بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ * لا الہٰ الا اللہ محمّد رسول اللہ * قُلْ هُوَ اللّـٰهُ اَحَدٌ - اَللَّـهُ الصَّمَدُ - لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُوْلَدْ - وَلَمْ يَكُنْ لَّـهٝ كُفُوًا اَحَدٌ

اسلامی قوانین


حجاب کسے کہتے ہیں؟

2017-05-29 04:40:34 

دورِ حاضر میں پردہ ایک فیشن کی صورت اختیار کر گیا ہے۔ آج پردہ یا حجاب کی بہت سی صورتیں رائج ہیں جن میں سرِ فہرست سر کو اسکارف سے ڈھانپنا ہے۔ بعض خواتین سر تا پاوں عبایا یا برقع میں ملبوس ہوتیں ہیں حتی کہ ہاتھوں کو بھی دستانوں اور پیروں کو موزوں سے ڈھانپا ہوتا ہے۔ کچھ تو اسکن ٹائٹ زرق برق عبایا کو ہی پردہ گردانتی ہیں ، کچھ تو صرف دوپٹے سے سر ڈھانپ کر ہی مطمئن ہو جاتی ہیں کہ پردہ ہوگیا اور کچھ ایسی ہیں جن کے نزدیک حج و عمرہ کا پردہ ہی پردہ ہے اور بعض ایسی ہیں جن کے نزدیک '' پردہ تو صرف آنکھوں کا ہوتا ہے'' ۔
اس طرح حجاب یا پردے کے بارے میں بہت سی غلط فہمیاں پائی جاتیں ہیں ۔ 
اس مضمون میں ان سوالات کا جواب حاصل کرنے کی کوشش کریں گے کہ اصل پردہ کیا ہے؟ 
عام طور پر ستر اور حجاب میں فرق نہیں کیا جاتا حالانکہ یہ شریعت کی رو سے یہ مختلف ہیں ۔ 
حجاب اور ستر کے درمیان فرق : 
الستر (مصدر) کا بنیادی معنی محض کسی چیز کو چھپانا ہے۔ اور ستر اور سترۃ ہر اس چیز کو کہتےہیں جس سے کوئی چیز چھپائی جائے۔ مقاماتِ ستر سے مراد انسانی جسم کے وہ حصے ہیں جنہیں شریعت نے دوسرے انسانوں سے ہر حالت میں چھپانا واجب قرار دیا ہے۔
مرد کا ستر اسکی ناف سے لیکر گھٹنے تک ہے ۔ اور عورت کا ستر پورا جسم ماسوائے شہرہ اور ہاتھوں کے ستر میں شمار ہوتیں ہیں۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہہ فرماتی ہیں کہ میں اپنے بھتیجے عبداللہ بن طفیل کے سامنے زینت کے ساتھ آئی تو آپ ﷺ نے اسے نا پسند فرمایا۔ میں نے کہا یہ تو میرا بھتیجا ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا جب عورت بالغ ہو جائے تو اس کے لیے جائز نہیں کہ اپنے جسم میں سے کچھ ظاہر کرے سوائے چہرے کے اور سوائے اس کے یہ کہہ کر آپ ﷺ نے اپنی کلائی پر اس طرح ہاتھ رکھا کہ آپﷺ کی گرفت کے مقام اور ہتھیلی کے درمیان صرف ایک مٹھی بھر جگہ باقی تھی۔
حجاب دو چیزوں کے درمیان کسی ایسی حائل ہونے والی چیز کو کہتے ہیں جس کی وجہ سے دونوں چیزیں ایک دوسرے سے اوجھل ہوجائیں۔
ارشاد باری تعالی ہے : ترجمہ اور جب تمہیں (نبی کی بیویوں سے) کوئی چیز مانگنا ہو تو پردے کے باہر سے مانگو۔ سورہ احزاب ۳۳ 
گویا حجاب ستر کے علاوہ اضافی چیز ہے جس کا تعلق غیر محرم یا اجنبی مرد سے ہوتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں ستر فی نفسہ ضروری ہے چاہے کوئی موجود ہو یا نہ ہو جبکہ حجاب فی نفسہ ضروری نہیں جب تک دیکھنے وال غیر محرم موجود نہ ہو۔ 
اللہ تعالی نے سورہ احزاب اور سورہ نور کے ذریعے مسلمانوں کو احکامِ ستر و حجاب سے روشناس کروایا۔
سورہ احزاب کی آیت 59 میں '' جلباب'' اور سورہ نور کی آیت 31 میں '' خمر '' کا ذکر ہوا ہے۔
جلباب کہتے ہیں بڑی چادر یا عبایا سے مشابہ چیز کو جو پورے جسم کو ڈھانپ لے جبکہ خمر کے معنی چھوٹے دوپٹے کے ہیں جو کہ عورتیں گھروں میں اوڑھا کرتیں تھیں۔ 
سورہ احزاب آیات ٣٣ میں ارشاد باری تعالی ہے :

 وَقَرْنَ فِىْ بُيُوْتِكُنَّ وَلَا تَبَـرَّجْنَ تَبَـرُّجَ الْجَاهِلِيَّـةِ الْاُوْلٰى ۖ وَاَقِمْنَ الصَّلَاةَ وَاٰتِيْنَ الزَّكَاةَ وَاَطِعْنَ اللّـٰهَ وَرَسُوْلَـهٝ ۚ اِنَّمَا يُرِيْدُ اللّـٰهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ اَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيْـرًا
اور اپنے گھروں میں بیٹھی رہو اور گزشتہ زمانہ جاہلیت کی طرح بناؤ سنگھار دکھاتی نہ پھرو، اور نماز پڑھو اور زکوٰۃ دو اور اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرو، اللہ یہی چاہتا ہے کہ اے اس گھر والو تم سے ناپاکی دور کرے اور تمہیں خوب پاک کرے
۔

اس آیت میں پردے احکامات سب سے پہلے نبی ﷺ کے گھرانے کو دئیے گئے کیونکہ آپ ﷺ کو اسوہ حسنہ بنا کر پیش کرنا مقصود تھا۔ اور ویسے بھی اصلاح کا عمل دوسروں کی بجائے اپنے آپ سے شروع کرنا زیادہ موثر ہوتا ہے۔ اس آیت میں تنبیہہ کر دی گئی کہ زمانہ جاہلیت کی طرح اپنی زینت و آرائش نہ دکھاتی پھرو۔ اس کے لیے خاص لفظ استعمال کیا گیا ہے تبرج۔۔ 
تبرج کیا ہے ؟؟ 
تبرج میں پانچ چیزیں شامل ہیں۔
اپنے جسم کے محاسن کی نمائش۔
 زیورات کی نمائش اور جھنکار۔
 پہنے ہوئے کپڑوں کی نمائش۔ 
 رفتار میں بانکپن اور نازو ادا۔ 
 خوشبویات کا استعمال ۔ 
ان سب باتوں سے منع فرما دیا گیا۔
سورہ احزاب کی آیت 59 میں چہرے کا پردہ کرنے کا حکم دیا گیا :

يَآ اَيُّـهَا النَّبِىُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَآءِ الْمُؤْمِنِيْنَ يُدْنِيْنَ عَلَيْهِنَّ مِنْ جَلَابِيبِْهِنَّ ۚ ذٰلِكَ اَدْنٰٓى اَنْ يُّعْرَفْنَ فَلَا يُؤْذَيْنَ ۗ وَكَانَ اللّـٰهُ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا
اے نبی اپنی بیویوں اور بیٹیوں اور مسلمانوں کی عورتوں سے کہہ دو کہ اپنے مونہوں پر نقاب ڈالا کریں، یہ اس سے زیادہ قریب ہے کہ پہچانی جائیں پھر نہ ستائی جائیں، اور اللہ بخشنے والا نہایت رحم والا ہے

اب جو حضرات یہ کہتے ہیں کہ '' ید نین علیھن من جلا بیبھن '' سے مراد چادر لٹکا کر گھونگھٹ نکالنا نہیں ہے بلکہ اس سے مراد چادر کو اپنے جسم کے گرد اچھی طرح لپیٹنا ہے، تو ان کے لیے عرض یہ ہے کہ لغوی لحاظ سے ''دنی یدنی'' کا معنی قریب ہونا بھی ہے اور جھکنا اور لٹکنا بھی۔ '' ادنی ''کے معنی ہیں قریب کرنا ، جھکانا اور لٹکانا۔۔۔ اب اگر قرآن کے الفاظ ہوتے'' ادنی الیھن من جلا بیبھن'' تو ان میں اس بات کی گنجائش ہوتی کہ اس کے معنی اپنی چادروں کو اپنے جسموں کی طرف قریب کرلیں یا بکل مار لیں ۔۔ لیکن قرآن کے الفاظ ہیں'' یدنین علیھن من جلابیبھن'' جس کا معنی لا محالہ کسی چیز کو لٹکانا ہی ہو سکتا ہے ۔ ادنی کے ساتھ علی کا صلہ اس میں ارخاء یعنی اوپر سے لٹکانے کے معنوں میں مخصوص کر دیتاہے۔ جب لٹکانا یا نیچے کرنا معنی ہو تو اس کا مطلب چہرہ کا گھونگھٹ نکالنا ہی ہوگا۔
اس ضمن میں واقعہ افک سے متعلق حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہہ کا بیان ہے جو کہ بخاری میں مذکور ہے۔۔۔ میں اسی جگہ بیٹھی رہی اتنے میں میری آنکھ لگ گئی۔ اتنے میں ایک شخص صوان بن معطل اسلمی اس مقام پر آیا اور دیکھا کہ کوئی سو رہا ہے۔ اس نےمجھے دیکھتے ہی پہچان لیا کیونکہ حجاب کا حکم اتنے سے پہلے اس نے مجھ کو دیکھا تھا۔ اس نے مجھ کو پہچان کر انااللہ وانا الیہ راجعون پڑھا تو میری آنکھ گھل گئی تو میں نے اپنا چہرہ اپنی چادر سے ڈھانپ لیا۔ ۔۔ الفاظ ہیں'' فخمرات وجھی بجلبابی''۔۔۔ اگر چہرہ خارج ہے تو کیا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور دوسرے صحابہ اکرام رضوان اللہ علیہم نے اس کا مطلب غلط سمجھا تھا؟
بعض افراد چہرہ اور ہاتھوں کے استثناء کے لیے سورہ نور کی آیت 31 وَلَا يُبْدِيْنَ زِيْنَتَهُنَّ اِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْـهَا پیش کرتے ہیں لیکن یہ توجیہہ بھی اس صورت میں غلط ثابت ہوتی ہے کہ اس آیت میں حجاب کی رخصتوں کا ذکر کیا جا رہا ہے نا کہ حجاب کی پابندیوں کا ۔۔۔ یعنی کن محرم رشتوں سے حجاب کی ضرورت نہیں۔ اس کے علاوہ اس جملہ کا مطلب یہ ہے کہ عورتیں اپنی زینت ظاہر نہ کریں مگر جو اس زینت سے از خود ظاہر ہو جائے۔ گویا اللہ تعالی عورتوں کو تکلیف میں مبتلا نہیں کرنا چاہتے کہ اگر بڑی چادر یا برقعہ کے باوجود کسی اتفاق سے عورت کی زینت ظاہر ہو جائے تو اسمیں مضائقہ نہیں ۔ صحابہ اور تابعین کی اکثریت اس پر متفق ہے۔ 
سوال یہ ہے کہ اگر عورت کے چہرے کا پردہ ضروری نہیں ہے تو اس حکم کی کیا ضرورت رہ جاتی تھی کیونکہ اس آیت میں یہ نہیں فرمایا گیا ہے کہ گھر کے باہر کھڑے ہو کر چیز مانگ لیا کرو بلکہ کہا ہے من وراء حجاب یعنی حجاب کے پیچھے سے مانگا کرو۔
رسول اکرم ﷺ کا ارشاد ہے ترجمہ : عورت احرام کی حالت میں نہ نقاب اوڑھے اور نہ دستانے پہنے۔ نسائی
اس حدیث سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ پردے کے حکم کے بعد عورتوں نے اپنے منہ اور ہاتھوں کو چھپانا شروع کردیا تھا جبھی تو حالتِ احرام میں استثنی کا حکم جاری ہوا۔ اگر چہرے کے پردے کا رواج نہ ہوتا تو اس حکم کی بالکل بھی ضرورت نہیں تھی ۔ 
'حضرت عائشہ رضی اللہ عنہہ سے روایت ہے'وہ فرماتی ہیں کہ(حج کے دوران) قافلے ہمارے پاس سے گزرتے تھے اور ہم اللہ کے رسولﷺ کے ساتھ حالتِ احرام میں ہوتی تھیں، پس جب وہ ہمارے پاس سے گزرتے تو ہم اپنے جلباب اپنے سر سے اپنے چہرے پر لٹکالیتی تھیں اور جب وہ قافلے آگے گزر جاتے تو ہم اپنے چہرے کو کھول دیتی تھیں۔ سنن ابی داود اگر چہرے کے پردے کا رواج نہ ہوتا تو ایسا کرنے کی کیا ضرورت تھی؟؟
اس کے ساتھ ساتھ شادی کے لیے عورت کو پسند کرنے کے لیے اسے دیکھنے کی اجازت دی گئی۔۔ اگر چہرے کا پردہ نہ ہوتا تو اس اجازت کی بھی ضرورت نہیں رہ جاتی تھی۔ 
امہات المومنین رضی اللہ وعنہا چہرہ کا پردہ کرتی تھی حالانکہ وہ تمام مسلمانوں کی مائیں تھیں اور نبی ﷺ کی وفات کے بعد ان سے کوئی نکاح بھی نہ کر سکتا تھا۔ اگر ان کو چہرے کے پردے استثنی نہیں تھا تو پھرعام مسلمان عورتوں کو کیونکر ہو سکتا ہے؟ 
اگر اس ضمن میں مختلف آئمہ اکرام رحمتہ اللہ کے اقوال کا جائیزہ لیا جائے تو اگرچہ چہرے کے پردے کے بارے میں اختلافات موجود ہیں لیکن وہ صرف اس حد تک ہیں کہ چہرے کا پردہ لازم ہے یا شریعت کی رو سے موجب ثواب یا مسنون ہے۔ پردے سے انکار کسی کو بھی نہیں ہے اور جو فقہا چہرے کے پردے کو لازمی قرار نہیں دیتے وہ بھی یہ شرط عائد کرتے ہیں کہ چہرے یا ہتھیلی پر کوئی زینت کا سامان نہ ہو۔ اگر ہو تو اس کا چھپانا واجب قرار دیا گیا ہے۔ 
احکامِ ستر و حجاب کی استثنائی صورتیں درج ذیل ہیں : 
کسی قسم کے اتفاقیہ امر میں احکامِ ستر و حجاب لاگو نہ ہونگے۔ مثلاََ ہوا سے چہرہ ننگا ہو جانا یا کسی پر نظر پڑنا یا اتفاقاََ کسی مرد کا سامنے آ جانا۔ 
کسی لازمی ضرورت جیسے رشتہ کے لیے چہرہ دیکھنے کی ممانعت نہیں ۔ یا علاج کروانے کے لیے اپنے جسم کا کوئی حصہ عریاں کیا جاسکتا ہے۔ 
کسی اضطراری حالت مثلاََ پیٹ پالنے کے لیے محنت مزدور کرنے کی صورت میں پردے نہ کرنے کی گنجائش ہے، کسی حادثے کی صورت میں یا جنگ کی صورت میں بھی پردہ نہ کرنے پر مواخذہ نہیں ۔
اب جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ حالتِ احرام کا پردہ ہی اصل پردہ ہے تو ان کے لیے عرض یہ ہے کہ بعض مرتبہ شریعت کے احکام زمان اور مکان کے بدلنے سے بدل جاتے ہیں ۔ جیسے عرفہ میں ظہر و عصر کا ایک ساتھ پڑھنا اور مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کو ایک ساتھ عشاء کے وقت ادا کرنا ۔ اسی طرح شریعت نے دورانِ احرام پردے میں تخفیف کردی کہ عورت چہرے پر نقاب نہ ڈالے بلکہ کھلا رکھے ۔ جیسا کہ بخاری کی حدیث ہے کہ البتہ کسی نامحرم کے سامنے آنے پر وہ اپنے چہرے کو چھپا لے تاکہ اس جگہ بدنگاہی اور بے پردگی نہ ہو۔
قرآن و سنت کی روشنی میں یہ اندازہ لگانا قطعاََ دشوار نہیں ہے کہ '' حجاب یا پردہ '' کی اصل صورت کیا ہے اور کن حالتوں میں اس سے استثنی ہے نیز ہم جو پردہ کرتے ہیں وہ کس حد تک اسلامی احکامات سے ہم آہنگ ہے۔
اللہ تعالی ہمیں دینِ اسلام کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا کرے ۔ آمین
استفادہ 
قرآن پاک 
احکام ستر و حجاب ۔۔ مولانا عبدالرحمان کیلانی

آلات موسیقی گانا اور اسلام

2017-06-24 04:35:08 

جدید آلات والے ماڈرن ڈسکو میوزک اور سریلی آواز و دف کے ساتهہ نعت خوانی میں زمین و آسمان کا فرق ہے.
تحریر : ابو نصر میر امام یحیٰ
 اللہ سُبحانہ ُ و تعالیٰ فرماتا ہے (وَمِن النَّاسِ مَن یَشتَرِی لَہوَ الحَدِیثِ لِیُضِلَّ عَن سَبِیلِ اللَّہِ بِغَیرِ عِلمٍ وَّ یَتَّخِذَھَا ھُزُواً اُولَٰۤئک لَھُم عَذَابٌ مُّھِینٌ)(اورلوگوں میں ایسے بھی ہیں جوایسی چیزوں کو خریدتے ہیں جِن کے ذریعے بے عِلمی کے ساتھ لوگوں کو اللہ کی راہ سے بہکائیں اور اِسے ( اللہ کی راہ کو ) مذاق بنائیں یہی ہیں وہ لوگ جِن کے لیے رسوا کر دینے والاعذاب ہے ) سورت لُقمان / آیت ٦ ، اِس آیت میں فرمائے گئے اِلفاظ '' لَہوَالحَدِیث'' کی تفسیر میں عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ ُ نے تین بار فرمایا ''' ھُو الغناء والذی لا إِلہ إِلَّا ھُو، اللہ کی قسم جِس کے عِلاوہ کوئی سچا معبود نہیں اِس کا مطلب گانا ہے ''' مُستدرک الحاکم /حدیث ٣٥٤٢ /کتاب التفسیر /باب٣٢ (حدیث صحیح/تحریم آلات الطرب۔ِ ألبانی/ص۔١٤٣)

::: اورعبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہُما کا فرمان ہے ''' ھُو الغِنَا و اشباھہ ،اِسکا مطلب گانا اور اُس جیسے دیگر کام ہیں ''' مُصنف ابن ابی شیبہ /کتاب التفسیر /باب ١٣٩ ، اِس باب میں اِن دو صحابیوں کے عِلاوہ تابعین کی طرف سے بھی یہی تفسیر بیان ہوئی ہے۔
 ::::: کیا آپ کو پتہ کہ جب شیطان نے آدم کی اولاد کو بھٹکانے کےلیئے اللہ تعالیٰ سے قیامت تک مہلت طلب کی تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ( قَالَ اذْہَب فَمَن تَبِعَکَ مِنہُم فَإِنَّ جَہَنَّمَ جَزَآؤُکُم جَزَاء مَّوفُوراًo وَاستَفزِز مَنِ استَطَعتَ مِنہُم بِصَوتِکَ وَأَجلِب عَلَیہِم بِخَیلِکَ وَرَجِلِکَ وَشَارِکہُم فِی الأَموَالِ وَالأَولادِ وَعِدہُم وَمَا یَعِدُہُمُ الشَّیطَانُ إِلاَّ غُرُوراًo إِنَّ عِبَادِی لَیسَ لَکَ عَلَیہِم سُلطَانٌ وَکَفَی بِرَبِّکَ وَکِیلo) ( اللہ نے فرمایا ،جاؤ اِنسانوں میں سے جو تمہاری تابعداری کرے گا تو تم سب کی سزا جہنم ہے جو ( تم سب کے کیئے کا )پورا پورا بدلہ ہے O اِن میں سے جِسے بھی تُم اپنی آواز سے بہکا سکو بہکا لو ، اور اِن پر اپنے سوار و پیدل سب (ساتھیوں) کے ساتھ چڑھائی کر لو ، اور اِنکے مال اور اولاد میں بھی اپنی شراکت بنا لو ، اور اُن سے وعدے کر لو ، اور شیطان اِنسانوں سے جتنے بھی وعدے کرتا ہے سب کے سب فریب ہوتے ہیںo میرے ( سچے اِیمان والے ) بندوں پر تیرا کوئی قابو اوربس نہیں ، اور تیرا رب کار سازی کرنے والا کافی ہے O ) سورت الإسراء ( بنی إسرائیل ) آیات ٦٣ تا ٦٥ ، 
 اِن آیات میں اللہ تعالیٰ نے شیطان کی آواز کا ذِکر فرمایا ،اِمام القُرطبی نے اپنی تفسیر ''' الجامعُ لِاحکام القُرآن ''' میں عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما ، امام مُجاھد ( تابعی ) رحمہ اللہ کی بیان کردہ تفسیر لکھی کہ '' شیطان کی آواز ، گانا ، بانسُری اور آلاتِ موسیقی ہیں '' اور اِمام الضحاک رحمہ اللہ نے کہا ''' باجوں کی آواز ''' ، اور اِمام الآلوسی البُغدادی نے اپنی تفسیر ''' روحُ المَعانی ''' میں اِمام ابن المنذر اور اِمام ابن جریر کے حوالے سے اِمام مُجاھد کی یہی تفسیر نقل کی ۔

اللہ سُبحانہ ُ و تعالیٰ نے مُشرکین اور کافروں کی مذمت فرماتے ہوئے اِرشاد فرمایا ( أَفَمِن ہَذَا الحَدِیثِ تَعجَبُونo وَتَضحَکُونَ وَلَا تَبْکُونَ O وَأَنتُم سَامِدُونَ O ) ( کیا تُم لوگ قُران سُن کر حیران ہو رہے ہو O اور اِس پر ہنستے ہو اور روتے نہیں O اور تُم لوگ ( قُران کے مُقابلے میں گانے ) گاتے ہو O ) سورت النجم / آیات ٥٩ تا ٦١ ، 
 سامدون کامصدر ''سمود '' ہے ، عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ''' السمود ''' کی تفسیر میں فرمایا ''' السمود یمنی لُغت میں گانے کو کہتے ہیں ''' السنن الکبری للبیھقی / حدیث ٢٠٧٩٤ ،اِمام الہیثمی نے '' مجع الزوائد '' میں کہا '' یہ روایت البزار نے صحیح راویوں کے ذریعے بیان کی ہے ۔
 اِمام الآلوسی نے '' رُوحُ المعانی '' میں لکھا ''' مکہ کے کفار لوگوں کو قران سننے سے دور رکھنے کے لیئے گانے سنواتے تھے '''
 اور میں کہتا ہوں کہ ،آج تک اُن کے روحانی پیرو کار یہ کام کرتے چلے آ رہے ہیں کیونکہ :::
ہو سکتے نہیں اِک دِل میں اکٹھے ::: کلام اللہ کی مُحبت اورمُحبتِ قِیان 
 کبھی سُن لیا اِدھر اور کبھی اُدھر،کہ ::: خوش رہے رحمان،اور نہ بگڑے شیطان

اب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے اِرشادات میں سے کچھ ملاحظہ فرمائیے ، 
 ::::: ابو مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ ُ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سُنا ( لَیَکُونَنَّ مِن اُمَّتِی اَقوامٌ یَستَحَلُّونَ الحِرَ و الحَرِیرَ و الخَمرَو المَعازِفَ ) ( ضرور میری اُمت میں ایسے لوگ ہوں گے جو زِنا، ریشم اور شراب اور باجوں کوحلال کرنے کی کوشش کریں گے ) صحیح البُخاری / حدیث٥٥٩٠/ کتاب الأشربہ /باب ٦ ،شعب الإيمان (7/ 118)

::: اِس حدیث مُبارک سے دو باتیں بالکل صاف ظاہر ہو رہی ہیں :::

::::: ( ١ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلمنے تمام باجوں کا ذِکر فرمایا ہے ، اِس میں سے کِسی ایک کو بھی نکالنے کی گُنجائش نہیں ، اور ،

::::: (٢ ) یہ کہ تمام باجے ،شراب ، زنا اور ریشم کی طرح حرام ہیں ، کیونکہ اگر وہ حرام نہ ہوتے تو یہ نہ کہا جاتا کہ لوگ اُنہیں حلال کرنے کی کوشش کریں گے ، پس اِس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے بڑی وضاحت کے تمام تر آلاتِ موسیقی کو حرام قرار فرمایا ہے.

عام طور پر ''' معازف ''' اُن باجوں کو کہا جاتا ہے جِنکو چوٹ مار کر بجایا جاتا ہے ، جیسے ، ڈھول ، طبلہ طنبور وغیرہ ، ( لِسان العرب ) اور ،ملاہی کھلونوں اور موسیقی کے تمام آلات کو کہا جاتا ہے ( مُختار الصحاح ، غریب الحدیث لابن سلام، لِسان العرب ) 
 اگر کِسی کے دِل میں اِس لفظی معنی کی وجہ سے یہ خیال پیدا ہو کہ ''' حرام تو صرف معازِف کو کہا گیا ہے ، یعنی مار کر بجائے جانے والے آلاتِ موسیقی کو ، دوسری چیزوں کو تونہیں ، لہذا کچھ کی گُنجائش رہ ہی جاتی ہے ''' بلکہ کچھ کو تو یہ کہتے سُنا گیا ہے کہ ''' اُس وقت کے آلات تو اور تھے اُن سے منع کیا گیا تھا ، اب تو وہ آلات کہاں ، کِسی کا نام تو نہیں لیا گیا کہ فُلان آلہءِ موسیقی حرام ہے ''' تو ایسے مُسلمان بھائی بہنیں مندرجہ ذیل أحادیث ملاحظہ فرمائیں :::
 ::::: عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کا کہنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے فرمایا (إ ِنَّ اللَّہ َ قَد حَرَّمَ عَلیٰ اُمتِی الخَمر و المَیسَر و المزر والکُوبَۃَ و القَنِینَ و زادنی صلاۃ الوِتر ) ( بے شک اللہ تعالیٰ نے میری اُمت پر شراب اور جُوا اور مکئی کی نبیذ اور طبل (ڈھول ) اور قنین حرام کر دئیے ہیں اور ( اِنکے بدلے ) مجھے نماز وتر عطا فرمائی ہے ) سلسلۃ الاحادیث الصحیحہ/حدیث ١٧٠٨
 ''' الکُوبَۃ ''' طبل یعنی ڈھول کو کہا جاتا ہے ، اب اِس ڈھول کو کوئی بھی شکل دے دیجیئے وہ اصل میں رہے گا تو ڈھول ہی ، کوئی بھی نام دیجیئے اُسکی حقیقت تو نہیں بدلے گی ، اُسے ڈھول کہیئے یا ڈھولکی ، طبلہ کہیئے یا طبلی ، ڈرم کہیئے یا باس بیٹر ، ہے تو وہ ''' الکُوبَۃ '''، 
 اور ''' القَنِین''' ہر اُس آلہءِ موسیقی کو کہا جاتا ہے جِسکا اُوپر والا حصہ ایک ڈنڈے کی صورت میں ہوتا ہے ، لکڑی کا ہو یا کِسی دھات کا اور نیچے والا حصہ کھوکھلا اورگول یا بیضوی شکل میں ہوتا ہے اور اوپر والے حصے کے آغاز سے نیچے والے حصے کے درمیان تک ایک یا زیادہ تاریں بندھی ہوتی ہیں ،
 اب اِس دورِ جدید میں کِسی کی جمالیاتی حِس ایسے کِسی آلے کو کوئی بھی نام دے ، اِک تارا ، کہے یا دو تارا ، سارنگی کہے یا سِتار ، گِٹار کہے یا وائلن ، حقیقت تو نہیں بدلے گی ، کیونکہ نام بدلنے سے حقیقت نہیں بدلتی اور حُکم کِسی چیز کی حقیقت پر ہوتا ہے نہ کہ اُس کے نام پر ، لہذا نام بدلنے سے کوئی حرام چیز یا کام حلال نہیں ہو جاتا ، اور نہ ہی کوئی حلال حرام ہو جاتا ہے ،

لیکن ، افسوس کہ ہماری اُمت میں ایسا ہو رہا ہے کہ لوگ نام بدل کر چیزوں کو اِستعما ل کرتے ہیں اور نام کی تبدیلی کی وجہ اُن چیزوں کو حلال کرنے کی کوشش کرتے ہیں ، اِس بات کی خبر بھی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے کر دی تھی کہ ہماری اُمت میں ایسا ہو گا ،، فرمایا (یَشرَبَنَّ نَاسٌ مِن اُمتِی الخَمرَ یَسُمُّونَھَا بِغَیرِ اِسمِھَا یُعزَفُ عَلیٰ رُؤُسَھَم بِالمَعازِفِ و المّغَنِّیاتِ یَخسِفُ اللَّہُ بِھِمُ الاَرضَ و یَجعَلُ مِنھُمُ القِردۃَ و الخَنَازِیرَ )( ضرور میری اُمت میں لوگ شراب کو (حلال کرنے کے لیے اُسے) کوئی اور نام دے کر پیئیں گے ،( وہ لوگ ایسے ہوں گے کہ ) اُن کے پاس باجے بجائیں جائیں گے اور گانے والیاں گایا کریں گی ، اللہ تعالیٰ اُنہیں زمین بوس کرے گا اور اُن میں سے بندر اور سور بنا دیئے جائیں گے ) یہ اِلفاظ اِمام النسائی نے اپنی سْنن میں نقل کیئے ہیں ، جبکہ اِس حدیث کو اِلفاظ کے کُچھ فرق سے مْختلِف صحابہ سے اِمام الطبرانی ، اِمام الدارمی ، اِمام الحاکم ، اِمام ابو داؤد ، اِمام ابنِ ماجہ نے اپنی اپنی کِتابوں میں نقل کیا ہے اور م الالبانی سلسلہ الاحادیث الصحیحہ حدیث نمبر ٩١ کی تحقیق میں اِس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے ، 
 لہذا اب اگر شراب کو کوئی اور نام دے کر پیا جا ئے تو وہ شراب ہی رہتی ہے ، آبِ جو ، انگور کی بیٹی ، سیب کا رس وغیرہ کہنے سے اْس کی حقیقت نہیں بدلتی ، اور اِسی طرح موسیقی اور گانا ہے ، اُسے روح کی غذا ، ذہنی سکوں کا سبب ، دُکھے دِل کا چین یا کُچھ بھی کہا جائے ، ہے تو وہی جِسے اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے حرام قرار دِیا ہے.

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ُ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے فرمایا ( الجرسُ مِزمار الشیطان ) ( گھنٹی شیطان کی بانسُری ہے ) مستدرک الحاکم / حدیث ١٦٢٩ ، صحیح ابن حبان /حدیث ٤٧٠٤
 ::::: أنس رضی اللہ عنہ ُ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے فرمایا ( لَیَکُونَنَّ فی ھذہِ الاُمۃِ خَسفٌ ، و قذَفٌ ، و مَسحٌ ، و ذَلِکَ إِذا شَربُوا الخَمور َ ، و اتَّخَذُوا القَینَاتِ ، وضَربُوا المعازِفِ ) ( (میری ) اِس اُمت میں بھی یقینا زمین میں دھنسنے اور پتھر برسنے اور شکلیں بدلنے کے واقعات ہوں گے ، اور یہ اُسوقت ہو گا جب لوگ شرابیں پینے لگیں گے ، اورگانے والیوں کوزندگی کا جُز بنا لیں گے اور باجے بجانے(بجوانے ) لگیں گے ) سلسلہ الأحادیث الصحیحہ / حدیث ٢٢٠٣ ( قینات ، قین سے ہے اور القینۃُ یعنی گانے والے عورت ، کی جمع ہے ، لِسان العرب ) ، 
 رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے اِس ارشاد گرامی سے جہاں یہ پتہ چلتا ہے کہ گانا بجانا بھی شراب خوری کے جیسا حرام کام ہے وہاں یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ اِس کی دُنیا میں بھی کیا سزا مل سکتی ہے ، اللہ تعالیٰ ہر مُسلمان کو ہر گُناہ سے بچنے کی توفیق عطاء فرمائے ۔
 دورِ جدید میں اب کیسٹس ، سی ڈیز ، ڈی وی ڈیز ، اور ایم پی تھری ،فور پلئیرز اور کئی دیگر آلات کے ذریعے گانے والیاں اور گانے والے ہر جگہ موجود ہیں ، ہم مسلمانوں کی شاید ہی کوئی ایسی جگہ ہو جِسے ہم نے شیطان کی آواز سے بچائے رکھا ہو ، اللہ ہی ہے کہ اپنی خاص رحمت سے ہمیں اِن عذابوں سے بچائے رکھے ورنہ ہم نے تو کوئی کسر نہیں چھوڑ رکھی کہ ہم پر یہ عذاب آن پڑیں،
تو پھر کیوں نہ کہوں کہ ::: 
سُن کر حُکمِ الہی اور قولِ رسولِ کریم ::: اگر رہے باقی گانے بجانے کا ارمان
پھرذرا ٹٹول کر دیکھ تو اُسے کتنا ہے ::: جو بچ رہا ہے اُس دِل میں اِیمان
 گو کہ کِسی معاملے کا شرعی حُکم جاننے کے لیئے، اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے ارشادات اور صحابہ رضی اللہ عنہم کی بیان کردہ تفسیر کے بعد کِسی اِیمان والے کو کِسی اور چیز کی ضرورت نہیں رہتی ، لیکن دوسری پارٹی بھی تو اپنا کام کر رہی ہے ، اور ہر معاملے میں طرح طرح کے فلسفے بنا کر مُسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش میں ہے ، پس اِس معاملے میں بھی ، جمالیاتی حس ، ذوقِ جمال ، اباحیتِ اجزاء وغیرہ جیسے فلسفوں کے ذریعے موسیقی اور گانے کو حلال بلکہ ضرورت ثابت کرنے کی کوشش ہوتی چلی آرہی ہے، لیکن اللہ کی مہربانی سے ہر دور میں اللہ کے ایسے بندے رہے ہیں جِنہوں نے اِن باتوں کا مکمل علمی جواب دیا ہے !

 

 

کثرت ازدواج - کیا عورت کی حق تلفی ہے؟

2017-06-23 07:20:58 

آج ہمارے معاشرے معاشرے میں ترقی پسندیدیت اور روشن خیالی کے نام پر ایسے بہت سے رحجانات مقبولیت اختیار کر چکے ہیں جو کہ براہِ راست اسلام کی تعلیمات سے متصادم ہیں۔ ان میں اسے ایک اہم مسئلہ کثرتِ ازداج بھی ہے بلکہ پاک و ہند کے مخصوص معاشرتی پس منظر کی وجہ سے یہ ایک Taboo کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ کچھ دن پہلے ایک خاتون کی جانب سے ایک نہایت جذباتی تحریر پڑھنے کا اتفاق ہوا جسمیں خاتون اپنے احساسات اور جذبات کی دہائی دیتے ہوئے تحریر کرتی ہیں کہ ۱-'' جس فرد کے ساتھ زندگی گزارنے کے حسین خواب دیکھے ہوں تو اس کی محبت میں کسی اور کی شراکت کیونکر برادشت کی جا سکتی ہے؟'' ۲-آگے چل کر مذید فرماتی ہیں کہ '' انہیں تاریخ سے کثرت ازدواج کی مثال نہ دی جائے اور نہ ہی بزرگوں میں تعداد ازدواج کا بتایا جائے کیونکہ یہ سراسر مردانہ بالادستی ہے جس کے ذریعے مرد ان بزرگوں کی آڑ لیتے ہوئے عورتوں کے ساتھ حق تلفی اور نا انصافی کرتے ہیں''۔ ۳-مزید آگے چل کر کہتی ہیں کہ '' جب مرد یہ برداشت نہیں کر سکتے کہ آپ کے نام کی مہر لگی ہوئی خاتون کو کوئی اور دیکھے تو خود ایسا کیوں کرتے ہیں؟؟ '' ۱- ایک خاتون ہونے کے ناطے میں اچھی طرح سمجھتی ہوں کہ تخلیقِ صنف نازک میں اللہ سبحان تعالی نے جذبات و احساسات کی فراوانی رکھی ہے۔ لیکن جذبات و احساسات کی فروانی کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ وہ کمزور ہے۔ ارشادِ باری تعالی ہے '' الذی خلقکم من نفس واحدۃ '' یعنی مرد اور عورت کو ایک ہی نفس سے پیدا کیا۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ خلقی اعتبار سے مرد و زن برابر ہیں اور انہیں ایک ہی قسم فکر، ارادوں ، صلاحتوں، طاقتوں اور جذبات کے ساتھ پیدا کیا۔ اگر کوئی بات کسی مرد کے لیے پسندیدہ ہے تو اسے عورت بھی پسند کرسکتی ہے اور اگر کوئی بات ناپسندیدہ ہے تو یہ عورت بھی اسے نا پسند کر سکتی ہے۔ عورت میں جذبات کی فروانی ہی جو کہ اسے اسے سردیوں میں اپنے شیرخوار کی گیلی جگہ پر سلاتا ہے، اپنوں کو کسی تکلیف یا مشکل میں دیکھتے ہوئے اپنے جذبات و ضروریات کو ایک طرف رکھتے ہوئے ان کے لیے ایثار و قربانی کرنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ یہی جذبہ ہے جو اسے ہر مشکل اور کٹھن صورتحال میں مردانہ وار مقابلہ کرنے کی جرات دیتا ہے۔ ہم عام مشاہدہ کر سکتے ہیں کہ ایک بیوہ عورت کسی قسم کے وسائل نہ ہونے کے باوجود اپنے بچوں کی خاطر دوڑ دھوپ کرنے گھر سے باہر نکل آتی ہے اور ہر مشکل کا مقابلہ کرتی ہے۔ لیکن اگر انہیں جذبات کو عورت اپنی کمزوری بنا لے تو تحریر کرنے والی خاتون کی کیفیت پیدا ہوتی ہے۔ جب کوئی عورت کسی سے شادی کرتی ہے تو وہ مرد بلا شرکتِ غیرے صرف اسی کا ہی نہیں ہوتا۔ بلکہ اس کا ''کچھ'' بننے سے پہلے بہت سے رشتوں سے جڑا ہوتاہے۔جب ہم ان رشتوں کے ساتھ اپنے شوہر کی شرکت گوارا کر لیتے ہیں تو پھر کسی دوسری عورت کے ساتھ کیوں نہیں ؟؟ کسی بھی چیز میں کسی دوسرے کی'' شراکت ''مشکل ضرور ہوتی ہے لیکن بعض صورتوں میں '' لازمی '' ہو جاتی ہے۔ ایک عورت کے لیے یہ اتنا مشکل کام نہیں ہے جتنا میری بہن نے اپنے جذباتی پن کی وجہ سے بیان کیا ہے۔ ۲- ایک مسلم خاتون ہونے کے ناطے ہمارے لیے یہ سمجھنا بہت ضروری ہے کہ اگر اللہ تعالی نے مردوں کو چار شادیوں کی اجازت دی ہے تو اس کی وجہ کیا ہے؟؟؟ کیا اس کی وجہ مردوں کی بالا دستی ہے ؟؟؟ اور زیادہ شادیاں کرنے سے خواتین کی حق تلفی ہوتی ہے؟؟ '' مرد دوسری خواتین میں دلچسپی کیوں لیتا ہے ؟'' کے حوالے سے ایک ریسرچ پڑھی جو کہ درج ذیل نکات پر مشتمل تھی۔ - مرد حیاتیاتی نقطہ نظر سے خلقی طور پر خواتین کی طرف کھینچتا چلا جاتا ہے اور کھینچنے والی قوت جنسی تسکین کی خواہش ہوتی ہے۔ - عورتوں کی نسبت مرد آسانی سے آمادہ رومان ہو جاتے ہیں اور فریق مخالف سے ہر قیمت پر وابستہ رہنا چاہتے ہیں۔ اس کی ظاہری وجہ قدرتی کیمیکل '' پی ای اے '' ہے جو خواتین کی نسبت مردوں پر زیادہ اثر انداز ہوتا ہے۔ - مردوں میں حیاتی کیمیائی مادہ '' ٹیسٹرون'' عورتوں کی با نسبت دس سے بیس گنا زیادہ پایا جاتا ہے جو ان کی جنسی خواہش کو بڑھاتا ہے۔ اسکے علاوہ اگر ہم دنیا کی آبادی کا جائیزہ لیں تو مرد و زن کی تعداد قریب قریب برابر ہوتی ہے لیکن کچھ معاشروں میں مردوں کی تعداد زیادہ ہوتی ہے اور کچھ میں عورتوں کی ۔ طبی ریسرچیز کہتی ہیں کہ بچیوں کی قوتِ مدافعت لڑکوں کی نسبت زیادہ ہوتی ہے ۔ اسلیے لڑکوں کی نسبت لڑکیاں کی تعداد زیادہ ہوتی ہیں ۔ اس کے علاوہ دنیا بھر میں ہونے والے مختلف حادثات اور جنگوں میں مرنے والے افراد میں زیادہ تر مرد حضرات ہوتے ہیں ، تو لازمی بات ہے کہ معاشرے میں عوتوں کی تعداد میں اضافہ ہو جائے گا۔ اس کے علاوہ بعض جگہوں پر عورتوں کی تعداد مردوں کی نسبت زیادہ ہوتی ہے۔ چونکہ عورت صنفی اعتبار سے نازک اور جذباتی واقع ہوئی ہے تو لامحالہ عورت کو ایک مرد کے معاشی و جذباتی سہارے کی ضرورت ہے تو بیوہ خواتین یا جن معاشروں میں عورتوں کی تعداد زیادہ ہوگی وہاں کی عورتیں کس سے سہارا طلب کریں؟؟ اور سہارا نہ ہونے کی صورت میں اپنے جذبات کی بدولت کیا برائی کی طرف مائل نہ ہونگی؟؟؟ اب ایک فطری طلب کو اور بعض صورتوں میں معاشرتی محبوری کو '' بالادستی '' کا نام دینا جائیز ہے یا ناجائیز؟؟ فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے۔ اب بات کرتے ہیں کثرت ازدواج کے متعلق احکام کی ۔۔۔ اگر ہم دنیا کے مختلف مذاہب کا جائیزہ لیں تو یہودیت، عیسائیت سمیت ہندو مت میں بھی کثرتِ ازدواج کا رواج ملتا ہے بلکہ ایک ساتھ دو بہنوں کو بیویاں بنانے کا رواج بھی ملتا ہے اور تعداد میں کسی قسم کی پابندی نہیں ملتی ۔ یہودیوں نے کثرت ازدواج پر ۱۹۵۰ء میں پابندی لگائی اسی طرح عیسائیت میں بھی کتھولک فرقہ ایک شادی پر سختی سے عمل درآمد کرواتا ہے، اسی طرح ہندوستان میں بھی کثرت ازدواج پر پابندی ۱۹۵۴ء میں لگائی گئی۔ اب اگر ہم اسلام میں کثرتِ ازدواج کے بارے میں فرمانِ الہی دیکھیں تو سورہ النساء کی آیت ۳ کا ترجمہ ہے : ''اور اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ تم یتیم لڑکیوں کے بارے میں انصاف نہ کر سکو گے تو ان عورتوں سے نکاح کرو جو تمہارے لیے پسندیدہ اور حلال ہوں ، دو دو اور تین تین اور چار چار [ مگر یہ اجازت بشرطِ عدل ہے ]، پھر اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ تم [ زائد بیویوں میں ] عدل نہ کر سکو گے تو صف ایک ہی عورت سے [ نکاح کرو] یا وہ کنیزیں جو [ شرعاََ ] تمہاری ملکیت میں آئی ہوں ، یہ بات اس سے قریب تر ہے کہ تم سے ظلم نہ ہو۔ '' اس حکم کے ذریعے اللہ تعالی نے شادیوں کی تعداد کی حد مقرر کردی ، جبکہ دیگر مذاہب میں ایسی کوئی پابندی نہیں تھی۔ اور ساتھ ہی شرط بھی عائد کردی '' عدل '' کی اور کہا کہ اگر عدل نہ کر سکو تو صرف ایک ہی عورت سے نکاح کرو۔ اسی صورت میں آگے آیت ۱۲۹ میں مردوں کو ان کی فطرت کے بارے میں بتا کر انہیں تنبیہہ کی گئی ترجمہ : '' اور تم ہرگز اس بات کی طاقت نہیں رکھتے کہ [ ایک سے زائد ] بیویوں کے درمیان [ پورا پورا ] عدل کرسکو اگرچہ تم کتنا بھی چاہو۔ پس [ ایک کی طرف ] پورے میلان طبع کے ساتھ[ یوں] نہ جھک جاو کہ دوسری کو [درمیان] میں لٹکتی ہوئی چیز کی طرح چھوڑ دو۔ اور اگر تم اصلاح کر لو اور [حق تلفی و زیادتی] سے بچتے رہو تو اللہ بڑا بخشنے والا نہایت مہربان ہے۔ '' دونوں آیات سے واضح ہو جاتا ہے کہ دوسری شادی ایک لازمی حکم نہیں ہے [ جیسا کہ بعض مرد کہتے ہیں ] بلکہ مرد کی فطرت کو دیکھتے ہوئے یہ ایک شرائط اور تنبیہہ کے ساتھ دی جانے والی اجازت ہے اور ضابطہ ہے ۔ اگر ہمارے معاشرے میں رائج جاہلانہ جہالت کے سبب ایک مرد ایک سے زائد شادیاں کرتا ہے اور ان کے درمیان انصاف کے تقاضے پورے نہیں کرتا تو وہ اس کا جوابدہ ہے۔ نہ صرف اللہ کو بلکہ اسکی بیوی اور معاشرہ اسلام کے واضح حکم کے تحت اس سے جواب طلب کر سکتا ہے۔ جس کا کہ ہمارے معاشرے میں بالکل بھی رواج نہیں ۔ اس میں قصور اسلام کا نہیں بلکہ ہمارا ہے جنہیں نہ تو اپنے فرائض کا علم ہے اور نہ ہی حقوق کا۔۔۔ بس الزام سیدھا مذہب پر دھر دیتے ہیں ۔ ایسے میں یہ کہنا کہ مرد کو ایک سے زائد شادیوں کی اجازت دینا بیوی کی '' حق تلفی '' تو اس کے اس جاہلانہ رویہ پر افسوس ہی کیا جاسکتاہے۔ ۳- تیسری بات جو کہ بہن نے کی اگر مرد یہ برداشت نہیں کر سکتے کہ ان کے نام سے منسوب عورت کو کوئی دیکھے تو خود ایسا کیوں کرتے ہیں؟؟ مرد خود سے منسوب عورت کے لیے کسی اور کا دیکھنا برداشت نہیں کرتے تو یہ بھی ان کی فطرت میں شامل ہے۔ تاریخ عالم پر نظر دوڑا لیں لا تعداد ایسی جنگوں ، قتل و غارت کی داستانیں مل جائیں گی جس کی بنیادی وجہ عورت کی وجہ سے ہونے والی رقابت بنی۔ جہاں تک رہ گیا کہ '' خود کیوں ایسا کرتے ہیں '' تو جب مرد کی فطرت میں عورت کی طرف میلان زیادہ ہے اور اس پر معاشرے میں آزادنہ مرد و زن کا اختلاط عام ہوگا تو ظاہر ہے مرد اپنی فطرت کی وجہ سے ایسا تو کرے گا۔ اب یا تو ترقی پسندیدیت اور روشن خیالی کے نام پر ہونے والے آزادانہ اختلاط پر پابندی لگائیں یا مرد کی فطرت کو برداشت کریں ۔ کہ اسی روشن خیالی اور ترقی پسندیدیت کی دین ہے کہ ہمارے ہاں عورت کا گھر رہنا ایک '' قید '' کے مترادف سمجھا جانے لگا ہے۔ ہمارے معاشرے میں ترقی پسندیدیت اور روشن خیالی کی بدولت آزادانہ اختلاطِ مرد و زن بڑھ گیا ہے جس کی وجہ سے صنفی خواہش اور تلذذ کو بھڑکانے کے عوامل اور محرکات میں اضافہ ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مرد اپنی بیوی کے علاوہ دوسری خواتین سے تعلقات بڑھانے میں عار محسوس نہیں کرتا لیکن ان تعلقات کو قانونی شکل دینے سے کتراتا ہے کیونکہ ہمارے معاشرے میں رائج چلن اس کے لیے بہانے کا کام کرتے ہیں ۔ اور وہ پہلی بیوی کے ردِ عمل کا۔ یہ اسی روشن خیالی اور ترقی پسندیدیت کی ہی دین کہ معاشرے میں '' نکاح '' سے زیادہ '' زنا عام ہوگیا ہے۔ ناجائیز بچوں کی شرح میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ نکاح کی صورت میں مرد پابند ہو جاتا ہے عورت اور اسکے ہونے والے بچوں کے نان و نفقے کا۔ اور مرد انہیں ذمہ داریوں سے فراریت کے لیے پہلی بیوی کو بطور ہتھیار استعمال کرتے ہیں اور ہم مسلم بیویاں اسلام کے دیئے گئے احکام کو سمجھے بغیر دوسری شادی میں رکاوٹ بن جاتی ہیں اور معاشرے میں '' زنا '' کے اضافے کا سبب بنتی ہیں اور اللہ تعالی کی نافرمانی کی موجب بھی ٹھہرتی ہے۔ معاشرے میں '' زنا '' کے عام ہونے سے بہتر ہے '' نکاح '' عام ہو جائے ۔ اسی میں خیر کا پہلو ہے۔ اللہ تعالی ہمیں دینِ اسلام کو سمجھنے اور عمل کرنے کی توفیق عطا کرے ۔ آمین 

پردہ" جو عقل پر پڑ گیا"

2017-06-23 07:24:01 

عام طور پر حجاب کا لفظ '' نقاب '' کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے ۔حجاب کا لفظ عربی زبان کے لفظ حجب سے نکلا ہے جسکے معنی ہیں کسی کو کسی چہرہ تک رسائی حاصل کرنے سے روکنا۔ آجکل حجاب کی اصطلاح صرف سر پر اسکارف لینے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ عموماََ '' حجاب یا پردہ '' کو مسلمانوں سے منسوب کیا جاتا ہے جبکہ اگر ہم تاریخ کا جائیزہ لیں تو اس کا استعمال قدیم زمانے سے ہی چلا آرہا تھا۔ پردے کا رواج آشوریوں، بابلیوں، میسوپوٹیمیا، سومریوں، اور قدیم یونان میں بھی پایا جاتا تھا۔ گھر سے باہر نکلتے وقت خواتین سر ڈھانپا کرتی تھیں ۔ سر کو کھلا چھوڑنا ایک کبیرہ گناہ سمجھا جاتا تھا اور اس کی خلاف ورزی کرنے والی عورت کو سخت سزا دی جاتی تھی۔ عبرانی زبان میں لفظ حجاب '' ھتصاعیف'' کا مترادف ہے اور اصطلاحاََ ایسی چادر کو کہتے ہیں جو بد ن اور بلخصوص سر کو چھپاتی ہو۔ تلمود یہودی خواتین پر حجاب فرض کرتا ہے جس کے بغیر انہیں باہر نکلنے کی اجازت نہیں اور شوہر کو یہ حق دیتا ہے کہ خلاف ورزی کرنے پر اپنی بیوی کو طلاق دے دے۔ یہودی علماء کے نزدیک عورت کا سر ننگا کرنا ایسا ہی گویا اس نے اپنے جنسی اعضاء نمایاں کیے ہوں۔ یہودی شریعت میں نمازیں اور دعائیں کسی ننگے سر کی عورت کی موجودگی میں قبول نہیں ہوتیں کیوں کہ اسے عریانیت سمجھا جاتا تھا اور ننگے سر کے جرم کے پاداش میں جرمانہ تک کیا جاتا تھا۔ اس کے برعکس فاحشاوّں اور طوائفوں کو یہودی معاشرے میں سر ڈھانپنے کی اجازت نہیں تھی تاکہ آزاد اور غلام عورت میں فرق کیا جاسکے۔ مسیحیت میں بھی اسی قسم کے حجاب کی تائید کی گئی ہے ۔ بائبل میں حجاب کے لیے مترادف لفظ '' peplum '' کا ذکر ہو اہے جسکے معنی ایسی چادر یا رداء کے ہیں جس کو عورت اپنے سر پر اس طرح رکھتی ہے کہ جیسے یونانی عورتیں رکھتیں تھیں اور یہ بدن کے ساتھ ساتھ چہرے کو بھی چھپاتی تھی اور صرف آنکھیں نظر آتیں تھیں۔ آج بھی اگر راہبہ کو دیکھا جائے تو وہ سر تا پاوں ملبوس نظر آتی ہے اور اسی طرح عام مسیحی عورتیں بھی کچھ عرصہ پہلے تک ملبوس نظر آتیں تھیں اور سر کو باقاعدہ ڈھانپتی تھیں۔ آج بھی چرچوں میں حضرت مریم کا جو مجسمہ بنایا جاتا ہے اسمیں چہرہ کے علاوہ پورا جسم ڈھکا ہوتا ہے۔ میسوپوٹیمیا میں بھی عزت دار خواتین پردہ کیا کرتی تھیں اور طوائفوں کو پردہ کرنا منع تھا تاکہ دونوں کے درمیان امتیاز ہوسکے۔ یونان کے ابتدائی دور میں پردے اور نکاح کا رواج تھا اور مردان خانے اور زنان خانے الگ الگ تھے۔ ہندووں میں اگر پردے کا جائیزہ لیا جائے تو وہاں بھی پردے کی اہمیت رہی ہے۔ سیتا کا مشہور واقعہ ہے جب راون نے اسے اغوا کیا تھا تو رام جی کے چھوٹے بھائی لکشمن سیتا کو پہچان نہ سکے تھے کیوں کہ انہوں کے کبھی اپنی بھاوج کی صورت نہیں دیکھی تھی۔ ہندو سماج میں اونچی ذات کی عورتیں پردہ کیا کرتی تھیں۔ اب بھی مارواڑیوں ، کائستوں ، پرانی وضع کے برہمن خاندانوں اور راجھستانیوں میں گھونگٹ نما پردے کا رواج ہے۔ حتی کہ زرتشت کی کتاب '' اوستا'' کے باقیات میں عورتوں پر حجاب واجب اور نامحرم کی طرف دیکھنا حرام ہے۔ اگر دینِ اسلام کا جائیزہ لیا جائے تو اسمیں بھی '' پردے '' کو خصوصی اہمیت حاصل ہے لیکن اسے ادنی و اعلی کی تمیز کے بغیر سب خواتین کے لیے لازمی قرار دیا گیا۔ جیسا کہ قرآن پاک میں سورہ نور آیت ۳۱ میں ارشاد ہے ترجمہ : اور ایمان والیوں سے کہہ دو کہ اپنی نگاہ نیچی رکھیں اور اپنی عصمت کی حفاظت کریں اور اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں مگر جو جگہ اس میں سے کھلی رہتی ہے، اور اپنے دوپٹے اپنے سینوں پر ڈالے رکھیں، اور اپنی زینت ظاہر نہ کریں مگر اپنے خاوندوں پر یا اپنے باپ یا خاوند کے باپ یا اپنے بیٹوں یا خاوند کے بیٹوں یا اپنے بھائیوں یا بھتیجوں یا بھانجوں پر یا اپنی عورتوں پر یا اپنے غلاموں پر یا ان خدمت گاروں پر جنہیں عورت کی حاجت نہیں یا ان لڑکوں پر جو عورتوں کی پردہ کی چیزوں سے واقف نہیں، اور اپنے پاؤں زمین پر زور سے نہ ماریں کہ ان کا مخفی زیور معلوم ہوجائے، اور اے مسلمانو! تم سب اللہ کے سامنے توبہ کرو تاکہ تم نجات پاؤ۔ سورہ احزاب آیت ۵۹ کا ترجمہ ہے : اے نبی اپنی بیویوں اور بیٹیوں اور مسلمانوں کی عورتوں سے کہہ دو کہ اپنے مونہوں پر نقاب ڈالا کریں، یہ اس سے زیادہ قریب ہے کہ پہچانی جائیں پھر نہ ستائی جائیں، اور اللہ بخشنے والا نہایت رحم والا ہے دیکھا جائے تو '' حجاب یا پردہ '' ہر تہذیب و تمدن میں اشرافیہ خواتین کے لیے عزت و وقار کی علامت رہا ہے ، جسے دینِ اسلام نے بلا تخصیص عام و خاص کے لیے لازم قرار دیا۔ وقت کے ساتھ ساتھ دیگر تہذیب اور مذاہب نے اسے ترک کردیا لیکن مسلم معاشروں میں آج بھی پردہ کی روایت زندہ ہے گو کہ اس میں خاصی کمی واقع ہو گئی ہے لیکن اسے مکمل طور پر ترک نہیں کیا گیا ۔ آج پردے کو صرف مسلمانوں سے منسوب کر دیا گیا ہے اور اس بناء پر انہیں توہین و تضحیک کا نشانہ بنایا جاتا ہے انہیں دقیانوسی اور اجڈ کہہ کر پکارا جاتا ہے تاکہ معاشرے میں بےشرمی اور بےحیائی کو فروغ حاصل ہو، خاندانی نظام اور اسلامی اقدار کا خاتمہ کیا جاسکے۔ ذہن میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب پردہ ہر تہذیب و معاشرت اور مذہب کا حصہ رہا ہے تو اس کا خاتمہ کیوں کر ممکن ہوا؟؟ موجودہ مغربی تہذیب کی بنیاد کا جائیزہ لیا جائے تو اس کی بنیاد صرف اور صرف مادہ پرستی پر رکھی گئی ہے۔ اسمیں صرف اس فرد کو اہمیت حاصل ہے جو کہ کسی نہ کسی طور پر فائدہ مند ہو۔یہی وجہ ہے کہ جب صنعتی ترقی کی بدولت افرادی قوت میں کمی کے باعث عورتوں کو گھر سے باہر نکالنے کا فیصلہ کیا گیا۔ ترغیب دینے کے لیے نعرہ لگایا گیا '' آزادی نسواں اور مردوں کے برابر حقوق '' کا ۔ لیکن آزادی نظر آئی تو صرف عریانیت کی شکل میں، آزادی نظر آئی تو صرف مرد و زن کے آزادانہ اخطلاط میں ، آزادی ملی تو صرف بدکاری کو، آزادی ملی تو صرف مردوں کو اپنے فرائض سے ادائیگی کی۔ آزادی کے نام پر عورت کوتنہا کردیا گیا، اسے ہر ایک کے لیے سہلِ حصول بنا دیا گیا ہے، معاشی آزادی کے نام پر اسے کولہو کا بیل بنا دیا گیا ہے ، ضرورتِ زندگی کی تکمیل کے لیے اسے پست ترین ملازمت تک اختیار کرنی پڑتی ہے اور آسان ترین جاب '' سیکس ورکر '' کی ہے۔ عموماََ سترہ سال کی عمر کے بعد باپ اور اہلِ خانہ اس کے مصارف برداشت کرنے کے پابند نہیں ہوتے اس لیے اپنے لیے کام تلاش کرنا پڑتا ہے۔ شادی کے بعد اسے مساوی حقوق کی وجہ سے شوہر کے شانہ بشانہ گھر کے اخراجات کے لیے ملازمت کرنا پڑتی ہے حتی کہ وہ بوڑھی ہوجائے اور اسکے بچے مالدار ہوں تب بھی اسے اپنے اخراجات خود کرنے پڑتے ہیں۔ عورت کا کام صرف تکمیل شہوات ہے، اس کا نتیجہ یہ ہے کہ وہ نہ اولاد کی تربیت کر سکتی ہے اور نہ ہی اولاد اس کا احترام کرتی ہے ۔ سو اہلِ مغرب کا پورا خاندانی نظام مفلوج و منتشر ہے۔ عورت کی بے پردگی نے مغرب کو صرف اور صرف اخلاقی پستی کی آزادی دی ہے۔ اہلِ مغرب اس بات پر فخر کرتے ہیں کہ انہوں نے دنیا کو '' آزادی '' کا تحفہ دیا ہے جسمیں ہر فرد کو اظہارِ خیال کی اپنی تہذیبی اور ثقافتی شناخت کے ساتھ رہنے کی اور اپنے مذہب پر عمل کرنے کی اجازت ہے اور اور کسی پر کوئی رائے زبردستی نہیں تھوپی نہیں جا سکتی۔ لیکن عالم اسلام پر اس کا دباو ہے کہ وہ اپنے ہاں خواتین کومغربی تہذیب و تمدن کے مطابق زندگی گزارنے کی اجازت دیں ۔کیایہ ان کی مروجہ آزادی کی اصل روح کے منافی اقدام نہیں ہے؟؟ اہلِ مغرب میں شاید آزادی کا حقییقی مفہوم فرد کو اخلاقی اور مذہبی قدروں سے آزاد کرنا ہے نہ کہ آزادی سے ہمکنار کرنا ۔ اس لیےاہلِ مغرب مسلمانوں کو ان کی مذہبی شناخت سے محروم کرنے اور خواتین کی آزادی کے نام پر پردے کے خلاف نہ جانےکیسی کیسی مہم چلاتا رہتا ہے۔ سوچا جائے تو بے پردگی یا عریانیت اس دور کی یادگار ہے جب انسان تہذیب و تمدن اور شعور سے انجان برہنہ گھوماکرتا تھا۔ جب اس نے تہذیبی و تمدنی ترقی کی تو اپنے بدن کو ڈھانپا۔ آج اسی ''ترقی'' کے نام پر انسان برہنگی پر اتر آیا ہے۔ یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ''پردہ '' علامت ہے عورت کے وقار کا ، حیا کا ، نسوانیت کا ، اعلی اخلاق و کردار کا ۔ اسے کسی قسم کی '' قید'' سے منسوب کرنا بالکل غلط ہے۔ دینِ اسلام عورت کی عزت و آبرو کا تحفظ چاہتا ہے اسلیے اسے '' پردہ '' کرنے کا حکم دیتا ہے۔ اللہ تعالی ہمیں دینِ اسلام کا کی تعلیمات پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین

جزیہ پر اعتراض کا جواب

2017-06-23 14:58:42 

 جزیہ ایک ٹیکس ہے جو اسلامی مملکت کے غیر مسلم شہریوں سے وصول کیا جاتا ہے ۔جو اسلامی مملکت کی بالادستی کو قبول کرتے ہوئے ایک پر امن شہری کی طرح وہاں آباد ہونے کا معاہدہ کریں ۔دشمنان اسلام نے جزیہ کی وجہ سے اسلامی نظام سیاست پر اعتراضات کی بوچھاڑ کی ہےاور اسلام کے بارے میں لوگوں کے ذہنوں میں غلط تصورات پیدا کرنے کی مساعی ناپاک کی ہے۔اس لیئے یہ ضروری ہے کہ جزیہ کے متعلق زرا تفصیل سے لکھا جائے تاکہ معترضین کے اعتراضات کی حقیقت طشت از بام کی جا سکےاور اسلام کے اس بے لاگ انصافی کے نظام کے متعلق شکوک و شبہات کا ازالہ کیا جا سکے۔ اسلامی مملکت کے باشندوں کوہم دو حصوں میں تقسیم کر سکتے ہیں ٭مسلم رعایا ٭ غیر مسلم رعایا غیر مسلم رعایا کی بھی آگے دو قسمیں ہیں ۔ ایک وہ جنہوں نے جنگ کیئے بغیر صلح کی اور صلح نامے کے مطابق اسلامی مملکت کی شہریت قبول کر لی اور دوسرے وہ جنہوں نے جنگ میں شکست کھانے کے بعد گھٹنے ٹیکے اور اسلامی مملکت میں پر امن شہری کے طور پر سکونت پذیر ہو گئے ۔ان دونوں قسموں کو آسانی سے ہم اہل ذمہ کے نام سے موسوم کر سکتے ہیں ۔ مملکت اسلامیہ میں سکونت پذیر ان تینوں طبقات کی جان ومال عزت و آبرو کی حفاظت کی مکمل ذمہ داری اسلامی حکومت پرعائد ہوتی ہے ۔یہ ذمہ داری صرف قول کی حد تک نہین بلکہ عملی طور پر اس سے عہدہ برآ ہونا اسلامی حکومت کا دینی فریضہ ہے۔ غیر مسلم رعایاکی جان و مال اور عزت و آبرو کی حفاظت کے لیئے ہادی برحق ﷺ نے جو تاکیدی ارشادات فرمائے ان کی فصاحت و بلاغت اور زور بیاں سے پتھر دل بھی پسیج جاتے ہیں اور رعونت سے اکڑی گردنیں جھک جاتی ہیں ۔
ان ان گنت فرامین میں سے چند ایک درج ذیل ہیں :۔
٭ ایک دفعہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے ایک صحابی حضرت عبد اللہ بن ارقم رضی اللہ عنہ کو اہل ذمہ سے جزیہ وصول کرنے کو بھیجا ۔ جب وہ بارگاہ رسالت سے رخصت لے کر روانہ ہوئے تو نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والتسلیم نے انہیں اپنے پاس بلایا اور ارشاد فرمایا:۔ "اے عبد اللہ ! ! جس نے بھی کسی معاہد (اہل ذمہ) پر ظلم کیا، یا اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف دی ،یا اسے نقصان پہنچایا، یا اس کی رضامندی کے بغیر اس کی کوئی چیز لی تو قیامت کے روز میں اس کا گریبان پکڑوں گا ۔"
(کتاب الخراج امام ابو یوسف یعقوب بن ابراہیم ص 150)
غور فرمایئے جو شخص حضور اکرم ﷺ کو اپنا نبی اور ہادی تسلیم کرتا ہے کیا وہ برداشت کر سکتا ہے کہ وہ ایسے جرم کا ارتکاب کرے جس کے باعث روز قیامت شفیع المذنبین ﷺ اس کا گریبان پکڑ کر اللہ عزوجل کی بارگاہ میں پیش کریں۔اس سے بلیغ تر اسلوب ناممکن ہے ۔
٭ حضرت نافع حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ "آپ نے بتایا کہ رسول اللہ ﷺ نے دنیا سے انتقال فرماتے ہوئے جو آخری بات فرمائی وہ یہ تھی کہ میں نے جن لوگوں کی جان و مال عزت و آبرو کی حفاظت کی ذمہ داری اٹھائی ہے اس کی لاج رکھنا اور اس پر آنچ نہ آنے دینا۔"
(ابو یعلی محمد بن الحسین الفراء الحنبلی، الاحکام السلطانیہ ص 154)
کیا شان ہے اس نبی رحمت ﷺ کی کہ آخری وقت میں بھی مملکت اسلامیہ کی غیر مسلم رعایا کا اتنا خیال رہا اور اپنی امت کو وصیت کی اور اس طرف توجہ دلائی کہ کسی غیر مسلم پر زیادتی کر کے تم یہ نہ سمجھو کہ تم نے غیر مسلم پر صرف زیادتی کی ہے بلکہ درحقیقت تم نے میرے عہد کو توڑا ہے۔جس کے ایفاء کی میں نے ذمہ داری قبول کی تھی ۔اس کی سنگینی اور سزا کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔ پہلی حدیث کے ذریعہ سے بھی مسلمانوں کی توجہ اس حقیقت کی طرف دلائی کہ اگر تم نے اسلامی مملکت کے کسی غیر مسلم شہری کی جان و مال عزت و آبرو پر دست درازی کی تو تم یہ نہ سمجھنا کہ تمہارے مسلمان ہونے یا اعمال حسنہ کی وجہ سے پردہ پوشی کر لی جائے گی ۔ ہر گز نہیں بلکہ میں خود روز قیامت تمہارا گریبان پکڑ کر بارگاہ ایزدی میں تمہارے خلاف مقدمہ دائر کروں گا ! حضور نبی کریم روؤف الرحیم ﷺ کے خلفاء راشدین نے بھی اس حکم نامے کو ہمیشہ اپنے پیش نظر رکھا ۔یہاں تک کہ حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے بھی جو آخرئ وصیت فرمائی اس کا تعلق بھی غیر مسلم رعایا سے تھا ۔آپ شدید زخمی ہیں زندگی کے آخری لمحے ہیں اس وقت آپ نے جو گفتگو فرمائی وہ بھی ملاحظہ فرمائیں تاکہ یہ بات واضح ہو جائے کہ اسلامی سلطنت کی غیر مسلم رعایا کی جان و مال عزت و آبرو کی اسلام کے نزدیک کیا قدر ومنزلت ہے! قاضی امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ :۔
" حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی وفات کے وقت جو گفتگو فرمائی وہ یہ تھی کہ میں اپنے بعد منصب خلافت کے لیئے مقرر ہونے والے خلیفہ کو رسول اللہ ﷺ کے ذمہ کی وصیت کرتا ہوں ۔ یعنی اہل ذمہ کے ساتھ جو معاہدہ کیا گیا ہے وہ اسے پورا کرے۔اگر ان پر بیرونی یا اندرونی دشمن حملہ آور ہو تو اپنی فوجوں سے ان کا دفاع کرے ۔اور ان پر کوئی ایسا بوجھ نہ ڈالے جس کو اٹھانے کی ان میں طاقت نہ ہو۔"
(کتاب الخراج 149)
اسلام کا فوجداری اور دیوانی قانون مسلم و غیر مسلم کے لیئے بلکل یکساں ہے ۔یعنی اگر کوئی مسلمان کسی ذمی کو قتل کرے گا تو مسلمان ہونے کی وجہ سے اس کے ساتھ کوئی رعایت نہ برتی جائے گی بلکہ اس سے اسی طرح قصاص لیا جائے گا جیسے مسلم مقتول کا لیا جاتا ہے ۔ چنانچہ ایک دفعہ عہد رسالت میں ایک مسلمان نے ایک ذمی کو قتل کر دیا۔ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اس قاتل کو قصاص میں قتل کر دیا جائے۔ چنانچہ اس کا سر قلم کر دیا گیا ۔حضور اکرم ﷺ نے فرمایا: "میں سب سے زیادہ اس بات کا حق دار ہوں کہ اپنی ذمہ داری کو پورا کروں۔"
(العنایہ شرح الہدایہ امام محمد بن محمود البابرتی)
اسی طرح سیدنا علی کرم اللہ وجہہ کے زمانے میں بھی ایک مسلمان نے ذمی کو قتل کر دیا مقتول کے بھائی نے قاتل کو معاف کر دیا۔ لیکن حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو اطمینان نہ ہوا آپ نے اسے اپنے پاس بلایا اور پوچھا کہ شاید ان لوگوں نے تمہیں ڈرایا ہو یا دھمکی دی ہو اور اس لیئے تم نے قصاص معاف کر دیا ہو۔ اس نے عرض کی اے امیر المؤمنین!میں نے اپنے مقتول بھائی کی دیت لے لی ہے اور میں نے اس کا خون معاف کر دیا ہے۔ تب آپ نے اس قاتل کو رہا کر دیا اور ایک ایسا جملہ ارشاد فرمایاجس میں اسلام کے قانون کا خلاصہ بیان کر دیا گیا ۔ فرمایا: " ان لوگوں نے اس لیئے ذمی کے معاہدے کو قبول کر لیا ہے تاکہ ان کا مال ہمارے مالوں کی طرح اور ان کے خون ہمارے خونوں کی طرح ہو جائیں "
(برہان شرح مواہب الرحمان)
یہ ہے اپنی غیر مسلم رعایا کے بارے میں اسلام کا طرز عمل ! کیا دنیا کا کوئی اور نظام اس کی ہمسری کا دعویٰ کر سکتا ہے ؟ جب مملکت اسلامیہ کے ہر شہری کی جان و مال عزت و آبرو کی ذمہ داری اسلامی حکومت کی ہے تو ہر محب وطن شہری پر بھی لازم ہے کہ وہ اپنی استطاعت کے مطابق بیت المال میں حصہ داخل کرے تاکہ اسلامی مملکت کی سرحدوں کی حفاظت اور اندرون ملک امن و امان برقرار رکھنے کے لیئے اخراجات برداشت کر سکے ۔مسلمان رعایا بیت المال میں جو رقم جمع کراتی ہے اسے زکوٰۃ و عشر کہتے ہیں ۔یہ زکوٰۃ و عشر مردوو عورت اور بچوں(بچوں پر صرف عشر) سب پر فرض ہے۔اور ذمی رعایا جو رقم بیت المال میں جمع کراتی ہے اسے جزیہ کہتے ہیں ۔یہ وہ جزیہ ہے جس کے بارے میں اسلام کے سیاسی حریفوں نے کہرام مچا کر رکھا ہوا ہے۔اسلام کے رخ زیبا کو شکوک و شبہات کی گرد سے غبار آلود کرنے میں اپنی ساری قوتیں صرف کر رہے ہیں ۔کبھی کہتے ہیں کہ غیر مسلموں کے ساتھ امتیازی سلوک برتا جاتا ہے ۔ جزیہ صرف غیر مسلموں سے وصول کیا جاتا ہے مسلمانوں سے نہیں کیا جاتا۔ ایک مملکت کا شہری ہونے کے ناطے دونوں کے ساتھ مساویانہ سلوک ہونا چاہیئے تھالیکن اسلام نے غیر مسلموں کے ساتھ امتیازی سلوک برتا ہے ۔ کبھی ہتے ہیں کہ غیر مسلموں کی مالی مشکلات بڑھانے کے لیئے ان پر جزیہ کی ادائیگی ضروری قرار دی گئی ہے ۔ ان کے تمام اعتراضات کی تان اس پر آ کر ٹوٹتی ہے کہ جزیہ کا اصل مقصد یہ ہے کہ غیر مسلموں پر یہ مالی تاوان لگا کر انہیں مجبور کیا جائے کہ وہ اسلام قبول کر لیں ! ان اعتراضات کا حقائق کی روشنی میں جائزہ لیتے ہیں :۔
کہا جاتا ہے کہ جزیہ صرف غیر مسلموں سے وصول کیا جاتا ہے مسلمانوں سے وصول نہیں کیا جاتا۔اور یہ ناروا سلوک ہے۔ اس کے بارے میں عرض ہے کہ یہ بلکل جھوٹا الزام ہے جیسا کہ پہلے بھی بتایا جا چکا مسلمان بھی اپنے کمائے ہوئے مال سے حصہ دیتے ہیں جسے زکوٰۃ و عشر کہا جاتا ہے ۔اور وہ مقدار میں جزیہ سے کئی گناہ زیادہ ہے۔ نیز اگر مسلمانوں کے پاس مویشی ہوں بھیڑ ، بکریاں، گائے، بھینس، گھوڑے اور اونٹ تو ان کی بھی زکوٰۃ مسلمانوں کوا دا کرنی پڑتی ہے۔حالانکہ ذمی رعایا سے مویشیوں پر کسی بھی قسم کا لگان یا ٹیکس ادا نہیں کرنا پڑتا۔ مسلمان عورت اگر صاحب نصاب ہو یا بچہ اگر اگر صاحب نصاب ہو تو اس کو بھی لازمی طور پر اپنے اموال کی زکوٰۃ و عشر دینا پڑتا ہے۔اس کے برعکس کسی ذمی عورت اور بچے سے کوئی جزیہ نہیں لیا جاتا۔خود ہی سوچیئے کہ اسلام نے مالی ذمہ داریوں کے نقطہ نظر سے ذمیوں کو کس قدر مراعات سے بہرہ ور کیا ہے۔ بجائے اس کے کہ ان حقائق کو سمجھا جاتا ، اعتراف کیا جاتا، اور اسلام کی فیاضی کا شکریہ ادا کیا جاتا، الٹا یہ الزام عائد کیا جاتا رہا کہ اسلام غیر مسلم رعایا سے امتیازی سلوک روا رکھتا ہے۔اب خود ہی فیصلہ کریں کہ یہ الزام کس حد تک درست ہے ؟ دوسرا یہ الزام کے جزیہ ایک مالی تاوان ہےجس سے اسلامی حکومت اپنی غیر مسلم رعایا کو زیر بار کرتی ہےاور ان کو مالی دشواریوں سے دوچار کرتی ہےاس کے بارے میں اتنا ہی کہنا کافی ہے کہ اگر آپ جزیہ کی مقدار سے آگاہ ہو جائیں تو یہ الزام خود بخود کالعدم ہو جائے گا ۔
امام اعظم امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے مطابق غیر مسلموں کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ دولت مند طبقہ متوسط طبقہ فقراء امراء پر اڑتالیس درہم سالانہ یعنی چار درہم ماہوار، متوسط طبقہ پر چوبیس درہم سالانہ یعنی دو درہم ماہوار اور تیسرے طبقہ پر بارہ درہم سالانہ یعنی ایک درہم ماہوار ! اب آپ خود سوچیئے کہ کیا یہ اتنا بڑا "بوجھ" ہے جو ان کے لیئے ناقابل برداشت ہے ؟؟؟ اور ان کو طرح طرح کی مالی پریشانیوں میں مبتلاء کرنے کا باعث بن سکتا ہے ؟یہ ایک نہایت قلیل اور حقیر سی رقم ہے جو قطعاََ بوجھ تصور نہیں کیا جا سکتا۔ ان کی آخری تہمت کہ جزیہ وصول کرنے کا مقصد یہ ہے کہ غیر مسلموں کو اسلام قبول کرنے پر مجبور کیا جائے ۔ اس کے سراسر کذب و افتراء ہونے میں کوئی شک و شبہہ نہیں ۔جس دین کا بنیادی اصول ہی ہو "لا اکراہ فی الدین" ، اس دین کے پیروکار کسی پر جبر کر کے اسے مسلمان بنانے میں کیوں اپنی طاقت اور وقت صرف کریں گے ؟کیا عقیدہ اتنی حقیر اور کم مایہ چیز ہے کہ اتنی قلیل سی رقم کی ادائیگی سے بچنے کے لیئے انسان اپنے پہلے عقیدے کو چھوڑ کر ایک نیا عقیدہ قبول کر لے جس کو اس کا ضمیر تسلیم نہیں کرتا ۔لوگ تو اپنے عقیدہ کے لیئے وطن چھوڑ دیتے ہین اپنی عمر بھر کی کمائی پر لات مار دیتے ہیں اور اپنے عقیدہ کی راہ میں سر کٹانا پڑے تو اس کو بھی بصد مسرت قبول کر لیتے ہیں ۔ عقیدہ اتنی سستی اور ارزاں چیز نہیں کہ لوگ اتنی حقیر اور قلیل رقم کے بدلے تبدیل کر لیں ۔
یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ ہر غیر مسلم پر جزیہ کی ادائیگی لازم نہیں بلکہ اس کے لیئے کچھ شرائط کاپایا جانا ضروری ہے ۔ اگر ان شرائط میں سے کوئی شرط نہیں پائی جائے گی تو جزیہ ساقط ہو جائے گا۔ جزیہ ادا کرنے کی شرائط درج ذیل ہیں ٭ عاقل و بالغ ہو اور مرد ہو۔ ٭ جسمانی عوارض سے محفوظ ہو ۔ یعنی اپاہج، اندھا، پیر فرتوت اور دائم المرض نہ ہو۔ ٭ آزاد ہو ٭ ایسا مفلس نہ ہو جو بے روزگار ہو۔ ان شرائط سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ نابالغ، دیوانہ، بچہ ، عورت، اپاہج، اندھا، پیر فرتوت، دائم المرض، غلام اور بے روزگار سے جزیہ وصول نہیں کیا جاتایہ سب لوگ جزیہ کے حکم سے مستشنیٰ ہیں۔اگر جزیہ کا مقصد غیر مسلموں کو جبراََ مسلمان بنانا ہوتا تو ان سب پر ضرور جزیہ لگایا جاتا۔کم از کم نابالغ بچے اور عورت سے تو ضرور جزیہ وصول کیا جاتا کیونکہ نابالغ مسلمان بچے اور عورت سے بھی زکوٰۃ اور عشر لیا جاتا ہے ان تمام افراد کو مستشنیٰ کرنے سے کیا ان لوگوں کے اس الزام کی تردید نہیں ہو جاتی کہ جزیہ کا مقصد لوگوں کو جبراََ مسلمان بنانا ہے ؟ اور یہ صرف نظریات ہی نہیں بلکہ مسلمانوں نے اپنے عہد اقتدار میں ان احکامات پر عمل بھی کیا ہے ۔
امام ابو یوسف رحمہ اللہ اپنی کتاب الخراج میں فرماتے ہیں کہ : حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے جن غیر مسلم قوموں اور قبیلوں سے صلح کی ان کو صلح نامے لکھ کر دیئے ان میں یہ جملہ موجود ہے کہ "اگر کوئی بوڑھا کام کرنے کے قابل نہ رہے یا بدنی بیماریوں میں سے اسے کوئی بیماری لگ جائےیا پہلے وہ غنی تھا اب محتاج ہو گیا اور اس کے مذہب والے اس کو صدقہ و خیرات دینے لگیں، ان حالات میں اس سے جزیہ ساقط ہو جائے گا۔اور اس کا اور اس کے اہل و عیال کا خرچ بیت المال سے ادا کیا جائے گا جب تک سلطنت اسلامیہ میں سکونت پذیر رہے ۔" جزیہ کی اصل وجہ :۔ جزیہ کے متعلق اسلام کے سیاسی حریفوں کے پیدا کیئے شکوک و شبہات کے طشت ازبام ہونے کے بعد یہ بات تو بلکل واضح ہو چکی کہ جزیہ کا مقصد نہ تو غیر مسلم رعایا سے امتیازی سلوک ہے نہ انہیں زیربار لانا ہے اور نہ ہی زبردستی اسلام قبول کرانا۔ آیئے دیکھتے ہیں کہ اس کی اصل وجہ کیا ہے ؟ مسلم اور غیر مسلم سے جو الگ الگ رقم وصول کی جاتی ہے اس کے مختلف ناموں کی وجہ یہ ہے کہ زکوٰۃ یا عشر جو مسلمانوں کے ذمہ واجب الادا ء ہےیہ اسلام کی دوسری عبادتوں کی طرح ہی ایک عبادت ہے۔اور غیر مسلم رعایا جو اسلام کو نہیں مانتی ان کی ادا کی گئی رقم کو زکوٰۃ یا عشر سے موسوم کرنا قرین انصاف نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اسلام ان کو اپنے نظام عبادات پر عمل کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جو اس کی سچائی کو مانتے ہی نہیں ۔یہ کتنی بے انصافی کی بات ہے کہ ان غیر مسلموں کو اسلام کے پیش کردہ نظام عبادات کا پابند بنایا جائے۔ اسلام کی عادلانہ روح اس چیز کو قبول نہیں کر سکتی۔ اس لیئے ان کے ذمہ جو واجبات ہیں ان کو الگ نام دیا گیا اور ان کی مقدار بھی کم رکھی گئی تاکہ مسلمانوں کے واجبات اور غیرم مسلم ذمیوں کے واجبات کے درمیان امتیاز باقی رہے۔ اس قدر عادلانہ اور انسانی حقوق کے پاسدار دین کی مخالفت کرنا سورج کو چراغ دکھانے اور چاند پر تھوکنے کے مترادف ہے !

گستاخ رسول ﷺ کے متعلق علما و فقہا کے فتاوی جات

2017-07-13 13:06:54 


1. امام مالک فرماتے ہیں : من سب رسول اللہ ا او شتمہ او عابہ او تنقصہ قتل مسلما کان او کافرا ولا یسطاب (الصارم المسلول ص ۵۲۶) ’’
جس شخص نے حضورا کو گالی دی یا آپ کی طرف عیب منسوب کیا یا آپ کی شان اقدس میں تحقیر و تنقیص کا ارتکاب کیا خواہ وہ مسلمان ہو یا کافر اسے قتل کر دیا جائے گا اس کی توبہ بھی قبول نہیں کی جائے گی

2. امام احمد بن حنبل فرماتے ہیں : کل من شتم النبی او تنقصہ مسلما کان او کافرا فعلیہ القتل (الصارم المسلول ص ۵۲۵)

3.امام ابو یوسف فرماتے ہیں : وایما رجل مسلم سب رسول ا او کذبہ او عابہ او تنقصہ فقد کفر با اللہ وبانت منہ زوجہ۔ (کتاب الخراج ص ۱۸۲)
ترجمہ:کوئی بھی مسلمان جو رسول اللہ ا کو گالی دے یا آپ کی تکذیب کرے یا عیب جوئی کرے یا آپ کی شان میں کمی کرے اس نے یقینا اللہ کا انکار کیا اور اس کی بیوی اس کے نکاح سے نکل گئی ۔ (جد ا ہو گئی)

4.قاضی عیاض علیہ الرحمۃ بیان کرتے ہیں : ہر شخص جس نے رسول اکرم ا کو گالی دی اور آپ کی طرف عیب منسوب کیا یا آپ کی ذات اقدس کے متعلق اور نسب وحسب اور آپ کے لائے ہو ئے دین اسلام یا آپ کی عادات کریمہ میں سے کسی عادت کی طرف کوئی نقص وکمی منسوب کی یا اشارۃً کنائۃً آپ کی شان اقدس میں نا مناسب وناموزوں بات کہی یا آپ کو کسی شے سے گالی دینے کی طریق پر تشبیہہ دی یا آپ کی شان وعظمت وتقدس اور رفعت کی تنقیص وکمی چاہی یا آپ کے مقام و مرتبے کی کمی کا خواہش مند ہو یا عیب جوئی کی تو فھو سب والحکم فیہ حکم الساب لیقتل (الشفا ء ج ۲ ص ۲۲) ’’یہ شخص سب وشتم کرنے والا ہے اس میں گالی دینے والے کا حکم ہی جاری ہو گا اور وہ یہ کہ قتل کر دیا جائے گا ‘‘۔
امام احمد بن سلمان نے فرمایا: من قا ل ان النبی کان اسود یقتل (الشفا ء ج ۲ ص ۶۳۹)
’’جس شخص نے کہا حضور ا کا رنگ سیاہ ہے وہ قتل کر دیا جائے گا ‘‘۔

5. امام ابو بکر بن علی نیشا پوری فرماتے ہیں ـ: اجمع عوام اہل العلم علی ان من سب النبی یقتل قال ذالک مالک بن انس واللیث واحمد واسحاق وھو مذہب الشافعی وھو منتھیٰ قول ابی بکر
(الصارم المسلول درالمختار ۲۳۲)
’’سب اہل علم کا اس بات پر اجماع ہے کہ جس شخص نے نبی اکرم ا کو سب وشتم کیا وہ قتل کیا جائے گا ۔ جن آئمہ کرام نے یہ فتوی دیا ان میں امام مالک امام لیث امام احمد وامام اسحاق شامل ہیں یہی امام شافعی کا مذہب ہے اور یہی حضرت ابو بکر صدیق کے قول کا مدعا ہے ‘‘۔
تنویر الابصار اور در مختار فقہ حنفی کی بڑی مستند کتابیں ہیں ان میں یہ عبارت در ج ہے : کل مسلم ارتدفتو بتہ مقبولۃ الا الکافر بسب نبی من الانبیاء فانہ یقتل حدا ولا تقبل توبتہ مطلقاً ‘‘(در المختار جلد ۴ صفحہ ۲۳۱) ’’جو مسلمان مرتد ہو اس کی توبہ قبول کی جائے گی سوائے اس کافر ومرتد کے جو انبیاء علیہم السلام میں سے کسی بھی نبی کو گالی دے تو اسے حداً قتل کر دیا جائے گا اور مطلقا اس کی توبہ قبول نہ کی جائے گی ‘‘

6. امام ابن سحنون مالکی نے فرمایا : اجمع المسلمون ان شاتمہ کافر وحکمہ القتل ومن شک فی عذابہ وکفرہٖ کفر (در المختار جلد ۴ صفحہ ۲۳۳)
 ’’مسلمانوں کا اس امر پر اجماع ہے کہ حضور نبی ا کو گالی دینے والا کافر ہے اور اس کا حکم قتل ہے جو اس کے عذاب اور کفر میں شک کرے وہ کافر ہے ‘

7. مام ابن عتاب مالکی نے حضور اکرم ا کی بے ادبی اور گستاخی کرنے والے کے لئے سزائے موت کا فتویٰ دیا ہے : الکتاب والسنۃ موجبان ان من قصد النبی باذی او نقص معرضا او مصر حاوان قل فقتلہ واجب فھدا الباب کلہ مماعدہ العلماء سبا او تنقصا وجب قتل قائلہ لم یختلف فی ذالک متقدمھم ولا متاخرھم ۔ ’’
قرآن وسنت اس بات کو واجب کرتے ہیں کہ جو شخص رسول اللہ ا کی ایذا کا ارادہ کرے صریح وغیر صریح طور پر یعنی اشارہ وکنایہ کے انداز میں آپ کی تنقیص کرے اگرچہ قلیل ہی کیوں نہ ہو تو ایسے شخص کو قتل کرنا واجب ہے اس باب میں جن جن چیزوں کو آئمہ وعلماء کرام نے سب وتنقیص میں شمار کیا ہے آئمہ متقدمین ومتاخرین کے نزدیک بالاتفاق اس کے قائل کا قتل واجب ہے ‘‘۔

8. امام ابن الھمام حنفی کا فتوی : والذی عند ی من سبہ او نسبہ مالا ینبغی الی اللہ تعالیٰ وان کانوا لا یعتقد ونہ کنسبۃ الولدالی اللہ تعالیٰ وتقدس عن ذالک اذا اظھرہ یقتل بہ وینتقض عھدہ ۔ (فتح القدیر ج ۵ ص ۳۰۳) ’’میرے نزدیک مختار یہ ہے کہ ذمی نے اگر حضور ا کو گالی دی یا غیر مناسب چیز اللہ تعالیٰ کی طر ف منسوب کی جو کہ ان کے عقائد سے خارج ہے جسے اللہ تعالیٰ کی طرف بیٹے کی نسبت حالانکہ وہ اس سے پاک ہے جب وہ ایسی چیز کا اظہار کرے گا تو اسے قتل کیا جائے گا اور اس کا عہد ٹوٹ جائے گا ‘‘۔

9. امام ابو سلیمان خطابی کا فتویٰ : لا اعلم احدا من المسلمین اختلف فی وجوب قتلہ اذا کان مسلما ۔ (الشفاء ۲ ص ۹۳۵)
’’میں مسلمانوں سے کسی ایک فرد کو بھی نہیں جانتا جس نے گستاخ رسول کی سزائے قتل کے واجب ہو نے میں اختلاف کیا ہو جبکہ وہ مسلمان بھی ہو ‘

10. بو بکر الجصاص کا فتوی : ولا خلاف بین المسلمین ان من قصد النبی صلی اللہ بذالک فھو فمن ینتحل الاسلام انہ مرتد یستحق القتل (احکام القرآن للجصاص ج ۳ ص ۱۰۹)
 ’’مسلمانوں کے مابین اس میں کسی کا اختلاف نہیں کہ جس نے رسول اللہ ا کی اہانت وایذا کا قصد کیا حالانکہ وہ خود کو مسلمان بھی کہلواتا ہو تو ایسا شخص مرتد اور مستحق قتل ہے ‘‘۔

11. امام حصکفی کا فتویٰ : من نقص مقام الرسالۃ بقولہ بان سبہ او بفعلہ بان بغضہ بفعلہٖ قتل حدا (درالمختار ۴ص ۲۳۲)
’’جس شخص نے مقام رسالت مآب ا کی تنقیص وتحقیر اپنے قول کے ذریعے بایں صورت کہ آپ کو گالی دی یا اپنے فعل سے اس طرح کہ دل سے آپ سے بغض رکھا تو وہ شخص بطور حد قتل کر دیا جائے گا ‘‘

12. علامہ ابن تیمیہ مزید لکھتے ہیں : واذا کان کذالک وجب علینا ان ننصر لہ ممن انتھک عرضہ والانتصار لہ با لقتل لان انتھاک عرضہ انتھاک دین اللہ (الصارم المسلول ص ۲۱۱)
’’اور جب یہ حقیقت ہم پر لازم ہے کہ حضور ا کی خاطر اس شخص کے خلاف صدائے احتجاج بلند کریں جو آپ کی شان میں گستاخی کرے اور احتجاج یہ ہے کہ اسے قتل کردیں اس لئے آپ ا کی عزت کو پامال کر نا اللہ کے دین کی اہانت کرنا ہے ‘

13. فتاوٰی حامدیہ میں ہے : فقد صرح علماء نافی غالب کتبھم بان من سب رسول اللہ ا أو احدا ً من الانبیاء علیھم الصلٰوۃ والسلام وااستخف بھم فانہ یقتل حدا ولا توبۃ لہ اصلاً سواء بعد القدرۃ علیہ والشھادۃ او جاء تایباً من قبل نفسہ لا تہ حق تعلق بہ حق البعد فلا یسقط بالتوبۃ کسائر حقوق الآدمیین ووقع فی عبارۃ البزازیہ ولو عاب نبیاً کفر (فتاوٰی حامدیہ صفحہ ۱۷۳)
’’ہمارے علماء کرام نے اپنی اکثر کتب میں اس بات کی تصریح فرمائی ہے کہ جو شخص رسول اللہ ا کی توہین کرے یا انبیاء کرام میں سے کسی بھی نبی کی توہین کرے ۔ یا ان کا استخفاف کرے تو اس کو بطور حد قتل کیا جائے گا ۔ اس کی توبہ اصلاً قبول نہیں ۔ خواہ گرفتار ہونے اور شہادت پیش ہونے بعد توبہ کرے یا گرفتاری اور شہادت سے قبل از خود توبہ کر لے بہر صورت ا س کی توبہ مقبول نہیں ۔ کیونکہ یہ ایسا حق ہے جس کے ساتھ حق عبد متعلق ہو چکا ہے ۔ لہذا انسانوں کے تمام حقوق کی طرح یہ حق بھی توبہ سے ساقط نہیں ہو گا اور بزازیہ کی عبارت میں ہے جو شخص کسی نبی پر عیب لگائے وہ اس کے سبب کا فر ہو جائے گا ‘‘۔

14. گستاخ رسول کے قتل پر صحابہ کا اجماع : علامہ ابن تیمیہ مذکورہ مسئلے میں صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کے اجماع کا ذکر ان الفاظ میں کرتے ہیں ۔ اما اجماع الصحابہ فلان ذالک نقل عنھم فی قضا یا متعددۃ ینتشر مثلھا ویستفیض ولم ینکر ھا احد منھم فصارت اجماعا (الصارم المسلول ۲۰۰)
 ’’مذکورہ مسئلے پر اجماع صحابہ کا ثبوت یہ ہے کہ یہی بات (گستاخان رسول ا واجب القتل ہے ان کے بہت سے فیصلوں سے ثابت ہے مزید برآں کہ ایسی چیز مشہور ہو جاتی تھی لیکن اس کے باوجود کسی صحابی نے بھی اس کا انکار نہیں کیا جو اس کی بین دلیل ہے

15۔ ۔ قاضی ثناء اللہ پانی پتی تفسیر مظہری میں فرماتے ہیں : من اذی رسول اللہ بطعن فی شخصہ ودینہ او نسبہ او صفتہ من صفاتہ او بوجہ من وجوہ الشین فیہ صراحۃ وکنایۃ او تعریضا او اشارۃ کفرو لعنھم اللہ فی الدنیا واعد لہ عذاب جہنم (۱ تفسیر مظہری ج ۷ صفحہ ۳۸۱)
’’جس شخص نے رسول اللہا کو اشارۃ وکنائۃ صریح وغیر صریح طریق سے عیب کی جملہ وجوہ میں سے کسی ایک وجہ سے یا آپ کی صفات میں سے کسی ایک صفت میں ، آپ کے نسب ، میں آپ کے دین میں یا آپ کی ذات مقدسہ کے متعلق کسی قسم کی زبان طعن دراز کی تو وہ کافر ہوا ۔ اللہ تعالیٰ نے دنیا اور آخرت میں اس پر لعنت کی اور اس کے لئے جہنم کا عذاب تیار کر رکھا ہے۔

16. قد حکیٰ ابو بکر الفارسی من اصحاب الشافعی اجماع المسلمین علی ان حد من سب النبی القتل کما ان حد من سب غیرہ الجلد وھذا لا جماع الذی حکاہ محمول علی الصدر الاول من الصاحبۃ والتابعین اوانہ ارادا جماعھم علی ان ساب النبی یجب قتلہ اذا کان مسلما (الصار م المسلول ۳)
’’امام ابو بکر فارسی جو اصحاب شافعی میں سے ہیں انہوں نے امت مسلمہ کا ا س بات پر اجماع بیان کیا ہے کہ جس شخص نے حضور ا کو گالی دی تو اس کی سزا حد اً قتل ہے جس طرح کہ کسی غیر نبی کو گالی دینے والے کی سزا (حد )کوڑے لگانا ہے یہ اجماع صدر اول کے یعنی صحابہ وتابعین کے اجماع پر محمول ہے یا اس سے مراد یہ ہے کہ حضور ا کو گالی دینے والا اگر مسلمان ہے تو اس کے وجوب قتل پر اجماع ہے ‘‘۔

17. ابوبکر بن منذر رحمہ اللہ نے کہا ھے کہ عام اھل علم کا اس بات پر اجماع ھے کہ جو شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دے اسے قتل کردینا چاہیئے۔ یہی بات امام مالک، لیث، احمد، اسحاق وغیرہ رحمہم اللہ نے بھی کہی ھے یہی امام شافعی رحمہ اللہ کا مذھب ھے۔۔۔ یہی حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالی عنہکے قول کا تقاضا ھے ۔۔۔ ایسے شخص کے مباح الدم ھونے میں کوئی اختلاف نہیں(الشفا٢٢٠)

18. ابن القاسم رحمہ اللہ نے العتبیة میں لکھا ھے کہ جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دے یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر عیب لگائے یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم میں نقص نکالے ، اسے قتل کیا جائے گا اور ساری امت کے نزدیک اسکو قتل کرنے کا حکم اسی طرح ھے جس طرح زندیق کو قتل کرنے کا حکم ھے ، اس لئے کہ اللہ تعالی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم و توقیر کو فرض قرار دیا ھے(٢٢١)

19. امام مالک رحمہ اللہ سے روایت ھے کہ جس شخص نے یہ کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی چادر یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قمیض کے کنارے میلے ھیں اور اس سے اس کا ارادہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تحقیر کا ھو تواسے قتل کیا جائے ۔
20. ابو الحسن قالبسی رحمہ اللہ نے ایسے شخص کو قتل کرنے کا فتوی دیا جس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں پر بوجھ اور ابو طالب کے یتیم تھے

21. :علامہ شرنبالی رحمہ اللہ لکھتے ہیں :
ولا تقبل توبة ساب النبی علیہ السلام سواء جاء تائبا من قبل نفسہ او شھد علیہ بذلک


22. :علامہ خفاجی رحمہ اللہ نسیم الریاض ص٣٩٩ پر لکھتے ہیں :
کسی کیلئے روا نہیں کہ نبی کی شان میں گستاخی سنے سوائے اسکے کہ یاتو اس گستاخ کی جان لے لے یا اپنی جان فی سبیل اللہ دے دے

23۔ تفسیر مظہری (اردو)ص٥٣٤ج ھفتم میں ہے کہ :
حتی کہ علماء نے یہاں تک کہا ہے کہ اگر کسی نے نشہ کی حالت میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے غلیظ الفاظ استعمال کئے تو اسے قتل کردیا جائے۔۔ الخ

علامہ شامی رحمہ اللہ شاتم الرسول کے مباح الدم ہونے پر آئمہ اربعہ کا اجماع نقل کرتے ہیں :
لا شک ولا شبھة فی کفر شاتم النبی صلی اللہ علیہ وسلم و فی استباحة قتلہ وھو منقول عن الائمة الاربعة۔۔ الخ (شامی ص٤٠٦ج٣)
شاتم رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے کفر اور قتل کے جائز ہونے میں کوئی شک شبہہ نہیں ہے ،چاروں اماموں (امام اعظم ابوحنیفہ، امام مالک، امام شافعی، امام احمد بن حنبل رحمہم اللہ) سے یہی منقول ہے۔
علامہ شامی رحمہ اللہ واسعہ آئمہ اربعہ کے گستاخ رسول ﷺ کے متعلق مذہب کو آج کل کے نام نہاد دانشوران سے بہتر جاننے والے تھے ،،،،،یہاں سے ہی گستاخ رسول ﷺ کی سزا موت کے متعلق امت مسلمہ کا اجماع ثابت ہوتا ہے

یہ ہے گستاخ رسول ﷺ کی ایک ہی سزا موت پر تمام امت مسلمہ کے اجماع کا ثبوت ،،،،،،،،،،،،،،،،،
اب بھی اگر کوئی ہٹ دھرمی سے کام لے تو اسے اپنے ایمان کی فکر کرنی چاہئے
یہ ان علما و فقہا کے فتاوی جات ہیں جو بلاشبہ آج کل کے نام نہاد مفکرین اور مجتہدین سے کہیں بہتر کتاب و سنت کو جاننے والے تھے اور ان میں سے اکثر اس بات پر امت مسلمہ کا اجماع نقل کرتے ہیں ،،،، اب بھی اگر کوئی ان کو چھوڑ کر ٓج کل کے غامدی جیسے راہزن دین و ایمان کے پیچھے چلنے کو ترجیح دے تو اس کے بدمذہب ہونے پر کوئی شک نہیں ،،،،
وماعلینا الا البلاغ المبین

منتخب تحریریں