بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ * لا الہٰ الا اللہ محمّد رسول اللہ * قُلْ هُوَ اللّـٰهُ اَحَدٌ - اَللَّـهُ الصَّمَدُ - لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُوْلَدْ - وَلَمْ يَكُنْ لَّـهٝ كُفُوًا اَحَدٌ

سیرت


اخلاق حسنہ کی اہمیت

2017-05-30 05:33:04 

الحمد للہ رب العالمین ۔ والصلوٰۃ والسلام علیک یا سیدالانبیاء و المرسلین 
اما بعد
فاعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم 
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم 
دین اسلام اخلاق حسنہ پر زور دیتا ہے اور بداخلاقی بدزبانی سے منع کرتا ہے 
 حضور اکرم ﷺ بھی اخلاق حسنہ کو محبوب رکھتے تھے چنانچہ آپ ﷺ کا فرمان عالیشان ہے کہ :
"ان من احبکم الی احسنکم اخلاقا"
 میرے نزدیک تم میں سب سے زیادہ محبوب وہ ہے جس کے اخلاق سب سے بہترین ہوں ( بخاری ٣٧٥٩) 
 ایک حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حسن اخلاق کے حامل شخص کی ان الفاظ میں تعریف وتحسین کی ہے
"ان من خیارکم احسنکم اخلاقا"
تم میں بہترین وہ ہے جس کے اخلاق اچھے ہیں (بخاری ٣٥٥٩)
کامل ایمان کی نشانی یہ بیان فرمائی :
"اکمل المؤمنین ایمانا احسنھم خلقا"
کامل مومن وہ ہے جس کے اخلاق اچھے ہوں(ابوداؤد ٤٦٨٦، ترمذی ١١٦٢)
اخلاق حسنہ اپنانے والے کو بشارت دی 
"ان المؤمن لیدرک بحسن خلقہ درجہ الصائم القائم"
 مومن اپنے حسن اخلاق سے دن میں روزہ رکھنے والے اور رات میں عبادت کرنے والے کا درجہ پالیتا ہے۔(ابوداؤد ٤٧٩٨)
نیز فرمایا "مامن شئی اتقل فی المیزان منحسن الخلق"
احسن خلق سے زیادہ باوزن ترازو میں کوئی چیز نہ ہوگی۔
نبی ﷺ نے اپنی بعثت کا مقصد بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے کہ: 
 بُعِثْتُ لِاُتَمِّمَ مَکَارِمَ الْاَخْلَاق۔ یعنی ’’میں مکارمِ اخلاق کی تکمیل کے لئے مبعوث کیا گیا ہوں۔‘‘ 
حضور ﷺ کے اخلاقِ حسنہ کے بارے میں قرآن مجید کی شہادت یہ ہے کہ: 
اِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیْمٍ۔ 
’’بے شک آپ اخلاق کے بلند ترین مرتبہ پر فائز ہیں۔‘‘ 
 حضرت انسؓ کا بیان ہے کہ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اَحْسَنَ النَّاسِ خُلْقًا رسول اللہ ﷺ تمام انسانوں سے اعلیٰ اخلاق رکھتے تھے۔ (متفق علیہ) 
 اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاں حسن اخلاق کو اختیار کرنے کی تلقین فرمائی ہے۔۔۔ وہیں معاملات کو بخوبی انجام دینے پر زور دیا، اچھی صفات سے متصف ہونے کی تاکید کی ہے اور بدخلقی کی مذمت کی ہے اس کے بھیانک اور مہلک نتائج سے خبردار کیا ہے اور بدخلق شخص سے اپنی بیزاری اور ناراضگی کا اظہار فرمایا ہے اس موضوع کی چند احادیث ملاحظہ ہوں.

حضرت عائشہ سے روایت ہے کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
“ابغض الرجال الی اللہ الالد الخصم”
 اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ مبضوض شخص وہ ہے جو ضدی قسم کا اور جھگڑالو ہو (ترمذی٢٩٧٦)

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
“المؤمن غیرکریم والفاجر خب لئیم”
مومن بھولا بھالا اور شریف ہوتا ہے اور فاجر چالاک اور کمینہ ہوتا ہے(ترمذی ١٩٦٤٤ البانی نے اسے صحیح قرار دیا ہے)

ایک اور روایت میں ہے کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
“ان اللہ لیبغض الفاحش البذیء”
اللہ تعالٰی بےحیا اور فحش گو شخص سے نفرت کرتا ہے (ترمذی ٢٠٠٢٢ صحیحہ الالبانی)

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
“البذاء من الجفاء والضفاء فی النار”
 فحش گوئی (اللہ سے) بدعہدی ہے اور بدعہدی جہنم میں (لےجانے والی) ہے (ترمذی ٢٠٠٩صحیحہ البانی)
 بد اخلاقی ، بدزبانی اور فحش گوئی کی مذمت کرتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ سلم نے فرمایا:

"میری امت میں تو مفلس وہ ہے جو قیامت کے روز ڈھیر ساری نمازیں، روزے اور زکوتیں لے کر آئے گا مگر ساتھ ہی اس حال میں آئےگا کہ کسی کو گالی دی، کسی پہ تہمت لگائی، کسی کا مال کھایا، کسی کا خون بہایا، کسی کو مارا۔ پس (ان مظالم کے قصاص میں) اس دعوے دار کو اس کی نیکیاں دے دی جائیں گی، یہاں تک کہ اگر حساب پورا ہونے سے پہلے اس کی نیکیاں ختم ہوگئیں، تو ان (دعوے داروں) کے گناہ اس پر ڈال دیے جائیں گے، اور پھر وہ سر کے بل آگ میں ڈال دیا جائےگا۔"

"جس نے اپنے بھائی پر کوئی ظلم کیا ہو۔ عزت کے معاملہ میں یا کسی بھی چیز کے بارے میں۔ وہ آج کے دن ہی اس سے معاف کرا لے، اس سے پہلے کہ اس کے پاس نہ دینار ہوں نہ درہم (کیونکہ اس دن) جتنا ظلم اس نے کیا، اتنی اس کی نیکیاں مظلوم کو دے دی جائیں گی اور نیکیاں نہ ہوں گی تو مظلوم کی برائیاں اس پر لاد دی جائیں گی۔"

(بخاری و مسلم )
 مندرجہ بالا احادیث کی روشنی میں اپنے آپ کو پرکھیں کہ دین اسلام ہمیں کیا تعلیم دیتا ہے اور ہم کس راہ پر چل رہے ہیں ۔ 
 اللہ عزوجل ہم سب کو اپنے محبوب ﷺ کی سنتیں اور اخلاق حسنہ اپنانے کی توفیق و ہمت عطا فرمائے اور روز قیامت حضور نبی کریم ﷺ کی شفاعت نصیب فرمائے آمین ثم آمین 
وما علینا الا البلاغ المبین 
 اللھم صلی علی سیدنا و مولانا محمد عدد ما فی علم اللہ صلوٰۃ دائمۃ بدوام ملک اللہ

تاجدار انبیاء ﷺ غیر مسلموں کی نظر میں

2017-06-01 03:24:14 

یہود و نصاریٰ کا اسلام اور پیغمبر اسلام ﷺ سے بغض و عناد کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں انہوں نے حضور نبی کریم ﷺ اور اسلام کے متعلق جو زہر اگلا تاریخ کے صفحات  ان سازشوں اور حربوں سے بھرے پڑے ہیں۔مغربی علماء ، دانشور اور مصنفین نے پیغمبر اسلام ﷺ اور اسلام کے خلاف اتنے گمراہ کن اور جھوٹے پروپیگنڈے پھیلائے کہ اسلامی معاشرت و قوانین کے متعلق غلط تصورات رواج پا گئے۔کہیں تو مسلمانوں کو دہشتگرد اور جنگجو دکھایا گیاجس سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی کہ اسلام تلوار کے زور پر پھیلا ہےاور کہیں براہ راست حضور اکرم ﷺ کی ذات اقدس پر حملے کیئے گئے۔لیکن اس حقیقت کے ادراک پر قلب و جان فرط مسرت سے جھومنے لگتے ہیں کہ ہر صدی ، ہر عہد اور ہر دور کے صاحب ادب و فن نے اپنا بہترین اثاثہ فکر بارگاہ نبوی ﷺ کی نذر کیا ہے۔ ہر قرن میں چشم فلک نے تمام مذاہب کے اہل قلم کے قافلوں کو ارض طیبہ کی جانب بڑھتے دیکھا ۔مسلم ہی نہیں غیر مسلم بھی ، اپنے ہی نہیں بلکہ بیگانے بھی سرور کونین ﷺ کی بارگاہ اقدس میں عقیدت کے نذرانے پیش کرتے نظر آتے ہیں اور "رویندر جین" کا یہ شعر اس صورت حال کی عکاسی کرتا نظر آتا ہے:۔
"آپ کے ماننے والوں میں ضروری تو نہیں صرف شامل ہوں مسلمان رسول اکرم ﷺ"حضور اکرم ﷺ کو اپنی جان، مال ، اولاد  سے بھی بڑھ کر محبوب رکھنا مسلمان کے ایمان کی تو دلیل ہے ہی مگر ایک غیر مسلم کا بارگاہ نبوی ﷺ میں اظہار عقیدت کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ  اس کا ذوق پاکیزہ اور بصیرت بے عیب ہے کیونکہ آفتاب کو اگر کوئی آفتاب کہہ کر پکارے تو آفتاب پر کوئی احسان نہیں بلکہ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اس شخص کی بصیرت ابھی زندہ ہے۔
ذیل میں ہم ان لوگوں کا ذکر کرتے ہیں جو باوجود غیر مسلم اور اسلام کے سخت مخالف ہونے کے حق بات کہنے پر مجبور ہو گئے
1۔ تھامس کارلائل:۔اس نے "ہیرو اینڈ ہیرو ورشپ" کے نام سے ایک کتاب لکھی  جو 1841ء میں شائع ہوئی ۔وہ لکھتا ہے کہ:
"کہتے ہیں کہ اس مذہب کی عمارت جھوٹ پر کھڑی کی گئی ہے۔میں کہتا ہوں کہ جھوٹا آدمی اینٹوں کی معمولی سی عمارت بھی کھڑی نہیں کرسکتا چہ جائیکہ وہ ایک مذہب کا بانی ہو اور جس نے ایک تہذیب کی بنیاد رکھی ہو۔معمولی عقل کا آدمی بھی یہ سمجھ سکتا ہے کہ جب تک تعمیر کرنے والے شخص کو مٹی چونے اور کام میں استعمال ہونے والی اشیاء کے خواص کا علم نہ ہو ایسے شخص کا بنایا گیا مکان ، مکان نہیں مٹی کا ڈھیر ہو گاجو دھڑام سے نیچے آ گرے گا ۔ ایسا مکان بارہ صدیوں تک قائم نہیں رہ سکتا اور نہ ہی کروڑوں انسان اس میں سما سکتے ہیں۔مگر یہ مکان(اسلام کی عمات) تو اتنے طویل عرصے سے قائم ہے ۔ حضرت محمد ﷺ کی شخصیت ، ان کے اقوال و ہدایت کی صداقت پر ایمان رکھنے والےانسان ہماری طرح ہی ذی شعور اور صاحب فراست ہیں اور ہماری ہی طرح دست قدرت کی صناعی کا نمونہ ہیں۔ان بندگان خدا کی تعداد مسلسل بڑھتی جا رہی ہے۔
ایک دوسر ےمقام پر حضور اکرم ﷺ پر لگائے گئے الزامات کا جواب دیتے ہوئے لکھتا ہے کہ اگر ہم حضرت محمد ﷺ کو (معاذ اللہ ) حریص اور سازشی قرار دیں اور ان کی تعلیمات کو بے بصیرتی اور نادانی قرار دیں تو یہ ہماری سخت حماقت اور جہالت ہو گی ۔انہوں نے سادہ اور غیر مرصع جو پیغام دیا وہ برحق تھا وہ پردہ غیب سے ابھرنے والی حیران کن آواز تھی اس کا نہ کوئی قول جھوٹ نکلا نہ کوئی فعل غلط ثابت ہوا نہ ان کی گفتگو بے معنی تھی  اور نہ ہی ان جیسی کوئی مثال پہلے موجود تھی ۔وہ زندگی کا ایک روشن جلوہ تھا جو سینہ فطرت سے اس لیئے ظہور پذیر ہوا کہ دنیا کو منور کر ڈالے کیونکہ اس کائنات کا خالق اس کے ذریعے سے اس دنیاکو اندھیروں سے نجات دلانا چاہتا تھا۔ وہ جو پیغام سرمدی لے کر آئے اس کی اہمیت اور عظمت اپنی جگہ مسلم ہے نبی کریم ﷺ پر ایسا کوئی الزام ثابت نہیں کیا جا سکا۔نبی ﷺ کے منہ سے جو بات نکلتی ہے ہمارا ضمیر گواہی دیتا ہے کہ وہ برحق ہے اس جیسے الفاظ کسی عام انسان کی زبان سے نکل ہی نہیں سکتے ۔ اس کی زندگی کا مقصد و مدعا  اس کے ہر لفظ اور ہر حرکت سے عیاں ہوتا ہے سنی سنائی باتوں سے وہ قطعاََ بے گانہ ہوتا ہے اس کا دل سچائیوں کا امین اور حقائق کی روشنیوں سے منور ہوتا ہے۔اس کی باتیں الہامی ہوتی ہیں ۔بالفاظ دیگر وہ کائنات کے حقیقی اسرار سے آگاہی رکھتا ہے۔ اس کی ہر بات ترجمان حقیقت ہوتی ہے۔اس سے پہلے بھی انبیا ء کرام علیہم السلام پر وحی آتی رہی ہے لیکن اب کی بار وحی آخری اور تازہ ترین ہے کیا یہ نبی ﷺ اس خدا کا بندہ نہیں؟ ہم اس کی باتوں کو کیسے سنی ان سنی کر سکتے ہیں۔
(تھامس کارلائل  انتہا درجے کا متعصب مستشرق ہونے کے باوجود یہ اعترافات کرنے پر مجبور ہوا )
2۔ مائیکل ہارٹ:۔
مائیکل ہارٹ ایک امریکی ادیب اور عیسائیت کا پیروکار تھا۔ اس نے "
The 100”کے نام سے عہد ساز شخصیتوں کے کارناموں پر مشتمل ایک کتاب لکھی۔ جس میں اس نے حضرت محمد ﷺ کو سرفہرست رکھا اور اس کی وجہ یوں لکھی: "اگر مارکونی ریڈیو ایجاد نہ کرتا تو چند سالوں بعد کوئی دوسرا آدمی یہ کارنامہ سرانجام دے سکتا تھا۔سپین کا برنانڈو اگر منظر عام پر نہ آتا تب بھی سپین میکسیکو پر قبضہ کر لیتا۔ ماہر حیاتیات چارلس ڈارون اگر تحقیق و جستجو نہ کرتا تب بھی نظریہ ارتقاء چند سالوں میں دنیا کے علم میں آ جاتا۔ لیکن حضرت محمد ﷺ وہ شخصیت ہیں کہ جو کارنامے انہوں نے سرانجام دیئے کسی دوسرے کے ہاتھوں انجام نہ پا سکتے تھے ۔"
3۔ ہمفرے:
یہ ایک برطانوی جاسوس تھا اور سلطنت اسلامیہ کا شیرازہ منتشر کرنے کی اس نے بے حد کوششیں کیں ایک مسلمان کا روپ دھار کر ملت اسلامیہ میں زہر گھولتا رہا۔اس کے باوجود سید عالم ﷺ کی ذات اقدس کے متعلق اپنے خیالات کا اظہار یوں کرتا ہے :"بہرحال میں حضور اکرم ﷺکی قدر و منزلت اور بزرگی کا قائل ہوں۔ بے شک آپ ﷺ کا شمار ان بافضیلت افراد میں ہوتا ہے جن کی کوششیں تربیت بشر کے لیئے ناقابل انکار ہیں اور تاریخ اس بات پر شاہد ہے" (ہمفرے کے اعترافات)
4۔ نپولین بونا پارٹ:
یہ 1799ء میں فرانس کا صدر منتخب ہوا اور 1804ء میں شہنشاہ بن گیا۔ تاریخ اسے فاتح اعظم کے نام سے یاد کرتی ہے۔حضور سید عالم ﷺ کو ان الفاظ کے ساتھ خراج تحسین پیش کرتا ہے :
"حضرت محمد ﷺ کی ذات گرامی ایک مرکز ثقل تھی  جس کی طرف لوگ کھنچے چلے آتے تھے۔ان کی تعلیمات نے لوگوں کو اپنا گرویدہ بنا لیااورایک گروہ پیدا ہو گیا جس نے چند ہی سالوں میں اسلام کا غلغلہ نصف دنیا میں بلند کر دیا۔ اسلام کے ان پیروکاروں نے دنیا کو جھوٹے خداؤں سے چھڑا لیا انہوں نے بت سرنگوں کر دیئے۔حضرت موسیٰ و عیسیٰ علیہ السلام کے پیروکاروں نے پندرہ سو سالوں مین کفر کی اتنی نشانیوں منہدم نہ کی تھیں جتنی انہوں نے پندرہ سالوں میں کر دیں۔حقیقت یہ ہے کہ حضرت محمد ﷺ کی ہستی بہت ہی بڑی تھی "(پیغمبر اسلام ﷺ غیر مسلموں کی نظر میں )
5۔ڈاکٹر ڈی رائٹ:
حضرت محمد ﷺ صرف اپنی ذات اور قوم ہی کے لیئے نہیں بلکہ دنیائے ارضی کے لیئے ابر رحمت تھے ۔تاریخ میں کسی ایسے شخص کی مثال موجود نہیں جس نے احکام خداوندی کو اس قدر مستحسن طریقے سے انجام دیا ہو۔ (اسلامک ریویو اینڈ مسلم انڈیا فروری 1920ء)
6۔ کونٹ ٹالسٹائی:۔
اس میں کسی قسم کا بھی شک و شبہ نہیں کہ حضور اکرم ﷺ ایک عظیم المرتب مصلح تھے۔جنہوں نے انسانیت کی خدمت کی  آپ ﷺ کے لیئے یہ فخر کیا کم ہے کہ آپ امت کو نور حق کی طرف لے گئے اور اسے اس قابل بنا دیا کہ وہ امن و سلامتی کی گرویدہ ہو جائےاور زہد و تقویٰ کی زندگی کو ترجیح دینے لگے ۔ آپ ﷺ نے اسے انسانی خونریزی سے منع فرمایا اس کے لیئے حقیقی ترقی و تمدن کی راہیں کھول دیں۔ اور یہ ایک ایسا عظیم الشان کام ہے جو اس شخص سے انجام پا سکتا ہے جس کے ساتھ کوئی مخفی قوت ہواور ایسا شخص یقیناََ اکرام و احترام کا مستحق ہے
(حمایت اسلام لاھور 1935ء)
7۔ ڈاکٹر ای اے فریمن:
اس میں کوئی شک نہیں کہ حضرت محمد ﷺ بڑے پکے اور راست باز ریفارمر تھے ۔ (معجزات اسلام)
8۔مسٹر سار مستشرق:
قرون وسطیٰ میں جب یورپ میں جہل کی موجیں آسمان سے باتیں کر رہی تھیں عربستان کے شہر سے نور تاباں کا ظہور ہواجس نے اپنی ضیاء باریوں سے علم و ہنر اور ہدایت کے چھلکتے ہوئے نوری دریا بہا دیئے۔ اسی کا طفیل ہے کہ یورپ کو عربوں کے توسط سے یونانیوں کے علوم و فلسفے نصیب ہو سکے (صوت الحجاز ذی قعدہ 1353ء)
9۔ ڈاکٹر لین پول:
اگر حضرت محمد ﷺ سچے نبی نہ تھے تو دنیا  میں کوئی برحق نبی آیا ہی نہیں ۔ (ہسٹری آف دی مورش ایمپائر یورپ)

10۔ ڈاکٹر بدھ ویر سنگھ دہلوی:

محمد صاحب ﷺ ایک ایسی ہستی تھے اس میں ذرہ بھر بھی شک نہیں کہ مسلمانوں کو چھوڑ کر جن کے عقیدہ کے لحاظ سے وہ ایک پیغمبر تھے دوسرے لوگوں کے لیئے ان کی سوانح عمری ایک نہایت ہی دل بڑھانے والی اور سبق آموز ثابت ہوئی ہے۔(رسالہ مولوی ربیع الاول 1351ء)

11۔ سوامی برج نارائن سنیاسی بی اے:

حقیقت بہرحال حقیقت ہے ۔اگر بغض و عباد کی پٹی آنکھوں سے ہٹا دی جائے تو پیغمبر اسلام ﷺ کا نورانی چہرہ ان تمام داغ دھبوں سے پاک و صاف نظر آئے گاجو بتلائے جاتے ہیں۔سب سے پہلی چیز یہ ہے کہ خدا نے پیغمبر اسلام ﷺ کو تمام کائنات کے لیئے سراپا رحمت بنا کر بھیجا ہے اور کائنات میں عالم انسان، عالم حیوان، عالم نباتات اور عالم جمادات سب شامل ہیں ۔(نقوش رسول نمبر ص 487)

12۔ کملا دیوی بی اے بمبئی:

اے عرب کے مہاپرش آپ وہ ہیں جن کی شکشا سے مورتی پوجا مٹ گئی اور ایشور کی بھگتی کا دھیان پیدا ہوا۔بے شک آپ نے دھرم سیوکوں میں وہ بات پیدا کر دی کہ ایک ہی سمے کے اندر وہ جرنیل کمانڈر اور چیف جسٹس بھی تھے اور آتما کے سدھار کا کام بھی کرتے تھے۔آپ نے عورت کی مٹی ہوئی عزت کو بچایااور اس کے حقوق مقرر کیئے۔آپ نے اس دکھ بھری دنیا میں شانتی اور امن کا پرچار کیااور امیر و غریب سب کو ایک سبھا میں جمع کیا۔ (الامان دہلی 17 جولائی 1932ء)

13۔ بابو جگل کشور کھنہ :

حضرت محمد ﷺ کی لائف اور آپ ﷺ کی بنیادی تعلیمات کے متعلق جان کر ہر شخص اس نتیجہ پر باآسانی پہنچ سکتا ہے کہ حضرت محمد ﷺ نے دنیا پر بہت احسانات کیئے ہیں۔اور دنیا نے آپ ﷺ کی تعلیمات سے بہت فائدہ اٹھایا۔صرف ملک عرب پر ہی آپ ﷺ کے احسانات نہیں بلکہ آپ ﷺ کا فیض تعلیم و ہدایت دنیا کے ہر گوشے میں پہنچا۔ غلامی کےخلاف سب سے پہلی آواز حضرت محمد ﷺ نے بلند کی  اور غلاموں کے بارے میں ایسے احکام جاری کیئے کہ ان کے حقوق بھائیوں کے برابر کر دیئے۔آپ نے عورتوں اور استریوں کے درجہ کو بلند کر دیا۔سود کو قطعاََ حرام قرار دے کر سرمایہ کاری کی جڑ پر ایسا کلہاڑا مارا کہ اس کے بعد پھر یہ درخت اچھی طرح پھل پھول ہی نہ سکا۔سود خوری ہمیشہ کے لیئے ایک لعنت ہی رہی ہے۔مساوات کی طرف ایک ایسا عملی اقدام کیا کہ اس سے قبل دنیا اس سے ناآشنا اور ناواقف تھی ۔حضرت محمد ﷺ نے نہایت پرزور طریقے سے توہمات کے خلاف جہاد کیااور نہ صرف اپنے پیروؤں کے اندر سے اس کی بیخ و بنیاد اکھاڑ پھینکی بلکہ دنیا کو ایک ایسی روشنی عطا کی کہ توہمات کے بھیانک چہرے اور اس کی ہیئت کے خدوخال سب کو نظر آگئے۔(رسالہ مولوی ربیع الاول 1351ء)

14۔بی ایس رندھاوا ہوشیارپوری:

حضرت محمد ﷺ کو جتنا ستایا گیا اتنا کسی بھی ہادی اور پیغمبر کو نہیں ستایا گیاایسی حالت میں کیوں نہ محمد صاحب ﷺ کی رحمدلی، شفقت اور مروت علی المخلوقات کی داد دو ں جنہوں نے خود تو ظلم و ستم کے پہاڑ اپنے سر اٹھا لیئے مگر اپنے ستانے والے اور دکھ دینے والے کو اف تک نہ کہا۔بلکہ ان کے حق میں دعائیں مانگیں ۔ اور طاقت و اقتدار مل جانے پر بھی ان سے انتقام نہ لیا ۔ بانیان مذاہب میں سب سے زیادہ کسی پر ظلم اور ناانصافی کی گئی ہے تو پیغمبر اسلام ﷺ پر۔اور کوشش کی گئی ہے کہ پیغمبر اسلام ﷺ کو ایک خونخوار اور بے رحم انسان دکھایا جائے اور خواہ مخواہ دوسروں کو ان سے نفرت دلائی جائے۔اس کا بڑا سبب یہ ہوا ہے کہ حضرت محمد ﷺ کی لائف پر تنقید کرنے والوں نے اسلامی تاریخ اور بانی اسلام کی صحیح سیرت کا مطالعہ کرنے کی زحمت ہی گوارا نہیں کی بلکہ سنی سنائی اور بے بنیاد باتوں کو سرمایہ بنا کر اعتراضات کی بوچھاڑ کر دی۔اگر وہ اسلامی روایات کو سمجھ لیتے اور سچائی کے اظہار کے لیئے اپنے اندر اگر کوئی جرات و ہمت پاتے تو ضرور اپنی رائے تبدیل کرنے پر مجبور ہو جاتے،

(حوالہ مذکور)

15۔ سوامی لکشمن رائے :

مفسر راز حیات حضرت محمد ﷺ کے سوا تاریخ عالم کے تمام صفحات زندگی اس قدر صحیح تفسیر کرنے والی کسی دوسری شخصیت عظمیٰ کے بیان سے خالی ہیں۔ وہ کون سی اذیتیں تھیں جو کفرستان عرب کے کافروں نے اپنے عقائد باطلہ کی حفاظت میں عرب کے اس بت شکن پیغمبر کو نہیں دیں۔وہ کون سے انسانیت سوز مظالم تھے جو عرب کے درندوں نے اس رحم و ہمدردی کے مجسمہ پر نہیں توڑے۔ وہ کون سے زہرہ گداز ستم تھے جو جہالت کے گہوارے میں پلنے والی قوم نے اپنے سچے ہادی پر روا نہیں رکھے۔مگر انسانیت کے اس محسن اعظم کی زبان فیض ترجمان سے بجائے بددعا کے دعا ہی نکلی ۔غیر مسلم مصنفوں کا برا ہو جنہوں نے قسم کھالی ہے کہ قلم ہاتھ میں لیتے وقت عقل کو چھٹی دے دیا کریں گے  اور آنکھوں پر تعصب کی ٹھیکری رکھ کر ہر واقعہ کو اپنی کج فیمی اور کج نگاہی کے رنگ میں رنگ کر دنیا کے سامنے پیش کریں گے۔آمکھیں چکا چوند ہو جاتی ہیں اور ان کے گستاخ اور کج رقم قلموں کو اعترافات کرتے ہی بنتی ہے کہ واقعی اس نفس کش پیغمبر ﷺ نے جس شان استغناء سے دولت، شہرت ، عزت اور حسن کی طلسمی طاقتوں کو اپنے اصولوں پر قربان کیا وہ ہر کس و ناکس کے بس کی بات نہیں ۔ عرب کے سربرآوردہ  بزرگوں نے اپنے عقائد باطلہ کی حفاظت کے لیئے اس آفتاب حقانیت کے سامنے جس کی ہر ایک کرن کفر سوز تھی ، ایک دوسرے سے بلکل متضاد اور مخالف راستے رکھ دیئے ۔اور ان کو اختیار دے دیا گیا کہ ان میں سے جو راستہ چاہیں حسب خواہش اختیار کر لیں۔ ایک طرف ریگستان عرب کی حسین سے حسین عورتیں  دولت کے انبار اور عزت و شہرت کی دستار قدموں میں نثار کرنے کو تیار تھیں اور دوسری طرف ذرہ ذرہ مخالفت کے طوفان اٹھا رہا تھا۔قتل کی دھمکیاں دی جاتی تھیں آوازے کسے جاتے تھے نجاستیں پھینکی جاتی تھیں راستے میں کانٹے بچھائے جاتے تھے ۔ تاریخ عالم اس حقیقت غیر مشتبہ پر شاہد عادل ہے کہ اس کے اوراق کو تزکیہ نفس کے ایسے فقید المثال مظاہرہ کا بیان کبھی نصیب میسر نہیں ہوا۔اس حق کوش پیغمبر کو جس کا مدعا نفس پروری سے کوسوں دور تھا دولت کی جھنکار اپنی طرف متوجہ نہیں کر سکی  شہرت کی طلسمی طاقت اس کے دل کو فریب نہ دے سکی  حسن اپنی تمام دل آویزوں سمیت نظر التفات سے محروم رہا۔ انہوں نے بلا تامل فیصلہ کن لہجہ میں کہہ دیااگر آپ لوگ چاند اور سورج کو میری گود میں لا کر ڈال دیں تو بھی میں تبلیغ حق سے باز نہیں آؤں گا۔
(نقوش رسول نمبر صفحہ 453)

16۔ وشوانرائن:۔

دولت، عزت اور جاہ و حشمت کی خواہش سے  آنحضرت ﷺ نے اسلام کی بنیاد نہیں ڈالی ۔ شاہی تاج ان کے نزدیک ذلیل اور حقیر شئے تھی۔تخت شاہی کو آپ ٹھکراتے تھے دنیاوی وجاہت کے طالب نہ تھے ۔ ان کی زندگی کا مقصد تو موت و حیات کے اہم زاویوں کا پرچار تھا۔0مدینہ جولائی 1932ء)

17۔ گاندھی:
وہ (رسول اکرم ﷺ) روحانی پیشوا تھے بلکہ ان کی تعلیمات کو سب سے بہتر سمجھتا ہوں۔ کسی روحانی پیشوا نے خدا کی بادشاہت کا ایسا جامع اور مانع پیغام نہیں سنایا جیسا  کی پیغمبر اسلام نے ۔
(ایمان پٹی ضلع لاہوراگست 1936ء)

18۔میجر آرتھر گلن لیونارڈ:

حضرت محمد ﷺ نہایت عظیم المرتبت انسان تھے ۔ وہ ایک مفکر اور معمار تھے انہوں نے اپنے زمانہ کے حالات کے مقابلہ کی فکر نہیں کی  اور جو تعمیر کی وہ صرف اپنے زمانہ ہی کے لیئے نہیں کی  بلکہ رہتی دنیا تک کے مسائل کو سوچا اور جو تعمیر کی  وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیئے کی ۔ (نقوش رسول نمبر )

19۔ ڈاکٹر شیلے:

حضرت محمد ﷺ گزشتہ اور موجودہ سبھی انسانوں سے افضل اور اکمل تھے اور آئیندہ ان کی مثال پیدا ہونا محال بلکہ ناممکن ہے ۔ (نقوش رسول نمبر)

20۔ سر فلیکڈ:

حضرت محمد ﷺ کی عقل ان عظیم ترین عقلوں میں سے تھی ۔جن کا وجود دنیا میں عنقاء کا حکم رکھتا ہے ۔ وہ معاملہ کی تہہ میں پہلی ہی نظر میں پہنچ جایا کرتے تھے ۔ اپنے خاص معاملات میں نہایت ایثار اور انصاف سے کام لیتے۔ دوست و دشمن، امیر و غریب، قوی و ضعیف ہر ایک کے ساتھ عدل و مساوات کا سلوک کرتے۔

21۔ جان ڈیون پورٹ:

حضور سرور عالم ﷺ کے حسن و جمال کے بارے میں رقمطراز ہیں

آپ ﷺ کی شکل شاہانہ تھی خدوخال باقاعدہ اور دل پسند تھے۔آنکھیں سیاہ اور منور تھیں۔بینی ذرا اٹھی ہوئی، دہن خوبصورت تھادانت نوتی کی طرح چمکتے تھے ۔ رخسار سرخ تھے  آپ ﷺ کی صحت نہایت اچھی تھی آپ کا تبسم دلآویز اور آواز شیریں اور دلکش تھی ۔(نقوش رسول نمبر)

اس کے علاوہ دنیا کی عظیم غیر مسلم شخصیات میں  یوکمباؤمائنٹ (بدھ لیڈر)،مانگ تونگ پیشوا بدھ مذہب،جارج برنارڈ شاہ، رابندر ناتھ،ٹیگور،ایس مارگو لیوتھ،مسٹر سکاٹ،جارج سیل،کونسٹن ورجیل جارجیو،کرنل سائکس،شیو پرساد،وہبی لکھنوی،رگھوناتھ خطیب سرحدی،جوش ملیسانی،تلوک چند محروم،نریش کمار شاد،ویاشنکرنسیم، عزت سنگھ عیش دہلوی،پنڈت ہری چندر اختر، نردیو سنگھ اشک دہلوی،بی ڈی اہلیہ بوڑ سنگھ، رام پیار لکھنوی،اروڑہ رائے، سالک رام سالک،شنکر لال ساقی،کنور مہندر سنگھ،بیدی سحر،سردار شیر سنگھ شمیم،بابا افضل کاشی،لالہ شنکر داس جی،فراق گھور کھپوری اور دیگر سیکڑوں اشخاص شامل ہیں ۔نثر کے علاوہ غیر مسلم شعراء نے بھی بارگاہ نبوی ﷺ میں منظوم خراج عقیدت پیش کیا ۔ ان اشعار میں حضور اکرم ﷺ کے ساتھ عقیدت و وارفتگی کا اقرار بھی ہے  اور حضور اکرم ﷺ کی آفاقی اور دائمی نبوت کا دلکش اظہار بھی ہے اور اسلام کی عظمتوں کا اعتراف بھی ۔ان میں پنڈت بال مکند عرش ملیسانی، چرن سرن نازمانک پوری،مہاراجی سرکشن پرشاد،رویندر جین رویندر،جان رابٹ جان،پنڈت جگن ناتھ پرشاد آنند،کالکا پرشاد،پنڈت رگھوندرراؤ تخلص جذب، لالہ امر چند جالندھری تخلص قیس، اودھے ناتھ لکھنوی تخلص نشتر، چوہدھری دلو رام کوثری، امر ناتھ ساحر شامل ہیں۔انہوں نے بارگاہ نبوی ﷺ میں دلی عقیدت کے اظہار کے ساتھ اقوام عالم کو یہی سبق دیا کہ حضور سید عالم ﷺ صرف مسلمانوں ہی کے راہبر و راہنما نہیں بلکہ آپ ﷺ عالم انسانیت کے تاجداراور ہر دور کے پیشوا ہیں۔ان اشخاص کی عقیدت سے حضور سرور کائنات ﷺ کی آفاقیت اور مرکزیت بھی ثابت ہوتی ہے کہ آپ ﷺ پوری کائنات کے مرکز نگاہ ہیں  اور ہر شخص آپ ﷺ کی داد رسی کا منتظر رہتا ہے ۔ان لوگوں نے جس ہستی بالا صفات کو خراج عقیدت پیش کیا اس کی عزت و عظمت کا سورج تاابد روشن رہے گا۔ بلکہ آنے والے ہر دور میں جو شخص بھی ہٹ دھرمی، تعصب اور بغض سے ہٹ کر سیرت النبی ﷺ کا مطالعہ کرے گا وہ عظمت رسول ﷺ کاپاسبان بن جائے گااور سید کائنات ﷺ کی آفاقیت اور مرکزیت کا قائل نظر آئے گا۔

لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِيْ رَسُولِ اللهِ

2017-06-14 02:30:59 

............. ﷽ .............
نبی مہربان #محمد_ﷺ
ایز اے
#بیسٹ_رول_ماڈل
کیا کوئی ایک بھی مثال پیش کر سکتا ہے کہ
نبی مہربان ﷺ 
سے بہتر کوئی ہستی دُنیا میں آئی ہے ؟؟؟ 
تو جواب ناں میں ہی ہو گا 
کیوں کہ آپ ﷺ جیسا نہ تو کوئی دُنیا میں 
آیا ہے اور نہ ہی قیامت تک آئے گا 
إن شاءالله العزيز و بعون اللہ تعالٰی
تاریخِ انسانی میں بہت سی نامور شخصیات گُزری ہیں 
جیسے کہ 
یونان کا أرسطو ہو یا پھر سکندرِ اعظم 
فرانس کا نپولین یا پھر چین کا ماؤزے 
جنوبی افریقہ کا نیلسن منڈیلا ہو یا پھر 
جرمنی کا ہٹلر 
پاپ اسٹار مائیکل جیکسن ہو یا پھر پکاسو ( مُصوّر )
سائنس کی دُنیا میں انقلاب برپا کرنے والا تھامس ایڈیسن ہو یا پھر ولیم شیکسپیئر( ناول نگار )
و غیر ھُم 
 ان میں سے ہر کوئی شعبہ ہائے زندگی میں سے ایک یا دو پر دسترس رکھتا تھا اور جب ہم باقی ماندہ شعبہ جات کا جائزہ لیں تو یہ سب اُن میں ناکام نظر آتے ہیں
 اور جب ہم نبی مہربان ﷺ کی مُبارك زندگی پر نظر دوڑاتے ہیں تو آپ ﷺ زندگی کے ہر شعبے
میں یکتا اور تنہا نظر آتے ہیں 
بحیثیتِ ............. باپ و شوہر 
بحیثیتِ ............. حاکم و مُنتظم 
بحیثتِ ............. داعی و مُبلغ 
بحیثتِ ............. قاضی و قانون داں 
بحیثتِ ............. فاتح و سپہ سالار 
بحیثتِ ............. عابد و زاہد 
غرضیکہ 
زندگی کے کسی بھی پہلو پر دیکھنا چاہیں تو 
آپ ﷺ ہر صفت کو بہترین طریقے سے سرانجام دیتے نظر آتے ہیں 
اسی لیے تو #الله_ﷻ نے ارشاد فرمایا کہ
" لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِيْ رَسُولِ اللهِ اُسْوَةٌ حَسَنَة "
" البتہ تحقیق تمہارے لیے اللہ کی رسول کی زندگی بہترین نمونہ ہے " 
اور اگر ہم آپ ﷺ کی کسی بھی صفت کو 
کماحقہ بیان کرنے کی کوشش کریں تو 
ناکامیاب ہی رہیں گے کیوں کہ
بقولِ شاعر ........
" خامہء ربّ کے سوا ، سارے قلم ہیں معذُور 
کوئی بھی مُحمّد ﷺ کا حق ادا نہیں کر سکتا " 
اور اسی طرح 
" زندگیاں بیت گئیں اور قلم ٹوٹ گئے 
آپ ﷺ کے اوصاف کا اک باب بھی پورا نہ ہوا "
اگر ہم 
بحیثتِ باپ .. آپ ﷺ کی زندگی کا جائزہ لیں تو 
آپ ﷺ نے ہمیں عمل کر کے بتلا دیا کہ 
اولاد کے حقوق کیا ہیں اور اُن کی تربیت کیسے کرنا ہے 
بحیثتِ شوہر .. آپ ﷺ کی زندگی پہ نظر ڈالیں تو 
 آپ ﷺ ہمیں گیارہ بیویوں کے درمیاں انصاف کرتے نظر آتے ہیں اُن کے ساتھ پیار و محبت اور اُن کی توقیر و تکریم کرتے نظر آتے ہیں 
بحیثتِ حاکم .. آپ ﷺ کے راج کا جائزہ لیں تو 
 آپ ﷺ عوام الناس کے قلوب و اذہان پر حکومت کرتے نظر آتے ہیں کہ آپ کے ایک اشارے پہ 
لوگ جان دینے کو سعادت سمجھتے ہیں 
بحیثتِ مُنتظم .. آپ ﷺ انتظامی اُمور کا جائزہ لیں تو 
آپ ﷺ کبھی بیت المال قائم کرتے ہیں تو کبھی زکوٰة کا نظام 
کبھی پڑوسیوں کے حقوق کے متعلق بتلاتے ہیں تو کبھی غُرباء و مساکین کی مدد کے لیے 
اہلِ ثروت و مالدار حضرات کو تلقین کرتے نظر آتے ہیں 
 بحیثتِ داعی و مُبلغ .. آپ ﷺ کی مساعی کی طرف دیکھا جائے تو آپ ﷺ کبھی اپنوں کے ہاتھوں ہی تکلیف اُٹھاتے نظر آتے ہیں تو کبھی اہلِ طائف کی جانب سے مارے گئے پتھروں سے لہولہان نظر آتے ہیں 
 تو کبھی شعبِ أبی طالب میں کسمپرسی کی زندگی گُزارنے پر مجبور اور کبھی اپنی جائے پیدائش کو چھوڑ کر ہجرت کے لیے مجبور نظر آتے ہیں 
 لیکن اللہ تعالٰی کی طرف سے مبعوث کی گئی ذمہ داری کو کماحقہ پورا کرتے ہیں اور کامیاب و کامران ٹھہرتے ہیں 
 بحیثتِ قاضی و قانون داں .. آپ ﷺ کی جانب سے بتائے گئے قوانین و ضوابط پر اک نظر ڈالیں تو آپ ﷺ فرماتے ہیں کہ قانون سب کے لیے یکساں ہے 
گورے کو کالے یا کالے کو گورے پر 
عربی کو عجمی پر اور عجمی کو عربی پر 
کوئی فوقیت حاصل نہیں إلا یہ کہ وہ کتنا مُتقی اور پرہیزگار ہے 
مُسلمان وہ ہے جس کی ہاتھ اور زبان سے دوسرے مُسلمان محفوظ رہیں 
چور کی جو سزا فاطمہ بنتِ ( ..... ) کے لیے ہے وہی سزا فاطمہ بنتِ مُحمّد ﷺ کے لیے ہے
 بحیثتِ فاتح و سپہ سالار ... آپ ﷺ کا جائزہ لیا جائے تو آپ ﷺ تقریباً ہر معرکہء حق و باطل میں إسلامی فوج کی قیادت کرتے ہوئے نظر آتے ہیں اور اپنے جاں نثاروں کو سختی سے تلقین کرتے ہیں کہ 
رستے میں یا دُشمنوں کے علاقوں میں آنے والی فصلوں ، مویشیوں کو نُقصان نہ پُہنچانا 
اور فتح کی صورت میں مفتُوحہ علاقوں میں 
 بچوں ، بُوڑھوں ، عورتوں اور ہتھیار پھینکنے والوں کو قتل نہ کرنا اور اس کی مثال اپنے بہترین عمل سے " فتح مَکّہ " کے موقع پر قائم کی جس کی نظیر پوری تاریخِ انسانی میں نہیں ملتی 
بحیثتِ عابد و زاہد .. آپ ﷺ کی حیاتِ مطہرہ کو دیکھا جائے تو 
 آپ ﷺ راتوں کو اُٹھ کر اپنے ربّ کی عبادت کرتے ہوئے نظر آتے ہیں معصوم و گناہوں سے پاک ہونے کے باوجود 
دن میں سو مرتبہ توبہ توبہ و استغفار کرتے ہوئے نظر آتے ہیں 
صدقہ و خیرات کرنے میں آپ کا کوئی ثانی نہیں 
رمضان المبارک کے علاوہ جمعہ و سوموار کے روزے کی پابندی کرتے ہوئے نظر آتے ہیں 
یہ تو تھیں چند خُصوصیات 
آپ ﷺ باقی ماندہ صفات کو بھی بخوبی سرانجام دیتے ہوئے نظر آتے ہیں 
ہم تمام اہلِ إسلام سے بالعموم اور 
کُفّار و مُلحدین کو دعوتِ توحید دیتے ہیں 
اور نبی مہربان ﷺ کی سیرتِ طیبہ کا مُطالعہ 
کرنے کی بھی دعوت دیتے ہیں کہ 
 اللہ رب العزت کی توفیق سے آپ بھی راہِ راست پر آ جائیں اسی میں دُنیا و آخرت کی کامیابی ہے 
وَ مَا عَلَیْنَا إِلَّا الْبَلَاغْ ........
اللہ سبحانه و تعالٰی !!! 
ہم سب کو ہدایت عطا فرمائے اور 
ہمارا خاتمہ بالإيمان فرمائے اور 
دُنیا و آخرت میں کامیابی عطا فرمائے 
آمِین یَا رَبَّ الْعٰلَمِیْن 
 وَ الصَّلاَةُ و َالسَّلَامُ عَلٰی رَسُولِ الله ﷺ

ظہورِ اسلام سے قبل ورلڈ آرڈر کی صورت حال

2017-07-27 05:54:29 
ظہورِ اِسلام سے قبل ورلڈ آرڈر کی صورت حال اگر ہم چھٹی صدی عیسوی سے دنیا کی تاریخ کا جائزہ لیں تو ہمیں معلوم ہوگا کہ چھٹی صدی عیسوی میں اس دنیا میں روم اور فارس کی دو بڑی سلطنتیں آپس میں خونریز جنگوں کی شکل میں محاذ آرا تھیں۔ فاتح سلطنت ہر جنگ کے بعد ایک ورلڈ آرڈر جاری کرتی جس کے تحت چھوٹی ریاستوں کو اپنا مطیع بنا لیا جاتا۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت کے وقت دنیا میں ملوکیت اور بادشاہت کا دور تھا۔ سرِ زمین عرب کا جنوبی حصہ سلطنتِ حبش کے پاس تھا، مشرقی حصہ سلطنتِ فارس کے قبضہ میں تھا اور شمالی حصہ پر سلطنتِ روم قابض تھی۔ ملک عرب ایک وحدت کی بجائے کئی خود مختار قبیلوں میں منقسم تھا۔ دو طاقتی نظام رائج تھا۔ طاقت کا توازن اس وقت کی دو بڑی سلطنتوں روم اور فارس نے سنبھالا ہوا تھا۔ مگر یہ نظام بری طرح ناکام ہوا اور عالمی امن قائم نہ رہ سکا۔ کیونکہ ان میں سے کسی سلطنت کا ورلڈ آرڈر انصاف، صلح اور مساوات پر مبنی نہ تھا بلکہ یہ ورلڈ آرڈر توسیع سلطنت کی خواہش اور اقتدار کی ہوس پر مبنی تھا۔ خطبہ حجۃ الوداع اور اِسلامک ورلڈ آرڈر کا اِعلان ان حالات میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت ہوئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے 23 سال کی جد و جہد کے بعد ایک ایسا معاشرہ قائم کر کے دکھایا جو قیامت تک کے لئے قابلِ تقلید تھا اور پوری دنیا کی رہنمائی کے لئے ایک ورلڈ آرڈر جاری کیا جس کا باضابطہ اعلان خطبہ حجۃ الوداع میں کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : لوگو! خبردار! پچھلا عالمی نظام جو استحصال، ظلم، ناانصافی اور جبر و تشدد پر مبنی تھا آج وہ ختم ہو رہا ہے۔ اسے میں اپنے قدموں تلے روند رہا ہوں اور کائناتِ انسانی کو نیا عالمی نظام عطا کر رہا ہوں۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے 10ھ میں آخری حج ادا فرمایا جسے حجۃ الوداع کے نام سے تعبیر کرتے ہیں۔ اس موقع پر بتاریخ 9 ذی الحجہ میدان عرفات میں آپ نے خطبہ حجۃ الوداع ارشاد فرمایا جو عالم انسانیت کے لئے انسانی حقوق کا پہلا باقاعدہ چارٹر (Charter of Human Rights) اور اقوام عالم کے لئے نیا عالمی نظام (New World Order) تھا۔ خطبہ حجۃ الوداع کو تاریخ انسانی میں نیو ورلڈ آرڈر کی حیثیت کیسے حاصل ہے اس حقیقت کی طرف حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے درج ذیل الفاظ میں خود اشارہ فرما دیا ہے : 1۔ نئے عالمی نظام کا آغاز إنّ الزمان قد استدار کهيئته يوم خلق اﷲ السماوات والأرض. ’’(اور دیکھو) اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان (یعنی نظامِ عالم) کو جس حالت پر پیدا کیا تھا، زمانہ اپنے حالات و واقعات کا دائرہ مکمل کرنے کے بعد پھر اس مقام پر دوبارہ آگیا ہے۔‘‘ 1. بخاری، الصحيح، کتاب بدء الخلق، باب ما جاء في سبع أرضين، 3 : 1168، رقم : 3025 2. بخاری، الصحيح، کتاب الأضاحی، باب من قال الأضحی يوم النحر، 5 : 2110، رقم : 5230 3. مسلم، الصحيح، کتاب القسامه، باب تغليظ تحريم الدماء، 3 : 1305، رقم : 1679 4. أبو داود، السنن، کتاب المناسک، باب الأشهر الحرم، 2 : 195، رقم : 1947 5. ابن کثير، البداية والنهاية، 1 : 19 6. شيباني، الکامل في التاريخ، 2 : 171 7. ابن خلدون، تاريخ ابن خلدون، 2 : 480 8. طبری، تاريخ الأمم والملوک، 2 : 205 9. ابن سعد، الطبقات الکبریٰ، 2 : 186 گویا زبانِ نبوت اس امر کا اعلان فرما رہی تھی کہ نظام عالم کے ایک دور کا خاتمہ ہوچکا ہے اور آج سے دوسرے دور کا آغاز ہو رہا ہے اور میں دنیائے انسانیت کو نظامِ عالم کے نئے دور کے آغاز پر ’’خطبہ حجۃ الوداع‘‘ کے ذریعے بالخصوص اور اپنی تعلیمات و ہدایات کے ذریعے بالعموم نیا عالمی نظام عطا کر رہا ہوں۔ 2۔ سابقہ جاہلانہ اور ظالمانہ نظام کی منسوخی ضروری تھا کہ اس موقع پر آپ پچھلے نظام اور اس کے جاہلانہ اُمور کو منسوخ کرنے کا اعلان بھی فرماتے۔ سو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ألا! کلّ شيء من أمر الجاهلية تحت قدمي موضوع، ودماء الجاهلية موضوعة، . . . ورباء الجاهلية موضوع. ’’خبردار! دورِ جاہلیت کا سارا (ظالمانہ اور استحصالی) نظام میں نے اپنے پاؤں تلے روند ڈالا ہے۔ آج سے نظامِ جاہلیت کے سارے خون (قصاص، دیت اور انتقام) کالعدم قرار دیئے جاتے ہیں اور آج سے نظامِ جاہلیت کے سارے سودی لین دین بھی ختم کئے جاتے ہیں۔‘‘ 1. مسلم، الصحيح، کتاب الحج، باب حجة النبی، 2 : 889، رقم : 1218 2. ابن حبان، الصحيح، 9 : 257، رقم : 3944 3. دارمی، السنن، 2 : 69، رقم : 1850 ان دو اعلانات کے بعد اس امر میں کسی شک کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہ جاتی کہ خطبہ حجۃ الوداع فی الحقیقت ’’نیو ورلڈ آرڈر‘‘ کا ہی اعلان تھا۔ اب ہم یہ جائزہ لیتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عطا کردہ نیو ورلڈ آرڈر کے اہم پہلو کیا تھے؟ 3۔ عالمی اَمن کے قیام کا اِعلان اس اسلامک ورلڈ آرڈر کا سب سے اہم پہلو عالمی سطح پر قیام امن تھا۔ اقوام، ممالک اور قبائل ہمہ وقت قتل و غارت گری اور جنگ وجدال کے فساد انگیز عمل میں مبتلا رہتے تھے۔ قبائل میں لامتناہی جنگوں کے سلسلے جاری رہتے تھے، انسانی خون نہایت ارزاں ہوگیا تھا اور معمولی معمولی بات پر تلواریں نکل آتیں اور دیکھتے ہی دیکھتے نسلیں خون آشام منظر کی بھینٹ چڑھ جاتیں۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان ہولناک حالات میں عالمی سطح پر قیام امن کا اعلان ان الفاظ میں فرمایا : فإن دماء کم وأموالکم وأعراضکم عليکم حرام کحرمة يومکم هذا في بلدکم هذا في شهرکم هذا. ’’اے بنی نوع انسان! بیشک تمہاری جانیں اور تمہارے اموال اور تمہاری عزتیں تم پر حرام کر دی گئی ہیں جس طرح آج کے دن کی حرمت اور اس مہینہ کی حرمت تمہارے اس شہر میں برقرار ہے۔‘‘ 1. بخاری، الصحيح، کتاب الحج، باب الخطبة أيام الحج، 2 : 619، رقم : 1652 2. مسلم، الصحيح، کتاب القسامة، باب المجازة بالدماء، 3 : 1306، رقم : 1678 3. ترمذی، السنن، کتاب تفسير القرآن، باب ومن سورة التوبة، 5 : 273، رقم : 3087 4. ابن ماجه، السنن، کتاب المناسک، باب الخطبة يوم النحر، 2 : 1016، رقم : 3058 5. أحمد بن حنبل، المسند، 4 : 337، رقم : 18986 جس میں تم ایک دوسرے کی بے حرمتی نہیں کر سکتے اسی طرح تم کبھی ایک دوسرے کی جان و مال کی بے حرمتی بھی نہیں کر سکتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس حکم کو مزید ان الفاظ کے ذریعے مؤکد فرمایا : ألا فلا ترجعوا بعدی ضلالًا يضرب بعضکم رقاب بعض. ’’خبردار! تم میرے بعد پلٹ کر پھر گمراہ نہ ہوجانا یوں کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو (یہ سب سے بڑی گمراہی ہوگی)۔‘‘ 1. بخاری، الصحيح، کتاب المغازی، باب حجة الوداع، 4 : 1599، رقم : 4144 2. بخاری، الصحيح، کتاب التوحيد، باب قول اﷲ تعالی، 6 : 2710، رقم : 7009 3. مسلم، الصحيح، کتاب القسامة، باب تغليظ تحريم الدماء، 3 : 1305، رقم : 1679 4. أحمد بن حنبل، المسند، 5 : 37 5. ابن حبان، الصحيح، 13 : 313، رقم : 5974 6. بيهقی، السنن الکبریٰ، 5 : 165، رقم : 9554 4۔ عالمی اِنسانی مساوات کا قیام حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انسانی نسلوں، طبقوں اور معاشروں کی ایک دوسرے پر مصنوعی فضیلت و برتری کے سب دعوؤں کو ختم فرما دیا اور انسانی مساوات کا عالمی اعلان فرما کر ساتھ ہی باہمی فضیلت کا دائمی عادلانہ اصول بھی مقرر فرمادیا۔ ارشاد فرمایا : الناس بنو آدم وآدم من تراب. ’’تمام بنی نوع انسان، آدم کی اولاد ہیں اور آدم مٹی سے تخلیق کئے گئے تھے۔‘‘ 1. ترمذی، السنن، کتاب المناقب، باب فضل الشام، 5 : 735، رقم : 3956 2. أبوداود، السنن، کتاب الأدب، باب فی التفاخر، 6 : 331، رقم : 5116 ألا! کل مأثرة أو دم أو مال يدعی به فهو تحت قدمی هاتين. ’’اب فضیلت و برتری کے سارے (جھوٹے) دعوے، جان و مال کے سارے مطالبے اور سارے انتقام میرے پاؤں تلے روندے جاچکے ہیں۔‘‘ ابن کثير، تفسير القرآن العظيم، 1 : 516 طبری، تاريخ الأمم والملوک، 2 : 161 أيها الناس، إن ربکم واحد وأباکم واحد. ’’اے لوگو! تم سب کا رب ایک ہے، اور باپ بھی ایک ہے۔‘‘ هيثمی، مجمع الزوائد، 3 : 266 إن أکرمکم عند اﷲ أتقاکم فليس لعربی علی عجمی فضل ولا لعجمی علی عربی ولا لأسود علی أبيض ولا لأبيض علی أسود فضل إلا بالتقوي. (اس وحدت نسل انسانی کے باعث تم سب برابر ہو) مگر تم میں بزرگ و برتر وہی ہے جو زیادہ پرہیزگار (بہتر کردار کا مالک) ہے۔ پس کسی عربی کو عجمی پر اور کسی عجمی کو عربی پر کوئی برتری نہیں اور نہ ہی کسی کالے کو گورے پر اور کسی گورے کو کالے پر برتری حاصل ہے ساری برتریاں، کردار و عمل پر مبنی ہیں۔‘‘ طبرانی، المعجم الکبير، 18 : 12، رقم : 16 یہ مساوات انسانی کا وہ عالمی اصول تھا جس پر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بین الاقوامی سطح پر جمہوری اور عادلانہ انسانی معاشرے کی بنیاد رکھی یہی اصول آگے چل کر عالمی جمہوریت کے قیام (Establishment of World Democracy) کا باعث بنا۔ 5۔ معاشی و اِقتصادی اِستحصال کا خاتمہ (Eradication of Economic Exploitation) حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسی ورلڈ آرڈر کے ذریعے سود کو استحصالی نظام قرار دے کر اسے کلیتاً مسترد بلکہ ختم کرنے کا اعلان فرمایا۔ ارشاد فرمایا : وإن کل ربا موضوع ولکم رؤوس أموالکم لا تظلمون ولا تظلمون. ’’بے شک آج سے ہر قسم کا سود (اور سارا سودی نظام) منسوخ کیا جاتا ہے تم اپنے سرمائے کے سوا نہ کچھ لے سکتے ہو اور نہ کچھ دے سکتے ہو۔ نہ تم سودی لین دین کی شکل میں ایک دوسرے پر ظلم کرو اور نہ قیامت کے دن تم پر ظلم کیا جائے گا۔‘‘ ابويعلی، المسند، 3 : 139، رقم : 1596 قضی اﷲ أنه لا ربا. ’’یہ فیصلہ اللہ تعالیٰ نے فرما دیا ہے کہ سود (اور اس پر مبنی ہر قسم کا اقتصادی استحصال) ممنوع ہے۔‘‘ طبری، تاريخ الأمم والملوک، 2 : 205 ابن خلدون، تاريخ ابن خلدون، 2 : 480 6۔ عورتوں کے حقوق کا تحفظ (Protection of Women Rights) حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سابقہ عالمی نظام میں خواتین پر روا رکھے گئے تمام مظالم کے خاتمے کا اعلان فرمایا اور ان کے حقوق کے تحفظ کی ضمانت فراہم کی۔ ارشاد فرمایا : أيها الناس! فإن لکم علی نسائکم حقًا ولهن عليکم حقًا . . . واستوصوا بالنساء خيرًا، فاتقوا اﷲ في نسائکم. ’’اے لوگو! بے شک تمہارے کچھ حقوق عورتوں پر واجب ہیں اور اسی طرح عورتوں کے کچھ حقوق تم پر واجب ہیں (ان کی پوری طرح حفاظت کرنا) عورتوں سے ہمیشہ بہتر سلوک کرنا اور عورتوں کے حقوق کے معاملے میں ہمیشہ اللہ سے ڈرتے رہنا۔‘‘ طبری، تاريخ الأمم والملوک، 2 : 206 ابن خلدون، تاريخ ابن خلدون، 2 : 480 7۔ زیردست اور افلاس زدہ اِنسانیت کے حقوق کا تحفظ (Protection of Rights of the Poor and Depressed Classes) حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عالمی سطح پر عادلانہ اور غیر استحصالی انسانی معاشرہ قائم کرنے کے لئے یہ عظیم انقلابی اعلان بھی فرمایا : أرقّائکم أرقّائکم اطعموهم مما تأکلون واکسوهم مما تلبسون. ’’لوگو! زیردست انسانوں کا خیال رکھنا، زیر دستوں کا خیال رکھنا۔ انہیں وہی کچھ کھلاؤ جو خود کھاتے ہو اور ایسا ہی پہناؤ جیسا تم خود پہنتے ہو۔‘‘ 1. ابن سعد، الطبقات الکبری، 2 : 185 2. طبرانی، المعجم الکبير، 22 : 243، رقم : 636 3. منذری، الترغيب والترهيب، 3 : 150، رقم : 3449 اس اعلان نے عالمی نظام سے غلامی کے خاتمے کی بنیاد رکھ دی۔ اور انسانی طبقات میں غیر فطری تفاوت کے خلاف انقلاب آفریں نظام وضع کردیا۔ الغرض حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے خطبہ حجۃ الوداع کے ذریعے انسانیت کو ایسا نیو ورلڈ آرڈر (نیا عالمی نظام) عطا فرمایا جو آج بھی زندہ و تابندہ ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ آج عالم اسلام عملاً اس کی قدر و قیمت کا صحیح اندازہ کر رہا ہے یا نہیں۔ اسلام کی تاریخ میں یہ نیو ورلڈ آرڈر آج بھی دنیا کو ایسے اصول فراہم کرتا ہے جن پر عمل پیرا ہوکر دنیا امن کا گہوارہ بن سکتی ہے اس لئے امت مسلمہ کو رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عطا کئے ہوئے ورلڈ آرڈر کی موجودگی میں کسی اور ورلڈ آرڈر کی ضرورت نہیں۔ اسلامک ورلڈ آرڈر کے تحت پوری دنیا سے ظلم و نا انصافی کے خاتمے اور نظام مساوات و انصاف کے نفاذ کی عملی جدوجہد کا آغاز ہوا اور جلد ہی اسلام کی اس ابھرتی ہوئی طاقت نے روم اور فارس کی دونوں عالمی استحصالی طاقتوں کو چیلنج کردیا اور ان طاقتوں کو عبرتناک شکست سے دوچار ہونا پڑا۔ یوں دنیا میں اسلامک ورلڈ آرڈر کا نفاذ کر دیا گیا۔ اس ورلڈ آرڈر کے نفاذ سے بدامنی اور ظلم و بربریت کا خاتمہ ہوگیا اور ایک ایسے بین الاقوامی معاشرے کا آغاز ہوا جس میں خیر، تعمیر، ارتقاء اور عدل ہی عدل تھا۔ جو انسان کے بنیادی حقوق کا ضامن تھا۔ جس میں بین الاقوامی قوانین کی پاسداری، عالمی امن کے قیام، پر امن بقائے باہمی، غلامی سے نجات، حق کی معاونت اور ظلم سے نجات کے سنہری اصول دیئے گئے تھے۔ اسلامک ورلڈ آرڈر کے سنہری اصولوں کے تحت خلفائے راشدین کے عہد خلافت میں 661ء تک مسلمانوں نے جتنے علاقوں کو فتح کیا وہاں کے غیر منصفانہ اور مستبدانہ قوانین کو منسوخ کردیا گیا۔ اور وہاں کی آبادی کو ہی اقتدار میں شریک کیا گیا۔ عہد خلافت راشدہ اور دور بنو امیہ سے لے کر سلطنت عثمانیہ (موجودہ بیسویں صدی عیسوی کے اوائل) تک مسلمانوں نے اسلامک ورلڈ آرڈر کے اصولوں کے مطابق بین الاقوامی سیاست میں نمایاں کردار ادا کیا اور مسلمانوں کے ہر فاتح نے انہی اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی داخلہ و خارجہ پالیسیوں کو تشکیل دیا۔

جدید انسانی مسائل اور سیرت رسول ص

2017-07-27 06:04:39 

جدید اِنسانی مسائل کے تناظر میں سیرۃُ الرسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مطالعہ سیرت الرسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عصری اور بین الاقوامی اہمیت کا دوسرا پہلو جدید انسانی مسائل کے حوالے سے اجاگر ہوتا ہے۔ آج انسانیت عالمی سطح پر کئی پیچیدہ مسائل میں گھری ہوئی ہے، اقوام متحدہ (UNO) سے لے کر ہر ملک کی غیر سرکاری سماجی تنظیمات (NGOs) تک ان انسانی مسائل کے حل کے لئے پریشان ہیں۔ مگر یہ حقیقت تقویتِ ایمان کا باعث ہے جو عالمی انسانی مسائل موجودہ دور میں پریشانی کا باعث بن رہے ہیں سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قرآن و سنت کی تعلیمات اور اسوہ حسنہ کی صورت میں ان کا حل چودہ صدیاں قبل ہی عطا فرما دیا تھا۔ اب ہماری ذمہ داری ان عصری مسائل کا حل تلاش کرنا نہیں بلکہ بارگاہ مصطفوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ملنے والے حل کو نافذ اور رُو بہ عمل کرنا ہے۔ آج بین الاقوامی سطح پر پریشان کن اہم انسانی مسائل میں سے چند ایک درج ذیل ہیں : 1۔ آفاقی اَقدارکا قیام (Establishing Universal Values) آج کے دور کا یہ المیہ ہے کہ بین الاقوامی تعلقات اور سیاسی روابط کی بنیاد ان اقدار پر رکھ دی گئی جو مقامی اور محدود مفادات ہی کی حفاظت کرنے والی ہیں۔ اسلام اپنے مزاج کے لحاظ سے محدود اور مقامی مفادات کا تحفظ کرنے والی اقدار کی بجائے آفاقی اور انسانی اقدار کا امین نظام حیات ہے۔ اس حقیقت کا اعتراف کرتے ہوئے ایک مغربی مفکر لکھتا ہے : Christianity and Islam -offer universal values to the community of mankind. When aliens are made in societies about 'cultural authenticity', they are most often made about religious totems.(1) ’’عیسائیت اور اسلام بنی نوع انسان کیلئے آفاقی اقدار پیش کرتے ہیں۔ جب معاشرے میں اجنبی عناصر سے ثقافتی ثقاہت کا مطالبہ کیا جاتا ہے تو اکثر و بیشتر اس کا تعلق مذہبی نشانات سے ہوتا ہے۔‘‘ (1) Simon Murden, Culture in World Affairs in John Baylis & Steve Smith's The Globalization of World Politics, OUP, 2001, p. 457. فطری امر تو یہ تھا کہ آج ایک عادلانہ، منصفانہ اور انسانیت نواز عالمی نظام کا قیام اسلام ہی کا منصب ہوتا جیسے کہ اسلام کے غلبہ کاابتدائی دور میں رہا۔ لیکن اسلام کے اپنے اس فطری منصب سے انحراف کا نتیجہ یہ ہے کہ عالمی نظام کی تشکیل ان اقوام و ملل کے ہاتھوں میں چلی گئی جو آج تک نسلی، لسانی اور جغرافیائی بندہنوں سے آزاد نہیں ہو سکی۔ اس امر کا اظہار آج کے مغربی سیاسی مفکرین کی تحریروں سے بھی ہوتا ہے۔ A universal civilization, Huntington argues, is purely a Western dream; civilizations have been maintaining and even reinforcing their distinctions throughout the late 20th century However, if civilizations do adapt to meet new conditions, especially material conditions, as the modern view might suggest and if life within the world's major civilizations is gradually encountering similar, if not identical, material conditions, then those civilizations should tend to converge, at least to some degree, in the face of those similar challenges.(1) ’’ہنٹنگٹن کے مطابق عالمی تہذیب خالصتاً مغربی خواب ہے۔ پوری بیسویں صدی کے دوران تہذیبیں اپنے امتیازات کو قائم رکھنے اور انہیں نافذ کرنے کے لیے جدوجہد کرتی رہیں۔ تاہم اگر تہذیبیں نئے حالات کو اختیار کر لیں، خصوصاً مادی صورتحال کو جیسا کہ جدید نکتہ نظر تجویز کرے گا اور اگر دنیا کی بڑی تہذیبوں میں زندگی بتدریج اس طرح کی گو غیر مماثل مادی صورتحال کا سامنا کرے تو ان تہذیبوں کو کم از کم اس درجے تک ان ایک جیسے چیلنجز کا سامنا کرنے کیلئے اکٹھا ہو جانا چاہیے۔‘‘ (1) Christian Stracke; The Clash of Civilizations and the Remaking of the World Order, Journal of International Affairs, Vol. 51, 1997. یہی وجہ ہے کہ مغرب کے تصادم پر مبنی سیاسی فلسفے کا اثر ان اقوام کے فکر وعمل میں بڑا واضح نظر آتا ہے۔ مثلا یورپ کے سیاسی طرز فکرو عمل کو متعین کرنے میں کئی حوالوں سے سیموئل ہنٹٹنگٹن کی فکر نے کلیدی کردار ادا کیا : Huntington's focus upon an Islamic threat to the EU paralleled the approach of European strategists. His explicit identification of a "danger" to the Union from outside and from inside was not an approach that senior EU figures pursued publicly : it did however complement the position taken by populist politicians and by organizations of the extreme Right.(1) ’’ہنٹٹنگٹن کا اسلامی دنیا کو یورپی یونین کے لیے خطرہ قرار دینا یورپی حکمت عملی کے متوازی رہا۔ یورپی یونین کے لیے اندرون اور بیرون کی طرف سے خطرے کی اس واضح نشاندہی ایسا نقطہ نظر نہ تھا جسے پوری یونین کی اعلیٰ شخصیات قبول اور اختیار کر لیتیں۔ تاہم اس مؤقف کو اتنی تقویت ضرورملی کہ اسے انتہائی دائیں بازو کے عوامی سیاستدانوں، تنظیموں نے اختیار کیا۔‘‘ (1) Philip Marfleet, The "Clash" Thesis : War and Ethnic Boundaries in Europe, Arab Studies Quarterly, vol. 25, 2003. جبکہ آج کے عالمی سیاسی منظر نامہ اس امر کا متقاضی ہے کہ بین الاقوامی تعلقات کی بنیاد ایسے اقدار پر رکھی جائے جو بقائے باہمی کی ضامن ہوں۔ اس تقاضے کی اہمیت کو بیان کرتے ہوئے ایک مغربی مفکر لکھتا ہے : For the furtherance of peace in this world and the reception of human rights into all cultures, these difficult questions should be discussed in a dialogical way, that is, openly with mutual understanding, reciprocal witnessing and critical questioning. In such a dialogue western individualism will be subject to correction.(1) ’’دنیا میں امن کے فروغ اور تمام ثقافتوں میں انسانی حقوق کے فروغ کے لئے ان مشکل سوالات کو مکالماتی طور پر زیر بحث لانے کی ضرورت ہے یعنی وسیع طور پر باہمی افہام و تفہیم، باہمی شہادتوں اور تنقیدی سوالات کے ذریعے۔ ایک ایسے مکالمے میں انجام کار مغربی تصور فرد کو اپنی تصحیح کرنا ہوگی۔‘‘ (1) Abd Allah Ahmad Na'im, Human Rights and religious Values, p. vii. یہ تصور کہ دنیا کا موجودہ عالمی نظام جس فکر پر مبنی ہے وہ کئی حوالوں سے محل نظر ہے آج مغرب کے سلیم الفکر مفکرین میں عام ہو رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سیموئل ہنٹٹنگٹن کا پیش کردہ نظریہ تنقید کا نشانہ بھی بن رہا ہے : Even Huntington's most ardent admirers have viewed the thesis in this light : Robert Kaplan, for example, sees it as an analysis of American security needs set "in the most tragic, pessimistic terms.(2) ’’ہنٹنگٹن کے بہت پر جوش مداح بھی اس کے نظریئے کو تنقید کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ مثلاً رابرٹ کیپلین، اسے امریکی تحفظ کا ایسا تجزیہ قرار دیتا ہے جو بہت ہی المیاتی اور مایوس کن انداز سے کیا گیا ہے۔‘‘ (2) Philip Marfleet; The "Clash" Thesis : War and Ethnic Boundaries in Europe, Arab Studies Quarterly, Vol. 25, 2003. اندریں حالات انسانیت کو آفاقی اقدار پر مبنی نظام کی احتیاج صرف حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عطا کردہ تعلیمات پر مبنی نظام ہی پوری کر سکتا ہے۔ جس کا سب سے بڑا ثبوت حقوق انسانی کا ہمہ گیر چارٹر خطبہ حجۃ الوداع ہے۔ 2۔ تصادم کی بجائے مکالمے کی ضرورت (Preferring Dailogue on Clash) آج کی جدید سیاسی فکر نے بین الاقوامی تعلقات اور بین الملل روابط ثقافت کو قرار دیا ہے۔ ہر قوم کی اپنی نمایاں اور انفرادی ثقافتی شناخت ہوتی ہے لحاظہ جہاں کہیں ثقافتی اقدارمیں اختلاف و تضاد واقع ہو گا، ثقافتی شناخت کو ترجیح دینے کے ناطے یہ تصادم پر منتج ہو گا۔ ثقافت کے اس کردار کا ذکر کرتے ہوئے ایک مغربی مصنف لکھتا ہے : Toynbee's influence on Huntington is clear throughout his treatment of what civilizations are and why they are important. Civilizations, Huntington explains, are broad cultural entities that unite individuals around common mores, traditions and institutions. As such, they are "the most enduring of human associations," and are therefore the foundations of long-term historical continuity Because civilizations are, after blood and tribe, the most important factors binding individuals together into potential political identities, they are naturally the most important actors in the field of global politics.(1) ’’تہذیبوں کی نوعیت اور ان کی اہمیت بیان کر نے کے پورے عمل کے دوران ہنٹٹنگٹن پر ٹوائن بی کا اثر بڑا واضح ہے۔ ہنٹٹنگٹن کی وضاحت کے مطابق تہذیبیں وسیع ثقافتی حقیقتیں ہیں جو افراد کو مشترک سماجی اقدار، طور طریقوں، روایات اور اداروں پر متحد کرتی ہیں۔ اس طرح سے یہ انسانی ہم آہنگی اور وابستگی کی دیرپا بنیادیں ہیں اور اس لئے یہ طویل المیعاد تاریخی تسلسل کی بنیاد بھی ہیں ۔چونکہ تہذیبیں خون اور قبیلے کے رشتے کے بعد افراد کو مخفی سیاسی شناخت میں منسلک کرنے کرنے والی سب سے موثر ترین عوامل ہیں، سو قدرتی طور پر یہ عالمی سیاست کے میدان میں بہت ہی اہم عوامل ہیں۔‘‘ (1) Christian Stracke, The Clash of Civilizations and the Remaking of the World Order, Journal of International Affairs, vol. 51, 1997. تاریخی ارتقاء پر نظر رکھنے والے اہل علم سے یہ امر پوشیدہ نہیں کہ مغرب کا تصادم کا یہ تصور نیا نہیں بلکہ صدیوں پرانا ہے : The clash thesis is not novel. It draws upon a tradition that emerged in Europe at the birth of the nation-state and accompanied European expansion across the world. This was the idea that, notwithstanding the intense rivalry between such states, people of Europe held in common attributes superior to those of all other human beings. Expressed in the "civilizing" missions of specific states these gave meaning to colonialism and had the effect of complementing ideologies of nation which were of immense importance in cohering unstable domestic populations. The idea of a civilizing Europe was as important "at home" as it was abroad : it was indeed a "security" measure much like Huntington's defense of U.S. interests in the 1990s. Here "civilization" has an ideological function in the classical sense : it is part of a body of ideas which endorse relations of inequality and of domination of a majority of people by a small number of others.(1) ’’تصادم کا نظریہ کوئی نئی بات نہیں۔ اس کی بنیاد اس روایت پر ہے جو یورپ میں قومی سیاست کی ابتداء سے وجود میں آئی اور دنیا پر یورپی توسیع کے ساتھ بڑھتی گئی۔ یہ تصور یوں تھا کہ ان ریاستوں کے مابین شدید رقابت کے باوجود یورپ کے لوگوں نے بقیہ عالم انسانیت سے کچھ فائق خصوصیات اختیار کرلیں۔ کچھ خاص ریاستوں کے تہذیبی مشن کے اظہار کے مطابق انہوں نے نوآبادیت کو معنی دیا اور قوم کی تکمیل کرنے والے نظریات پر اس کا اثر ہوا جو کہ غیر مستقل مقامی آبادی کے باہمی ربط کے قیام میں نمایاں اہمیت کا حامل تھا۔ ایک تہذیب پذیر یورپ کا تصور جتنا اندرون ملک عام تھا اتنا بیرون ملک بھی۔ یہ بلاشبہ ایک طرح کا حفاظتی اقدام تھا جیسا کہ 1990ء کی دہائی میں ہنٹٹنگٹن نے امریکی مفادات کا دفاع کیا۔ یہاں کلاسیکل معنوں میں تہذیب کا ایک نظریاتی عمل ہے۔ یہ ان تصورات پر مشتمل ہے جو غیر مساویانہ تعلقات اور اکثریتی آبادی پر دوسری قوم کے چند لوگوں کے غلبے کی توثیق کرتے ہیں۔‘‘ (1) Philip Marfleet, The "Clash" Thesis : War and Ethnic Boundaries in Europe , Arab Studies Quarterly, vol. 25, 2003. ثقافتی شناخت کی بنیاد پر پیدا ہونے والے موجودہ عالمی تصادم کی جڑیں حصول بقا کو لاحق خوف میں موجود ہیں۔مغربی دنیا بزعم خویش اپنے ثقافتی نظام کیلئے اسلام کی ثقافتی اقدار کو ایک خطرہ تصور کرتی ہیں : For Huntington, the clash of civilizations was an historic development. The history of the international system had been essentially about the struggles between monarchs, nations, and ideologies within Western civilization. The end of the cold war inaugurated a new period, where non-Westerners were no longer the helpless recipients of Western power, but now counted amongst the movers of history. The rise of civilizational politics intersected four long-run processes at play in the international system : 1. The relative decline of the West. 2. The rise of the Asian economy and its associated 'cultural affirmation', with China poised to become the greatest power in human history. 3. A population explosion in the Muslim world, and the associated resurgence of Islam. 4. The impact of globalization, including the extra ordinary expansion of transnational flows of commerce, information, and people. The coincidence of these factors was forging a new international order.(1) ’’ہنٹٹنگٹن کے مطابق تہذیبوں کا تصادم ایک تاریخی عمل ہے۔ بین الاقوامی نظام کی تاریخ شہنشاہوں، قوموں اور مغربی تہذیب میں بھی نظریات کے مابین جدوجہد پر مشتمل ہے۔ سرد جنگ کے خاتمے نے ایک نئے دور کا آغاز کیا۔ جہاں غیر مغربی طاقتوں کے سامنے محض بے یارو مددگار اثر قبول کرنے والے ہی نہ تھے بلکہ اب وہ تاریخ کی حرکت کا حصہ بھی تھے۔ تہذیبی سیاست کے عروج نے بین الاقوامی نظام میں 4 طویل المیعاد رُو بہ عمل عوامل کو متاثر کیا : مقابلتاً مغرب کا زوال ایشائی معیشت کا عروج، اس کا چین کے ساتھ ثقافتی تعاون ہوتے ہوئے انسانی تاریخ کی عظیم ترین طاقت بننے کا امکان مسلم دنیا میں آبادی کا اضافہ اور اسلام کا عروج عالمگیریت کے اثرات جس میں بین الممالک تجارت، اطلاعات اور لوگوں کی غیر معمولی پھیلاؤ اور تبادلہ شامل ہیں۔ (1) Simon Murden, Sulture in World Affairs in John Baylis & Steve Smith's The Globalization of World Politics, OUP, 2001, p. 461-2. ان تمام عوامل کی بیک وقت موجودگی ایک نئے بین الاقوامی نظام کو تشکیل دے رہی ہے۔‘‘ اسی تصور کو دوسرے مقام پر یہ مفکر یوں بیاں کرتا ہے Huntington observed that Islam had particularly 'bloody borders', a situation that would continue until Muslim population growth slowed in the second or third decade of the twenty-first century. At the 'macro-level', a more general competition for capabilities and influence was evident, with the principal division between the 'West' and, to varying degrees, the 'Rest'. According to Huntington, the hegemony of the West was most contested by the two most forceful non-Western civilizations, the Sinic and Islamic. Resistance to the West was most evident over issues such as arms control and the promotion of Western political values. Western efforts to project their democracy and human rights were widely regarded as a form of non-imperialism.(1) ’’ہنٹنگٹن نے بیان کیا کہ اسلام بطور خاص خونی سرحدوں کا حامل ہے۔ یہ صورتحال جاری رہے گی تاوقتیکہ اکیسویں صدی کی دوسری یا تیسری دہائی میں مسلمانوں کی آبادی میں اضافہ کم نہ ہو جائے۔ بڑی سطح پر مغرب اور بقیہ دنیا کے درمیان واضح تقسیم کے ساتھ اہلیتوں اور اثر رسوخ کیلئے عمومی مقابلہ بڑا واضح ہے۔ ہنٹنگٹن کے مطابق مغرب کی برتری کو دو بہت ہی طاقتور غیر مغربی تہذیبوں یعنی چینی، اور اسلامی کے مقابلے کا سامنا ہے۔ مختلف مسائل مثلاً تخفیف اسلحہ اور مغرب کی سیاسی اقدار کے فروغ میں ان کی طرف سے مزاحمت بہت ہی نمایاں ہے۔‘‘ (1) Simon Murden, Sulture in World Affairs in John Baylis & Steve Smith's The Globalization of World Politics, OUP, 2001, p. 462. تاہم مغرب کاتہذیبی تصادم کا یہ تصور اپنے تاریخی پس منظر کے علاوہ ان مغالطوں کا مرہون منت بھی جس کا اس نظریے کو تشکیل دینے والے شکار ہیں : Huntington's anti-modern perspective, which rejects the dominant modern notion of history as progress and instead proposes history as continuity, is even more radically anti-modern considering his general treatment of civilizations as actors. Any truly modern, post-Wittgenstein understanding of civilization would necessarily include the concept of civilization as construct, which implies first the inherent artificiality of any civilization and second the constant potential for the innovation of civilizational content. Such a view of innovation within civilizations is perhaps best seen in a standard modern understanding of the history of Western civilization as a progressive fusion of classical, Christian and Enlightenment ideals, the latter being rooted in the past but in some important sense new and unprecedented. Under this modern conception, Western civilization, with all its internal divisions and constant innovational struggles, would have an extraordinarily difficult time trying to behave as a unitary actor.(1) ’’ہنٹٹنگٹن کا غیر جدید تناظر جو تاریخ کے ترقی پذیر ہونے کی جدید غالب تصور کی نفی کرتا ہے اور اس کے بجائے اسے ایک تسلسل قرار دیتا ہے۔ یہ تہذیب کو ایک عامل سمجھنے کے تصور سے بھی زیادہ جدیدیت مخالف تصور ہے۔ تہذیب کا کوئی بھی وٹگنسٹائن کے بعد کا جدید فہم تہذیب کے ساخت ہونے کے تصور پر مشتمل ہے۔ جو اولاً تہذیب کی اندرونی مصنوعیت اور ثانیاً تہذیب کے اختراع کی مستقل اہلیت پر مشتمل ہے۔ تہذیب میں اختراع کا ایسا تصور بہتر طور پر مغربی تہذیب کی تاریخ کے جدید فہم میں دیکھا جا سکتا ہے۔ جو کلاسیکل، عیسائی اور روشن خیالی کے تصورات کی ترقی پذیر آمیزش پر مشتمل ہے۔ جن میں سے آخر الذکر کی جڑیں تو ماضی میں ہیں لیکن کئی اہم حوالوں سے یہ نیا اور عدیم النظیر ہے۔ جدید تصورات کے مطابق مغربی تہذیب اپنی تمام تر اندرونی تقسیم اور مستقل اختراعی جدوجہد کے باعث ایک واحد عامل کے طور پر روبہ عمل ہونے کے لیے غیر معمولی مشکلات سے دو چار ہے۔‘‘ (1) Christian Stracke; The Clash of Civilizations and the Remaking of the World Order, Journal of International Affairs, vol. 51, 1997. اندریں حالات یہ اندازہ کرنا کوئی مشکل امر نہیں کہ اگر موجودہ عالمی حالات آگے بڑتے رہے تو اس عالمی تصادم کا انجام کیا ہو گا گویا آج انسانیت کو اپنی بقا کے لئے ایک ایسے عالمی نظام کی ضرورت ہے جس کی بنیاد تصادم کی بجائے مکالمہ ہو۔ اور یہ ضروت صرف اسلام پوری کر سکتا ہے جس نے پہلے دن سے تعالوا الی کلمۃ سواء بیننا وبینکم کا منشور عطا کر کے ایک وسیع بنیاد فراہم کر دی۔ 3۔ اِسلام کا بطور نظام حیات اِبلاغ (Presentation of Islam as Code of Life) انسانیت کے لئے دین حیات ہونے کے ناطے جس اعتماد کو ہونا چاہے تھا آج نہ صرف وہ اعتماد اہل اسلام کے ہاں مفقود ہے بلکہ دوسری تہذیبیں اس اعتماد سے سرشار نظر آتی ہیں : However, no civilization is completely distinct from the influence of others and in particular, all have been affected by the model culture and modernity pioneered in the west.(1) ’’تاہم کوئی تہذیب بھی مکمل طور پر الگ تھلگ اور دوسروں کے اثرات سے آزاد نہیں بلکہ سب اس مثالی کلچر اور جدیدیت سے متاثر ہیں جس کا آغاز مغرب نے کیا۔‘‘ (1) Simon Murden, Sulture in World Affairs in John Baylis & Steve Smith's The Globalization of World Politics, OUP, 2001, p. 458. یہی وجہ کہ اسلام کے بارے میں اظہار کرتے ہوئے مغربی مفکرین اسلام کو اپنی تنقید کا نشانہ بناتے ہیں تو ان کا اندازہ اپنی تہذیب کی برتری کو ظاہر کرتے ہوئے اسلام کی تحقیر کی حدوں کو چھونے لگتا ہے۔ فوکویاما (F. Fukuyama) اسلام کے تہذیبی کردار کے بارے میں اظہار کرتے ہوئے لکھتا ہے : Islam represented a systematic and coherent ideology. . . with its own code of morality and doctrine of political and social justice. The appeal of Islam [was] potentially universal; reaching out to all men as men. . . And Islam has indeed defeated liberal democracy in many parts of the Islamic world, posing a grave threat to liberal practices even in countries where it has not achieved political power directly. . . Despite the power demonstrated by Islam in its current revival, however, it remains the case that this religion has virtually no appeal outside those areas that were culturally Islamic to begin with. The days of Islam's cultural conquests, it would seem, are over. It can win back lapsed adherents, but has no resonance for the young people _Berlin, Tokyo, or Moscow. And while nearly a billion are culturally Islamic-one-fifth of the world's population-they cannot challenge liberal-democracy on its own territory on the level of ideas. Indeed, the Islamic world would seem more vulnerable to liberal ideas in the long run than the reverse. (1) ’’اسلام ایک منظم اور مربوط نظریۂ حیات ہے جس کا اپنا ضابطۂ اخلاق اور سیاسی اور سماجی انصاف کا نظام ہے۔ (ابتداً) اسلام کی مقبولیت آفاقی تھی جو عام انسانوں تک پہنچی۔ (دور جدید میں) بلا شبہ اسلام نے مسلم دنیا کے کئی حصوں میں آزاد خیال جمہوریت کو شکست دی اور اس سے یہ ان ممالک میں بھی آزاد خیال روش کے لیے خطرہ ثابت ہوا جہاں یہ براہ راست سیاسی قوت نہیں حاصل کر سکا۔ تاہم موجودہ احیائی جدوجہد کے دوران اسلام کی طرف سے قوت کے اظہار کے باوجود حقیقت یہی ہے کہ اس مذہب میں ان ممالک سے باہر جہاں اسلام ثقافتی طور پر شروع ہوا کوئی کشش نہیں۔ ایسے لگتا ہے کہ اسلام کی ثقافتی فتوحات کا زمانہ گزر چکا ہے یہ کچھ غلط فہمیوں کا شکار وابستہ افراد کا دل تو جیت سکتا ہے لیکن اس میں برلن، ٹوکیو اور ماسکو کے نوجوانوں کیلئے کوئی صدائے بازگشت موجود نہیں۔ دنیا میں ایک بلین یعنی دنیا کی آبادی کا پانچواں حصہ ثقافتی طور پر اسلامی ہوتے ہوئے بھی مسلمان لبرل جمہوریت کو اپنے علاقے میں بھی نظریات کی بنیاد پر چیلنج نہیں کر سکتے۔ بلا شبہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اسلامی دنیا لبرل تصورات کو شکست دینے کی بجائے ان کے سامنے عاجز اور ناتواں ثابت ہوتی چلی جائے گی۔‘‘ (1) Simon Murden, Sulture in World Affairs in John Baylis & Steve Smith's The Globalization of World Politics, OUP, 2001 p. 461. جب سے اسلام کے مطابق دوسری تہذیبوں کو فروغ اور غلبہ حاصل ہوا ہے اسلام کی تہذیبی حیثیت شکوک و شبہات اور اعتراضات کی زد میں ہے۔ اس کا بنیادی سبب افکار و تعلیمات اور بنیادی اقدر کا وہ فرق ہے جو اسلام اور دیگر تہذیبوں میں حائل ہے : In reality, the differences between civilizations ran deep : they were about man and God, man and woman, the individual and the state, and notions of rights, authority, obligation, and justice. Culture was about the basic perceptions of life that had been constructed over centuries.(1) ’’حقیقت میں تہذیبوں میں موجود اختلافات بہت گہرے ہیں۔ یہ انسان اور خدا، مرد اور عورت، فرد اور ریاست، تصورات اور حقوق، اختیار، اطاعت اور انصاف سے متعلق ہیں۔ کلچر زندگی کے ان بنیادی تصورات سے متعلق ہے جو صدیوں کے عمل کے بعد ظہور پذیر ہوئے۔‘‘ (1) Simon Murden, Sulture in World Affairs in John Baylis & Steve Smith's The Globalization of World Politics, OUP, 2001, p. 462. اسلام کو درپیش اس چیلنج کے پیش نظر اس امر کی ضروت ہے آج عصری تقاضوں کو مستحضر رکھتے ہوئے دلائل و براہین کے ساتھ اسلام کو بطور نظام حیات دنیا کے سامنے پیش کیا جائے۔ 4۔ عالمی برداشت کے کلچر کا فروغ (Culture of Tolerance at International Level) آج کی جدید دنیا مختلف النوع انتہا پسندی کے رجحانات کے تحت برداشت کے کلچر سے محروم ہوتی جا رہی ہے۔ ان رجحانات میں ایک بنیاد پرسی بھی ہے جس کا سبب سیاسی، اقتصادی، سماجی اور مذہبی محرومیاں ہیں : Fundamentalism is more than a political protest against the West or the prevailing establishment. It also reflects deep-seated fear of modern institutions and has paranoid visions of demonic enemies everywhere. It is alarming that so many people in so many different parts are so pessimistic about the world that they can only find hope in fantasies of apocalyptic catastrophe. Fundamentalism shows a growing sense of grievance, resentment, displacement, disorientation, and anomie that any humane, enlightened government must attempt to address.(1) ’’بنیاد پرستی مغرب یا موجود اسٹیبلشمنٹ کے خلاف سیاسی احتجاج سے زیادہ بھی کچھ ہے۔ یہ جدید اداروں سے گہرے خوف اور ہر طرف پھیلے ہوئے دشمنوں کو اپنے مصائب کا ذمہ دار سمجھنے کا مظہر بھی ہے۔ یہ بات بہت خوفناک ہے کہ دنیا کے اتنے زیادہ حصوں میں اتنے لوگ دنیا کے بارے میں اتنے مایوس ہیں کہ انہیں کسی ناگہانی انقلاب کے تصورات میں ہی امید کی کرن نظر آتی ہے۔ بنیاد پرستی شکایات، رنجیدگی، شعوری انتقالیت، بیگانگی اور بے ضابطگی کا اظہار ہے جس کا ازالہ اور اصلاح کرنا کسی بھی ہمدرد اور روشن خیال حکومت کی ذمہ داری ہے۔‘‘ (1) Simon Murden, Sulture in World Affairs in John Baylis & Steve Smith's The Globalization of World Politics, OUP, 2001, p. 461. تاہم یہ امر ایک المیے سے کم نہیں کہ بین الاقوامی سطح پر انسانیت کو در پیش مسائل کا صحیح تجزیہ کرنے کی بجائے اسلام کو ثقافی نزاع کا سبب قرار دیا جارہا ہے : In much of the post-cold war discourse on cultural conflict, it was Islam that came into the frame. Islam, seem to represent a particular source of conflict both as a homeland and as a diaspora. Certainly, Islamic peoples were locked in violent conflicts against adjoining civilizations and secular states across the Balkans, West and East Africa, the Middle East, the Caucasus, Central Asia, India, Indonesia, and the Philippines, with their efforts to promulgate Islamic law a particularly explosive issue.(1) ’’سرد جنگ کے بعد ثقافتی نزاع پر ہونے والے مباحثے میں اسلام ہی مرکز توجہ بنا۔ اسلام اندرون ملک اور ممالک سے باہر آبادی میں تنازعہ کے سبب کے طور پر سامنے آیا۔ یقیناً مسلمان متصل تہذیبوں اور سیکولر ریاستوں کے ساتھ بلقان، مغربی اور مشرقی افریقہ، مشرق وسطی، قفقار، وسط ایشیاء، انڈیا، انڈونیشیا اور فلپائن کے ساتھ شدید تنازعات میں الجھے ہوئے ہیں۔ اس کوشش کے ساتھ کہ وہاں اسلامی قانون کو جو کہ سلگتا ہوا مسئلہ ہے فروغ دیں۔‘‘ (1) Simon Murden, Sulture in World Affairs in John Baylis & Steve Smith's The Globalization of World Politics, OUP, 2001 p. 463. ان مذکورہ بالا مسائل کا حل بنیاد پرستی اور غلط فہمیوں پر نظام کو فروغ دینے کی بجائے عالمی برداشت کے کلچر کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ گویا یہ صرف عالم اسلام ہی نہیں بلکہ عالم انسانیت کی بنیادی ضرورت ہے کہ مستقبل میں بقائے باہمی کے امقانا ت کو روشن کرنے کے لئے برداشت کے کلچر کو فروغ ملے جو سیرت الرسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ملنے والی سے ہی ممکن ہے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی تعلیمات اور اسوہ و سیرت کے ذریعے انسانیت کو وہ نظام زندگی، حقوق و فرائض، احکام و آداب اور امر و نواہی عطا فرمائے ہیں جن کو عملاً اپنانے اور نافذ کرنے سے مذکورہ بالا مسائل حل ہوجاتے ہیں۔ 5۔ وحدتِ نسلِ اِنسانی کا تصور (Unity of Humanity) وحدت نسل انسانی کے تصور کو رنگ و نسل کے امتیاز کے خاتمہ کا موثر ترین ذریعہ بنایا ہے۔ قرآن و سنت کے ذریعے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بنی نوع انسان کو یہ تعلیم دی ہے : 1. يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُم مِّن ذَكَرٍ وَأُنثَى وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ. ’’اے لوگو! ہم نے تمہیں مرد اور عورت سے پیدا فرمایا اور ہم نے تمہیں (بڑی بڑی) قوموں اور قبیلوں میں (تقسیم) کیا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو۔ بیشک اﷲ کے نزدیک تم میں زیادہ باعزت وہ ہے جو تم میں زیادہ پرہیزگار ہو۔‘‘ الحجرات، 49 : 13 2. الناس مستوون کأسنان المشط ليس لأحد علی أحد إلا تقوی اﷲ. ’’تمام انسان کنگھی کے دندانوں کے طرح برابر ہیں کوئی بھی دوسرے پر فضیلت نہیں رکھتا سوائے اللہ کے تقویٰ کے۔‘‘ ديلمی، الفردوس بمأثور الخطاب، 6 : 301 3. إن اﷲ قد أذهب عنکم عبية الجاهلية وتعاظمها بآبائها فالناس رجلان : برّ تقی کريم علی اﷲ وفاجر شقی هيّن علی اﷲ والناس بنو آدم وخلق اﷲ آدم من تراب، قال اﷲ : ﴿إن أکرمکم عند اﷲ أتقاکم﴾. ’’اے لوگو! اللہ تعالیٰ نے تم سے جاہلیت کا غرور اور ایک دوسرے پر خاندانی فخر دور کردیا ہے پس اب دو قسم کے لوگ ہیں : ایک نیک متقی شخص جو اللہ تعالیٰ کے ہاں معزز ہے اور ایک بدکار و بدبخت جو اللہ تعالیٰ کے ہاں ذلیل و خوار ہے تمام لوگ آدم ں کی اولاد ہیں اور آدم ں کو اللہ تعالیٰ نے مٹی سے پیدا کیا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ’’بے شک اللہ کے ہاں تم میں سے زیادہ عزت والا وہی ہے جو تم میں سے زیادہ پرہیزگار ہے۔‘‘ ترمذی، الجامع الصحيح، کتاب التفسير، باب سورة الحجرات، 5 : 339، رقم : 3270 6۔ معاشی عدل و اِحسان کا حکم (Eradication of Economic Exploitation) اسلام نے معاشی عدل و احسا کے تصور کو انسانی زندگی میں معاشی جبر و استحصال کے مسئلے کا موثر ترین حل بنایا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ عالم انسانیت اسے بین الاقوامی اور ریاستی سطح پر بنیادی نظام کے طور پر نافذ کرے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قرآن و سنت کے ذریعے بنی نوع انسان کو یہ تعلیم دی ہے : وَيَسْأَلُونَكَ مَاذَا يُنفِقُونَ قُلِ الْعَفْوَ. ’’اور آپ سے یہ بھی پوچھتے ہیں کہ کیا کچھ خرچ کریں؟ فرما دیں : جو ضرورت سے زائد ہے (خرچ کر دو)۔‘‘ البقره، 2 : 219 يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ لاَ تَأْكُلُواْ أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ. ’’اے ایمان والو! تم ایک دوسرے کا مال آپس میں ناحق طریقے سے نہ کھاؤ۔‘‘ النساء، 4 : 29 كَيْ لَا يَكُونَ دُولَةً بَيْنَ الْأَغْنِيَاءِ مِنكُمْ. ’’تاکہ (سارا مال صرف) تمہارے مال داروں کے درمیان ہی نہ گردش کرتا رہے (بلکہ معاشرے کے تمام طبقات میں گردش کرے)۔‘‘ الحشر، 59 : 7 7۔ صدقہ و انفاق اور اِطعام الطعام کا وجوبی حکم (Obligatory Instructions for Economic Support) اسلام نے صدقہ و انفاق اور اطعام الطعام کے حکم کو قحط و فاقہ کے انسانی مسئلہ کا حتمی حل بنایا ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ اسے افراد اور اقوام دونوں سطحوں پر وجوباً نافذ کیا جائے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قرآن و سنت کے ذریعے بنی نوع انسان کو یہ تعلیم دی ہے : 1. وَآتُوهُم مِّن مَّالِ اللَّهِ الَّذِي آتَاكُمْ. ’’اور تم (خود بھی) انہیں اللہ کے مال میں سے (آزاد ہونے کے لئے) دے دو جو اس نے تمہیں عطا فرمایا ہے۔‘‘ النور، 24 : 33 2. وَفِي أَمْوَالِهِمْ حَقٌّ لِّلسَّائِلِ وَالْمَحْرُومِO ’’اور اُن کے اموال میں سائل اور محروم (سب حاجتمندوں) کا حق مقرر تھاo‘‘ الذاريات، 51 : 19 3. أطعموا الجائع وعودوا المريض وفکّوا العافي. ’’بھوکے کو کھانا کھلاؤ، بیمار کی عیادت کرو اور قیدی کو آزاد کراؤ۔‘‘ 1. بخاری، الصحيح، کتاب الأطعمة، باب قول اﷲ تعالی کلو من طيبات، 5 : 2055، رقم : 5058 2. أبوداود، السنن، کتاب الجنائز، باب الدعاء للمريض، 3 : 187، رقم : 3105 3. بيهقی، السنن الکبری، 3 : 379، رقم : 6367 4. من کان عنده فضل ظهر فليعد به علی من لا ظهر له، ومن کان عنده فضل زاد فليعد به علی من لا زاد له. ’’جس کے پاس کوئی زائد سواری ہے تو وہ اسے دے جس کے پاس سواری نہیں ہے اور جس کے پاس زائد زاد راہ ہے وہ اسے دے جس کے پاس زاد راہ نہیں ہے۔‘‘ 1. أبوداود، السنن، کتاب الزکوٰة، باب فی حقوق المال، 2 : 125، رقم : 1663 2. ابو عوانه، المسند، 4 : 200، رقم : 2490 5. إن اﷲ فرض علی أغنياء المسلمين فی أموالهم بقدر الذی يسع فقراءهم. ’’اللہ نے مسلمان امیروں پر ان کے مالوں میں ایک حصہ مقرر کردیا ہے۔ جس سے ان کے غریبوں کی ضروریات پوری ہوں۔‘‘ 1. طبرانی، المعجم الصغير، 1 : 275، رقم : 453 2. منذری، الترغيب والترهيب، 1 : 306، رقم : 1130 6. ليس المؤمن الذی يشبع وجاره جائع. ’’وہ شخص مومن نہیں جو خود سیر ہوکر کھاتا ہے اور اس کا ہمسایہ بھوکا رہتا ہے۔‘‘ 1. بيهقی، السنن الکبری، 10 : 3، رقم : 19452 2. أبو يعلی، المسند، 5 : 92، رقم : 2699 3. منذری، الترغيب والترهيب، 3 : 243، رقم : 3875 7. أن رجلا سأل النبی صلی الله عليه وآله وسلم : أي الإسلام خير؟ قال : تطعم الطعام. ’’کسی شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا : کس قسم کا اسلام اچھا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : کھانا کھلانے والے کا۔‘‘ 1. بخاری، الصحيح، کتاب الإيمان، باب إطعام الطعام من الإسلام، 1 : 13، رقم : 12 2. بخاری، الصحيح، کتاب الإيمان، باب إفشاء السلام، 1 : 19، رقم : 28 3. مسلم، الصحيح، کتاب الإيمان، باب في تفاضل الإسلام، 1 : 65، رقم : 39 4. أبو داود، السنن، کتاب الأدب، باب في إفشاء الاسلام، 4 : 350، رقم : 5194 5. ابن ماجه، السنن، کتاب الأطعمة، باب إطعام الطعام، 2 : 1083، رقم : 3253 8. من احتکر طعاماً أربعين يوماً فقد بري من اﷲ تبارک وتعالیٰ و بري اﷲ تبارک و تعالی منه. ’’جو شخص چالیس دن غلہ روکے رکھتا ہے وہ اللہ تعالی کے ذمہ سے بری اور اللہ تعالی اس کے ذمہ سے بری ہوا۔‘‘ هيثمی، مجمع الزوائد، 6 : 100 9. المحتکر ملعون. ’’مال کو مہنگا بیچنے کی غرض سے روکنے والا ملعون ہے۔‘‘ 1. حاکم، المستدرک، 2 : 14، رقم : 164 2. عبدالرزاق، المصنف، 8 : 204، رقم : 14893 8۔ اَصل رزق اور بنیادی ضروریات زندگی میں سب کی برابری کا تصور (Principle Equality in Livelihood) اسلام نے اصل رزق اور بنیادی ضروریات زندگی میں سب کی برابری کے تصور کے ذریعے بے گھر ہونے اور بعض لوگوں کے دیگر حاجات اصلیہ سے محروم ہونے کے مسئلے کو بھی حل کیا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قرآن و سنت کے ذریعے بنی نوع انسان کو یہ اصول فراہم فرمایا ہے۔ 1. وَّلَكُمْ فِي الْأَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَّمَتَاعٌ إِلَى حِينٍO ’’اب تمہارے لئے زمین میں ہی معیّنہ مدت تک جائے قرار ہے اور نفع اٹھانا مقدّر کر دیا گیا ہےo‘‘ البقرة، 2 : 36 2. وَلَقَدْ مَكَّنَّاكُمْ فِي الْأَرْضِ وَجَعَلْنَا لَكُمْ فِيهَا مَعَايِشَ. ’’اور بے شک ہم نے تم کو زمین میں تمکّن و تصرّف عطا کیا اور ہم نے اس میں تمہارے لئے اسبابِ معیشت پیدا کئے۔‘‘ الأعراف، 7 : 10 3. وَقَدَّرَ فِيهَا أَقْوَاتَهَا فِي أَرْبَعَةِ أَيَّامٍ سَوَاءً لِّلسَّائِلِينَO ’’(یہ سب کچھ اس نے) چار دنوں (یعنی چار ارتقائی زمانوں) میں مکمل کیا، (یہ سارا رِزق اصلًا) تمام طلب گاروں (اور حاجت مندوں) کے لئے برابر ہےo‘‘ حم السجدة، 41 : 10 4. وَاللّهُ فَضَّلَ بَعْضَكُمْ عَلَى بَعْضٍ فِي الْرِّزْقِ فَمَا الَّذِينَ فُضِّلُواْ بِرَآدِّي رِزْقِهِمْ عَلَى مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ فَهُمْ فِيهِ سَوَاءٌ أَفَبِنِعْمَةِ اللّهِ يَجْحَدُونَO ’’اور اللہ نے تم میں سے بعض کو بعض پر رزق (کے درجات) میں فضیلت دی ہے (تاکہ وہ تمہیں حکمِ انفاق کے ذریعے آزمائے)، مگر جن لوگوں کو فضیلت دی گئی ہے وہ اپنی دولت (کے کچھ حصہ کو بھی) اپنے زیردست لوگوں پر نہیں لوٹاتے (یعنی خرچ نہیں کرتے) حالانکہ وہ سب اس میں (بنیادی ضروریات کی حد تک) برابر ہیں، تو کیا وہ اللہ کی نعمتوں کا انکار کرتے ہیںo‘‘ النحل، 16 : 71 5. ليس لابن اٰدم حق في سوی هذه الخصال بيت يسکنه وثوب يواری عورته و جلف الخبز والماء. ’’انسان کی لئے ان اشیاء کے سوا کوئی حق نہیں، رہنے کے لئے مکان، سترِ عورت کے لئے کپڑا، سالن کے بغیر روٹی اور پانی۔‘‘ ترمذی، السنن کتاب الزهد : باب ماجاء فی الزهادة فی الدنيا 6 : 571، رقم : 2341 9۔ عورت کی عزت اور حقوق کے تحفظ کا حکم (Protection of Women's Rights) اسلام نے معاشرے میں عورت کی عزت کی بلندی اور اس کے سماجی، معاشی، قانونی، عائلی اور اخلاقی حقوق کا تعین و تحفظ کر کے حیثیت نسواں کے مسئلہ کا ایک متوازن حل دیا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قرآن و سنت کے ذریعے بنی نوع انسان کو یہ ہدایت فرمائی ہے۔ 1. يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُواْ رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُم مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالاً كَثِيرًا وَنِسَاءً. ’’اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو جس نے تمہاری پیدائش (کی ابتداء) ایک جان سے کی پھر اسی سے اس کا جوڑ پیدا فرمایا پھر ان دونوں میں سے بکثرت مردوں اور عورتوں (کی تخلیق) کو پھیلا دیا۔‘‘ النساء، 4 : 1 2. وَلَهُنَّ مِثْلُ الَّذِي عَلَيْهِنَّ بِالْمَعْرُوفِ. ’’اور دستور کے مطابق عورتوں کے بھی مردوں پر اسی طرح حقوق ہیں جیسے مردوں کے عورتوں پر۔‘‘ البقرة، 2 : 228 3. وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ. ’’اور ان کے ساتھ اچھے طریقے سے برتاؤ کرو۔‘‘ النساء، 4 : 19 4. خيرکم خيرکم لأهله و أنا خيرکم لاهلی. ’’تم میں بہتر وہ ہے جو اپنی بیوی کے لئے بہتر ہو اور میں اپنی بیوی کے لئے بہتر ہوں۔‘‘ 1. ابن ماجه، السنن، کتاب النکاح : باب حسن معاشرة النساء، 1 : 636، رقم : 1977 2. ترمذی، السنن، کتاب المناقب، باب أزواج النبی، 5 : 709، رقم : 3895 5. ما أکرمهن إلا کريم وما أهانهن إلا لئيم. ’’ان (عورتوں) کی عزت، عزت والا ہی کرتا ہے اور ان سے توہین آمیز سلوک وہی کرتا ہے جو خود ذلیل (اور کمینہ) ہو۔‘‘ عسقلانی، لسان الميزان، 6 : 128 6. الجنة تحت أقدام الأمهات. ’’جنت ماؤں کے قدموں تلے ہے۔‘‘ هندی، کنز العمال، 16 : 634، رقم : 45439 7. ما من مسلم تدرکه ابنتان فيحسن صحبتهما إلا أدخلتاه الجنة. ’’جس مسلمان کو بھی دو بیٹیاں میسر ہوں اور وہ ان کو اچھی طرح تعلیم و تربیت دے تو وہ دونوں اس کو جنت میں داخل کرائیں گی۔‘‘ بخاری، الأدب المفرد، 1 : 41، رقم : 7 8. لا يکون لأحد ثلاث بنات أو ثلاث أخوات فيحسن إليهن إلا دخل الجنة. ’’جس کی بھی تین بیٹیاں یا بہنیں ہوں اور وہ ان کے ساتھ حسنِ سلوک کرتا ہے تو وہ ضرور جنت میں داخل ہوگا۔‘‘ ترمذی، السنن کتاب البر والصله، باب ماجاء فی رحمة الولد، 4 : 318، رقم : 1912 9۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا گیا : يا رسول اﷲ، من أحق الناس بحسن الصحبة؟ قال : أمک، ثم أمک، ثم، أمک، ثم أبوک، ثم أدناک أدناک. ’’ایک شخص نے عرض کیا : یا رسول اللہ! میرے حسن سلوک کا زیادہ حق دار کون ہے؟ آپ نے فرمایا : تیری ماں، پھر تیری ماں، پھر تیری ماں پھر تیرا باپ پھر جو قریب ہو، قریب ہو۔‘‘ 1. مسلم، الصحيح، کتاب البر والصلة، باب بر الوالدين، 4 : 1974، رقم : 2528 2. بخاری، الصحيح، کتاب الأدب، باب البر والصلة، 5 : 2227، رقم : 5626 10. الدنيا متاع و خير متاع الدنيا المرأة الصالحة. ’’تمام دنیا متاع (سامان) ہے اور دنیا میں بہترین متاع نیک اور پرہیزگار عورت ہے۔‘‘ مسلم، الصحيح، کتاب الرضاع، باب خير متاع الدنيا، 2 : 1090، رقم : 1467 10۔ جائز جنسی تسکین کے لئے نکاح کا تصور (Law of Marriage) اسلام نے جنسی زندگی کو باقاعدہ نظم دینے اور اسے اخلاقی بے راہ روی سے بچانے کے لئے نکاح کا شرعی تصور اور ازدواج کا باقاعدہ نظام دیا ہے۔ جس کے ذریعے انسانیت کو جنسی مسئلہ کا نہایت مناسب حل میسر آگیا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قرآن و سنت کے ذریعے اس باب میں واضح ہدایات ارشاد فرمائی ہیں : 1. فَانكِحُواْ مَا طَابَ لَكُم مِّنَ النِّسَاءِ مَثْنَى وَثُلاَثَ وَرُبَاعَ. ’’تو ان عورتوں سے نکاح کرو جو تمہارے لئے پسندیدہ اور حلال ہوں، دو دو اور تین تین اور چار چار (مگر یہ اجازت بشرطِ عدل ہے)۔‘‘ النساء، 4 : 3 2. من تزوج أحرز نصف دينه. ’’جس نے شادی کی اس نے اپنا آدھا دین بچا لیا۔‘‘ جوزی، العلل المتناهية، 2 : 612 3. يا معشر الشباب، من استطاع منکم الباء ة فليتزوج فإنه أغض للبصر و أحصن للفرج. ’’اے جوانو کی جماعت! تم میں سے جو نکاح کی استطاعت رکھتا ہو وہ نکاح کرے کیونکہ یہ نگاہ کو نیچے رکھتا ہے اور شرم گاہ کی حفاظت کرتا ہے۔‘‘ 1. بخاری، الصحيح، کتاب النکاح، باب قول النبی صلی الله عليه وآله وسلم : من استطاع منکم الباءة، 5 : 1950، رقم : 4778 2. مسلم، الصحيح، کتاب النکاح، باب استحباب النکاح، 2 : 1018، رقم : 1400 3. ابن ماجه، السنن، کتاب النکاح، باب ماجاء فی فضل النکاح، 1 : 592، رقم : 1845 11۔ نوجوانوں کی پریشان خیالی کا اِسلامی علاج (Addressing Youth Problems) اسلام نے نوجوانوں میں پریشان خیالی کے خاتمہ کے لئے روحانی، ذہنی اور جسمانی سرگرمیوں کی صورت میں مثبت طرز فکر عطا کیا تاکہ ان کی سیرت و کردار کو انتشار سے بچا کر محبت و عبادت الٰہی، تقویٰ و صالحیت اور جوانمردی و جانفشانی کی زندگی سے ہمکنار کیا جائے۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نوجوانوں کو پریشان خیالی اور بے راہ روی سے بچانے کے لئے روحانی فکر و عمل کے سانچے میں ڈھالنے کی تلقین فرمائی اور اس کے لئے موثر ہدایات و تعلیمات عطا فرمائیں۔ 1. سبعة يظلهم اﷲ فی ظله يوم لا ظل إلا ظله : إمام عادل و شاب نشاء في عبادة اﷲ و رجل معلق قلبه في المساجد و رجلان تحابا في اﷲ، اجتمعا عليه و تفرقا عليه، و رجل دعته امرأة ذات منصب و جمال فقال : إني أخاف اﷲ و رجل تصدق بصدقة فاخفاها حتي لا تعلم شماله ما تنفق يمينه و رجل ذکر اﷲ خاليًا ففاضت عيناه. ’’سات شخص اللہ تعالیٰ کے سایہ (رحمت) میں ہوں گے جبکہ اس دن کسی کا سایہ نہ ہوگا۔ عادل حکمران، وہ جوان جو خدا کی اطاعت میں پلا بڑھا ہو۔ وہ شخص جس کا دل مسجد میں اٹکا رہے، دو آدمی جو ایک دوسرے کو صرف اللہ کے لئے چاہتے ہیں ملیں تو اسی لئے اور جدا ہوں تو اسی لئے، وہ جسے حسن و دولت والی عورت برائی پر اکسائے مگر وہ کہے میں اللہ سے ڈرتا ہوں، وہ جس نے صدقہ دیا اور اسے یوں مخفی رکھا کہ بائیں ہاتھ کو پتہ نہ چل سکا کہ دائیں ہاتھ نے کیا کیا اور وہ شخص جس نے خلوت میں خدا کو یاد کیا اور آنکھیں اشک بار ہوگئیں۔‘‘ 1. بخاری، الصحيح، کتاب الزکوٰة : باب الصدقه باليمين، 2 : 517، رقم : 1357 2. مسلم، الصحيح، کتاب الزکاة ، باب فضل إخفاء الصدقة، 2 : 715، رقم : 1031 3. ترمذي، الصحيح، کتاب الزهد، باب ماجاء في الحب في الله، 4 : 598، رقم : 2391 2. لا يلج النار رجل بکي من خشية اﷲ . . . ولا يجتمع غبار في سبيل اﷲ و دخان جهنم. ’’اللہ تعالیٰ کے خوف سے رونے والا جہنم میں نہیں جائے گا۔ اور اللہ تعالیٰ کے راستے میں (لگی ہوئی) غبار اور جہنم کا دھواں ایک جگہ جمع نہیں ہوسکتے۔‘‘ ترمذی، الجامع الصحيح، کتاب الزهد، باب ماجاء فی فضل البکاء، 4 : 555، رقم : 2311 3. عليک بتقوي اﷲ فإنها جماع کل خير وعليک بالجهاد في سبيل اﷲ فإنها رهبانية المسلمين و عليک بذکر اﷲ وتلاوة کتابه فإنها نور لک في الأرض وذکر لک في السماء. ’’اللہ سے ڈرنا اپنے اوپر لازم کرلو بے شک یہ ہر نیکی اور بھلائی کا جامع ہے اور اللہ کے راستے میں جہاد کرنا اپنے اوپر لازم کرلو کہ یہی مسلمانوں کی رہبانیت ہے اور اپنے اوپر اللہ کا ذکر اور اس کی کتاب کو پڑھنا اور اس پر عمل کرنا لازم کرلو کہ زمین میں یہ تمہارے لئے روشنی ہے اور آسمان میں تمہارا ذکر ہے۔‘‘ 1. طبرانی، المعجم الصغير، 2 : 156، رقم : 949 2. أبو يعلی، المسند، 2 : 283، رقم : 1000 4. أدبوا أولادکم علی ثلاث خصال حبّ نبيکم وحبّ أهل بيته وقرأة القرآن. ’’اپنی اولاد کو تین امور کی تربیت دیں، اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت کی، آپ کے اہلِ بیت کی محبت کی اور قرآن پڑھنے کی۔‘‘ 1. هندی، کنز العمال، 16 : 623، رقم : 45409 2. عجلونی، کشف الخفاء، 1 : 76 اسی طرح حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی سنت مبارکہ کے ذریعے نوجوانوں کو جہاد، محبت الٰہی اور محبت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے علاوہ صحت مندسرگرمیوں اور کھیلوں کی بھی ترغیب دی جن میں فوجی اور دفاعی فنون کے علاوہ شہ سواری، تیر اندازی، کشتی، پیراکی، دوڑیں، نیزہ بازی اور ویٹ لفٹنگ ایسی کھیلوں (Sports) کی سرپرستی اور حوصلہ افزائی بھی براہ راست حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ثابت ہے جن کے ذریعے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نوجوانوں اور بچوں کو مثبت اور صحت مند جسمانی مشاغل سے وابستہ فرماتے تھے۔ 12۔ دماغی اور نفسیاتی دباؤ کا روحانی علاج (Spiritual Treatment of Psychological Problems) اسلام نے دماغی اور نفسیاتی دباؤ کے علاج کے لئے ایک خاص طرز فکر، نمونہ حیات اور روحانی اعمال و مشاغل کا نظام عطا کیا ہے جس کی تفصیل سیرت محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے میسر آتی ہے۔ اس میں قناعت اور صبر و شکر کا زاویہ نگاہ، حسد، حرص اور لالچ ایسے رذائل سے اجتناب، غصہ اور بغض و کینہ سے پرہیز، توکل اور رضائے الٰہی کا تصور، ذکر و عبادت الٰہی اور انفاق و احسان کی یہ ترغیب سب معاملات بڑی اہمیت کے حامل ہیں۔ ارشادِ الٰہی ہے : الَّذِينَ آمَنُواْ وَتَطْمَئِنُّ قُلُوبُهُم بِذِكْرِ اللّهِ أَلاَ بِذِكْرِ اللّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُO ’’جو لوگ ایمان لائے اور ان کے دل اﷲ کے ذکر سے مطمئن ہوتے ہیں، جان لو کہ اﷲ ہی کے ذکر سے دلوں کو اطمینان نصیب ہوتا ہےo‘‘ الرعد، 13 : 28 إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ إِذَا ذُكِرَ اللّهُ وَجِلَتْ قُلُوبُهُمْ وَإِذَا تُلِيَتْ عَلَيْهِمْ آيَاتُهُ زَادَتْهُمْ إِيمَانًا وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَO ’’ایمان والے (تو) صرف وہی لوگ ہیں کہ جب (ان کے سامنے) اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے (تو) ان کے دل (اس کی عظمت و جلال کے تصور سے) خوفزدہ ہو جاتے ہیں اور جب ان پر اس کی آیات تلاوت کی جاتی ہیں تو وہ (کلامِ محبوب کی لذت انگیز اور حلاوت آفریں باتیں) ان کے ایمان میں زیادتی کر دیتی ہیں اور وہ (ہر حال میں) اپنے رب پر توکل (قائم) رکھتے ہیں (اور کسی غیر کی طرف نہیں تکتے)o‘‘ الأنفال، 8 : 2 تَقْشَعِرُّ مِنْهُ جُلُودُ الَّذِينَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ ثُمَّ تَلِينُ جُلُودُهُمْ وَقُلُوبُهُمْ إِلَى ذِكْرِ اللَّهِ. ’’(جس کی آیتیں) بار بار دہرائی گئی ہیں، جس سے اُن لوگوں کے جسموں کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں، پھر اُن کی جلدیں اور دل نرم ہوجاتے ہیں (اور رِقّت کے ساتھ) اللہ کے ذکر کی طرف (محو ہو جاتے ہیں)۔‘‘ الزمر، 39 : 23 الَّذِينَ يُنفِقُونَ فِي السَّرَّاءِ وَالضَّرَّاءِ وَالْكَاظِمِينَ الْغَيْظَ وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ وَاللّهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَO ’’یہ وہ لوگ ہیں جو فراخی اور تنگی (دونوں حالتوں) میں خرچ کرتے ہیں اور غصہ ضبط کرنے والے ہیں اور لوگوں سے (ان کی غلطیوں پر) درگزر کرنے والے ہیں، اور اللہ احسان کرنے والوں سے محبت فرماتا ہےo‘‘ آل عمران، 3 : 134 يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ اسْتَعِينُواْ بِالصَّبْرِ وَالصَّلاَةِ إِنَّ اللّهَ مَعَ الصَّابِرِينَO ’’اے ایمان والو! صبر اور نماز کے ذریعے (مجھ سے) مدد چاہا کرو، یقیناً اﷲ صبر کرنے والوں کے ساتھ (ہوتا) ہےo‘‘ البقرة، 2 : 153 فإن فی الصلاة شفاء. ’’بے شک نماز میں شفاء ہے۔‘‘ 1. ابن ماجه، السنن، کتاب الطب، باب الصلاة شفاء، 2 : 1144، رقم : 3458 2. أحمد بن حنبل، المسند، 2 : 390، رقم : 9054 7. إياکم و الحسد فإن الحسد يأ کل الحسنات کما تأکل النار الحطب. ’’حسد سے بچو بیشک حسد نیکیوں کو اس طرح کھا جاتا ہے جیسے آگ لکڑیوں کو کھا جاتی ہے۔‘‘ أبوداود، السنن، کتاب الأدب، باب فی الحسد، 4 : 276، رقم : 4903 13۔ شراب نوشی اور دیگر منشیات کی کلی حرمت (Prohibition of Norcotics) اسلام نے شراب نوشی اور دیگر تمام منشیات (Norcotics) کو کلیتا حرام قرار دے کر ہمیشہ کے لئے اس مسئلہ کو حل کردیا ہے دنیا بھر میں منشیات کی روک تھام کے لئے جو عالمی مہم آج چلائی جا رہی ہے پیغمبر اسلام نے اس کا آغاز اس اعلان کے ذریعے 14 صدیاں قبل ہی فرما دیا تھا۔ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنصَابُ وَالْأَزْلاَمُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَO ’’اے ایمان والو! بیشک شراب اور جُوا اور (عبادت کے لئے) نصب کئے گئے بُت اور (قسمت معلوم کرنے کے لئے) فال کے تیر (سب) ناپاک شیطانی کام ہیں۔ سو تم ان سے (کلیتاً) پرہیز کرو تاکہ تم فلاح پا جاؤo‘‘ المائده، 5 : 90 2. کل مسکر خمر و کل مسکر حرام. ’’ہر نشہ آور چیز خمر (شراب) ہے اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔‘‘ 1. مسلم، الصحيح، کتاب الأشربة، باب عقوبة من شرب الخمر، 3 : 588، رقم : 2002 2. ابن ماجه، السنن، کتاب الأشربة، باب کل مسکر حرام، 2 : 1124، رقم : 3390 3. ما أسکر کثيره فقليله حرام. ’’جس چیز کا کثیر حصہ نشہ لائے اس کا تھوڑا حصہ بھی حرام ہے۔‘‘ أبوداود، السنن، کتاب الأشربة، باب النهی عن المسکر، 3 : 327، رقم : 3681 ابن ماجه، السنن، کتاب الأشربة، باب ما أسکر کثيره، 2 : 1124، رقم : 3392 ترمذی، السنن، کتاب الأشربة، باب ماجاء ما أسکر، 4 : 292، رقم : 1865 4. لعن اﷲ الخمر وشاربها وساقيها وبائعها ومبتاعها وعاصرها ومعتصرها وحاملها والمحمولة إليه. ’’اللہ تعالیٰ نے شراب پر لعنت کی ہے اور اسے پینے والے اور پلانے والے پر اور اسے بیچنے والے اور خریدنے والے پر اور اسے نچوڑنے والے پر اور نچڑوانے والے پر اور اسے اٹھانے والے اور جس کے لئے اٹھائی گئی اس پر بھی لعنت کی ہے۔‘‘ أبو داؤد، السنن، کتاب الأشربة، باب العنب يعصر للخمر، 3 : 326، رقم : 3674 14۔ ماحولیاتی صحت کے لئے صفائی اور شجرکاری وغیرہ کا حکم (Ecological Health & Plantation) اسلام نے ماحولیاتی صحت کے لئے صفائی اور شجرکاری کے احکام صادر فرما کر اس مسئلہ کے حل کی واضح بنیاد فراہم کردی ہے۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت طیبہ اس امر کا عملی نمونہ نظر آتی ہے۔ ارشاد گرامی ہے : 1. وَيُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِينَO ’’اور خوب پاکیزگی اختیار کرنے والوں سے محبت فرماتا ہےo‘‘ البقرة، 2 : 222 2. الطهور نصف الإيمان. ’’پاکیزگی نصف ایمان ہے۔‘‘ ترمذی، السنن، کتاب الدعوات : باب منه، 5 : 536، رقم : 3519 ابن أبی شيبة، المصنف، 6 : 171، رقم : 30433 3. الإيمان بضع و سبعون شعبة فأفضلها قول لا إله إلا اﷲ و أدناها إماطة الأذی عن الطريق. ’’ایمان کی ستر سے زائد شاخیں ہیں۔ ان سب میں افضل لا الہ الا اﷲ کہنا ہے اور ان سب میں ادنی راستے میں سے کسی موذی چیز کا ہٹانا ہے۔‘‘ 1. مسلم، الصحيح، کتاب الإيمان، باب بيان عدد شعب الإيمان، 1 : 63، رقم : 35 2. أبوداود، السنن، کتاب السنة، باب فی رد الإرجاء، 4 : 219، رقم : 4676 4. حق الطريق قال : غض البصر و کف الأذی ورد السلام. ’’راستے کا حق، نظر نیچی رکھنا ایذا رسانی سے پرہیز کرنا اور سلام کا جواب دینا ہے۔‘‘ اسی طرح حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شجرکاری کو صدقہ قرار دیا اور حکم فرمایا کہ شجرکاری کرو خواہ روز قیامت میں ہی ایک درخت لگانے کی فرصت مل جائے۔ ارشاد گرامی ہے : 1. بخاری، الصحيح، کتاب المظالم، باب أفنية الدور والجلوس، 2 : 870، رقم : 2333 2. مسلم، الصحيح، کتاب، باب کراهة التفرع، 3 : 1675، رقم : 2121 3. أبوداود، السنن، کتاب الأدب، باب فی الجلوس، 4 : 256، رقم : 4815 5. ما من مسلم يغرس غرسًا إلا کان ما أکل منه له صدقه. ’’جو مسلمان درخت لگائے پھر اس میں سے کوئی کھائے تو لگانے والے کو صدقے کا ثواب ملے گا۔‘‘ 1. مسلم الصحيح، کتاب المساقاه، باب فضل الغرس والزرع، 3 : 1188، رقم : 1552 2. ترمذی، السنن، کتاب الأحکام، باب ماجاء فی فضل الفرس، 3 : 666، رقم : 1382 إن قامت الساعة وبيد أحدکم فسيلة فإن استطاع أن لا يقوم حتی يغرسها فليفعل. ’’اگر قیامت کی گھڑی آجائے اور تم میں سے کسی کے ہاتھ میں پودا ہے اور وہ اس کو لگا سکتا ہے تو لگائے بغیر کھڑا نہ ہو۔‘‘ أحمد بن حنبل، المسند، 3 : 191، رقم : 13004 دوسری جنگ عظیم کے خاتمے کے بعدلیگ آف نیشنز اور اقوام متحدہ کا قیام اقوام عالم کی اس آرزو کی طرف پیش رفت ہے جو عالمی سطح پر پائدار اور دیرپا امن کے قیام سے عبارت ہے۔ لیکن تاحال سامنے آنے والے حالات اس امر کے گواہ ہیں کہ ان اقدامات کے باوجود امن عالم کا خواب تا حال تشنہ تعبیر ہے۔ کمزور اور پسماندہ اقوام اب بھی طاقت ور اور غالب اقوام کی ظلم و ستم کا تختہ مشق بنی ہوئی ہیں۔ سیرت الرسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا عصری اور بین الاقوامی تناظر میں مطالعہ، جس کی تفصیلات گزشتہ صفحات میں گزر چکی ہیں، اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ انسانیت کے لئے مقامی اور بین الاقوامی سطح پر بقائے باہمی اور قیام امن کا حامل نظام صرف تعلیمات نبوی کی روشنی میں ہی تشکیل دیا جا سکتا ہے۔

منتخب تحریریں