بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ * لا الہٰ الا اللہ محمّد رسول اللہ * قُلْ هُوَ اللّـٰهُ اَحَدٌ - اَللَّـهُ الصَّمَدُ - لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُوْلَدْ - وَلَمْ يَكُنْ لَّـهٝ كُفُوًا اَحَدٌ

قادیانیت


قادیانی کی دلیل کا رد

2017-07-29 04:52:58 

قادیانی کی دلیل کا رد :۔ 
قادیانی:۔ 
محتر م ہم تو پہلے سے ہی سورۃ - ا لنساء - 70 - کے مطا بق جیسا کہ اس آ یت میں بتا یا گیا ہے کہ جو لو گ اللہ تعا لی اور ( ا س ر سو ل ) یعنی محمد ر سو ل اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی کا مل ا طا عت کر نے و ا لے ہو نگے - ان میں سے نبی بھی ہونگے ' صد یق بھی ہو نگے ' شہید بھی ہونگے اور صا لحین میں سے بھی ہو نگے یعنی وہ سب اللہ کے کے ا نعا م یا فتہ عا لی مرا تب کے حا مل ہو نگے - یعنی ا یسے سب مد ا رج اللہ اور ر سول اللہ کی خو شنو دی سے ہی حا صل ہو سکتے ہیں -

لیکن منکر ین میں تو تم لو گ ہو - یعنی جب کہ تمہیں قر ا نی آ یا ت سے د لا ئل بھیجے جا تے ہیں ' تو تم لو گ ان آ یا ت کا ا نکا ر کر دیتے ہو - - اور جو بھی ر سول اللہ پر نازل ہو ئ کتا ب کی آ یا ت کا ا نکا ر کر تے ہیں ' تو وہ گو یا اس ر سول اللہ کا بھی ا نکار کر نے وا لے ہیں - 
اس کے بعد اور کیا د لیل ہو سکتی ہے ؟ ؟ ؟ //
جواب:۔ 
قرآن کی من مانی تاویلات اور قرآنی الفاظ کو من چاہے معنی پہنانے کا کا م تو قادیانیوں کا من پسند کام ہے ۔ قرآن کو من چاہے معنی پہنا کر اس معنی کے منکر کو بڑے آرام سے منکر قرآن کہہ دیتے ہیں ۔ جس کی وجہ سے سادہ لوح لوگ ان کے جھانسے میں آ جاتے ہیں ۔ لیکن صاحب علم جانتے ہیں کہ یہ کس قدر بددیانت اور خائن ہیں جو قرآن جیسی لاریب کتاب تک میں تحریف معنوی سے باز نہیں آتے۔
مذکوہ بالا دلیل بھی اسی معنوی تحریف کی بدترین مثال ہے ۔ سب سے پہلی بات تو یہ کہ قادیانی کا حوالہ ہی غلط ہے یہ آیہ سورہ نساء کی 70 نہیں بلکہ اس سے قبل 69 نمبر آیہ ہے ۔
دوسرا قادیانی کے من چاہے معنی کے پوسٹ مارٹم کے لیئے میں آپ کے سامنے اس آیہ کے عربی الفاظ اور ان کا لفظ بہ لفظ ترجمہ رکھتا ہوں تاکہ اس کا دجل و فریب آشکار ہو سکے ۔
آیہ یہ ہے :۔
وَمَنْ يُّطِعِ اللّـٰهَ وَالرَّسُوْلَ فَاُولٰٓئِكَ مَعَ الَّـذِيْنَ اَنْعَمَ اللّـٰهُ عَلَيْـهِـمْ مِّنَ النَّبِيِّيْنَ وَالصِّدِّيْقِيْنَ وَالشُّهَدَآءِ وَالصَّالِحِيْنَ ۚ وَحَسُنَ اُولٰٓئِكَ رَفِيْقًا (سورۃ النساء 69)
اب اس آیہ کا لفظ بہ لفظ ترجمہ ملاحظہ فرمائیں :۔
وَمَنْ :۔ اور جو
يُّطِعِ :۔ اطاعت کرے
اللّـٰهَ وَالرَّسُوْلَ :۔ اللہ اور رسول ﷺ کی 
فَاُولٰٓئِكَ :۔ پس یہی لوگ
مَعَ الَّـذِيْنَ :۔ ان لوگوں کے ساتھ
اَنْعَمَ :۔ انعام کیا
اللّـٰهُ عَلَيْـهِـمْ :۔ اللہ نے ان پر
مِّنَ :۔ سے (یعنی)
النَّبِيِّيْنَ :۔ انبیاء 
وَالصِّدِّيْقِيْنَ :۔ اور صدیق
وَالشُّهَدَآءِ :۔ اور شہداء
وَالصَّالِحِيْنَ ۚ :۔ اور صالحین
وَحَسُنَ اُولٰٓئِكَ رَفِيْقًا :۔ اور یہ لوگ اچھے ساتھی ہیں۔ 
لفظ بہ لفظ اس ترجمے کو دیکھیں اور اس کے بعد قادیانی کے بتائے گئے ترجمے کو دیکھیں تو اس کا دجل و فریب اور منافقت آشکار ہو جاتی ہے ۔
قادیانی کہتا ہے کہ جو لوگ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی کامل اطاعت کرنے والے ہوں گے ان میں سے نبی بھی ہوں گے صدیقین و شہدا اور صالحین بھی معاذ اللہ 
قرآن کی اس آیہ کے ترجمے میں سے وہ ان الفاظ سے چشم پوشی کر گیا جو اس کے ساری دلیل کا ہی ستیاناس کر دیتے ہیں ۔ اس آیت کا درست ترجمہ یہ ہے کہ :۔ 
" اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کا فرمانبردار ہو تو ایسے لوگ ان کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے انعام کیا جو نبیوں اور صدیقوں اور شہیدوں اور صالحوں میں سے ہیں، اور یہ رفیق کیسے اچھے ہیں۔"
قرآن یہ کہتا ہے کہ جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرے وہ ان لوگوں کے ساتھ ہو گا جن پر اللہ نے انعام فرمایا اور پھر بتاتا ہے کہ وہ کون لوگ ہیں جن پر اللہ نے انعام کیا تو وہ لوگ انبیاء ، صدیقین، شہداء اور صالحین ہیں ۔ قرآن کی اس آیہ کا یہ مفہوم ہر گز نہین بنتا کہ کامل اطاعت کرنے والوں میں سے انبیاء ہونگے ۔
قادیانی کی یہ دلیل باطل ہے ۔ اور اپنی ہی پیش کردہ دلیل کے تحت قادیانی خود منکر قرآن اور منکر رسالت ہے ۔

منتخب تحریریں