بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ * لا الہٰ الا اللہ محمّد رسول اللہ * قُلْ هُوَ اللّـٰهُ اَحَدٌ - اَللَّـهُ الصَّمَدُ - لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُوْلَدْ - وَلَمْ يَكُنْ لَّـهٝ كُفُوًا اَحَدٌ

عصر حاضر


مذہب انسان کا ذاتی معاملہ؟

2017-05-29 04:38:07 

آج کل مختلف فورمز پر یہ بات تواتر سے پڑھنے کو مل رہی ہے کہ '' مذہب انسان کا ذاتی معاملہ ہے '' اس کے ساتھ یہ بیان دینے والے اس بات کا اعتراف بھی کرتے ہیں کہ '' اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔'' لیکن اس کے ساتھ ساتھ ان کا خیال یہ بھی ہے کہ '' جب کسی انسان نے کلمہ پڑھ لیا وہ مسلمان ہے، گناہ ثواب جزا سزا سب کچھ اللہ اور اس انسان کا معاملہ ہوگیا۔ ''
ہے نا دلچسپ بات ہے کہ ایک ہی لمحہ میں '' اسلام '' کو مکمل ضابطہ حیات کہا جاتا ہے اور دوسری ہی لمحہ اس کی نفی کی جاتی ۔
آج کے دور کر بلا شبہ دورِ فتن کہنا مناسب ہے۔ آئے روز نت نئے نظریات سامنے آتے ہیں جو عقل کو دنگ کر دیتے ہیں۔۔۔
لیکن جب ان کی گہرائی کو جانچا جائے تو ہم آسانی سے پتا چلا سکتے ہیں کہ یہ کوئی نیا نظریہ نہیں بلکہ ان کے ڈانڈے پرانے نظریات سے جا ملتے ہیں۔
کسی بھی صحت مند معاشرے کے لیے اصول و ضوابط اور اخلاقی اقدار بنیاد کی حثیت رکھتے ہیں ۔ انسان کے بنائے ہوئے قوانین کسی بھی لحاظ سے مکمل قرار نہیں دئیے جا سکتے کہ یہ انسان کی فطرت کا مکمل احاطہ نہیں کرتے، ایسے میں مذہب ہی ہے جو ایک فرد کو زندگی گزارنے کے رہنما اصول و ضوابط فراہم کرتا ہے اس کے اندر احساسِ ذمہ داری پیدا کرتا ہے اور اسے اس کےحقوق کے ساتھ ساتھ فرائض یاد دلاتا ہے کیونکہ مذہب صرف اصول و ضوابط یا قانون کا نام نہیں ہے بلکہ اپنے کردار و عمل کو مذہب کے مطابق ڈھال لینے کا نام ہے۔
ہمارے سامنے ایسے معاشروں کی مثالیں موجود ہیں جنہوں نے مذہب کو '' ذاتی '' معاملہ کہا لیکن کیا ان معاشروں کو مثالی کہا جاسکتا ہے؟؟؟
ان معاشروں کی مثال ایسی ہے جیسے کہ کچرے کے ڈھیر کے اوپر خوشنما قالین ڈال دیا جائے ۔
'' تھیوکریسی '' کے ردِ عمل میں اپنایا جانے والا نظریے سیکولر ازم کے بانی ہولی اوک کے مطابق ''سیکولر ازم نام ہے اس ضابطے کا جسکا تعلق دنیا سے متعلق فرائض سے ہے ، جسکی غایت خالصتاََ انسانی ہے اور یہ بنیادی طور پر ان افراد کے لیے ہے جو الہیات کو نامکمل یا ناکافی ، ناقابلِ اعتبار یا فضول اور بے معنی سمجھتے ہیں۔''
دوسرے الفاظ میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ سیکولر ازم اس وقت بطور نظریہ سامنے آتا ہے جب انسان مذہب سے غیر متعلق ہونا شروع کردے۔ اسے مذہب میں اپنے مسائل کا حل نہ ملے یا پھر وہ یہ سمجھے کہ مذہبی عقائد ناقابلِ یقین ہیں ۔
اسی حقیقت کا ادراک کرتے ہوئے امریکی مفکر رابرٹ گرین نے سیکولر ازم کو '' انسانیت کا مذہب قرار دیا ۔''
اسی سیکولر ازم کی بنیاد پر قائم جمہوری حکومتیں جن کے نزدیک صرف اپنے ملک میں بسنے والے انسان کو ''انسانیت'' کے پیمانے پر پورا اترتے ہیں ، اور باقی دنیا کے انسان اس پیمانے سے خارج ہیں جس کا ثبوت بوسنیا، شام، فلسطین، کشمیر، برما میں ہونے والے وحشیانہ مظالم ہیں ۔ پوری دنیا کو ''انسانیت'' کا درس دینے والوں کے ہی ہاتھوں انسانیت تڑپ ، سسک اور مظالم کا شکار ہے۔ کیا یہ حیران کن بات نہیں؟؟؟
اسلام اس دنیا کو آخرت کی تیاری کے لیے '' کھیتی '' قرار دیتا ہے جس کا بدلہ فرد کو بعد از موت ملے گا۔ اسلیے مسلمانوں کے ہاں دین اور دنیا میں کوئی تفریق نہیں ہے ۔ مسلمانوں کو ایسے ہر کام سے منع کیا گیا ہے جس کے لیے اسلامی شریعت اجازت نہیں دیتی اور اسی طرح حکومت کے معاملات بھی کسی کی شخصی خواہش کے مطابق نہیں چلائے جاتے بلکہ اللہ کے احکامات کے مطابق چلائے جاتے ہیں۔
اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔ جو انسان کی معاشرتی، اخلاقی ، معاشی، سیاسی ہر پہلو سے رہنمائی کرتا ہے۔
اب یہ بہت عجیب بات ہوگی کہ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہو لیکن اس کا اطلاق صرف فرد کی ذات تک محدود رہے اور وہ زندگی کے باقی شعبوں کے لیے '' سیکولر ازم '' کا سہارا لے۔۔۔۔
مثل مشہور ہے جو زہر سے نہ مرے اسے شہد سے مارو۔۔۔ آج اسلام کے مکمل ضابطہ حیات قرار دینے والے جب اس میں تڑکہ لگاتے ہیں کہ '' مذہب انسان کا ذاتی معاملہ ہے '' تو اسکا مطلب اس کے سوا کچھ نہیں کہ وہ سیکولر ازم کی کی زہریلی گولی کو انسانیت کے شہد میں لپیٹ کر کھانے کا کہہ رہے ہیں۔
آج اگر کچھ مفاد پرست عناصر مسجد منبر کے تقدس کا خیال کئے بغیر مسلمانوں میں تفرقہ پیدا کر رہے ہیں تو اس کے ذمہ دار '' دینِ اسلام '' ہر گز نہیں بلکہ یہ مفاد پرست عناصر ہیں جو اپنی ذاتی مفاد اور اسلام دشمنوں کی ایما پر ایسا کر رہے ہیں۔
دین اسلام سے زیادہ انسانوں کی عظمت اور انسانیت کی بھلائی اور محبت کی بات کرنے والا کون ہے؟؟
"سورہ المائدہ کی آیت ۳۲ ترجمہ : 'ایک انسان کا ناحق قتل پوری انسانیت کا قتل کرنے کے مترادف ہے۔''
ضرورت صرف اس کی ہے کہ ہم اسلام کو اپنی ذاتی اور اجتماعی زندگی کا حصہ بنائیں۔
اللہ تعالی ہمیں اسلام کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا کرے ۔ آمین

زندگی کیسے گزاریں

2017-07-03 14:01:26 

یہ تحریر ان بچوں اور بچیوں کے لیے ہے جو لڑکپن سے جوانی میں داخل ہورہے ہوتے ہیں. یعنی ٹین ایجر بچے. جن کی عمریں 14 سے 19 کے درمیان ہیں.
عموماً جو بچے اس عمر سے گزر رہے ہوتے ہیں. ان میں آنے والی تبدیلیاں ان کے ذہنی خیالات کو یکسر بدل رہی ہوتی ہیں. جب بچے اور بچیاں لڑکپن سے جوانی میں داخل ہورہے ہوتے ہیں تو قدرتی طور پر ان کے چہرے ہشاش بشاش یعنی تروتازہ ہوتے ہیں. بچوں کو بار بار آئینہ دیکھنا اور سراہے جانا اچھا لگتا ہے. وہ اپنے لیے ہر خوبصورت چیز , لباس وغیرہ کا انتخاب کرنا چاہتے ہیں اور اکثر کرتے بھی ہیں. اپنے متعلق منفی باتیں یا نصیحتیں ذرا کم ہی سنتے ہیں. والدین انہیں کم عمر بچوں کی ٹریٹ کرتے ہیں جبکہ وہ خود کو میچور سمجھتے ہیں. لہذا اپنے فیصلوں میں شراکت انہیں ناگوار گزرتی ہے اور اکثر اسکا برملا اظہار بھی کر دیتے ہیں. دوست احباب بنانے کا بڑا کریز ہوتا ہے. اس کے ساتھ ساتھ سوشل لائف میں انٹرسٹڈ نظر آتے ہیں. اکثر اس عمر کے بچوں کو شاعری سے بھی لگاؤ ہوتا ہے. پڑھائی سے توجہ ہٹتی تو نہیں لیکن پڑھائی کرنے کے طریقے بھی تبدیل کرنا چاہتے ہیں. مثلاً کمرہ بند کر کے اکیلے پڑھنا چاہتے ہیں تاکہ گھر والا کوئی انہیں ڈسٹرب نہ کرے یا دوستوں کے ساتھ گروپ سٹڈیز کرنا چاہتے ہیں. الیکٹرانک اشیاء میں دلچسپی بڑھنے لگتی ہے. موبائل, ٹیبلیٹ, کمپوٹر وغیرہ کی ڈیمانڈ کرنے لگتے ہیں. اگر منع کیا جائے تو بُرا مان جاتے ہیں. موبائل کا استعمال تو اس قدر ضروری سمجھتے ہیں گویا یہ جوانی کا سرٹیفیکیٹ ہے. گھر میں والدہ یا والد کا موبائل اکثر ان کے ہاتھ میں ہوتا ہے. پاکٹ منی بچا بچا کر ایزی لوڈ کرواتے ہیں تاکہ دوستوں سے رابطہ رہے. اس عمر کے بچے چونکہ جوانی کی حدود میں داخل ہورہے ہوتے ہیں تو مخالف جنس میں کشش محسوس کرنے لگتے ہیں. یہ ایک قدرتی امر ہے. اسی لیے اسلام جلدی شادی کی ترغیب دیتا ہے. خیر یہ الگ موضوع ہے. انہیں موبائل میسج اور سوشل میڈیا جیسی سہولیات میسر ہوتی ہیں. تورابطہ میں آسانی رہتی ہے. اور آگے کیا ہوتا ہے سب واقف ہیں. اچھا یہ سب آپکو نصیحتیں کرنے کے لیے نہیں لکھا جارہا. بلکہ طرزِ زندگی کو تھوڑا سا بہتر کیسے بنایا جاسکتا ہے اس متعلق کچھ مشورے یا تجاویز دینے کے لیے یہ موضوع چُنا گیا. اس عمر کے بچے اور بچیاں اگر کچھ باتوں کو سنجیدگی سے لیں تو بامقصد زندگی گزار سکتے ہیں. اور بامقصد زندگی تو سب ہی کی خواہش ہوتی ہے.

سب سے پہلے تو بچوں اور بچیوں کو چاہیے کہ اپنے گھر کے حالات سے واقفیت رکھیں آپکے والد صاحب یا سربراہ خاندان کس محنت سے کام کرتے ہیں ان کے کام کرنے کا طریقہ, انکے اوقاتِ آرام کا جائزہ لیں. والدہ کس طرح گھر کو مینج کرتی ہیں. انکی دن بھر کی مصروفیات کیا ہیں. آیا وہ آرام بھی کرتی ہیں یا نہیں. اس سے آپ کے دل میں والدین کی قدروقیمت اور ان کے لیے عزت و احترام میں اضافہ ہوگا. ساتھ ہی ساتھ آپ یہ سبق بھی سیکھ جائیں گے کہ اپنی چادر دیکھ کر پاؤں پھیلانے چاہیے. بلاوجہ کی فرمائشیں آپ کے والدین کے لیے مشکلات میں اضافہ کرسکتی ہیں. گھر کا ماہانہ بجٹ خراب ہوسکتا ہے. والدین کو دن بھر کام میں جُتا دیکھ کر آپ میں احساسِ ذمہ داری پیدا ہوگا. سادہ لیکن صاف ستھرا اور ساتر لباس زیب تن کیجیے یہ آپکی عظمت و وقار میں اضافہ کرے گا. بار بار آئینہ دیکھنے سے گریز کریں کہ اس سے غرورو تکبر جیسی کیفیات کا اندیشہ ہے اور غرورو تکبر اللہ کو سخت ناپسند ہے. بچے اپنے ساتھ دن بھر پیش آنے والے واقعات اپنے والد صاحب سے شئیر کریں اور بچیاں والدہ کے ساتھ. اگر روزانہ کی بنیاد پر وقت نہ مل سکے تو ویک اینڈ پر اپنے والدین سے اپنے معمولات ضرور ڈسکس کریں. کوئی بھی نئ یا انہونی بات یا واقعہ دیکھیں تو ان سے اس بارے میں ضرور بات کریں. کیونکہ والدین سے بہتر کوئی دوست نہیں ہوتا. اور اگر وہ آپ کے ساتھ پیش آنے والے حالات و واقعات سے واقف ہونگے تب ہی آپ کو درپیش مصائب سے محفوظ رکھ پائیں گے.

اپنے دوستوں کو والدین سے ضرور ملوایے اس سے والدین کے دل میں آپ کے دوستوں کی قدر بڑھے گی اور وہ آپکو دوستوں سے ملنے سے نہیں روکیں گے. دوست بھی اس طرح آپ کے والدین کی عزت کریں. پڑھائی پر فوکس کرنا ضروری ہے لیکن کمرہ بند ہوکر پڑھنے سے مسائل ہوسکتے ہیں. ایک تو اگر بند کمرے میں آپکی طبیعت خراب ہوجائے تو آپ کے لیے مشکلات ہوجائیں گی. اسی طرح تنہائی میں آنے والے خیالات بھی آپکو پریشان کرسکتے ہیں. اگر آپ دروازہ کھلا رکھتے ہیں تو اردگرد کے حالات سے بھی واقف رہیں گے. والدین کو کسی چیز کی ضرورت ہو تو وہ مہیا کرسکتے ہیں اور آپکو کوئی ضرورت ہو تو وہ بھی پوری کر سکتے ہیں. اور فضول خیالات سے بھی نجات مل جائے گی. کمبائن یا گروپ سٹڈیز کے لیے ان دوستوں کا انتخاب کریں جن کو آپکے والدین پسند کرتے ہیں. الیکٹرانک اشیاء موبائل, لیپ ٹاپ, کمپیوٹر وغیرہ کا استعمال مخصوص اوقات میں کریں. زیادہ استعمال نظر کی خرابی کا باعث بنتا ہے اور وقت کا بھی ضیاع ہے. سوشل میڈیا پر جان پہچان کے لوگوں کو دوست بنایے. انجان لوگوں سے اپنی ذاتیات ڈسکس مت کیجیے. تصاویر اپ لوڈ کرنے یا ان باکس سے گریز کیجیے. کہ اکثر انجان لوگ انکا غلط استعمال کر سکتے ہیں. کسی کی ذات سے متاثر نہ ہوں. کسی پر اندھا اعتماد مت کریں. کوئی شخص کامل نہیں ہوتا خود میں ایسے اوصاف پیدا کیجیے کہ ہر دل عزیز کہلائے جائیں. اسلامی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کی کوشش کیجیے. اپنے کردار کو ہمیشہ مضبوط رکھیے. اپنی ذات کی حدود میں کسی کو داخلہ کی اجازت نہ دیں. اپنی عزت نفس کو سب سے پہلے رکھیے. اپنی عزت وعصمت کی امانت کی طرح حفاظت کریں. کسی کو اپنی ذات پر بات کا موقع نہ دیں. اخلاقیات کا دامن کبھی نہ چھوڑیں. کہ عمدہ اخلاق سے دشمن کو بھی زیر کیا جاسکتا. اپنے مقصد حیات کو اللہ کی رضا کے مطابق بنایے. عبادات کو ان کے اوقات پر ادا کریں. رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی ہمارے لیے بہترین اسوہ حسنہ ہے. سیرت پاک کا مطالعہ ضرور کریں. کتابیں بہترین دوست ہوتی ہیں. اچھی کتابوں کا مطالعہ کریں. دنیاوی زندگی کو ایسے گزارنے کا عزم کریں کہ مقصود رضائے ربانی ہو. اللہ پاک تمام بچوں اور بچیوں کی حفاظت فرمائے اور انہیں باکردارو باعمل زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے.

آمین

نشہ حرام ہے ۔۔۔

2017-07-08 06:54:53 

نشہ حرام ہے۔۔۔ کوئی بھی ایسی چیز جو کہ آپ کی جسمانی و ذہنی فعالیت پر اثر انداز ہو کر آپ کی فعالیت کو بدل دے نشہ کہلاتی ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ارشاد نبوی ﷺ ہے ''ہر نشہ آور چیز 'خمر' ہے او رہر نشہ آور چیز حرام ہے۔'' حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک جمعہ کے خطبے میں خمر کے معنی کسی چیز کو ڈھانپ دینا ہے، اور خمر سے مراد ہر وہ چیز ہے جو عقل پر پردہ ڈالتی ہے۔ ہمارے معاشرے میں نشے کی بہت سی اقسام پائی جاتی ہیں ۔ جن میں سرفہرست عاشقی و معشوقی کا نشہ ہے ، جسمیں بعض اوقات فریق واحد اور بعض اوقات دونوں '' گوڈے گٹے '' سمیت غرق ہوتے ہیں لیکن اس عاشقی و معشوقی کو اذنِ رشتہ ازدواج ملنے کے بعد ذمہ داری کے جھٹکوں کے بعد عاشقی و معشوتی کا نشہ ہرن ہوجاتا ہے۔ کچھ لوگوں کو اپنی دولت کا نشہ بھی ہوتا ہے اور وہ اس نشے میں اتنے مدہوش ہوتے ہیں کہ اپنے جیسے انسان کو انسان سمجھنے سے انکاری ہوتے ہیں اور اسی طرح کچھ افراد کے سر پر اپنی طاقت ، عہدے، اقتدار اور اختیار کا نشہ ہوتا ہے جس کے زیرِ اثر انسان ان کے لیے کیڑے مکوڑوں کی حثیت رکھتا ہے جسے وہ کسی بھی طرح استعمال اور کچل سکتا ہے۔ ایک اور بہت خاص قسم کا نشہ ہمیں انگریزوں کی غلامی سے تحفے میں ملا ہے اور وہ ہے تہذیب و تمدن میں انگریزوں کی تقلید کرنا۔ اور ہم حقِ غلامی ادا کرتے ہوئے بہت فخر سے منہ ٹیڑھا کرکے انگریزی بولتے ہیں اور اپنے بچوں کو انگلش میڈیم اسکولوں میں پڑھانا فخر سمجھتے ہیں۔ یہ اور بات ہے کہ ان انگلش میڈیم اسکولوں سے فارغ التحصیل افراد بھی یہ بولتے سنائی دیتے ہیں کہ آج ان کےسر میں بہت pain ہے ۔ نشے تو اور بھی بہت سارے ہیں لیکن آج کے زمانے میں جو نشہ سر چڑھ کر بول رہا ہے وہ '' آزادی '' کا نشہ ہے۔ نہ نہ ۔۔ کسی جابر حکومت سے آزادی کا نشہ نہیں بلکہ شخصی و فکری آزادی کا نشہ۔ گلوبلائزیشن کے اس دور نے اس نشے کی طلب میں بہت اضافہ کردیا ہے۔حضرت انسان کا مطالبہ ہے ہر قسم کی آزادی ۔۔۔ جو کہ کسی مذہبی ، معاشرتی و اخلاقی حدود و قواعد کو نہیں مانتی۔ اب چاہے ان کی اس آزادی کی چاہ میں معاشرے عریانیت، تعیش پسندی اور مفاد پرستی، انتشار ، لاقانونیت سے زیر و بم ہو جائیں انہیں اپنی آزادی سے مطلب ہے۔ ایک اور نشہ '' آزادی نسواں '' کے نام کا بکتا ہے۔ ہمارے معاشرے کی دبی اور کچلی ہوئی عورت کو سننے میں تو بہت ہی فرحت بخش لگتا ہے لیکن اس کے مضمرات کا اندازہ ان معاشروں کے مطالعے سے با خوبی لگایا جاسکتا ہے جن میں یہ نشہ وافر مقدار میں موجود ہے۔ مساویانہ حقوق کا نعرہ لگاتی مغربی خواتین آج میڈیا کی مہربانی سے '' کمیوڈیٹی '' کی حثیت اختیار کر گئی ہیں اور فیکٹریوں ، کارخانوں ، ہوٹلوں ، دکانوں پر شوپیس کی طرح سج سنور کے کھڑی ہیں۔ اعلی عہدوں پر حال حال ہی خواتین نظر آتی ہیں، زیادہ تر خواتین ایکٹریس، ڈانسرز، کال گرلز ، ائیر ہوسٹس ، سیلز گرلز، ویٹریس کی صورت میں نظر آئیں گی۔ یاد رکھیں کہ یہ اس معاشرے کی حالت ہے جہاں خواتین اپنی مساویانہ حثیت سے موجود ہیں اور آج اسی نشے کی طلب ہماری معاشرے کی عورتوں میں پیدا تو کی جاچکی ہے اب بڑھانے کا کام جاری ہے۔ دورِ جدید کا ابھرتا ہوا اورنئی نسل کو اپنی اثر پذیری سے گھیرے میں لیتا ہوا نشہ ہے '' دانشوری '' ۔ جی ہاں دانشوری۔۔ لیکن یہ بحث پھر کبھی کہ دانشور میں دانشوری کا عنصر پایا جاتا ہے یا نہیں ۔۔۔لیکن آج کے '' دانشور'' کی حثیت ایک ایسے پیر کی ہوگئی ہے جس کے اندھے مقلد میڈیا کی آزادی کی بدولت اس کی ٹوٹی پھوٹی دانشوری سےکم اور اسکے فاسد خیالات و نظریات سے زیادہ فیضیاب ہوتے ہیں اور ان اندھے مقلدوں کو پتا بھی نہیں چلتا کہ یہ دانشور ان کی عقل و ذہن کو اپنے نظریات کی نکیل ڈال کر ادھر اُدھر گھسیٹ رہا ہوتا ہے اور اپنے مفادات کے تحت ان کے نظریات و عقائد میں تبدیلی پیدا کر رہا ہوتا ہے۔معصوم مقلد اپنی کم عقلی، جذباتیت، کتب بینی سے دوری اور تحقیق نہ کرنے کی بدولت اپنی رائے رکھنے کی بجائے اپنے اس دانشور پر کلی بھروسہ کرتے ہیں اور خود تو ذہنی خلجان، ہیجان اور انتشار کا شکار ہوتے ہی ہیں اور اس کے اثرات معاشرے میں پھیلانے کا باعث بھی بنتے ہیں ۔ یہ تو تھیں کچھ نشے کی اقسام جن سے ہمارے معاشرہ نبرد آزما ہے۔ اسلام نے ہر شخص کے لئے پانچ بنیادی ضروریات کی حفاظت کو لازمی قرار دیا ہے۔ دین، مال، جان، عزت اور عقل۔ اس لئے وہ چیزیں جو عقل کو ڈھانپ لیتی ہیں یا نقصان پہنچاتی ہیں اسلام اس سے منع کرتا ہے اور حرام قراردیتا ہے سو ہمیں شعوری کوشش سے ان نشوں سے بچنا چاہیے۔ اللہ تعالی ہمیں ہر قسم کے نشے میں مبتلا ہونے سے محفوظ رکھے ۔ آمین

کیا پاکستان کا نصاب نظریاتی ہونا چاہیے؟

2017-07-08 06:58:02 

بچے کسی بھی ملک کا اثاثہ ہوتے ہیں کیوں کہ ان ہی ذہنی و فکری تربیت کی بدولت معاشرہ ارتقاء کی منزلیں طے کرتا ہے۔ تعلیم بچوں کی ذہنی و فکری تعمیر میں ممدو و معاون ثابت ہوتی ہے۔ تعلیم ہی سے معاشرتی، تہذیبی، دینی،سیاسی ،اقتصادی اور تاریخی راہیں استوار ہوتی ہیں۔ فی زمانہ تعلیم کے شعبے کو اتنی اہمیت حاصل ہوگئی ہے کہ اگر کسی طاقت ورملک نے کسی ملک پر قبضہ کرنا ہو تو وہ اپنے مقصد کے حصول کے لیے نصابِ تعلیم کو اپنا ہدف بناتا ہے اور اسکی کوشش ہوتی ہے کہ اس ملک کے ایسے نظریات و عقائد کو ختم کر کے اپنے من پسند نظریات و عقائد ٹھونسے جائیں تاکہ زمینی قبضہ سے پہلے ذہن ان کے قابو میں آ جائے۔ اور اسطرح زمینی قبضہ کی بھی ضرورت باقی نہیں ۔ وطنِ عزیز کی صورتحال کا جائیزہ لیا جائے تو نام نہاد لبرلز اور سیکولرز اور ان کی بنائی گئی این جی اوز پاکستان کے نصابِ تعلیم کے بارے میں اکثر واویلا کرتے نظر آتی ہے کہ یہ نصاب فرسودہ مذہبی رحجانات ، پاکستان کے ثقافتی اقدار، مسلم ہیروز اور تاریخ کی مسخ شدہ شکل پر مبنی ہے، بچوں میں انتہا پسندی کو فروغ دیتا ہے۔ اس لیے اسمیں سے اسلامیات اور مطالعہّ پاکستان جیسے مضامین کو ختم کردینا چاہیے۔ کیا واقعی ایسا ہے؟؟؟؟ دیکھتے ہیں۔ نصاب کے لیے انگریزی کا لفظ '' cirriculm '' استعمال کیا جاتا ہے جو کہ یونانی لفظ '' curree '' سے نکلا ہے جسکے معنی رن وے یا ایسا راستہ ہے جس پر دوڑا جاتا ہے ۔ ماہرین تعلیم کے نزدیک' نصاب '' کے معنی ایسا عمل ہے جس میں تعلیمی کتابیں اور ان کو پڑھانے کے مدارج شامل ہیں جس کے ذریعے طلباء کو ذہنی، فکری اور جسمانی طور پر تیار کیا جاتا ہے ۔ نصابِ تعلیم ہمیشہ قومی نظریات و عقائد سے ہم آہنگ ہوتا ہے . تاکہ بچوں کو ذہنی اور فکری طور پر قومی امنگوں کے مطابق تیار کیا جاسکے ۔ پاکستان دو قومی نظریے کی بنیاد پر معرضِ وجود آیا۔ دوقومی نظریہ یہ تھا کہ مسلمانِ برصغیرہندووّں سے علیحدہ قوم ہیں۔ جن کے عبادت کرنے کا طریقہ ، تہذیب و ثقافت ہے، رسوم و رواج ہنددوّں سے جدا ہیں حتی کے کھانے پینے کے طریقے تک جدا ہیں ۔ جو لوگ مسلمانوں کے ہیروز ہیں وہی ہندووّں کے دشمن ہیں۔ بطور پاکستانی مسلمان ہم چاہتے ہیں کہ نصابِ تعلیم نہ صرف قومی بلکہ اسلامی روایات کا ترجمان ہو۔ جبکہ لبرلز و سیکولرز حلقے یہ چاہتے ہیں کے بچوں کو عقائد و نظریات نہ پڑھائیں جائیں۔ اگر دینا بھر کے نصاب کا جائیزہ لیا جائے تو تمام ممالک اپنے نصاب کو اپنی قومی تہذیب و ثقافت اور نظریاتی ضروریات کے تحت اسے مرتب کرتے ہیں۔ خاص طور پر اپنے ملک کی تاریخ، نظریات، تہذیب، ثقافت، مذہب اور ہیروز کے بارے میں بچوں کو پڑھایا جاتا ہے تاکہ ان کی اپنے ملک سے گہری وابستگی پیدا ہو۔ اور ہماری ذہنی پستی کا عالم یہ ہے کہ ہم اپنے تہذہب و ثقافت، تاریخ، اور مذہب کو پڑھانے سے انکاری ہیں کیوں کہ ہم میں سے بعض ذہنی اور شاید بکے ہوئے غلاموں کے نزدیک یہ دقیانوسیت، جہالت اور ملائیت کی علامات ہیں، اور وہ اپنی روزشن خیالی اور بدلتے ہوئے عالمی حالات کارونا رو کر نصابِ تعلیم کو اپنی مغربی فکر و نظر کے مطابق ترتیب دینا چاہتے ہیں۔ چونکہ پاکستان ایک نظریاتی اسلامی مملکت کے طور پر وجود میں آیا تو اپنی آئیندہ نسلوں کو اس کے بارے میں بتانا اور ان کو ان نظریات کے ساتھ ہم آہنگ کرنا ہمارا قومی فریضہ ہے اور اسکے ساتھ ساتھ اپنی قومی زبان کی ترقی و ترویج بطور قوم ہمارا حق ہے۔ تاکہ پاکستانی اقوامِ عالم کی بھیڑ میں اپناالگ تشخص اور پہچان قائم رکھ سکیں۔ ایسے میں وہ افراد جو اپنی تاریخ پر شرمسار ہیں، اپنے مذہب سے بیزار ہیں اور مغرب سے مرعوب ہیں ان کو یاد رکھنا چاہیے کہ جو افراد اغیار کی تقلید کرتے ہیں وہ اپنی پہچان اور انفرادیت کھو دیتے ہیں۔ پس ایک نظریاتی مملکت کا نصابِ تعلیم نظریاتی بنیادوں پر استوار ہونا چاہیے تاکہ جدید عصری علوم کے ساتھ ساتھ ہمارے مستقبل کے معماروں کو اپنی بنیادی اساس سے آگہی ہو اور وہ پاکستان کی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا کرسکیں۔ اللہ تعالی پاکستان کا حامی و ناصر ہو اور دوستوں کے بھیس میں چھپے ہوئے دشمنوں سے محفوظ رکھے۔ آمین

مذہبی ریاستیں اور ملحدین کے بہانے

2017-07-08 06:52:52 

قیامِ پاکستان کا پسِ منظر: 14اگست1947ء میں دنیا کے نقشے پر پہلی مذہبی بنیاد پر نظریاتی ریاست '' پاکستان '' کا قیام عمل میں آیا۔ قائد اعظم نے کہا تھا'' پاکستان اسی دن وجود میں آ گیا تھا جب پہلا غیر مسلم مسلمان ہوا تھا'' ۔ یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ ہندووں میں نیشل ازم کا کا کوئی تصور کبھی بھی موجود نہیں رہا۔ مسلمانوں کی آمد سے قبل بھی ہندوستان مختلف راجوں کے درمیان بٹا ہوا تھا۔ ذات پات کے نظام میں بٹے ہوئے ہندوستان کے باشندوں کو محمد بن قاسم نے باقاعدہ اسلام سے روشناس کروایا، اور ذات پات کی پابندیوں سے کچلے ہوئے انسانوں نے اسلام کے وسیع دامن میں پناہ لی۔ اسکے بعد مسلمان حکمرانوں اور صوفیاء نے اسلام کی تبلیغ جاری رکھی۔ہندوستان کو مسلمانوں نے فتح کیا تھا نہ صرف تلوار سے بلکہ اپنے اخلاق سے بھی۔ شہاب الدین غوری پہلا مسلم حکمران تھا جس نے برصغیر پاک و ہند مسلم حکمرانی کی داغ بیل ڈالی اور ۱۸۵۷ء کی انگریزوں کے خلاف لڑی جانے والی جنگِ آزادی تک قائم رہی۔ '' بلاد اسلامیہ ہند'' کے نام سے معروف اس ملک کو انگریزوں نے اپنی مکاری اور ریشہ دوانی سے قبضہ میں لیا۔ چونکہ حکمرانی مسلمانوں سے چھینی تھی تو ان کے ساتھ بغض رکھتے ہوئے ہندووّں کی سرپرستی کی ۔ ان کے زیرِ سایہ ہندووں نے انگریزی تعلیم حاصل کرنے میں پہل کی اور انگریزوں کے سیاسی و انتظامی ڈھانچے میں داخل ہو گئے۔ حتی کہ آل انڈیا کانگریس کی بنیاد ایک انگریز '' ایلن اوکٹیوین ہیوم '' نے 1885ء میں رکھی۔ تعلیم یافتہ ہندووں نے یورپ کی صنعتی ترقی سے نمو پانے والے جمہوری نظام کی بدولت اپنی عددی برتری اور اہمیت کو سمجھا اور نیشنل ازم کا نعرہ لگاتے ہوئے ہر آئینی اصلاحات میں مسلمانوں کا حصہ کم کرنے کی کوشش کی اور مسلمانوں کے مفاد میں کوئی کام نہ ہونے دیتی۔اسی وجہ سے مسلمانانِ ہند نے اپنے الگ تشخص کی حفاظت اور مسلمانوں کے حقوق کی حفاظت کے لیے '' آل انڈیا مسلم لیگ''1906ء میں قائم کی۔ دوسری عالمی جنگ کے اختتام تک پاک و ہند میں سیاسی سرگرمیاں اپنے عروج پر پہنچ چکیں تھیں اور انگریز متحدہ ہندوستان کو اگلی حکومت کے سپرد کرنا چاہتے تھے۔ ہندو پورے ملک پر بلا شرکتِ غیرے اپنی حکمرانی کا خواب دیکھ رہے تھے جبکہ مسلمان اپنے علیحدہ تشخص کی حفاظت اور حصول کے لیے کوششیں کر رہے تھے۔ ایسے میں برطانوی وزیر اعظم ایٹلی نے 1945-1946ء کو عام انتخابات کا اعلان کیا اور48ء تک انتقالِ اقتدار کی تاریخ دے دی۔ مسلم لیگ انتخابات میں مسلمانوں کی واحد نمائیندہ جماعت بن کر سامنے آئی۔ انتقالِ اقتدار کا فارمولا طے کرنے کے لیے کیبنٹ مشن ہندوستان آیا اور اس ضمن میں ڈھیلے ڈھالے وفاق کی صورت میں متحدہ ہندوستان کی تجویز دی گئی تھی جسے کانگریس نے اپنی برتری کے زعم میں بلا شرکتِ غیرے ہندوستان پر حکومت کرنے کے زعم میں مسترد کر دیا ، اگرچہ مسلم لیگ نے انتخاب پاکستان کے نام پر جیتا تھا لیکن وہ اس تجویز پر رضا مند ہوگئی لیکن کانگریس کے مسترد کرنے پر اپنے فیصلے کو واپس لیتے ہوئے 16اگست کو ڈائریکٹ ایکشن ڈے منایا جس پر ہندو مسلم فسادات پھوٹ پڑے اور تین چار ماہ تک یہ سلسلہ نہ رک سکا۔ مارچ 1947ء کو لارڈ ماونٹ بیٹن وائسرائے ہند بن کر آیا۔ اس کا رویہ مسلمان رہنماوں سے معاندانہ جبکہ کہ ہندو رہنماوں سے دوستانہ تھا۔ سو بنگال اور پنجاب کو تقسیم کرنےا اور باقی صوبوں کے عوام کی دونوں ممالک میں سے کسی ایک کے ساتھ رہنے کی مرضی معلوم کرنے کی شرط کو تسلیم کرتے ہوئے ریڈ کلف کے فیصلے کو قبول کیا ۔ 14 اگست 1947ء کو ایک لٹا پُٹا، کٹا پھٹا اور لاکھوں مسلمانوں کی جانوں، مالوں اور بیٹیوں کی آبرووں کی قربانی سے ''پاکستان '' معرضِ وجود میں آیا۔ اسکے نو ماہ بعد 14مئی1948ء میں پہلی باقاعدہ یہودی ریاست '' اسرائیل '' کے قیام کا اعلان کیا گیا۔ اسرائیل کے قیام کا پسِ منظر:- حضرت یعقوب علیہ السلام کا لقب تھا '' اسرائیل '' اسرائیل کا مطلب ہے اللہ کا بندہ۔ بنی اسرائیل کے اولاد '' یہودی '' کہلائے۔ '' یہودیت'' اصلاَ نسل پرست مذہب ہے یہ بنی اسرائیل کے علاوہ کسی بھی فرد کو یہودی ماننے سے انکار کرتا ہے اور نہ ہی کوئی فرد '' یہودیت '' قبول کرکے '' یہودی '' کہلا سکتا ہے۔ حضرت عیسی علیہ السلام کا انکار کرکے اور انہیں قتل کرنے کی کوشش کے جرم میں '' یہودی '' اللہ کے عذاب کا شکار ہوئے۔ جب سلطنتِ روما حضرت عیسی علیہ السلام پر ایمان لے آئی تو یہودیوں پر عرصہ حیات تنگ ہونے لگا۔ سیاسی طور پر تو وہ پہلے ہی پسماندگی کا شکار تھے لیکن رومیوں کے عیسائیت قبول کرلینے کے بعد ان پر زمین تنگ ہونے لگی۔ ان کی پہلی سلطنت ۱۹۴۵ء میں قائم ہوئی جب انہوں نے عیسائیوں سے صلح کی اور ان کی سیاسی و تمدنی بالادستی کو قبول کیا۔ انیسویں صدی میں سیاست پر مذہب کی اجارہ داری ختم ہوچکی تھی ، مذہبی عصبیت کی جگہ وطنی عصبیت نے لے لی تھی ، انسان اپنا تعارف مذہب کی بجائے قومیت سے کروانے لگا تھا، اس بات کا سب سے زیادہ فائدہ '' یہودی '' قوم نے اٹھایا۔ انہوں نے اپنے آپ کو علمی و مالی طور پر منظم کرنا شروع کیا۔ دوسری طرف اگر عالمِ اسلام کا جائیزہ لیا جائے تو اس وقت خلافت ترکی کے پاس تھی۔ 1517ء میں عثمانی ترکوں نے مملوک خاندان سے اقتدار چھینا اور فلسطین پر قبضہ کر لیا۔ اسی دور میں مصر سمیت مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ بھی ترکوں کے قبضہ میں چلے گئے۔ ترکوں کا عربوں کے ساتھ رویہ حاکمانہ تھا چنانچہ جگہ جگہ بغاوتیں پھوٹتی اور ترک سختی کے ساتھ ان کو کچلتے۔ پورے عالمِ عرب میں ترکوں کے خلاف نفرت کے جذبات پیدا ہوچکے تھے جس کا فائدہ برطانیہ نے اٹھایا۔ یورپ میں برطانیہ اور جرمنی ترقی کی دوڑ میں سب سے آگے تھے۔ پہلی جنگِ عظیم میں ترکی نے جرمنی کا ساتھ دیا، اس وجہ سے برطانیہ نے ترکی کو شکست دینے کے لیے ایک طرف تو یہودیوں کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی تو دوسری طرف عرب طاقتوں کی حمایت کا اعلان کیا جو ترکوں کے خلاف برسرِ پیکار تھے۔ یہودی اس وقت تک اپنے آپ کو کافی حد تک منظم کر چکے تھے اور ان کی تنظیم '' صیہون ۸'' سب سے آگے تھی۔ اس زمانے میں کمیسٹری کا پروفیسر ڈاکٹر وائزمین صیہونی تحریک کا سربراہ تھا، اس نے برطانیہ کو چند ایسی ایجادات بنا کر دیں جن سے جنگ میں برطانیہ کا پلڑا بھاری ہوگیا۔ اس کے عوض اس نے حکومتِ برطانیہ سے وعدہ لیا کہ جنگِ عظیم میں کامیابی کی صورت میں فلسطین میں یہودیوں کے لیے ایک قومی وطن قائم کیا جائے گا۔ چنانچہ نومبر 1917ء میں وزیر خارجہ لارڈ بالفور نے ایک خفیہ خط کے ذریعے یہ وعدہ کرلیا۔ اس خط کو اعلانِ بالفور بھی کہا جاتا ہے۔ یوں یہودیوں کی تمام تر ہمدردیاں برطانیہ، فرانس اور اسکے دیگر اتحادیوں کے ساتھ ہوچکیں تھیں۔ 1917ء میں جب برطانوی افواج یروشلم پہنچی تو تمام شہریوں نے شہر سے باہر آ کر ان کا والہانہ استقبال کیا۔ اسکے اگلے تیس برس تک برطانیہ نے فلسطین میں یہودی آبادکاری کے لیے ہر جائیز و ناجائیز ہتھکنڈہ استعمال کیا۔شام اور لبنان میں بیٹھے ہوئے زمینداروں نے منہ مانگی قیمت پر اپنی زمینیں یہودیوں کے ہاتھ فروخت کیں، فلسطینیوں کی بھی ایک بڑی تعداد نے زیادہ قیمت کی لالچ میں اپنی زمینیں یہودیوں کے ہاتھ فروخت کیں۔ مسلمانوں کو کافی عرصہ بعد ہوش آیا کہ یہودی ان کی زمین فلسطین پر قابض ہوتے چلے جا رہے ہیں چنانچہ 1936ء سے لیکر1939ء تک فلسطینیوں نے برطانوی حکومت کے خلاف بغاوت کی۔ لیکن اس بغاوت کو برطانوی اور یہودی اتحاد نے کچل دیا۔ دوسری جنگِ عظیم کے دوران جرمنی سے بھاگ کر آنے والے یہودیوں کی وجہ سے بھی فلسطین میں انکی آبادی بڑھی اور اسکے ساتھ ساتھ دنیا بھر سے یہودی اپنے مستقبل کے قومی وطن کی خواہش لیے فلسطین آتے گئے۔ ۱۹۴۸ء میں اسرائیل کے قیام کے وقت وہاں سات لاکھ اٹھاون ہزار یہودی آباد تھے۔ برطانیہ نے اس علاقے کو اقوامِ متحدہ کے حوالے کردیا۔ اقوامِ متحدہ نے ایک قرار داد کے ذریعے فلسطین کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کا اعلان کیا۔ اسرائیل کو کل رقبے کا چھپن فیصد دیا گیا اور فلسطینیوں کو چوالیس فیصد ۔ آبادی کے لحاظ سے یہ ایک ناجائیز تقسیم تھی۔ اس لیے فلسطینیوں اور دیگر عرب ممالک نے اسے ماننے سے انکار کردیا۔ یوں14 مئی 1948ء میں خالصتاََ مذہبی ریاست اسرائیل نے اپنے قیام کا اعلان کیا۔ اسمیں کوئی شک نہیں کہ یہودیوں نے اپنی مملکت کے قیام کے لیے ناجائیز ہتکھنڈے استعمال کئے لیکن وہ آج بھی بہت سے ممالک کی مخالفت کے باوجود ایک مذہبی ریاست قائم کئے ہوئے ہیں اور بہت سو کی ناپسندیدگی کے باوجود ایک ترقی یافتہ ایٹمی ملک ہے۔ اسرائیل جیسی صہیویانی ریاست کے مقابلہ میں پاکستان جیسی اسلامی ریاست ہر ایرے غیرے کی آنکھ میں کھٹکتی ہے۔ ہمارے نام نہاد روشن خیال دانشور قیامِ پاکستان پر تنقید کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ بہت سو کا اعتراض ہوتا ہے کہ کیا دینا بھر میں کہیں بھی مذہبیت یا نظریات کے نام پر کسی ریاست کا وجود ہے؟؟ حیرت ہوتی ہے ان دانشوروں پر جو کہ اسرائیل جیسی کٹر مذہبی اور نظریاتی ریاست کا قیام بھول جاتے ہیں اور پاکستان پر چڑھائی کردیتے ہیں۔ اکثر روشن خیال دانشوروں کا یک اعتراض یہ بھی ہوتا ہے کہ ہندوستان یا برصغیر پاک و ہند ہندووں کی سرزمین ہے اور مسلمان حملہ آور اور قابض تھے۔ اسلیے وہ پاکستان بنانے کا حق نہیں رکھتے۔ لیکن یہ اعتراض کرتے ہوئے وہ بھول جاتے ہیں کہ ان حملہ آوروں کے حسنِ اخلاق سے متاثر ہو کر اسلام قبول کرنے والے مقامی افراد کس گنتی میں شمار ہونگے؟؟؟ کیا اسلام قبول کرنے کے بعد ان کا '' بلاد اسلامیہ ہند '' کی زمین پر حق ختم ہوگیا؟؟؟ کیاوہ اس زمین کے مالک نہ تھے؟؟؟ دنیا بھر سے یہودیوں کو اسرائل لا کر بسایا گیا ۔۔ ہمارے روشن خیالوں کو یہ تو گوارا ہے لیکن ہند کی اپنی سرزمین کے مالک باشندوں کے لیے الگ وطن گوارہ نہیں کیونکہ وہ اپنے آپ کو مسلمان کہلواتےہیں۔ ہمارے بعض دانشوروں کا اعتراض یہ بھی ہوتا ہے کہ دو قومی نظریہ اگر مختلف قوموں کو آپس میں جوڑتا تو بنگلہ دیش وجود میں نہ آتا۔ یہ بات کرتے ہوئے وہ بنگلہ دیش کے قیام کا پسِ منظر بھول جاتے ہیں کہ کس طرح ہندوستان کی سازشوں کا شکار کچھ بنگالیوں اور باقی ہندوستانیوں پر مشتمل مکتی باہنی تیار کی گئی تھی اور مفاد پرست سیاستدانوں نے اپنے مفاد کی خاطر ملکی مفاد کو پسِ پشت ڈال دیا۔ سقوطِ ڈھاکہ پر اندرا گاندھی نے کہا تھا کہ '' آج ہم نے مسلمانوں سے اپنی ہزار سالہ غلامی کا بدلہ لے کر دو قومی نظریہ خلیج بنگال میں ڈبو دیا ہے '' ،ایسی بات تھی تو اس نے ہندو اکثریتی بنگال کا الحاق بنگلہ دیش کے ساتھ کیوں نہیں کیا تاکہ دو قومی نظریہ کا مکمل خاتمہ ہو جاتا۔ پر دو قومی نظریہ ایک ازلی و ابدی حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے کہ جو قومیں ہزار سال کے بعد بھی اپنا رہن سہن، ثقافت، تہذیب و تمدن ، زبانیں نہ بدل سکیں وہ اب کیا بدلیں گی۔ ہمارے روشن خیال اور بیدار مغز دانشور جتنا مرضی زور لگا لیں وہ اس اختلاف کو قطعاََ ختم نہیں کر سکتے۔ ہندوستان بذاتِ خود ایک نظریاتی '' ہندوانہ '' ریاست ہے جس نے سیکولر ازم کا لبادہ اوڑھ رکھا ہے اور ہر دم اپنی ہزار سالہ غلامی کا بدلہ لینے کے لیے پاکستان پر وار کرنے کو تیار رہتا ہے۔ پاکستان میں ہونے والے لسانی ، علاقائی، سیاسی ، مذہبی منافرت ہر جھگڑے کے ڈانڈے ہندوستان سے جا ملتے ہیں اور اس کا ہاتھ مضبوط کرنے والے ہیں ہمارے '' روشن خیال'' ذہن۔ اللہ تعالی پاکستان کو اپنے حفظ و امان میں رکھے ۔ آمین

کامیابی کا راز

2017-06-23 07:22:41 

آج ہمارے معاشرے میں لوگ ہر حال میں دوسروں سے آگے نکلنے کی دھن میں جائز و ناجائیز ہتھکنڈے استعمال کرنے سے نہیں چوکتے۔ معاشرہ دن بدن اخلاقی پستی اور تنزلی کی طرف گامزن ہے اور نمایاں طور پر جو چیز ہمارے معاشرے کو گھن کی طرح کھائے جا رہی ہے وہ منافقت، بیجا خوشامد اور چاپلوسی کرنا ہے۔ اگرچہ تعریف کرنا بری بات نہیں ، تعریف ہمیشہ آپ کو مذید بہتر کام کرنے کا حوصلہ اور ہمت عطا کرتی ہے ۔ اس سے نہ صرف ترقی کی راہوں پر گامزن ہونے میں آسانی ہوتی ہے بلکہ اس سے تعلقات میں استواری بھی پیدا ہوتی ہے ۔۔۔ لیکن خرابی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب تعریف حد سے زیادہ تجاوز کر جائے اور وہ فرد تعریف کا حقدار بھی نہ ہو، ایسی صورت میں تعریف اپنی حدود سے نکل کر چاپلوسی، خوشامد اور منفاقت کے دائرے میں داخل ہو جائے۔ منافقت ، خوشامد اور چاپلوسی ایک فرد کو تو فائدہ دیتی ہے لیکن باقی معاشرے کو نقصان پہنچاتی ہے۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے ہم نے اقبال کا کہا مانا، خودی کے ہاتھوں مرتے رہے جھکنے والوں نے رفعتیں پائیں ، ہم خودی کو بلند کرتے رہے آجکل چاپلوسی، خوشامد کو لوگوں نے اپنی ترقی کرنے کا زینہ بنا لیا ہے۔ اس سے معاشرہ دو طرح سے خرابی کا شکار ہوتا ہے ایک تو یہ کہ خوشامد اور چاپلوس شخص ایک قابل اور اہل فرد کی جگہ سنبھال لیتا ہے اور دوسرا بیجا خوشامد اور چاپلوسی سے فرد کو غرور اور تکبر میں مبتلا کر دیتا ہے اور اس طرح اسکی ترقی کی راہیں مسدود کر دیتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں جہاں سسٹم اور میرٹ نام کی چیز موجود ہی نہیں ایسے میں اس عادت نے معاشرے کی حالت دگر گوں کر دی ہے کوئی بھی شخص اختلافِ رائے کی جرات نہیں کرتا اور اگر کوئی کرتا بھی ہے تو اسے ذاتی عناد اور دشمنی کا نام دے دیا جاتا ہے۔ ہمارا دین اسلام بھی اس فعل کی سخت مذمت کرتا ہے۔ حضرت معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے سنا ایک دوسرے کی خوشامد اور بے جا تعریف سے بچو کیونکہ یہ ذبح کرنے ہلاک کرنے کے مترادف ہے۔ امام شافی کا قول ہے کہ '' جو تمہارے ایسے اوصاف بیان کرے جو تم میں نہ ہوں وہ تمہارے ایسے عیوب بھی بیان کرے گا جو تم میں نہیں ہوں گے'' اسی طرح امام احمد بن حنبل کہتے ہیں کہ '' دشمن سے ہمیشہ بچو، لیکن دوست سے اس وقت بچو جب وہ تمہاری تعریف کرے۔'' چاپلوسی، منافقت اور خوشامد سے افراد اور قومیں کبھی بھی ترقی نہیں کر سکتی اس لیے ہمیں اپنے معاشرے میں اختلافِ رائے کو سننے اسے برداشت کرنے اور اس سے مثبت نتیجہ نکالنے کی روایات کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔ اللہ تعالی ہمیں اسلام کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا کرے۔ آمین

ماڈرن ازم ''عورت'' کی تذلیل

2017-06-23 07:26:25 

علامہ اقبال نے کہا تھا: وجودِ زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ اس کے ساز سے ہے زندگی کا سوز دروں بلاشبہ عورت ہر رشتہ میں مرد کے لیے دوست، غمخوار، مددگار اور راحت کا باعث ہے۔ عورت معاشرے کا ایک اہم رکن ہے۔ چونکہ عورت گھرکے امور کی ذمہ دار اس لیے گھر کے افراد کی تعلیم و تربیت، کردار سازی اور ذہن سازی میں عورت کا کردار اہم ہے۔ ذرا تصور کریں کہ اگر گھر کامحاذ سنبھلنے والی عورت غلط اور فاسد خیالات کی حامل ہو گی تو اس گھر کا کیا حشر ہوگا؟؟ یقیناََ اس کے نتائج اچھے نہیں نکلیں گے۔ آج ہمارا کچھ ایسا ہی حال ہے۔ آج ہم نے ماڈرن ازم کے نام پر مغربی تہذیب و تمدن کی پیروی کو اپنا اہم فریضہ سمجھ لیا ہے۔ آزادی نسواں کے حسین اور پُرفریب نعرہ کو لگاتے ہوئے آج کی عورت سماجی، سیاسی، معاشی غرض ہر سطح پر بدترین استحصال اور تذلیل کا سامنا کر رہی ہے۔ ہالی وڈ کی مشہور اداکارہ کیٹ ہڈسن نے ۲۰۰۴ء میں ایک بھارتی روزنامہ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا : '' یہ ایک بہترین امر ہے کہ اگر آپ ایک خاتون ہیں جو باہر اور مقامات پر کام کرتی ہیں تو سب سے بہتر اور محفوظ مقام آپ کے لیے آپ کا گھر ہے۔ میری خواہش ہے کہ کاش میں ایک وفاشعار بیوی اور شفیق ماں ہوتی۔'' ایک معاشی طور پر مستحکم اور ہزاروں دلوں کی دھڑکن اداکارہ کی جانب سے ایسی خواہش کا اظہار اس سوچ اور پراپیگنڈہ کے منہ پر طمانچہ ہے جو خود مختار عورت کو ماڈرن ازم کی معراج سمجھتے ہیں۔ گلوبلائیزیشن کے بڑھتے ہوئے رحجان کے تناظر میں آزادی نسواں کا نعرہ دنیا بھر کی خواتین کا پسندیدہ نعرہ بن چکا ہے۔۔ اس کے اغراض و مقاصد یہ ہے کہ معاشرہ مساواتِ مرد و زن کے بنیادی اصول پر استوار ہو۔ اس تحریک کے حامیوں کا دعوی ہے کہ عورت کو اس کے حقوق اسی تحریک کے ذریعے ملے ہیں مگر اگر ایمانداری سے تجزیے کیا جائے تو اسی تحریک کے نتائج یہ ہے کہ آج کی ماڈرن عورت کا دامن نسائیت، عصمت و عفت، احساسِ تحفظ، امن و سکون، احترام و وقار سے خالی ہے ۔ مغرب کے سرمایہ دارانہ ذہنیت نے خواتین کو گھر سے باہر نکلنے کی ترغیب دیکر صرف اور صرف اپنے لیے معاشی فوائد حاصل کئے ہیں اور انہیں شمعِ محفل بنا ڈالا ہے۔ ایک طرف تو اس ذہنیت نے عورت کو گھروں سے باہر نکال فیکٹریوں، کارخانوں، دکانوں پر لاکھڑا کیا ہے تو دوسری طرف اسی سوچ نے عورت کو میڈیا کی دنیا میں ''کمیوڈیٹی ''کے طور پر استعمال کیا ہے۔ عورت کی حثیت مخص '' شو پیس'' کی سی ہے۔ ایک طرف تو مادر پدر آزادی کا حق دیا جاتا ہے اور دوسری طرف منفعت کے لیے جسم فروشی کو جائیز قرار دیا جاتا ہے۔ تمام اعلی عہدوں پر مغربی مرد قابض ہیں جبکہ عورتوں کو اشتہار بنا دیا گیا ہے ،اس بیچاری کو اداکارائیں، گلوکارائیں، رقاصائیں،ماڈل گرل، کال گرل،ائیرہوسٹس، ویٹریس، سیلز گرل اور پورنو گرافی کے دلدل میں پھینک کر نعرہ دیا گیا ہے آزادی نسواں کے نام پر مردوں سے برابری کا۔ آج کی مغربی عورت معاشرے میں جنسی تسکین کے حصول کا ایک ٹول یا ذریعہ ہے۔ جوں جوں اس کی عمر بڑھتی جاتی ہے وہ معاشرے کے لیے عضوِ معطل کی حثیت اختیار کر لیتی ہے اور اس کی آخری منزل اولڈ ہاوس ہوتے ہیں۔ یہ اسی آزادی مساوات کے ثمرات ہیں کہ آج کی مغربی عورت حقوق تو برابر کے ملے نہیں لیکن فرائض ضرور برابر کے ادا کرنے پڑتے ہیں۔ وہ معاشی میدان میں مرد کے مساویانہ خرچ کی ذمہ دار ہے تو گھر آ کر اپنے حصے کا آدھا گھریلو کام بھی کرتی ہے۔ پھر اسے اپنے شوہر کے معاشقوں کو بھی کھلے دل کے ساتھ برداشت کرنا پڑتا ہے کہ یہ ان کی ننگی تہذیب و تمدن کا حصہ ہے۔اس پر مستزاد اگر شوہر اپنی گرل فرینڈ کے ساتھ وقت گزار کر آیا ہے اور واپس آکر بیوی سے منہ پھیر کر سو گیا ہے تو آزادی نسواں کے نام پر مغربی عورت کو پورن فلمز سے اپنا دل بہلانا پڑتا ہے۔ اور پھر اگر ان کے شوہر ان کو چھوڑ کر چلے گئے ہیں تو بچوں کی پرورش بھی اس کی ہی ذمہ داری ہے۔ کیا ماڈرن کہلوانے والی عورت کی اس سے بڑھ کر اور تذلیل ہو سکتی ہے؟؟؟؟ مغربی معاشرے کی اخلاقی ساکھ اور گھریلو نظام تباہی کے دہانے پر ہے ۔ آج اسی تہذیب و تمدن کو آزادی نسواں اور ماڈرن ازم کے پُرفریب نعرے کے پردے کے پیچھے سے مسلم خواتین کو اپنی طرف متوجہ کیا جا رہا ہے ۔ اسمیں کوئی شک نہیں کہ ہمارا معاشرہ عورتوں کے حقوق کے حوالے سے مثالی معاشرے کہلوانے کا مستحق نہیں لیکن اس کی بھی اصل وجہ دین سے دوری اور غیر ملکی تہذیب و تمدن سے متاثر ہونا ہے۔ اسکے باوجود مشرقی عورت کو آج بھی گھر کے چراغ کی حثیت حاصل ہے۔ جوں جوں اس کی عمر بڑھتی ہے اس کے حفظ و مراتب اور عزت میں اضافہ ہوتا جاتا ہے۔ نہ صرف گھر میں بلکہ معاشرہ بھی اسے تکریم و عزت دیتا ہے۔ اسلام میں معاشی و معاشرتی ذمہ داری مرد کے کندھے پر ڈالی گئی ہےاور عورت کی اولین ذمہ داری گھر اور بچوں کو قرار دیتا ہے۔ لیکن اس کے باوجود دین ِ اسلام انہیں نوکری کی بھی اجازت دیتا ہے اور کاروبار کی۔ انہیں اپنی املاک رکھنے کا حق حاصل ہے ۔ انہیں تعلیم کا بھی اتنا ہی حق ہے جتنا کہ مرد کو ہے۔ اسکے باوجود اسلام دشمن اسلام کے خلاف پروپیگنڈا کرتے ہیں کہ اسلام عورتوں کی حق تلفی کرتا ہے۔ انہیں بچارگی اورمظلوم ہونے کا احساس دلا کر دین اور تہذیب و تمدن سے دور کیا جا رہا ہے کیوں کہ اسلام دشمنوں کوعلم ہے اگر مسلم عورت بھی مغربی تہذیب و تمدن کے رنگ میں رنگ گئی تو نظریاتی تعلیم و تربیت کا ایک اور دروازہ بند ہو جائے گا اور اِنہیں دینِ اسلام کے خاتِمہ کے لیے حسبِ منشا نتائج حاصل کرنے میں آسانی ہوگی۔ اللہ تعالی ہمیں دشمنوں کی چالوں کو سمجھنے اور ان کی شر سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

آزادی اظہارِ رائے یا آزادی توہین و تذلیل

2017-06-23 07:29:39 

آزادی اظہارِ رائے یا آزادی توہین و تذلیل آزادی اظہارِ رائے کا مطلب بولنے کی آزادی ہے، اسکے ساتھ اسمیں بولنے اور لکھنے کی آزادی کو بھی شامل کیا جاتا ہے ۔ اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی شق نمبر19 کے مطابق '' ہر شخص کو اپنی رائے رکھنے اور اظہارِ رائے کی آزادی کا حق حاصل ہے۔ اس حق میں یہ امر بھی شامل ہے کہ وہ آزادی کے ساتھ اپنی رائے قائم کرے اور جس ذریعے سے چاہے بغیر ملکی سرحدوں کا خیال کئے علم اور خیالات کی تلاش کرے، انہیں حاصل کرے اور ان کی تبلیغ کرے'' ۔ اس شق میں اظہارِ رائے کی آزادی کی کوئی حد بیان نہیں کی گئی ہے، جس سے شر پسندوں کو دوسروں کی ہتک اور تذلیل و توہین کرنے کا موقع مل گیا ہے ۔ عام طور پر اسلام پر الزام لگایا جاتا ہے کہ اسلام اظہار رائے کی آزادی نہیں دیتا جبکہ اصل حقیت یہ ے کہ اسلام ہی وہ واحد مذہب ہے جس نے نہ صرف آزادی اظہارِ رائے کا فلسفہ دیا بلکہ اسکے حددو قیود بھی بتائے۔ قران پاک کی سورہ الحجرات میں ارشادِ باری تعالی ہے : ترجمہ '' اے ایمان والو! کوئی قوم کسی قوم کا مذاق نہ اڑائے۔ عین ممکن ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں اور نہ ہی خواتین ، دوسری خواتین کا مذاق اڑائیں۔ ہوسکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں۔ ایک دوسرے کی عیب جوئی نہ کرو اور نہ ہی ایک دوسرے کو برے القاب سے یاد کرو۔ ایمان کے بعد فسق و فجور کے نام بہت بری چیز ہیں۔ جو لوگ توبہ نہ کریں ، وہی ظالموں میں سے ہیں'' جبکہ دوسری طرف اگر ہم مغربی آزادی اظہارِ رائے کا مطالعہ کریں توتضادات کا مجموعہ نظر آتی ہے ۔ اگر مغرب کے ماضی کی طرف نظر دوڑائے تو جب یورپ میں کلیسا کی حکمرانی تھی تو اسکے خلاف لکھنے بولنے کے نتائج بہت بھیانک ہوتے تھے۔ گلیلیو اور وچ ہنٹ کی مثال کلیسا کے مظالم کی ایک چھوٹی سی مثال ہیں مغرب میں آزدی اظہار پر پابندی اور ظلم و جبرکے مترادف سمجھا جاتا ہے اسی لیے مغربی اقوام نے اپنے قوانین اور آئین میں آزادی اظہار کو بنیادی حثیت دی۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ کسی بھی مغربی ملک میں آزادی اظہارِ رائے مکمل طور پر نافذ نہیں ہے ۔ بیشتر ممالک میں منافرتی تحریر و تقریر پر پابندی ہے۔ ہالوکاسٹ کے بارے میں لکھنے اور بات کرنے پر قانوناََ پابندی ہے۔ کئی ممالک میں مخصوص قومی اداروں مثلا فوج، عدلیہ اور پارلیمان کی توہین کو غیر قانونی قرار دیا گیا ہے ۔ امریکہ کی بعض ریاستیں ایسی ہیں جن کی دستوری کتب میں اہانت مذہب کے قوانین موجود ہیں۔ کینڈا کے قانون میں عیسائیت کی توہین کرنا جرم ہے۔ اور دوسری طرف یہ ممالک ہی اسلام کی توہین کرتے ہیں ۔ اسکارف پر پابندی ہے۔ امریکہ میں لوگوں کے فون ٹیپ کئے جاتے ہیں،عیب جوئی کرنا، تمسخر اڑانا وہاں معمول کا حصہ ہے۔ مشہور کہاوت ہے کہ انسان کی آزادی دوسرے کی ناک تک ہے۔ یعنی جہاں سے دوسرے انسان کی ناک شروع ہوتی ہے وہاں آپ کی آزادی کی حد ختم ہو جاتی ہے۔ دنیا کا کوئی بھی ملک ایسا نہیں ہے جہاں پر فرد کو مکلمل آزادی حاصل ہو۔ ریاستی قوانین کی پابندی اس کی ایک واضح مثال ہیں۔ آزادی اظہار کی اپنی حدود و قیود ہیں۔ امریکہ چیف جسٹس اولیور وینڈل ہومر نے امریکی سپریم کورٹ کے ایک فیصلے میں اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہا '' ”آزادی اظہار کا سب سے مضبوط تحفظ بھی اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ کوئی شخص کسی تھیٹر اورعوامی مقام میں اشتعال انگیزی سے غلط چلائے اور افراتفری پھیلائے''۔ اقوامِ متحدہ کے موجودہ سیکرٹری بانکی مون نے کہا '' ”اس اظہار خیال کی آزادی ہے جو اجتماعی فلاح کے لیے ہو لیکن وہ آزادی اظہار جس سے دوسروں کے لطیف جذبات مجروح ہوں یا ان کے اقدار اور ایمان کو ٹھیس پہنچے ان کو یہ قانون کوئی دفاع مہیا نہیں کرتا''۔ پوپ فرانس نے فرانس حملوں کے پس منظر میں بیان دیتے ہوئے کہا '' اظہارِ رائے کی آزادی میں کچھ ضروری حدود و قیود ہوتی ہیں خصوصا جب کسی کی مذہبی دل آزاری کی جائے۔ بہت سے لوگ مذاہب کے بارے میں بڑی تحقیر آمیز گفتگو کرتے ہیں، دوسروں کے مذاہب کا مذاق اڑاتے ہیں، یہ لوگ درحقیقت اشتعال دلانے کا کام کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے ساتھ وہی سلوک کیا جائے گا جو میرے دوست ڈاکٹر گیسپری کے ساتھ ہوگا۔ اگر وہ میری ماں کے خلاف کوئی توہین آمیز لفظ بولتا ہے ایسے عمل پر اسے میری طرف سے ایک مکے کی توقع ہی کرنی چاہیے''۔ پوپ صاحب نے بالکل درست کہا۔ یہ انسانی فطرت ہے کہ کوئی بھی شخص اپنے پیاروں کے بارے میں اہانت آمیز گفتگو برداشت نہیں کرسکتا اور مشتعل ہو جاتا ہے۔ اشتعال کے عالم وہ کسی بھی قسم کے ردِ عمل کا اظہار کرسکتا ہے۔ اور کوئی بھی ذی ہوش شخص اس ردِ عمل کے لیے اُس کو موردِ الزام نہیں ٹھہرا سکتا کہ اصل مجرم تو اشتعال دلانے والا ہے۔ مسلمان بہت سے فورمز پر اس بات کا برملا اظہار کر چکے ہیں کہ اللہ اور اللہ کے پیارے رسول ، ان کے متعلقین ہمیں اپنے عزیزوں سے بھی زیادہ عزیز ہیں، لیکن اس کے باوجود ان کے بارے میں توہین آمیز تحریر و تقریر کی نشر و اشاعت کھلے عام ہو رہی ہے ۔ احتجاج کے باوجود اسکی روک تھام کے لیے اقدامات نہیں کئے جارہے۔ اس تناؤ کی ذمداری کس پر عائد ہوتی ہے ؟؟؟ اور مسلمان اگر اس پر اپنے شدید ردِ عمل کا اظہار کریں تو ذمہ دار کون؟؟؟ بغیر حدود و قیود کے اظہارِ رائے کی آزادی فساد کا باعث بن رہی ہے اور اگر اس کی روک تھام نہ کی گئی تو شدید نوعیت کے نزاع کا باعث بھی بن سکتی ہے۔ یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ آزادی اظہارِ رائے کا مطلب دوسروں کی دل آزاری کرنا یا ان کے جذبات کو ٹھیس پہنچانا ہر گز ہے۔ اس ضمن میں بات بھی قابلِ غور ہے کہ عموما مسلمانوں پرالزام تراشی کی جاتی ہے کہ وہ جاہل، بے شعور،عدم برداشت کے حامل اور انسانیت دشمن ہیں۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آپ پڑھے لکھے، باشعور،با تحمل اور انسانیت دوست ہیں تو آپ ایسے مواد کی حوصلہ افزائی کیوں کرتے ہیں جو کہ نفرت اور شر انگیزی کو فروغ دے اور اشتعال کا باعث بنے؟؟؟؟ ایک ایسے عمل کو جس کی بدولت ایک پورے طبقے کو تکلیف پہنچتی ہو، ان کی دل آزاری ہوتی ہو اور وہ نفرت کے فروغ کا باعث ہو اس کس طرح ہم آزادی اظہارِ رائے کے تحت جائز قرار دے سکتے ہیں؟؟؟؟ جبکہ اقوامِ متحدہ کے پہلے آرٹیکل کی شق ۳ کے تحت ان حقوق کو ان الفاظ میں تسلیم کیا گیا ہے '' یہ قرار دیا جاتا ہے کہ معاشی، سماجی، ثقافتی اور اِنسانی نوع کے عالمی مسائل و تنازعات کے حل کے لیے اور انسانی حقوق کے اِحترام کے فروغ و حوصلہ اَفزائی کے لیے اور تمام بنی نوع انسان کے لیے نسل، جنس یا مذہب کی تفریق کے بغیر بنیادی اِنسانی حقوق کے تحفظ کی خاطر عالمی برادری کا تعاون حاصل کیا جائے گا''۔ اللہ تعالی مسلمانوں کو شر پسندوں سے محفوظ رکھے اور ہمیں دینِ اسلام پر استقامت عطا کرے ۔ آمین

حرم رسوا ہوا پیرِ کارواں کی کم نگاہی سے

2017-06-30 22:29:47 

حرم رسوا ہوا پیر کارواں کی کم نگاہی سے

یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ آج اخلاقی بگاڑ ہماری زندگی کے ہر شعبے میں موجود ہے. ہم اخلاقیات سے اس قدر عاری ہوچکے ہیں کہ نہ ہمیں خوشی منانے کا سلیقہ ہے نہ غم جھیلنے کا ڈھنگ. منتہائے جذباتیت ہمارے اعمال کا لازمی جزو بن چکا ہے. ہم ہر عمل میں شدت پسند ہیں. قوت برداشت کا عنصر مفقود اور طاقت و زور آزمائی میں ہم دشمن کی پہچان ہی بھلا چکے ہیں. ایک دوسرے سے اس طرح دست و گریباں ہیں گویا یہی مقصودِ حیات ہے. ہم میں سے ہر ایک اپنی ڈیڑھ انچ کی الگ مسجد بنا کر بیٹھا ہے. نیکی کرنا ہمارے لیے مشکل ترین فعل ہے. ہم بولتے ہیں تو جھوٹ ہماری باتوں کا حصہ ہوتا ہے. ہم سننا چاہتے ہیں تو صرف خوشامد, دیکھنا چاہتے ہیں تو رنگا رنگ محافل و امارت کے سنہرے خواب. ہم بحیثیت قوم ایسی اخلاقی پستی کا شکار ہیں کہ گوڈے گوڈے مادیت پرستی میں ڈوبے ہوئے ہیں. حالانکہ ہمارے اسلاف تو وہ تھے جو کفار کی پیش کردہ ہیرے جواہرات و خزانوں سے بھری طشتریاں اور حسین غلماء و کنیزیں نظر ڈالے بغیر واپس پلٹا دیتے تھے. جو اونچے محلوں کے نرم و گداز بستر چھوڑ کر دین اسلام کی تلواریں لیے میدانِ جنگ میں اپنی جانوں پر کھیل جاتے. جو راجاؤں کے ہاتھیوں پر مشتمل لشکروں کا مقابلہ رمضان کے روزوں کی بھوک وپیاس کے ساتھ کیا کرتے. جن کی فلگ شگاف آوازیں اللہ اکبر کے نعروں کے ساتھ انکے عزم و جذباتیت کا اظہار کرتیں. جو راتوں کو اسکی بارگاہ میں روتے, دن کو اس کے دین کی سر بلندی کی خاطر کٹ جاتے. جو فتح یاب ہوتے تو دشمن پر بھی مہربانیاں کرتے. جو حقوقِ اللہ اور حقوق العباد کی بہترین پاسداری کرتے. اخلاقیات کے ایسے نمونہ کہ اپنے مکان و مال اپنے بہن بھائیوں پر نچھاور کردیتے. مہمان نواز ایسے کہ خودآل واولاد بھوکے سوتے مہمان کی خوب خاطر تواضع کرتے. جو علم و ہنر کی ایسی مثال کہ اغیار انہیں اساتذہ کا درجہ دیتے. انکے دیے القابات کو سر کا تاج سمجھا جاتا. پھر ہمیں کیا ہوا؟؟؟ ہم اخلاقیات سے اس قدر عاری کیونکر ہوئے؟؟؟ ہم نے کس کی تقلید میں اپنے اسلاف کے اعلیٰ نمونہ حیات کو پس پشت ڈال دیا؟؟؟ حرمِ پاک کی عزت و ناموس کی بجائے ہم مے کدوں کے مشروبات کے شیدا اور رسیا کیونکر ہوگئے؟؟؟ آج ہمارا اتحاد پارہ پارہ ہوچکا ہے.اس لیے کہ اتحاد کی پہلی شرط ایمان دارانہ حق شناسی، دوسروں کی برتری کا شریفانہ اعتراف اور ایثار جیسی صفات ہیں۔ دشمن سے مقابلے کی بجائے ہم اپنوں کے گلے کاٹنے میں مصروف ہیں. ہماری میان سے نکلی سیف سے دشمن کا نہیں بلکہ اپنے ہی بھائی کا خون ٹپکتا ہے. ہم اغیار پرستی میں اس قدر کھوئے ہوئے ہیں کہ جہاں موقع ملے ایک دوسرے کو دھوکہ دے کر اغیار کو متاثر کرنے میں لگے رہتے ہیں. اپنے تھوڑے سے مفاد کی خاطر اپنوں کے خون سے ہاتھ رنگنے سے بھی دریغ نہیں کرتے. مادیت پرستی نے ہماری قابلیت و ذہانت کو زنگ لگا دیا ہے. ہم خود سے ہی ناامید ہیں. ہمارے خواص چاہے وہ علماء ہوں یا حاکم ہماری تربیت و حکومت کی اہلیت نہیں رکھتے. ہم اپنے خواص کے چناؤ میں نا اہل ہیں. ہمارے خواص ہم پر بصورتِ عذاب مسلط ہیں. ہم میں اکثر علم والے, عقل والے, شعور والے موجود ہیں. متعدد وہ ہیں جو صحیح اور غلط کی پہچان رکھتے ہیں. لیکن شخصیت پرستی میں مبتلا ہیں. اور اپنی مخالفت میں بولنے والوں کو دشمن سے بدتر سمجھتے ہیں. ہم تھوڑے سیکھے پر زیادہ بولنے لگتے ہیں. ہم متضاد باتیں چاہے وہ حقائق پر مبنی ہوں سننا نہیں چاہتے. ہم صبر کا سبق بھول چکے ہیں. اور اوقات آزمائش میں واویلا مچانے لگتے ہیں. سر پیٹنے لگتےہیں. صدمہ پر سینہ کوبی کرنے لگتے ہیں. شکر ہماری زندگیوں کا حصہ نہیں رہا. عبادات کو ہم نے رسم و رواج کی طرح پسِ پشت ڈال دیا اور رسم و رواج کو عبادات کی طرح معمولاتِ زندگی کا حصہ بنا لیا. ہم نے سیکھنا چھوڑدیا. ہم نے سکھانا بھی چھوڑدیا. ہم داعی نہیں رہے. نہ دعوت حق دیتے ہیں نہ سنتے ہیں. پتھرکھا کر لہولہان ہونے کے بعد دعا دینے کا حوصلہ تو دور ہم اس جملہ پر قائم ہوچکے ہیں کہ "نیکی کا تو زمانہ ہی نہیں". کیا واقعی نیکی کا زمانہ نہیں؟ کیا نیکی کی دعوت کے لیے رسول اللہ صلی علیہ وسلم , اصحاب , خلافاء کا زمانہ موضوع تھا؟ جنہوں نے پتھر بھی کھائے, تیر بھی, ننگے بدن ریت پر گھسیٹے بھی گئے لیکن حق گوئی نہ چھوڑی. ہمیں تو دین پلیٹ میں رکھا ہوا ملا. اور ہم ہیں کہ اسلاف کی قربانیوں کو رائیگاں کرنے پر تُلے ہوئے ہیں. نیکی کی دعوت تو دور نیکی کرنا بھی مشکل سمجھتے ہیں. اخلاقیات کو ہم نے نت نئ گالی, غم و غصہ, بد زبانی, لالچ, منافقت اور شر انگیز حرکات کے نیچے دبا دیا. یہی وجہ ہے آج دشمن ہم پر چاروں جانب سے حملہ آور ہے. قدرتی آفات ہم پر پے در پے آن وارد ہیں. اور ہم ہیں کہ آپس میں دست و گریبان ہیں. فرقہ واریت میں اس قدر ملوث ہیں کہ اپنے فرقہ کے علاوہ دوسرا ہر کوئی ہمیں کافر نظر آتا ہے. ہم پر ہر طرف سے ذلت مسلط ہے. اگر اب بھی ہم نے دین کے احکامات کی پاسداری نہ کی اور اسلاف کے نمونہ حیات کو اپنی زندگیوں کا حصہ نہ بنایا. اغیار کی فتنہ پرور محافل ومجالس کو حرم پاک کی ناموس پر قربان نہ کیا. اپنی صفیں حرم پاک کی سیدھ میں ترتیب نہ دیں اور اپنے منتشر ذرات کو اتحاد کی زنجیر سے نہ باندھا.تو ہمارا انجام بھی ایمان فروش اقوام سے کچھ مختلف نہ ہوگا.

کیا ہم جنیاتی طور پر ہندو ہیں؟؟

2017-07-08 06:59:20 

کچھ دنوں پہلے ایک گروپ میں بات کرتے ہوئے یہ الفاظ پڑھے کہ ہم جنیاتی طور پر ہندو ہیں ۔۔۔ کچھ سمجھ میں نہیں آیا سو وضاحت کا کہا ۔۔ جب وضاحت ملی تو ذہن میں مذیدالجھن بڑھ گئی ،سوچا اب کہ خود ہی اس سوال کا جواب تلاش کیا جائے۔ پتا تو چلے حقیقت کیا ہے؟؟؟ آئیے دیکھتے ہیں جینز کیا ہے؟؟؟ کروموسومز کا ایک بڑا حصہ جینز کہلاتا ہے۔۔ جینز دراصل ایک ایسا مورثی مادہ ہے جو والدین کی خصوصیات مثلاََ جلد، آنکھوں، بالوں وغیرہ کی رنگت، شکل و صورت اورعادتوں کو بچے میں منتقل کرتا ہے۔اسکے علاوہ جدید ریسرچ کی مدد سے ہم بچے کی پیدائش سے پہلے اسکی موروثی بیماری کا علاج کرسکتے ہیں، مجرموں کو پکڑ سکتے ہیں۔ یاد رکھنے کی بات کہ جینز والدین یا ان کے آباوّ اجداد کی شکل و صورت کی خصوصیات اور کچھ مخصوص عادتوں کو منتقل کرتا ہے۔ نہ کہ عقائد اور نظریات کو۔ ہماری رویے کی سائنس جسے عرف عام میں سائیکولوجی بھی کہا جاتا ہے کہتی ہے کہ '' اگرچہ کچھ رویوں کی بنیاد جینز پر ہے لیکن ماحول کو بنیادی حثیت حاصل ہے''۔ نفسیات کے ماہرین کہتے ہیں کہ فرد کےکردار ، نظریات ، عقائد اور اعمال اس کی پرورش اور اردگرد کے ماحول کے تابع ہوتے ہیں ۔ اگرچہ کچھ ریسرچیز کہتی ہے کہ کہ فرد کے وراثتی عادات میں اسکی جینز کا ہاتھ ہوتا ہے لیکن اس وراثتی جینز کا کردار فرد کے ماحول سے اکتساب شدہ رویے کی نسبت بہت کم ہوتا ہے۔ صرف اتنا ہی کہ جتنا ہم بعض اوقات کسی کے ترغیب دینے سے کوئی کام کرنے پر آمادہ ہو جاتے ہیں۔ رویے کو جانچنے والے ماہر نفیسات متفق ہیں کہ کسی بھی فرد کے رویے کو جانچنے کے لیے اس کے خاندان یا جینز سے زیادہ اس کے ماحول اور ماحول کے عوامل کو جاننا ضروری ہے، اور فرد کے ماحولیاتی عوامل کی بدولت ہی اس کے بارے میں بہتر پیشن گوئی کی جاسکتی ہے نہ کہ اسکے جینز کے بارے میں جاننے کے بعد۔اسکے ساتھ ساتھ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ انہیں اس بات پر شک ہے کہ انسانی رویے جینز کے تابع ہیں۔ اور پھر انسان کے ماحول، جگہ، گھر کی تبدیلی کے ساتھ ساتھ اس کے مزاج میں بھی تبدیلی رونما ہوتی ہے۔ عمر کے ساتھ ساتھ بھی انسان کے خیالات ، نظریات اور رویہ بدلتے رہتے ہیں ۔ اگر مزاج اور رویہ جینز کے تابع ہوتا تو کیا ایسا ممکن ہوتا؟؟؟ چلیں اگر تھوڑی دیر کو مان بھی لیں کہ جینز ہمارے مذہبی عقائد و نظریات پر اثر انداز ہوتی ہے تو آج سے چودہ سو سال پہلے یہ کیسے ممکن ہوا کہ ایک ایسا فرد جو کہ مشرکانہ ماحول اور تربیت میں پروان چڑھا وہ صرف اور صرف اپنے مذہبی عقائد اور نظریہ کی تبدیلی کی بنا پر اپنے قبیلے اور خاندان کا دشمن ہو جاتا؟؟؟؟ بطور مسلمان ہم نوزائیدہ بچے کے دائیں کان میں اذان دیتے ہیں اور بائیں کان میں اقامت کہی جاتی ہے۔۔۔ کیوں ؟؟؟ کیا صرف بطور رسم؟؟؟ یقیناََ رسم کے طور پر بھی دی جاتی ہے ۔ ماہرین نفسیات کہتے ہیں کہ انسانی دماغ کے دو حصے ہیں بالکل ہمارے جسمانی اعضاء کی طرح۔ جیسے ہمارے اعضاء اکٹھے کام کرنے کے علاوہ علیحدہ علیحدہ کام کرسکتے ہیں اسی طرح انسانی دماغ کے دو حصے ہیں۔ بائیں حصے کا تعلق ہماری باہر کی دنیا سے ہے جبکہ دائیں حصے کا تعلق ہماری باطنی قوتوں سے ہیں۔ یہ دونوں حصے علیحدہ علیحدہ کام کرنے کے علاوہ اکھٹے بھی کام کرتے ہیں۔ غور کریں نوزائیدہ بچے کے دائیں کان میں اذان دی جاتی ہے کہا جاتا ہے '' اللہ سب سے بڑا ہے اللہ سب سے بڑا ہے۔ میں گواہی دیتا/ دیتی ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔میں گواہی دیتا/دیتی ہوں کہ حضرت محمد ﷺاللہ کے آخری رسول ہے۔۔۔ تو یہ بات تو بچے کے لاشعور تک اتر گئی۔ اسی طرح جب بائیں جانب اقامت کہی جاتی ہے تو یہ الفاظ شعور میں داخل ہو جاتے ہیں۔اور اسطرح شعوری اور لاشعوری طور پر بچے کے دماغ کی اتھاہ گہرائیوں میں اتر جاتے ہیں۔ جب عقلی طور پر ایک فرد ان الفاظ کو اپنے دماغ میں سمو کر پروان چڑھے گا تو کیسے کوئی جینز اس پر اثر انداز ہوگی؟؟؟؟ اب جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ ان کا تعلق جینیاتی طور پر ہندووّں سے ہے اس میں کتنی حقیقت ہے ؟؟؟ اس کا اندازہ آپ خود لگا لیں۔ اب سوال یہ ہے کہ اپنے آپ کو جینیاتی طور پر ہندو کیوں کہا جائے۔۔۔ اس زہریلی سوچ کے ڈانڈے '' اکھنڈ بھارت'' کی خواہش رکھنے والوں سے جا ملتے ہیں۔ جو کہ کبھی یکساں ثقافت کا نعرہ لگاتے ہیں اور کبھی یکساں زبان کا۔ جن کو کبھی انسانیت کا نعرہ بھاتا ہے اور کبھی وہ خونی بٹوارہ کی دہائی دیتے نظر آتے ہیں۔ ان آوازوں کو مضبوطی دیتے ہیں میر جعفر و میر صادق کی روایات کے امین ہمارے اپنے۔ جن سے بچنے کے لیے ہمیں اپنے کان، آنکھ کھلا رکھنے کی اشد ضرورت ہے تاکہ ہمیں دوستوں دشمنوں میں فرق کا علم ہو سکے۔ اللہ تعالی پاکستان کو اپنے حفظ و امان میں رکھے۔ آمین

شہادت سے آزادی تک۔۔

2017-07-08 07:02:59 

پندرہ سالہ بچہ اپنے بڑے بھائی پر ہونے والے تشدد کے خلاف ہتھیار اٹھاتا ہے۔۔۔۔ فلمی سا لگتا ہے ۔۔ لیکن حقیقت ہے۔ اسکول کے پرنسپل کا بیٹا اور ممتاز طالب علم برہان وانی کے بھائی خالد وانی کو 2010ء میں عسکریت پسندوں کی بھرتیاں کرنے کے الزام میں ہندوستانی فورسز نے تشدد کا نشانہ بنایا۔ یہ واقعہ پندرہ سالہ برہان وانی کے ہتھیار اٹھانے کا سبب بنا اور وہ حزب المجاہدین میں شامل ہوگیا۔ اپنی شہادت سے ایک سال پہلے برہان وانی کی ایک ویڈیو منظر عام پر آئی تھی جس میں انہوں نے کشمیری نوجوانوں کو ہندوستان کے خلاف مسلح جدو جہد کا حصہ بننے کی دعوت دی تھی، یہ پہلا موقع تھا کہ کسی عسکری تنظیم کی جانب سے باقاعدہ طور پر نوجوانوں کو ہندوستانی فورسز کے خلاف مسلح جدوجہد میں حصہ لینے کی دعوت دی گئی تھی۔وانی کشمیر میں ہندوؤں کی آباد کاری کے خلاف تھا لیکن وہ کشمیری پنڈتوں کا کشمیر پر حق تسلیم کرتا تھا۔وہ مسئلہ کشمیر کے فلسطین کے طرز پر حل کے مخالف تھا۔وانی پہلا فرد تھا جس نے سوشل میڈیا کو تحریکِ آزادی کے لیے اپنا ہتھیار بنایا۔ اس نے پہلی بار گوریلا جنگ کے نئے اصول متعارف کروائے۔ نقاب اتار دیے، فوجی وردی زیب زن کی، بکتر بند گول ٹوپی پہنے یہ نوجوان اچانک نمودار ہو ہندوستانی فوج کا غرور خاک میں ملانے لگے۔ برہان وانی کے اس طرزِ عمل سے ہندوستان کا یہ پروپگینڈا خاک میں مل گیا کہ کشمیری نوجوان تحریک آزادی سے لا تعلق ہیں۔ وانی نے تحریک آزادی کو مقبول کر دیا کہ میر واعظ جیسے لیڈر یہ کہنے پر مجبور ہو گئے کہ تحریک آزادی کشمیر اب ہمارے ہاتھ سے نکل کر نوجوانوں میں منتقل ہوگئی ہے۔ سوشل میڈیا کو ہتھیار بنانے اور کشمیری نوجوانوں کو تحریک میں شامل کرنے کی پاداش میں 8 جولائی 2016ء کو برہان وانی کو دو ساتھیوں سمیت شہید کردیا۔ ان کے جنازے میں لاکھوں افراد نے شرکت کی ۔ برہان وانی کے جسد کو پاکستانی پرچم میں لپیٹ کر دفنایا گیا۔ یہ پاکستان کے لیے اعزاز کی بات ہے۔ شاید ہندوستان کا خیال تھا کہ برہان وانی کی شہادت کے بعد وہ کشمیر کی آزادی کی تحریک کو دبا لے گا۔ لیکن وانی کی شہادت کے بعد سے ہونے والے مظاہروں کا سلسلہ کسی نہ کسی شکل میں ابھی تک جاری و ساری ہے۔ ہندوستان پوری طاقت کے استعمال کے باوجود ان پر قابو نہیں پا سکا۔ اب تک کشمیری140 جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں۔ جبکہ پیلٹ گن سے نابینا ہونے والے لوگوں کی تعداد 7760 ہے جبکہ زخمی لاتعداد ہیں۔ انگنت قربانیوں کے بعد بھی کشمیریوں کا جذبہ حریت مانند نہیں پڑا ۔ وہ دن دور نہیں جب انہیں ہندوستان کے جابرانہ تسلط سے نجات مل جائے گی۔ گو کہ ہماری نالائق اور مفاد پرست لیڈر شپ اپنا فرض ادا نہ کر سکی لیکن پاکستانی عوام کے دل اپنے کشمیری بھائی بہنوں کے لیے ہمیشہ دعا گو رہتے ہیں۔ اللہ تعالی مقبوضہ کشمیر کے عوام کو آزادی کی نعمت سے سرفراز کرے۔ آمین

شخصیت پرستی اور ہم

2017-07-18 13:15:35 

ٹی وی پر کوئی سا نیوز چینل لگا لیں۔۔ ایک بندہ بشر منہ سے کف اڑاتے ، ہاتھ ہلاتے ہوئے اپنے لیڈر کی تعریف میں زمین آسمان کے قلابے ملاتا ہوا اور مخالف لیڈر کی ایسی کی تیسی کرتا ہوا نظر آئے گا۔۔۔ اور جو حسرت ٹی وی پر نہ نکل سکے وہ سوشل میڈیا کے ذریعے پوری کی جاتی ہے جہاں لوگ اپنے پسندیدہ لیڈر کے گن گان گاتے اور مخالف پر دشنام طرازی کرتے نظر آئیں گے۔ یہ شدت پسندانہ رویہ ہمیں ہر شعبے اور مکتبہ فکر کے لوگوں میں نظر آتا ہے ۔ اسی رویہ کا نام شخصیت پرستی ہے۔۔

شخصیت پرستی کا رحجان قدیم زمانے سے ہی کسی نا کسی شکل میں موجود رہا ہے۔ زمانہ قدیم میں مختلف قبائل کے سردار اپنے آپ کو دیوتا کہلواتے تھے ۔ یونان اور روما کے بادشاہ اپنے آپ کو دیوتاوں کا پسندیدہ قرار دیتے تھے اور رعیت کو فرض قرار دیتے تھے۔ تاریخ میں ایسے کئی نیک اور اللہ کے پسندیدہ بندوں کے نام ملتے ہیں جن کے مرنے کے بعد ان کی قوم نے ان کے مجسمے اور تصاویر بنا لیں اور تعلیمات کو بھلا کر ان مجسموں کی پرستش کرنے لگے۔ شخصیت پرستی کو انسانی فطرت قرار دیا جا سکتا ہے۔ اسی فطرت کے ہاتھوں مجبور ہو کر اس نے اپنے جیسے انسان کو سر آنکھوں پر بیٹھایا، اسے اپنے سے برتر اور بالادست سمجھا۔اس کی خامیوں سے صرفِ نظر کرکے اس کی خوبیوں کو بڑھا چڑھا کر بیان کیا ۔ کسی بھی کام کے غلط یا درست ہونے کا پیمانہ اس شخص کی ذاتی پسند نا پسند کو ٹھہرایا۔ شخصیت پرستی کے زیر اثر ہم سنی سنائی باتوں اور افواہوں پر یقین کر لینے، چھوٹی چھوٹی عنائیتو ں سے خوش ہو جانے ، جھوٹے وعدوں پر یقین کر لینے ، جذباتی تقاریر سے جوش میں آجانے اور ان شخصیات کے لیے لڑنے مرنے پر آمادہ ہو جاتے ہیں۔

دیکھا جائے تو انسان کا طرہ امتیاز سوچ سمجھنے کی صلاحیت ہے جو کہ اس کو باقی نوع سے منفرد کرتی ہے۔ دیگر نوع عقل و شعور سے بیگانہ ہوتیں ہیں جبکہ اللہ تعالی نے انسان کو عقل و شعور اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ودیعت کی اور اگر حضرت انسان اسی سوچنے سمجھنےکو بالائے طاق رکھ کر دوسروں کے احکام اور پسند کے مطابق کام کرے تو کیا اسے باشعور اور عقل مندانہ رویہ کہا جائے گا؟؟ یقیناََ جواب نہیں ہوگا۔

یہ اسی شخصیت پرستی کا اعجاز ہے آج ہمارا معاشرہ مسائلستان بن چکا ہے۔

سمجھنے کی بات یہ ہے کہ ہر '' انسان '' میں خوبیاں بھی ہوتیں اور خامیاں بھی۔ ہر انسان اپنے فائدہ کے لیے کبھی سچ اور جھوٹ کا سہارا لے سکتا ہے۔اس لیے کسی بھی فرد کی بیجا حمایت یا مخالفت کرنا صحت مندانہ رویہ نہیں ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے رویوں پر نظر ثانی کریں اور اس شدت پسند رویہ کی ہر سطح پر نفی کریں ، کیونکہ شخصیت پرستی میں جکڑے ہوئے لوگ اس ہجوم کی طرح ہیں جو کہ شور و غوغا تو کر سکتے ہیں لیکن معاشرے کی اصلاح نہیں۔

اللہ تعالی ہمیں سیدھی راہ پر چلنے اور عمل کرنے کی توفیق عطا کرے ۔ آمین

منتخب تحریریں

ٹی وی پر کوئی سا نیوز چینل لگا لیں۔۔ ایک بندہ بشر منہ سے کف اڑاتے ، ہاتھ ہلاتے ہوئے اپنے لیڈر کی تعریف میں زمین آسمان کے قلابے ملاتا ہوا اور مخالف لیڈر کی ایسی کی تیسی کرتا ہوا نظر آئے گا۔۔۔ اور جو حسرت ٹی وی پر نہ نکل سکے وہ سوشل میڈیا کے ذریعے پوری کی جاتی ہے جہاں لوگ اپنے پسندیدہ لیڈر کے گن گان گاتے اور مخالف پر دشنام طرازی کرتے نظر آئیں گے۔ یہ شدت پسندانہ رویہ ہمیں ہر شعبے اور مکتبہ فکر کے لوگوں میں نظر آتا ہے ۔ اسی رویہ کا نام شخصیت پرستی ہے۔۔

شخصیت پرستی کا رحجان قدیم زمانے سے ہی کسی نا کسی شکل میں موجود رہا ہے۔ زمانہ قدیم میں مختلف قبائل کے سردار اپنے آپ کو دیوتا کہلواتے تھے ۔ یونان اور روما کے بادشاہ اپنے آپ کو دیوتاوں کا پسندیدہ قرار دیتے تھے اور رعیت کو فرض قرار دیتے تھے۔ تاریخ میں ایسے کئی نیک اور اللہ کے پسندیدہ بندوں کے نام ملتے ہیں جن کے مرنے کے بعد ان کی قوم نے ان کے مجسمے اور تصاویر بنا لیں اور تعلیمات کو بھلا کر ان مجسموں کی پرستش کرنے لگے۔ شخصیت پرستی کو انسانی فطرت قرار دیا جا سکتا ہے۔ اسی فطرت کے ہاتھوں مجبور ہو کر اس نے اپنے جیسے انسان کو سر آنکھوں پر بیٹھایا، اسے اپنے سے برتر اور بالادست سمجھا۔اس کی خامیوں سے صرفِ نظر کرکے اس کی خوبیوں کو بڑھا چڑھا کر بیان کیا ۔ کسی بھی کام کے غلط یا درست ہونے کا پیمانہ اس شخص کی ذاتی پسند نا پسند کو ٹھہرایا۔ شخصیت پرستی کے زیر اثر ہم سنی سنائی باتوں اور افواہوں پر یقین کر لینے، چھوٹی چھوٹی عنائیتو ں سے خوش ہو جانے ، جھوٹے وعدوں پر یقین کر لینے ، جذباتی تقاریر سے جوش میں آجانے اور ان شخصیات کے لیے لڑنے مرنے پر آمادہ ہو جاتے ہیں۔

دیکھا جائے تو انسان کا طرہ امتیاز سوچ سمجھنے کی صلاحیت ہے جو کہ اس کو باقی نوع سے منفرد کرتی ہے۔ دیگر نوع عقل و شعور سے بیگانہ ہوتیں ہیں جبکہ اللہ تعالی نے انسان کو عقل و شعور اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ودیعت کی اور اگر حضرت انسان اسی سوچنے سمجھنےکو بالائے طاق رکھ کر دوسروں کے احکام اور پسند کے مطابق کام کرے تو کیا اسے باشعور اور عقل مندانہ رویہ کہا جائے گا؟؟ یقیناََ جواب نہیں ہوگا۔

یہ اسی شخصیت پرستی کا اعجاز ہے آج ہمارا معاشرہ مسائلستان بن چکا ہے۔

سمجھنے کی بات یہ ہے کہ ہر '' انسان '' میں خوبیاں بھی ہوتیں اور خامیاں بھی۔ ہر انسان اپنے فائدہ کے لیے کبھی سچ اور جھوٹ کا سہارا لے سکتا ہے۔اس لیے کسی بھی فرد کی بیجا حمایت یا مخالفت کرنا صحت مندانہ رویہ نہیں ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے رویوں پر نظر ثانی کریں اور اس شدت پسند رویہ کی ہر سطح پر نفی کریں ، کیونکہ شخصیت پرستی میں جکڑے ہوئے لوگ اس ہجوم کی طرح ہیں جو کہ شور و غوغا تو کر سکتے ہیں لیکن معاشرے کی اصلاح نہیں۔

اللہ تعالی ہمیں سیدھی راہ پر چلنے اور عمل کرنے کی توفیق عطا کرے ۔ آمین