بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ * لا الہٰ الا اللہ محمّد رسول اللہ * قُلْ هُوَ اللّـٰهُ اَحَدٌ - اَللَّـهُ الصَّمَدُ - لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُوْلَدْ - وَلَمْ يَكُنْ لَّـهٝ كُفُوًا اَحَدٌ

اسلامی تاریخ


قرون وسطیٰ کے مسلمان

2017-05-23 07:45:38 

اہل مغرب جس دور کو قرون وسطیٰ کے نام سے یاد کرتے ہیں یہی دور طلوع اسلام اور اسلامی عروج و ارتقاء کا دور ہے۔اس دور میں مسلمانوں نے ایک طرف سیاسی اور عسکری فتوحات کے ذریعے ایک عالم کو اپنا زیر نگین بنایاتو دوسری طرف انہوں نے علم و تہذیب کے میدان میں وہ ترقی کی جس کی مثال تاریخ پیش کرنے سے قاصر ہے۔ ساتویں صدی عیسوی کے اوائل میں مدینہ طیبہ میں اسلامی ریاست کی ابتداء ہوئی۔اور نویں صودی عیسوی کے وسط تک اسلامی سلطنت کی حدود شمال میں بحیرہ اسود، جنوب میں ملتان، مشرق میں سمرقند اور مغرب میں جنوبی فرانس اور ساحل اوقیانوس تک پھیلی ہوئی تھیں۔اس زمانے میں بغداد، ایران ، مصر، سپین اور سسلی سے اسلامی علوم و فنون اور تہذیب و تمدن کی نورانی لہریں اٹھ رہی تھیں۔اور ایک عالم کو بقعہ نور بنا رہی تھیں۔مسلمان جہاں گئے وہاں خوبصورت عمارتوں، رنگا رنگ پارکوں،سڑکوں، نہروں، باغات، پلوں، تالابوں،مدرسوں اور کتب خانوں کا جال بچھا دیا۔انہوں نے دنیا بھر سے علمی شاہپارے اکٹھے کیئے۔ انہیں جہاں بھی کسی عالِم کی موجودگی کا علم ہوا ، اسے دربار خلافت میں لا کر علم کی خدمت پر مامور کر دیا۔
انہوں نے علماء کی حوصلہ افزائی کی جس کے نتیجے میں علماء نے یونان کے فلسفہ کو عربی میں منتقل کیا۔اس کی خامیاں تلاش کیں۔اور انہوں نے اس جامد فلسفہ کو اپنے مسلسل تجربات کے ذریعے انسانیت کی فلاح اور ترقی کے لیے استعمال کیا۔ ان کی ان مسلسل کوششوں سے اسلامی شہروں اور ان شہروں میں بسنے والوں کی جو کیفیت تھی اس کی ایک جھلک پیش خدمت ہے :۔
عہد مامون (813- 833) میں بغداد کی آبادی دس لاکھ تھی ۔ جس میں تیس ہزار مساجد،دس ہزار حمام،ایک ہزار محل اور آٹھ سو اطباء تھے ۔نیز ایک دارالحکمت تھاجس میں ایران، عراق، شام،مصر اور ہندوستان کے سینکڑوں حکماء دنیا بھر کے علوم و فنون کو عربی میں منتقل کر رہے تھے ۔سڑکوں پر ہر روز گلاب اور کیوڑے کا عرق عرق چھڑکا جاتا تھا۔ (بحوالہ یورپ پر اسلام کے احسانات)
ول ڈیوران لکھتا ہے کہ دمشق میں سو حمام،سو فوارے،پونے چھ سو مساجداور بے شمار باغات تھے ۔ آبادی ڈیڑھ لاکھ سے زائد تھی۔شہر کاطول بارہ میل اور عرض تین میل تھا۔یہاں ولید اول(705-715) نے ایک مسجد تعمیر کرائی جس پر بارہ ہزار مزدور آٹھ سال تک کام کرتے رہے۔(ول ڈیوران "دی ایج آف فیتھ")
رابرٹ بریفالٹ لکھتا ہے کہ عربوں کے نفیس کتانی، سوتی، اونی  اور ریشمی لباس، بغداد کے حریر و پرنیاں، دمشقی مشجر، موصل کی ململ، غازہ کی جالی، غرناطہ کے اونی کپڑے، ایرانی تافتہ اور طرابلس کے شیفون نے یورپ کے نیم برہنہ  آبادی کو اعلیٰ لباس کا شوقین  بنا دیا۔اس قسم کے مناظر اکثر دیکھنے میں آئےکہ بشپ گرجے میں عبادت کر رہا ہے اور اس کی عبا پر قرآنی آیات کاڑھی ہوئی ہیں۔مرد تو رہے ایک طرف عورتیں بھی عربی قمیص اور جبہ بڑے شوق سے پہنتی تھیں۔سپین اور سسلی میں بے شمار کرگھے تھے۔ صرف اشبیلہ میں سولہ ہزار تھے۔قرطبہ میں ریشم بافوں کی تعداد ایک لاکھ تین ہزار تھی۔سسلی کے پایہ تخت میں تین ہزار سے زائد جامہ باف تھے۔ ان کی تیار کردہ عباؤں، قباؤں اور چادروں پر قرآنی آیات بھی رقم ہوتی تھیں۔جنہیں عیسائی بادشاہ اور پادری بڑے فخر سے پہنتے تھے۔سسلی میں عیسائی عورتیں نقاب اوڑھتی تھیں۔(یورپ پر اسلام کے احسانات بحوالہ تشکیل انسانیت)۔
عبد الرحمٰن سوم (912-961) کے زمانے میں قرطبہ کی آبادی پانچ لاکھ تک پہنچ گئی تھی۔اس میں سات سو مساجد،تین سو حمام، ایک لاکھ تیرہ ہزار مکانات،اکیس مضافاتی بستیاں اور ستر لائبریریاں تھیں۔اس میں شیشہ سازی اور چمڑہ رنگنے کے کارخانےتھے، مسلمانوں نے سسلی میں نہریں نکالیں، دور دراز سے شفتالو اور لیموں وغیرہ کے درخت منگوا کر لگوائے۔ کپاس اور نیشکر کو عام کیا۔ریشم کو رواج دیا ۔ تعمیرات میں سرخ و سفید پتھر استعمال کیا۔ نوکدار محرابوں، آرائشی طاقچوں،جالیوں اور میناروں کو مقبول بنایا۔ محلات و مساجد پر خط طغرائی میں آیات نویسی کا سلسلہ شروع کیا۔جابجا درسگاہیں اور کتب خانے قائم کیئے۔ایک سو تیرہ بندرگاہیں بنائیں اور وہاں کے لوگ اسلامی تہذیب سے اتنے متاثر ہوئے کہ ان کا لباس،تمدن، نظام تعلیم اور رہن سہن سب کچھ اسلامی سانچے میں ڈھل گیا۔(یورپ پر اسلام کے احسانات)
مسلمانوں کی بلند اخلاقی:۔
اسلام کی تعلیمات میں حسن اخلاق کوانسانیت کا زیور قرار دیا گیا ہے۔حضور اکرم ﷺ کا ارشاد گرامی  کا مفہوم ہے کہ تم میں سے حسین ترین شخصیت کا مالک وہ ہے جس کے اخلاق اچھے ہوں۔حضور اکرم ﷺ معلم اخلاق کی حثیت سے اس دنیا میں تشریف لائے۔ قرآن حکیم کی تعلیمات اور حضور اکرم ﷺ کے ارشادات نے امت مسلمہ کو جس بلند اخلاقی کے زیور سے آراستہ کیا، اس کی جھلک مسلمان معاشروں میں ہر دور میں عیاں نظر آتی رہی ہے۔دراصل یہی بلند اخلاقی مسلمانوں کا اصل ہتھیار رہاہے جس کی بدولت وہ دشمنوں کے دل جیتنے میں کامیاب رہے اور مفتوح اقوام کے دلوں میں اپنے لیئے عقیدت و احترام کا وہ جذبہ پیدا کیا  جس کی نظیر تاریخ اقوام و ملل میں ملنی محال ہے۔
حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے دور میں مسلمان اہلیان شام سے جزیہ وصول کیا کرتے تھے۔ایک بار ایسا ہوا کہ مسلمان رومیوں کے دباؤ کی وجہ سے اس علاقہ کو چھوڑنے پر مجبور ہو گئے۔مسلمانوں کے سپہ سالار امین الامت حضرت ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ نے رومیوں سے وصول کردہ تمام جزیہ واپس کر دیا اور فرمایا کہ ہم نے یہ جزیہ تم سے اس شرط پر لیا تھا کہ ہم تمہاری حفاظت کریں گے۔ موجودہ حالات میں چونکہ ہم تمہاری حفاظت نہیں کر سکتے اس لیئے جزیہ واپس کر رہے ہیں۔
کیا رقت انگیز منظر تھا کہ مسلمان واپسی کے لیئے رخت سفر باندھ رہے تھے اور عیسائی مسلمانوں کو جاتے ہوئے دیکھ کر زار و قطار رو رہے تھے ۔ان کا پوپ انجیل ہاتھ میں پکڑ کر کہہ رہا تھا"اس مقدس کتاب کی قسم !اگر کبھی ہمیں اپنا حاکم خود مقرر کرنے کا اختیار دیا گیاتو ہم عربوں کو ہی منتخب کریں گے۔ (بحوالہ یورپ پر اسلام کے احسانات)
سلجوقی سلطان الپ ارسلان نے قیصر رومنس کو شکست دے کر گرفتار کر لیا۔قیصر کو سلان کے سامنے پیش کیا گیا۔سلطان نے پوچھا اگر میں گرفتار ہو کر تمہارے سامنے پیش کیا جاتاتو تم میرے ساتھ کیا سلوک کرتے؟قیصر نے جواب دیا "کوڑوں سے تمہاری کھال کھینچ لیتا"۔ سلطان نے کہا مسلم اور عیسائی میں یہی فرق ہے۔ اس کے بعد قیصر کی خدمت میں بیش بہا تحائف پیش کیئے اور اسے بڑے احترام کے ساتھ رخصت کیا۔ (بحوالہ  ایج آف فیتھ) برطانیہ کے بادشا رچرڈ شیردل کو صلیبی جنگوں کا ہیرو تصور کیا جاتا ہے۔ وہ سلطان صلاح الدین ایوبی رحمہ اللہ کے خلاف مسلسل برسرپیکار رہا۔ایک مرتبہ جب وہ بیمار ہوا تو اس کی بیماری کے دوران سلطان صلاح الدین ایوبی اسے مفرحات اور پھل وغیرہ بطور تحفہ بھیجتا رہا۔
موسیو لیبان لکھتا ہے کہ "عربوں نے چند صدیوں میں اندلس کو مالی اور علمی لحاظ سے یورپ کا سرتاج بنا دیا" یہ انقلاب صرف علمی اور اقتصادی نہ تھا بلکہ اخلاقی بھی تھا۔ انہوں نے نصاریٰ کو انسانی خصائل سکھائے۔ان کا سلوک یہود و نصاریٰ کے ساتھ وہی تھا جو کہ مسلمانوں کے ساتھ تھا۔ انہیں سلطنت کا ہر عہدہ مل سکتا تھا ۔ مذہبی مجالس کی کھلے عام آزادی تھی۔یہ وہ سلوک تھا جس سے متاثر ہو کر صرف غرناطہ میں انیس لاکھ عیسائیوں نے اسلام قبول کر لیا تھا۔اسی سلوک کی وجہ سے مسلمان جس بھی علاقے میں گئے وہاں ان کی شان و شوکت اور ان کے دین کی عظمت  کے پرچم صدیوں لہراتے رہے۔
مسلمانوں کی علم دوستی:۔
اسلام علم و عمل کا دین ہے۔اس کی الہامی کتاب کا جو پہلا جملہ نازل ہوا  وہ  "اقرا باسم ربک الذی خلق"(سورۃ العلق) تھا۔یعنی پڑھیئے اپنے رب کے نام کے ساتھ جس نے (سب کو) پیدا فرمایا۔قرآن حکیم نے بار بار علم کی عظمت کو بیان فرمایا اور حضور اکرم ﷺ نے اپنے ارشادات سے مسلمانوں کے اندر علم سے محبت کا وہ جذبہ پیدا فرمایا جس کی وجہ سے ان کی کثیر تعداد نے اپنی زندگیاں علم کے لیئے وقف کر دیں۔انہوں نے اپنی مادی ضروریات سے بے نیاز ہو کرالہامی علم کے نور سے اپنے سینوں کو منور کیا۔انہوں نے قرآن حکیم کے ایک ایک لفظ کو اپنے سینے کے اندر محفوظ کیا اسے سپرد قلم کیا اور آئندہ آنے والی نسلوں کی طرف منتقل کیا۔انہوں نے حضور اکرم ﷺ کی حیات طیبہ کا مکمل  اور جامع ریکارڈ تیار کیا۔ جو بات آپ ﷺ کی زبان اقدس سے نکلی یا جو کام آپ ﷺ نے کیا وہ پوری محنت اور دیانتداری کے ساتھ آئندہ نسلوں کی طرف منتقل کیا۔
قرآن حکیم نے مسلمانوں کو انفس و آفاق میں غور و تدبر کرنے کا بار بار حکم دیا۔اور مسلمانوں نے اس ارشاد خداوندی کی تعمیل میں اپنی زندگیاں کائنات کے مخفی اور سربستہ رازوں کی کھوج لگانے میں صرف کر دیں۔جب یورپ جہالت کی تاریکیوں میں سر سے پاؤں تک ڈوبا ہوا تھا اس وقت مسلمانوں کی علمی حالت کیا تھی ، اس کی چند ایک جھلکیاں پیش خدمت ہیں۔
یزید اول کے بیٹے خالد نے ایک دارالترجمہ قائم کیا۔ جس میں ایک پادری ایرن نامی نگرانی پر مامور تھا۔ خود خالد بھی مصنف تھا۔اب الندیم نے الفہرست میں خالد کی چار کتابوں کے نام دیئے ہیں۔
عباسی خلفاء نے دنیا کے ہر حصے میں آدمی بھیجے جو کہ کتابوں کے انبار لے کر واپس آئے۔ جہاں بھر کے علماء اور حکماء دربار خلافت میں طلب ہوئے اور تصنیف و ترجمہ پر مامور ہوئے۔ ان لوگوں نے تھیلز(640 ق م) سے لیکر بطلیموس (151ء) تک  کی تصانیف عربی میں منتقل کر لیں۔جالینوس اور ارسطو کی شروحات لکھیں۔بطلیموس کے بعض مشاہدات پر تنقید کی ۔اور نہایت محنت سے ستاروں کے مقام وحرکت کی فہرستیں مرتب کیں۔ خسوف و کسوف کے اسباب بتائے۔زمین کی جسامت متعین کی۔کئی قسم کے اصطرلاب بنائے۔ علماء کے ساتھ بعض وزراء ، امراء اور سلاطین بھی  کتب خانوں اور رصد گاہوں میں جا بیٹھے۔ حکمت یونان جسے دنیا بھول چکی تھی ، پھر سے زندہ کیا۔قرطبہ سے سمرقند تک ہزاروں درسگاہیں تعمیر کیں۔ان میں طلبہ کی کثرت کا یہ عالم تھا کہ بقول ول ڈیوران:"جغرافیہ دانوں، مؤرخوں،منجموں، فقیہوں، محدثوں، طبیبوں اور حکیموں کے ہجوم کے سبب سڑکوں پر چلنا مشکل تھا۔جب سلطان محمود غزنوی کو معلوم ہوا کہ خوارزم شاہ کے دربار میں البیرونی اور ابن سینا جیسے علماء موجود ہیں تو اس نے خوارزم شاہ کو پیغام بھیجا کہ یہ علماء اس کے پاس بھیج دیئے جائیں۔محمود کے دربار میں چار سو علماء و شعراء تھے۔
ایک دفعہ مامون نے قیصر روم کو لکھا کہ وہاں کے ایک حکیم لیونامی کو دربار خلافت میں بھیج دیجئے۔ اس کے عوض چالیس من سونا دیا اور دائمی صلح کا وعدہ کیا۔مامون علماء دارلحکمت کی تصانیف کو سونے میں تولتااور یہ سونا مصنف کو دے دیتا۔جب شیخ سعدی رحمۃ اللہ علیہ بغداد کے دارالعلوم نظامیہ میں داخل ہوئے تو اس وقت زیر تعلیم طلبہ کی تعداد سات ہزار تھی۔اور اس میں ابھی مزید طلبہ کی گنجائش موجود تھی۔مرزا حیرت دہلوی اپنی کتاب (حیات سعدی) میں لکھتے ہیں کہ دارالعلوم نظامیہ ایک پورا شہر تھا۔لاتعداد کمرے اور ایک وسیع و عریض ہال جس میں دس ہزار انسان سما سکتے تھے۔دارالعلوم میں قرآن، حدیث، فقہ، فلسفہ، ریاضی، ہیئت، اور دیگر کئی اقسام کے علوم کی تدریس کا پورا انتظام موجود تھا۔ایک شعبہ اجنبی زبانوں کا تھا جہاں یونانی، عبرانی، لاطینی، سنسکرت اور فارسی پڑھائی جاتی تھیں۔تیر اندازی، تیغ بازی اور گھڑ سواری کی بھی مشقیں کرائی جاتی تھیں۔
جب گیارہویں صدی میں اٹلی کا ایک پادری پٹیر نامی حصول علم کے لیئے سپین گیا تو اس نے قرطبہ اور غرناطہ کے ہر خطے میں طلبہ دیکھے جن میں انگریز بھی تھے ۔ اساتذہ کا سلوک بیرونی ممالک کے طلبہ سے بڑا مشفقانہ اور فیاضانہ تھا۔خلیفہ کے محل میں ایک بہت بڑا کتب خانہ تھا۔جس میں کتابوں کی تعداد چار لاکھ تھی۔وہاں کاتبوں، جلد سازوں،اور نقاشوں کا ایک گروہ بھی تھا جس کا کام کتابوں کو نقل کرنا اور جلد باندھنا تھا۔خلیفہ کے درجنوں قاصد دنیا بھر سے کتابیں جمع کرنے پر مامور تھے۔ جامعہ قرطبہ عربوں کی قدیم ترین یونیورسٹی تھی۔جس کی بنیاد عبد الرحمٰن سوم نے ڈالی تھی۔اس میں یورپ، افریقہ اور ایشیا سے طلبہ آتے تھے۔اس کی لائبریری میں چھ لاکھ کتابیں تھیں۔ اس کی فہرست چوالیس جلدوں میں تیار ہوئی تھی۔عربوں نے ایک درسگاہ طلیطلہ میں قائم کی تھی۔جہاں یورپ کے ہر حصے سے طلبہ آتے تھے۔اس کالج سے بڑے بڑے اہل قلم نکلےمثلاََ رابرٹ(1140ء)جس نے قرآن حکیم اور خوارزمی کے الجبرا کو لاطینی میں منتقل کیا۔مائیکل سکاٹ، ڈینیل مارلے اور ایڈل ہارڈ جنہوں نے عربوں سے علوم سیکھےاور پھر یورپ میں علم کی روشنی پھیلانے میں اہم کردار ادا کیا۔
مسلمانوں نے اٹلی اور فرانس کے مختلف شہروں میں بھی مدارس قائم کیئے جہاں مسلمان فلاسفہ کی کتابیں پڑھائی جاتی تھیں۔مسلمانوں نے نہ صرف مدارس قائم کیئے، کتابیں لکھیں بلکہ خلفاء ، سلاطین اور امراء کی علم دوستی نے کتابوں سے محبت کو ملت اسلامیہ کی پہچان بنا دیا۔دنیائے اسلام میں جہاں ہر یونیورسٹی اور کالج کے ساتھ ایک بہت بڑا کتب خانہ قائم تھاوہاں بے شمار لوگوں کے ذاتی کتب خانے بھی تھے۔ان نجی کتب خانوں میں کتابوں کے قیمتی ذخائر موجود تھے ۔ چند ایک کتب خانوں کی تفصیل پیش خدمت ہے:۔
مشہور محدث ابن شھاب  الزہری (742ء) کی کتابیں اس قدر تھیں کہ جب وہ ایک کتب خانے میں منتقل کی گئیں تو کئی خچر اور خر استعمال ہوئے۔
حماۃ(شام) کے والی مشہور مؤرخ ابولفداء(1331ء) کے پاس بہت بڑا کتب خانہ تھا جس میں دو سو علماء و کاتبین کتابیں لکھنے اور نقل کرنے پر مامور تھے۔
جب نصیر الدین طوسی نے ایران کے ایک شہر مراغہ میں رصد گاہ قائم کی تو ساتھ ہی ایک لائبریری بھی بنائی جس میں کتابوں کی تعداد چار لاکھ تھی۔
حملہ تاتار کے وقت بغداد میں چھتیس سرکاری لائبریریاں تھیں۔اور ہر تعلیم یافتہ آدمی کے پاس  بھی کتب کا خاصا ذخیرہ تھا۔
جس زمانے میں عالم اسلام میں کتابوں کی یہ بہتات تھی اس زمانے میں عیسائیوں کی سب سے بڑی لائبریری کنٹر بری میں تھی جس میں صرف پانچ ہزار کتابیں تھیں۔اور دوسری بڑی کائبریری فرانس میں تھی جس میں کل پانچ سو ستر کتابیں تھیں۔بحوالہ ایج آف فیتھ۔
لطف کی بات یہ ہے کہ جس زمانے میں یورپ کی سب سے بڑی لائبریری صرف پانچ ہزار کتابوں پر مشتمل تھی ، ول ڈیوران اس زمانے کے متعلق بڑے فخر سے کہتا ہے کہ لائبریریوں کی یورپ میں کثرت تھی۔حالانکہ یہ وہی زمانہ ہے جب عالم اسلام میں لائبریریوں کی بہتات تھی اور ایک ایک لائبریری لاکھوں کتب پر مشتمل تھی۔
مسلمانوں کے علمی کارنامے:
مسلمانوں نے علم اور سائنس کی دنیا میں جو کارنامے سرانجام دیئےان کی فہرست بڑی طویل ہے۔یورپ نے اپنے دور عروج میں جو سائنسی ترقی کی ہے اس کی بنیادیں مسلمانوں ہی نے رکھی ہیں۔
کولمبس بحر اوقیانوس کو عبور کر کے امریکہ جا پہنچا تھا لیکن اس مہم کے لیئے اس نے جو" قطب نما "استعمال کیا تھا وہ مسلمانوں ہی کا ایجاد کردہ تھا۔اسی کی مدد سے مسلمانوں کے جہاز جدہ سے چین جاتے تھے۔اور اسی کی مدد سے واسکوڈے گاماہندوستان تک نکل گیا تھا۔
بارود جیسے اہل یورپ راجر بیکن کی ایجاد سمجھتے ہیں وہ راجر بیکن سے صدیوں قبل مسلمان استعمال کر رہے تھے۔
نویں صدی عیسوی میں قرطبہ کے مسلمان سائنس دان ابن فرناس نے عینک، میزان الوقت،اور اڑنے والی ایک مشین یعنی طیارہ ایجاد کر کے بنی نوع انسان کی مادی ترقی کی بنیادیں رکھ دی تھیں۔
سپین کی مصنوعات کو افریقہ اور ایشیا لے جانے والابحری بیڑہ ہزار جہازوں پر مشتمل تھا۔سینکڑوں بندرگاہوں سے بحری جہاز تجارتی مقاصد کے لیئے سپین کی بندرگاہوں پر لنگرانداز ہوتے تھے۔
ہم یہاں مسلمان سائنس دانوں کی دومحیر العقول ایجادات کا ذکر کرتے ہیں تاکہ ان سے مسلمانوں کی سائنسی میدان میں مہارت  کا اندازہ لگایا جا سکے:۔
جرمنی کا بادشاہ فریڈرک عربی علوم و تہذیب کا دلدادہ تھا۔وہ پوپ کے حکم سے صلیبی جنگوں میں شامل ہوا۔مصر و شام کے بادشاہ محمد الکامل نے اس کا دوستانہ استقبال کیااور جب فریڈڑک رخصت ہوا تو الکامل نے اسے ایک کلاک بطور تحفہ دیا۔کلاک پر ایک چاند اور ایک سورج بنا ہوا تھا۔اور کلاک کے آفتاب و ماہتاب، آسمانی آفتاب و ماہتاب کی حرکت کے عین مطابق حرکت کرتے تھے۔موسم کی تبدیلی کے باوجود ان کی حرکت آسمانی سورج و چاند کی حرکت کے عین مطابق رہتی تھی۔
ترکستان کے ایک شہر نخشب میں حکم بن ہاشم نے ایک چاند بنایا تھاجو غروب آفتاب کے ساتھ نخشب کے ایک کنویں سے نکلتا۔ تقریباََ سو مربع میل کے ایک رقبے کو رات بھر منور رکھتااور طلوع آفتاب سے عین پہلے ڈوب جاتا۔ہر موسم میں اس کا طلوع و غروب سورج کی حرکت کے عین مطابق ہوتا۔یہ چاند ماہ نخشب کے نام سے اسلامی ادب میں خاصی شہرت رکھتا ہے۔(یورپ پر اسلام کے احسانات بحوالہ تمدن عرب)
مآخذ و مصادر:۔
ضیا النبی ﷺ از کرم شاہ الزہروی رحمۃ اللہ علیہ
یورپ پر اسلام کے احسانات
تمدن عرب
 ایج آف فیتھ
تشکیل انسانیت
طبقات ابن سعد
وفیات الاعیان
معرکہ مذہب و سائنس

مکہ المکرمہ کا تاریخی وجود اور ملحدین

2017-06-09 20:41:45 

ملحدوں کے ایک گروپ میں آجکل ایک ملحد صاحب چند ذومعنی تاریخی روایات سے اپنے مرضی کے مطالب اور مفروضے نکالنے کو آرکیالوجی اور خود کوآرکیالوجسٹ سمجھے بیٹھے ہیں، صاحب مکہ اور کعبہ کے تاریخی وجود پر کرسچین مشنریز کا گھسا پٹا اعتراضی میٹریل اردو میں ٹرانسلیٹ کرکے اپنے نام سے پبلش کررہے ہیں اور اندھوں میں کانا راجہ کے مصداق ، سب فری بلنکرز ان کے علم پر عش عش کررہے ہیں۔ ہم گزشتہ تین تحاریر میں مکہ ، کعبہ اور آب زم زم کے وجود پر تاریخی دلائل پیش کرچکے ہیں، اس تحریر میں ان علامہ ملحد صاحب کی تحقیقات کا سرسری جائزہ پیش ہے۔ ان چند چاولوں سے ہی ملحد صاحب کی پکائی کھچڑی کی پوری دیگ کا اندازہ ہو جائے گا۔

علامہ ملحد صاحب نے اپنے مقدمے کی بنیاد جس آیت پرکھی وہ سورۃ الشوریٰ کی آیت ہے جس میں قران مکہ کو “ام القریٰ” کے نام سے پکارتا ہے۔ اور اس آیت سے ان صاحب نے اخذ کیا کہ قران چونکہ مکہ کو شہروں کی ماں قرار دے رہا ہے اسکا مطلب ہے کہ قران مکہ کے قدیم ترین ہونے کا دعویٰ کر رہا ہے ، اس سے انہوں نے جو مفروضے اور مطالب اخذ کیے انکی وہ کوئی دلیل نہیں پیش کرسکے لا سکے ۔ انکے ان دعووں کی کوئی صراحت قران سے بھی نہیں ملتی۔

سوال یہ ہے کہ قرآن نے کس بنیاد پر مکہ کو ام القری کہا ، علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں ” مکہ ام القریٰ اس لئے ہے کیونکہ یہ خدا کی نظر میں افضل ہے۔ کیونکہ بہت سے انبیاء یہاں تشریف لائے، نبیﷺ بھی یہاں ہی پیدا ہوئے اور خدا کی عبادت کے لئے بنایا گیا گھر بھی اسی شہر میں تھا تو اسکی حرمت اور قدر تو خود ہی ہوگئی۔ (تفسیر ابن کثیر )

قران نے شراب کو ام الخبائث سے تعبیر کیا ہے۔ اب اگر اس سے کوئی استدلال کرے کہ قران کا مقصود یہ بتانا کہ شراب بہت پرانا مشروب ہے تو اسکے بارے میں خود ہی فیصلہ فرما لیں کہ وہ کس جگہ کھڑا ہے اور اس پہ بلند و بانگ دعویٰ جات۔۔اب آپ خود ہی اندازہ کرسکتے ہیں جس بندے کے مقدمے کی بنیاد ہی ایک علمی بد دیانتی پہ ہو وہ آگے کیا بیان کرے گا۔

ایک اور ملحد صاحب نے وہاں سورہ آل عمران آیت نمبر 96 ( ان اول بیت وضع للناس للذی ببکته) پیش کی کہ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ مکہ کو قران قدیم ترین شہر قرار دے رہا ہے۔

حقیقت یہ ہے قرآن نے یہاں بھی مکہ کے بارے میں بات نہیں کی۔ بلکہ اس آیت میں بھی صرف خانہ کعبہ کا ذکر فرما رہا ہے کہ اللہ کے لئے یہاں سب سے پہلا عبادت خانہ بنا…. کب؟ اس کی کوئی صراحت نہیں کی گئی .

 

جناب نے ایک قسط میں ابن اسحاق اور طبری کی ایک روائت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ (حضرت عبداللہ حضرت آمنہ کے پاس پہنچے تو باہر کھیتوں میں کام کرنے کی وجہ سے ان پر کچھ مٹی لگی ہوئی تھی)… علامہ ملحد صاحب کا مسخرہ پن ملاحظہ کیے اس سے جناب نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ اس سے مکہ شہر کا کوی زرعی شہر ہونے کا تاثر ابھرتا ہے جہاں چار سو کھیت اور فصلیں لہلہاتی ہوں جو کہ مکہ میں ممکن نہیں بلکہ پترا میں ممکن ہےلہذا وہ مکہ میں نہیں پترا میں آباد تھے …. یہ ہے انکی آرکیالوجیکل تحقیق کا معیار!!

بات یہ کہ مذکورہ روایت میں شہر کی زرعی حیثیت کا ذکر نہیں… بلکہ مزرعہ کی بات ہے.. ہر وہ جگہ جہاں چند کھجور کے درخت اور کچھ گھاس پھونس اگائی گئی ہو اسے مزرعہ کہتے ہیں…. اور خطہ عرب میں مزرعہ جات کوئی لمبے چوڑے مربع ایکڑ پر مشتمل زرعی میدان نہیں ہوتے… اور اس دور میں تجارت کے علاوہ فرصت کے دنوں میں یہی چھوٹا موٹا کام ہوا کرتا تھا…. اب ایسے کسی چھوٹے سے باغیچہ میں بھی کام کرنا ہو تو انسان پر مٹی کا لگنا ایک عام سی بات ہے… اس کے لئے کسی بڑے زرعی رقبہ میں کدال سے کام کرنے کی ضرورت ہی نہیں…

پھر جناب نے مکہ کے راستوں پر مفروضہ باندھا ہے کہ یہ مکہ کے داخلی راستے دروں کی صورت ہونے چاہئے تھے اور اس کی دیواریں ہونی چاہئیں تھیں.. اور یہ کہ مکہ میں کسی طرف سے بھی پہاڑ پر چڑھ کر درے کے ذریعے نیچے اترنے کی ضرورت نہیں ہے… جناب کا آرکیالوجیکل نالج ملاحظہ کیجیے جناب کو یہ بھی نہیں پتا درہ ہوتا کیا ہے اور کیسا ہوتا ہے ۔؟درہ دو پہاڑوں کے درمیان سے گزرے والا راستہ ہو تا ہے… نا کہ پہاڑ پر چڑھ کر واپس اترنا درہ کہلاتا ہے…

مکہ کے راستوں کے متعلق ایک روایت ملاحظہ کیجیے

ہم سے عبداللہ بن عبدالوہاب نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے خاتم بن اسماعیل نے ہشام سے بیان کیا، ان سے عروہ نے بیان کیاکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے موقع پر مکہ کے بالائی علاقہ کداءکی طرف سے داخل ہوئے تھے۔ لیکن عروہ اکثر کدیٰ کی طرف سے داخل ہوتے تھے کیونکہ یہ راستہ ان کے گھر سے قریب تھا۔(کداءبالمد ایک پہاڑ ہے مکہ کے نزدیک اور کدیٰ بضمِ کاف بھی ایک دوسرا پہاڑ ہے جو یمن کے راستے سے ہے۔)

مکہ کے بالائی اور زیریں راستے برساتی نالوں کے حساب سے ہی سمجھے جاتے ہیں… پہاڑوں میں وہ سمت جس طرف سے وادی (برساتی نالہ) آ رہا ہے وہ بالائی حصہ ہوتا ہے اور جس طرف کو یہ وادی جا رہی ہے وہ زیریں حصہ ہوتا ہے… اور یہ بات اٹل ہے کہ زمین کی زیریں حصہ سمندر کی طرف ہوتا ہے… اور سطح سمندر سے دور ہٹتے ہوئے ہم بالائی حصہ کی طرف جا رہے ہوتے ہیں.. لیکن اس صورت میں بھی س یہ بات بچگانہ سی ہے کہ بالائی درہ کوئی پہاڑ پر چڑھ کر اترنے کو کہتے ہیں

 

علامہ صاحب کا اک اور مفروضہ ملاحظہ ہو کہ جناب نے لکھا کہ مکہ کیونکہ ایک بڑا تجارتی شہر گردانا جاتا تھا جس میں اتنے بڑے بڑے تاجر تھے جن کے ایک وقت میں پچیس سو اونٹ تک قافلے میں شامل ہوتے تھے… اتنی بڑی آبادی میں مکہ کے لوگ کھاتے کیا تھے…. کیونکہ مکہ پہاڑوں میں گھرا ہو شہر ہے جس میں کوئی زراعت نہیں ہے…. اور اس شہر میں ایسا کیا پیدا ہوتا تھا جسے یہ لوگ مال تجارت کے طور پر دوسرے علاقوں میں بیچتے تھے….

پہلی بات کا جواب تو جناب کے سوال میں ہی ہے کہ مکہ والے تاجر تھے تو دوسرے ممالک سے اپنے لئے خوراک کا سامان لانا کوئی انہونی بات نہیں ہے… اس کے علاوہ جانوروں کی پرورش اور دودھ اور کھجور ان کی بنیادی غذا تھی… یہ اونٹ صرف بار برداری کے ہی نہیں ہوتے تھے، ان اونٹوں کی خرید و فروخت بھی ہوتی تھی، یہ جانور فروخت کرتے… وہاں سے ان کے عوض دیگر سامان تجارت خریدتے اور اس سامان کو آگے کی منڈیوں میں بیچ دیتے… ملحد صاحب کو اتنی عرق ریزی کے بعد اتنی سی بات بھی سمجھ نہیں آتی کہ خوراک کے لئے اپنے ہی علاقہ میں ذراعت کوئی مسلمہ اصول نہیں ہے دنیا کا…. اگر ایسا ہوتا تو وینس شہر کا تو دنیا میں نام و نشان ہی نا رہتا… وہ لوگ تو بھوکے ہی مر جاتے… کیونکہ سمندر کی بیچ بسے اس شہر میں ذراعت کا تو ذکر بھی ممکن نہیں……

اور تجارت کے لئے مال کا بھی پہلے بتایا جا چکا ہے کہ پالے ہوئے جانور یعنی بھیڑ بکریاں اور اونٹ وغیرہ….اور دوسرے ممالک سے خریدا گیا سامان تجارت آگے کی منڈیوں میں فروخت کرنا، اس پر منافع کمانا اور اپنے لئے سامان خورد و نوش خریدنا… یہ سب مکہ والوں کی تجارت کا احوال تھا۔۔

 

علامہ آرکیالوجی ایک اور سوال پیش کرتے ہیں کہ مکہ والے پہلے تو دور سے گزر کر مدینہ کے شمال میں جاتے تھے، اور پھر مشرق کی طرف “بائیں” مڑ کر مدینہ کے شمال میں پہنچ کر گھوم کر مدینہ پر حملہ کرتے تھے.. یہاں جناب اندازہ لگوا رہے ہیں کہ حجاز کے ان دشوار گزار راستوں میں جہاں پانی کا ملنا انتہائی مشکل ہے مکہ کی فوج ریگستان میں چلتے ہوئے مدینہ کے شمال مشرق سے جاکر حملہ کرتے ہیں۔۔۔ علامہ صاحب نے بجائے کوئی مستند حوالہ دینے کے محض اپنے اس مفروضے سے کہ وہ مدینہ کے شمال سے حملہ آور ہوتے تھے’ یہ نتیجہ نکالا کہ قریش مکہ کے بجائے پترا کے رہائشی تھے ۔ ۔

ملحدوں نے آرکیالوجی کا بھی بیڑا غرق کرنے کی قسم اٹھائی ہوئی ہے۔۔بندروں کے ہاتھ استرا آگیا ہے۔۔

مکہ سے چلنے والا لشکر جس کی بنیادی ضرورت اس سفر میں پانی کا حصول اور نسبتا ہموار راستہ ہے جس پر وہ اپنے جانوروں اور سامان کے ساتھ چلتے ہوئے مدینہ پہنچ جائیں.. اس لشکر قریش نے مدینہ کے قریب جاتے ہوئے پہاڑوں سے بچنے اور نسبتا ہموار راستے پر چلتے ہوئے وادی العقیق کا انتخاب کیا… یہ برساتی نالہ ان کی پانی کی ضرورت کے لئے بھی بہتر تھا کیونکہ پہاڑوں میں ایسے برساتی نالوں میں تھوڑی سے کھدائی سے پانی حاصل کیا جا سکتا ہے….

وادی العقیق کے ساتھ ساتھ چلتے ہوئے لشکر کفار مدینہ کے مغرب سے گزرتے ہوئے شمال مغرب میں پہنچا… جہاں وادی العقیق اور وادی قناة جو کہ مدینہ کی طرف سے آ رہی ہے اکٹھا ہوتی ہیں… اور آگے یہ دونوں مل کر وادی الحمض کی شکل آگے نکل جاتی ہیں… وہاں سے وادی العقیق کو چھوڑ کر انہوں نے وادی قناة کے ساتھ ساتھ واپس مدینہ کی طرف سفر شروع کیا اور مشرکین نے شمال مغرب سے بل کھاتے ہوئے مڑ کر جنوب مغرب میں چلتے ہوئے وادی کے ساتھ ساتھ سفر کیا… اس وادی کے ساتھ آگے بائیں گھوم کر جنوب مشرق کی سمت چلتے ہوئے موجودہ العیون کے مغرب سے گزر کر جبل احد کے جنوب میں پہنچ گیا جو کہ مدینہ کے شمال میں واقع ہے… اس طرح لشکر مکہ شمال مغرب سے جبل احد کے دامن میں داخل ہوا… اور لشکر مدینہ جنوب سے شمال کی طرف سفر کرتے ہوئے میدان احد پہنچا… وہ دور افواج کی حرکت کے لئے اونٹوں، گھوڑوں اور خچروں وغیرہ پر انحصار کرنے کا تھا… پیرا ٹروپنگ کا تصور بھی نہیں تھا، اس لئے مکہ سے چلنے والا لشکر مدینہ کے تین اطراف پھیلے پہاڑوں پر چڑھنے کی غلطی کرکے مرنے کی بجائے ان وادیوں (برساتی نالوں) کے ساتھ ساتھ لمبا چکر کاٹ کر گھومتا ہوا ہموار راستے سے مدینہ کی طرف اترا اور بھاگنے کے لئے بھی انہیں اسی راستے پر جانا تھا… ناکہ پہاڑوں ہر چڑھ کر پتھروں میں مر جاتے..

ایک اور مزے کی بات یہ ہے کہ ملحد صاحب نے جو نقشہ بنا کہ احد کی جنگ کو دکھایا ہے اسمیں احد پہاڑ کو اٹھا کہ وہ کوسوں دور لے گئے ہیں تاکہ انکے گوگلی امر کی وضاحت ہوسکے۔۔۔ حالانکہ احد پہاڑ اور مدینہ بلمقابل ہیں اور موصوف نے جو نقشہ پیش کیا ہے اسکے مطابق مدینہ وہ کہاں پیچھے جبکہ احد کا میدان بہت آگے نکل جاتا ہے۔۔۔۔ تھوڑا عرصہ ہے موصوف اس پہاڑ کو جلد پترا واپس پہنچا کہ دم لیں گے، جنگ احد کا یہ نقشہ کسی نا سمجھ بچے کے لئے تو شائد قابل قبول ہو، کسی بھی سمجھدار انسان کے لئے ہنسنے کا ہی مقام ہے… جناب لشکر قریش کا جو روٹ دکھا رہے ہیں وہ موجودہ مدینہ کی مکمل آبادی سے باہر سے نکال کر لائے ہیں اور جبل احد کی شمالی سمت جا کر پہاڑ کے پار میدان جنگ سجا دیا ہے… جبکہ میدان جنگ جبل احد کی جنوبی سمت مدینہ کی طرف ہے… اپنی لائن ڈرا کرتے ہوئے حاجی صاحب یہ بھول گئے کہ جنگ احد دسمبر 2015 میں نہیں لڑی جا رہی جو محترم کفار کے روٹ کو موجودہ مدینہ کی آبادی سے باہر نکال کر جبل احد کے بھی پار پہنچا رہے ہیں… بلکہ اس وقت مدینہ کی مرکزی بستی موجودہ مسجد نبوی کے رقبہ کے ہی برابر تھی… اور باقی بستیاں الگ الگ تھیں جو مختلف قبائل کا مسکن تھیں… اور قریش مدینہ کی مرکزی بستی پر حملہ آور تھے جہاں خود محمد الرسول اللہ موجود تھے..

اسی طرح صاحب نے جنگ خندق کا نقشہ پیش کیا ہے ،اسکے میدان جنگ کے حوالے سے صرف اپنی مرضی کی کانٹ چھانٹ کر کے چند چیزیں دکھائیں اور ان پر مفروضہ باندھ لیا…ہمیں اس کا جواب دینا بھی ایک بچگانہ عمل اورملحدوں کی چولیات کو بلاوجہ کی اہمیت دینے جیسا لگتا ہے۔۔

 

ملحد صاحب کے مکہ پہ اعتراض کے سلسلے میں پٹالومی کا ذکر کیا ، پٹالومی کے حوالے سے مشہور ہے کہ اس نے اپنے نقشے میں جس شہر کا ذکر کیا جسے اس نے مکروبہ کا نام دیا تھا۔ وہ شہر اصل میں مکہ تھا۔ اس پر گزشتہ تحاریر میں ہم تفصیل پیش کرچکے مزید پانچ تاریخ دانوں کی شہادتوں کے حوالے پیش ہیں۔

Cyril Glassé: The New Encyclopedia of Islam By Cyril Glassé page 302

(Ilya Pavlovich Petrushevsky (1898–1977): Islam in Iran by I. Pavlovich Petrushevsky page 3

Michael Wolfe:One Thousand Roads to Mecca: Ten Centuries of Travelers Writing about the Muslim pilgrimage Michael Wolfe introduction xv

Paul Wheatley:Paul Wheatley The Origins and Character of the Ancient Chinese City: volume 11 page 288

Mogens Herman Hansen: A Comparative Study of Thirty City-state Cultures: An Investigation, Volume 21 by Mogens Herman Hansen page 248 NOTE 24

 

بقول علامہ ملحد صاحب کہ یہ تمام عیسائی مورخین تھے اور ایک پروپگنڈہ کے طور پہ انہوں نے یک زبان جھوٹ لکھا۔ اور علامہ صاحب چونکہ ملحد ہیں اس لیے وہ سچے مفروضے قائم کررہے ہیں یہ مکہ والی حقیقت ابھی چند سالوں پہلے کھلی ہے کیونکہ اسوقت ابھی سٹلائٹ ایمجری اور دوسری سہولیات میسر نہی تھیں۔۔۔

اٹھارویں اور انیسویں صدی میں اتنی بھی کم سہولیات نہیں تھیں۔ مکروبہ کے بارے میں انکا کہنا تھا یہ کوئی بستی تھی جو اب ختم ہوچکی ہے۔ اس لئے مکروبہ مکہ نہیں ہے۔ مکہ کے تاریخی وجود کے متعلق چند اور مورخین کا حوالہ دیکھیے

Reverend Charles Augustus Goodric: Whatever discredit we may give to these, and other ravings of the Moslem imposter concerning the Caaba its high antiquity cannot be disputed; and the most probable account is, that it was built and used for religious purposes by some of the early patriarchs; and after the introduction of idols, it came to be appropriated to the reception of the pagan divinities. Diodorus Siculus, in his description of the cost of the Red Sea, mentions this temple as being, in his time, held in great veneration by all Arabians; and Pocoke informs us, that the linen or silken veil, with which it is covered, was first offered by a pious King of the Hamyarites, seven hundred years before the time of Mahomet۔

(Religious Ceremonies and Customs, Or: The Forms of Worship Practised by the several nations of the known world, from the earliest records to the present time, Charles Augustus Goodrich [Hartford: Published by Hutchinson and Dwine 1834] page 124)

 

John Reynell Morell:…historically speaking, Mecca was a holy city long before Mohammed. Diodorus siculus, following agatharcides, relates that not far from the red sea, between the country of the Sabeans and of the Thamudites there existed a celebrated temple, venerated throughout Arabia.

(Turkey, Past and Present: Its History, Topography, and Resources By John Reynell Morell page 84)

 

Colin Macfarquhar: The reign of the heavenly orbs could not be extended beyond the visible sphere; and some metaphorical powers were necessary to sustain the transmigration of the souls and the resurrection of bodies: a camel was left to perish on the grave, that he might serve his master in another life; and the invocation of departed spirits implies that they were still endowed with consciousness and power. Each tribe, each family, each independent warrior, created and changed the rites and the object of this fantastic worship; but the nation in every age has bowed to the religion as well as to the language, of Mecca. The genuine antiquity of the Caaba extends beyond the Christian era: in describing the coast of the Red Sea, the Greek historian Diodorus has remarked, between the Thamaudites and the Sabeans a famous temple, whose superior sanctity was revered by ALL THE ARABIANS: the linen or silken veil, which is annually renewed by the Turkish Emperor, was first offered by a pious King of the Homerites, who reigned 700 years before the time of Mahomet.“

(Encyclopaedia Britannica: Or, A Dictionary of Arts, sciences and Miscellaneous Literature Constructed on a Plan Volume 2, by Colin Macfarquhar page 183 – 184)

Andrew Crichton: “From the celebrity of the place, a vast concourse of pilgrims flocked to it from all quarters. Such was the commencement of the city and the superstitions fame of Mecca, the very name of which implies a place of great resort. Whatever credit may be due to these traditions, the antiquity of the Kaaba is unquestionable; for its origin ascends far beyond the beginning of the Christian era. A passage in Diodorus has anobvious reference to it, who speaks of a famous temple among the people he calls Bizomenians, revered as most sacred by all Arabians.”

(The history of Arabia, ancient and modern Volume 1 [second edition] By Andrew Crichton page 100)

 

یہ آٹھ سے نو مورخین اور جغرافسٹ ایک بات کر رہے ہیں جو ملحد صاحب کو اپنے الحاد اور مفروضوں کے خلاف سازش محسوس ہورہی ہے۔

جہاں تک پٹالومی میں ذکر نا آنے کی بات ہے پہلے تو یہ واضح ہو کہ پٹالومی کے کوآرڈینٹس کو آج کے کئی جغرافسٹ جھٹلا چکے ہیں۔ اسکے کوآڈینیٹس صحیح نہیں تھے۔ اسکے علاوہ اس نے جو نقشہ بنایا وہ نقشہ بھی خود دیکھ کہ نہیں بلکہ قافلوں سے معلومات اور مطالعے کے بعد ترتیب دیا تھا۔ اس بنیاد پہ پٹالومی کے نقشے پہ انکو انکے صحیح مقام پہ ڈھونڈنا بے فائدہ ہے۔ اس سلسلے میں ملحد صاحب ہی کا ایک کمنٹ ملاحظہ ہو۔

/////پٹالمی کے نقشے کو صیحح کرکے پڑھنے میں سینکڑوں سال لگ گیے ، انیس سو پچاس سے کئی عیسائی آرکیا کوجسٹس نے بائیبل میں موجود مقامات کو ڈھونڈنے کی کوشش کی ، اور ان کے پاس سواۓ اس ایک نقشے اور مختلف قدیم تاریخ دانوں کے بیان کردہ لوکشنوں کے علاوہ کچھ نہیں تھا ، ان سب کو خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں ہو سکی ، لیکن جب سے اس نقشے کو اچھی طرح ٹرانسلیٹ کیا گیا اوراور اس کی زمینی پیمائش کو کومپیوٹر کے توسط سے صحیح کیا گیا ہے ، تب سے ہمیں اس نقشے میں موجود شہروں کی جغرافیائی لوکیشنوں ڈھونڈنے میں آسانی ہو رہی ہے ، پٹولمی نے عرب کے علاقوں کو تین حصوں میں تسیم کیا تھا ، پٹالمی نے یہ سب نقشے خود ہر جگہہ دیکھنے کے بعد نہیں بنائے بلکہ اس نے مختلف سوداگروں سیاحوں وغیرہ کی انفرمیشن سے ان کو بنایا تھا ، اور ان نقشوں کو بناتے وقت کئی غلطیاں کیں اور کونفیگریشن درست نہ ہونے کی وجہ سے وہاں پر بہتے دریاؤں کی لوکیشزکو بہت زیادہ شمال کی طرف دھکیل دیا گیا ، اس کا تقریبن ہر نقشہ پہلے ولے سے تھوڑا مختلف ہے ،جیسا کہ اوپر نقشے میں آپ دیکھ سکتے ہیں کہ مقروبا کے اوپر ایک دریا نظر آ رہا ہے لیکن یہ دریا کبھی یہاں تھا ہی نہیں یہ دریا نیچے یمن وا لے ایریے میں بہتا ہے ا، لیکن ان غلطیوں کو سدھار نے کے لئے ماڈرن آرکیالوجسٹس نے طریقے نکال لئے ہیں////

اس تنقیدی سلسلے میں ملحد صاحب نے دو دلائل دیے۔

اول: پٹالومی کے نقشے کو دوبارہ جغرافسٹ نے محنت سے صحیح ترتیب دیا ہے۔

اسکا مطلب ہے کہ صیح ترتیب شدہ نقشے پہ مکہ اب موجود نہی ہے۔ عمدہ بہت عمدہ، اسی طرح کے بہت سے ترتیب شدہ نقشے موجود ہیں جن پہ نبیﷺ سے بہت پہلے مکہ کی موجودگی کا ذکر موجود ہے۔ وہ بھی ترتیب شدہ ہے۔

دوم: مکہ پہاڑیوں کے بیچ موجود ہے وہ پہاڑیوں سے باہر رکھا گیا ہے۔ جیسا کہ ملحد صاحب اپنی بات میں خود مان چکے ہیں کہ پٹالمی نے مکروبہ کے اوپر ایک دریا دکھایا تھا لیکن یہ دریا کبھی بھی یہاں نہیں تھا بلکہ یہ دریا بہت نیچے یمن کے علاقہ میں بہتا ہے، اس ہزاروں کلومیٹر کے فرق کو ملحد صاحب بیک جنبش کی بورڈ نظر انداز فرما دیتے ہیں لیکن جہاں بات مکہ کی آتی ہے تو ملحد صاحب اس بات پہ اٹکے ہوئے ہیں کہ مکروبہ پہاڑوں سے باہر دکھایا گیا ہے جبکہ موجودہ مکہ پہاڑوں کے اندر وادی ہے اور یہ کوسٹل بیلٹ سے اسی پہاڑی سلسلہ سے الگ ہوتی ہے۔۔

یہاں صاحب کا مکر اور ضد ملاحظہ ہو کہ یمن کا دریا مکروبہ سے اوپر دکھانے کی غلطی کوئی معنی نہیں رکھتی لیکن مکروبہ کو پہاڑوں کے اندر دکھانے کی بجائے باہر دکھایا گیا ہے اس لئے مکروبہ مکہ ہے ہی نہیں……

جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کر

پٹالومی کو آرڈینیٹس میں غلطی کا شکار تھا کیونکہ اس نے بہت سے قافلے والوں کی مدد سے اس نقشے کو ترتیب دیا تھا۔ اس سے مکروبہ کی جگہ آگے پیچھے تو ہوسکتی ہے لیکن اسکے وجود کو جھٹلایا نہیں جاسکتا۔ مکروبہ ضرور موجود تھا ‘ پلاٹومی سے اسے نقشے پہ رکھنے میں غلطی سرزد ہوگئی۔ اس لئے نقشے میں اسکا ذکر تو آیا لیکن اسکی جگہ صحیح متعین نہ ہوسکی۔

پٹالمی کے کوآرڈینیٹس کی غلطی اس کے علاوہ بھی دیکھی جاسکتی ہے ، مثلا مشرق کی سمت پورا خطہ عرب ہزاروں کلومیٹر اوپر نیچے کیا ہوا ہے.. آج کے جدید نقشہ جات سے خلیج فارس و عمان کو دیکھا جائے تو عمان اور متحدہ عرب امارات کا حصہ کچھ سمندر میں آگے کو بڑھا ہوا نظر آتا ہے اس سے آگے خلیج پھر تھوڑی سی چوڑی ہوتی نظر آتی ہے… لیکن پٹالمی نے اپنے نقشہ میں موجودہ متحدہ عرب امارات کے علاقہ میں خلیج کو ایک نہائت تنگ آبی گزرگاہ دکھایا یے جو آگے جا کر دوبارہ تقریبا دائرے کی صورت کھل جاتی ہے…. یہ بہت بڑا بلنڈر ہے اس نقشہ کا اور یہ نقشہ ثابت کرتا ہے کہ یہ سب سنی سنائی باتوں پر ہی مشتمل تھا اسی لیے اس میں ایسی جغرافیائی غلطیاں تھیں۔

لفظ مکروبہ کی بحث:

اس سلسلے میں مکروبہ کا نام بہت اہمیت کا حامل ہے۔ مکروبہ کے مطلب اصل میں بنتا ہے “خدا کا گھر” اس بنا پہ اس لفظ کو بہت اہمیت حاصل ہے۔ اس سلسلے میں یہ بحث ملاحظہ ہو

” claiming that Macoraba is derived from Makka-Rabba which means great Makkah is untrue. The correct translation is “Lord’s Makkah” or “Allah’s Makkah”; because the root “mkk” consists of consonant letters meaning “house” in Babylonian and “Rabba” meaning “the Lord” or “Allah” in Southern Arabia, that is, “Allah’s House”. This linguistic structure is a possessive form and not a derivative one”

 

جناب نے ایک اور یہ دعوی کیا کہ اس دور (نبیﷺ سے پہلے) کے اور بھی بہت سے جغرافیہ دان تھے جنہوں نے مکہ کا ذکر نہی کیا۔۔

اس پر ہم گزشتہ تحاریر میں بھی تبصرہ پیش کرچکے ، مزید عرض ہے کہ مکہ ایک دشوار گذار راستے پہ پہاڑیوں کے درمیان گھری ہوئی جگہ ہے۔ مکہ تک پہنچ جانا ہر کسی کے بس کے بات نہی اور ابراہیم ء السلام سے پہلے تک تو یہ بیابان تھی۔ اس وجہ سے بہت کم لوگ اس تک پہنچ سکے۔ یہاں تک کہ ابراہیم ء سے پہلے کوئی مشہور عبادت (زمانے کے حساب سے مشہور) گاہ بھی نہی تھی۔تاریخ کی کتابوں میں تفصیل سے ذکر ہے کہ ابراہیمؑ اللہ کے حکم سے اپنی بیوی ہاجرہ اوربچے اسماعیل کو اس بیابان میں چھوڑ گئے تھے ، یہاں سے زم زم کا چشمہ نکلا اور چند قبائل یہاں سے گزرتے ہوئے آب زم زم کا پانی دیکھ کے ٹھہر گئے اور اس کے گرد بس گئے۔بعد میں حضرت ابراھیم ؑ اورحضرت اسماعیل ؑ نے اللہ کی طرف سے غیبی امداد و نشاندہی سے کعبہ کو دوبارہ تعمیر کیا، یہ اس جگہ آبادی کا ابتدائی دور تھا ۔ یہاں ملحد صاحب نے دوبارہ تجارتی مشہور مقام ہونے اور اسکے تجارتی گذر گاہ ہونے کوبطور دلیل پیش کیا حالانکہ یہ بہت بعد کی باتیں ہیں ، ایک جگہ جو ابراہیم کے آنے کے ایک عرصے کے بعد آباد ہوئی، پھر انکی تجارت شروع ہوئی ، پھر بعد میں کہیں جا کے اسکا تعلق مہذب دنیا سے جڑا اور تجارتی گزر گاہ اور مقدس مرکز بنا ، اس لیے ملحد صاحب کا یہ فرمانا رہے کہ یہ تجارتی شہر ابراھیم ؑ کے دور کے تاریخ دانوں کو کیوں نظر نہیں آیا، کم عقلی کی بات ہے۔۔ دور ابراھیم کے بعد یہ عبادت گاہ ضرور تھی اور حج بھی ہوتا تھا لیکن اسکا حج اور طواف وہیں کے لوگ کرتے تھے یا جو قبائل اسکے گرد آباد تھے اور بعد میں انہی قبائل کی یہ آماجگاہ بن گیا۔

اس سارے سلسلے میں ملحد صاحب نے اپنے طور پر آرکیالوجی کو حتمی حجیت کے طور پہ پیش کیا ہے اور سارے مقدمے کا بوجھ اسکے کندھوں پہ لاد دیا۔ ہم انکی نظر آرکیالوجی کی بہن پیلونٹولوجی کی مثال پیش کرتے ہیں جس کا طریق تحقیق ملتا جلتا ہے۔ ذرا ملاحظہ کریں کہ وہ کیسے خود اپنی حجیت کا منہ چڑا رہی ہیں۔

“1922 میں امریکن میوزیم آف نیچرل ہسٹری کے ڈائریکٹر، ہنری فیئر فیلڈ اوسبورن نے اعلان کیا کہ اس نے مغربی نبراسکا میں اسنیک بروک کے قریب سے ڈاڑھ (molar tooth) کا رکاز دریافت کیا ہے جو پلیوسینی عصر (Pliocene Period) سے تعلق رکھتا ہے۔ یہ دانت مبینہ طور پر بیک وقت انسان اور گوریلوں کی مشترکہ خصوصیات کا حامل دکھائی دیتا تھا۔ اس کے بارے میں سائنسی دلائل کا تبادلہ شروع ہوگیا۔ بعض حلقوں نے کہا کہ یہ دانت ’’پتھے کن تھروپس ایریکٹس‘ ‘(Pithecanthropus Erectus) سے تعلق رکھتا ہے، جبکہ دوسرا گروہ کہتا تھا کہ یہ دانت، جدید انسانی نسل کے زیادہ قریب ہے۔ مختصراً یہ کہ اس ایک دانت کے رکاز کی بنیاد پر زبردست بحث شروع ہوگئی اور اسی سے ’’نبراسکا آدمی‘‘ کے تصور نے بھی مقبولیت حاصل کی۔ اسے فوراً ہی ایک عدد ’’سائنسی نام‘‘ بھی دے دیا گیا: ’’ہیسپیروپتھے کس ہیرلڈ کوکی‘‘!متعدد ماہرین نے اوسبورن کی بھرپور حمایت کی۔ صرف ایک دانت کے سہارے ’’نبراسکا آدمی‘‘ کا سر اور جسم بنایا گیا۔ یہاں تک کہ نبراسکا آدمی کی پورے گھرانے سمیت تصویر کشی کردی گئی۔

1927ء میں اس کے دوسرے حصے بھی دریافت ہوگئے۔ ان نودر یافتہ حصوں کے مطابق یہ دانت نہ تو انسان کا تھا اور نہ کسی گوریلے کا۔ بلکہ یہ انکشاف ہوا کہ اس دانت کا تعلق معدوم جنگلی سؤروں کی ایک نسل سے تھا جو امریکہ میں پائی جاتی تھی، اور اس کا نام ’’پروستھی نوپس‘‘ (Prosthennops) تھا۔”

ان علوم سے استفادہ کرنا ایک اچھی بات ہے لیکن اسے حتمی حجت کے طور پہ پیش کرنا ایک علمی بد دیانتی ہے جسکا منہ بولتا ثبوت آپکے سامنے موجود ہے۔

تحریر و تحقیق: میاں عمران، محمد حسنین اشرف

خلافت یا جمہوریت

2017-06-13 03:50:59 

خلافت یا جمہوریت۔۔۔۔۔فیصلہ آپ کا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!
خلافت عثمانیہ کا دور ہے ۔۔۔۔۔تخت خلافت پر سلطان عبد الحمید  خان متمکن ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 
یہ وہ دور ہے کہ مسلمانوں میں انتشار اور آپس کے اختلافات کے باعث۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
امت مسلمہ ناچاقی کا شکار ہے ۔۔۔۔۔۔اس کے باوجود خلافت کی ڈور میں سبھی بندھے ہیں ۔۔۔۔۔
 اس وقت دنیا پر انگریز کی حکومت ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔قصر خلافت میں خبر ملتی ہے کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فرانس اور برطانیہ۔۔۔۔۔ جو کہ اس وقت دنیا کی طاقتور ترین ۔۔۔۔
حکومتیں ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مسلمانوں کی جان سے بھی عزیز ہستی۔۔۔۔
محمد رسول اللہ ﷺ کی شان اقدس میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔گستاخانہ  ڈرامہ بنا رہی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جس کو یورپ کے تمام۔۔۔تھیٹروں میں پیش کیا جانا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ خبر ملتے ہی۔۔۔۔۔۔خلیفتہ المسلمین  سلطان عبد الحمید خان غضبناک ہو جاتے ہیں ۔۔۔۔۔۔
اپنی تمام فوج کو ۔۔۔۔۔۔عسکری تیاریوں کا حکم دیتے ہوئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عسکری لباس میں ملبوس رہنے کا حکم صادر فرماتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 اور خود بھی عسکری لباس زیب تن کر کے ۔۔۔۔۔۔۔ہتھیاروں کو جسم پر آویزاں کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔
اسی غضب کے عالم میں ۔۔۔۔۔۔۔ فرانسیس سفیر کی طلبی ہوتی ہے،،،،،،،،،،
 سفیر یہ سوچتا ہے کہ ۔۔۔۔۔۔شاید خلیفتہ المسلمین۔۔۔۔۔۔حکومت فرانس کو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 کوئی مذمتی بیان دیں گے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔(موجودہ دور کے غداران اور ننگ دین وملت حکمران نما کٹھ پتلیوں کی طرح)
 اور ڈرامے کے موضوع پر ۔۔۔۔۔بات چیت ہو گی۔۔۔۔۔۔۔اور ہم ڈرامہ پیش کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے،،،،،،
مگر جب وہ سفیر ۔۔۔۔۔۔۔۔قصر خلافت میں داخل ہوا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تو یہ دیکھ کر دنگ رہ گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قصر خلافت کا ہر فرد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔عسکری لباس میں ملبوس تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 جب وہ خلیفتہ المسلمین کے دربار میں پہنچا۔۔۔۔۔۔ تو یہ دیکھ کر ۔۔۔۔۔۔۔اس پر بجلی سی گر گئی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کہ خود خلیفہ عسکری لباس میں ہتھیار زیب تن کیئے بیٹھے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!
اس سفیر نے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔مرد مومن کی ہیبت سے مغلوب ہو کر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فوراََ کہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میرے آقا! آپ کا پیغام مل گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!
 اس کے بعد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس سفیر نے ۔۔۔۔۔۔حکومت فرانس کو فوراََ لکھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 کہ یہ ڈرامہ بند کر دو۔۔۔۔۔۔۔۔۔! ورنہ اس کے نتائج ۔۔۔۔۔۔۔سہنے کی ہم میں طاقت نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔!!!
 حکومت فرانس تفصیلات معلوم ہونے پر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس گستاخانہ ڈرامے کو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔روکنے پر مجبور ہو گئی۔۔۔۔۔۔
 ایسا ہی پیغام ۔۔۔۔۔۔۔۔۔برطانیہ کو دیا گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مگر ۔۔۔۔۔۔۔وہ ٹکٹوں کی فروخت کا بہانہ بنانے لگا۔۔۔۔۔۔۔
اس پر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ خلیفتہ المسلمین سلطان عبد الحمید خان نے قصر خلافت سے ،،،،،،،،،،،،
 برطانیہ کے خلاف اعلان جہاد کرتے ہوئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اپنی تلوار ننگی کر لی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!
 اور قسم کھائی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کہ یہ تلوار ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس وقت تک نیام میں نہیں آئے گی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 جب تک برطانیہ و یورپ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔اپنے ان گھناؤنے ارادوں سے باز نہیں آ جاتے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!

سلطان عبد الحمید خان کے اس اقدام پر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پورا یورپ تھرا اٹھا،،،،،،،،،،،،،،،!!!

اور انہوں نے خلیفتہ المسلمین سلطان عبد الحمید خان سے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فوراََ اپنے ان غلیظ اور گھناؤنے عزائم کی معافی طلب کی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!

آج بھی پورے یورپ کی طرف سے سیدالکونین، امام الانبیاء، محبوب خدا، فخر موجودات ، وجہ تخلیق کائنات حضرت محمد ﷺ کی شان اقدس میں گستاخیوں کا سلسلہ جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!
 آج بھی امت مسلمہ کو ایک ایسے لیڈر کی ضرورت ہے جو مغرب کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر للکار سکے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!
 آج بھی امت مسلمہ ایک صلاح الدین ایوبی کی منتظر ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔جو گستاخ رسول ﷺ ریجی نالڈ کا سر قلم کر دے۔۔۔۔۔۔۔۔!!!
 آج بھی امت مسلمہ سلطان عبد الحمید خان کی منتظر ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جس کی ایک دھاڑ پر یورپ تھرا اٹھے ۔۔۔۔۔۔۔۔!!!
 آج امت مسلمہ کو اپنے نام نہاد بکاؤ اور یہود و نصاری کے تلوے چاٹنے والے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔لیڈروں کے مذمتی بیانوں کی نہیں ،،،،،،،،
 بلکہ غازیان ناموس رسالت کی ضرورت ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ جو ہر گستاخ کا سر قلم کرنے کی جرات اور حوصلہ رکھتے ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!

کی محمدﷺ سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں ۔۔۔!!!
 یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں ۔۔۔۔۔!!!

فتح مکہ ایک عظیم کامیابی

2017-06-14 13:18:02 

فتح مکہ ایک عظیم کامیابی:

صلح حدیبیہ کا دس سالہ معاہدہ پورا ہونے کو ہی تھا کہ قریشِ مکہ کے ایک اتحادی قبیلے بنو بکر نے مسلمانوں کے اتحادی قبیلہ بنو خزاعہ پر حملہ کردیا. اس حملہ میں قریشِ مکہ بھی چہروں پر نقاب ڈالے شامل تھے . حملہ کے نتیجے میں بنو خزاعہ کا جانی اور مالی نقصان ہوا.
 
قریشِ مکہ کا سردار ابوسفیان اس صُلح کو جاری رکھنا چاہتا تھا لیکن قریشِ مکہ غلطی پر تھے انکی طرف سے معاہدہ کی خلاف ورزی کی گئ تھی. لہذا وہ مدینہ پہنچا اور اپنی بیٹی ام حبیبہ رض اللہ عنہا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجیت میں تھیں ان کے گھر پہنچا. ام حبیبہ رض اللہ عنہا نے رسول اللہ سے کمال وفاداری کا ثبوت دیا اور یہاں تک کہ ابوسفیان کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بستر مبارک پر بھی بیٹھنے کی اجازت نہ دی. ابو سفیان نے پوچھا بیٹی تم ایسا کیوں کرتی ہو. ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا آپ نجس ہیں اب تک اسلام قبول نہیں کیا.میں آپکو بسترِ رسول پر بیٹھنے کی اجازت نہیں دونگی. سب سے بڑھ کر آپ نے معاہدہ کی خلاف ورزی کی. لہذا یہاں سے چلے جائیے. 

ادھر بنو خزاعہ کے لوگ فریاد لے کر رسولِ پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچے اور شاعرانہ انداز میں انتہائی درد ناک طریقہ سے تمام صورت حال آپ کے گوش گزار کی. رسول پاک صلی اللہ وسلم نے بنو خزاعہ کی فریاد کے جواب میں انہیں تسلی دی اور مسلمانوں اور تمام اتحادیوں کو مکہ کی جانب کوچ کرنے کا حکم دیا.
 
دوسری طرف قریشِ مکہ کا سردار ابو سفیان فکر مندی سے اپنے کمرے کے چکر لگا رہا تھا. وہ جانتا تھا حملہ کا ردعمل ضرور آئے گا. لیکن رد عمل کیا آئے گا وہ بے خبر تھا. اسی چیز نے اسکی بے چینی میں کئ گنا اضافہ کردیا کہ آخر مسلمان اب کیا کریں گے.لوگوں کے خیال میں صلحِ حدیبیہ ابھی قائم تھی اس لیے کسی کے گمان میں نہ تھا کہ یہ تیاری مکہ جانے کے لیے ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مدینہ سے باہر جانے والے راستوں پر نگرانی بھی کروائی تاکہ یہ خبریں قریش کا کوئی جاسوس باہر نہ لے جائے۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دعا بھی کی کہ اے خدایا آنکھوں اور خبروں کو قریش سے پوشیدہ کر دے تاکہ ہم اچانک ان کے سروں پر ٹوٹ پڑیں.

 10 رمضان 8ھ کو روانگی ہوئی۔ کسی کو معلوم نہ تھا کہاں جانا ہے۔ ایک ہفتہ میں مدینہ سے مکہ کا فاصلہ طے ہو گیا۔ مکہ سے کچھ فاصلہ پر 'مرالظہران' کے مقام پر لشکرِ اسلام خیمہ زن ہو گیا۔ لوگوں کو معلوم ہو چکا تھا کہ مکہ کا ارادہ ہے۔ ابوسفیان مسلسل بے چینی کا شکار تھا. اس کی آنکھیں کئ راتوں کی بے خوابی کی وجہ سے سوجھی ہوئیں تھیں.  جنگ تو ہوئی نہیں مگر احوال کچھ یوں ہے کہ مر الظہران کے مقام پر حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تاکید کی کہ لشکر کو بکھیر دیا جائے اور آگ جلائی جائے تاکہ قریشِ مکہ یہ سمجھیں کہ لشکر بہت بڑا ہے اور بری طرح ڈر جائیں اور اس طرح شاید بغیر خونریزی کے مکہ فتح ہو جائے۔ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عظیم حکمت عملی کا ہی نتیجہ تھا کہ مکہ بڑی شان سے فتح ہوا.

 مشرکین کے سردار ابوسفیان نے دور سے لشکر کو دیکھا۔ ایک شخص نے کہا کہ یہ شاید بنو خزاعہ کے لوگ ہیں جو بدلہ لینے آئے ہیں مگر اس نے کہا کہ اتنا بڑا لشکر اور اتنی آگ بنو خزاعہ کے بس کی بات نہیں۔ اس کے بعد ابوسفیان حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے امان پانے کے لیے لشکرِ اسلام کی طرف حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چچا عباس کی پناہ میں چل پڑا۔ کچھ مسلمانوں نے اسے مارنا چاہا مگر چونکہ عباس بن عبدالمطلب نے پناہ دے رکھی تھی اس لیے باز آئے۔ رات کو قید میں رکھ کر صبح ابوسفیان کو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا گیا۔ ابو سفیان نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اسلام قبول کیا. اور ان سے امان مانگی. وہ عہدہ کا خواہاں تھا. رسول اللہ نے اس کی خواہش کو رد نہ کیا اور فرمایا جو ابوسفیان کے گھر پناہ لے وہ امان میں ہے. ابو سفیان کو واپس بھیج دیاگیا. ابو سفیان مکہ واپس آیا تو اس پر مسلمانوں کی ہیبت طاری تھی. 

ادھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لشکر کو چار حصوں میں ترتیب دے کر اس تاکید کے ساتھ مکہ میں داخل کیا کہ جو تم سے لڑے صرف اسی سے لڑو. جو اپنے گھر کا دروازہ بند کرلے یا ابوسفیان کے گھر پناہ لے اس پر ہتھیار نہ اٹھاؤ.چاروں طرف سے شہر کا محاصرہ کر لیا گیا اور مشرکین کے پاس ہتھیار ڈالنے کے علاوہ کوئی راستہ نہ رہا۔ صرف ایک چھوٹے گروہ نے لڑائی کی جس میں صفوان بن امیہ بن ابی خلف اور عکرمہ بن ابی جہل شامل تھے۔ ان کا ٹکراؤ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی قیادت کردہ دستے سے ہوا۔ مشرکین کے 28 افراد انتہائی ذلت سے مارے گئے۔ صفوان بن امیہ فرار ہوگیا. لیکن کچھ عرصہ بعد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر اسلام قبول کر لیا. ایسی حالت میں کہ وہ زار و زار روتا جاتا تھا. اسکی بیوی پہلے ہی مسلمان ہو چکی تھی. 

لشکر اسلام انتہائی فاتحانہ طریقہ سے شہرِ مکہ میں داخل ہوا جہاں سے آٹھ سال پہلے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ہجرت کرنا پڑی تھی۔ 17 رمضان المبارک 8 ہجری کو مکہ فتح ہوا. رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اونٹنی پر سوار تھے اور مکہ کی گلیوں اور چھتوں پر طلع البدرو علینا کی صدائیں بلند ہونے لگیں.

 کچھ آرام کے بعد حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مجاہدین کے ہمراہ کعبہ کہ طرف روانہ ہوئے۔ کعبہ پر نظر پڑتے ہی سواری کی ہی حالت میں حجرِ اسود کو بوسہ دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تکبیر بلند کرتے تھے اور لشکرِ اسلام آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے جواب میں تکبیر بلند کرتے تھے۔ کعبہ میں داخل ہونے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تمام تصاویر کو باہر نکال دیا اور تمام بتوں کو توڑ دیا۔ یہاں تک کہ کعبہ کو شرک کی تمام علامتوں سے پاک کر دیا۔ کعبہ میں اذان کے لیے بلال حبشی رضی اللہ عنہ کو بلایا جنہوں نے پر سوز آواز میں اذان دی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امامت میں مسلمانوں نے نماز پڑھی.

 مکہ والوں نے بڑے پرتپاک طریقہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا استقبال کیا. اللہ پاک نے اپنے حبیب کی اپنے مقدس شہر میں شان بلند کردی. قریش مکہ کے تمام مظالم جنہوں نے حبیب اللہ کو ہجرت پر مجبور کردیا تھا معاف فرما دیے گئے. اس موقع پر فاتح مکہ نے عام معافی کا اعلان کردیا. سب کو امان دی.صرف نو لوگوں کو سزا سنائی گئ جن کے جرائم انتہائی سنگین سازشوں اور گستاخیِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر مشتمل تھے. ان کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ وآلہ وسلم نے فرمایا انہیں قتل کردیا جائے. ان کے نام یہ ہیں.
(۱) عبد العزیٰ بن خَطل 
(۲) عبد اللہ بن سعد بن ابی سرح
(۳) عکرمہ بن ابی جہل 
(۴) حارث بن نُفیل بن وہب 
(۵) مقیس بن صبابہ 
(۶) ہبّار بن اسود 
(۷،۸) ابن ِ خطل کی دولونڈیاں جو نبیﷺ کی ہجو گایا کرتی تھیں 
(۹) سارہ جو اولاد عبدالمطلب میں سے کسی کی لونڈی تھی، اسی کے پاس حاطب کا خط پایا گیا تھا۔

بعد ازاں ان میں سے 5 نے اسلام قبول کرلیا اور 4 کو قتل کردیا گیا.

بے شک اللہ نے اپنا وعدہ پورا فرمایا اور اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر بلند فرما دیا

وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ

٭٭٭کائنات کی مقدس ترین ہستی٭٭٭

2017-07-02 12:22:25 
وہ پیشے کے لحاظ سے نجار (لکڑی کے کاریگر) تھے ۔۔۔۔۔۔۔انتہائی شریف النفس اور اپنے کام سے کام رکھنے والے۔۔۔۔۔۔۔۔ صبح سویرے کام پر جاتے، دن بھر کی محنت مزدوری کے بعد شام کو واپس گھر ۔۔۔۔۔یہی ان کا روزانہ کا معمول تھا۔۔۔۔ ان دنوں برصغیر پر انگریزوں کی حکومت تھی ۔ انگریز اپنی حکمرانی کے نشے میں بدمست مسلمانوں پر ہر طرح کے ظلم و ستم ڈھا رہا تھا۔ دوسری طرف ہندو بنیا سیکڑوں برس کی غلامی کا بدلہ چکانے کے لیئے تیار بیٹھا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جب انگریزوں اور ہندوؤں نے مسلما ن کو بے بس سمجھ لیا تو انہوں نے اپنے خبث باطنی کا اظہار شروع کر دیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مسلمانوں ہی کی نہیں بلکہ کائنات کی مقدس ترین ہستی پر زبان درازی کی جرآت کی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہر سمت سے ہر روز نت نئی گستاخی کی خبروں نے عالم اسلام میں ہلچل برپا کر کے رکھ دی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ انہی دنوں ایک ہندو ملعون راجپال نے حضور اکرم ﷺ کی شان اقدس میں گستاخانہ کتاب لکھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جس کے نتیجے میں مسلمانوں میں اشتعال کی فضا پیدا ہو گئی۔۔۔۔ مسلمانوں نے راجپال ملعون کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا، جلسے جلوس ہوتے رہے ۔۔۔۔۔۔۔ مگر حکومت کے کانوں پر جوں تک نہ رینگی۔۔۔۔۔۔انہیں اس سارے طوفان کی کچھ خبر نہ تھی ۔۔۔۔ ایک دن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کام سے واپسی پر راستے میں ایک ہجوم دیکھا۔۔۔۔۔۔۔ قریب گئے اور لوگوں سے دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ راجپال ملعون نے کائنات کی مقدس ترین ہستی کی شان میں گستاخی کی ہے ۔۔۔۔اور یہ اسی سلسلے میں جلسہ نکالا گیا ہے ۔۔۔ جلسے کے شرکاء کی تقاریر نے آپ کے دل پر انتہائی گہرا اثر کیا۔۔۔۔۔۔۔اس دن سے کام سے آپ کا دل اچاٹ ہو گیا۔۔۔۔۔۔۔ اپنے پیارے نبی ﷺ کی شان میں گستاخی کا سن کر آپ کی راتوں کی نیند اڑ گئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس رات انہیں خواب میں ایک بزرگ کی بھی زیارت ہوئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ انہوں نے کہا: تمہارے نبی ﷺ کی شان اقدس میں گستاخی ہو رہی ہے اور تم سوئے ہوئے ہو۔ اٹھو اور جلدی کرو۔۔۔۔۔۔۔ وہ ہڑبڑا کر اٹھے اور سیدھے اپنے ایک دوست کے گھر پہنچے۔۔۔۔اسے بھی ویسا ہی خواب آیا تھا۔۔۔۔۔اور اسے بھی راجپال ملعون کو واصل جہنم کرنے کا حکم ملا تھا۔۔۔۔ دونوں ہی کی خواہش تھی کہ یہ سعادت انہیں حاصل ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کافی دیر بحث چلتی رہی ۔۔۔۔۔۔۔آخر قرعہ اندازی کی گئی تو نتیجہ ان کے حق میں نکلا۔۔۔۔۔۔۔۔چنانچہ و ہ راجپال ملعون کے دفتر گئے ۔۔۔۔۔۔۔۔ وہاں سے اس کے متعلق معلومات حاصل کیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔تو معلوم ہوا کہ وہ ملعون ابھی دفتر نہیں پہنچا۔۔۔۔۔ اتنے میں راجپال ملعون کار پر دفتر پہنچا۔۔۔۔۔۔۔۔یہ معلوم ہونے پر کہ یہی راجپال ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ آپ اس کے دفتر کے اندر داخل ہوئے ۔۔۔۔۔۔۔۔ راجپال ملعون نے آُ پ کو اندر آتے ہوئے دیکھا ۔۔۔۔۔۔۔۔مگر اس ملعون کو یہ خبر نہ تھی کہ آپ کی صورت میں موت اس کے قریب آ چکی ہے۔۔۔۔ آپ نے پلک جھپکتے ہی چھری نکالی۔۔۔۔۔ہاتھ فضا میں بلند ہوا۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور چھری سیدھی اس ملعون کے جگر پر لگی۔۔۔۔ ایک ہی وار کارگر ثابت ہوا ۔۔۔۔۔۔۔اور وہ ملعون واصل جہنم ہو گیا۔۔۔۔۔۔ آپ الٹے پاؤں باہر نکلے ۔۔۔اور اعلان کیا کہ اس ملعون نے چونکہ کائنات کی مقدس ترین ہستی کی شان اقدس میں گستاخانہ کتاب لکھی تھی ۔۔۔۔اس لیئے میں نے اسے واصل جہنم کر دیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔اگر کوئی اور بھی ایسا سوچنے کی جرات کرے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو اس کا بھی یہی انجام ہو گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!! آپ کو گرفتار کر لیا گیا۔۔۔۔۔۔۔آ پ کے گھر والوں کو علم ہوا ۔۔۔۔۔۔تو وہ حیران ضرور ہوئے ۔۔۔۔مگر انہیں پتا چل گیا کہ ان کے نورچشم نے۔۔۔۔۔۔۔۔کیاکارنامہ سرانجام دیاہے۔۔۔۔۔۔۔۔گستاخ رسول ﷺ کوعلی الاعلان واصل جہنم کر کے ۔۔۔۔۔گستاخوں اوران کے سرپرستوں ۔۔۔۔۔۔۔کو بتا دیا کہ ۔۔۔۔۔۔۔غیرت مسلم ابھی زندہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔!!! آپ کو 1929ء کو سزائے موت سنائی گئی۔۔۔۔۔۔اور آپ کے جسد خاکی کو ۔۔۔۔۔۔۔۔ مثالی اور غیر معمولی اعزاز و اکرام کے ساتھ لاہور میں سپرد خاک کر دیا گیا اس موقع پر شاعر مشرق حضرت علامہ محمد اقبال رحمہ اللہ نے ایک مشہور فقرہ کہا جو تاریخ کاحصہ بن گیا۔۔۔۔۔۔۔۔ ٭اسی گلاں کردے رہ گئے تے ترکھاناں دا منڈا بازی لے گیا٭ آج دنیا آپ کو غازی علم دین شہید رحمہ اللہ کے نام سے جانتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عالم اسلام کی تاریخ میں آپ کا نام ناموس رسالت ﷺ کے پاسبانوں کی فہرست میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!

منتخب تحریریں