بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ * لا الہٰ الا اللہ محمّد رسول اللہ * قُلْ هُوَ اللّـٰهُ اَحَدٌ - اَللَّـهُ الصَّمَدُ - لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُوْلَدْ - وَلَمْ يَكُنْ لَّـهٝ كُفُوًا اَحَدٌ

اسلام اور سائنس


اسلام اور سائنس

2017-06-15 13:01:09 

سائنس عقل کے تابع ہے اور وحی عقل سے ماورا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔! اللہ رب العزت کی وحی کا پہلا لفظ تھا "اقراء " یعنی پڑھو ۔ لیکن "باسم ربک الذی خلق" اس رب کے نام کے ساتھ جس نے تمہیں پیدا کیا ! "خلق الانسان من علق" کس چیز سے پیدا فرمایا "علق" یعنی خون کے جمے ہوئے لوتھڑے سے ۔ مزید آگے فرمایا "علم الانسان مالم یعلم" یعنی انسان کو وہ سب سکھایا جو وہ پہلے نہیں جانتا تھا ۔ پہلی وحی میں ہی اللہ عزوجل نے انسان کی تخلیق کے متعلق آگاہ فرما دیا کہ انسان جمے ہوئے خون کے لوتھڑے سے پیدا کیا گیا ! اور اس انسان کو اللہ عزوجل نے وہ علم سکھایا جس نے اسے تمام مخلوقات میں سب زیادہ معزز و محترم اور شرف والا بنا دیا۔ جس نے انسان کو مسجود ملائکہ بنا کر تمام مخلوقات میں عزت بخشی !جس نے انسان کو عقل و شعور اور علم کی روشنی عطا فرما کر زمین پر اپنا نائب و خلیفہ بنایا ! اور انسان کو وہ سب کچھ سکھا دیا جس سے انسان اس سے قبل واقف تک نہ تھا ! انسان کو جو بھی علم ملا وہ اللہ رب العزت نے عطا فرمایا ! اللہ رب العزت نے انسان کے اندر تحقیق و جستجو کی لگن اور تڑپ پیدا کی ۔ اپنی آخری الہامی کتاب "قرآن عظیم" میں متعدد بار کائنات پر غور و فکر کرنے کی دعوت دی ! انسان کو مظاہر فطرت پر غور کرنے کی ترغیب دلائی ! دن کے رات میں بدلنے اور رات کے دن میں بدلنے کو اپنی نشانیاں قرار دیا ! ان نشانیوں میں غور و فکر اور تدبر کرنے کا حکم دیا ! فرمایا:۔ إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ وَاخْتِلاَفِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَالْفُلْكِ الَّتِي تَجْرِي فِي الْبَحْرِ بِمَا يَنفَعُ النَّاسَ وَمَا أَنزَلَ اللّهُ مِنَ السَّمَاء مِن مَّاء فَأَحْيَا بِهِ الأرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَبَثَّ فِيهَا مِن كُلِّ دَآبَّةٍ وَتَصْرِيفِ الرِّيَاحِ وَالسَّحَابِ الْمُسَخِّرِ بَيْنَ السَّمَاء وَالأَرْضِ لآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَعْقِلُونَ (البقرۃ ۔ 164) بیشک آسمانوں اور زمین کی پیدائش، رات اور دن کا ہیر پھیر ، کشتیوں کا لوگوں کو نفع دینے والی چیز کو لیے ہوئے سمندروں میں چلنا ، آسمان سے پانی اتار کر مردہ زمین کو زندہ کر دینا ، اس میں ہر قسم کے جانوروں کو پھیلادینا ، ہواؤں کے رخ بدلنا، اور بادل، جو آسمان اور زمین کے درمیان مسخر ہیں ۔،ان میں عقلمندوں کے لیے قدرتِ الہٰی کی نشانیاں ہیں " آج سائنس بھی اس بات کو تسلیم کرتی ہے کہ تخلیق کے وقت زمین انتہائی گرم تھی اور گیسوں سے گھری ہوئی تھی ۔اس حالت میں زمین پر پانی کی موجودگی ناممکن تھی ! زمین پر پانی کہاں سے آیا اس کی ابتداء کیسے ہوئی آج تک سائنس بتانے سے قاصر ہے سوائے تک بندیوں اور مفروضوں کے ! اور یہ پانی صرف زمین ہی پر کیوں آیا دیگر سیاروں پر کیوں نہیں اترا اس معاملے میں سائنس خاموش ہے ۔ یہاں اللہ عزوجل خالق و مالک کائنات فرماتا ہے " وَمَا أَنزَلَ اللّهُ مِنَ السَّمَاء مِن مَّاء فَأَحْيَا بِهِ الأرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا" یہ اللہ عزوجل ہی ہے جو آسمانوں سے پانی برسانے والا ہے مردہ زمین پر ! اس زمین پر جو اپنے اندر زندگی کو قائم رکھنے کی صلاحیت نہیں رکھتی ۔ اس مردہ زمین پر پانی برسا کر اسے زندہ کرنا یعنی اسے زندگی کو قائم رکھنے کے قابل بنانے والا اللہ عزوجل ہی تو ہے ! وہی تو ہے جو زمین کو زندہ کر کے اس میں جانداروں کا پیدا کرنے والا ہے ! وہی تو ہے جو ہواؤں کے رخ بدلتا ہے !وہی تو ہے جو دن کو رات میں اور رات کو دن میں بدلتا ہے ! وہی تو ہے جو ہر شئے کا خالق ہے ! وہی تو ہے جو اپنے منکرین کو یوں کہہ کر غور و فکر کی دعوت دیتا ہے :۔ " نَحْنُ خَلَقْنَاكُمْ فَلَوْلَا تُصَدِّقُونَ () أَفَرَأَيْتُمْ مَا تُمْنُونَ () أَأَنْتُمْ تَخْلُقُونَهُ أَمْ نَحْنُ الْخَالِقُونَ (الواقعہ:۵۷۔۵۹) ''ہم ہی نے تم سب کو پیدا کیا ہے پھر تم کیوں باور نہیں کرتے۔اچھاپھر یہ بتلائوکہ جو منی تم ٹپکاتے ہو۔ کیا اس کا (انسان)تم بناتے ہو یا پیدا کرنے والے ہم ہی ہیں۔ '' أَفَرَأَيْتُمْ مَا تَحْرُثُونَ () أأَنْتُمْ تَزْرَعُونَهُ أَمْ نَحْنُ الزَّارِعُونَ () لَوْ نَشَاءُ لَجَعَلْنَاهُ حُطَامًا فَظَلْتُمْ تَفَكَّهُونَ (الواقعہ:۶۳۔۶۵) ''اچھاپھریہ بھی بتلائو کہ تم جو کچھ بوتے ہو،اسے تم ہی اُگاتے ہو یا ہم اُگانے والے ہیں۔ اگر ہم چاہیں تو اسے ریزہ ریزہ کر ڈالیں اور تم حیرت کے ساتھ باتیں بناتے رہ جاؤ۔'' أَفَرَأَيْتُمُ النَّارَ الَّتِي تُورُونَ () أَأَنْتُمْ أَنْشَأْتُمْ شَجَرَتَهَا أَمْ نَحْنُ الْمُنْشِئُونَ (الواقعہ:۷۱،۷۲) کبھی تم نے خیال کیا کہ یہ آگ جو تم سلگاتے ہو، اس کا درخت تم نے پیدا کیا ہے یا اس کے پیدا کرنے والے ہم ہیں؟"'' اللہ عزوجل غور و فکر کرنے کی دعوت دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ غور تو کرو نطفے سے انسان تخلیق کرنے والا کون ہے ؟ بیج تم اگاتے ہو ؟ یا خالق کائنات؟ جس درخت کو جلا کر تم آگ حاصل کرتے ہو اس کا پیدا کرنے والا کون ہے ؟ یہ ایسے سوالات ہیں جن کے جواب سے سائنس قاصر ہے ! وَمِنْ آيَاتِهِ خَلْقُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافُ أَلْسِنَتِكُمْ وَأَلْوَانِكُمْ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ لِلْعَالِمِينَ (الروم:۲۲) ''اس( کی قدرت )کی نشانیوں میں سے آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور تمہاری زبانوں اور رنگتوں کا اختلاف (بھی ) ہے۔ دانش مندوں کے لیے اس میں یقینا بڑی نشانیاں ہیں ۔'' اتنی بڑی اور وسیع و عریض زمین اور اس پر چھت کی مانند آسمان اس کو کس نے پیدا کیا؟ کیا یہ سب کچھ یونہی بلاوجہ بلامقصد پیدا ہو گیا ؟ مذہب تو دور کی بات کیا عقل اس بات کو تسلیم کرتی ہے کہ اتنی بڑی زمین اور اتبا بڑا آسمان خود بخود ہی پیدا ہو گیا ؟ زمین کے ہر خطہ میں موجود انسانوں کی رنگت الگ الگ ہے کوئی سرخ ہے کوئی سفید کوئی کالا ہے کوئی سانولا، اسی حساب سے ہر ایک کی زبان بھی الگ الگ ہے ! کیا سائنس اور عقل اس کی کوئی توجیح کر سکتے ہیں ؟ جب انسان کی پیدائش کا مآخذ ایک تو رنگت و زبان الگ الگ کیوں ہیں ؟ کیا سائنس یہ بتا سکتی ہے کہ جانور جو گھاس چرتا ہے وہ اس کے پیٹ میں سے گوبر اور دودھ کی شکل میں کیسے الگ الگ ہو جاتی ہے ؟ الغرض کائنات کی ہر شئے کائنات کا ذرہ ذرہ مشیت الٰہی کے تابع ہے ! سائنس جہاں بے بسی کی انتہاؤں کی چھوتی نظر آتی ہے وہاں میرے رب کریم کی صدا آتی ہے "کن " ہو جا "فیکون" پس وہ ہو جاتا ہے سائنس لاکھ چاہے خالق کی موجودگی کا انکار نہیں کر سکتی ! کیونکہ انکار ایسے ایسے سوالات کو جنم دیتا ہے جن سے نبرد آزما ہونا سائنس کے بس کی بات نہیں ! سائنس کا علم محدود ہے ! اس کے نظریات میں تغیر و تبدل واقع ہوتا رہتا ہے ! آج ایک نظریہ پیش کرتی ہے کل اسی کی نفی کرتی نظر آتی ہے ! اس کے برعکس دین اسلام کے عقائد و نظریات اٹل، قطعی اور ناقابل تردید ہیں جن میں صدہا سال سے کسی بھی قسم کا تغیر و تبدل واقع نہیں ہوا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔! اس لیئے دین اسلام کو سائنس کی کسوٹی پر نہیں بلکہ سائنس کو دین اسلام کی کسوٹی پر پرکھنا ہی منطقی اور عقلی لحاظ سے درست ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔!

کائنات ارض و سماء کی سائنسی تحقیق

2017-06-15 17:51:09 

ارض کا معنی نظام شمسی میں گردش پذیر جس سیارے میں ہم رہائش رکھتے ہیں، ارض (Earth، زمین) کہلاتا ہے۔ یہ لفظ عام طور پر آسمان کے مقابل بولا جاتا ہے۔ لغت عرب میں ہر نچلی چیز ارض سے تعبیر کی جاتی ہے۔ امام راغب لکھتے ہیں: الارض يعبربها عن اسفل الشئ کما يعبر بالسمآء عن اعلاه. کبھی ارض کا لفظ بول کر کسی چیز کا نیچے کا حصہ مراد لیتے ہیں جس طرح سماء کا لفظ اوپر والے حصے پر بولا جاتا ہے۔ (المفردات : 73) قرآن مجید نے ہر جگہ ارض کا صغیہ واحد ہی استعمال کیا ہے۔ جمع (ارضون یا ارضین) کا صیغہ استعمال نہیں کیا۔ تاہم کئی زمینوں کا وجود یوں بھی ثابت ہوتا ہے کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے : اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ وَمِنَ الْأَرْضِ مِثْلَهُنَّ. اللہ وہی ہے جس نے سات آسمان اور انہی کی طرح زمین بھی (اپنی ہی قدرت و حکمت سے) پیدا کی۔ (الطلاق، 65 : 12) اس آیت کریمہ سے اس امر پر روشنی پڑتی ہے کہ زمینیں بھی آسمانوں کی طرح سات یا متعدد ہیں۔ سات آسمانوں کا معنی السمآء کا لفظ سما، یسمو سے ہے، جس کے معنی بلندی کے ہیں۔ لغت عرب میں ہے : سماء کل شی أعلاه. ہر چیز کے اوپر جو کچھ ہے وہ اس چیز کا سماء ہے۔ (المفردات : 427) لہذا کرہ ارض کے اوپر جس قدر کائنات موجود ہے، وہ عالم سماوات ہے، بلکہ خود کرہ ارض کے اندر وہ بالائی طبقۂ فضا جہاں بادل اڑتے ہیں اور ٹھنڈک کے باعث آبی قطرات کی صورت میں بارش بن کر برستے ہیں، بھی ’’سماء،، کہلاتا ہے ارشاد باری تعالیٰ ہے : وَّأَنزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً. اور آسمانوں کی طرف سے پانی برسایا۔ (البقره، 2 : 22) بنا بریں زمین کے اوپر کا طبقۂ کائنات عالم طبیعی کی آخری حد تک عالم سماء کہلاتا ہے۔ اسلام اور یونانی فلسفے کے موقف میں فرق عام طور پراہل علم نے مختلف زمانوں میں فلسفیانہ تصورات کی بناء پر آسمانوں کی ماہیت اور حقیقت متعین کرنے کی کوشش کی ہے، اسی وجہ سے کسی نے چاند کو پہلے آسمان میں مرکوز، سورج کو چوتھے آسمان میں اور دیگر سیار گان فلکی کو دوسرے آسمانوں میں مرکوز قرار دیا۔ کسی نے اس سے مختلف ترتیب بیان کی۔ عوام الناس نے بعض علماء کی ان تحریروں سے یہ اخذ کیا کہ شاید یہی اسلام کا موقف ہے اور یہی کچھ قرآن و حدیث سے ثابت ہے۔ یہ تاثر کلیتاً غلط ہے۔ قرآن وحدیث کی کوئی ایک نص بھی اس تصور کی تائید نہیں کرتی۔ یہ موقف دراصل قدیم علماء ہیت کا تھا، جو یونانی فلسفے پر مبنی تھا۔ دینی کتابوں میں اس کے بیان ہوجانے کی وجہ سے اسے غلط طور پر دینی تعلیمات کی طرف منسوب کردیا گیا۔ یہی وجہ تھی کہ جب تسخیر ماہتاب کاواقعہ پیش آیا تو بعض لوگوں نے کم فہمی کی بناء پر اسے دینی تصورات کے منافی سمجھا۔ حالانکہ اس واقعے کا امکان دینی تصورات اوراسلام کے بیان کردہ حقائق کے عین مطابق تھا۔ اس میں عقلاً و نقلا ًکسی قسم کی مخالفت نہ تھی کیونکہ سورج، چاند اور دیگر سیارے کرہ ارض کے اوپر کروڑوں، اربوں میلوں پر محیط بالائی طبقے میں گردش کرتے ہیں۔ یہ تمام سماوی طبقات اپنے اپنے ’’افلاک،، (Orbits) میں محو گردش ہیں۔ جو زمین اور آسمان کے درمیان واقع ہیں۔ ابن ابی حاتم اور ابوالشیخ نے حسان بن عطیہ سے روایت کیا ہے : الشمس و القمر و النجوم مسخرة فی فلک بين السماء و الارض. شمس و قمر اور تمام سیارگان، آسمان اور زمین کے درمیان اپنے فلک یعنی مدار (Orbit) میں گردش کررہے ہیں۔ (الدرالمنثور، 4 : 318) یہ ارشاد اس قرآنی آیت کی تعبیر میں وارد ہوا ہے : کُلٌّ فِيْ فَلَکٍ يَسْبَحُوْنَo تمام (آسمانی کرے) اپنے اپنے مدار کے اندر تیزی سے تیرتے چلے جاتے ہیں۔ (الانبياء، 21 : 33) امام ابن جریر رحمۃ اللہ علیہ اورامام ابن ابی حاتم رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت ابن زید رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے : الفلک الذی بين السماء و الأرض من مجاری النجوم و الشمس و القمر. ’’فلک،، سے مراد آسمان اور زمین کے درمیان واقع مدار ہیں، جن میں تمام ستارے، سورج اور چاند (سمیت تمام اجرام فلکی) گردش کرتے ہیں۔ (تفسير الدرالمنثور، 4 : 318) اس امر کی وضاحت اس قول سے بھی ہوتی ہے : الفلک موج مکفوف تجري فيه الشمس و القمر و النجوم. ’’فلک،، آسمانوں کے نیچے خلا کا نام ہے جس میں سورج، چانداور ستارے گردش کرتے ہیں۔ (تفسير کبير، 22 : 167) امام رازی رحمۃ اللہ علیہ رحمۃ اللہ علیہ نے مزید بیان کیا ہے کہ فلک ستاروں کے مدار یعنی ان کی گردش کے راستوں کوکہتے ہیں: وهو فی کلام العرب کل شئي مستدير وجمعه أفلاک. لغت عرب میں ہر گول شے کو فلک کہتے ہیں اس کی جمع افلاک ہے۔ (تفسيرکبير، 22 : 167) امام ابوالبرکات نسفی رحمۃ اللہ علیہ نے یہاں تک صراحت بیان فرمائی ہے : و الجمهور علی أن الفلک موج مکفوفٌ تحت السماء تجري فيه الشمس و القمر و النجوم. . . يسيرون اي يدورون جمہور علماء کا مذہب یہی ہے کہ فلک آسمانوں کے نچیے خلا کا نام ہے جس میں سورج، چاند اور دیگر سیارے مستدیراً گردش کرتے ہیں۔ (تفسير المدارک، 3 : 78) اس لحاظ سے جتنے سیارے بھی خلا میں گردش کرتے ہیں، ہر ایک کا مدار اس کا فلک کہلاتا ہے۔ ابتداء علم ہیت (ASTROMONY) کے ماہرین کا خیال تھا کہ سیاروں کی کل تعداد 7 ہے اور ان میں ہر سیارہ جس مدار میں موجود ہے وہی اس کا فلک ہے۔ بنا بریں عالم بالا کل سات افلاک میں منقسم ہے، پہلے میں چاند ہے، دوسرے میں عطارد، تیسرے میں زہرہ، چوتھے میں شمس، پانچویں میں مریخ، چھٹے میں مشتری اور ساتویں میں زحل، جیسا کہ امام رازی رحمۃ اللہ علیہ نے دور قدیم کے علماء ہیت کا یہ قول نقل کیا ہے۔ (تفسیرکبیر، 26 : 77) بعض مسلمان اہل علم کی فکری لغزش ہمارے خیال میں جب یہی نقطہ نظر بعض علماء اسلام نے اپنی کتابوں میں درج کیا تواسی سے یہ تصور پیدا ہوگیا کہ سات آسمانوں میں سے ہر آسمان میں ایک سیارہ ہے اوروہ آسمان اسی سیارے کے نام سے موسوم ہے۔ یہ ایسا مغالطہ تھا جو سات افلاک کے تصور اور سات آسمانوں کے تصور کے درمیان التباس (CONFUSION) کے باعث پیدا ہوا۔ پھر بقول شیخ طنطاوی جوہری جب فلسفہ یونانی پرفارابی اور ابن سینا کی تصانیف عربی زبان میں منظر عام پر آئیں تو 9 افلاک کا تصور قبولیت پاگیا۔ چنانچہ اس کی توجیہہ بعض علماء اور فلاسفہ نے یوں کی کہ ان سے مراد سات آسمان، کرسی اور عرش ہے۔ کرسی، فلک الثوابت ہے اور عرش، فلک محیط۔ یہ تعبیرات اس وجہ سے اسلامی لٹریچر میں شامل ہوگئیں کہ مختلف ادوار میں جب کوئی نئی فلسفیانہ یا سائنسی تحقیق منظر عام پر آئی بعض اہل علم نے اسے قرآنی آیات پر یا قرآنی آیات کو اس پر منطبق کرنے کی کوشش کی۔ حالانکہ وہ تحقیق فی نفسہا حتمی اور قطعی نہ تھی۔ عقلاء، فلاسفہ اور سائنسدان تجربات اور مشاہدات کی بنا پر اقدام وخطاء (TRIAL & ERROR) کے انداز میں اپنی نئی سے نئی تحقیقات پیش کر رہے تھے۔ ان تحقیقات کو اسلامی تصورات بنانے کی کوشش نے ایسے کئی موضوعات میں علمی مغالطے پیدا کر دیئے جو اب تک بعض اہل علم کے ہاں منتقل ہوتے چلے آرہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ان بے بنیاد اور غلط تصورات کی کوئی سند قرآن و حدیث میں نہیں ملتی۔ جوں جوں انسانی عقل اپنے سائنسی تجربات و مشاہدات کی بناء پر ترقی کررہی ہے۔ عالم بالا کے ہزاروں نئے طبقات منصہ علم پر آرہے ہیں۔ نظام شمسی اور عالم افلاک پہلے جن سیاروں کی کل تعداد 9 بیان کی گئی تھی موجودہ سائنس نے یہ حقیقت منکشف کردی ہے کہ یہ 9سیارے (Planets) تو صرف نظام شمسی (SOLAR SYSTEM) میں موجود ہیں جن کے نام یہ ہیں : 1۔ عطارد (Mercury) 2۔ زہرہ (Vencus) 3۔ زمین (Earth) 4۔ مریخ (Mars) 5۔ مشتری (Jupiter) 6۔ زحل (Saturn) 7۔ یورینس (Uranus) 8۔ نیپچون (Neptune) 9۔ پلوٹو (Pluto) ہماری زمین کے گرد واقع چاند کی طرح ان 9 سیاروں کے گرد کل 61 چاند موجود ہیں ان کے علاوہ تقریباً 45,000 سے زائد Astroids بھی اس نظام شمسی میں موجود ہیں۔ مزید برآں کئی ایسے مزید سیارے تصور کیے جاتے ہیں جو اسی نظام میں ہیں لیکن ابھی تک ظاہر نہیں ہوئے۔ یہ سب وہ سیارے ہیں جو سورج کے گرد اپنے اپنے مدار میں محو حرکت ہیں پھرخود مذکورہ بالا بڑے سیاروں (PLANETS) کے گرد گردش کرنے والے کئی سیارے ہیں جنہیں Satellites کہا جاتا ہے۔ ہمارا چاند (Moon) ان میں سے سب سے بڑا ہے اور زمین کے گرد محو گردش ہے، جس کا ذکر قرآن مجید ان میں الفاظ میں کرتا ہے : وَجَعَلَ الْقَمَرَ فِيهِنَّ نُورًا. اور ان میں (تمہارے لئے) چاند کو چمکنے والا بنایا۔ (نوح، 71 : 16) کچھ اجرام فلکی ہیں جنہیں COMETS کہا جاتا ہے یہ نام غالباً قرآن حکیم کی اصطلاح الجوار الکنس سے اخذ کیا گیا ہے، جس کا ذکر سیاروں ہی کے ضمن میں یوں آیا ہے : فَلَا أُقْسِمُ بِالْخُنَّسِO الْجَوَارِ الْكُنَّسِO پھر میں قسم کھاتا ہوں چلتے چلتے (پیچھے) پلٹ جانے والے تاروں کی (اور قسم کھاتا ہوں) سیدھے چلنے والے (اور) رکے رہنے والے تاروں کی۔ (التکوير، 81 : 15، 16) Comets بھی سورج کے گرد گھومتے ہیں اور مختلف مدتوں میں اپنا مدار مکمل کرتے ہیں۔ ان میں سے ایک HALLEY'S COMET سے نام سے معروف ہے۔ جو سورج کے گرد اپنا مدار مکمل کرنے میں اوسطاً 77برس لگاتا ہے، گویا 77 برس میں ایک بار نظر آتا ہے، بقیہ عرصہ چھپا رہتا ہے۔ آخری بار HALLAY'S COMETS 80, 156 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے 9 فروری 1986ء کو سورج کے قریب سے گزرا European Space Agency ۔(ESA) کے خلائی جہاز Giotto نے اس کے انتہائی قریب جاکر اس کی تصاویر اتاریں اور اہل زمین کیلئے زمینی سٹیشن کو ارسال کیں۔ یہ COMET اب دوبارہ ان شاء اﷲ سورج کے قریب 29 اپریل 2061ء کو گزرے گا۔ الکنس میں چھپنے کا مفہوم بھی پایا جاتا ہے صاحب المحیط رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں : الکنس هی الخنس لانها تکنس فی المغيب. ’’الکنس،، کا معنی چھپنا اور گم جانا ہے۔ وجہ تسمیہ یہ ہے کہ وہ (Comet) کسی نادیدہ مقام کی وسعتوں میں کھو جاتا ہے۔ (القاموس المحيط، 2 : 256) مزید برآں کچھ چھوٹے چھوٹے اجرام فلکی اور بھی ہیں جو METEORS کہلاتے ہیں۔ وہ بھی سورج کے گرد چکر لگاتے رہتے ہیں۔ کبھی کبھی یہ زمین کی بالائی فضا میں داخل ہوتے ہیں مگر حرارت کی شدت کے باعث جل کر راکھ ہوجاتے ہیں۔ ان کے ٹوٹنے سے جو منتشر چمکتے ہوئے ذرات شعلوں اور چنگاریوں کی صورت میں گرتے ہیں انہیں SHOOTING STARS کہتے ہیں۔ انہی کا ذکر قرآن مجید میں یوں آیا ہے : وَلَقَدْ زَيَّنَّا السَّمَاءَ الدُّنْيَا بِمَصَابِيحَ وَجَعَلْنَاهَا رُجُومًا لِّلشَّيَاطِينِ. اور بے شک ہم نے آسمانِ دنیا کو چراغوں سے مزین کیا ہے اور ان کو شیاطین کے مارنے کا ذریعہ بھی بنایا ہے۔ (الملک، 67 : 5) اندازہ یہ ہے کہ تقریباً دس کروڑ METEORS روزانہ زمین کی بالائی فضا میں داخل ہوتے ہیں۔ کہکشاں کی وسعت کروڑوں کی تعداد میں پائے جانے والے یہ سب چھوٹے بڑے اجرام صرف نظام شمسی کا حصہ ہیں اور سورج عالم افلاک کے کروڑوں ستاروں میں سے ایک اوسط درجے کا ستارہ (STAR) ہے۔ جس کا Diameter (قطر) 1,400,000کلومیٹر ہے۔ سورج ہماری زمین سے 149,600,000 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ روشنی ایک لاکھ چھیاسی ہزار تین سو میل فی سیکنڈ کے حساب سے سفر کرتی ہے۔ اس کے باوجود روشنی کی ایک کرن جو سورج سے نکلتی ہے، زمین تک پہنچنے میں آٹھ منٹ لگا دیتی ہے۔ جیسا کہ ہم نے پہلے عرض کیا کہ جس طرح زمین، نظام شمسی کے بے شمار سیاروں میں سے ایک ہے۔ اسی طرح سورج 15,000,000,000 ستاروں پر مشتمل کہکشاں (Milky Way) میں سے ایک ہے۔ جب کہ اس کہکشاں کی وسعت اور مسافت کااندازہ اس امر سے لگایئے کہ اسی کہکشاں میں سورج کے بعد ہم سے قریب ترین ستارے Proxima Centauri کی روشنی اسی رفتار سے چل کر چار سال سے زائد عرصہ میں ہم تک پہنچتی ہے۔ جو روشنی صرف ایک سیکنڈ میں ایک لاکھ چھیاسی ہزار تین سو میل طے کرتی ہے، وہ ایک سال میں کتنے ارب میل کی مسافت طے کرتی ہوگی! اور پھر چار سال کے عرصے میں طے ہونے والی مسافت کا عالم کیا ہوگا! اسی طرح ہماری کہکشاں کا ایک ستارہ ALTAIR جس کی روشنی زمین تک 1600 سال میں پہنچتی ہے۔ ’’DENEB،، نامی ستارے کی روشنی زمین تک 1500سال میں پہنچتی ہے۔ یہاں تک کہ کچھ ستارے ایسے ہیں جن کی روشنی زمین تک کئی ہزار سال بعد پہنچتی ہے۔ بلکہ اس وقت تک کی تحقیقات کے مطابق اس کائنات میں ایسے ستارے بھی موجود ہیں جن کی روشنی کے زمین تک پہنچنے کا کل عرصہ پچاس ارب سال بنتا ہے۔ صرف ہماری کہکشاں کی لمبائی اس قدر ہے کہ اس کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک روشنی ایک لاکھ سال کے عرصے میں پہنچتی ہے اوراسکی موٹائی کے رخ کا فاصلہ دس ہزار سال کے عرصے میں طے کرتی ہے۔ یہ وسعت تو صرف اس کہکشاں Milky Way کی ہے جس میں ہماری زمین واقع ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس جیسی کئی کروڑ کہکشائیں (GALAXIES) عالم افلاک میں موجود ہیں۔ امریکہ کی National Optical Astronomy Observations کی تحقیق کے مطابق تقریباً 400 کہکشائیں (Galaxies) توآپس میں ہی منسلک نظر آتی ہیں۔ باقی کہکشاؤں کے سلسلوں کا کیا حال ہے اور یہ سارا عالم افلاک جس کی کل وسعت اور مسافت کااندازہ انسان اپنی تصوراتی قوت سے بھی نہیں کرسکتا، پہلے آسمان یعنی سماء الدنیا سے نیچے واقع ہے۔ لہذا یہ سب صرف پہلے آسمان کے نیچے وسعتوں کا عالم ہے، خدا جانے اس سے اوپر کی وسعتوں کا کیا حال ہے۔ اسی طرح دوسرے، تیسرے، چوتھے اور بالآخر ساتویں آسمان تک کی کائنات کس قدر وسیع ہے۔ اس کے بعد عرش اور مافوق العرش کی وسعتوں کا عالم کیا ہوگا! یہ ساری تفصیل اس لئے عرض کی گئی تاکہ اس کی روشنی میں اتنی بات سمجھی جاسکے کہ مختلف سیاروں، ستاروں، کہکشاؤں اور نظام ہائے نجوم کی آئے دن دریافت ہونے والی نئی سے نئی تقسیمات اور تحقیقات کو سات آسمانوں کی حقیقت قرار نہیں دیا جاسکتا۔ سائنس ابھی تک آسمان دنیا کی کہکشاؤں اور ستاروں کی تلاش میں سرگرداں ہے۔ وہ تو صرف اس معلوم عالم افلاک کی جملہ حقیقتوں کا احاطہ بھی نہیں کرسکی جب کہ سبع سماوات کی حقیقت اس سے کہیں بلند ہے۔ ممکن ہے آئندہ زمانوں کی سائنسی تحقیق اس عالم بالا کے وجود کا کوئی نشان پا سکے۔ اس کی حقیقت و ماہیت اور اس کی تقسیم کا جو کہ سات طبقات پر مشتمل ہے کوئی مزید سراغ پا سکے۔ کیونکہ انسان کا آسمانوں تک پہنچنا اور ان کی حقیقت کی خبر پانا شریعت کی رو سے نہ تو ناممکن ہے اورنہ ہی اس میں کوئی امر مانع ہے۔ یہاں تک کہ اصول فقہ کی بعض کتابوں میں یہ تصریح ملتی ہے کہ اگر کوئی شخص آسمان پر جانے کی قسم کھالے تو اس کی قسم منعقد ہوجائے گی کیونکہ آسمان پر جانا ممکنات میں سے ہے۔ اس سے اس بات کی طرف بھی رہنمائی ملتی ہے کہ اسلامی تحقیقات پر مشتمل سینکڑوں ہزاروں سال پرانے لٹریچر میں بھی آسمان کی وسعتوں میں سفر کو ممکن سمجھا جاتا تھا۔ مذکورہ بالا ساری تفصیل فقط عالم طبیعی سے متعلق ہے جبکہ مابعد الطبیعی عالم کا تو سائنس ادراک بھی نہیں کرسکتی۔ قرآن مجید میں عالم طبیعی کی تقسیم ان تین حصوں میں کی گئی ہے : 1۔ آسمانی کائنات (HEAVENS) 2۔ زمینی کائنات (EARTH) 3۔ فضائی کائنات (SPACE) ارشاد ربانی ہے : ألَّذِيْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَيْنَهمَا فِيْ سِتَّةِ أيَّامٍ ثُمَّ اسْتَویٰ عَلٰی الْعَرْشِ. (وہی ہے) جس نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان دونوں میں ہے چھ دن میں پیدا کیا۔ پھر (اپنے) عرش (قدرت و حکمت) پر قائم ہوا۔ (الفرقان، 25 : 59) اس وقت سائنس اپنی تحقیق کے فضائی دور (Age of space) میں داخل ہوچکی ہے تاہم اس کی تمام تر وسعتوں کا مکمل اندازہ تاحال سائنس نہیں لگا سکی۔ قرآن مجید کے الفاظ وَمَا بَيْنَھُمَا آسمان اور زمین کی درمیانی کائنات یعنی Space اور Intermediary creation کی واضح نشاندہی کر رہے ہیں۔ انسانی علم تو ابھی تک فقط عالم طبیعی کے تیسرے حصے Space کی وسعتوں کے اندازے میں گم ہے، جبکہ آسمانی کائنات اس سے کہیں زیادہ وسیع و عریض ہے۔ پھر اس کے اختتام پر مابعدالطبیعی عالم یعنی کائنات عرش اور مافوق العرش کا آغاز ہوتا ہے۔ جہاں باری تعالی کا مقام استوار ہے اور یہ سب کچھ العالمین کا مصداق ہے۔ اس عالم طبیعی کی تخلیق کے چھ دن میں کیے جانے کا مفہوم معروف معنوں میں ہرگز چھ دن نہیں کیونکہ اس وقت تو سورج اور رات دن کی تخلیق بھی عمل میں نہیں آئی تھی اور معروف دنوں کی تقسیم کا سلسلہ سورج کی تخلیق کے بعد ہی شروع ہوا۔ لہذا 6 دنوں سے مراد تخلیق کے 6 ادوار ہیں جن میں کائناتی تخلیق کا نظام ارتقائی مرحلے طے کرکے یہاں تک پہنچا ہے۔

اسلام اور دماغی فنکشنز

2017-07-27 15:54:58 

فنکشن کے لحاظ سے انسانی دماغ کو تین حصوں میں کیٹگرائزڈ کیا جاتا ہے.

ریپٹیلین برین،

لِمبک برین اور

لاجیکل برین.

ریپٹیلین برین ریپٹائیلز یعنی رینگنے والے جاندار مثلاً کینچوا، کیکڑا، بچھو، سانپ وغیرہ کی دماغی صلاحیات صرف جسمانی ضروریات پوری کرنے تک محدود ہیں. خوراک اور جنسی اختلاط کے علاوہ انکی کوئی دوسری ضروریات نہیں. یہ جذباتی یا عقلی خصوصیات نہیں رکھتے. عموما دیکھا گیا ہے کہ یہ جانور اپنی پیدائش کے موسم میں ایک بڑی تعداد میں انڈوں سے نکلتے ہیں اور بغیر کسی گائیڈنس کے یہ اپنی دماغی خصوصیات کے لحاظ سے زندگی گزارنے لگتے ہیں. انسان کے دماغ کا یہ حصہ ریپٹائیلز کی طرح صرف جسمانی ضروریات کا احساس دلاتا ہے. بھوک و پیاس و دیگر جسمانی ضروریات کی انفارمیشن ریپٹیلین برین سے جاری کی جاتی ہیں. جو انسان کو بنیادی ضروریات پورا کرنے کے بارے میں آگاہی فراہم کرنے کا ذریعہ ہے.
لِمبک یا میمیلِک برین میملز یعنی اپنے بچوں کو دودھ پلانے والے جانور مثلاً گائے، بھینس، بکری، بندر، شیر، چیتا وغیرہ انکی ذہنی صلاحیتیں جسمانی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ ساتھ اموشنل یعنی جذباتی ضروریات پر بھی مشتمل ہوتی ہیں، خوراک، جنسی اختلاط اور دیگر جسمانی ضروریات کے ساتھ ساتھ ان میں خوشی اور غمی کے تاثرات دینے اور سمجھنے کی بھی صلاحیت موجود ہوتی ہے. نر و مادہ اپنے بچوں سے بے انتہا پیار کرتے ہیں. جذباتی ضروریات انہیں ایک دوسرے کے قریب رکھتی ہیں. یہ جانور قدرتی طور پر ماحول سے متاثر بھی ہوتے ہیں اورایک دوسرے کا احساس کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں. اور نظر انداز کیے جانے کے احساس کو بخوبی سمجھتے ہیں. انسانی دماغ بھی میملز کی طرح لِمبک نظام کی خصوصیت رکھتا ہے. دیگر جسمانی ضروریات کے ساتھ انسان کو اموشنل سیٹیسفیکشن کی بھی ضرورت ہوتی ہے. اگر اموشنل سیٹیسفیکشن نہ ملے تو انسان نتیجتاًہیجان اور دباؤ کی کیفیات کا شکار ہوجاتا ہے. جس سے دفاعی کمزوریاں جنم لیتی ہیں.

لاجیکل برین انسانی دماغ کا بڑا حصہ لاجیکل برین پر مشتمل ہوتا ہے. جس سے انسان کسی بھی چیز کے عقلی دلائل یا بصری مشاہدے کے بعد اُسے قبول یا رد کرنے کی خصوصیت رکھتا ہے. عقل اور غوروفکر کی یہ صلاحیت اُسے فیصلہ کرنے میں مدد دیتی ہے. اور اسی عقل کی بدولت وہ تمام تر جانداروں سے افضل ہے اور اشرف المخلوق کا درجہ رکھتا ہے. انسان ذہین ترین مخلوق ہے کیونکہ اسکی دماغی صلاحیت تمام تر جانداروں کی نسبت زیادہ ہے. یہ ناصرف عقل رکھتا ہے بلکہ اسکا بہترین استعمال بھی جانتا ہے. لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ایک بچے کو بنسبت ایک بالغ کے عقلی یا جسمانی ضروریات کی بجائے اموشنل سیٹیسفیکشن کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے. اسکی وجہ یہ ہے کہ بچے کا دماغ ماحول سے آہستہ آہستہ متاثر ہوتا ہے اور آغاز میں بچہ خود سوچنے سمجھنے کی بجائے ماحول پر انحصار کرتا ہے. اگر اس کی اموشنل نیڈز (جذباتی ضروریات) بروقت پوری نہ کی جائیں تو نتیجتاً وہ ضدی، چڑچڑے پن اور ذہنی دباؤ کا شکار ہوجاتا ہے.

جیسے جیسے عمر گزرتی ہے مسلسل مشاہدے اور ماحول کے انفلوینس کی بدولت انسانی دماغ جذباتیت کی بجائے عقلی دلائل کو ترجیح دینے لگتا ہے اور عوامل کو بغیر وجہ کے قبول نہیں کرتا. اللہ نے انسان کو عقل کی نعمت عطا کی اور اسی عقل کے درست یا غلط استعمال پر وہ رب کو جواب دہ ہے. دماغ کا وہ حصہ جو لاجیکل یعنی عقلی صلاحیتوں پر مشتمل ہوتا ہے. فرونٹل کورٹیکس کہلاتا ہے. فرونٹکل کورٹس کے لیے عربی میں ناصیہ کا لفظ موجود ہے. تو ہم کہہ سکتے ہیں ناصیہ ان تمام تر خصوصیات پر مشتمل عضو ہے. جو انسان کو تحقیق کرنے کے ساتھ ساتھ درست اور غلط کی پہچان کروانے کا ذریعہ بھی ہے. جدید سائیکلوجیکل سائنس کے مطابق فرونٹل کورٹیکس سچ اور جھوٹ، نیکی و بدی کو سمجھنے اور غلط یا درست راستہ منتخب کرنے کی صلاحیتوں پر مشتمل ہے. اگر کبھی آپ کے تجربہ یا نظر سے گزرا ہو تو آپ کو معلوم ہوگا کہ پولیس یا دیگر ایجنسیز مجرم سے سچ اگلوانے کے لیے لائی ڈیٹیکٹر مشینز استعمال کرتے ہیں. لائی ڈیٹیکٹر مشین کو فرونٹل کارٹس یا ناصیہ سے اٹیچ کرنے کے بعد سوالات پوچھے جاتے ہیں. جھوٹ بولنے کی صورت میں دماغ میں ارتعاش پیدا ہوتا ہے. جسے مشین ڈیٹیکٹ کرنے کے بعد آلارمنگ ساؤنڈ دیتی ہے. اور اس طرح مجرم کے سچ اور جھوٹ بولنے کا پتا لگایا جاسکتا ہے.

آئیے دیکھتے ہیں قرآن پاک ناصیہ کے بارے میں کیا کہتا ہے. سورہ العلق آیت ١٣ تا ١٦ اَرَءَیۡتَ اِنۡ کَذَّبَ وَ تَوَلّٰی ﴿ؕ۱۳﴾اَلَمۡ یَعۡلَمۡ بِاَنَّ اللّٰہَ یَرٰی ﴿ؕ۱۴﴾ کَلَّا لَئِنۡ لَّمۡ یَنۡتَہِ ۬ ۙ لَنَسۡفَعًۢا بِالنَّاصِیَۃِ ﴿ۙ۱۵﴾ نَاصِیَۃٍ کَاذِبَۃٍ خَاطِئَۃٍ ﴿ۚ۱۶﴾ بھلا دیکھو تو اگر یہ جھٹلاتا ہو اور منہ پھیرتا ہو تو ۔ کیا اس نے نہیں جانا کہ اللہ تعالٰی اسے خوب دیکھ رہا ہے ۔ یقیناً اگر یہ باز نہ رہا تو ہم اس کی پیشانی کے بال پکڑ کر گھسیٹیں گے ۔ ایسی پیشانی جو جھوٹی خطا کار ہے ۔

امام غزالی رح کا نظریہ ذہنی صحت

2017-07-30 16:32:03 

غزالی رح کے نزدیک انسانی شخصیت جسمانی اور روحانی قوتوں کا مجموعہ ہے انسان کا مقصد ذات کی تلاش ہے. ذات جسمانی حوائج کی تکمیل کے لیے حسی اور حرکی تحریکات کا سہارا لیتی ہے. جسمانی قوتیں مثلاً بھوک اور غصہ فرد کی جسمانی ضروریات کی تکمیل میں مددگار ثابت ہوتے ہیں بھوک اور غصے کے نتیجے میں تحریک فرد کو اور اس کے جسم کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ جسمانی فعالیت کو سر انجام دے پائے. 
انسان میں ادراک کی اہلیت اندرونی اور بیرونی حسیات پر مشتمل ہے جو کہ انسانوں میں بہت اعلی درجے کی ہے. اندرونی حسیات، تفکر، تخیل اور حافظہ پر مشتمل ہیں جبکہ بیرونی حس بصری، سمعی، لمسی اور شامی حسیات پر مبنی ہیں. انسانی کردار انسانی دماغ کے مختلف حصوں کے ساتھ وابستہ ہے. دماغ میں ہر انسانی فعل کو ضابطہ میں لانے کے لیے مخصوص علاقے ہیں مثلاً حافظہ کا تعلق عقبی فص (Lobe) کے ساتھ جب کہ تخیل کا تعلق جہی فص کے ساتھ اور ردِ عمل کا تعلق درمیانی فص کے ساتھ مربوط ہے. ہمارا ذہن دماغ کا تفاعل ہے یہ تمام قوتیں انسان کو کنٹرول کرنے اور چلانے کے لیے اہم ہیں. لیکن  ذات یعنی قلب ان قوتوں پر حاوی ہے. صحت مند شخصیت کی تشکیل کے لیے ابتدائی بچپن، خاندان اور ہمجولی بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں. غزالی کے نزدیک مجرمانہ کردار والدین اور معاشرے کی غلط تربیت کا نتیجہ ہوتے ہیں. ہر فرد کے اندر مثبت اور منفی قوتیں موجود ہوتی ہیں. مثبت قوتیں فرد کو صحت کی جانب جبکہ منفی قوتیں ذہنی بیماری کی طرف لے جاتی ہیں. ذہنی صحت خُدا سے نزدیکی جبکہ ذہنی بیماری خُدا سے دوری ہے. 
علم کی دو اقسام ہیں پہلا مادی علم اور دوسرا روحانی علم ہے. روحانی علم اعلی قسم کا علم ہے جبکہ مادی علم ادنی قسم کا علم ہے. غزالی رح کے نزدیک پیغمبر اعلی ترین ہستیاں ہیں جو خُدا سے الہامی علم حاصل کرتی ہیں. علم کا حتمی مقصد خُدا کی پہچان ہے. ذات ہی وہ قوت ہے جو خُدا تک پہنچاتی ہے. اور ذات ہی کے ذریعے خود آگاہی سے خدا آگاہی تک پہنچا جاسکتا ہے. 
جہالت ایک ذہنی مرض ہے جبکہ علم صحت ہے. خدا کی ذات کا علم اعلی ترین علم ہے. ذات اور اسکی قوتوں کا علم ذات باری تعالٰی کی تلاش کے لیے انتہائی ضروری ہے. 
غزالی رح نے بیماری کو دو حصوں میں تقسیم کیا ہے. 
1- جسمانی(Physical ) امراض
2- تفاعلی (Functional) امراض
جسمانی خرابیاں جو کہ جسم کا کام ہیں انکا علاج آسانی سے کیا جاسکتا ہے. جبکہ تفاعلی امراض جہالت کا نتیجہ ہوتے ہیں. ذہنی بیماری کی سب سے بڑی وجہ خُدا سے دوری ہے غزالی رح نے تفاعلی امراض کی کئی مثالیں دی ہیں. مثلاً العمل (خاص عمل) ایک تفاعلی مرض ہے جو شک کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے. بغض ایک تفاعلی مرض ہے جو کہ دولت، طاقت اور رتبے کی بدولت جنم لیتا ہے. جہل بھی روحانی مرض ہے جو کے جہالت کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے. بزدلی کی وجہ سے روحانی مرض جبن پیدا ہوتا ہے. جفا بھی ایک روحانی مرض ہے جو ظلم وجہالت کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے اسی طرح روحانی مرض ہوس جو مادی اشیاء کے ساتھ بے پناہ لگاؤ کے ساتھ پیدا ہوتا ہے اسی طرح وسوسہ، حسد اور طمع بھی روحانی امراض ہیں. 
غزالی رح کے نزدیک تفاعلی روحانی امراض بہت شدید ہوتے ہیں. حقیقت تو یہ ہے کہ فرد منفی قوتوں کو جدوجہد کے ذریعے مغلوب کر سکتا ہے. تفاعلی روحانی امراض کو اللہ تعالٰی کا شکر بجا لا کر دور کیا جا سکتا ہے.

منتخب تحریریں

غزالی رح کے نزدیک انسانی شخصیت جسمانی اور روحانی قوتوں کا مجموعہ ہے انسان کا مقصد ذات کی تلاش ہے. ذات جسمانی حوائج کی تکمیل کے لیے حسی اور حرکی تحریکات کا سہارا لیتی ہے. جسمانی قوتیں مثلاً بھوک اور غصہ فرد کی جسمانی ضروریات کی تکمیل میں مددگار ثابت ہوتے ہیں بھوک اور غصے کے نتیجے میں تحریک فرد کو اور اس کے جسم کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ جسمانی فعالیت کو سر انجام دے پائے. 
انسان میں ادراک کی اہلیت اندرونی اور بیرونی حسیات پر مشتمل ہے جو کہ انسانوں میں بہت اعلی درجے کی ہے. اندرونی حسیات، تفکر، تخیل اور حافظہ پر مشتمل ہیں جبکہ بیرونی حس بصری، سمعی، لمسی اور شامی حسیات پر مبنی ہیں. انسانی کردار انسانی دماغ کے مختلف حصوں کے ساتھ وابستہ ہے. دماغ میں ہر انسانی فعل کو ضابطہ میں لانے کے لیے مخصوص علاقے ہیں مثلاً حافظہ کا تعلق عقبی فص (Lobe) کے ساتھ جب کہ تخیل کا تعلق جہی فص کے ساتھ اور ردِ عمل کا تعلق درمیانی فص کے ساتھ مربوط ہے. ہمارا ذہن دماغ کا تفاعل ہے یہ تمام قوتیں انسان کو کنٹرول کرنے اور چلانے کے لیے اہم ہیں. لیکن  ذات یعنی قلب ان قوتوں پر حاوی ہے. صحت مند شخصیت کی تشکیل کے لیے ابتدائی بچپن، خاندان اور ہمجولی بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں. غزالی کے نزدیک مجرمانہ کردار والدین اور معاشرے کی غلط تربیت کا نتیجہ ہوتے ہیں. ہر فرد کے اندر مثبت اور منفی قوتیں موجود ہوتی ہیں. مثبت قوتیں فرد کو صحت کی جانب جبکہ منفی قوتیں ذہنی بیماری کی طرف لے جاتی ہیں. ذہنی صحت خُدا سے نزدیکی جبکہ ذہنی بیماری خُدا سے دوری ہے. 
علم کی دو اقسام ہیں پہلا مادی علم اور دوسرا روحانی علم ہے. روحانی علم اعلی قسم کا علم ہے جبکہ مادی علم ادنی قسم کا علم ہے. غزالی رح کے نزدیک پیغمبر اعلی ترین ہستیاں ہیں جو خُدا سے الہامی علم حاصل کرتی ہیں. علم کا حتمی مقصد خُدا کی پہچان ہے. ذات ہی وہ قوت ہے جو خُدا تک پہنچاتی ہے. اور ذات ہی کے ذریعے خود آگاہی سے خدا آگاہی تک پہنچا جاسکتا ہے. 
جہالت ایک ذہنی مرض ہے جبکہ علم صحت ہے. خدا کی ذات کا علم اعلی ترین علم ہے. ذات اور اسکی قوتوں کا علم ذات باری تعالٰی کی تلاش کے لیے انتہائی ضروری ہے. 
غزالی رح نے بیماری کو دو حصوں میں تقسیم کیا ہے. 
1- جسمانی(Physical ) امراض
2- تفاعلی (Functional) امراض
جسمانی خرابیاں جو کہ جسم کا کام ہیں انکا علاج آسانی سے کیا جاسکتا ہے. جبکہ تفاعلی امراض جہالت کا نتیجہ ہوتے ہیں. ذہنی بیماری کی سب سے بڑی وجہ خُدا سے دوری ہے غزالی رح نے تفاعلی امراض کی کئی مثالیں دی ہیں. مثلاً العمل (خاص عمل) ایک تفاعلی مرض ہے جو شک کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے. بغض ایک تفاعلی مرض ہے جو کہ دولت، طاقت اور رتبے کی بدولت جنم لیتا ہے. جہل بھی روحانی مرض ہے جو کے جہالت کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے. بزدلی کی وجہ سے روحانی مرض جبن پیدا ہوتا ہے. جفا بھی ایک روحانی مرض ہے جو ظلم وجہالت کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے اسی طرح روحانی مرض ہوس جو مادی اشیاء کے ساتھ بے پناہ لگاؤ کے ساتھ پیدا ہوتا ہے اسی طرح وسوسہ، حسد اور طمع بھی روحانی امراض ہیں. 
غزالی رح کے نزدیک تفاعلی روحانی امراض بہت شدید ہوتے ہیں. حقیقت تو یہ ہے کہ فرد منفی قوتوں کو جدوجہد کے ذریعے مغلوب کر سکتا ہے. تفاعلی روحانی امراض کو اللہ تعالٰی کا شکر بجا لا کر دور کیا جا سکتا ہے.

غزالی رح کے نزدیک انسانی شخصیت جسمانی اور روحانی قوتوں کا مجموعہ ہے انسان کا مقصد ذات کی تلاش ہے. ذات جسمانی حوائج کی تکمیل کے لیے حسی اور حرکی تحریکات کا سہارا لیتی ہے. جسمانی قوتیں مثلاً بھوک اور غصہ فرد کی جسمانی ضروریات کی تکمیل میں مددگار ثابت ہوتے ہیں بھوک اور غصے کے نتیجے میں تحریک فرد کو اور اس کے جسم کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ جسمانی فعالیت کو سر انجام دے پائے. 
انسان میں ادراک کی اہلیت اندرونی اور بیرونی حسیات پر مشتمل ہے جو کہ انسانوں میں بہت اعلی درجے کی ہے. اندرونی حسیات، تفکر، تخیل اور حافظہ پر مشتمل ہیں جبکہ بیرونی حس بصری، سمعی، لمسی اور شامی حسیات پر مبنی ہیں. انسانی کردار انسانی دماغ کے مختلف حصوں کے ساتھ وابستہ ہے. دماغ میں ہر انسانی فعل کو ضابطہ میں لانے کے لیے مخصوص علاقے ہیں مثلاً حافظہ کا تعلق عقبی فص (Lobe) کے ساتھ جب کہ تخیل کا تعلق جہی فص کے ساتھ اور ردِ عمل کا تعلق درمیانی فص کے ساتھ مربوط ہے. ہمارا ذہن دماغ کا تفاعل ہے یہ تمام قوتیں انسان کو کنٹرول کرنے اور چلانے کے لیے اہم ہیں. لیکن  ذات یعنی قلب ان قوتوں پر حاوی ہے. صحت مند شخصیت کی تشکیل کے لیے ابتدائی بچپن، خاندان اور ہمجولی بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں. غزالی کے نزدیک مجرمانہ کردار والدین اور معاشرے کی غلط تربیت کا نتیجہ ہوتے ہیں. ہر فرد کے اندر مثبت اور منفی قوتیں موجود ہوتی ہیں. مثبت قوتیں فرد کو صحت کی جانب جبکہ منفی قوتیں ذہنی بیماری کی طرف لے جاتی ہیں. ذہنی صحت خُدا سے نزدیکی جبکہ ذہنی بیماری خُدا سے دوری ہے. 
علم کی دو اقسام ہیں پہلا مادی علم اور دوسرا روحانی علم ہے. روحانی علم اعلی قسم کا علم ہے جبکہ مادی علم ادنی قسم کا علم ہے. غزالی رح کے نزدیک پیغمبر اعلی ترین ہستیاں ہیں جو خُدا سے الہامی علم حاصل کرتی ہیں. علم کا حتمی مقصد خُدا کی پہچان ہے. ذات ہی وہ قوت ہے جو خُدا تک پہنچاتی ہے. اور ذات ہی کے ذریعے خود آگاہی سے خدا آگاہی تک پہنچا جاسکتا ہے. 
جہالت ایک ذہنی مرض ہے جبکہ علم صحت ہے. خدا کی ذات کا علم اعلی ترین علم ہے. ذات اور اسکی قوتوں کا علم ذات باری تعالٰی کی تلاش کے لیے انتہائی ضروری ہے. 
غزالی رح نے بیماری کو دو حصوں میں تقسیم کیا ہے. 
1- جسمانی(Physical ) امراض
2- تفاعلی (Functional) امراض
جسمانی خرابیاں جو کہ جسم کا کام ہیں انکا علاج آسانی سے کیا جاسکتا ہے. جبکہ تفاعلی امراض جہالت کا نتیجہ ہوتے ہیں. ذہنی بیماری کی سب سے بڑی وجہ خُدا سے دوری ہے غزالی رح نے تفاعلی امراض کی کئی مثالیں دی ہیں. مثلاً العمل (خاص عمل) ایک تفاعلی مرض ہے جو شک کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے. بغض ایک تفاعلی مرض ہے جو کہ دولت، طاقت اور رتبے کی بدولت جنم لیتا ہے. جہل بھی روحانی مرض ہے جو کے جہالت کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے. بزدلی کی وجہ سے روحانی مرض جبن پیدا ہوتا ہے. جفا بھی ایک روحانی مرض ہے جو ظلم وجہالت کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے اسی طرح روحانی مرض ہوس جو مادی اشیاء کے ساتھ بے پناہ لگاؤ کے ساتھ پیدا ہوتا ہے اسی طرح وسوسہ، حسد اور طمع بھی روحانی امراض ہیں. 
غزالی رح کے نزدیک تفاعلی روحانی امراض بہت شدید ہوتے ہیں. حقیقت تو یہ ہے کہ فرد منفی قوتوں کو جدوجہد کے ذریعے مغلوب کر سکتا ہے. تفاعلی روحانی امراض کو اللہ تعالٰی کا شکر بجا لا کر دور کیا جا سکتا ہے.