بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ * لا الہٰ الا اللہ محمّد رسول اللہ * قُلْ هُوَ اللّـٰهُ اَحَدٌ - اَللَّـهُ الصَّمَدُ - لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُوْلَدْ - وَلَمْ يَكُنْ لَّـهٝ كُفُوًا اَحَدٌ

اسلام


یہودی عالِم کا قبول اسلام

2017-07-05 10:23:45 

یہود کا کتمان حق
حضرت عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ یہودیوں کے بہت بڑے عالم اور تورات کے حافظ تھے ۔آپ حضرت سیدنا یوسف علیہ السلام کی اولاد میں سے تھے ۔اسلام سے قبل ان کا نام حصین ابن سلام تھا ۔ قبول اسلام کے بعد حضور اکرم ﷺ نے ان کا نام عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ رکھا۔قرآن عظیم میں ان کی شان یوں بیان ہوئی ہے :۔
"اور بنی اسرائیل میں سے کوئی گواہ اس جیسی کتاب پر گواہی دے کر ایمان لائےاور تم تکبر ہی میں رہو۔" (سورۃ الاحقاف آیہ 10)
حضرت عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ بنی قینقاع کے یہود میں سے تھے ۔ جس دن رسول اکرم ﷺ ہجرت فرما کر مدینہ میں حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے مکان میں تشریف لائے اسی دن یہ آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ خود حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے ہی روایت ہے کہ جب حضور اکرم ﷺ مدینہ تشریف لائے تو لوگ جوق در جوق آپ ﷺ کی زیارت کے لیئے آپ کے پاس آنے لگے ۔چنانچہ میں بھی انہی لوگوں میں شامل تھا ۔جونہی میں نے آنحضرت ﷺ کے چہرہ مبارک پر پہلی نظر ڈالی میرے دل نے گواہی دی کہ یہ چہرہ اقدس کسی جھوٹے کا نہیں ہو سکتا !
اس کے بعد میں نے آپ ﷺ کو یہ فرماتے سنا:۔ "لوگو! سلام کو زیادہ سے زیادہ عام کرو۔رشتہ داروں کے حقوق ادا کرو ۔ لوگوں کو کھانا کھلاؤ یعنی اپنا دسترخوان وسیع رکھو ۔اور راتوں کو اس وقت اللہ کا نام لو اور عبادت کرو جب لوگ سو رہے ہوں اور ان اعمال کے نتیجہ میں سلامتی کے ساتھ جنت کے حقدار بن جاؤ۔"
حضرت عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے جیسے ہی حضور اکرم ﷺ کا یہ فرمان سنا فوراََ پکار اٹھے "میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ ﷺ سچے ہیں اور سچائی لے کر آئے ہیں۔"
وہ کہتے ہیں کہ پھر میں اپنے گھر واپس آیا اور اپنے گھر والوں کو بھی اسلام قبول کرنے کی دعوت دی چنانچہ وہ بھی مسلمان ہو گئے ۔مگر میں نے اپنا اور اپنے گھر والوں کا اسلام ابھی ظاہر نہیں کیا۔اس کے بعد میں حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے مکان میں آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی کہ :۔ اے رسول اللہ ﷺ آپ کو معلوم ہے کہ میں سردار ابن سردار ہوں اور خود بھی ان کے مذہب کا سب سے بڑا عالِم ہوں اور سب سے بڑے عالِم کا بیٹا ہوں۔میں چاہتا ہوں کہ میں یہاں ایک طرف پوشیدہ ہو کر بیٹھوں اور یہودی آپ ﷺ کے پاس آئیں، آپ انہیں اسلام کی دعوت دیجئے اس سے قبل کہ انہیں میرے قبول اسلام کا علم ہو میرے بارے میں ان کی رائے پوچھیئے ۔ کیونکہ یہود ایک ایسی قوم ہیں کہ ان کے دل میں کچھ اور ہوتا ہے اور زبان پر کچھ اور۔یہ لوگ پرلے درجے کے جھوٹے اور مکار ہیں اگر انہیں میرے قبول اسلام کا پہلے علم ہو گیا تو یہ مجھ میں ایسے ایسے عیب نکالیں گے جو مجھ میں ہیں ہی نہیں۔لہذا ان کی رائے معلوم کرنے کے بعد ان سے عہد لے لیجئے کہ اگر میں آپ کی پیروی کر لوں اور آپ ﷺ پر نازل کردہ کتاب پر ایمان لے آؤں تو کیا یہ لوگ بھی آپﷺ اور آپ پر نازل کردہ کتاب پر ایمان لے آئیں گے ۔
چنانچہ حضور اکرم ﷺ نے یہود کو بلایا جب وہ آپ ﷺ کے پاس آ گئے تو آپ ﷺ نے فرمایا:۔
اے گروہ یہود! تم پر افسوس ہے اللہ سے ڈرو قسم ہے اس ذات کی جس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں تم جانتے ہو کہ میں حقیقت میں اللہ کا رسول ہوں اور میں تمہارے پاس حق اور سچائی لے کر آیا ہوں ۔ اس لیئے اسلام قبول کر لو۔
اس پر یہودیوں نے کہا ہم آپ ﷺ کے بارے میں کچھ نہیں جانتے۔آپﷺ نے یہی بات تین مرتبہ ان سے کہی اور ہر بار انہوں نے یہی جواب دیا۔آخر آپ ﷺ نے فرمایا :۔
اچھا یہ بتلاو ابن سلام رضی اللہ عنہ تم میں سے کس قسم کا آدمی ہے ؟
یہودیوں نے کہا
وہ ہمارے سردار ہیں اور سردار کے بیٹے ہیں ۔ ہم میں سب سے بڑے عالِم ہیں اور عالِم کے بیٹے ہیں ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ وہ ہم میں سب سے بہترین آدمی ہیں اور بہترین آدمی کے بیٹے ہیں ۔ اللہ کی کتاب تورات کو سب سے زیادہ جاننے والے ہیں ہمارے سردار ہیں ہمارے بزرگ ہیں اور ہم میں سے سب سے افضل ہیں ۔
آپ ﷺ نے فرمایا
اگر وہ اس بات کی گواہی دے دیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں اور اللہ کی کتاب پر ایمان لے آئیں تو کیا تم بھی ایمان لے آؤ گے ؟
یہودیوں نے کہا ہاں ! چنانچہ آپﷺ نے نے ابن سلام رضی اللہ عنہ کو آواز دی کہ باہر آ جاؤ۔جب وہ باہر آ گئے تو آپ ﷺ نے پوچھا اے ابن سلام رضی اللہ عنہ ! کیا تم اس بات کو نہیں جانتے کہ میں اللہ کا رسول ہوں ۔ میرے متعلق تم نے تورات میں خبریں پڑھی ہوں گی جہاں اللہ تعالیٰ نے تم یہودیوں سے عہد لیا ہے کہ تم میں سے جو بھی میرا زمانہ پائے میری پیروی کرے۔
ابن سلام رضی اللہ عنہ نے کہا:۔ ہاں اے گروہ یہود تم پر افسوس ہے اللہ سے ڈرو ۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں تم بخوبی اس بات کو جانتے ہو کہ یہ اللہ کے رسول ہیں اور حق اور سچ لے کر آئے ہیں ۔ بعض روایات میں ان الفاظ کا اضافہ ہے کہ تم تورات میں آنحضرت ﷺ کا نام اور حلیہ بھی لکھا ہوا پاتے ہو۔
یہودی یہ بات سن کر بگڑ گئے اور اپنی بات سے پھر کر انہوں نے ابن سلام رضی اللہ عنہ سے کہا
"تو جھوٹ بولتا ہے تو ہم میں سے خود بھی بدترین ہے اور بدترین کا بیٹا ہے"
اس روایت میں یہودیوں نے "انت اشرنا و ابن اشرنا" کے الفاظ استعمال کیئے جو تیسرے درجے کے بازاری اور عامیانہ الفاظ ہیں 
غرض یہ سن کر ابن سلام رضی اللہ عنہ نے کہا :۔ یا رسول اللہ ﷺ! میں اسی بات سے ڈرتا تھا میں نے آپ ﷺ سے عرض کیا تھا کہ یہ لوگ بڑے جھوٹے ، دغا بازاور کمینہ خصلت ہیں۔
اس کے بعد آپ ﷺ نے یہودیوں کو واپس کر دیا اور عبد اللہ ابن سلام رضی اللہ عنہ نے اپنے قبول اسلام کا اعلان کر دیا۔ اور اس کے بعد اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی 
"اور بنی اسرائیل میں سے کوئی گواہ اس جیسی کتاب پر گواہی دے کر ایمان لائےاور تم تکبر ہی میں رہو۔" (سورۃ الاحقاف آیہ 10)

مبلغ بنیئے فسادی نہیں

2017-06-02 01:43:47 

مبلغ بنیے فسادی نہیں 
 بنی عبد الاشہل کے سردار سعد بن معاذ بہت غصے میں تھا ۔۔۔۔بس بہت ہوگئی اب ہمارے ضعیف الاعتقاد لوگوں کو گمراہ مت کرو ان کو بے وقوف مت بناؤ اور اب آئندہ اس علاقے میں نظر مت آنا ورنہ بہت برا ہو گا اب میری آنکھوں سے جتنی جلدی ممکن ہے دور ہو جاؤ ۔
 بنی عبد الاشہل کا نوجوان سردار سعد بن معاذ ،مبلغ ِ اسلام مصعب بن عمیر کے سامنے سینہ تان کر کھڑا دھمکی دے رہا تھا ۔
سیدنا مصعب بن عمیر نے سعد بن معاذ سے کہا 
ذرا تشریف رکھیے ! ہماری بات سنیے ! اگر آپ کو ہماری بات پسند آگئی تو اسے قبول کر لیجیے گا اور اگر آپ کو ہماری بات پسند نہیں آئی تو ہم خاموش ہو جائیں گے اور آپ کو ایسی بات نہیں سُنائیں گے جو آپ کو سننا پسند نہیں ۔
 سعدبن معاذ نے کہا :تم نے انصاف کی بات کہی اور اپنا نیزہ زمین میں گاڑھ کر وہیں بیٹھ گئے سیدنا مصعب بن عمیر کی بات سننے لگے 
 سیدنا مصعب نے گفتگو شروع کی اسلام کے بنیادی عقائد بتائے قرآن کریم کی کچھ آیات تلاوت کی 
سعد بن معاذ کا چہرہ نورِ ایمان سے تمتمانے لگا اور انہوں نے اسلام قبول کر لیا ۔
قبول اسلام کے فورا بعد وہ اپنے قبلیے میں گئے اور کہا 
اے بنی عبد الاشہل ! میرے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے ؟
قبیلے کے لوگوں نے کہا 
آپ ہمارے سردار ہیں ہم سب آپ کی رائے کا احترام کرتے ہیں 
 سعد بن معاذ نے کہا مجھ پر اس وقت تک تم سے بات کرنا حرام ہے جب تک تم اللہ و رسول ﷺ پر ایمان نہ لے آؤ
شام تک بنی عبد الشہل میں کوئی مرداور عورت ایس انہیں تھا جو ایمان نہ لے آیا ہو ۔۱
 میرے نوجوان دوستو! سوشیل میڈیا پر جب آپ اپنی بات بیان کریں تو آپ کا انداز تبلیغ کرنے کا ہو نا چاہیے اپنے اسلاف کی طرح اور آپس میں تو لازما ۔
 سیدنا مصعب بن عمیر کا انداز اس قدر خوبصور ت تا کہ وہ شخص جو انہیں نکال دینا چاہتا تھا بستی سے وہ خود ان کا گرویدہ ہو گیا یہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک ہم محبت پیش نہ کریں 
دلوں کومسخر کرنا مشکل نہیں بس تھوڑی سی محبت چاہیے 
۱۔ حوالے کے لیے دیکھیے ضیاء النبی جلد دوم صفحہ ۵۸۸ از پیر کرم شاہ الازہری 
تحریر :محمد اسمٰعیل بدایونی

نعمتوں کی شکرگزاری

2017-07-02 14:42:15 

اللہ پاک کی
نعمتوں کی شکر گزاری کیوں اور کیسے؟

اللہ تعالی نے نعمتوں کی بقا و دوام اور زیادتی کے لیے صرف ایک شرط رکھی ہے، جی ہاں! صرف ایک شرط، اور وہ یہ ہے کہ ان نعمتوں کو پاکر اس منعم حقیقی کی احسان شناسی اور شکرگذاری کریں

اللہ تعالی نے نعمتوں کی بقا و دوام اور زیادتی کے لیے صرف ایک شرط رکھی ہے، جی ہاں! صرف ایک شرط، اور وہ یہ ہے کہ ان نعمتوں کو پاکر اس منعم حقیقی کی احسان شناسی اور شکرگذاری کریں

جب ایک شخص آپ پرکوئی معمولی احسان کرتا ہے تو بے ساختہ آپ کے زیرلب ‘‘شکریہ، تھینک یو، جزا ک اللہ خیرا جیسے الفاظ آجاتے ہیں اور اگر اسی نے کسی تنگی سے نکال دیا اورنازک وقت میں کام آیا توھم اس کے احسان شناس بن جاتے ہیں اور اس کے احسان کا اعتراف کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ‘‘نہ جانے کن الفاظ میں آپ کا شکرادا کروں’’ ،‘‘آپ کی شکرگزاری کےلیے ہمارے پاس الفاظ نہیں’’ ، اب ہمیں سوچنا چاہیے کہ یہ معاملہ ایک معمولی انسان کے ساتھ ہوتا ہے اورایسے انسان کے ساتھ جس سے کبھی کبھار ایسا سابقہ پڑتا ہے، تو پھرمالک ارض وسما اوررب العالمین کے ساتھ ہمارا معاملہ کیسا ہونا چاہئے جس کا ارشاد ہے:

وآتاكم من كل ما سألتموه وان تعدوا نعمة الله لا تحصوها (سوره ابراهيم 34)

‘‘اسی نےتمہیں تمہاری منہ مانگی کل چیزوں میں سے دے رکھا ہے، اگرتم اللہ تعالی کے احسان گننا چاہوتو انہیں گن نہیں سکتے’’ –

اس منعم حقیقی کا فرمان ہے: وَأَسْبَغَ عَلَيْكُمْ نِعَمَهُ ظَاهِرَةً وَبَاطِنَةً (سورہ لقمان 20)

‘‘اور تمہیں اللہ تعالی نے اپنی ظاہری وباطنی نعمتیں بھرپور دے رکھی ہیں’’۔

جی ہاں !بندے پراللہ تعالی کی بے شمار، انگنت اور لامتناہی نعمتیں ہیں، قطرہ آب سے پیدا ہونے والا انسان کبھی کچھ نہیں تھا، اللہ تعالی نے اسے نو مہینہ تک رحم مادرمیں رکھا، کرہ ارض پر وجود بخشا، اور بے شمارظاہری وباطنی نعمتوں سے نوازا

وَاللَّـهُ أَخْرَجَكُم مِّن بُطُونِ أُمَّهَاتِكُمْ لَا تَعْلَمُونَ شَيْئًا وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالْأَبْصَارَ وَالْأَفْئِدَةَ ۙ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ (سورہ النحل آیت نمبر78

‘‘اللہ نے تم کو تمہاری ماؤں کے پیٹوں سے نکالا اس حالت میں کہ تم کچھ نہ جانتے تھے، اُس نے تمہیں کان دیے، آنکھیں دیں، اور سوچنے والے دل دیے، اس لیے کہ تم شکر گزار بنو’’ ۔

اس منعم حقیقی نے دیکھنے کے لیے دو آنکھیں دیں، سننے کے لیے دوکان دیا، چلنے کے لیے دو پیر دیا، پکڑنے کے لیے دو ہاتھ دیا، سونگھنے کے لیے ناک دیا، بولنے کے لیے زبان دیا اور سمجھنے اور رطب و یابس میں تمیز کرنے کے لیے عقل و دماغ دیا اور پھر مال و دولت، لباس و پوشاک، گھر و مکان، آب و دانہ ، صحت و عافیت، آل و اولاد اور خوشحال و سعادتمند زندگی عطا کی، ان نعمتوں کی قدر وہی جان سکتا ہے جو ان نعمتوں سے محروم ہو، مال ودولت کی اہمیت جاننا ہوتو فقیروں سے پوچھیے، گھر ومکان کی قیمت جاننا ہو تو بے گھروں اور وقتی خیموں میں پناہ لینے والوں سے پوچھیے، آب و دانہ کی اہمیت جاننا ہوتو فاقہ کشوں سے پوچھیے، آل و اولاد کی نعمت جاننا ہو تو آل اولاد سے محروم کو دیکھیے، صحت و عافیت کی اہمیت جاننا ہو تو بیماروں کی زندگی میں جھانک کر دیکھیے، خوشحال زندگی کی اہمیت جاننا ہو تو بدحالی کی زندگی گذارنے والوں کو دیکھیے، تعجب تو اس بات پر ہے کہ مصائب و شدائد میں بھی اللہ تعالی کی نعمتیں انسان سے جدا نہیں ہوتیں، چنانچہ اگر انسان نے مصیبت میں صبر و شکیبائی کے دامن کو تھامے رکھا تو اس کے گناہ مٹا دئیے جاتے ہیں، اس کے اجر وثواب میں اضافہ کردیا جاتا ہے، اور اس سے بری بری بلائیں دور کردی جاتی ہیں، لیکن ان بنیادی نعمتوں سے اعلی و ارفع اور عظیم نعمت جو اللہ تعالی نے ہمیں عطا کی ہے وہ ایمان کی نعمت ہے، جس سے شرفیاب وہی ہوتا ہے جو اللہ کی نظر میں محبوب ہو، اس نعمت کے سامنے دنیا کی ساری نعمتیں ہیچ ہیں، کیونکہ اس کے بغیر انسانی زندگی تن مردہ بن جاتی ہے، غرضیکہ حضرت انسان سرتاپا اللہ تعالی کے احسانات اور نعمتوں میں ڈوبا ہوا ہے، جی ہاں! یہ نعمتیں انگنت، لاتعداد اور حیطہ تحریر سے باہر ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ہم ان کی حفاظت کیسے کریں؟ انہیں ہم اپنے قابو میں کیسے کریں؟ اللہ تعالی نے ان بے بہا نعمتوں کی بقا و دوام اور زیادتی کے لیے صرف ایک شرط رکھی ہے، جی ہاں! صرف ایک شرط، اور وہ یہ ہے کہ ان نعمتوں کو پاکر اس منعم حقیقی کی احسان شناسی اور شکرگذاری کریں، اللہ تعالی کا فرمان ہے

فَاذْكُرُونِي أَذْكُرْكُمْ وَاشْكُرُوا لِي وَلَا تَكْفُرُونِ (سورۃ البقرہ ۱۵۲

لہٰذا تم مجھے یاد رکھو، میں تمہیں یاد رکھوں گا اور میرا شکر ادا کرو، کفران نعمت نہ کرو ۔

اس کا مطلب یہ نہیں کہ اللہ تعالی ہمارے شکر کا محتاج ہے، وہ ذات بے ہمتا تو اس قدر بے نیاز ہے کہ اگر سب لوگ اس کے نافرمان ہوجائیں تو اس سے اس کی سلطنت میں کوئی کمی واقع نہ ہوگی، اور اگر سب اس کے اطاعت گذار بن جائیں تو اس سے اس کی قوت میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا،اللہ تعالی نے فرمایا:

يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَنتُمُ الْفُقَرَاءُ إِلَى اللَّـهِ ۖ وَاللَّـهُ هُوَ الْغَنِيُّ الْحَمِيدُ ( سورہ الفاطر ۱۵

‘‘لوگو! تم ہی اللہ کے محتاج ہو اور اللہ تو غنی و حمید ہے’’۔

لہذا اگر کوئی شکرگزاری کرتا ہے تو اس کا پورا فائدہ شکرگذار ہی کو ملنے والا ہے، اللہ تعالی کا فرمان ہے

وَمَن شَكَرَ فَإِنَّمَا يَشْكُرُ لِنَفْسِهِ ۖ وَمَن كَفَرَ فَإِنَّ رَبِّي غَنِيٌّ كَرِيمٌ (سورہ النمل 40

‘‘اور جو کوئی شکر کرتا ہے اس کا شکر اس کے اپنے ہی لیے مفید ہے، ورنہ کوئی ناشکری کرے تو میرا رب بے نیاز اور اپنی ذات میں آپ بزرگ ہے’’۔

تاہم اللہ تعالی اپنے بندے کی اطاعت اور شکرگزاری دیکھنا چاہتا ہے، اسی لیے اللہ تعالی نے ہمیں شکرگزاری کا حکم دیا، شاکرین کی تعریف کی، اور اپنے خاص بندوں کو اس صفت سے متصف کیا، چنانچہ اللہ تعالی نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بارے میں فرمایا:

إِنَّ إِبْرَاهِيمَ كَانَ أُمَّةً قَانِتًا لِّلَّـهِ حَنِيفًا وَلَمْ يَكُ مِنَ الْمُشْرِكِينَ ، شَاكِرًا لِّأَنْعُمِهِ ۚ اجْتَبَاهُ وَهَدَاهُ إِلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ (سورہ النمل 120-121)

‘‘واقعہ یہ ہے کہ ابراہیمؑ اپنی ذات سے ایک پوری امت تھا، اللہ کا مطیع فرمان اور یک سو وہ کبھی مشرک نہ تھا،اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے والا تھا اللہ نے اس کو منتخب کر لیا اور سیدھا راستہ دکھایا’’۔

اور حضرت نوح علیہ السلام کی بابت فرمایا

ذُرِّيَّةَ مَنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوحٍ ۚ إِنَّهُ كَانَ عَبْدًا شَكُورًا (سورۃ الاسرا ۳

‘‘ تم ان لوگوں کی اولاد ہو جنہیں ہم نے نوحؑ کے ساتھ کشتی پر سوار کیا تھا، اور نوحؑ ایک شکر گزار بندہ تھا’’۔

اور پھر اللہ تعالی نے اپنا نام بھی شاکر اور شکور رکھا ہے جس سے شکرگزاری کی اہمیت مزید دوبالا ہوتی ہے، شکر کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ اللہ تعالی نے قرآن کریم کے اندر شکر کا ذکر متعدد معانی میں تقریبا 75 مقامات پر کیا ہے۔

مومن نعمتوں میں شکر گذار ہوتا ہے
ایک مومن نعمتوں کو پاکر اللہ تعالی کا شکر ادا کرتا ہے، اور ان نعمتوں کو اللہ تعالی کی اطاعت و فرمانبرداری میں صرف کرتا ہے، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ بروز قیامت اس سے ان نعمتوں کے بارے میں پوچھا جانے والاہے، فرمان الہی ہے

ثُمَّ لَتُسْأَلُنَّ يَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِيمِ سورۃ التکاثر 8

پھر ضرور اُس روز تم سے اِن نعمتوں کے بارے میں جواب طلبی کی جائے گی۔

چنانچہ اللہ تعالی اس کی شکرگزاری کی بنیاد پراس کی نعمتوں میں مزید اضافہ اور زیادتی کرتا ہے ،جب کہ کافر نعمتوں کو پاکر ظلم وعدوان کا شکار ہوجاتا ہے ، نافرمانی اس کی عادت ثانیہ بن جاتی ہے، حالانکہ یہ نعمتیں حقیقت میں اس کے حق میں وبال جان ہوتی ہیں۔

شکرگذاری کے درجات
نعمتوں کی شکرگذاری کے چند درجات ہیں: شکر کا پہلا درجہ یہ ہے کہ انسان رب کریم کی ان نعمتوں کا شکر بجالائےجن سے وہ شبانہ روز مستفید ہورہا ہے۔

شکرگذاری کا دوسرا درجہ یہ ہے کہ انسان مصائب وآلام اور شدائد سے نجات پانے کے بعد اللہ تعالی کا شکر بجا لائے جن سے وہ بذات خود دوچار رہا ہے، یا اس کا کوئی بھائی، لیکن اللہ تعالی نے اسے اپنے فضل وکرم سے نجات بخشی۔

شکرگذاری کا تیسرا درجہ یہ ہے کہ انسان مصائب و آلام میں گھرے رہنے کے باوجود اللہ تعالی کو یاد کرے، اور اس بات پر اللہ تعالی کا شکر ادا کرے کہ اس ذات پاک نے ہمیں بہیترے لوگوں سے اچھا رکھا ہے، اور مصائب پر صبر وشکیبائی اختیار کرنا شکر ہی تو ہے، اسی لیے ایک حدیث میں آتا ہے، صحیح مسلم کی روایت ہے، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

عجبا لأمر المؤمن إن أمره كله خير ، وليس ذاك لأحد إلا للمؤمن ؛ إن أصابته سرّاء شكر ؛ فكان خيراً له ، وإن أصابته ضرّاء صبر ؛ فكان خيراً له . رواه مسلم

‘‘مومن کا معاملہ بھی کیا خوب ہے، اس کے ہر کام میں اس کے لیے بھلائی ہے، اگر اسے خوشحالی نصیب ہو تو اس پر اللہ تعالی کا شکر ادا کرتا ہے، تو یہ شکر کرنا بھی اس کے لیے بہتر ہے، اور اگر اسے تکلیف پہنچے تو صبر کرتا ہے اور یہ صبر کرنا بھی اس کے لیے بہتر ہے۔ یعنی صبر بھی بجائے خود نیک عمل اور باعث اجر و ثواب ہے’’۔

شکرگذاری کیسے کی جائے؟
نعمتوں کا اعتراف کریں

ایک اثر میں حضرت داود علیہ السلام کا قول نقل کیا گیا ہے: ” اے رب میں تیرا شکر کس طرح کروں، جبکہ شکر بجائے خود تیری طرف سے مجھ پر ایک نعمت ہے، اللہ تعالی نے فرمایا: اے داود اب تونے میرا شکر ادا کردیا، جبکہ تونے اعتراف کرلیا کہ اے اللہ میں تیری نعمتوں کا شکر ادا کرنے سے قاصر ہوں” ۔

لہذا سب سے پہلے نعمت کی اہمیت و عظمت کو اپنے دل میں بٹھائیں اور یہ بات ذہن نشیں کرلیں کہ اللہ تعالی کے علاوہ کوئی ذات نہیں جو نعمتیں عنایت کرنے کی طاقت رکھتی ہو۔

اللہ تعالی کی حمد و ثنا بیان کریں

نعمتوں کی شکر گذاری میں یہ شامل ہے کہ ایک بندہ زبان سے اللہ تعالی کی حمد و ثنا بیان کرے، صحیح مسلم کی روایت کے مطابق اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے

إن اللهَ ليرضى عن العبدِ أن يأكلَ الأكلةَ فيحمدَه عليها . أو يشربَ الشربةَ فيحمدَه عليها (صحیح مسلم 2734

‘‘بیشک اللہ تعالی ایسے بندے سے خوش ہوتا ہے جو ایک لقمہ کھائے تو اللہ تعالی کی حمد و ثنا بیان کرے اور ایک گھونٹ پانی پئے تو اللہ کی حمد و ثنا بیان کرے’’۔

انگنت نعمتوں کا ذکر کرتے رہیں

نعمتوں کی شکرگذاری میں یہ بات داخل ہے کہ بندہ مومن اپنے اوپر اللہ تعالی کی انگنت نعمتوں کا ذکر کرتا رہے اور اس کی کرم نوازی کا عاجزانہ اظہار کرے، اللہ تعالی نے انسانوں کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا:

یا أَيُّهَا النَّاسُ اذْكُرُوا نِعْمَتَ اللَّـهِ عَلَيْكُمْ ۚ هَلْ مِنْ خَالِقٍ غَيْرُ اللَّـهِ يَرْزُقُكُم مِّنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ ۚ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ ۖ فَأَنَّىٰ تُؤْفَكُونَ سورۃ الفاطر ۳

‘‘لوگو! تم پر اللہ کے جو احسانات ہیں انہیں یاد رکھو کیا اللہ کے سوا کوئی اور خالق بھی ہے جو تمہیں آسمان اور زمین سے رزق دیتا ہو؟ کوئی معبود اُس کے سوا نہیں، آخر تم کہاں سے دھوکا کھا رہے ہو؟ ’’

اور حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر فرمایا:

من لم يشكرِ القليلَ لم يشكرِ الكثيرَ ، و من لم يشكرِ الناسَ ، لم يشكرِ اللهَ ، و التحدُّثُ بنعمةِ اللهِ شكرٌ ، وتركُها كفرٌ ۔۔۔ (صحيح الترغيب ( 976

‘‘جو شخص تھوڑے پر اللہ کا شکر ادا نہیں کرسکتا وہ زیادتی پر بھی شکرگذار نہیں بن سکتا، جس شخص نے لوگوں کا شکر ادا نہیں کیا تو اللہ تعالی کا بھی شکر ادا نہیں کرسکتا اور اللہ تعالی کی نعمتوں کو بیان کرنا اس کی شکر گذاری ہے، اور اللہ تعالی کی نعمتوں کو بیان نہ کرنا کفران نعمت ہے’’۔

پتہ یہ چلا کہ اللہ تعالی کے انعامات کا تذکرہ اور ان کا اظہار اللہ تعالی کو بہت پسند ہے، لیکن تکبر اور فخر کے طور پر نہیں بلکہ اللہ تعالی کے فضل وکرم اور اس کے احسان سے زیربار ہوتے ہوئے اور اس کی قدرت و طاقت سے ڈرتے ہوئے کہ کہیں وہ ہمیں اپنی نعمتوں سے محروم نہ کردے۔

نعمتوں کا اثرجسم پرظاہرہونا چاہئے

نعمتوں کا ذکرکرنے کے ساتھ ساتھ اس کا اثربھی جسم پرظاہرہونا چاہئےکیوں کہ اللہ تعالی کو یہ بات پسند ہے کہ بندے کے جسم پراپنی نعمتوں کا اثردیکھے، مسند احمد کی روایت ہے کہ ایک صحابی حضورپاک صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضرہوئے اس وقت ان کے جسم پر نہایت ہی گھٹیا اور معمولی لباس تھا ،آپ نے پوچھا کیا تمہارے پاس مال ودولت ہے ،اس نے کہا جی ہاں، دریافت فرمایا :کس طرح کامال ہے ؟ اس نے کہا اللہ نے مجھے ہرقسم کامال دے رکھا ہے ،اونٹ بھی ہیں ،گائے بھی ہیں، بکریاں بھی ہیں، گھوڑے بھی ہیں، اورغلام بھی ہیں، آپ نے فرمایا : اذا آتاک اللہ مالا فلیرعلیک جب اللہ تعالی نے تجھے مال دے رکھا ہے تواس کا اثرتمہارے جسم پرظاہرہونا چاہئے

نعمتوں کا استعمال اللہ کے مکروہات میں نہ کریں

نعمتوں کی شکرگزاری یہ بات داخل ہے کہ ہم ان نعمتوں کا استعمال اللہ تعالی کے مکروہات میں نہ کریں، اللہ تعالی کے تابع وفرمابرداربن جائیں، اس کی رضامندی کاکام کریں اگریہ نعمت مال کی شکل میں ہے تو اس میں سے فقراء ومساکین کا حق اداکریں، رشتے داروں اورقرابتداروں کی مالی اعانت کریں، یتیموں اور بیواؤں کے ساتھ مواسات وغمخواری کریں

اعتدال اور توازن:

نعمتوں کی شکرگزاری میں یہ بات بھی شامل ہے کہ ہم نعمتوں کے استعمال میں اعتدال اور توازن کو مدنظر رکھیں، بطورمثال بجلی اور پانی کو لیجئے جوبندوں پر اللہ تعالی کے احسانات میں سے ایک عظیم احسان ہے،یہ ایسی نعمت ہے جس سے کوئی مخلوق بے نیازنہیں ہوسکتی اللہ تعالی کا ارشاد ہے: وجعلنا من الماء کل شئ حی ‘‘ہم نے پانی سے ہرجاندارچیزکو زندگی بخشا۔

اور سورہ واقعہ میں اللہ تعالی ہمیں اس نعمت کا یوں احساس دلاتا ہے

أَفَرَأَيْتُمُ الْمَاءَ الَّذِي تَشْرَبُونَ أَأَنتُمْ أَنزَلْتُمُوهُ مِنَ الْمُزْنِ أَمْ نَحْنُ الْمُنزِلُونَ لَوْ نَشَاءُ جَعَلْنَاهُ أُجَاجًا فَلَوْلَا تَشْكُرُونَ

کیا تم اس پانی کی طرف نہیں دیکھتے جسے تم پیتے ہو، اِسے تم نے بادل سے برسایا ہے یا اِس کے برسانے والے ہم ہیں، ہم چاہیں تو اسے سخت کھاری بنا کر رکھ دیں، پھر کیوں تم شکر گزار نہیں ہوتے۔

شکر گذاری کے فوائد و ثمرات
ایک انسان جب نعمتیں پاکر اللہ تعالی کا شکر بجا لاتا ہے تو ایسا نہیں کہ اس نے عقل وفطرت کے تقاضے پر عمل کیا اور بس بلکہ اسے شکرگزاری کے بے شمار نمبرات اورفوائد بھی حاصل ہوتے ہیں ۔

رضائے الہی اور بے پناہ اجر وثواب

شکرگزاری کاپہلافائدہ یہ ہے کہ اللہ تعالی اس سے راضی ہوتاہے اور بے پناہ اجروثواب سے نوازتاہے، فرمان الہی ہے:

نِّعْمَةً مِّنْ عِندِنَا ۚ كَذَٰلِكَ نَجْزِي مَن شَكَرَ 
(سورہ القمر35)

اُن کو ہم نے اپنے فضل سے رات کے پچھلے پہر بچا کر نکال دیا یہ جزا دیتے ہیں ہم ہر اُس شخص کو جو شکر گزار ہوتا ہے۔

اور اللہ تعالی نے فرمایا

وَمَا كَانَ لِنَفْسٍ أَن تَمُوتَ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّـهِ كِتَابًا مُّؤَجَّلًا ۗ وَمَن يُرِدْ ثَوَابَ الدُّنْيَا نُؤْتِهِ مِنْهَا وَمَن يُرِدْ ثَوَابَ الْآخِرَةِ نُؤْتِهِ مِنْهَا ۚ وَسَنَجْزِي الشَّاكِرِينَ (سورہ آل عمران145)

‘‘کوئی ذی روح اللہ کے اذن کے بغیر نہیں مرسکتا موت کا وقت تو لکھا ہوا ہے جو شخص ثواب دنیا کے ارادہ سے کام کرے گا اس کو ہم دنیا ہی میں سے دیں گے، اور جو ثواب آخرت کے ارادہ سے کام کرے گا وہ آخرت کا ثواب پائے گا اور شکر کرنے والوں کو ہم اُن کی جزا ضرور عطا کریں گے۔’’

ان آیات سے پتہ یہ چلا کہ اللہ تعالی نے شکرگزاربندوں کے لیے بے پناہ اجروثواب کا وعدہ کیا ہے، اوراللہ تعالی اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔

نعمتوں میں اضافہ

شکرگزاری کا دوسرا فائدہ یہ ہے کہ انسان مزید اللہ تعالی کی نعمتوں سے مالامال ہوتا ہے، اوراس پرنعمتوں کی بارش ہوتی ہے، ارشاد باری تعالی ہے:

وَإِذْ تَأَذَّنَ رَبُّكُمْ لَئِن شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ ۖ وَلَئِن كَفَرْتُمْ إِنَّ عَذَابِي لَشَدِيدٌ 
(سورہ ابراہیم ۷)

‘‘اور یاد رکھو، تمہارے رب نے خبردار کر دیا تھا کہ اگر شکر گزار بنو گے تو میں تم کو اور زیادہ نوازوں گا اور اگر کفران نعمت کرو گے تو میری سزا بہت سخت ہے۔’’

اس آیت کریمہ میں اللہ تعالی نے شکرکی بنیاد پرنعمتوں میں اضافہ کا وعدہ کیا ہے، اوراس زیادتی کی کوئی تحدید بھی نہیں کی ہے، امام بخاری رحمہ اللہ تاریخ میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں کہ حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

جس شخص کو پانچ چیزوں کی توفیق مل گئی، وہ پانچ چیزوں سے محروم نہیں رہ سکتا ،ان میں سے ایک یہ ہے کہ جسے شکرکی توفیق مل گئی وہ (نعمتوں میں ) زیادتی سے محروم نہیں رہ سکتا ،

اسی لیے فضیل بن عیاضی رحمہ اللہ علیہ فرماتے ہیں

من عرف نعمۃ اللہ بقلبہ وحمدہ بلسانہ لم یستتم ذلک حتی یری الزیادۃ

‘‘جس نے اللہ تعالی کی نعمت کو اپنے دل سے پہچانا اور اپنی زبان سے اس کی حمد وثنا بیان کی، تووہ ضروراپنی نعمتوں میں زیادتی دیکھے گا’’ ۔

عذاب سے حفاظت

شکرگزاری کا تیسرا فائدہ یہ ہے کہ اللہ تعالی مخلوق سے عذاب کو روک لیتا ہے، اللہ تعالی کا فرمان ہے

مَّا يَفْعَلُ اللَّـهُ بِعَذَابِكُمْ إِن شَكَرْتُمْ وَآمَنتُمْ ۚ وَكَانَ اللَّـهُ شَاكِرًا عَلِيمًا (سورہ النساآیت نمبر147)

‘‘ آخر اللہ کو کیا پڑی ہے کہ تمہیں خواہ مخواہ سزا دے اگر تم شکر گزار بندے بنے رہو اور ایمان کی روش پر چلو اللہ بڑا قدر دان ہے اور سب کے حال سے واقف ہے’’،

تاریخ شاہد ہے کہ اگراللہ تعالی نے کسی قوم پرعذاب بھیجا ہے تو یہ دراصل اس کی ناشکری کا نتیجہ رہاہے،لیکن جس قوم نے اللہ تعالی کی شکرگزاری کی ہے،اس کی مرضیات کے مطابق زندگی گذارا ہے اور شریعت اسلامیہ کی پاسداری کی ہے تو وہ دنیا وآخرت دونوں میں امن وامان اور سعادتمند زندگی سے ہمکنار ہوئی ہے ۔

رب کریم کے بے پایاں الطاف عنایات کا کیاکہنا کہ اسی ذات نے انسان پر ہرطرح کی نعمت نچھاور کی اور صرف بندے کی شکرگزاری کے نتیجے میں مزید دینے کاوعدہ کیا لیکن آہ انسان کس قدر ناشکرا واقع ہواہے کہ جس مالک کی روٹی کھا رہا ہے،اسی کی نمک حرامی پر تلا ہوا ہے، جس ذات کی نعمتوں میں پل رہا ہے اسی کے خلاف قدم اٹھا رہا ہے، حالانکہ اگر انسان کو اللہ تعالی کی معمولی ایک نعمت کا صحیح اندازہ ہو جائے تو کبھی ناشکری کی جرات بھی نہ کر سکے، ایک مرتبہ ابن سماک خلیفہ ہارون رشید کے پاس آئے اور انہیں نصیحت کی، نصیحت سن کر ہارون رشید آب دیدہ ہو گئے، اس کے بعد خلیفہ نے پینے کے لیے پانی منگوایا،ابن سما ک نے کہا: امیرالمومنین! اگر آپ پیاس سے بے تاب ہوں اور ایک گلاس پانی پینے کے لیےدنیا اور اس کے اندر کی ساری چیزیں چکانا پڑے تو کیا آپ اس کے لیے تیار ہوجائیں گے؟ ہارون رشید نے کہا : جی ہاں ! ابن سماک نے کہا :ا
للہ برکت دے پی لیجئے

جب پانی پی چکے تو ابن سماک نے کہا: امیرالمومنین! ابھی آپ نے جو پانی پیا ہے اگر وہ پیشاب کے راستے میں رک جائے اور اسے نکالنے کے لیے دنیا اور اس کے اندر کی ساری چیزیں چکانا پڑے تو کیا آپ چکا دیں گے؟ ہارون رشید نے کہا: ہاں! بالکل، تب ابن سماک نے کہا: فما تصنع بشیء شربۃ ماء خیر منہ تو آخر اس حکومت کا کیا فائدہ جس سے بہتر ایک گھونٹ پانی ہو۔

رب کریم نے ہمیں بے شمار، انگنت اور لامتناہی نعمتوں سے مالامال کیا ہے جن سے ہم ہر وقت، ہر آن اور ہر لمحہ فائدہ اٹھا رہے ہیں، پلک جھپکنے کے برابر بھی ہم اس کی نعمتوں سے بے نیاز نہیں ہوسکتے، اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم ذات باری تعالی کا شکر ادا کریں، اس کے احکام کی تابعداری کریں اور ان نعمتوں کو خیر کے کام میں صرف کریں۔ اللہ تعالی ہمیں اس کی توفیق دے۔

شرک، بدگمانی اور جھوٹے الزام کی قباحت

2017-08-07 06:43:38 

 
بے شک سب سے عظیم ترین گناہ شرک ہے۔ سب گناہ معاف ہو سکتے ہیں لیکن شرک کی کوئی معافی نہیں اس کا مرتکب ہمیشہ ہمیشہ کے لیئے جہنمی ہے جہنمی ہے جہنمی ہے اور اس میں زرہ بھر شک و شبہہ کی کوئی گنجائش موجود نہیں بلکہ جو مشرک کے عذاب اور جہنمی ہونے میں شک کرے وہ خود بھی کافر ہے !

چنانچہ حضرت لقمان علیہ السلام اپنے بیٹے کو کی گئی نصیحتوں میں سے ایک سب سے اہم نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ :۔

٭٭ لَا تُشْرِكْ بِاللَّهِ ۖ إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ
(سورہ لقمان)

ترجمہ :۔ اللہ کے ساتھ شریک نہ ٹھہراؤ۔ بے شک شرک ظلم عظیم ہے۔

بے شک شرک ایسا گناہ ہے جو تمام گناہوں پر بھاری ہے۔ اگر ایک میزان میں باقی تمام گناہ اور دوسری طرف صرف شرک کا گناہ رکھا جائے تو شرک کے گناہ کا پلڑہ سب گناہوں پر بھاری ہو گا۔
---------------------------------------------------------------------------------------------------
اسلام اخوت و بھائی چارے کا درس دیتا ہے ۔ اور اپنے مومن بھائیوں سے بدگمانی، تجسس اور اس کی غیبت ایسی چیزیں ہیں جو پیغام اخوت و محبت کے لیئے زہر قاتل کی سی حثیت رکھتی ہیں ۔ اس لیئے قرآن عظیم  میں اللہ عزوجل نے  مومن کے متعلق زیادہ گمان   کرنے سے منع فرمایا ۔ کیونکہ بعض اوقات یہ انسان دوسرے کے متعلق وہ گمان کر لیتا ہے جو اس میں ہے ہی نہیں ۔ چنانچہ اللہ عزوجل فرماتا ہے کہ :۔

٭٭ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِّنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ ۖ وَلَا تَجَسَّسُوا وَلَا يَغْتَب بَّعْضُكُم بَعْضًا ۚ أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَن يَأْكُلَ لَحْمَ أَخِيهِ مَيْتًا فَكَرِهْتُمُوهُ ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ ۚ إِنَّ اللَّهَ تَوَّابٌ رَّحِيمٌ
(سورۃ الحجرات)

ترجمہ :۔ اے ایمان والو! بہت سی بدگمانیوں سے بچتے رہو، کیوں کہ بعض گمان تو گناہ ہیں، اور ٹٹول بھی نہ کیا کرو اور نہ کوئی کسی سے غیبت کیا کرے، کیا تم میں سے کوئی پسند کرتا ہے کہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھائے سو اس کو تو تم ناپسند کرتے ہو، اور اللہ سے ڈرو، بے شک اللہ بڑا توبہ قبول کرنے والا نہایت رحم والا ہے۔
بدگمانی، دوسروں کے معاملات میں بے جا تجسس اور غیبت کی قباحت بیان کرتے ہوئے ان گناہوں سے باز آنے  اور ان گناہوں کی بابت اللہ عزوجل سے ڈرنے کا حکم دیا گیا ہے ۔ اور ساتھ ہی ساتھ ان گناہوں سے توبہ کرنے والے کو بخشش اور رحم کی بشارت سنائی گئی ہے !
--------------------------------------------------------------------------------------------------

یہ بات اخلاق سے کس قدر گری ہوئی ہے کہ انسان کوئی گناہ یا خطا کرے  خود اور اس کا الزام دوسرے کے سر لگا دے ۔ چنانچہ اس کی قباحت کو بیان کرتے ہوئے اللہ عزوجل کا ارشااد پاک ہے کہ :۔
٭٭ وَمَن يَكْسِبْ خَطِيئَةً أَوْ إِثْمًا ثُمَّ يَرْ‌مِ بِهِ بَرِ‌يئًا فَقَدِ احْتَمَلَ بُهْتَانًا وَإِثْمًا مُّبِينًا۔
 (النساء)

ترجمہ:۔ اور جو شخص کوئی گناه یا خطا کر کے کسی بے گناه کے ذمے تھوپ دے، اس نے بہت بڑا بہتان اٹھایا اور کھلا گناه کیا

انسان اگر کوئی خطا یا گناہ کرتا ہے تو اس میں اتنی اخلاقی جرات ہونی چاہیئے کہ وہ اپنے اس گناہ یا  خطا کا اعتراف کر سکے ۔ اپنی خطاؤں پر دوسروں کو مورد الزام ٹھہرانا اخلاق سے گری ہوئی حرکت ہے ۔
----------------------------------------------------------------------------------------------------
کسی بے گناہ پر الزام لگانے سے اس کے دل پر کیا گزرتی ہے یہ وہی جانتا ہے ۔ یہ اس قدر گھناؤنا اور گھٹیا فعل ہے جس کی جس قدر مذمت کی جائے کم ہے ۔ کسی انسان کو ایسے فعل کا مرتکب ٹھہرانا جو اس نے کبھی کیا ہی نہ ہو اخلاقی پستی کی بدترین مثال ہے ۔ اس گھناؤنے فعل کی مذمت میں رسول اللہ ﷺ کا ارشاد پاک ہے کہ :۔

 

٭٭ وَمَنْ قَالَ فِى مُؤْمِنٍ مَا لَيْسَ فِيهِ أَسْكَنَهُ اللَّهُ رَدْغَةَ الْخَبَالِ حَتَّى يَخْرُجَ مِمَّا قَالَ
 (سنن ابی داؤد:3599)

ترجمہ :۔ اور جس نے کسی مؤمن کے بارے میں کوئی ایسی بات کہی جوا س میں نہیں تھی تو اللہ اس کا ٹھکانہ جہنمیوں میں بنا ئے گا یہاں تک کہ اپنی کہی ہوئی بات سے تو بہ کر لے

یعنی کسی بے گناہ پر جھوٹا الزام لگانا اس قدر قبیح فعل ہے کہ جب تک وہ اس سے توبہ نہ کر لے اس کا ٹھکانہ جہنم ہے ۔ یہاں مقام غور ہے ان لوگوں کے لیئے جو دوسروں پر بلاوجہ  اس کام کا الزام لگاتے ہیں جو کبھی انہوں نے کیا ہی نہیں ہوتا اور نہ ہی ایسا کرنے کا سوچا تک ہوتا ہے !!!


 

  

منتخب تحریریں