بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ * لا الہٰ الا اللہ محمّد رسول اللہ * قُلْ هُوَ اللّـٰهُ اَحَدٌ - اَللَّـهُ الصَّمَدُ - لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُوْلَدْ - وَلَمْ يَكُنْ لَّـهٝ كُفُوًا اَحَدٌ

غامدیت


غامدی عقائد بمقابل اسلامی عقائد

2017-06-13 03:40:34 

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
غامدیت کا متفقہ اسلامی عقائد و اعمال سے تقابل
 جاوید احمد غامدی کے عقائد ونظریات امت مسلمہ اور علماء امت کے متفقہ اور اجماعی عقائد و اعمال سے بلکل الگ اور مختلف ہیں انہوں نے "سبیل المومنین" کو چھوڑ کر اس "غیر سبیل المومنین" کو اختیار کر لیاجس کے بارے میں اللہ عزوجل کا ارشاد پاک ہے کہ:۔ 
 وَمَنْ يُّشَاقِقِ الرَّسُوْلَ مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَـهُ الْـهُدٰى وَيَتَّبِــعْ غَيْـرَ سَبِيْلِ الْمُؤْمِنِيْنَ نُـوَلِّـهٖ مَا تَوَلّـٰى وَنُصْلِـهٖ جَهَنَّـمَ ۖ وَسَآءَتْ مَصِيْـرًا (115)
 اور جو کوئی رسول کی مخالفت کرے بعد اس کے کہ اس پر سیدھی راہ کھل چکی ہو اور سب مسلمانوں کے راستہ کے خلاف چلے تو ہم اسے اسی طرف چلائیں گے جدھر وہ خود پھر گیا ہے اور اسے دوزخ میں ڈالیں گے، اور وہ بہت برا ٹھکانا ہے۔
 ذیل میں علماء اسلام اور غامدی صاحب کے عقائد و نظریات کا ایک تقابلی جائزہ پیش کیا جاتا ہے جس کے بعد ہر شخص کے لیئے فیصلہ کرنا آسان ہو جاتا ہے کہ ان میں سے کون راہ حق پر ہے اور کون گمراہ ہے؟
 پہلے غامدی صاحب کا عقیدہ بیان کر کے اس کے بعد امت مسلمہ کا اجماعی عقیدہ پیش کیا جائے گا تاکہ ہر ایک عقیدہ کے موازنہ میں آسانی رہے۔
غامدی: قرآن کی صرف ایک قرات درست ہے باقی سب قراتیں عجم ہیں
اسلامی عقیدہ: قرآن کی سات قراتیں متواتر اور صحیح ہیں
غامدی: قرآن کا ایک نام میزان بھی ہے
اسلامی عقیدہ: میزان قرآن کے ناموں میں سے کوئی نام نہیں ہے۔
غامدی: قرآن کی متشابہ آیات کا بھی ایک واضح اور قطعی مفہوم سمجھا جا سکتا ہے
اسلامی عقیدہ: قرآن کی متشابہ آیات کا واضح اور قطعی مفہوم متعین نہیں کیا جا سکتا۔
غامدی: سورہ نصر مکی ہے 
اسلامی عقیدہ: سورہ نصر مدنی ہے
غامدی: قرآن میں اصحاب الاخدود سے مراد دور نبوی ﷺ کے قریش کے فراعنہ ہیں
اسلامی عقیدہ: اصحاب الاخدود کا واقعہ بعثت نبوہ ﷺ سے بھی بہت پہلے کا ہے۔
غامدی: سورہ لہب میں ابو لہب سے مراد قریش کے سردار ہیں
اسلامی عقیدہ: سورہ لہب میں ابو لہب سے مراد نبی کریم ﷺ کا کافر چچا ہے
 غامدی:اصحاب الفیل کو پرندوں نے ہلاک نہیں کیا تھا بلکہ وہ قریش کے پتھراؤ اور آندھی کی وجہ سے ہلاک ہوئے تھے۔ پرندے صرف ان کی لاشوں کو کھانے کے لیئے آئے تھے۔
 اسلامی عقیدہ: اللہ تعالی نے اصحاب الفیل پر ایسے پرندے بھیجے جنہوں نے انہیں تباہ و برباد کر کے رکھ دیا۔
غامدی: سنت قرآن سے مقدم ہے 
اسلامی عقیدہ؛ قرآن سنت پر مقدم ہے
 غامدی: سنت صرف افعال کا نام ہے اور اس کی ابتداء حضرت محمد ﷺ سے نہیں بلکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام سے ہوتی ہے۔
 اسلامی عقیدہ: سنت میں نبی کریم ﷺ کے اقوال، افعال اور تقریرات(خاموش تائید) سب شامل ہیں اور اس کی ابتداء آپ ﷺ سے ہی ہوتی ہے۔
غامدی: سنت صرف ستائیس اعمال کا نام ہے
اسلامی عقیدہ: سنتوں کی تعداد ہزاروں میں ہے
 غامدی: ثبوت کے اعتبار سے قرآن و سنت میں کوئی فرق نہیں ان دونوں کا ثبوت اجماع اور عملی تواتر سے ہوتا ہے۔
 اسلامی عقیدہ: ثبوت کے اعتبار سے قرآن و سنت میں واضح فرق ہے سنت کے ثبوت کے لیئے اجماع شرط نہیں 
غامدی: حدیث سے کوئی اسلامی عقیدہ یا عمل ثات نہیں ہوتا
اسلامی عقیدہ: حدیث سے بھی اسلامی عقائد و اعمال ثابت ہوتے ہیں۔
 غامدی:حضور اکرم ﷺ نے حدیث کی حفاظت اور اشاعت و تبلیغ کے لیئے کوئی اہتمام نہیں کیا
 اسلامی عقیدہ: رسول اللہ ﷺ نے احادیث کی حفاظت، اشاعت و تبلیغ کے لیئے بہت اہتمام کیا تھا۔
 غامدی: ابن شہاب زہری رحمہ اللہ کی کوئی روایت قبول نہیں کی جا سکتی وہ ایک ناقابل اعتبار راوی ہیں۔
 اسلامی عقیدہ: امام ان شہاب زہری رحمہ اللہ روایت حدیث میں ثقہ و معتبر راوی ہیں اور ان کی روایات قابل قبول ہیں۔
 غامدی: دین کے مصادر قرآن کے علاوہ دین فطرت کے حقائق، سنت ابراہیمی اور قدیم صحائف بھی ہیں۔
 اسلامی عقیدہ: دین و شریعت کے مصادر و مآخذ قرآن و سنت اور اجماع و قیاس (اجتہاد) ہیں۔
غامدی: معروف و منکر کا تعین انسانی فطرت کرتی ہے
اسلامی عقیدہ: معروف و منکر کا تعین وحی الٰہی کرتی ہے۔
غامدی: نبی کریم ﷺ کی وفات کے بعد کسی شخص کو بھی کافر قرار نہیں دیا جا سکتا
 اسلامی عقیدہ: جو شخص دین کے بنیادی امور اور ضروریات دین میں سے کسی ایک کا بھی منکر ہو اسے کافر قرار دیا جا سکتا ہے۔
 غامدی:عورتیں بھی باجماعت نماز میں امام کی غلطی پر بلند آواز سے سبحان اللہ کہہ سکتی ہیں۔
اسلامی عقیدہ: امام کی غلطی پر عورتوں کے لیئے بلند آواز میں سبحان اللہ کہنا جائز نہیں۔
غامدی: زکٰوۃ کا نصاب منصوص اور مقرر نہیں ہے
اسلامی عقیدہ: زکٰوۃ کا نصاب منصوص اور مقرر شدہ ہے۔
غامدی: ریاست کسی بھی چیز کو زکٰوۃ سے مستشنٰی کر سکتی ہے
اسلامی عقیدہ: اسلامی ریاست کسی بھی چیز یا شخص کو زکٰوۃ سے مستشنٰی نہیں کر سکتی
غامدی: بنو ہاشم کو زکٰوۃ دینا جائز ہے
اسلامی عقیدہ: بنو ہاشم کو زکٰوۃ دینی جائز نہیں
 غامدی: اسلام میں موت کی سزا صرف دو جرائم "قتل نفس اور فساد فی الارض" پر دی جا سکتی ہے۔
اسلامی عقیدہ: اسلامی شریعت میں موت کی سزا بہت سے جرائم پر دی جا سکتی ہے
غامدی: دیت کا قانون وقتی اور عارضی تھا
اسلامی عقیدہ: دیت کا قانون اور حکم ہمیشہ کے لیئے ہے
غامدی: عورت اور مرد کی دیت برابر ہے
اسلامی عقیدہ: عورت کی دیت مرد کی دیت سے آدھی ہے
غامدی: اب مرتد کی سزاء قتل باقی نہیں ہے
اسلامی عقیدہ: اسلام میں مرتد کے لیئے قتل کی سزاء ہمیشہ کے لیئے ہے 
غامدی: زانی کنوارا ہو یا شادی شدہ دونوں کی سزاء سو کوڑے ہے۔
اسلامی عقیدہ: شادی شدہ زانی کی سزاء ازروئے سنت سنگساری ہے
غامدی: چور کا دایاں ہاتھ کاٹنا قرآن سے ثابت ہے
اسلامی عقیدہ: چور کا دایاں ہاتھ کاٹنا صرف سنت سے ثابت ہے 
غامدی: شراب نوشی پر کوئی شرعی سزا نہیں ہے
 اسلامی عقیدہ: شراب نوشی کی شرعی سزا موجود ہے جو اجماع امت کی رو سے اسی کوڑے مقرر ہیں 
 غامدی: صرف عہد نبوی ﷺ کے عرب مشرکین اور یہود ونصاریٰ مسلمانوں کے وارث نہیں ہو سکتے
اسلامی عقیدہ: کوئی کافر کسی مسلمان کا کبھی وارث نہیں ہو سکتا
غامدی: عورت کے لیئے دوپٹہ اوڑھنا شرعی حکم نہیں 
 اسلامی عقیدہ: عورت کے لیئے دوپٹہ اور اوڑھنی پہننے کاحکم قرآن کی سورۃ النور کی آیہ نمبر 31 سے ثابت ہے۔
 غامدی: کھانے کی صرف چار چیزیں ہی حرام ہیں :خون، مردار، سؤر کا گوشت اور غیر اللہ کے نام کاذبیحہ
 اسلامی عقیدہ: ان کے علاوہ بھی کھانے کی بہت سی چیزیں حرام ہیں جیسے کتے اور پالتو گدھے کا گوشت وغیرہ وغیرہ
غامدی: کئی انبیاء قتل ہوئے مگر کوئی رسول قتل نہیں ہوا
اسلامی عقیدہ: ازروئے قرآن بہت سے انبیاء و رسل قتل ہوئے
غامدی: عیسی علیہ السلام وفات پا چکے ہیں
 اسلامی عقیدہ: حضرت عیسی علیہ السلام آسمان پر زندہ اٹھا لیئے گئے۔ وہ قرب قیامت کو دوبارہ دنیا میں تشریف لائیں گے اور دجال لعین کو قتل کریں گے
غامدی:یاجوج ماجوج اور دجال سے مراد مغربی اقوام ہیں 
 اسلامی عقیدہ: یاجوج ماجوج اور دجال قرب قیامت کی دو الگ الگ نشانیاں ہیں ۔ احادیث کی رو سے دجال ایک یہودی شخص ہو گا جو دائیں آنکھ سے کانا ہو گا
غامدی: جہاد و قتال کے بارے میں کوئی شرعی حکم نہیں ہے
اسلامی عقیدہ: جہاد و قتال ایک شرعی فریضہ ہے
 غامدی: کافروں کے خلاف جہاد کرنے کا حکم اب باقی نہیں رہا اور اب مفتوح کافروں سے جزیہ نہیں لیا جا سکتا
 اسلامی عقیدہ: کفار کے خلاف جہاد کا حکم ہمیشہ کے لیئے ہےاور مفتوح کفار (ذمیوں) سے جزیہ لیا جا سکتا ہے

اخبار آحاد کے احکام

2017-07-08 17:06:53 

اخبار آحاد سے ثابت ہونے والی چند سنن و احکام:
1۔ وضو میں موزوں پر مسح کرنا
2۔ شہید کی میت کو نہ غسل دینا اور نہ ہی کفن پہنانا
3۔ اذان کا طریقہ
4۔ نماز کی حالت میں قہقہے سے نماز کا ٹوٹ جانا
5۔ عورت پر صلوۃ الجمعہ فرض نہ ہونا
6۔ مسلمان کی میت پر نماز جنازہ پڑھنا
7۔ ماں کی عدم موجودگی میں میت کی دادی کو وراثت میں سے چھٹا حصہ دینا
8۔ وارث کے حق میں وصیت کا ناجائز ہونا
9۔ مرتد کے لیئے قتل کی سزا ہونا
10۔ شادی شدہ زانی کے لیئے رجم کی سزا
11۔ مفتوح پارسیوں سے جزیہ لینا
12۔ نبی کریم ﷺ کے وصال کے بعد قریش کی حکومت ہونا
13۔ نبی کریم ﷺ کا جہاں وصال ہوا وہیں مدفون ہونا
14۔ مردوں کے لیئے ریشم و سونے کا استعمال ممنوع ہونا
15۔ مدینہ منورہ کا حرم ہونا
16۔ قرآن حکیم کی تلاوت کے وقت مقام سجود پر سجدہ کرنا

کیا کبھی کوئی رسول قتل نہیں ہوا

2017-09-15 06:53:03 

غامدی صاحب نے نبی و رسول کے درمیان منصب اور درجے کے لحاظ سے امتیاز کرتے ہوئے یہ گوہرافشانی کی ہے کہ  اللہ عزوجل کے نبیوں کو ان کی قوم بعض اوقات قتل کر دیتی تھی لیکن کبھی کسی قوم کے ہاتھوں کوئی رسول قتل نہیں ہوا۔ اس امر کو وہ ایک اصول ایک عقیدہ اور قانون الٰہی مانتے ہیں کہ نبی کے لیئے وفات پانے یا قتل ہونے کی دونوں صورتیں ممکن ہیں  مگر کوئی رسول کبھی قتل نہیں ہو سکتا۔

چنانچہ وہ لکھتے ہیں کہ :۔
رسولوں کے بارے میں اس اہتمامکا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ زمین پر خدا کی کامل حجت بن کر آتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نبیوں کو ہم دیکھتے ہیں کہ ان کی قوم بارہا ان کی تکذیب ہی نہیں کرتی بلکہ ان کے قتل کے درپے بھی ہو جاتی ہے۔۔۔۔۔لیکن قرآن ہی سے معلوم ہوتا ہے کہ رسولوں کے متعلق اللہ کا قانون اس سے مختلف ہے۔
(میزان حصہ اول ص21 مطبوعہ 1985)

مزید کہتے ہیں کہ
نبی اپنی قوم کے مقابلے میں ناکام ہو سکتا ہے لیکن رسولوں کے لیئے غلبہ لازمی ہے
(میزان جلد اول ص 23 مطبوعہ 1985)

غامدی صاحب کا یہ مؤقف جسے وہ قانون الٰہی بھی قرار دینے سے نہیں چوکتے ، قرآن کے بلکل متضاد ہے ۔ قرآن کے مطابق نہ صرف نبی بلکہ رسول بھی قتل کیئے جاتے رہے ۔ چنانچہ قرآن میں ارشاد الٰہی ہے کہ :۔
اَفَكُلَّمَا جَآءَكُمْ رَسُوْلٌ بِمَا لَا تَهْوٰٓى اَنْفُسُكُمُ اسْتَكْبَـرْتُـمْ فَفَرِيْقًا كَذَّبْتُـمْ وَفَرِيْقًا تَقْتُلُوْنَ (87)

البقرہ
جب تمہارے پاس کوئی رسول وہ حکم لایا جسے تمہارے دل نہیں چاہتے تھے تو تم اکڑ بیٹھے، پھر ایک جماعت کو تم نے جھٹلایا اور ایک جماعت کو قتل کیا۔

اس آیت سے واضح معلوم ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل کے ہاتھوں کئی رسول قتل ہوئے۔

مزید ایک جگہ ارشاد ہے :۔
لَقَدْ اَخَذْنَا مِيْثَاقَ بَنِىٓ اِسْرَآئِيْلَ وَاَرْسَلْنَـآ اِلَيْـهِـمْ رُسُلًا ۖ كُلَّمَا جَآءَهُـمْ رَسُوْلٌ بِمَا لَا تَـهْوٰٓى اَنْفُسُهُـمْ فَرِيْقًا كَذَّبُوْا وَفَرِيْقًا يَّقْتُلُوْنَ (مائدہ:70)

ہم نے بنی اسرائیل سے پختہ وعدہ لیا تھا اور ان کی طرف کئی رسول بھیجے تھے، جب کبھی کوئی رسول ان کے پاس وہ حکم لایا جو ان کے نفس نہیں چاہتے تھے تو (رسولوں کی) ایک جماعت کو جھٹلایا اور ایک جماعت کو قتل کر ڈالا۔

 

اس آیت سے بھی صریح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل نے اللہ عزوجل کے بھیجے ہوئے کئی رسولوں کو قتل کیا۔

مزید سورہ آل عمران میں بنی اسرائیل کے لیئے ارشاد ہوا :۔
اَلَّـذِيْنَ قَالُوٓا اِنَّ اللّـٰهَ عَهِدَ اِلَيْنَآ اَلَّا نُؤْمِنَ لِرَسُوْلٍ حَتّـٰى يَاْتِيَنَا بِقُرْبَانٍ تَاْكُلُـهُ النَّارُ ۗ قُلْ قَدْ جَآءَكُمْ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِىْ بِالْبَيِّنَاتِ وَبِالَّـذِىْ قُلْتُـمْ فَلِمَ قَتَلْتُمُوْهُـمْ اِنْ كُنْتُـمْ صَادِقِيْنَ (آل عمران:183)

وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ اللہ نے ہمیں حکم فرمایا تھا کہ ہم کسی پیغمبر پر ایمان نہ لائیں یہاں تک کہ وہ ہمارے پاس قربانی لائے کہ اسے آگ کھا جائے، کہہ دو مجھ سے پہلے کتنے رسول نشانیاں لے کر تمہارے پاس آئے اور یہ نشانی بھی (لے کر آئے) جو تم کہتے ہو، پھر انہیں تم نے کیوں قتل کیا اگر تم سچے ہو۔

 

 

اس مقام پر واضح طور پر ارشاد ہے کہ بنی اسرائیل کا یہ عقیدہ تھا  کہ اللہ عزوجل نے ان سے عہد کر رکھا ہے کہ وہ کسی ایسے رسول پر ایمان نہ لائیں جو ان کے سامنے قربانی کو آسمانی آگ سے جلا کر نہ دکھائے۔

اللہ عزوجل نے اس دعوے کا یہ جواب دیا ہے کہ اے نبی ﷺ ان سے کہہ دیں اگر یہی بات ہے تو جو رسول ان کے پاس مذکورہ معجزہ لاتے رہے  انہیں تم نے کیوں قتل کیا۔

یہ قرآن مجید کی واضح ترین نصوص ہیں جن کے مطابق رسول بھی قتل ہوتے رہے۔ بالخصوص بنی اسرائیل نے کئی رسولوں کو جھٹلایا اور کئی رسولوں کو قتل کیا۔ مذکورہ دلائل و براہین کے بعد یہ دعویٰ کرنے کی کیا گنجائش بچتی  ہے کہ قانون الٰہی ہی یہی رہا ہے کہ کوئی رسول قتل نہیں ہوا؟
 

منتخب تحریریں