بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ * لا الہٰ الا اللہ محمّد رسول اللہ * قُلْ هُوَ اللّـٰهُ اَحَدٌ - اَللَّـهُ الصَّمَدُ - لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُوْلَدْ - وَلَمْ يَكُنْ لَّـهٝ كُفُوًا اَحَدٌ

حدیث


منکرین حدیث اور منافق

2017-05-29 05:56:16 

کافی عرصہ سے میں بہت ہی میٹھی بنی ہوئی ہوں مطلب کہنے کا یہ ہے اصلاح ہی اصلاح لکھ رہی ہوں... لیکن اخلاقی و کردار کی اصلاح اب کچھ دن سے کچھ احباب کا تقاضہ تھا کہ کچھ خالصتاً اسلام کے لیے لکھا جائے خاص کر  "منکرین احادیث" کے لیے لیکن اس پر ماشاء اللہ میرے بہن بھائی کام کر رہے ہیں ہیں اور بہترین کر رہے ہیں... تو اس پر بس اپنا ما فی الضمیر بیان کروں گی.... جب میں پڑھتی کہ فلاں صاحب علم صاحب نے اپنے علم کے زعم میں انکار کردیا.... بہت حیرت بھی ہوتی ہے مگر  اب نہیں ہورہی کیونکہ ابھی ابھی میں ایک موضوع پڑھا منافق کا اور سچ بات  یہ ہے کہ پڑھ کر ایک یہ بات واضح ہوگئ منافق  اور منکرین احادیث دونوں یک صفات کے حامل ہیں...... 
کہ یہ صاحب علم و استدلال ان کے لیے صرف ایک ہی بات ذہن میں آتی ہے... "علم و دولت سنبھالنا سب کے بس کی بات نہیں اوقات کیسے نہ کیسے دکھائی جاتی ہے دولت میں سدھ بدھ کھولتی ہے اور علم کے زعم میں شعور" 
اور یہی حال اُن صاحبِ علم و دانشور  منافق اسکالرز کاہے جیسا کہ 
قرآن پاک کی روشنی میں منافقین کی تقریبا6 اقسام بیان کی گئیں ہیں
منافقین کی اَقسام
#پہلی_قسم ایسے منافقین کی تھی جو اسلام کے برحق ہونے کے قائل تھے لیکن اس کی خاطر نہ اپنے مفادات کی قربانی کے لئے تیار تھے اور نہ مصائب و آلام کو برداشت کرنے کے لئے لہذا کچھ خود غرضی و مفاد پرستی اور کچھ بزدلی ان کے سچا مسلمان ہونے کے راستے میں حائل تھی۔
#دوسری_قسم ایسے منافقین کی تھی جو دل سے قطعاً اسلام کے منکر تھے اور محض سازش اور فتنہ و شر کے لئے اسلامی صفوں میں گھس آئے تھے۔ یہ اسلام کے بہت بڑے دشمن تھے۔

#تیسری_قسم ایسے منافقین کی تھی جو اسلام کے اقتدار و حکومت کے باعث مفاد پرستانہ خواہشات کے تحت اسلام سے وابستہ ہو گئے تھے۔ لیکن مخالفینِ اسلام سے بھی اپنا تعلق بدستور قائم رکھے ہوئے تھے تاکہ دونوں طرف سے حسبِ موقع فوائد بھی حاصل کر سکیں اور دونوں طرف کے خطرات سے بھی محفوظ رہیں۔

#چوتھی_قسم ایسے منافقین کی تھی جو ذہنی طور پر اسلام اور کفر کے درمیان متردد تھے۔ نہ انہیں اسلام کی حقانیت پر کامل اعتماد تھا اور نہ وہ اپنی سابقہ کفر یا جاہلیت پر مطمئن تھے وہ اوروں کی دیکھا دیکھی مسلمان ہو گئے تھے لیکن اسلام ان کے اندر راسخ نہیں ہوا تھا۔

#پانچویں_قسم ایسے منافقین کی تھی جو اسلام کو حق سمجھے ہوئے دل سے اس کے قائل تو ہو چکے تھے لیکن پرانے اوہام و عقائد اور رسم و رواج کو چھوڑنے، دینی اور اخلاقی پابندیوں کو قبول کرنے اور اوامر و نواہی کے نظام پر عمل پیرا ہونے کے لئے ان کا نفس تیار نہیں ہو رہا تھا
#چھٹی_قسم ایسے منافقین کی تھی جو اسلام کو توحید، احکامِ الٰہی اور آخرت وغیرہ پر ایمان لانے کی حد تک تو تسلیم کرتے تھے لیکن حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی غلامی اور وفاداری سے گریزاں تھے۔ نہ وہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عظمت و سیادت دل سے ماننے کو تیار تھے اور نہ آپ کی حاکمیت و شفاعت۔ اس میں وہ اپنی ہتک اور ذلت محسوس کرتے تھے۔ چنانچہ وہ تعلق نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بغیر ذاتِ ربانی تک رسائی حاصل کرنے کے خواہاں تھے۔( بحوالہ. منافق کی علامات) 
اب  قرآن کی روشنی میں موجود علامات ان آج کے  اسکالرز(غامدی،  کاری واری وغیرہ) میں مل رہی ہے  یہ وہ منافق ہیں جو اسلام کو جانتے بھی ہیں پہچانتے بھی ہیں مگر ان کا عَالمْ "منافق ِ وقت" ہونے کے ساتھ ساتھ "عَالمِ ابلیس" کہوں تو غلط نہ ہوگا کہ ابلیس بھی سب جانتا تھا "توحید" کو بھی "درجہ آدم علیہ السلام" کو بھی تب بھی منکرِ سجدہ ہوا تھا... اور منافقین کا بھی یہی عمل رہا سب کچھ جانتے تھے پہچانتے تھے مگر دل کو  راسخ ایمان نہ کرسکے..... اور یہی حال ان ماڈرن اور نیم ماڈرن اسلامک اسکالرز کا ہے کہ  
  بے چارے اسلام کے دامن میں پناہ گزین بھی ہیں، اسلام سے استفادہ بھی لیتے ہیں، اپنے آپ کو مسلمان بھی کہتے ہیں، اپنے آپ کو پیشواِ اسلام کہتے ہوئے اسی اسلام کے نام پر پلتے بھی ہیں، اور پھر کم ظرفی، صفت ابلیس، بےایمانی و منافقت دکھاتے ہوئے اسی اسلام میں غلطیاں نکالنے لگتے ہیں..... کیا کہنے ان کے... اس اسلام سے روشناس کروانے والے نبی علیہ الصلاۃ التسلیم کی زبان مبارک سے ادا ہوئے کلمات کا انکار کر کے صاحب علم بن کر  تعریفات سمیٹتے ہیں......

قرآن پاک میں ارشاد ہے 
وَمَن يُشَاقِقِ الرَّسُولَ مِن بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدَى وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيلِ الْمُؤْمِنِينَ نُوَلِّهِ مَا تَوَلَّى وَنُصْلِهِ جَهَنَّمَ وَسَاءَتْ مَصِيرًا.

النساء، 4: 115

‘‘اور جو شخص رسول ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کی مخالفت کرے اس کے بعد کہ اس پر ہدایت کی راہ واضح ہو چکی اور مسلمانوں کی راہ سے جدا راہ کی پیروی کرے تو ہم اسے اسی (گمراہی) کی طرف پھیرے رکھیں گے جدھر وہ (خود) پھر گیا ہے اور (بالآخر) اسے دوزخ میں ڈالیں گے اور وہ بہت ہی برا ٹھکانا ہےo’’

یہ آیت ویسے تو بنیادی طور پر پر اجماع پر دلالت کرتی ہے  آیتِ متذکرہ اور مندرجہ بالا احادیث سب اجماعِ اُمت کے واجب ہونے کی متقاضی ہیں۔ اس لیے اہلِ اسلام کے نزدیک متفقہ طور پر قرآن و سنت کے بعد ‘‘اجماع’’ کو تیسرے ماخذِ شرعی ہونے کا شرف حاصل ہے۔ اجماع اُمت یا مسلمانوں کے اکثریتی طبقے کے اتقاقِ رائے سے مراد امت کے جہلاء اور محض عوام ہی کے اکثریت کا بغیر دلیل کے کسی مسئلے پر مجتمع ہونا نہیں ہے۔ کیونکہ عوام کو ازخود مسائل کا صحیح علم بھی نہیں ہوتا جب اُمت کا اکثریتی طبقہ کسی دینی موقف پر متفق ہوتا ہے تو صاف ظاہر ہے کہ اس کی بنیاد علماء راسخین اور مجتہدینِ اُمت کی تحقیق و تصریح یا اہلِ علم کا تعامل و تواتر ہی ہوتا ہے۔ اہلِ علم کے قبولِ عام کی بنا پر اس شرعی مؤقف کو امتِ مسلمہ کی اکثریت بھی قبول کر لیتی ہے۔
لہٰذا اس مسئلے پر ذہن با لکل صاف ہونا چاہیے کہ اُمّتِ مسلمہ کے اکثریتی طبقے کا اجماع ازخود واقع نہیں ہو جاتا بلکہ یہ اجماع ہمیشہ اہلِ علم و اجتہاد کی اکثریت کے نزدیک کسی مسئلے پر ‘‘تلقی بالقبول’’ کی بنا پر واقع ہوتا ہے یہی وجہ ہلے کہ اجماعِ امت یا سوادِ اعظم پر مبنی مذہب کو شریعت نے مذہبِ حق قرار دیا ہے۔
 اجماعِ صحابہ یا صحابہ کے اکثریتی طبقے کا اتفاق رائے اس لیے آج بھی شرعاً حجت ہے کہ اس کی بنیاد بھی اہلِ علم صحابہ کا اجتہاد ہوتا تھا۔ جو ہمیشہ قرآن و سنت کی روشنی میں واقع ہوتا۔ جب اسے تمام یا اکثر صحابہ قبولِ عام ہو جاتا تو وہی اجتہاد، اجماع قرار پاتا۔ اور اسی کو سوادِاعظم کا مسلک کہا جاتا تھا تعاملِ صحابہ یا آثارِ تابعین کے متعدد نظائر و شواہد اسی طور واقع ہوئے ہیں۔
لہٰذا اُمتِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اکثریتی طبقے کو قرآن و سنت کے خلاف اور گمراہ تصور کرنا دراصل اپنی آمریت کو قرآن و سنت یا اسلام کا نام دے کر دوسروں پر مسلط کرنے کی خواہش ہے۔ اس لیے اسے قرآن مجید نے منافقت قرار دیا۔

فلهذا دور حاضر کے قابل اسکالرز میرا کہنے کا مطلب ہے  منافق ِ وقت، ان کی خود کی نظر میں دانشور ِ وقت سے کہنا یہ کہ 

اِذَا خَلَوْا اِلٰی شَيٰطِيْنِهِمْ قَالُوْا اِنَّا مَعَکُمْ.
کی تفسیر بغور مطالعہ فرمائیں(اپنی خود کی کی ہوئی تفسیر نہیں پڑھنی....) اور سورہ بقرہ کے دوسرے رکوع کو بھی پڑھ لیں..... اور پھر 
اپنے نفس کو سمجھائیں جو آپ کو شیطان بن کر ملتا ہے اور آپ نفس کی تسکین یا دیگر جو بھی مفادات ہیں  ان سے قاطع نظر دین اسلام کے لیے کام کریں نہ کہ 
 اپنے مفادات کی خاطر مسلمانوں کے ذہن و ایمان خراب کرنے کی کوشش کی جائے....

حجیت احادیث پر قرآنی آیات

2017-06-13 04:05:31 

احادیث طیبہ کی اہمیت و حجیت کے متعلق چند قرآنی آیات:۔
٭ قُلْ اِنْ كُنْتُـمْ تُحِبُّوْنَ اللّـٰهَ فَاتَّبِعُوْنِىْ يُحْبِبْكُمُ اللّـٰهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُـوْبَكُمْ ۗ وَاللّـٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِـيْـمٌ
سورۃ آل عمران (31)

کہہ دو اگر تم اللہ کی محبت رکھتے ہو تو میری تابعداری کرو تاکہ تم سے اللہ محبت کرے اور تمہارے گناہ بخشے، اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔


اس آیہ کریمہ میں اللہ عزوجل حضور اکرم ﷺ کی اطاعت کو ہی اللہ سے محبت کے دعویٰ کی واحد دلیل قرار دے رہاہے۔اور ساتھ ہی ان لوگوں کو اپنی محبوبیت اور گناہوں کی بخشش کا مژدہ سنا رہا ہےجو حضور اکرم ﷺ کی اتباع کرتے ہیں۔حضور اکرم ﷺ کی اتباع جو محبت خدا کے لیئے بھی ضروری ہے اور جو گناہوں کی بخشش کا بھی ذریعہ ہے، وہ حدیث رسول اللہ ﷺ اور سنت رسول اللہ ﷺ کے بغیر ممکن ہی نہیں کیونکہ اتباع  کا مفہو م یہ ہے کہ:۔
"کسی کے فعل کی اتباع کا یہ معنی ہے کہ اس کے فعل کو عین اسی طرح کیا جائے جس طرح وہ کرتا ہے اور اسی لیئے کیا جائے کیونکہ وہ کرتا ہے"

(ضیاء القرآن جلد 1)
اتباع کی اس تشریح سے یہ حقیقت واضح ہو گئی کہ حضور اکرم ﷺ نے جو کام  کیئے ہیں وہ بعینہ اسی طرح کیئے جائیں اور اس لیئے کیئے جائیں کیونکہ آپ ﷺ نے کیئے۔ ہم مستشرقین اور ان کے شاگردوں سے پوچھتے ہیں کہ کیا قرآن حکیم کے اس ارشاد پر احادیث طیبہ کی مدد کے بغیر عمل کرنا ممکن ہے ؟ قطعاََ نہیں ۔ کیونکہ رسول اللہ ﷺ جو کام کیا کرتے تھے اور جس طرح کیا کرتے تھے اس کا پتا ہمیں صرف احادیث ہی سے ملتا ہے۔اس لیئے ہم قرآن حکیم کے اس ارشاد پر عمل کرنے اور اس ارشاد خداوندی میں جن انعامات کا تذکرہ ہے انہیں حاصل کرنے کے لیئے احادیث طیبہ کے محتاج ہیں۔
٭  قُلْ اَطِيْعُوا اللّـٰهَ وَالرَّسُوْلَ ۖ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّ اللّـٰهَ لَا يُحِبُّ الْكَافِـرِيْنَ
سورۃ آل عمران(32)

کہہ دو اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرو، پھر اگر وہ منہ موڑیں تو اللہ کافروں کو دوست نہیں رکھتا۔

یہ آیت کریمہ اللہ کی اطاعت کے ساتھ ساتھ حضور اکرم ﷺ کی اطاعت کا بھی حکم دے  رہی ہے۔اللہ عزوجل کی اطاعت کے حکم پر تو ہم قرآن مجیدکی تعلیمات کو اپنا کر عمل کر سکتے ہیں ۔ لیکن حضور اکرم ﷺ کی اطاعت تبھی ممکن ہے جب آپ ﷺ کے اقوال و افعال اور تقاریر کی تفصیلات ہمارے سامنے ہوں۔اور یہ تمام تفصیلات ہمیں صرف احادیث طیبہ ہی سے ملتی ہیں۔ اس لیئے قرآن حکیم کے اس حکم پر ہم احادیث طیبہ کے بغیر عمل نہیں کر سکتے۔

٭   تِلْكَ حُدُوْدُ اللّـٰهِ ۚ وَمَنْ يُّطِــعِ اللّـٰهَ وَرَسُوْلَـهٝ يُدْخِلْـهُ جَنَّاتٍ تَجْرِىْ مِنْ تَحْتِـهَا الْاَنْـهَارُ خَالِـدِيْنَ فِيْـهَا ۚ وَذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيْـمُ
سورۃ النساء(13)

یہ اللہ کی قائم کی ہوئی حدیں ہیں، اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کے حکم پر چلے (اللہ) اسے بہشتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی ان میں ہمیشہ رہیں گے، اور یہی بڑی کامیابی ہے۔

اس آیہ کریمہ میں اللہ عزوجل مسلمانوں کو اس حقیقت عظمیٰ سے آگاہ فرما رہا ہے کہ انسان کی اصل اور حقیقی کامیابی یہ ہے کہ اس کا رب اس سے راضی ہواور دنیا سے کوچ کرنے کے بعد وہ جنت کی ابدی بہاروں سے بہرہ ور ہو۔ساتھ ہی اللہ عزوجل نے اس حقیقت کو بھی واضح فرما دیا ہے کہ اس کامیابی کو حاصل کرنے کا واحد طریقہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی اطاعت چونکہ احادیث طیبہ کے بغیر ممکن ہی نہیں اس لیئے مسلمانوں کے لیئے اپنی تاریخ کے کسی بھی دور میں احادیث طیبہ سے بے اعتنائی ممکن نہ تھی۔مستشرقین کی اکثریت زندگی کی مادی تشریح کی عادی ہے۔ان کے لیئے شاید یہ سمجھنا ممکن ہی نہیں کہ کس طرح مسلمان دنوی نعمتوں سے بے نیاز ہو کر اخروی زندگی کی کامیابی کے لیئے کوشاں تھے۔مسلمانوں نے کسی بھی مادی مفاد کے بغیر اپنی جائیدادیں، اپنا گھر بار، اپنے عزیز و اقارب اور اپنی اولاد سب کچھ چھوڑ دیا اور وقت آنے پر اپنی جان کی قربانی دینے سے بھی گریز نہیں کیا۔قرون اولیٰ کے مسلمانوں کی ان قربانیوں کو مستشرقین کی عقل تسلیم نہیں کرتی اس لیئے وہ مسلمانوں کی تاریخ کو خلاف عقل قرار دینے سے بھی باز نہیں آتے۔وجہ یہ ہے کہ مستشرقین مسلمانوں کی ان بے مثال قربانیوں کی کوئی مادی توجیہ نہیں کر سکتے۔حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کی ان بے مثال قربانیوں کے پیچھے کوئی مادی مقصد تھا بھی نہیں ۔ وہ تو یہ قربانیاں اس کامیابی کو حاصل کرنے کے لیئے دے رہے تھے جسے ان کے رب نے فوز عظیم قرار دیا تھا۔ جب مسلمانوں کی ساری قربانیاں اس فوز عظیم کی خاطر تھیں تو پھر وہ اطاعت خدا  اور اطاعت رسول ﷺ کیسے نظر انداز کر سکتے تھے جسے ان کے پروردگار نے اس کامیابی کے حصول کی اولین شرط قرار دیا تھا۔

٭  يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا تَنَاجَيْتُمْ فَلَا تَتَنَاجَوْا بِالْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَمَعْصِيَتِ الرَّسُولِ وَتَنَاجَوْا بِالْبِرِّ وَالتَّقْوَىٰ وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ
سورۃ المجادلہ( 9 )

مومنو! جب تم آپس میں سرگوشیاں کرنے لگو تو گناہ اور زیادتی اور پیغمبر کی نافرمانی کی باتیں نہ کرنا بلکہ نیکوکاری اور پرہیزگاری کی باتیں کرنا۔ اور خدا سے جس کے سامنے جمع کئے جاؤ گے ڈرتے رہنا
اسلام مسلمانوں کو حکم دیتا ہے کہ اپنے قومی امور باہم مشورہ سے طے کیا کریں لیکن یہ آیت کریمہ انہیں یہ بتا رہی ہے کہ باہم مشورہ کرنے کا یہ مطلب نہیں کہ تم جو چاہو کروبلکہ مسلمانوں کے لیئے یہ ضروری ہے کہ جب وہ باہم کوئی فیصلہ کریں تو یہ فیصلہ گناہ، حدود  سے تجاوز اور رسول اللہ ﷺ کی نافرمانی کے زمرے میں نہ آتا ہو۔احکام خدا کی خلاف ورزی گناہ ہے۔خدا کی مقرر کردہ حدود اے تجاوز عدوان ہےاور سنت رسول ﷺ کی مخالفت معصیت الرسول ہے۔ مسلمانوں کی پارلیمانی تنظیموں اور مشاورتی اداروں کو یہ آیہ کریمہ حکم دے رہی ہے کہ خبردار! قومی امور میں مشاورت کے وقت وہ مادر پدر آزادی کا مظاہرہ نہ کریں۔وہ قومی امور کے متعلق فیصلے کرتے وقت مغربی جمہوریت کی نقل نہ کریں جو کثرت رائے سے حلال کو حرام اور حرام کو حلال تک قرار دے دیتی ہے۔ یہ آیہ کریمہ مسلمانوں کو متبنہ کر رہی ہے کہ تمہارا جو اجتماعی یا اکثریتی فیصلہ احکام خدا و رسول ﷺ کے خلاف ہو گا ناجائز ہو گا اور اس کے لیئے تمہیں روز قیامت جواب دہ ہونا پڑے گا۔مسلمان، خصوصاََ عہد صحابہ کے مسلمان اپنے معاملات ہمیشہ باہمی مشاورت سے طے کرتے رہے ہیں ۔ ان کی جب بھی باہمی مجلس مشاورت منعقد ہوتی تھی یقیناََ یہ آیہ کریمہ ان کی نظروں کے سامنے رہتی تھی اور انہیں معلوم ہوتا تھا کہ کوئی ایسا مشورہ جو حکم خدا اور حکم رسول ﷺ کے منافی ہو گاوہ خدا کی نافرمانی کے زمرے میں آئے گا۔اگر احادیث طیبہ ان کے پاس محفوظ نہ ہوتیں تو انہیں کیسے معلوم ہوتا کہ وہ جو مشورہ کر رہے ہیں وہ فرمان رسول ﷺکے مطاق ہے یا مخالف؟ اس لیئے اس بات میں شک کی کوئی گنجائش نہیں کہ اگر مسلمانوں کے پاس ذخیرہ حدیث محفوظ نہ ہوتا تو وہ اس آیہ کریمہ پر عمل نہ کر سکتے

٭ قَاتِلُوا الَّـذِيْنَ لَا يُؤْمِنُـوْنَ بِاللّـٰهِ وَلَا بِالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَلَا يُحَرِّمُوْنَ مَا حَرَّمَ اللّـٰهُ وَرَسُوْلُـهٝ وَلَا يَدِيْنُـوْنَ دِيْنَ الْحَقِّ مِنَ الَّـذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتَابَ حَتّـٰى يُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَنْ يَّدٍ وَّهُـمْ صَاغِرُوْنَ
سورۃ التوبہ(29)

ان لوگوں سے لڑو جو اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان نہیں لاتے اور نہ اسے حرام جانتے ہیں جسے اللہ اور اس کے رسول نے حرام کیا ہے اور سچا دین قبول نہیں کرتے ان لوگوں میں سے جو اہل کتاب ہیں یہاں تک کہ عاجز ہو کر اپنے ہاتھ سے جزیہ دیں۔

 

اس آیہ کریمہ میں اللہ عزوجل مسلمانوں کو اہل کتاب سے جنگ کرنے کا حکم دے رہا ہے اور اہل کتاب پر جو فرد جرم عائد کر رہا ہے وہ یہ ہے کہ یہ لوگ نہ اللہ پر ایمان رکھتے ہیں نہ یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہیں نہ ان چیزوں کو حرام سمجھتے ہیں جن کو اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے حرام قرار دیااور نہ ہی وہ دین حق کے پیروکار ہیں۔گویا مسلمانوں کو یہ حکم ہے کہ جو لوگ ان چیزوں کو حرام نہیں سمجھتے جن کو اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے حرام قرار دیا تو وہ ان کے خلاف جنگ کریں ۔اگر مسلمانوں کے پاس احادیث طیبہ کا مجموعہ نہ ہو تو انہیں کیسے پتا چلے کہ رسول اللہ ﷺ نے کن چیزوں کو حرام قرار دیا۔ اس لیئے احادیث طیبہ کے بغیر مسلمانوں کے لیئے اس آیہ کریمہ پر عمل کرنا بھی ممکن نہیں ہے۔

٭  وَمَآ اٰتَاكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْا ۚ وَاتَّقُوا اللّـٰهَ ۖ اِنَّ اللّـٰهَ شَدِيْدُ الْعِقَابِ (7)
سورۃ الحشر
اور جو کچھ تمہیں رسول دے اسے لے لو اور جس سے منع کرے اس سے باز رہو، اور اللہ سے ڈرو بے شک اللہ سخت عذاب دینے والا ہے۔

یہ آیہ کریمہ حکم دے رہی ہے کہ امور حیات میں رسول اللہ ﷺ تمہیں جو کام کرنے کا حکم دیں اس کے سامنے سر تسلیم خم کر دو اور جس چیز سے روکیں اس کے قریب بھی مت پھٹکو۔ حضور اکرم ﷺ کے اوامر و نواہی کا علم احادیث طیبہ کے بغیر ممکن نہیں ۔اس لیئے مسلمان قرآن حکیم کی اس آٰہ پر بھی عمل کرنے کے لیئے احادیث طیبہ کے محتاج ہیں۔
٭ يَآ اَيُّـهَا الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا لَا تُقَدِّمُوْا بَيْنَ يَدَىِ اللّـٰهِ وَرَسُوْلِـهٖ ۖ وَاتَّقُوا اللّـٰهَ ۚ اِنَّ اللّـٰهَ سَـمِيْعٌ عَلِـيْمٌ
سورۃ الحجرات(1)

اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول کے سامنے پہل نہ کرو، اللہ سے ڈرتے رہو، بے شک اللہ سب کچھ سننے والا جاننے والا ہے۔

علامہ ابن جریر لکھتے ہیں کہ جب کوئی شخص اپنے پیشوا یا امام کے ارشاد کے بغیر ہی امر و نہی کے نفاذ میں جلدی کرے تو عرب کہتے ہیں کہ :" فلاں یقدم بین یدی امامہ" یعنی فلاں شخص اپنے امام کے آگے آگے چلتا ہے۔علامہ ابن کثیر  نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے ان الفاظ کی تفسیر یوں بیان کی ہے کہ :
"عن ابن عباس لا تقولوا خلاف الکتاب والسنۃ" کہ کتاب و سنت کی خلاف ورزی نہ کرو۔
حق تو یہ ہے کہ اللہ عزوجل اور اس کے نبی کریم ﷺ پر ایمان لانے کے بعد کسی کو بھی یہ حق ہی نہیں پہنچتا کہ وہ اپنے رب اور رسول اللہ ﷺکے ارشاد کے علی الرغم کوئی بات کہے یا کوئی کام کرے۔جب انسان اپنے مسلمان ہونے کا اعلان کرتا ہے تو وہ ساتھ اس امر کا بھی اعلان کر رہا ہوتا ہے کہ آج کے بعد اس کی مرضی، اس کی خواہش اور اس کی ہر مصلحت اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے  ہر حکم پر بلا تامل قربان کر دی جائے گی۔یہ حکم اہل اسلام کی فقط انفرادی اور شخصی زندگی تک نہیں بلکہ قومی و اجتماعی زندگی کے تمام گوشوں، سیاسی ، اقتصادی اور اخلاقی کو بھی محیط ہے۔نہ کسی مقنّنہ کو حق پہنچتا ہے کہ وہ کوئی ایسا قانون بنائے جو قرآن و سنت کے خلاف ہواور نہ ہی کسی عدالت کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ شریعت کے برعکس کوئی فیصلہ دے۔
یہ آیہ کریمہ مسلمانوں کو حکم دے رہی ہے کہ زندگی میں کوئی کام کرنے سے قبل یہ معلوم کر لو کہ آیا اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے اس کام کے کرنے کی اجازت بھی دی ہے کہ نہیں۔ہم مستشرقین کے شاگردوں سے وضاحت چاہتے ہیں کہ اگر مسلمان احادیث طیبہ کو نظر انداز کر دیں تو کیا وہ اس آیہ کریمہ پر عمل کر سکتے ہیں جو ہر کام سے قبل اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی رضا معلوم کرنے کا حکم دے رہی ہے۔

 

٭  فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُـوْنَ حَتّـٰى يُحَكِّمُوْكَ فِيْمَا شَجَرَ بَيْنَـهُـمْ ثُـمَّ لَا يَجِدُوْا فِىٓ اَنْفُسِهِـمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوْا تَسْلِيْمًا
سورۃ النساء(65)

سو تیرے رب کی قسم ہے یہ کبھی مومن نہیں ہوں گے جب تک کہ اپنے اختلافات میں تجھے منصف نہ مان لیں پھر تیرے فیصلہ پر اپنے دلوں میں کوئی تنگی نہ پائیں اور خوشی سے قبول کریں۔

اس آیہ کریمہ کا حکم صرف عہد نبوی ﷺ کے مسلمانوں ہی تک محدود نہیں بلکہ قیامت تک آنے والے سب مسلمانوں کے لیئے ہے۔یہ آیہ کریمہ اعلان کر رہی ہے کہ جو لوگ اپنے امور حیات میں رسول اللہ ﷺ کے فیصلے کو نہ مانیں یا فرمان رسول ﷺ پر عمل کرتے ہوئے ان کے دل تنگی محسوس کریں تو ان کا ایمان کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ مومن کی ساری متاع حیات ہی ایمان ہے اسی قوت ایمانی کے سہارے وہ زندگی کی سختیوں کو خندہ پیشانی سے برداشت کرتا ہے۔جب اطاعت رسول ﷺ کے بغیر ایمان ہی معتبر نہیں تو پھر ایک مسلمان اطاعت رسول ﷺ کے بغیر دین کے باقی احکام پر کیسے عمل پیرا ہو سکتا ہے؟حضور اکرم ﷺ کے فیصلوں کا علم ہمیں احادیث طیبہ سے ملتا ہے ۔ اس لیئے ایک مسلمان کبھی بھی کسی بھی حالت میں بھی احادیث طیبہ سے بے نیاز نہیں ہو سکتا۔کیونکہ احادیث طیبہ کے مطابق ہی اس کا عمل اس کے مومن ہونے کی نشانی ہے اور احادیث طیبہ پر عمل کے بغیر بارگاہ خداوندی میں اس کا ایمان ہی غیر معتبر ہے۔

٭  يَآ اَيُّـهَا الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوٓا اَطِيْعُوا اللّـٰهَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ وَلَا تُبْطِلُوٓا اَعْمَالَكُمْ
سورۃ محمد(33)

اے ایمان والو! اللہ کا حکم مانو اور اس کے رسول کا حکم مانو اور اپنے اعمال کو ضائع نہ کرو۔
یہ آیت کریمہ اللہ عزوجل کی اطاعت کے ساتھ ساتھ رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کا بھی حکم دے رہی ہے ۔اور ساتھ ہی تنبیہ بھی کر رہی ہے کہ خبردار! اگر تم نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت میں کوتاہی کی تو تم اپنے اعمال ضائع کر بیٹھو گے ۔ اللہ عزوجل کی اطاعت تو قرآن حکیم کے احکامات پر عمل سے  ہو جائے گی رسول اللہ ﷺ کی اطاعت احادیث طیبہ کے بغیر کیسے ممکن ہے ؟

٭  وَاِنْ تُطِيْعُوا اللّـٰهَ وَرَسُوْلَـهٝ لَا يَلِتْكُمْ مِّنْ اَعْمَالِكُمْ شَيْئًا ۚ اِنَّ اللّـٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِـيْـمٌ
الحجرات(14)

اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانو تو تمہارے اعمال میں سے کچھ بھی کم نہیں کرے گا، بے شک اللہ بخشنے والا نہایت رحم والا ہے۔

اس آیہ کریمہ میں اللہ عزوجل اپنی اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کرنے والے کو یقین دہانی کرا رہا ہے کہ جو کوئی بھی اللہ عزوجل اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کرے گا  اس کو اس کے اعمال حسنہ کا اجر ضرور ملے گا۔ اور اس کے اعمال ضائع نہ ہونگے۔یعنی اللہ عزوجل اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت ہی اعمال کے قبول ہونے کی ضامن ہے۔
کسی بھی مذہب کے پیروکار جب مذہب کے حلقے میں داخل ہوتے ہیں تو اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ وہ اس مذہب کا نجات اخروی کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔گو کہ کوئی بھی سچامذہب دنیوی فوز و فلاح کو بھی نظر انداز نہین کرتا، لیکن مذہب کی نظر میں دنیوی زندگی چند روزہ ہوتی ہےاور حقیقی زندگی اخروی زندگی ہی ہوتی ہے۔اس لیئے ہر مذہب اخروی زندگی کی فلاح و کامرانی کے لیئے اپنے پیروکاروں کو اعمال صالحہ کی طرف دعوت دیتا ہے۔اسلام ایک سچا مذہب ہے اور وہ اپنے پیروکاروں کو اعمال صالحہ کا حکم دیتا ہے۔اور ساتھ ہی یہ بھی بتاتا ہے کہ اعمال صالحہ ہی روز قیامت کام آئیں گے۔ایمان کے بعد مومن کی سب سے بڑی متاع اعمال صالح ہیں۔یہ آیات ہمیں بتا رہی ہیں کہ اعمال صالحہ انہی لوگوں کے قبول اور مؤثر ہوں گے جن کی زندگیاں اطاعت خدا اور اطاعت رسول ﷺ کے رنگوں میں رنگی ہوں گی۔اور جو لوگ اطاعت رسول ﷺ کو چھوڑ کر صرف اطاعت خدا ہی کو کافی سمجھیں گے ان کے دفتر عمل روز قیامت انہیں نیکیوں سے خالی نظر آئیں گے۔وہ مسلمان جنہوں نے اپنی زندگیوں میں اعمال صالح کے علاوہ کوئی اور کمائی نہیں کی مستشرقین کے شاگردوں کو ان سے یہ توقع نہیں رکھنی چاہیئے کہ وہ کوئی ایسا کام کریں گے جس سے ان کے اعمال صالح برباد ہو جائیں۔
چونکہ اطاعت رسول ﷺ ہی مومن کے اعمال صالح کی حفاظت کی ضامن ہے اس لیئے مسلمان اطاعت رسول ﷺ کے معاملے میں غفلت نہیں برت سکتے ۔اور اطاعت رسول ﷺ کے لیئے وہ احادیث طیبہ کے محتاج ہیں۔لہذا احادیث طیبہ ان کے لیئے ایک بیش بہا سرمایہ ہیں۔اور اس سرمائے کی حفاظت کے لیئے ان کا ہر ممکن کوشش کرنا ایک قدرتی بات ہے۔
قرآن حکیم کی مذکورہ بالا آیات پر تو احادیث طیبہ کے بغیر عمل کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ لیکن احادیث طیبہ کی ضرورت اور اہمیت صرف انہی آیات قرآنی پر عمل کرنے تک ہی محدود نہیں بلکہ بے شمار قرآنی احکامات جو اللہ عزوجل کی طرف سے بندوں کے لیئے نازل کیئے گئے ، ان پر بھی حضور اکرم ﷺ کی قولی یا عملی راہنمائی لیئے بغیر عمل کرنا ممکن نہیں۔
وما علینا الاالبلاغ المبین

منتخب تحریریں

احادیث طیبہ کی اہمیت و حجیت کے متعلق چند قرآنی آیات:۔
٭ قُلْ اِنْ كُنْتُـمْ تُحِبُّوْنَ اللّـٰهَ فَاتَّبِعُوْنِىْ يُحْبِبْكُمُ اللّـٰهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُـوْبَكُمْ ۗ وَاللّـٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِـيْـمٌ
سورۃ آل عمران (31)

کہہ دو اگر تم اللہ کی محبت رکھتے ہو تو میری تابعداری کرو تاکہ تم سے اللہ محبت کرے اور تمہارے گناہ بخشے، اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔


اس آیہ کریمہ میں اللہ عزوجل حضور اکرم ﷺ کی اطاعت کو ہی اللہ سے محبت کے دعویٰ کی واحد دلیل قرار دے رہاہے۔اور ساتھ ہی ان لوگوں کو اپنی محبوبیت اور گناہوں کی بخشش کا مژدہ سنا رہا ہےجو حضور اکرم ﷺ کی اتباع کرتے ہیں۔حضور اکرم ﷺ کی اتباع جو محبت خدا کے لیئے بھی ضروری ہے اور جو گناہوں کی بخشش کا بھی ذریعہ ہے، وہ حدیث رسول اللہ ﷺ اور سنت رسول اللہ ﷺ کے بغیر ممکن ہی نہیں کیونکہ اتباع  کا مفہو م یہ ہے کہ:۔
"کسی کے فعل کی اتباع کا یہ معنی ہے کہ اس کے فعل کو عین اسی طرح کیا جائے جس طرح وہ کرتا ہے اور اسی لیئے کیا جائے کیونکہ وہ کرتا ہے"

(ضیاء القرآن جلد 1)
اتباع کی اس تشریح سے یہ حقیقت واضح ہو گئی کہ حضور اکرم ﷺ نے جو کام  کیئے ہیں وہ بعینہ اسی طرح کیئے جائیں اور اس لیئے کیئے جائیں کیونکہ آپ ﷺ نے کیئے۔ ہم مستشرقین اور ان کے شاگردوں سے پوچھتے ہیں کہ کیا قرآن حکیم کے اس ارشاد پر احادیث طیبہ کی مدد کے بغیر عمل کرنا ممکن ہے ؟ قطعاََ نہیں ۔ کیونکہ رسول اللہ ﷺ جو کام کیا کرتے تھے اور جس طرح کیا کرتے تھے اس کا پتا ہمیں صرف احادیث ہی سے ملتا ہے۔اس لیئے ہم قرآن حکیم کے اس ارشاد پر عمل کرنے اور اس ارشاد خداوندی میں جن انعامات کا تذکرہ ہے انہیں حاصل کرنے کے لیئے احادیث طیبہ کے محتاج ہیں۔
٭  قُلْ اَطِيْعُوا اللّـٰهَ وَالرَّسُوْلَ ۖ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّ اللّـٰهَ لَا يُحِبُّ الْكَافِـرِيْنَ
سورۃ آل عمران(32)

کہہ دو اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرو، پھر اگر وہ منہ موڑیں تو اللہ کافروں کو دوست نہیں رکھتا۔

یہ آیت کریمہ اللہ کی اطاعت کے ساتھ ساتھ حضور اکرم ﷺ کی اطاعت کا بھی حکم دے  رہی ہے۔اللہ عزوجل کی اطاعت کے حکم پر تو ہم قرآن مجیدکی تعلیمات کو اپنا کر عمل کر سکتے ہیں ۔ لیکن حضور اکرم ﷺ کی اطاعت تبھی ممکن ہے جب آپ ﷺ کے اقوال و افعال اور تقاریر کی تفصیلات ہمارے سامنے ہوں۔اور یہ تمام تفصیلات ہمیں صرف احادیث طیبہ ہی سے ملتی ہیں۔ اس لیئے قرآن حکیم کے اس حکم پر ہم احادیث طیبہ کے بغیر عمل نہیں کر سکتے۔

٭   تِلْكَ حُدُوْدُ اللّـٰهِ ۚ وَمَنْ يُّطِــعِ اللّـٰهَ وَرَسُوْلَـهٝ يُدْخِلْـهُ جَنَّاتٍ تَجْرِىْ مِنْ تَحْتِـهَا الْاَنْـهَارُ خَالِـدِيْنَ فِيْـهَا ۚ وَذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيْـمُ
سورۃ النساء(13)

یہ اللہ کی قائم کی ہوئی حدیں ہیں، اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کے حکم پر چلے (اللہ) اسے بہشتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی ان میں ہمیشہ رہیں گے، اور یہی بڑی کامیابی ہے۔

اس آیہ کریمہ میں اللہ عزوجل مسلمانوں کو اس حقیقت عظمیٰ سے آگاہ فرما رہا ہے کہ انسان کی اصل اور حقیقی کامیابی یہ ہے کہ اس کا رب اس سے راضی ہواور دنیا سے کوچ کرنے کے بعد وہ جنت کی ابدی بہاروں سے بہرہ ور ہو۔ساتھ ہی اللہ عزوجل نے اس حقیقت کو بھی واضح فرما دیا ہے کہ اس کامیابی کو حاصل کرنے کا واحد طریقہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی اطاعت چونکہ احادیث طیبہ کے بغیر ممکن ہی نہیں اس لیئے مسلمانوں کے لیئے اپنی تاریخ کے کسی بھی دور میں احادیث طیبہ سے بے اعتنائی ممکن نہ تھی۔مستشرقین کی اکثریت زندگی کی مادی تشریح کی عادی ہے۔ان کے لیئے شاید یہ سمجھنا ممکن ہی نہیں کہ کس طرح مسلمان دنوی نعمتوں سے بے نیاز ہو کر اخروی زندگی کی کامیابی کے لیئے کوشاں تھے۔مسلمانوں نے کسی بھی مادی مفاد کے بغیر اپنی جائیدادیں، اپنا گھر بار، اپنے عزیز و اقارب اور اپنی اولاد سب کچھ چھوڑ دیا اور وقت آنے پر اپنی جان کی قربانی دینے سے بھی گریز نہیں کیا۔قرون اولیٰ کے مسلمانوں کی ان قربانیوں کو مستشرقین کی عقل تسلیم نہیں کرتی اس لیئے وہ مسلمانوں کی تاریخ کو خلاف عقل قرار دینے سے بھی باز نہیں آتے۔وجہ یہ ہے کہ مستشرقین مسلمانوں کی ان بے مثال قربانیوں کی کوئی مادی توجیہ نہیں کر سکتے۔حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کی ان بے مثال قربانیوں کے پیچھے کوئی مادی مقصد تھا بھی نہیں ۔ وہ تو یہ قربانیاں اس کامیابی کو حاصل کرنے کے لیئے دے رہے تھے جسے ان کے رب نے فوز عظیم قرار دیا تھا۔ جب مسلمانوں کی ساری قربانیاں اس فوز عظیم کی خاطر تھیں تو پھر وہ اطاعت خدا  اور اطاعت رسول ﷺ کیسے نظر انداز کر سکتے تھے جسے ان کے پروردگار نے اس کامیابی کے حصول کی اولین شرط قرار دیا تھا۔

٭  يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا تَنَاجَيْتُمْ فَلَا تَتَنَاجَوْا بِالْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَمَعْصِيَتِ الرَّسُولِ وَتَنَاجَوْا بِالْبِرِّ وَالتَّقْوَىٰ وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ
سورۃ المجادلہ( 9 )

مومنو! جب تم آپس میں سرگوشیاں کرنے لگو تو گناہ اور زیادتی اور پیغمبر کی نافرمانی کی باتیں نہ کرنا بلکہ نیکوکاری اور پرہیزگاری کی باتیں کرنا۔ اور خدا سے جس کے سامنے جمع کئے جاؤ گے ڈرتے رہنا
اسلام مسلمانوں کو حکم دیتا ہے کہ اپنے قومی امور باہم مشورہ سے طے کیا کریں لیکن یہ آیت کریمہ انہیں یہ بتا رہی ہے کہ باہم مشورہ کرنے کا یہ مطلب نہیں کہ تم جو چاہو کروبلکہ مسلمانوں کے لیئے یہ ضروری ہے کہ جب وہ باہم کوئی فیصلہ کریں تو یہ فیصلہ گناہ، حدود  سے تجاوز اور رسول اللہ ﷺ کی نافرمانی کے زمرے میں نہ آتا ہو۔احکام خدا کی خلاف ورزی گناہ ہے۔خدا کی مقرر کردہ حدود اے تجاوز عدوان ہےاور سنت رسول ﷺ کی مخالفت معصیت الرسول ہے۔ مسلمانوں کی پارلیمانی تنظیموں اور مشاورتی اداروں کو یہ آیہ کریمہ حکم دے رہی ہے کہ خبردار! قومی امور میں مشاورت کے وقت وہ مادر پدر آزادی کا مظاہرہ نہ کریں۔وہ قومی امور کے متعلق فیصلے کرتے وقت مغربی جمہوریت کی نقل نہ کریں جو کثرت رائے سے حلال کو حرام اور حرام کو حلال تک قرار دے دیتی ہے۔ یہ آیہ کریمہ مسلمانوں کو متبنہ کر رہی ہے کہ تمہارا جو اجتماعی یا اکثریتی فیصلہ احکام خدا و رسول ﷺ کے خلاف ہو گا ناجائز ہو گا اور اس کے لیئے تمہیں روز قیامت جواب دہ ہونا پڑے گا۔مسلمان، خصوصاََ عہد صحابہ کے مسلمان اپنے معاملات ہمیشہ باہمی مشاورت سے طے کرتے رہے ہیں ۔ ان کی جب بھی باہمی مجلس مشاورت منعقد ہوتی تھی یقیناََ یہ آیہ کریمہ ان کی نظروں کے سامنے رہتی تھی اور انہیں معلوم ہوتا تھا کہ کوئی ایسا مشورہ جو حکم خدا اور حکم رسول ﷺ کے منافی ہو گاوہ خدا کی نافرمانی کے زمرے میں آئے گا۔اگر احادیث طیبہ ان کے پاس محفوظ نہ ہوتیں تو انہیں کیسے معلوم ہوتا کہ وہ جو مشورہ کر رہے ہیں وہ فرمان رسول ﷺکے مطاق ہے یا مخالف؟ اس لیئے اس بات میں شک کی کوئی گنجائش نہیں کہ اگر مسلمانوں کے پاس ذخیرہ حدیث محفوظ نہ ہوتا تو وہ اس آیہ کریمہ پر عمل نہ کر سکتے

٭ قَاتِلُوا الَّـذِيْنَ لَا يُؤْمِنُـوْنَ بِاللّـٰهِ وَلَا بِالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَلَا يُحَرِّمُوْنَ مَا حَرَّمَ اللّـٰهُ وَرَسُوْلُـهٝ وَلَا يَدِيْنُـوْنَ دِيْنَ الْحَقِّ مِنَ الَّـذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتَابَ حَتّـٰى يُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَنْ يَّدٍ وَّهُـمْ صَاغِرُوْنَ
سورۃ التوبہ(29)

ان لوگوں سے لڑو جو اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان نہیں لاتے اور نہ اسے حرام جانتے ہیں جسے اللہ اور اس کے رسول نے حرام کیا ہے اور سچا دین قبول نہیں کرتے ان لوگوں میں سے جو اہل کتاب ہیں یہاں تک کہ عاجز ہو کر اپنے ہاتھ سے جزیہ دیں۔

 

اس آیہ کریمہ میں اللہ عزوجل مسلمانوں کو اہل کتاب سے جنگ کرنے کا حکم دے رہا ہے اور اہل کتاب پر جو فرد جرم عائد کر رہا ہے وہ یہ ہے کہ یہ لوگ نہ اللہ پر ایمان رکھتے ہیں نہ یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہیں نہ ان چیزوں کو حرام سمجھتے ہیں جن کو اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے حرام قرار دیااور نہ ہی وہ دین حق کے پیروکار ہیں۔گویا مسلمانوں کو یہ حکم ہے کہ جو لوگ ان چیزوں کو حرام نہیں سمجھتے جن کو اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے حرام قرار دیا تو وہ ان کے خلاف جنگ کریں ۔اگر مسلمانوں کے پاس احادیث طیبہ کا مجموعہ نہ ہو تو انہیں کیسے پتا چلے کہ رسول اللہ ﷺ نے کن چیزوں کو حرام قرار دیا۔ اس لیئے احادیث طیبہ کے بغیر مسلمانوں کے لیئے اس آیہ کریمہ پر عمل کرنا بھی ممکن نہیں ہے۔

٭  وَمَآ اٰتَاكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْا ۚ وَاتَّقُوا اللّـٰهَ ۖ اِنَّ اللّـٰهَ شَدِيْدُ الْعِقَابِ (7)
سورۃ الحشر
اور جو کچھ تمہیں رسول دے اسے لے لو اور جس سے منع کرے اس سے باز رہو، اور اللہ سے ڈرو بے شک اللہ سخت عذاب دینے والا ہے۔

یہ آیہ کریمہ حکم دے رہی ہے کہ امور حیات میں رسول اللہ ﷺ تمہیں جو کام کرنے کا حکم دیں اس کے سامنے سر تسلیم خم کر دو اور جس چیز سے روکیں اس کے قریب بھی مت پھٹکو۔ حضور اکرم ﷺ کے اوامر و نواہی کا علم احادیث طیبہ کے بغیر ممکن نہیں ۔اس لیئے مسلمان قرآن حکیم کی اس آٰہ پر بھی عمل کرنے کے لیئے احادیث طیبہ کے محتاج ہیں۔
٭ يَآ اَيُّـهَا الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا لَا تُقَدِّمُوْا بَيْنَ يَدَىِ اللّـٰهِ وَرَسُوْلِـهٖ ۖ وَاتَّقُوا اللّـٰهَ ۚ اِنَّ اللّـٰهَ سَـمِيْعٌ عَلِـيْمٌ
سورۃ الحجرات(1)

اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول کے سامنے پہل نہ کرو، اللہ سے ڈرتے رہو، بے شک اللہ سب کچھ سننے والا جاننے والا ہے۔

علامہ ابن جریر لکھتے ہیں کہ جب کوئی شخص اپنے پیشوا یا امام کے ارشاد کے بغیر ہی امر و نہی کے نفاذ میں جلدی کرے تو عرب کہتے ہیں کہ :" فلاں یقدم بین یدی امامہ" یعنی فلاں شخص اپنے امام کے آگے آگے چلتا ہے۔علامہ ابن کثیر  نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے ان الفاظ کی تفسیر یوں بیان کی ہے کہ :
"عن ابن عباس لا تقولوا خلاف الکتاب والسنۃ" کہ کتاب و سنت کی خلاف ورزی نہ کرو۔
حق تو یہ ہے کہ اللہ عزوجل اور اس کے نبی کریم ﷺ پر ایمان لانے کے بعد کسی کو بھی یہ حق ہی نہیں پہنچتا کہ وہ اپنے رب اور رسول اللہ ﷺکے ارشاد کے علی الرغم کوئی بات کہے یا کوئی کام کرے۔جب انسان اپنے مسلمان ہونے کا اعلان کرتا ہے تو وہ ساتھ اس امر کا بھی اعلان کر رہا ہوتا ہے کہ آج کے بعد اس کی مرضی، اس کی خواہش اور اس کی ہر مصلحت اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے  ہر حکم پر بلا تامل قربان کر دی جائے گی۔یہ حکم اہل اسلام کی فقط انفرادی اور شخصی زندگی تک نہیں بلکہ قومی و اجتماعی زندگی کے تمام گوشوں، سیاسی ، اقتصادی اور اخلاقی کو بھی محیط ہے۔نہ کسی مقنّنہ کو حق پہنچتا ہے کہ وہ کوئی ایسا قانون بنائے جو قرآن و سنت کے خلاف ہواور نہ ہی کسی عدالت کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ شریعت کے برعکس کوئی فیصلہ دے۔
یہ آیہ کریمہ مسلمانوں کو حکم دے رہی ہے کہ زندگی میں کوئی کام کرنے سے قبل یہ معلوم کر لو کہ آیا اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے اس کام کے کرنے کی اجازت بھی دی ہے کہ نہیں۔ہم مستشرقین کے شاگردوں سے وضاحت چاہتے ہیں کہ اگر مسلمان احادیث طیبہ کو نظر انداز کر دیں تو کیا وہ اس آیہ کریمہ پر عمل کر سکتے ہیں جو ہر کام سے قبل اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی رضا معلوم کرنے کا حکم دے رہی ہے۔

 

٭  فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُـوْنَ حَتّـٰى يُحَكِّمُوْكَ فِيْمَا شَجَرَ بَيْنَـهُـمْ ثُـمَّ لَا يَجِدُوْا فِىٓ اَنْفُسِهِـمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوْا تَسْلِيْمًا
سورۃ النساء(65)

سو تیرے رب کی قسم ہے یہ کبھی مومن نہیں ہوں گے جب تک کہ اپنے اختلافات میں تجھے منصف نہ مان لیں پھر تیرے فیصلہ پر اپنے دلوں میں کوئی تنگی نہ پائیں اور خوشی سے قبول کریں۔

اس آیہ کریمہ کا حکم صرف عہد نبوی ﷺ کے مسلمانوں ہی تک محدود نہیں بلکہ قیامت تک آنے والے سب مسلمانوں کے لیئے ہے۔یہ آیہ کریمہ اعلان کر رہی ہے کہ جو لوگ اپنے امور حیات میں رسول اللہ ﷺ کے فیصلے کو نہ مانیں یا فرمان رسول ﷺ پر عمل کرتے ہوئے ان کے دل تنگی محسوس کریں تو ان کا ایمان کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ مومن کی ساری متاع حیات ہی ایمان ہے اسی قوت ایمانی کے سہارے وہ زندگی کی سختیوں کو خندہ پیشانی سے برداشت کرتا ہے۔جب اطاعت رسول ﷺ کے بغیر ایمان ہی معتبر نہیں تو پھر ایک مسلمان اطاعت رسول ﷺ کے بغیر دین کے باقی احکام پر کیسے عمل پیرا ہو سکتا ہے؟حضور اکرم ﷺ کے فیصلوں کا علم ہمیں احادیث طیبہ سے ملتا ہے ۔ اس لیئے ایک مسلمان کبھی بھی کسی بھی حالت میں بھی احادیث طیبہ سے بے نیاز نہیں ہو سکتا۔کیونکہ احادیث طیبہ کے مطابق ہی اس کا عمل اس کے مومن ہونے کی نشانی ہے اور احادیث طیبہ پر عمل کے بغیر بارگاہ خداوندی میں اس کا ایمان ہی غیر معتبر ہے۔

٭  يَآ اَيُّـهَا الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوٓا اَطِيْعُوا اللّـٰهَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ وَلَا تُبْطِلُوٓا اَعْمَالَكُمْ
سورۃ محمد(33)

اے ایمان والو! اللہ کا حکم مانو اور اس کے رسول کا حکم مانو اور اپنے اعمال کو ضائع نہ کرو۔
یہ آیت کریمہ اللہ عزوجل کی اطاعت کے ساتھ ساتھ رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کا بھی حکم دے رہی ہے ۔اور ساتھ ہی تنبیہ بھی کر رہی ہے کہ خبردار! اگر تم نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت میں کوتاہی کی تو تم اپنے اعمال ضائع کر بیٹھو گے ۔ اللہ عزوجل کی اطاعت تو قرآن حکیم کے احکامات پر عمل سے  ہو جائے گی رسول اللہ ﷺ کی اطاعت احادیث طیبہ کے بغیر کیسے ممکن ہے ؟

٭  وَاِنْ تُطِيْعُوا اللّـٰهَ وَرَسُوْلَـهٝ لَا يَلِتْكُمْ مِّنْ اَعْمَالِكُمْ شَيْئًا ۚ اِنَّ اللّـٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِـيْـمٌ
الحجرات(14)

اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانو تو تمہارے اعمال میں سے کچھ بھی کم نہیں کرے گا، بے شک اللہ بخشنے والا نہایت رحم والا ہے۔

اس آیہ کریمہ میں اللہ عزوجل اپنی اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کرنے والے کو یقین دہانی کرا رہا ہے کہ جو کوئی بھی اللہ عزوجل اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کرے گا  اس کو اس کے اعمال حسنہ کا اجر ضرور ملے گا۔ اور اس کے اعمال ضائع نہ ہونگے۔یعنی اللہ عزوجل اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت ہی اعمال کے قبول ہونے کی ضامن ہے۔
کسی بھی مذہب کے پیروکار جب مذہب کے حلقے میں داخل ہوتے ہیں تو اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ وہ اس مذہب کا نجات اخروی کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔گو کہ کوئی بھی سچامذہب دنیوی فوز و فلاح کو بھی نظر انداز نہین کرتا، لیکن مذہب کی نظر میں دنیوی زندگی چند روزہ ہوتی ہےاور حقیقی زندگی اخروی زندگی ہی ہوتی ہے۔اس لیئے ہر مذہب اخروی زندگی کی فلاح و کامرانی کے لیئے اپنے پیروکاروں کو اعمال صالحہ کی طرف دعوت دیتا ہے۔اسلام ایک سچا مذہب ہے اور وہ اپنے پیروکاروں کو اعمال صالحہ کا حکم دیتا ہے۔اور ساتھ ہی یہ بھی بتاتا ہے کہ اعمال صالحہ ہی روز قیامت کام آئیں گے۔ایمان کے بعد مومن کی سب سے بڑی متاع اعمال صالح ہیں۔یہ آیات ہمیں بتا رہی ہیں کہ اعمال صالحہ انہی لوگوں کے قبول اور مؤثر ہوں گے جن کی زندگیاں اطاعت خدا اور اطاعت رسول ﷺ کے رنگوں میں رنگی ہوں گی۔اور جو لوگ اطاعت رسول ﷺ کو چھوڑ کر صرف اطاعت خدا ہی کو کافی سمجھیں گے ان کے دفتر عمل روز قیامت انہیں نیکیوں سے خالی نظر آئیں گے۔وہ مسلمان جنہوں نے اپنی زندگیوں میں اعمال صالح کے علاوہ کوئی اور کمائی نہیں کی مستشرقین کے شاگردوں کو ان سے یہ توقع نہیں رکھنی چاہیئے کہ وہ کوئی ایسا کام کریں گے جس سے ان کے اعمال صالح برباد ہو جائیں۔
چونکہ اطاعت رسول ﷺ ہی مومن کے اعمال صالح کی حفاظت کی ضامن ہے اس لیئے مسلمان اطاعت رسول ﷺ کے معاملے میں غفلت نہیں برت سکتے ۔اور اطاعت رسول ﷺ کے لیئے وہ احادیث طیبہ کے محتاج ہیں۔لہذا احادیث طیبہ ان کے لیئے ایک بیش بہا سرمایہ ہیں۔اور اس سرمائے کی حفاظت کے لیئے ان کا ہر ممکن کوشش کرنا ایک قدرتی بات ہے۔
قرآن حکیم کی مذکورہ بالا آیات پر تو احادیث طیبہ کے بغیر عمل کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ لیکن احادیث طیبہ کی ضرورت اور اہمیت صرف انہی آیات قرآنی پر عمل کرنے تک ہی محدود نہیں بلکہ بے شمار قرآنی احکامات جو اللہ عزوجل کی طرف سے بندوں کے لیئے نازل کیئے گئے ، ان پر بھی حضور اکرم ﷺ کی قولی یا عملی راہنمائی لیئے بغیر عمل کرنا ممکن نہیں۔
وما علینا الاالبلاغ المبین