بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ * لا الہٰ الا اللہ محمّد رسول اللہ * قُلْ هُوَ اللّـٰهُ اَحَدٌ - اَللَّـهُ الصَّمَدُ - لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُوْلَدْ - وَلَمْ يَكُنْ لَّـهٝ كُفُوًا اَحَدٌ

صباءسعید


حبِ اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم

2017-08-05 10:10:56 

اللہ سبحان و تعالٰی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت اور اطاعت 

عبادت کی بہترین قسم اُس ذاتِ باری تعالٰی سے محبت ہے جس کے قبضہ قدرت میں ہر ایک کی جان ہے. وہ خالق ہے مالک ہے رازق ہے اس سے محبت کیے بنا گزارا ہی نہیں.اللہ کی محبت کے بغیر اللہ کی عبادت گویا کہ ایک ایسا جسم ہے جو لا شعوری حرکات کرتا رہتا ہے ، ایسی حرکات جن کا کچھ فائدہ نہیں ہوتا بلکہ بسا اوقات نقصان ہوتا ہے ،
اس لیے ہر اِیمان والے کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے اِیمان کی تکمیل کے لیے اور اپنی عبادات کا حقیقی فائدہ حاصل کرنے کے لیے ، اپنی دُنیا اور آخرت کی خیر اور فلاح حاصل کرنے کے لیے اپنے دِل و جاں میں اپنے اللہ کی محبت جگائے اور بڑھائے رکھے اور اللہ سے اپنے لیے محبت حاصل کرنے کی سر توڑ کوشش کرتا رہے 
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
* وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰهِ      
(البقرۃ:165)
(اور جو ایمان والے ہیں وہ تو اللہ تعالی ہی سے سب سے زیادہ محبت کرتے ہیں)

محبِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم حُبِ الہی کی شاخ ہے. اللہ کی محبت پانے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت اور انکی اطاعت کی جائے. پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کو دل میں سب سے زیادہ مقدم رکھا جائے. اپنا اٹھنا، بیٹھنا، اوڑھنا، بچھونا غرض زندگی کے ہر معاملہ میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کی جائے. 

چنانچہ اللہ پاک قرآن پاک میں فرماتے ہیں. 
* قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِيْ يُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ﴾ 
(آل عمران:31) 
(اے پیغمبر لوگوں سے) کہہ دو کہ اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری پیروی کرو، اللہ بھی تم سے محبت کرے گا اور تمہارے گناہوں کو معاف کر دے گا. 

* يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ أَطِيعُواْ اللّهَ وَرَسُولَهُ وَلاَ تَوَلَّوْا عَنْهُ وَأَنتُمْ تَسْمَعُونَ (٢٠)
سورۃ الانفال آیت ٢٠
اے ایمان والو! تم اللہ کی اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت کرو اور اس سے روگردانی مت کرو حالانکہ تم سن رہے ہو.

* اَلنَّبِیُّ اَوْلٰی بِالْمُؤْمِنِیْنَ مِنْ أنْفُسُہِمْ وَ أزْوَاجُہ أمَّہَاتُھُمْ ﴾ ( الاحزاب:۶)
ترجمہ : ایمان والے اپنی جانوں سے زیادہ نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) سے لگاؤ رکھتے ہیں. اور اس کی عورتیں ان کی مائیں ہیں۔“

* قُلْ اِنْ کَانَ آبَائُکُم وَ اَبْنَاءُ کُمْ وَاخْوَانُکُمْ وَازْوَاجُکمْ وَعَشِیْرَتُکُمْ وَ اَمۡوَالُۨ اقۡتَرَفۡتُمُوۡھَا وَتِجَارَةُ تَخْشَوْنَ کَسَادَھَا وَمَسَاکِنُ تَرْضَوْنَھَا اَحَبَّ اِلَیْکُمْ مِنَ اللهِ وَرَسُوْلِہ وَجِھَادٍ فِیْ سَبِیْلِہ فَتَرَبَّصُوْا حَتّٰی یَاْتِیَ اللهُ بِاَمْرِہ وَاللهُ لَا یَھْدِی الْقَوْمَ الْفَاسِقِیْنَ۔“ (التوبة:۲۴)
ترجمہ:”تو کہہ اگر تمہارے باپ اور بیٹے اور بھائی اور عورتیں اور برادری اور مال جو تم نے کمائے ہیں اور سوداگری جس کے بند ہونے سے تم ڈرتے ہو اور حویلیاں جن کو پسند کرتے ہو ،تم کو زیادہ پیاری ہیں اللہ سے اور اس کے رسول سے اور لڑنے سے اس کی راہ میں تو انتظار کرو یہاں تک کہ بھیجے اللہ اپنا حکم اور اللہ راستہ نہیں دیتا نافرمان لوگوں کو۔“

رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اللہ تعالیٰ کی محبت کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے کہ وہ اللہ کے بھیجے ہوئے رسول ہیں. وہ اخلاق و کردار کے بلند ترین مرتبہ پر فائز ہیں. ہمارا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی خون کا رشتہ تو نہیں ہے لیکن جو رشتہ انکے امتی ہونے کی وجہ سے ہمارا اُن سے ہے وہ کسی بھی خونی رشتے یا مادی شے سے بڑھ کر ہے. رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی دین و دنیا کے ہر معاملہ میں بہترین رہنمائی فراہم کرتی ہے ہم اگر آنکھ بند کر کے کسی کی کہی بات پر یقین کرنا چاہیں یا کسی کو صادق و امین کی بلندیوں پر دیکھنا چاہیں تو رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ دوسری مثال نہ ملے گی. پھر روزِ قیامت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا شفاعت کا وعدہ اور امت کی بخشش کی دعا کرنا. ایسی مہربان اور مشفق ہستی سے کیوں نہ محبت کی جائے؟  اللہ اور رسول کے ساتھ محبت اور ایسا تعلق ہے جس کے بغیر ایمان کبھی مکمل نہیں ہوتا۔خاص طور پر جب تک نبی محترم صلی اللہ علیہ وسلم  کی پوری عزت، احترام، وقار اور محبت دل کے اندر نہ ہو، اسلام اور ایمان کا کوئی تصور نہیں.
اللہ پاک ہم سب کو اپنی اور اپنے پیارے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت عطا فرمائیں اور بہترین اطاعت کرنے والوں میں شامل فرما لیں. اللھم آمین

امام غزالی رح کا نظریہ ذہنی صحت

2017-07-30 16:32:03 

غزالی رح کے نزدیک انسانی شخصیت جسمانی اور روحانی قوتوں کا مجموعہ ہے انسان کا مقصد ذات کی تلاش ہے. ذات جسمانی حوائج کی تکمیل کے لیے حسی اور حرکی تحریکات کا سہارا لیتی ہے. جسمانی قوتیں مثلاً بھوک اور غصہ فرد کی جسمانی ضروریات کی تکمیل میں مددگار ثابت ہوتے ہیں بھوک اور غصے کے نتیجے میں تحریک فرد کو اور اس کے جسم کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ جسمانی فعالیت کو سر انجام دے پائے. 
انسان میں ادراک کی اہلیت اندرونی اور بیرونی حسیات پر مشتمل ہے جو کہ انسانوں میں بہت اعلی درجے کی ہے. اندرونی حسیات، تفکر، تخیل اور حافظہ پر مشتمل ہیں جبکہ بیرونی حس بصری، سمعی، لمسی اور شامی حسیات پر مبنی ہیں. انسانی کردار انسانی دماغ کے مختلف حصوں کے ساتھ وابستہ ہے. دماغ میں ہر انسانی فعل کو ضابطہ میں لانے کے لیے مخصوص علاقے ہیں مثلاً حافظہ کا تعلق عقبی فص (Lobe) کے ساتھ جب کہ تخیل کا تعلق جہی فص کے ساتھ اور ردِ عمل کا تعلق درمیانی فص کے ساتھ مربوط ہے. ہمارا ذہن دماغ کا تفاعل ہے یہ تمام قوتیں انسان کو کنٹرول کرنے اور چلانے کے لیے اہم ہیں. لیکن  ذات یعنی قلب ان قوتوں پر حاوی ہے. صحت مند شخصیت کی تشکیل کے لیے ابتدائی بچپن، خاندان اور ہمجولی بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں. غزالی کے نزدیک مجرمانہ کردار والدین اور معاشرے کی غلط تربیت کا نتیجہ ہوتے ہیں. ہر فرد کے اندر مثبت اور منفی قوتیں موجود ہوتی ہیں. مثبت قوتیں فرد کو صحت کی جانب جبکہ منفی قوتیں ذہنی بیماری کی طرف لے جاتی ہیں. ذہنی صحت خُدا سے نزدیکی جبکہ ذہنی بیماری خُدا سے دوری ہے. 
علم کی دو اقسام ہیں پہلا مادی علم اور دوسرا روحانی علم ہے. روحانی علم اعلی قسم کا علم ہے جبکہ مادی علم ادنی قسم کا علم ہے. غزالی رح کے نزدیک پیغمبر اعلی ترین ہستیاں ہیں جو خُدا سے الہامی علم حاصل کرتی ہیں. علم کا حتمی مقصد خُدا کی پہچان ہے. ذات ہی وہ قوت ہے جو خُدا تک پہنچاتی ہے. اور ذات ہی کے ذریعے خود آگاہی سے خدا آگاہی تک پہنچا جاسکتا ہے. 
جہالت ایک ذہنی مرض ہے جبکہ علم صحت ہے. خدا کی ذات کا علم اعلی ترین علم ہے. ذات اور اسکی قوتوں کا علم ذات باری تعالٰی کی تلاش کے لیے انتہائی ضروری ہے. 
غزالی رح نے بیماری کو دو حصوں میں تقسیم کیا ہے. 
1- جسمانی(Physical ) امراض
2- تفاعلی (Functional) امراض
جسمانی خرابیاں جو کہ جسم کا کام ہیں انکا علاج آسانی سے کیا جاسکتا ہے. جبکہ تفاعلی امراض جہالت کا نتیجہ ہوتے ہیں. ذہنی بیماری کی سب سے بڑی وجہ خُدا سے دوری ہے غزالی رح نے تفاعلی امراض کی کئی مثالیں دی ہیں. مثلاً العمل (خاص عمل) ایک تفاعلی مرض ہے جو شک کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے. بغض ایک تفاعلی مرض ہے جو کہ دولت، طاقت اور رتبے کی بدولت جنم لیتا ہے. جہل بھی روحانی مرض ہے جو کے جہالت کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے. بزدلی کی وجہ سے روحانی مرض جبن پیدا ہوتا ہے. جفا بھی ایک روحانی مرض ہے جو ظلم وجہالت کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے اسی طرح روحانی مرض ہوس جو مادی اشیاء کے ساتھ بے پناہ لگاؤ کے ساتھ پیدا ہوتا ہے اسی طرح وسوسہ، حسد اور طمع بھی روحانی امراض ہیں. 
غزالی رح کے نزدیک تفاعلی روحانی امراض بہت شدید ہوتے ہیں. حقیقت تو یہ ہے کہ فرد منفی قوتوں کو جدوجہد کے ذریعے مغلوب کر سکتا ہے. تفاعلی روحانی امراض کو اللہ تعالٰی کا شکر بجا لا کر دور کیا جا سکتا ہے.

اسلام اور دماغی فنکشنز

2017-07-27 15:54:58 

فنکشن کے لحاظ سے انسانی دماغ کو تین حصوں میں کیٹگرائزڈ کیا جاتا ہے.

ریپٹیلین برین،

لِمبک برین اور

لاجیکل برین.

ریپٹیلین برین ریپٹائیلز یعنی رینگنے والے جاندار مثلاً کینچوا، کیکڑا، بچھو، سانپ وغیرہ کی دماغی صلاحیات صرف جسمانی ضروریات پوری کرنے تک محدود ہیں. خوراک اور جنسی اختلاط کے علاوہ انکی کوئی دوسری ضروریات نہیں. یہ جذباتی یا عقلی خصوصیات نہیں رکھتے. عموما دیکھا گیا ہے کہ یہ جانور اپنی پیدائش کے موسم میں ایک بڑی تعداد میں انڈوں سے نکلتے ہیں اور بغیر کسی گائیڈنس کے یہ اپنی دماغی خصوصیات کے لحاظ سے زندگی گزارنے لگتے ہیں. انسان کے دماغ کا یہ حصہ ریپٹائیلز کی طرح صرف جسمانی ضروریات کا احساس دلاتا ہے. بھوک و پیاس و دیگر جسمانی ضروریات کی انفارمیشن ریپٹیلین برین سے جاری کی جاتی ہیں. جو انسان کو بنیادی ضروریات پورا کرنے کے بارے میں آگاہی فراہم کرنے کا ذریعہ ہے.
لِمبک یا میمیلِک برین میملز یعنی اپنے بچوں کو دودھ پلانے والے جانور مثلاً گائے، بھینس، بکری، بندر، شیر، چیتا وغیرہ انکی ذہنی صلاحیتیں جسمانی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ ساتھ اموشنل یعنی جذباتی ضروریات پر بھی مشتمل ہوتی ہیں، خوراک، جنسی اختلاط اور دیگر جسمانی ضروریات کے ساتھ ساتھ ان میں خوشی اور غمی کے تاثرات دینے اور سمجھنے کی بھی صلاحیت موجود ہوتی ہے. نر و مادہ اپنے بچوں سے بے انتہا پیار کرتے ہیں. جذباتی ضروریات انہیں ایک دوسرے کے قریب رکھتی ہیں. یہ جانور قدرتی طور پر ماحول سے متاثر بھی ہوتے ہیں اورایک دوسرے کا احساس کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں. اور نظر انداز کیے جانے کے احساس کو بخوبی سمجھتے ہیں. انسانی دماغ بھی میملز کی طرح لِمبک نظام کی خصوصیت رکھتا ہے. دیگر جسمانی ضروریات کے ساتھ انسان کو اموشنل سیٹیسفیکشن کی بھی ضرورت ہوتی ہے. اگر اموشنل سیٹیسفیکشن نہ ملے تو انسان نتیجتاًہیجان اور دباؤ کی کیفیات کا شکار ہوجاتا ہے. جس سے دفاعی کمزوریاں جنم لیتی ہیں.

لاجیکل برین انسانی دماغ کا بڑا حصہ لاجیکل برین پر مشتمل ہوتا ہے. جس سے انسان کسی بھی چیز کے عقلی دلائل یا بصری مشاہدے کے بعد اُسے قبول یا رد کرنے کی خصوصیت رکھتا ہے. عقل اور غوروفکر کی یہ صلاحیت اُسے فیصلہ کرنے میں مدد دیتی ہے. اور اسی عقل کی بدولت وہ تمام تر جانداروں سے افضل ہے اور اشرف المخلوق کا درجہ رکھتا ہے. انسان ذہین ترین مخلوق ہے کیونکہ اسکی دماغی صلاحیت تمام تر جانداروں کی نسبت زیادہ ہے. یہ ناصرف عقل رکھتا ہے بلکہ اسکا بہترین استعمال بھی جانتا ہے. لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ایک بچے کو بنسبت ایک بالغ کے عقلی یا جسمانی ضروریات کی بجائے اموشنل سیٹیسفیکشن کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے. اسکی وجہ یہ ہے کہ بچے کا دماغ ماحول سے آہستہ آہستہ متاثر ہوتا ہے اور آغاز میں بچہ خود سوچنے سمجھنے کی بجائے ماحول پر انحصار کرتا ہے. اگر اس کی اموشنل نیڈز (جذباتی ضروریات) بروقت پوری نہ کی جائیں تو نتیجتاً وہ ضدی، چڑچڑے پن اور ذہنی دباؤ کا شکار ہوجاتا ہے.

جیسے جیسے عمر گزرتی ہے مسلسل مشاہدے اور ماحول کے انفلوینس کی بدولت انسانی دماغ جذباتیت کی بجائے عقلی دلائل کو ترجیح دینے لگتا ہے اور عوامل کو بغیر وجہ کے قبول نہیں کرتا. اللہ نے انسان کو عقل کی نعمت عطا کی اور اسی عقل کے درست یا غلط استعمال پر وہ رب کو جواب دہ ہے. دماغ کا وہ حصہ جو لاجیکل یعنی عقلی صلاحیتوں پر مشتمل ہوتا ہے. فرونٹل کورٹیکس کہلاتا ہے. فرونٹکل کورٹس کے لیے عربی میں ناصیہ کا لفظ موجود ہے. تو ہم کہہ سکتے ہیں ناصیہ ان تمام تر خصوصیات پر مشتمل عضو ہے. جو انسان کو تحقیق کرنے کے ساتھ ساتھ درست اور غلط کی پہچان کروانے کا ذریعہ بھی ہے. جدید سائیکلوجیکل سائنس کے مطابق فرونٹل کورٹیکس سچ اور جھوٹ، نیکی و بدی کو سمجھنے اور غلط یا درست راستہ منتخب کرنے کی صلاحیتوں پر مشتمل ہے. اگر کبھی آپ کے تجربہ یا نظر سے گزرا ہو تو آپ کو معلوم ہوگا کہ پولیس یا دیگر ایجنسیز مجرم سے سچ اگلوانے کے لیے لائی ڈیٹیکٹر مشینز استعمال کرتے ہیں. لائی ڈیٹیکٹر مشین کو فرونٹل کارٹس یا ناصیہ سے اٹیچ کرنے کے بعد سوالات پوچھے جاتے ہیں. جھوٹ بولنے کی صورت میں دماغ میں ارتعاش پیدا ہوتا ہے. جسے مشین ڈیٹیکٹ کرنے کے بعد آلارمنگ ساؤنڈ دیتی ہے. اور اس طرح مجرم کے سچ اور جھوٹ بولنے کا پتا لگایا جاسکتا ہے.

آئیے دیکھتے ہیں قرآن پاک ناصیہ کے بارے میں کیا کہتا ہے. سورہ العلق آیت ١٣ تا ١٦ اَرَءَیۡتَ اِنۡ کَذَّبَ وَ تَوَلّٰی ﴿ؕ۱۳﴾اَلَمۡ یَعۡلَمۡ بِاَنَّ اللّٰہَ یَرٰی ﴿ؕ۱۴﴾ کَلَّا لَئِنۡ لَّمۡ یَنۡتَہِ ۬ ۙ لَنَسۡفَعًۢا بِالنَّاصِیَۃِ ﴿ۙ۱۵﴾ نَاصِیَۃٍ کَاذِبَۃٍ خَاطِئَۃٍ ﴿ۚ۱۶﴾ بھلا دیکھو تو اگر یہ جھٹلاتا ہو اور منہ پھیرتا ہو تو ۔ کیا اس نے نہیں جانا کہ اللہ تعالٰی اسے خوب دیکھ رہا ہے ۔ یقیناً اگر یہ باز نہ رہا تو ہم اس کی پیشانی کے بال پکڑ کر گھسیٹیں گے ۔ ایسی پیشانی جو جھوٹی خطا کار ہے ۔

قدیم فلاسفر اور تصورِ خُدا

2017-07-23 17:11:28 

فلسفہ کو مذہب پر فوقیت دینے والے فلسفے کی ابتدائی زمین سے یا تو باخبر نہیں یا پھر انکارِ خدا کو اپنا فرض سمجھتے ہیں. جبکہ فلسفہ کے ابتدائی موجد اس کی زمین کو مذہب کے لیے ہموار کرتے رہے جو انکی تعلیمات میں واضح ہے. سقراط, افلاطون اور ارسطو کی تعلیمات میں واضح طور پر خُدا کا اقرار نظر آتا ہے.

درج ذیل اسکی کچھ مثالیں دی جارہی ہیں:

ایک مغربی فلاسفر برٹنرڈ رسل (Bertrand Russell) اپنی کتاب میں سقراط(Socrates) ,افلاطون(Plato) اور ارسطو (Aristotle) کے فلسفے میں تصورِ خُدا کے بارے میں لکھتا ہے: 

سقراط The apology میں خدا کا تذکرہ یوں کرتا ہے "خدا کی طرف سے میں جس کام کے لیے چنا گیا ہوں وہ بہترین ہے".

دوسری جگہ ایتھنز کے لوگوں اور حکمرانوں سے مخاطب ہوکر کہتا ہے " ایھتنز کے لوگوں میں تم سے پیار کرتا ہوں لیکن اس سے زیادہ میں خدا کی اطاعت کرتا ہوں".

افلاطون اپنے تصنیف The republic میں خدا کے بارے میں کہتا ہے. "جو بستر پر آپ قائم کرتے ہو اور سوچتے ہو اور کہتے ہو وہ آپکی رائے (Opinion) ہوسکتی ہے لیکن علم (Knowledge) نہیں. علم صرف خدا کی طرف سے عطا کردہ ہے".

افلاطون چونکہ سقراط کا شاگرد تھا اور سقراط کے فلسفے سے متاثر تھا لہذا وہ The republic میں سقراط کی زندگی کے آخری ایّام کی تفصیل لکھتا ہے. جب اس کی موت کا فیصلہ سنا دیا جاتا ہے اور اسے اپنے ساتھیوں اور شاگردوں سے بات کرنے کی اجازت دی جاتی ہے. افلاطون سقراط کی زبانی لکھتا ہے. " ایک فلاسفر کبھی موت سے نہیں ڈرتا لیکن خودکشی کو حرام سمجھتا ہے"(یاد رہے ایتھنز میں خودکشی کو حرام نہیں سمجھا جاتا تھا)

جب اس کے ساتھی اس سے پوچھتے ہیں کہ خودکشی حرام کیسے ہے. تو وہ جواب دیتا ہے. "جب ایک مالک اپنے مویشیوں کو چرائے اور انہیں سیدھے رستے پر چلنے کا کہے ایسے میں ایک مویشی رستے سے آزادی اختیار کرے تو مالک کا غصہ بجا ہے وہ ناراض ہوگا. مویشی اور مالک کا رشتہ بندے اور خدا کا ہے. اگر بندا خدا کے بتائے رستے سے ہٹ کر چلے اپنی مرضی کرے تو خدا ناراض ہوگا لہذا خودکشی حرام ہے اسلیے بندے کو چاہیے کہ وہ اس وقت کا انتظار کرے جب اسکا خدا چاہتا ہے کہ بندا اسکے پاس آئے جیسے کہ میرا خدا مجھے بُلا رہا ہے اور موت کا وقت آگیاہے".

پھر افلاطون Cosmology کے بارے میں کہتا ہے "یہ کائنات انسانی حسیات سے ماورا ہے انسان اسے نہیں تخلیق کرسکتا اور یہ کائنات ازخود وجود میں نہیں آسکتی اور خُدا کی تخلیق کردہ ہے".

ایک اور جگہ کہتا ہے. "کائنات چار بنیادی ایلیمنٹس آگ, پانی , ہوا اور مٹی سے ملکر بنی. اور خُدا نے ان چار اشیاء سے اس کائنات کو تخلیق کیا".

پھر ایک اور جگہ کہتا ہے "خُدا نے پہلے روح کو بنایا پھر جسم کو".

ارسطو کا تصورِ خُدا کچھ یوں ہے. "کائنات کی ہر چیز متحرک ہے. اور ہر متحرک چیز کے پیچھے محرک ہے جو اسے حرکت پر مجبور کرتا ہے. یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہتا ہے. چونکہ حرکت کو دوام نہیں ہے اسے کہیں نہ کہیں رُکنا ہے. لہذا تمام متحرک اشیاء جو حرکت میں ہیں ان کے آغاز میں ایک ایسا محرک ضرور ہوگا جو ساکن ہے جسے کوئی حرکت نہیں دے سکتا اسکی ایک حقیقت ہے اور وہ خُدا ہے. اس متحرک زندگی کا تعلق اسی سے ہے وہ حیی(living being )ہے وہ ابدی (Eternal ) ہے".

پھر وہ کہتا ہے "تقریباً 47 سے 57 غیر متحرک ایسے ہیں جو محرک ہیں. انہیں وہ چھوٹے اسباب یا Small causes کا نام دیتا ہے اور ان تمام small causes کا ایک فائنل کاز ہے جسے وہ خُدا کہتا ہے.اور ساری حرکتیں اسکے حکم سے وجود میں آتی ہیں اور ہر چیز اس فائنل کاز یعنی خُدا کی محبت کی وجہ سے متحرک ہے".

قرآنِ کریم کی پشین گوئی

2017-07-23 17:07:15 

کفار کے متعلق پیشین گوئی کہ وہ اسلام کی شمع کو گل کرنے کے لیے زر کثیر خرچ کریں گے لیکن ناکام رہیں گے کفار اسلام کو ختم کرنے کے لیے جہاں اپنی ساری سطوت وشوکت استعمال کر رہے تھے وہاں اس مقصد کے حصول کے لیے پانی کی طرح دولت بھی خرچ کر رہے تھے اللہ تعالی نے ان کے اس طرز عمل کے مسلسل جاری رہنے کی پیشین گوئی کی اور فرمایا

"بے شک کافر خرچ کرتے ہیں اپنے مال تاکہ روکیں(لوگوں کو) اللہ کی راہ سے- اور آئندہ بھی (اسی طرح) خرچ کریں گے- پھر ہوجائے گا یہ خرچ کرنا ان کے لیے باعث حسرت وافسوس پھر وہ مغلوب کر دیے جائیں گے" سورہ الانفال ۳۶

اس آیت کریمہ کے ذریعے تین پیشین گوئیاں کی گیئں-

1-کافر اسلام کو مٹانے کے لیے اپنا مال خرچ کریں گے-

2-ان کی یہ جدوجہد اور مال کثیر خرچ کرنا ان کے لیے باعث حسرت ہوگا-

3-اپنے اس مقصد میں وہ ناکام رہیں گے-

اس پیشین گوئی کے پورا ہونے کی صحیح جھلک دیکھنے کے لیے اسلام کی چودہ سو سالہ تاریخ کا مطالعہ ضروری ہے-کیونکہ یہ پیشین گوئی صرف کسی ایک واقعے کی ذریعے پوری نہیں ہوئی بلکہ چودہ سوسالوں میں مسلسل پوری ہورہی ہے اور آج کے دور میں یہ پیشین گوئی بڑی عجیب شان سے پوری ہو رہی ہے- یہ پیشین گوئی اس وقت بھی پوری ہوئی تھی جب بدر واحد اور احزاب و حنین میں دشمنان اسلام نے زر کثیر صرف کر کے اسلام کی شمع کو بجھانے کی کوشش کیں لیکن ان کوششوں کی نتیجے میں انہیں سوائے حسرت و ذلت کے کچھ نہ ملا- اسلام روز افزوں ترقی کرتا رہا اور وہ حسرت و یاس کے ساتھ اپنی ناکامیوں پر کف افسوس ملتے رہے- اس پشیین گوئی کو اس وقت بھی چشم فلک پیر نے پورا ہوتے دیکھا جب قیصرو کسری نے زر کثیر صرف کر کے لشکر ہائے جرار تیار کیے لیکن مسلمانوں کر مقابلے میں نہ ان کی ٹڈی دل فوجیں ٹھہر سکیں اور نہ اموال کثیرہ کا صرف کرنا ان کے کام آسکا- اس پشین گوئی نے اس وقت بھی اپنی شان دکھائی جب یورپ بھر سے لاکھوں کی تعداد میں صلیبی شجر اسلام کی بیخ کنی کے لیے ارض اسلام پر ٹوٹے لیکن اپنی حسرتوں کے سمندر میں غرق ہوگئے-

ذرا اندازہ لگائیں کہ ایک ایک لشکر کی تیاری پر کتنا مال و زر صرف ہوا ہوگا یہ صلیبی حملہ ایک نہیں تھا بلکہ کئ صدیاں یہ حملے جاری رہے ان حملوں میں یہودو نصاری کے لاکھوں جنگجو لقمہ اجل بنے ان کی تجوریاں کھلیں اور اسلام کی مخالفت میں خالی ہوگئیں لیکن اسلام کا آفتاب اب بھی اسی آب و تاب سے چمک رہا ہے- قافلہ انسانیت کو اسلام کی راہ سے روکنے کے لیے مال خرچ کرنے والی پشین گوئی کو جس انداز میں مستشرقین اور ان کی ہمنوا تحریکوں نے پورا کیا ہے اس کی مثال شاید ماضی کی تاریخ میں نہ مل سکے اسلام کی کمزوریاں تلاش کرنے اور مناظرے کے میدان میں اس کا مقابلہ کرنے کے لیے انہوں نے عربی علوم کے ادارے قائم کیے تمام اسلامی علوم کی کتابوں کو چھان مارا- ان کتابوں کے ترجمے کیے- اسلامی ممالک میں سکول کھولے- خیراتی ادارے بنائے - ہسپتال قائم کیے- انہوں نے یہ تمام کام اسلام کا مقابلہ کرنے کے لیے کیے- لیکن ان تمام میدانوں میں طویل جدوجہد کے بعد وہ اس نتیجے پر پہنچے کی اتنی کوششوں اور اتنے اموال خرچ کرنے کے بعد وہ کسی ایک سچے مسلمان کو اپنے دین سے برگشتہ نہ کر سکے-

کیا حسرت اور مغلوبیت کی اس سے بڑی مثال ملنا ممکن ہے؟

کیا اس قسم کی پشین گوئی صرف وہی ہستی نہیں کر سکتی جو علم الغیب والشہادہ ہے؟

فرانسیسی مستشرق مورس بکائلے اور قرآن

2017-07-13 18:14:29 

مورس بکائلے نے قرآن اور بائبل دونوں کو جدید سائنسی علوم کی روشنی میں پرکھا ہے- اور وہ جس نتیجے پر پہنچا ہے اسے اس نے اپنی کتاب The bible, The Quran and Science میں بیان کیا ہے یہاں ہم اس کے چند تاثرات نقل کرتے ہیں- اور بعد میں قرآن کریم کی ان آیات کی جھلک پیش کریں گے جنہوں نے مورس بکائلے کے قلم کو ان تاثرات کے اظہار پر مجبور کیا ہے-مشترق مذکور لکھتا ہے-

یہ سائنسی خیالات جن کا قرآن کے ساتھ بڑا گہرا تعلق ہے انہوں نے ابتداء میں مجھے حیرت میں مبتلا کردیا-اس وقت تک میں نے یہ سوچا تک نہ تھا کہ ایک کتاب جو تیرہ صدیوں سے زیادہ عرصہ پہلے تالیف ہوئی اس میں بے شمار ایسے بیانات کا موجود ہونا ممکن ہے جو سب کے سب سائنسی معلومات کلیتہ ہم آہنگ ہیں-تخلیق کائنات فلکیات اور ایسے معاملات کی تشریح جن کا تعلق زمین بناتات حیوانات اور انسانی افزائش نسل سے ہے-

بائیبل میں بے شمار غلطیاں موجود ہیں لیکن قرآن حکیم میں کسی ایک غلطی کی نشاندہی نہ کرسکا -میں مجبور ہوکر رک گیا اور اپنے آپ سے سوال کیا اگر کوئی انسان ہی قرآن کا مصنف ہوتا تو وہ ساتویں صدی میں ایسی چیزیں کیسے لکھ سکتا تھاجن کے متعلق آج یہ ظاہر ہورہا ہے کہ وہ جدید سائنسی معلومات سے کلیتہ ہم آہنگ ہیں- اس بارے میں قطعا کوئی شک نہیں کہ آج قرآن کا جو متن ہمارے سامنے ہی یہ بعینہ وہی ہے جو ساتویں صدی میں تھا- اس مشاہدے کی انسانی توجیہ کیا ہو سکتی ہے؟ میری رائے میں اس کی کوئی انسانی توجیہ ممکن نہیں-اس بات کی کوئی خاص وجہ نظر نہیں آتی کہ جس زمانے میں فرانس پر ٰڈیگوبرٹٰ بادشاہ حکومت کررہا تھا اس زمانے میں جزیرہ عرب پرایک شخص کے پاس مختلف موضوعات پر اتنی سائنسی معلومات ہوں جو خود ہمارے دور سے بھی دس صدیاں آگے کی ہیں- مستشرق مذکور کہتا ہے کہ قرآن حکیم میں ایسے سائنسی انکشافات بھی ہیں جن تک ابھی سائنس نہیں پہنچ سکی لیکن وہ ان رک پہنچنے کے لیے مصروف عمل ہے-

وہ کہتا ہے اس ضمن میں میرا خیال ہے کہ مجھے قرآن میں ایسے بیانات نظر آئے جو اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ کائنات میں کچھ ایسے سیارےموجود ہیں جو بالکل زمین کے مشابہ ہیں - یہاں اس بات کا اضافہ کرنا ضروری ہے کہ اکثر سائنس دان اسکو ایک مکمل طور پر ممکن حقیقت تسلیم کرتے ہیں اگر چہ موجودہ سائنسی معلومات نے ابھی تک اس بات کے یقینی ہونے کا کوئی اشارہ نہیں دیا- حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کو مصنف قرآن کہنے والوں کے بارے میں مورس بکائلے کہتا ہے: ۴-یہ مشاہدہ ان لوگوں کے دعوے کو قطعی طور پر ناقابل مدافعت بنادیتا ہے جو محمدصلی اللہ علیہ وسلم کو قرآن کا مصنف قرار دیتے ہیں- یہ کیسے ممکن تھا کہ ایک شخص ناخواندگی کی حالت میں ابھرتا اور اہم ترین مصنف بن جاتا اور اس کی تصنیف اپنی ادبی خوبیوں کی وجہ سے تمام ادب پر چھا جاتی اور یہ کیسے ممکن تھا کہ وہ شخص سائنسی نوعیت کی ایسی سچائیوں کا اعلان کرتا جن تک اس دور کے کسی انسان کی رسائی نہ تھی اور ان اعلانات میں اس سے ذرہ برابر غلطی نہ ہوتی- آخر میں اپنا فیصلہ سناتے ہوئے مورس بکائلے کہتا ہے-

ان خیالات سے یہ نتیجہ برآمد ہوگا کہ یہ بات بالکل ناقابل تصور ہے کہ ساتویں صدی عیسوی میں رہنے والا ایک انسان قرآن میں مختلف موضوعات پر ایسی چیزیں بیان کرتا جن کا تعلق اس کے زمانے سے نہ تھا اور اس کے بیانات ان حقائق سے بالکل ہم آہنگ ہوتے جن کا انکشاف کئ صدیاں بعد ہوا - میرت نزدیک قرآن کے انسانی کلام ہونے کی کوئی توجیہ ممکن نہییں-

موعس بکائلے قرآن کریم کی جن آیات سے بے حد متاثر ہوا وہ درج ذیل ہیں-

"کیا کفار نہیں دیکھتے کہ زمین وآسمان باہم ملے ہوئے تھے پھر ہم نے ان کو الگ الگ کیا اور ہم نے ہر زندہ شے پانی سے بنائی"-

"مزید براں اللہ تعالی آسمان کی طرف موجہ ہوا جب کہ یہ دھواں تھا اور اس سے اور زمین سے فرمایا-"

"کیا تم نے دیکھا کہ کس طرح اللہ نے سات آسمان پیدا کیے ایک کے اوپر دوسرا اور اس نے چاند کو روشنی اور سورج کو چراغ بنایا-"

"ہم نے تمہارے اوپر سات مضبوط آسمان بنائے ہیں اور ایک بھڑکتا ہوا سورج رکھا-"

"نہ سورج چاند کوپیچھے سے پکڑسکتاہے اور نہ رات دن سے آگے نکل سکتی ہے - سب ایک مدار میں اپنی ذاتی حرکت سے محوسفر ہیں-"

"وہ لپیٹتا ہے دن کو رات پر اور رات کو دن پر-"

"اے گروہ جن وانس ! اگر تم آسمان اور زمین کے خطوں سے پار ہوسکتے ہوتو ہوجاو تم بغیر طاقت کے ان سے پار نہیں ہوسکتے-"

"اللہ تعالی وہ ہے جس نے آسمان سے پانی اتارا اور اس کے ذریعے ہم نے نباتات کے کئ جوڑے نکالے- ہر جوڑا دوسرے جوڑے سے مختلف ہے-"

"اور اللہ تعالی نے تمام پھلوں کے دو دو جوڑے بنائے-"

"تمہارے رب نے شہد کی مکھی کے دل میں یہ بات ڈال دی بناو اپنی رہائش گاہ پہاڑوں میں درختوں کے اندر اور ان چھپروں میں جو لوگ بناتے ہیں- کھا ہر قسم کے پھلوں سے اور چلتی رہ اپنے رب کے راستوں پر عاجزی کے ساتھ- ان کے جسموں سے مختلف رنگوں کا ایک مشروب نکلتا ہے جس میں لوگوں کے لیے شفاء ہے-"

"کیا انسان تولیدی مادہ کی ایک معمولی مقدار نہ تھا جسے ٹپکایا جاتا ہے- اس کے بعد وہ ایک ایسی چیز تھا جو چمٹ جاتی ہے اور اللہ تعالی نے اسے درست اعضاء کے ساتھ پیدا فرمایا-"

ان تمام تحقیقات و وجوہات کی بنا پر مورس بکائلے نے بلآخرحق کو پہچان لیا اور اسلام قبول کر لیا.

الحمد للہ علی العظیم

امام غزالی اور ڈیکارٹ کی تشکیکیت میں فرق

2017-07-06 17:42:55 

امام غزالی اور ڈیکارٹ کی تشکیکیت میں فرق؟ اعتراض کیا جاتا ہے کہ "امام غزالی" اور "رینے ڈیکارٹ" کی تشکیکیت میں کوئی فرق نہیں ہے. جبکہ دونوں کی تشکیکیت میں واضح فرق موجود ہے صرف تعصب کی عینک اتار کر دیکھنے کی ضرورت ہے. امام غزالی کی تشکیکیت اور نتائج: امام غزالی کو دینی علوم کے ساتھ علومِ فلسفہ و منطق سے بھی کافی شغف رہا ہے، چنانچہ آپ کی تصانیف میں جا بجا منطقی اور فلسفیانہ طرز کی بحثیں، منطقی استدلال اور فلاسفہ کے اقوال ملتے ہیں۔ بعض مقامات پر امام صاحب نے منطق کو میزان العلوم، تک قرار دیا ہے، جو یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہے کہ علومِ عقلیہ پر انہیں کس قدر اعتبار و اعتماد تھا۔ "اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ (امام) غزالی کی ذات کو فلسفہ میں کس قدر عجز تھا اور وہ اس سے خروج حاصل کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے تھے۔ کیونکہ انہوں نے معرفتِ حقیقت کے لیے اسے حاصل کیا تھا۔ پس ان کی نیت ایسے اسباب حاصل کرنے کی رہتی تھی جس میں فلسفہ کی کثرت ہو اور وہ اسی فلسفہ کی پرواز تخیل میں (مگن) رہتے تھے۔ اور بعض مقامات پر اختلافِ شریعت کر گئے .لیکن فلسفہ پر مکمل عبور تھا اور منفی و اختلافِ شریعت کے تجربات سے گزرنے کے بعد وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ فلسفی درحقیقت لا دین ہیں ۔اس ضمن میں امام غزالیؒ نے فلسفیوں کے استدلال کی بنیادی خامیوں کو زیر بحث لاتے ہوئے ان کی منطق کے پرخچے اڑا دئیے اور اپنے علم ،مطالعہ اور ذہانت کی بدولت یہ ثابت کیا کہ ابدیت کے بارے میں ان کا اعتقاد درست نہیں ،ارواح اور اساطیری اجسام کے بار ے میں ان کے نظریات صریحاً گمراہ کن ہیں، فلسفیوں کا نظریۂ علت و معلول درست ہے اور نہ ہی وہ روح کی ابدیت کو ثابت کرنے میں کامیاب ہو سکے ہیں اور مزید یہ کہ خدا کے وجود سے متعلق ان کے دلائل نقائص سے پاک نہیں۔اس قسم کے بیس نکات کو زیر بحث لاتے ہوئے امام غزالی ؒفلسفیوں کے خلاف تین الزامات لگاتے ہوئے انہیں لا دین ہونے کا مرتکب پاتے ہیں۔پہلا، کائنات کی ابدیت، دوسرا، زمان و مکاں کے بارے میں خدا کے علم سے انکار اور تیسرا،حیات بعد از موت سے انکار۔ امام غزالیؒ کا ماننا تھا کہ خدا اس کائنات کو عدم سے وجود میں لے کر آیا اور ماضی کے ایک لمحے میں تخلیق کیا اور ماضی کا وہ لمحہ حال سے ایک متعین فاصلے پر ہے ،لا محدود نہیں ہے ۔خدا مادے کے ساتھ ساتھ وقت کا بھی خالق ہے جس کا ایک معین آغاز تھا لہٰذا وقت لامتناہی نہیں ہو سکتا۔امام غزالیؒ کی فلسفیوں سے بنیادی اختلاف کی وجہ یہ تھی کہ ان کے خیال میں فلاسفہ کے دلائل منطقی اعتبار سے درست نہیں تھے اپنے نظریات کو سچا ثابت کرنے کی غرض سے فلسفیوں نے بعض جگہوں پر اپنے ہی دلائل کی نفی کرتے ہوئے متضاد باتیں کہی تھیں۔ امام غزالیؒ کے خیال میں فلسفیوں نے جن مفروضوں کی بنیاد پر اپنے عقائد کی عمارت کھڑی کی وہ مفروضے ہی سراسر غلط تھے۔ امام غزالیؒ نے ثابت کیا کہ ان مفروضوں کی منطقی اعتبار سے تشریح کی جا سکتی ہے اور نہ ہی یہ وحی کے ذریعے سے اپنے آپ آشکار ہوتے ہیں ۔ رینے ڈیکارٹ کی تشکیکیت اور نتائج: اپنے فلسفیانہ تفکر کے آغاز میں ڈیکارٹ خدا، دنیا اور حواس خمسہ سمیت ہر شے کو اپنی تشکیک کا ہدف بناتا ہے۔ لیکن اس تشکیک میں اس کو یقین کا ایک نکتہ ہاتھ آجاتا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ وہ ہر شے کی بابت شک کرتا رہا، لیکن اپنی ذات، یعنی شک کرنے والی شے، پر شبہ نہ کرسکا۔ اگر شک کرنے والی شے غیر حقیقت یا عدم وجود کی حامل ہے، تو پھر شک کرنے کے عمل کو کون انجام دے رہا ہے۔ مزید برآں تشکیک تفکر پر دلالت کرتی ہے۔ لہذا تفکر پر مبنی عمل تشکیک کے ذریعہ وہ اس نتیجہ پر پہنچا کہ میں سوچتا ہوں، اس لیے میرا وجود ہے۔ اس نکتہ یقین سے اس نے بقیہ تمام نتائج ریاضیات کی طرح اخذ کیے ہیں۔ وہ اپنی ذات کا تنقیدی تجزیہ کرتا ہے اور اس نتیجہ پر پہنچتا ہے کہ اس کے ذہن میں بعض وہبی تصورات پائے جاتے ہیں۔ ان تصورات میں ایک اکمل ذات یا خدا کا تصور ہے۔ اس کے ذہن میں اس تصور کا خالق، خود خدائے اکمل کے علاوہ کوئی اور نہیں ہوسکتا ہے۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ خدا کا وجود ہے۔ خدا کے وجود کے اثبات کے سلسلہ میں یہ اس کی کونیاتی Cosmological یا علیِّ دلیل ہے۔ خدا کی ذات کے اثبات میں وہ وجودیاتی Ontological دلیل بھی دیتا ہے۔ اگر خدا کی ذات اکمل ہے تو پھر اس کا وجود بھی لازمی ہے، اس لیے کہ وجود کا فقدان عدم اکملیت کے مترادف ہے۔ چنانچہ ایک اکمل ذات کے تصور میں لازمی طور پر اس کے وجود کا تصور بھی شامل ہے، اور اسکا مطلب ہے خدا نہیں ہے. جس طرح ایک مثلث کے تصور میں یہ تصور بھی شامل ہے کہ اس کے تین زاویے ہونگے اور ان زاویوں کا مجموعہ دو زاویہ قائمہ کے برابر ہوگا۔ اپنے فلسفہ کو جوہر کے تصور پراستوار کرتے ہوئے ڈیکارٹ خدا کو ایک موجود بالذات اور خود مختار جوہر قرار دیتا ہے جو دیگر اشیا کا محتاج نہیں ہوتا۔ اس کے نزدیک جوہر وہ ہے جو وجود بالذات رکھتا ہو اور مخلوق بالذات ہو یعنی اپنے وجود کے لیے کسی اور علت کا پابند نہ ہو۔ اس تعریف کی رو سے جوہر ایک ہی ہوسکتا ہے اور وہ خدا ہے۔ لیکن ایک طبعیات داں کی حیثیت سے وہ مادے کے وجود سے منکر نہ ہوسکا۔ لہذا خدا کے علاوہ دو اور جوہروں کے وجود میں بھی وہ یقین رکھتا ہے جن کو وہ ممتد جوہرExtended Substance اور مفکر جوہرThinking Substance کے ناموں سے موسوم کرتا ہے اور جن سے وہ علی الترتیب نفس یا روح اور مادہ مراد لیتا ہے۔ یہ صحیح ہے کہ ان کا مبدا خدا کی ذات ہے لیکن یہ دونوں ثانوی جواہر بھی ضمنی اعتبار سے وجود بالذات کے حامل میناور اپنے اپنے دائرہ کار میں مکمل طور پر آزاد ہیں۔ تمام طبعی دنیا ایک جوہر ممتد ہے جو میکانیکی قوانین فطرت کی تابع ہے اور یہی متحرک مادہ بالآخر طبعی دنیا کو وجود میں لانے کا سبب بنتا ہے۔ پھر اس کے نظریہ تعامل کو بعد کے فلسفیوں نے تسلیم نہیں کیا، بلکہ خود ڈیکارٹ کے پر جوش حامیوں کو یہ قابل قبول نہ ہوا۔ چنانچہ انھوں نے اس کی تعاملیت کو سخت تنقید کا ہدف بنایا ہے۔ ڈیکارٹ دراصل ثانویت پرست(Humanist) ہے۔ اس کا نظریہ تعامل بھی اس کی ثانویت کا ہی ضمنی نتیجہ ہے۔ ذہن و جسم کے مابین نظریہ تعامل کے ذریعہ ہم آہنگی پیدا کرنے کی محض کوشش کرنا ایک عالمانہ معجز نمائی سے کام لینا ہے۔ ڈیکارٹ کی ثانویت کے لیے منطقی بنیاد فراہم کرنا مشکل ہے۔ تاہم اس کا ثانویتی نظریہ جدید طبعی علوم کو فروغ دینے میں بے حد معاون ثابت ہوا ہے۔ اس نے ان کی ترقی کے لیے ٹھوس بنیاد فراہم کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس کی بدولت ان علوم کو میکانیکی قوانین کے معروضے پر عمل کرتے ہوئے اپنے اپنے دائروں میں ترقی کرنے کی آزادی میسر آئی ہے۔

زندگی کیسے گزاریں

2017-07-03 14:01:26 

یہ تحریر ان بچوں اور بچیوں کے لیے ہے جو لڑکپن سے جوانی میں داخل ہورہے ہوتے ہیں. یعنی ٹین ایجر بچے. جن کی عمریں 14 سے 19 کے درمیان ہیں.
عموماً جو بچے اس عمر سے گزر رہے ہوتے ہیں. ان میں آنے والی تبدیلیاں ان کے ذہنی خیالات کو یکسر بدل رہی ہوتی ہیں. جب بچے اور بچیاں لڑکپن سے جوانی میں داخل ہورہے ہوتے ہیں تو قدرتی طور پر ان کے چہرے ہشاش بشاش یعنی تروتازہ ہوتے ہیں. بچوں کو بار بار آئینہ دیکھنا اور سراہے جانا اچھا لگتا ہے. وہ اپنے لیے ہر خوبصورت چیز , لباس وغیرہ کا انتخاب کرنا چاہتے ہیں اور اکثر کرتے بھی ہیں. اپنے متعلق منفی باتیں یا نصیحتیں ذرا کم ہی سنتے ہیں. والدین انہیں کم عمر بچوں کی ٹریٹ کرتے ہیں جبکہ وہ خود کو میچور سمجھتے ہیں. لہذا اپنے فیصلوں میں شراکت انہیں ناگوار گزرتی ہے اور اکثر اسکا برملا اظہار بھی کر دیتے ہیں. دوست احباب بنانے کا بڑا کریز ہوتا ہے. اس کے ساتھ ساتھ سوشل لائف میں انٹرسٹڈ نظر آتے ہیں. اکثر اس عمر کے بچوں کو شاعری سے بھی لگاؤ ہوتا ہے. پڑھائی سے توجہ ہٹتی تو نہیں لیکن پڑھائی کرنے کے طریقے بھی تبدیل کرنا چاہتے ہیں. مثلاً کمرہ بند کر کے اکیلے پڑھنا چاہتے ہیں تاکہ گھر والا کوئی انہیں ڈسٹرب نہ کرے یا دوستوں کے ساتھ گروپ سٹڈیز کرنا چاہتے ہیں. الیکٹرانک اشیاء میں دلچسپی بڑھنے لگتی ہے. موبائل, ٹیبلیٹ, کمپوٹر وغیرہ کی ڈیمانڈ کرنے لگتے ہیں. اگر منع کیا جائے تو بُرا مان جاتے ہیں. موبائل کا استعمال تو اس قدر ضروری سمجھتے ہیں گویا یہ جوانی کا سرٹیفیکیٹ ہے. گھر میں والدہ یا والد کا موبائل اکثر ان کے ہاتھ میں ہوتا ہے. پاکٹ منی بچا بچا کر ایزی لوڈ کرواتے ہیں تاکہ دوستوں سے رابطہ رہے. اس عمر کے بچے چونکہ جوانی کی حدود میں داخل ہورہے ہوتے ہیں تو مخالف جنس میں کشش محسوس کرنے لگتے ہیں. یہ ایک قدرتی امر ہے. اسی لیے اسلام جلدی شادی کی ترغیب دیتا ہے. خیر یہ الگ موضوع ہے. انہیں موبائل میسج اور سوشل میڈیا جیسی سہولیات میسر ہوتی ہیں. تورابطہ میں آسانی رہتی ہے. اور آگے کیا ہوتا ہے سب واقف ہیں. اچھا یہ سب آپکو نصیحتیں کرنے کے لیے نہیں لکھا جارہا. بلکہ طرزِ زندگی کو تھوڑا سا بہتر کیسے بنایا جاسکتا ہے اس متعلق کچھ مشورے یا تجاویز دینے کے لیے یہ موضوع چُنا گیا. اس عمر کے بچے اور بچیاں اگر کچھ باتوں کو سنجیدگی سے لیں تو بامقصد زندگی گزار سکتے ہیں. اور بامقصد زندگی تو سب ہی کی خواہش ہوتی ہے.

سب سے پہلے تو بچوں اور بچیوں کو چاہیے کہ اپنے گھر کے حالات سے واقفیت رکھیں آپکے والد صاحب یا سربراہ خاندان کس محنت سے کام کرتے ہیں ان کے کام کرنے کا طریقہ, انکے اوقاتِ آرام کا جائزہ لیں. والدہ کس طرح گھر کو مینج کرتی ہیں. انکی دن بھر کی مصروفیات کیا ہیں. آیا وہ آرام بھی کرتی ہیں یا نہیں. اس سے آپ کے دل میں والدین کی قدروقیمت اور ان کے لیے عزت و احترام میں اضافہ ہوگا. ساتھ ہی ساتھ آپ یہ سبق بھی سیکھ جائیں گے کہ اپنی چادر دیکھ کر پاؤں پھیلانے چاہیے. بلاوجہ کی فرمائشیں آپ کے والدین کے لیے مشکلات میں اضافہ کرسکتی ہیں. گھر کا ماہانہ بجٹ خراب ہوسکتا ہے. والدین کو دن بھر کام میں جُتا دیکھ کر آپ میں احساسِ ذمہ داری پیدا ہوگا. سادہ لیکن صاف ستھرا اور ساتر لباس زیب تن کیجیے یہ آپکی عظمت و وقار میں اضافہ کرے گا. بار بار آئینہ دیکھنے سے گریز کریں کہ اس سے غرورو تکبر جیسی کیفیات کا اندیشہ ہے اور غرورو تکبر اللہ کو سخت ناپسند ہے. بچے اپنے ساتھ دن بھر پیش آنے والے واقعات اپنے والد صاحب سے شئیر کریں اور بچیاں والدہ کے ساتھ. اگر روزانہ کی بنیاد پر وقت نہ مل سکے تو ویک اینڈ پر اپنے والدین سے اپنے معمولات ضرور ڈسکس کریں. کوئی بھی نئ یا انہونی بات یا واقعہ دیکھیں تو ان سے اس بارے میں ضرور بات کریں. کیونکہ والدین سے بہتر کوئی دوست نہیں ہوتا. اور اگر وہ آپ کے ساتھ پیش آنے والے حالات و واقعات سے واقف ہونگے تب ہی آپ کو درپیش مصائب سے محفوظ رکھ پائیں گے.

اپنے دوستوں کو والدین سے ضرور ملوایے اس سے والدین کے دل میں آپ کے دوستوں کی قدر بڑھے گی اور وہ آپکو دوستوں سے ملنے سے نہیں روکیں گے. دوست بھی اس طرح آپ کے والدین کی عزت کریں. پڑھائی پر فوکس کرنا ضروری ہے لیکن کمرہ بند ہوکر پڑھنے سے مسائل ہوسکتے ہیں. ایک تو اگر بند کمرے میں آپکی طبیعت خراب ہوجائے تو آپ کے لیے مشکلات ہوجائیں گی. اسی طرح تنہائی میں آنے والے خیالات بھی آپکو پریشان کرسکتے ہیں. اگر آپ دروازہ کھلا رکھتے ہیں تو اردگرد کے حالات سے بھی واقف رہیں گے. والدین کو کسی چیز کی ضرورت ہو تو وہ مہیا کرسکتے ہیں اور آپکو کوئی ضرورت ہو تو وہ بھی پوری کر سکتے ہیں. اور فضول خیالات سے بھی نجات مل جائے گی. کمبائن یا گروپ سٹڈیز کے لیے ان دوستوں کا انتخاب کریں جن کو آپکے والدین پسند کرتے ہیں. الیکٹرانک اشیاء موبائل, لیپ ٹاپ, کمپیوٹر وغیرہ کا استعمال مخصوص اوقات میں کریں. زیادہ استعمال نظر کی خرابی کا باعث بنتا ہے اور وقت کا بھی ضیاع ہے. سوشل میڈیا پر جان پہچان کے لوگوں کو دوست بنایے. انجان لوگوں سے اپنی ذاتیات ڈسکس مت کیجیے. تصاویر اپ لوڈ کرنے یا ان باکس سے گریز کیجیے. کہ اکثر انجان لوگ انکا غلط استعمال کر سکتے ہیں. کسی کی ذات سے متاثر نہ ہوں. کسی پر اندھا اعتماد مت کریں. کوئی شخص کامل نہیں ہوتا خود میں ایسے اوصاف پیدا کیجیے کہ ہر دل عزیز کہلائے جائیں. اسلامی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کی کوشش کیجیے. اپنے کردار کو ہمیشہ مضبوط رکھیے. اپنی ذات کی حدود میں کسی کو داخلہ کی اجازت نہ دیں. اپنی عزت نفس کو سب سے پہلے رکھیے. اپنی عزت وعصمت کی امانت کی طرح حفاظت کریں. کسی کو اپنی ذات پر بات کا موقع نہ دیں. اخلاقیات کا دامن کبھی نہ چھوڑیں. کہ عمدہ اخلاق سے دشمن کو بھی زیر کیا جاسکتا. اپنے مقصد حیات کو اللہ کی رضا کے مطابق بنایے. عبادات کو ان کے اوقات پر ادا کریں. رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی ہمارے لیے بہترین اسوہ حسنہ ہے. سیرت پاک کا مطالعہ ضرور کریں. کتابیں بہترین دوست ہوتی ہیں. اچھی کتابوں کا مطالعہ کریں. دنیاوی زندگی کو ایسے گزارنے کا عزم کریں کہ مقصود رضائے ربانی ہو. اللہ پاک تمام بچوں اور بچیوں کی حفاظت فرمائے اور انہیں باکردارو باعمل زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے.

آمین

حرم رسوا ہوا پیرِ کارواں کی کم نگاہی سے

2017-06-30 22:29:47 

حرم رسوا ہوا پیر کارواں کی کم نگاہی سے

یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ آج اخلاقی بگاڑ ہماری زندگی کے ہر شعبے میں موجود ہے. ہم اخلاقیات سے اس قدر عاری ہوچکے ہیں کہ نہ ہمیں خوشی منانے کا سلیقہ ہے نہ غم جھیلنے کا ڈھنگ. منتہائے جذباتیت ہمارے اعمال کا لازمی جزو بن چکا ہے. ہم ہر عمل میں شدت پسند ہیں. قوت برداشت کا عنصر مفقود اور طاقت و زور آزمائی میں ہم دشمن کی پہچان ہی بھلا چکے ہیں. ایک دوسرے سے اس طرح دست و گریباں ہیں گویا یہی مقصودِ حیات ہے. ہم میں سے ہر ایک اپنی ڈیڑھ انچ کی الگ مسجد بنا کر بیٹھا ہے. نیکی کرنا ہمارے لیے مشکل ترین فعل ہے. ہم بولتے ہیں تو جھوٹ ہماری باتوں کا حصہ ہوتا ہے. ہم سننا چاہتے ہیں تو صرف خوشامد, دیکھنا چاہتے ہیں تو رنگا رنگ محافل و امارت کے سنہرے خواب. ہم بحیثیت قوم ایسی اخلاقی پستی کا شکار ہیں کہ گوڈے گوڈے مادیت پرستی میں ڈوبے ہوئے ہیں. حالانکہ ہمارے اسلاف تو وہ تھے جو کفار کی پیش کردہ ہیرے جواہرات و خزانوں سے بھری طشتریاں اور حسین غلماء و کنیزیں نظر ڈالے بغیر واپس پلٹا دیتے تھے. جو اونچے محلوں کے نرم و گداز بستر چھوڑ کر دین اسلام کی تلواریں لیے میدانِ جنگ میں اپنی جانوں پر کھیل جاتے. جو راجاؤں کے ہاتھیوں پر مشتمل لشکروں کا مقابلہ رمضان کے روزوں کی بھوک وپیاس کے ساتھ کیا کرتے. جن کی فلگ شگاف آوازیں اللہ اکبر کے نعروں کے ساتھ انکے عزم و جذباتیت کا اظہار کرتیں. جو راتوں کو اسکی بارگاہ میں روتے, دن کو اس کے دین کی سر بلندی کی خاطر کٹ جاتے. جو فتح یاب ہوتے تو دشمن پر بھی مہربانیاں کرتے. جو حقوقِ اللہ اور حقوق العباد کی بہترین پاسداری کرتے. اخلاقیات کے ایسے نمونہ کہ اپنے مکان و مال اپنے بہن بھائیوں پر نچھاور کردیتے. مہمان نواز ایسے کہ خودآل واولاد بھوکے سوتے مہمان کی خوب خاطر تواضع کرتے. جو علم و ہنر کی ایسی مثال کہ اغیار انہیں اساتذہ کا درجہ دیتے. انکے دیے القابات کو سر کا تاج سمجھا جاتا. پھر ہمیں کیا ہوا؟؟؟ ہم اخلاقیات سے اس قدر عاری کیونکر ہوئے؟؟؟ ہم نے کس کی تقلید میں اپنے اسلاف کے اعلیٰ نمونہ حیات کو پس پشت ڈال دیا؟؟؟ حرمِ پاک کی عزت و ناموس کی بجائے ہم مے کدوں کے مشروبات کے شیدا اور رسیا کیونکر ہوگئے؟؟؟ آج ہمارا اتحاد پارہ پارہ ہوچکا ہے.اس لیے کہ اتحاد کی پہلی شرط ایمان دارانہ حق شناسی، دوسروں کی برتری کا شریفانہ اعتراف اور ایثار جیسی صفات ہیں۔ دشمن سے مقابلے کی بجائے ہم اپنوں کے گلے کاٹنے میں مصروف ہیں. ہماری میان سے نکلی سیف سے دشمن کا نہیں بلکہ اپنے ہی بھائی کا خون ٹپکتا ہے. ہم اغیار پرستی میں اس قدر کھوئے ہوئے ہیں کہ جہاں موقع ملے ایک دوسرے کو دھوکہ دے کر اغیار کو متاثر کرنے میں لگے رہتے ہیں. اپنے تھوڑے سے مفاد کی خاطر اپنوں کے خون سے ہاتھ رنگنے سے بھی دریغ نہیں کرتے. مادیت پرستی نے ہماری قابلیت و ذہانت کو زنگ لگا دیا ہے. ہم خود سے ہی ناامید ہیں. ہمارے خواص چاہے وہ علماء ہوں یا حاکم ہماری تربیت و حکومت کی اہلیت نہیں رکھتے. ہم اپنے خواص کے چناؤ میں نا اہل ہیں. ہمارے خواص ہم پر بصورتِ عذاب مسلط ہیں. ہم میں اکثر علم والے, عقل والے, شعور والے موجود ہیں. متعدد وہ ہیں جو صحیح اور غلط کی پہچان رکھتے ہیں. لیکن شخصیت پرستی میں مبتلا ہیں. اور اپنی مخالفت میں بولنے والوں کو دشمن سے بدتر سمجھتے ہیں. ہم تھوڑے سیکھے پر زیادہ بولنے لگتے ہیں. ہم متضاد باتیں چاہے وہ حقائق پر مبنی ہوں سننا نہیں چاہتے. ہم صبر کا سبق بھول چکے ہیں. اور اوقات آزمائش میں واویلا مچانے لگتے ہیں. سر پیٹنے لگتےہیں. صدمہ پر سینہ کوبی کرنے لگتے ہیں. شکر ہماری زندگیوں کا حصہ نہیں رہا. عبادات کو ہم نے رسم و رواج کی طرح پسِ پشت ڈال دیا اور رسم و رواج کو عبادات کی طرح معمولاتِ زندگی کا حصہ بنا لیا. ہم نے سیکھنا چھوڑدیا. ہم نے سکھانا بھی چھوڑدیا. ہم داعی نہیں رہے. نہ دعوت حق دیتے ہیں نہ سنتے ہیں. پتھرکھا کر لہولہان ہونے کے بعد دعا دینے کا حوصلہ تو دور ہم اس جملہ پر قائم ہوچکے ہیں کہ "نیکی کا تو زمانہ ہی نہیں". کیا واقعی نیکی کا زمانہ نہیں؟ کیا نیکی کی دعوت کے لیے رسول اللہ صلی علیہ وسلم , اصحاب , خلافاء کا زمانہ موضوع تھا؟ جنہوں نے پتھر بھی کھائے, تیر بھی, ننگے بدن ریت پر گھسیٹے بھی گئے لیکن حق گوئی نہ چھوڑی. ہمیں تو دین پلیٹ میں رکھا ہوا ملا. اور ہم ہیں کہ اسلاف کی قربانیوں کو رائیگاں کرنے پر تُلے ہوئے ہیں. نیکی کی دعوت تو دور نیکی کرنا بھی مشکل سمجھتے ہیں. اخلاقیات کو ہم نے نت نئ گالی, غم و غصہ, بد زبانی, لالچ, منافقت اور شر انگیز حرکات کے نیچے دبا دیا. یہی وجہ ہے آج دشمن ہم پر چاروں جانب سے حملہ آور ہے. قدرتی آفات ہم پر پے در پے آن وارد ہیں. اور ہم ہیں کہ آپس میں دست و گریبان ہیں. فرقہ واریت میں اس قدر ملوث ہیں کہ اپنے فرقہ کے علاوہ دوسرا ہر کوئی ہمیں کافر نظر آتا ہے. ہم پر ہر طرف سے ذلت مسلط ہے. اگر اب بھی ہم نے دین کے احکامات کی پاسداری نہ کی اور اسلاف کے نمونہ حیات کو اپنی زندگیوں کا حصہ نہ بنایا. اغیار کی فتنہ پرور محافل ومجالس کو حرم پاک کی ناموس پر قربان نہ کیا. اپنی صفیں حرم پاک کی سیدھ میں ترتیب نہ دیں اور اپنے منتشر ذرات کو اتحاد کی زنجیر سے نہ باندھا.تو ہمارا انجام بھی ایمان فروش اقوام سے کچھ مختلف نہ ہوگا.

قرآن اور مقامِ انسانیت

2017-06-20 22:02:53 

قرآن اور مقامِ انسانیت اللہ پاک نے انسان کو اپنی شاہکار تخلیق بنایا. اسے عقل, ذہانت اور شعور بخشا. بہترین صورت گری فرمائی. دنیا کے تمام مخلوقات پر نا صرف اسے برتری دی بلکہ تمام مخلوقات کو اس کے تابع فرمادیا. اس کے لیے رزق کا بہترین بندوبست فرمایا. اسے جسمانی طاقت کے ساتھ ساتھ ذہنی صلاحیت سے نوازہ. اسے علم سکھایا. اشرف المخلوق کا نام دیا. قرآن کی عالی ترین تعریفیں بھی انسان کے بارے میں ہیں اور سخت ترین مذمت بھی. انسان کو کائنات کو مسخر کرنے والا بھی بتایا گیا اور فرشتوں سے برتر مقام بھی دیا گیا. اخلاق و کردار کا بہترین نمونہ قرار دیاگیا. اور انسانیت کے لیے رحمت بھی بتایاگیا. ساتھ ہی ساتھ انسان کے بدترین روپ کا تذکرہ بھی کیا گیا . اور بتایا کہ انسان اپنے بُرے اعمال کی پاداش میں اسفل السافلین میں بھی گر سکتا ہے. اپنے غلط محرکات کی بدولت جہل کا سردار کہلا سکتا ہے. ابلیس کا پیروکار بن سکتا ہے. اور انسانیت کے لیے دہشت و بربریت کی مثال بھی بن سکتا ہے. اللہ پاک قرآن پاک میں انسانیت کے بلند ترین کرداروں کا تذکرہ کچھ ایسے فرماتے ہیں.

انسان بحیثیت خلیفہ

وَ اِذْ قَالَ رَبُّکَ لِلْمَلٰٓئِکَۃِ اِنِّیْ جَاعِلٌ فِی الْاَرْضِ خَلِیْفَۃً قَالُوْٓا اَتَجْعَلُ فِیْہَا مَنْ یُّفْسِدُ فِیْہَا وَیَسْفِکُ الدِّمَآء َ وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِکَ وَنُقَدِّسُ لَکَ قَالَ اِنِّیْٓ اَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ() ’’اور یاد کرو جب تمہارے رب نے فرشتوں سے فرمایامیں زمین میں اپنا نائب بنانے والا ہوں ۔بولے کیا ایسے کو نائب کرے گا جو اس میں فساد پھیلائے اور خونریزیاں کرے اور ہم تجھے سراہتے ہوئے تیری تسبیح کرتے اور تیری پاکی بولتے ہیں فرمایا مجھے معلوم ہے جو تم نہیں جانتے ۔‘‘ ( سورہ بقرہ، آیت ۳۰)

مقام و مرتبہ

وَہُوَ الَّذِیْ جَعَلَکُمْ خَلٰٓئِفَ الْاَرْضِ وَرَفَعَ بَعْضَکُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجٰتٍ لِّیَبْلُوَکُمْ فِیْ مَآ اٰتٰیکُمْ اِنَّ رَبَّکَ سَرِیْعُ الْعِقَابِ وَ اِنَّہ لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ ’’اور وہی ہے جس نے زمین میں تمہیں نائب کیا اور تم میں ایک کو دوسرے پر درجوں بلندی دی کہ تمہیں آزمائے اس چیز میں جو تمہیں عطا کی بے شک تمہارے رب کو عذاب کرتے دیر نہیں لگتی اور بے شک وہ ضرور بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ (سورہ انعام ،آیت ۱۶۵)۔

علمی استعداد میں تمام مخلوقات پر برتری

وَعَلَّمَ اٰدَمَ الْاَسْمَآء َ کُلَّہَا ثُمَّ عَرَضَہُمْ عَلَی الْمَلٰٓئِکَۃِ فَقَالَ اَنْبِـُوْنِیْ بِاَسْمَآء ِ ہٰٓؤُلَآء ِ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ() ’’اور اللّٰہ تعالیٰ نے آدم کو تمام اشیاء کے نام سکھائے پھر سب اشیاء ملائکہ پر پیش کرکے فرمایا سچے ہو تو ان کے نام تو بتاؤ ۔‘‘ ( پ ۱،سورہ بقرہ ِآیت۳۱)۔

یک اور مقام پر ارشادربانی ہے

قَالُوْا سُبْحٰنَکَ لَا عِلْمَ لَنَآ اِلَّا مَا عَلَّمْتَنَا اِنَّکَ اَنْتَ الْعَلِیْمُ الْحَکِیْمُ() ’’بولے پاکی ہے تجھے ہمیں کچھ علم نہیں مگر جتنا تو نے ہمیں سکھایا بے شک تو ہی علم و حکمت والا ہے۔ ‘‘( پ۱،سورہ بقرہ، ِآیت ۳۲ )

مخلوق کی خالق سے شناسائی وَ اِذْ اَخَذَ رَبُّکَ مِنْ بَنِیْٓ اٰدَمَ مِنْ ظُہُوْرِہِمْ ذُرِّیَّتَہُمْ وَاَشْہَدَہُمْ عَلٰٓی اَنْفُسِہِمْ اَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ قَالُوْا بَلٰی شَہِدْنَا اَنْ تَقُوْلُوْا یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ اِنَّا کُنَّا عَنْ ہٰذَا غٰفِلِیْنَ()۔ ’’اور اے محبوب یاد کرو جب تمہارے رب نے اولاد آدم کی پشت سے انکی نسل نکالی اور انہیں خود ان پر گواہ کیا،کیا میں تمہارا رب نہیں سب بولے کیوں نہیں ہم گواہ ہوئے کہ کہیں قیامت کے دن کہو کہ ہمیں اس کی خبر نہ تھی۔‘‘( سورہ اعراف آیت ۱۷۲)

خالق کی دی ہوئی ذمہ داری کا امین

اِنَّا عَرَضْنَا الْاَمَانَۃَ عَلَی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ الْجِبَالِ فَاَبَیْنَ اَنْ یَّحْمِلْنَہَا وَ اَشْفَقْنَ مِنْہَا وَ حَمَلَہَا الْاِنْسٰنُ اِنَّہ کَانَ ظَلُوْمًا جَہُوْلًا ()۔ ’’بیشک ہم نے امانت پیش فرمائی آسمانوں اور زمین اور پہاڑوں پر تو انہوں نے اس کے اٹھانے سے انکار کیا اور اس سے ڈر گئے اور آدمی نے اٹھالی بیشک وہ اپنی جان کو مشقت میں ڈالنے والا بڑا نادان ہے ۔‘‘ ( پ۲۲،سورہ احزاب، آیت ۷۲)

مخلوقات پر فضیلت

وَلَقَدْ کَرَّمْنَا بَنِیْٓ اٰدَمَ وَحَمَلْنٰہُمْ فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ وَرَزَقْنٰہُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ وَفَضَّلْنٰہُمْ عَلٰی کَثِیْرٍ مِّمَّنْ خَلَقْنَا تَفْضِیْلًا ۔’’اور بیشک ہم نے اولادِ آدم کو عزت دی اوران کو خشکی اور تری میں سوار کیا اور ان کو ستھری چیزیں روزی دیں اور ان کو اپنی بہت مخلوق سے افضل کیا ۔‘‘ (پ۱۵ سورہ بنی اسرائیل آیت۷۰)

قلبی اطمینان عطا فرمایا

اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَتَطْمَئِنُّ قُلُوْبُہُمْ بِذِکْرِ اللّٰہِ اَلَا بِذِکْرِ اللّٰہِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوْبُ ۔ ’’وہ جو ایمان لائے اور ان کے دل اللّٰہ کی یاد سے چین پاتے ہیں سن لو اللّٰہ کی یاد ہی میں دلوں کا چین ہے۔‘‘ ( سورہ رعد آیت۲۸)

نعمتیں تمام فرما دی

ہُوَ الَّذِیْ خَلَقَ لَکُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا ()ثُمَّ اسْتَوٰٓی اِلَی السَّمَآء ِ فَسَوّٰیہُنَّ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ وَہُوَ بِکُلِّ شَیْء ٍ عَلِیْمٌ()۔’’: وہی ہے جس نے تمہارے لئے بنایا جو کچھ زمین میں ہے پھر آسمان کی طرف استواء (قصد)فرمایا تو ٹھیک سات آسمان بنائے وہ سب کچھ جانتا ہے ۔‘‘ (پ۱،سورہ بقرہ آیت ۲۹)

اپنی نشانیوں سے شناسائی عطا فرمائی

سَخَّرَ لَکُمْ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا مِّنْہُ اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَکَّرُوْنَ ()’’ اور تمہارے لئے کام میں لگائے جو کچھ آسمانوں میں ہیں اور جو کچھ زمین میں اپنے حکم سے بے شک اس میں نشانیاں ہیں سوچنے والوں کے لئے ۔‘‘ ( پ۲۵،سورہ جاثیہ، آیت ۱۳)۔

قرآن پاک میں اللہ پاک انسانیت کے پست ترین کرداروں کا تذکرہ ایسے فرماتے ہیں. خالق سے غفلت

وَ لَا تَکُوْنُوْا کَالَّذِیْنَ نَسُوا اللّٰہَ فَاَنْسٰیہُمْ اَنْفُسَہُمْ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الْفٰسِقُوْنَ () ’’اور ان جیسے نہ ہو جو اللّٰہ کو بھول بیٹھے تو اللّٰہ نے انہیں بَلا میں ڈالا کہ اپنی جانیں یاد نہ رہیں وہی فاسق ہیں ۔‘‘ ( سورہ حشر آیت۱۹)

موت کے بعد غفلت کا انجام بتایا

لَقَدْ کُنْتَ فِیْ غَفْلَۃٍ مِّنْ ہٰذَا فَکَشَفْنَا عَنْکَ غِطَآء َکَ فَبَصَرُکَ الْیَوْمَ حَدِیْدٌ ()۔ ’’بیشک تو اس سے غفلت میں تھاتو ہم نے تجھ پر سے پردہ اٹھایا تو آج تیری نگاہ تیز ہے ۔‘‘ ( پ۲۶،سورہ ق ،آیت ۲۲)

کفار اور منافقوں سے جہاد کا حکم

یٰٓاَیُّہَا النَّبِیُّ جٰہِدِ الْکُفَّارَ وَالْمُنٰفِقِیْنَ وَاغْلُظْ عَلَیْہِمْ وَمَاْوٰیہُمْ جَہَنَّمُ وَبِئْسَ الْمَصِیْرُ ۔ ’’اے غیب کی خبریں دینے والے (نبی)جہاد فرماؤ کافروں اور منافقوں پراور ان پر سختی کرو اور ان کا ٹھکانا دوزخ ہے اور کیا ہی بری جگہ پلٹنے کی ۔‘‘ (پ۱۰،سور ۃ التوبۃ ،آیت:۷۳)۔

کفار کو ڈھیل

وَاَصْحٰبُ مَدْیَنَ وَکُذِّبَ مُوْسٰی فَاَمْلَیْتُ لِلْکٰفِرِیْنَ ثُمَّ اَخَذْتُہُمْ فَکَیْفَ کَانَ نَکِیْرِ () ’’اور مدین والے اور موسٰی کی تکذیب ہوئی تو میں نے کافروں کو ڈھیل دی پھر انہیں پکڑا تو کیسا ہوا میرا عذاب۔ ‘‘(پ۱۷،سورۃ الحج ،آیت۴۴)

جلد باز انسان

وَیَدْعُ الْاِنْسٰنُ بِالشَّرِّ دُعَآء َہ بِالْخَیْرِ وَکَانَ الْاِنْسٰنُ عَجُوْلًا () ۔ ’’اور آدمی برائی کی دعا کرتا ہے جیسے بھلائی مانگتا ہے اور آدمی بڑا جلد باز ہے ۔ ( پ۱۵،سورہ اسرائیل، آیت ۱۱)

غافل انسان کا تعارف اور انجام

وَلَقَدْ ذَرَاْنَا لِجَہَنَّمَ کَثِیْرًا مِّنَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ لَہُمْ قُلُوْبٌلَّایَفْقَہُوْنَ بِہَا وَلَہُمْ اَعْیُنٌ لَّایُبْصِرُوْنَ بِہَا وَلَہُمْ اٰذَانٌ لَّایَسْمَعُوْنَ بِہَا اُولٰٓئِکَ کَالْاَنْعٰمِ بَلْ ہُمْ اَضَلُّ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الْغٰفِلُوْنَ() ’’اور بے شک ہم نے جہنّم کے لئے پیدا کئے بہت جن اور آدمی وہ دل رکھتے ہیں جن میں سمجھ نہیں اور وہ آنکھیں جن سے دیکھتے نہیں اور وہ کان جن سے سنتے نہیں وہ چوپایوں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بڑھ کر گمراہ وہی غفلت میں پڑے ہیں۔‘‘ ( پ ۹،سورہ اعراف ،آیت۱۷۹ )

قرآن پاک کو اگر تعصب کی عینک اتار کر پڑھا جائے تو اللہ پاک نے اس میں واضح اپنے محبوب بندوں کا تعارف بہت خوبصورتی کے ساتھ دیا ہے. ساتھ ہی ساتھ انسان کی غفلت, ہٹ دھرمی, منافقت اور جلد بازی کے بارے میں بھی بتادیا اور ان دونوں طرح کے انسانوں کے انجام سے بھی خبردار فرما دیا. انسان کے سامنے اچھائی اور برائی کے راستے کھول کر بیان فرما دیے تاکہ وہ عقل و شعور کو بروئے کار لاتے ہوئے انسانیت کی معراج کو پا سکے. اللہ پاک فرماتے ہیں. :

وَالْعَصْرِ ()اِنَّ الْاِنْسٰنَ لَفِیْ خُسْرٍ ()اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ تَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَ تَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ() ’’اس زمانہِ محبوب کی قسم ۔بے شک آدمی ضرور نقصان میں ہے۔مگر جو ایمان لائے اور اچھے کام کئے اور ایک دوسرے کو حق کی تاکید کی اور ایک دوسرے کو صبر کی وصیت کی۔‘‘ (پ ۳۰،سورۃ العصر)

عارضہ نرگسیت

2017-06-15 03:36:59 

عارضہ نرگسیت
(معالج: لادینیت یا اسلام؟)

نرگسیت (Narcissism)
یونانی دیو مالائی قصوں میں نرگس ایک حسین شہزادی کا نام ہے. جو اپنے حسن جہاں سوز پر بے حد نازاں تھی. ایک بار جھیل میں غسل کرتے ہوئے شفاف پانی میں اسکی نگاہ اپنے ہی عکس جمیل پر پڑی تو اسی پر فریفتہ ہوگئ.
نرگسیت کی اصطلاح سگمنڈ فرائیڈ نے اسی قصے سے مستعار لی ہے. نرگسی شخصیت کا حامل خود بین,  خود پرست اور حُب ذات میں ڈُوبا ہوا ایک شخص ہے. جس کی تمام تر دلچسپیوں کا مرکز خود اسکا اپنا وجود ہے. انتہائی حالت میں ایسا شخص خبط عظمت اور احساسِ کبریائی کا شکار ہوجاتا ہے. اسکی توجہ اپنی ذات سے نہیں ہٹتی. اسے دوسرے تمام لوگ خود سے کمتر محسوس ہوتے ہیں. کبریائی کا زعم اس پر ایسا حاوی ہوتا ہے کہ وہ سمجھتا ہے یہ دنیا صرف اُسی کے لیے تخلیق کی گئ ہے. بسا اوقات وہ جنسی تنزلی کا اس قدر شکار ہوجاتا ہے کہ وہ جنسی جذبات کی تسکین کے لیے جنسیت کا فرق بھی سمجھ نہیں پاتا. نرگسی شخصیت کی پہچان کسی فرد کے پوشیدہ و ظاہری افکارواعمال اور گفتارو کردار کے بغور تجزیہ سے کی جاسکتی ہے. تاہم چند علامات حسبِ ذیل ہیں.
* ذوق خود آرائی
* توجہ طلبی
* بدگمانی 
* حسدو رقابت
* خوشامد پسندی
* ضعیف الاعتقادی
* غروروتکبر
ہم میں سے ہر انسان خواہ وہ مرد ہویا عورت کسی نہ کسی حد تک نرگسیت مزاج کا حامل ہے. اگر حدِ اعتدال پر رہیں تو نرگسیت شخصیت کی نشونما کا اہم جزو ثابت ہوتی ہے.  اب اعتدال پر بغیر اصول و ضوابط کے قائم نہیں رہا جاسکتا. وہ اصول و ضوابط جو انسانی نفسیات کو قابو میں رکھیں اور شخصیت و ذہنیت پر مثبت اثر انداز ہوں. مذہب اس سلسلے میں بہت اہم کردار ادا کرتا ہے. اورایسا مذہب جو فطرتِ انسانی پر مبنی اصول و ضوابط پیش کرتا ہو اس کی حقانیت کا اس سے بڑا ثبوت کیا ہوگا. دین اسلام فطرتِ انسانی کے تمام  اصول و ضوابط کی تعلیمات پر مبنی ہے. یہ  انسان کو غرورو تکبر, حسدورقابت, خوشامد پسندی, ذوق خود آرائی, توجہ طلبی, بدگمانی, ضعیف الاعتقادی جیسے جذبات و احسات کو معتدل رکھنے کی نہ صرف تعلیمات دیتا ہے بلکہ توجیحات بھی پیش کرتا ہے. اسکے ساتھ انسان کو سادگی, میانہ روی, خدمتِ خلق, عاجزی, عمدہ اخلاق اور اچھا گمان رکھنے کی تلقین کرتا ہے. جو بیک وقت باعث قلبِ سکینت وذہنی آسودگی کا سبب ہے.
اکثر دیکھنے میں آیا ہے جو لادینیت کا شکار ہوتے ہیں وہ نفسیاتی طور پر بھی کمزور ہوتے ہیں. احساسِ نرگسیت ان پر اسلیے زیادہ حاوی ہوتا ہے کہ وہ اپنے لیے مذہبی اصول و ضوابط کا انتخاب نہیں کرتے یا ایسے اصول و ضوابط منتخب کرتے ہیں جو نہ انسانی نفسیات کی تسکین کا باعث  بن سکتے ہیں اور نہ ہی معاشی اقدار و حقوق العباد کو پورا کرنے میں معاون ثابت ہوتے ہیں. انسان اپنی نرگسی نفسیات کو خود ساختہ اصولوں سے کبھی قابو نہیں رکھ سکا اور مستقبل میں بھی اس کے آثار کم ہی نظر آتے ہیں. لادین افراد اکثر اپنی ذات کے زعم میں مبتلا نظر آتے ہیں. اور چند افراد (جو انہی جیسی ذہنیت و اصولوں پر کاربند ہوتے ہیں) کے علاوہ سب کو کم تر اور کم علم سمجھتے ہیں. اور اسکا برملا اظہار کرتے بھی نظر آتے ہیں. جنسیت میں فرق کا امتزاج ان کے لیے ممکن نہیں ہوتا. اور ہم جنس پرستی کو نہ صرف درست سمجھتے ہیں بلکہ اس کی ترویج کرتے بھی نظر آتے ہیں. 
انسان کے خودساختہ قوانین اور اصول و ضوابط اگر اسکے لیے کافی ہوتے تو وہ خلافِ فطرتِ انسانی اور اخلاقی پستی کا شکار ہرگز نہ ہوتا.

فتح مکہ ایک عظیم کامیابی

2017-06-14 13:18:02 

فتح مکہ ایک عظیم کامیابی:

صلح حدیبیہ کا دس سالہ معاہدہ پورا ہونے کو ہی تھا کہ قریشِ مکہ کے ایک اتحادی قبیلے بنو بکر نے مسلمانوں کے اتحادی قبیلہ بنو خزاعہ پر حملہ کردیا. اس حملہ میں قریشِ مکہ بھی چہروں پر نقاب ڈالے شامل تھے . حملہ کے نتیجے میں بنو خزاعہ کا جانی اور مالی نقصان ہوا.
 
قریشِ مکہ کا سردار ابوسفیان اس صُلح کو جاری رکھنا چاہتا تھا لیکن قریشِ مکہ غلطی پر تھے انکی طرف سے معاہدہ کی خلاف ورزی کی گئ تھی. لہذا وہ مدینہ پہنچا اور اپنی بیٹی ام حبیبہ رض اللہ عنہا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجیت میں تھیں ان کے گھر پہنچا. ام حبیبہ رض اللہ عنہا نے رسول اللہ سے کمال وفاداری کا ثبوت دیا اور یہاں تک کہ ابوسفیان کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بستر مبارک پر بھی بیٹھنے کی اجازت نہ دی. ابو سفیان نے پوچھا بیٹی تم ایسا کیوں کرتی ہو. ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا آپ نجس ہیں اب تک اسلام قبول نہیں کیا.میں آپکو بسترِ رسول پر بیٹھنے کی اجازت نہیں دونگی. سب سے بڑھ کر آپ نے معاہدہ کی خلاف ورزی کی. لہذا یہاں سے چلے جائیے. 

ادھر بنو خزاعہ کے لوگ فریاد لے کر رسولِ پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچے اور شاعرانہ انداز میں انتہائی درد ناک طریقہ سے تمام صورت حال آپ کے گوش گزار کی. رسول پاک صلی اللہ وسلم نے بنو خزاعہ کی فریاد کے جواب میں انہیں تسلی دی اور مسلمانوں اور تمام اتحادیوں کو مکہ کی جانب کوچ کرنے کا حکم دیا.
 
دوسری طرف قریشِ مکہ کا سردار ابو سفیان فکر مندی سے اپنے کمرے کے چکر لگا رہا تھا. وہ جانتا تھا حملہ کا ردعمل ضرور آئے گا. لیکن رد عمل کیا آئے گا وہ بے خبر تھا. اسی چیز نے اسکی بے چینی میں کئ گنا اضافہ کردیا کہ آخر مسلمان اب کیا کریں گے.لوگوں کے خیال میں صلحِ حدیبیہ ابھی قائم تھی اس لیے کسی کے گمان میں نہ تھا کہ یہ تیاری مکہ جانے کے لیے ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مدینہ سے باہر جانے والے راستوں پر نگرانی بھی کروائی تاکہ یہ خبریں قریش کا کوئی جاسوس باہر نہ لے جائے۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دعا بھی کی کہ اے خدایا آنکھوں اور خبروں کو قریش سے پوشیدہ کر دے تاکہ ہم اچانک ان کے سروں پر ٹوٹ پڑیں.

 10 رمضان 8ھ کو روانگی ہوئی۔ کسی کو معلوم نہ تھا کہاں جانا ہے۔ ایک ہفتہ میں مدینہ سے مکہ کا فاصلہ طے ہو گیا۔ مکہ سے کچھ فاصلہ پر 'مرالظہران' کے مقام پر لشکرِ اسلام خیمہ زن ہو گیا۔ لوگوں کو معلوم ہو چکا تھا کہ مکہ کا ارادہ ہے۔ ابوسفیان مسلسل بے چینی کا شکار تھا. اس کی آنکھیں کئ راتوں کی بے خوابی کی وجہ سے سوجھی ہوئیں تھیں.  جنگ تو ہوئی نہیں مگر احوال کچھ یوں ہے کہ مر الظہران کے مقام پر حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تاکید کی کہ لشکر کو بکھیر دیا جائے اور آگ جلائی جائے تاکہ قریشِ مکہ یہ سمجھیں کہ لشکر بہت بڑا ہے اور بری طرح ڈر جائیں اور اس طرح شاید بغیر خونریزی کے مکہ فتح ہو جائے۔ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عظیم حکمت عملی کا ہی نتیجہ تھا کہ مکہ بڑی شان سے فتح ہوا.

 مشرکین کے سردار ابوسفیان نے دور سے لشکر کو دیکھا۔ ایک شخص نے کہا کہ یہ شاید بنو خزاعہ کے لوگ ہیں جو بدلہ لینے آئے ہیں مگر اس نے کہا کہ اتنا بڑا لشکر اور اتنی آگ بنو خزاعہ کے بس کی بات نہیں۔ اس کے بعد ابوسفیان حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے امان پانے کے لیے لشکرِ اسلام کی طرف حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چچا عباس کی پناہ میں چل پڑا۔ کچھ مسلمانوں نے اسے مارنا چاہا مگر چونکہ عباس بن عبدالمطلب نے پناہ دے رکھی تھی اس لیے باز آئے۔ رات کو قید میں رکھ کر صبح ابوسفیان کو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا گیا۔ ابو سفیان نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اسلام قبول کیا. اور ان سے امان مانگی. وہ عہدہ کا خواہاں تھا. رسول اللہ نے اس کی خواہش کو رد نہ کیا اور فرمایا جو ابوسفیان کے گھر پناہ لے وہ امان میں ہے. ابو سفیان کو واپس بھیج دیاگیا. ابو سفیان مکہ واپس آیا تو اس پر مسلمانوں کی ہیبت طاری تھی. 

ادھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لشکر کو چار حصوں میں ترتیب دے کر اس تاکید کے ساتھ مکہ میں داخل کیا کہ جو تم سے لڑے صرف اسی سے لڑو. جو اپنے گھر کا دروازہ بند کرلے یا ابوسفیان کے گھر پناہ لے اس پر ہتھیار نہ اٹھاؤ.چاروں طرف سے شہر کا محاصرہ کر لیا گیا اور مشرکین کے پاس ہتھیار ڈالنے کے علاوہ کوئی راستہ نہ رہا۔ صرف ایک چھوٹے گروہ نے لڑائی کی جس میں صفوان بن امیہ بن ابی خلف اور عکرمہ بن ابی جہل شامل تھے۔ ان کا ٹکراؤ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی قیادت کردہ دستے سے ہوا۔ مشرکین کے 28 افراد انتہائی ذلت سے مارے گئے۔ صفوان بن امیہ فرار ہوگیا. لیکن کچھ عرصہ بعد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر اسلام قبول کر لیا. ایسی حالت میں کہ وہ زار و زار روتا جاتا تھا. اسکی بیوی پہلے ہی مسلمان ہو چکی تھی. 

لشکر اسلام انتہائی فاتحانہ طریقہ سے شہرِ مکہ میں داخل ہوا جہاں سے آٹھ سال پہلے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ہجرت کرنا پڑی تھی۔ 17 رمضان المبارک 8 ہجری کو مکہ فتح ہوا. رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اونٹنی پر سوار تھے اور مکہ کی گلیوں اور چھتوں پر طلع البدرو علینا کی صدائیں بلند ہونے لگیں.

 کچھ آرام کے بعد حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مجاہدین کے ہمراہ کعبہ کہ طرف روانہ ہوئے۔ کعبہ پر نظر پڑتے ہی سواری کی ہی حالت میں حجرِ اسود کو بوسہ دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تکبیر بلند کرتے تھے اور لشکرِ اسلام آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے جواب میں تکبیر بلند کرتے تھے۔ کعبہ میں داخل ہونے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تمام تصاویر کو باہر نکال دیا اور تمام بتوں کو توڑ دیا۔ یہاں تک کہ کعبہ کو شرک کی تمام علامتوں سے پاک کر دیا۔ کعبہ میں اذان کے لیے بلال حبشی رضی اللہ عنہ کو بلایا جنہوں نے پر سوز آواز میں اذان دی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امامت میں مسلمانوں نے نماز پڑھی.

 مکہ والوں نے بڑے پرتپاک طریقہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا استقبال کیا. اللہ پاک نے اپنے حبیب کی اپنے مقدس شہر میں شان بلند کردی. قریش مکہ کے تمام مظالم جنہوں نے حبیب اللہ کو ہجرت پر مجبور کردیا تھا معاف فرما دیے گئے. اس موقع پر فاتح مکہ نے عام معافی کا اعلان کردیا. سب کو امان دی.صرف نو لوگوں کو سزا سنائی گئ جن کے جرائم انتہائی سنگین سازشوں اور گستاخیِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر مشتمل تھے. ان کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ وآلہ وسلم نے فرمایا انہیں قتل کردیا جائے. ان کے نام یہ ہیں.
(۱) عبد العزیٰ بن خَطل 
(۲) عبد اللہ بن سعد بن ابی سرح
(۳) عکرمہ بن ابی جہل 
(۴) حارث بن نُفیل بن وہب 
(۵) مقیس بن صبابہ 
(۶) ہبّار بن اسود 
(۷،۸) ابن ِ خطل کی دولونڈیاں جو نبیﷺ کی ہجو گایا کرتی تھیں 
(۹) سارہ جو اولاد عبدالمطلب میں سے کسی کی لونڈی تھی، اسی کے پاس حاطب کا خط پایا گیا تھا۔

بعد ازاں ان میں سے 5 نے اسلام قبول کرلیا اور 4 کو قتل کردیا گیا.

بے شک اللہ نے اپنا وعدہ پورا فرمایا اور اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر بلند فرما دیا

وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ

خصوصیاتِ رمضان

2017-06-02 11:42:19 

خصوصیاتِ رمضان

رمضان المبارک کا مقدس مہینہ اپنے اندر لامحدود، ان گنت رحمتیں سموئے ہوئے ہے۔ اللہ تعالیٰ کی بے پایاں رحمتیں اور برکتیں نازل ہو رہی ہیں۔ مسلمانوں کے لئے یہ ماہ مقدس نیکیوں کی موسلادھار بارش برساتا ہے اور ہر مسلمان زیادہ سے زیادہ نیکیاں حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
رمضان کا مہینہ باقی مہینوں کا سردار ہے۔ خوش قسمت ہیں وہ مسلمان جن کی زندگی میں یہ مہینہ آیا اور وہ اللہ تعالیٰ کی رحمتیں حاصل کرنے میں اپنی تمام تر توانائیاں صرف کر رہے ہیں۔رمضان کا لفظ ”رمضا“ سے نکلا ہے اور رمضا اس بارش کو کہتے ہیں جو کہ موسم خریف سے پہلے برس کر زمین کو گردوغبار سے پاک کر دیتی ہے۔ مسلمانوں کے لئے یہ مہینہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے رحمت کی بارش کا ہے جس کے برسنے سے مومنوں کے گناہ دھل جاتے ہیں۔
عربی زبان میں روزے کے لئے صوم کا لفظ استعمال ہوا ہے جس کے معنی رک جانا کے ہیں یعنی انسانی خواہشات اور کھانے پینے سے صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے صبح صادق سے لے کر غروب آفتاب تک رک جاتا ہے اور اپنے جسم کے تمام اعضاءکو برائیوں سے روکے رکھتا ہے۔
انسان کائنات میں رہتے ہوئے جو کوئی بھی کام کرتا ہے اس کی غرض و غایت اور مقصد ہوتا ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ نے رمضان المبارک کی غرض و غایت اور مقصد تقویٰ کو قرار دیا ہے ایک مسلمان روزہ کی وجہ سے برائیوں کو ترک کر دیتا ہے اور نیکیوں کی طرف راغب ہوتا ہے جس کی وجہ سے اس کا ایمان بڑھ جاتا ہے۔
تقویٰ نام ہی اس چیز کا ہے کہ تمام برائیوں سے انسان نفرت کرنے لگے اور نیکیوں کی طرف لپک کر جائے۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالے عنہ سے کسی نے پوچھا کہ اے امیر المومنین تقویٰ کیا ہے؟ آپ رضی اللہ تعالے عنہ نے فرمایا کیا تیرا گزر کبھی خاردار جھاڑیوں سے ہوا ہے؟ تو وہاں سے کیسے گزرتا ہے؟
عرض کی کہ اپنے دامن کو سمیٹ کر، کانٹوں سے بچ کر گزرتا ہوں کہ کہیں خاردار کانٹوں کی وجہ سے میرا جسم زخمی نہ ہو جائے تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالے عنہ نے فرمایا یہی تقویٰ ہے کہ مسلمان اس دنیا میں گناہوں سے اپنے دامن کو بچا کر گزر جائے اور آخرت کا رختِ سفر باندھ لے.
روزوں کی فرضیت کے بیان میں.
* يَآ اَيُّـهَا الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّـذِيْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْن
َسورہ البقرہ(183)
اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں جیسے ان پر فرض کیے گئے تھے جو تم سے پہلے تھے تاکہ تم پرہیز گار ہو جاؤ۔
* ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا." مجھے بتایے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر کتنے روزے فرض کیے ہیں. تو آپ ص نے فرمایا: "رمضان کے مہینے کے" (بخاری : 1891)
روزوں کی فضیلت کے بیان میں.
*ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا" جب رمضان کا مہینہ آتا ہے تو آسمان(یعنی جنت) کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور شیاطین جکڑ دیے جاتے ہیں". (بخاری : 1899- مسلم : 1079)
* ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ وسلم نے فرمایا " جو شخص ایمان کے ساتھ خالص اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے رمضان کے روزے رکھے تو اس کے پہلے تمام گناہ معاف کردیے جاتے ہیں " (بخاری : 2014- مسلم 709)
*ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ روزہ ڈھال ہے، اس لیے نہ تو بری بات کرے اور نہ جہالت کی بات کرے اگر کوئی شخص اس سے جھگڑا کرے یا گالی گلوچ کرے تو کہہ دے میں روزہ دار ہوں، دوبار کہہ دے۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے بہتر ہے وہ کھانا پینا اور اپنی مرغوب چیزوں کو روزوں کی خاطر چھوڑ دیتا ہے اور میں اس کا بدلہ دیتا ہوں اور نیکی دس گنا ملتی ہے۔
(صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 1776)
* ’’روزہ ایک ڈھال ہے جس کے ذریعے سے بندہ جہنم کی آگ سے بچتا ہے۔‘‘
(صحیح الجامع،حدیث 3866 )
* ایک حدیث میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’جس نے اللہ تعالیٰ کے راستے میں ایک دن روزہ رکھا، تو اللہ تعالیٰ اس کے چہرے کو جہنم سے ستر سال (کی مسافت کے قریب) دور کر دیتا ہے۔‘‘
(صحیح البخاری، الجھاد والسیر ، باب فضل الصوم فی سبیل اللہ، ح ۰ 284 وصحیح مسلم، الصیام، فضل الصیام فی سبیل اللہ۔۔۔ح:1153)
*نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’جنت (کے آٹھ دروازوں میں سے) ایک دروازے کا نام ’’ رَیّان‘‘ ہے، جس سے قیامت کے دن صرف روزے دار داخل ہوں گے، ان کے علاوہ اس دروازے سے کوئی داخل نہیں ہوگا، کہا جائے گا روزے دار کہاں ہیں؟ تو وہ کھڑے ہو جائیں گے اور (جنت میں داخل ہوں گے) ان کے علاوہ کوئی اس دروازے سے داخل نہیں ہوگا۔ جب وہ داخل ہو جائیں گے، تو وہ دروازہ بند کر دیا جائے گا اور کوئی اس سے داخل نہیں ہوگا۔‘‘
(صحیح البخاری، الصوم، باب الریان للصائمین، ح : 1896وکتاب بدء الخلق، ح: 3257 وصحیح مسلم، باب فضل الصیام،ح: 1152)
روزہ کی اہمیت:
*روزہ اسلامی ارکان میں سے چوتھا رکن ہے۔
*روزے جسمانی صحت کو برقرار رکھتے ہیں بلکہ اسے بڑھاتے ہیں۔
*روزوں سے دل کی پاکی، روح کی صفائی اورنفس کی طہارت حاصل ہوتی ہے۔
*روزے ، دولت مندوں کو،غریبوں کی حالت سے عملی طور پر باخبر رکھتے ہیں۔
*روزے ، شکم سیروں اور فاقہ مستوں کو ایک سطح پر کھڑا کر دینے سے قوم میں مساوات کے اصول کو تقویت دیتے ہیں۔
*روزے ملکوتی قوتوں کو قوی اور حیوانی قوتوں کو کمزور کرتے ہیں۔
*روزے جسم کو مشکلات کا عادی اور سختیوں کا خوگر بناتے ہیں۔
*روزوں سے بھوک اور پیاس کے تحمل اور صبر و ضبط کی دولت ملتی ہے۔
*روزوں سے انسان کو دماغی اور روحانی یکسوئی حاصل ہوتی ہے۔
*روزے سے بہت سے گناہوں سے انسان کو محفوظ رکھتے ہیں۔
*روزے نیک کاموں کیلئے اسلامی ذوق و شوق کو ابھارتے ہیں۔
*روزہ ایک مخفی اور خاموش عبادت ہے جو ریاونمائش سے بری ہے۔

اللہ کی اطاعت کس لیے

2017-05-31 15:52:59 

اللہ کی اطاعت کس لیے؟
اسلام اللہ اور رسولﷺ کی اطاعت کا نام ہے اور آدمی مسلمان بن ہی نہیں سکتا جب تک وہ اپنی خواہشات کی, رسم و رواج کی, دنیا کے لوگوں کی, غرض ہر ایک کی اطاعت چھوڑ کر اللہ اور اسکے رسول ﷺ کی اطاعت نہ کرے.
اللہ اور اسکی رسول ﷺ کی اطاعت پر اس قدر زور کیوں دیا جاتا ہے؟
ایک شخص پوچھ سکتا ہے کہ کیا خدا ہماری اطاعت کا محتاج ہے ؟ نعوذ باللہ کہ وہ ہم سے اس طرح اپنی اور اپنے رسول کی اطاعت کا مطالبہ کرتا ہے ؟ کیا نعوذ باللہ خدا بھی دنیا کے حاکموں کی طرح اپنی حکومت چلانے کی خواہش رکھتا ہے کہ جیسے دنیا کے حاکم کہتے ہیں کہ ہماری اطاعت کرو اور اسی طرح خدا بھی کہتا کہ میری اطاعت کرو؟
اصل بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جو انسان سے اطاعت کا مطالبہ کرتا ہے وہ انسان ہی کی فلاح اور بہتری کے لیے کرتا ہے. وہ دنیا کے حاکموں کی طرح نہیں ہے. دنیا کے حاکم اپنے فائدے کے لیے لوگوں کو اپنی مرضی کا غلام بنانا چاہتے ہیں مگر اللہ تمام فائدوں سے بے نیاز ہے. اس کو ہم سے ٹیکس لینے کی حاجت نہیں. اسے کوٹھیاں بنانے اور موٹریں خریدنے اور ہماری کمائی سے اپنے عیش کے سامان جمع کرنے کی حاجت نہیں. وہ پاک ہے. کسی کا محتاج نہیں. دنیا میں سب کچھ اسی کا ہے. اور سارے خزانوں کا وہی مالک ہے. وہ ہم سے صرف اسلیے اطاعت کا مطالبہ کرتا ہے کی اس میں ہماری بھلائی ہے. وہ نہیں چاہتا کی جس مخلوق کو اس نے اشرف المخلوقات بنایا ہے وہ شیطان کی غلام بن کر رہے یا پھر کسی انسان کی غلام ہو یا ذلیل ہستیوں کو سامنے سر جھکائے. وہ نہیں چاہتا کہ جس مخلوق کو اس نے زمین پر اپنی خلافت دی ہے وہ جہالت کی تاریکیوں میں بھٹکتی رہے. اور جانوروں کی طرح اپنی خواہشات کی بندگی کر کے اَسفَلُ السّافِلِینَ میں جاگرے. اسلیے وہ فرماتا ہے کہ تم میری اطاعت کرو, اور ہم نے اپنے رسولوں کے ذریعہ سے جو روشنی بھیجی ہے اسکو لے کر چلو پھر تم کو سیدھا راستہ مل جائے گا. اور تم اس راستہ پر چل کر دنیا میں بھی عزت اور آخرت میں عزت حاصل کر سکو گے.
لَآ اِكْـرَاهَ فِى الدِّيْنِ ۖ قَدْ تَّبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ ۚ فَمَنْ يَّكْـفُرْ بِالطَّاغُ
وْتِ وَيُؤْمِنْ بِاللّـٰهِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقٰى لَا انْفِصَامَ لَـهَا ۗ وَاللّـٰهُ سَـمِيْعٌ عَلِـيْم(256)
 اَللَّـهُ وَلِىُّ الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا يُخْرِجُـهُـمْ مِّنَ الظُّلُمَاتِ اِلَى النُّوْرِ ۖ وَالَّـذِيْنَ كَفَرُوٓا اَوْلِيَآؤُهُـمُ الطَّاغُوْتُ يُخْرِجُوْنَـهُـمْ مِّنَ النُّـوْرِ اِلَى الظُّلُـمَاتِ ۗ اُولٰٓئِكَ اَصْحَابُ النَّارِ ۖ هُـمْ فِيْـهَا خَالِـدُوْنَ (257)

دین کے معاملے میں زبردستی نہیں ہے، بے شک ہدایت یقیناً گمراہی سے ممتاز ہو چکی ہے، پھر جو شخص شیطان کو نہ مانے اور اللہ پر ایمان لائے تو اس نے مضبوط حلقہ پکڑ لیا جو ٹوٹنے والا نہیں، اور اللہ سننے والا جاننے والا ہے.
اللہ ایمان والوں کا مددگار ہے اور انہیں اندھیروں سے روشنی کی طرف نکالتا ہے، اور جو لوگ کافر ہیں ان کے دوست شیطان ہیں جو انہیں روشنی سے اندھیروں کی طرف نکالتے ہیں، یہی لوگ دوزخ میں رہنے والے ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔
اللہ پاک ہی کی وہ ذات ہے جہاں سے روشنی مل سکتی ہے. اللہ علیم و بصیر ہے. وہ ہر چیز کی حقیقت کو جانتا ہے. وہی ٹھیک ٹھیک بتا سکتا ہے کہ حقیقی نفع کس چیز میں ہے اور حقیقی نقصان کس میں. وہ بے نیاز بھی ہے. اسکی اپنی کوئی غرض ہے ہی نہیں. اسے اسکی ضرورت ہی نہیں ہے کہ معاذ اللہ ہمیں دھوکا دے کر کچھ نفع حاصل کرے. اسلیے وہ پاک بے نیاز جو کچھ بھی ہدایت دے گا. بے غرض دے گا اور صرف ہمارے فائدے کے لیے دے گا. پھر اللہ تعالیٰ عادل بھی ہے. ظلم کا اس ذات پاک میں شائبہ تک بھی نہیں ہے. اسلیے وہ سراسر حق کی بنا پر حکم دے گا. اسکے حکم پر چلنے میں اس بات کا کوئی خطرہ نہیں ہے. کہ ہم خود اپنے اوپر یا دوسرے لوگوں پر کسی قسم کا ظلم کر جائیں.

منتخب تحریریں