرط لازم ہے تو دیگر امور حیات سے قبل تسمیہ کا پڑھا جانا کس قدر ضروری ہوگا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اپنی عملی مداومت بھی اسی اصول پر تھی۔ 5۔ حتی کہ باری تعالیٰ نے خود اپنے کلام مبارک کے نزول کے آغاز و افتتاح کے لیے جو کلمات منتخب فرمائے وہ بھی ’’تسمیہ،، کی نوعیت کے تھے۔ غارحرا میں گونجنے والی سب سے پہلی قرآنی صدا بھی یہ تھی۔ اِقْرَأ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَO اے محمد آپ پڑھیے اپنے رب کے نام کے ساتھ جس نے آپ کو اور سب کو پیدا کیاo (العلق، 96 : 1) گویا آداب قرات میں سب سے پہلا قرینہ بسم اﷲ سے شروع کرنا تھا اور اسی قرینہ کے مطابق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے قرات کا آغاز کرایا گیا۔ مفسرین عام طور پر بسم اﷲ کو معنوی وسعت کے اعتبار سے تمام قرآنی علوم کی جامع قرار دیتے ہیں۔ امام فخرالدین رازی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں۔ کل العلوم مندرج فی الکتب الاربعة وعلومها فی القرآن، وعلوم القرآن فی الفاتحة وعلوم الفاتحة فی (بسم اﷲ الرحمن الرحيم) و علومها فی الباء من بسم اﷲ تمام علوم و معارف چار الہامی کتابوں میں درج کیے گئے ہیں اور ان کے تمام علوم قرآن میں اور قرآن کے تمام علوم سورۃ الفاتحہ میں اور سورۃ الفاتحہ کے تمام علوم بسم اﷲ الرحمن الرحیم میں، اور اس کے تمام علوم بائے بسم اﷲ میں۔ (تفيسر کبير، 1 : 99) چنانچہ تسمیہ کی ہمہ پہلو تفسیر اسی طرح ناممکن ہے جیسے پورے قرآن کی۔ تاہم یہاں اس کے چند گوشوں پر کچھ روشنی ڈالی جاتی ہے۔ حذفِ فعل کی حکمت : قرآن میں تسمیہ کا بیان اس طرح ہے بسم اﷲ الرحمن الرحیم۔ اﷲ کے نام سے (شروع کرتا ہوں) جونہایت مہربان رحمت والا ہے۔ یہاں ایک خاص امر قابل توجہ ہے کہ قرآنی عبارت میں ’’شروع کرتاہوں،، کے لیے کوئی لفظ یا کلمہ استعمال نہیں ہوا۔ ترجمے میں یہ الفاظ معنوی طور پر از خود تصور کیے جاتے ہیں۔ درحقیقت قرآن کے اس انداز میں خاص حکمت پنہاں ہے۔ اگر قرآن ’’شروع کرتا ہوں،، کے الفاظ اپنی عبارت میں استعمال کرتا تو اس کی صورت یہ ہوتی أبداء. . . أشرع يا أبداء (میں آغاز کرتا ہوں)۔ ان میں ہر لفظ فعل اور فاعل دونوں کا جامع ہوتا۔ عام طور پر یہی عربی ادب کا اسلوب ہے کہ فعل اور فاعل اکٹھے ہوا کرتے ہیں۔ اب اس کی دو ہی صورتیں ممکن تھیں۔ 1۔ ایک یہ کہ ابداء وغیرہ کا لفظ بسم اﷲ سے پہلے استعمال کیا جاتا۔ 2۔ دوسری یہ کہ ایسا لفظ بسم اﷲ کے بعد استعمال ہوتا۔ لیکن قرآن نے اسے ہر صورت میں ہی محذوف اور مضمر کردیا۔ اس کی چند حکمتیں ہیں۔ ان حکمتوں کے بیان سے قبل یہ اصول ذہن نشین ہوجانا چاہیے کہ بعض اوقات عربی عبارت میں ایسے حروف استعمال ہوتے ہیں جن سے پہلے کوئی فعل محذوف تصورکیا جاتا ہے یعنی اس کا شمار معنی میں تو ہوتا ہے لیکن عبارت میں نہیں۔ جیسا کہ قرآن مجید میں اس کی مثال واضح ہے : اِذْ قَالَ رَبُّکَ لِلْمَلَآ ئِکَة. اور (وہ وقت یاد کریں) جب آپ کے رب نے فرشتوں سے فرمایا۔ (البقرة، 2 : 30) یہاں قاعدہ نحو کے مطابق اذ سے پہلے اُذْکَرْ فعل محذوف ہے۔ جس کا معنی ہے ’’یاد کرو،، جب تمہارے رب نے فرشتوں سے کہا۔ اسی طرح حرف باء جس سے تسمیہ کا آغاز ہو رہا ہے، سے بھی پہلے ایک فعل محذوف ہے جس کا ذکر اوپر کیا جاچکا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس فعل کو محذوف رکھنے میں کیا حکمت پوشیدہ ہے۔ پہلی حکمت : اگر ابداء یا اس جیسا کوئی لفظ بسم اﷲ سے پہلے وارد ہوتا تو یہ امر واضح تھا کہ اس کا فاعل وہ شخص خود ہی ہوتا جو قرآن کی تلاوت یا کسی دوسرے کام کا آغاز کررہا تھا۔ ابداء کا فاعل اﷲ تعالیٰ کسی لحاظ سے بھی نہ ہوسکتا تھا۔ باری تعالیٰ چونکہ تعلیم یہ دینا چاہتے تھے کہ قرآن کی تلاوت ہویا کوئی اور جائز کام، اس کا آغاز اﷲ کے نام سے ہی ہونا چاہیے۔ کیونکہ اس مخصوص ادب معاشرت کی تعلیم کلمات تسمیہ کے ذریعے دی جا رہی تھی۔ اس لیے یہ ہرگز مناسب نہ تھا کہ خود ان ہی کلمات کا آغاز اﷲ کے نام کے علاوہ کسی دوسرے کے ذکر سے ہوتا۔ چنانچہ اس مخصوص ادب اور ضابطہ عمل کی تعلیم بھی اسی انداز سے دی گئی کہ اظہار مدعا کا آغاز بھی براہ راست اﷲ ہی کے ذکر سے ہو۔ کسی اور کے ذکر سے نہیں۔ کیونکہ اسی طرح کمال برکت کاحصول ممکن ہے۔ دوسری حکمت : صیغہ متکلم واحد کا استعمال ہوتا یا جمع کا، دونوں صورتوں میں قائل اپنا اور اپنے فعل کا ذکر اسم باری تعالیٰ پر مقدم کرتا۔ یہ امر ادب واحترام کی اعلٰی منزلوں کے منافی تھا۔ یہ لحاظ عام گفتگو میں بھی رکھا جاتا ہے کہ اگر قائل کسی کام کے ضمن میں اپنے علاوہ دوسرے افراد کا ذکر بھی مشترکہ طور پر کرنا چاہتا ہوتو پہلے دوسروں کا نام لیا جاتا ہے اور آخر میں متکلم اپنا نام لیتا ہے کیونکہ یہ آداب تہذیب کلام کا حصہ ہیں۔ اپنا نام لینا معیارِ لطافت کے خلاف ہے۔ اسی طرح کسی کام میں افضل پر مفضول کی سبقت بھی خلاف ادب تصورکی جاتی ہے۔ اس کی ایک مثال قرآن حکیم سے بیان کی جاتی ہے کہ بعض لوگوں نے عہد رسالت میں عیدالاضحی کے دن آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پہلے قربانی کردی اس پر یہ آیت نازل ہوئی : يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌO اے ایمان والو! تم اللہ اور رسول سے (کسی معاملہ میں) سبقت نہ کیا کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو بے شک اللہ سننے والا اور خوب جاننے والا ہےo (الحجرات، 49 : 1) اﷲ تعالیٰ نے باوجود اس کے کہ ان کا عمل حکم الٰہی کی اطاعت پر مشتمل تھا اور وہ خون بھی محض رضائے الٰہی کی خاطر بہایا گیا تھا جو کہ خالصتاً عبادت تھا۔ لیکن ان سے خطا صرف یہ سرزد ہوئی کہ وہ عمل میں وقتی طور پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر تقدم کر بیٹھے تھے۔ یہی بات اﷲ تعالیٰ کو رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعظیم وادب کے منافی معلوم ہوئی۔ انہیں قربانیاں پھر سے کرنے کا حکم صادر کیا گیا اور آئندہ کے لیے حکماً اس اقدام کے امکان کو بھی ختم کردیا گیا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بعض لوگ رمضان المبارک سے ایک دن قبل روزہ رکھنا شروع کردیتے تھے اور اس طرح وہ آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر تقدم کر بیھٹتے تھے۔ چنانچہ اس آیت کے ذریعے اﷲ تعالیٰ نے ان کو حکماً منع فرما دیا۔ اس مثال کے ذریعے درحقیقت یہ بات واضح کرنا مقصود تھی کہ بعض اوقات تقدم خلافِ ادب تصور کیا جاتا ہے چنانچہ بسم اﷲ میں جوکہ خود ہی سراسر ادب کی تعلیم ہے، اسی اصول کو لفظاً بھی ملحوظ رکھا گیا ہے تاکہ کلام میں بھی ادبِ الوہیت نظر انداز نہ ہوکیونکہ یہی کمالِ ایمان کی علامت ہے۔ ادب سے محروم شخص علم و عمل کی بے پناہ دولتوں کے باوجود لذت ایمان سے محروم رہتا ہے۔ اسی لیے ہر سطح پر جس قدر بھی ملحوظ رہے بہتر ہے۔ کلام میں اس قدر لفظی احتیاط اورحکمت و مصلحت انسانی کوشش کے باوجود پیش نظر نہیں رہ سکتی۔ یہ صرف کلام الٰہی کا اعجاز ہے جو بغیر تصنع کے ان حکمتوں پر دلالت کررہا ہے۔ تیسری حکمت : یہ حکمتیں تو ابداء وغیرہ کے الفاظ بسم اﷲ پر مقدم نہ کرنے میں مضمر تھیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اﷲ کے نام سے پہلے کسی اور کا ذکر تو خلاف ادب تھا۔ اس لیے اسے محذوف رکھا گیا۔ مگر بعد میں بیان نہ کرنے میں کیا مصلحت پوشیدہ ہے۔ یہ امر ذہن نشین رہے کہ صاحب حکمت کا کوئی فعل حکمت و مصلحت سے خالی نہیں ہوتا۔ جب ابداء یا اشراع کی صورت میں کسی کام کے شروع کرنے کا ذکر آئے گا تو اس میں فاعل خود متکلم کی ذات ہوگی۔ گویا متکلم تسمیہ کے ذریعے کسی نہ کسی فعل میں اپنے فاعل ہونے کا ذکر بھی ساتھ ہی کر رہا ہوگا کہ ’’ اﷲ کے نام سے میں (فلاں کام) شروع کرتا ہوں،،۔ اس طرح فعل کی نسبت متکلم کی طرف ہوجاتی ہے اور اسی کا فاعل ہونا بھی ثابت ہوتا ہے۔ یہاں مصلحت یہ تھی کہ انسان خود کو باری تعالیٰ کے لطف وکرم کا اس حد تک محتاج سمجھے کہ تمام امو رکی نسبت اسی ذات کاملہ کی طرف کردے۔ ہرچند کہ افعال کا صدور انسان ہی سے ہوتا ہے۔ لیکن ہر فعل کے صادر کرنے کی قوت وہمت اور طاقت وصلاحیت انسان کو بارگہ رب ذوالجلال سے نصیب ہوتی ہے کیونکہ تمام قوتوں اور طاقتوں کا مبداء و سرچشمہ وہی ذات ہے۔ چونکہ تسمیہ میں بسم اﷲ کے ذریعے خدا کی مدد اور اس کے فعلِ عنایت کا ذکر آگیا تھا۔ اس کے بعد متکلم کا اپنا فاعل ہونا بیان کرنا اﷲ تعالیٰ کی شانِ الوہیت کے منافی تھا۔ گویا یہ تعلیم دی گئی کہ اے انسان تو ہرکام شروع کرتے ہوئے خدا کا نام لے اور ا س کام کی توفیق بھی اسی ذات کی طرف منسوب کر۔ کبھی بھی اس فعل کو اپنا کمال نہ سمجھ، کیونکر فاعل حقیقی تو نہیں اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ یہاں انسانی فکر کو کبر ونخوت کی تباہ کاریوں سے بچنے کی صورت بتائی گئی ہے کہ اگر انسان زبان سے ذات حق کا نام لے کر دل میں یقین بھی اسی کی طاقت کی کارفرمائی پر رکھے گا تو سوچ کا یہ اندازا سے کبھی بھٹکنے نہ دے گا۔ یہ فکر ایمانی آداب کا لازمہ ہے سورۃ نساء میں اسی کی تلقین کی گئی ہے۔ قُلْ كُلٌّ مِّنْ عِندِ اللّهِ فَمَا لِهَـؤُلاَءِ الْقَوْمِ لاَ يَكَادُونَ يَفْقَهُونَ حَدِيثًاO فرما دیجیئے سب کچھ اﷲ کی طرف سے ہی ہے تو ان لوگوں کو کیا ہوا۔ کوئی بات سمجھتے معلوم نہیں ہوتے۔ (النساء، 4 : 78) یہاں ہرکام کی توفیق کا اﷲ تعالیٰ کی طرف سے حاصل ہونا مذکور ہے۔ اسی انداز سخن اور طرز فکر کی تلقین تسمیتہ کے ذریعے کی جارہی ہے۔ یہاں ایک اور لطیف نکتہ قابل غور ہے کہ بسم اﷲ میں چونکہ ذکر صرف اﷲ تعالیٰ کا ہے اور ابتداء فعل یا ارتکابِ فعل کی نسبت انسان کی طرف مذکور نہیں ہے۔ اس لیے حکم ہے کہ بسم اﷲ محض جائز کاموں کے آغاز میں پڑھی جائے۔ ناجائز اور خلاف شرع امور نہیں۔ کیونکہ غلط کاموں میں توفیق فعل کے حوالے سے ان کی نسبت باری تعالیٰ کی طرف کرنا خلاف تقاضائے بندگی ہے۔ بندے کو یہ زیب نہیں دیتا کہ اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں کو اپنے آقا کی طرف منسوب کرتا پھرے۔ ارشاد فرمایاگیا ہے۔ مَآ اَصَابَکَ مِنْ حَسَنَة فَمِنَ اﷲِ وَمَا اَصَابَکَ مِنْ سَيِّئَة فَمِنْ نَّفْسِکَ. (اے انسان اپنی تربیت یوں کرکہ) جب تجھے کوئی بھلائی پہنچے تو (سمجھو کہ) وہ اللہ کی طرف سے ہے (اسے اپنے حسنِ تدبیر کی طرف منسوب نہ کر) اور جب تجھے کوئی برائی پہنچے تو (سمجھ کہ) وہ تیری اپنی طرف سے ہے (یعنی اسے اپنی خرابی نفس کی طرف منسوب کر)۔ (النساء، 4 : 79) مذکورہ بالا دو آیات میں حقیقت حال بھی واضح کردی گئی ہے اور آداب فکر و قول بھی کہ توفیق اور طاقت ہرکام کی اﷲ تعالیٰ کی طرف سے منسوب ہوتی ہے۔ لیکن نیکی صادر ہوتو بندگی یہ ہے کہ انسان اسے اپنے آقا کی رحمت سمجھ کر اسی کی طرف منسوب کردے اور بدی صادر ہوتو اسے اپنی سوچ اور کاوش کا نتیجہ سمجھے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسی انداز فکر سے انسان کی اپنے عیبوں اور کوتاہیوں پر نظر رہتی ہے اور وہ خود تنقیدی کے ذریعے اپنی اصلاح کا طالب و خوگر ہوسکتا ہے اور دوسری طرف وہ بعض اچھائیوں کو محض اپنی صلاحیت کا ثمرہ سمجھ کر پیکرِ رعونت بھی نہیں بننے پاتا۔ چونکہ ہر کام کی توفیق اور ہمت و قدرت کا مبداء و منبع اﷲ تعالیٰ کی ذات ہے۔ اس لیے تسمیہ میں اسی کے مجرد ذکر پر اکتفا کیا گیا اور انسان کے فعل یا اس کے فاعل ہونے کا ذکر محذوف کردیا گیا۔ گویا حقیقت کو عیاں رکھا اور جو کچھ محض ظاہر تھا اسے پوشیدہ کردیا۔ آیت الحمد سے استدلال : سورۃ الفاتحہ کا آغاز بھی اسی فلسفے کی نشاندہی کرتا ہے۔ ارشاد فرمایا گیا ہے۔ اَلْحَمْدُلِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ O سب تعریفیں اللہ ہی کے لئے ہیں جو تمام جہانوں کی پرورش فرمانے والا ہےo (الفاتحه، 1 : 1) یہ بات بڑی واضح ہے کہ جب کسی کی خوبی یا تعریف ہوگی تو یقیناً کوئی نہ کوئی تعریف کرنے والا بھی ہوگا۔ کیونکہ زبانِ حمد کھولے بغیر بیانِ حمد نہیں ہوسکتا۔ لیکن یہاں حمد کا ذکر ہے حامد یا فعلِ حمد کا بیان نہیں ہے۔ محض اس لیے کہ اگر حمد کرنے والے کا ذکر کردیا جاتا تو ممکن ہے وہ یہ سمجھتا کہ محمود میری حمد کا محتاج ہے یا میری تحمید نے اسے عظمت دی ہے۔ حالانکہ حمد کسی کا کارنامہ نہیں۔ یہ حسنِ الوہیت کا اپنا استحقاق ہے۔ لہذا اﷲ تعالیٰ نے اپنا محمود ہونا بیان کردیا۔ مگر کسی کا حامد ہونا صراحت سے بیان نہیں کیا۔ اسی طرح تسمیہ میں فعل اور فاعل کو مضمر اور محذوف رکھنے میں حکمت یہ تھی کہ یقیناً وہ کام جس کے آعاز میں بسم اﷲ پڑھی جارہی ہے تو کوئی نہ کوئی شخص ہی کرے گا۔ لیکن کہیں وہ اپنی فاعلیت پر ایسا گمان نہ کرنے لگے کہ یہ کام میں اپنی ہمت و توفیق سے کر رہا ہوں۔ چنانچہ خدا کا نام محض برکت کی غرض سے نہیں بلکہ اس یقین و اعتماد سے لیا جائے کہ اس کام کی توفیق بھی محض اﷲ تعالیٰ کی عطا سے ہے۔ چوتھی حکمت : اولاً یا آخراً کسی صورت میں بھی خدا کے ماسوا کے ذکر کا تسمیہ میں نہ ہونا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ واجب الوجود صرف اسی کی ذات ہے اور اس کے علاوہ جو کچھ ہے وہ ممکن ہے اور اس وجہ سے ھالک و معدوم۔ تسمیہ چونکہ تمام معارف قرآنی کا خلاصہ ہے اس لیے اس کا اندازِ بیان بھی دین حق کے جملہ مقاصد و مطالب کا خلاصہ ہوگا۔ بسم اﷲ الرحمن الرحیم کا آغاز و انجام صرف خدا ہی کی ذات و صفات کے ذکر پر مبنی ہے اس کے علاوہ اس میں نہ کسی فعل کا بیان ہے نہ کسی فاعل کا۔ گویا یہ الفاظ خدا کی وحدانیت کو اسی طرح اجاگر کررہے ہیں کہ اس کائنات میں اس کے بغیر نہ تو کسی فعل کا صدور ممکن ہے اور نہ کسی فاعل کا وجود۔ بلکہ دوامِ حقیقی اور ثباتِ ابدی اگر کسی کو حاصل ہے تو وہ صرف خلاّق عالم ہی کی ذات و صفات ہے۔ وہی اول تھا اور وہی آخر بھی ہوگا۔ اس لیے نہ اس سے پہلے کسی فعل کا ذکر ممکن ہے اور نہ اس کے بعد ارشاد ربانی ہے۔ 1. هُوَ الْأَوَّلُ وَالْآخِرُ وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌO (الحديد، 57 : 3) 2. لِلَّهِ الْأَمْرُ مِن قَبْلُ وَمِن بَعْدُ. وہ (سب سے) پہلا تھا اور (سب سے) آخر اور(اپنی قدرت کے اعتبار سے) ظاہر اور (اپنی ذات کے اعتبار سے) پوشیدہ ہے وہ سب کچھ خوب جانتا ہےo (الروم، 30 : 4) حکم اﷲ ہی کا ہے، پہلے بھی اور بعد میں بھی۔ اسی امر کا بیان ایک اور مقام پر اس طرح ہے۔ 3. لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ كُلُّ شَيْءٍ هَالِكٌ إِلَّا وَجْهَهُ. اس کے سوا کوئی معبود نہیں (لوگو! خوب یاد رکھو فانی شے معبود نہیں ہوا کرتی) ہر شے اللہ کی ذات کے سوا فانی ہے۔ (القصص، 28 : 88) چنانچہ تسمیہ کے کلمات میں خدا کے سوا ہر قسم کے فعل اور فاعل کے ذکر کا محذوف و معدوم ہونا انسان کو پوری کائنات اور ا سکے نظام کی بے ثباتی کی یاد دلاتا ہے۔ یہ کلام پکا رپکار کر دنیا کی بے حقیقت رنگینیوں میں محو و مستغرق انسانوں کو حقیقتِ ابدی کی طرف متوجہ کررہا ہے تاکہ لوگ خواب غفلت سے بیدار ہوکر بے کم و کاست اسی احکم الحاکمین کی قدرتوں اور قوتوں پر کامل ایمان لے آئیں اوراس سراب حیات کو ہی آخری منزل نہ سمجھ لیں۔ تسمیہ سے چونکہ قرآن کا آغاز ہورہا ہے۔ اس موقع پر جامع و مانع انداز سے خدا کی ہستی اور اس کی صفات کا ذکر اور اس کے ماسوا کا حذف واضمار انسان کویہ تعلیم دیتا ہے کہ وہ دل و دماغ سے غیر کا خیال نکال دے اور ہر لمحہ ذات حق پر نظر رکھے۔ یہ معراج عبدیت ہے اور قرآن کا پہلا سبق بھی یہی ہے جیسا کہ ارشاد ایزدی ہے۔ وَلِلّٰهِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ فَاَيْنَمَا تُوَلُّوْا فَثَمَّ وَجْهُ اﷲِ. اور مشرق ومغرب (سب) اﷲ ہی کا ہے پس تم جدھر بھی رخ کرو ادھر ہی اللہ کی توجہ ہے۔ (البقره، 2 : 115) مزید برآں وہ ایسا موجود حقیقی ہے کہ ہر وجود کا مبداء بھی وہی ہے اور مرجع بھی۔ بلکہ دوسرے لفظوں میں ہر وجود کائنات کا جواز بھی اسی کے وجود سے ہے۔ وہ حقیقت ہے اور اس کے ماسوا جو کچھ ہے مجاز ہے۔ اس لیے تسمیہ میں حقیقت کا ذکر کیا گیا اور مجاز کو ترک کر دیا۔ حرفِ باء کی افادیت : کلماتِ تسمیہ کا پہلا حرف ’’بار،، ہے۔ جس کا معنی ’’سے،، کیا گیا ہے یہ فعل محذوف سے متعلق ہے۔ محذوف سے مراد وہ فعل اور فاعل ہے۔ جس کا ذکر یہاں لفظاً نہیں بلکہ معناً موجود ہے۔ یعنی میں شروع کرتا ہوں اﷲ کے نام سے گویا حرفِ باء فعلِ محذوف کو اﷲ کے نام سے ملانے کے لیے استعمال ہوا ہے۔ حرفِ باء کی اپنے استعمال و افادیت کے لحاظ سے متعدد اقسام ہیں۔ جنہیں علماء نحو نے شرح و بسط کے ساتھ بیان کیا ہے۔ لیکن یہاں یہ حرف ان میں سے تین اقسام پر مشتمل ہوسکتا ہے۔ 1۔ بائے الصاق و مصاحبت 2۔ بائے استعانت 3۔ بائے تیمن و تبرک بائے مصاحبت : الصاق و مصاحبت کا معنی اکٹھا ہونا اور رفاقت و معیت اختیار کرنا ہے۔ اس صورت میں جب کہ با مصاحبت کے لیے تصور کی جائے تو تسمیہ کا مفہوم یہ ہوگا کہ میں اﷲ کے نام کو اپنا ساتھی بناتے ہوئے اس کے دامن رحمت سے وابستہ اور منسلک ہوتے ہوئے اور محض اسی کی رفاقت و معیت پر بھروسہ کرتے ہوئے، اپنے کام کا آغاز کرتا ہوں۔ امام فخرالدین رازی رحمۃ اللہ علیہ اس مقام پر فرماتے ہیں۔ هذا الباء باء الا لصاق فهو يلصق العبد بالرب فهو کمال المقصود. یہ ’’با،، بائے الصاق ہے چنانچہ یہ بندے کو رب سے ملاتی ہے اور یہی انسانی مقصود کا کمال ہے۔ (تفسيرکبير، 1 : 99) حرف باء کے اس مفہوم کی افادیت یہ ہے کہ تسمیہ کے ذریعے انسان کو اپنے ہرکام کے آغاز سے انجام تک خدا کی رفاقت و معیت کا احساس رہے۔ یہ امر واقع ہے کہ اگر انسان کو کسی نہایت قوی، مضبوط اور ہمدرد بہی خواہ ساتھی کی رفاقت کا احساس اور یقین ہو تو اسے کسی سطح پر بھی خوف وخطر دامنگیر نہیں ہوسکتا۔ چنانچہ انسان کو کارگہ زیست میں ہر خوف و غم سے بے نیاز کرنے کے لیے بسم اﷲ کے ذریعے دل ودماغ میں یہ احساس جاگزیں کیا جارہا ہے کہ اﷲ تعالیٰ پر بھروسہ کرو گے تو اس کی معیت بھی تمہیں حاصل ہوگی۔ جس کی حفاظت کے باعث تمہیں نہ کوئی نقصان پہنچ سکے گا اور نہ تمہاری کاوشیں بے نتیجہ حاصل ہوں گی۔ اسی تصور کو قرآن یوں بیان کرتا ہے۔ وَهُوَ مَعَکُمْ اَيْنَ مَا کُنْتُمْ وَاﷲُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْرٌO وہ تمہارے ساتھ ہے جہاں بھی تم ہو اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اسے دیکھ رہا ہےo (الحديد، 57 : 4) اسی شب ہجرت حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو غار ثور میں تنہائی کے احساس سے کچھ خدشہ محسوس ہوا کہ شاید کفار مکہ جو آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تعاقب میں تھے۔ انہیں نقصان پہنچا دیں۔ اس پر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے بزبان وجی ان سے ارشاد فرمایا : لَا تَحْزُنْ اِنَّ اﷲَ مَعَنَا فَاَنْزَلَ اﷲُ سَکِيْنَتَه عَلَيْهِ. غمزدہ نہ ہو بے شک اللہ ہمارے ساتھ ہے پس اللہ نے ان پر اپنی تسکین نازل فرما دی۔ (التوبه، 9 : 40) اس ارشاد پر غور کریں تو اندازہ ہوگا کہ خدا کی معیت پر ایمان تو حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا پہلے سے ہی تھا۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو وہ اس قدر عداوت و مخالفت کے ماحول میں اپنے گھروالوں کواکیلا چھوڑ کر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے شریکِ سفر نہ ہوتے۔ لیکن ظاہرًا بے سروسامانی کا عالم، تنہائی کا ماحول اور کفارو مشرکین کے مخاصمانہ تعاقب کا خیال وقتی طور پر حزن و ملال کا باعث بن گیا اور یہ انسانی طبیعت کا لازمی تقاضا بھی تھا۔ اس پر آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صرف انہیں معیت خداوندی کی طرف متوجہ کردیا۔ یہ احساس بحال ہونا تھا کہ دل کو سکون و اطمینان کی دولت نصیب ہوگئی۔ گویا معیت خداوندی قلبی تسکین کا لازمی سبب ہے۔ یہی فلسفہ تسمیہ ہے کہ انسان خدا کی معیت کو رفاقت کا احساس اجاگر کرکے جہدِ حیات کا آغاز کرے تو کوئی خوف و حزن سے اسے پریشان نہیں کرسکتا۔ خوف وحزن سے نجات پاکر انسانی جدوجہد کو وہ تازگی اور قوت میسر آتی ہے۔ جس سے کامیابی وکامرانی کی منزل بھی آسان ہوجاتی ہے۔ ورنہ بے یقینی اور مایوسی کی کیفیت تگ و دو کو مطلوبہ منزل تک نہیں پہنچنے دیتی۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ فَلَا تَهِنُوْا وَتَدْعُوْآ اِلَی السَّلِمْ وَاَنْتُمْ الْاَعْلَوْنَ وَاﷲُ مَعَکُمْ وَلَنْ يَّتِرَکُمْ اَعْمَالَکُمْO پس تم سستی نہ کرو اور خود صلح کی طرف نہ بلاؤ اور تم ہی غالب آؤ گے اور اﷲ تمہارے ساتھ ہے اور وہ ہرگز تمہاری کوششیں بے نتیجہ نہیں جانے دے گا۔ (محمد، 47 : 35) یہاں یہ امر ذہن نشین رہے کہ خدا کی معیت تو درحقیقت ہمہ وقت انسان کو حاصل ہوتی ہے۔ لیکن اسے اس معیت کا احساس اور شعور نہیں ہوتا۔ شعورِ معیتِ الٰہی متحقق نہ ہونے کی بناء پر وہ اس کے جملہ ثمرات و لطائف سے بہرور نہیں ہوسکتا۔ تسمیہ معیتِ الٰہی مہیا کرنے کے لیے نہیں بلکہ اس کا شعور بیدار کرنے کے لیے ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ وَنَعْلَمُ مَا تُوَسْوِسُ بِهِ نَفْسُهُ وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيدِO اور بے شک ہم نے آدمی کو پیدا کیا اور ہم جانتے ہیں جو وسوسہ اس کا نفس ڈالتا ہے اور ہم اس سے اس کے دل کی رگ سے بھی زیادہ نزدیک ہیںo (ق، 50 : 16) اس آیت سے یہ حقیقت اچھی طرح واضح ہوگئی کہ معیت الٰہی تو انسان کو پہلے سے ہی میسر ہوتی ہے۔ لیکن اس کا شعور پیدا نہیں ہوتا۔ جب اس معیت و رفاقتِ خداوندی کا شعور انسان کے اندر ایک زندہ قوت بن جاتا ہے تو تمام وساوس نفسانی اور دنیوی خطرات وخدشات نیست ونابود ہوجاتے ہیں اور قلب وباطن پر اس احساس کے محیط ہوجانے سے ایک عجیب لطف و سکون اورلذت و طمانیت کی کیفیت طاری ہوجاتی ہے۔ انسان کو پھر نہ توکسی اور کی رفاقت کی طلب رہتی ہے اور نہ کسی کے قرب کی۔ دوعالم سے کرتی ہے بیگانہ دل کو عجب چیز ہے لذت آشنائی لیکن اس لطف کا اندازہ بیان سے نہیں خود دھیان سے ہی ہوسکتا ہے کیونکہ لذت بتانے کی نہیں حاصل کرنے کی چیز ہے۔ بائے استعانت : استعانت سے مراد مدد طلب کرنا ہے اس کے معنی کے لحاظ سے مفہوم تسمیہ یہ ہوگا کہ ’’اﷲ کے نام سے مدد طلب کرتے ہوئے شروع کرتا ہوں،،۔ حضرت نوح علیہ السلام نے قیامت خیز طوفان سے اپنے پیروکاروں کوبچانے کے لیے حکم الٰہی سے ایک کشتی بنائی اور انہیں اس میں سوار ہوجانے کو کہا۔ قرآن حکیم اس کا تذکرہ اس طرح کرتا ہے۔ وَقَالَ ارْكَبُواْ فِيهَا بِسْمِ اللّهِ مَجْرِهَا وَمُرْسَاهَا إِنَّ رَبِّي لَغَفُورٌ رَّحِيمٌO اور نوح نے کہا تم لوگ اس میں سوار ہو جاؤ اللہ ہی کے نام سے چلنا اور اس کا ٹھہرنا ہے بے شک میرا رب بڑا ہی بخشنے والا نہایت مہربان ہےo (هود، 11 : 41) گویا اس آیت کے ذریعے جملہ مہمات میں خدائے رحمان و رحیم کے نام سے استعانت کی تعلیم دی جا رہی ہے تاکہ انسان پر یہ حقیقت آشکار ہوکہ اﷲ تعالیٰ کی مدد واعانت کے بغیر نہ توکسی خیر کو حاصل کیا جاسکتا ہے اور نہ کسی شر سے محفوظ ہوا جاسکتا ہے۔ چونکہ فعل محذوف کے اعتبار سے یہاں کام کے شروع کرنے کا ذکر ہو رہا ہے۔ اس لیے بائے استعانت کا معنوی اطلاق یوں ہوگا کہ’’ اے اﷲ میں ہر کام کے شروع کرنے میں بھی تیری مدد کا محتاج ہوں،،۔ جب کوئی کام خدا کی مدد اور توفیق کے بغیر آغاز پذیر ہی نہیں ہوسکتا تواس کا انجام پذیر ہونا کیونکر ممکن ہوگا۔ دراصل یہاں انسان کو اپنی حاجتمندی کا احساس دلایا جارہا ہے تاکہ وہ دینوی متاع کو کثرت کے ساتھ حاصل کرکے خدائے لم یزل کے حضور سرنیازِخم کرنے سے باغی نہ ہوجائے۔ انسان کے ذہن میں یہ حقیقت ہر وقت موجود رہے کہ میں رب ذوالجلال کی عنایت کے بغیر اپنی جہدِ حیات میں پہلا قدم بھی نہیں اٹھا سکتا۔ کس قدر ظالم اور احسان فراموش ہے وہ شخص جس کا قدم بھی خدا کے لطف و انعام سے اٹھے۔ لیکن وہ بجائے اس کی اطاعت کے اسی کے احکام کی خلاف ورزی کے لیے بڑھ رہا ہو۔ اگر انسان کا یہ شعور بیدار ہوکہ اس کی زبان کو قوتِ گویائی، اس کے کانوں کو قوتِ سماعت، اس کی آنکھوں کو قوتِ دید، اس کے دست وبازو کوقوتِ عمل، اس کے قدموں کو قوتِ نقل وحرکت اور اس کے دماغ کو قوتِ فکر الغرض سب کچھ خدا کی مدد واعانت کے سبب میسر آیا ہے تو اس ظاہری اور باطنی اعضاء وجوارح میں سے کوئی عضو بھی رضائے الٰہی کے خلاف حرکت میں نہ آئے۔ ہم سے جوگناہ سرزد ہوتے ہیں اور ہمارے فکر میں جو تمرد وانحراف جنم لیتا ہے یہ دراصل اسی شعور و ادراک کے فقدان کا نتیجہ ہے۔ تسمیہ فی الحقیقت انسان کی فکری و عملی اصلاح کا شاندار ذریعہ ہے۔ اگر ہرکام شروع کرنے سے پہلے زبان اور دل خدا کانام لینے اور اس سے مدد طلب کرنے کی طرف راغب ہوں اوریہ انکی عادی خصوصیت بن جائے تو نواہی و محرمات سے ازخود پرہیز ہونے لگے گا۔ کیونکہ خدا کی یاد کے ہوتے ہوئے حکمِ خدا کی خلاف ورزی ممکن نہیں رہتی۔ مزید برآں استعانت دعا ہے اور دعا خود مغز عبادت۔ اس لحاظ سے تسمیہ فی نفسہ عبادت کی روح قرار پاتا ہے۔ اس کا فلسفہ یہ ہے کہ انسان خود کسی کام کے کرسکنے میں اپنے ذرائع اور اسباب و وسائل کے باوجود ناکافی وعاجز تصور کرتا ہے اور پھر اپنی بے بسی و بے کسی کے اعتراف کے ساتھ خدا بزرگ و برتر کی مناجات کرتے ہوئے اس سے مدد طلب کرتا ہے۔ گویا انسان بارگاہ ایزدی میں سراپا سوال بن کر حاضر ہے، وہ دنیاو مافیہا سے ناامید اور تمام اسباب سے مایوس ہوکر مسبب الاسباب کی بارگاہ میں نیاز مندی کے ساتھ آن کھڑا ہوا ہے۔ اس کی آرزو مندی دل کو درد وسوز کی لذت سے آشنا کردیتی ہے اور یہی کیفیت انسان کو مقامِ بندگی سے ہمکنار کرتی ہے۔ بقول شخصے سراپا آرزو ہونے نے بندہ کردیا مجھ کو وگرنہ میں خدا ہوتا جو دل بے مدعا ہوتا اسی مقام کو علامہ اقبال یوں بیان کرتے ہیں۔ متاع بے بہا ہے درد و سوز و آرزو مندی مقام بندگی دے کر نہ لوں شانِ خداوندی قرآن میں حرفِ باء کا استعمال کئی مقامات پر اسی مقصد کے لیے ہوا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ اسْتَعِينُواْ بِالصَّبْرِ وَالصَّلاَةِ إِنَّ اللّهَ مَعَ الصَّابِرِينَO اے ایمان والو! صبر اور نماز کے ذریعے (مجھ سے) مدد چاہا کرو یقیناً اللہ صبر کرنے والوں کیساتھ ہوتا ہےo (البقره، 2 : 153) یہاں صبر اور نماز دونوں کو ذریعہِ استعانت کے طور پر بیان کیا گیا ہے کہ استعانت تو لامحالہ باری تعالیٰ سے ہوگی لیکن اس کے کامل استحقاق کے لیے صبر و نماز کو اپنا لوتا کہ ان کے واسطے سے اﷲ تعالیٰ کا لطف و کرم اور عنایت واعانت زیادہ سے زیادہ نصیب ہوسکے۔ اسی تصور کو ایک اور مقام پر یوں واضح کیا گیا ہے۔ قَالَ مُوسَى لِقَوْمِهِ اسْتَعِينُوا بِاللّهِ وَاصْبِرُواْ. موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا ! تم اللہ سے مدد مانگو اور صبر کرو۔ (الاعراف، 7 : 128) اسباب سے صرفِ نظر کرکے مسبّب الاسباب پر نظر رکھنا ہی صبر کہلاتا ہے۔ اس لیے قرآن استعانت کے ساتھ توحید مطلب کی بھی تعلیم دے رہا ہے۔ تسمیہ میں بائے استعانت سے پہلے یا بعد میں کسی کا ذکر نہیں۔ صرف خدا ہی کے نام پر اکتفا کیا گیا ہے۔ جس کا واضح مقصد یہی ہے کہ انسان کی تمام ضروریات و مشکلات میں خدا ہی کی ذات کافی ہے۔ اسے کسی اور چیز پر توکل یا انحصار کی ضرورت نہیں۔ بائے تبرک : تبرک کا معنی حاصل کرنا ہے۔ لہذا بائے تبرک کے حوالے سے تسمیہ کا معنی یہ ہوگا کہ ’’ اﷲ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے شروع کرتا ہوں،،۔ خدا کے نام سے شروع کرنا اس اعتبار سے باعث برکت ہے کہ اس کام کے پایہ تکمیل تک پہنچنے کے امکانات زیادہ روشن ہو جاتے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ اسباب و وسائل کا مہیا کرنا بھی تو اسی کا کام ہے۔ اس لیے جب اس ذات کے مقدس نام سے برکت طلب کی جائے تو وہ ذات اس کام کا انجام تک پہنچنا آسان کردیتی ہے۔ اس لیے آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : کل امر ذي بال لا يبدا فيه ببسم اﷲ فهو أجذم او أقطع اولم يبدا فيه باسم اﷲ فهو أبتر اولا يفتح بذکر اﷲ فهو أبتر أو أ قطعا. 1. سنن ابن ماجه، 1 : 610، رقم : 1894 2. کنزالعمال، 1 : 555، رقم : 249 جو کام بسم اﷲ پڑھے بغیر شروع کیا جائے وہ دم بریدہ اور ناقص رہ جاتا ہے، جو کام بسم اﷲ کے شروع کے بغیر شروع کیا جائے ناتمام رہ جاتا ہے، جس امر کا افتتاح خدا کے ذکر کے بغیر ہوگا وہ انجام خیر تک نہیں پہنچے گا۔ اس وقت ہمارے پیش نظر لفظ اسم کی لغوی اور معنوی دلالت نہیں ہے۔ سردست ہم نحوی قاعدے کے مطابق اس کے صرف ایک پہلو پر روشنی ڈالنا چاہتے ہیں۔ عربی زبان میں کلمہ تین قسم کا ہوتا ہے۔ حرف، فعل اور اسم تمام ائمہ نحو وادب اس امر پر متفق ہیں کہ : الحرف هی الکلمة لا يصح الاخبار عنها ولابها. حرف وہ کلمہ ہے جو نہ توکسی اور کی خبر دیتا ہے اور نہ خود کسی پر دلالت کرتا ہے۔ حرف جب تک کسی اور سے منسلک نہ ہو اس میں کوئی معنویت پیدا نہیں ہوتی۔ یعنی یہ ازخود کسی کامل مفہوم کی نشاندہی نہیں کرسکتا۔ اس لحاظ سے نہ ’’مسند،، ہے اور نہ ’’مسند الیہ،،۔ الفعل هی الکلمة لا يصح الاخبار عنها لکن يصح الاخبار بها. فعل وہ کلمہ ہے جو فی نفسہ کسی اور کی خبر تو نہیں دے سکتا لیکن خود کسی نہ کسی خبر پر دلالت کرتا ہے۔ اس لحاظ سے فعل ’’مسند الیہ،، نہیں۔ یعنی اس کو خود تو کسی عمل یا خبر سے نسبت ہوتی ہے مگر کسی اور کو اس سے بالذات کوئی نسبت نہیں ہوتی۔ جب تک کوئی اسم اس کا فاعل بن کر مذکور نہ ہو۔ اس کی معنویت بھی کامل نہیں ہوسکتی۔ الاسم هی الکلمة يصح الاخبار عنها وبها. اسم وہ کلمہ ہے جو خود بھی کسی اور کی خبر دیتا ہے اور کوئی بھی اس سے نسبت رکھتا ہے۔ اس لحاظ سے اسم کو ’’مسند،، اور ’’مسند الیہ،، دونوں حیثیتیں حاصل ہوتی ہیں۔ یعنی یہ خود بھی اپنی ذات میں کسی نہ کسی کی خبر دیتا ہے اور کوئی دوسرا اس سے منسلک ہوجائے یا اس سے نسبت پیدا کرلے تو وہ بھی بامعنی یعنی کامل بن جاتا ہے۔ بہ الفاظ ویگر اسم خود ’’کامل گر،، بھی ہے۔ مذکورہ بالا تینوں کلمات کا باہمی تعلق یہ ہے کہ حرف بھی اس سے نسبت پیدا کرکے خود کو بامعنی بناتا ہے، فعل بھی اسم سے نسبت پیدا کرکے اپنی معنویت اور دلالت کو کامل بناتا ہے۔ لیکن اسم ایک ایسا کلمہ ہے جو خود ہی اپنے مقصد اور ذات معینہ پر دلالت کرتا ہے یا اس کی خبر دیتا ہے۔ اس کو اپنی اس حیثیت کی تشکیل کے لیے نہ کسی اور حرف کی حاجت ہے نہ کسی فعل کی۔ گویا اسم میں دلالتِ کاملہ اور دلالتِ مطلقہ ہوتی ہے۔ فعل میں ناقصہ اورحرف میں سرے سے ہوتی ہی نہیں۔ تسمیہ میں فعل، حرف اور اسم کے باہمی تعلق پر اشارۂ لطیف : مذکورہ بالا بحث کی روشنی میں ’’تسمیہ،، کے الفاظ پر غور فرمائیں تو ’’فعل،، جس کا تعلق کسی غیر سے ہوسکتا تھا، محذوف کردیا گیا۔ کلماتِ تسمیہ کا آغاز ’’حرف باء،، سے کیا گیا۔ جو اپنی ذات میں کوئی معنی و مفہوم نہیں رکھتا۔ اس میں جو بھی معنویت او ر افادیت پیدا ہوئی ہے۔ صرف اسم کے ساتھ نسبت پیدا کرنے کے باعث ہوئی ہے۔ ’’حرف باء،، کا مقصد محض اپنے ماقبل محذوف کو یعنی کسی غیر کو جو متکلم یا فعل ہوگا، اسم کے ساتھ ملانا ہے۔ پھر لفظ ’’اسم،، وارد کیا گیا اور اس کے بعد ’’ اﷲ الرحمن الرحیم،، کے الفاظ بیان ہوئے۔ اسم کا معنی ’’علامت،، ہے۔ ذات و صفات باری تعالیٰ کے ذکر سے پہلے ’’اسم،، کا لایا جانا اس بات کو واضح کرنا تھا کہ اﷲ اپنی واحدانیت، الوہیت اور ہویت میں اس طرح غیر محسوس و غیر مبصر، وہم و ادراک سے بالا اور عقل و خرد سے بلند ہے کہ اس تک کسی کا وہم و گمان نہیں پہنچ سکتا، بندوں کا اس تک وصول محال ہے۔ لہذا اس مخفی وباطن اور پاک و منزہ ہستی تک وصول کے لیے ایسی علامت درکار ہے جو خود ظاہر ہو، اس ہستی کی خبر دینے والی ہو، اپنی ذات کے ظہور میں بھی کامل ہو اوراس ذات مطلق کے اظہار کے لیے بھی کامل ہو، جو خود اس کی خبر بھی رکھتی ہو اور دوسروں کو اس سے باخبر بھی کرسکتی ہویعنی وہ علامت ذات حق کے ظہور کی ایسی دلیل بن جائے کہ خود بھی اس سے ملی ہوئی ہو اور دوسروں کو بھی اس سے ملا سکے اوراس غرض سے دوسرے اس علامت سے نسبت و تعلق قائم کرنے کے لیے مجبور و مامور ہوں۔ ایسی علامت کاملہ جس کی شان یہ ہوکہ۔ اُدھر سے اﷲ سے واصل، اِدھر مخلوق میں شامل خواص اس برزخ کبرٰی کو ہے حرفِ مشدد کا وہ علامت صرف ذات محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہی تھی جسے ’’ کلمہ اسم،، کے عنوان سے بطور ذریعہ بیان کردیا گیا۔ تصورِ دلالت اور کلمۂ اسم کی وساطت : یہاں یہ امر غور طلب ہے کہ لفظ ’’ اﷲ،، کی دلالت کے لیے کلمۂ اسم بطور ذریعہ وارد ہوا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ’’ کیا ذات حق اپنی دلالت کے لیے کسی ذریعے کی محتاج ہے؟،، اس کا جواب صاف نفی میں ہے۔ بذاتِ خود باری تعالیٰ اپنی دلالت کے لیے کسی ذریعے، واسطے اور علامت کی محتاج نہیں ہے لیکن اس حقیقت سے تو انکار نہیں کیا جاسکتا کہ کلمہ اسم اﷲ ذات باری تعالیٰ ہی کی دلالت کے لیے بطور ذریعہ و علامت وارد ہوا ہے تو پھر اس ذریعے اور علامت کی احتیاج کس کو ہے۔ اس کا جواب خود عبارت تسمیہ میں ہے جو حرف باء سے شروع ہوتی ہے۔ ’’حرف باء،، اپنے سے پہلے بہر صورت کسی فعل و فاعل کو محذوف کے طور پر طلب کرتا ہے۔ یہ محذوف وہ شخص ہے جو بارگہ الوہیت تک رسائی حاصل کرنا چاہتا ہے جو ’’ابداء، اشرع، اقراء وغیرہ،، کا فاعل ہے اور اس شخص کو ’’اسم،، یعنی علامت ذات حق سے ملانے کے لیے حرف باء درمیان میں لگایا گیا ہے۔ گویا مخلوق خدا حرف باء کے توسل سے اسم کے ساتھ اپنی نسبت پیدا کر رہی ہے تاکہ اسم کے ساتھ نسبت اور تعلق پیدا کرکے طالبان حق کو ذات حق تک رسائی نصیب ہوسکے۔ یہ اسم علامت کے طور پر اس ہستی مبارکہ کو بیان کررہا ہے جو ذات حق سے واصل اور اس کی عارف بھی ہے اور دیگر مخلوقات کو ذات حق کا وصال اور معرفت عطا کرنے والی بھی۔ ذاتِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کلمہ اسم کا مدلول کامل ہے : پورا قرآن شروع سے آخر تک اس امر کی تائید کرتا ہے کہ اسی مقصد کے لیے دنیا میں انبیاء و رسل تشریف لاتے رہے۔ وہ ذات حق کی معرفت اور اس تک رسائی کا بہترین ذریعہ و واسطہ بھی تھے اور علامت ودلالت بھی۔ پھر یہ انبیاء و رسل ایک دوسرے پر فضیلت بھی رکھتے تھے۔ ارشاد قرآنی ہے۔ تِلْکَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلٰی بَعْضٍ. یہ سب رسول ( جوہم نے مبعوث فرمائے) ہم نے ان میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے۔ (البقره، 2 : 353) انبیاء و رسل کی تمام فضیلتیں جس نقطے پر جاکر اپنے منتہائے کمال کو پہنچ گئیں۔ وہ نقطہ نبوت محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا تھا۔ اس لیے ذات حق پر آپ کی دلالت بھی سب سے زیادہ اکمل و افضل تھی اور آپ کی شانِ علامت بھی سب سے ارفع و اعلیٰ تھی۔ اس لیے نبوت و رسالت جہاں مقام و مرتبہ کے اعتبار سے آپ کی ذات ستودہ صفات پر ختم ہوگئی۔ وہاں ادوار زمانی کے اعتبار سے بھی آپ ہی پر اختتام پذیر ہوگئی۔ چنانچہ ذات حق کی علامتِ تامہ اور دلالتِ مطلقہ ذات مصطفوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قرار پاگئی۔ قرآن مجید نے کئی مقامات پر اس حقیقت کی واضح نشاندہی بھی کی ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے : وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ تَعَالَوْاْ إِلَى مَا أَنزَلَ اللّهُ وَإِلَى الرَّسُولِ رَأَيْتَ الْمُنَافِقِينَ يَصُدُّونَ عَنكَ صُدُودًاO (النساء، 4 : 61) اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ کے نازل کردہ (قرآن) کی طرف اور رسول کی طرف آجاؤ تو آپ منافقوں کو دیکھیں گے کہ وہ آپ (کی طرف رجوع کرنے) سے گریزاں رہتے ہیںo اس آیت نے صراحت کے ساتھ اس حقیقت کو بے نقاب کردیا کہ منافقت یہ ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے واسطہ کے بغیر ہی ذات حق کی بارگاہ میں بازیابی کے حصول کی کوشش کی جائے۔ یعنی منافقت کی پہچان یہ ہے کہ ’’ رسول کو وصالِ حق کا ذریعہ نہ ماناجائے۔ اس کو معرفت حق کی علامت اور ذاتِ حق کی دلالت تسلیم نہ کیا جائے،،۔ یعنی منافق یہ سمجھتا ہے کہ نسبت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بغیر ہی احکام خداوندی پر عمل باعثِ ایمان ثابت ہوجائے گا۔ حالانکہ قرآن اسے ’’ منافقت،، کہہ کر رد کرچکا ہے۔ اسی تصور کو ایک اور مقام پر یوں بیان کیاگیا ہے۔ وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ تَعَالَوْا يَسْتَغْفِرْ لَكُمْ رَسُولُ اللَّهِ لَوَّوْا رُؤُوسَهُمْ وَرَأَيْتَهُمْ يَصُدُّونَ وَهُم مُّسْتَكْبِرُونَO اور (ان کی حالت تو یہ ہے کہ) جب ان سے کہا جاتا ہے کہ آؤ رسول اللہ تمہارے لئے ( اللہ سے) بخشش طلب فرمائیں تو (یہ گستاخی سے) سر ہلاتے ہیں اور آپ دیکھتے ہیں کہ وہ بے رخی کرتے ہیں اور وہ تکبر کرتے ہیںo (المنافقون، 63 : 5) ان گستاخان رسالت اور بے نیازاِن درِ نبوت کے بارے میں مزید حکم صادر کیا گیا۔ ’’ کہ اے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میری غیرت اور شان مجیت کا تقاضا یہی ہے کہ اگر یہ تیرے ذریعہ وواسطہ کو اپنا کر میری ذات تک پہنچیں گے تو انہیں بخش دوں گا۔ لیکن اس طرح تجھ سے منہ موڑ کر تجھ سے تکبر کرتے ہوئے، تجھے میری ذات تک رسائی کا واحد ذریعہ و واسطہ اور علامت نہ سمجھتے ہوئے براہ راست مجھ سے معافی مانگنا چاہیں یا تو سراپا رحمت و رافت ہونے کی بناء پر انکے غرور و تکبر کے باوجود اپنے طور پر ان کیلئے مغفرت مانگے تو میں ان بدبختوں کو پھر معاف نہیں کروں گا۔ ان کو تجھ سے منہ موڑنے کا مزہ چکھا کر ہی رہوں گا۔ سَوَاءٌ عَلَيْهِمْ أَسْتَغْفَرْتَ لَهُمْ أَمْ لَمْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ لَن يَغْفِرَ اللَّهُ لَهُمْ. آپ ان کے لئے بخشش مانگیں یا ان کے لئے بخشش نہ مانگیں ان کے حق میں برابر ہے اللہ ان کو ہرگز نہ بخشے گا۔ (المنافقون، 63 : 6) اگر یہ آپ کی سفارش، شفاعت اور غلامی کے ذریعہ کو ٹھکرا کر بھی بخشے جائیں تو پھر ان غلامانِ رسالت کا کیا حال ہوگا جو قدم قدم پر تیری بارگاہ میں نیاز مندیاں کرتے ہیں اور تجھے میری ذات کی علامت سمجھ کر تیرے واسطے سے مجھ تک پہنچتے ہیں۔ میں ان بدنصیبوں کو ان خوش نصیبوںکے برابر نہیں ٹھہرا سکتا اور پھر میرا دستور مغفرت ہی یہی ہے کہ لوگ بارگاہ رسالت کی وساطت سے مجھ تک پہنچیں۔ باری تعالیٰ خود اعلان فرماتے ہیں۔ وَمَا أَرْسَلْنَا مِن رَّسُولٍ إِلاَّ لِيُطَاعَ بِإِذْنِ اللّهِ وَلَوْ أَنَّهُمْ إِذ ظَّلَمُواْ أَنفُسَهُمْ جَآؤُوكَ فَاسْتَغْفَرُواْ اللّهَ وَاسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُولُ لَوَجَدُواْ اللّهَ تَوَّابًا رَّحِيمًاO اور ہم نے کوئی پیغمبر نہیں بھیجا مگر اس لئے کہ اللہ کے حکم سے اس کی اطاعت کی جائے اور (اے حبیب) اگر وہ لوگ اپنی جانوں پر ظلم کر بیٹھے تھے آپ کی خدمت میں حاضر ہو جاتے اور اللہ سے معافی مانگتے اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی ان کے لئے مغفرت طلب کرتے تو وہ (اس وسیلہ اور شفاعت کی بنا پر) ضرور اللہ کو توبہ قبول فرمانے والا نہایت مہربان پاتےo (النساء، 4 : 64) اس آیت کا مفہوم و مدعا سابقہ آیت کی روشنی میں سمجھا جائے تو حقیقت منکشف ہوجاتی ہے کہ لوگ ظلم ومعصیت کے بعد اگر ذات محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو واسطہ وصال الٰہی اور ذریعہ مغفرت حق مان کر در رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سرنیاز خم کردیں، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وساطت سے بارگاہ الوہیت تک رسائی کی آرزو کریں اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ذریعہ و واسطہ سمجھنے سے انکاری ہوں بلکہ آپ کی سفارش سے ہی منہ پھیر لیں تو پھر کوئی صورت نہیں کہ وہ بخشے جائیں۔ اس لیے کہ اندریں صورت میں ان کی بخشش سنت الٰہی کے خلاف ہے اور ارشاد ایزدی ہے۔ وَلَن تَجِدَ لِسُنَّةِ اللَّهِ تَبْدِيلًاO اور آپ اللہ کی سنت میں کبھی فرق نہ پائیں گےo (الفتح، 48 : 23) متذکرہ بالا آیات نے اس حقیقت کو اظہر من الشمس کردیا کہ ذات حق تک رسائی کے لیے صرف اور صرف ذات محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی واسطہ و ذریعہ ہے۔ اسی وجہ سے آپ کو تسمیہ میں ’’ کلمہ اسم،، سے تعبیر کردیا گیا اور آپ کو علی الاطلاق برھان من ربکم (تمہارے رب کی طرف سے حتمی و قطعی دلالت) کے لقب سے سرفراز کیا گیا ہے۔ چنانچہ بسم اﷲ الرحمن الرحیم کی اولین تعلیم ہی یہی تھی کہ ذات باری تعالیٰ اور اس کی صفاتِ کاملہ تک رسائی واسطہ و علامت کے بغیر ممکن نہیں اور وہ واسطہ جلیل ذات محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے جسے اس ذات نے محمد، احمد، حامد اور محمود کے اسماء مبارکہ کے ذریعے اپنی شان اسمیت سے نواز رکھا ہے۔ ذات محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور شان اسمیت : مذکورہ بالا تحقیق کا خلاصہ یہ ہوا کہ جناب مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ’’اسم،، ہیں کیونکہ ان کو اﷲ سے نسبت ہے اور ساری مخلوق خدا کو ان سے نسبت ہے یہی اسم کی شان اور تعریف پہلے بیان ہوچکی ہے کہ وہ مسند بھی ہوتا ہے اور مسندالیہ بھی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی اسی حیثیت کو اسطرح واضح فرمایا : إنما أنا قاسم واﷲ يعطي. بے شک نعمتوں کو مخلوق خدا میں تقسیم میں ہی کرنے والا ہوں اور مجھے عطا اﷲ تعالیٰ کرتاہے۔ (صحيح المسلم، 2 : 333، 12. کتاب الزکوة، 33. باب النهی عن المسألة، رقم حديث : 100) اس حدیث صحيح کے ذریعے ذات محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دو نسبتیں واضح ہوگئیں۔ 1۔ نسبت الی الخالق۔ 2۔ نسبت الی الخلق ’’نسبت الی الخالق،، یہ ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خالق سے حاصل کرتے ہیں اور ’’ نسبت الی الخلق،، یہ ہے کہ مخلوق میں تقسیم فرماتے ہیں۔ سورہ الضحٰی میں یہی دو نسبتیں خاص انداز سے بیان کی گئی ہیں۔ وَلَسَوْفَ يُعْطِيْکَ رَبُّکَ فَتَرْضٰیO اَلَمْ يَجِدْکَ يَتِيْمًا فَاٰوٰیO وَوَجَدَکَ ضَآلًا فَهَدَیO وَوَجَدَکَ عَآئِلًا فَاَغْنٰیO اور بے شک قریب ہے کہ آپ کا رب آپ کو اتنا دے گاکہ آپ راضی ہوجائیں گے کیا اﷲ نے آپ کو حالت یتیمی میں نہ پایا۔ پس اس نے آپ کو بلند مقام سے سرفراز کردیا اور اس نے آپ کو اپنی محبت میں خود رفتہ پایا۔ پس اپنا قرب و وصال عطا کردیا اور اس نے آپ کو اپنی نعمتوں کا ضرورت مند اورطلبگار پایا تو اتنا عطا کیا کہ غنی اور مالدار کردیا۔ (الضحٰی، 93 : 5 - 8) ان آیات میں پہلی نسبت کا بیان تھا کہ جس جس چیز کی ضرورت ذات مصطفوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو محسوس ہوئی رب ذوالجلال نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عطا کردی۔ اپنی نعمتوں اور عطاؤں کے خزانے نے ذات نبوی پر اس طرح کھول دیئے کہ انہیں ’’غنی،، یعنی بے نیاز کردیا۔ اب مخلوق خدا کو حکم دیاکہ میری نعمتوں اور عطاؤں کو حاصل کرنا چاہتے ہوتو تمہارے لیے واسطہ اتم مقرر فرمادیا ہے۔ جاؤ درِ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر حاضری دو، وہاں دامن سوال دراز کرو، جو کچھ مانگو وہی کچھ ملے گا۔ کیونکہ ہم نے عطا میں کوئی کمی نہیں کی، وہ تقسیم میں بھی کچھ نہیں کریں گے۔ ساتھ ہی ’’نسبت الی الخلق، ’ کے حوالے سے اپنے اسم مقدس کو حکم صادر فرمایا : فَاَمَّا الْيَتِيْمَ فَلَا تَقْهَرْO وَاَمَّا السَّآئِلَ فَلَا تَنْهَرْO وَاَمَّا بِنِعْمَة رَبِّکَ فَحَدِّثْO پس اے محبوب، اے تقسیم کرنے والے، اب اگر آپ کے پاس کوئی یتیم آئے تو اس (کے مانگنے) پر ناراض نہ ہوں، اور جو کوئی سائل آپ کے در پر آئے۔ پس اسے خالی نہ موڑیے اور اپنے رب کی عطاؤں اور نعمتوں کو ہر ایک میں تقسیم کرکے خوب چرچا کرو۔ (الضحٰی، 93 : 9 - 11) لہذا ذات محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان اسمیت یہ قرار پائی کہ ’’نسبت الی الخالق،، کے نتیجے میں ساری کائنات میں انعامات الٰہیہ کی تقسیم کے فیضان رحمت کے مظہر اتم بن گئے اور ’’نسبت الی الخلق،، کے نتیجے میں ساری کائنات میں انعامات الٰہیہ کی تقسیم کے ضامن بن گئے بقول مولانا احمد رضا خان : بخدا، خدا کا یہی ہے در، نہیں اورکوئی مفر مقر جو وہاں سے ہو یہاں آکے ہو، جو یہاں نہیں تو وہاں نہیں سورۃ الضحٰی کی آیت متذکرہ 8 اور 10 اور حدیث مذکورہ بالا دونوں مقامات میں نہ ’’عطا،، میں تخصیص فرمائی گئی ہے اور نہ تقسیم میں۔ عطا بھی مطلق اور بلاقید ہے۔ تقسیم بھی مطلق اور بلاقید ہے۔ اسی طرح سائلان و وابستگان پر بھی کوئی پابندی عائد نہیں کی گئی کہ تم کیا مانگو اور کیا نہ مانگو۔ جو کچھ بھی مانگو گے، دنیا مانگو یا آخرت، سب کچھ ملے گا کیونکہ ہم نے اپنے محبوب کو بلا استثنٰی تمہاری ضرورتوں سے بھی زیادہ عطا کر دیا ہے۔ پھر اس سے قبل یہ بھی اعلان فرما دیاگیا۔ وَلَلْاٰخِرَة خَيْرٌ لَّکَ مِنَ الْاٰوْلٰیO اے محبوب! تمہاری ہر آنے والی گھڑی، گزری ہوئی گھڑی سے بہتر ہوگی۔ (الضحٰی، 93 : 4) یعنی آپ پر ہر آن ہماری عطاؤں کا سلسلہ بڑھتا رہے گا۔ جب عطاؤں میں کمی نہیں آسکتی اسی طرح تقسیم میں بھی کمی یا رکاوٹ نہیں آنی چاہیے۔ چنانچہ ابدالآباد تک ذات محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یہ دونوں نسبتیں ( نسبت الی الخالق۔ ۔ ۔ جو حصول فیضان سے عبارت ہے اور نسبت الی الخلق۔ ۔ ۔ جو تقسیم فیضان سے عبارت ہے) قائم و دائم رہیں گی۔ اس لیے قرآن کے پیغام ابدی کے ساتھ ساتھ مخلوق خدا کے لیے اسم مقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فیضان وساطت و رسالت بھی جاری و ساری رہے گا۔ حرفِ جار کی نسبت ایک لطیف نکتہ : یہاں یہ امر بھی ذہن نشین رہنا چاہیے کہ تسمیہ میں کلمہ اسم کو حرف جار (باء) سے منسلک کیا گیا ہے ’’جر،، کے معنی کشش اور جذب کرنے کے ہوتے ہیں۔ حرف جار کشش کے لیے مقرر ہے چونکہ حرف جار فعل محذوف کو اسم سے ملانے کے لیے واقع ہوا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ جو بھی ذات حق کا ماسوی ہے اور اسے ذات باری تعالیٰ کا قرب و وصال اور معرفت و اعانت مطلوب ہے۔ وہ ذات محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جسے بطور علامت عنوان ’’اسم،، کے تحت بیان کیا گیا ہے جذب وکشش پیدا کرلے۔ اسے جس قدر ذات محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا قرب اور جذب و کشش نصیب ہوگی اسی قدر ذات حق کی محبوبیت کا سزا وار ہوتا چلا جائے گا۔ جیسے کہ ارشاد خداوندی ہے۔ قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اﷲَ فَاتَّبِعُوْنِیْ يُحْبِبْکُمُ اﷲُ. (اے حبیب!) آپ فرما دیں اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو تب اللہ تمہیں (اپنا) محبوب بنالے گا۔ (آل عمران، 3 : 31) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی اسی شان کریمی کا ذکر کرتے ہوئے یوں فرمایا : مثلی کمثل رجل استوقد ناراً فلما أضاء ت ماحولها جعل الفراش و هذه الدوآب التی فی النار يقعن فيها و جعل يحجزهن و يغلبنه فيتقحمن فيها قال فذلکم مثلي و مثلکم أنا أخذ بحجرکم عن النارهلم عن النارهلم عن النار فتغلبوني و تقحمون فيها. (صحيح لمسلم، 2 : 248، 43. کتاب الصقائل، 6. باب شفقة صلي الله عليه وآله وسلم علي امته، رقم : 18) حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا میری مثال اس شخص کی طرح ہے جس نے آگ جلائی اور جب اس آگ نے ماحول کو روشن کر دیا تو اس میں پروانے اور حشرات الارض گرنے لگے وہ شخص ان کو آگ میں گرنے سے روکتا ہے اور وہ اس غالب آکر آگ میں دھڑا دھڑ گر رہے ہیں پس یہ میری مثال اور تمہاری مثال ہے میں تمہاری کمر پکڑ کر تم کو جہنم میں جانے سے روک رہا ہوں اور کہہ رہا ہوں کہ جہنم کے پاس سے چلے آؤ اور تم لوگ میری بات نہ مان کر جہنم میں گرے جا رہے ہو۔ اس حدیث کے ذریعے اس جذب و کشش کی ماہیت بھی واضح ہوگئی جو کلمہ کے باعث اسم مقدس میں پیدا ہو گئی تھی۔ اسم نحوی کا خاصہ جر من حیث الوقع ہے اور اسم الٰہی کا خاصہ جرمن حیث الصدور ہے۔ خلاصہ کلام یہ ہوا کہ بسم اﷲ الرحمن الرحیم کے ذریعے باری تعالیٰ نے ’’توحیدِخالص،، کی تعلیم دی لیکن اس کی صحت وقبولیت کی شرط بھی متعین فرما دی اور وہ شرط واسطہ رسالت محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے۔ اسی لیے اسم ذات ’’اﷲ،، کو علی التخصیص الرحمن الرحیم کے ذریعے صفتِ رحمت سے اجاگر کیا تاکہ ’’شانِ اسمیت،، کے معنی ومفہوم پر بھی دلالت ہوجائے کہ اسمِ مقدس کا کامل ترین مدلول ذات محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے۔ فسلفہ تسمیہ از ڈاکٹر طاہر القادری

قرآن اور مقامِ انسانیت

2017-06-20 22:02:53 

قرآن اور مقامِ انسانیت اللہ پاک نے انسان کو اپنی شاہکار تخلیق بنایا. اسے عقل, ذہانت اور شعور بخشا. بہترین صورت گری فرمائی. دنیا کے تمام مخلوقات پر نا صرف اسے برتری دی بلکہ تمام مخلوقات کو اس کے تابع فرمادیا. اس کے لیے رزق کا بہترین بندوبست فرمایا. اسے جسمانی طاقت کے ساتھ ساتھ ذہنی صلاحیت سے نوازہ. اسے علم سکھایا. اشرف المخلوق کا نام دیا. قرآن کی عالی ترین تعریفیں بھی انسان کے بارے میں ہیں اور سخت ترین مذمت بھی. انسان کو کائنات کو مسخر کرنے والا بھی بتایا گیا اور فرشتوں سے برتر مقام بھی دیا گیا. اخلاق و کردار کا بہترین نمونہ قرار دیاگیا. اور انسانیت کے لیے رحمت بھی بتایاگیا. ساتھ ہی ساتھ انسان کے بدترین روپ کا تذکرہ بھی کیا گیا . اور بتایا کہ انسان اپنے بُرے اعمال کی پاداش میں اسفل السافلین میں بھی گر سکتا ہے. اپنے غلط محرکات کی بدولت جہل کا سردار کہلا سکتا ہے. ابلیس کا پیروکار بن سکتا ہے. اور انسانیت کے لیے دہشت و بربریت کی مثال بھی بن سکتا ہے. اللہ پاک قرآن پاک میں انسانیت کے بلند ترین کرداروں کا تذکرہ کچھ ایسے فرماتے ہیں.

انسان بحیثیت خلیفہ

وَ اِذْ قَالَ رَبُّکَ لِلْمَلٰٓئِکَۃِ اِنِّیْ جَاعِلٌ فِی الْاَرْضِ خَلِیْفَۃً قَالُوْٓا اَتَجْعَلُ فِیْہَا مَنْ یُّفْسِدُ فِیْہَا وَیَسْفِکُ الدِّمَآء َ وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِکَ وَنُقَدِّسُ لَکَ قَالَ اِنِّیْٓ اَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ() ’’اور یاد کرو جب تمہارے رب نے فرشتوں سے فرمایامیں زمین میں اپنا نائب بنانے والا ہوں ۔بولے کیا ایسے کو نائب کرے گا جو اس میں فساد پھیلائے اور خونریزیاں کرے اور ہم تجھے سراہتے ہوئے تیری تسبیح کرتے اور تیری پاکی بولتے ہیں فرمایا مجھے معلوم ہے جو تم نہیں جانتے ۔‘‘ ( سورہ بقرہ، آیت ۳۰)

مقام و مرتبہ

وَہُوَ الَّذِیْ جَعَلَکُمْ خَلٰٓئِفَ الْاَرْضِ وَرَفَعَ بَعْضَکُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجٰتٍ لِّیَبْلُوَکُمْ فِیْ مَآ اٰتٰیکُمْ اِنَّ رَبَّکَ سَرِیْعُ الْعِقَابِ وَ اِنَّہ لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ ’’اور وہی ہے جس نے زمین میں تمہیں نائب کیا اور تم میں ایک کو دوسرے پر درجوں بلندی دی کہ تمہیں آزمائے اس چیز میں جو تمہیں عطا کی بے شک تمہارے رب کو عذاب کرتے دیر نہیں لگتی اور بے شک وہ ضرور بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ (سورہ انعام ،آیت ۱۶۵)۔

علمی استعداد میں تمام مخلوقات پر برتری

وَعَلَّمَ اٰدَمَ الْاَسْمَآء َ کُلَّہَا ثُمَّ عَرَضَہُمْ عَلَی الْمَلٰٓئِکَۃِ فَقَالَ اَنْبِـُوْنِیْ بِاَسْمَآء ِ ہٰٓؤُلَآء ِ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ() ’’اور اللّٰہ تعالیٰ نے آدم کو تمام اشیاء کے نام سکھائے پھر سب اشیاء ملائکہ پر پیش کرکے فرمایا سچے ہو تو ان کے نام تو بتاؤ ۔‘‘ ( پ ۱،سورہ بقرہ ِآیت۳۱)۔

یک اور مقام پر ارشادربانی ہے

قَالُوْا سُبْحٰنَکَ لَا عِلْمَ لَنَآ اِلَّا مَا عَلَّمْتَنَا اِنَّکَ اَنْتَ الْعَلِیْمُ الْحَکِیْمُ() ’’بولے پاکی ہے تجھے ہمیں کچھ علم نہیں مگر جتنا تو نے ہمیں سکھایا بے شک تو ہی علم و حکمت والا ہے۔ ‘‘( پ۱،سورہ بقرہ، ِآیت ۳۲ )

مخلوق کی خالق سے شناسائی وَ اِذْ اَخَذَ رَبُّکَ مِنْ بَنِیْٓ اٰدَمَ مِنْ ظُہُوْرِہِمْ ذُرِّیَّتَہُمْ وَاَشْہَدَہُمْ عَلٰٓی اَنْفُسِہِمْ اَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ قَالُوْا بَلٰی شَہِدْنَا اَنْ تَقُوْلُوْا یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ اِنَّا کُنَّا عَنْ ہٰذَا غٰفِلِیْنَ()۔ ’’اور اے محبوب یاد کرو جب تمہارے رب نے اولاد آدم کی پشت سے انکی نسل نکالی اور انہیں خود ان پر گواہ کیا،کیا میں تمہارا رب نہیں سب بولے کیوں نہیں ہم گواہ ہوئے کہ کہیں قیامت کے دن کہو کہ ہمیں اس کی خبر نہ تھی۔‘‘( سورہ اعراف آیت ۱۷۲)

خالق کی دی ہوئی ذمہ داری کا امین

اِنَّا عَرَضْنَا الْاَمَانَۃَ عَلَی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ الْجِبَالِ فَاَبَیْنَ اَنْ یَّحْمِلْنَہَا وَ اَشْفَقْنَ مِنْہَا وَ حَمَلَہَا الْاِنْسٰنُ اِنَّہ کَانَ ظَلُوْمًا جَہُوْلًا ()۔ ’’بیشک ہم نے امانت پیش فرمائی آسمانوں اور زمین اور پہاڑوں پر تو انہوں نے اس کے اٹھانے سے انکار کیا اور اس سے ڈر گئے اور آدمی نے اٹھالی بیشک وہ اپنی جان کو مشقت میں ڈالنے والا بڑا نادان ہے ۔‘‘ ( پ۲۲،سورہ احزاب، آیت ۷۲)

مخلوقات پر فضیلت

وَلَقَدْ کَرَّمْنَا بَنِیْٓ اٰدَمَ وَحَمَلْنٰہُمْ فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ وَرَزَقْنٰہُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ وَفَضَّلْنٰہُمْ عَلٰی کَثِیْرٍ مِّمَّنْ خَلَقْنَا تَفْضِیْلًا ۔’’اور بیشک ہم نے اولادِ آدم کو عزت دی اوران کو خشکی اور تری میں سوار کیا اور ان کو ستھری چیزیں روزی دیں اور ان کو اپنی بہت مخلوق سے افضل کیا ۔‘‘ (پ۱۵ سورہ بنی اسرائیل آیت۷۰)

قلبی اطمینان عطا فرمایا

اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَتَطْمَئِنُّ قُلُوْبُہُمْ بِذِکْرِ اللّٰہِ اَلَا بِذِکْرِ اللّٰہِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوْبُ ۔ ’’وہ جو ایمان لائے اور ان کے دل اللّٰہ کی یاد سے چین پاتے ہیں سن لو اللّٰہ کی یاد ہی میں دلوں کا چین ہے۔‘‘ ( سورہ رعد آیت۲۸)

نعمتیں تمام فرما دی

ہُوَ الَّذِیْ خَلَقَ لَکُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا ()ثُمَّ اسْتَوٰٓی اِلَی السَّمَآء ِ فَسَوّٰیہُنَّ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ وَہُوَ بِکُلِّ شَیْء ٍ عَلِیْمٌ()۔’’: وہی ہے جس نے تمہارے لئے بنایا جو کچھ زمین میں ہے پھر آسمان کی طرف استواء (قصد)فرمایا تو ٹھیک سات آسمان بنائے وہ سب کچھ جانتا ہے ۔‘‘ (پ۱،سورہ بقرہ آیت ۲۹)

اپنی نشانیوں سے شناسائی عطا فرمائی

سَخَّرَ لَکُمْ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا مِّنْہُ اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَکَّرُوْنَ ()’’ اور تمہارے لئے کام میں لگائے جو کچھ آسمانوں میں ہیں اور جو کچھ زمین میں اپنے حکم سے بے شک اس میں نشانیاں ہیں سوچنے والوں کے لئے ۔‘‘ ( پ۲۵،سورہ جاثیہ، آیت ۱۳)۔

قرآن پاک میں اللہ پاک انسانیت کے پست ترین کرداروں کا تذکرہ ایسے فرماتے ہیں. خالق سے غفلت

وَ لَا تَکُوْنُوْا کَالَّذِیْنَ نَسُوا اللّٰہَ فَاَنْسٰیہُمْ اَنْفُسَہُمْ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الْفٰسِقُوْنَ () ’’اور ان جیسے نہ ہو جو اللّٰہ کو بھول بیٹھے تو اللّٰہ نے انہیں بَلا میں ڈالا کہ اپنی جانیں یاد نہ رہیں وہی فاسق ہیں ۔‘‘ ( سورہ حشر آیت۱۹)

موت کے بعد غفلت کا انجام بتایا

لَقَدْ کُنْتَ فِیْ غَفْلَۃٍ مِّنْ ہٰذَا فَکَشَفْنَا عَنْکَ غِطَآء َکَ فَبَصَرُکَ الْیَوْمَ حَدِیْدٌ ()۔ ’’بیشک تو اس سے غفلت میں تھاتو ہم نے تجھ پر سے پردہ اٹھایا تو آج تیری نگاہ تیز ہے ۔‘‘ ( پ۲۶،سورہ ق ،آیت ۲۲)

کفار اور منافقوں سے جہاد کا حکم

یٰٓاَیُّہَا النَّبِیُّ جٰہِدِ الْکُفَّارَ وَالْمُنٰفِقِیْنَ وَاغْلُظْ عَلَیْہِمْ وَمَاْوٰیہُمْ جَہَنَّمُ وَبِئْسَ الْمَصِیْرُ ۔ ’’اے غیب کی خبریں دینے والے (نبی)جہاد فرماؤ کافروں اور منافقوں پراور ان پر سختی کرو اور ان کا ٹھکانا دوزخ ہے اور کیا ہی بری جگہ پلٹنے کی ۔‘‘ (پ۱۰،سور ۃ التوبۃ ،آیت:۷۳)۔

کفار کو ڈھیل

وَاَصْحٰبُ مَدْیَنَ وَکُذِّبَ مُوْسٰی فَاَمْلَیْتُ لِلْکٰفِرِیْنَ ثُمَّ اَخَذْتُہُمْ فَکَیْفَ کَانَ نَکِیْرِ () ’’اور مدین والے اور موسٰی کی تکذیب ہوئی تو میں نے کافروں کو ڈھیل دی پھر انہیں پکڑا تو کیسا ہوا میرا عذاب۔ ‘‘(پ۱۷،سورۃ الحج ،آیت۴۴)

جلد باز انسان

وَیَدْعُ الْاِنْسٰنُ بِالشَّرِّ دُعَآء َہ بِالْخَیْرِ وَکَانَ الْاِنْسٰنُ عَجُوْلًا () ۔ ’’اور آدمی برائی کی دعا کرتا ہے جیسے بھلائی مانگتا ہے اور آدمی بڑا جلد باز ہے ۔ ( پ۱۵،سورہ اسرائیل، آیت ۱۱)

غافل انسان کا تعارف اور انجام

وَلَقَدْ ذَرَاْنَا لِجَہَنَّمَ کَثِیْرًا مِّنَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ لَہُمْ قُلُوْبٌلَّایَفْقَہُوْنَ بِہَا وَلَہُمْ اَعْیُنٌ لَّایُبْصِرُوْنَ بِہَا وَلَہُمْ اٰذَانٌ لَّایَسْمَعُوْنَ بِہَا اُولٰٓئِکَ کَالْاَنْعٰمِ بَلْ ہُمْ اَضَلُّ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الْغٰفِلُوْنَ() ’’اور بے شک ہم نے جہنّم کے لئے پیدا کئے بہت جن اور آدمی وہ دل رکھتے ہیں جن میں سمجھ نہیں اور وہ آنکھیں جن سے دیکھتے نہیں اور وہ کان جن سے سنتے نہیں وہ چوپایوں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بڑھ کر گمراہ وہی غفلت میں پڑے ہیں۔‘‘ ( پ ۹،سورہ اعراف ،آیت۱۷۹ )

قرآن پاک کو اگر تعصب کی عینک اتار کر پڑھا جائے تو اللہ پاک نے اس میں واضح اپنے محبوب بندوں کا تعارف بہت خوبصورتی کے ساتھ دیا ہے. ساتھ ہی ساتھ انسان کی غفلت, ہٹ دھرمی, منافقت اور جلد بازی کے بارے میں بھی بتادیا اور ان دونوں طرح کے انسانوں کے انجام سے بھی خبردار فرما دیا. انسان کے سامنے اچھائی اور برائی کے راستے کھول کر بیان فرما دیے تاکہ وہ عقل و شعور کو بروئے کار لاتے ہوئے انسانیت کی معراج کو پا سکے. اللہ پاک فرماتے ہیں. :

وَالْعَصْرِ ()اِنَّ الْاِنْسٰنَ لَفِیْ خُسْرٍ ()اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ تَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَ تَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ() ’’اس زمانہِ محبوب کی قسم ۔بے شک آدمی ضرور نقصان میں ہے۔مگر جو ایمان لائے اور اچھے کام کئے اور ایک دوسرے کو حق کی تاکید کی اور ایک دوسرے کو صبر کی وصیت کی۔‘‘ (پ ۳۰،سورۃ العصر)

قرات سبعہ پر اعتراض کا جواب

2017-07-08 16:34:24 

مستشرقین کاایک طریقہ کار یہ بھی ہے کہ وہ اپنے صحائف میں جو قابل اعتراض بات دیکھتے ہیں یا قرآن حکیم ان پر جو اعتراض کرتا ہے وہ قرآن پر ہی لوٹانے کی کوشش کرتے ہیں۔ عہد نامہ قدیم اور عہد نامہ جدید کی کتابیں تضادات سے بھر پور ہیں ۔ان کے مختلف فرقوں کے نزدیک ان کتابوں کی تعداد میں بھی اختلاف ہے۔ تاریخی بیانات اور اعداد و شمار کے اختلافات جابجا نظر آتے ہیں۔
مسٹر ہارن نے عہد نامہ قدیم و جدید میں اس قسم کے اختلافات کے اسباب یہ بتائے ہیں :۔
٭نقل کرنے والوں کی غلطیاں
٭ جس دستاویز سے نقل کی جا رہی ہے اس میں غلطیوں کا موجود ہونا
٭ کاتبوں کا کسی سند اور ثبوت کے بغیر متن میں اصلاح کی کوشش کرنا
٭ مختلف مذہبی فریقوں کا اپنے مؤقف اور مدعا کو ثابت کرنے کے لیئے قصداََ تحریف کرنا
مسٹر ہارن نے جو کچھ لکھا ہے اس کا ثبوت ہمیں بائبل کے مختلف ورژن کے مطالعے میں جابجا ملتا ہے۔ اناجیل اربعہ کے مصنفوں نے ایک ہی واقعہ لکھنے میں ایک دوسرے سے اختلاف کیا ہے۔ ہر انجیل کے مختلف ورژن ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ ایک زبان کی انجیل کچھ کہتی ہے اور اس کا دوسری زبان میں ترجمہ کچھ کہتا ہے۔اور عیسائیوں کے پاس ایسا کوئی طریقہ بھی نہیں جس سے وہ صحیح غلط کی تمیز کر سکیں۔
مستشرقین قرآن حکیم میں بھی اسی صورت حال کو ثابت کرنا چاہتے ہیں اور اس کے لیئے مختلف حربے استعمال کرتے رہتے ہیں ۔ان مختلف حربوں میں سے ایک حربہ قرآن کی قرآت مختلفہ کو غلط رنگ میں پیش کرنا ہے۔وہ یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ جس طرح بائبل کے مختلف ورژن ہیں اسی طرح قرآن کی یہ قراتیں بھی اس کا مختلف ورژن ہیں۔
چنانچہ جارج سیل اپنی کتاب "دی قرآن" میں لکھتا ہے کہ :۔ 
"قرآن کے ایڈیشنوں کا ذکر کرنے کے بعد قارئین کو اس حقیقت سے آگاہ کرنا نامناسب نہ ہو گا کہ قرآن کے ابتدائی ایڈیشن سات ہیں۔اگر ان کو ایڈیشن کہنا مناسب ہو یا ہم ان کو قرآن کی سات نقلیں کہہ سکتے ہیں۔ جن میں سے دو مدینہ میں شائع ہوئیں اور وہیں استعمال ہوتی رہیں تیسری مکہ میں ، چوتھی کوفہ میں ، پانچویں بصرہ میں ، چھٹی شام میں اور ساتویں نقل کو عام ایڈیشن کہہ سکتے ہیں ۔"
جارج سیل نے قرآن حکیم کی یہ تاریخ کہاں سے نقل کی ہے اس کا مآخذ کیا ہے کچھ کہا نہیں جاسکتا ۔ اس نے جن شہروں کے ساتھ قرآن کے ایڈیشنوں کو منسوب کرنے کی کوشش کی ہے دور رسالت میں تو ان میں سے اکثر اسلامی قلمرو میں شامل ہی نہیں ہوئے تھے ۔حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی خلافت تک لوگ مختلف لہجوں میں قرآن کی تلاوت کیا کرتے تھے ۔ لیکن آُ نے لغت قریش کے مطابق قرآن حکیم کے مختلف نسخے تیار کرا کر مختلف شہروں کو بھیجے جو اسلامی قلمرو کا حصہ تھے۔
غالباََ جارج سیل نے قرآن حکیم کی مختلف قراتوں اور اور حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے مختلف شہروں میں قرآن کی نقلیں بھیجنے کے واقعات کو اکٹھا کر کے اپنے تخیل کے زور پر یہ افسانہ گھڑا ہے۔ وہ یہ تاثر دینا چاہتے ہیں کہ جس طرح رومن کیتھولک عیسائیوں کی بائبل اور ہے اور عیسائی پروٹسٹنٹ کی اور ، اسی طرح مدینہ کے مسلمانوں کا قرآن اور تھا اور مکہ کے مسلمانوں کا قرآن اور ، کوفہ، بصرہ اور شام والوں کا اور، اور ایک قرآن ایسا بھی تھا جو عام تھا جس کی تخصیص نہ تھی۔ اگر بالفرض محال صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کے دور میں اس قدر قرآن مروج ہوتے تو آج ان کی تعداد ہزاروں سے بھی متجاوز ہوتی۔لیکن آج ہم جارج سیل کے پسماندگان کو چیلنج کرتے ہیں کہ وہ پوری دنیا کا چکر لگائیں دنیا کے تمام براعظموں کا سروے کریں پوری دنیا میں انہیں قرآن عظیم کے کروڑوں نسخے ملیں گے لیکن ان میں سرمو اختلاف ثابت کر کے دکھائیں ؟
وہ جہاں بھی جائیں انہیں ان شاء اللہ العزیز ایک ہی قرآن نظر آئے گا۔جو قرآن عربوں کے پاس ملے گا افریقہ کے حبشیوں کے پاس بھی وہی قرآن ہو گا۔ عالم اسلام میں جنم لینے والوں کے پاس جو قرآن ہو گا یورپ کے نومسلموں کے پاس بھی وہی قرآن ہو گا۔ جارج سیل کے پسماندگان نے غالباََ اسی قسم کا ایک سروے کیا ہے اسی لیئے انسائیکلوپیڈیا آف بریٹانیکا کا مقالہ نگار لکھتا ہے کہ :۔
"حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی نظر ثانی سے جو نسخہ تیار ہوا وہ ساری ملت اسلامیہ کے لیئے ایک معیاری نسخہ قرار پایا اور آج تک اس کی یہ حثیت مسلّم ہے۔"
(انسائیکلوپیڈیا آف بریٹانیکا جلد 13 ص 480)
آج اگر ساڑھے چودہ سو سال بعد بھی قرآن ایک ہی ہے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ دور صحابہ میں اس کے سات مختلف اصلی ایڈیشن موجود ہوں ؟
مستشرقین نے قرآن حکیم میں اختلاف کے مفروضے کا محل تعمیر کرنے کے لیئے قرآن کی سات قراتوں کو بنیاد بنایا ہے۔ وہ قرآن حکیم کی سات قراتوں کے الفاظ پر تو زور دیتے ہیں لیکن یہ ظاہر کرنے سے احتراز کرتے ہیں کہ اس اختلاف کی نوعیت کیا تھی ۔ یہاں ہم اختلاف قرات کی چند ایک مثالیں پیش کرتے ہیں تاکہ اس اختلاف کی نوعیت ظاہر ہو سکے۔
٭ يَآ اَيُّـهَا الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوٓا اِنْ جَآءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَاٍ فَتَبَيَّنُـوٓا اَنْ تُصِيْبُوْا قَوْمًا بِجَهَالَـةٍ فَتُصْبِحُوْا عَلٰى مَا فَعَلْـتُـمْ نَادِمِيْنَ
الحجرات آیہ 6 

اے ایمان والو ! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لائے تو اس کی خوب تحقیق کر لیا کرو ۔ ایسا نہ ہو تم کسی قوم کو لاعلمی میں ضرر پہنچا بیٹھو۔
اس آیت کے لفظ "فتبینو" کو حضرت حفص کے علاوہ دیگر حضرات نے " فَتَثَبَّتُوا" پڑھا ہے ۔ "فَتَبَیَّنُوا" کا معنی ہے تحقیق کرنا اور معاملے کی چھان بین کرنا۔اور فَتَثَبَّتُوا کا معنی بھی بلکل یہی ہے ۔ چنانچہ "المنجد" میں تثبت کا معنی یوں لکھا ہے :۔
"کسی معاملے میں جلد بازی نہ کرنا، اس رائے کے متعلق مشورہ کرنا اور اس کی خوب تحقیق کرنا "
(افترءات المستشرقین علی الاسلام)
یہاں اختلاف قرات سے مفہوم میں کوئی تبدیلی نہیں آئی بلکہ مفہوم میں وسعت آ گئی کہ جب مسلمان کوئی مشکوک خبر سنیں تو اس کے مطابق عمل کرنے میں جلد بازی نہ کریں بلکہ باہم مشورہ کریں ، معاملہ کی خوب تحقیق کریں اور جب معاملہ بلکل واضح ہو جائے تو پھر کارروائی کریں ۔ اختلاف قرات میں ایک حکمت یہ بھی ہے کہ اس سے آیات کے معنی میں وسعت پیدا ہوتی ہےجس سے امت مستفید ہوتی ہے اور اس سے زندگی کے بے شمار مسائل کو حل کرنے میں مدد ملتی ہے۔
٭ وَقَالُوا اتَّخَذَ اللّـٰهُ وَلَـدًا ۙ سُبْحَانَهٝ
البقرہ آیہ 116

"اور یہ کہتے ہیں کہ بنا لیا ہے اللہ نے (اپنا) ایک بیٹا۔ پاک ہے وہ (اس تہمت سے)۔
ابن عامر نے اس کو بغیر واؤ کے پڑھا ہے۔ لیکن جمہور قراء نے اس کو واؤ کے ساتھ پڑھا ہے جو حضرات بغیر واؤ کے پڑھتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ یہاں سے ایک نیا جملہ شروع ہو رہا ہےاور جو اس کو واؤ کے ساتھ پڑھتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ اس کا اپنے ماقبل پر عطف ہے۔ دونوں صورتوں میں معنی ایک ہی رہتا ہے کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوتی۔
3۔ سورۃ البقرہ کی آیہ نمبر 185 میں ہے کہ "ولتکملو العدۃ" یعنی اور (چاہتاہے) کہ تم گنتی پوری کر لیا کرو
اس لفظ کو جمہور قراء نے میم کی شد کے بغیر جزم کے ساتھ پڑھا ہے جبکہ ابو بکر و یعقوب نے اس کو میم کی شد کے ساتھ پڑھا ہے۔ دونوں جگہ مادہ ایک ہے صرف ابواب کا فرق ہے ۔ اس مادہ کے باب افعال اور باب تفعیل کا معنی علماء لغت کے نزدیک ایک ہی ہے۔
یہ ہے قراتوں میں اختلاف کی حقیقت، یہاں معنی میں تضاد کی کوئی گنجائش نہیں ۔ قرات کے اس اختلاف کا اس تناقض سے دور دور تک کوئی واسطہ نہیں جو عہد نامہ قدیم اور عہدنامہ جدید میں ہے۔اور جس کو یہود و نصاریٰ کے علما وقتاََ فوقتاََ دور کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔
"افترءات المستشرقین علی الاسلام " کے مؤلف نے تورات کے تناقض کی ایک مثال کتاب التواریخ دوم کے باب اکیس اور بائیس سے دی ہے۔ باب اکیس بتاتا ہے کہ "یورام" فوت ہوا تو اس کی عمر چالیس سال تھی۔لیکن باب بائیس بتاتا ہے کہ یورام کی موت کے بعد اس کا بیٹا "اخزیا" تخت نشین ہوا اور تخت نشینی کے وقت اس کی عمر بیالیس سال تھی۔ یعنی بیٹا باپ سے بھی دو برس بڑا تھا۔لیکن اب "نیو ورلڈ بائیبل ٹرانسلیشن کمیٹی" نے 1971ء کی نظر ثانی کے بعد نیو یارک سے 1981ء میں بائیبل کا جو ایڈیشن شائع کروایا ہے اس کی کتاب التاریخ ثانی کے باب بائیس میں اخزیا کی تخت نشینی کے وقت عمر بائیس سال لکھی گئی ہے۔
بیالیس کا ترجمہ بائیس بنا دینا یہود و نصاریٰ کے لیئے معمولی بات ہے ۔ان کے اس ترجمے یا اصلاح سے بیٹے کے باپ سے بڑا ہونے کی الجھن تو دور ہو جاتی ہے لیکن یہ الجھن برقرار رہتی ہے کہ جو نسخہ بیالیس سال عمر بتا رہا تھا وہ درست ہے یا جس نسخے میں بائیس سال لکھی گئی ہے وہ درست ہے ؟
بائبل کے اختلافات اور قرآن مجید کے اختلاف قرات کا جائزہ لینے سے یہ بات بلکل واضح ہو جاتی ہے قرآن حکیم بائبل کی طرح کے اختلافات اور تناقضات سے مطلقاََ پاک ہے۔ اور مزید برآں قرآن میں قرات کے معمولی اختلاف کو بھی عام مسلمانوں کی صوابدید پر نہیں چھوڑا گیا بلکہ وہ قرات بھی حضور اکرم ﷺ سے مروی ہیں۔چنانچہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:۔ 
"حضرت جبرائیل علیہ السلام نے مجھے قرآن حکیم پڑھ کر سنایا۔ میں نے دوبارہ پڑھنے کے لیئے کہا۔ انہوں نے دوبارہ پڑھا۔میں قراتوں میں اضافے کے لیئے کہتا رہا وہ قراتوں میں اضافہ کرتے گئے ۔ حتیٰ کہ معاملہ سات قراتوں تک جا پہنچا۔"
(صحیح بخاری جلد دوم باب انزال القرآن علی سبعۃ احرف)
یہاں بھی حضور اکرم ﷺ کی اپنی امت کے لیئے شفقت و رحمت اپنا رنگ دکھا رہی ہے ۔ آپ ﷺ کی تمنا ہے کہ آپ ﷺ کی امت کو ایک سے زائد قراتوں کی اجازت ہو تاکہ آپ ﷺ کی امت مشقت سے بچ سکے۔ایک اور حدیث پاک حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ :۔ 
"حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے ہشام بن حزام کو سورۃ الفرقان پڑھتے سنا۔ وہ اس سے مختلف پڑھ رہے تھے جیسا کہ میں پڑھتا تھا۔ اور مجھے تو خود رسول اللہ ﷺ نے سورۃ الفرقان پڑھائی تھی۔قریب تھا کہ میں ان کو سزا دیتا لیکن میں نے انہیں مہلت دی ۔ جب وہ واپس آئے تو میں نے انہیں چادر سے پکڑا اور حضور اکرم ﷺ کی خدمت میں لے آیا۔مین نے حضور اکرم ﷺ سے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ! یہ سورۃ الفرقان اس سے مختلف پڑھ رہے تھے جیسے آپ ﷺ نے مجھے پڑھائی تھی۔حضور اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا پڑھو ! انہوں نے اسی طریقے سے پڑھا جیسے میں نے انہیں پڑھتے ہوئے سنا تھا۔حضور اکرم ﷺ نے فرمایا: یہ سورت یونہی نازل ہوئی ہے۔پھر آپ ﷺ نے مجھے حکم دیا کہ تم پڑھو۔ میں نے پڑھا تو حضور اکرم ﷺ نے فرمایا : یہ سورت یونہی نازل ہوئی ہے ۔ یہ قرآن سات قراتوں پر نازل ہوا ہے ۔ تمہیں جو آسان محسوس ہو تم ویسے پڑھ لیا کرو۔"
(الصحیح مسلم جلد اول باب انزل القرآن علی سبعۃ احرف)
تمام عربوں کی زبان ایک تھی مگر لہجوں میں فرق تھا۔کسی عرب کو چونکہ دوسرے عربوں کے لہجوں کے مطابق قرآن پڑھنا مشکل تھا اس لیئے ابتداء میں ہر ایک کو اپنے اپنے لہجے کے مطابق قرآن پڑھنے کی اجازت تھی ۔زکریا ہاشم زکریا اپنی کتاب" المستشرقون و لاسلام "میں لکھتے ہیں کہ :۔
"ابتداء میں قرآن حکیم مختلف عربی لہجوں میں پڑھنے کی اجازت تھی۔ لیکن جب نزول قرآن کا سلسلہ مکمل ہو گیا تو ایک کے علاوہ باقی سبھی لہجے منسوخ ہو گئے۔اور حضور اکرم ﷺ کے ساتھ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے قرآن حکیم کا جو آخری دور کیا تھا وہ ایک ہی لہجے کے مطابق تھا۔اور ایک ہی لہجہ کے اندر بھی تمام متواتر قراتوں کا احتمال موجود تھا۔"
یہی مصنف ایک اور جگہ لکھتے ہیں کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے زمانے میں قرآن حکیم کا جو نسخہ تیار ہوا تھا ، اس کو نقطوں اور اعراب کے بغیر لکھنے کی حکمت یہ تھی کہ تمام منزل قراتوں کا احتمال باقی رہے ۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قرات میں اختلاف کی نوعیت کتنی معمولی تھی کہ اگر عبارت پر نقطے نہ ہوں توتمام قراتوں کے مطابق پڑھنا ممکن ہو جاتا ہے۔ہم نے اختلاگ قرات کی جو مثالیں سطور بالا میں ذکر کی ہیں ان میں سے ایک اختلاف قرات "فَتَبَیَّنُوا" اور " فَتَثَبَّتُوا" ہے۔ اگر اس لفظ سے نقطے اور اعراب مٹا دیئے جائیں تو "مسسوا" کی شکل میں لکھا جائے گا اور اس کو دونوں طریقوں سے پڑھنا ممکن ہوگا۔
جس طرح آبگینہ معمولی سی ٹھوکر کو بھی برداشت نہیں کر سکتا اسی طرح قرآن حکیم کا تقدس اتنے معمولی سے اختلاف کو بھی برداشت نہیں کر سکتا تھااس لیئے اس کو عام عوام کی صوابدید پر نہیں چھوڑا گیا بلکہ تمام قراتیں اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائیں۔حضور اکرم ﷺ نے انہیں صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کو پڑھ کر سنایا اور صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین نے ان کو روایت کیا۔مختلف لہجے ابتداء میں لوگوں کی سہولت کے لیئے جائز قرار دیئے گئے لیکن قرآن حکیم کا نزول مکمل ہونے کے بعد اس جواز کو ختم کر دیا گیا۔
جب تک اسلامی قلمرو کی حدود عرب تک محدود تھیں اس وقت تک تو مختلف لہجوں مین قرآن حکیم کی تلاوت سے کوئی فرق نہ پڑتا تھاکیونکہ عرب جانتے تھے کہ لہجوں کے اس اختلاف سے معنی میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔حضرت جبرائیل علیہ السلام کے ساتھ حضور اکرم ﷺ کے قرآن کے آخری دور میں اسے لغت واحد پر جمع کر دیا گیا۔ لیکن جب دور عثمان غنی رضی اللہ عنہ میں کچھ لوگوں کو منسوخ لہجوں کے مطابق قرآن پڑھتے دیکھا گیا جس سے غیر عرب نو مسلموں میں انتشار کے بھی آثار نظر آئے ۔ تو حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے ایک جماعت صحابہ کو حکم دیا کہ وہ قرآن کو صرف لغت قریش کے مطابق جمع کریں۔اس جماعت نے لغت قریش کے مطابق کو نسخہ تیار کیا اس کی نقلیں مختلف صوبوں میں بھیجی گئیں اور لغت قریش کے برخلاف سبھی لہجوں میں قرآن کے نسخوں کو تلف کرنے کا حکم دیا۔
وہ اختلافات جو ملت کے انتشار کا باعث بن سکتے تھے انہیں عہد رسالت ہی میں ختم کر دیا گیا۔ لیکن قراتیں جو ملت اسلامیہ کے لیئے رحمت خداوندی کا مظہر تھیں وہ اب بھی موجود ہیں لیکن ان کی موجودگی کے باوجود قرآن حکیم کے نسخوں میں مشرق و مغرب میں ساری ملت اسلامیہ صرف ایک ہی قرات پر جمع ہے۔ دوسری قراتیں کتب احادیث و تفاسیر میں تواتر کے ساتھ نقل ہوتی چلی آ رہی ہیں اور ان سے علماء مسائل کا بھی استنباط کرتے ہیں ۔ یہ بھی قرآن حکیم کی صداقت کی دلیل ہے کہ سات قراتوں میں سے جو بھی قرات تلاوت کی جائے قرآن حکیم کی شان اعجاز اسی طرح باقی رہتی ہے۔
جو لوگ عربی زبان سے واقفیت رکھتے ہیں وہ بخوبی جانتے ہیں کہ عربی الفاظ میں اعراب نہیں لگائے جاتے اس لیئے کئی الفاظ کو مختلف طریقے سے پڑھنے کا احتمال رہتا ہے۔ قرآن حکیم بھی ابتداء میں اعراب بلکہ نقطوں کے بھی بغیر لکھا جاتا تھا۔ اگر قرآن صرف ایک ہی قرات پر نازل ہوتا تواس قسم کے مقامات جہاں الفاظ کو مختلف طریقوں سے پڑھنے کا احتمال ہوتا، منزل طریقے کے علاوہ کسی اور طریقے پر پڑھنے میں تحریف لازم آتی۔ لیکن اللہ عزوجل نے اپنے حبیب ﷺ کی امت کو اس مشقت سے بچا لیا۔ اس لیئے وہ ان سات منزل قراتوں میں سے جو بھی قرات پڑھتے اس میں تبدیلی و تحریف کا کوئی اندیشہ نہ تھا۔
مستشرقین نے یہ بھی ثابت کرنے کی ناکام کوشش کی ہے کہ مسلمان قرآن حکیم کی روایت بالمعنی کو جائز سمجھتے ہیں۔(الاستشراق والخلفیۃ الفکریہ للصراع الحضاری) اپنے اس مفروضے کو بھی انہوں نے قرات سبعہ سے منسلک کرنے کی ناکام کوشش کی ہے کہ مسلمان قرآن حکیم کے معانی کو اپنے اپنے الفاظ میں بیان کرتے تھے اس لیئے قرات سبعہ وجود میں آئیں۔ وہ یہ بھی ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ روایت بالمعنی کی آزادی کے ماحول میں قرآن حکیم کی تدوین کا عمل مکمل ہوا۔ ان کا مدعا یہ ہے کہ یہ ثابت کیا جائے کہ جب روایت بالمعنی مسلمانوں کے ہاں مسلم ہے تو قرآن کے الفاظ میں تبدیلی لازم ہو جاتی ہے۔ 
لیکن حقیقت اس کے بلکل برعکس ہے۔ مسلمانوں کی کوئی ایک بھی جماعت ایسی نہیں جو روایت بالمعنی کو جائز مانتی ہو۔ تمام مسلمانوں کا ایمان ہے کہ قرآن حکیم کے الفاظ اور معنی دونوں منزل من اللہ ہیں۔اور دونوں تواتر کے ساتھ مروی ہو کر ہم تک پہنچے ہیں۔
اختلاف قرات کا روایت بالمعنی سے کوئی تعلق نہیں ۔ روایت بالمعنی کے جائز ہونے کا مطلب تو یہ ہے کہ قرآن حکیم کے الفاظ کو عام انسانوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جائے۔ روایت بالمعنی کی صورت میں تو قرآن حکیم کی وہی کیفیت ہو جاتی جو اناجیل کی ہے کہ ایک ہی واقعہ کو "متی" نے کسی اور طریق سے بیان کیا ہے اور "مرقس" نے اس سے الٹا راستہ اختیار کیا ہے۔لیکن بفضلہٖ تعالیٰ قرآن حکیم اس صورت حال سے یکسر پاک ہے۔ اگر قرآن کی روایت بالمعنی کی اجازت دی گئی ہوتی تو الفاظ انسانی ہوتے اور ان کی نظیر پیش کرنا انسانوں کے لیئے ناممکن نہ ہوتا۔ قرآن کی نظیر پیش کرنے سے عربوں کا ساڑھے چودہ سو سال سے عاجز رہنا اس بات کی دلیل ہے کہ قرآن کے الفاظ، معنی اور عبارات سب الہامی ہیں اور کسی انسان کے لیئے یہ ممکن ہی نہیں کہ وہ ان کی نظیر پیش کر سکے۔مستشرقین اور دیگر دشمنان اسلام کا یہ اعتراض بھی ان کے دیگر اعتراضات کی طرح ایک بے بنیاد اور لایعنی وسوسے کے سوا پرکاہ جتنی حثیت بھی نہیں رکھتا۔

یورپ میں دہریت کے اسباب

2017-07-16 05:38:12 

زمانہ قدیم میں چرچ زندگی کے تمام معاملات میں اس قدر حاوی تھا کہ سلطنتوں کے خارجہ تعلقات تک چرچ کی مرضی سے تشکیل دیئے جاتے تھے۔ وقت کا بادشاہ تک چرچ کا مطیع اور فرمانبردار تھا اور چرچ کے فیصلے کے خلاف جانے کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔
٭ زمانہ وسطیٰ میں جب کائناتی تحقیقت شروع ہوئیں تو اس سے قبل چرچ نے عوام اور عوامی شعبوں پر زبردست فوقیت حاصل کر لی تھی ۔ ان کا سلوک اور رویہ آمرانہ ہو گیا تھا۔ہر بات کے احکام کی چرچ کے نام سے جبراََ تعمیل کرائی جاتی تھی ۔بادشاہوں اور ان کی سلطنتوں کے معاملات میں بھی غیر ضروری مداخلتیں ہونے لگیں۔حتیٰ کہ قیصر روم اور شاہ انگلستان کو بھی چرچ کے احکامات کے آگے سر جھکانا پڑتا تھا۔جس کی وجہ سے چرچ اور مذہب کے خلاف ایک عام تنفر پھیل گیا۔
٭ دوسری وجہ یہ تھی کہ پڑھا لکھا طبقہ چرچ کی اس بالا دستی سے محفوظ نہ رہ سکا۔ کٹر قسم کے ان پڑھ اور جاہل پادریوں کی تنگ دلی اور تعصب نے پڑھے لکھے اور قابل سائنس دانوں کے حوصلے پست کر دیئے۔ان کی علمی تحقیقات اور تجربات کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کی گئیں۔کائناتی تحقیقات کو جرم قرار دے کر ان کو تکالیف اور اذیتیں دی گئیں۔ان کی تحقیقاتی کتابوں کے پڑھنے پر پابندی لگا دی گئی۔ جس کی وجہ سے سائنس دان مذہب اور چرچ سے متنفر ہو گئے۔
٭ تیسری وجہ یہ تھی کہ وہ تمام مذہبی کتابیں جن پر وہ لوگ یقین رکھتے تھے ان کی علمی جستجو کی پیاس نہ بجھا سکیں۔تخلیق کائنات کے متعلق ان کی کتابوں میں ایسے اشارات بھی نہیں تھے جو ان کی راہنمائی کر سکیں۔ ان کو اپنے مذہب کی کم وسعتی کا احساس ہونے لگا۔چنانچہ ان کے دلوں میں مذہب سے کنارہ کشی کی رغبت پرورش پانے لگی۔
٭ چوتھی وجہ یہ تھی کہ سائنسی تحقیقات عجیب و غریب اور حیرت انگیز رازوں کا انکشاف کر رہی تھیں ۔ جن کا ذکر ان کی کتابوں میں اشارتاََ بھی نہیں تھا۔خاص طور پر بائبل شدید تنقید کا شکار ہو چکی تھی۔اور بطلیموس کا نظریہ بری طرح فیل ہو چکا تھا۔انہوں نے سائنسی تحقیقات کو مذہبی نظریات پر فوقیت و ترجیح دی۔ان کو وہ تمام کائناتی قصے مضحکہ خیز نظر آنے لگے جو اس سے پہلے صحیح سمجھے جاتے تھے۔انہوں نے اپنی تحقیقات کو سائنس کا نام دے کر مذہب اور چرچ کی پابندیوں سے آزاد ہونا شروع کر دیا ۔ جو اس وقت ان کی تحقیقات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ تھے۔
٭ پانچویں وجہ یہ تھی کہ اگر وہ مادہ کی تخلیق کو ذات الہٰی سے وابستہ کر دیتے تو اس کا مطلب چرچ کی بالا دستی کو تسلیم کرنا اور اس کے ان پڑھ اور جاہل پادریوں کے سامنے اپنا سر جھکانا تھا جو اپنے آپ کو چرچ کا ٹھیکیدار سمجھے ہوئے تھے۔اس زمانے میں کلیسا کے تقریباََ تمام پادری ان پڑھ تھے بعض معمولی لکھنا پڑھنا جانتے تھے۔اس لیئے انہوں نے اپنی تحقیقات کو پادریوں کا مرہون منت نہیں بنانا چاہا اور تخلیق کائنات کو جو کہ ایک کثیر مادہ کا سراغ دے رہی تھی ، خدا سے وابستہ کرنے سے گریز کیا۔انہوں نے یونانی مفکرین کی طرح ہی مادہ کو اصل اور ہیولیٰ سمجھ کر اللہ کے وجود سے ہی انکار کر دیا۔ اور دہریہ کہلانے لگ گئے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ دہریت عام ہو گئی اور ہر تعلیم یافتہ اپنے آپ کو دہریہ کہلوانے میں فخر محسوس کرنے لگ گیا۔
٭ چھٹی وجہ یہ تھی کہ سائنسی تحقیقت کو جرم قرار دے کر فلکیاتی تحقیقات میں مصروف تقریباََ تین لاکھ سائنس دانوں کو مختلف سزائین دی گئیں۔اور کم و بیش تیس ہزار سائنس دانوں کو زندہ جلا دیا گیا۔ جس کی وجہ سے پڑھے لکھے لوگوں کے ذہنوں میں چرچ سے بغاوت کا خیال مضبوطی پکڑتا گیا اور لوگ ان سائنس دانوں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے دہریے بن گئے اور نتیجہ کے طور پر دہریت میں اضافہ ہوا

مدح قرآن علامہ بوصیری رحمہ اللہ

2017-07-19 14:02:33 

مدح قرآن از  صاحب قصیدہ بردہ شریف علامہ بوصیری رحمۃ اللہ علیہ  
دعنى ووصفى آىات له ظهرت
ظهور نار القرى
ٰ لىلا على علم

اب مجھے رسول اللہ ﷺ کے معجزات بیان کرنے دیجیئے جو اتنے نمایاں اور ایسے مشہور ہیں جیسے رات کے وقت پہاڑ پر جلائی جانے والی ضیافت کی آگ۔

فالدریزداد حسنا  و ھوا منتظم

ولیس ینقص قدرا غیر منتظم

جب موتی کو ایک لڑی میں پرو دیا جائے تو اس کا حسن دوبالا ہو جاتا ہے۔ اور اگر اسے نہ پرویا جائے تو اس کے حسن میں کمی واقع نہیں ہوتی۔

لم تقترن بزمان و ھی  تخبرنا

عن المعاد وعن عاد وعن ارم

قرآن کے الفاظ و معانی قدیم ہیں اس لیئے اس کی آیات کسی زمانے کے ساتھ وابستہ نہیں ہیں۔ یہ ہمیں امور آخرت ، قوم عاد کی تاریخ اور اس کے مقام و سکونت اور باغات وغیرہ کی خبر دیتی ہیں۔

دامت لدینا ففاقت کل معجزۃ

من النبیین اذجاء ت ولم تدم

آیات قرآنی کو دوام نصیب ہوا۔ اس لیئے وہ دوسرے انبیاء کرام کے معجزوں سے بڑھ گئیں۔ جب کہ ان کے معجزے وقتی طور پر ظاہر ہوئے اور انہیں دوام حاصل نہ ہوا۔

محکمات فما یبقین  من شبہ

لذی شقاق ولا یبغین من حکم

یہ آیات قرآنی واضح ہیں اور کسی مخالف کے لیئے کسی قسم کے شک و شبہہ کی گنجائش نہیں چھوڑتیں۔اور نہ کسی منصف کے فیصلے کی محتاج ہیں۔

ماحوربت قط الاعاد من حرب

اعدی الاعادی  الیھا  ملقی السلم

قرآن کے خلاف جب بھی  جنگ چھیڑی گئی تو اس کا بدترین دشمن بھی صلح پر مائل  ہوا۔(یعنی اسے اپنے عجز کا اعتراف کرنا پڑا)

ردت بلاغتھا دعوی معارضھا

رد الغیور ید الجانی عن الحرم

اس کی فصاحت و بلاغت نے مخالفوں کے  بے بنیاد دعوں کو یوں رد کر دیا جیسے ایک غیور شخص کسی بدکار کے ہاتھ کو اپنے اہل خانہ سے دور کرتا ہے

لھامعان کموج  البحرفی مدد

وفوق جوھرہ  فی الحسن والقیم

اس کے معانی اپنی وسعت اور پھیلاؤ میں سمندر کی موجوں کی مانند ہیں۔اور حسن و قیمت میں سمندر کے موتوں سے بدرجہا بڑھ کر ہیں۔

فماتعد ولا تحصی عجائبھا

ولا تسام  علی الاکثاربالسام

اس کے عجیب و غریب نکات نہ تو شمار کیئے جا سکتے ہیں اور نہ انہیں سمیٹا جا سکتا ہے۔مزید برآں ان اسرار و رموز کی کثرت قاری پر بار گراں نہیں بنتی۔

قرت بھا عین قاریھا فقلت لہ

لقد ظفرت بحبل اللہ فاعتصم

اس کی تلاوت پڑھنے والے کی آنکھوں کی ٹھنڈک بنتی ہے۔میں نے (اس کے قاری کو) کہا تو نے اللہ کی رسی کو پا لیا ہےسو اس کے ساتھ اپنا مضبوط تعلق استوار رکھ۔

ان تتلھا خیفۃمن حرنار لظی

اطفات حر لظی من وردھاالشبم

اگر تم دوزخ کی آگ کے خوف سے قرآن کی تلاوت کرو گے تو اس کے خنک اثرات سے اس کی بھڑکتی ہوئی آگ کو بجھا دو گے۔

کانھا الحوض  تبیض الوجوہ بہ

من العصاۃ وقد جاء وہ کالحمم

قرآن حکیم گویا حوض کوثر ہے جس کے پانی سے گنہگاروں کے سیاہ چہرے دھل کر اجلے اور سفید ہو جاتے ہیں۔

وکالصراط وکالمیزان معدلۃ

فالقسط من غیر ھافی الناس لم یقم

یہ کتاب عدل و انصاف کے باب میں صراط اور میزان کا درجہ رکھتی ہے۔اس سے ہٹ کر لوگوں میں کوئی عدل و انصاف قائم نہیں ہو سکتا

لا تعجبن لحسود راح ینکرھا

تجاھلا وھو عین الحاذق الفھم

اگر کوئی حاسد اور دشمن ماہر اور سمجھدار  ہونے کے باوجود جان بوجھ کر جاہل بن جائے اور قرآن کی خوبیوں کا انکار شروع کر دے تو آپ کو تعجب نہیں کرنا چاہیئے۔

قد تنکر العین ضوء الشمس من رمد

و ینکر الفم طعم الماء من سقم

کیونکہ کبھی کبھی آشوب چشم کی وجہ سے سورج کی روشنی اچھی نہیں لگتی اور بیماری کی وجہ سے منہ کا ذائقہ بگڑ جاتا ہے۔ حتیٰ کہ میٹھا پانی بھی تلخ محسوس ہوتا ہے۔!

قرآنِ کریم کی پشین گوئی

2017-07-23 17:07:15 

کفار کے متعلق پیشین گوئی کہ وہ اسلام کی شمع کو گل کرنے کے لیے زر کثیر خرچ کریں گے لیکن ناکام رہیں گے کفار اسلام کو ختم کرنے کے لیے جہاں اپنی ساری سطوت وشوکت استعمال کر رہے تھے وہاں اس مقصد کے حصول کے لیے پانی کی طرح دولت بھی خرچ کر رہے تھے اللہ تعالی نے ان کے اس طرز عمل کے مسلسل جاری رہنے کی پیشین گوئی کی اور فرمایا

"بے شک کافر خرچ کرتے ہیں اپنے مال تاکہ روکیں(لوگوں کو) اللہ کی راہ سے- اور آئندہ بھی (اسی طرح) خرچ کریں گے- پھر ہوجائے گا یہ خرچ کرنا ان کے لیے باعث حسرت وافسوس پھر وہ مغلوب کر دیے جائیں گے" سورہ الانفال ۳۶

اس آیت کریمہ کے ذریعے تین پیشین گوئیاں کی گیئں-

1-کافر اسلام کو مٹانے کے لیے اپنا مال خرچ کریں گے-

2-ان کی یہ جدوجہد اور مال کثیر خرچ کرنا ان کے لیے باعث حسرت ہوگا-

3-اپنے اس مقصد میں وہ ناکام رہیں گے-

اس پیشین گوئی کے پورا ہونے کی صحیح جھلک دیکھنے کے لیے اسلام کی چودہ سو سالہ تاریخ کا مطالعہ ضروری ہے-کیونکہ یہ پیشین گوئی صرف کسی ایک واقعے کی ذریعے پوری نہیں ہوئی بلکہ چودہ سوسالوں میں مسلسل پوری ہورہی ہے اور آج کے دور میں یہ پیشین گوئی بڑی عجیب شان سے پوری ہو رہی ہے- یہ پیشین گوئی اس وقت بھی پوری ہوئی تھی جب بدر واحد اور احزاب و حنین میں دشمنان اسلام نے زر کثیر صرف کر کے اسلام کی شمع کو بجھانے کی کوشش کیں لیکن ان کوششوں کی نتیجے میں انہیں سوائے حسرت و ذلت کے کچھ نہ ملا- اسلام روز افزوں ترقی کرتا رہا اور وہ حسرت و یاس کے ساتھ اپنی ناکامیوں پر کف افسوس ملتے رہے- اس پشیین گوئی کو اس وقت بھی چشم فلک پیر نے پورا ہوتے دیکھا جب قیصرو کسری نے زر کثیر صرف کر کے لشکر ہائے جرار تیار کیے لیکن مسلمانوں کر مقابلے میں نہ ان کی ٹڈی دل فوجیں ٹھہر سکیں اور نہ اموال کثیرہ کا صرف کرنا ان کے کام آسکا- اس پشین گوئی نے اس وقت بھی اپنی شان دکھائی جب یورپ بھر سے لاکھوں کی تعداد میں صلیبی شجر اسلام کی بیخ کنی کے لیے ارض اسلام پر ٹوٹے لیکن اپنی حسرتوں کے سمندر میں غرق ہوگئے-

ذرا اندازہ لگائیں کہ ایک ایک لشکر کی تیاری پر کتنا مال و زر صرف ہوا ہوگا یہ صلیبی حملہ ایک نہیں تھا بلکہ کئ صدیاں یہ حملے جاری رہے ان حملوں میں یہودو نصاری کے لاکھوں جنگجو لقمہ اجل بنے ان کی تجوریاں کھلیں اور اسلام کی مخالفت میں خالی ہوگئیں لیکن اسلام کا آفتاب اب بھی اسی آب و تاب سے چمک رہا ہے- قافلہ انسانیت کو اسلام کی راہ سے روکنے کے لیے مال خرچ کرنے والی پشین گوئی کو جس انداز میں مستشرقین اور ان کی ہمنوا تحریکوں نے پورا کیا ہے اس کی مثال شاید ماضی کی تاریخ میں نہ مل سکے اسلام کی کمزوریاں تلاش کرنے اور مناظرے کے میدان میں اس کا مقابلہ کرنے کے لیے انہوں نے عربی علوم کے ادارے قائم کیے تمام اسلامی علوم کی کتابوں کو چھان مارا- ان کتابوں کے ترجمے کیے- اسلامی ممالک میں سکول کھولے- خیراتی ادارے بنائے - ہسپتال قائم کیے- انہوں نے یہ تمام کام اسلام کا مقابلہ کرنے کے لیے کیے- لیکن ان تمام میدانوں میں طویل جدوجہد کے بعد وہ اس نتیجے پر پہنچے کی اتنی کوششوں اور اتنے اموال خرچ کرنے کے بعد وہ کسی ایک سچے مسلمان کو اپنے دین سے برگشتہ نہ کر سکے-

کیا حسرت اور مغلوبیت کی اس سے بڑی مثال ملنا ممکن ہے؟

کیا اس قسم کی پشین گوئی صرف وہی ہستی نہیں کر سکتی جو علم الغیب والشہادہ ہے؟

قرآنی تعلیمات اور سائنسی علوم کی ترغیب

2017-07-27 07:40:15 

اِسلام کا فلسفۂ زندگی دیگر اَدیانِ باطلہ کی طرح ہرگز یہ نہیں کہ چند مفروضوں پر عقائد و نظریات کی بنیادیں اُٹھا کر اِنسان کی ذِہنی صلاحیتوں کو بوجھل اور بے معنی فلسفیانہ مُوشگافیوں کی نذر کر دِیا جائے اور حقیقت کی تلاش کے سفر میں اِنسان کو اِس طرح ذِہنی اُلجھاؤ میں گرفتار کر دِیا جائے کہ اُس کی تمام تر تخلیقی صلاحیتیں مفلوج ہو کر رہ جائیں۔ اِسلام نے کسی مرحلہ پر بھی اِنتہاء پسندی کی حوصلہ اَفزائی نہیں کی، بلکہ اِس کے برعکس اِسلام کی فطری تعلیمات نے ہمیشہ ذہنِ اِنسانی میں شعور و آگہی کے اَن گنت چراغ روشن کر کے اُسے خیر و شر میں تمیز کا ہنر بخشا ہے۔ اِسلام نے اپنے پیروکاروں کو سائنسی علوم کے حصول کا درس دیتے ہوئے ہمیشہ اِعتدال کی راہ دِکھا ئی ہے۔ اِسلام نے اِس کارخانۂ قدرت میں اِنسانی فطرت اور نفسیات کے مطابق اِنسان کو اَحکامات اور ضابطوں کا ایک پورا نظام دِیا ہے اور اُس کے ظاہر و باطن کے تضادات کو مٹا کر اُسے اپنے نصبُ العین کی سچائی کا شعور عطا کیا ہے۔ تاریخِ علوم کا مطالعہ کریں تو یہ حقیقت اپنی جملہ توانائیوں کے ساتھ ہمارے ذِہن پر روشن اور واضح ہوتی ہے کہ آفاق (universe) اور اَنفس (human life) کی رہگزر فکر و نظر کے اَن گنت چراغوں سے منوّر ہے۔ غور و خوض اور تفکر و تدبر حکمِ خداوندی ہے، کیونکہ تفکر کے بغیر سوچ کے دروازے نہیں کھلتے اور اگر یہ دروازے مقفّل رہیں تو تاریخ کا سفر گویا رُک جاتا ہے اور اِرتقائے نسلِ اِنسانی کی تاریخ اندھیروں میں گم ہو جاتی ہے۔ مسلمانوں نے اپنے سفر کی اِبتدائی صدیوں میں تفکر و تدبر کے ذرِیعہ سائنسی علوم میں نہ صرف بیش بہا اِضافے کئے بلکہ اِنسان کو قرآنی اَحکامات کی روشنی میں تسخیرِ کائنات کی ترغیب بھی دی۔ چنانچہ اُس دَور میں بعض حیران کن اِیجادات بھی عمل میں آئیں اور سائنسی علوم کو اَیسی ٹھوس بنیادیں فراہم ہوئیں جن پر آگے چل کر جدید سائنسی علوم کی بنیاد رکھی گئی۔ یہاں ہم قرآنِ مجید کی چندایسی آیاتِ کریمہ پیش کر رہے ہیں جن کے مطالعہ سے قرونِ اُولیٰ کے مسلمان سائنسدانوں کو سائنسی تحقیقات کی طرف ترغیب ملی اور اُس کے نتیجے میں بنی نوعِ اِنسان نے تجرّبی توثیق کو حقیقت تک رسائی کی کسوٹی قرار دے کر تحقیق و جستجو کے نئے باب روشن کئے : آیاتِ ترغیبِ علم إِنَّمَا يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاءُ. (فاطر، 35 : 28) اللہ سے تو اُس کے بندوں میں سے علم والے ہی ڈرتے ہیں (جو صاحبِ بصیرت ہیں)۔ قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ إِنَّمَا يَتَذَكَّرُ أُوْلُوا الْأَلْبَابِO (الزمر، 39 : 9) آپ فرما دیجئے کہ علم والے اور بے علم کہیں برابر ہوتے ہیں! تحقیق سوچتے وُہی ہیں جو صاحبِ عقل ہیںo وَالَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ دَرَجَاتٍ (المجادله، 58 : 11) اور جنہیں علم عطا کیا گیا ہے (اﷲ) اُن لوگوں کے درجے بلند کرے گا۔ وَأَعْرِضْ عَنِ الْجَاهِلِينَO (الاعراف، 7 : 199) اور جاہلوں سے کنارہ کشی اِختیار کر لیںo وَمَا يَذَّكَّرُ إِلاَّ أُوْلُواْ الْأَلْبَابِO (آل عمران، 3 : 7) اور نصیحت صرف اہلِ دانش ہی کو نصیب ہوتی ہےo وَقُل رَّبِّ زِدْنِي عِلْمًاO (طهٰ، 20 : 114) اور آپ (ربّ کے حضور یہ) عرض کریں کہ اَے میرے رب! مجھے علم میں اور بڑھا دےo اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَO (العلق، 96 : 1) (اے حبیب!) اپنے ربّ کے نام سے (آغاز کرتے ہوئے) پڑھیئے جس نے (ہر چیز کو) پیدا فرمایاo فَاسْأَلُواْ أَهْلَ الذِّكْرِ إِن كُنتُمْ لاَ تَعْلَمُونَO (النحل، 16 : 43) سو تم اہلِ ذِکر سے پوچھ لیا کرو اگر تمہیں خود (کچھ) معلوم نہ ہوo کائنات میں غوروفکر کی ترغیب إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ وَاخْتِلاَفِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَالْفُلْكِ الَّتِي تَجْرِي فِي الْبَحْرِ بِمَا يَنفَعُ النَّاسَ وَمَا أَنزَلَ اللّهُ مِنَ السَّمَاءِ مِن مَّاءٍ فَأَحْيَا بِهِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَبَثَّ فِيهَا مِن كُلِّ دَآبَّةٍ وَتَصْرِيفِ الرِّيَاحِ وَالسَّحَابِ الْمُسَخِّرِ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالأَرْضِ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَعْقِلُونَO (البقره، 2 : 164) بیشک آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں اور رات دِن کی گردش میں اور اُن جہازوں (اور کشتیوں) میں جو سمندر میں لوگوں کو نفع پہنچانے والی چیزیں اُٹھا کر چلتی ہیں اور اُس (بارش) کے پانی میں جسے اللہ آسمان کی طرف سے اُتارتا ہے، پھر اُس کے ذریعے زمین کو مُردہ ہو جانے کے بعد زندہ کرتا ہے، (وہ زمین) جس میں اُس نے ہر قسم کے جانور پھیلا دیئے ہیں اور ہواؤں کے رُخ بدلنے میں اور اُس بادل میں جو آسمان اور زمین کے درمیان (حکمِ الٰہی کا) پابند (ہو کر چلتا) ہے (اِن میں) عقلمندوں کے لئے (قدرتِ الٰہیہ کی بہت سی) نشانیاں ہیںo إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلاَفِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَآيَاتٍ لِّأُوْلِي الْأَلْبَابِO الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللّهَ قِيَامًا وَقُعُودًا وَعَلَى جُنُوبِهِمْ وَيَتَفَكَّرُونَ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذَا بَاطِلاً سُبْحَانَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِO (آل عمران، 3 : 190، 191) بیشک آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں اور شب و روز کی گردِش میں عقلِ سلیم والوں کے لئے (اللہ کی قدرت کی) نشانیاں ہیںo یہ وہ لوگ ہیں جو (سراپا نیاز بن کر) کھڑے اور (سراپا اَدب بن کر) بیٹھے اور (ہجر میں تڑپتے ہوئے) اپنی کروَٹوں پر (بھی) اللہ کو یاد کرتے رہتے ہیں اور آسمانوں اور زمین کی تخلیق (میں کارفرما اُس کی عظمت اور حسن کے جلوؤں) میں فکر کرتے رہتے ہیں (پھر اُس کی معرفت سے لذّت آشنا ہو کر پکار اُٹھتے ہیں : ) اَے ہمارے رب! تو نے یہ (سب کچھ) بے حکمت اور بے تدبیر نہیں بنایا۔ تو (سب کوتاہیوں اور مجبوریوں سے) پاک ہے، ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا لےo إِنَّ فِي اخْتِلاَفِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَمَا خَلَقَ اللّهُ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَتَّقُونَO (يونس، 10 : 6) بیشک رات اور دِن کے بدلتے رہنے میں اور اُن (جملہ) چیزوں میں جو اللہ نے آسمانوں اور زمین میں پیدا فرمائی ہیں اُن لوگوں کے لئے نشانیاں ہیں جو تقویٰ رکھتے ہیںo وَهُوَ الَّذِي مَدَّ الْأَرْضَ وَجَعَلَ فِيهَا رَوَاسِيَ وَأَنْهَارًا وَمِن كُلِّ الثَّمَرَاتِ جَعَلَ فِيهَا زَوْجَيْنِ اثْنَيْنِ يُغْشِي اللَّيْلَ النَّهَارَ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَO وَفِي الْأَرْضِ قِطَعٌ مُّتَجَاوِرَاتٌ وَجَنَّاتٌ مِّنْ أَعْنَابٍ وَزَرْعٌ وَنَخِيلٌ صِنْوَانٌ وَغَيْرُ صِنْوَانٍ يُسْقَى بِمَاءِ وَاحِدٍ وَنُفَضِّلُ بَعْضَهَا عَلَى بَعْضٍ فِي الْأُكُلِ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَعْقِلُونَO (الرعد، 13 : 3، 4) اور وُہی ہے جس نے (گولائی کے باوُجود) زمین کو پھیلایا اور اُس میں پہاڑ اور دریا بنائے اور ہر قسم کے پھلوں میں (بھی) اُس نے دو دو (جنسوں کے) جوڑے بنائے، (وُہی) رات سے دِن کو ڈھانک لیتا ہے، بیشک اِس میں تفکر کرنے والے کے لئے (بہت) نشانیاں ہیںo اور زمین میں (مختلف قسم کے) قطعات ہیں جو ایک دُوسرے کے قریب ہیں اور انگوروں کے باغات ہیں اور کھیتیاں ہیں اور کھجور کے درخت ہیں جھنڈدار اور بغیرجھنڈ کے، اُن (سب) کو ایک ہی پانی سے سیراب کیا جاتا ہے اور (اُس کے باوُجود) ہم ذائقہ میں بعض کو بعض پر فضیلت بخشتے ہیں۔ بیشک اِس میں عقلمندوں کے لئے (بڑی) نشانیاں ہیںo هُوَ الَّذِي أَنزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً لَّكُم مِّنْهُ شَرَابٌ وَمِنْهُ شَجَرٌ فِيهِ تُسِيمُونَO يُنبِتُ لَكُم بِهِ الزَّرْعَ وَالزَّيْتُونَ وَالنَّخِيلَ وَالْأَعْنَابَ وَمِن كُلِّ الثَّمَرَاتِ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَةً لِّقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَO (النحل، 16 : 10، 11) وُہی ہے جس نے تمہارے لئے آسمان کی جانب سے پانی اُتارا، اُس میں سے (کچھ) پینے کا ہے اور اُسی میں سے (کچھ) شجرکاری کا ہے (جس سے نباتات، سبزے اور چراگاہیں اُگتی ہیں) جن میں تم (اپنے مویشی) چراتے ہوo اُسی پانی سے تمہارے لئے کھیت اور زیتون اور کھجور اور انگور اور ہر قسم کے پھل (اور میوے) اُگاتا ہے۔ بیشک اِس میں غور و فکر کرنے والے لوگوں کے لئے نشانی ہےo أَوَلَمْ يَتَفَكَّرُوا فِي أَنفُسِهِمْ مَا خَلَقَ اللَّهُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا إِلَّا بِالْحَقِّ وَأَجَلٍ مُّسَمًّى. (الروم، 30 : 8) کیا اُنہوں نے اپنے دِل میں غور نہیں کیا کہ اللہ نے آسمانوں اور زمین اور جو کچھ اُن کے درمیان ہے سب کو (اپنی) مصلحت (اور حکمت) ہی سے ایک معینہ مدّت کے لئے (عارضی طور پر) پیدا فرمایا ہے۔ وَمِنْ آيَاتِهِ خَلْقُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافُ أَلْسِنَتِكُمْ وَأَلْوَانِكُمْ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ لِّلْعَالِمِينَO (الروم، 30 : 22) اور آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور تمہاری زبانوں اور تمہارے رنگوں کا اِختلاف اُس کی نشانیوں میں سے ہے۔ بیشک اِس میں علم رکھنے والوں کے لئے (حیرت انگیز اور مستند) نشانیاں ہیںo وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَمَا أَنزَلَ اللَّهُ مِنَ السَّمَاءِ مِن رِّزْقٍ فَأَحْيَا بِهِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَتَصْرِيفِ الرِّيَاحِ آيَاتٌ لِّقَوْمٍ يَعْقِلُونَO (الجاثيه، 45 : 5) اور شب و روز کے یکے بعد دِیگرے آنے جانے میں اور اُس رزق میں جو اللہ آسمان سے اُتارتا ہے، پھر جس سے زمین کو مُردہ ہو جانے کے بعد زِندہ فرماتا ہے اور ہواؤں کے بدلنے میں عقل سے کام لینے والوں کے لئے (بڑی) نشانیاں ہیںo وَمَا مِن دَآبَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلاَ طَائِرٍ يَطِيرُ بِجَنَاحَيْهِ إِلاَّ أُمَمٌ أَمْثَالُكُم مَّا فَرَّطْنَا فِي الكِتَابِ مِن شَيْءٍ ثُمَّ إِلَى رَبِّهِمْ يُحْشَرُونَO (الانعام، 6 : 38) اور (اے اِنسانو!) کوئی بھی چلنے پھرنے والا (جانور) اور پرندہ جو اپنے دو بازوؤں سے اُڑتا ہو (ایسا) نہیں ہے مگر یہ کہ (بہت سی صفات میں) وہ سب تمہارے ہی مماثل طبقات ہیں۔ ہم نے کتاب میں کوئی چیز نہیں چھوڑی (جسے صراحۃً یا اِشارۃً بیان نہ کر دیا ہو)، پھر سب (لوگ) اپنے ربّ کے پاس جمع کئے جائیں گےo هُوَ الَّذِي جَعَلَ الشَّمْسَ ضِيَاءً وَالْقَمَرَ نُورًا وَقَدَّرَهُ مَنَازِلَ لِتَعْلَمُواْ عَدَدَ السِّنِينَ وَالْحِسَابَ مَا خَلَقَ اللّهُ ذَلِكَ إِلاَّ بِالْحَقِّ يُفَصِّلُ الْآيَاتِ لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَO (يونس، 10 : 5) وہی ہے جس نے سورج کو روشنی (کا منبع) بنایا اور چاند کو (اس سے) روشن (کیا) اور اس کے لئے (کم و بیش دکھائی دینے کی) منزلیں مقرر کیں تاکہ تم برسوں کا شمار اور (اوقات کا) حساب معلوم کر سکو، اور اللہ نے یہ (سب کچھ) نہیں پیدا فرمایا مگر درست تدبیر کے ساتھ، وہ (ان کائناتی حقیقتوں کے ذریعے اپنی خالقیت، وحدانیت اور قدرت کی) نشانیاں ان لوگوں کے لئے تفصیل سے واضح فرماتا ہے جو علم رکھتے ہیںo وَلَقَدْ خَلَقْنَا فَوْقَكُمْ سَبْعَ طَرَائِقَ وَمَا كُنَّا عَنِ الْخَلْقِ غَافِلِينَO (المؤمنون، 23 : 17) اور بیشک ہم نے تمہارے اُوپر (کرۂ ارضی کے گرد فضائے بسیط میں نظامِ کائنات کی حفاظت کے لئے) سات راستے (یعنی سات مقناطیسی پٹیاں یا میدان) بنائے ہیں اور ہم (کائنات کی) تخلیق (اور اُس کی حفاظت کے تقاضوں) سے بے خبر نہ تھےo قُلْ أَئِنَّكُمْ لَتَكْفُرُونَ بِالَّذِي خَلَقَ الْأَرْضَ فِي يَوْمَيْنِ وَتَجْعَلُونَ لَهُ أَندَادًا ذَلِكَ رَبُّ الْعَالَمِينَO وَجَعَلَ فِيهَا رَوَاسِيَ مِن فَوْقِهَا وَبَارَكَ فِيهَا وَقَدَّرَ فِيهَا أَقْوَاتَهَا فِي أَرْبَعَةِ أَيَّامٍ سَوَاءً لِّلسَّائِلِينَO ثُمَّ اسْتَوَى إِلَى السَّمَاءِ وَهِيَ دُخَانٌ فَقَالَ لَهَا وَلِلْأَرْضِ اِئْتِيَا طَوْعًا أَوْ كَرْهًا قَالَتَا أَتَيْنَا طَائِعِينَO فَقَضَاهُنَّ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ فِي يَوْمَيْنِ وَأَوْحَى فِي كُلِّ سَمَاءٍ أَمْرَهَا وَزَيَّنَّا السَّمَاءَ الدُّنْيَا بِمَصَابِيحَ وَحِفْظًا ذَلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِO (حم السجده، 41 : 9 - 12) آپ (ذرا اُن سے) پوچھئے : کیا تم لوگ اُس (کی ذات) سے منکر ہو جس نے دو اَدوار میں زمین بنائی اور تم اُس کے (ساتھ دُوسروں کو) ہمسر ٹھہراتے ہو؟ (یاد رکھو کہ) وُہی تمام جہانوں کا پروردگار ہےo اور اُس نے اِس (زمین) میں اُوپر سے بھاری پہاڑ رکھے اور اِس (زمین) کے اندر بڑی برکت رکھی (قسم قسم کی کانیں اور نشوونما کی قوّتیں) اور اِس میں (اپنی مخلوق کے لئے) سامانِ معیشت مقرر کیا (یہ سب کچھ اُس نے) چار اَدوارِ (تخلیق) میں (پیدا کیا) جو تمام طلبگاروں کے لئے یکساں ہےo پھر (اللہ) آسمان کی طرف متوجہ ہوا کہ وہ (اُس وقت) دُھواں (سا) تھا۔ پھر اُسے اور زمین کو حکم دیا کہ تم دونوں (میری قدرت کے قوانین کے تابع ہو کر) آؤ، خواہ تم اِس پر خوش ہو یا ناخوش۔ اُن دونوں نے کہا ہم خوشی سے حاضر ہیںo پھر دو مراحل میں سات آسمان بنا دیئے اور ہر آسمان کے اَحکام اُس میں بھیج دیئے اور ہم نے آسمانِ دُنیا کو چراغوں (یعنی ستاروں) سے رونق بخشی اور اُسے محفوظ (بھی) کر دیا۔ یہ اِنتظام ہے زبردست (اور) علم والے (پروردگار) کاo الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ طِبَاقًا مَّا تَرَى فِي خَلْقِ الرَّحْمَنِ مِن تَفَاوُتٍ فَارْجِعِ الْبَصَرَ هَلْ تَرَى مِن فُطُورٍO ثُمَّ ارْجِعِ الْبَصَرَ كَرَّتَيْنِ يَنقَلِبْ إِلَيْكَ الْبَصَرُ خَاسِأً وَهُوَ حَسِيرٌO (الملک، 67 : 3، 4) اُسی نے اُوپر تلے سات آسمان بنائے، تو رحمن کی کاریگری میں کوئی فرق نہ دیکھے گا۔ ذرا دوبارہ آنکھ اُٹھا کر دیکھ، کیا تجھے کہیں کوئی خلل نظر آتا ہے؟o (ہاں) پھر بار بار آنکھ اُٹھا کر دیکھ (ہربار) تیری نگاہ تھک کر ناکام لوٹے گیo وَانشَقَّتِ السَّمَاءُ فَهِيَ يَوْمَئِذٍ وَاهِيَةٌO (الحاقه، 69 : 16) اور آسمان پھٹ جائے گا، پھر اُس دِن وہ بالکل بودا (بے حقیقت) ہو جائے گاo أَلَمْ تَرَوْا كَيْفَ خَلَقَ اللَّهُ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ طِبَاقًاO (نوح، 71 : 15) کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے کس طرح سات آسمان تہ بہ تہ بنائے ہیں؟o الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ بِحُسْبَانٍO (الرحمن، 55 : 5) سورج اور چاند ایک مقرر حساب کے پابند ہیںo خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِالْحَقِّ تَعَالَى عَمَّا يُشْرِكُونَO (النحل، 16 : 3) اُسی نے آسمان اور زمین کو درُست تدبیر کے ساتھ پیدا فرمایا، وہ اُن چیزوں سے برتر ہے جنہیں کفار (اُس کا) شریک گردانتے ہیںo إِنَّ اللّهَ فَالِقُ الْحَبِّ وَالنَّوَى يُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَمُخْرِجُ الْمَيِّتِ مِنَ الْحَيِّ ذَلِكُمُ اللّهُ فَأَنَّى تُؤْفَكُونَO فَالِقُ الْإِصْبَاحِ وَجَعَلَ اللَّيْلَ سَكَنًا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ حُسْبَانًا ذَلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِO (الانعام، 6 : 95، 96) بیشک اللہ دانے اور گھٹلی کو پھاڑ نکالنے والا ہے، وہ مُردہ سے زِندہ کو پیدا فرماتا ہے اور زِندہ سے مُردہ کو نکالنے والا ہے، یہی (شان والا) تو اللہ ہے، پھر تم کہاں بہکے پھرتے ہو؟o (وُہی) صبح (کی روشنی) کو رات کا اندھیرا چاک کر کے نکالنے والا ہے اور اُسی نے رات کو آرام کے لئے بنایا ہے اور سورج اور چاند کو حساب و شمار کے لئے، یہ بہت غالب بڑے علم والے (ربّ) کا مقررہ اَندازہ ہےo وَهُوَ الَّذِيَ أَنشَأَكُم مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ فَمُسْتَقَرٌّ وَمُسْتَوْدَعٌ قَدْ فَصَّلْنَا الْآيَاتِ لِقَوْمٍ يَفْقَهُونَO وَهُوَ الَّذِيَ أَنزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَأَخْرَجْنَا بِهِ نَبَاتَ كُلِّ شَيْءٍ فَأَخْرَجْنَا مِنْهُ خَضِرًا نُّخْرِجُ مِنْهُ حَبًّا مُّتَرَاكِبًا وَمِنَ النَّخْلِ مِن طَلْعِهَا قِنْوَانٌ دَانِيَةٌ وَجَنَّاتٍ مِّنْ أَعْنَابٍ وَالزَّيْتُونَ وَالرُّمَّانَ مُشْتَبِهًا وَغَيْرَ مُتَشَابِهٍ انظُرُواْ إِلِى ثَمَرِهِ إِذَا أَثْمَرَ وَيَنْعِهِ إِنَّ فِي ذَلِكُمْ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يُؤْمِنُونَO (الانعام، 6 : 98، 99) اور وُہی (اللہ) ہے جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا فرمایا ہے، پھر (تمہارے لئے) ایک جائے اِقامت (ہے) اور ایک جائے اِمانت۔ بیشک ہم نے سمجھنے والے لوگوں کے لئے (اپنی قدرت کی) نشانیاں کھول کر بیان کر دی ہیںo اور وُہی ہے جس نے آسمان کی طرف سے پانی اُتارا، پھر ہم نے اُس (بارش) سے ہر قسم کی پیوستہ دانے نکالتے ہیں اور کھجور کے گابھے سے لٹکتے ہوئے گچھے اور انگوروں کے باغات اور زیتون اور اَنار (بھی پیدا کئے جو کئی اِعتبارات سے) آپس میں ایک جیسے (لگتے) ہیں اور (پھل، ذائقے اور تاثیرات) جداگانہ ہیں۔ تم درخت کے پھل کی طرف دیکھو جب وہ پھل لائے اور اُس کے پکنے کو (بھی دیکھو)۔ بیشک اِن میں اِیمان رکھنے والے لوگوں کے لئے نشانیاں ہیںo وَهُوَ الَّذِي خَلَق السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ. (هود، 11 : 7) اور وُہی (اللہ) ہے جس نے آسمانوں اور زمین (کی بالائی اور زیریں کائناتوں) کو چھ روز (یعنی تخلیق و اِرتقاء کے چھ اَدوار و مراحل) میں پیدا فرمایا۔ اللّهُ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَأَنزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَأَخْرَجَ بِهِ مِنَ الثَّمَرَاتِ رِزْقًا لَّكُمْ وَسَخَّرَ لَكُمُ الْفُلْكَ لِتَجْرِيَ فِي الْبَحْرِ بِأَمْرِهِ وَسَخَّرَ لَكُمُ الْأَنْهَارَO (اِبراهيم، 14 : 32) اللہ وہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا فرمایا اور آسمان کی جانب سے پانی اُتارا پھر اُس پانی کے ذریعہ سے تمہارے رِزق کے طور پر پھل پیدا کئے اور اُس نے تمہارے لئے کشتیوں کو مسخر کر دِیا تاکہ اُس کے حکم سے سمندر میں چلتی رہیں اور اُس نے تمہارے لئے دریاؤں کو (بھی) مسخر کر دیاo وَسَخَّر لَكُمُ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ دَآئِبَينَ وَسَخَّرَ لَكُمُ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَO (اِبراهيم، 14 : 33) اور اُس نے تمہارے (فائدے) کے لئے سورج اور چاند کو (باقاعدہ ایک نظام کا) مطیع بنا دیا جو ہمیشہ (اپنے اپنے مدار میں) گردِش کرتے رہتے ہیں اور تمہارے (نظامِ حیات کے) لئے رات اور دِن کو بھی (ایک) نظام کے تابع کر دِیاo وَسَخَّرَ لَكُمُ اللَّيْلَ وَالْنَّهَارَ وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ وَالْنُّجُومُ مُسَخَّرَاتٌ بِأَمْرِهِ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَعْقِلُونَO (النحل، 16 : 12) اور اُسی نے تمہارے لئے رات اور دِن کو اور سورج اور چاند کو مسخر کر دیا ہے، اور تمام ستارے بھی اُسی کی تدبیر (سے نظام) کے پابند ہیں۔ بیشک اِس میں عقل رکھنے والوں کے لئے نشانیاں ہیںo وَهُوَ الَّذِي سَخَّرَ الْبَحْرَ لِتَأْكُلُواْ مِنْهُ لَحْمًا طَرِيًّا وَتَسْتَخْرِجُواْ مِنْهُ حِلْيَةً تَلْبَسُونَهَا وَتَرَى الْفُلْكَ مَوَاخِرَ فِيهِ وَلِتَبْتَغُواْ مِن فَضْلِهِ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَO (النحل، 16 : 14) اور وُہی ہے جس نے (فضا و بر کے علاوہ) بحر (یعنی دریاؤں اور سمندروں) کو بھی مسخر فرما دِیا تاکہ تم اُس میں سے تازہ (و پسندیدہ) گوشت کھاؤ اور تم اُس میں سے موتی (وغیرہ) نکالو جنہیں تم زیبائش کے لئے پہنتے ہو اور (اَے اِنسان!) تو کشتیوں (اور جہازوں) کو دیکھتا ہے جو (دریاؤں اور سمندروں کا) پانی چیرتے ہوئے اُس میں چلے جاتے ہیں اور (یہ سب کچھ اِس لئے کیا) تاکہ تم (دُور دُور تک) اُس کا فضل (یعنی رِزق) تلاش کرو اور یہ کہ تم شکرگزار بن جاؤo وَأَلْقَى فِي الْأَرْضِ رَوَاسِيَ أَن تَمِيدَ بِكُمْ وَأَنْهَارًا وَسُبُلاً لَّعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَO وَعَلامَاتٍ وَبِالنَّجْمِ هُمْ يَهْتَدُونَO (النحل، 16 : 15، 16) اور اُسی نے زمین میں (مختلف مادّوں کو) باہم ملا کر بھاری پہاڑ بنا دیئے مبادا وہ (زمین اپنے مدار میں) حرکت کرتے ہوئے تمہیں لے کر کانپنے لگے اور نہریں اور (قدرتی) راستے (بھی) بنائے تاکہ تم (منزلوں تک پہنچنے کے لئے) راہ پا سکوo اور (دِن کو راہ تلاش کرنے کے لئے) علامتیں بنائیں اور (رات کو) لوگ ستاروں کے ذریعہ (بھی) راہ پاتے ہیںo أَوَلَمْ يَرَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنَّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ كَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنَاهُمَا وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍّ أَفَلَا يُؤْمِنُونَO وَجَعَلْنَا فِي الْأَرْضِ رَوَاسِيَ أَن تَمِيدَ بِهِمْ وَجَعَلْنَا فِيهَا فِجَاجًا سُبُلًا لَّعَلَّهُمْ يَهْتَدُونَO وَجَعَلْنَا السَّمَاءَ سَقْفًا مَّحْفُوظًا وَهُمْ عَنْ آيَاتِهَا مُعْرِضُونَO وَهُوَ الَّذِي خَلَقَ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ كُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَO (الانبياء، 21 : 30 - 33) اور کیا کافر لوگوں نے نہیں دیکھا کہ جملہ آسمانی کائنات اور زمین (سب) ایک اِکائی کی شکل میں جڑے ہوئے تھے، پس ہم نے اُنہیں پھاڑ کر جدا کر دِیا، اور ہم نے (زمین پر) ہر زندہ چیز (کی زِندگی) کی نمود پانی سے کی، تو کیا وہ (اِن حقائق سے آگاہ ہو کر اَب بھی) اِیمان نہیں لاتے!o اور ہم نے زمین میں مضبوط پہاڑ بنا دیئے مبادا وہ (زمین اپنے مدار میں) حرکت کرتے ہوئے اُنہیں لے کر کانپنے لگے اور ہم نے اُس (زمین) میں کشادہ راستے بنائے تاکہ لوگ (مختلف منزلوں تک پہچنے کے لئے) راہ پا سکیںo اور ہم نے سماء (یعنی زمین کے بالائی کرّوں) کو محفوظ چھت بنایا (تاکہ اہلِ زمین کو خلا سے آنے والی مہلک قوّتوں اور جارِحانہ لہروں کے مضر اَثرات سے بچائیں) اور وہ اُن (سماوِی طبقات کی) نشانیوں سے رُوگرداں ہیںo اور وُہی (اللہ) ہے جس نے رات اور دِن کو پیدا کیا اور سورج اور چاند کو (بھی)، تمام (آسمانی کرّے) اپنے اپنے مدار کے اندر تیزی سے تیرتے چلے جاتے ہیںo الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ. (الفرقان، 25 : 59) جس نے آسمانی کرّوں اور زمین کو اور اُس (کائنات) کو جو اُن دونوں کے درمیان ہے چھ اَدوارِ (تخلیق) میں پیدا فرمایا۔ تَبَارَكَ الَّذِي جَعَلَ فِي السَّمَاءِ بُرُوجًا وَجَعَلَ فِيهَا سِرَاجًا وَقَمَرًا مُّنِيرًاO وَهُوَ الَّذِي جَعَلَ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ خِلْفَةً لِّمَنْ أَرَادَ أَن يَذَّكَّرَ أَوْ أَرَادَ شُكُورًاO (الفرقان، 25 : 61، 62) وُہی بڑی برکت و عظمت والا ہے جس نے آسمانی کائنات میں (کہکشاؤں کی شکل میں) سماوِی کرّوں کی وسیع منزلیں بنائیں اور اُس میں (سورج کو روشنی اور تپش دینے والا) چراغ بنایا اور (اُس نظامِ شمسی کے اندر) چمکنے والا چاند بنایاo اور وُہی ذات ہے جس نے رات اور دِن کو ایک دُوسرے کے پیچھے گردِش کرنے والا بنایا، اُس کے لئے جو غور و فکر کرنا چاہے یا شکرگزاری کا اِرادہ رکھے (اِن تخلیقی قدرتوں میں نصیحت و ہدایت ہے)o قُلْ سِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَانظُرُوا كَيْفَ بَدَأَ الْخَلْقَ ثُمَّ اللَّهُ يُنشِئُ النَّشْأَةَ الْآخِرَةَ إِنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌO (العنکبوت، 29 : 20) فرما دیجئے : تم زمین میں (کائناتی زندگی کے مطالعہ کے لئے) چلو پھرو، پھر دیکھو (یعنی غور و تحقیق کرو) کہ اُس نے مخلوق کی (زندگی کی) اِبتداء کیسے فرمائی، پھر وہ دُوسری زندگی کو کس طرح اُٹھا کر (اِرتقاء کے مراحل سے گزارتا ہوا) نشوونما دیتا ہے، بیشک اﷲ ہر شے پر بڑی قدرت والا ہےo خَلَقَ اللَّهُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِالْحَقِّ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَةً لِّلْمُؤْمِنِينَO (العنکبوت، 29 : 44) اﷲ نے آسمانوں اور زمین کو درُست تدبیر کے ساتھ پیدا فرمایا ہے۔ بیشک اِس (تخلیق) میں اہلِ ایمان کے لئے (اُس کی وحدانیت اور قدرت کی) نشانی ہےo لَا الشَّمْسُ يَنبَغِي لَهَا أَن تُدْرِكَ الْقَمَرَ وَلَا اللَّيْلُ سَابِقُ النَّهَارِ وَكُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَO (يسين، 36 : 40) نہ آفتاب کی یہ مجال ہے کہ چاند کو جا پکڑے اور نہ رات دِن سے پہلے آ سکتی ہے اور سب (سیارے) اپنے اپنے مدار میں تیر رہے ہیںo وَمِنْ آيَاتِهِ يُرِيكُمُ الْبَرْقَ خَوْفًا وَطَمَعًا وَيُنَزِّلُ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَيُحْيِي بِهِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَعْقِلُونَO (الروم، 30 : 24) اور اُس کی نشانیوں میں سے (ایک یہ بھی) ہے کہ وہ تمہیں خوفزدہ کرنے اور اُمید دِلانے کے لئے بجلیاں دِکھاتا ہے اور بادلوں سے بارش برساتا ہے اور اُس سے مُردہ زمین کو زِندہ کر دیتا ہے، اس میں عقل والوں کے لئے بہت سی نشانیاں ہیںo اللَّهُ الَّذِي يُرْسِلُ الرِّيَاحَ فَتُثِيرُ سَحَابًا فَيَبْسُطُهُ فِي السَّمَاءِ كَيْفَ يَشَاءُ وَيَجْعَلُهُ كِسَفًا فَتَرَى الْوَدْقَ يَخْرُجُ مِنْ خِلَالِهِ فَإِذَا أَصَابَ بِهِ مَن يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ إِذَا هُمْ يَسْتَبْشِرُونَO (الروم، 30 : 48) اللہ ہی تو ہے جو ہواؤں کو بھیجتا ہے تو وہ بادلوں کو اُٹھاتی ہیں، پھر وہ جس طرح چاہتا ہے اُسے آسمان میں پھیلا دیتا ہے اور اُسے تہ بہ تہ کر دیتا ہے پھر تم اُس کے اندر سے بارش کو نکلتے دیکھتے ہو، پھر جب (اُس بارش کو) اپنے بندوں میں سے جنہیں چاہتا ہے اُن (کی آبادی) کو پہنچاتا ہے تو وہ خوشیاں منانے لگتے ہیںo فَانظُرْ إِلَى آثَارِ رَحْمَتِ اللَّهِ كَيْفَ يُحْيِي الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا إِنَّ ذَلِكَ لَمُحْيِي الْمَوْتَى وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌO (الروم، 30 : 50) بیشک وُہی مُردوں کو بھی زِندہ کرنے والا ہے اور وہ سب کچھ کر سکتا ہےo إِنَّمَا أَمْرُهُ إِذَا أَرَادَ شَيْئًا أَنْ يَقُولَ لَهُ كُنْ فَيَكُونُO (يٰسين، 36 : 82) اُس کی شان یہ ہے کہ جب وہ کسی چیز (کو پیدا کرنے) کا اِرادہ فرماتا ہے تو اُس سے کہتا ہے کہ ہو جا! پس وہ ہو جاتی ہےo يَخْلُقُكُمْ فِي بُطُونِ أُمَّهَاتِكُمْ خَلْقًا مِن بَعْدِ خَلْقٍ فِي ظُلُمَاتٍ ثَلَاثٍ. (الزمر، 39 : 6) وہ تمہیں تمہاری ماؤں کے بطنوں میں تین تاریک پردوں میں (بتدرِیج) ایک حالت کے بعد دُوسری حالت میں بناتا ہےo وَالسَّمَاءَ بَنَيْنَاهَا بِأَيْدٍ وَإِنَّا لَمُوسِعُونَO (الذاريات، 51 : 47) اور ہم نے سماوِی کائنات کو اپنے دستِ قدرت سے بنایا اور ہم ہی (کائنات کو) وسیع سے وسیع تر کرنے والے ہیںo أَأَنتُمْ أَشَدُّ خَلْقًا أَمِ السَّمَاءُ بَنَاهَاO رَفَعَ سَمْكَهَا فَسَوَّاهَاO وَأَغْطَشَ لَيْلَهَا وَأَخْرَجَ ضُحَاهَاO وَالْأَرْضَ بَعْدَ ذَلِكَ دَحَاهَاO أَخْرَجَ مِنْهَا مَاءَهَا وَمَرْعَاهَاO وَالْجِبَالَ أَرْسَاهَاO مَتَاعًا لَّكُمْ وَلِأَنْعَامِكُمْO (النازعات، 79 : 27 - 33) کیا تمہارا پیدا کرنا زیادہ مشکل ہے یا (پوری) سماوِی کائنات کا، جسے اُس نے بنایا؟o اُس نے آسمان کے تمام کرّوں(ستاروں) کو (فصائے بسیط میں پیدا کر کے) بلند کیاo پھر اُن (کی ترکیب و تشکیل اور اَفعال و حرکات) میں اِعتدال، توازن اور اِستحکام پیدا کر دیاo اور اُسی نے آسمانی خلا کی رات کو (یعنی سارے خلائی ماحول کو مثلِ شب) تارِیک بنایا اور (اُس خلا سے) اُن (ستاروں) کی روشنی (پیدا کر کے) نکالیo اور اُسی نے زمین کو اُس (ستارے سورج کے وُجود میں آ جانے) کے بعد (اُس سے) الگ کر کے زور سے پھینک دِیاo اُسی نے زمین میں سے اُس کا پانی (الگ) نکال لیا اور (بقیہ خشک قطعات میں) اُس کی نباتات نکالیںo اور اُسی نے (بعض مادّوں کو باہم ملا کر) زمین سے محکم پہاڑوں کو اُبھار دیاo (یہ سب کچھ) تمہارے اور تمہارے چوپایوں کے فائدہ کے لئے (کیا)o الَّذِي خَلَقَ فَسَوَّىO وَالَّذِي قَدَّرَ فَهَدَىO وَالَّذِي أَخْرَجَ الْمَرْعَىO فَجَعَلَهُ غُثَاءً أَحْوَىO (الاعلی، 87 : 2 - 5) جس نے (کائنات کی ہر چیز کو) پیدا کیا، پھر اُسے (جملہ تقاضوں کی تکمیل کے ساتھ) درُست توازُن دِیاo اور جس نے (ہر ہر چیز کے لئے) قانون مقرر کیا، پھر (اُسے اپنے اپنے نظام کے مطابق رہنے اور چلنے کا) راستہ بتایاo اور جس نے (زمین سے) چارہ نکالاo پھر اُسے سیاہی مائل خشک کر دیاo

حبِ اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم

2017-08-05 10:10:56 

اللہ سبحان و تعالٰی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت اور اطاعت 

عبادت کی بہترین قسم اُس ذاتِ باری تعالٰی سے محبت ہے جس کے قبضہ قدرت میں ہر ایک کی جان ہے. وہ خالق ہے مالک ہے رازق ہے اس سے محبت کیے بنا گزارا ہی نہیں.اللہ کی محبت کے بغیر اللہ کی عبادت گویا کہ ایک ایسا جسم ہے جو لا شعوری حرکات کرتا رہتا ہے ، ایسی حرکات جن کا کچھ فائدہ نہیں ہوتا بلکہ بسا اوقات نقصان ہوتا ہے ،
اس لیے ہر اِیمان والے کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے اِیمان کی تکمیل کے لیے اور اپنی عبادات کا حقیقی فائدہ حاصل کرنے کے لیے ، اپنی دُنیا اور آخرت کی خیر اور فلاح حاصل کرنے کے لیے اپنے دِل و جاں میں اپنے اللہ کی محبت جگائے اور بڑھائے رکھے اور اللہ سے اپنے لیے محبت حاصل کرنے کی سر توڑ کوشش کرتا رہے 
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
* وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰهِ      
(البقرۃ:165)
(اور جو ایمان والے ہیں وہ تو اللہ تعالی ہی سے سب سے زیادہ محبت کرتے ہیں)

محبِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم حُبِ الہی کی شاخ ہے. اللہ کی محبت پانے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت اور انکی اطاعت کی جائے. پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کو دل میں سب سے زیادہ مقدم رکھا جائے. اپنا اٹھنا، بیٹھنا، اوڑھنا، بچھونا غرض زندگی کے ہر معاملہ میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کی جائے. 

چنانچہ اللہ پاک قرآن پاک میں فرماتے ہیں. 
* قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِيْ يُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ﴾ 
(آل عمران:31) 
(اے پیغمبر لوگوں سے) کہہ دو کہ اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری پیروی کرو، اللہ بھی تم سے محبت کرے گا اور تمہارے گناہوں کو معاف کر دے گا. 

* يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ أَطِيعُواْ اللّهَ وَرَسُولَهُ وَلاَ تَوَلَّوْا عَنْهُ وَأَنتُمْ تَسْمَعُونَ (٢٠)
سورۃ الانفال آیت ٢٠
اے ایمان والو! تم اللہ کی اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت کرو اور اس سے روگردانی مت کرو حالانکہ تم سن رہے ہو.

* اَلنَّبِیُّ اَوْلٰی بِالْمُؤْمِنِیْنَ مِنْ أنْفُسُہِمْ وَ أزْوَاجُہ أمَّہَاتُھُمْ ﴾ ( الاحزاب:۶)
ترجمہ : ایمان والے اپنی جانوں سے زیادہ نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) سے لگاؤ رکھتے ہیں. اور اس کی عورتیں ان کی مائیں ہیں۔“

* قُلْ اِنْ کَانَ آبَائُکُم وَ اَبْنَاءُ کُمْ وَاخْوَانُکُمْ وَازْوَاجُکمْ وَعَشِیْرَتُکُمْ وَ اَمۡوَالُۨ اقۡتَرَفۡتُمُوۡھَا وَتِجَارَةُ تَخْشَوْنَ کَسَادَھَا وَمَسَاکِنُ تَرْضَوْنَھَا اَحَبَّ اِلَیْکُمْ مِنَ اللهِ وَرَسُوْلِہ وَجِھَادٍ فِیْ سَبِیْلِہ فَتَرَبَّصُوْا حَتّٰی یَاْتِیَ اللهُ بِاَمْرِہ وَاللهُ لَا یَھْدِی الْقَوْمَ الْفَاسِقِیْنَ۔“ (التوبة:۲۴)
ترجمہ:”تو کہہ اگر تمہارے باپ اور بیٹے اور بھائی اور عورتیں اور برادری اور مال جو تم نے کمائے ہیں اور سوداگری جس کے بند ہونے سے تم ڈرتے ہو اور حویلیاں جن کو پسند کرتے ہو ،تم کو زیادہ پیاری ہیں اللہ سے اور اس کے رسول سے اور لڑنے سے اس کی راہ میں تو انتظار کرو یہاں تک کہ بھیجے اللہ اپنا حکم اور اللہ راستہ نہیں دیتا نافرمان لوگوں کو۔“

رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اللہ تعالیٰ کی محبت کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے کہ وہ اللہ کے بھیجے ہوئے رسول ہیں. وہ اخلاق و کردار کے بلند ترین مرتبہ پر فائز ہیں. ہمارا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی خون کا رشتہ تو نہیں ہے لیکن جو رشتہ انکے امتی ہونے کی وجہ سے ہمارا اُن سے ہے وہ کسی بھی خونی رشتے یا مادی شے سے بڑھ کر ہے. رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی دین و دنیا کے ہر معاملہ میں بہترین رہنمائی فراہم کرتی ہے ہم اگر آنکھ بند کر کے کسی کی کہی بات پر یقین کرنا چاہیں یا کسی کو صادق و امین کی بلندیوں پر دیکھنا چاہیں تو رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ دوسری مثال نہ ملے گی. پھر روزِ قیامت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا شفاعت کا وعدہ اور امت کی بخشش کی دعا کرنا. ایسی مہربان اور مشفق ہستی سے کیوں نہ محبت کی جائے؟  اللہ اور رسول کے ساتھ محبت اور ایسا تعلق ہے جس کے بغیر ایمان کبھی مکمل نہیں ہوتا۔خاص طور پر جب تک نبی محترم صلی اللہ علیہ وسلم  کی پوری عزت، احترام، وقار اور محبت دل کے اندر نہ ہو، اسلام اور ایمان کا کوئی تصور نہیں.
اللہ پاک ہم سب کو اپنی اور اپنے پیارے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت عطا فرمائیں اور بہترین اطاعت کرنے والوں میں شامل فرما لیں. اللھم آمین

منتخب تحریریں

اللہ سبحان و تعالٰی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت اور اطاعت 

عبادت کی بہترین قسم اُس ذاتِ باری تعالٰی سے محبت ہے جس کے قبضہ قدرت میں ہر ایک کی جان ہے. وہ خالق ہے مالک ہے رازق ہے اس سے محبت کیے بنا گزارا ہی نہیں.اللہ کی محبت کے بغیر اللہ کی عبادت گویا کہ ایک ایسا جسم ہے جو لا شعوری حرکات کرتا رہتا ہے ، ایسی حرکات جن کا کچھ فائدہ نہیں ہوتا بلکہ بسا اوقات نقصان ہوتا ہے ،
اس لیے ہر اِیمان والے کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے اِیمان کی تکمیل کے لیے اور اپنی عبادات کا حقیقی فائدہ حاصل کرنے کے لیے ، اپنی دُنیا اور آخرت کی خیر اور فلاح حاصل کرنے کے لیے اپنے دِل و جاں میں اپنے اللہ کی محبت جگائے اور بڑھائے رکھے اور اللہ سے اپنے لیے محبت حاصل کرنے کی سر توڑ کوشش کرتا رہے 
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
* وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰهِ      
(البقرۃ:165)
(اور جو ایمان والے ہیں وہ تو اللہ تعالی ہی سے سب سے زیادہ محبت کرتے ہیں)

محبِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم حُبِ الہی کی شاخ ہے. اللہ کی محبت پانے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت اور انکی اطاعت کی جائے. پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کو دل میں سب سے زیادہ مقدم رکھا جائے. اپنا اٹھنا، بیٹھنا، اوڑھنا، بچھونا غرض زندگی کے ہر معاملہ میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کی جائے. 

چنانچہ اللہ پاک قرآن پاک میں فرماتے ہیں. 
* قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِيْ يُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ﴾ 
(آل عمران:31) 
(اے پیغمبر لوگوں سے) کہہ دو کہ اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری پیروی کرو، اللہ بھی تم سے محبت کرے گا اور تمہارے گناہوں کو معاف کر دے گا. 

* يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ أَطِيعُواْ اللّهَ وَرَسُولَهُ وَلاَ تَوَلَّوْا عَنْهُ وَأَنتُمْ تَسْمَعُونَ (٢٠)
سورۃ الانفال آیت ٢٠
اے ایمان والو! تم اللہ کی اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت کرو اور اس سے روگردانی مت کرو حالانکہ تم سن رہے ہو.

* اَلنَّبِیُّ اَوْلٰی بِالْمُؤْمِنِیْنَ مِنْ أنْفُسُہِمْ وَ أزْوَاجُہ أمَّہَاتُھُمْ ﴾ ( الاحزاب:۶)
ترجمہ : ایمان والے اپنی جانوں سے زیادہ نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) سے لگاؤ رکھتے ہیں. اور اس کی عورتیں ان کی مائیں ہیں۔“

* قُلْ اِنْ کَانَ آبَائُکُم وَ اَبْنَاءُ کُمْ وَاخْوَانُکُمْ وَازْوَاجُکمْ وَعَشِیْرَتُکُمْ وَ اَمۡوَالُۨ اقۡتَرَفۡتُمُوۡھَا وَتِجَارَةُ تَخْشَوْنَ کَسَادَھَا وَمَسَاکِنُ تَرْضَوْنَھَا اَحَبَّ اِلَیْکُمْ مِنَ اللهِ وَرَسُوْلِہ وَجِھَادٍ فِیْ سَبِیْلِہ فَتَرَبَّصُوْا حَتّٰی یَاْتِیَ اللهُ بِاَمْرِہ وَاللهُ لَا یَھْدِی الْقَوْمَ الْفَاسِقِیْنَ۔“ (التوبة:۲۴)
ترجمہ:”تو کہہ اگر تمہارے باپ اور بیٹے اور بھائی اور عورتیں اور برادری اور مال جو تم نے کمائے ہیں اور سوداگری جس کے بند ہونے سے تم ڈرتے ہو اور حویلیاں جن کو پسند کرتے ہو ،تم کو زیادہ پیاری ہیں اللہ سے اور اس کے رسول سے اور لڑنے سے اس کی راہ میں تو انتظار کرو یہاں تک کہ بھیجے اللہ اپنا حکم اور اللہ راستہ نہیں دیتا نافرمان لوگوں کو۔“

رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اللہ تعالیٰ کی محبت کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے کہ وہ اللہ کے بھیجے ہوئے رسول ہیں. وہ اخلاق و کردار کے بلند ترین مرتبہ پر فائز ہیں. ہمارا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی خون کا رشتہ تو نہیں ہے لیکن جو رشتہ انکے امتی ہونے کی وجہ سے ہمارا اُن سے ہے وہ کسی بھی خونی رشتے یا مادی شے سے بڑھ کر ہے. رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی دین و دنیا کے ہر معاملہ میں بہترین رہنمائی فراہم کرتی ہے ہم اگر آنکھ بند کر کے کسی کی کہی بات پر یقین کرنا چاہیں یا کسی کو صادق و امین کی بلندیوں پر دیکھنا چاہیں تو رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ دوسری مثال نہ ملے گی. پھر روزِ قیامت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا شفاعت کا وعدہ اور امت کی بخشش کی دعا کرنا. ایسی مہربان اور مشفق ہستی سے کیوں نہ محبت کی جائے؟  اللہ اور رسول کے ساتھ محبت اور ایسا تعلق ہے جس کے بغیر ایمان کبھی مکمل نہیں ہوتا۔خاص طور پر جب تک نبی محترم صلی اللہ علیہ وسلم  کی پوری عزت، احترام، وقار اور محبت دل کے اندر نہ ہو، اسلام اور ایمان کا کوئی تصور نہیں.
اللہ پاک ہم سب کو اپنی اور اپنے پیارے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت عطا فرمائیں اور بہترین اطاعت کرنے والوں میں شامل فرما لیں. اللھم آمین

اللہ سبحان و تعالٰی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت اور اطاعت 

عبادت کی بہترین قسم اُس ذاتِ باری تعالٰی سے محبت ہے جس کے قبضہ قدرت میں ہر ایک کی جان ہے. وہ خالق ہے مالک ہے رازق ہے اس سے محبت کیے بنا گزارا ہی نہیں.اللہ کی محبت کے بغیر اللہ کی عبادت گویا کہ ایک ایسا جسم ہے جو لا شعوری حرکات کرتا رہتا ہے ، ایسی حرکات جن کا کچھ فائدہ نہیں ہوتا بلکہ بسا اوقات نقصان ہوتا ہے ،
اس لیے ہر اِیمان والے کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے اِیمان کی تکمیل کے لیے اور اپنی عبادات کا حقیقی فائدہ حاصل کرنے کے لیے ، اپنی دُنیا اور آخرت کی خیر اور فلاح حاصل کرنے کے لیے اپنے دِل و جاں میں اپنے اللہ کی محبت جگائے اور بڑھائے رکھے اور اللہ سے اپنے لیے محبت حاصل کرنے کی سر توڑ کوشش کرتا رہے 
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
* وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰهِ      
(البقرۃ:165)
(اور جو ایمان والے ہیں وہ تو اللہ تعالی ہی سے سب سے زیادہ محبت کرتے ہیں)

محبِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم حُبِ الہی کی شاخ ہے. اللہ کی محبت پانے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت اور انکی اطاعت کی جائے. پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کو دل میں سب سے زیادہ مقدم رکھا جائے. اپنا اٹھنا، بیٹھنا، اوڑھنا، بچھونا غرض زندگی کے ہر معاملہ میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کی جائے. 

چنانچہ اللہ پاک قرآن پاک میں فرماتے ہیں. 
* قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِيْ يُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ﴾ 
(آل عمران:31) 
(اے پیغمبر لوگوں سے) کہہ دو کہ اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری پیروی کرو، اللہ بھی تم سے محبت کرے گا اور تمہارے گناہوں کو معاف کر دے گا. 

* يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ أَطِيعُواْ اللّهَ وَرَسُولَهُ وَلاَ تَوَلَّوْا عَنْهُ وَأَنتُمْ تَسْمَعُونَ (٢٠)
سورۃ الانفال آیت ٢٠
اے ایمان والو! تم اللہ کی اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت کرو اور اس سے روگردانی مت کرو حالانکہ تم سن رہے ہو.

* اَلنَّبِیُّ اَوْلٰی بِالْمُؤْمِنِیْنَ مِنْ أنْفُسُہِمْ وَ أزْوَاجُہ أمَّہَاتُھُمْ ﴾ ( الاحزاب:۶)
ترجمہ : ایمان والے اپنی جانوں سے زیادہ نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) سے لگاؤ رکھتے ہیں. اور اس کی عورتیں ان کی مائیں ہیں۔“

* قُلْ اِنْ کَانَ آبَائُکُم وَ اَبْنَاءُ کُمْ وَاخْوَانُکُمْ وَازْوَاجُکمْ وَعَشِیْرَتُکُمْ وَ اَمۡوَالُۨ اقۡتَرَفۡتُمُوۡھَا وَتِجَارَةُ تَخْشَوْنَ کَسَادَھَا وَمَسَاکِنُ تَرْضَوْنَھَا اَحَبَّ اِلَیْکُمْ مِنَ اللهِ وَرَسُوْلِہ وَجِھَادٍ فِیْ سَبِیْلِہ فَتَرَبَّصُوْا حَتّٰی یَاْتِیَ اللهُ بِاَمْرِہ وَاللهُ لَا یَھْدِی الْقَوْمَ الْفَاسِقِیْنَ۔“ (التوبة:۲۴)
ترجمہ:”تو کہہ اگر تمہارے باپ اور بیٹے اور بھائی اور عورتیں اور برادری اور مال جو تم نے کمائے ہیں اور سوداگری جس کے بند ہونے سے تم ڈرتے ہو اور حویلیاں جن کو پسند کرتے ہو ،تم کو زیادہ پیاری ہیں اللہ سے اور اس کے رسول سے اور لڑنے سے اس کی راہ میں تو انتظار کرو یہاں تک کہ بھیجے اللہ اپنا حکم اور اللہ راستہ نہیں دیتا نافرمان لوگوں کو۔“

رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اللہ تعالیٰ کی محبت کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے کہ وہ اللہ کے بھیجے ہوئے رسول ہیں. وہ اخلاق و کردار کے بلند ترین مرتبہ پر فائز ہیں. ہمارا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی خون کا رشتہ تو نہیں ہے لیکن جو رشتہ انکے امتی ہونے کی وجہ سے ہمارا اُن سے ہے وہ کسی بھی خونی رشتے یا مادی شے سے بڑھ کر ہے. رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی دین و دنیا کے ہر معاملہ میں بہترین رہنمائی فراہم کرتی ہے ہم اگر آنکھ بند کر کے کسی کی کہی بات پر یقین کرنا چاہیں یا کسی کو صادق و امین کی بلندیوں پر دیکھنا چاہیں تو رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ دوسری مثال نہ ملے گی. پھر روزِ قیامت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا شفاعت کا وعدہ اور امت کی بخشش کی دعا کرنا. ایسی مہربان اور مشفق ہستی سے کیوں نہ محبت کی جائے؟  اللہ اور رسول کے ساتھ محبت اور ایسا تعلق ہے جس کے بغیر ایمان کبھی مکمل نہیں ہوتا۔خاص طور پر جب تک نبی محترم صلی اللہ علیہ وسلم  کی پوری عزت، احترام، وقار اور محبت دل کے اندر نہ ہو، اسلام اور ایمان کا کوئی تصور نہیں.
اللہ پاک ہم سب کو اپنی اور اپنے پیارے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت عطا فرمائیں اور بہترین اطاعت کرنے والوں میں شامل فرما لیں. اللھم آمین