بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ * لا الہٰ الا اللہ محمّد رسول اللہ * قُلْ هُوَ اللّـٰهُ اَحَدٌ - اَللَّـهُ الصَّمَدُ - لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُوْلَدْ - وَلَمْ يَكُنْ لَّـهٝ كُفُوًا اَحَدٌ

اعتراضات / اشکالات


امام غزالی اور ڈیکارٹ کی تشکیکیت میں فرق

2017-07-06 17:42:55 

امام غزالی اور ڈیکارٹ کی تشکیکیت میں فرق؟ اعتراض کیا جاتا ہے کہ "امام غزالی" اور "رینے ڈیکارٹ" کی تشکیکیت میں کوئی فرق نہیں ہے. جبکہ دونوں کی تشکیکیت میں واضح فرق موجود ہے صرف تعصب کی عینک اتار کر دیکھنے کی ضرورت ہے. امام غزالی کی تشکیکیت اور نتائج: امام غزالی کو دینی علوم کے ساتھ علومِ فلسفہ و منطق سے بھی کافی شغف رہا ہے، چنانچہ آپ کی تصانیف میں جا بجا منطقی اور فلسفیانہ طرز کی بحثیں، منطقی استدلال اور فلاسفہ کے اقوال ملتے ہیں۔ بعض مقامات پر امام صاحب نے منطق کو میزان العلوم، تک قرار دیا ہے، جو یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہے کہ علومِ عقلیہ پر انہیں کس قدر اعتبار و اعتماد تھا۔ "اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ (امام) غزالی کی ذات کو فلسفہ میں کس قدر عجز تھا اور وہ اس سے خروج حاصل کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے تھے۔ کیونکہ انہوں نے معرفتِ حقیقت کے لیے اسے حاصل کیا تھا۔ پس ان کی نیت ایسے اسباب حاصل کرنے کی رہتی تھی جس میں فلسفہ کی کثرت ہو اور وہ اسی فلسفہ کی پرواز تخیل میں (مگن) رہتے تھے۔ اور بعض مقامات پر اختلافِ شریعت کر گئے .لیکن فلسفہ پر مکمل عبور تھا اور منفی و اختلافِ شریعت کے تجربات سے گزرنے کے بعد وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ فلسفی درحقیقت لا دین ہیں ۔اس ضمن میں امام غزالیؒ نے فلسفیوں کے استدلال کی بنیادی خامیوں کو زیر بحث لاتے ہوئے ان کی منطق کے پرخچے اڑا دئیے اور اپنے علم ،مطالعہ اور ذہانت کی بدولت یہ ثابت کیا کہ ابدیت کے بارے میں ان کا اعتقاد درست نہیں ،ارواح اور اساطیری اجسام کے بار ے میں ان کے نظریات صریحاً گمراہ کن ہیں، فلسفیوں کا نظریۂ علت و معلول درست ہے اور نہ ہی وہ روح کی ابدیت کو ثابت کرنے میں کامیاب ہو سکے ہیں اور مزید یہ کہ خدا کے وجود سے متعلق ان کے دلائل نقائص سے پاک نہیں۔اس قسم کے بیس نکات کو زیر بحث لاتے ہوئے امام غزالی ؒفلسفیوں کے خلاف تین الزامات لگاتے ہوئے انہیں لا دین ہونے کا مرتکب پاتے ہیں۔پہلا، کائنات کی ابدیت، دوسرا، زمان و مکاں کے بارے میں خدا کے علم سے انکار اور تیسرا،حیات بعد از موت سے انکار۔ امام غزالیؒ کا ماننا تھا کہ خدا اس کائنات کو عدم سے وجود میں لے کر آیا اور ماضی کے ایک لمحے میں تخلیق کیا اور ماضی کا وہ لمحہ حال سے ایک متعین فاصلے پر ہے ،لا محدود نہیں ہے ۔خدا مادے کے ساتھ ساتھ وقت کا بھی خالق ہے جس کا ایک معین آغاز تھا لہٰذا وقت لامتناہی نہیں ہو سکتا۔امام غزالیؒ کی فلسفیوں سے بنیادی اختلاف کی وجہ یہ تھی کہ ان کے خیال میں فلاسفہ کے دلائل منطقی اعتبار سے درست نہیں تھے اپنے نظریات کو سچا ثابت کرنے کی غرض سے فلسفیوں نے بعض جگہوں پر اپنے ہی دلائل کی نفی کرتے ہوئے متضاد باتیں کہی تھیں۔ امام غزالیؒ کے خیال میں فلسفیوں نے جن مفروضوں کی بنیاد پر اپنے عقائد کی عمارت کھڑی کی وہ مفروضے ہی سراسر غلط تھے۔ امام غزالیؒ نے ثابت کیا کہ ان مفروضوں کی منطقی اعتبار سے تشریح کی جا سکتی ہے اور نہ ہی یہ وحی کے ذریعے سے اپنے آپ آشکار ہوتے ہیں ۔ رینے ڈیکارٹ کی تشکیکیت اور نتائج: اپنے فلسفیانہ تفکر کے آغاز میں ڈیکارٹ خدا، دنیا اور حواس خمسہ سمیت ہر شے کو اپنی تشکیک کا ہدف بناتا ہے۔ لیکن اس تشکیک میں اس کو یقین کا ایک نکتہ ہاتھ آجاتا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ وہ ہر شے کی بابت شک کرتا رہا، لیکن اپنی ذات، یعنی شک کرنے والی شے، پر شبہ نہ کرسکا۔ اگر شک کرنے والی شے غیر حقیقت یا عدم وجود کی حامل ہے، تو پھر شک کرنے کے عمل کو کون انجام دے رہا ہے۔ مزید برآں تشکیک تفکر پر دلالت کرتی ہے۔ لہذا تفکر پر مبنی عمل تشکیک کے ذریعہ وہ اس نتیجہ پر پہنچا کہ میں سوچتا ہوں، اس لیے میرا وجود ہے۔ اس نکتہ یقین سے اس نے بقیہ تمام نتائج ریاضیات کی طرح اخذ کیے ہیں۔ وہ اپنی ذات کا تنقیدی تجزیہ کرتا ہے اور اس نتیجہ پر پہنچتا ہے کہ اس کے ذہن میں بعض وہبی تصورات پائے جاتے ہیں۔ ان تصورات میں ایک اکمل ذات یا خدا کا تصور ہے۔ اس کے ذہن میں اس تصور کا خالق، خود خدائے اکمل کے علاوہ کوئی اور نہیں ہوسکتا ہے۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ خدا کا وجود ہے۔ خدا کے وجود کے اثبات کے سلسلہ میں یہ اس کی کونیاتی Cosmological یا علیِّ دلیل ہے۔ خدا کی ذات کے اثبات میں وہ وجودیاتی Ontological دلیل بھی دیتا ہے۔ اگر خدا کی ذات اکمل ہے تو پھر اس کا وجود بھی لازمی ہے، اس لیے کہ وجود کا فقدان عدم اکملیت کے مترادف ہے۔ چنانچہ ایک اکمل ذات کے تصور میں لازمی طور پر اس کے وجود کا تصور بھی شامل ہے، اور اسکا مطلب ہے خدا نہیں ہے. جس طرح ایک مثلث کے تصور میں یہ تصور بھی شامل ہے کہ اس کے تین زاویے ہونگے اور ان زاویوں کا مجموعہ دو زاویہ قائمہ کے برابر ہوگا۔ اپنے فلسفہ کو جوہر کے تصور پراستوار کرتے ہوئے ڈیکارٹ خدا کو ایک موجود بالذات اور خود مختار جوہر قرار دیتا ہے جو دیگر اشیا کا محتاج نہیں ہوتا۔ اس کے نزدیک جوہر وہ ہے جو وجود بالذات رکھتا ہو اور مخلوق بالذات ہو یعنی اپنے وجود کے لیے کسی اور علت کا پابند نہ ہو۔ اس تعریف کی رو سے جوہر ایک ہی ہوسکتا ہے اور وہ خدا ہے۔ لیکن ایک طبعیات داں کی حیثیت سے وہ مادے کے وجود سے منکر نہ ہوسکا۔ لہذا خدا کے علاوہ دو اور جوہروں کے وجود میں بھی وہ یقین رکھتا ہے جن کو وہ ممتد جوہرExtended Substance اور مفکر جوہرThinking Substance کے ناموں سے موسوم کرتا ہے اور جن سے وہ علی الترتیب نفس یا روح اور مادہ مراد لیتا ہے۔ یہ صحیح ہے کہ ان کا مبدا خدا کی ذات ہے لیکن یہ دونوں ثانوی جواہر بھی ضمنی اعتبار سے وجود بالذات کے حامل میناور اپنے اپنے دائرہ کار میں مکمل طور پر آزاد ہیں۔ تمام طبعی دنیا ایک جوہر ممتد ہے جو میکانیکی قوانین فطرت کی تابع ہے اور یہی متحرک مادہ بالآخر طبعی دنیا کو وجود میں لانے کا سبب بنتا ہے۔ پھر اس کے نظریہ تعامل کو بعد کے فلسفیوں نے تسلیم نہیں کیا، بلکہ خود ڈیکارٹ کے پر جوش حامیوں کو یہ قابل قبول نہ ہوا۔ چنانچہ انھوں نے اس کی تعاملیت کو سخت تنقید کا ہدف بنایا ہے۔ ڈیکارٹ دراصل ثانویت پرست(Humanist) ہے۔ اس کا نظریہ تعامل بھی اس کی ثانویت کا ہی ضمنی نتیجہ ہے۔ ذہن و جسم کے مابین نظریہ تعامل کے ذریعہ ہم آہنگی پیدا کرنے کی محض کوشش کرنا ایک عالمانہ معجز نمائی سے کام لینا ہے۔ ڈیکارٹ کی ثانویت کے لیے منطقی بنیاد فراہم کرنا مشکل ہے۔ تاہم اس کا ثانویتی نظریہ جدید طبعی علوم کو فروغ دینے میں بے حد معاون ثابت ہوا ہے۔ اس نے ان کی ترقی کے لیے ٹھوس بنیاد فراہم کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس کی بدولت ان علوم کو میکانیکی قوانین کے معروضے پر عمل کرتے ہوئے اپنے اپنے دائروں میں ترقی کرنے کی آزادی میسر آئی ہے۔

کیا قرآن میں جدت کا فقدان ہے

2017-05-23 07:42:55 

اعتراض : قرآن حکیم میں جدت کا فقدان ہے
جواب:۔ مستشرقین نے قرآن حکیم کے متعلق یہ تاثر قائم کرنے کی کوشش کی ہے کہ اس کی تعلیمات میں کوئی چیز نئی نہیں ۔ مستشرقین میں عام طور پر یہ فقرہ مشہور ہے کہ " قرآن حکیم میں جو کچھ جدید ہے وہ صحیح نہیں اور جو صحیح ہے وہ جدید نہیں "
مستشرقین کہنا یہ چاہتے ہیں کہ حضور اکرم ﷺ نے قرآن حکیم کی جو تعلیمات یہود و نصاریٰ سے اخذ کی ہیں وہ صحیح ہیں لیکن جو باتیں آپ ﷺ نے اپنی طرف سے پیش کی ہیں وہ صحیح نہیں ۔وہ اپنے اسی نظریے کو ذہن میں رکھ کر قرآن حکیم  کی تعلیمات کا منبع تلاش کرنے کے لیئے عہدنامہ قدیم و جدید کا مطالعہ کرتے ہیں۔جب انہیں قرآن حکیم کی کوئی بات سابقہ صحف سماویہ کے مطابق نظر آتی ہے تو بڑی خوشی سے اعلان کرتے ہیں کہ محمد ﷺ نے یہ بات فلاں جگہ سے اخذ کی ہے تاکہ قاری یہ محسوس کرے کہ قرآن حکیم اللہ کا نازل کردہ کلام نہیں بلکہ محمد ﷺ نے دیگر کتب سماویہ سے نقل کر کے اس کو تصنیف کیا ہے۔مستشرقین صحف سماویہ کے علاوہ زمانہ جاہلیت کے عربوں کی روایات، مکی زندگی کے رسوم و رواج اور جاہلی عرب شاعری میں بھی ایسے مقامات تلاش کرتے ہیں جن کو قرآن حکیم کا منبع قرار دیا جاسکے۔
مستشرقین سے ایک سوال ہے کہ انہوں نے یہ اصول کہاں سے حاصل کیا کہ سچ وہی ہوتا ہے جو نیا ہو یا دین وہی سچا ہوتا ہے جو اپنے سے پہلے انسانی معاشرے میں موجود تمام عقائد، نظریات، روایات اور معمولات کو یکسر ملیامیٹ کر دے ۔اور پھر ان کے کھنڈروں پر عمارت نو تعمیر کرے؟ کیا اصلاحی تحریکیں وہی سچی ہوتی ہیں جو جو معاشرے کی ہر قدر کو ،صحت و سقم کی تمیز کے بغیرملیامیٹ کر دیں اور پھر نظریات، اخلاق، اقدار اور روایات کا وہ مجموعہ پیش کریں جس کی پہلے کہیں نظیر نہ ملتی ہو؟

یہ بات سچ ہے کہ اسلام کی بہت سی باتیں ایسی ہیں جو نئی نہیں مگر یہ بات بھی غلط ہے کہ اسلام نے یہ سب کسی انسانی ذریعے سے حاصل کیں۔ اسلام نے یہ دعوی کب کیا ہے کہ جو تعلیمات اس نے پیش کیں وہ اس سے پہلے کسی نبی یا رسول نے پیش نہیں کیں؟ اسلام کا تو دعوی ہی یہی ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام سے لیکر حضور اکرم ﷺ تک تمام انبیاء و رسل عظام ایک ہی پیغام کے علمبردار رہے۔ حق ناقابل تغیر ہوتا ہے وہ زمانے کے بدلنے سے نہیں بدلتا۔جو بات حضرت آدم علیہ السلام کے زمانے میں حق تھی وہی بات حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانے میں بھی حق تھی ۔جو بات حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں حق تھی وہی بات حضرت محمد ﷺ کے زمانے میں بھی حق تھی ۔چونکہ تمام انبیاء کرام علیھم السلام حق ہی کے علمبردار تھے تو ان کے پیغامات میں موافقت ایک قدرتی بات ہے۔

دور حاضر میں موجودقرآن کے علاوہ دیگر صحف سماویہ میں جو تضاد نظر آتا ہے وہ اس لیئے نہیں کہ پیغمبران کرام ایک دوسرے سے متضاد پیغامات لے کر آئے تھے بلکہ اس لیئے ہے کہ یہود و نصاریٰ نے صدیوں اپنے صحائف کو بازیچہ اطفال بنا رکھا ہے۔اگر آج بھی اصل انجیل، زبور اور تورات مل جائیں تو ان کی بنیادی تعلیمات اور قرآن کی بنیادی تعلیمات میں سرمو فرق نظر نہ آئے۔تفصیلات کے معمولی اختلافات زمانے کے تقاضوں کے مطابق ضروری ہیں۔اور ان میں عین حکمت ہے۔
قرآن حکیم تو بار بار اعلان فرما رہا ہے کہ وہ باقی صحف سماویہ کی تصدیق کرنے والا ہے۔اگر اس کی تعلیمات اور اس سے قبل صحف سماویہ کی تعلیمات میں فرق ہو تو یہ ان کی تصدیق کیسے کر سکتا ہے؟ اسلام میں تو ایمان بالرسات اور ایمان بالکتب کا مطلب ہی یہی ہے کہ رسالت کے پورے ادارے اور الہامی کتابوں کے مکمل سلسلے پر ایمان لایا جائے۔کوئی بھی مسلمان صرف حضور اکرم ﷺ کی رسالت پر ایمان لا کر ایمان بالرسالت کے تقاضے پورے نہیں کر سکتا بلکہ اسے دیگر تمام انبیاء و رسل پر ایمان لانا پڑتا ہے ۔ اسی طرح ایمان بالکتب  کے لیئے صرف قرآن پر ایمان لانا کافی نہیں بلکہ ضروری ہے کہ مسلمان مجملاََ یہ عقیدہ رکھے کہ سابق انبیاء و رسل پر جو نازل ہوا وہ بھی برحق ہے۔گویا اسلام کے ایمان بالرسالت اور ایمان بالکتب کاتقاضا ہی یہی ہے کہ تمام انبیاء و رسل ایک ہی دین کے علمبردار ہوں اور تمام کتب سماوی کا منبع ایک ہی ہو۔

اگر مستشرقین کے اعتراض کے مطابق کسی کتاب کے منز ل من اللہ ہونے کا یہ معیار ہو کہ اس کی تعلیمات کسی دوسری کتاب کی تعلیمات سے مشابہ نہ ہوں تو ایمان بالکتب ممکن ہی نہیں رہتا۔اس صورت میں تو ایمان بالکتب کے لیئے یہ نئی اصطلاح استعمال کرنی ہو گی کہ تمام انبیاء و رسل کے پیروکار صرف ایک ہی کتاب پر ایمان رکھیں۔اس سے نہ صرف مسلمان متاثر ہوں گے بلکہ خود مستشرقین کے لیئے بھی مسئلہ بن جائے گا۔
ہم مستشرقین سے پوچھتے ہیں کہ اگر انہیں اناجیل کی کوئی بات تورات سے مشابہ نظر آ جائے تو کیا وہ اس بنا پر اناجیل کے کلام الٰہی ہونے کا انکار کر دیں گے اور اسے تورات سے نقل شدہ کتاب قرار دیں گے ؟؟؟
اگر نہیں اور یقیناََ نہیں تو کیا وجہ ہے کہ انجیل کی تعلیمات کی سابقہ کتب سے مشابہت کے باوجود اس کے کلام الٰہی ہونے پر کوئی حرف نہ آئے اور اگر قرآن میں کوئی بات سابقہ صحف سماوی سے مشابہ نظر آ جائے تو اس کے کلام الٰہی ہونے کا انکار کر کے اسے سابقہ کتب کی نقل قرار دے دیا جائے ؟؟؟

ہمارا ایمان ہے کہ تمام کتب جو انبیاء و رسولوں پر نازل ہوئیں سب برحق تھیں سب کا پیغام اور تعلیمات ایک تھیں ۔ ان میں سے کوئی بھی کتاب کسی دوسری کتاب کی نقل نہ تھی ۔بلکہ ہر کتاب بذریعہ وحی اللہ عزوجل نے اپنے ایک برگزیدہ بندے اور رسول پر نازل فرمائی تھی۔

مستشرقین اگر ایک اصول بنا کر اسے تمام کتابوں پر لاگو کر دیں تو انہیں اعتراض کرنے کا قطعاََ کوئی موقع نہ ملے۔مگر عجیب بات یہ ہے کہ قرآن حکیم پر اعتراض کرنے کے لیئے مستشرقین جو اصول وضع کرتے ہیں ان اصولوں سے وہ ان کتابوں کو مستشنٰی سمجھتے ہیں جو ان کے عقیدے کے مطابق منزل من اللہ ہیں۔یہ دوغلی پالیسی نہ علم ہے نہ معروضیت ۔ اس لیئے مستشرقین کے یہ جانبدارانہ اور یک طرفہ فیصلے قطعاََ درخو اعتناء نہیں ۔

قرآنی آیات کے ناسخ منسوخ ہونے پراعتراض

2017-05-23 07:29:09 

مستشرقین کا قرآن حکیم پر یہ ایک بڑا مشہور اعتراض ہے کہ قرآن حکیم میں ایسی آیات موجود ہیں جو باہم ایک دوسرے کے متضاد ہیں۔لیکن مسلمان یہ کہہ کر جان چھڑا لیتے ہیں کہ یہ باہم متضاد نہیں بلکہ ان کا آپس میں تعلق ناسخ منسوخ کا ہے۔مستشرقین کہتے ہیں کہ مسلمان اس طرح قرآن حکیم پر ہونے والے ایک بڑے اعتراض سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں ۔بلکہ وہ یہاں تک بھی اپنے اس مفروضے کو طول دینے سے باز نہیں آتے کہ تضادات سے بچنے کا یہ طریقہ خود حضور اکرم ﷺ نے وضع کیا تھا۔یہی وجہ ہے کہ قرآن میں آیات کو منسوخ کرنے یا ایک کو دوسری سے بدلنے کا ذکر ہے۔اپنے اس دعویٰ کے ثبوت کے طور پر وہ قرآن حکیم کی اس آیہ کریمہ کو پیش کرتے ہیں :۔
"جو آیت ہم منسوخ کر دیتے ہیں یا فراموش کرا دیتے ہیں تو لاتے ہیں (دوسری) بہتر اس  سے یا(کم ازکم) اس جیسی"۔ سورۃ البقرہ آیہ 106
جارج سیل اپنے ترجمہ قرآن کے مقدمے میں لکھتا ہے کہ: "قرآن میں کچھ آیات ایسی ہیں جو باہم متضاد ہیں۔مسلمان علماء نسخ کے اصول کے ذریعے ان پر وارد ہونے والے اعتراضات کا تدارک کرتے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ اللہ عزوجل نے قرآن حکیم میں کچھ احکام صادر فرمائے جن کو بعد میں معقول وجوہات کی بناء پر منسوخ کر دیا گیا"
" صفحہ 52
The Koran"
مستشرقین یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ نسخ کا لفظ نظر ثانی کے مترادف ہے۔اور حضرت محمد ﷺ قران میں نظرثانی و ترمیم کیا کرتے تھے۔اور قرآن کی ترتیب کو نئی شکل دیتے تھے۔مستشرقین کے ان تمام دعوؤں کی دلیل یہ ہے کہ قرآن اس بات کو بیان کرتا ہے کہ اس کی کچھ آیات دوسری آیات کے ذریعے منسوخ ہو گئی ہیں۔اگر یہی حقیقت ہو تو پھر قرآن کوکلام الہٰی ماننے کی کوئی گنجائش ہی نہیں رہتی۔ اگر اس نظریے کو قبول کر لیا جائے کہ حضور اکرم ﷺ قرآن میں ازخود ترمیم کر لیا کرتے تھے تو پھر قرآن کے منزل من اللہ ہونے کے عقیدے کی ضرورت ہی کیا ہے؟جو قرآن میں ترمیم کر سکتا ہے وہ قرآن کو تصنیف بھی کر سکتا ہے۔مستشرقین الفاظ کے ہیر پھیر سے اسی نتیجہ تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔
مستشرقین کا یہ دعوی بلکل غلط اور باطل ہے۔ قرآن حکیم نہ تو حضور اکرم ﷺ کو قرآن کا مصنف کہتا ہے اور نہ ہی اس کی ترتیب اور نسخ کو حضور اکرم ﷺ کی طرف منسوب کرتا ہے۔قرآن حکیم اللہ عزوجل ہی کو اس کتاب کا نازل فرمانے والاقرار دیتا ہے اور اس میں نسخ کو بھی اسی ذات سے منسوب کرتا ہے۔نسخ کو حضور اکرم ﷺ کی طرف سے نظر ثانی قرار دینا نہ قرآن کا بیان ہے اور نہ ہی کبھی مسلمانوں نے اسے تسلیم کیا ہے۔مستشرقین اپنے مزعومات کو قرآن حکیم اور مسلمانوں کے سر تھوپ کر اپنی روایتی علمی بددیانتی کا ثبوت دے رہے ہیں۔مسلمان ساڑھے چودہ سو سال سے قرآن حکیم اور احادیث کی تشریح اور ان سے استنباط احکام کے لیئے نسخ کے اصول کو استعمال کرتے آئے ہیں۔

یہ اسلامیات کی ایک مستقل اصطلاح ہےجس کی اپنی مخصوص تعریف ہے اور اس کی کچھ شرائط ہیں۔نسخ کوئی قانون چھری نہیں کہ جس عقیدے کو چاہے باطل کر دےجس تاریخی بیان کو چاہے بدل دےجس قانون کو چاہے کالعدم قرار دے دےجس اخلاقی ضابطے کو چاہے ملیامیٹ کر دے۔ نہ اس کے لیئے زمانے کی پابندی ہو اور نہ مسئلے کی نوعیت اس قانون پر اثر انداز ہوتی ہو۔ بلکہ جس بات کو جب خلاف مصلحت سمجھا کالعدم قرار دے دیا۔ نسخ کے متعلق اس قسم کا کوئی بھی تصور درست نہیں۔یہ ایک شرعی اصطلاح ہے جو اپنے دائرے اور پابندیوں کے اندر نافذ العمل ہوتی ہے۔جدیدیت پسندوں نے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ قرآن میں جہاں نسخ کا ذکر ہے اس سے مراد یہ ہے کہ قرآن حکیم سابقہ شریعتوں کو منسوخ کرتا ہے،قرآن کی آیات کے ذریعے دوسری آیات منسوخ کرنے کا کوئی ذکر نہیں ۔لیکن ان کے موقف کی تائید نہ تو  متعلقہ قرآنی آیات کے الفاظ کرتے ہیں اور نہ ہی ملت اسلامیہ کی علمی تاریخ ان کی تصدیق کرتی ہے۔نسخ کا قانون مسلمانوں کے ہاں مسلم ہے اس کا انکار کر کے ہم قرآن حکیم کی کوئی خدمت نہیں کر سکتے۔اور نہ ہی ہمیں اس کا انکار کرنے کی ضرورت ہے۔کیونکہ ضروری نہیں کہ جس بات میں مستشرقین کو نقص نظر آتا ہو وہ لازماََ ناقص ہی ہو۔ان کو تو اسلام کی کسی بات میں کوئی بھی خوبی نظر نہیں آتی۔ان کی قلبی کیفیت کے بارے میں اللہ عزوجل ہمیں یوں آگاہ فرماتا ہے :۔
"اور ہرگز خوش نہ ہوں گے آپ سے یہودی نہ عیسائی،یہاں تک کہ آپ پیروی کرنے لگیں ان کے دین کی" سورۃ البقرہ آیہ 120۔

ذیل میں ہم نسخ کا وہ مفہوم پیش کرتے ہیں جو حضور نبی کریم ﷺ نے اپنی امت کو سمجھایا اور جو ساڑھے چودہ سو سال سے امت مسلمہ میں مروج ہے۔

نسخ کا مفہوم:۔ نسخ کا لغوی معنیٰ زائل کرنا یا نقل کرنا ہے۔ جیسے کہ کہتے ہیں کہ " نَسَختِ الرَیخُ آثَارَ القَدَمِ اَی اَزَلَتہُ۔ہوا نے قدموں کے آثار مٹا دیئے یعنی ان کا ازالہ کر دیا"

اسی طرح جب ایک کتاب کے مندرجات کو دوسری کتاب میں نقل کیا جائے تو کہتے ہیں" نَسَختُ الکِتَابَ" اور اصطلاح میں نسخ کی مختصر تعریف یہ ہے کہ:

  • " شارع کا ایک حکم شرعی کو کسی دوسری دلیل شرعی سے ساقط کر دینا"
    نسخ کا تعلق ایک طرف شارع سے ہے اور دوسری طرف امت کت مکلفین سے۔مکلفین کی نسبت سے تو نسخ کا یہ یہی مفہوم بنے گا کہ پہلے جو حکم موجود تھا اب وہ ساقط ہو گیا ہے اور اب اس کی جگہ ایک نیا حکم نافذ کر دیا گیا ہے ۔لیکن شارع کی نسبت اس میں رفع کا معنی موجود ہی نہیں  بلکہ اس نسبت سے اس کا مفہوم یہ ہے کہ شارع نے سابق حکم کے نفاذ کی مدت کے ختم ہونے کا اعلان کر دیا ہے۔
    اللہ تعالیٰ کی نگاہ قدرت سے نہ حال پوشیدہ ہے نہ مستقبل۔ یہ بات اس کے لامحدود علم میں ہے کہ کون سے حکم کی افادیت کس وقت تک رہے گیاور کب اس کی جگہ دوسرا حکم مفید رہے گا۔ نسخ کے ذریعے ایک حکم کے خاتنے اور دوسرے حکم کے نفاذ کا جو اعلان ہوتا ہے اس کا فیصلہ تو پہلے سے ہی ہو چکا ہوتا ہے۔لیکن چونکہ بندوں کو اس کا علم نہیں ہوتا اس لیئے جب ناسخ آیت کا نزول ہوتا ہے تو وہ سمجھتے ہیں کہ پہلے حکم کو ساقط کر کے اس کی جگہ نیا حکم نافذ کر دیا گیا ہے۔ حالانکہ شارع کے علم کے مطابق یہ تبدیلی پہلے حکم کی مدت کے خاتمے اور دوسرے حکم کی مدت کے آغاز کا اعلان ہوتی ہے۔
    یہاں بعض لوگ یہ وسوسہ پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ اگر مان لیا جائے کہ قرآن کی بعض آیات دوسری آیات کی ناسخ ہیں تو اس سے لازم آئے گا کہ پہلا حکم نازل کرتے وقت معاذاللہ ، اللہ عزوجل کو معلوم نہ تھا کہ یہ حکم مفید ہےاور جب تجربے کے ذریعے اس کے غیر مفید ہونے کا علم ہوا تب دوسرا حکم نافذ کر دیا گیا۔
    یہ محض وسوسہ ہے اس کا حقیقت سے کچھ تعلق نہیں ۔کیونکہ ضروری نہیں کہ ہر مفید حکم ہر زمانے کے لیئے مفید ہو۔بلکہ حالات کے بدلنے سے حکم کی افادیت بدلتی رہتی ہے۔طبیب مرض کا علاج مرحلہ وار کرتا ہےپہلے مرحلے پر وہ جو دوا دیتا ہے وہ اسی مرحلے کے لیئے مفید ہوتی ہےلیکن اسی علاج کو مستقل کر دینا نہ طبابت ہے اور نہ عقلمندی۔طبیب ہر مرحلے کے بعد علاج کو تبدیل کرے گا اور یہی عقلمندی ہے۔اب اگر کوئی فلسفی مزاج مریض طبیب کی طرف سے نسخے کی تبدیلی پر یہ اعتراض کر دے کہ ڈاکٹر صاحب! پہلے آپ نے یہ علاج کیوں تجویز نہ کیا تھا کیا اس وقت آپ کو اس بات کا علم نہ تھا جو اب آپ کے نوٹس میں آئی ہے؟ تو ایسا مریض کسی طبیب کے علاج سے صحتیاب کیسے ہو گا؟یہ مثال محض وضاحت کے لیئے ہے اس مثال سے یہ حقیقت منکشف ہو چکی کہ نسخ کا مطلب یہ نہیں کہ شارع نے پہلے غلط حکم دے دیااور جب اس کی غلطی کا پتا چلا تو اس کو دوسرے حکم سے بدل دیا۔بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک حکم جب تک مفید تھا نافذالعمل رہا جب اس کی افادیت ختم ہو گئی تو اس کو دوسرے حکم سے بدل دیا
    نسخ کا اصول نہ نظری معاملات اور عقائد میں لاگو ہوتا ہے اور نہ خبر میں ۔نسخ کا یہ مطلب نہیں کہ اسلام پہلے ایک عقیدے کا پرچار کرے اور پھر اس کی جگہ دوسر اعقیدہ پیش کر کے کہے کہ پہلا عقیدہ منسوخ ہو گیا ہے۔اور نہ ہی نسخ کا یہ مطلب ہے کہ پہلے قرآن ایک حقیقت یا خبر کو بیان کرے اور اور پھر اس کو منسوخ قرار دے دے۔بلکہ نسخ کا قاعدہ صرف عملی احکام میں لاگو ہوتا ہے مگر چند شرائط کے ساتھ۔۔۔!
    نسخ کی اس وضاحت سے مندرجہ ذیل احکام نسخ کے دائرہ کار سے خارج ہو جائیں گے:۔
    شریعت کے احکام کلیہ اور اصول عامہ جیسے امر بالمعروف و نہی عن المنکر وغیرہ

ایسے احکام جن کے مشروع نہ ہونے کا احتمال ہی نہیں۔ جیسے وہ اصلی احکام جن کا تعلق عقائد سے ہے مثلاََ اللہ پر ایمان، فرشتوں ، کتابوں، رسولوں اور  یوم آخرت پر ایمان، ایسے احکام جو نیکی اور فضیلت کی بنیاد ہیں جیسے عدل، صداقت،امانت،والدین سے حسن سلوک، ایفائے عہد اور اسی قسم کے دیگر فضائل۔
ایسے احکام جن کی مشروعیت کا سرے سے احتمال ہی نہیں جیسے کفر اور دیگر اصلی رزائل مثلاََ ظلم، جھوٹ، خیانت، والدین کی نافرمانی، دھوکہ دہی وغیرہ کیونکہ یہ ایسی چیزیں جن کی قباحت بدل نہیں سکتی
ایسے احکام جن کے ساتھ کوئی ایسی چیز ملحق ہو جو نسخ کے منافی ہومثلاََ اس حکم کے ساتھ یہ وضاحت بھی ہو کہ یہ حکم تاابد ہے ۔ اس کی مثال حضور اکرم ﷺ کی ازدواج مطہرات سے نکاح کی حرمت کا مسئلہ ہے۔

جیسے کہ قرآن حکیم نے واضح الفاظ میں فرما دیا ہے کہ :۔ وَمَا کَانَ لَکُم اَن تُوذُوا  رَسُولَ اللَّہِ وَلا اَن تَنکِحُوا اَزوَاجَہُ مِن بَعدِہِ اَبَدا------الاحزاب:53
اور تمہیں زیب نہیں دیتا کہ تم رسول اللہ ﷺ کو اذیت پہنچاؤ۔ اور تمہیں اس بات کی بھی اجازت نہیں کہ ان کی ازدواج سے ان کے بعد کبھی بھی نکاح کرو۔
اس آیہ کریمہ میں لفظ ابدا کے ساتھ اس بات کی صراحت کر دی گئی ہے کہ ازدواج رسول اللہ ﷺ سے نکاح ابدی طور پر حرام ہے ۔ اس حکم کو ابدی قرار دینا اس بات کی دلیل ہے کہ یہ حکم ابدی طور پر مفید ہے۔ کیونکہ اگر  اس حکم میں نسخ کا امکان ہو تو یہ اس بات کے منافی ہو گا کہ یہ حکم ابدی طور پر مفید ہو ۔دوسرے قسم کے احکام وہ ہیں کہ جن کے ابدی ہونے کی صریح نص تو موجود نہیں مگر قرائن اس کی شہادت دیتے ہیں ۔ جیسے کہ ایسے احکام جن کا نسخ حضور اکرم ﷺ کی حیات ظاہری میں ثابت نہیں ۔ ایسے احکام بھی ابدی ہیں اور نسخ کو قبول نہیں کرتے کیونکہ نسخ کے لیئے قول رسول اللہ ﷺ ضروری ہےاور حضور اکرم ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں کیونکہ آپ ﷺ خاتم الانبیاء و المرسلین ہیں ۔ اس طرح وہ احکام بھی نسخ کو قبول نہیں کرتے جن کا وقت متعین کر دیا گیا ہو۔کیونکہ ایسا حکم وقت گزرنے کے ساتھ خودبخود ساقط ہو جاتا ہے اور اس کو ختم کرنے کے لیئے کسی دوسرے حکم کی ضرورت نہیں پڑتی۔

نسخ کی شرائط:۔
نسخ کے مؤثر ہونے کی چند شرائط ہیں  جو درج ذیل ہیں:۔
منسوخ ہونے والا حکم شریعت کا ایسا جزئی اور عملی حکم ہو جو قرآن و سنت سے ثابت ہو اور اس حکم کے ساتھ نہ تو ابدیت کی شرط ہواور نہ ہی اس کی مدت متعین ہواور ساتھ ہی منسوخ کے لیئے ضروری ہے کہ وہ ناسخ سے مقدم ہو۔
ناسخ قرآن کی آیت یا حضور اکرم ﷺ کی قولی یا فعلی سنت ہو جو منسوخ سے متاخر ہو
نسخ کی صورتیں :۔
نسخ کی کئی صورتیں ہیں جن کی تفصیل درج ذیل ہے:۔
کبھی ایک حکم منسوخ ہوتا ہے اور اس کی جگہ دوسرا حکم نازل نہیں ہوتا جیسے کہ پہلے حضور اکرم ﷺ کے ساتھ گفتگو کرنے سے پہلے صدقہ کرنا لازم تھابعد میں یہ حکم منسوخ ہو گیا اور اس کی جگہ کوئی دوسرا حکم نازل نہیں ہوا۔
کبھی ایک حکم کو منسوخ کر کے اس کی جگہ دوسرا ایسا حکم نازل کیا جاتا ہے جو جو تاکید اور شدت کے حساب سے منسوخ حکم کے برابر ہوتا ہے  جیسے بیت المقدس کے بجائے خانہ کعبہ کو قبلہ بنانے کا حکم
کبھی ایک سخت حکم کو منسوخ کر کے اس کی جگہ ایک آسان حکم نافذ کر دیا جاتا ہے جیسے کہ پہلے یہ حکم تھا کہ ایک مسلمان دس مشرکوں کے مقابل صبر کا مظاہرہ کرے بعد میں یہ حکم منسوخ ہو گیااور اس کے بدلے ایک آسان حکم نازل ہو گیا کہ ایک مسلمان صرف دو مشرکوں کے مقابل صبر کا مظاہرہ کرے۔
کبھی آسان حکم کو منسوخ کر کے اس کی جگہ سخت حکم نافذ کر دیا جاتا ہے جیسے کہ پہلے حکم تھا کہ کفار کی اذیتوں پر صبر کیا جائےبعد میں اس حکم کو منسوخ کر کے ان سے جہاد و قتال کا حکم نازل کیا گیا۔ اسی طرح پہلے صرف یوم عاشورہ کا روزہ فرض تھا بعد میں اس فرضیت کو منسوخ کر کے پورے رمضان المبارک کے روزے فرض قرار دے دیئے گئے۔
کبھی قاعدہ نسخ کے ذریعے ممانعت کے حکم کو اباحت میں تبدیل کر دیا جاتا ہے جیسے کہ پہلے رمضان المبارک کے مہینے میں بعد از عشاء اور سونے سے قبل مباشرت کی ممانعت تھی  پھر اس حکم کو اس آیہ کریمہ کے ذریعے منسوخ کر دیا گیا:۔ "حلال کر دیا گیا تمہارے لیئے رمضان کی راتوں میں اپنی عورتوں کے پاس جانا" سورۃ البقرہ آیہ 187
کبھی نسخ صراحتاََ ہوتا ہے اور کبھی ضمناََ۔ پہلی صورت میں ناسخ حکم کی صراحت کر دی جاتی ہےکہ یہ حکم پہلے حکم کو منسوخ کر رہا ہےجیسے کہ پہلے قرآن حکیم نے حکم دیا:۔
" اے نبی ﷺ برانگیختہ کیجیئے مومنوں کو جہاد پر۔ اگر ہوں تم میں سے بیس آدمی صبر کرنے والے تو وہ غالب آئیں گے دو سو پراور اگر ہوئے تم میں سے سو آدمی تو وہ غالب آئیں گے ہزار پر۔ کیونکہ یہ کافر وہ لوگ ہیں جو کچھ نہیں سمجھتے" سورۃ الانفال:65
بعد میں اس آیہ کریمہ کے حکم کو دوسری آیہ کریمہ کے حکم سے منسوخ کر دیا گیا۔ ارشاد خداوندی ہوا کہ :۔
" اب تخفیف کر دی ہے اللہ نے تم پر اور وہ جانتا ہے کہ تم میں کمزوری ہے۔ تو اگر ہوئے تم میں سے سو آدمی صبر کرنے والےتو وہ غالب آئیں گے دو سو پراور اگر ہوئے تم میں ہزار آدمی تو وہ غالب آئیں گے دو ہزار پراللہ کےحکم سے ۔ اور اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے " سورۃ الانفال : 66
دووسری آیہ میں جو کہ ناسخ ہے الئنَ خفف اللہ عنکم کے الفاظ صراحت کر رہے ہیں کہ پہلا حکم منسوخ ہو گیا ہے
دوسری صورت میں شارع نسخ کی صراحت تو نہیں کرتا مگر ضمناََ نسخ کا پتا چل جاتا ہے۔ اس کی سورت یہ ہے کہ متاخر نص کا حکم مقدم نص کے حکم کے متضاد ہو۔ دونوں میں نہ تو تطبیق ممکن ہو اور نہ ہی ایک کو دوسری پر ترجیح دی جا سکتی ہو۔اس  صورت میں پتا چل جائے گاکہ دوسری نص پہلی نص کی ناسخ ہے۔
نسخ کا اصول شریعت محمدیہ ﷺ سے خاص نہیں :۔ مستشرقین نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ نسخ کا اصول مسلمانوں کی اختراع ہے اور پیغمبر اسلام ﷺ نے تضادات قرآن کو جواز فراہم کرنے کے لیئے یہ طریقہ اختیار کیا تھالیکن یہ مستشرقین کی روایتی علمی بددیانتی ہے وہ ایک ایسی چیز کے ذریعے اسلام کو موردالزام ٹھہرانے کی مذموم کوشش کر رہے ہیں جو ان کے ہاں بھی مروج العمل ہے۔ جس کی چند ایک مثالیں درج ذیل ہیں :۔

1۔  بائیبل کے بیان کے مطابق حضرت نوح علیہ السلام کی شریعت میں تمام سبزیوں اور تمام جانوروں کا کھانا حلال تھا۔کتاب پیدائش باب نمبر 9 آیہ نمبر 3 میں حضرت نوح علیہ السلام سے کہا جا رہا ہے کہ "سبزیوں کی طرح تمام حرکت کرنے والے جانور جو زندہ ہیں وہ تمہاری خوراک بن سکتے ہیں میں تمہیں وہ سب عطا فرماتا ہوں "
لیکن شریعت موسویہ میں اکثر جانوروں کو حرام قرار دے دیا گیا۔کتاب الاحبار کے باب نمبر 11 میں ان جانوروں کی تفصیل بیان کی گئی ہے جو حضرت موسی علیہ السلام کے پیروکاروں کے لیئے حرام ہیں ۔ حضرت نوح علیہ اسلام کی شریعت میں تمام جانور حلال تھے اور حضرت موسی علیہ اسلام کی شریعت میں اکثر کی حرمت کا اعلان کر دیا گیا یہ نسخ نہیں تو اور کیا ہے۔۔۔۔۔۔؟؟؟
2۔ شریعت موسویہ میں مرد کو کسی بھی سبب سے اپنی بیوی کو طلاق دینے کا اختیار تھا ۔ اور مطلقہ عورت کے ساتھ کوئی بھی نکاح کر سکتا تھا  جیسا کی کتاب استثناء کے باب چوبیس کی پہلی اور دوسری آیت میں وضاحت کے ساتھ بیان کر دیا گیا ہے۔ مگر شریعت عیسوی میں بدکاری کی علت کے علاوہ کسی وجہ سے بھی مرد کو طلاق دینے کی اجازت نہیں اور نہ ہی مطلقہ کے ساتھ کسی دوسرے مرد کو شادی کی اجازت ہے۔متی کی انجیل کے پانچویں باب کی آیت نمبر 31 اور 32 کے الفاظ وضاحت کر رہے ہیں کہ اب پہلا حکم منسوخ ہو گیا ہے۔
3۔ کتاب پیدائش کے باب نمبر 17 کی آیت نمبر 14میں ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی شریعت میں ختنے کا ابدی حکم تھا ۔ یہ حکم حضرت اسماعیل و اسحاق علیہ السلام کی نسلوں میں مروج رہا۔شریعت موسوی میں بھی ختنے کا حکم تھا۔لوقا کی انجیل کے دوسرے باب کی آیت نمبر 21 کے مطابق حضرت عیسی علیہ السلام کا بھی ختنہ ہوا۔ یہ حکم حضرت عیسی علیہ السلام کے رفع آسمانی تک جاری رہا۔گو حضرت عیسی علیہ السلام کی شریعت میں اس حکم کو منسوخ نہیں کیا گیا۔لیکن حضرت عیسی علیہ السلام کے بعد جن "مقدسین" نے آپ کی شریعت کو بازیچہ اطفال بنائے رکھا انہوں نے اس ابدی حکم کو منسوخ کر دیا۔مسلمانوں کے نزدیک گو کہ کسی نبی کے بعد اس کے حکم کو منسوخ قرار دے دینا ناممکن ہے مگر جو عیسائی ان "مقدسین" کی وضع کردہ شریعت پر کاربند ہیں و ہ اس کو نسخ کے علاوہ کیا نام دیں گے ؟

4۔ ذبیحہ کے احکام شریعت موسویہ میں بے شمار تھے جو شریعت عیسوی میں منسوخ ہو گئے۔

5۔ شریعت موسویہ کے بے شمار احکام شریعت عیسویہ میں منسوخ ہو گئے ۔ چنانچہ حضرت عیسی علیہ السلام کے بعد سینٹ پال اور دوسرے "مقدسین" نے تورات کے اکثر احکامات کو کالعدم قرار دے دیا۔عبرانیوں کے نام پولس کے خط کے ساتویں باب کی آیت نمبر 18 میں درج ذیل الفاظ موجود ہیں :"یقیناََ سابقہ احکام کو ان کی کمزوری اور ان کے بے اثر ہونے کے سبب سے منسوخ کیا جاتا ہے "
عبرانیوں کے نام خط کے آٹھویں باب میں بنو اسرائیل کے ساتھ خدا کے قدیم عہد کے بدلے ایک جدید عہد کا ذکر ہےاس باب کی آٰت نمبر 7 میں ہے کہ : " اگر پہلا عہد بےعیب ہوتا تو نئے عہد کی گنجائش نہ ہوتی"
اسی باب کی آیت نمبر 13 کے الفاظ یہ ہیں کہ : "نئے عہد کا لفظ استعمال کر کے اس نے پرانے عہد کو منسوخ کر دیا ہے۔ اب جس کو منسوخ قرار دے دیا گیا ہے اور جو پرانا ہو رہا ہے وہ مٹ جانے کے قریب ہے "
عبرانیوں کے نام خط کے ساتویں باب کی آیت نمبر 12 میں سینٹ پال نے ایک ایسا اصول وضع کر دیا ہے جس کے بعد عیسائیوں کے لیئے نسخ کو قبول نہ کرنے کی کوئی گنجائش نہیں بچتی۔سینٹ پال کہتا ہے کہ :۔
"جب امامت تبدیل ہو رہی ہو تو ضروری ہو جاتا ہے کہ شریعت بھی تبدیل ہو"۔
مندرجہ بالا مثالوں سے یہ حقائق روز روشن کی طرح عیاں ہو جاتے ہیں کہ"۔
دوسری شریعتوں کے بعض احکام کو منسوخ کرنا شریعت اسلامیہ ہی کا خاصہ نہیں بلکہ سابقہ شریعتوں میں بھی یہ اصول مروج رہا ہے۔
تورات کے عملی احکام خواہ وہ ابدی تھے یا غیر ابدی شریعت عیسوی میں منسوخ ہو گئے۔
تورات کے احکام کے متعلق نسخ کا لفظ عیسائی کتابوں میں بھی موجود ہے ۔
سینٹ پال نے وضاحت کی ہے کہ امامت تبدیل ہونے سے قانون تبدیل ہونا ضروری ہے۔
سینٹ پال کا دعوی ہے کہ قدیم شئے فنا کے قریب ہوتی ہے ۔
مندرجہ بالا حقائق کے ہوتے ہوئے یہودی اور عیسائی اسلام پر یہ الزام کیسے لگا سکتے ہیں کہ مسلمانوں نے قرآن حکیم کے تضادات کو رفع کرنے کے لیئے نسخ کا اصول وضع کیا ہے ۔۔۔۔؟
گزشتہ سطور میں ایک شریعت کے احکام کو دوسری شریعت کے احکام سے منسوخ کرنے کے دلائل دیئے گئے ۔ اب ہم ایک شریعت کے احکام کو اسی شریعت کے دوسرے احکام سے منسوخ کرنے کی مثالیں پیش کرتے ہیں :۔
1۔ کتاب پیدائش کے بائیسویں باب میں اس بات کی تفصیل موجود ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پہلے ابراہیم علیہ اسلام کو حکم دیا کہ اپنے بیٹے اسحاق علیہ السلام کو قربان کریں لیکن جب انہوں نے حکم کی تعمیل کا ارادہ کر لیا تو انہیں اللہ کی طرف سے یہ حکم ملا کہ وہ اپنے بیٹے کو قربان نہ کریں ۔
یہاں اگر پہلا حکم دوسرے حکم سے منسوخ نہیں تو اور کیا ہے ۔۔۔۔۔؟
2۔ صموئل اول کے دوسرے باب میں ہے کہ " اللہ تعالیٰ نے وعدہ کیا تھا کہ امامت کا منصب بڑے پادری کے خاندان میں ہمیشہ رہے گا"لیکن بعد میں اللہ نے اس فیصلہ کو بدل دیا۔ مذکورہ باب کی آیت نمبر 30 کے الفاظ یہ ہیں کہ : "خدائے اسرائیل کا فرمان یہ ہے کہ : میں نے تمہارے اور تمہارے اسلاف کے گھرانے سے یہ کہا تھا کہ تم ہمیشہ میرے آگے آگے چلا کرو گے لیکن اب خدا کا  فرمان یہ ہے کہ جہاں تک میرا تعلق ہے یہ بات ناقابل تصور ہے کیونکہ جو میری تسبیح کرتے ہیں میں ان کا احترام کرتا ہوں اور جو میری توہین کرتے ہیں ان کی میرے نزدیک کوئی حثیت نہیں"
اسی باب کی آیت نمبر 35 میں ہے ک ہ:
"میں یقیناََ اپنے لیئے ایک وفادار پادری پیدا کروں گا جو وہی کرے گا جو میرے دل اور روح کے مطابق ہو گا"
کتاب صموئیل اول کی ان آیات سے واضح ہے کہ اللہ نے پہلے بڑے پادری کے خاندان کو منصب امامت تاابد عطا فرمانے کا وعدہ کیا تھالیکن بعد میں اس فیصلے کو بدل دیا اور منصب امامت دوسروں کو تفویض کر دیا۔بائیبل کے مفسرین کہتے ہیں کہ" یہ منصب اللہ تعالیٰ نے حضرت ہارون علیہ السلام کے بڑے بیٹے "عازار" کو ہمیشہ کے لیئے عطا فرمایا تھالیکن بعد میں یہ حکم منسوخ ہو گیا" اظہار الحق جلد1 صفحہ 532
یہاں عیسائی تو خدا کے ابدی وعدے پر بھی نسخ کا اصول لاگو کر رہے ہیں جو کہ مسلمانوں کے نزدیک ناممکن العمل ہے۔وعدہ کر کے پورا نہ کیا جائے تو یہ نسخ نہیں وعدہ خلافی کہلاتا ہے اور مسلمان اللہ عزوجل کی ذات کو ان تمام عیوب سے مبرا مانتے ہیں ۔
3۔ کتاب الاحبار کے سترھویں باب میں ہے کہ بنو اسرائیل کا جو شخص کوئی جانور ذبح کرے وہ اپنی قربانی کو خدا کے حضور پیش کرنے کے لیئے خیمہ عبادت کے دروازے تک لائےجو ایسا نہ کرے وہ قابل گردن زدنی ہے ۔لیکن کتاب استثناء کے بارہویں باب میں ہے کہ جب جی چاہے اور جہاں جی چاہے جو جانور چاہو ذبح کرو اور کھاؤ۔
ان آیات کی تفسیر میں بائیبل کا ایک بہت بڑا مفسر ھورن لکھتا ہے کہ :۔  ان دونوں مقامات میں بظاہر تناقض نظر آتا ہے لیکن اگر غور سے دیکھا جائے تو پتا چلتا ہے کہ شریعت موسویہ میں بنی اسرائیل کے حالات کے مطابق کمی بیشی ہوتی رہتی تھی۔اور شریعت موسی ایسی نہ تھی کہ اس میں بوقت ضرورت تبدیلی نہ کی جا سکے۔
اس کے بعد مفسر مذکور لکھتا ہے کہ : حضرت موسی علیہ السلام نے اپنی ہجرت کے چالیسویں سال فلسطین میں داخل ہونے سے پہلے اس حکم کو منسوخ کر دیا۔
مفسر مذکور نے یہاں نسخ کو بھی تسلیم کیا ہے اور حالات کے مطابق شریعت میں کمی بیشی کو بھی ۔ لیکن مقام حیرت یہ ہے کہ اسی نسخ کو یہود و نصاریٰ اسلام پر ایک بہت بڑے اعتراض کے طور پر پیش کرتے ہیں ۔
4۔ کتاب گنتی کے چوتھے باب کی مختلف آیات میں خیمہ عبادت کے خادمین کی عمریں تیس اور پچاس سال کے درمیان مقرر کی گئی ہیں۔جبکہ اسی کتاب کے آٹھویں باب کی آیات چوبیس اور پچیس میں خدام کی عمروں کی حد پچیس سے پچاس سال متعین کی گئی ہے۔ اب ظاہر ہے کہ ان میں سے ایک حکم منسوخ ہے اور دوسرا ناسخ۔
5۔ کتاب الاحبار کے چوتھے باب میں جماعت کی غلطی کا فدیہ صرف ایک بیل کی قربانی قرار دیا گیا ہے لیکن کتاب گنتی کے پندرہویں باب میں جماعت کی غلطی کا کفارہ ایک بیل کے علاوہ غلے، مشروبات اور بکری کے ایک بچے کی قربانی کو قرار دیا گیا ہے۔گویا دوسرے حکم نے پہلے حکم کومنسوخ کر دیا۔۔۔۔۔۔۔۔!
ان دونوں اقسام کی مثالوں سے یہ بات بلکل واضح ہے کہ نسخ کا قانون ہر شریعت میں رائج رہا ہے۔اور عہد نامہ قدیم و جدید میں کچھ مثالیں ایسی بھی موجود ہیں جو نسخ سے بھی کچھ زائد ہیں۔
اللہ تعالیٰ حکیم ہے اس کا کوئی کام حکمت سے خالی نہیں ہوتا۔زمانہ کے بدلنے کے ساتھ ساتھ انسانی ضرورتیں اور تقاضے بھی بدلتے رہتے ہیں۔کسی حالت میں کوئی ایک حکم مفید ہوتا ہے تو دوسری حالت میں وہی حکم مضر بھی ثابت ہو سکتا ہے ۔ایک حکم ایک زمانے میں قابل عمل ہوتا ہے اور دوسرے زمانے میں نہیں ۔کسی زمانے کے لوگ کسی حکم کے تقاضوں کو سمجھنے اور اسے بجا لانے کے قابل ہوتے ہیں جبکہ دوسرے زمانے کے لوگ نہ تو اس کے تقاضوں کو سمجھ پاتے ہیں اور نہ ہی اس حکم کو پورا کرنے کے اہل ہوتے ہیں۔لہذا دانائی کا تقاضا یہی تھا کہ ہر زمانے  کے حالات کے مطابق احکامات نازل کیئے جاتے۔
الغرض ابو جہل سے لیکر کر سلمان رشدی لعین تک، مکہ کے کفار ومشرکین سے لے کر یورپ کے مستشرقین تک سب دشمن اس کو نقصان پہنچانے کے لیئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں ۔ لیکن اس دین متین کا جھنڈا نت نئی بلندیوں پر لہراتا نظر آتا ہے۔
یہ اللہ عزوجل کی قدرت اور دین اسلام کی صداقت کی منہ بولتی نشانی ہے۔کاش کہ دشمنان اسلام اس سے عبرت حاصل کریں ۔

اقوام عالم اور توہین مذہب

2017-06-03 02:39:03 

 حضور سرور کائنات ﷺ کی دنیا میں بعثت کے وقت تک لوگ آزادی نام کی کسی چیز سے واقف تک نہ تھے۔آزادی منوں مٹی تلے دب چکی تھی۔عقول پر پردے پڑے ہوئے تھے۔ جہالت اور تاریکی کے تالے عقل کے دروازوں تک پہنچنے کی راہ میں حائل تھے۔آج جس علم و عقل پر دنیا نازاں ہے وہ سب انہی کے طفیل ہے جنہیں دنیا محمد ﷺ کے نام سے جانتی ہے۔انہوں نے دنیا میں بسنے والوں کو بتا دیا کہ سبقت کا میدان نیکی اور فضیلت ہے۔ بلندی اور فوقیت کی بنیاد اچھائی اور بھلائی ہے۔باہمی تعاون کی بنیاد مقاصد ہیں نہ کہ قوم، قبیلے، جنسیت اور رنگ۔ جس کے نتیجے میں مختلف ممالک، جنسوں، رنگوں اور نسلوں کے لوگ اکٹھے ہو کر پروان چڑھے۔انہوں نے تقویٰ، اعلیٰ اخلاق اور حسن سلوک کے ہزاروں منصوبوں کو پروان چڑھایا اور پھر اس دنیا میں حسین اقدار کی بہار کا آغاز ہوا۔
 جب رسول اللہ ﷺ کی حرمت و تقدس کے متعلق کوئی بات ہوتی ہے تویورپ کے بدمست ہاتھی تڑپ اٹھتے ہیں۔اقتدار کے ایوانوں میں ہلچل ہونے لگتی ہے۔ غیظ و غضب کی حالت میں وہ اپنی انگلیوں کے پورے چبانے لگتے ہیں انہین آزادی اظہار رائے پر ضرب پڑتی نظر آتی ہے۔اور وہ اسے انسانیت پر ظلم قرار دیتے ہیں حالانکہ مذہبی عقیدتیں بڑی حساس اور نازک ہوتی ہیں ہر شخص جو کسی مذہب سے تعلق رکھتا ہے وہ اپنے مذہب اور بانی مذہب کے خلاف کچھ بھی سننے کا روادار نہیں ۔ اپنی مذہبی اقدار کو تحفظ دینے کی خاطر ہر دور میں لوگ اپنے مذہب کے خلاف باتیں کرنے والوں کے لیئے سزائیں مقرر کرتے رہےاور اپنے مذاہب کی مقتدر شخصیات کی توہین کو قابل گردن زنی قرار دیتے رہے۔مذہب کے ساتھ ربط و تعلق شعوری طور پر ہو تو بانیان مذہب کی توہین کی سزا ہر جگہ قتل ہی رہی ہے۔البتہ ضمیر مردہ ہوجائے، مال و زر کی چمک آنکھوں کو خیرہ کرنے لگے عیاشی و بدمستی ہی خیال و قلب میں جاگزیں ہوتو پھر سوچ کے دھارے بدل جاتے ہیں۔مردہ قلوب آزادی اظہار رائے،روشن خیالی اور جدٹ پسندی کے نام پر ہر چیز کو قبول کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے۔ تاریخ کے اوراق سے مذاہب کی معروف و مقتدر شخصیات کی توہین کے حوالے سے سزا کا ایک جائزہ پیش خدمت ہے:۔
٭ قدیم عراق:۔
 نمرود اپنی سلطنت کی تمام تر وسعتوں کے ساتھ تخت نشین تھا۔لوگوں کی محنت کے بعد تمام اجناس اپنے خزانہ میں جمع کر لیتا ۔ اور بعد میں اپنے خدا ہونے کا اقرار لینے کے بعد لوگوں کو وہ غلہ فراہم کرتا۔یہ ظلم و تشدد اپنے عروج پر تھا۔لوگ نمرود کے علاوہ کئی بت بنا کر ان کی پرستش میں مصروف تھے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جب ان حالات کو ملاحظہ فرمایاتو قوم کو خدا وحدہ ُلاشریک کی عبادت کرنے کی دعوت دی اور بت پرستی سے منع فرمایا۔
إِذْ قَالَ لِأَبِيهِ وَقَوْمِهِ مَا هَٰذِهِ التَّمَاثِيلُ الَّتِي أَنتُمْ لَهَا عَاكِفُونَ 
سورۃ الانبیاء ( 52 ) 
 "جب انہوں نے اپنے چچا اور اپنی قوم کے لوگوں سے کہا یہ کیا مورتیں ہیں جن (کی پرستش) پر تم معتکف (وقائم) ہو؟"
اور پھر بلخصوص آپ علیہ السلام نے اپنے چچا کو مخاطب کر کے فرمایا:۔
اِذْ قَالَ لِاَبِيْهِ يَآ اَبَتِ لِمَ تَعْبُدُ مَا لَا يَسْـمَعُ وَلَا يُبْصِرُ وَلَا يُغْنِىْ عَنْكَ شَيْئًا 
سورۃ مریم (42)
 "جب اپنے چچا سے کہا اے میرے چچا تو کیوں پوجتا ہے ایسے کو جو نہ سنتا ہے اور نہ دیکھتا ہے اور نہ تیرے کچھ کام آ سکے۔"
 کیونکہ آپ کا چچا بتوں کی پوجا کرتا تھا اور انہیں برگزیدہ سمجھتا تھا تو اس نے سخت سزا کا اعلان کرتے ہوئے کہا:۔
قَالَ اَرَاغِبٌ اَنْتَ عَنْ اٰلِـهَتِىْ يَآ اِبْـرَاهِيْـمُ ۖ لَئِنْ لَّمْ تَنْتَهِ لَاَرْجُـمَنَّكَ ۖ وَاهْجُرْنِىْ مَلِيًّا 
سورۃ مریم (46)
 "کہا اے ابراہیم کیا تو میرے معبودوں سے پھرا ہوا ہے، البتہ اگر تو باز نہ آیا میں تجھے سنگسار کردوں گا، اور مجھ سے ایک مدت تک دور ہو جا۔"
 صرف آپ کا چچا ہی نہیں بلکہ جب آپ نےقوم کے بت خانے میں جا کر بتوں کو توڑا اور بعد میں اپنی قوم کو اس معاملے میں لاجواب بھی کر دیا ۔ اس کے باوجود انہوں نے ایک دوسرے سے کہا کہ اب ابراہیم علیہ السلام کو کیا سزا دی جائے تو لوگوں نے کہا:۔
قَالُوا حَرِّقُوهُ وَانصُرُوا آلِهَتَكُمْ إِن كُنتُمْ فَاعِلِينَ 
سورۃ الانبیاء ( 68 ) 
 "(تب وہ) کہنے لگے کہ اگر تمہیں (اس سے اپنے معبود کا انتقام لینا اور) کچھ کرنا ہے تو اس کو جلا دو اور اپنے معبودوں کی مدد کرو"
 یہ بات انہوں نے نہ صرف کہی بلکہ عملی طور پر بھی ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں پھینک دیا۔ رب قدیر کی قدرت سے وہ آگ ان کے لیئے سلامتی والی بن گئی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا وہ کون سا فعل تھا جس کی وجہ سے آپ کی قوم نے آپ کو آگ میں پھینکا تو وہ سوائے اس کے کیا ہے کہ آپ نے ان کے بتوں کو توڑ کر انہیں خدا واحد کی عبادت کرنے کی دعوت دی تو انہوں نے اسے اپنے بتوں کی توہین سمجھا ۔ اس سے ثابت ہوا کہ بت پرست اپنے بتوں کی گستاخی کی سزا قتل کا تصور رکھتے ہیں!
٭ قدیم مصر:
 فرعون مصر اپنی جلوہ سامانیوں کے ساتھ تخت پر موجود تھا۔اور بنی اسرائیل ست قبطی کام لے رہے تھے اور فرعون لوگوں سے اپنے خدا ہونے کا اقرار لے رہاتھا۔لوگ کفر و شرک کی تاریک وادیوں میں گم ہو چکے تھے۔ان کی عقلیں جہالت و لاعلمی کے پردوں میں لپٹ کر رہ گئی تھیں۔حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرعون اور اس کی قوم کواللہ لایزال ولم یزل کی عبادت کی تبلیغ فرمائی۔ فرعون کی دماغی گندگی آسمان کو چھو رہی تھی ۔زہنی طور پر وہ مفلوج ہو چکا تھا شرک کی تاریکی اس کا مقدر بن چکی تھی۔وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مقابلہ میں جادوگر لے آیا ۔ جب ان جادوگروں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے معجزات دیکھےتو وہ آپ پر ایمان لے آئے۔ فرعون یہ دیکھ کر سٹپٹا کر رہ گیا۔ اس نے جادوگروں کو سزا دینے کا فیصلہ کیا۔
 قَالَ اٰمَنْتُـمْ لَـهٝ قَبْلَ اَنْ اٰذَنَ لَكُمْ ۖ اِنَّهٝ لَكَبِيْـرُكُمُ الَّـذِىْ عَلَّمَكُمُ السِّحْرَۚ فَلَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ ۚ لَاُقَطِّعَنَّ اَيْدِيَكُمْ وَاَرْجُلَكُمْ مِّنْ خِلَافٍ وَّّلَاُصَلِّبَنَّكُمْ اَجْـمَعِيْنَ 
سورۃ الشعراء (49)
 "کہا کیا تم میری اجازت سے پہلے ہی ایمان لے آئے، بے شک وہ تمہارا استاد ہے جس نے تمہیں جادو سکھایا ہے، سو تمہیں ابھی معلوم ہو جائے گا، البتہ میں تمہارا ایک طرف کا ہاتھ اور دوسری طرف کا پاؤں کاٹ دوں گا اور تم سب کو سولی پر چڑھا دوں گا۔"
 وہ جادوگر فرعون کے کہنے پر میدان میں آئے تھےپھر فرعون ہی نے انہیں اس قدر سخت سزا دینے کا فیصلہ کیوں کیا۔ معلوم یہ ہوا کہ فرعون اور اس کی قوم یہ سمجھتی تھی کہ پیشوایان مذہب کی توہین کی سزا قتل ہے۔جادوگر جب حضرت موسیٰ علیہ السلام پر ایمان لائے تو فرعون نے اسے اپنی اور اپنے بتوں کی توہین قرار دیتے ہوئے جادوگروں کو قتل کرنے کا فیصلہ کیا۔
٭قدیم ایران:
 قدیم ایران میں مختلف ادوار میں مختلف حکومتیں تبدیل ہوتی رہی ہیں۔آریہ قوم، زرتشت،مزدک اور ساسانی لوگ ایران پر مختلف اوقات میں حکومت کرتے رہے۔نوشیروان بھی ایران کا حکمران رہا جو عدل و انصاف کے معاملے میں عالمی شہرت رکھتا ہے۔آج بھی مؤرخ اسے ایک عادل حکمران کے طور پر پیش کرتا ہے ۔ ان کے ہاں عدل و انصاف کے کیا قوانین تھے اس کے متعلق مشہور مذہبی سکالر جناب پیر کرم شاہ رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ : 
قانون میں تین قسم کے افعال کو جرم قرار دیا گیا تھا۔ 
 وہ جرم جو خدا کے خلاف ہوں یعنی جب ایک شخص مذہب سے برگشتہ ہو جائے یا اعتقاد میں بدعت پیدا کرے
 وہ جرم جو بادشاہ کے خلاف ہوں جب ایک شخص بغاوت یا لڑائی کرے یا جنگ میں پیٹھ پھیر کر بھاگ جائے
وہ جرم جو آپس میں ایک دوسرے کے خلاف ہوں۔
پہلی اور دوسری قسم کے جرائم کی سزا فوری موت تھی۔ اور تیسری قسم کے جرائم  کی سزا بعض صورتوں میں عقوبت اور بعض صورتوں میں موت ہوتی تھی۔
(ضیاء النبی جلد اول ص 96)
 مذکورہ بالا سطور سے یہ بات بلکل واضح ہے کہ قدیم ایران میں مذہب کی مقتدر شخصیات کی توہین قابل مواخذہ جرم تھا اور اس کی سزا فوری موت مقرر تھی۔یعنی وہ لوگ جو مذہبی طور پر اس قدر پست خیال تھے کہ آگ اور مختلف مورتیوں کی پوجا کرتے تھے ان کے نزدیک بھی پیشوایان مذہب کی گستاخی یا توہین کی سزا موت تھی ۔
٭ قدیم ہندوستان:۔
ہندوستان کی تاریخ  پانچ ہزار سال پہلے سے تہذیب کی روشنی پر پھیلی ہوئی تھی۔ہندوستان کی زیادہ تر آبادی ہندوؤں پر مشتمل تھی ۔اہل مغرب کی اصطلاح کے مطابق ہندوازم کو مذہب نہیں کہا جا سکتاکیونکہ یہ ہر قسم کے عقیدہ کو اپنانے کے لیئے تیار ہوتا ہے ۔ علامہ البیرونی نے اپنی زندگی کا ایک حصہ ہندوستان میں گزاراتحقیق و جستجو کر کے ہندوستان کے حالات اکٹھے کیئےوہ ہندوؤں کے بارے میں اپنی تحقیق "ما للھند" مین رقم طراز ہیں :۔
 "بڑی رکاوٹ یہ ہے کہ وہ اپنے علاوہ سب کو ملیچھ(ناپاک) سمجھتے ہیں۔کسی غیر کے ساتھ مباحثہ ، مناظرہ حتی ٰ کہ تبادلہ خیال تک ان کے نزدیک ناجائز ہے باہمی نکاح، نشست و برخاست اور خورد و نوش کو بھی حرام قرار دیا گیا ہے۔اگر کوئی اجنبی ان کا مذہب قبول کرنا چاہے تو اسے بھی اپنے مذہب میں داخل نہیں کرتے۔" 
 مزید فرماتے ہیں کہ سب سے گھٹیا طبقہ شودروں کا تھا ۔ یہ مشہور کے کہ ان کا باپ شودر(گھٹیا انسان) اور ان کی ماں برہمن دونوں نے باہمی زنا کیا اس سے یہ طبقہ پیدا ہوا اس لیئے یہ انتہائی گھٹیا لوگ ہیں۔ان کو اجازت نہیں کہ وہ شہروں اور عام بستیوں میں آباد ہوں۔ان کے لیئے یہ بھی پابندی تھی کہ وہ نہ تو اپنے مذہب کا وید خود پڑھ سکتے تھے اور نہ ہی ان محفلوں میں شرکت کر سکتے تھے جہاں وید پڑھا جاتا ہے مبادا کہ وید کے مقدس کلمات شودروں کے کانوں کے پردہ سے ٹکرائیں۔اگر یہ ثابت ہو جاتا کہ ویش یا شودر نے وید سنا ہے تو برہمن اسے حاکم وقت کے پاس پیش کرتے جو سزا کے طور پر ان کی زبانیں کاٹ دیتا۔
(ضیاء النبی جلد اول)
 جو لوگ مذہب کے بارے میں اتنے غیر سنجیدہ ہوں کہ چاند، سورج، پتھر کی مورتیاں اور ہر اعلیٰ چیز کا بت بنا کر پوجنا شروع ہو جائیں اور ان سے امیدیں وابستہ رکھیں وہ بھی اپنی مذہبی کتاب تک کو اتنا مقدس اور متبرک سمجھتے ہیں کہ اپنے ہی ہم مذہب کو اسے سننے تک کی اجازت نہین دیتے۔اگرچہ یہ سراسر ظلم اور ناانصافی ہے کہ کوئی کسی مذہب پر ایمان رکھے اور اسے اس مذہب کی مقدس کتاب کو پڑھنا تو درکنار چھونے اور سننے تک کی اجازت نہ ہو۔اسے مذہبی گراوٹ کے علاوہ اور کیا نام دیا جا سکتا ہے۔لیکن اس سے یہ بات بھی واضح ہے کہ مذہبی کتاب سننے کی اس قدر سخت سزا ہے تو مذہبی پیشوا کے خلاف بات کرنے والے کی بھی ان کے نزدیک یہی سزا ہو گی کہ اسے قتل کر دیا جائے۔
٭ مہاتما بدھ کے مجسمے کی توہین کی سزا:
چین کے فوجداری قوانین کے مطابق بدھ مت کے بانی مہاتما بدھ کے مجسمے کی توہین  کرنا جرم ہے۔ اس جرم کے مرتکب شخص کو موت کی سزا دی جاتی ہے۔ایسے ہی ایک شخص کو سزا موت سنا کر اس کا سر قلم کر دیا گیا۔وانگ ہونگ نامی شخص اور اس کا ساتھی صوبہ سی چوان کے ایک مندر میں چھپ گئے اور رات کے وقت آری کی مدد سے مہاتما بدھ کے مجسمے کا سر کاٹ کے لے گئے۔جس پر مجرم کو گرفتار کر لیا گیا اور انتیس مارچ کو عدالت نے جرم ثابت ہونے پر مذکورہ شخص کو سزا موت سنا دی اور اس کا سر قلم کر دیا گیا۔
(روزنامہ جنگ 6 اپریل 1990)
 حیرت تو اس بات پر ہے کہ بتوں، کاہنوں اور مجسموں کی توہین کی سزا قتل ہے اور اس پر کوئی اعتراض نہیں ہوتا تو توہین رسالت کے قانون پر اس قدر اعتراض اور واویلہ کیوں؟
٭ یہودیت میں توہین مذہب کی سزا:
 یہودی حضرت موسیٰ علیہ السلام کی شریعت کے پیروکار ہونے کا دعویٰ رکھتے ہیں۔اور اپنی کتب کے الہامی ہونے کے قائل ہیں۔انہوں نے اپنی خواہشات کے تابع ہو کر آسمانی کتب میں تغیر و تبدل بھی کیااور اپنی مرضی کے قانون بھی بنائے لیکن اس کے باوجود ان کی کتب میں مذہبی عقائد کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت سزائیں موجود ہیں۔
 "اور بنی اسرائیل سے خطاب کر کے کہہ کہ جس انسان نے اپنے خدا پر لعنت کی اس کا گناہ اس کے سر ہو گااور جو کوئی بھی خداوند کے نام پر کفر بکے گا ضرورقتل کیا جائے گاساری جماعت اسے ضرور سنگسار کرے خواہ وہ پردیسی ہو یا دیسی جس کسی نے بھی خداوند کے نام پر کفر بکا ضرور قتل کیا جائے گا" 
(کلام مقدس احبار باب 24 فقرات 15-16)
 خواہ پردیسی ہو یا دیسی اس جملے سے وضاحت ہو رہی ہے کہ جو کوئی بھی ہو اگر توہین مذہب کرے گا اسے قتل کیا جائے گا۔حالانکہ یہ صاف ظاہر ہے کہ پردیسی شخص تو یہودی مذہب سے کوئی تعلق نہیں رکھتا۔ حیرت اس بات کی ہے کہ غیر مسلم کو توہین مذہب کی وجہ سے سزا موت پر واویلہ مچانے والوں کی زبانوں پر یہاں بولتے ہوئے نجانے کیوں تالے لگ جاتے ہیں !
توہین رسالت کی سزا: عیسائیت کے ایک مبلغ  استیفانس پر یہودیوں نے حضرت موسیٰ علیہ اسلام کی توہین کا الزام لگایا اور پھر مقدمہ عدالت میں چلا گیا اور اسی جرم میں اس شخص کو قتل کر دیا گیا۔
 اس پر انہوں نے بعض کو سکھایا جو یہ کہیں کہ ہم نے اس کو موسیٰ علیہ السلام اور خدا کی نسبت کفر گوئی کرتے سنا ہے ۔ پھر وہ عوام، بزرگوں اور فقیہوں کو ابھار کر اس پر چڑھ گئے اور اسے گرفتار کر کے عدالت عالیہ لے گئے اور جھوٹے گواہوں کو کھڑا کیا۔جنہوں نے یہ کہا کہ یہ شخص مقدس مقام اور شریعت کے خلاف باتیں کرنے سے باز نہیں آتا۔(رسولوں کے اعمال باب 4 فقرات 11-14)
 توہین ہیکل کی سزا:حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شریعت کی تبلیغ کرنے والے شخص پولوس پر یہودیوں نے مذہبی عقائد اور مذہبی مقامات کی توہین کا الزام لگا کر اس کے بھی قتل کا مطالبہ کیا تھا۔پولوس ان آدمیوں کو لے کر اور دوسرے دن ان کے ساتھ پاک ہو کر ہیکل میں داخل ہوا اور خبر دی کہ تطہیر کے ایام پورے نہ ہوں گے جب تک ہم میں سے ہر ایک کی نذر نہ چڑھائی جائے۔لیکن جب وہ سات دن پورے ہونے کو تھے تو آسیہ (مقام کا نام) کے یہودیوں نے اسے ہیکل میں دیکھ کر سب لوگوں کو ابھارااس پر ہاتھ ڈالے اور چلائے اے اسرائیلی مردو !مدد کرو یہ وہی آدمی ہے جو ہر جگہ سب امت اور شریعت اور اس کے مقام کے خلاف تعلیم دیتا ہےاور اس کے علاوہ غیر قوموں کو بھی ہیکل میں لایا اور اسے ناپاک کیاہے ۔ کیونکہ انہوں نے تروفمس افسی کو اس کے ساتھ شہر میں دیکھا تھا اس لیئے یہ خیال کیا کہ یہی اس کو ہیکل میں لایا ہے ۔ تمام شہر میں ہنگامہ ہوا اور لوگ دوڑ کر جمع ہوئے اس کو گھسیٹ کر ہیکل سے باہر نکالااور فوراََ دروازے بند کر لیئے۔جب وہ اس کے قتل کے درپے تھے تو سپاہ کے قائد کو خبر ملی کہ تمام یروشلم میں فساد بپا ہے ۔ وہ اسی دم سپاہیوں اور صوبیداروں کو لے کر ان پر دوڑ آیا۔ اور وہ قائد اور سپاہیوں کو دیکھ کر پولوس کو پیٹنے سے باز آئے۔ تب قائد نے قریب آ کر اسے گرفتار کیا اور دو زنجیروں میں باندھنے کا حکم دیا۔اور پوچھا کہ یہ کون ہے اور اس نے کیا جرم کیا ہے۔ ہجوم میں سے بعض کچھ چلائے اور بعض کچھ۔جب وہ شور کے سبب صحیح طریقے سے دریافت نہ کر سکا تو حکم دیا کہ اسے قلعے لے چلو۔ جب سیڑھیوں تک پہنچا تو ہجوم کی زبردستی کی وجہ سے سپاہیوں کو اسے اٹھا کر لے جانا پڑا کیونکہ عوام کا یہ ہجوم چلاتا ہوا اس کے پیچھے پڑا تھا تاکہ اس کا کام تمام کرے ۔
(رسولوں کے اعمال باب 21 فقرات27-36)
یوم سبت کی توہین کی سزا:۔
یوم سبت یعنی ہفتہ کا دن دین موسوی میں انتہائی  مقدس دن ہے۔اور یہودیوں کے لیئے ہفتہ کے دن کوئی بھی کام کرنا ممنوع ہے۔(اسی لیئے یہود و نصاریٰ نواز حکومت کے اسلام کے سیدالایام جمعہ کے دن کی چھٹی ختم کر کے یہودیوں کی تقلید میں ہفتہ اور عیسائیوں کی تقلید میں اتوار کو سرکاری چھٹی کا دن مقرر کیا ہے) وہ اس برکت والے دن عبادات کو اپنے معمولات میں شامل کرنا ضروری خیال کرتے ہیں۔اور کسی کام کاج کو اس دن برا جانتے ہیں۔اور جو کوئی اس دن کام کرے یہودیوں کے نزدیک یہ یوم سبت کی توہین ہے۔اور اس کی سزا قتل ہے!
 "پس تم سبت کو مانوکیونکہ وہ تمہارے لیئے مقدس ہے۔اور جو کوئی اس کو توڑے ضرور قتل کیا جائےاور جو کوئی اس مین کچھ کام کرے تو وہ شخص اپنی قوم میں سے خارج کیا جائے۔ چھ دن تم اپنا کام کاج کرو اور ساتواں دن آرام کا سبت خدا کے لیئے مقدس ہے۔جو کوئی سبت کے دن کام کرے ضرور قتل کیا جائے۔" 
(کلام مقدس خروج باب31 فقرات 14-15)
 اور خروج ہی کے دیگر مقامات پر یہ سزا الفاظ کے کچھ فرق کے ساتھ یوں بیان کی گئی ہے کہ "تب موسی ٰ علیہ السلام نے اپنی قوم کی تمام جماعت کو اکٹھا کیاان سے کہا وہ باتیں جن کا کرنے کا خداوند نے حکم دیا ہے وہ یہ ہیں چھ دن تو اپنا کام کاج کر۔ساتواں دن تمہارے لیئے مقدس ہو گا خداوند کے لیئے آرام کا سبت جو کوئی اس میں کام کرے گا قتل کیا جائے گا۔تم سب اپنے مکانوں میں سبت کے دن آگ مت جلاؤ۔
(کلام مقدس خروج باب 35 فقرات 1-3)
یہودیوں کا حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر الزام:۔
 حضرت عیسیٰ علیہ السلام خالق کائنات کے برگزیدہ نبی ہیں ۔ اللہ عزوجل نے انہیں بنی اسرائیل کی طرف مبعوث فرمایا۔لیکن یہودیوں نے آپ پر ایمان لانے کے بجائے آپ کے خلاف سازشیں شروع کر دیں۔اور آپ پر یہ الزام تراشی شروع کر دی کہ آپ شریعت موسوی کی مخالفت کے مرتکب ہو رہے ہیں۔انجیل میں اس الزام کو اپنے انداز میں بیان کیا گیا
کاہن اعظم نے اس سے کہا میں تمہیں زندہ خدا کی قسم دیتا ہوں اگر تو المسیح  ہے خدا کا بیٹا تو ہم کو بتا دے یسوع نے اس سے کہا تو نے خود ہی کہہ دیا ہے بلکہ میں تم سے کہتا ہوں کہ اب سے تم ابن انسان کو القادر کے دائیں بیٹھا اور آسمانوں کے بادلوں پر آتا دیکھو گے ۔ اس پر کاہن اعظم نے یہ کہہ کر اپنے کپڑے پھاڑے کہ اس نے کفر بکا ہے۔اب ہمیں گواہوں کی کیا ضرورت ہے دیکھو تم نے ابھی یہ کفر سنا ہے اب تمہاری کیا رائے ہے ۔ انہوں نے جواب مین کہا وہ قتل کے لائق ہے ۔
(مقدس متی باب 26 فقرات63-66)
مقدس یوحنا میں اس بات کو اس طرح نقل کیا گیا ہے 
 جب سرداروں ، کاہنوں اور پیادوں نے اسے دیکھا تو چلا کر کہا صلیب دے صلیب ۔ پیلاطس نے ان سے کہا تم ہی اسے لے جاؤ اور صلیب دو۔ کیونکہ میں اس میں کچھ قصور نہیں پاتا۔ یہودیوں نے اسے جواب دیا کہ ہماری ایک شرع ہے اور اس شرع کے مطابق یہ قتل کے لائق ہے کیونکہ اس نے اپنے آپ کو خدا کا بیٹا بتایا ہے۔
(مقدس یوحنا باب 19فقرات 6-7)
 ان اقتباسات سے یہ ثابت ہو رہا ہے کہ یہودیوں نے عیسیٰ علیہ السلام پر ابن اللہ ہونے کا الزام لگایا اور یہ بات کہ اب سے تم ابن انسان کو الخ اس لفظ ابن انسان سے یہ واضح ہو رہا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنے ابن الہٰ ہونے کا انکار کیا لیکن بعد کے عیسائیوں نے خود ہی عقیدہ تثلیث گھڑ لیا ۔ اس اقتباس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ انبیاء کرام علیہم السلام نے اپنی قوم کو وحدانیت کا درس دیا یہ شرکیہ عقائد ان قوموں کے اپنے گھڑے ہوئے ہیں ۔
٭ رومن قانون:۔
 قانون موسوی کے مطابق قبل مسیح توہین ایام، مقدس ایام اور تورات کی بے حرمتی کی سزا قتل مقرر تھی ۔ رومن ایمپائر کے شہنشاہ جسٹینین کا اقتدار اسلام سے قبل 528 صدی عیسوی کے زمانہ میں رہا۔ یہ عادل مزاج شخص تھا ۔ اس نے رومن قوانین کو نئے سرے سے مرتب کیا۔اس نے جب دین مسیحی قبول کیا تو قانون موسوی کو منسوخ کر کے انبیاء بنی اسرائیل کے بجائے صرف حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین اور انجیل کی تعلیمات سے انحراف کی سزا موت مقرر کی ۔اس دور سے قانون توہین مسیح یورپ کی حکومتوں کے آئین میں شامل ہو گیا ۔
(انسائیکلو پیڈیا آف برٹانیکا)
٭ رشین لاء:۔
روس میں جب بالشویک انقلاب کے بعد کمیونسٹ حکومت برسراقتدار آئی  تو سب سے پہلے انہوں نے دین و مذہب کو سیاست و ریاست سے بلکل الگ اور خارج کر دیا۔اس کے بعد بھی یہاں سزا موت برقرار رہی لیکن اہانت مسیح کے جرم میں نہیں بلکہ مسیح کی جگہ اشتراکی امپریلزم کے سربراہ نے لے لی ۔اسٹالن جو رشین ایمپائر کا سربراہ بن بیٹھا تھا اس کی اہانت تو بہت بڑی بات تھی اس سے اختلاف رائے رکھنا بھی سنگین جرم تھا۔ ایسے سر پھرے لوگوں کے سر کچل دیا کرتے تھے جس کی مثال لنین کے ساتھی ٹروٹسکی کی خونچکاں موت کی صور ت میں موجود ہے۔ جو اپنی جان بچانے کی خاطر روس سے بھاگ کر امریکہ پناہ گزین تھا۔یا ایسے مجرموں کو سائبیریا کے بیگار کیمپوں میں موت کے حوالے کر دیا جاتا تھا۔ ایسی اذیتناک سزاؤں اور موت کی گرم بازاری نے زار روس کے دور کی سیاہ عقوبتوں کو بھی بھلا دیا۔(قانون توہین رسالت)
٭ برطانیہ کا قانون:
 برطانیہ کے قانون میں اگرچہ جسمانی سزا مذہب سے انحراف کر کے بدل دی گئی ہے لیکن اہانت مسیح کی سزا کامن لاء کے تحت قابل تعزیر جرم ہے۔ اگر توہین زبانی ہو تو گواہوں کی موجودگی ضروری ہے اور اگر تحریری ہو تو ایسی تحریر بطور ثبوت پیش کرنا ضروری ہے ۔ اور جرم ثابت ہونے پر حکومت برطانیہ ایسے شخص کے تمام شہری حقوق بھی سلب کر لیتی ہے۔
٭ امریکہ کا قانون:۔
 امریکہ اور اس کی سیکولر ریاستوں میں ہر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگاگرچہ مختلف مزاہب سے تعلق رکھتے ہیں لیکن وہاں عیسائیوں کی تعداد زیادہ ہے۔حکومتی نظم و نسق بھی تقریباََ انہی کے ہاتھوں ہے تو امریکہ کی سپریم کورٹ نے سٹیٹ بنام موکس ایک فیصلہ کیا جو انتہائی اہمیت کا حامل ہے ۔ اس کا ایک اقتباس پیش خدمت ہے :
 "اگرچہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں چرچ اور سٹیٹ ایک دوسرے سے علیٰحدہ ہیں اور ان میں باہمی کوئی ربط و تعلق نہیں لیکن اسلام ، بدھ مت اور دیگر مذاہب کے پیروان کے مقابل پیروان مسیح کی تعداد زیادہ ہے اور حکومت کی زمام کار انہی کے ہاتھوں میں ہونے کی وجہ سے ہر شعبہ زندگی میں ان کا اثر رسوخ ہے۔اور عیسائیت ریاست اور ملک کی غالب اکثریت کا مذہب ہے اور یہ بھی ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ دنیا میں تہذیب و تمدن کے آغاز ہی سے کسی ملک کے طرز حکومت کی تشکیل میں دین و مذہب کا بڑا ہاتھ رہا ہے ۔اور اس ملک کے استحکام اور بقاء کا انحصار بڑی حد تک اس مذہب کے احترام و تکریم سے ہےجو یہاں کی غالب اکثریت کے دینی شعائر سے علیٰحدہ نہ ہونے والالازمی حصہ ہے۔
(بحوالہ قانون توہین رسالت)
٭ قانون پاکستان:۔
 پاکستان ایک نظریاتی ملک ہے جس کی بنیاد کلمہ طیبہ پر رکھی گئی ہے برصغیر کے مسلمانوں نے اپنے اسلامی تشخص کی بقاء کی خاطر یہ ملک حاصل کیا۔ اس کے حصول کے لیئے لاکھوں قربانیاں دیں اور اس کی بنیادوں میں یہ سوچ کر اپنا لہونچھاور کیاکہ آئیندہ نسلیں دامن مصطفیٰ ﷺ کے ساتھ عشق و محبت کا رشتہ برقرار رکھ سکیں۔اور نغمات محبوب کی خوشبو سے یہ سارا چمن مہک اٹھے ۔قیام پاکستان کے پہلے مختصر عرصے کو چھوڑ کر اگرچہ حکمران پاکستان اغیار کے ہاتھو کھلونا بنے رہے لیکن بعد میں علماء دین کی انتھک محنت اور کوششوں کی بدولت ناموس رسالت کے حوالے سے ایک قانون مرتب کیا گیا جو 295 سی کے نام سے جانا جاتا ہے۔
پیغمبر اسلام ﷺ کی شان میں توہین آمیز الفاظ استعمال کرنا:
 تفصیل:۔ جو کوئی بھیالفاظ کے ذریعے چاہے زبانی ہوں یا تحریری یا مرئی نقوش کے ذریعےیا کسی تہمت، کنایہ یا درپردہ تعریض کے ذریعے بالواسطہ یا بلا واسطہ رسول پاک حضرت محمد ﷺ کے نام کی توہین کرے گاتو اسے سزا موت دی جائے گی اور وہ جرمانے کا مستوجب ہو گا۔(میجر ایکٹ ص 400 مرتبہ ایس اے حیدر)

دنیا کے تمام مذاہب اور ریاستوں میں ان کے مذہب کی مقتدر شخصیات کی توہین کی پاداش میں سزائیں مقرر ہیں۔ وہ لوگ جو سیکولرازم کے حامی ہیں جن کا دین مذہب سے کوئی واسطہ نہیں وہ بھی اپنے لیڈروں کی توہین کو ناقابل برداشت سمجھتے ہیں۔دنیا کے تمام خطوں میں جرم بغاوت کا قانون موجود ہے جس کی سزا موت مقرر ہے۔جو لوگ اس الزام کے تحت گرفتار ہوں انہیں گیس چیمبرز اور الیکٹرک چیئرز جیسے وحشیانہ اور اذیت ناک طریقے سے موت کے گھاٹ اتارا جاتا ہے۔یا انتہائی خوف ناک عقوبت خانوں میں انہیں تڑپ تڑپ کر مرنے کے لیئے چھوڑ دیا جاتا ہے۔نائن الیون کے بعد گوانتانا موبے میں بے گناہ لوگوں پر ظلم و تشدد کے جو پہاڑ ڈھائے گئے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔لیکن جب تاجدار انبیاء محسن انسانیت، رسول معظم ، جان عالمین ، حضرت محمد ﷺ کی حرمت و ناموس کے لیئے پاکستان میں قانون بنایا گیا تو اس کے بعد سے یورپ کے صاحبان حل و عقد اس پر نشتر زنی کر رہے ہیں اور اسے انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دے رہے ہیں۔اس کے علاوہ پاکستان کے وہ ارباب اختیار، لبرل ازم کے حامی سکالر اور موم بتی مافیا جو انگریز کے تلوے چاٹنے کو ایک مقدس فریضہ سمجھتے ہیں وہ بھی اس قانون سے خائف نظر آتے ہیں۔لیکن سوال یہ ہے کہ جب ہر جگہ توہین و بغاوت کی سزا موت موجود ہے تو پھر فقط توہین رسالت کے قانون ہی پر اس قدر واویلہ کیوں ؟؟؟
یہ کیسے ممکن ہے کہ مسلمانوں کے آقا ختم الرسل حضرت محمد ﷺ  جن کے نام پر مسلمان اپنی جان و مال آل اولاد اور ہر چیز قربان کرنے کو اپنا حاصل زندگی سمجھتے ہیں ان کی عزت و حرمت پر کیچڑ اچھالنے والے ملعون قانون کی گرفت سے آزاد رہیں ۔ قانون توہین رسالت پر اعتراض دین و ملت سے غداری بلکہ خود اپنی فہم و عقل کا انکار ہے 

کیا اسلام تلوار کے ذریعے پھیلا ؟

2017-07-21 08:52:05 

کیا اسلام تلوار کے ذریعے پھیلا ؟
مستشرقین اور ان کے پروردہ  ملحدین اکثر یہ اعتراض بڑی شد و مد سے دہراتے نظر آتے ہیں کہ اسلام بزور شمشیر پھیلا۔ یہ ایک ایسا مفروضہ ہے جس کی کوئی بنیاد ہی نہیں۔حقیقت یہ ہے کہ کسی انسان کو بزور شمشیر مسلمان بنانا ممکن ہی نہیں۔کیونکہ اسلام کی بنیاد ایمان پر ہے اور ایمان کا تعلق دل سے ہے۔ تلوار کا وار جسم پر اثر انداز ہوتا ہے دل پر نہیں ۔تلوار کے ذریعے کسی شخص کی زبان سے کلمہ تو پڑھوایا جا سکتا ہے لیکن تلوار میں اتنی طاقت نہیں ہوتی کہ وہ کسی کے دل میں عقیدہ توحید و رسالت کی تخم ریزی کر سکے۔جو شخص زبان سے کلمہ پڑھتا ہے اور اس کا دل توحید و رسالت کے عقیدے سے یکسر خالی ہے اسلامی اصطلاح میں وہ شخص مسلمان نہیں بلکہ منافق ہےاور منافق کو اسلام نے عام کافروں سے بھی بدتر قرار دیا ہے۔یہ کون سی عقلمندی ہے کہ مسلمان لوگوں کو بزور شمشیر منافق بناتے رہیں؟منافقین حضور اکرم ﷺ اور صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کے لیئے مکہ کے مشرکین اور مدینہ و خیبر کے یہود سے کم خطرناک نہ تھے ۔

کسی کو بزور شمشیر مسلمان بنانے میں مسلمانوں کو نہ کوئی مذہبی فائدہ تھا اور نہ ہی کوئی سیاسی فائدہ تھا۔اور نہ ہی اس طریقے سے ان کے سماجی مسائل حل ہو سکتے تھے ۔اسلام دین حکمت ہے اور وہ کسی بے مقصد کام کا حکم نہیں دے سکتا۔اسی لیئے اسلام نے اپنے پیروکاروں کو واضح ہدایات دیں کہ کسی کو بھی اسلام قبول کرنے پر مجبور نہ کریں۔قرآن حکیم نے انتہائی واضح الفاظ میں مسلمانوں کو حکم دیا:۔

"دین مین کوئی زبردستی نہیں ۔ اور بےشک ہدایت گمراہی سے واضح ہو چکی " البقرہ 256

قرآن حکیم وضاحت سے یہ بتاتا ہے کہ حضور اکرم ﷺ کا یہ کام نہیں کہ وہ لوگوں کو زبردستی اسلام قبول کرنے پر مجبور کریں بلکہ آپﷺ کا کام تو یہ ہے کہ حقیقت کے جو جلوے بذریعہ وحی آپ ﷺ کے قلب انور پر ظاہر ہوئے آپ لوگوں تک ان کی روشنی پہنچا دیں۔آپ ﷺ لوگوں کو بتا دیں کہ حق کیا ہے اور باطل کیا، جھوٹ کیا ہے اور سچ کیا، جنت کی ابدی بہاروں کی طرف کون سا راستہ جاتا ہے اور کون سا راستہ انسان کو جہنم کی گہرائیوں میں گرانے کا باعث بنے گا۔ان حقائق کی تبلیغ سے آپ ﷺ کی ذمہ داری پوری ہو جاتی ہے۔ اب جس کی مرضی ہے وہ حقائق کی روشنی سے اپنے قلب کو منور کر لے اور جو چاہے باطل کی تاریکیوں میں دھکے کھاتا پھرے ۔چنانچہ قرآن حکیم میں ارشاد ہے :۔
فَذَكِّرْ اِنَّمَآ اَنْتَ مُذَكِّرٌ0 لَّسْتَ عَلَيْـهِـمْ بِمُصَيْطِرٍ

"پس آپ ﷺ انہیں سمجھاتے رہا کریں ، آپ ﷺ کا کام سمجھانا ہی تو ہے۔ آپ ﷺ انہیں جبر سے منوانے والے تو نہیں ہیں"  سورۃ الغاشیہ 21-22

قرآن حکیم نے ایک اور مقام پر واضح الفاظ میں ارشاد ربانی ہے کہ :۔
نَّحْنُ اَعْلَمُ بِمَا يَقُوْلُوْنَ ۖ وَمَآ اَنْتَ عَلَيْـهِـمْ بِجَبَّارٍ ۖ فَذَكِّرْ بِالْقُرْاٰنِ مَنْ يَّخَافُ وَعِيْدِ (ق:45)

"ہم خوب جانتے ہیں جو وہ کہتے ہیں۔اور آپ ﷺ ان پر جبر کرنےوالے نہیں۔ پس آپ ﷺ نصیحت کرتے رہیئے اس قرآن سے ہر اس شخص کو جو میرے عذاب سے ڈرتا ہے۔"

قرآن حکیم کی یہ آیات کریمہ واضح الفاظ میں رسول اللہ ﷺ اور امت مسلمہ کو حکم دے رہی ہیں کہ کسی کو مسلمان بنانے میں طاقت کا استعمال نہ کریں ۔ اور حضور اکرم ﷺ  اللہ تعالیٰ کے حبیب اور اولوالعزم  پیغمبر ہیں۔ آپ ﷺ سے یہ توقع نہیں کی جاسکتی کہ آپ ﷺ  اللہ عزوجل کو راضی کرنے کے لیئے وہ کام کریں جس سے اللہ عزوجل نے آپ کو منع فرما دیا ۔حضور اکرم ﷺ نے اللہ عزوجل کے ایک ایک حکم پر عمل کیا اور فریضہ تبلیغ کما حقہ ادا کیا۔ اور تبلیغ کے بعد سننے والوں پر چھوڑ دیا کہ وہ اس بات کو قبول کریں یا اس کا انکار کر دیں۔تاریخ اس بات پر شاہد ہے کہ آپ ﷺ نے کسی ایک آدمی کو بھی جبراََ مسلمان نہیں بنایا۔

امام محمد ابوزہرہ لکھتے ہیں کہ :۔ "یہ بات ثابت نہیں کہ حضور اکرم ﷺ نے کسی کو زبردستی اسلام قبول کرنے پر مجبور کیا ہو۔ البتہ یہ بات ثابت شدہ ہے کہ بعض انصار نے زبردستی اپنے بچوں کو حلقہ اسلام میں داخل کرنا چاہا تو آپ ﷺ نے ان کو ایسا کرنے سے منع فرما دیا۔" (خاتم النبیین جلد 2)

کسی کو بزور شمشیر مسلمان بنانا نہ تو ممکن ہے اور نہ ہی اسلام نے اس کی اجازت دی ہے۔اس لیئے  مسلمانوں پر یہ الزام نہیں لگایا جا سکتا کہ انہوں نے لوگوں کو جبراََ مسلمان کیا۔ البتہ جن لوگوں نے مسلمانوں کو محض مسلمان ہونے کے جرم میں ظلم کا نشانہ بنایا ، انہیں اپنے دین سے پھیرنے کی کوشش کی ، تبلیغ اسلام کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کیں اور حق کی آواز کو طاقت سے دبانے کی کوشش کی  اسلام نے ان لوگوں کے خلاف نہ صڑف جہاد کی اجازت دی بلکہ حکم دیا اور اس راستے میں جان کی قربانی کو مومن کا عمدہ ترین عمل قرار دیا۔مسلمانوں نے ایک طویل مدت تک مظالم سہنے کے بعد اللہ عزوجل کے حکم سے جہاد کیا۔ وہ انہی قوتوں کے خلاف برسرپیکار ہوئے جو تبلیغ اسلام کی راہ میں مزاحم ہوئے۔اس کی وجہ یہ تھی  کہ جو لوگ طاقت کی زبان بولنا چاہتے تھے انہیں دلیل سے قائل کرنا عبث تھا۔اذن جہاد کے بعد جو لوگ مسلمانوں کے خلاف آمادہ جنگ ہوئے ان کے خلاف مسلمانوں نے جہاد کیا۔جن لوگوں نے جنگ سے ہاتھ روک لیا ان سے مسلمانوں نے کوئی تعرض نہ کیا۔

اگر حضور اکرم ﷺ تلوار کے ذریعے اسلام پھیلانا چاہتے تو مختلف غزوات و سرایا میں جو جنگی قیدی مسلمانوں کے ہاتھ لگتے ان کی جان بخشی کی ایک ہی صورت ہوتی کہ وہ اسلام قبول کر لیں۔ لیکن ایسا نہیں ہوا۔جو لوگ حضور اکرم ﷺ کے قبضے میں آئے آپ ﷺ نے ان میں سے معدودے چند کو ان کے سیاہ اعمال کی وجہ سے قتل کرنے کا حکم دیا اور باقی اسیروں کو اپنی رحمت اللعالمینی کا مظاہرہ کرتے ہوئے رہا کر دیا یا  جو صاحب استطاعت تھے ان سے فدیہ لے کر انہیں چھوڑ دیا۔اور جو آدمی آپ ﷺ کو قتل کرنے کی نیت سے آیا، آپ ﷺ نے اس ارادے سے مطلع ہو کر بھی  اپنی رحمت سے اسے معاف کر دیا۔قریش مکہ نے بیس اکیس سال کا عرصہ حضور اکرم ﷺ اور آپ کے پیروکاروں کے ساتھ عداوت کی  لیکن جب اللہ عزوجل نے آپ ﷺ کو ان پر  غلبہ عطا فرمایا تو آپ ﷺ نے ان کو معاف فرما دیا۔اور لطف کی بات یہ ہے کہ اس دن عام معافی میں یہ شرط موجود ہی نہ تھی کہ جو مسلمان  ہو گا اسے معاف کر دیا جائے گا ۔ بلکہ اس دن معافی کا اعلان ان الفاظ میں ہواکہ جو شخص ہتھیار پھینک دے گا یا جو شخص ابو سفیان رضی اللہ عنہ کے گھر پناہ لے لے گایا مسجد میں داخل  ہو جائے گا یا  اپنے گھر کا دروازہ بند کر لے گا  اس کو امن دیا جائے گا۔اگر لوگوں کو تلوار کے زور پر مسلمان بنانا مقصود ہوتا تو فتح مکہ جیسے تاریخی موقع کو اس لیئے استعمال نہ کیاجاتا؟

مستشرقین جو اعتراض اسلام پر اٹھاتے ہیں اس کی زد میں تو ان کا اپنا دین آتا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ عیسائی پادری اور پوپ عیسائیت کو بزور شمشیر پھیلانا چاہتے تھےیہی وجہ ہے کہ جن جن علاقوں میں عیسائی حکومتیں قائم ہوئیں وہاں سے ان تمام مذاہب کا خاتمہ ہو گیا جو اس سے پہلے وہاں موجود تھے۔مسلمانوں نے سپین پر آٹھ سو سال تک حکومت کی ۔ اس طویل دورانیئے کے باوجود وہاں سے عیسائی اور یہودی مذہب ختم نہیں ہوئے بلکہ ان کے ماننے والے پوری آزادی کے ساتھ اپنے مذاہب پر عمل کرتے رہے۔اور اسلامی حکومت میں مختلف عہدوں پر اپنی خدمات سرانجام دیتے رہے۔لیکن جب سپین پر مسلمانوں کے اقتدار کا خاتمہ ہوا اور عیسائی حکومت قائم ہوئی تو مسلمانوں کے پاس دو ہی راستے تھے یا تو اپنا دین چھوڑ کر عیسائیت قبول کر لیں یا اپنے دین کی خاطر بھڑکتے ہوئے شعلوں میں کودنے کے لیئے تیار ہو جائیں۔

اسلام اگر تلوار کے ذریعے پھیلا ہوتا تو جن ممالک میں پہلی صدی یجری سے لیکر آج تک مسلمانوں کو اقتدار حاصل ہے وہاں سے دیگر مذاہب کا مکمل صفایا ہو گیا ہوتا۔ اگر آج ہم مسلمانوں کی آبادی کے نقطہ نظر سے دنیا کے نقشے پر نظر ڈالیں تو یہ بات بلکل واضح اور روشن ہو جاتی ہے کہ اسلام تلوار کے ذریعے نہیں بلکہ اپنی تعلیمات کی کشش کے ذریعے پھیلا۔ کیونکہ آج مسلمانوں کی اکثریت ان علاقوں میں آباد ہے جہاں تک مسلمانوں کی تلوار نہیں پہنچی۔انڈونیشیا، ہندوستان، چین، براعظم افریقہ کے ساحلی علاقے اور افریقہ کے صحرا وہ علاقے ہیں جہاں آج کروڑوں کی تعداد میں مسلمان بستے ہیں۔ان علاقوں کے لوگوں کی مسلمانوں کے ساتھ جنگیں یا تو بلکل نہیں ہوئیں یا اتنی کم ہوئیں ہیں کہ یہ کہنا خلاف عقل ہے کہ ان جنگوں کی وجہ سے کروڑوں کی آبادی  اپنا آبائی مذہب ترک کر کے مسلمان ہو گئی۔

اسلام کے تلوار کے ذریعے نہ پھیلنے اور اپنی پرکشش تعلیمات کے ذریعے پھیلنے کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ آج امریکہ جو پوری دنیا میں اپنی چودھراہٹ قائم کیئے ہوئے ہےاور کوئی ایک بھی ایسا اسلامی ملک نہیں جس کی داخلہ و خارجہ پالیسیوں پر امریکہ براہراست اثر انداز نہ ہوتا ہو، اور کوئی ایک بھی اسلامی حکومت اس قابل نہیں کہ یورپ کے شہریوں کو تلوار کے زور پر یا طاقت کے بل بوتے پر اسلام قبول کرنے پر مجبور کر سکے ۔ لیکن اس کے باوجود اسلام  امریکہ اور یورپ میں تیزی کے ساتھ پھیل رہا ہے۔ یور پ کا کوئی ایک بھی شہر  یا ملک ایسا نہیں جہاں اذان کی آواز نہ گونجتی ہو ۔ دنیا کی کوئی ایک بھی قوم ایسی نہیں جس کے کثیر افراد نے کلمہ پڑھ کر دامن اسلام میں پناہ نہ لی ہو۔

تھامس کارلائل جو خود بھی ایک مستشرق تھا وہ دین اسلام پر اس اعتراض کی تردید کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ :۔

"اس بات کو بہت ہوا دی گئی ہے کہ حضرت محمد ﷺ نے دین کو تلوار کے ذریعے پھیلایا۔اگر دین اسلام تلوار کے ذریعے پھیلا تھا تو دیکھنا یہ ہے کہ وہ تلوار آئی کہاں سے تھی۔ہر نئی رائے اپنے آغاز میں اکیلے شخص کے ذہن میں جنم لیتی ہے۔ابتداء میں صرف ایک شخص اس پر یقین رکھتا ہے ۔ وہ اکیلا شخص ایک طرف ہوتا ہے اور ساری انسانیت ایک طرف۔ان حالات میں اگر وہ اکیلا شخص ہاتھ میں تلوار لے کر کھڑا ہو جائے اور اپنی رائے کی تبلیغ تلوار کے ذریعے شروع کر دے تو وہ کچھ نہیں کر سکے گا۔پہلے تلوار حاصل کرنے کی ضرورت پڑتی ہے۔ مختصراََ یہ کہ ابتداء میں ہر چیز اپنی استطاعت کے مطابق اپنا پرچار خود کرتی ہے۔عیسائی مذہب کے متعلق بھی تاریخ ہمیں یہ نہیں بتاتی کہ جب اس کے ہاتھ میں تلوار آ گئی تو اس نے ہمیشہ کے لیئے اس کا استعمال ترک کر دیا۔ شارلیمان نے سیکسن قبائل کو تبلیغ کے ذریعے عیسائی نہیں بنایا تھا۔"

(Heroes an Hero Worship By Thomas Carlyle)

اگر یہ تسلیم کر بھی لیا جائے کہ امت مسلمہ کے ہاتھ میں جب طاقت آ گئی تو انہوں نے اس طاقت کو اپنے دین کی اشاعت کے لیئے استعمال کیا تو سوال یہ اٹھتا ہے کہ جو لوگ اشاعت اسلام کی خاطر تلوار کا استعمال کر رہے تھے ان کے مسلمان ہونے سبب کیا تھا؟یویناََ ان کے مسلمان ہونے کا سبب تلوار نہ تھی بلکہ اسلامی تعلیمات کے حسن اور کشش نے انہیں دامن اسلام میں پناہ لینے پر مجبور کیا تھا۔اس دین کی تعلیمات نے ان کے اذہان و قلوب کو اس قدر متاثر کیا تھا کہ وہ اپنا گھر بار، اولاد، رشتہ دار، وطن  سب کچھ لٹانے پر آمادہ ہو گئے تھے ۔

حقیقت یہ ہے کہ جس طاقت نے ابتدائی دنوں میں لوگوں کو اسلام کا شیدائی اور گرویدہ بنایا تھا وہی طاقت ہر دور میں اسلام کے سرعت کے ساتھ پھیلنے کا سبب بنتی رہی ہے۔

دین کی تبدیلی یا تلوار کسی بھی دور میں مسلمانوں کا نعرہ نہیں رہا۔بلکہ مسلمانوں کو ان کے دین کی طرف سے حکم تھا کہ جب بھی کسی دشمن کے خلاف برسرپیکار ہوں تو اس کے سامنے تین چیزیں رکھیں  پہلی یہ کہ وہ اسللام قبول کر کے ملت اسلامیہ کا حصہ بن جائے۔ دوسری یہ کہ وہ جزیہ دے کر ان تمام حقوق سے متمتع ہو جن سے ایک مسلمان متمتع ہوتا ہے۔ اگر یہ دونوں باتیں قبول نہ ہوں تو ان کے درمیان تلوار فیصلہ کرے گی۔
یہ بات خود مستشرقین کے اپنے ادیان کے خلاف جاتی ہے  اس کو بھی مستشرقین نے اسلام کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش کی ہے ۔ تاکہ ان کی سیاہ کاریوں پر کسی کی نظر ہی نہ جائے۔لیکن حق بات تو یہ ہے کہ اسلام کے پاک دامن پر دیگر جھوٹے اعتراضات کی طرح ان کا یہ اعتراض بھی کذب، دروغ گوئی اور جھوٹ پر مشتمل ہے ۔ اور اسلام کا دامن دیگر اعتراضات کی طرح اس اعتراض سے بھی پاک ہے !

نسب نبویﷺ پر اعتراض کا جواب

2017-08-01 06:47:17 

میں اکثر یہ بات سوچتا ہوں کہ اگر مستشرقین نہ ہوتے تو آج کل کے ملحدین کا کیا بنتا ۔ موسمی ملحدین جن کی اپنی کوئی علمی حثیت نہیں وہ تو یتیم ہو کر رہ جاتے ۔ یہ انہی مستشرقین کی دین ہے کہ موسمی ملحدین صدیوں قبل ان کے کیئے گئے اعتراضات بار بار دہراتے رہتے ہیں اور ہر بار عزت افزائی کے ساتھ جواب دیا جاتا ہے ۔ لیکن چین ان کو پھر بھی نہیں آتا ۔حال ہی میں ملحدین کی جانب سے رسول اللہ ﷺ کے نسب مبارک پر سوال اٹھایا گیا ہے کہ آپ ﷺ نسل اسماعیل میں سے نہیں تھے نعوذو باللہ !
یہ وہ اعتراض ہے جو مستشرقین نے اٹھایا اور اس کا تسلی بخش جواب دے کر ان کا تو منہ بند کر دیا گیا لیکن علمی یتیم اور عقل سے بے بہرہ ملحدین کا حال بندر کے ہاتھ میں ماچس کی ڈبیا جیسا ہو گیا  اور انہیں اس پر اپنی دکانداری چلانے کا موقع مل گیا ۔اپنی دانست میں موسمی ملحدین نے یہ اعتراض دہرا کر بہت بڑا کارنامہ کیا ہے جسے بڑے فخر سے وہ بطور چیلنج دہراتے پھر رہے ہیں !
مستشرقین کے اس اعتراض کے سارق ملحدین کی خارشی طبع کی تسلی کے لیئے مستشرقین کے اس اعتراض کا جواب مستشرقین کی اپنی ہی زبانی پیش خدمت ہے :۔
٭ انسائیکلوپیڈیا آف ریلیجن اینڈ ایتھکس کا مقالہ نگا رجیمز ہیسٹنگز لکھتا ہے کہ :۔
"حضرت محمد ﷺ ایک اسماعیلی تھے۔جنہوں نے اپنے ہم وطنوں کو یہ تعلیم دی کہ وہ دین ابراہیمی کی طرف رجوع کریں  اور ان خدائی وعدوں سے بہرہ یاب ہوں جو نسل اسماعیل علیہ السلام کے ساتھ کیئے گئے ہیں۔"
(انسائیکلوپیڈیا آف ریلیجن اینڈ ایتھکس  جلد 8)
٭ گبن وہ مشہور مؤرخ ہے جس کو پورا مغرب قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور اس کی حثیت اہل مغرب کے ہاں مسلم ہے ۔ وہ بھی اسلام کے خلاف معاندانہ جذبات رکھتا ہے۔ لیکن مستشرقین نے جس طرح حضور اکرم ﷺ کے نسب نامہ کو  جس طرح مشکوک بنانے کی کوشش کی گئی ہے اس پر شدید تنقید کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ :۔
"حضرت محمد ﷺ کی اصل کو حقیر اور عامیانہ ثابت کرنے کی کوشش عیسائیوں کی ایک غیر دانشمندانہ تہمت ہے ۔ جس سے ان کے مخالف کا  مقام گھٹنے کے بجائے بڑھا ہے ۔"
اس کے علاوہ گبن اپنی اسی کتاب کے فٹ نوٹ پر لکھتا ہے کہ :۔ "تھیوفینز جو کہ پرانے زمانے کے یونانیوں میں سے ہے وہ تسلیم کرتا ہے کہ حضور اکرم ﷺ نسل اسماعیل علیہ السلام میں سے تھے ۔"
اس کے علاوہ مزید لکھتا ہے کہ :۔ "ابولفداء  اور گیگنیئر نے اپنی اپنی کتابوں میں حضرت محمد ﷺ کا جو نسب نامہ لکھا ہے وہی مستند ہے۔"
یاد رہے کہ یہ وہی نسب نامہ ہے جو حضور اکرم ﷺ کے نسل اسماعیل میں سے ہونے کی گواہی دیتا ہے۔
(ایڈورڈ گبن: دی ڈیکلائین اینڈ فال آف رومن ایمپائر جلد 5)

٭ مسٹر فاسٹر بھی اس بات کی گواہی دیتا نظر آتا ہے ۔ چنانچہ لکھتا ہے کہ :۔
"----خاص عرب کے لوگوں کی یہ قدیمی روایت ہے کہ قیدار اور اس کی اولاد ابتداء میں حجاز میں آباد ہوئی تھی ۔چنانچہ قوم قریش اور خصوصاََ مکہ کے بادشاہ اور کعبہ کے متولی ہمیشہ اس بزرگ کی نسل سے ہونے کا دعوی کرتے تھے۔ اور خاص کر حضرت محمد ﷺ نے اسی بنیاد پر کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام اور قیدار کی اولاد میں سے ہیں ، اپنی قوم کی دینی و دنیوی عظمتوں کے استحقاق کی تائید کی ہے۔"
(بحوالہ : سیرت محمدی ﷺ  از سرسید احمد خان)

حقیقت یہ ہے کہ مستشرقین اور ان کے سارق ملحدین چاہے جتنی مرضی کوششیں کر لیں جتنا مرضی پروپیگنڈہ کر لیں  اپنی پوری طاقت صرف کر لیں لیکن حضور اکرم ﷺ کے اس فرمان عالیشان کو جھٹلانا ان کے بس سے باہر ہے :۔
"حضور اکرم ﷺ نے فرمایا:۔ اللہ عزوجل نے اولاد ابراہیم میں سے اسماعیل کو چنا، اولاد اسماعیل سے کنانہ کو چنا، بنی کنانہ سے قریش کو چنا ، قریش سے بنی ہاشم کو چنا اور بنی ہاشم سے مجھے چنا۔"
(سنن الترمذی)

عربوں میں بے شمار خامیاں تھیں  وہ لوگ جہالت، بربریت، بدکاری  اور نخوت و تکبر کی دلدل میں سرتاپا ڈوبے ہوئے تھے لیکن اس کے باوجود ان میں کچھ خوبیاں بھی تھیں جو انہیں دیگر اقوام عالم سے ممتاز بناتی ہیں ۔یہ قوم جرات و بہادری میں اپنی مثال آپ تھی۔ ان کی قوت حافظہ بھی مثالی تھی ۔ اس کے علاوہ اپنے خیالات کے اظہارانہیں جو قدرت حاصل تھی وہ صرف انہی کا خاصہ ہے ۔اپنی اس قوت حافظہ کو انہوں نے اپنے نسب نامے حفظ کرنے کے لیئے دل کھول کر استعمال کیا تھا ۔ہر کوئی نہ صرف اپنا نسب نامہ یاد رکھتا بلکہ دیگر قبائل کے نسب ناموں کو بھی اپنی یادداشت میں محفوظ کر لیتا ۔ تاکہ وقت آنے پر وہ دیگر قبائل کے نسب ناموں کی کمزوریوں کو واضح کر کے اپنی نسبی برتری ثابت کر سکے ۔
اس کے علاوہ عرب جھوٹ بولنے سے بھی سخت نفرت کرتے تھے اور انہیں یہ بات بلکل بھی گوارا نہ تھی کہ ان کی شہرت ایک جھوٹے کی حثیت سے ہو۔اسی لیئے ہرقل کے دربار میں ابوسفیان خواہش کے باوجود حضور اکرم ﷺ کے خلاف کوئی جھوٹی بات نہ کر سکے ۔ عربوں کی یہ روایتیں کسی بھی تاریخی روایت کے مقابل مستند قرار دی جا سکتی ہیں اور ان روایات کے مطابق خانہ کعبہ حضرت ابراہیم و اسماعیل علیہ السلام نے تعمیر کیا تھا۔ اور عربوں کی ایک قسم جو "عرب مستعربہ" کہلاتی تھی وہ حضرت ابراہیم و اسماعیل علیہ السلام کی نسل سے تھی ۔قریش اسی عربی النسل کا ایک قبیلہ تھا جس ایک معزز ترین شاخ بنو ہاشم تھی ۔اس دور میں تمام عرب قریش کا نسل اسماعیل میں سے ہونے کی وجہ سے احترام کرتا تھا اور کسی کو بھی ان کے اسماعیل علیہ السلام کی نسل مین سے ہونے میں کوئی شبہہ نہ تھا۔
(ضیاء النبی ﷺ جلد7)
علاوہ ازیں اگر حضور اکرم ﷺ نسل اسماعیل علیہ السلام سے نہ ہوتے تو یہود مدینہ آپ ﷺ پر سب سے پہلے ایمان لاتے ۔ یہود مدینہ کا آپ ﷺ پر ایمان نہ لانا صرف اور صرف اسی وجہ سے تھا کہ آپ ﷺ نسل اسماعیل میں سے تھے ۔ اور نبوت یہود سے چھن کر نسل اسماعیل میں منتقل ہو چکی تھی ۔ جو کہ یہود کی سیاسی و مذہبی برتری پر ایک کاری ضرب تھی ۔

الغرض
حضور اکرم ﷺ کا نسل اسماعیل میں سے ہونے کی حقیقت کو مشکوک قرار دینے کی کوشش کرنا نہ صرف روایات عرب کے برخلاف ہے بلکہ خود مستشرقین کی تحقیق بھی اس کے منافی ہے ۔ اس لیئے ملحدین سے گزارش ہے کہ دوسروں کا تھوکا چاٹنے کے بجائے  کچھ اپنی عقل کا استعمال کریں تاکہ ان کی علمی حثیت اور اوقات بھی واضح ہو سکے !!!
  

 

منتخب تحریریں

میں اکثر یہ بات سوچتا ہوں کہ اگر مستشرقین نہ ہوتے تو آج کل کے ملحدین کا کیا بنتا ۔ موسمی ملحدین جن کی اپنی کوئی علمی حثیت نہیں وہ تو یتیم ہو کر رہ جاتے ۔ یہ انہی مستشرقین کی دین ہے کہ موسمی ملحدین صدیوں قبل ان کے کیئے گئے اعتراضات بار بار دہراتے رہتے ہیں اور ہر بار عزت افزائی کے ساتھ جواب دیا جاتا ہے ۔ لیکن چین ان کو پھر بھی نہیں آتا ۔حال ہی میں ملحدین کی جانب سے رسول اللہ ﷺ کے نسب مبارک پر سوال اٹھایا گیا ہے کہ آپ ﷺ نسل اسماعیل میں سے نہیں تھے نعوذو باللہ !
یہ وہ اعتراض ہے جو مستشرقین نے اٹھایا اور اس کا تسلی بخش جواب دے کر ان کا تو منہ بند کر دیا گیا لیکن علمی یتیم اور عقل سے بے بہرہ ملحدین کا حال بندر کے ہاتھ میں ماچس کی ڈبیا جیسا ہو گیا  اور انہیں اس پر اپنی دکانداری چلانے کا موقع مل گیا ۔اپنی دانست میں موسمی ملحدین نے یہ اعتراض دہرا کر بہت بڑا کارنامہ کیا ہے جسے بڑے فخر سے وہ بطور چیلنج دہراتے پھر رہے ہیں !
مستشرقین کے اس اعتراض کے سارق ملحدین کی خارشی طبع کی تسلی کے لیئے مستشرقین کے اس اعتراض کا جواب مستشرقین کی اپنی ہی زبانی پیش خدمت ہے :۔
٭ انسائیکلوپیڈیا آف ریلیجن اینڈ ایتھکس کا مقالہ نگا رجیمز ہیسٹنگز لکھتا ہے کہ :۔
"حضرت محمد ﷺ ایک اسماعیلی تھے۔جنہوں نے اپنے ہم وطنوں کو یہ تعلیم دی کہ وہ دین ابراہیمی کی طرف رجوع کریں  اور ان خدائی وعدوں سے بہرہ یاب ہوں جو نسل اسماعیل علیہ السلام کے ساتھ کیئے گئے ہیں۔"
(انسائیکلوپیڈیا آف ریلیجن اینڈ ایتھکس  جلد 8)
٭ گبن وہ مشہور مؤرخ ہے جس کو پورا مغرب قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور اس کی حثیت اہل مغرب کے ہاں مسلم ہے ۔ وہ بھی اسلام کے خلاف معاندانہ جذبات رکھتا ہے۔ لیکن مستشرقین نے جس طرح حضور اکرم ﷺ کے نسب نامہ کو  جس طرح مشکوک بنانے کی کوشش کی گئی ہے اس پر شدید تنقید کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ :۔
"حضرت محمد ﷺ کی اصل کو حقیر اور عامیانہ ثابت کرنے کی کوشش عیسائیوں کی ایک غیر دانشمندانہ تہمت ہے ۔ جس سے ان کے مخالف کا  مقام گھٹنے کے بجائے بڑھا ہے ۔"
اس کے علاوہ گبن اپنی اسی کتاب کے فٹ نوٹ پر لکھتا ہے کہ :۔ "تھیوفینز جو کہ پرانے زمانے کے یونانیوں میں سے ہے وہ تسلیم کرتا ہے کہ حضور اکرم ﷺ نسل اسماعیل علیہ السلام میں سے تھے ۔"
اس کے علاوہ مزید لکھتا ہے کہ :۔ "ابولفداء  اور گیگنیئر نے اپنی اپنی کتابوں میں حضرت محمد ﷺ کا جو نسب نامہ لکھا ہے وہی مستند ہے۔"
یاد رہے کہ یہ وہی نسب نامہ ہے جو حضور اکرم ﷺ کے نسل اسماعیل میں سے ہونے کی گواہی دیتا ہے۔
(ایڈورڈ گبن: دی ڈیکلائین اینڈ فال آف رومن ایمپائر جلد 5)

٭ مسٹر فاسٹر بھی اس بات کی گواہی دیتا نظر آتا ہے ۔ چنانچہ لکھتا ہے کہ :۔
"----خاص عرب کے لوگوں کی یہ قدیمی روایت ہے کہ قیدار اور اس کی اولاد ابتداء میں حجاز میں آباد ہوئی تھی ۔چنانچہ قوم قریش اور خصوصاََ مکہ کے بادشاہ اور کعبہ کے متولی ہمیشہ اس بزرگ کی نسل سے ہونے کا دعوی کرتے تھے۔ اور خاص کر حضرت محمد ﷺ نے اسی بنیاد پر کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام اور قیدار کی اولاد میں سے ہیں ، اپنی قوم کی دینی و دنیوی عظمتوں کے استحقاق کی تائید کی ہے۔"
(بحوالہ : سیرت محمدی ﷺ  از سرسید احمد خان)

حقیقت یہ ہے کہ مستشرقین اور ان کے سارق ملحدین چاہے جتنی مرضی کوششیں کر لیں جتنا مرضی پروپیگنڈہ کر لیں  اپنی پوری طاقت صرف کر لیں لیکن حضور اکرم ﷺ کے اس فرمان عالیشان کو جھٹلانا ان کے بس سے باہر ہے :۔
"حضور اکرم ﷺ نے فرمایا:۔ اللہ عزوجل نے اولاد ابراہیم میں سے اسماعیل کو چنا، اولاد اسماعیل سے کنانہ کو چنا، بنی کنانہ سے قریش کو چنا ، قریش سے بنی ہاشم کو چنا اور بنی ہاشم سے مجھے چنا۔"
(سنن الترمذی)

عربوں میں بے شمار خامیاں تھیں  وہ لوگ جہالت، بربریت، بدکاری  اور نخوت و تکبر کی دلدل میں سرتاپا ڈوبے ہوئے تھے لیکن اس کے باوجود ان میں کچھ خوبیاں بھی تھیں جو انہیں دیگر اقوام عالم سے ممتاز بناتی ہیں ۔یہ قوم جرات و بہادری میں اپنی مثال آپ تھی۔ ان کی قوت حافظہ بھی مثالی تھی ۔ اس کے علاوہ اپنے خیالات کے اظہارانہیں جو قدرت حاصل تھی وہ صرف انہی کا خاصہ ہے ۔اپنی اس قوت حافظہ کو انہوں نے اپنے نسب نامے حفظ کرنے کے لیئے دل کھول کر استعمال کیا تھا ۔ہر کوئی نہ صرف اپنا نسب نامہ یاد رکھتا بلکہ دیگر قبائل کے نسب ناموں کو بھی اپنی یادداشت میں محفوظ کر لیتا ۔ تاکہ وقت آنے پر وہ دیگر قبائل کے نسب ناموں کی کمزوریوں کو واضح کر کے اپنی نسبی برتری ثابت کر سکے ۔
اس کے علاوہ عرب جھوٹ بولنے سے بھی سخت نفرت کرتے تھے اور انہیں یہ بات بلکل بھی گوارا نہ تھی کہ ان کی شہرت ایک جھوٹے کی حثیت سے ہو۔اسی لیئے ہرقل کے دربار میں ابوسفیان خواہش کے باوجود حضور اکرم ﷺ کے خلاف کوئی جھوٹی بات نہ کر سکے ۔ عربوں کی یہ روایتیں کسی بھی تاریخی روایت کے مقابل مستند قرار دی جا سکتی ہیں اور ان روایات کے مطابق خانہ کعبہ حضرت ابراہیم و اسماعیل علیہ السلام نے تعمیر کیا تھا۔ اور عربوں کی ایک قسم جو "عرب مستعربہ" کہلاتی تھی وہ حضرت ابراہیم و اسماعیل علیہ السلام کی نسل سے تھی ۔قریش اسی عربی النسل کا ایک قبیلہ تھا جس ایک معزز ترین شاخ بنو ہاشم تھی ۔اس دور میں تمام عرب قریش کا نسل اسماعیل میں سے ہونے کی وجہ سے احترام کرتا تھا اور کسی کو بھی ان کے اسماعیل علیہ السلام کی نسل مین سے ہونے میں کوئی شبہہ نہ تھا۔
(ضیاء النبی ﷺ جلد7)
علاوہ ازیں اگر حضور اکرم ﷺ نسل اسماعیل علیہ السلام سے نہ ہوتے تو یہود مدینہ آپ ﷺ پر سب سے پہلے ایمان لاتے ۔ یہود مدینہ کا آپ ﷺ پر ایمان نہ لانا صرف اور صرف اسی وجہ سے تھا کہ آپ ﷺ نسل اسماعیل میں سے تھے ۔ اور نبوت یہود سے چھن کر نسل اسماعیل میں منتقل ہو چکی تھی ۔ جو کہ یہود کی سیاسی و مذہبی برتری پر ایک کاری ضرب تھی ۔

الغرض
حضور اکرم ﷺ کا نسل اسماعیل میں سے ہونے کی حقیقت کو مشکوک قرار دینے کی کوشش کرنا نہ صرف روایات عرب کے برخلاف ہے بلکہ خود مستشرقین کی تحقیق بھی اس کے منافی ہے ۔ اس لیئے ملحدین سے گزارش ہے کہ دوسروں کا تھوکا چاٹنے کے بجائے  کچھ اپنی عقل کا استعمال کریں تاکہ ان کی علمی حثیت اور اوقات بھی واضح ہو سکے !!!