بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ * لا الہٰ الا اللہ محمّد رسول اللہ * قُلْ هُوَ اللّـٰهُ اَحَدٌ - اَللَّـهُ الصَّمَدُ - لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُوْلَدْ - وَلَمْ يَكُنْ لَّـهٝ كُفُوًا اَحَدٌ

مستشرقین


تحریک استشراق تعارف

2017-05-23 07:57:10 

غیر مشرقی لوگوں کا مشرقی زبانوں، تہذیب، فلسفے، ادب اور مذہب کے مطالعے میں مشغول ہو جانے کا نام استشراق ہے۔ اس تعریف کی رو سے ہر وہ غیر مشرقی عالم جو اپنے آپ کو مشرقی علوم کے لیئے وقف کرے گا اسے مستشرق کہا جائے گا۔
آکسفورڈ کی جدید ڈکشنری کے مطابق مستشرق وہ ہے جو مشرقی علوم و آداب میں مہارت حاصل کرے
المنجد کے مطابق مستشرق وہ ہے جو مشرقی زبانوں، آداب اور علوم کا عالم ہو اور اس علم کا نام استشراق ہے
ان تعریفوں میں کوئی بھی تعریف ایسی نہیں جو تحریک استشراق کے مقاصد اور عملی پہلوؤں پر روشنی ڈالتی ہو۔مشرق کا لفظ بذات خود وضاحت طلب ہے۔ مشرق و مغرب کے مفہوم میں تبدیلیاں ہوتی رہتی ہیں۔ قرون وسطی میں بحیرہ روم کو دنیا کا مرکز قرار دیا جاتا تھا اور جہتوں کا تعین اسی سے ہوتا تھا۔ اس کے مشرقی علاقوں کو مشرق اور مغربی علاقوں کو مغرب سے تعبیر کیا جاتا تھا اگر ہم مشرق کے اس مفہوم کو تسلیم کر بھی لیں تب بھی مستشرق کی مندرجہ بالا تعریف جامع نہیں رہتی اس تعریف کی رو سے دین عیسوی کا تعلق بھی مشرق سے ہے اور اس حساب سے جو عالم حضرت عیسی علیہ السلام کی زبان، معاشرت، مذہب اور سیرت کے مطالعے کے لیئے خود کو وقف کر دے اسے بھی مستشرق قرار دیا جانا چاہیئے مگر عملی طور پر ایسا نہیں ہے۔ بائبل کے دونوں حصوں عہد نامہ قدیم و جدید میں اکثر واقعات کا تعلق مشرق سے ہے مگر بائبل کے عالم کو کوئی بھی مستشرق نہیں کہتا۔ ایک حیران کن حقیقت یہ بھی ہے کہ وہ علمی مصادر جو مستشرقین کی مساعی کا نتیجہ ہیں یا تو وہ اس تحریک کے متعلق کلیتہ خاموش ہیں یا اگر کہیں ذکر ملتا بھی ہے تو وہ ناکافی اور مبہم ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مستشرقین اپنے مقاصد کو پوشیدہ رکھنا چاہتے ہیں ۔
یہ تحریک صدیوں مصروف عمل رہی مگر اس کا کوئی باضابطہ نام نہ تھا۔ اربری کہتا ہے کہ
Orientalist کا نام پہلی دفعہ 1630 ء میں مشرقی یا یونانی کلیسا کے ایک پادری کے لیئے استعمال ہوا۔ روڈنسن کہتا ہے کہ Orientalism یعنی استشراق کا لفظ پہلی دفعہ انگریزی زبان میں 1779 ء میں داخل ہوا۔ فرانس کی کلاسیکی لغت میں استشراق کے لفظ کا اندراج 1838 ء میں ہوا۔ حالانکہ عملی طور پر تحریک استشراق اس سے کئی صدیاں پہلے وجود میں آ چکی تھی اور پورے زور و شور سے مصروف عمل تھی۔ جن لوگوں نے تحریک استشراق کا تفصیلی جائزہ لیا ہے ان کے اغراض و مقاصد، ان کی تاریخ اور ان کے علمی کارناموں کو بیان کرنے کی کوشش کی ہے انہوں نے مستشرقین کے مختلف نظریات اور مساعی کے پیش نظر استشراق کی کچھ تعریفیں بیان کی ہیں ڈاکٹر احمد عبد الحمید غراب نے اپنی کتاب رویۃ الاسلامیہ لاستشراق میں کچھ تعریفیں لکھی ہیں جن میں سے چند ایک مندرجہ ذیل ہیں :۔
1۔ استشراق مغربی اسلوب فکر کا نام ہے جس کی بنیاد مشرق و مغرب کی نسلی تقسیم کے نظریہ پر قائم ہے۔ جس کی رو سے اہل مغرب کو اہل مشرق پر نسلی اور ثقافتی برتری حاصل ہے یہ تعریف گو کہ ہر مستشرق کی ذہنی کیفیت کو ظاہر کرتی ہے لیکن اگر اس تعریف کی رو سے دیکھا جائے تو آج سارا یورپ ہی مستشرق نظر آئے گا۔ کیونکہ جب سے انہوں نے صنعتی و عسکری میدان میں ترقی کی ہے اسی وقت سے سارا یورپ اسی انداز سے سوچتا ہے ۔اس صورت میں یہ تعریف استشراق کو سمجھنے میں معاون ثابت نہیں ہو سکتی۔
2۔ استعماری مغربی ممالک کے علماء اپنی نسلی برتری کے نظریے کی بنیاد پر، مشرق پر غلبہ حاصل کرنے کی نیت سے اس کی تاریخ، تہذیبوں، ادیان، زبانوں، سیاسی اور اجتماعی نظاموں، ذخائز دولت اور امکانات کا جو تحقیقی مطالعہ غیر جانبدارانہ تحقیق کے بھیس میں کرتے ہیں اسے استشراق کہا جاتا ہے۔
3. استشراق اس مغربی اسلوب کا نام ہے جس کا مقصد مشرق پر غلبہ حاصل کرنے کے لیئے اس کی فکری اور سیاسی تشکیل نو کرنا ہے ۔
آخری دو تعریفیں گو کہ مستشرقین کے استعماری اور استحصالی ارادوں کا پتا دیتی ہیں لیکن ان کے سینوں میں چھپی ہوئی اس حقیقی خواہش کا پتا نہیں دیتیں جس کا پردہ ہمارے علیم و خبیر پروردگار عالم نے صدیوں پہلے چاک کر دیا تھا :۔

وَدَّتْ طَّـآئِفَةٌ مِّنْ اَهْلِ الْكِتَابِ لَوْ يُضِلُّوْنَكُمْ ؕ وَمَا يُضِلُّوْنَ اِلَّآ اَنْفُسَهُـمْ وَمَا يَشْعُرُوْنَ (69)
بعض اہلِ کتاب دل سے چاہتے ہیں کہ کسی طرح تم کو گمراہ کردیں، اور (وہ) گمراہ نہیں کرتے مگر اپنے نفسوں کو اور نہیں سمجھتے۔

ڈاکٹر احمد عبد الحمید غراب نے مندرجہ بالا تعریفیں بمع تبصرہ نقل کرنے کے بعد استشراق کی جو تعریف خود کی ہے وہ مندرجہ ذیل ہے :۔
" مغربی اہل کتاب، مسیحی مغرب کی اسلامی مشرق پر نسلی اور ثقافتی برتری کے زعم کی بنیاد پر، مسلمانوں پر اہل مغرب کا تسلط قائم کرنے کے لیئے مسلمانوں کو اسلام کے بارے میں گمراہی اور شکوک کا شکار کرنے اور اسلام کو مسخ شدہ صورت میں پیش کرنے کی غرض سے، مسلمانوں کے عقیدہ، شریعت، ثقافت، تاریخ، نظام اور وسائل و امکانات کا جو مطالعہ غیر جانبدارانہ تحقیق کے دعوے کے ساتھ کرتے ہیں اسے استشراق کہا جاتا ہے ۔"
یہ تعریف مستشرقین کے اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں پوشیدہ عزائم کو ظاہر کرتی ہے لیکن اس میں خامی یہ ہے کہ اس کی رو سے تمام مستشرقین ایک ہی زمرے میں شمار ہو جاتے ہیں جبکہ مستشرقین کو کئی گروہوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ اس میں ایک خامی اور ہے کہ جو مستشرقین اسلام کے علاوہ دیگر مشرقی علوم اور تہذیبوں کے میدان عمل میں مصروف ہیں وہ مستشرقین کے دائرہ کار سے نکل جاتے ہیں۔ حالانکہ معروف معنوں میں وہ مستشرق ہیں۔
ڈاکٹر محمد ابراہیم رودی بارت کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ مستشرقین کے عرف میں لفظ مشرق کا جغرافیائی مفہوم مراد نہیں بلکہ ان کے ہاں مشرق سے مراد وہ خطے ہیں جہاں اسلام کو عروج حاصل ہوا۔ گویا مستشرقین دنیائے اسلام کو مشرق کے لفظ سے تعبیر کرتے ہیں۔
مشرق کے اس مفہون کے تحت، مستشرقین کی عملی جدوجہد جن خفیہ مقاصد کی غمازی کرتی ہے ان کو اور مستشرقین کے بے شمار علمی کارناموں اور طبقات کو مدنظر رکھتے ہوئے مستشرقین کی تعریف یوں کی جا سکتی ہے :۔
" اہل مغرب بلعموم اور یہود و نصاری بالخصوص، جو مشرقی عوام خصوصا ملت اسلامیہ کے مذاہب، زبانوں، تہذیب و تمدن، تاریخ، ادب، انسانی قدروں، ملی خصوصیات، وسائل، حیات اور امکانات کا مطالعہ معروضی تحقیق کے لبادے میں اس غرض سے کرتے ہیں کہ ان اقوام کو اپنا ذہنی غلام بنا کر ان پر اپنا مذہب اور تہذیب مسلط کر سکیں اور ان پر غلبہ پا کر ان کے وسائل حیات کا استحصال کر سکیں ان کو مستشرقین کہا جاتا ہے اور جس تحریک سے یہ لوگ وابستہ ہیں اسے تحریک استشراق کہا جاتا ہے۔"

تحریک استشراق کا آغاز

2017-05-26 01:13:40 

 اگرچہ لفظ استشراق نومولود ہے لیکن تحریک استشراق کا آغاز بہت پہلے ہی ہو چکا تھا۔ اہل مغرب کی اسلام دشمنی کی تاریخ کا آغاز حضرت محمد ﷺ پر غار حرا میں پہلی وحی کے ساتھ ہی ہو گیا تھا۔ اہل مغرب سے یہاں میری مراد اہل کتاب یہود و نصاری ہیں جو مشرکین مکہ کے بعد اسلام کے دوسرے مخاطب تھے۔ یہود و نصاری کی کتب و صحائف میں آخری سمانے میں آنے والے ایک نبی کا ذکر بڑی صراحت اور واضح نشانیوں کے ساتھ مذکور تھا۔ وہ اپنی کتابوں اور انبیاء بنی اسرائیل کی پیش گوئیوں کی روشنی میں ایک آنے والے نبی کے منتظر تھے اور ان کو اس حد تک اس نبی کی آمد اور مقام آمد کا یقین تھا کہ انہوں نے مدینہ منورہ کو اپنا مرکز بنا لیا تھا اور عربوں کو اکثر جتلاتے رہتے تھے کہ عنقریب ہمارا ایک نبی آنے والا ہے اور ہم اس کے ساتھ مل کر سارے عرب پر غلبہ حاصل کر لیں گے ۔ جیسا کہ قرآن مجید اس کو یوں بیان کرتا ہے :۔

وَلَمَّا جَاءَهُمْ كِتَابٌ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ مُصَدِّقٌ لِمَا مَعَهُمْ وَكَانُوا مِنْ قَبْلُ يَسْتَفْتِحُونَ عَلَى الَّذِينَ كَفَرُوا فَلَمَّا جَاءَهُمْ مَا عَرَفُوا كَفَرُوا بِهِ فَلَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الْكَافِرِينَ

(البقرة:89)

اور اس سے پہلے وہ کفار پر فتح مانگا کرتے تھے، پھر جب ان کے پاس وہ چیز آئی جسے انہوں نے پہچان لیا تو اس کا انکار کیا، سو کافروں پر اللہ کی لعنت ہے۔

اللہ عزوجل نے فرمایا کہ یہودی اور عیسائی اپنی کتابوں میں بیان کردہ نشانیوں کے لحاظ سے حضرت محمد ﷺ کو یقینی طور پر بطور نبی جانتے اور پہچانتے تھے جیسا کہ ارشاد ہے کہ :۔

 

الَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ يَعْرِفُونَهُ كَمَا يَعْرِفُونَ أَبْنَاءَهُمْ وَإِنَّ فَرِيقًا مِنْهُمْ لَيَكْتُمُونَ الْحَقَّ وَهُمْ يَعْلَمُونَ

(البقرة:146)

وہ لوگ جنہیں ہم نے کتاب دی تھی وہ اسے(محمد ﷺ) پہچانتے ہیں جیسے اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں، اور بے شک کچھ لوگ ان میں سے حق کوچھپاتے ہیں اور وہ جانتے ہیں۔

بنی اسرائیل چونکہ اپنے آپ کو اللہ کی پسندیدہ قوم سمجھتے تھے اور اس خوش گمانی میں مبتلا تھے کہ اپنی تمام تر نافرمانیوں کے باوجود وہ جنت میں جائیں گے اور یہ کہ وہ خدا کی چہیتی قوم ہیں ۔جب ان کی تمام تر خوش گمانیوں کے برعکس اللہ عزوجل نے اپنے آخری نبی ﷺ کو بنی اسماعیل میں مبعوث فرمایا تو یہود نے فرشتہ جبرائیل علیہ السلام کو اپنا دشمن قرار دے دیا کہ انہوں نے دانستہ وحی یہود کے بجائے بنی اسماعیل کے ایک فرد محمد ﷺ پر نازل کر دی ہے۔ چنانچہ اس جلن اور حسد کی وجہ سے انہوں نے جانتے بوجھتے آپ ﷺ کا انکار کر دیا۔ اسی حسد اور جلن نے یہود و نصاری کو مسلمانوں کا دشمن بنا دیا۔

چنانچہ اسی پس منظر کے باعث مغربی مفکرین بلعموم اسلام کے بارے میں منفی انداز فکر سے کام لیتے ہیں۔ اور اسلام کے تمام تعمیری کاموں کو نظر انداز کر کے صرف انہی پہلوؤں پر زور دیتے ہیں جن کے ذریعے وہ لوگوں میں اسلام کے بارے میں غلط فہمیاں پھیلا سکیں

چنانچہ اسی حسد کی وجہ سے عیسائیوں اور یہودیوں نے اسلام اور مسلمانوں کو ختم کرنے کے لیئے ہر ایک حربہ آزمایا لیکن ناکام رہے۔ نبی کریم ﷺ کے ساتھ کیئے گئے معاہداے کی خلاف ورزی کی پاداش میں یہود کو مدینہ سے نکال دیا گیا اور ان کی نسلی و علمی برتری کا نشہ ٹوٹ گیا۔ اسلام کے شاندار اور تابندہ نظریات کے آگے ان کی ایک نہ چلی بلکہ یہود و نصاری کے مذہبی اور روحانی مرکز بیت المقدس پر بھی مسلمانوں کا قبضہ ہو گیا۔ظہور اسلام کے ایک سو سال مکمل ہونے سے پہلے ہی اسلام اپنے آپ کو دنیا میں ایک روشن خیال، علم دوست، شخصی آزادیوں کے ضامن، عدل و انصاف، رواداری اور احترام انسانیت جیسی خوبیوں سے متصٖ دین کے طور پر منوا چکا تھا۔اور یہ کامیابی یہود و نصاری کو ہر گز گوارا نہ تھی۔ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف یہود و نصاری کی ریشہ دوانیوں کا آغاز حیات نبوی ﷺ میں ہی ہو چکا تھا ۔ لیکن ان کارروائیوں کا عملا کچھ زیادہ نقصان نہیں ہوا۔ مسلمان ذہنی اور علمی لحاظ سے یہود و نصاری سے کہیں آگے تھے اس لیئے دشمنان دین کی سرگرمیاں زیادہ تر جنگ و جدل تک ہی محدود رہیں لیکن اس محاذ پر بھی مسلمانوں کی برتری قائم رہی اور اسلامی ریاست کی حدود پھیلتی گئیں یہاں تک کہ یہود و نصاری کے مذہبی مقامات بیت المقدس وغیرہ بھی مسلمانوں کے قبضے میں آ گئے۔ خیر القرون کے خاتمے کے بعد یہود و نصاری کے پروردہ لوگوں نے مسلمانوں میں غلط عقائد و نظریات کو فروغ دینا شروع کر دیا مسلمانوں کے باہمی اختلافات کو بھڑکایا اور غلط فہمیاں پیدا کرنا شروع کیں۔

پہلا آدمی جس نے باقاعدہ طور پر اسلام کے خلاف تحریری جنگ شروع کی وہ جان آف دمشق یوحنا دمشقی 749ء تھا۔ جو خلیفہ ہشام کے زمانے میں بیت المال میں ملازم تھا۔ اس نے ملازمت ترک کر دی اور فلسطین کے ایک گرجے میں بیٹھ کر مسلمانوں کی تردید میں کتابیں لکھنے لگا۔  اس نے اسلام کے خلاف دو کتب " محاورہ مع المسلم" اور "ارشادات النصاری فی جدل المسلمین" لکھیں۔ یہ دونوں تصانیف اسی مقصد کے تحت لکھی گئی تھیں جس کے تحت مستشرقین نے تصنیفات کے انبار لگا دیئے ہیں اس لیئے ٰوحنا دمشقی کی مساعی کو تحریک استشراق کا نقطہ آغاز قرار دیا جا سکتا ہے۔

کچھ لوگوں کی رائے یہ ہے کہ اس تحریک کا آغاز 1312ء میں ہوا جن فینا میں کلیسا کی کانفرنس ہوئی جس میں یہ طے کیا گیا کہ یورپ کی جامعات میں عربی، سریانی، اور عبرانی زبان کی تدریس کے لیئے چئیرز مقرر کی جائیں ۔ بعض اہل علم کے نزدیک یہ تحریک دسویں صدی میں شروع ہوئی جب فرانسیسی پادری جربرٹ ڈی اوریلیک(Gerbert d’Aurillac) حصول علم کے لیئے اندلس گیا اور وہاں کی جامعات سے فارغ التحصیل ہونے لے بعد 999ء سے لیکر 1003ء تک پوپ سلویسٹر ثانی کے نام سے پاپائے روم کے منصب پر فائز رہا۔ اسی طرح بعض نے اس کا آغاز 1229ء سے قرار دیا ہے جب قشالیہ (Castile)کے شاہ الفانسو دہم نے 1229ء میں مرسیا (Murcia) میں اعلی تعلیم کا ایک ادارہ قائم کیا اور مسلم، عیسائی اور یہودی علماء کو تصنیف و تالیف اور ترجمے کا کام سونپا۔

اسی طرح بعض کے نزدیک اس تحریک کا بنی پطرس تھا جو کلونی فرانس کا رہنے والا تھا۔ اس نے اسلامی علوم کے تراجم کے لیئے مختلف علماء پر مشتمل ایک کمیٹی بنائی جس میں مشہور انگریزی عالم رابرٹ آف کیٹن بھی تھا اس نے قرآن مجید کا پہلا لاطینی ترجمہ کیا جس کا مقدمہ پطرس نے لکھا۔ اہل مغرب نے سمجھ لیا تھا کی مسلمانوں پر غلبہ حاصل کرنے کے لیئے انہیں علمی میدان میں مسلمانوں کو شکست دینی ہو گی۔ اس لیئے انہوں نے مختلف طریقے اختیار کیئے ایک طرف اپنے اہل علم کو مسلمانوں کے علوم و فنون سیکھنے پر لگا دیا اور دوسری طرف مسلمانوں میں ان کے افکار کو دھندلانے کی کوشش کی ۔ 1539ء میں فرانس، 1632ء کیمبرج اور 1638ء میں آکسفورڈ میں عربی و اسلامی علوم کی چیئرز قائم کی گئیں۔ 1671ء میں فرانس کے شاہ لوئی چہار دہم نے تمام اسلامی ممالک سے اپنے کارندوں کے ذریعے سے مخطوطات اکٹھے اور سلسلے میں تمام ممالک میں موجود سفارت خانوں کو ہدایت کی کہ اپنے تمام افادی و مالی وسائل استعمال کریں ۔

مستشرقین کے اہداف و مقاصد

2017-05-29 09:06:19 

1۔ دینی اہداف:۔ یہودی و عیسائی ج سکہ خود کو اللہ کی پسندیدہ قوم قرار دیتے تھے اور آنے والے نبی کے منتظر تھے تاکہ اس کے ساتھ مل کر ساری دنیا پر قبضہ کیا جائے لیکن جب ان کی نافرمانیوں اور بدکاریوں کے باعث فضیلت کے منصب سے محروم کر کے نبوت و رسالت کی ذمہ داری بنو اسماعیل کے ایک فرد حضرت محمد ﷺ پر ڈال دی تو وہ حسد، بغض اور جلن سے اپنے حواس کھو بیٹھے اور باوجود آپ ﷺ کو نبی کی حثیت سے پہچان لینے کے آپ ﷺ کی نبوت کا انکار کر دیا۔ اسلام چونکہ انتہائی سرعت سے عرب سے نکل کر دنای کے ایک بڑے حصے پر چھا گیا تھا اس لیئے یہود و نصاری کو یہ خظرہ محسوس ہوا کہ اگر اسلام اسی رفتار سے پھیلتا رہا تو کہیں ان کا دین بلکل ہی ختم نہ ہو جائے چنانچہ انہوں نے سوچا کہ ایک طرف اسلامی تعلیمات پر شکوک کے پردے ڈالے جائیں اور اسے ناقص، ناکام اور غیر الہامی فلسفہ قرار دیا جائے اور دوسری طرف یہودیوں اور عیسائیوں کو اسلام قبول کرنے سے روکا جائے اور تمام دنیا میں اپنے مذہب کا پرچار کیا جائے اس کام کے لیئے انہوں نے پادریوں کی تربیت کی اور مسلم ممالک سے اسلامی علوم کی کتب جمع کر کے ان میں کمزوریاں تلاش کرنے کی کوشش کی تاکہ اسلام اور مسلمانوں کو بدنام کیا جا سکے۔ انہوں نے نبی کریم ﷺ کی ذات، ازواج، قرآن مجید، احکام، سیرت صحابہ ہر چیز کو ہدف بنایا اور اس میں شکوک و شبہات پیدا کرنے کی کوشش کی۔ مسلمانوں میں اتحاد و اخوت ختم کر کے ان میں نسلی، لسانی اور علاقائی تعصبات کو ابھارنے کی کوشش کی
2. علمی اہداف:۔ اگرچہ مستشرقین میں کچھ منصف مزاج لوگ بھی موجود ہیں جو کبھی کبھی کوئی صحیح بات بھی منہ سے نکال لیتے ہیں لیکن چونکہ یہ بات ان کی تربیت میں شامل ہو چکی ہے کہ عیسائیت ہی صحیح دین ہے اس لیئے وہ اسلامی تعلیمات کو ہمیشہ اپنے انداز سے دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ صدیوں پر محیط اسلام دشمن پروپیگنڈا کی وجہ سے مغربی عوام کے اذہان اسلام کے بارے میں کوئی صحیح بات آسانی سے قبول نہیں کرتے۔ ان کے علماء و فضلاء نے علمی تحریکوں اور تحقیق و جستجو کے نام پر صرف اسلام مخالف مواد جمع کیا ہے۔ یہودی و عیسائی جو ہمیشہ سے ایک دوسرے کے جانی دشمن رہے ہیں لیکن مسلمانوں کا مقابلہ کرنے کے لیئے صدیوں کی دشمنی بھول کر ایک ہو چکے ہیں وہ ہر اس کام پر متفق ہیں جس سے اسلام اور مسلمانوں کو نقصان پہنچایا جا سکے۔ مختلف ادارے اور انجمنیں بنا کر مسلمانوں کو اسلام سے برگشتہ کرنے کے لیئے سائنسی بنیادوں پر کام کر رہے ہیں۔ اسلام چھوڑنے والوں کو ہاتھوں ہاتھ لیا جاتا ہے مسلمان عورتوں میں آزادی کے نام پر بے پردگی اور بے راہ روی کو فروغ دیا جاتا ہے۔ غریب ممالک میں عیسائی تنظیمیں فلاحی کاموں کی آڑ میں عیسائیت کا پرچار کر رہی ہیں۔ مسلمان ممالک کے پالیسی ساز اداروں پر اثر انداز ہو کر تعلیمی نصاب اور طریق تعلیم کو اپنی مرضی کے مطابق کرنے کی بھر پور کوشش کی جاتی ہے ۔
3۔ اقتصادی و معاشی اہداف:۔ اگرچہ استشراق کی اس تحریک کا آغاز اسلام کی بڑھتی ہوئی طاقت کو روکنے کے لیئے ہوا تھا، لیکن بعد میں اس کے مقاصد میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔ اہل مغرب نے مسلم ممالک کی تکنیکی مہارت حاصل کرنے کے لیئے اور اپنے معاشی مفادات اور تجارتی معاملات کو بہتر بنانے کے لیئے عربی زبان اور اسلامی تہذیب و ثقافت کا مطالعہ کیا۔ مسلم ممالک میں اپنے اثر و رسوخ اور نفوذ کو بڑھایا اور مقامی طور پر ایسے حالات پیدا کرنے کی کوشش کی کہ ان ممالک کے وسائل مکمل طور پر نہ سہی، کسی حد تک اہل مغرب کے ہاتھوں می چلے جائیں۔ مشرق کو اہل مغرب سونے کی چڑیا قرار دیتے تھے۔ مغرب جب صنعتی دور میں داخل ہوا تو اس کی نظر مشرق میں موجود خام مال کے ذخیروں پر تھی اسی لیئے تمام ممالک نے مختلف مشرقی ممالک میں اپنے اثر و رسوخ اور نفوذ کو بڑھانے کے لیئے ان کو اپنی کالونیاں بنانے کی کوشش کی۔ اس سلسلے میں تمام غیر اخلاقی حربے استعمال کیئے گئے۔ چنانچہ ایک انگریز ادیب "سڈنی لو" نے اپنے ہم قوموں کے رویے کا اظہار ان الفاظ میں کیا ہے:۔
" مغرب کی عیسائی حکومتیں کئی سالوں سے امم شرقیہ کے ساتھ جو سلوک کر رہی ہیں اس سلوک کی وجہ سے یہ حکومتیں چوروں کے اس گروہ کے ساتھ مشابہت رکھتی ہیں جو پرسکون آبادیوں میں داخل ہوتے ہیں، ان کے کمزور مکینوں کو قتل کرتے ہیں اور ان کا مال و اسباب لوٹ کر لے جاتے ہیں۔ کیا وجہ ہے کہ یہ حکومتیں ان قوموں کے حقوق پامال کر رہی ہیں جو آگے بڑھنے کی تگ و دو میں مصروف ہیں ۔ اس ظلم کی کیا وجہ ہے جو ان کمزوروں کے خلاف روا رکھا جا رہا ہے۔ کتوں جیسے اس لالچ کا جواز کیا ہے کہ ان قوموں کے پاس جو کچھ ہے وہ ان سے چھیننے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔ یہ عیسائی قوتیں اپنے اس عمل سے اس دعوی کی تائید کر رہی ہیں کہ طاقتور کو حق پہنچتا ہے کہ وہ کمزوروں کے حقوق غصب کرے" (ضیاء النبی ﷺ بحوالہ الا ستشراق وجہ للاستعمار)
4۔ سیاسی اور استعماری اہداف: ۔ اتفاق سے جب یہود و نصاری کی اجتماعی کوششوں اور کچھ مسلمانوں کی اپنی کمزوریوں کے نتیجے میں مسلمان زوال کا شکار ہوئے تو اسی اثناء میں مغرب میں علمی و سائنسی ترقی کا آغاز ہو رہا تھا۔ کچھ اسلام دشمن مفکرین و مصنفین اور کچھ صلیبی جنگوں کے اثرا ت کے تحت اہل مغرب مسلمانوں کو اپنا بدترین دشمن گردانتے تھے۔ ان کی ساری جدوجہد اسلام کے روشن چہرے کو مسخ کرنے، نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کی شخصیات کو ان کے مقام و مرتبے سے گرانے اور قرآن و حدیث میں شکوک و شبہات پیدا کرنے میں صرف ہو رہی تھی ۔ اسلام سے اس دشمنی اور مسلمانوں کی نشاۃ ثانیہ کے خوف نے یہود و نصاری کو ایک ایسے نہ ختم ہونے والے خبط میں مبتلاء کر دیا جو اسلام کے خاتمے کے بغیر ختم ہونے والا نہ تھا۔انہوں نے ایک طرف تو مسلمانوں کو دینی اور اخلاقی لحاط سے پست کرنے کی کوشش کی اور دوسری طرف ایسا منصوبہ بنایا کہ مسلمان دوبارہ کبھی اپنے پاؤں پر کھڑے نہ ہو سکیں۔ سابقہ تجربات کی بدولت ان لوگوں کو بخوبی علم ہو چکا تھا کہ مسلمانوں کو جنگ و جدل سے ختم کرنا ناممکن ہے اس لیئے انہوں نے متبادل طریقوں سے مسلمانوں کو کمزور کرنے اور ان کے وسائل پر قبضہ کرنے کا منصوبہ بنایا۔ طویل منصوبہ بندی کے بعد مسلمانوں کی قوت اور طاقت کی بنیادوں کو جان کر ان کو کمزور کرنے کی کوشش کی ۔ علماء و محققین کے پردے میں مسلم ممالک میں اپنے تربیت یافتہ لوگوں کو بھیج کر مسلمانوں کی دینی حمیت، اتحاد و اخوت، جہاد، پردہ اغیرہ جیسی امتیازی اقدار کو کمزور کرنے کی کوشش کی۔ اس کے ساتھ ہی مختلف قسم کے علاقائی، نسلی، لسانی اور مسلکی اختلافات کو ہوا دینے کی کوشش کی۔ پہلے مرحلے میں مسلمانوں کے مذہبی و سیاسی اتحاد کو پارہ پارہ کرنے کے بعد اپنے اثر و نفوذ میں اضافہ کر کے کمزور ممالک کو اپنی طفیلی ریاستوں کی صورت دے دی۔ اس طرح ایک طرف تو مسلمان ہر لحاظ سے کمزور ہو گئے اور دوسری طرف ان کے تمام وسائل پر یہود و نصاری کا قبضہ ہو گیا۔ جرمن مفکر پاؤل شمٹ نے اپنی کتاب میں تین چیزوں کو مسلمانوں کی شان و شوکت کا سبب قرار دیتے ہوئے ان پر قابو پانے اور انہیں ختم کرنے پر زور دیا ہے
1. دین اسلام،اس کے عقائد، اس کا نظام اخلاق، مختلف رنگوں نسلوں اور ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں میں رشتہ اخوت استوار کرنے کی صلاحیت
 2. ملت اسلامیہ کے طبعی وسائل
3. مسلمانوں کی روز افزوں عددی قوت۔۔۔۔۔!!!
اگر یہ تینوں قوتیں جمع ہو گئیں، مسلمان عقیدے کی بناء پر بھائی بھائی بن گئے اور انہوں نے اپنے طبعی وسائل کو صحیح استعمال کرنا شروع کر دیا تو اسلام ایک ایسی مہیب قوت بن کر ابھرے گا جس سے یورپ کی تباہی اور تمام دنیا کا اقتدار مسلمانوں کے میں چلے جانے کا خطرہ پیدا ہو جائے گا۔۔۔۔!!!

 

فرانسیسی مستشرق مورس بکائلے اور قرآن

2017-07-13 18:14:29 

مورس بکائلے نے قرآن اور بائبل دونوں کو جدید سائنسی علوم کی روشنی میں پرکھا ہے- اور وہ جس نتیجے پر پہنچا ہے اسے اس نے اپنی کتاب The bible, The Quran and Science میں بیان کیا ہے یہاں ہم اس کے چند تاثرات نقل کرتے ہیں- اور بعد میں قرآن کریم کی ان آیات کی جھلک پیش کریں گے جنہوں نے مورس بکائلے کے قلم کو ان تاثرات کے اظہار پر مجبور کیا ہے-مشترق مذکور لکھتا ہے-

یہ سائنسی خیالات جن کا قرآن کے ساتھ بڑا گہرا تعلق ہے انہوں نے ابتداء میں مجھے حیرت میں مبتلا کردیا-اس وقت تک میں نے یہ سوچا تک نہ تھا کہ ایک کتاب جو تیرہ صدیوں سے زیادہ عرصہ پہلے تالیف ہوئی اس میں بے شمار ایسے بیانات کا موجود ہونا ممکن ہے جو سب کے سب سائنسی معلومات کلیتہ ہم آہنگ ہیں-تخلیق کائنات فلکیات اور ایسے معاملات کی تشریح جن کا تعلق زمین بناتات حیوانات اور انسانی افزائش نسل سے ہے-

بائیبل میں بے شمار غلطیاں موجود ہیں لیکن قرآن حکیم میں کسی ایک غلطی کی نشاندہی نہ کرسکا -میں مجبور ہوکر رک گیا اور اپنے آپ سے سوال کیا اگر کوئی انسان ہی قرآن کا مصنف ہوتا تو وہ ساتویں صدی میں ایسی چیزیں کیسے لکھ سکتا تھاجن کے متعلق آج یہ ظاہر ہورہا ہے کہ وہ جدید سائنسی معلومات سے کلیتہ ہم آہنگ ہیں- اس بارے میں قطعا کوئی شک نہیں کہ آج قرآن کا جو متن ہمارے سامنے ہی یہ بعینہ وہی ہے جو ساتویں صدی میں تھا- اس مشاہدے کی انسانی توجیہ کیا ہو سکتی ہے؟ میری رائے میں اس کی کوئی انسانی توجیہ ممکن نہیں-اس بات کی کوئی خاص وجہ نظر نہیں آتی کہ جس زمانے میں فرانس پر ٰڈیگوبرٹٰ بادشاہ حکومت کررہا تھا اس زمانے میں جزیرہ عرب پرایک شخص کے پاس مختلف موضوعات پر اتنی سائنسی معلومات ہوں جو خود ہمارے دور سے بھی دس صدیاں آگے کی ہیں- مستشرق مذکور کہتا ہے کہ قرآن حکیم میں ایسے سائنسی انکشافات بھی ہیں جن تک ابھی سائنس نہیں پہنچ سکی لیکن وہ ان رک پہنچنے کے لیے مصروف عمل ہے-

وہ کہتا ہے اس ضمن میں میرا خیال ہے کہ مجھے قرآن میں ایسے بیانات نظر آئے جو اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ کائنات میں کچھ ایسے سیارےموجود ہیں جو بالکل زمین کے مشابہ ہیں - یہاں اس بات کا اضافہ کرنا ضروری ہے کہ اکثر سائنس دان اسکو ایک مکمل طور پر ممکن حقیقت تسلیم کرتے ہیں اگر چہ موجودہ سائنسی معلومات نے ابھی تک اس بات کے یقینی ہونے کا کوئی اشارہ نہیں دیا- حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کو مصنف قرآن کہنے والوں کے بارے میں مورس بکائلے کہتا ہے: ۴-یہ مشاہدہ ان لوگوں کے دعوے کو قطعی طور پر ناقابل مدافعت بنادیتا ہے جو محمدصلی اللہ علیہ وسلم کو قرآن کا مصنف قرار دیتے ہیں- یہ کیسے ممکن تھا کہ ایک شخص ناخواندگی کی حالت میں ابھرتا اور اہم ترین مصنف بن جاتا اور اس کی تصنیف اپنی ادبی خوبیوں کی وجہ سے تمام ادب پر چھا جاتی اور یہ کیسے ممکن تھا کہ وہ شخص سائنسی نوعیت کی ایسی سچائیوں کا اعلان کرتا جن تک اس دور کے کسی انسان کی رسائی نہ تھی اور ان اعلانات میں اس سے ذرہ برابر غلطی نہ ہوتی- آخر میں اپنا فیصلہ سناتے ہوئے مورس بکائلے کہتا ہے-

ان خیالات سے یہ نتیجہ برآمد ہوگا کہ یہ بات بالکل ناقابل تصور ہے کہ ساتویں صدی عیسوی میں رہنے والا ایک انسان قرآن میں مختلف موضوعات پر ایسی چیزیں بیان کرتا جن کا تعلق اس کے زمانے سے نہ تھا اور اس کے بیانات ان حقائق سے بالکل ہم آہنگ ہوتے جن کا انکشاف کئ صدیاں بعد ہوا - میرت نزدیک قرآن کے انسانی کلام ہونے کی کوئی توجیہ ممکن نہییں-

موعس بکائلے قرآن کریم کی جن آیات سے بے حد متاثر ہوا وہ درج ذیل ہیں-

"کیا کفار نہیں دیکھتے کہ زمین وآسمان باہم ملے ہوئے تھے پھر ہم نے ان کو الگ الگ کیا اور ہم نے ہر زندہ شے پانی سے بنائی"-

"مزید براں اللہ تعالی آسمان کی طرف موجہ ہوا جب کہ یہ دھواں تھا اور اس سے اور زمین سے فرمایا-"

"کیا تم نے دیکھا کہ کس طرح اللہ نے سات آسمان پیدا کیے ایک کے اوپر دوسرا اور اس نے چاند کو روشنی اور سورج کو چراغ بنایا-"

"ہم نے تمہارے اوپر سات مضبوط آسمان بنائے ہیں اور ایک بھڑکتا ہوا سورج رکھا-"

"نہ سورج چاند کوپیچھے سے پکڑسکتاہے اور نہ رات دن سے آگے نکل سکتی ہے - سب ایک مدار میں اپنی ذاتی حرکت سے محوسفر ہیں-"

"وہ لپیٹتا ہے دن کو رات پر اور رات کو دن پر-"

"اے گروہ جن وانس ! اگر تم آسمان اور زمین کے خطوں سے پار ہوسکتے ہوتو ہوجاو تم بغیر طاقت کے ان سے پار نہیں ہوسکتے-"

"اللہ تعالی وہ ہے جس نے آسمان سے پانی اتارا اور اس کے ذریعے ہم نے نباتات کے کئ جوڑے نکالے- ہر جوڑا دوسرے جوڑے سے مختلف ہے-"

"اور اللہ تعالی نے تمام پھلوں کے دو دو جوڑے بنائے-"

"تمہارے رب نے شہد کی مکھی کے دل میں یہ بات ڈال دی بناو اپنی رہائش گاہ پہاڑوں میں درختوں کے اندر اور ان چھپروں میں جو لوگ بناتے ہیں- کھا ہر قسم کے پھلوں سے اور چلتی رہ اپنے رب کے راستوں پر عاجزی کے ساتھ- ان کے جسموں سے مختلف رنگوں کا ایک مشروب نکلتا ہے جس میں لوگوں کے لیے شفاء ہے-"

"کیا انسان تولیدی مادہ کی ایک معمولی مقدار نہ تھا جسے ٹپکایا جاتا ہے- اس کے بعد وہ ایک ایسی چیز تھا جو چمٹ جاتی ہے اور اللہ تعالی نے اسے درست اعضاء کے ساتھ پیدا فرمایا-"

ان تمام تحقیقات و وجوہات کی بنا پر مورس بکائلے نے بلآخرحق کو پہچان لیا اور اسلام قبول کر لیا.

الحمد للہ علی العظیم

منتخب تحریریں