بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ * لا الہٰ الا اللہ محمّد رسول اللہ * قُلْ هُوَ اللّـٰهُ اَحَدٌ - اَللَّـهُ الصَّمَدُ - لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُوْلَدْ - وَلَمْ يَكُنْ لَّـهٝ كُفُوًا اَحَدٌ

جدیدیت


کمیونزم اور انسانی حقوق

2017-06-11 08:25:53 

کمیونزم اور انسانی حقوق:۔ کمیونزم یوں تو محنت کش طبقہ کے معاشرتی و سماجی استحصال اور غیر طبقاتی سماج کی جدوجہد کے لیئے وجود میں آیا ۔ جس میں ہر فرد کو تمام سہولیات زندگی برابری کی بنیاد پر مہیا کرنے اور تمام ذرائع پیداوار عوام کی ملکیت ہونے کا خوش نما نعرہ لگایا گیا۔ لیکن کمیونزم کو جب روس و چین میں اقتدار ملا تو انہوں نے انسانی حقوق کی بدترین پامالی کی جس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی ۔ اس کے نتیجے میں پوری کی پوری اقوام کے حقوق سلب کر کے انہیں کمیونسٹ پارٹی کا غلام بنا دیا گیا۔ کمیونزم میں انسانوں کو جن بنیادی حقوق سے محروم کیا گیا اس کاخلاصہ درج ذیل ہے :۔ ٭ انسانوں کو ذاتی جائیداد رکھنے کے حق سے محروم کر دیا گیا۔ ہر شخص کی ملکیت میں جو پراپرٹی تھی اسے حکومت کی تحویل میں دے دیا گیا ٭ صرف اور صرف ایک سیاسی جماعت ، کمیونسٹ پارٹی کے قیام کی اجازت دی گئی۔ کسی شخص کو یہ حق حاصل نہ تھا کہ وہ کسی دوسری سیاسی پارٹی یا نظریے کی بنیاد رکھ سکے ٭سرکار ی نظریے اور اقدامات پر تنقید کرنے کا حق چھین لیا گیااور آزادی اظہار رائے کا مکمل طور پر خاتمہ کر دیا گیا۔ ٭ لوگوں کی جان ، مال اور عزت کے خلاف ہر قسم کی کارروائی کرنے کا حق سوویت انٹیلی جینس ایجنسی کو دے دیا گیا۔ ٭ جوزف اسٹالن کے دور میں کثیر تعداد میں ان لوگوں کو قتل کر دیا گیا جن کے متعلق ذرہ بھر بھی شبہہ تھا کہ وہ کمیونزم کے خلاف ہیں۔اسٹالن کے دور میں جن افراد کو سزائے موت دی گئی ان کی تعداد کا اندازہ اسی لاکھ سے لیکر پانچ کروڑ تک لگایا گیا ہے ۔درست اندازہ لگانا اس وجہ سے ممکن نہیں کہ سوویت حکومت کے ریکارڈز تک کسی کو بھی رسائی حاصل نہ تھی۔ ٭ بسا اوقات چند افراد کے جرائم کی سزا پوری کی پوری کمیونٹی کو دی گئی ۔ ان میں جرمن، یونانی، تاتار اور چیچنی کمیونٹیز شامل ہیں۔ ٭آزادی اظہار رائے پر ہر طرح سے پابندیاں عائد کی گئیں اور سنسر شپ کے قانون کو سختی کے ساتھ نافذ کیا گیا۔ ٭ عوام الناس پر اکٹھا ہو کر کوئی اجتماع کرنے یا تنظیم بنانے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی۔ ٭ مذہب پر پابندی عائد کر کے ہر مذہب سے تعلق رکھنے افراد کو بری طرح سے کچل دیا گیا۔ان میں مسلمان، عیسائی ، یہودی اور دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے سبھی شامل تھے ۔ ٭ حکومت کی اجازت کے بغیر کسی بھی شخص کو ملک سے باہر جانے کی اجازت نہ تھی ۔بعض شہروں کو "بند شہر" قرار دے کر سرے سے ہی ان میں داخلہ تک ممنوع قرار دے دیا گیا۔ ٭ کمیونسٹ چین میں روس کی بنسبت صورت حال قدرے بہتر تھی اور لوگوں پر روس کی بنسبت کم پابندیاں عائد کی گئیں۔مذہب کی اجازت دی گئی لیکن سخت پابندیاں عائد کرنے کے بعد۔سیاسی آزادی کو تقریباََ ختم کر دیا گیا اور ہر خاندان پر پابندی عائد کر دی کہ ایک سے زائد بچہ پیدا نہیں کر سکتے۔آزادی اظہار رائے کی اجازت پورے کمیونسٹ دور میں کبھی بھی نہیں رہی۔ ٭ کمیونسٹ نظام میں انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس نظام کی باقیات جو ابھی تک "کیوبا" میں موجود ہیں اس میں انسانوں پر اس قدر جبر روا رکھا گیا کہ اپریل 2008ء تک یہاں کے لوگوں کو کمپیوٹر تک رکھنے کی اجازت حاصل نہ تھی ۔ یہ ہیں وہ نظام جنہیں آج کل کے دیسی لیبرل اور ملحدین آئیڈیالائز کرتے ہیں ۔ ان حکومتوں میں انسانی حقوق کی جس برے طریقے سے پامالی کی گئی اس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی ۔

عارضہ نرگسیت

2017-06-15 03:36:59 

عارضہ نرگسیت
(معالج: لادینیت یا اسلام؟)

نرگسیت (Narcissism)
یونانی دیو مالائی قصوں میں نرگس ایک حسین شہزادی کا نام ہے. جو اپنے حسن جہاں سوز پر بے حد نازاں تھی. ایک بار جھیل میں غسل کرتے ہوئے شفاف پانی میں اسکی نگاہ اپنے ہی عکس جمیل پر پڑی تو اسی پر فریفتہ ہوگئ.
نرگسیت کی اصطلاح سگمنڈ فرائیڈ نے اسی قصے سے مستعار لی ہے. نرگسی شخصیت کا حامل خود بین,  خود پرست اور حُب ذات میں ڈُوبا ہوا ایک شخص ہے. جس کی تمام تر دلچسپیوں کا مرکز خود اسکا اپنا وجود ہے. انتہائی حالت میں ایسا شخص خبط عظمت اور احساسِ کبریائی کا شکار ہوجاتا ہے. اسکی توجہ اپنی ذات سے نہیں ہٹتی. اسے دوسرے تمام لوگ خود سے کمتر محسوس ہوتے ہیں. کبریائی کا زعم اس پر ایسا حاوی ہوتا ہے کہ وہ سمجھتا ہے یہ دنیا صرف اُسی کے لیے تخلیق کی گئ ہے. بسا اوقات وہ جنسی تنزلی کا اس قدر شکار ہوجاتا ہے کہ وہ جنسی جذبات کی تسکین کے لیے جنسیت کا فرق بھی سمجھ نہیں پاتا. نرگسی شخصیت کی پہچان کسی فرد کے پوشیدہ و ظاہری افکارواعمال اور گفتارو کردار کے بغور تجزیہ سے کی جاسکتی ہے. تاہم چند علامات حسبِ ذیل ہیں.
* ذوق خود آرائی
* توجہ طلبی
* بدگمانی 
* حسدو رقابت
* خوشامد پسندی
* ضعیف الاعتقادی
* غروروتکبر
ہم میں سے ہر انسان خواہ وہ مرد ہویا عورت کسی نہ کسی حد تک نرگسیت مزاج کا حامل ہے. اگر حدِ اعتدال پر رہیں تو نرگسیت شخصیت کی نشونما کا اہم جزو ثابت ہوتی ہے.  اب اعتدال پر بغیر اصول و ضوابط کے قائم نہیں رہا جاسکتا. وہ اصول و ضوابط جو انسانی نفسیات کو قابو میں رکھیں اور شخصیت و ذہنیت پر مثبت اثر انداز ہوں. مذہب اس سلسلے میں بہت اہم کردار ادا کرتا ہے. اورایسا مذہب جو فطرتِ انسانی پر مبنی اصول و ضوابط پیش کرتا ہو اس کی حقانیت کا اس سے بڑا ثبوت کیا ہوگا. دین اسلام فطرتِ انسانی کے تمام  اصول و ضوابط کی تعلیمات پر مبنی ہے. یہ  انسان کو غرورو تکبر, حسدورقابت, خوشامد پسندی, ذوق خود آرائی, توجہ طلبی, بدگمانی, ضعیف الاعتقادی جیسے جذبات و احسات کو معتدل رکھنے کی نہ صرف تعلیمات دیتا ہے بلکہ توجیحات بھی پیش کرتا ہے. اسکے ساتھ انسان کو سادگی, میانہ روی, خدمتِ خلق, عاجزی, عمدہ اخلاق اور اچھا گمان رکھنے کی تلقین کرتا ہے. جو بیک وقت باعث قلبِ سکینت وذہنی آسودگی کا سبب ہے.
اکثر دیکھنے میں آیا ہے جو لادینیت کا شکار ہوتے ہیں وہ نفسیاتی طور پر بھی کمزور ہوتے ہیں. احساسِ نرگسیت ان پر اسلیے زیادہ حاوی ہوتا ہے کہ وہ اپنے لیے مذہبی اصول و ضوابط کا انتخاب نہیں کرتے یا ایسے اصول و ضوابط منتخب کرتے ہیں جو نہ انسانی نفسیات کی تسکین کا باعث  بن سکتے ہیں اور نہ ہی معاشی اقدار و حقوق العباد کو پورا کرنے میں معاون ثابت ہوتے ہیں. انسان اپنی نرگسی نفسیات کو خود ساختہ اصولوں سے کبھی قابو نہیں رکھ سکا اور مستقبل میں بھی اس کے آثار کم ہی نظر آتے ہیں. لادین افراد اکثر اپنی ذات کے زعم میں مبتلا نظر آتے ہیں. اور چند افراد (جو انہی جیسی ذہنیت و اصولوں پر کاربند ہوتے ہیں) کے علاوہ سب کو کم تر اور کم علم سمجھتے ہیں. اور اسکا برملا اظہار کرتے بھی نظر آتے ہیں. جنسیت میں فرق کا امتزاج ان کے لیے ممکن نہیں ہوتا. اور ہم جنس پرستی کو نہ صرف درست سمجھتے ہیں بلکہ اس کی ترویج کرتے بھی نظر آتے ہیں. 
انسان کے خودساختہ قوانین اور اصول و ضوابط اگر اسکے لیے کافی ہوتے تو وہ خلافِ فطرتِ انسانی اور اخلاقی پستی کا شکار ہرگز نہ ہوتا.

سیکس ایجوکیشن۔۔۔ گمراہی کا ہتھکنڈہ

2017-06-23 07:27:42 

ابتدائے آفرینش سے ہی انسان اور شیطان کے درمیان نیکی اور بدی کی جنگ جاری ہے۔ شیطان نے پہلا وار انسان کی شرم و حیا پر ہی کیا تھا جسکے نتیجے میں انسان کو جنت سے نکلنا پڑا۔ شرم و حیا انسان کی فطرت کا بنیادی جزو ہے۔ یہ اگر عورت کا زیور ہے تو مرد کے لیے زینت ہے۔ اللہ تعالی نے مرد و عورت کے درمیان فطری کشش پیدا کی ہے جس کا مقصد نسلِ انسانی کی بقا ہے۔لیکن شیطان مردود اس جذبے کو استعمال کرتے ہوئے انسان کو اشرف المخلوقات سے اسفل السافلین کے درجے پر دھکیلنے میں مسلسل کوشاں ہے۔ سیکس ایک فطری جذبہ ہے جو کہ قدرت نے ہر جاندار میں پیدا کیا ہے۔ اللہ تعالی کی طرف سے یہ ودیعت کردہ جذبہ ایک دوسرے کے لیے الفت و محبت کا سبب بنتا ہے جسکے ذریعے ایک جوڑا نہ صرف اپنی نسل میں اضافہ کرتا ہے بلکہ اپنی پوری زندگی ایک دوسرے کے ساتھ بسر کرتا ہے۔ لیکن آجکل اسی فطری جذبے کو مغرب تہذیب نے نوجوان نسل کو شخصی آزادی کے نام پر مادر پدر آزادی دی ہے اور اسے صرف جسمانی تسکین اور عیاشی کا ذریعہ بنا لیا ہے۔ جسکے نتیجہ میں میں ہر دوسری لڑکی کی گود میں ناجائیز بچہ ہوتا ہے جسکے باپ کا بھی کوئی علم نہیں ہوتا۔ہم جنس پرستی عام ہے۔ شادی اور خاندان جیسے انسیٹیوٹ تباہی کی دہانے پر ہیں۔ میاں بیوی کے درمیان پیار و محبت نام کی کوئی چیز نظر نہیں آتی ۔محرم یا نامحرم کی تمیز کئے بغیر صرف جنسی تسکین ہی مقصود ہوتی ہے۔ حتی کے فیملی سیکس کے نام پر مغربی معاشرہ اپنی غلاضت کی آخری حد کو چھو رہا ہے۔مغربی معاشرے میں زندگی کا مفہوم صرف اور صرف جنسی تسکین اور عیاشی ہی رہ گیا ہے۔ مغربی اخبارات لیے گئے اعدادو شمار کے مطابق صرف برطانیہ میں ناجائیز بچوں کی تعداد اکتالیس فیصد اور امریکہ میں تنتیس فیصد ہے۔ برطانیہ میں طلاق کا تناسب اکاون اور امریکہ میں پچاس فیصد ہے۔ ہالینڈ میں '' سیکس فری '' قانون کے مزے لوٹنے والوں میں تیس فیصد سے زائد لڑکیاں ایسی ہیں جو کہ اپنے ہی سگے باپ یا بھائی کے گناہ کا نتیجہ بھگت رہی ہوتی ہیں۔ امریکہ میں ہر چھ منٹ کے بعد عصمت دری کا واقعہ پیش آتا ہے اور سویڈن جیسے مہذب ملک میں ستر فیصد لڑکیاں شادی سے پہلے حاملہ ہوجاتی ہیں۔ گلوبلائزیشن کے اس دور میں ماڈرن ازم اور سیکس ایجوکیشن کے نام پر اسلامی معاشرے میں بھی اسی آزادی کی ترویج کی کوشش کی جا رہی تاکہ نوجوان نسل کو ذہنی عیاشی کا عادی بنایا جائے۔ اور اس کا ہتھیار بنے ہوئے ہیں ہمارے مغربی تہذیب اور نام نہاد ماڈرن ازم کے دلدادہ افراد جو کہ سیکس ایجوکیشن کے نام پر عریانیت کی ترویج اور اسلام کے خلاف پروپیگنڈا میں مصروف ہیں۔ نوجوان کسی بھی معاشرے کا سرمایہ ہوتے ہیں، اگر ان کے ذہنوں کو ملک و قوم اور مذہب کے خلاف کر دیا جائے تو اس قوم کو نیست و نابود کرنے کا سامان ہو جاتا ہے۔ یہی آج ہمارے نوجوانوں کے ساتھ ہو رہا ہے۔۔۔ سیکس ایجوکیشن کے نام پر ان کے شہوانی جذبے کو ہوا دی جا رہی ہے اور مذہب کی طرف سے عائد کردہ پابندیوں کو ان کے لیے دقیانوسی اور ناروا کہہ ان کے ذہنوں میں اپنے من پسند نظریات ٹھونسے جا رہے ہیں۔ کوشش کی جا رہی ہے کہ معاشرہ مغربی شہوانیت پرستی کے سیلاب میں بہہ کر حیوانیت کی سطح پر اتر آئے۔ یہی وجہ ہے کہ آج ہمیں معاشرے میں بےراہ روی،بےحیائی، انتشار اور نفسانفسی کا عالم نظر آتا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ معاشرتی اقدارو اخلاق کو شکست و ریخت سے بچانے کی خاطر معاشرے کا ہر فرد اپنا کردار ادا کرے اور اپنے آپ کو دینِ اسلام کے قالب میں ڈھالے۔ اللہ تعالی ہمیں دشمنانِ اسلام کےشر سے محفوظ فرمائے۔ آمین

آگاہ رہیں اور آگاہ کرتے رہیں

2017-08-30 11:07:14 

آگاہ رہیں 
دین اسلام واحد دین ہے جو بغیر کسی تغیر و تبدل کے ہم تک ہو بہو ویسا ہی پہنچا ہے جیسا کہ پیغمبر اسلام حضرت محمد ﷺ کے دور میں تھا۔
یہ وہ واحد دین ہے جسے اللہ نے کامل و اکمل کیا اور وہ واحد دین ہے جس پر اللہ عزوجل راضی ہوا۔
" اَلْيَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِىْ وَرَضِيْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِيْنًا" 
(سورۃ المائدہ:3)
یہ وہ واحد دین ہے جو اللہ عزوجل کی بارگاہ اقدس میں مقبول ہے اور اس کے علاوہ سبھی ادیان و مذاہب مردود ہیں
وَمَنْ يَّبْتَـغِ غَيْـرَ الْاِسْلَامِ دِيْنًا فَلَنْ يُّقْبَلَ مِنْهُۚ وَهُوَ فِى الْاٰخِرَةِ مِنَ الْخَاسِرِيْنَ (آل عمران:85)
اور جو کوئی اسلام کے سوا اور کوئی دین چاہے تو وہ اس سے ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا، اور وہ آخرت میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوگا۔
تو زرا سوچیئے 
ایسا دین جس کی خود اللہ عزوجل تکمیل فرما رہا ہو، جس سے خود رب کائنات راضی ہو اور جس کے علاوہ کوئی بھی دین بارگاہ الٰہی میں مقبول نہ ہو، کیا اس میں کسی بھی قسم کی ملاوٹ ہو سکتی ہے ؟
کیا ایسے دین کے بنیادی عقائد و معاملات اور عبادات و احکامات میں کسی بھی قسم کی تحریف اور تغیر و تبدل ممکن ہے َ؟
ایک ایسا دین جو ساڑھے چودہ سو سال سے چلا آرہا ہے جس میں ذرہ بھر بھی تغیر و تبدل وقوع پذیر نہ ہوا نہ ہو گا اور نہ ہو سکے گا، اس کی حقانیت میں شبہہ ممکن ہے؟
ایک ایسا دین جس کے ہم تک پہنچانے والے اپنے اپنے عہد کے صادق ترین اور سب سے بڑھ کر متقی و پرہیزگار لوگ تھے جن کی زبانیں کذب جیسے فعل سے ساری زندگی پاک و صاف رہیں، وہ تحریف شدہ ہو سکتا ہے ؟
ایک ایسا دین جس کے ہم تک پہنچانے والوں کی اول تا آخرمکمل سوانح حیات محفوظ ہے ان کی ثقاہت و فقاہت، حفظ و عدالت اور صادق و امین ہونے کی ہزارہا گواہیاں موجود ہیں وہ جھوٹا ہو سکتا ہے ؟
اس قدر متقی و پرہیزگار سلف صالحین اور خلف پر جھوٹ باندھ کر کبھی ان کی خدمات کو تشکیک کی نظر سے دیکھنا اور کبھی انہیں معاذ اللہ مجوسی سازش قرار دینا ظلم نہین تو اور کیا ہے ؟
اور حد یہ کہ دین اسلام کے نماز جیسے بنیادی اور اہم ترین رکن کی حثیت کو مشکوک بنانے کی کوشش کرنا اور یہ باور کرانے کی مذموم کوشش کرنا کہ نماز جیسا اہم ترین رکن دین معاذ اللہ زرتشت مذہب سے لیا گیا، یہ ذہنی پسماندگی، دل کے اندھے پن اور بے جا تعصب کی کارستانی نہیں تو اور کیا ہے ؟
کیا اللہ عزوجل یہ گوارا کر سکتا ہے کہ اس کے کامل و اکمل اور محبوب دین جس سے وہ راضی ہوا اس میں مشرکوں اور کفار کی رسومات بطور دین رواج پا جائیں اور پوری کی پوری امت مسلمہ اجماعی طور پر ان کا اہتمام کرے اور ان پر دین کے نام سے عمل پیرا ہو ؟
ہرگز نہیں !
ایسا ہر گز ممکن نہیں 
اس لیئے منکرین حدیث نام نہاد اہل قرآن کے بھیس میں چھپے نیم ملحدوں کے گھناؤنے کردار سے آگاہ رہیں اور دین کے متعلق ان کی پھیلائی گئی تشکیک سے ذہن کو آلودہ مت ہونے دیں 
آگاہ رہیں کہ وہ دین جو اللہ کا محبوب دین ہے اس میں کبھی شرکیہ اور کفریہ اعمال بطور دین رواج نہین پا سکتے 
آگاہ رہیں اور آگاہ کرتے رہیں !!!

منتخب تحریریں

آگاہ رہیں 
دین اسلام واحد دین ہے جو بغیر کسی تغیر و تبدل کے ہم تک ہو بہو ویسا ہی پہنچا ہے جیسا کہ پیغمبر اسلام حضرت محمد ﷺ کے دور میں تھا۔
یہ وہ واحد دین ہے جسے اللہ نے کامل و اکمل کیا اور وہ واحد دین ہے جس پر اللہ عزوجل راضی ہوا۔
" اَلْيَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِىْ وَرَضِيْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِيْنًا" 
(سورۃ المائدہ:3)
یہ وہ واحد دین ہے جو اللہ عزوجل کی بارگاہ اقدس میں مقبول ہے اور اس کے علاوہ سبھی ادیان و مذاہب مردود ہیں
وَمَنْ يَّبْتَـغِ غَيْـرَ الْاِسْلَامِ دِيْنًا فَلَنْ يُّقْبَلَ مِنْهُۚ وَهُوَ فِى الْاٰخِرَةِ مِنَ الْخَاسِرِيْنَ (آل عمران:85)
اور جو کوئی اسلام کے سوا اور کوئی دین چاہے تو وہ اس سے ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا، اور وہ آخرت میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوگا۔
تو زرا سوچیئے 
ایسا دین جس کی خود اللہ عزوجل تکمیل فرما رہا ہو، جس سے خود رب کائنات راضی ہو اور جس کے علاوہ کوئی بھی دین بارگاہ الٰہی میں مقبول نہ ہو، کیا اس میں کسی بھی قسم کی ملاوٹ ہو سکتی ہے ؟
کیا ایسے دین کے بنیادی عقائد و معاملات اور عبادات و احکامات میں کسی بھی قسم کی تحریف اور تغیر و تبدل ممکن ہے َ؟
ایک ایسا دین جو ساڑھے چودہ سو سال سے چلا آرہا ہے جس میں ذرہ بھر بھی تغیر و تبدل وقوع پذیر نہ ہوا نہ ہو گا اور نہ ہو سکے گا، اس کی حقانیت میں شبہہ ممکن ہے؟
ایک ایسا دین جس کے ہم تک پہنچانے والے اپنے اپنے عہد کے صادق ترین اور سب سے بڑھ کر متقی و پرہیزگار لوگ تھے جن کی زبانیں کذب جیسے فعل سے ساری زندگی پاک و صاف رہیں، وہ تحریف شدہ ہو سکتا ہے ؟
ایک ایسا دین جس کے ہم تک پہنچانے والوں کی اول تا آخرمکمل سوانح حیات محفوظ ہے ان کی ثقاہت و فقاہت، حفظ و عدالت اور صادق و امین ہونے کی ہزارہا گواہیاں موجود ہیں وہ جھوٹا ہو سکتا ہے ؟
اس قدر متقی و پرہیزگار سلف صالحین اور خلف پر جھوٹ باندھ کر کبھی ان کی خدمات کو تشکیک کی نظر سے دیکھنا اور کبھی انہیں معاذ اللہ مجوسی سازش قرار دینا ظلم نہین تو اور کیا ہے ؟
اور حد یہ کہ دین اسلام کے نماز جیسے بنیادی اور اہم ترین رکن کی حثیت کو مشکوک بنانے کی کوشش کرنا اور یہ باور کرانے کی مذموم کوشش کرنا کہ نماز جیسا اہم ترین رکن دین معاذ اللہ زرتشت مذہب سے لیا گیا، یہ ذہنی پسماندگی، دل کے اندھے پن اور بے جا تعصب کی کارستانی نہیں تو اور کیا ہے ؟
کیا اللہ عزوجل یہ گوارا کر سکتا ہے کہ اس کے کامل و اکمل اور محبوب دین جس سے وہ راضی ہوا اس میں مشرکوں اور کفار کی رسومات بطور دین رواج پا جائیں اور پوری کی پوری امت مسلمہ اجماعی طور پر ان کا اہتمام کرے اور ان پر دین کے نام سے عمل پیرا ہو ؟
ہرگز نہیں !
ایسا ہر گز ممکن نہیں 
اس لیئے منکرین حدیث نام نہاد اہل قرآن کے بھیس میں چھپے نیم ملحدوں کے گھناؤنے کردار سے آگاہ رہیں اور دین کے متعلق ان کی پھیلائی گئی تشکیک سے ذہن کو آلودہ مت ہونے دیں 
آگاہ رہیں کہ وہ دین جو اللہ کا محبوب دین ہے اس میں کبھی شرکیہ اور کفریہ اعمال بطور دین رواج نہین پا سکتے 
آگاہ رہیں اور آگاہ کرتے رہیں !!!