بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ * لا الہٰ الا اللہ محمّد رسول اللہ * قُلْ هُوَ اللّـٰهُ اَحَدٌ - اَللَّـهُ الصَّمَدُ - لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُوْلَدْ - وَلَمْ يَكُنْ لَّـهٝ كُفُوًا اَحَدٌ

تصور خدا


اللہ کی اطاعت کس لیے

2017-05-31 15:52:59 

اللہ کی اطاعت کس لیے؟
اسلام اللہ اور رسولﷺ کی اطاعت کا نام ہے اور آدمی مسلمان بن ہی نہیں سکتا جب تک وہ اپنی خواہشات کی, رسم و رواج کی, دنیا کے لوگوں کی, غرض ہر ایک کی اطاعت چھوڑ کر اللہ اور اسکے رسول ﷺ کی اطاعت نہ کرے.
اللہ اور اسکی رسول ﷺ کی اطاعت پر اس قدر زور کیوں دیا جاتا ہے؟
ایک شخص پوچھ سکتا ہے کہ کیا خدا ہماری اطاعت کا محتاج ہے ؟ نعوذ باللہ کہ وہ ہم سے اس طرح اپنی اور اپنے رسول کی اطاعت کا مطالبہ کرتا ہے ؟ کیا نعوذ باللہ خدا بھی دنیا کے حاکموں کی طرح اپنی حکومت چلانے کی خواہش رکھتا ہے کہ جیسے دنیا کے حاکم کہتے ہیں کہ ہماری اطاعت کرو اور اسی طرح خدا بھی کہتا کہ میری اطاعت کرو؟
اصل بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جو انسان سے اطاعت کا مطالبہ کرتا ہے وہ انسان ہی کی فلاح اور بہتری کے لیے کرتا ہے. وہ دنیا کے حاکموں کی طرح نہیں ہے. دنیا کے حاکم اپنے فائدے کے لیے لوگوں کو اپنی مرضی کا غلام بنانا چاہتے ہیں مگر اللہ تمام فائدوں سے بے نیاز ہے. اس کو ہم سے ٹیکس لینے کی حاجت نہیں. اسے کوٹھیاں بنانے اور موٹریں خریدنے اور ہماری کمائی سے اپنے عیش کے سامان جمع کرنے کی حاجت نہیں. وہ پاک ہے. کسی کا محتاج نہیں. دنیا میں سب کچھ اسی کا ہے. اور سارے خزانوں کا وہی مالک ہے. وہ ہم سے صرف اسلیے اطاعت کا مطالبہ کرتا ہے کی اس میں ہماری بھلائی ہے. وہ نہیں چاہتا کی جس مخلوق کو اس نے اشرف المخلوقات بنایا ہے وہ شیطان کی غلام بن کر رہے یا پھر کسی انسان کی غلام ہو یا ذلیل ہستیوں کو سامنے سر جھکائے. وہ نہیں چاہتا کہ جس مخلوق کو اس نے زمین پر اپنی خلافت دی ہے وہ جہالت کی تاریکیوں میں بھٹکتی رہے. اور جانوروں کی طرح اپنی خواہشات کی بندگی کر کے اَسفَلُ السّافِلِینَ میں جاگرے. اسلیے وہ فرماتا ہے کہ تم میری اطاعت کرو, اور ہم نے اپنے رسولوں کے ذریعہ سے جو روشنی بھیجی ہے اسکو لے کر چلو پھر تم کو سیدھا راستہ مل جائے گا. اور تم اس راستہ پر چل کر دنیا میں بھی عزت اور آخرت میں عزت حاصل کر سکو گے.
لَآ اِكْـرَاهَ فِى الدِّيْنِ ۖ قَدْ تَّبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ ۚ فَمَنْ يَّكْـفُرْ بِالطَّاغُ
وْتِ وَيُؤْمِنْ بِاللّـٰهِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقٰى لَا انْفِصَامَ لَـهَا ۗ وَاللّـٰهُ سَـمِيْعٌ عَلِـيْم(256)
 اَللَّـهُ وَلِىُّ الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا يُخْرِجُـهُـمْ مِّنَ الظُّلُمَاتِ اِلَى النُّوْرِ ۖ وَالَّـذِيْنَ كَفَرُوٓا اَوْلِيَآؤُهُـمُ الطَّاغُوْتُ يُخْرِجُوْنَـهُـمْ مِّنَ النُّـوْرِ اِلَى الظُّلُـمَاتِ ۗ اُولٰٓئِكَ اَصْحَابُ النَّارِ ۖ هُـمْ فِيْـهَا خَالِـدُوْنَ (257)

دین کے معاملے میں زبردستی نہیں ہے، بے شک ہدایت یقیناً گمراہی سے ممتاز ہو چکی ہے، پھر جو شخص شیطان کو نہ مانے اور اللہ پر ایمان لائے تو اس نے مضبوط حلقہ پکڑ لیا جو ٹوٹنے والا نہیں، اور اللہ سننے والا جاننے والا ہے.
اللہ ایمان والوں کا مددگار ہے اور انہیں اندھیروں سے روشنی کی طرف نکالتا ہے، اور جو لوگ کافر ہیں ان کے دوست شیطان ہیں جو انہیں روشنی سے اندھیروں کی طرف نکالتے ہیں، یہی لوگ دوزخ میں رہنے والے ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔
اللہ پاک ہی کی وہ ذات ہے جہاں سے روشنی مل سکتی ہے. اللہ علیم و بصیر ہے. وہ ہر چیز کی حقیقت کو جانتا ہے. وہی ٹھیک ٹھیک بتا سکتا ہے کہ حقیقی نفع کس چیز میں ہے اور حقیقی نقصان کس میں. وہ بے نیاز بھی ہے. اسکی اپنی کوئی غرض ہے ہی نہیں. اسے اسکی ضرورت ہی نہیں ہے کہ معاذ اللہ ہمیں دھوکا دے کر کچھ نفع حاصل کرے. اسلیے وہ پاک بے نیاز جو کچھ بھی ہدایت دے گا. بے غرض دے گا اور صرف ہمارے فائدے کے لیے دے گا. پھر اللہ تعالیٰ عادل بھی ہے. ظلم کا اس ذات پاک میں شائبہ تک بھی نہیں ہے. اسلیے وہ سراسر حق کی بنا پر حکم دے گا. اسکے حکم پر چلنے میں اس بات کا کوئی خطرہ نہیں ہے. کہ ہم خود اپنے اوپر یا دوسرے لوگوں پر کسی قسم کا ظلم کر جائیں.

توحید

2017-06-13 04:09:30 

توحید

 اللہ واحد ہے اسکا کوئی شریک نہیں : جان لو انبیا و رسل کی دعوت کا خلاصہ توحید ہے سب سے پہلے نبی اپنی قوم کو توحید ہی کی دعوت دیتا ہے کما فی قولہ تعالی : ولقد بعثنا فی کل امة رسولا ان اعبدوااللہ واجتنبواالطاغوت ۔ نحل 36 وقال تعالی : وماارسلنا من قبلک من رسول الا نوحی الیہ انہ لاالہ الا انا فاعبدون ۔انبیاء 25 ۔
 کوئی شے خدا کی مثل نہیں : اس پر اتفاق ہے کہ کوئی شے خدا کی مثل نہیں ۔ نہ ذات میں نہ صفات میں اور نہ ہی افعال میں ' کمافی قولہ تعالی : لیس کمثلہ شیئ و ھو السمیع العلیم ۔ شوری 11 ۔ جو خدا کو مخلوق کے مشابہ بتاتے ہیں انکے رد میں مذکورہ آیت کا پہلا جز لیس کمثلہ شیئ فرمایا گیا اور جو خدا کی ذات کا تو اقرار کرتے ہیں مگر اسے معطل اور بےکار متصور کرتے ہیں انکے رد میں وھو السمیع البصیر فرمایا گیا 
 کوئی شے خدا کو عاجز اور تھکا نہیں سکتی کیونکہ اسکی قدرت کامل ہے قال تعالی : ان اللہ علی کل شیئ قدیر ۔ بقرہ 20 ۔ وقال : وکان اللہ علی کل شیئ مقتدرا : کھف 45 ۔ وقال تعالی : وماکان اللہ لیعجزہ من شیئ فی السماوات ولا فی الارض انہ کان علیما قدیرا ، فاطر 44 ۔ وسع کرسیہ السموات والارض ولا یوودہ حفظھما و ھو العلی العظیم : بقرہ 255 ۔ اسی طرح ہمارا خدا ظلم نہیں کرتا کیونکہ وہ اسکا عدل کامل ہے کقولہ تعالی : ولایظلم ربک احدا : کھف 49 ۔ کوئی شے اسکے علم سے خارج نہیں کیونکہ وہ کامل علم والا ہے کقولہ تعالی : لایعزب عنہ مثقال ذرة فی السماوات ولا فی الارض : سبا :4 ۔ وہ تھکتا نہیں کیونکہ اسکی قدرت کامل کقولہ تعالی : ومامسنا من لغوب : ق 38 وہ اپنی صفت حیات اور قیومیت میں کامل کما فی قولہ لا تاخذہ سنة ولا نوم : بقرہ : 255 ۔ کوئی مخلوق اسکی کنہ کا ادراک نہیں کرسکی کیونکہ اسکا جلال ' اسکی عظمت اور اسکی کبریائی کامل کمافی قولہ تعالی : لاتدرکہ الابصار :انعام 103 
اللہ قدیم بلا ابتداء دائم بلا انتہاء 
 خدا قدیم و ازلی و ابدی ہے : نہ اسکی ابتدا نہ اسکی انتہا ۔ وہ ذات غیر متناہی ہے کمافی قولہ تعالی : ھو الاول و الاخر : حدید 3 وقال صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم : اللہم انت الاول فلیس قبلک شیئ وانت الاخر فلیس بعدک شیئی :اخرجہ مسلم ، قول باری تعالی و حدیث کا مستفاد یہی کچھ ہے کہ مخلوق ساری متناہی اور خالق کائنات غیر متناہی ۔

لایفنی ولا یبید 
 اسکی ذات کو فنا نہیں قال تعالی : کل من علیھا فان ویبقی وجہ ربک ذو الجلال والاکرام : رحمان : 26 ' 27 ۔

ولایکون الا مایرید 
وہی ہوتا ہے جو وہ ارادہ کرتا ہے کما فی قولہ تعالی : ولکن اللہ یفعل مایرید : بقرہ 2533 ۔

لاتبلغہ الاوھام ولاتدرکہ الافہام 
 اوہام و افہام کی اسکی بارگاہ میں رسائی نہیں عقل اس راہ میں راندہ درگاہ ہی رہی عقول نے جتنا اس کی ذات میں سوچا پریشان ہی رہی ۔۔۔
وہ حی لا یموت ہے قیوم لاینام ہے وہ ذات خالق بلا حاجة ہے رازق بلامونة ہے '  ممیت بلا مخافة ہے اور باعث بلامشقة ہے 
 اسکی ذات کی کنہ اور حقیقت تک رسائی محال البتہ من وجہ جس قدر اسنے اپنے انبیاء کی معرفت کتب و صحائف میں ہمیں آگاہی بخشی سب پر ہمارا ایمان و اتقان ہے 

تحریر: ابوالحقائق احمد 

لفظ رب کی علمی تحقیق

2017-06-15 17:46:35 

لفظ رب کی علمی تحقیق یہ لفظ سورہ فاتحہ میں ذات باری تعالیٰ کی پہلی صفت کے طور پر استعمال ہوا ہے، جس کے معنی مربی اور مالک کے ہیں۔ فاتحۃ الکتاب میں باری تعالیٰ کی شان الوہیت پر دلالت کرنے والے پہلے صفاتی نام کی حیثیت سے اس کے معنی و مفہوم کو مختلف جہتوں سے سمجھنا اس لیے بھی ضروری ہے کہ اس کے اندر مضمر اعلان ربوبیت درحقیقت توحید الٰہی کا سب سے کامل اور بین ثبوت ہے۔ کیونکہ دور جاہلیت کے کفار و مشرکین کی طرح انسانی زندگی میں شرک، تصور خالقیت کی راہ سے کم اور تصورِ ربوبیت کی راہ سے زیادہ داخل ہوا ہے۔ یہ امر ثابت اور مسلّم ہے کہ کفار و مشرکین عرب اللہ تعالیٰ کو نام خواہ کچھ بھی دیتے ہوں، اسے رب الارباب ضرور مانتے تھے۔ کائنات میں اس کی مطلق بڑائی سے کسی کو انکار نہ تھا۔ مسئلہ صرف یہ تھا کہ وہ اس بالادست ہستی کے نیچے کئی رب اور بھی مانتے تھے اور اسی عقیدے نے ان کی جبینوں کو متعدد خداؤں کی پرستش کے لیے جھکا دیا تھا۔ ربوبیت میں اس تصور شراکت نے عقیدہ توحید کے خالص اور نکھرے ہوئے چہرے کو ان کی نظروں سے اوجھل کردیا تھا۔ بنا بریں ہم لفظ رب کے معنی کا جائزہ علمی و عملی ہر دوگوشوں سے لینا چاہتے ہیں تاکہ اس کے حقیقی مفہوم اور تصور کی معرفت حاصل ہوسکے۔ اس کی مختصر تحقیق یہ ہے کہ یہ لفظ تربیت کے معنی میں اصلاً مصدر ہے مگر اس کا اطلاق و صفاً فائل کے معنی میں ہوتا ہے۔ جیسے عادل کے لیے مبالغۃ عدل کا اور صائم کے لیے صوم کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔ جس کا مفاد یہ ہے کہ فی الحقیقت رب صرف مربی کو نہیں بلکہ نہایت ہی کامل مربی کو کہا جاسکتا ہے۔ صاف ظاہر ہے کہ جو خود ہر جہت سے کامل ہو وہی دوسرے کی کامل تربیت کرنے کا اہل ہوسکتا ہے۔ اس لیے تربیت کی تعریف ان الفاظ میں کی گئی ہے : التربية هی تبليغ الشئي الي کماله شيا فشيا. تربیت سے مراد کسی چیز کو درجہ بدرجہ اس کے کمال تک پہنچانا ہے۔ (تفسيرأبی السعود، 1 : 13) بعض اہل علم کے نزدیک لفظ رب، مربی کے معنی میں خود نعت ہے۔ (جیسے نعمَّ۔ ینمّ۔ فھونمٌّ، ربّ، یربّ، فھو ربٌّ) لیکن دونوں صورتوں میں اصل مفہوم اور اس کی دلالت ایک ہی رہتی ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اصل میں یہ لفظ راب تھا جس کی درمیانی الف حذف کردی گئی اور رجل بار سے رجل بر کی طرح راب سے لفظ رب رہ گیا۔ جیسا کہ ابوحیان کا قول ہے۔ بعض نے اسے مبالغہ پر اسم فاعل بھی قرار دیا ہے اور بعض نے صفت مشبہ کیونکہ وہ بسا اوقات فاعل کی صورت میں بھی پائی جاتی ہے مثلاً الخالق، المنعم اور الصاحب وغیرہ ہیں۔ تربیت اور ملکیت ائمہ تفسیر نے بالعموم رب کے معنی میں دو صفات کو شامل کیا ہے۔ ان دونوں کی اپنی اپنی جگہ معنوی حکمت و افادیت معلوم ہونی چاہئیے۔ تربیت : اس کی تعریف سے واضح ہے کہ یہ دو شرائط کا تقاضا کرتی ہے : i۔ تکمیل ii۔ تدریج تربیت کی مختصر تعریف ان الفاظ میں کی گئی ہے : هوالتبليغ الي الکمال تدريجاً. یہ کسی شے کو تدریجا کمال تک پہنچانے کا نام ہے۔ امام راغب اصفہانی رحمۃ اللہ علیہ نے اس مفہوم کو نہایت بلیغ انداز میں واضح کیاہے۔ وہ فرماتے ہیں : الرب في الاصل التربيه و هو انشاء الشيء حالا فحالًا اليٰ حد التمام. لفظ رب اصلاً تربیت کے معنی میں ہے اور اس سے مراد کسی چیز کو درجہ بدرجہ مختلف احوال میں سے گزارتے ہوئے آخری کمال کی حد تک پہنچا دینا ہے۔ (المفردات : 184) کمال سے یہاں مراد ہے ما یتم بہ الشیء فی صفاتہ یعنی یہ کسی چیز کی وہ حالت ہوتی ہے جہاں وہ اپنی جملہ صفات کے اعتبار سے انتہا کو پہنچ جائے۔ ان توضیحات سے معلوم ہوا کہ اگر تربیت پانے والا اپنے کمال یعنی صفاتی انتہا کو نہ پہنچے، تب بھی تربیت نامکمل رہی، اور اگر اس نے جملہ تدریجی اور ارتقائی مراحل طے نہ کیے ہوں تب بھی تربیت کامل نہ ہوئی۔ لہذا نظام تربیت کا کمال یہ ہے کہ مربوب (تربیت پانے والا) تدریجی اور ارتقائی منزلوں میں سے گزرتا ہوا اپنی صفات کی آخری حد کو پالے۔ اس تصور تربیت سے مزید دو باتوں پر روشنی پڑتی ہے : 1۔ حفاظت و کفالت اور ملکیت و قدرت 2۔ ارتقاء میں تسلسل اور استمرار حقیقی تکمیل اس وقت تک ممکن نہیں جب تک مربوب کی تمام ضرورتوں کی صحیح کفالت اور اس کے جملہ مفادات کی صحیح حفاظت نہ ہو۔ اگر کسی بھی جہت سے مربوب کی کفالت یا حفاظت میں کوئی کمی رہ جائے تو اس کی تکمیل نا ممکن ہوجاتی ہے۔ اور کفالت و حفاظت کی جملہ شرائط اس وقت تک پوری نہیں ہوسکتیں جب تک وہ شے کاملا ً مربی کے قبضہ و تصرف میں نہ ہو۔ اگر مربی بلا شرکت غیرے اپنے مربوب کا مالک ہو اور بحیثیت مالک اسے اپنے مربوب کے تمام معاملات میں مکمل تصرف اور قدرت حاصل ہو تو تبھی وہ بتمام و کمال کفالت و حفاظت کی ذمہ داری پوری کرسکتا ہے، جس کے نتیجے میں ا س کا کامل مربی ہونا واقعہ بن سکے گا اور اس کی تربیت حقیقی تربیت قرار پائے گی۔ اس لیے لفظ رب اس الوہی شان کی نشاندہی کرتا ہے کہ وہ کامل مربی و مالک ہے۔ وہی قادر اور جمیع امور میں حقیقی متصرف ہے۔ اس کی شان ربوبیت میں کوئی شریک ہے نہ دخیل۔ اس لیے اس کا رب ہونا علی الاطلاق ہے جبکہ اس عالم اسباب میں کئی افراد جو ایک دوسرے کے مربی ہوتے ہیں، انہیں جب مجازا رب کہا جاتا ہے تو ہمیشہ اضافت کی شرط کے ساتھ کہا جاتا ہے۔ مثلاً گھر اور گھوڑے کے مالک کو مجازا ً رب الدار او ر رب الفرس کہا جاتا ہے۔ اسی طرح حضرت یوسف علیہ السلام قید خانے میں ایک شخص سے بادشاہ مصر کے بارے میں فرماتے ہیں : اذْكُرْنِي عِندَ رَبِّكَ فَأَنسَاهُ الشَّيْطَانُ ذِكْرَ رَبِّهِ. اپنے بادشاہ کے پاس میرا ذکر کردینا (شاہد اسے یاد آجائے) کہ ایک اور بے گناہ بھی قید میں ہے) مگر شیطان نے اسے اپنے بادشاہ کے پاس (وہ) ذکر کرنا بھلا دیا۔ (يوسف، 12 : 42) اسی طرح آپ ایلچی کو فرماتے ہیں : ارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ فَاسْأَلْهُ مَا بَالُ النِّسْوَةِ اللاَّتِي قَطَّعْنَ أَيْدِيَهُنَّ. اپنے بادشاہ کے پاس لوٹ جا اور اس سے (یہ) پوچھ (کہ) ان عورتوں کا (اب) کیا حال ہے جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ ڈالے تھے۔ (يوسف، 12 : 50) اسی طرح والدین کی نسبت بارگاہ ایزدی میں اس دعا کی تلقین فرمائی گئی ہے : وَقُل رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًاO اور (اللہ کے حضور) عرض کرتے رہو اے میرے رب ! ان دونوں پر رحم فرما جیسا کہ انہوں نے بچپن میں مجھے (رحمت و شفقت سے) پالا تھا۔ (بني اسرائيل، 17 : 24) یہاں بھی رَبَّیٰنِی کا فعل رب مصدر سے والدین کے حق میں مجازاً استعمال کیا گیا ہے۔ الغرض جہاں بھی رب بطور مصدر یا کسی فرد کے لیے مجازاً استعمال ہوگا کسی نہ کسی اضافت کے ساتھ ہوگا۔ مطلقاً اس کا استعمال صرف اللہ تعالی کے لیے ہے کیونکہ حقیقی مربی اور مالک مطلق وہی ذات ہے اور اسی کی ملکیت و پرورش ساری کائنات کے لیے علی الاطلاق ہے۔ اس لیے وہی اکیلا قادر مطلق اور مسبب الاسباب ہے۔ اگر اس کی اس شان ربوبیت میں کوئی اور شریک ہوتا تو نظام کائنات اس حسن تدبیر کے ساتھ کبھی نہ چل سکتا۔ جیسا کہ خود قرآن اعلان فرماتا ہے : لَوْ كَانَ فِيهِمَا آلِهَةٌ إِلَّا اللَّهُ لَفَسَدَتَا. اگران دونوں (زمین و آسمان) میں اللہ کے سوا اور (بھی) معبود ہوتے تو یہ دونوں تباہ ہوجاتے۔ (الانبياء، 21 : 22) بنا بریں بعض مفسرین نے رب کا اطلاق مالک، نگران، مربی، مدبر، منعم، مصلح اور معبود کے معانی پر کیا ہے۔ اور بطور خاص حفظ اور ملک کو معنی ربوبیت کا لازمی حصہ تصور کیا ہے۔ دوسری بات جو معنی تربیت میں شامل ہے وہ تکمیل کے سلسلے میں تدریج و ارتقاء کا تسلسل اور استمرار ہے۔ تدریج باب تفعیل کے خواص میں سے ہے اور تدریج و ارتقاء کی صحت اس کے تسلسل اور استمرار پر منحصر ہوتی ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ کمال کی طرف بڑھنے کا سلسلہ رفتہ رفتہ اور درجہ بدرجہ کسی مرحلے پر رکے بغیر جاری رہے تو تدریج کی صحت اور فوائد برقرار رہتے ہیں اور اگر درمیان میں انقطاع اور عدم تسلسل آجائے تو تکمیل متاثر ہوجاتی ہے۔ نظام ربوبیت اور تصور ارتقاء پر باقاعدہ گفتگو تو ذرا آگے چل کر ہوگی لیکن یہاں اسی قدر سمجھ لینا ضروری ہے کہ رب کے نظام پرورش میں تدریج و ارتقاء بھی ہے اور تسلسل و استمرار بھی۔ جیسا کہ قرآن مجید میں واضح فرمایا گیا ہے : يَا أَيُّهَا الْإِنسَانُ مَا غَرَّكَ بِرَبِّكَ الْكَرِيمِO الَّذِي خَلَقَكَ فَسَوَّاكَ فَعَدَلَكَO فِي أَيِّ صُورَةٍ مَّا شَاءَ رَكَّبَكَO اے انسان تجھے کس چیز نے اپنے رب کریم کے بارے میں دھوکے میں ڈال دیا؟ جس نے تجھے پیدا کیا، پھر اس نے تجھے درست اور سیدھا کیا، پھر وہ تیری ساخت میں متناسب تبدیلی لایا جس صورت میں بھی چاہا اس نے تجھے ترکیب دے دیا۔ (الانفطار، 82 : 6، 7، 8) اس آیت میں باری تعالیٰ نے اپنا ذکر شان ربوبیت سے فرمایا ہے اورساتھ ہی انسانی شخصیت کی جسمانی تکمیل کے سلسلے میں تدریج اور تسلسل کو بیان کیا ہے جس سے مذکورہ بالا تصور کو اجمالی تائید میسر آجاتی ہے اور لفظ رب کی اس معنوی خصوصیت کو سمجھنے میں کافی مدد ملتی ہے۔ ربوبیت اور اعانت میں فرق اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات اقدس کو قرآن مجید میں کم و بیش نو سو اڑسٹھ (968) مرتبہ شان ربوبیت کے ذریعے بصراحت متعارف کرایا ہے۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کی یہ شان مخلوقات عالم کے ہر وجود کو اپنے فیض سے نواز رہی ہے۔ فیضیاب تو کئی صورتوں میں لوگ ایک دوسرے سے ہوتے رہتے ہیں۔ مثلاً کوئی پیاسے کو پانی پلاتا ہے، کوئی بھوکے کو کھانا کھلاتا ہے، کوئی محتاج کی مالی اعانت کرتا ہے، کوئی کمزور کا سہارا بنتا ہے، یہ ساری نفع بخشیاں اور فیض رسانیاں ایک دوسرے کی امداد و اعانت کی مختلف صورتیں اور احسان و انعام کی مختلف شکلیں ضرور ہیں مگر ربوببیت کے عنوان میں نہیں آسکتیں، کیونکہ ربوبیت سے مراد کسی کی پرورش کرنا اور پالنا ہے۔ مذکورہ بالا سب صورتیں اپنی نوعیت اور دائرہ کار کے لحاظ سے دو جہتی یاسہ جہتی اعانتیں ہیں، مگر ربوبیت ہمہ گیر و ہمہ جہت شے ہے۔ مزید یہ کہ دوسری تمام اعانتیں ہنگامی اور وقتی ہوسکتی ہیں مگر ربوبیت ایک مستقل اور مسلسل عمل ہے جو کبھی بھی منقطع نہیں ہوسکتا۔ وہ ہر حال میں ہر لحظہ جملہ سمتوں میں جاری رہتا ہے۔ عام اعانتوں احسانات و انعامات سے ضرورت مندوں کی ایک دو ضرورتوں اور حاجتوں کی تکمیل کا سامان ہوتا ہے۔ لیکن انسانی وجود کو اپنی پیدائش سے پہلے بطن مادر کے دور سے لے کر عالم شباب کو پہنچنے اور اس کے بعد ضعف و پیری کے مرحلوں میں سے گزرنے کے لیے ہر زمانے میں جو جو حاجت اور ضرورت ہوتی ہے ربوبیت اس کی کفیل ہوتی ہے۔ پھر حاجت و ضرورت کی تکمیل کے لیے عالم داخل اور عالم خارج میں جیسے جیسے حالات، تقاضے، تغیرات، عواطف و میلانات اور احوال و کیفیات درکار ہوتی ہیں ربوبیت انہیں بغیر کسی مطالبے بغیر کسی تاخیر کے از خود مہیا کرتی رہتی ہے۔ پس معلوم ہوا کہ یہ خوبی کسی ایسی ذات میں ہوسکتی ہے جو ہر وجود پر ابتداء سے انتہاء تک اپنے علم و قدرت کے ساتھ حاوی اور محیط ہو، اس کی مالک اور نگہبان ہو۔ اس کی ہر حالت اور ضرورت سے ہر وقت اچھی طرح واقف اور اس پر نہایت شفیق اور مہربان ہو۔ ہر قسم کی مدد واعانت پر مکمل طور پر قادر اور خود ہر حاجت و ضرورت سے کلیتہً بے نیا ز ہو اور تمام امور میں حقیقی متصرف اور مدبر ہو۔ یہ تمام خوبیاں چونکہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور میں نہیں ہوسکتی تھیں، اس لیے اس نے الحمدللہ فرما کر حقیقتاً خود کو مستحق حمد ٹھہرایا اور استحقاق حمد کی دلیل اپنی ربوبیت کو قرار دیا جو فی الحقیقت صرف اسی کی شان ہے جیسا کہ ارشاد فرمایا گیا ہے : قُلْ أَغَيْرَ اللّهِ أَبْغِي رَبًّا وَهُوَ رَبُّ كُلِّ شَيْءٍ فرما دیجئے کیا میں اللہ کے سوا کوئی دوسرا رب تلاش کروں حالانکہ وہ ہر شے کا پروردگار ہے۔ (الانعام، 6 : 164) العالمین کا مفہوم باری تعالیٰ نے اپنی صفت ربوبیت کی اضافت و نسبت اس لفظ کے ساتھ کی ہے۔ اس لئے یہ جاننا انتہائی ضروری ہوجاتا ہے کہ العالمین سے کیا مراد ہے؟ عالمین، عالم کی جمع ہے۔ یہ اسم جنس ہے اور خود بھی جمع ہے مگر اس کا واحد کوئی نہیں، جیسے لفظ الناس جمع ہے مگر اس کا واحد کوئی نہیں۔ یہ ’’ع، ل، م،، سے مشتق ہے اور اسم آلہ ہے۔ اس کی مختصر ترین تعریف ان الفاظ میں کی گئی ہے : العالم اسم لما يعلم به. عالم وہ اسم ہے جس سے کسی کو جانا اور پہچانا جائے۔ (تفسير ابي السعود، 1 : 13) (تفسير روائع البيان، 1 : 24) گویا عالم وسیلہ علم ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ کس کو جاننے کا وسیلہ اور ذریعہ ہے۔ اس کا مختصر جواب اس تعریف میں مضمر ہے : انه من العلامة و هو يقوي قول أهل النظر فکأنه انما سمي عندهم بذالک لأنه دالٌّ علي وجود الخالق. ’’عالم،، کے علامت سے (مشتق) ہونے کی وجہ سے اہل نظر کا یہ قول برحق ثابت ہوتا ہے کہ اسے ’’عالم،، کہنے کی وجہ یہ ہے کہ وہ اپنے خالق کے وجود پر دلالت کرتا ہے۔ (تفسير زاد المسير، 1 : 12) واضح رہے کہ کسی کو معلوم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ وہ پہلے سے موجود ہو۔ موجود کی دو اقسام ہیں : 1۔ واجب الوجود 2۔ ممکن الوجود۔ واجب الوجود تو فقط باری تعالیٰ ہے اور ممکن الوجود اس کے سوا سب کچھ ہے۔ جوذات واجب الوجود ہے وہ ہمارے حواس و مشاہدات، عقلی ادراکات حتی کہ قلبی لطائف و اکتشافات سے بھی ماوراء ہے۔ اس کی حقیقت انسان کی ہر سطح کی نفسی استعداد کے حیطۂ ادارک سے بلند ہے۔ وہ موجود ہے لیکن غیر مرئی اور غیر محسوس۔ اس لیے اسے جاننے کے لیے کوئی ذریعہ اور وسیلہ چاہئیے۔ چنانچہ اس نے اپنی معرفت کے ذریعے اور وسیلے کے طور پر پوری کائنات کو تخلیق کیا، یہ کائنات ممکن الوجود ہے مگر واجب الوجود پر دلالت کر تی ہے، جو خود حادث ہے مگر قدیم پر دلالت کرتی ہے، جو خود عارضی مگر دائمی پر دلالت کرتی ہے، جو خود متغیر ہے مگر غیر متغیر پر دلالت کرتی ہے، جو خود اضافی ہے مگر حقیقی پر دلالت کرتی ہے، جو خود محدود و متناہی ہے مگر غیر محدود اور لا متناہی پر دلالت کرتی ہے۔ الغرض کائنات پس و بالا کے وجود کا ہر ذرہ اور اس کے نظام کا ہر گوشہ اپنے خالق و منتظم کی نشاندہی کرتا ہے۔ عالم ذریعہ علم ہے اور وہ ذات حق خود مقصود علم۔ حق یہ ہے کہ یہاں العالمین کا معنوی اطلاق اﷲ کی مخلوق کی کسی خاص نوع یا صنف سے مختص نہیں بلکہ جملہ مخلوقات کی تمام انواع و اصناف اور افراد و اجزاء کو شامل ہے۔ اس کائنات ہست و بود میں جس شے کی بھی دلالت ذات حق اور اس کی ربوبیت پر موجود ہے، وہ العالمین میں داخل ہے۔ کیونکہ اس کا وجود اس کے صانع کے وجود کی دلیل ہے اور یہی مفہوم عالم ہے۔ امام راغب اصفہانی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں : العالم آلة في الدلالة علي صانعه. عالم اپنے بنانے والے کے وجود کے لیے آلہ دلالت ہے۔ (المفردات، 344) اسی قبیل سے علم ہے جس کے معنی جھنڈے کے ہیں۔ وہ بھی کسی ملک جماعت، عمارت، دفتر، شخصیت یا لشکر کی علامت ہوتا ہے۔ ا ندھیری رات میں اگر کہیں دیا جل رہا ہو جو وہاں کسی انسان کی موجودگی کا پتہ دے تو اسے بھی علم کہا جائے گا۔ اس لیے ارشاد فرمایا گیا : سَنُرِيهِمْ آيَاتِنَا فِي الْآفَاقِ وَفِي أَنفُسِهِمْ حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُ الْحَقُّ ہم عنقریب ان کو دنیا میں اور خود ان کی ذات میں اپنی (قدرت و حکمت کی) نشانیاں دکھائیں گے یہاں تک کہ ان پر کھل جائے گا کہ یہ (قرآن) حق ہے۔ (حم السجدة، 41 : 53) مزید ارشاد فرمایا گیا ہے : أَوَلَمْ يَنظُرُواْ فِي مَلَكُوتِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا خَلَقَ اللّهُ مِن شَيْءٍ. کیا انہوں نے آسمانوں اور زمین کی بادشاہت میں اور (علاوہ ان کے) جو کوئی چیز بھی اللہ نے پیدا فرمائی ہے (اس میں) نگاہ نہیں ڈالی۔ (الاعراف، 7 : 185) ایک اور مقام پر آسمان و زمین کی ساری کائنات کی ذات حق پر شان دلالت کا ذکر یوں کیا گیا ہے : إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلاَفِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَآيَاتٍ لِّأُوْلِي الْأَلْبَابِO الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللّهَ قِيَامًا وَقُعُودًا وَعَلَى جُنُوبِهِمْ وَيَتَفَكَّرُونَ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذَا بَاطِلاً. بے شک آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں اور شب و روز کی گردش میں عقل سلیم والوں کے لئے (اللہ کی قدرت کی) نشانیاں ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو (سراپا نیاز بن کر) کھڑے اور (سراپا ادب بن کر) بیٹھے اور (ہجر میں تڑپتے ہوئے) اپنی کروڑوں پر (بھی) اللہ کو یاد کرتے رہتے ہیں۔ (آل عمران، 3 : 190، 191) جب یہ امر بالکل واضح ہے کہ کائنات ارض و سماء کی ہر شے اور مخلوقات و موجودات کا ہر فرد، وجود الٰہی، اس کی شان خلاقیت اور صفت ربوبیت کی دلیل و علامت ہے تو اس میں سے کسی بھی حصے کو اس جگہ عالمین کے دائرہ اطلاق سے خارج تصور کرنا مناسب معلوم نہیں ہوتا۔ قرآن مجید خود بھی ایک مقام پر اس معنی کی تصریح ان الفاظ میں کرتا ہے : قَالَ فِرْعَوْنُ وَمَا رَبُّ الْعَالَمِينَO قَالَ رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا إن كُنتُم مُّوقِنِينَO فرعون بولا اور پروردگار عالم کی حقیقت کیا ہے؟ (یعنی وہ ہے کیا) فرمایا (وہ) آسمانوں اور زمین کا پروردگار ہے اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے اگر تم لوگ یقین کرو۔ (الشعراء، 26 : 23، 24) یہاں قرآن مجید نے رب العالمین کی وضاحت میں خود ساری کائنات پست و بالا اور اس کے جملہ موجودات کو بیان کردیا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس قرآنی تصریح کے بعد رب العالمین کے مفہوم کو اس مقام پر صرف جن و انس یا بعض دیگر انواع خلق پر محصور و محدود کرنے کی کوئی خاص وجہ نہیں رہ جاتی۔ مذکورہ بالا آیت میں آسمانی اور زمینی کائنات اور اس کے جملہ موجودات کو العالمین میں شمار کر کے فرمایا گیا ہے ان کنتم مؤقنین یعنی اگر تم صاحب ایقان ہو۔ ایقان اس علم صحیح کو کہتے ہیں جو استدلال سے حاصل ہو۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کی شان میں موقن نہیں کہا جاتا بلکہ موقن مخلوق ہی ہوسکتی ہے کیونکہ وہ موجودات عالم اور ان کے نظام ہائے گوناگوں سے ان کے خالق و صانع پر استدلال کرتی اور اس کی ہستی پر یقین حاصل کرتی ہے۔ جیسا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لیے فرمایا گیا : وَكَذَلِكَ نُرِي إِبْرَاهِيمَ مَلَكُوتَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَلِيَكُونَ مِنَ الْمُوقِنِينَO اور اسی طرح ہم نے ابراہیم علیہ السلام کو آسمانوں اور زمین کی تمام بادشاہتیں (یعنی عجائبات خلق) دکھائیں اور (یہ) اس لیے کہ وہ وعین الیقین والوں میں ہوجائے۔ (الانعام، 6 : 75) یہاں بھی زمین و آسمان کی ساری کائنات اور عوالم ارض و سماء کے تمام موجودات کے مشاہدے کو بنائے ایقان قرار دیا گیا ہے۔ جس سے باری تعالیٰ کی ربوبیت مطلقہ پر دلالت میسر آتی ہے۔ اس لیے رب العالمین میں العالمین کا مفہوم اور دائرہ صرف عالم انسانیت یا عالم جن و انس تک ہی مختص تصور نہیں کیا جانا چاہئیے، جیسا کہ بعض مترجمین اور مفسرین نے کیا ہے، بلکہ اس مقام پر اس لفظ کی معنوی وسعت میں جملہ عوالم اور ان کے موجودات کو شامل تصور کیا جانا ضروری ہے۔ درست ہے کہ قرآن مجید میں العالمین کا لفظ ہر جگہ اسی معنوی وسعت کے حوالے سے استعمال نہیں ہوا بلکہ مختلف وجوہ پر وارد ہوا ہے۔ مثلاً سورۃ البقرہ اورسورۃ الجاثیہ میں ’’أَنِّي فَضَّلْتُكُمْ عَلَى الْعَالَمِينَ،، اور سورۃالدخان میں وَلَقَدِ اخْتَرْنَاهُمْ عَلَى عِلْمٍ عَلَى الْعَالَمِينَ کا اطلاق ایک مخصوص زمانے کی اقوام پر ہے۔ اسی طرح سورۃآل عمران میں وَاصْطَفَاكِ عَلَى نِسَاءِ الْعَالَمِينَ کا اطلاق ہے۔بَارَكْنَا فِيهَا لِلْعَالَمِينَ میں العالمین کا اطلاق جمیع اولاد آدم پر ہے۔ سَلَامٌ عَلَى نُوحٍ فِي الْعَالَمِينَ میں اطلاق اہل کتاب (یہود و نصاریٰ) پر ہے۔ وَلَـكِنَّ اللّهَ ذُو فَضْلٍ عَلَى الْعَالَمِينَ میں اطلاق جمیع اہل ایمان پر ہے۔ أَوَلَيْسَ اللَّهُ بِأَعْلَمَ بِمَا فِي صُدُورِ الْعَالَمِينَ میں اطلاق قوم منافقین پر ہے۔ الغرض ہر جگہ اس لفظ کے دائرہ اطلاق کا اندازہ خود ان آیات کے سیاق و سباق سے ہو جاتا ہے۔ قاعدہ یہ ہے کہ جب بھی کوئی لفظ اپنے اصل اطلاق اور انطباق کی وسعت سے ہٹ کر کسی خاص دائرے میں استعمال ہوتا ہے تو اس کے لیے واضح قرینہ موجود ہوتا ہے اور جہاں ایسا خاص قرینہ موجود نہ ہو وہاں اسے اپنے اصل مفہوم کی وسعت پر ہی قائم رکھا جاتا ہے۔ اس آیت میں چونکہ جملہ حمد کے استحقاق کے لئے باری تعالیٰ نے اپنے العالمین کے رب ہونے کو بطور دلیل پیش فرمایا ہے۔ لہذا کائنات کی جو شے بھی رب کریم کے فیضان ربوبیت سے پروان چڑھ رہی ہے وہ بہر صورت العالمین کے دائرہ اطلاق میں داخل ہوگی۔ رَحمۃٌ للعالمین کے لئے العالمین کا استعمال مذکورہ بالا اصول کا حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات اقدس کے لیے بھی اطلاق ہوتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نسبت سے قرآن مجید میں بھی العالمین کا لفظ دو طرح استعمال ہوا ہے : 1۔ العالمین بمعنی عالم انس و جان۔ 2۔ العالمین بمعنی موجودات کائنات۔ پہلا استعمال لِيَكُونَ لِلْعَالَمِينَ نَذِيرًا۔ (الفرقان : 1) ’’تاکہ وہ دنیا جہان والوں کو (اللہ کی نافرمانی کے عواقب سے) ڈرانے والے ہوں،، یہاں عالمین کی معنوی وسعت، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان نذیریت کے حوالے سے متعین کی جائے گی۔ صاف ظاہر ہے کہ نذیر ہوناصرف اس ذوی العقول مخلوق کے لیے ہی ہوسکتا ہے جو بارگہ ایزدی میں اپنے اعمال پر جوابدہ ہو اور یہ مکلف مخلوق فقط عالم انس و جان کے افراد ہیں۔ اس لیے یہاں عالمین سے مراد تمام انسان اور جنات ہوں گے۔ تمام اقوام عالم بھی اس معنی میں شامل ہیں۔ العالمین کا دوسرا استعمال وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَO ’’(اے رسول محتشم) ہم نے آپ کو نہیں بھیجا مگر تمام جہانوں کے لئے رحمت بنا کر،، (الانبیاء، 21 : 107) کی صورت میں کیا گیا ہے۔ یہاں اس کی معنوی وسعت کا تعین حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان رحمت کے حوالے سے ہوگا۔ یہ امر ثابت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فیضان رحمت سے نہ صرف عالم انس و جان متمتع ہوئے ہیں بلکہ عالم ملائک، عالم ارواح، عالم اجسام، عالم نباتات و جمادات، عالم حیوانات، ذوی العقول، غیرذوی العقول حتی کہ دنیا و آخرت کے جملہ عوالم میں ہر کسی نے رحمت مصطفوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اپنے اپنے حسب حال فیض حاصل کیا ہے، کر رہا ہے اور کرے گا۔ اس لیے کہ رحمت صرف بصورت ہدایت ہی نہیں اور بھی کئی صورتوں میں صادر ہوتی ہے جو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کمالات و معجزات سے تواتر اور صحت کے ساتھ ثابت ہیں۔ اس لیے یہاں العالمین کا دائرہ کائنات ارض و سماء کے جملہ موجودات کو محیط ہے۔ لہذا جہاں العالمین کی معنوی وسعت باری تعالی کی شان ربوبیت کے حوالے سے متعین ہوگی۔ اس کا دائرہ جملہ عوالم و موجودات کو کیوں محیط نہ ہوگا؟ العالمین کی ناقابل تصور وسعت یہ پہلوخاص طور پر قابل توجہ ہے کہ جب انواع خلق کے لحاظ سے ایک عالم پوری کائنات ہے توپھر عالمین کی وسعت کتنے عالموں اور کائناتوں کو محیط ہوگی۔ حضرت وہب رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں۔ اﷲ ثمانية عشر ألف عالم، الدنيا منها عالم واحد. اﷲ تعالیٰ کے تخلیق کردہ اٹھارہ ہزار (18,000) عالم ہیں اور دنیا ان میں سے ایک ہے۔ (الدرالمنثور، 1 : 13) (تفسيرأبي السعود، 1 : 14) حضرت کعب الاحبار فرماتے ہیں : لایحصیٰ عدد العالمین۔ عوالم کی تعداد کا شمار نہیں کیا جاسکتا۔ قرآن مجید میں ہے : وَمَا يَعْلَمُ جُنُودَ رَبِّكَ إِلَّا هُوَ. اور آپ کے پروردگار کے لشکروں کو بجز اس کے کوئی نہیں جانتا۔ (المدثر، 74 : 31) یہاں لشکروں سے مراد مختلف انواع خلق ہیں جو ارض و سماء کی وسعتوں میں جدا جدا عالمین میں موجود ہیں۔ جن کی صحیح تعداد اور حتمی تفصیلات خالق کائنات کے سوا کسی اور کو معلوم نہیں۔ اسی طرح ارشاد فرمایا گیا : وَيَخْلُقُ مَا لاَ تَعْلَمُونَO اور وہ پیدا فرمائے گا جنہیں تم (آج) نہیں جانتے۔ (النحل، 16 : 8) اس آیت کریمہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کا سلسلہ ازل سے جاری ہے اورہمیشہ جاری رہے گا۔ بنابریں اس کے تخلیق کردہ عوالم اس قدر ہیں کہ کسی کو ان کا اندازہ بھی نہیں۔ اس امر کی تائید اس ارشاد سے بھی ہوتی ہے : يَزِيدُ فِي الْخَلْقِ مَا يَشَاءُ. وہ اپنی تخلیق میں جو چاہتا ہے بڑھاتا جاتا ہے۔ (فاطر، 35 : 1) یہ سب مقامات بتاتے ہیں کہ نہ معلوم دن بدن اور لمحہ بہ لمحہ کتنی کائناتیں اور عوالم منصہ خلق پر ظہور پذیر ہورہے ہیں۔ بقول اقبال : یہ کائنات ابھی ناتمام ہے شاید کہ آرہی ہے دما دم صدائے کن فیکون چنانچہ جن علماء نے مختلف عالموں کی تعداد کا ذکر کیا ہے وہ کسی نہ کسی خاص نسبت اور جہت سے کیا ہے : 1۔ اہل علم پر جوں جوں علوم وفنون منکشف ہوتے رہے ہیں وہ اپنی اپنی بساط اور ذوق و فہم کے مطابق عالمین کی اقسام بیان کرتے رہے ہیں۔ کوئی عالم اجسام اور عالم ارواح کی تقسیم اس طور پر بیان کرتا ہے کہ عالم اجسام میں پھر اجسام علویہ اور اجسام سفلیہ کے عوالم ہیں۔ اجسام علویہ میں شمس و قمر دیگر سیارات، افلاک وکواکب، عرش و کرسی، سدرۃ المنتہٰی، لوح و قلم اور جنت وغیرہ کے عالم شامل ہیں۔ اجسام سفلیہ میں کرہ ارض، کرہ ہوا اور کرہ نار ہیں۔ یہ سب اہل فلسفہ کے نزدیک اجسام بسیط کے عالم ہیں اور اجسام مرکبہ میں عالم نباتات، عالم معدنیات، عالم حیوانات وغیرہ شامل ہیں۔ اسی طرح عالم ارواح میں بھی علوی اور سفلی کی تقسیم ہے جن میں ملائکہ اور جن و انس کے عوالم آجاتے ہیں۔ 2۔ بعض اہل علم عالم اکبر اور عالم اصغر کی تقسیم کرتے ہیں۔ عالم اکبر سے مراد ساری خارجی کائنات ہے جس کی وسعتیں زمین وآسمان کو محیط ہیں اور عالم اصغر خود وجود انسانی ہے جو عالم اکبر کی جملہ حقیقتوں کا جامع ہے۔ عالم اکبر جن حقائق کی تفصیل ہے عالم اصغر ان سب کا اجمال ہے بایں طور کائنات عالم مفصل ہے اور انسان عالم مجمل ارشاد باری تعالیٰ ہے : وَفِي الْأَرْضِ آيَاتٌ لِّلْمُوقِنِينَO وَفِي أَنفُسِكُمْ أَفَلَا تُبْصِرُونَO اور (یوں تو) یقین رکھنے والوں کے لئے زمین میں (بے شمار) نشانیاںْ ہیں اور (اے لوگو) خود تمہارے نفسوں میں بھی (اللہ کی قدرت کی نشانیاں ہیں) پھر کیا تم غور نہیں کرتے۔ (الذرايت، 51 : 20، 21) اسی طرح : سَنُرِيهِمْ آيَاتِنَا فِي الْآفَاقِ وَفِي أَنفُسِهِمْ. ہم عنقریب ان کو دنیا میں اور خود ان کی ذات میں (اپنی قدرت و حکمت کی) نشانیاں دکھائیں گے۔ (حم السجدة، 41 : 53) اس آیت میں واضح طور پر عالم انفس اور عالم آفاق کا ذکر ہے۔ دونوں میں فرق یہی ہے کہ جو آیات الہیہ عالم آفاق میں منتشر ہیں وہ سب عالم انسانی میں متجمع ہیں اس لیے کہا گیا ہے : من عرف نفسه فقد عرف ربه. جس نے اپنے نفس کو پہچان لیا پس اس نے اپنے رب کو پہچان لیا۔ (الحاوي للفتاويٰ، 2 : 412) (کشف الخفاء، 2 : 262) کیونکہ عالم انفس میں مخفی حقیقتیں سب رب کریم کی ذات و صفات کا پتہ دیتی ہیں۔ بقول اقبال : اگر خواہی خدا را فاش بینی خودی را فاش تر دیدن بیاموز 3۔ عالمین کی وسعت کا ایک ادنیٰ سا اندازہ وہ بھی ہے جو آج سائنسی انکشافات کے ذریعے حاصل ہورہا ہے۔ اس کا تذکرہ رب العالمین کے الفاظ میں پنہاں ربوبیت الہیہ کی بے کراں وسعتوں کو کسی حد تک اجمالاً سمجھنے میں یقیناً ممد ہوگا۔ ملحص از: لفظ رب العالمین کی علمی اور سائنسی تحقیق ۔۔ڈاکٹر طاہر القادری

زرے سے بھی کمتر اور خدا پرنکتہ چیں

2017-06-19 08:59:13 

انسان بھی بہت عجیب چیز ہے ماننے پر آئے تو اپنے آپ کو بندر  کا پتر مان لے(ملحد) اور نہ ماننے پر آئے تو دنیا کے خالق کا بھی انکار کر دے ایک ملحد کہتا ہےکہ حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش اور انکی نبوت کا دعویٰ اور خدا کا تصور عجیب ہے ہم پہلے بات کرتے ہیں کہ عجیب کیا ہے آج سے 1400 سال پہلے جب ایک عظیم شخص نے جسے اسکے خالق نے قاسم بنا کر بھیجا اس نے دعویٰ کیا کہ میرا اور آپکا خالق وہ اللہ کی زات ہے جو مسبب الاسباب ہے یعنی ہر کام سبب کے تحت کرتا ہے جس نے ہمارے رہنے کیلئے آسمانی کائنات اور زمین جو اکائی میں جڑے ہوئے تھے انھیں پھاڑ کر جدا کر دیا (سورہ الانبیاء 30 ) تو اس وقت موجود لوگوں کے لیے*یہ عجیب تھا* پھر جب اسی شخص نے جسے اسکے خالق نے رحیم بنا کر بھیجا اس نے ایک دھماکے کے بعد کائنات کے وجود کا نظریہ پیش کیا (سورہ فلق 1-2) تو *یہ عجیب تھا* جب اسی لاجواب شخصیت نے جسے اسکے خالق نے دنیا کے لیے ناصر بنا کر بھیجا اس نے کہا کہ یہ چمکتے ہوئے ستارے گر پڑیں گے(توسورہ الانفطار2) تو *یہ عجیب تھا* پھر جب اس بے مثال شخصیت جسکو اسکے خالق نے کامل بنا کر بھیجا اس نے سورج کی روشنی ختم ہوجانے کا نظریہ پیش کیا (سورہ التکویر1)تو *یہ عجیب تھا* پھر جب اسی امین اور صادق شخصیت جسے اسکے خالق نےشھید اور گواہ بنا کر بھیجا اس نے سات آسمانوں کا نظریہ پیش کیا (سورہ النباء12) تو *یہ عجیب تھا* پھر جب اسی محسن انسانیت نے جسے اسکے خالق نے ولی بنا کر بھیجااس نے ان سات آسمانوں کے درمیان فاصلے کے نظریے کو پیش کیا (سورہ نوح 15)تو *یہ عجیب تھا* پھر جب اس نہایت ہی مشفیق شخصیت نے جسے اسکے خالق نے رشید بنا کر بھیجا اس نے نظاہر چمکتے ہوئے چاند کی خود کی روشنی نہیں ہے کا نظریہ پیش کیا (سورہ یونس 5 )تو *یہ عجیب تھا* پھر جب اسی مہربان شخصیت نے جسے اسکے خالق نے عادل بنا کر بھیجا اس نے چاند کے سفر کو اسکا گھٹنے اور بڑھنے کا نظریہ دیا (سورہ یٰسین 39) تو *یہ عجیب تھا* پھر جب اسی رحمت اللعالمین جسے اسکے خالق نے غیب کی خبریں دینے والا بنا کر بھیجا جب اس نے چاند تک پہنچ جانے کی خبر دی( سورہ الانشقاق 18-20) تو *یہ عجیب تھا* ایسی لاتعداد مثالیں ہیں کہ بیان کرتے کرتے ایک کتاب مرتب ہو جائے بہرحال *یہ سب عجیب تھا*مگر اس وقت *عجیب نہ رہا* جب سائنس نے اس عظیم شخصیت کے عظیم نظریے کو بگ بینگ کے نظریے کے تحت ثابت کردیا گیا یہ پھر اس عظیم شخصیت کا دوسرا عظیم نظریہ کہ جب ستارے گرپڑیں گے جو عجیب تھا مگر اس وقت *عجیب نہ رہا* جب سائنس نے ستاروں میں کشش ثقل کا نظام بگڑنے اور آپس میں ٹکرا کر گرجانے کے نظام کو مان لیا پھر جب اس عظیم شخصیت نے سورج کی روشنی ختم ہو جانے کا نظریہ پیش کیا تو *یہ عجیب* مگر اس وقت *عجیب نہ رہا* جب سائنس نے سورج کی عمر 9 ارب سال بتائی اسکے بعد یہ اپنی روشنی کھو کر بے نور ہو جائے گا اور قیامت آجائے گی کے نظریے کو مان لیا پھر جب اس عظیم شخصیت نے سات آسمانوں کا نظریہ پیش کیا تو *یہ عجیب تھا* مگر اس وقت *عجیب نہ رہا* جبکہ سائنس نے خلائی میدان سے بیرونی میدان تک سات آسمانوں کے نظریے کو قبول کیا پھر جب اس عظیم شخصیت نے آسمانوں کے بیچ کافی فاصلے کے عظیم نظریے کو پیش کیا تو *یہ عجیب تھا* مگر اس وقت *عجیب نہ رہا* جب سائنس نے آسمان کی پہلی تہہ کو 65 کھرب کلومیٹر کا فاصلہ بتایا اور آخری تہہ کو لا محدود اور عقل سے ماورا قرار دے کر آج کے عقل مند لوگوں کو اس چیلنج کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا اس عظیم شخصیت نے اس وقت چیلنج کیا تھا کہ اگر طاقت رکھتے ہو تو زمین و آسمان کے کنارے سے نکل جاؤ *یہ عجیب تھا* مگر اس وقت *یہ عجیب نہ رہا* جب اس چیلنج کے سامنے انسان اس وقت بے بس ہو گیا جب وہ ساتویں آسمان کی تہہ اور مسافت کے اندازوں سے بھی ماورا ہوگیا نکلنا تو دور کی بات پھر اس عظیم شخصیت نے جب چمکتے ہوئے چاند کو مٹی کا ایک گولا کہا تو *یہ عجیب تھا*مگر اس وقت *عجیب نہ رہا* جب سائنس نے ثابت کیا کہ چاند کی اپنی روشنی نہیں بلکہ وہ منعکس کرتا ہے پھر اس عظیم شخصیت نے جب چاند کے گھٹنے اور بڑھنے کو اسکے سفر کے مرہون منت جانا تو *یہ عجیب تھا* مگر اس وقت *عجیب نہ رہا*جب سائنس نے چاند کے اپنے مدار میں گردش کو اسکا گھٹنا اور برھنا قرار دیا پھر اس عظیم شخصیت نے جب چاند تک پہنچ جانے کی اس وقت پیشن گوئی کی جب گدھوں گھوڑوں اور اونٹوں پر سفر کیا جاتا تھا تو *یہ عجیب تھا* مگر اس وقت عجیب نہ رہا جب ناسا کی طرف سے نیل آرمسٹرانگ ایڈون بز اور کولنز نے اس غیب کے علم کو سچائی کا روپ دے کر دینا کو یہ بات ماننے پر مجبور کر دیا کہ اس عظیم شخصیت کا علم کمال تھا انکے نظریات کمال تھے انکی حق گوئی کمال تھی اور انکی باتوں کا اقرار کرنے والے کمال تھےاور پھر جب اس دور کا موجودہ ملحد جب یہ کہتا ہے کہ یہ عجیب کہانی ہے اور اسکے ماننے والے بیوقوف ہیں تو مجھے یہ بہت عجیب لگتا ہے کہ ہمارے نظام کائنات کے بنانے والے نے جب کھربوں سیاروں کو بنایا ان میں ایک چھوٹا سا سیارا سورج بنایا اس چھوٹے سے سیارے جسکا حجم اس پورے نظام میں ایک نقطے کے برابر ہے اب اس نقطے کے برابر جسم کے اردگرد مزید ایک چھوٹا سا سیارا زمین ہے جو اسکے ارد گرد گھوم رہا ہے اسکا اپنا حجم سورج جیسے نقطے کے سامنے اتنا ہی ہے کہ ایک لاکھ کم و بیش زمین اس نقطے میں سما جائے پھر اس زمین میں موجود ایسے ملحد جسکی صرف اتنی اوقات ہے جتنی کہ سمندر میں موجود ایک قطرہ اب اتنی اوقات رکھنے والا جب اتنے سپر پاور خالق پر انگلی اٹھاتا ہے تو حقیقت میں یہی *عجیب ہوتا ہے*جب ایک شخص اتنے بڑے نظام کائنات میں موجود اپنی اوقات سے بڑھ جاتا ہے تو وہ اپنے خالق پر انگلی اٹھاتا ہے تو یہی عجیب ہوتا ہے جب یہ بہت چھوٹی سی مخلوق اپنے اتنے عظیم خالق پر انگلی اٹھاتی ہے تو اس وقت اسکا خالق اپنا جبار اور قہار ہونا ظاہر کرتا ہے اور پوری پوری بستیوں کو ایک سبب کے تحت الٹ کر رکھ دیتا ہے تو اس وقت جب کوئی ملحد کہتا ہے کہ یہ بہت عجیب ہے تو واقعی یہ بہت عجیب ہوتا ہے جب ملحد اس عظیم ہستی جسے دنیا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نام سے جانتی ہے اسکی ہر ہر بات سائنس ثابت کر رہی ہے تو یہ کیونکر عجیب ہو سکتا ہے کہ اتنا سپر پاور خالق تخلیق آدم میں کن کہے اور فیکون کے ساتھ وہ چیز رونما نہ ہوجائے جب اس عظیم شخصیت کا کوئی بھی نظریہ جو بظاہر عجیب تھا مگر اب عجیب نہ رہا تو دنیا اس بات پر مجبور ہے کہ وہ شخصیت کے نظریے کو قبول کرے اور کن فیکون کے فیصلے کو مانے یا پھر اس عظیم شخصیت کے چیلنج کو قبول کرے جو کہتا ہے کہ میری بات مانو اگر نہیں تو پھر دلیل لاؤ اور میری بات کا رد کر کے دکھاؤ کیونکہ یہ اس عظیم شخصیت کے اپنے نظریے نہیں بلکہ یہ وہ حقائق ہیں جنکے تحت اس پاور فل خالق نے دنیا کو تخلیق کیا یہاں ایک چھوٹی سی بات بتا دوں کہ اسی ہستی نے یہ بھی فرما دیا کہ سمجھنے والوں کے لیے نشانیاں ہیں شاید ان سمجھنے والوں میں بندر کی اولاد کا شمار نہیں *********اور یہی عجیب ہے**********

انسانی زندگی میں فساد کے اسباب

2017-06-15 17:59:20 

انسانی زندگی جس قدر اعتقادی و نظریاتی فسادات کاشکار ہوسکتی ہے رب العالمین میں ان سب کا علاج مضمر ہے۔ انسانی زندگی میں فساد کی جتنی صورتیں بھی نظرآتی ہیں اگران کا بنظر غائر جائزہ لیا جائے تووہ بالواسطہ یا بلاواسطہ مندرجہ ذیل اسباب میں سے کسی نہ کسی ایک پر ضرور مبنی ہوتی ہیں : 1۔ وجود باری تعالی کا انکار انسانی زندگی میں فساد کے اسباب میں سے سب سے اہم صورت یہ ہے کہ بندہ حق بندگی بجا لانے کی بجائے سرے سے اس کائنات اور اس کے نظام کو بغیر کسی خالق و مالک کے ماننے لگ جائے اوراسے نقطہء زندگی کے اتفاقی آغاز کا مظہر قرار دیتا پھرے۔ 2۔ خود کو خالق کائنات سے بے نیاز و مستغنی سمجھنا دوسری صورت یہ ہے کہ اﷲ تعالی کو محض خالق تسلیم کرنے کے بعد اس کائناتی زندگی کے بقاء و فروغ کے نظام میں اس کے عمل دخل اور تصرف کی بناء پر انکارکیا جائے کہ اب یہ عالم فقط اسباب و علل (Causes & effects) کے نظام کے تحت آزادانہ طور پر قائم ہے اوراسی صورت میں چل رہا ہے۔ اس میں کسی مستقل بالذات، واجب الوجود، قادر مطلق اور موثر حقیقی طاقت کا کوئی ارادہ، تدبیر اور تصرف کار فرما نہیں ہے۔ گویا معاذ اﷲ! اﷲ تعالی ہمیں تخلیق کرنے کے بعد ہمارے معاملات سے بے دخل اور لاتعلق ہوگیا ہے اورہمیں اس کی ہرگز حاجت نہیں۔ چنانچہ اس تصور سے انسان خود کو اﷲ تعالٰی کے سامنے جوابدہی سے آزاد سمجھنے لگتا ہے۔ 3۔ باری تعالی کی ذات و صفات یا افعال میں شرک اﷲ تعالی کی شان خلاقیت و ملوکیت پر اعتقاد رکھنے کے ساتھ ساتھ یہ خیال رکھاجائے کہ اس کی ذات، صفات یا افعال میں کچھ اور افراد یا اشیاء شریک ہیں۔ اس بنا پر وہ بھی مستحق عبادت وبندگی ہیں اور ان کا حکم و تصرف بھی خالق و مالک ہی کی طرح کائنات میں موجود اور موثر ہے۔ 4۔ اﷲ تعالی کو محض کسی ایک آدھ صفت کامظہر قرار دینا یہ خیال رکھنا کہ باری تعالی فقط قہر و غضب اور عذاب وعقاب کی صفات سے مختص ہے۔ اس سے انسانی ذہن اور اعتقاد مایوسی و محرومی کا آئینہ دار ہوجاتا ہے۔ یا یہ خیال رکھنا کہ وہ فقط بخشش و مغفرت اور رحمت ومحبت کی صفات سے مختص ہے۔ اس سے انسانی زندگی، احکام و اوامر کی گرفت سے آزادی کی طرف مائل ہوجاتی ہے۔ الغرض اسی قسم کے محدود اور یک جہتی تصورات کو اﷲ تعالی کی طرف منسوب کرنا بھی انسانی زندگی میں کئی فسادات کا موجب ہوتا ہے۔ 5۔ وجود و ضرورتِ رسالت کا انکار اﷲ رب العزت کے وجود اور وحدانیت کا اقرار کرنے کے باوجود نبوت و رسالت کی ضرورت اور کائنات میں اس کے وجود کا انکار کیا جائے اور زندگی کے لیے نبوت و رسالت کے ذریعہ حاصل ہونے والی ہدایت ربانی کو ناگزیر اور نتیجہ خیز تصور نہ کیا جائے۔ 6۔ بعض انبیاء و رسل کا انکار نظام رسالت کو اصولی طور پر مان کر بعض انبیاء و رسل کوبوجوہ تسلیم نہ کرنا جیساکہ یہود و نصاریٰ نے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رسالت کا انکار کردیا۔ 7۔ آخرت کا انکار انعقاد قیامت اور نظام جزا و سزا کا انکار کیا جائے۔ جس میں برزخی اور اخروی زندگی کے ساتھ ساتھ حیات بعدالموت کا انکار بھی شامل ہے۔ اس کی جگہ یہ اعتقاد رکھا جائے کہ یہی زندگی ہی سب کچھ ہے اور اس کے بعد کوئی زندگی نہیں جس میں یہاں کے معاملات کا حساب و کتاب ہوسکے۔ 8۔ ربوبیت و رحمت الہیہ کو تحدید اس سے مراد نسلی، لسانی، علاقائی اور طبقاتی فوقیت وبرتری اور تفاضل و تفاخر کے وہ سارے تصورات ہیں جو انسانی مساوات اور شرف و تکریم آدمیت کے فطری اور آفاقی اصولوں کی نفی کرتے ہیں۔ یہ فساد فکر اس اعتقاد سے جنم لیتا ہے کہ اﷲ تعالٰی کی ربوبیت اور رحمت و عنایت فقط ہمارے ساتھ خاص ہے اور دوسرے اس فیض سے محروم ہیں۔ کم و بیش فکر ونظر کے یہی بنیادی فسادات ہیں جو انسانی زندگی میں کبھی فرعونیت، کبھی قارونیت، اور کبھی یزیدیت کا روپ دھارتے ہیں۔ کبھی ذلت و پستی اور غلامی و رسوائی کی تباہ کن شکلوں میں نمودار ہوتے ہیں اور کبھی زندگی کو اعتدال و توازن کی حسین شاہراہ سے ہٹاکر غیر حقیقت پسندانہ ڈگر پر ڈال دیتے ہیں۔ اس کے لیے مذکورہ بالا اسباب ہی جملہ فسادات حیات کا سرچشمہ ہیں۔ رب العالمین۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جملہ فسادات کا علاج ان الفاظ نے نہ صرف مذکورہ بالا تمام اعتقادی فسادات کی بیخ کنی کی ہے بلکہ دیگر انسانی مغالطوں کی بھی اصلاح کردی ہے۔ یہ دو الفاظ پر مشتمل قرآنی اعلان، انسانی فکر و اعتقاد کے علاج اور اصلاح کے لیے مندرجہ ذیل اشارات و تعلیمات پر مبنی پورا ضابطہ عطا کر رہا ہے : 1۔ رب العالمین سے اس کائنات کے خالق و مالک کے وجود کا واضح ثبوت مل رہا ہے۔ کائنات موجود ہے تو اسکا موجد بھی ہونا چاہیے کیونکہ موجود بغیر موجد کے نہیں ہوسکتا۔ پرورش اور تربیت بغیر مربی کے ممکن نہیں اور نظام بغیر منتظم کے نہیں چل سکتا۔ یہ کیونکر ممکن ہے کہ کائنات کے ہر وجود بلکہ خود تمام کائناتوں کی جملہ ضرورتوں کی کفالت ہورہی ہو مگر کفیل کوئی نہ ہو۔ زندگی مسلسل ظہور میں آرہی ہو مگر زندگی دینے والا کوئی نہ ہو۔ اس قدر وسیع سلسلہ ہائے کائنات اور لاتعداد مظاہر حیات کاوجود میں آنا، بقاء و فروغ کے مراحل طے کرنا اورایک حسین نظم ونسق کے سلسلے کا قائم رہنا زبان حال سے پکار کر کہہ رہا ہے کہ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کوئی ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اسی کا صفاتی نام رب العالمین ہے۔ 2۔ رب العالمین سے پتہ چل رہا ہے کہ رب ایک ہے کیونکہ رب کے علاوہ جو کچھ بھی ہے وہ العالمین میں شامل ہے، جو لفظ کا مضاف الیہ اور ذات رب کامربوب ہے۔ جب ایک رب ہے اور باقی عالم تو اشتراک کا امکان کیونکر ممکن ہے۔ مضاف الیہ کو مضاف کیسے سمجھا جائے مربوب کو مربی کیسے کہا جائے۔ زیر پرورش کو پرورش کرنے والا کیسے بنایا جائے۔ مخلق و خالق، محتاج کو مستغنی، ممکن کو واجب اور زیر کفالت کو کفیل کیسے سمجھ لیا جائے۔ امر واقعہ ہے کہ شرک کا گمان ہی عقل کے نقصان یا فقدان پر دلالت کرتا ہے۔ العالمین کے سارے نظام جس نسق، ہم آہنگی اورحسن ترتیب سے چل رہے ہیں، ان میں کوئی خلل ہے نہ ٹکراؤ، تضاد ہے نہ تصادم، یہ اس حقیقت کی نشاندہی کررہے ہیں کہ ان کے پیچھے ایک موثر حقیقی کا ہاتھ ہے جو بلاشرکت غیرے، بغیر کسی مخالفت و مزاحمت کے اپنے ارادہ و قدرت کو ہرجگہ ظاہر فرما رہے۔ نظم کائنات سے بھی رنگ وحدت ٹپک رہا ہے۔ قرآن یہی اعلان ان الفاظ میں کرتا ہے : لَوْ كَانَ فِيهِمَا آلِهَةٌ إِلَّا اللَّهُ لَفَسَدَتَا. اگر ان دونوں (زمین و آسمان) میں اللہ کے سوا اور (بھی) معبود ہوتے تو یہ دونوں تباہ ہوجاتے۔ (الانبياء، 21 : 22) 3۔ رب العالمین سے واضح ہو رہا ہے کہ العالمین کا کوئی وجود باری تعالی سے بے نیاز و مستغنی نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ ربوبیت جو درجہ بدرجہ پرورش کرنے اور کمال تک پہنچانے سے عبارت، ہے ایک ایسا نظام ہے جو ہمہ وقت از ابتداء تا انتہا قائم رہتا ہے۔ اس کے تسلسل اور دوام سے وجود کا کوئی مرحلہ خالی نہیں ہوسکتا۔ اس لیے جو خود کو کسی بھی لحاظ سے رب کا محتاج تصور نہیں کرتا اور خود کو اس سے بے نیاز قرار دیتا ہے۔ وہ خود کو العالمین سے خارج قرار دے رہا ہے اور یہ ممکن نہیں، العالمین سے کوئی شے بھی خارج نہیں ہوسکتی کیونکہ اس کے سوا تو فقط رب کی ذات ہے اس لیے خود کو العالمین سے خارج تصور کرنا، اپنے آپ کو رب کہنے کے سوا کوئی معنی نہیں رکھتا۔ اگر کاروبار حیات کے دوران انسان کا دھیان اسباب و علل کے نظام پر ہی ہوتو معلوم ہونا چاہیے کہ نظام اسباب وعلل بھی ایک عالم ہے جو رب العالمین کے وجود کی نشاندہی کرتا ہے۔ اس لیے کہ اسباب ہمیشہ مسبّب کا پتہ دیتے ہیں اور نظام علل میں یہ ممکن نہیں کہ کوئی سب سے پہلی علت نہ ہو۔ وہ سب سے پہلی علت جس سے سب علل وجود میں آئی ہیں، علت اولیٰ کہلاتی ہے۔ اولیٰ وہی ارادۂ رب العالمین ہے جو امرکن فیکون کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے، وہی علۃ العلل (Cause of the causes) ہے اور وہی غایۃ العلل (Ultimate cause) ہے۔ اس لئے یہ سمجھنا غلط ہے کہ نظام اسباب و علل کے باعث ہم اﷲ تعالیٰ سے بے نیاز ہوگئے ہیں۔ بے نیاز فقط رب ہے، عالمین سارے محتاج ہیں اور اسباب وعلل کا نظام بھی اسی کا تخلیق کردہ اور اسی سے قائم ہے۔ 4۔ رب العالمین محض ایک آدھ صفت سے خاص نہیں ہوسکتا بلکہ وہ ہمہ صفتی رب ہے۔ اس کی ربوبیت کل کائنات کے لیے ہے، جوہر شے کی، ہر ضرورت کی کفالت کی ذمہ دار ہے۔ چونکہ موجودات عالم کی ضرورتیں بے شمار ہیں اس لئے رب العالمین کی صفات بھی بے شمار ہیں، جن سے وہ ہرزیر پرورش وجود کی ہرضرورت کی تکمیل فرماتا ہے۔ بیمار کو صحت کی طلب ہے، جاہل کو علم کی، بھوکے کو کھانے کی طلب ہے، پیاسے کو پانی کی، دھوپ کو سائے کی طلب ہے، اندھیرے کو اجالے کی، اطاعت گزار کو ثواب کی طلب ہے، سرکش و باغی کو عتاب و عذاب کی، گنہگار کو مغفرت کی طلب ہے، اور ظالم کو سزا کی۔ الغرض ہر شے کی طلب اور ضرورت اس کے حسب حال مختلف ہے اور رب العالمین وہی ہوسکتا ہے جو ہرشے کی طلب و ضرورت ایجابی ہو یا سلبی، مثبت ہویا منفی بصورت جزا ہو یا سزا، پوری کرسکے۔ یہی ذات حق کی شان ہے جو کسی اور کو زیبا نہیں۔ وہ صفات میں جامع، قدرت میں کامل اور فعل میں قادر و مختار ہے۔ 5۔ رب العالمین اس امر کا واضح اعلان ہے کہ باری تعالیٰ تمام مخلوقات کی جملہ ضروریات کی کفالت فرماتا ہے۔ مخلوقات عالم میں سے اہم ترین مخلوق انسان ہے۔ اور انسان کی جملہ ضروریات میں سے اہم ترین ضرورت ہدایت اور زندگی کا لائحہ عمل ہے، جس کی تکمیل شریعت اور وحی ربانی کے بغیر ممکن نہیں۔ لہذا باری تعالیٰ کا رب العالمین ہونا خود اس امر کا متقاضی ہے کہ بنی نوع انسان کی رہنمائی کے لیے انبیاء و رسل علیہم السلام کو مبعوث کیا جاتا اور ان کے ذریعے اللہ رب العزت کی وحی اور ہدایت پر مبنی شریعت اور نظام حیات عطا کیا جاتا، جس کے تحت افراد بنی آدم کی اخلاقی و روحانی تربیت اور فکری و اعتقادی پرورش ہوتی۔ سو اس ضرورت کو اس نے نظام نبوت و رسالت کے ذریعے پورا فرما دیا ہے۔ اس لیے ارشاد فرمایا گیا : وَمَا قَدَرُواْ اللّهَ حَقَّ قَدْرِهِ إِذْ قَالُواْ مَا أَنزَلَ اللّهُ عَلَى بَشَرٍ مِّن شَيْءٍ قُلْ مَنْ أَنزَلَ الْكِتَابَ الَّذِي جَاءَ بِهِ مُوسَى نُورًا وَهُدًى لِّلنَّاسِ تَجْعَلُونَهُ قَرَاطِيسَ تُبْدُونَهَا وَتُخْفُونَ كَثِيرًا وَعُلِّمْتُم مَّا لَمْ تَعْلَمُواْ أَنتُمْ وَلاَ آبَاؤُكُمْ. اور انہوں نے (یعنی یہود نے) اﷲ کی وہ قدر نہ جانی جیسی قدر جاننا چاہیے تھی، جب انہوں نے یہ کہہ (کر رسالتِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انکار کر) دیا کہ اﷲ نے کسی آدمی پر کوئی چیز نہیں اتاری۔ آپ فرما دیجئے: وہ کتاب کس نے اتاری تھی جو موسٰی (علیہ السلام) لے کر آئے تھے جو لوگوں کے لئے روشنی اور ہدایت تھی؟ تم نے جس کے الگ الگ کاغذ بنا لئے ہیں تم اسے (لوگوں پر) ظاہر (بھی) کرتے ہو اور (اس میں سے) بہت کچھ چھپاتے (بھی) ہو، اور تمہیں وہ (کچھ) سکھایا گیا ہے جو نہ تم جانتے تھے اور نہ تمہارے باپ دادا۔ (الانعام، 6 : 91) انسانی تربیت وپرورش کے لیے نظام رسالت کا وجود اور ہدایت ربانی کی نتیجہ خیزی رب العالمین کا ایسا مفہوم ہے جس کے بغیر اﷲ تعالٰی کی ربوبیت کو تسلیم کرنے کا حق بھی ادا نہیں ہوسکتا۔ 6۔ رب العالمین کے اعلان میں ربوبیت الہیہ کاآفاقی ہونا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ پوری کائنات انسانی کی ہدایت کے لیے ہر طبقے اورہر قوم کی طرف انبیاء و رسل مبعوث کیے گئے تاکہ انسانی اعتقاد و عمل کی صحیح نشوونما اور اصلاح ہوسکے۔ روحانی تربیت و پرورش کی اس نعمت سے کسی طبقے کو محروم نہیں رکھا گیا، اس لیے ارشاد فرمایا گیا : إِن مِّنْ أُمَّةٍ إِلَّا خلَا فِيهَا نَذِيرٌO کوئی امت ایسی نہیں ہوئی جس میں کوئی نصیحت کرنے والا (پیغمبر) نہ گزرا ہو۔ (فاطر، 35 : 24) جب ربوبیت الہیہ نے اپنے فیضان ہدایت کے لیے کسی طبقہ و قوم کومستثنیٰ نہیں کیا تو افرادِ انسانی کو یہ حق کس طرح پہنچتا ہے کہ وہ بعض پیغمبروں پر ایمان لائیں اور بعض کا انکار کردیں۔ یہ امتیازی سلوک، خود فی الواقع ربوبیت الہیہ کی آفاقیت کا انکار ہے۔ اسی لئے قرآن مجید نے یہ تعلیم دی : لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أحَدٍ مِنْهُمْ وَ نَحْنُ لَهُ مُسْلِمُوْنَO ہم ان میں سے کسی ایک (پر بھی ایمان) میں فرق نہیں کرتے، اور ہم اسی (معبود واحد) کے فرماں بردار ہیں۔ (البقره، 2 : 136) اس مقام پر تمام انبیاء کرام پرایمان لانا اور اﷲ کے حضور گردن جھکانا دونوں کوایک ساتھ بیان کیا گیا ہے کیونکہ باری تعالٰی پر ایمان لانے کا تقاضا یہی ہے کہ اس کے بھیجے ہوئے تمام پیغمبروں کو مانا جائے اورایمان میں سے کسی سے امتیاز نہ برتا جائے۔ سورہ بقرہ میں اس مضمون کا آغاز کچھ اس طرح سے ہورہا ہے : إذْ قَالَ لَهُ رَبُّهُ أسْلِمْ قَالَ أسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعَالَمِيْنَo اور جب ان کے رب نے ان سے فرمایا (میرے سامنے) گردن جھکا دو، تو عرض کرنے لگے : میں نے سارے جہانوں کے رب کے سامنے سر تسلیم خم کر دیا۔ (البقرة، 2 : 131) اس حکم کے بعد اس وصیت اور تعلیم کا بیان شروع ہوجاتا ہے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت یعقوب علیہ السلام نے اپنی اپنی اولاد کو دی اور یہ بیان تمام انبیاء و رسل پر بلا امتیاز ایمان لانے کے حکم پر ختم ہوتا ہے۔ گویا یہ مضمون رب العالمین کی آٰفاقی ربوبیت کے بیان سے شروع ہوا اور اس کے بھیجے ہوئے تمام انبیاء و رسل پر ایمان لانے کے حکم پر ختم ہوا، جس کا واضح مقصد یہ ہے کہ یہ ہمہ گیر ایمان رب العالمین کے مفہوم میں نہ صرف شامل ہے بلکہ اس کا مدعا ہے۔ 7۔ رب العالمین کے الفاظ خود جزا و سزا کے نظام کا اثبات کررہے ہیں، کیونکہ وہ تربیت کیسی ہے جس کے اختتام پر امتحان نہ ہو اور نیک وبد کے ساتھ انجام کار صحیح انصاف نہ ہو۔ اس احساس جوابدہی کو ختم کرکے جزا و سزا کے وجود سے انکار کے بعد کوئی نظام تربیت و پرورش اپنے مقاصد کو حاصل کرہی نہیں سکتا۔ کیونکہ اس کے بغیر افراد کا اخلاقی کمال کو پانا اور ان کی عملی عظمت و گراوٹ کا پرکھا جانا نہ صرف ممکن ہی نہیں بلکہ خود تربیت و پرورش کا نظام بے مقصد و بے سود ہوکر رہ جاتا ہے۔ اساتذہ اور والدین کے حسن پرورش وتربیت میں بھی یہی محرک کار فرما ہوتا ہے۔ 8۔ رب العالمین اس امر کا واضح اعلان بھی ہے کہ باری تعالٰی کی ربوبیت و رحمت کا فیضان کسی خا ص نسل، قبیلے، علاقے اور طبقے کے لیے محدود و مختص نہیں بلکہ تمام افراد بنی آدم کے لیے عام ہے، اس لیے سب نسلی، لسانی اور گروہی تفاخر کے تصورات باطل ہیں۔ اورحق یہ ہے کہ ربوبیت الہیہ کی عالمگیریت کے حوالے سے انسانی سطح پر عالمی اخوت و مساوات کا ایسا علم بلند کیاجا ئے کہ کوئی قوم کسی دوسری قوم پر ناروا برتری اور تفوق کا حق نہ جما سکے اورنہ اس بنیاد پر اس کا استحصال کرسکے۔ 9۔ رب العالمین کا تقاضا یہ بھی ہے کہ جملہ افراد اپنی زندگی کے سارے معاملات میں باری تعالٰی کی اطاعت کریں۔ کیونکہ حق یہی ہے کہ جو پیدا کرنے والا، پالنے والا اور تمام جسمانی و روحانی ضروریات کی کفالت کرکے بندوں کو اپنے کمال تک پہنچانے والا ہے، وہی حقدار ہے کہ اس کا ہرحکم مانا جائے، جس کا حکم ماننے کو وہ کہے اس کو مانا جائے اورجس سے منع کرے اس سے باز رہا جائے۔ ہم نے اﷲ کے سوا اطاعت احکام کی جتنی دیگر سمتیں بنا رکھی ہیں، جو اطاعت الہی سے متضاد و متصادم ہیں، سب طاغوت ہیں۔ ان کا اقرار و اطاعت فی الواقع اﷲ تعالٰی کی ربوبیت کے اعتقاد کے خلاف بغاوت ہے۔ جب رب کائنات وہ ہے تو گردنیں اس کے غیر کے سامنے کیوں جھکیں!!! 10۔ رب العالمین کا اعلان انسان کو اس حقیقت سے بھی آشنا کرتا ہے کہ باری تعالیٰ سے بڑھ کر اس کا کوئی اور خیر خواہ اور محبت کرنے والا نہیں ہوسکتا۔ جو ازخود پالنے اورحفاظت کرنے کی ذمہ داری نبھا رہا ہو، بھلا اس سے بڑھ کر بھی کوئی خیر خواہ ہوسکتا ہے؟ لہذا بندے کو چاہیئے کہ وہ ہرحال میں اسی پر بھروسہ کرے اس کی رحمت سے مایوس نہ ہو، ہر قدم پر اسی کی رضا کا متلاشی رہے اور اس کے دیئے ہوئے نظام زندگی پر ہی اکتفا و قناعت کرے۔ انسانی زندگی کا جو دائمی منصوبہ اس کی ہدایت اور تعلیم میں ہوسکتا ہے کسی اور فکر و نظریہ میں ممکن نہیں۔ اس لیے اہل دنیا کے وہ تمام سیاسی، اقتصادی اور اخلاقی ومذہبی فلسفے، جو رب العالمین کی عطا کردہ ہدایت سے متصادم ہیں وہ بالآخر کسی نہ کسی شکل میں ظلم واستحصال ہی کا باعث ہوتے ہیں۔ حقیقی فلاح فقط اسی نظام میں ہے، جو ساری انسانیت کے پالنے والے رب نے عطا کیا ہے، جو قرآن وسنت کی صورت میں امت مسلمہ کے پاس موجود ہے۔ سو اسی کا دامن تھامنے میں اصل کامیابی ہے۔ 11۔ رب العالمین کااعلان پرورش اس امر کو بھی واضح کررہاہے کہ دوسروں کی پرورش اور کفالت کرنا چونکہ اﷲ تعالیٰ کا سب سے پہلا محبوب فعل ہے اس لئے اسے اپنی مخلوق میں سب سے زیادہ محبت بھی اسی شخص اور طبقے سے ہوتی ہے جو دوسرے افراد کے لیے اسی کردار کو اپناتا ہے۔ اﷲ تعالیٰ کے قریب ہونے کا راز یہی ہے کہ اس کی صفات و اخلاق کو اپنایا جائے۔ سو ہرکس و ناکس، اپنے پرائے، دوست دشمن اور واقف و ناواقف کے ساتھ مربیانہ سلوک جس میں دوسرے کے لیے نفع بخشی، فیض رسانی، حسب ضرورت کفالت و پرورش اور ایثار و انفاق کے پہلو پائے جائیں، روا رکھنا قرب الہی کا باعث ہے۔ یہی اخلاق الہی ہے اور یہی اخلاق محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم۔ رب العالمین کی شان یہ ہے کہ کوئی اسے مانے نہ مانے وہ ہر ایک عمل سے اور کردار سے بے نیاز ہو کر اس کی ضرورتوں کی کفالت کرتا جا رہا ہے۔ پس وہی شخص اﷲ تعالیٰ کو محبوب تر ہے، جو لوگوں کے رویے، کردار، حسد، مخالفت اور مخاصمت سے بے نیازہوکر رحمت اور بھلائی کی خیرات بانٹتا چلا جائے۔ اس کا مقصود کسی سے انتقام لینا نہ ہو بلکہ ہرایک کے لیے بھلائی چاہنا ہو۔ جو مخلوق خدا کی جس قدر بڑھ کر پرورش کرے گا، اﷲ تعالیٰ کے فیضان پرورش سے اسی قدر زیادہ فیض پائے گا۔ کاش ہمیں من حیث القوم اس نکتے کی سمجھ آجائے۔

حیاتِ عالم میں نظامِ ربوبیت کے مظاہر

2017-06-15 18:03:15 

رب العالمین کے الفاظ سے ظاہر ہو رہا ہے کہ کائنات جملہ عوالم اور مظاہر حیات کی تخلیق وتکمیل کے مسلسل نظام ارتقاء سے گزر رہی ہے۔ کیونکہ رب یرب اور تربیت و ربوبیت کا معنی ارتقائی، تدریجی اور مرحلہ وار پرورش کے مفہوم پر ہی دلالت کرتا ہے، جس کی تفصیل پہلے لفظ رب کے معنی و مفہوم کے تحت گزر چکی ہے۔ باری تعالیٰ نے کائنات کی تخلیق اور فعل خلق کی تکمیل کے بیان کے لیے اپنی صفت ربوبیت کو منتخب فرمایا ہے، جس سے اس حقیقت پر روشنی پڑتی ہے۔ قرآن تصور ربوبیت کی صورت میں اپنا ایک نظریہ ارتقاء دے رہاہے جس کا ثبوت ہمیں انفس و آفاق کے دونوں عالموں میں واضح طور پر میسر آتا ہے اور رب العالمین کے الفاظ کے ذریعے اس امر کی وضاحت ہوجاتی ہے کہ کائنات ہمیں جس شکل میں آج نظر آرہی ہے یہ اس کی وہ اصل ابتدائی شکل نہیں جس میں اسے اولاً تخلیق کیا گیا تھا بلکہ یہ تخلیقی ارتقاء کے مختلف مراحل اورمدارج طے کرتی ہوئی یہاں تک پہنچی ہے۔ امر تخلیق اور اصول ارتقاء قرآن مجید رب العالمین کی شان تخلیق کو دو الفاظ کے ذریعے واضح کرتا ہے : 1۔ امر اور 2۔ خلق ارشاد ربانی ہے : ألَا لَهُ الْخَلْقُ وَالْأمْرُ. خبردار! ہر چیز کی تخلیق اور حکم و تدبیر کا نظام چلانا اسی کا کام ہے۔ (الاعراف، 7 : 54) اس حوالے سے امر، ابداع (عدم سے وجود میں لانا) کے معنی میں استعمال ہوتا ہے اور خلق کا ایک استعمال ابداع کے مقابلے میں ایجاد الشئ من الشئ (ایک شے سے دوسری شے وجود میں لانا) کے معنی میں ہے۔ اس معنوی جہت کی بنا پر تخلیق کے دومرحلے ہیں جو ربوبیت الہیہ کے فیضان سے مکمل ہوتے ہیں۔ امر پہلا مرحلہ ہے اور خلق دوسرا۔ خلق کی تعریف انگریزی زبان میں یوں کی جاسکتی ہے : KHALQ : is to creat a new object the existing constituents, which means appearance of an object in its manifest form. امر کو ان الفاظ میں واضح کیا جاسکتا ہے : AMR : is a process of becoming, prior to the stage of Khalq, which means coming of an object in its original existence. امرو خلق کے مراحل میں ارادہ ربوبیت اور الوہی فلسفہ کار فرما ہوتا ہے، اسے مشیت کہتے ہیں۔ ارشاد قرآنی ہے : إِنَّمَا أَمْرُهُ إِذَا أَرَادَ شَيْئًا أَنْ يَقُولَ لَهُ كُنْ فَيَكُونُO اس کی شان یہ ہے کہ جب وہ کسی چیز کو (پیدا کرنے) کا ارادہ فرماتا ہے، اس سے کہتا ہے ہوجا! پس وہ ہوجاتی ہے۔ (يسين، 36 : 82) اس شے کا ہوجانا کیا ہے؟ یہ بھی ایک عمل ارتقائی ہے جو فوری طور پر وجود میں آتا جاتا ہے۔ توجہء کن، ارادۂ حق یا مشیت ربانی سے اس شے کو جس کا وجود پہلے فقط درجۂ علم میں ہوتا ہے، دو صفات عطا کردی جاتی ہیں : 1۔ منظوریت (Objectivity) 2۔ استمرار (Persistence / Existence) اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ شے وجود علمی سے وجود خارجی میں منتقل ہوجاتی ہے۔ اب دیکھے جانے کے قابل ہوجاتی ہے اور برقرار رہ سکتی ہے۔ یہ عالم غیر نامی (Inorganic World) کا آغاز ہوتا ہے۔ جمادات وغیرہ کا تعلق اسی عالم سے ہے۔ بعدازاں اسے امر کن کے فیضان مسلسل سے صفت نمو (Organism) عطا کردی جاتی ہے اور عالم نامی (Organic World) وجود میں آجاتا ہے۔ نباتات کا تعلق اس عالم سے ہے۔ پھر اس عالم سے امر کن کے ذریعے ہی شعور (Conscience) کا اضافہ کیا جاتا ہے تو عالم حیوانات (Animal World) وجود میں آجاتا ہے اور اس میں خود شعوری کا اضافہ ہوتاہے تو عالم انس کا ظہور عمل میں آتا ہے۔ پھرہر ہر عالم کے اندر ایک جداگانہ نظام ارتقاء ہے جس سے سلسلۂ تخلیق کو وسعت ملتی چلی جاتی ہے۔ یہ سب مادی کائنات کا سلسلئہ تخلیق ہے جسے عرف عام میں عالم خلق سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اسی طرح غیر مادی یا فوق الطبیعی کائنات بھی ہے، جسے عرف عام میں عالم امر سے تعبیر کرتے ہیں۔ اس کا بھی ایک سلسلۂ تخلیق ہے جو جداگانہ نظام ارتقاء پرمبنی ہے۔ یہ انوار و ارواح کا عالم ہے۔ اس کے ارتقائی اور توسیعی سلسلے پر کچھ روشنی اس حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پڑتی ہے، جس میں حضرت جابر بن عبداﷲ رضی اللہ عنہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کرتے ہیں : بأبی أنت و أمی أخبرنی عن أول شئ خلق اﷲ تعالٰی قبل الأشياء قال يا جابر إن اﷲ تعالٰي خلق قبل الأشياء نور نبيک من نوره. یا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں مجھے خبر دیجئے کہ سب اشیاء سے پہلے اﷲ تعالٰی نے کون سی چیز پیدا کی؟ آپ نے فرمایا : اے جابر! اﷲ تعالٰی نے تمام اشیاء سے پہلے تیرے نبی کا نور اپنے نور (کے فیض) سے پیدا کیا۔ (السيرة الحلبيه، 1 : 30) (المواهب اللدنية، 1 : 9) (شرح المواهب، 1 : 46) پھر اس نور کی تقسیم ہوئی جس سے قلم، عرش اور حاملانِ عرش وجود میں آئے۔ پھر اس کی مزید تقسیم سے کرسی اور ملائکہ وغیرہ پیدا ہوئے۔ اس حدیث سے بھی اس حقیقت پر روشنی پڑتی ہے کہ تخلیق موجودات کے سارے نظام میں شان ربوبیت کی کارفرمائی اور ارتقاء و تدریج کا نظام ہے۔ ہر چیز خواہ اس کا تعلق کسی بھی عالم سے ہو، ایک ارتقائی نظام کے تحت وجود میں آئی ہے۔ یہی رب العالمین کا مفہوم ہے۔ نظام ربوبیت اور انسانی زندگی کا کیمیائی ارتقاء جس طرح عالم آفاق کے جلوے اجمالا ًعالم انفس میں کار فرما ہیں، اسی طرح نظام ربوبیت کے آفاقی مظاہر بھی پوری آب و تاب کے ساتھ حیات انسانی کے اندر جلوہ افروز ہیں۔ انسان کے احسن تقویم کی شان کے ساتھ منصہ خلق پر جلوہ گر ہونے سے پہلے اس کی زندگی ایک ارتقائی دور سے گزری۔ یہی اسکے کیمیائی ارتقاء (Chemical Evolution) کا دور ہے۔ جس میں باری تعالیٰ کے نظام ربوبیت کا مطالعہ بجائے خود ایک دلچسپ اور نہایت اہم موضوع ہے۔ یہ کیمیائی ارتقاء کا قبل از حیاتیاتی دور ہے۔ یہ حقائق آج صدیوں کے بعد سائنس کو معلوم ہو رہے ہیں جبکہ قرآن انہیں چودہ سو سال پہلے بیان کرچکا ہے۔ قرآن مجید کا مطالعہ کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ انسانی زندگی کا کیمیائی ارتقاء کم وبیش سات مرحلوں سے گزر کر تکمیل پذیر ہوا ہے جو درج ذیل ہے : 1. تُرَابٌ (Inorganic matter) 2. مَآءٌ (Water) 3. طِيْنٌ (Clay) 4. طِيْنٌ لَازِبٌ (Sticky clay / Adsorption) 5. صَلْصَالٌ مِنْ حَمَاءٍ مَسْنُوْنٍ (Old, Physically & Chemically altered mud) 6. صَلْصَالٌ کَالْفَخَّارِ (Dried & Highly purified clay) 7. سُلَالَةٌ مِنْ طِيْنٍ (Extract of purified clay) قرآن مجید میں مذکورہ بالا سات مرحلوں کا ذکر مختلف مقامات پر یوں آتا ہے : 1۔ تراب (Inorganic matter) هوَ الَّذِيْ خَلَقَکُمْ مِنْ تُرَابٍ. وہی ہے جس نے تم کو (پہلے) مٹی (یعنی غیر نامی مادے) سے بنایا۔ (المؤمن، 40 : 67) اس آیت کریمہ میں آگے حیاتیاتی ارتقاء کے بعض مراحل کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ مثلاً : ثُمَّ مِنْ نُطْفَۃٍ ثُمَّ مِنْ عَلَقَۃٍ ثُمَّ یُخْرِجُکُمْ طِفْلاً۔ لیکن قابل توجہ پہلو یہ بھی ہے کہ انسانی زندگی کے ان ارتقائی مرحلوں کا ذکر باری تعالیٰ نے اپنی صفت رب العالمین کے بیان سے شروع کیا ہے۔ اس سے پہلی آیت کے آخری الفاظ یہ ہیں : وَأُمِرْتُ أَنْ أُسْلِمَ لِرَبِّ الْعَالَمِينَO اور مجھے یہ حکم مل چکا ہے کہ میں سارے جہانوں کے پروردگار کا فرمانبردار رہوں۔ (المؤمن، 40 : 66) یہاں اپنی شان رب العالمین کا ذکر کر کے ساتھ ہی دلیل کے طور پر انسانی زندگی کا ارتقاء بیان کردیا گیا ہے، جس سے واضح طور پر یہ سبق ملتا ہے کہ قرآن باری تعالیٰ کے رب العالمین ہونے کو انسانی زندگی کے نظام ارتقاء کے ذریعے سمجھنے کی دعوت دے رہا ہے کہ اے نسل نبی آدم! ذرا اپنی زندگی کے ارتقاء کے مختلف ادوار و مراحل پر غور کرو کہ تم کس طرح مرحلہ وار اپنی تکمیل کی طرف لے جائے گئے ہو۔ کس طرح تمہیں ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف منتقل کیا گیا اور کس طرح تم بالآخر احسن تقویم کی منزل کو پہنچے۔ کیا یہ سب کچھ رب العالمین کی پرورش کا مظہر نہیں ہے، جس نے تمہیں بجائے خود ایک عالم بنا دیا ہے۔ 2۔ ماء (Water) وَهُوَ الَّذِي خَلَقَ مِنَ الْمَاءِ بَشَرًا. اور ہم نے (زمین پر) پر زندہ چیز (کی زندگی) کی نمود پانی سے کی تو کیا وہ (ان حقائق سے آگاہ ہو کر اب بھی) ایمان نہیں لاتے۔ (الفرقان، 25 : 54) اس آیت کریمہ میں بھی تخلیق انسانی کے مرحلے کے ذکر کے بعد باری تعالیٰ کی شان ربوبیت کا بیان ہے : وَکَانَ رَبُّکَ قَدِيْراًo اورآپ کا رب قدرت والا ہے۔ (الفرقان، 25 : 54) گویا یہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ تخلیق انسانی کا یہ سلسلہ باری تعالیٰ کے نظام ربوبیت کا مظہر ہے۔ ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا گیا : وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍّ أَفَلَا يُؤْمِنُونَO اور ہم نے (زمین پر) ہر زندہ چیز (کی زندگی) کی نمود پانی سے کی تو کیا وہ (ان حقائق سے آگاہ ہو کر اب بھی) ایمان نہیں لاتے۔ (الانبياء، 21 : 30) یہ آیت کریمہ حیات انسانی یا حیات ارضی کے ارتقائی مراحل پر تحقیق کرنے والے سائنسدانوں کے لیے دعوت فکر بھی ہے اور دعوت ایمان بھی۔ 3۔ طین (Clay) هُوَ الَّذِي خَلَقَكُم مِّن طِينٍ. (اللہ) وہی ہے جس نے تمہیں مٹی کے گارے سے پیدا فرمایا۔ (الانعام، 6 : 2) یہاں یہ امر قابل توجہ ہے کہ مترجمین قرآن نے بالعموم تراب اور طین دونوں کا معنی مٹی کیا ہے۔ جس سے یہ مغالطہ پیدا ہوسکتا ہے کہ آیا یہ دو الگ مرحلے ہیں یا ایک ہی مرحلے کے دو مختلف نام۔ اس لیے ہم نے دونوں کے امتیاز کو برقرار رکھنے کے لیے طین کا معنی گارا کیا ہے۔ تراب اصل میں خشک مٹی کو کہتے ہیں۔ بلکہ امام راغب اصفھانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : التراب : الارض نفسھا (تراب سے مراد فی نفسہ زمین ہے) جبکہ طین اس مٹی کو کہتے ہیں جو پانی کے ساتھ گوندی گئی ہو۔ جیسا کہ مذکور ہے : الطين : التراب والماء المختلط. مٹی اور پانی باہم ملے ہوئے ہوں تو اسے طین کہتے ہیں۔ (المفردات : 312) اسی طرح کہا گیا ہے : الطين : التراب الذی يجبل بالماء. طین سے مراد وہ مٹی ہے جو پانی کے ساتھ گوندھی گئی ہو۔ (اسی حالت کو گارا کہتے ہیں) (المنجد : 496) اس لحاظ سے یہ ترتیب واضح ہوجاتی ہے : مٹی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پانی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ گارا۔ 4۔ طین لازب (Sticky Clay) إِنَّا خَلَقْنَاهُم مِّن طِينٍ لَّازِبٍO ہم نے تو ان لوگوں کو ایک چپکتے ہوئے گارے سے پیدا کیا۔ (الصافات، 37 : 11) طین لازب، طین کی اگلی شکل ہے، جب گارے کا گاڑھا پن زیادہ ہوجاتا ہے۔ کہا جاتا ہے : اذا زال عنه (الطين) قوة الماء فهو طين لازب. جب گارے سے پانی کی سیلانیت زائل ہوجائے تو اسے طین لازب کہتے ہیں۔ یہ وہ حالت ہے جب گارا قدرے سخت ہوکر چپکنے لگتا ہے۔ 5۔ صلصال من حماء مسنون (Old, Physically & Chemically Altered Mud) وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ مِن صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَإٍ مَّسْنُونٍO اوربے شک ہم نے انسان کی (کیمیائی) تخلیق ایسے خشک بجنے والے گارے سے کی جو (پہلے) سن رسیدہ، سیاہ بدبودار ہو چکا تھا۔ (الحجر، 15 : 26) اس آیت کریمہ سے پتہ چلتا ہے کہ تخلیق انسانی کے کیمیائی ارتقاء میں یہ مرحلہ طین لازب کے بعد آتا ہے۔ یہاں صلصال (بجتی مٹی) کا لفظ استعمال کیا گیا ہے جس کی اصل صلل ہے۔ اس کا معنی ہے : تردد الصوت من الشئ اليابس سمی الطين الجاف صلصالا. خشک چیز سے پیدا ہونے والی آواز کا تردد یعنی کھنکھناہٹ، اسی لیے خشک مٹی کو صلصال کہتے ہیں کیونکہ یہ بجتی اور آواز دیتی ہے۔ (المفردات : 274) اہل لغت الصلصال کا معنیٰ کچھ اس طرح سے بیان کرتے ہیں : الصلصال : الطين اليابس الذي يصل من يبسه اي يصوت. صلصال سے مراد وہ خشک مٹی ہے جو اپنی خشکی کی وجہ سے بجتی ہے، یعنی آواز دیتی ہے۔ (المنجد : 442) صلصال کی حالت گارے کے خشک ہونے کے بعد ہی ممکن ہے، پہلے نہیں۔ کیونکہ عام خشک مٹی، جسے تراب کہا گیا ہے، اپنے اندر بجنے اور آواز دینے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔ لفظ صلصال اس اعتبار سے تراب سے مختلف مرحلے کی نشاندہی کر رہا ہے۔ لہذا صلصال کا مرحلہ طین لازب یعنی چپکنے والے گارے کے بعد آیا۔ جب طین لازب (چپکنے والا گارا) وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ خشک ہوتا گیا تو اس خشکی سے اس میں بجنے اور آواز دینے کی صلاحیت پیدا ہوگئی۔ یہ تو طبعی تبدیلی (Physical change) تھی مگر اس کے علاوہ اس پر وقت گزرنے کے مرحلے میں صاف ظاہر ہے کیمیائی تبدیلی (Chemical change) بھی ناگزیر تھی، جس میں اس مٹی کے کیمیائی خواص میں بھی تغیر آیا ہوگا۔ ان دونوں چیزوں کی تصدیق اس آیت کے اگلے الفاظ سے ہوجاتی ہے : صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَإٍ مَّسْنُونٍO ایسے خشک بجنے والے گارے سے جو (پہلے) سن رسیدہ، سیاہ بدبودار ہو چکا تھا۔ (الحجر، 15 : 26) اس آیت کریمہ میں دو الفاظ قابل توجہ ہیں : 1۔ حماء 2۔ مسنون حماء : سیاہ گارے کو کہتے ہیں۔ گارے یا کیچڑ کی سیاہی بھی اس کے سڑے ہوئے ہونے پر دلالت کرتی ہے۔ حمیٰ حرارت اور بخار کو کہتے ہیں۔ قرآن مجید میں یہ لفظ تپنے، کھولنے اور جلنے وغیرہ کے معنوں میں کثرت سے استعمال ہوا ہے۔ ارشاد ربانی ہے : 1. تَصْلَى نَارًا حَامِيَةًO دہکتی ہوئی آگ میں جاگریں گے۔ (الغاشية، 88 : 4) 2. يَوْمَ يُحْمَى عَلَيْهَا فِي نَارِ جَهَنَّمَ. جس دن اس (سونے، چاندی اور مال) پر دوزخ کی آگ میں تاپ دی جائے گی۔ (التوبة، 9 : 35) 3. لَّا يَذُوقُونَ فِيهَا بَرْدًا وَلَا شَرَابًاO إِلَّا حَمِيمًا. نہ وہ اس میں(کسی قسم کی) ٹھنڈک کا مزہ چکھیں گے اور نہ کسی پینے کی چیز کا سوائے کھولتے ہوئے گرم پانی کے۔ (النباء، 78 : 24، 25) الغرض حماء میں اس سیاہ گارے کا ذکر ہے جس کی سیاہی، تپش اور حرارت کے باعث وجود میں آئی ہو۔ گویا یہ لفظ جلنے اور سڑنے کے مرحلے کی نشان دہی کر رہا ہے۔ مسنون : اس سے مراد متغیر اور بدبودار ہے۔ یہ سِنٌ سے مشتق ہے جس کے معنی صاف کرنے چمکانے اور صیقل کرنے کے بھی ہیں۔ مگر یہاں اس سے مراد متغیر ہوجانا ہے، جس کے نتیجے میں کسی شے میں بو پیدا ہوجاتی ہے۔ یہ احماء (جلانے اور ساڑنے) کا لازمی نتیجہ ہے۔ جس کا ذکر اوپر ہو چکا ہے۔ قرآن مجید میں ہے : فَانظُرْ إِلَى طَعَامِكَ وَشَرَابِكَ لَمْ يَتَسَنَّهْ پس (اب) تو پنے کھانے اور پینے (کی چیزوں) کو دیکھ (وہ) متغیر (باسی) بھی نہیں ہوئیں۔ (البقرة، 2 : 259) جب گارے (طین لازب) پر طویل زمانہ گزرا اور اس نے جلنے سڑنے کے مرحلے عبور کیے تو اس کا رنگ بھی متغیر ہو کر سیاہ ہوگیا اور جلنے کے اثر سے اس میں بو بھی پیدا ہوگئی۔ اسی کیفیت کا ذکر صَلْصَالٍ مِنْ حَمَاء مَسْنُوْنٍ میں کیا جا رہا ہے۔ کسی شے کے جلنے سے بدبو کیوں پیدا ہوتی ہے؟ اس کا جواب بڑا واضح ہے کہ جلنے کے عمل سے کثافتیں سڑتی ہیں اور بدبو کو جنم دیتی ہیں جو کہ مستقل نہیں ہوتی۔ اس وقت تک رہتی ہے جب تک کثافتوں کے سڑنے کا عمل یا اس کا اثر باقی رہتا ہے اور جب کثافت ختم ہوجاتی ہے بدبو بھی معدوم ہوجاتی ہے۔ اس لیے ارشاد فرمایا گیا : صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَإٍ مَّسْنُونٍO ایسے خشک بجنے والے گارے جو (پہلے) سن رسیدہ، سیاہ بدبودار ہو چکا تھا۔ (الحجر، 15 : 26) گویا لفظ صلصال واضح کر رہا ہے کہ اس مرحلے تک پہنچتے پہنچتے مٹی کی سیاہی اور بدبو وغیرہ سب ختم ہو چکی تھی اور اس کی کثافت بھی کافی حد تک معدوم ہوچکی تھی۔ 6۔ صلصال کالفخار (Dried & Highly Pured Clay) اس مرحلے کی نسبت ارشاد باری تعالیٰ ہے : خَلَقَ إلْانْسَانَ مِنْ صَلْصَالٍ کَالْفَخَّارِ. اسی نے انسان کو مٹی سے جو ٹھیکرے کی طرح بجتی تھی پیدا کیا۔ (الرحمن، 55 : 14) جب تپانے اور جلانے کا عمل مکمل ہوتا ہے تو گارا پک کر خشک ہو جاتا ہے۔ اس کیفیت کو صلصال کالفخار سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اس تشبیہ میں دو اشارے ہیں : i۔ ٹھیکرے کی طرح پک کر خشک ہو جانا۔ ii۔ کثافتوں سے پاک ہو کر نہایت لطیف اور عمدہ حالت میں آجانا۔ لفظ فخار کا مادہ فخر ہے جس کے معنی مباہات اور اظہار فضیلت کے ہیں۔ یہ فاخر سے مبالغے کے صیغے میں ہے یعنی بہت فخر کرنے والا۔ فخار عام طور پر گھڑے کو بھی کہتے ہیں اور مترجمین و مفسرین نے بالعموم یہاں یہی معنی مراد لیے ہیں۔ ٹھیکرا اور گھڑا چونکہ اچھی طرح پک چکا ہوتا ہے اور خوب بجتا اور آواز دیتا ہے، گویا اپنی آواز اور گونج سے اپنے پکنے خشک اور پختہ ہونے کو ظاہر کرتا ہے، اس لیے اسے فخر کرنے والے کے ساتھ تشبیہ دے دی گئی ہے کہ وہ بھی اپنی فضیلت اور شرف کو ظاہر کرتا ہے۔ فاخر اور فخار کا ایک دوسرا معنی بھی ہے، جس کی طرف عام طور پر توجہ نہیں کی گئی، حالانکہ وہ اس پس منظر میں نہایت اہم ہے۔ امام راغب اصفہانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : يعبر عن کل نفيس بالفاخريقال ثوب فاخر وناقة فخور. ہر نفیس اور عمدہ چیز کو فاخر کہتے ہیں۔ اس لیے ثوب فاخر نفیس کپڑے کو اور ناقۃ فخور عمدہ اونٹنی کو کہا جاتا ہے۔ (المفردات : 374) فخار، فاخر سے مبالغہ ہے جو کثرت نفاست اور نہایت عمدگی پر دلالت کرتا ہے۔ صاحب المحیط بیان کرتے ہیں : الفاخر : الجيد من کل شیء فاخر : کسی بھی شے کی عمدگی کو کہتے ہیں۔ (القاموس المحيط، 2 : 112) فخار میں عمدگی اور نفاست میں مزید اضافہ مراد ہے۔ اس معنی کی رو سے اظہار شرف کی بجائے اصل شرف کی طرف اشارہ ہے۔ دونوں معانی میں ہرگز کوئی تخالف اور تعارض نہیں بلکہ ان میں شاندار مطابقت اور ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔ باری تعالیٰ تخلیق انسانی کے سلسلہ ارتقاء کے ضمن میں اس مرحلے پر یہ واضح فرما رہے ہیں کہ وہ مٹی اور گارا جو انسانی بشریت کی اصل تھا اس قدر تپایا اور جلایا گیا کہ وہ خشک ہو کر پکتا بھی گیا اور ساتھ ہی ساتھ مٹی اپنی کثافتوں سے پاک صاف ہو کر نفاست اور عمدگی کی حالت کو بھی پاتی گئی۔ یہاں تک کہ جب وہ صلصال کالفخار کے مرحلے تک پہنچی تو ٹھیکرے کی طرح خشک ہوچکی تھی اور کثافتوں سے پاک ہو کر نہایت لطیف اور عمدہ مادے کی حالت اختیار کرچکی تھی۔ گویا اب ایسا پاک صاف، نفیس، عمدہ اور لطیف مادہ تیار ہوچکا تھا کہ اسے اشرف المخلوقات کی بشریت کا خمیر بنایا جاسکے۔ انسان اور جن کی تخلیق میں یہی فرق ہے کہ جن کی خلقت ہی آگ سے ہوئی مگر انسان کی خلقت میں صلصال کی پاکیزگی طہارت اور لطافت کے حصول کے لیے آگ کو محض استعمال کیا گیا۔ اسے خلقت انسانی کا مادہ نہیں بنایا گیا۔ جیسا کہ ارشاد ربانی ہے : خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ صَلْصَالٍ کَالْفَخَّارِo وَ خَلَقَ الْجَانَّ مِنْ مَارِجٍ مِنْ نَارٍo اسی نے انسان کو مٹی سے جو ٹھیکرے کی طرح بجتی تھی پیدا کیا اور جنات کو آگ کے شعلے سے پیدا کیا۔ (الرحمن، 55 : 14، 15) اسی طرح ارشاد فرمایا گیا : وَ الْجَآنَّ خَلَقْنَاهُ مِنْ قَبْل مِنْ نَارِ السَّمُومِo اور اس سے پہلے ہم نے جنوں کو شدید جلا دینے والی آگ سے پیدا کیا جس میں دھواں نہیں تھا۔ (الحجر، 15 : 27) اس لئے خلقت انسانی کے مراحل میں آگ کو ایک حد تک دخل ضرور ہے مگر وہ جنات کی طرح انسان کا مادہ تخلیق نہیں۔ 7۔ سُلالۃٌ من طین (Extract of purified clay) ارشاد ایزدی ہے : وَ لَقَدْ خَلَقْنَا إلْانْسَانَ مِنْ سُلَالَةٍ مِنْ طِيْنٍo اور بے شک ہم نے انسان کی تخلیق (کی ابتدائی) مٹی (کے کیمیائی اجزاء) کے خلاصہ سے فرمائی۔ (المومنون، 23 : 12) اس میں گارے کے اس مصفّٰی اور خالص نچوڑ کی طرف اشارہ ہے، جس میں اصل جوہر کو چن لیا جاتا ہے۔ یہاں طین لازب کے تزکیہ و تصفیہ کا بیان ہے۔ سُلالۃ : سل یسل سے مشتق ہے، جس کے معنی میں نکالنا، چننا اور میل کچیل سے اچھی طرح صاف کرنا شامل ہے۔ امام راغب اصفہانی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ سُلالۃ من طین سے مراد الصفو، الذی یسل من الارض ہے۔ یعنی مٹی سے چنا ہوا وہ جوہر جسے اچھی طرح میلے پن سے پاک صاف کردیا گیا ہو۔ جس تلوار کی دھار خوب تیز کی گئی ہو اسے السیف السلیل کہتے ہیں۔ الغرض سُلالۃ اس وقت وجود میں آتا ہے جب کسی چیز کو اچھی طرح صاف کیا جائے، اس کی کثافتوں اور میلے پن کو ختم کیا جائے اور اس کے جوہر کو مصفّٰی اور مزّٰکی حالت میں نکالا جائے۔ گویا سُلالۃ کا لفظ کسی چیز کی اس لطیف ترین شکل پر دلالت کرتا ہے جو اس چیز کا نچوڑ اور جوہر کہلاتی ہے۔

وجود باری تعالیٰ فلاسفہ کے نظریات کا رد

2017-06-28 02:21:06 

کیا وجود باری تعالی ذہنی ارتقاء کی ایجاد ہے ؟

یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ جب انسان کو کسی چیز کی حقیقت یا اس کے اسباب و محرکات کی کہنہ معلوم نہ ہو تو وہ اس کے بارے میں قیاس آرائی شروع کر دیتا ہے۔اور اپنی عقل سے اس قیاس کو معقولیت کا جامہ پہنانے کی کوشش کرتا ہے۔اور اپنے اسی قیاس کو یقین باور کرانے پر بھی اصرار کرتا ہے۔اور جو شخص اس کے ایجاد کردہ قیاسی نظریہ کے خلاف لب کشائی کی جرات کرتا ہےتو اسے نادانی یا کم عقلی سے تعبیر کرتا ہے۔یہی حال آج کل ان کور چشم نام نہاد فلاسفروں کا ہےجو ہستی باری تعالیٰ کو ذہنی ارتقاء کا نتیجہ مانتے ہیں۔اور پھر لطف یہ کے اس بارے میں ان کا کوئی متفقہ خیال بھی نظر نہیں آتا۔بلکہ وہ مختلف قیاسات دوڑاتے ہیں۔گو قیاسات اصولاََ تو متفق نظر آتے ہیں کہ وجود باری تعالیٰ کا یہ مسئلہ ذہنی ارتقاء کا نتیجہ ہےمگر ارتقائی زاویہ فکریعنی اس کی ترقی کے اسباب و منازل کی تفصیلات بلکل مختلف بلکہ بعض اوقات مخالف نظر آتی ہیں۔اس لیئے اس کی جزئیات پر الگ الگ جرح تو محال ہے البتہ اجمالاََ اصولی طور پر اس نظریہ کی تغلیط کے دلائل درج  ذیل ہیں :۔

مسئلہ ارتقاء میں توسیع:

اس سے پہلے میں ارتقاء والوں کی ایک لغزش کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ اول اول اس مسئلہ کو حیوانات کی مختلف انواع تک ہی محدود رکھا گیا کہ یہ چیزیں اپنی ادنیٰ حالتوں سے ترقی پا کر موجودہ صورتوں تک پہنچی ہیں ۔ مگر رفتہ رفتہ یہ ایک وسیع مسئلہ بن گیا ہے اور یہاں تک اس کو بڑھایا گیا کہ انسانی تاریخ و خیالات، توہمات و عقائد سب کچھ ارتقاء ہی کے زیر اثر سمجھا جانے لگا۔ اسی طرح وجود باری تعالیٰ کی توجیہ بھی ارتقاء کے ذریعے ہونے لگی ۔

ارتقاء کے تین نظریات:

بعض لوگوں کا یہ نظریہ ہے کہ وجود باری تعالیٰ انسانوں کے جذبہ خوف کا نتیجہ ہے۔وہ کہتے ہیں کہ جب انسان میں شعور  پیدا ہوا تو اس نے اپنے اردگرد ایک خوفناک  اور پر ہول ماحول کو پایا۔ مثلاََ خونخوار درندے، خطرناک وبائیں، قدرتی قحط، زلزلے اور اسی طرح وہ فوق الفہم اور حیرت انگیز نظام شمسی جس نے انسان کے اندر حیرت اور خوف کے جذبات پیدا کر دیئے۔اور ظاہر ہے کہ انسان ہمیشہ حیرت اور خوف کے جذبات میں گھر کر زندگی بسر نہیں کر سکتا تھا۔ اس لیئے اپنی ڈھارس و پناہ، سکون و اطمینان کے لیئے اس کے نفس نے یہ تجویز کی کہ کہ ان خوفناک اور ڈراؤنی اشیاء کو لجاجت و خوشامد کے ذریعے راضی کیا جا سکتا ہے۔چنانچہ اس نے ان کی پوجا شروع کر دی ۔اور پھر جوں جوں اس کا شعور ترقی کرتا گیا اور ذہنی رفعت اس کو حاصل ہوتی گئی اسی نسبت سے وہ اپنے قدرتی جذبہ خوف سے پناہ ڈھونڈتا ڈھونڈتا ایک ایسے خدا کا قائل ہو گیا جو تمام طاقتوں کا مالک ہے۔

اسی طرح ماہر نفسیات پروفیسر فرائیڈ کا ذہنی اختراع یہ ہے کہ چونکہ انسانی فطرت کی بنیاد نفسانیت و شہوانیت پر ہے اور ہر شخص اس دنیا میں آزادانہ طور پر ان خواہشات کو پورا نہیں کر سکتا اور جب دو افراد کی خواہش ٹکرا جائے تو لڑائی کی صورت حال پیدا ہو جاتی ہے ۔اس لیئے وہ ان خواہشات کی تکمیل صرف ایک ہی صورت میں کر سکتے تھے جب افراد حتی الوسع ایک دوسرے سے امن میں رہتے ہوں۔اور امن کے لیئے یہ ناگزیر ہے کہ وہ اپنی خواہشات  ایک دوسرے کے لیئے قربان کر دیں۔اور یہ قربانی بھی اس وقت تک محال ہے جب تک اس کا کائی معاوضہ نہ ہو۔چونکہ دنیا میں انسانی قربانی کا کوئی حقیقی معاوضہ نہ ہو سکتا تھا اس لیئے اس نے ایک خیالی معاوضہ(خدا) تجویز کیا۔اور یہی خیالی معاوضہ ارتقائی منازل طے کرتا ہوا موجودہ صورت کو پہنچا۔

اس سلسلہ میں تیسرا نظریہ ماہرین اقتصادیات کا ایجاد کردہ ہے جو موجودہ تمدن کے سخت دشمن ہیں اور اس کی بنیادوں کو ہلانا چاہتے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ وجود باری دراصل امراء اور غرباء کی تمدنی کشمکش کا نتیجہ ہے۔ کیونکہ ایک امیر اپنی امارت میں استقلال کے لیئے یہی چاہتا ہے کہ غریب ہوشیار ہو کر اپنی حالت نہ بدلیں۔اور غرباء کو غافل رکھنے کے لیئے ان کے دل میں یہ خیال بٹھانا ضروری ہوا کہ غربت و امارت وغیرہ امور مقدور سے تعلق رکھتے ہیں۔اور ایک نگران خدا ہے جو خوب جانتا ہے کہ نظام عالم چلانے کے لیئے دولت کی تقسیم کس طرح ہونی چاہیئے۔جو امیر و غریب میں دولت کی تقسیم خدا نے کر رکھی ہے اسی تقسیم پر ہر انسان کو قانع رہنا چاہیئے۔ پس عدم مساوات کو قائم رکھنے اور امیر و غریب کی تفریق کے استحکام کی خاطرغرباء کو غافل رکھنے کے لیئے امراء نے وجود باری کا عقیدہ تجویز کیا ہے۔ اور ابتداََ یہ صرف خیالی تھا اور بعد میں رفتہ رفتہ عادتاََ اور حقیقتاََ انسانوں میں رائج ہو گیا۔

قیاسی نظریہ:

مندرجہ بالا تینوں نظریات پر یکجا نظر ڈالنے سے صاف محسوس ہوتا ہے کہ یہ قیاسی نظریات ہیں جن کا حقیقت کے ساتھ کوئی  تعلق نہیں ۔اس کی مثال ایسی ہے جیسے رات کے دو بجے کوئی شخص گلی سے گزر رہا ہو۔تو اس کے بارے میں یہ قیاس کیا جا سکتا ہے کہ وہ کوئی داکٹر ہے ، پولیس کا آدمی ہے یا کوئی ایسا مریض ہے کو نیند کی حالت میں چلنا شروع کر دیتا ہے۔یا ممکن ہے کہ وہ کوئی ایسا شخص ہو جس کے گھر میں کسی مریض کی حالت ناگفتہ بہ ہو اور وہ ڈاکٹر کو لینے جارہا ہو۔ الغرض مختلف قسم کے قیاسات قائم کر کے اس کے عقلی ثبوت بھی دیئے جا سکتے ہیں۔ اسی طرح ان ارتقاء والوں نے بھی اپنے نظریات و قیاسات ثابت کرنے کے لیئےان لوگوں کے ھالات زندگی سے استدلال کرنے کی کوشش کی ہے جن کا مذہب ایک مسخ شدہ حالت میں ہوتا ہے۔ظاہر ہے اگر ایک بگڑے ہوئے مذہب پر قیاس آرائی شروع کر دی جائے  تو اس سے غلط نتائج اور فاحش نظریات ہی قائم کیئے جا سکتے ہیں۔اور یہی ان کی بنیادی لغزش ہے۔ اگر وہ اپنے نظریات کو انبیاء کرام علیہم السلام کی زندگیوں پر چسپاں کر کے دکھاتے جو دراصل ایک مذہب کے بانی ہیں تو تب ان کے نظریات کی ساری قلعی ہی کھل جاتی ۔اسی وجہ سے ان کے نظریات و قیاسات محض خیال آرائی ہی ثابت ہوتے ہیں۔

ذیل میں ان کے نظریات پر تنقیدی نظر ڈالتے ہیں !

وجود باری تعالیٰ اور خوف:

جو لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ وجود باری تعالیٰ محض خوف اور جذبہ حیرت کی کارستانی ہےیہ اس لیئے درست نہیں کہ اگر وجود باری تعالیٰ کا عقیدہ خوف کا نتیجہ ہوتا تو  اس عقیدہ کے بانی انبیاء کرام علیہم السلام  معاذ اللہ سب سے زیادہ بزدل ہوتے اور دنیا کی مادی قوتوں سے خوف کھاتے۔لیکن کیا یہ حقیقت نہیں کہ وہ اس عقیدہ کی تلقین و تبلیغ کی خاطراور اس کے قیام کے سلسلہ میں اپنی جان و آبرو کو بھی خطرے میں ڈالتے رہے ہیں۔اور دنیا کا کوئی خطرہ دنیا کا کوئی بھی خوف ان کے پائے استقلال کو متزلزل نہ کر سکا۔اور اسی طرح اگر عقیدہ مختلف اوہام کا نتیجہ ہے تو انبیاء اکرام علیہم السلام کو معاذ اللہ سب سے زیادہ توہمات میں گرفتار ہونا چاہیئے تھا۔اور سب سے زیادہ شکوک و شبہات کا شکار ہونا چاہیئے تھا۔ لیکن اس کے برعکس اشد ترین مخالف اور مذہب کا انکار کرنے والے بھی اس بات کی شہادت دیتے ہیں کہ ان کی زندگی حق الیقین کے اس بلند و بالا اور مستحکم چٹان پر پر قائم رہتی ہے جس سے دنیا بھر کی مخالفتیں، سارے خوف و اوہام ٹکرا کر پاش پاش ہو جاتے ہیں۔

اسی طرح اگر یہ عقیدہ خوف کا لازمہ تھاتو پھر عقل یہ کہتی ہے کہ جوں جوں ہم کسی نبی کے زمانہ کے قرب کی طرف بڑھتے چلے جائیں اسی نسبت سے خوف و اوہام بڑھتے نظر آنے چاہیئں۔ لیکن یہ امر واقعہ ہے کہ نبی کے اپنے زمانے اور قریب تر زمانے میں شکوک و شبہات اور اوہام کا وجود تک نہیں ملتا۔بلکہ ہوتا یوں ہے کہ جوں جوں کسی نبی کے زمانے سے دور ہوتے چلے جائیں جائیں گے شکوک و شبہات اور اوہام میں اضافہ نظر آئے گا۔جیسے اسلام کے علاوہ دیگر مذاہب میں شجر پرستی، کواکب پرستی، آفتاب پرستی اور اس طرح کی دیگر  غلط اور خلاف مذہب عبادات رواج پذیر ہو گئی ہیں تو ایسے مسخ شدہ مذہب اور گم گشتہ راہ اہل مذاہب کے خیالات و عقائد فاسدہ اور اوہام باطلہ سے استدلال عقلمندی کا مذاق اڑانا ہے اور نتیجہ یہ نکالنا کہ اس طرح خدا پرستی بھی جذبہ خوف کی ایجاد ہے قرین انصاف نہیں ۔ ایسے لوگوں کے طرز عمل سے استدلال کرتے ہوئے وجود باری تعالیٰ کو خوف کا نتیجہ قرار دینا انتہائی نادانی ہے۔

فرائیڈ کا نظریہ:

اسی طرح یہ نظریہ کہ جذباتی کشمکش میں توازن برقرار رکھنے کا علاج دوسروں ی خاطر قربانی دینے کا معاوضہ خدا کی صورت مین تجویز کیا گیا ہے بایں وجہ باطل ہے کہ اگر یہ خیال درست ہوتا توسب سے زیادہ انقباض  طبیعت اور جذباتی کشمکش انہی لوگوں میں پائی جاتی جو وجود باری تعالیٰ کے ناشر تھے۔کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ انبیاء کرام علیہم السلام میں عمر کے کسی بھی حصہ میں ایسا انقباض یا جذباتی کشمکش پائی جاتی ہے ؟ہر گز نہیں !اس کے برعکس انبیاء رام علیہم السلام اپنے بچپن و جوانی، ادھیڑ عمر و بڑھاپے میں سکینت کی ایک حسیں تصویر نظر آتے ہیں۔چنانچہ کسی بھی نبی کی زندگی پر نظر ڈالوسکینت ہی سکینت پاؤ گے۔ان کو اپنی خواہشات سے کبھی جنگ نہیں کرنا پڑی۔اگر وجود باری تعالیٰ انقباض و جذباتی کشمکش کا نتیجہ ہوتا تو ان انبیاء اکرام علیہم السلام کی تعلیمات میں کوئی ربط نظر نہ آتا ان کی ساری باتیں مجنونانہ ہوتیں لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ان کی تعلیم ان کے احکام انتہائی دانائی سے پر ہوتے ہیں۔حتی کہ دنیا تمدنی و علمی ، سیاسی و معاشی امور میں ساری دانائی اپنے انبیاء کرام علیہم السلام سے ہی لیتی ہے ۔

عدم مساوات کا نظریہ:

اسی طرح ماہرین اقتصادیات کا یہ کہنا کہ وجود باری تعالیٰ کا تصور عدم مساوات کو جاری و قائم رکھنے کے لیئے وجود میں آیا مذہب پر صریح الزام ہے۔کاش کہ وہ انبیاء کرام علیہم السلام کی زندگی اور انسانوں کے ساتھ ان کے سلوک کو ایک نظر دیکھتے تو کبھی ایسا قیاس نہ کرتے۔اگر بالفرض ان کا یہ قیاس صحیح ہوتا تو پھر انبیاء کرام علیہم السلام  کو سب سے زیادہ عدم مساوات کا حامی ہونا چاہیئے تھا کیونکہ وہ اس عقیدہ کے بانی تھے ۔مگر اس کے برعکس وہ عدم مساوات کے خلاف ایک زبردست محاذ قائم کر کے ایک ایسا معاشرہ قائم کرتے ہیں جس میں دنیوی دولت و ثروت کو کوئی امتیاز حاصل نہیں ہوتا۔وہ ایسی تعلیم اور ایسے احکام دیتے ہیں جن سے دنیوی امارت و ثروت کو استقلال اور دوام حاصل ہو ہی نہیں سکتا۔اس سلسلہ میں انبیاء کرام علیہم السلام کی اقتصادی تعلیم سے درگزر کرتے ہوئے اس نظریہ کے قائلین کی توجہ اسلام کے اقتصادی اور معاشی اصول کی طرف دلانا چاہوں گا ۔ ذرا غور فرمایئے کیا اسلام نے اپنی عبادات اور تہذیب و تمدن  کی بنیاد ہی مساوات کے اصول پر قائم نہیں کی  ؟

کیا اس نے معیار تکریم اور وجہ تفوق امارت و ثروتاور دنیوی جاہ حشمت کے بجائے تقویٰ اور خدا ترسی کو نہیں بنایا؟

اسلام میں سود کا امتناع، ایتاء زکوٰۃکا حکم جو دراصل سرمایہ کاری پر ایک ضرب کاری ہے اور اسی طرح قانون وراثت جو دولت کو صرف ایک ہی شخص کی تجوری میں بند نہیں رکھتا ۔اور اسی طرح نظام صدقہ و خیرات کے متعلق احکام کیا عدم مساوات اور امیر و غریب کی تفریق مٹانے کو کامیاب علاج اور یقینی تریاق نہیں ؟

علاوہ ازیں اگر امراء ہی وجود باری تعالیٰ کے مؤجد ہوتے تو کیا وجہ ہے کہ جب بھی کوئی نبی ؑخدا  کی توحید قائم کرنے کے لیئے کھڑا ہوتا ہے تو امراء ہی سب سے زیادہ اس کی مخالفت میں پیش پیش ہوتے ہیں ؟اور غرباء ہی سب سے پہلے اس کی تائید کرتے ہیں ؟جبکہ حقیقت یہ ہوتی ہے کہ انبیاء کرام علیہم السلام کی تحریک کو سب سے زیادہ غرباء ہی کی تائید حاصل ہوتی ہے اور امراء پیچھے رہ جاتے ہیں ۔

پس ماہرین اقتصادیات کا یہ کہنا کہ یہ عقیدہ  عدم مساوات، امیر و غریب کی تفرق کو قائم رکھنے  کے لیئے وجود میں آیا صریحاََ غلط ہے !

یہ عقیدہ الہامی ہے :

خدا کے وجود کو ذہنی ارتقاء کا نتیجہ سمجھنے والوں کے قیاسات اس قدر بودے اور کمزور ہیں کہ تار عنکبوت سے زیادہ حثیت نہیں رکھتے۔ اگر قدیم سے قدیم اقوام کے عقائد اور بعد میں آنے والی اقوام کے عقائد کا موازنہ کیا جائے تو ان میں کوئی نمایاں فرق نظر نہین آتا بلکہ ان میں ایسی مماثلت نظر آتی ہے جو ایک انسان کو ورطہ حیرت  وا ستعجاب میں ڈالنے کے لیئے کافی ہے۔اور اس مماثل عقیدہ کو ہر دور میں بعض مخصوص اور معین ہستیوں نے قائم کیا۔اور انہی پاک ہستیوں کی تاثیر و شہادت سے اس زمانہ کے لوگوں نے قبول کیا۔ذرا غور کیا جائے تو یہ ناممکن نظر آتا ہے کہ کسی ذہنی اختراع سے پیدا شدہ عقیدہ جس کی کوئی حقیقت نہ ہو اس قدر عظیم انقلاب برپا کر سکتا ہے جو اس عقیدہ نے برپا کر دکھایا۔

بے شک شروع میں انبیاء کرام علیہم السلام ی تعلیم شروع شروع میں نئی نظر آتی ہے لیکن ان معنوں میں ہر گز نہیں  کہ جس کو ہم ذہنی اختراع سے تعبیر کر سکیں۔دنیا میں کئی ایسے فلاسفر موجود ہیں جو اپنے ذہن سے نئے نئے خیال پیدا کرتے ہیں اور بعد میں اکثر غلط بھی ثابت ہو جاتے ہیں لیکن ان فلاسفروں کی کبھی بھی مخالفت نہیں کی جاتی جو بے سروپا نظریات قائم کرتے ہیں۔اور اگر مخالفت کی بھی جاتی ہے تو انتہائی معمولی۔ لیکن کیا یہ حقیقت نہیں کہ انبیاء کرام علیہم السلام جو عقیدہ دنیا کے سامنے پیش جرتے ہیں اس کی شدید ترین مخالفت کی جاتی ہے۔چھوٹابڑا اپنا پرایا سبھی مخالفت پر تل آتے ہیں اور انہی مخالف حالات کے بوجود وہ اپنا مشن قائم کر جاتے ہیں۔ ہر نبی ؑ کا خطرناک مقابلہ کیا جاتا رہاہےکیا کوئی بتا سکتا ہے کہ ارتقائی اشیاء و خیالات کی بھی کہیں اس درجہ مخالفت ہوئی ہے ؟ہر گز نہیں ! مخالفت تو کجا ان کا احساس تک نہیں ہوتا کہ یہ چیزیں کب، کیسے اور کس وجہ سے معرض وجودد میں آئیں۔ پس یہ شدت مخالفت خود اس بات کا ثبوت ہے کہ اس امر کا اس عقیدہ کے ساتھ ارتقاء سے کوئی تعلق نہیں ۔ذہنی ارتقاء نے اس مسئلہ کو ایجاد نہیں کیا بلکہ بذریعہ الہام اسے انسانی ذہن میں بٹھایا گیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ وجود باری تعالیٰ کا عقیدہ پرانی سے پرانی اور نئی سے نئی ہر قوم میں پایا جاتا ہے۔پھر من حیث المجموع اس کی ذات و صفات کے بارہ میں یکساں خیال موجود ہے۔ پس یہ ہم آہنگی اور اس عقیدہ کے قیام میں انبیاء کرام علیہم السلام کی شدید ترین مخالفت اور ان سے یکساں سلوک اور ان دانا و فہیم اور پاک ہستیوں کی ثقہ شہادت اور اسی قسم کے شواہد و نظائر از قبیل نشانات و پیشنگوئیاں مسئلہ وجود باری تعالیٰ کے ارتقائی نہ ہونے اور الہامی ہونے پر کافی و شافی دلیل ہیں ۔

نیوٹن اور ملحد سائنس دان

2017-07-19 11:39:19 

قرون وسطیٰ میں چرچ کی زندگی کے ہر شعبے میں بالا دستی قائم تھی ۔ بادشاہ وقت بھی چرچ کا مطیع و فرمانبردار تھا اور چرچ کے فیصلوں کے خلاف جانے کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ اس زمانے میں جب کائناتی و فلکیاتی تحقیقات شروع ہوئیں  تو انہیں چرچ کی جانب سے سخت ترین مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔سائنسی تحقیقات کو قابل سزا جرم قرار دے دیا گیا اور ہزاروں سائنس دانوں کو اس جرم کی سزا کے طور پر زندہ جلوا دیا گیا۔چرچ کے انسانیت سوز مظالم کی وجہ سے سائنس دانوں کی بڑی تعداد مذہب سے متنفر ہو کر دہریہ بن گئی ۔لیکن کچھ سائنس دان اب بھی ایسے تھے جو اللہ کے وجود  اور اس کی عظمتوں کے قائل تھے ۔ ان میں سر آئزک نیوٹن ، جینز کالسن، ایڈنگٹن وغیرہ سرفہرست ہیں۔
ایک دفعہ آئز ک نیوٹن اپنے کمرے میں ایک کتاب کے مطالعہ میں مشغول تھا۔ اس کے سامنے  نظام شمسی کا ایک دھاتی نمونہ پڑا تھا جس کو کسی کاریگر نے انتہائی مہارت اور قابلیت سے بنایا تھا۔ اس کو جب گھمایا جاتا تو تمام سیارے اپنی اپنی رفتار کے تناسب سے گھومنے لگتے تھے۔ بظاہر یہ بڑا عجیب منظر پیش کرتا تھا۔نیوٹن کا ایک سائنس دان دوست جو اس وقت کے حالات سے متاثر ہو کر دہریہ اور اللہ کا منکر بن گیا تھا ، نیوٹن کے کمرے میں داخل ہوا اور نظام شمسی کے اس نمونے کو دیکھ کر بے اختیار پوچھنے لگا کہ  "اس کو کس نے بنایا ہے؟"
نیوٹن نے سوال سن کر اس کی طرف دیکھے بغیر جواب دیا "کسی نے بھی نہیں "
سائنس دان نے کہا "آپ نے میرا مطلب نہیں سمجھا"
نیوٹن نے کتاب پر سے نظر ہٹا کر اپنے دوست سے کہا :۔ " نہیں اسے کسی نے بھی نہیں بنایا۔ جس چیز کو تم اتنی حیرت سے دیکھ رہے ہو  اس نے "خود بخود" اپنی یہ شکل اختیار کر لی ہے۔"
نیو ٹن کے اس جواب میں طنز تھا۔ مگر اس جواب نے سائنس دان کو مضطرب کر ڈالا۔ اس نے جھلاتے ہوئے پوچھا
"کیا تم مجھے بے وقوف سمجھ رہے ہو ۔ بے شک اس کو کسی نے بنایا ہے اور وہ بے انتہا  ماہر کاریگر ہے میں اس کا نام جاننا چاہتا ہوں۔"
اپنی کتاب کو بازو میں رکھتے ہوئے نیوٹن کھڑا ہو گیا اور اپنے دوست کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولا" یہ نمونہ ایک ادنیٰ ترین نقل ہےاس شاندار نظام کائنات یعنی نظام شمسی کی جس کے قانون سے تم بھی واقف ہو۔اور میں اس قابل نہیں کہ تم کو قائل کر سکوں کہ یہ معمولی کھلونا خود بخود وجود میں آیا۔"
نیوٹن نے اپنے دوست سے کہا "تم مجھے پہلے یہ بتاؤ کہ تم اس نظریے پر کیسے پہنچے کہ اس قدر شاندار نظام بغیر خالق کے وجود میں آگیا ہے۔"
نیوٹن کا دوست سوائے خاموشی کے کوئی جواب نہ دے سکا۔
نیوٹن نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے اپنے دوست کو بتایا کہ:۔ "اس شاندار نظام کائنات کا خالق اللہ ہے۔جو اس کے وجود کو اللہ کے بغیر سمجھتے ہیں وہ غلطی کرتے ہیں۔
یہ معمولی سی مثال خالق کائنات کے وجود کا زبردست ثبوت پیش کرتی ہے۔

 

قدیم فلاسفر اور تصورِ خُدا

2017-07-23 17:11:28 

فلسفہ کو مذہب پر فوقیت دینے والے فلسفے کی ابتدائی زمین سے یا تو باخبر نہیں یا پھر انکارِ خدا کو اپنا فرض سمجھتے ہیں. جبکہ فلسفہ کے ابتدائی موجد اس کی زمین کو مذہب کے لیے ہموار کرتے رہے جو انکی تعلیمات میں واضح ہے. سقراط, افلاطون اور ارسطو کی تعلیمات میں واضح طور پر خُدا کا اقرار نظر آتا ہے.

درج ذیل اسکی کچھ مثالیں دی جارہی ہیں:

ایک مغربی فلاسفر برٹنرڈ رسل (Bertrand Russell) اپنی کتاب میں سقراط(Socrates) ,افلاطون(Plato) اور ارسطو (Aristotle) کے فلسفے میں تصورِ خُدا کے بارے میں لکھتا ہے: 

سقراط The apology میں خدا کا تذکرہ یوں کرتا ہے "خدا کی طرف سے میں جس کام کے لیے چنا گیا ہوں وہ بہترین ہے".

دوسری جگہ ایتھنز کے لوگوں اور حکمرانوں سے مخاطب ہوکر کہتا ہے " ایھتنز کے لوگوں میں تم سے پیار کرتا ہوں لیکن اس سے زیادہ میں خدا کی اطاعت کرتا ہوں".

افلاطون اپنے تصنیف The republic میں خدا کے بارے میں کہتا ہے. "جو بستر پر آپ قائم کرتے ہو اور سوچتے ہو اور کہتے ہو وہ آپکی رائے (Opinion) ہوسکتی ہے لیکن علم (Knowledge) نہیں. علم صرف خدا کی طرف سے عطا کردہ ہے".

افلاطون چونکہ سقراط کا شاگرد تھا اور سقراط کے فلسفے سے متاثر تھا لہذا وہ The republic میں سقراط کی زندگی کے آخری ایّام کی تفصیل لکھتا ہے. جب اس کی موت کا فیصلہ سنا دیا جاتا ہے اور اسے اپنے ساتھیوں اور شاگردوں سے بات کرنے کی اجازت دی جاتی ہے. افلاطون سقراط کی زبانی لکھتا ہے. " ایک فلاسفر کبھی موت سے نہیں ڈرتا لیکن خودکشی کو حرام سمجھتا ہے"(یاد رہے ایتھنز میں خودکشی کو حرام نہیں سمجھا جاتا تھا)

جب اس کے ساتھی اس سے پوچھتے ہیں کہ خودکشی حرام کیسے ہے. تو وہ جواب دیتا ہے. "جب ایک مالک اپنے مویشیوں کو چرائے اور انہیں سیدھے رستے پر چلنے کا کہے ایسے میں ایک مویشی رستے سے آزادی اختیار کرے تو مالک کا غصہ بجا ہے وہ ناراض ہوگا. مویشی اور مالک کا رشتہ بندے اور خدا کا ہے. اگر بندا خدا کے بتائے رستے سے ہٹ کر چلے اپنی مرضی کرے تو خدا ناراض ہوگا لہذا خودکشی حرام ہے اسلیے بندے کو چاہیے کہ وہ اس وقت کا انتظار کرے جب اسکا خدا چاہتا ہے کہ بندا اسکے پاس آئے جیسے کہ میرا خدا مجھے بُلا رہا ہے اور موت کا وقت آگیاہے".

پھر افلاطون Cosmology کے بارے میں کہتا ہے "یہ کائنات انسانی حسیات سے ماورا ہے انسان اسے نہیں تخلیق کرسکتا اور یہ کائنات ازخود وجود میں نہیں آسکتی اور خُدا کی تخلیق کردہ ہے".

ایک اور جگہ کہتا ہے. "کائنات چار بنیادی ایلیمنٹس آگ, پانی , ہوا اور مٹی سے ملکر بنی. اور خُدا نے ان چار اشیاء سے اس کائنات کو تخلیق کیا".

پھر ایک اور جگہ کہتا ہے "خُدا نے پہلے روح کو بنایا پھر جسم کو".

ارسطو کا تصورِ خُدا کچھ یوں ہے. "کائنات کی ہر چیز متحرک ہے. اور ہر متحرک چیز کے پیچھے محرک ہے جو اسے حرکت پر مجبور کرتا ہے. یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہتا ہے. چونکہ حرکت کو دوام نہیں ہے اسے کہیں نہ کہیں رُکنا ہے. لہذا تمام متحرک اشیاء جو حرکت میں ہیں ان کے آغاز میں ایک ایسا محرک ضرور ہوگا جو ساکن ہے جسے کوئی حرکت نہیں دے سکتا اسکی ایک حقیقت ہے اور وہ خُدا ہے. اس متحرک زندگی کا تعلق اسی سے ہے وہ حیی(living being )ہے وہ ابدی (Eternal ) ہے".

پھر وہ کہتا ہے "تقریباً 47 سے 57 غیر متحرک ایسے ہیں جو محرک ہیں. انہیں وہ چھوٹے اسباب یا Small causes کا نام دیتا ہے اور ان تمام small causes کا ایک فائنل کاز ہے جسے وہ خُدا کہتا ہے.اور ساری حرکتیں اسکے حکم سے وجود میں آتی ہیں اور ہر چیز اس فائنل کاز یعنی خُدا کی محبت کی وجہ سے متحرک ہے".

وجود و وحدانیت باری تعالیٰ

2017-08-03 04:04:39 

وجود باری تعالیٰ :۔
یہ بات بلکل بدیہی اور اظہر من الشمس ہے کہ عالم میں جو بھی شئے مشاہدے میں ہے، وہ جسم ہے یا قائم بالجسم اور جسم دو حال سے خالی نہیں وہ متفرق ہو گا یا مجتمع ، اگر متفرق ہے تو اس میں ترکیب و تالیف کا امکان یقینی ہے۔ اور اگر مجتمع ہے تو اس کے اندر بھی اختراق ممکن ہے۔اور یہ دونوں (یعنی اختراق مع احتمال الترتیب یا اجتماع مع احتمال الاختراق) چونکہ لازم و ملزوم ہیں اس لیئے ایک کے معدوم ہونے سے دوسرا بھی معدوم ہو جائے گا۔

جب دو جزو اختراق کے بعد مجتمع ہوں تو ان کا یہ اجتماع حادث ہو گا اس لیئے کہ یہ اجتماعی شکل پہلے سے نہ تھی۔اسی طرح اجتماع کے بعد اگر اختراق واقع ہو تو یہ اختراق بھی حادث ہو گا اس لیئے کہ یہ اجتماعی اور اختراقی شکل پہلے سے نہ تھی بلکہ بعد میں پیدا ہوئی۔جب عالم میں موجود ہر شئے کا یہی حال ہے کہ اس پر حدوث طاری ہوتا ہے تو ان مشاہداتی اشیاء کی جنس میں سے جو اشیاء مشاہد نہیں تو ان کا بھی حکم معلوم ہو گیا کہ وہ بھی حدوث سے خالی نہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ اس بات میں بھی کوئی شک نہیں کہ اگر کوئی شئے مجتمع ہے تو کسی مؤلف کی تالیف(ترکیب) کی وجہ سے ہی وہ اس شکل میں ہے۔ اور اسی طرح اگر متفرق ہے تو کسی مفرق کی تفریق ہی کے سبب ہے۔ اور یہ مؤلف و مفرق ایسی ذات ہی ہو سکتی ہے جو ان تمام حدوث سے پاک ہو جو ان پر واقع ہوتے ہیں۔یعنی اجتماع و اختراق کا وقوع اس پر جائز نہ ہو اور وہ واحد و قہار ذات ہے جو تمام مختلفات کو جامع ہے اور اس کی مثل کوئی چیز نہیں اور وہ ہر شئے پر قادر ہے ۔

ان دلائل سے حتمی طور پر یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان اشیاء کی مجتمع یا متفرق صورت بنانے والااور ان کا محدث ہر چیز سے پہلے وجود رکھتا تھا۔سو لیل و نہار، زمان و ساعات سب حادث ہیں اور ان کا محدث وہ ہے جو ان کے وجود سے قبل ہی ان میں تدبیر و تصرف کرتا تھا۔اس لیئے یہ بات ناممکن ہے کہ اشیاء حادث موجود ہوں اوران سے پہلے ان کا محدث موجود نہ ہو۔
اللہ عزوجل کا یہ قول اس پر نہایت مضبوط و قوی دلیل ہے :۔
"کیا انہوں نے اونٹ کی طرف نہیں دیکھا کہ اس نے کیسے اس کو بنایا ہے۔اور آسمان کی طرف کہ اس نے اس کو کیسا بلند کیا۔ اور پہاڑوں کی طرف کہ اس نے انہیں کیسا نصب کیا۔ اور زمین کی طرف کہ اس نے اسے کیسے بچھایا۔"
(سورۃ الغاشیہ آیت 17-20)

یہ دلیل اس شخص کے لیئے ہے جو اپنی عقل کا استعمال کرے اور غور وفکر کرےاور ان کے ذریعے باری تعالیٰ قدیم اور محدث ہونے پر استدلال کرے  نیز ان اشیاء کے علاوہ جو ان کی ہم جنس ہیں ان کے حادث ہونے پر اور اس پر کہ ان سب کی خالق ایک ایسی ذات ہے جو ان کے مشابہ نہیں اس پر بھی استدلال کرے ۔

اللہ عزوجل نے ان اشیاء یعنی اونٹ، پہاڑ اور زمین وغیرہ کا جو ذکر فرمایا ہے ، ابن آدم ان پر باربرداری کرنا، منتقل کرنا، کھودنا، چھیلنا، گرانا وغیرہ وغٰرہ جیسے تصرفات کرتا ہے ان میں سے کوئی بھی تصرف ممتنع نہیں ۔لیکن ان سب تصرفات کے باوجود ابن آدم ان میں سے کسی بھی چیز کی تخلیق پر قادر نہیں ۔ جو تخلیق سے عاجز ہو وہ اپنی ذات کے حق میں بھی محدث نہیں ہو سکتا۔ اس کے علاوہ ان اشیاء کے مثل بھی کوئی چیز ان کے لیئے مؤجد نہیں ہو سکتی۔ پس حقیقت یہ ہے کہ ان کی مؤجد ایک ایسی ذات ہے جس کے ارادہ میں کوئی چیز حائل نہیں ہو سکتی۔اور نہ کسی چیز کا احداث اس کے لیئے ممتنع ہے۔پس وہ اللہ عزوجل کی ذات ہے ۔
وحدانیت باری تعالیٰ:۔
اگر کوئی شخص اشیاء کے وجود کو کسی قدیم کا فعل مانے لیکن قدیم کے واحد ہونے کا انکار کرے تو اس کا جواب یہ ہے کہ :۔
جب ہم اپنے وجود کی طرف نگاہ ڈالتے ہیں تو ہمیں محیر العقول نظام اور مسلسل اور متصل تدابیر و تصرفات نظر آتے ہیں اور تخلیقی ڈھانچہ انتہائی کامل دکھائی دیتا ہے۔لہذا اس بناء پر ہم کہتے ہیں کہ اگر تدبیر و تصرف کرنے والے دو ہوں تو ان میں اتفاق ہو گا یا اختلاف، اگر اتفاق ہو گا تو یہ بلکل ایک ہی ہوگااور دونوں کا معنی ایک ہی ہوگا۔ جبکہ قائل نے ازخود ایک کو دو قرار دے دیا جو خلاف عقل ہے ۔ یہ ضروری نہیں کہ دو میں ہر جگہ اتفاق ہی ہو کہیں نہ کہیں اختلاف بھی بہرحال موجود رہتا ہے۔ اور اگر اختلاف ہو وجود خلق احسن اور کامل نہ ہواور نہ ہی اس میں تدبیر و تصرف منظم پیمانے پر ممکن ہو۔اس لیئے کہ ہر ایک کا فعل دوسرے کے خلاف ہوگا۔ان میں سے ایک جب کسی کو زندہ کرے گاتو دوسرا اسے موت سے ہمکنار کرے گا۔اگر ایک کسی چیز کو ایجاد کرے گا تو دوسرا اسے فنا کر دے گا۔اس کشمکش میں یہ محال و ناممکن ہے کہ کسی شئے کا وجود صحیح سلامت پایا جائے۔لہذا تمام نظام خلق کا اس احسن و منظم پیمانے پر ہوناذات قدیم کے واحد ہونے کی بدیہی اور مشاہداتی دلیل ہے۔

اسی حقیقت کا اللہ عزوجل نے قرآن حکیم میں ذکر فرمایا:۔
"اگر آسمان و زمین میں کئی خداہوتے تو یہ دونوں تباہ و فنا ہو جاتے۔پس اللہ تعالیٰ کو کہ رب عرش ہےان تمام چیزوں سے پاک ہے جو یہ مشرکین بیان کرتے ہیں۔"
(سورۃ الانبیاء آیہ 22)

ایک دوسری جگہ ارشاد فرمایا:۔
"اللہ نے کسی کو اپنی اولاد قرار نہیں دیا اور نہ ہی اس کے ساتھ کوئی اور اللہ ہےاگر ایسا ہوتا تو ہر اللہ اپنی بنائی ہوئی چیز کو جدا کر لیتا اور دوسرے پر چڑھائی کر دیتا۔ لیکن اللہ اس چیز سے پاک ہے جو یہ (مشرکین )بیان کرتے ہیں۔وہ پوشیدہ اور ظاہر تمام چیزوں کا جاننے والااور ہر قسم کے شریک سے بلند و برتر اور پاک ہے ۔"

(سورۃ المؤمنون آیت 91-92)
یہ دونوں آیات اہل شرک کے دعوی کے بطلان پر مختصر و بلیغ ترین حجت اور مضبوط ترین دلیل ہیں۔ان کا حاصل یہی ہے کہ اگر زمین پر ماسوائے اللہ کئی اللہ ہوتے تو ان میں اتفاق ہوتا یا اختلاف۔ اتفاق ہونے کی صورت میں قدیم کے دو ہونے کا قول باطل ٹھہرتا ہے اور اختلاف ہونے کی صورت میں آسمان و زمین میں فساد و فنا لازم آتااس لیئے کہ ایک اگر کسی چیز کو پیدا کرتا تو دوسرا اس کی مخالفت کی بناء پر معدوم و فنا کرنے کی کوشش کرتا۔ کیونکہ دونوں کے افعال ایک دوسرے سے مختلف ہوتے جیسے آگ کا کام گرم کرنا ہے اور برف کا کام ٹھنڈا کرنا ہے۔

اس کے علاوہ ایک اور اعتبار سے بھی یہ قول باطل ہے  کہ اگر دو قدیم مان لیئے جائیں تو وہ دونوں دو حال سے خالی نہ ہوں گے دونوں قوی ہوں گے یا دونوں عاجز۔ اگر عاجز ہوں تو ہر ایک اپنے مقابل کی نسبت عاجز ہو گا۔ اس لیئے کہ مقابل کو ہم نے قوی تسلیم کر لیا تو دوسرے کا عجز لازم آئے گااور ایک اگر اپنے مقابل پر قوی ہو تو مغلوب اپنے ساتھی کی قوت کے سامنے عاجز و بے بس ہو گا اور عجز و بے بسی اللہ کے منافی ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ قدیم واحد کا تسلیم کرنا ضروری ہےوگرنہ ہر صورت مین محال کو تسلیم کرنا لازم آتا ہے۔اور اللہ تعالیٰ اہل شرک کی افتراء پردازیوں سے پاک و صاف اور منزہ ہے

ان تمام عقلی و نقلی دلائل سے یہ معلوم ہو گیا کہ اشیاء کا خالق تھا اور اس حال میں کہ اس کے سوا کوئی دوسرا نہ تھااور اسی نے اشیاء کو پیدا کیا۔

 

 

منتخب تحریریں