بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ * لا الہٰ الا اللہ محمّد رسول اللہ * قُلْ هُوَ اللّـٰهُ اَحَدٌ - اَللَّـهُ الصَّمَدُ - لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُوْلَدْ - وَلَمْ يَكُنْ لَّـهٝ كُفُوًا اَحَدٌ

ثمرینہ علی


شخصیت پرستی اور ہم

2017-07-18 13:15:35 

ٹی وی پر کوئی سا نیوز چینل لگا لیں۔۔ ایک بندہ بشر منہ سے کف اڑاتے ، ہاتھ ہلاتے ہوئے اپنے لیڈر کی تعریف میں زمین آسمان کے قلابے ملاتا ہوا اور مخالف لیڈر کی ایسی کی تیسی کرتا ہوا نظر آئے گا۔۔۔ اور جو حسرت ٹی وی پر نہ نکل سکے وہ سوشل میڈیا کے ذریعے پوری کی جاتی ہے جہاں لوگ اپنے پسندیدہ لیڈر کے گن گان گاتے اور مخالف پر دشنام طرازی کرتے نظر آئیں گے۔ یہ شدت پسندانہ رویہ ہمیں ہر شعبے اور مکتبہ فکر کے لوگوں میں نظر آتا ہے ۔ اسی رویہ کا نام شخصیت پرستی ہے۔۔

شخصیت پرستی کا رحجان قدیم زمانے سے ہی کسی نا کسی شکل میں موجود رہا ہے۔ زمانہ قدیم میں مختلف قبائل کے سردار اپنے آپ کو دیوتا کہلواتے تھے ۔ یونان اور روما کے بادشاہ اپنے آپ کو دیوتاوں کا پسندیدہ قرار دیتے تھے اور رعیت کو فرض قرار دیتے تھے۔ تاریخ میں ایسے کئی نیک اور اللہ کے پسندیدہ بندوں کے نام ملتے ہیں جن کے مرنے کے بعد ان کی قوم نے ان کے مجسمے اور تصاویر بنا لیں اور تعلیمات کو بھلا کر ان مجسموں کی پرستش کرنے لگے۔ شخصیت پرستی کو انسانی فطرت قرار دیا جا سکتا ہے۔ اسی فطرت کے ہاتھوں مجبور ہو کر اس نے اپنے جیسے انسان کو سر آنکھوں پر بیٹھایا، اسے اپنے سے برتر اور بالادست سمجھا۔اس کی خامیوں سے صرفِ نظر کرکے اس کی خوبیوں کو بڑھا چڑھا کر بیان کیا ۔ کسی بھی کام کے غلط یا درست ہونے کا پیمانہ اس شخص کی ذاتی پسند نا پسند کو ٹھہرایا۔ شخصیت پرستی کے زیر اثر ہم سنی سنائی باتوں اور افواہوں پر یقین کر لینے، چھوٹی چھوٹی عنائیتو ں سے خوش ہو جانے ، جھوٹے وعدوں پر یقین کر لینے ، جذباتی تقاریر سے جوش میں آجانے اور ان شخصیات کے لیے لڑنے مرنے پر آمادہ ہو جاتے ہیں۔

دیکھا جائے تو انسان کا طرہ امتیاز سوچ سمجھنے کی صلاحیت ہے جو کہ اس کو باقی نوع سے منفرد کرتی ہے۔ دیگر نوع عقل و شعور سے بیگانہ ہوتیں ہیں جبکہ اللہ تعالی نے انسان کو عقل و شعور اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ودیعت کی اور اگر حضرت انسان اسی سوچنے سمجھنےکو بالائے طاق رکھ کر دوسروں کے احکام اور پسند کے مطابق کام کرے تو کیا اسے باشعور اور عقل مندانہ رویہ کہا جائے گا؟؟ یقیناََ جواب نہیں ہوگا۔

یہ اسی شخصیت پرستی کا اعجاز ہے آج ہمارا معاشرہ مسائلستان بن چکا ہے۔

سمجھنے کی بات یہ ہے کہ ہر '' انسان '' میں خوبیاں بھی ہوتیں اور خامیاں بھی۔ ہر انسان اپنے فائدہ کے لیے کبھی سچ اور جھوٹ کا سہارا لے سکتا ہے۔اس لیے کسی بھی فرد کی بیجا حمایت یا مخالفت کرنا صحت مندانہ رویہ نہیں ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے رویوں پر نظر ثانی کریں اور اس شدت پسند رویہ کی ہر سطح پر نفی کریں ، کیونکہ شخصیت پرستی میں جکڑے ہوئے لوگ اس ہجوم کی طرح ہیں جو کہ شور و غوغا تو کر سکتے ہیں لیکن معاشرے کی اصلاح نہیں۔

اللہ تعالی ہمیں سیدھی راہ پر چلنے اور عمل کرنے کی توفیق عطا کرے ۔ آمین

شہادت سے آزادی تک۔۔

2017-07-08 07:02:59 

پندرہ سالہ بچہ اپنے بڑے بھائی پر ہونے والے تشدد کے خلاف ہتھیار اٹھاتا ہے۔۔۔۔ فلمی سا لگتا ہے ۔۔ لیکن حقیقت ہے۔ اسکول کے پرنسپل کا بیٹا اور ممتاز طالب علم برہان وانی کے بھائی خالد وانی کو 2010ء میں عسکریت پسندوں کی بھرتیاں کرنے کے الزام میں ہندوستانی فورسز نے تشدد کا نشانہ بنایا۔ یہ واقعہ پندرہ سالہ برہان وانی کے ہتھیار اٹھانے کا سبب بنا اور وہ حزب المجاہدین میں شامل ہوگیا۔ اپنی شہادت سے ایک سال پہلے برہان وانی کی ایک ویڈیو منظر عام پر آئی تھی جس میں انہوں نے کشمیری نوجوانوں کو ہندوستان کے خلاف مسلح جدو جہد کا حصہ بننے کی دعوت دی تھی، یہ پہلا موقع تھا کہ کسی عسکری تنظیم کی جانب سے باقاعدہ طور پر نوجوانوں کو ہندوستانی فورسز کے خلاف مسلح جدوجہد میں حصہ لینے کی دعوت دی گئی تھی۔وانی کشمیر میں ہندوؤں کی آباد کاری کے خلاف تھا لیکن وہ کشمیری پنڈتوں کا کشمیر پر حق تسلیم کرتا تھا۔وہ مسئلہ کشمیر کے فلسطین کے طرز پر حل کے مخالف تھا۔وانی پہلا فرد تھا جس نے سوشل میڈیا کو تحریکِ آزادی کے لیے اپنا ہتھیار بنایا۔ اس نے پہلی بار گوریلا جنگ کے نئے اصول متعارف کروائے۔ نقاب اتار دیے، فوجی وردی زیب زن کی، بکتر بند گول ٹوپی پہنے یہ نوجوان اچانک نمودار ہو ہندوستانی فوج کا غرور خاک میں ملانے لگے۔ برہان وانی کے اس طرزِ عمل سے ہندوستان کا یہ پروپگینڈا خاک میں مل گیا کہ کشمیری نوجوان تحریک آزادی سے لا تعلق ہیں۔ وانی نے تحریک آزادی کو مقبول کر دیا کہ میر واعظ جیسے لیڈر یہ کہنے پر مجبور ہو گئے کہ تحریک آزادی کشمیر اب ہمارے ہاتھ سے نکل کر نوجوانوں میں منتقل ہوگئی ہے۔ سوشل میڈیا کو ہتھیار بنانے اور کشمیری نوجوانوں کو تحریک میں شامل کرنے کی پاداش میں 8 جولائی 2016ء کو برہان وانی کو دو ساتھیوں سمیت شہید کردیا۔ ان کے جنازے میں لاکھوں افراد نے شرکت کی ۔ برہان وانی کے جسد کو پاکستانی پرچم میں لپیٹ کر دفنایا گیا۔ یہ پاکستان کے لیے اعزاز کی بات ہے۔ شاید ہندوستان کا خیال تھا کہ برہان وانی کی شہادت کے بعد وہ کشمیر کی آزادی کی تحریک کو دبا لے گا۔ لیکن وانی کی شہادت کے بعد سے ہونے والے مظاہروں کا سلسلہ کسی نہ کسی شکل میں ابھی تک جاری و ساری ہے۔ ہندوستان پوری طاقت کے استعمال کے باوجود ان پر قابو نہیں پا سکا۔ اب تک کشمیری140 جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں۔ جبکہ پیلٹ گن سے نابینا ہونے والے لوگوں کی تعداد 7760 ہے جبکہ زخمی لاتعداد ہیں۔ انگنت قربانیوں کے بعد بھی کشمیریوں کا جذبہ حریت مانند نہیں پڑا ۔ وہ دن دور نہیں جب انہیں ہندوستان کے جابرانہ تسلط سے نجات مل جائے گی۔ گو کہ ہماری نالائق اور مفاد پرست لیڈر شپ اپنا فرض ادا نہ کر سکی لیکن پاکستانی عوام کے دل اپنے کشمیری بھائی بہنوں کے لیے ہمیشہ دعا گو رہتے ہیں۔ اللہ تعالی مقبوضہ کشمیر کے عوام کو آزادی کی نعمت سے سرفراز کرے۔ آمین

کیا ہم جنیاتی طور پر ہندو ہیں؟؟

2017-07-08 06:59:20 

کچھ دنوں پہلے ایک گروپ میں بات کرتے ہوئے یہ الفاظ پڑھے کہ ہم جنیاتی طور پر ہندو ہیں ۔۔۔ کچھ سمجھ میں نہیں آیا سو وضاحت کا کہا ۔۔ جب وضاحت ملی تو ذہن میں مذیدالجھن بڑھ گئی ،سوچا اب کہ خود ہی اس سوال کا جواب تلاش کیا جائے۔ پتا تو چلے حقیقت کیا ہے؟؟؟ آئیے دیکھتے ہیں جینز کیا ہے؟؟؟ کروموسومز کا ایک بڑا حصہ جینز کہلاتا ہے۔۔ جینز دراصل ایک ایسا مورثی مادہ ہے جو والدین کی خصوصیات مثلاََ جلد، آنکھوں، بالوں وغیرہ کی رنگت، شکل و صورت اورعادتوں کو بچے میں منتقل کرتا ہے۔اسکے علاوہ جدید ریسرچ کی مدد سے ہم بچے کی پیدائش سے پہلے اسکی موروثی بیماری کا علاج کرسکتے ہیں، مجرموں کو پکڑ سکتے ہیں۔ یاد رکھنے کی بات کہ جینز والدین یا ان کے آباوّ اجداد کی شکل و صورت کی خصوصیات اور کچھ مخصوص عادتوں کو منتقل کرتا ہے۔ نہ کہ عقائد اور نظریات کو۔ ہماری رویے کی سائنس جسے عرف عام میں سائیکولوجی بھی کہا جاتا ہے کہتی ہے کہ '' اگرچہ کچھ رویوں کی بنیاد جینز پر ہے لیکن ماحول کو بنیادی حثیت حاصل ہے''۔ نفسیات کے ماہرین کہتے ہیں کہ فرد کےکردار ، نظریات ، عقائد اور اعمال اس کی پرورش اور اردگرد کے ماحول کے تابع ہوتے ہیں ۔ اگرچہ کچھ ریسرچیز کہتی ہے کہ کہ فرد کے وراثتی عادات میں اسکی جینز کا ہاتھ ہوتا ہے لیکن اس وراثتی جینز کا کردار فرد کے ماحول سے اکتساب شدہ رویے کی نسبت بہت کم ہوتا ہے۔ صرف اتنا ہی کہ جتنا ہم بعض اوقات کسی کے ترغیب دینے سے کوئی کام کرنے پر آمادہ ہو جاتے ہیں۔ رویے کو جانچنے والے ماہر نفیسات متفق ہیں کہ کسی بھی فرد کے رویے کو جانچنے کے لیے اس کے خاندان یا جینز سے زیادہ اس کے ماحول اور ماحول کے عوامل کو جاننا ضروری ہے، اور فرد کے ماحولیاتی عوامل کی بدولت ہی اس کے بارے میں بہتر پیشن گوئی کی جاسکتی ہے نہ کہ اسکے جینز کے بارے میں جاننے کے بعد۔اسکے ساتھ ساتھ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ انہیں اس بات پر شک ہے کہ انسانی رویے جینز کے تابع ہیں۔ اور پھر انسان کے ماحول، جگہ، گھر کی تبدیلی کے ساتھ ساتھ اس کے مزاج میں بھی تبدیلی رونما ہوتی ہے۔ عمر کے ساتھ ساتھ بھی انسان کے خیالات ، نظریات اور رویہ بدلتے رہتے ہیں ۔ اگر مزاج اور رویہ جینز کے تابع ہوتا تو کیا ایسا ممکن ہوتا؟؟؟ چلیں اگر تھوڑی دیر کو مان بھی لیں کہ جینز ہمارے مذہبی عقائد و نظریات پر اثر انداز ہوتی ہے تو آج سے چودہ سو سال پہلے یہ کیسے ممکن ہوا کہ ایک ایسا فرد جو کہ مشرکانہ ماحول اور تربیت میں پروان چڑھا وہ صرف اور صرف اپنے مذہبی عقائد اور نظریہ کی تبدیلی کی بنا پر اپنے قبیلے اور خاندان کا دشمن ہو جاتا؟؟؟؟ بطور مسلمان ہم نوزائیدہ بچے کے دائیں کان میں اذان دیتے ہیں اور بائیں کان میں اقامت کہی جاتی ہے۔۔۔ کیوں ؟؟؟ کیا صرف بطور رسم؟؟؟ یقیناََ رسم کے طور پر بھی دی جاتی ہے ۔ ماہرین نفسیات کہتے ہیں کہ انسانی دماغ کے دو حصے ہیں بالکل ہمارے جسمانی اعضاء کی طرح۔ جیسے ہمارے اعضاء اکٹھے کام کرنے کے علاوہ علیحدہ علیحدہ کام کرسکتے ہیں اسی طرح انسانی دماغ کے دو حصے ہیں۔ بائیں حصے کا تعلق ہماری باہر کی دنیا سے ہے جبکہ دائیں حصے کا تعلق ہماری باطنی قوتوں سے ہیں۔ یہ دونوں حصے علیحدہ علیحدہ کام کرنے کے علاوہ اکھٹے بھی کام کرتے ہیں۔ غور کریں نوزائیدہ بچے کے دائیں کان میں اذان دی جاتی ہے کہا جاتا ہے '' اللہ سب سے بڑا ہے اللہ سب سے بڑا ہے۔ میں گواہی دیتا/ دیتی ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔میں گواہی دیتا/دیتی ہوں کہ حضرت محمد ﷺاللہ کے آخری رسول ہے۔۔۔ تو یہ بات تو بچے کے لاشعور تک اتر گئی۔ اسی طرح جب بائیں جانب اقامت کہی جاتی ہے تو یہ الفاظ شعور میں داخل ہو جاتے ہیں۔اور اسطرح شعوری اور لاشعوری طور پر بچے کے دماغ کی اتھاہ گہرائیوں میں اتر جاتے ہیں۔ جب عقلی طور پر ایک فرد ان الفاظ کو اپنے دماغ میں سمو کر پروان چڑھے گا تو کیسے کوئی جینز اس پر اثر انداز ہوگی؟؟؟؟ اب جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ ان کا تعلق جینیاتی طور پر ہندووّں سے ہے اس میں کتنی حقیقت ہے ؟؟؟ اس کا اندازہ آپ خود لگا لیں۔ اب سوال یہ ہے کہ اپنے آپ کو جینیاتی طور پر ہندو کیوں کہا جائے۔۔۔ اس زہریلی سوچ کے ڈانڈے '' اکھنڈ بھارت'' کی خواہش رکھنے والوں سے جا ملتے ہیں۔ جو کہ کبھی یکساں ثقافت کا نعرہ لگاتے ہیں اور کبھی یکساں زبان کا۔ جن کو کبھی انسانیت کا نعرہ بھاتا ہے اور کبھی وہ خونی بٹوارہ کی دہائی دیتے نظر آتے ہیں۔ ان آوازوں کو مضبوطی دیتے ہیں میر جعفر و میر صادق کی روایات کے امین ہمارے اپنے۔ جن سے بچنے کے لیے ہمیں اپنے کان، آنکھ کھلا رکھنے کی اشد ضرورت ہے تاکہ ہمیں دوستوں دشمنوں میں فرق کا علم ہو سکے۔ اللہ تعالی پاکستان کو اپنے حفظ و امان میں رکھے۔ آمین

کیا پاکستان کا نصاب نظریاتی ہونا چاہیے؟

2017-07-08 06:58:02 

بچے کسی بھی ملک کا اثاثہ ہوتے ہیں کیوں کہ ان ہی ذہنی و فکری تربیت کی بدولت معاشرہ ارتقاء کی منزلیں طے کرتا ہے۔ تعلیم بچوں کی ذہنی و فکری تعمیر میں ممدو و معاون ثابت ہوتی ہے۔ تعلیم ہی سے معاشرتی، تہذیبی، دینی،سیاسی ،اقتصادی اور تاریخی راہیں استوار ہوتی ہیں۔ فی زمانہ تعلیم کے شعبے کو اتنی اہمیت حاصل ہوگئی ہے کہ اگر کسی طاقت ورملک نے کسی ملک پر قبضہ کرنا ہو تو وہ اپنے مقصد کے حصول کے لیے نصابِ تعلیم کو اپنا ہدف بناتا ہے اور اسکی کوشش ہوتی ہے کہ اس ملک کے ایسے نظریات و عقائد کو ختم کر کے اپنے من پسند نظریات و عقائد ٹھونسے جائیں تاکہ زمینی قبضہ سے پہلے ذہن ان کے قابو میں آ جائے۔ اور اسطرح زمینی قبضہ کی بھی ضرورت باقی نہیں ۔ وطنِ عزیز کی صورتحال کا جائیزہ لیا جائے تو نام نہاد لبرلز اور سیکولرز اور ان کی بنائی گئی این جی اوز پاکستان کے نصابِ تعلیم کے بارے میں اکثر واویلا کرتے نظر آتی ہے کہ یہ نصاب فرسودہ مذہبی رحجانات ، پاکستان کے ثقافتی اقدار، مسلم ہیروز اور تاریخ کی مسخ شدہ شکل پر مبنی ہے، بچوں میں انتہا پسندی کو فروغ دیتا ہے۔ اس لیے اسمیں سے اسلامیات اور مطالعہّ پاکستان جیسے مضامین کو ختم کردینا چاہیے۔ کیا واقعی ایسا ہے؟؟؟؟ دیکھتے ہیں۔ نصاب کے لیے انگریزی کا لفظ '' cirriculm '' استعمال کیا جاتا ہے جو کہ یونانی لفظ '' curree '' سے نکلا ہے جسکے معنی رن وے یا ایسا راستہ ہے جس پر دوڑا جاتا ہے ۔ ماہرین تعلیم کے نزدیک' نصاب '' کے معنی ایسا عمل ہے جس میں تعلیمی کتابیں اور ان کو پڑھانے کے مدارج شامل ہیں جس کے ذریعے طلباء کو ذہنی، فکری اور جسمانی طور پر تیار کیا جاتا ہے ۔ نصابِ تعلیم ہمیشہ قومی نظریات و عقائد سے ہم آہنگ ہوتا ہے . تاکہ بچوں کو ذہنی اور فکری طور پر قومی امنگوں کے مطابق تیار کیا جاسکے ۔ پاکستان دو قومی نظریے کی بنیاد پر معرضِ وجود آیا۔ دوقومی نظریہ یہ تھا کہ مسلمانِ برصغیرہندووّں سے علیحدہ قوم ہیں۔ جن کے عبادت کرنے کا طریقہ ، تہذیب و ثقافت ہے، رسوم و رواج ہنددوّں سے جدا ہیں حتی کے کھانے پینے کے طریقے تک جدا ہیں ۔ جو لوگ مسلمانوں کے ہیروز ہیں وہی ہندووّں کے دشمن ہیں۔ بطور پاکستانی مسلمان ہم چاہتے ہیں کہ نصابِ تعلیم نہ صرف قومی بلکہ اسلامی روایات کا ترجمان ہو۔ جبکہ لبرلز و سیکولرز حلقے یہ چاہتے ہیں کے بچوں کو عقائد و نظریات نہ پڑھائیں جائیں۔ اگر دینا بھر کے نصاب کا جائیزہ لیا جائے تو تمام ممالک اپنے نصاب کو اپنی قومی تہذیب و ثقافت اور نظریاتی ضروریات کے تحت اسے مرتب کرتے ہیں۔ خاص طور پر اپنے ملک کی تاریخ، نظریات، تہذیب، ثقافت، مذہب اور ہیروز کے بارے میں بچوں کو پڑھایا جاتا ہے تاکہ ان کی اپنے ملک سے گہری وابستگی پیدا ہو۔ اور ہماری ذہنی پستی کا عالم یہ ہے کہ ہم اپنے تہذہب و ثقافت، تاریخ، اور مذہب کو پڑھانے سے انکاری ہیں کیوں کہ ہم میں سے بعض ذہنی اور شاید بکے ہوئے غلاموں کے نزدیک یہ دقیانوسیت، جہالت اور ملائیت کی علامات ہیں، اور وہ اپنی روزشن خیالی اور بدلتے ہوئے عالمی حالات کارونا رو کر نصابِ تعلیم کو اپنی مغربی فکر و نظر کے مطابق ترتیب دینا چاہتے ہیں۔ چونکہ پاکستان ایک نظریاتی اسلامی مملکت کے طور پر وجود میں آیا تو اپنی آئیندہ نسلوں کو اس کے بارے میں بتانا اور ان کو ان نظریات کے ساتھ ہم آہنگ کرنا ہمارا قومی فریضہ ہے اور اسکے ساتھ ساتھ اپنی قومی زبان کی ترقی و ترویج بطور قوم ہمارا حق ہے۔ تاکہ پاکستانی اقوامِ عالم کی بھیڑ میں اپناالگ تشخص اور پہچان قائم رکھ سکیں۔ ایسے میں وہ افراد جو اپنی تاریخ پر شرمسار ہیں، اپنے مذہب سے بیزار ہیں اور مغرب سے مرعوب ہیں ان کو یاد رکھنا چاہیے کہ جو افراد اغیار کی تقلید کرتے ہیں وہ اپنی پہچان اور انفرادیت کھو دیتے ہیں۔ پس ایک نظریاتی مملکت کا نصابِ تعلیم نظریاتی بنیادوں پر استوار ہونا چاہیے تاکہ جدید عصری علوم کے ساتھ ساتھ ہمارے مستقبل کے معماروں کو اپنی بنیادی اساس سے آگہی ہو اور وہ پاکستان کی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا کرسکیں۔ اللہ تعالی پاکستان کا حامی و ناصر ہو اور دوستوں کے بھیس میں چھپے ہوئے دشمنوں سے محفوظ رکھے۔ آمین

نشہ حرام ہے ۔۔۔

2017-07-08 06:54:53 

نشہ حرام ہے۔۔۔ کوئی بھی ایسی چیز جو کہ آپ کی جسمانی و ذہنی فعالیت پر اثر انداز ہو کر آپ کی فعالیت کو بدل دے نشہ کہلاتی ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ارشاد نبوی ﷺ ہے ''ہر نشہ آور چیز 'خمر' ہے او رہر نشہ آور چیز حرام ہے۔'' حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک جمعہ کے خطبے میں خمر کے معنی کسی چیز کو ڈھانپ دینا ہے، اور خمر سے مراد ہر وہ چیز ہے جو عقل پر پردہ ڈالتی ہے۔ ہمارے معاشرے میں نشے کی بہت سی اقسام پائی جاتی ہیں ۔ جن میں سرفہرست عاشقی و معشوقی کا نشہ ہے ، جسمیں بعض اوقات فریق واحد اور بعض اوقات دونوں '' گوڈے گٹے '' سمیت غرق ہوتے ہیں لیکن اس عاشقی و معشوقی کو اذنِ رشتہ ازدواج ملنے کے بعد ذمہ داری کے جھٹکوں کے بعد عاشقی و معشوتی کا نشہ ہرن ہوجاتا ہے۔ کچھ لوگوں کو اپنی دولت کا نشہ بھی ہوتا ہے اور وہ اس نشے میں اتنے مدہوش ہوتے ہیں کہ اپنے جیسے انسان کو انسان سمجھنے سے انکاری ہوتے ہیں اور اسی طرح کچھ افراد کے سر پر اپنی طاقت ، عہدے، اقتدار اور اختیار کا نشہ ہوتا ہے جس کے زیرِ اثر انسان ان کے لیے کیڑے مکوڑوں کی حثیت رکھتا ہے جسے وہ کسی بھی طرح استعمال اور کچل سکتا ہے۔ ایک اور بہت خاص قسم کا نشہ ہمیں انگریزوں کی غلامی سے تحفے میں ملا ہے اور وہ ہے تہذیب و تمدن میں انگریزوں کی تقلید کرنا۔ اور ہم حقِ غلامی ادا کرتے ہوئے بہت فخر سے منہ ٹیڑھا کرکے انگریزی بولتے ہیں اور اپنے بچوں کو انگلش میڈیم اسکولوں میں پڑھانا فخر سمجھتے ہیں۔ یہ اور بات ہے کہ ان انگلش میڈیم اسکولوں سے فارغ التحصیل افراد بھی یہ بولتے سنائی دیتے ہیں کہ آج ان کےسر میں بہت pain ہے ۔ نشے تو اور بھی بہت سارے ہیں لیکن آج کے زمانے میں جو نشہ سر چڑھ کر بول رہا ہے وہ '' آزادی '' کا نشہ ہے۔ نہ نہ ۔۔ کسی جابر حکومت سے آزادی کا نشہ نہیں بلکہ شخصی و فکری آزادی کا نشہ۔ گلوبلائزیشن کے اس دور نے اس نشے کی طلب میں بہت اضافہ کردیا ہے۔حضرت انسان کا مطالبہ ہے ہر قسم کی آزادی ۔۔۔ جو کہ کسی مذہبی ، معاشرتی و اخلاقی حدود و قواعد کو نہیں مانتی۔ اب چاہے ان کی اس آزادی کی چاہ میں معاشرے عریانیت، تعیش پسندی اور مفاد پرستی، انتشار ، لاقانونیت سے زیر و بم ہو جائیں انہیں اپنی آزادی سے مطلب ہے۔ ایک اور نشہ '' آزادی نسواں '' کے نام کا بکتا ہے۔ ہمارے معاشرے کی دبی اور کچلی ہوئی عورت کو سننے میں تو بہت ہی فرحت بخش لگتا ہے لیکن اس کے مضمرات کا اندازہ ان معاشروں کے مطالعے سے با خوبی لگایا جاسکتا ہے جن میں یہ نشہ وافر مقدار میں موجود ہے۔ مساویانہ حقوق کا نعرہ لگاتی مغربی خواتین آج میڈیا کی مہربانی سے '' کمیوڈیٹی '' کی حثیت اختیار کر گئی ہیں اور فیکٹریوں ، کارخانوں ، ہوٹلوں ، دکانوں پر شوپیس کی طرح سج سنور کے کھڑی ہیں۔ اعلی عہدوں پر حال حال ہی خواتین نظر آتی ہیں، زیادہ تر خواتین ایکٹریس، ڈانسرز، کال گرلز ، ائیر ہوسٹس ، سیلز گرلز، ویٹریس کی صورت میں نظر آئیں گی۔ یاد رکھیں کہ یہ اس معاشرے کی حالت ہے جہاں خواتین اپنی مساویانہ حثیت سے موجود ہیں اور آج اسی نشے کی طلب ہماری معاشرے کی عورتوں میں پیدا تو کی جاچکی ہے اب بڑھانے کا کام جاری ہے۔ دورِ جدید کا ابھرتا ہوا اورنئی نسل کو اپنی اثر پذیری سے گھیرے میں لیتا ہوا نشہ ہے '' دانشوری '' ۔ جی ہاں دانشوری۔۔ لیکن یہ بحث پھر کبھی کہ دانشور میں دانشوری کا عنصر پایا جاتا ہے یا نہیں ۔۔۔لیکن آج کے '' دانشور'' کی حثیت ایک ایسے پیر کی ہوگئی ہے جس کے اندھے مقلد میڈیا کی آزادی کی بدولت اس کی ٹوٹی پھوٹی دانشوری سےکم اور اسکے فاسد خیالات و نظریات سے زیادہ فیضیاب ہوتے ہیں اور ان اندھے مقلدوں کو پتا بھی نہیں چلتا کہ یہ دانشور ان کی عقل و ذہن کو اپنے نظریات کی نکیل ڈال کر ادھر اُدھر گھسیٹ رہا ہوتا ہے اور اپنے مفادات کے تحت ان کے نظریات و عقائد میں تبدیلی پیدا کر رہا ہوتا ہے۔معصوم مقلد اپنی کم عقلی، جذباتیت، کتب بینی سے دوری اور تحقیق نہ کرنے کی بدولت اپنی رائے رکھنے کی بجائے اپنے اس دانشور پر کلی بھروسہ کرتے ہیں اور خود تو ذہنی خلجان، ہیجان اور انتشار کا شکار ہوتے ہی ہیں اور اس کے اثرات معاشرے میں پھیلانے کا باعث بھی بنتے ہیں ۔ یہ تو تھیں کچھ نشے کی اقسام جن سے ہمارے معاشرہ نبرد آزما ہے۔ اسلام نے ہر شخص کے لئے پانچ بنیادی ضروریات کی حفاظت کو لازمی قرار دیا ہے۔ دین، مال، جان، عزت اور عقل۔ اس لئے وہ چیزیں جو عقل کو ڈھانپ لیتی ہیں یا نقصان پہنچاتی ہیں اسلام اس سے منع کرتا ہے اور حرام قراردیتا ہے سو ہمیں شعوری کوشش سے ان نشوں سے بچنا چاہیے۔ اللہ تعالی ہمیں ہر قسم کے نشے میں مبتلا ہونے سے محفوظ رکھے ۔ آمین

مذہبی ریاستیں اور ملحدین کے بہانے

2017-07-08 06:52:52 

قیامِ پاکستان کا پسِ منظر: 14اگست1947ء میں دنیا کے نقشے پر پہلی مذہبی بنیاد پر نظریاتی ریاست '' پاکستان '' کا قیام عمل میں آیا۔ قائد اعظم نے کہا تھا'' پاکستان اسی دن وجود میں آ گیا تھا جب پہلا غیر مسلم مسلمان ہوا تھا'' ۔ یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ ہندووں میں نیشل ازم کا کا کوئی تصور کبھی بھی موجود نہیں رہا۔ مسلمانوں کی آمد سے قبل بھی ہندوستان مختلف راجوں کے درمیان بٹا ہوا تھا۔ ذات پات کے نظام میں بٹے ہوئے ہندوستان کے باشندوں کو محمد بن قاسم نے باقاعدہ اسلام سے روشناس کروایا، اور ذات پات کی پابندیوں سے کچلے ہوئے انسانوں نے اسلام کے وسیع دامن میں پناہ لی۔ اسکے بعد مسلمان حکمرانوں اور صوفیاء نے اسلام کی تبلیغ جاری رکھی۔ہندوستان کو مسلمانوں نے فتح کیا تھا نہ صرف تلوار سے بلکہ اپنے اخلاق سے بھی۔ شہاب الدین غوری پہلا مسلم حکمران تھا جس نے برصغیر پاک و ہند مسلم حکمرانی کی داغ بیل ڈالی اور ۱۸۵۷ء کی انگریزوں کے خلاف لڑی جانے والی جنگِ آزادی تک قائم رہی۔ '' بلاد اسلامیہ ہند'' کے نام سے معروف اس ملک کو انگریزوں نے اپنی مکاری اور ریشہ دوانی سے قبضہ میں لیا۔ چونکہ حکمرانی مسلمانوں سے چھینی تھی تو ان کے ساتھ بغض رکھتے ہوئے ہندووّں کی سرپرستی کی ۔ ان کے زیرِ سایہ ہندووں نے انگریزی تعلیم حاصل کرنے میں پہل کی اور انگریزوں کے سیاسی و انتظامی ڈھانچے میں داخل ہو گئے۔ حتی کہ آل انڈیا کانگریس کی بنیاد ایک انگریز '' ایلن اوکٹیوین ہیوم '' نے 1885ء میں رکھی۔ تعلیم یافتہ ہندووں نے یورپ کی صنعتی ترقی سے نمو پانے والے جمہوری نظام کی بدولت اپنی عددی برتری اور اہمیت کو سمجھا اور نیشنل ازم کا نعرہ لگاتے ہوئے ہر آئینی اصلاحات میں مسلمانوں کا حصہ کم کرنے کی کوشش کی اور مسلمانوں کے مفاد میں کوئی کام نہ ہونے دیتی۔اسی وجہ سے مسلمانانِ ہند نے اپنے الگ تشخص کی حفاظت اور مسلمانوں کے حقوق کی حفاظت کے لیے '' آل انڈیا مسلم لیگ''1906ء میں قائم کی۔ دوسری عالمی جنگ کے اختتام تک پاک و ہند میں سیاسی سرگرمیاں اپنے عروج پر پہنچ چکیں تھیں اور انگریز متحدہ ہندوستان کو اگلی حکومت کے سپرد کرنا چاہتے تھے۔ ہندو پورے ملک پر بلا شرکتِ غیرے اپنی حکمرانی کا خواب دیکھ رہے تھے جبکہ مسلمان اپنے علیحدہ تشخص کی حفاظت اور حصول کے لیے کوششیں کر رہے تھے۔ ایسے میں برطانوی وزیر اعظم ایٹلی نے 1945-1946ء کو عام انتخابات کا اعلان کیا اور48ء تک انتقالِ اقتدار کی تاریخ دے دی۔ مسلم لیگ انتخابات میں مسلمانوں کی واحد نمائیندہ جماعت بن کر سامنے آئی۔ انتقالِ اقتدار کا فارمولا طے کرنے کے لیے کیبنٹ مشن ہندوستان آیا اور اس ضمن میں ڈھیلے ڈھالے وفاق کی صورت میں متحدہ ہندوستان کی تجویز دی گئی تھی جسے کانگریس نے اپنی برتری کے زعم میں بلا شرکتِ غیرے ہندوستان پر حکومت کرنے کے زعم میں مسترد کر دیا ، اگرچہ مسلم لیگ نے انتخاب پاکستان کے نام پر جیتا تھا لیکن وہ اس تجویز پر رضا مند ہوگئی لیکن کانگریس کے مسترد کرنے پر اپنے فیصلے کو واپس لیتے ہوئے 16اگست کو ڈائریکٹ ایکشن ڈے منایا جس پر ہندو مسلم فسادات پھوٹ پڑے اور تین چار ماہ تک یہ سلسلہ نہ رک سکا۔ مارچ 1947ء کو لارڈ ماونٹ بیٹن وائسرائے ہند بن کر آیا۔ اس کا رویہ مسلمان رہنماوں سے معاندانہ جبکہ کہ ہندو رہنماوں سے دوستانہ تھا۔ سو بنگال اور پنجاب کو تقسیم کرنےا اور باقی صوبوں کے عوام کی دونوں ممالک میں سے کسی ایک کے ساتھ رہنے کی مرضی معلوم کرنے کی شرط کو تسلیم کرتے ہوئے ریڈ کلف کے فیصلے کو قبول کیا ۔ 14 اگست 1947ء کو ایک لٹا پُٹا، کٹا پھٹا اور لاکھوں مسلمانوں کی جانوں، مالوں اور بیٹیوں کی آبرووں کی قربانی سے ''پاکستان '' معرضِ وجود میں آیا۔ اسکے نو ماہ بعد 14مئی1948ء میں پہلی باقاعدہ یہودی ریاست '' اسرائیل '' کے قیام کا اعلان کیا گیا۔ اسرائیل کے قیام کا پسِ منظر:- حضرت یعقوب علیہ السلام کا لقب تھا '' اسرائیل '' اسرائیل کا مطلب ہے اللہ کا بندہ۔ بنی اسرائیل کے اولاد '' یہودی '' کہلائے۔ '' یہودیت'' اصلاَ نسل پرست مذہب ہے یہ بنی اسرائیل کے علاوہ کسی بھی فرد کو یہودی ماننے سے انکار کرتا ہے اور نہ ہی کوئی فرد '' یہودیت '' قبول کرکے '' یہودی '' کہلا سکتا ہے۔ حضرت عیسی علیہ السلام کا انکار کرکے اور انہیں قتل کرنے کی کوشش کے جرم میں '' یہودی '' اللہ کے عذاب کا شکار ہوئے۔ جب سلطنتِ روما حضرت عیسی علیہ السلام پر ایمان لے آئی تو یہودیوں پر عرصہ حیات تنگ ہونے لگا۔ سیاسی طور پر تو وہ پہلے ہی پسماندگی کا شکار تھے لیکن رومیوں کے عیسائیت قبول کرلینے کے بعد ان پر زمین تنگ ہونے لگی۔ ان کی پہلی سلطنت ۱۹۴۵ء میں قائم ہوئی جب انہوں نے عیسائیوں سے صلح کی اور ان کی سیاسی و تمدنی بالادستی کو قبول کیا۔ انیسویں صدی میں سیاست پر مذہب کی اجارہ داری ختم ہوچکی تھی ، مذہبی عصبیت کی جگہ وطنی عصبیت نے لے لی تھی ، انسان اپنا تعارف مذہب کی بجائے قومیت سے کروانے لگا تھا، اس بات کا سب سے زیادہ فائدہ '' یہودی '' قوم نے اٹھایا۔ انہوں نے اپنے آپ کو علمی و مالی طور پر منظم کرنا شروع کیا۔ دوسری طرف اگر عالمِ اسلام کا جائیزہ لیا جائے تو اس وقت خلافت ترکی کے پاس تھی۔ 1517ء میں عثمانی ترکوں نے مملوک خاندان سے اقتدار چھینا اور فلسطین پر قبضہ کر لیا۔ اسی دور میں مصر سمیت مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ بھی ترکوں کے قبضہ میں چلے گئے۔ ترکوں کا عربوں کے ساتھ رویہ حاکمانہ تھا چنانچہ جگہ جگہ بغاوتیں پھوٹتی اور ترک سختی کے ساتھ ان کو کچلتے۔ پورے عالمِ عرب میں ترکوں کے خلاف نفرت کے جذبات پیدا ہوچکے تھے جس کا فائدہ برطانیہ نے اٹھایا۔ یورپ میں برطانیہ اور جرمنی ترقی کی دوڑ میں سب سے آگے تھے۔ پہلی جنگِ عظیم میں ترکی نے جرمنی کا ساتھ دیا، اس وجہ سے برطانیہ نے ترکی کو شکست دینے کے لیے ایک طرف تو یہودیوں کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی تو دوسری طرف عرب طاقتوں کی حمایت کا اعلان کیا جو ترکوں کے خلاف برسرِ پیکار تھے۔ یہودی اس وقت تک اپنے آپ کو کافی حد تک منظم کر چکے تھے اور ان کی تنظیم '' صیہون ۸'' سب سے آگے تھی۔ اس زمانے میں کمیسٹری کا پروفیسر ڈاکٹر وائزمین صیہونی تحریک کا سربراہ تھا، اس نے برطانیہ کو چند ایسی ایجادات بنا کر دیں جن سے جنگ میں برطانیہ کا پلڑا بھاری ہوگیا۔ اس کے عوض اس نے حکومتِ برطانیہ سے وعدہ لیا کہ جنگِ عظیم میں کامیابی کی صورت میں فلسطین میں یہودیوں کے لیے ایک قومی وطن قائم کیا جائے گا۔ چنانچہ نومبر 1917ء میں وزیر خارجہ لارڈ بالفور نے ایک خفیہ خط کے ذریعے یہ وعدہ کرلیا۔ اس خط کو اعلانِ بالفور بھی کہا جاتا ہے۔ یوں یہودیوں کی تمام تر ہمدردیاں برطانیہ، فرانس اور اسکے دیگر اتحادیوں کے ساتھ ہوچکیں تھیں۔ 1917ء میں جب برطانوی افواج یروشلم پہنچی تو تمام شہریوں نے شہر سے باہر آ کر ان کا والہانہ استقبال کیا۔ اسکے اگلے تیس برس تک برطانیہ نے فلسطین میں یہودی آبادکاری کے لیے ہر جائیز و ناجائیز ہتھکنڈہ استعمال کیا۔شام اور لبنان میں بیٹھے ہوئے زمینداروں نے منہ مانگی قیمت پر اپنی زمینیں یہودیوں کے ہاتھ فروخت کیں، فلسطینیوں کی بھی ایک بڑی تعداد نے زیادہ قیمت کی لالچ میں اپنی زمینیں یہودیوں کے ہاتھ فروخت کیں۔ مسلمانوں کو کافی عرصہ بعد ہوش آیا کہ یہودی ان کی زمین فلسطین پر قابض ہوتے چلے جا رہے ہیں چنانچہ 1936ء سے لیکر1939ء تک فلسطینیوں نے برطانوی حکومت کے خلاف بغاوت کی۔ لیکن اس بغاوت کو برطانوی اور یہودی اتحاد نے کچل دیا۔ دوسری جنگِ عظیم کے دوران جرمنی سے بھاگ کر آنے والے یہودیوں کی وجہ سے بھی فلسطین میں انکی آبادی بڑھی اور اسکے ساتھ ساتھ دنیا بھر سے یہودی اپنے مستقبل کے قومی وطن کی خواہش لیے فلسطین آتے گئے۔ ۱۹۴۸ء میں اسرائیل کے قیام کے وقت وہاں سات لاکھ اٹھاون ہزار یہودی آباد تھے۔ برطانیہ نے اس علاقے کو اقوامِ متحدہ کے حوالے کردیا۔ اقوامِ متحدہ نے ایک قرار داد کے ذریعے فلسطین کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کا اعلان کیا۔ اسرائیل کو کل رقبے کا چھپن فیصد دیا گیا اور فلسطینیوں کو چوالیس فیصد ۔ آبادی کے لحاظ سے یہ ایک ناجائیز تقسیم تھی۔ اس لیے فلسطینیوں اور دیگر عرب ممالک نے اسے ماننے سے انکار کردیا۔ یوں14 مئی 1948ء میں خالصتاََ مذہبی ریاست اسرائیل نے اپنے قیام کا اعلان کیا۔ اسمیں کوئی شک نہیں کہ یہودیوں نے اپنی مملکت کے قیام کے لیے ناجائیز ہتکھنڈے استعمال کئے لیکن وہ آج بھی بہت سے ممالک کی مخالفت کے باوجود ایک مذہبی ریاست قائم کئے ہوئے ہیں اور بہت سو کی ناپسندیدگی کے باوجود ایک ترقی یافتہ ایٹمی ملک ہے۔ اسرائیل جیسی صہیویانی ریاست کے مقابلہ میں پاکستان جیسی اسلامی ریاست ہر ایرے غیرے کی آنکھ میں کھٹکتی ہے۔ ہمارے نام نہاد روشن خیال دانشور قیامِ پاکستان پر تنقید کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ بہت سو کا اعتراض ہوتا ہے کہ کیا دینا بھر میں کہیں بھی مذہبیت یا نظریات کے نام پر کسی ریاست کا وجود ہے؟؟ حیرت ہوتی ہے ان دانشوروں پر جو کہ اسرائیل جیسی کٹر مذہبی اور نظریاتی ریاست کا قیام بھول جاتے ہیں اور پاکستان پر چڑھائی کردیتے ہیں۔ اکثر روشن خیال دانشوروں کا یک اعتراض یہ بھی ہوتا ہے کہ ہندوستان یا برصغیر پاک و ہند ہندووں کی سرزمین ہے اور مسلمان حملہ آور اور قابض تھے۔ اسلیے وہ پاکستان بنانے کا حق نہیں رکھتے۔ لیکن یہ اعتراض کرتے ہوئے وہ بھول جاتے ہیں کہ ان حملہ آوروں کے حسنِ اخلاق سے متاثر ہو کر اسلام قبول کرنے والے مقامی افراد کس گنتی میں شمار ہونگے؟؟؟ کیا اسلام قبول کرنے کے بعد ان کا '' بلاد اسلامیہ ہند '' کی زمین پر حق ختم ہوگیا؟؟؟ کیاوہ اس زمین کے مالک نہ تھے؟؟؟ دنیا بھر سے یہودیوں کو اسرائل لا کر بسایا گیا ۔۔ ہمارے روشن خیالوں کو یہ تو گوارا ہے لیکن ہند کی اپنی سرزمین کے مالک باشندوں کے لیے الگ وطن گوارہ نہیں کیونکہ وہ اپنے آپ کو مسلمان کہلواتےہیں۔ ہمارے بعض دانشوروں کا اعتراض یہ بھی ہوتا ہے کہ دو قومی نظریہ اگر مختلف قوموں کو آپس میں جوڑتا تو بنگلہ دیش وجود میں نہ آتا۔ یہ بات کرتے ہوئے وہ بنگلہ دیش کے قیام کا پسِ منظر بھول جاتے ہیں کہ کس طرح ہندوستان کی سازشوں کا شکار کچھ بنگالیوں اور باقی ہندوستانیوں پر مشتمل مکتی باہنی تیار کی گئی تھی اور مفاد پرست سیاستدانوں نے اپنے مفاد کی خاطر ملکی مفاد کو پسِ پشت ڈال دیا۔ سقوطِ ڈھاکہ پر اندرا گاندھی نے کہا تھا کہ '' آج ہم نے مسلمانوں سے اپنی ہزار سالہ غلامی کا بدلہ لے کر دو قومی نظریہ خلیج بنگال میں ڈبو دیا ہے '' ،ایسی بات تھی تو اس نے ہندو اکثریتی بنگال کا الحاق بنگلہ دیش کے ساتھ کیوں نہیں کیا تاکہ دو قومی نظریہ کا مکمل خاتمہ ہو جاتا۔ پر دو قومی نظریہ ایک ازلی و ابدی حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے کہ جو قومیں ہزار سال کے بعد بھی اپنا رہن سہن، ثقافت، تہذیب و تمدن ، زبانیں نہ بدل سکیں وہ اب کیا بدلیں گی۔ ہمارے روشن خیال اور بیدار مغز دانشور جتنا مرضی زور لگا لیں وہ اس اختلاف کو قطعاََ ختم نہیں کر سکتے۔ ہندوستان بذاتِ خود ایک نظریاتی '' ہندوانہ '' ریاست ہے جس نے سیکولر ازم کا لبادہ اوڑھ رکھا ہے اور ہر دم اپنی ہزار سالہ غلامی کا بدلہ لینے کے لیے پاکستان پر وار کرنے کو تیار رہتا ہے۔ پاکستان میں ہونے والے لسانی ، علاقائی، سیاسی ، مذہبی منافرت ہر جھگڑے کے ڈانڈے ہندوستان سے جا ملتے ہیں اور اس کا ہاتھ مضبوط کرنے والے ہیں ہمارے '' روشن خیال'' ذہن۔ اللہ تعالی پاکستان کو اپنے حفظ و امان میں رکھے ۔ آمین

آزادی اظہارِ رائے یا آزادی توہین و تذلیل

2017-06-23 07:29:39 

آزادی اظہارِ رائے یا آزادی توہین و تذلیل آزادی اظہارِ رائے کا مطلب بولنے کی آزادی ہے، اسکے ساتھ اسمیں بولنے اور لکھنے کی آزادی کو بھی شامل کیا جاتا ہے ۔ اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی شق نمبر19 کے مطابق '' ہر شخص کو اپنی رائے رکھنے اور اظہارِ رائے کی آزادی کا حق حاصل ہے۔ اس حق میں یہ امر بھی شامل ہے کہ وہ آزادی کے ساتھ اپنی رائے قائم کرے اور جس ذریعے سے چاہے بغیر ملکی سرحدوں کا خیال کئے علم اور خیالات کی تلاش کرے، انہیں حاصل کرے اور ان کی تبلیغ کرے'' ۔ اس شق میں اظہارِ رائے کی آزادی کی کوئی حد بیان نہیں کی گئی ہے، جس سے شر پسندوں کو دوسروں کی ہتک اور تذلیل و توہین کرنے کا موقع مل گیا ہے ۔ عام طور پر اسلام پر الزام لگایا جاتا ہے کہ اسلام اظہار رائے کی آزادی نہیں دیتا جبکہ اصل حقیت یہ ے کہ اسلام ہی وہ واحد مذہب ہے جس نے نہ صرف آزادی اظہارِ رائے کا فلسفہ دیا بلکہ اسکے حددو قیود بھی بتائے۔ قران پاک کی سورہ الحجرات میں ارشادِ باری تعالی ہے : ترجمہ '' اے ایمان والو! کوئی قوم کسی قوم کا مذاق نہ اڑائے۔ عین ممکن ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں اور نہ ہی خواتین ، دوسری خواتین کا مذاق اڑائیں۔ ہوسکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں۔ ایک دوسرے کی عیب جوئی نہ کرو اور نہ ہی ایک دوسرے کو برے القاب سے یاد کرو۔ ایمان کے بعد فسق و فجور کے نام بہت بری چیز ہیں۔ جو لوگ توبہ نہ کریں ، وہی ظالموں میں سے ہیں'' جبکہ دوسری طرف اگر ہم مغربی آزادی اظہارِ رائے کا مطالعہ کریں توتضادات کا مجموعہ نظر آتی ہے ۔ اگر مغرب کے ماضی کی طرف نظر دوڑائے تو جب یورپ میں کلیسا کی حکمرانی تھی تو اسکے خلاف لکھنے بولنے کے نتائج بہت بھیانک ہوتے تھے۔ گلیلیو اور وچ ہنٹ کی مثال کلیسا کے مظالم کی ایک چھوٹی سی مثال ہیں مغرب میں آزدی اظہار پر پابندی اور ظلم و جبرکے مترادف سمجھا جاتا ہے اسی لیے مغربی اقوام نے اپنے قوانین اور آئین میں آزادی اظہار کو بنیادی حثیت دی۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ کسی بھی مغربی ملک میں آزادی اظہارِ رائے مکمل طور پر نافذ نہیں ہے ۔ بیشتر ممالک میں منافرتی تحریر و تقریر پر پابندی ہے۔ ہالوکاسٹ کے بارے میں لکھنے اور بات کرنے پر قانوناََ پابندی ہے۔ کئی ممالک میں مخصوص قومی اداروں مثلا فوج، عدلیہ اور پارلیمان کی توہین کو غیر قانونی قرار دیا گیا ہے ۔ امریکہ کی بعض ریاستیں ایسی ہیں جن کی دستوری کتب میں اہانت مذہب کے قوانین موجود ہیں۔ کینڈا کے قانون میں عیسائیت کی توہین کرنا جرم ہے۔ اور دوسری طرف یہ ممالک ہی اسلام کی توہین کرتے ہیں ۔ اسکارف پر پابندی ہے۔ امریکہ میں لوگوں کے فون ٹیپ کئے جاتے ہیں،عیب جوئی کرنا، تمسخر اڑانا وہاں معمول کا حصہ ہے۔ مشہور کہاوت ہے کہ انسان کی آزادی دوسرے کی ناک تک ہے۔ یعنی جہاں سے دوسرے انسان کی ناک شروع ہوتی ہے وہاں آپ کی آزادی کی حد ختم ہو جاتی ہے۔ دنیا کا کوئی بھی ملک ایسا نہیں ہے جہاں پر فرد کو مکلمل آزادی حاصل ہو۔ ریاستی قوانین کی پابندی اس کی ایک واضح مثال ہیں۔ آزادی اظہار کی اپنی حدود و قیود ہیں۔ امریکہ چیف جسٹس اولیور وینڈل ہومر نے امریکی سپریم کورٹ کے ایک فیصلے میں اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہا '' ”آزادی اظہار کا سب سے مضبوط تحفظ بھی اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ کوئی شخص کسی تھیٹر اورعوامی مقام میں اشتعال انگیزی سے غلط چلائے اور افراتفری پھیلائے''۔ اقوامِ متحدہ کے موجودہ سیکرٹری بانکی مون نے کہا '' ”اس اظہار خیال کی آزادی ہے جو اجتماعی فلاح کے لیے ہو لیکن وہ آزادی اظہار جس سے دوسروں کے لطیف جذبات مجروح ہوں یا ان کے اقدار اور ایمان کو ٹھیس پہنچے ان کو یہ قانون کوئی دفاع مہیا نہیں کرتا''۔ پوپ فرانس نے فرانس حملوں کے پس منظر میں بیان دیتے ہوئے کہا '' اظہارِ رائے کی آزادی میں کچھ ضروری حدود و قیود ہوتی ہیں خصوصا جب کسی کی مذہبی دل آزاری کی جائے۔ بہت سے لوگ مذاہب کے بارے میں بڑی تحقیر آمیز گفتگو کرتے ہیں، دوسروں کے مذاہب کا مذاق اڑاتے ہیں، یہ لوگ درحقیقت اشتعال دلانے کا کام کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے ساتھ وہی سلوک کیا جائے گا جو میرے دوست ڈاکٹر گیسپری کے ساتھ ہوگا۔ اگر وہ میری ماں کے خلاف کوئی توہین آمیز لفظ بولتا ہے ایسے عمل پر اسے میری طرف سے ایک مکے کی توقع ہی کرنی چاہیے''۔ پوپ صاحب نے بالکل درست کہا۔ یہ انسانی فطرت ہے کہ کوئی بھی شخص اپنے پیاروں کے بارے میں اہانت آمیز گفتگو برداشت نہیں کرسکتا اور مشتعل ہو جاتا ہے۔ اشتعال کے عالم وہ کسی بھی قسم کے ردِ عمل کا اظہار کرسکتا ہے۔ اور کوئی بھی ذی ہوش شخص اس ردِ عمل کے لیے اُس کو موردِ الزام نہیں ٹھہرا سکتا کہ اصل مجرم تو اشتعال دلانے والا ہے۔ مسلمان بہت سے فورمز پر اس بات کا برملا اظہار کر چکے ہیں کہ اللہ اور اللہ کے پیارے رسول ، ان کے متعلقین ہمیں اپنے عزیزوں سے بھی زیادہ عزیز ہیں، لیکن اس کے باوجود ان کے بارے میں توہین آمیز تحریر و تقریر کی نشر و اشاعت کھلے عام ہو رہی ہے ۔ احتجاج کے باوجود اسکی روک تھام کے لیے اقدامات نہیں کئے جارہے۔ اس تناؤ کی ذمداری کس پر عائد ہوتی ہے ؟؟؟ اور مسلمان اگر اس پر اپنے شدید ردِ عمل کا اظہار کریں تو ذمہ دار کون؟؟؟ بغیر حدود و قیود کے اظہارِ رائے کی آزادی فساد کا باعث بن رہی ہے اور اگر اس کی روک تھام نہ کی گئی تو شدید نوعیت کے نزاع کا باعث بھی بن سکتی ہے۔ یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ آزادی اظہارِ رائے کا مطلب دوسروں کی دل آزاری کرنا یا ان کے جذبات کو ٹھیس پہنچانا ہر گز ہے۔ اس ضمن میں بات بھی قابلِ غور ہے کہ عموما مسلمانوں پرالزام تراشی کی جاتی ہے کہ وہ جاہل، بے شعور،عدم برداشت کے حامل اور انسانیت دشمن ہیں۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آپ پڑھے لکھے، باشعور،با تحمل اور انسانیت دوست ہیں تو آپ ایسے مواد کی حوصلہ افزائی کیوں کرتے ہیں جو کہ نفرت اور شر انگیزی کو فروغ دے اور اشتعال کا باعث بنے؟؟؟؟ ایک ایسے عمل کو جس کی بدولت ایک پورے طبقے کو تکلیف پہنچتی ہو، ان کی دل آزاری ہوتی ہو اور وہ نفرت کے فروغ کا باعث ہو اس کس طرح ہم آزادی اظہارِ رائے کے تحت جائز قرار دے سکتے ہیں؟؟؟؟ جبکہ اقوامِ متحدہ کے پہلے آرٹیکل کی شق ۳ کے تحت ان حقوق کو ان الفاظ میں تسلیم کیا گیا ہے '' یہ قرار دیا جاتا ہے کہ معاشی، سماجی، ثقافتی اور اِنسانی نوع کے عالمی مسائل و تنازعات کے حل کے لیے اور انسانی حقوق کے اِحترام کے فروغ و حوصلہ اَفزائی کے لیے اور تمام بنی نوع انسان کے لیے نسل، جنس یا مذہب کی تفریق کے بغیر بنیادی اِنسانی حقوق کے تحفظ کی خاطر عالمی برادری کا تعاون حاصل کیا جائے گا''۔ اللہ تعالی مسلمانوں کو شر پسندوں سے محفوظ رکھے اور ہمیں دینِ اسلام پر استقامت عطا کرے ۔ آمین

سیکس ایجوکیشن۔۔۔ گمراہی کا ہتھکنڈہ

2017-06-23 07:27:42 

ابتدائے آفرینش سے ہی انسان اور شیطان کے درمیان نیکی اور بدی کی جنگ جاری ہے۔ شیطان نے پہلا وار انسان کی شرم و حیا پر ہی کیا تھا جسکے نتیجے میں انسان کو جنت سے نکلنا پڑا۔ شرم و حیا انسان کی فطرت کا بنیادی جزو ہے۔ یہ اگر عورت کا زیور ہے تو مرد کے لیے زینت ہے۔ اللہ تعالی نے مرد و عورت کے درمیان فطری کشش پیدا کی ہے جس کا مقصد نسلِ انسانی کی بقا ہے۔لیکن شیطان مردود اس جذبے کو استعمال کرتے ہوئے انسان کو اشرف المخلوقات سے اسفل السافلین کے درجے پر دھکیلنے میں مسلسل کوشاں ہے۔ سیکس ایک فطری جذبہ ہے جو کہ قدرت نے ہر جاندار میں پیدا کیا ہے۔ اللہ تعالی کی طرف سے یہ ودیعت کردہ جذبہ ایک دوسرے کے لیے الفت و محبت کا سبب بنتا ہے جسکے ذریعے ایک جوڑا نہ صرف اپنی نسل میں اضافہ کرتا ہے بلکہ اپنی پوری زندگی ایک دوسرے کے ساتھ بسر کرتا ہے۔ لیکن آجکل اسی فطری جذبے کو مغرب تہذیب نے نوجوان نسل کو شخصی آزادی کے نام پر مادر پدر آزادی دی ہے اور اسے صرف جسمانی تسکین اور عیاشی کا ذریعہ بنا لیا ہے۔ جسکے نتیجہ میں میں ہر دوسری لڑکی کی گود میں ناجائیز بچہ ہوتا ہے جسکے باپ کا بھی کوئی علم نہیں ہوتا۔ہم جنس پرستی عام ہے۔ شادی اور خاندان جیسے انسیٹیوٹ تباہی کی دہانے پر ہیں۔ میاں بیوی کے درمیان پیار و محبت نام کی کوئی چیز نظر نہیں آتی ۔محرم یا نامحرم کی تمیز کئے بغیر صرف جنسی تسکین ہی مقصود ہوتی ہے۔ حتی کے فیملی سیکس کے نام پر مغربی معاشرہ اپنی غلاضت کی آخری حد کو چھو رہا ہے۔مغربی معاشرے میں زندگی کا مفہوم صرف اور صرف جنسی تسکین اور عیاشی ہی رہ گیا ہے۔ مغربی اخبارات لیے گئے اعدادو شمار کے مطابق صرف برطانیہ میں ناجائیز بچوں کی تعداد اکتالیس فیصد اور امریکہ میں تنتیس فیصد ہے۔ برطانیہ میں طلاق کا تناسب اکاون اور امریکہ میں پچاس فیصد ہے۔ ہالینڈ میں '' سیکس فری '' قانون کے مزے لوٹنے والوں میں تیس فیصد سے زائد لڑکیاں ایسی ہیں جو کہ اپنے ہی سگے باپ یا بھائی کے گناہ کا نتیجہ بھگت رہی ہوتی ہیں۔ امریکہ میں ہر چھ منٹ کے بعد عصمت دری کا واقعہ پیش آتا ہے اور سویڈن جیسے مہذب ملک میں ستر فیصد لڑکیاں شادی سے پہلے حاملہ ہوجاتی ہیں۔ گلوبلائزیشن کے اس دور میں ماڈرن ازم اور سیکس ایجوکیشن کے نام پر اسلامی معاشرے میں بھی اسی آزادی کی ترویج کی کوشش کی جا رہی تاکہ نوجوان نسل کو ذہنی عیاشی کا عادی بنایا جائے۔ اور اس کا ہتھیار بنے ہوئے ہیں ہمارے مغربی تہذیب اور نام نہاد ماڈرن ازم کے دلدادہ افراد جو کہ سیکس ایجوکیشن کے نام پر عریانیت کی ترویج اور اسلام کے خلاف پروپیگنڈا میں مصروف ہیں۔ نوجوان کسی بھی معاشرے کا سرمایہ ہوتے ہیں، اگر ان کے ذہنوں کو ملک و قوم اور مذہب کے خلاف کر دیا جائے تو اس قوم کو نیست و نابود کرنے کا سامان ہو جاتا ہے۔ یہی آج ہمارے نوجوانوں کے ساتھ ہو رہا ہے۔۔۔ سیکس ایجوکیشن کے نام پر ان کے شہوانی جذبے کو ہوا دی جا رہی ہے اور مذہب کی طرف سے عائد کردہ پابندیوں کو ان کے لیے دقیانوسی اور ناروا کہہ ان کے ذہنوں میں اپنے من پسند نظریات ٹھونسے جا رہے ہیں۔ کوشش کی جا رہی ہے کہ معاشرہ مغربی شہوانیت پرستی کے سیلاب میں بہہ کر حیوانیت کی سطح پر اتر آئے۔ یہی وجہ ہے کہ آج ہمیں معاشرے میں بےراہ روی،بےحیائی، انتشار اور نفسانفسی کا عالم نظر آتا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ معاشرتی اقدارو اخلاق کو شکست و ریخت سے بچانے کی خاطر معاشرے کا ہر فرد اپنا کردار ادا کرے اور اپنے آپ کو دینِ اسلام کے قالب میں ڈھالے۔ اللہ تعالی ہمیں دشمنانِ اسلام کےشر سے محفوظ فرمائے۔ آمین

ماڈرن ازم ''عورت'' کی تذلیل

2017-06-23 07:26:25 

علامہ اقبال نے کہا تھا: وجودِ زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ اس کے ساز سے ہے زندگی کا سوز دروں بلاشبہ عورت ہر رشتہ میں مرد کے لیے دوست، غمخوار، مددگار اور راحت کا باعث ہے۔ عورت معاشرے کا ایک اہم رکن ہے۔ چونکہ عورت گھرکے امور کی ذمہ دار اس لیے گھر کے افراد کی تعلیم و تربیت، کردار سازی اور ذہن سازی میں عورت کا کردار اہم ہے۔ ذرا تصور کریں کہ اگر گھر کامحاذ سنبھلنے والی عورت غلط اور فاسد خیالات کی حامل ہو گی تو اس گھر کا کیا حشر ہوگا؟؟ یقیناََ اس کے نتائج اچھے نہیں نکلیں گے۔ آج ہمارا کچھ ایسا ہی حال ہے۔ آج ہم نے ماڈرن ازم کے نام پر مغربی تہذیب و تمدن کی پیروی کو اپنا اہم فریضہ سمجھ لیا ہے۔ آزادی نسواں کے حسین اور پُرفریب نعرہ کو لگاتے ہوئے آج کی عورت سماجی، سیاسی، معاشی غرض ہر سطح پر بدترین استحصال اور تذلیل کا سامنا کر رہی ہے۔ ہالی وڈ کی مشہور اداکارہ کیٹ ہڈسن نے ۲۰۰۴ء میں ایک بھارتی روزنامہ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا : '' یہ ایک بہترین امر ہے کہ اگر آپ ایک خاتون ہیں جو باہر اور مقامات پر کام کرتی ہیں تو سب سے بہتر اور محفوظ مقام آپ کے لیے آپ کا گھر ہے۔ میری خواہش ہے کہ کاش میں ایک وفاشعار بیوی اور شفیق ماں ہوتی۔'' ایک معاشی طور پر مستحکم اور ہزاروں دلوں کی دھڑکن اداکارہ کی جانب سے ایسی خواہش کا اظہار اس سوچ اور پراپیگنڈہ کے منہ پر طمانچہ ہے جو خود مختار عورت کو ماڈرن ازم کی معراج سمجھتے ہیں۔ گلوبلائیزیشن کے بڑھتے ہوئے رحجان کے تناظر میں آزادی نسواں کا نعرہ دنیا بھر کی خواتین کا پسندیدہ نعرہ بن چکا ہے۔۔ اس کے اغراض و مقاصد یہ ہے کہ معاشرہ مساواتِ مرد و زن کے بنیادی اصول پر استوار ہو۔ اس تحریک کے حامیوں کا دعوی ہے کہ عورت کو اس کے حقوق اسی تحریک کے ذریعے ملے ہیں مگر اگر ایمانداری سے تجزیے کیا جائے تو اسی تحریک کے نتائج یہ ہے کہ آج کی ماڈرن عورت کا دامن نسائیت، عصمت و عفت، احساسِ تحفظ، امن و سکون، احترام و وقار سے خالی ہے ۔ مغرب کے سرمایہ دارانہ ذہنیت نے خواتین کو گھر سے باہر نکلنے کی ترغیب دیکر صرف اور صرف اپنے لیے معاشی فوائد حاصل کئے ہیں اور انہیں شمعِ محفل بنا ڈالا ہے۔ ایک طرف تو اس ذہنیت نے عورت کو گھروں سے باہر نکال فیکٹریوں، کارخانوں، دکانوں پر لاکھڑا کیا ہے تو دوسری طرف اسی سوچ نے عورت کو میڈیا کی دنیا میں ''کمیوڈیٹی ''کے طور پر استعمال کیا ہے۔ عورت کی حثیت مخص '' شو پیس'' کی سی ہے۔ ایک طرف تو مادر پدر آزادی کا حق دیا جاتا ہے اور دوسری طرف منفعت کے لیے جسم فروشی کو جائیز قرار دیا جاتا ہے۔ تمام اعلی عہدوں پر مغربی مرد قابض ہیں جبکہ عورتوں کو اشتہار بنا دیا گیا ہے ،اس بیچاری کو اداکارائیں، گلوکارائیں، رقاصائیں،ماڈل گرل، کال گرل،ائیرہوسٹس، ویٹریس، سیلز گرل اور پورنو گرافی کے دلدل میں پھینک کر نعرہ دیا گیا ہے آزادی نسواں کے نام پر مردوں سے برابری کا۔ آج کی مغربی عورت معاشرے میں جنسی تسکین کے حصول کا ایک ٹول یا ذریعہ ہے۔ جوں جوں اس کی عمر بڑھتی جاتی ہے وہ معاشرے کے لیے عضوِ معطل کی حثیت اختیار کر لیتی ہے اور اس کی آخری منزل اولڈ ہاوس ہوتے ہیں۔ یہ اسی آزادی مساوات کے ثمرات ہیں کہ آج کی مغربی عورت حقوق تو برابر کے ملے نہیں لیکن فرائض ضرور برابر کے ادا کرنے پڑتے ہیں۔ وہ معاشی میدان میں مرد کے مساویانہ خرچ کی ذمہ دار ہے تو گھر آ کر اپنے حصے کا آدھا گھریلو کام بھی کرتی ہے۔ پھر اسے اپنے شوہر کے معاشقوں کو بھی کھلے دل کے ساتھ برداشت کرنا پڑتا ہے کہ یہ ان کی ننگی تہذیب و تمدن کا حصہ ہے۔اس پر مستزاد اگر شوہر اپنی گرل فرینڈ کے ساتھ وقت گزار کر آیا ہے اور واپس آکر بیوی سے منہ پھیر کر سو گیا ہے تو آزادی نسواں کے نام پر مغربی عورت کو پورن فلمز سے اپنا دل بہلانا پڑتا ہے۔ اور پھر اگر ان کے شوہر ان کو چھوڑ کر چلے گئے ہیں تو بچوں کی پرورش بھی اس کی ہی ذمہ داری ہے۔ کیا ماڈرن کہلوانے والی عورت کی اس سے بڑھ کر اور تذلیل ہو سکتی ہے؟؟؟؟ مغربی معاشرے کی اخلاقی ساکھ اور گھریلو نظام تباہی کے دہانے پر ہے ۔ آج اسی تہذیب و تمدن کو آزادی نسواں اور ماڈرن ازم کے پُرفریب نعرے کے پردے کے پیچھے سے مسلم خواتین کو اپنی طرف متوجہ کیا جا رہا ہے ۔ اسمیں کوئی شک نہیں کہ ہمارا معاشرہ عورتوں کے حقوق کے حوالے سے مثالی معاشرے کہلوانے کا مستحق نہیں لیکن اس کی بھی اصل وجہ دین سے دوری اور غیر ملکی تہذیب و تمدن سے متاثر ہونا ہے۔ اسکے باوجود مشرقی عورت کو آج بھی گھر کے چراغ کی حثیت حاصل ہے۔ جوں جوں اس کی عمر بڑھتی ہے اس کے حفظ و مراتب اور عزت میں اضافہ ہوتا جاتا ہے۔ نہ صرف گھر میں بلکہ معاشرہ بھی اسے تکریم و عزت دیتا ہے۔ اسلام میں معاشی و معاشرتی ذمہ داری مرد کے کندھے پر ڈالی گئی ہےاور عورت کی اولین ذمہ داری گھر اور بچوں کو قرار دیتا ہے۔ لیکن اس کے باوجود دین ِ اسلام انہیں نوکری کی بھی اجازت دیتا ہے اور کاروبار کی۔ انہیں اپنی املاک رکھنے کا حق حاصل ہے ۔ انہیں تعلیم کا بھی اتنا ہی حق ہے جتنا کہ مرد کو ہے۔ اسکے باوجود اسلام دشمن اسلام کے خلاف پروپیگنڈا کرتے ہیں کہ اسلام عورتوں کی حق تلفی کرتا ہے۔ انہیں بچارگی اورمظلوم ہونے کا احساس دلا کر دین اور تہذیب و تمدن سے دور کیا جا رہا ہے کیوں کہ اسلام دشمنوں کوعلم ہے اگر مسلم عورت بھی مغربی تہذیب و تمدن کے رنگ میں رنگ گئی تو نظریاتی تعلیم و تربیت کا ایک اور دروازہ بند ہو جائے گا اور اِنہیں دینِ اسلام کے خاتِمہ کے لیے حسبِ منشا نتائج حاصل کرنے میں آسانی ہوگی۔ اللہ تعالی ہمیں دشمنوں کی چالوں کو سمجھنے اور ان کی شر سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

پردہ" جو عقل پر پڑ گیا"

2017-06-23 07:24:01 

عام طور پر حجاب کا لفظ '' نقاب '' کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے ۔حجاب کا لفظ عربی زبان کے لفظ حجب سے نکلا ہے جسکے معنی ہیں کسی کو کسی چہرہ تک رسائی حاصل کرنے سے روکنا۔ آجکل حجاب کی اصطلاح صرف سر پر اسکارف لینے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ عموماََ '' حجاب یا پردہ '' کو مسلمانوں سے منسوب کیا جاتا ہے جبکہ اگر ہم تاریخ کا جائیزہ لیں تو اس کا استعمال قدیم زمانے سے ہی چلا آرہا تھا۔ پردے کا رواج آشوریوں، بابلیوں، میسوپوٹیمیا، سومریوں، اور قدیم یونان میں بھی پایا جاتا تھا۔ گھر سے باہر نکلتے وقت خواتین سر ڈھانپا کرتی تھیں ۔ سر کو کھلا چھوڑنا ایک کبیرہ گناہ سمجھا جاتا تھا اور اس کی خلاف ورزی کرنے والی عورت کو سخت سزا دی جاتی تھی۔ عبرانی زبان میں لفظ حجاب '' ھتصاعیف'' کا مترادف ہے اور اصطلاحاََ ایسی چادر کو کہتے ہیں جو بد ن اور بلخصوص سر کو چھپاتی ہو۔ تلمود یہودی خواتین پر حجاب فرض کرتا ہے جس کے بغیر انہیں باہر نکلنے کی اجازت نہیں اور شوہر کو یہ حق دیتا ہے کہ خلاف ورزی کرنے پر اپنی بیوی کو طلاق دے دے۔ یہودی علماء کے نزدیک عورت کا سر ننگا کرنا ایسا ہی گویا اس نے اپنے جنسی اعضاء نمایاں کیے ہوں۔ یہودی شریعت میں نمازیں اور دعائیں کسی ننگے سر کی عورت کی موجودگی میں قبول نہیں ہوتیں کیوں کہ اسے عریانیت سمجھا جاتا تھا اور ننگے سر کے جرم کے پاداش میں جرمانہ تک کیا جاتا تھا۔ اس کے برعکس فاحشاوّں اور طوائفوں کو یہودی معاشرے میں سر ڈھانپنے کی اجازت نہیں تھی تاکہ آزاد اور غلام عورت میں فرق کیا جاسکے۔ مسیحیت میں بھی اسی قسم کے حجاب کی تائید کی گئی ہے ۔ بائبل میں حجاب کے لیے مترادف لفظ '' peplum '' کا ذکر ہو اہے جسکے معنی ایسی چادر یا رداء کے ہیں جس کو عورت اپنے سر پر اس طرح رکھتی ہے کہ جیسے یونانی عورتیں رکھتیں تھیں اور یہ بدن کے ساتھ ساتھ چہرے کو بھی چھپاتی تھی اور صرف آنکھیں نظر آتیں تھیں۔ آج بھی اگر راہبہ کو دیکھا جائے تو وہ سر تا پاوں ملبوس نظر آتی ہے اور اسی طرح عام مسیحی عورتیں بھی کچھ عرصہ پہلے تک ملبوس نظر آتیں تھیں اور سر کو باقاعدہ ڈھانپتی تھیں۔ آج بھی چرچوں میں حضرت مریم کا جو مجسمہ بنایا جاتا ہے اسمیں چہرہ کے علاوہ پورا جسم ڈھکا ہوتا ہے۔ میسوپوٹیمیا میں بھی عزت دار خواتین پردہ کیا کرتی تھیں اور طوائفوں کو پردہ کرنا منع تھا تاکہ دونوں کے درمیان امتیاز ہوسکے۔ یونان کے ابتدائی دور میں پردے اور نکاح کا رواج تھا اور مردان خانے اور زنان خانے الگ الگ تھے۔ ہندووں میں اگر پردے کا جائیزہ لیا جائے تو وہاں بھی پردے کی اہمیت رہی ہے۔ سیتا کا مشہور واقعہ ہے جب راون نے اسے اغوا کیا تھا تو رام جی کے چھوٹے بھائی لکشمن سیتا کو پہچان نہ سکے تھے کیوں کہ انہوں کے کبھی اپنی بھاوج کی صورت نہیں دیکھی تھی۔ ہندو سماج میں اونچی ذات کی عورتیں پردہ کیا کرتی تھیں۔ اب بھی مارواڑیوں ، کائستوں ، پرانی وضع کے برہمن خاندانوں اور راجھستانیوں میں گھونگٹ نما پردے کا رواج ہے۔ حتی کہ زرتشت کی کتاب '' اوستا'' کے باقیات میں عورتوں پر حجاب واجب اور نامحرم کی طرف دیکھنا حرام ہے۔ اگر دینِ اسلام کا جائیزہ لیا جائے تو اسمیں بھی '' پردے '' کو خصوصی اہمیت حاصل ہے لیکن اسے ادنی و اعلی کی تمیز کے بغیر سب خواتین کے لیے لازمی قرار دیا گیا۔ جیسا کہ قرآن پاک میں سورہ نور آیت ۳۱ میں ارشاد ہے ترجمہ : اور ایمان والیوں سے کہہ دو کہ اپنی نگاہ نیچی رکھیں اور اپنی عصمت کی حفاظت کریں اور اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں مگر جو جگہ اس میں سے کھلی رہتی ہے، اور اپنے دوپٹے اپنے سینوں پر ڈالے رکھیں، اور اپنی زینت ظاہر نہ کریں مگر اپنے خاوندوں پر یا اپنے باپ یا خاوند کے باپ یا اپنے بیٹوں یا خاوند کے بیٹوں یا اپنے بھائیوں یا بھتیجوں یا بھانجوں پر یا اپنی عورتوں پر یا اپنے غلاموں پر یا ان خدمت گاروں پر جنہیں عورت کی حاجت نہیں یا ان لڑکوں پر جو عورتوں کی پردہ کی چیزوں سے واقف نہیں، اور اپنے پاؤں زمین پر زور سے نہ ماریں کہ ان کا مخفی زیور معلوم ہوجائے، اور اے مسلمانو! تم سب اللہ کے سامنے توبہ کرو تاکہ تم نجات پاؤ۔ سورہ احزاب آیت ۵۹ کا ترجمہ ہے : اے نبی اپنی بیویوں اور بیٹیوں اور مسلمانوں کی عورتوں سے کہہ دو کہ اپنے مونہوں پر نقاب ڈالا کریں، یہ اس سے زیادہ قریب ہے کہ پہچانی جائیں پھر نہ ستائی جائیں، اور اللہ بخشنے والا نہایت رحم والا ہے دیکھا جائے تو '' حجاب یا پردہ '' ہر تہذیب و تمدن میں اشرافیہ خواتین کے لیے عزت و وقار کی علامت رہا ہے ، جسے دینِ اسلام نے بلا تخصیص عام و خاص کے لیے لازم قرار دیا۔ وقت کے ساتھ ساتھ دیگر تہذیب اور مذاہب نے اسے ترک کردیا لیکن مسلم معاشروں میں آج بھی پردہ کی روایت زندہ ہے گو کہ اس میں خاصی کمی واقع ہو گئی ہے لیکن اسے مکمل طور پر ترک نہیں کیا گیا ۔ آج پردے کو صرف مسلمانوں سے منسوب کر دیا گیا ہے اور اس بناء پر انہیں توہین و تضحیک کا نشانہ بنایا جاتا ہے انہیں دقیانوسی اور اجڈ کہہ کر پکارا جاتا ہے تاکہ معاشرے میں بےشرمی اور بےحیائی کو فروغ حاصل ہو، خاندانی نظام اور اسلامی اقدار کا خاتمہ کیا جاسکے۔ ذہن میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب پردہ ہر تہذیب و معاشرت اور مذہب کا حصہ رہا ہے تو اس کا خاتمہ کیوں کر ممکن ہوا؟؟ موجودہ مغربی تہذیب کی بنیاد کا جائیزہ لیا جائے تو اس کی بنیاد صرف اور صرف مادہ پرستی پر رکھی گئی ہے۔ اسمیں صرف اس فرد کو اہمیت حاصل ہے جو کہ کسی نہ کسی طور پر فائدہ مند ہو۔یہی وجہ ہے کہ جب صنعتی ترقی کی بدولت افرادی قوت میں کمی کے باعث عورتوں کو گھر سے باہر نکالنے کا فیصلہ کیا گیا۔ ترغیب دینے کے لیے نعرہ لگایا گیا '' آزادی نسواں اور مردوں کے برابر حقوق '' کا ۔ لیکن آزادی نظر آئی تو صرف عریانیت کی شکل میں، آزادی نظر آئی تو صرف مرد و زن کے آزادانہ اخطلاط میں ، آزادی ملی تو صرف بدکاری کو، آزادی ملی تو صرف مردوں کو اپنے فرائض سے ادائیگی کی۔ آزادی کے نام پر عورت کوتنہا کردیا گیا، اسے ہر ایک کے لیے سہلِ حصول بنا دیا گیا ہے، معاشی آزادی کے نام پر اسے کولہو کا بیل بنا دیا گیا ہے ، ضرورتِ زندگی کی تکمیل کے لیے اسے پست ترین ملازمت تک اختیار کرنی پڑتی ہے اور آسان ترین جاب '' سیکس ورکر '' کی ہے۔ عموماََ سترہ سال کی عمر کے بعد باپ اور اہلِ خانہ اس کے مصارف برداشت کرنے کے پابند نہیں ہوتے اس لیے اپنے لیے کام تلاش کرنا پڑتا ہے۔ شادی کے بعد اسے مساوی حقوق کی وجہ سے شوہر کے شانہ بشانہ گھر کے اخراجات کے لیے ملازمت کرنا پڑتی ہے حتی کہ وہ بوڑھی ہوجائے اور اسکے بچے مالدار ہوں تب بھی اسے اپنے اخراجات خود کرنے پڑتے ہیں۔ عورت کا کام صرف تکمیل شہوات ہے، اس کا نتیجہ یہ ہے کہ وہ نہ اولاد کی تربیت کر سکتی ہے اور نہ ہی اولاد اس کا احترام کرتی ہے ۔ سو اہلِ مغرب کا پورا خاندانی نظام مفلوج و منتشر ہے۔ عورت کی بے پردگی نے مغرب کو صرف اور صرف اخلاقی پستی کی آزادی دی ہے۔ اہلِ مغرب اس بات پر فخر کرتے ہیں کہ انہوں نے دنیا کو '' آزادی '' کا تحفہ دیا ہے جسمیں ہر فرد کو اظہارِ خیال کی اپنی تہذیبی اور ثقافتی شناخت کے ساتھ رہنے کی اور اپنے مذہب پر عمل کرنے کی اجازت ہے اور اور کسی پر کوئی رائے زبردستی نہیں تھوپی نہیں جا سکتی۔ لیکن عالم اسلام پر اس کا دباو ہے کہ وہ اپنے ہاں خواتین کومغربی تہذیب و تمدن کے مطابق زندگی گزارنے کی اجازت دیں ۔کیایہ ان کی مروجہ آزادی کی اصل روح کے منافی اقدام نہیں ہے؟؟ اہلِ مغرب میں شاید آزادی کا حقییقی مفہوم فرد کو اخلاقی اور مذہبی قدروں سے آزاد کرنا ہے نہ کہ آزادی سے ہمکنار کرنا ۔ اس لیےاہلِ مغرب مسلمانوں کو ان کی مذہبی شناخت سے محروم کرنے اور خواتین کی آزادی کے نام پر پردے کے خلاف نہ جانےکیسی کیسی مہم چلاتا رہتا ہے۔ سوچا جائے تو بے پردگی یا عریانیت اس دور کی یادگار ہے جب انسان تہذیب و تمدن اور شعور سے انجان برہنہ گھوماکرتا تھا۔ جب اس نے تہذیبی و تمدنی ترقی کی تو اپنے بدن کو ڈھانپا۔ آج اسی ''ترقی'' کے نام پر انسان برہنگی پر اتر آیا ہے۔ یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ''پردہ '' علامت ہے عورت کے وقار کا ، حیا کا ، نسوانیت کا ، اعلی اخلاق و کردار کا ۔ اسے کسی قسم کی '' قید'' سے منسوب کرنا بالکل غلط ہے۔ دینِ اسلام عورت کی عزت و آبرو کا تحفظ چاہتا ہے اسلیے اسے '' پردہ '' کرنے کا حکم دیتا ہے۔ اللہ تعالی ہمیں دینِ اسلام کا کی تعلیمات پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین

کامیابی کا راز

2017-06-23 07:22:41 

آج ہمارے معاشرے میں لوگ ہر حال میں دوسروں سے آگے نکلنے کی دھن میں جائز و ناجائیز ہتھکنڈے استعمال کرنے سے نہیں چوکتے۔ معاشرہ دن بدن اخلاقی پستی اور تنزلی کی طرف گامزن ہے اور نمایاں طور پر جو چیز ہمارے معاشرے کو گھن کی طرح کھائے جا رہی ہے وہ منافقت، بیجا خوشامد اور چاپلوسی کرنا ہے۔ اگرچہ تعریف کرنا بری بات نہیں ، تعریف ہمیشہ آپ کو مذید بہتر کام کرنے کا حوصلہ اور ہمت عطا کرتی ہے ۔ اس سے نہ صرف ترقی کی راہوں پر گامزن ہونے میں آسانی ہوتی ہے بلکہ اس سے تعلقات میں استواری بھی پیدا ہوتی ہے ۔۔۔ لیکن خرابی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب تعریف حد سے زیادہ تجاوز کر جائے اور وہ فرد تعریف کا حقدار بھی نہ ہو، ایسی صورت میں تعریف اپنی حدود سے نکل کر چاپلوسی، خوشامد اور منفاقت کے دائرے میں داخل ہو جائے۔ منافقت ، خوشامد اور چاپلوسی ایک فرد کو تو فائدہ دیتی ہے لیکن باقی معاشرے کو نقصان پہنچاتی ہے۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے ہم نے اقبال کا کہا مانا، خودی کے ہاتھوں مرتے رہے جھکنے والوں نے رفعتیں پائیں ، ہم خودی کو بلند کرتے رہے آجکل چاپلوسی، خوشامد کو لوگوں نے اپنی ترقی کرنے کا زینہ بنا لیا ہے۔ اس سے معاشرہ دو طرح سے خرابی کا شکار ہوتا ہے ایک تو یہ کہ خوشامد اور چاپلوس شخص ایک قابل اور اہل فرد کی جگہ سنبھال لیتا ہے اور دوسرا بیجا خوشامد اور چاپلوسی سے فرد کو غرور اور تکبر میں مبتلا کر دیتا ہے اور اس طرح اسکی ترقی کی راہیں مسدود کر دیتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں جہاں سسٹم اور میرٹ نام کی چیز موجود ہی نہیں ایسے میں اس عادت نے معاشرے کی حالت دگر گوں کر دی ہے کوئی بھی شخص اختلافِ رائے کی جرات نہیں کرتا اور اگر کوئی کرتا بھی ہے تو اسے ذاتی عناد اور دشمنی کا نام دے دیا جاتا ہے۔ ہمارا دین اسلام بھی اس فعل کی سخت مذمت کرتا ہے۔ حضرت معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے سنا ایک دوسرے کی خوشامد اور بے جا تعریف سے بچو کیونکہ یہ ذبح کرنے ہلاک کرنے کے مترادف ہے۔ امام شافی کا قول ہے کہ '' جو تمہارے ایسے اوصاف بیان کرے جو تم میں نہ ہوں وہ تمہارے ایسے عیوب بھی بیان کرے گا جو تم میں نہیں ہوں گے'' اسی طرح امام احمد بن حنبل کہتے ہیں کہ '' دشمن سے ہمیشہ بچو، لیکن دوست سے اس وقت بچو جب وہ تمہاری تعریف کرے۔'' چاپلوسی، منافقت اور خوشامد سے افراد اور قومیں کبھی بھی ترقی نہیں کر سکتی اس لیے ہمیں اپنے معاشرے میں اختلافِ رائے کو سننے اسے برداشت کرنے اور اس سے مثبت نتیجہ نکالنے کی روایات کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔ اللہ تعالی ہمیں اسلام کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا کرے۔ آمین

کثرت ازدواج - کیا عورت کی حق تلفی ہے؟

2017-06-23 07:20:58 

آج ہمارے معاشرے معاشرے میں ترقی پسندیدیت اور روشن خیالی کے نام پر ایسے بہت سے رحجانات مقبولیت اختیار کر چکے ہیں جو کہ براہِ راست اسلام کی تعلیمات سے متصادم ہیں۔ ان میں اسے ایک اہم مسئلہ کثرتِ ازداج بھی ہے بلکہ پاک و ہند کے مخصوص معاشرتی پس منظر کی وجہ سے یہ ایک Taboo کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ کچھ دن پہلے ایک خاتون کی جانب سے ایک نہایت جذباتی تحریر پڑھنے کا اتفاق ہوا جسمیں خاتون اپنے احساسات اور جذبات کی دہائی دیتے ہوئے تحریر کرتی ہیں کہ ۱-'' جس فرد کے ساتھ زندگی گزارنے کے حسین خواب دیکھے ہوں تو اس کی محبت میں کسی اور کی شراکت کیونکر برادشت کی جا سکتی ہے؟'' ۲-آگے چل کر مذید فرماتی ہیں کہ '' انہیں تاریخ سے کثرت ازدواج کی مثال نہ دی جائے اور نہ ہی بزرگوں میں تعداد ازدواج کا بتایا جائے کیونکہ یہ سراسر مردانہ بالادستی ہے جس کے ذریعے مرد ان بزرگوں کی آڑ لیتے ہوئے عورتوں کے ساتھ حق تلفی اور نا انصافی کرتے ہیں''۔ ۳-مزید آگے چل کر کہتی ہیں کہ '' جب مرد یہ برداشت نہیں کر سکتے کہ آپ کے نام کی مہر لگی ہوئی خاتون کو کوئی اور دیکھے تو خود ایسا کیوں کرتے ہیں؟؟ '' ۱- ایک خاتون ہونے کے ناطے میں اچھی طرح سمجھتی ہوں کہ تخلیقِ صنف نازک میں اللہ سبحان تعالی نے جذبات و احساسات کی فراوانی رکھی ہے۔ لیکن جذبات و احساسات کی فروانی کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ وہ کمزور ہے۔ ارشادِ باری تعالی ہے '' الذی خلقکم من نفس واحدۃ '' یعنی مرد اور عورت کو ایک ہی نفس سے پیدا کیا۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ خلقی اعتبار سے مرد و زن برابر ہیں اور انہیں ایک ہی قسم فکر، ارادوں ، صلاحتوں، طاقتوں اور جذبات کے ساتھ پیدا کیا۔ اگر کوئی بات کسی مرد کے لیے پسندیدہ ہے تو اسے عورت بھی پسند کرسکتی ہے اور اگر کوئی بات ناپسندیدہ ہے تو یہ عورت بھی اسے نا پسند کر سکتی ہے۔ عورت میں جذبات کی فروانی ہی جو کہ اسے اسے سردیوں میں اپنے شیرخوار کی گیلی جگہ پر سلاتا ہے، اپنوں کو کسی تکلیف یا مشکل میں دیکھتے ہوئے اپنے جذبات و ضروریات کو ایک طرف رکھتے ہوئے ان کے لیے ایثار و قربانی کرنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ یہی جذبہ ہے جو اسے ہر مشکل اور کٹھن صورتحال میں مردانہ وار مقابلہ کرنے کی جرات دیتا ہے۔ ہم عام مشاہدہ کر سکتے ہیں کہ ایک بیوہ عورت کسی قسم کے وسائل نہ ہونے کے باوجود اپنے بچوں کی خاطر دوڑ دھوپ کرنے گھر سے باہر نکل آتی ہے اور ہر مشکل کا مقابلہ کرتی ہے۔ لیکن اگر انہیں جذبات کو عورت اپنی کمزوری بنا لے تو تحریر کرنے والی خاتون کی کیفیت پیدا ہوتی ہے۔ جب کوئی عورت کسی سے شادی کرتی ہے تو وہ مرد بلا شرکتِ غیرے صرف اسی کا ہی نہیں ہوتا۔ بلکہ اس کا ''کچھ'' بننے سے پہلے بہت سے رشتوں سے جڑا ہوتاہے۔جب ہم ان رشتوں کے ساتھ اپنے شوہر کی شرکت گوارا کر لیتے ہیں تو پھر کسی دوسری عورت کے ساتھ کیوں نہیں ؟؟ کسی بھی چیز میں کسی دوسرے کی'' شراکت ''مشکل ضرور ہوتی ہے لیکن بعض صورتوں میں '' لازمی '' ہو جاتی ہے۔ ایک عورت کے لیے یہ اتنا مشکل کام نہیں ہے جتنا میری بہن نے اپنے جذباتی پن کی وجہ سے بیان کیا ہے۔ ۲- ایک مسلم خاتون ہونے کے ناطے ہمارے لیے یہ سمجھنا بہت ضروری ہے کہ اگر اللہ تعالی نے مردوں کو چار شادیوں کی اجازت دی ہے تو اس کی وجہ کیا ہے؟؟؟ کیا اس کی وجہ مردوں کی بالا دستی ہے ؟؟؟ اور زیادہ شادیاں کرنے سے خواتین کی حق تلفی ہوتی ہے؟؟ '' مرد دوسری خواتین میں دلچسپی کیوں لیتا ہے ؟'' کے حوالے سے ایک ریسرچ پڑھی جو کہ درج ذیل نکات پر مشتمل تھی۔ - مرد حیاتیاتی نقطہ نظر سے خلقی طور پر خواتین کی طرف کھینچتا چلا جاتا ہے اور کھینچنے والی قوت جنسی تسکین کی خواہش ہوتی ہے۔ - عورتوں کی نسبت مرد آسانی سے آمادہ رومان ہو جاتے ہیں اور فریق مخالف سے ہر قیمت پر وابستہ رہنا چاہتے ہیں۔ اس کی ظاہری وجہ قدرتی کیمیکل '' پی ای اے '' ہے جو خواتین کی نسبت مردوں پر زیادہ اثر انداز ہوتا ہے۔ - مردوں میں حیاتی کیمیائی مادہ '' ٹیسٹرون'' عورتوں کی با نسبت دس سے بیس گنا زیادہ پایا جاتا ہے جو ان کی جنسی خواہش کو بڑھاتا ہے۔ اسکے علاوہ اگر ہم دنیا کی آبادی کا جائیزہ لیں تو مرد و زن کی تعداد قریب قریب برابر ہوتی ہے لیکن کچھ معاشروں میں مردوں کی تعداد زیادہ ہوتی ہے اور کچھ میں عورتوں کی ۔ طبی ریسرچیز کہتی ہیں کہ بچیوں کی قوتِ مدافعت لڑکوں کی نسبت زیادہ ہوتی ہے ۔ اسلیے لڑکوں کی نسبت لڑکیاں کی تعداد زیادہ ہوتی ہیں ۔ اس کے علاوہ دنیا بھر میں ہونے والے مختلف حادثات اور جنگوں میں مرنے والے افراد میں زیادہ تر مرد حضرات ہوتے ہیں ، تو لازمی بات ہے کہ معاشرے میں عوتوں کی تعداد میں اضافہ ہو جائے گا۔ اس کے علاوہ بعض جگہوں پر عورتوں کی تعداد مردوں کی نسبت زیادہ ہوتی ہے۔ چونکہ عورت صنفی اعتبار سے نازک اور جذباتی واقع ہوئی ہے تو لامحالہ عورت کو ایک مرد کے معاشی و جذباتی سہارے کی ضرورت ہے تو بیوہ خواتین یا جن معاشروں میں عورتوں کی تعداد زیادہ ہوگی وہاں کی عورتیں کس سے سہارا طلب کریں؟؟ اور سہارا نہ ہونے کی صورت میں اپنے جذبات کی بدولت کیا برائی کی طرف مائل نہ ہونگی؟؟؟ اب ایک فطری طلب کو اور بعض صورتوں میں معاشرتی محبوری کو '' بالادستی '' کا نام دینا جائیز ہے یا ناجائیز؟؟ فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے۔ اب بات کرتے ہیں کثرت ازدواج کے متعلق احکام کی ۔۔۔ اگر ہم دنیا کے مختلف مذاہب کا جائیزہ لیں تو یہودیت، عیسائیت سمیت ہندو مت میں بھی کثرتِ ازدواج کا رواج ملتا ہے بلکہ ایک ساتھ دو بہنوں کو بیویاں بنانے کا رواج بھی ملتا ہے اور تعداد میں کسی قسم کی پابندی نہیں ملتی ۔ یہودیوں نے کثرت ازدواج پر ۱۹۵۰ء میں پابندی لگائی اسی طرح عیسائیت میں بھی کتھولک فرقہ ایک شادی پر سختی سے عمل درآمد کرواتا ہے، اسی طرح ہندوستان میں بھی کثرت ازدواج پر پابندی ۱۹۵۴ء میں لگائی گئی۔ اب اگر ہم اسلام میں کثرتِ ازدواج کے بارے میں فرمانِ الہی دیکھیں تو سورہ النساء کی آیت ۳ کا ترجمہ ہے : ''اور اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ تم یتیم لڑکیوں کے بارے میں انصاف نہ کر سکو گے تو ان عورتوں سے نکاح کرو جو تمہارے لیے پسندیدہ اور حلال ہوں ، دو دو اور تین تین اور چار چار [ مگر یہ اجازت بشرطِ عدل ہے ]، پھر اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ تم [ زائد بیویوں میں ] عدل نہ کر سکو گے تو صف ایک ہی عورت سے [ نکاح کرو] یا وہ کنیزیں جو [ شرعاََ ] تمہاری ملکیت میں آئی ہوں ، یہ بات اس سے قریب تر ہے کہ تم سے ظلم نہ ہو۔ '' اس حکم کے ذریعے اللہ تعالی نے شادیوں کی تعداد کی حد مقرر کردی ، جبکہ دیگر مذاہب میں ایسی کوئی پابندی نہیں تھی۔ اور ساتھ ہی شرط بھی عائد کردی '' عدل '' کی اور کہا کہ اگر عدل نہ کر سکو تو صرف ایک ہی عورت سے نکاح کرو۔ اسی صورت میں آگے آیت ۱۲۹ میں مردوں کو ان کی فطرت کے بارے میں بتا کر انہیں تنبیہہ کی گئی ترجمہ : '' اور تم ہرگز اس بات کی طاقت نہیں رکھتے کہ [ ایک سے زائد ] بیویوں کے درمیان [ پورا پورا ] عدل کرسکو اگرچہ تم کتنا بھی چاہو۔ پس [ ایک کی طرف ] پورے میلان طبع کے ساتھ[ یوں] نہ جھک جاو کہ دوسری کو [درمیان] میں لٹکتی ہوئی چیز کی طرح چھوڑ دو۔ اور اگر تم اصلاح کر لو اور [حق تلفی و زیادتی] سے بچتے رہو تو اللہ بڑا بخشنے والا نہایت مہربان ہے۔ '' دونوں آیات سے واضح ہو جاتا ہے کہ دوسری شادی ایک لازمی حکم نہیں ہے [ جیسا کہ بعض مرد کہتے ہیں ] بلکہ مرد کی فطرت کو دیکھتے ہوئے یہ ایک شرائط اور تنبیہہ کے ساتھ دی جانے والی اجازت ہے اور ضابطہ ہے ۔ اگر ہمارے معاشرے میں رائج جاہلانہ جہالت کے سبب ایک مرد ایک سے زائد شادیاں کرتا ہے اور ان کے درمیان انصاف کے تقاضے پورے نہیں کرتا تو وہ اس کا جوابدہ ہے۔ نہ صرف اللہ کو بلکہ اسکی بیوی اور معاشرہ اسلام کے واضح حکم کے تحت اس سے جواب طلب کر سکتا ہے۔ جس کا کہ ہمارے معاشرے میں بالکل بھی رواج نہیں ۔ اس میں قصور اسلام کا نہیں بلکہ ہمارا ہے جنہیں نہ تو اپنے فرائض کا علم ہے اور نہ ہی حقوق کا۔۔۔ بس الزام سیدھا مذہب پر دھر دیتے ہیں ۔ ایسے میں یہ کہنا کہ مرد کو ایک سے زائد شادیوں کی اجازت دینا بیوی کی '' حق تلفی '' تو اس کے اس جاہلانہ رویہ پر افسوس ہی کیا جاسکتاہے۔ ۳- تیسری بات جو کہ بہن نے کی اگر مرد یہ برداشت نہیں کر سکتے کہ ان کے نام سے منسوب عورت کو کوئی دیکھے تو خود ایسا کیوں کرتے ہیں؟؟ مرد خود سے منسوب عورت کے لیے کسی اور کا دیکھنا برداشت نہیں کرتے تو یہ بھی ان کی فطرت میں شامل ہے۔ تاریخ عالم پر نظر دوڑا لیں لا تعداد ایسی جنگوں ، قتل و غارت کی داستانیں مل جائیں گی جس کی بنیادی وجہ عورت کی وجہ سے ہونے والی رقابت بنی۔ جہاں تک رہ گیا کہ '' خود کیوں ایسا کرتے ہیں '' تو جب مرد کی فطرت میں عورت کی طرف میلان زیادہ ہے اور اس پر معاشرے میں آزادنہ مرد و زن کا اختلاط عام ہوگا تو ظاہر ہے مرد اپنی فطرت کی وجہ سے ایسا تو کرے گا۔ اب یا تو ترقی پسندیدیت اور روشن خیالی کے نام پر ہونے والے آزادانہ اختلاط پر پابندی لگائیں یا مرد کی فطرت کو برداشت کریں ۔ کہ اسی روشن خیالی اور ترقی پسندیدیت کی دین ہے کہ ہمارے ہاں عورت کا گھر رہنا ایک '' قید '' کے مترادف سمجھا جانے لگا ہے۔ ہمارے معاشرے میں ترقی پسندیدیت اور روشن خیالی کی بدولت آزادانہ اختلاطِ مرد و زن بڑھ گیا ہے جس کی وجہ سے صنفی خواہش اور تلذذ کو بھڑکانے کے عوامل اور محرکات میں اضافہ ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مرد اپنی بیوی کے علاوہ دوسری خواتین سے تعلقات بڑھانے میں عار محسوس نہیں کرتا لیکن ان تعلقات کو قانونی شکل دینے سے کتراتا ہے کیونکہ ہمارے معاشرے میں رائج چلن اس کے لیے بہانے کا کام کرتے ہیں ۔ اور وہ پہلی بیوی کے ردِ عمل کا۔ یہ اسی روشن خیالی اور ترقی پسندیدیت کی ہی دین کہ معاشرے میں '' نکاح '' سے زیادہ '' زنا عام ہوگیا ہے۔ ناجائیز بچوں کی شرح میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ نکاح کی صورت میں مرد پابند ہو جاتا ہے عورت اور اسکے ہونے والے بچوں کے نان و نفقے کا۔ اور مرد انہیں ذمہ داریوں سے فراریت کے لیے پہلی بیوی کو بطور ہتھیار استعمال کرتے ہیں اور ہم مسلم بیویاں اسلام کے دیئے گئے احکام کو سمجھے بغیر دوسری شادی میں رکاوٹ بن جاتی ہیں اور معاشرے میں '' زنا '' کے اضافے کا سبب بنتی ہیں اور اللہ تعالی کی نافرمانی کی موجب بھی ٹھہرتی ہے۔ معاشرے میں '' زنا '' کے عام ہونے سے بہتر ہے '' نکاح '' عام ہو جائے ۔ اسی میں خیر کا پہلو ہے۔ اللہ تعالی ہمیں دینِ اسلام کو سمجھنے اور عمل کرنے کی توفیق عطا کرے ۔ آمین 

عبادت سے عبودیت تک۔۔۔

2017-05-29 04:43:01 

ابنِ تمیمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں '' عبادت سے مراد اللہ تعالی کی تمام پسندیدہ و محبوب، ظاہری و باطنی اقوال و افعال ہیں '' 
یاد رہے تمام پسندیدہ و محبوب ، چاہے ظاہری ہوں یا باطنی ''اقوال و افعال''
کچھ لوگوں کے نزدیک نماز ادا کرنا، روزہ رکھنا ، حج کرنا اور دیگر فرائض ادا کرنا ہی عبادت ہے جبکہ کچھ لوگ صرف '' انسانیت '' کی خدمت کرنے کو ہی عبادت کا درجہ دیتے ہیں۔ 
عبادت یہ بھی نہیں ہے کہ دنیا سے کٹ کر کونوں کھدروں میں اللہ اللہ کی مالا جپی جائے بلکہ اپنی پوری زندگی کو اللہ اور اس کے حکم کے مطابق بسر کرنے کا نام عبادت ہے۔
ہماری عبادت کی انتہا یہ ہے کہ ہماری انگلی کی جنبش بھی اللہ کے مقرر کردہ حکم کے مطابق ہو۔ اپنے اختیار و اقدارکو اللہ کے حکم کے مطابق سر انجام دینا، جائیز و ناجائیز کی حدود کا خیال رکھنا، رستہ سے پتھر یا کانٹا ہٹا دینا، بیمار کی خدمت ، اس کے بندوں کی خدمت کرنا، کسی کی دل آزاری سے بچنا، غیبت و جھوٹ سے بچنا سب عبادت کے زمرے میں آتا ہے۔ 
اپنا محاسبہ کرنے بیٹھے تو ہم نے صرف نماز، روزہ، زکوۃ اور دیگر فرائض کی ادائیگی کو عبادت سمجھ لیا ہے ، اور ان کی ادائیگی کے بعد سمجھتے ہیں کہ ہمارا فرض ادا ہوگیا جبکہ اصل عبادت تو یہ ہے کہ ہم دنیا ہر کام کو عبادت سمجھ کر سر انجام دیں خواہ اس کا تعلق مذہب سے ہو یا معاشرے سے، معشیت سے ہو یا سیاست سے ، انفرادی زندگی سے یا اجتماعی زندگی سے۔
گویا عبادت اس کیفیت کا نام ہے جو پوری زندگی کے اعمال و افعال پر محیط ہوتی ہے ۔
اللہ تعالی ہمیں اسلام کو سمجھنے اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا کرے ۔ آمین

حجاب کسے کہتے ہیں؟

2017-05-29 04:40:34 

دورِ حاضر میں پردہ ایک فیشن کی صورت اختیار کر گیا ہے۔ آج پردہ یا حجاب کی بہت سی صورتیں رائج ہیں جن میں سرِ فہرست سر کو اسکارف سے ڈھانپنا ہے۔ بعض خواتین سر تا پاوں عبایا یا برقع میں ملبوس ہوتیں ہیں حتی کہ ہاتھوں کو بھی دستانوں اور پیروں کو موزوں سے ڈھانپا ہوتا ہے۔ کچھ تو اسکن ٹائٹ زرق برق عبایا کو ہی پردہ گردانتی ہیں ، کچھ تو صرف دوپٹے سے سر ڈھانپ کر ہی مطمئن ہو جاتی ہیں کہ پردہ ہوگیا اور کچھ ایسی ہیں جن کے نزدیک حج و عمرہ کا پردہ ہی پردہ ہے اور بعض ایسی ہیں جن کے نزدیک '' پردہ تو صرف آنکھوں کا ہوتا ہے'' ۔
اس طرح حجاب یا پردے کے بارے میں بہت سی غلط فہمیاں پائی جاتیں ہیں ۔ 
اس مضمون میں ان سوالات کا جواب حاصل کرنے کی کوشش کریں گے کہ اصل پردہ کیا ہے؟ 
عام طور پر ستر اور حجاب میں فرق نہیں کیا جاتا حالانکہ یہ شریعت کی رو سے یہ مختلف ہیں ۔ 
حجاب اور ستر کے درمیان فرق : 
الستر (مصدر) کا بنیادی معنی محض کسی چیز کو چھپانا ہے۔ اور ستر اور سترۃ ہر اس چیز کو کہتےہیں جس سے کوئی چیز چھپائی جائے۔ مقاماتِ ستر سے مراد انسانی جسم کے وہ حصے ہیں جنہیں شریعت نے دوسرے انسانوں سے ہر حالت میں چھپانا واجب قرار دیا ہے۔
مرد کا ستر اسکی ناف سے لیکر گھٹنے تک ہے ۔ اور عورت کا ستر پورا جسم ماسوائے شہرہ اور ہاتھوں کے ستر میں شمار ہوتیں ہیں۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہہ فرماتی ہیں کہ میں اپنے بھتیجے عبداللہ بن طفیل کے سامنے زینت کے ساتھ آئی تو آپ ﷺ نے اسے نا پسند فرمایا۔ میں نے کہا یہ تو میرا بھتیجا ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا جب عورت بالغ ہو جائے تو اس کے لیے جائز نہیں کہ اپنے جسم میں سے کچھ ظاہر کرے سوائے چہرے کے اور سوائے اس کے یہ کہہ کر آپ ﷺ نے اپنی کلائی پر اس طرح ہاتھ رکھا کہ آپﷺ کی گرفت کے مقام اور ہتھیلی کے درمیان صرف ایک مٹھی بھر جگہ باقی تھی۔
حجاب دو چیزوں کے درمیان کسی ایسی حائل ہونے والی چیز کو کہتے ہیں جس کی وجہ سے دونوں چیزیں ایک دوسرے سے اوجھل ہوجائیں۔
ارشاد باری تعالی ہے : ترجمہ اور جب تمہیں (نبی کی بیویوں سے) کوئی چیز مانگنا ہو تو پردے کے باہر سے مانگو۔ سورہ احزاب ۳۳ 
گویا حجاب ستر کے علاوہ اضافی چیز ہے جس کا تعلق غیر محرم یا اجنبی مرد سے ہوتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں ستر فی نفسہ ضروری ہے چاہے کوئی موجود ہو یا نہ ہو جبکہ حجاب فی نفسہ ضروری نہیں جب تک دیکھنے وال غیر محرم موجود نہ ہو۔ 
اللہ تعالی نے سورہ احزاب اور سورہ نور کے ذریعے مسلمانوں کو احکامِ ستر و حجاب سے روشناس کروایا۔
سورہ احزاب کی آیت 59 میں '' جلباب'' اور سورہ نور کی آیت 31 میں '' خمر '' کا ذکر ہوا ہے۔
جلباب کہتے ہیں بڑی چادر یا عبایا سے مشابہ چیز کو جو پورے جسم کو ڈھانپ لے جبکہ خمر کے معنی چھوٹے دوپٹے کے ہیں جو کہ عورتیں گھروں میں اوڑھا کرتیں تھیں۔ 
سورہ احزاب آیات ٣٣ میں ارشاد باری تعالی ہے :

 وَقَرْنَ فِىْ بُيُوْتِكُنَّ وَلَا تَبَـرَّجْنَ تَبَـرُّجَ الْجَاهِلِيَّـةِ الْاُوْلٰى ۖ وَاَقِمْنَ الصَّلَاةَ وَاٰتِيْنَ الزَّكَاةَ وَاَطِعْنَ اللّـٰهَ وَرَسُوْلَـهٝ ۚ اِنَّمَا يُرِيْدُ اللّـٰهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ اَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيْـرًا
اور اپنے گھروں میں بیٹھی رہو اور گزشتہ زمانہ جاہلیت کی طرح بناؤ سنگھار دکھاتی نہ پھرو، اور نماز پڑھو اور زکوٰۃ دو اور اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرو، اللہ یہی چاہتا ہے کہ اے اس گھر والو تم سے ناپاکی دور کرے اور تمہیں خوب پاک کرے
۔

اس آیت میں پردے احکامات سب سے پہلے نبی ﷺ کے گھرانے کو دئیے گئے کیونکہ آپ ﷺ کو اسوہ حسنہ بنا کر پیش کرنا مقصود تھا۔ اور ویسے بھی اصلاح کا عمل دوسروں کی بجائے اپنے آپ سے شروع کرنا زیادہ موثر ہوتا ہے۔ اس آیت میں تنبیہہ کر دی گئی کہ زمانہ جاہلیت کی طرح اپنی زینت و آرائش نہ دکھاتی پھرو۔ اس کے لیے خاص لفظ استعمال کیا گیا ہے تبرج۔۔ 
تبرج کیا ہے ؟؟ 
تبرج میں پانچ چیزیں شامل ہیں۔
اپنے جسم کے محاسن کی نمائش۔
 زیورات کی نمائش اور جھنکار۔
 پہنے ہوئے کپڑوں کی نمائش۔ 
 رفتار میں بانکپن اور نازو ادا۔ 
 خوشبویات کا استعمال ۔ 
ان سب باتوں سے منع فرما دیا گیا۔
سورہ احزاب کی آیت 59 میں چہرے کا پردہ کرنے کا حکم دیا گیا :

يَآ اَيُّـهَا النَّبِىُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَآءِ الْمُؤْمِنِيْنَ يُدْنِيْنَ عَلَيْهِنَّ مِنْ جَلَابِيبِْهِنَّ ۚ ذٰلِكَ اَدْنٰٓى اَنْ يُّعْرَفْنَ فَلَا يُؤْذَيْنَ ۗ وَكَانَ اللّـٰهُ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا
اے نبی اپنی بیویوں اور بیٹیوں اور مسلمانوں کی عورتوں سے کہہ دو کہ اپنے مونہوں پر نقاب ڈالا کریں، یہ اس سے زیادہ قریب ہے کہ پہچانی جائیں پھر نہ ستائی جائیں، اور اللہ بخشنے والا نہایت رحم والا ہے

اب جو حضرات یہ کہتے ہیں کہ '' ید نین علیھن من جلا بیبھن '' سے مراد چادر لٹکا کر گھونگھٹ نکالنا نہیں ہے بلکہ اس سے مراد چادر کو اپنے جسم کے گرد اچھی طرح لپیٹنا ہے، تو ان کے لیے عرض یہ ہے کہ لغوی لحاظ سے ''دنی یدنی'' کا معنی قریب ہونا بھی ہے اور جھکنا اور لٹکنا بھی۔ '' ادنی ''کے معنی ہیں قریب کرنا ، جھکانا اور لٹکانا۔۔۔ اب اگر قرآن کے الفاظ ہوتے'' ادنی الیھن من جلا بیبھن'' تو ان میں اس بات کی گنجائش ہوتی کہ اس کے معنی اپنی چادروں کو اپنے جسموں کی طرف قریب کرلیں یا بکل مار لیں ۔۔ لیکن قرآن کے الفاظ ہیں'' یدنین علیھن من جلابیبھن'' جس کا معنی لا محالہ کسی چیز کو لٹکانا ہی ہو سکتا ہے ۔ ادنی کے ساتھ علی کا صلہ اس میں ارخاء یعنی اوپر سے لٹکانے کے معنوں میں مخصوص کر دیتاہے۔ جب لٹکانا یا نیچے کرنا معنی ہو تو اس کا مطلب چہرہ کا گھونگھٹ نکالنا ہی ہوگا۔
اس ضمن میں واقعہ افک سے متعلق حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہہ کا بیان ہے جو کہ بخاری میں مذکور ہے۔۔۔ میں اسی جگہ بیٹھی رہی اتنے میں میری آنکھ لگ گئی۔ اتنے میں ایک شخص صوان بن معطل اسلمی اس مقام پر آیا اور دیکھا کہ کوئی سو رہا ہے۔ اس نےمجھے دیکھتے ہی پہچان لیا کیونکہ حجاب کا حکم اتنے سے پہلے اس نے مجھ کو دیکھا تھا۔ اس نے مجھ کو پہچان کر انااللہ وانا الیہ راجعون پڑھا تو میری آنکھ گھل گئی تو میں نے اپنا چہرہ اپنی چادر سے ڈھانپ لیا۔ ۔۔ الفاظ ہیں'' فخمرات وجھی بجلبابی''۔۔۔ اگر چہرہ خارج ہے تو کیا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور دوسرے صحابہ اکرام رضوان اللہ علیہم نے اس کا مطلب غلط سمجھا تھا؟
بعض افراد چہرہ اور ہاتھوں کے استثناء کے لیے سورہ نور کی آیت 31 وَلَا يُبْدِيْنَ زِيْنَتَهُنَّ اِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْـهَا پیش کرتے ہیں لیکن یہ توجیہہ بھی اس صورت میں غلط ثابت ہوتی ہے کہ اس آیت میں حجاب کی رخصتوں کا ذکر کیا جا رہا ہے نا کہ حجاب کی پابندیوں کا ۔۔۔ یعنی کن محرم رشتوں سے حجاب کی ضرورت نہیں۔ اس کے علاوہ اس جملہ کا مطلب یہ ہے کہ عورتیں اپنی زینت ظاہر نہ کریں مگر جو اس زینت سے از خود ظاہر ہو جائے۔ گویا اللہ تعالی عورتوں کو تکلیف میں مبتلا نہیں کرنا چاہتے کہ اگر بڑی چادر یا برقعہ کے باوجود کسی اتفاق سے عورت کی زینت ظاہر ہو جائے تو اسمیں مضائقہ نہیں ۔ صحابہ اور تابعین کی اکثریت اس پر متفق ہے۔ 
سوال یہ ہے کہ اگر عورت کے چہرے کا پردہ ضروری نہیں ہے تو اس حکم کی کیا ضرورت رہ جاتی تھی کیونکہ اس آیت میں یہ نہیں فرمایا گیا ہے کہ گھر کے باہر کھڑے ہو کر چیز مانگ لیا کرو بلکہ کہا ہے من وراء حجاب یعنی حجاب کے پیچھے سے مانگا کرو۔
رسول اکرم ﷺ کا ارشاد ہے ترجمہ : عورت احرام کی حالت میں نہ نقاب اوڑھے اور نہ دستانے پہنے۔ نسائی
اس حدیث سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ پردے کے حکم کے بعد عورتوں نے اپنے منہ اور ہاتھوں کو چھپانا شروع کردیا تھا جبھی تو حالتِ احرام میں استثنی کا حکم جاری ہوا۔ اگر چہرے کے پردے کا رواج نہ ہوتا تو اس حکم کی بالکل بھی ضرورت نہیں تھی ۔ 
'حضرت عائشہ رضی اللہ عنہہ سے روایت ہے'وہ فرماتی ہیں کہ(حج کے دوران) قافلے ہمارے پاس سے گزرتے تھے اور ہم اللہ کے رسولﷺ کے ساتھ حالتِ احرام میں ہوتی تھیں، پس جب وہ ہمارے پاس سے گزرتے تو ہم اپنے جلباب اپنے سر سے اپنے چہرے پر لٹکالیتی تھیں اور جب وہ قافلے آگے گزر جاتے تو ہم اپنے چہرے کو کھول دیتی تھیں۔ سنن ابی داود اگر چہرے کے پردے کا رواج نہ ہوتا تو ایسا کرنے کی کیا ضرورت تھی؟؟
اس کے ساتھ ساتھ شادی کے لیے عورت کو پسند کرنے کے لیے اسے دیکھنے کی اجازت دی گئی۔۔ اگر چہرے کا پردہ نہ ہوتا تو اس اجازت کی بھی ضرورت نہیں رہ جاتی تھی۔ 
امہات المومنین رضی اللہ وعنہا چہرہ کا پردہ کرتی تھی حالانکہ وہ تمام مسلمانوں کی مائیں تھیں اور نبی ﷺ کی وفات کے بعد ان سے کوئی نکاح بھی نہ کر سکتا تھا۔ اگر ان کو چہرے کے پردے استثنی نہیں تھا تو پھرعام مسلمان عورتوں کو کیونکر ہو سکتا ہے؟ 
اگر اس ضمن میں مختلف آئمہ اکرام رحمتہ اللہ کے اقوال کا جائیزہ لیا جائے تو اگرچہ چہرے کے پردے کے بارے میں اختلافات موجود ہیں لیکن وہ صرف اس حد تک ہیں کہ چہرے کا پردہ لازم ہے یا شریعت کی رو سے موجب ثواب یا مسنون ہے۔ پردے سے انکار کسی کو بھی نہیں ہے اور جو فقہا چہرے کے پردے کو لازمی قرار نہیں دیتے وہ بھی یہ شرط عائد کرتے ہیں کہ چہرے یا ہتھیلی پر کوئی زینت کا سامان نہ ہو۔ اگر ہو تو اس کا چھپانا واجب قرار دیا گیا ہے۔ 
احکامِ ستر و حجاب کی استثنائی صورتیں درج ذیل ہیں : 
کسی قسم کے اتفاقیہ امر میں احکامِ ستر و حجاب لاگو نہ ہونگے۔ مثلاََ ہوا سے چہرہ ننگا ہو جانا یا کسی پر نظر پڑنا یا اتفاقاََ کسی مرد کا سامنے آ جانا۔ 
کسی لازمی ضرورت جیسے رشتہ کے لیے چہرہ دیکھنے کی ممانعت نہیں ۔ یا علاج کروانے کے لیے اپنے جسم کا کوئی حصہ عریاں کیا جاسکتا ہے۔ 
کسی اضطراری حالت مثلاََ پیٹ پالنے کے لیے محنت مزدور کرنے کی صورت میں پردے نہ کرنے کی گنجائش ہے، کسی حادثے کی صورت میں یا جنگ کی صورت میں بھی پردہ نہ کرنے پر مواخذہ نہیں ۔
اب جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ حالتِ احرام کا پردہ ہی اصل پردہ ہے تو ان کے لیے عرض یہ ہے کہ بعض مرتبہ شریعت کے احکام زمان اور مکان کے بدلنے سے بدل جاتے ہیں ۔ جیسے عرفہ میں ظہر و عصر کا ایک ساتھ پڑھنا اور مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کو ایک ساتھ عشاء کے وقت ادا کرنا ۔ اسی طرح شریعت نے دورانِ احرام پردے میں تخفیف کردی کہ عورت چہرے پر نقاب نہ ڈالے بلکہ کھلا رکھے ۔ جیسا کہ بخاری کی حدیث ہے کہ البتہ کسی نامحرم کے سامنے آنے پر وہ اپنے چہرے کو چھپا لے تاکہ اس جگہ بدنگاہی اور بے پردگی نہ ہو۔
قرآن و سنت کی روشنی میں یہ اندازہ لگانا قطعاََ دشوار نہیں ہے کہ '' حجاب یا پردہ '' کی اصل صورت کیا ہے اور کن حالتوں میں اس سے استثنی ہے نیز ہم جو پردہ کرتے ہیں وہ کس حد تک اسلامی احکامات سے ہم آہنگ ہے۔
اللہ تعالی ہمیں دینِ اسلام کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا کرے ۔ آمین
استفادہ 
قرآن پاک 
احکام ستر و حجاب ۔۔ مولانا عبدالرحمان کیلانی

مذہب انسان کا ذاتی معاملہ؟

2017-05-29 04:38:07 

آج کل مختلف فورمز پر یہ بات تواتر سے پڑھنے کو مل رہی ہے کہ '' مذہب انسان کا ذاتی معاملہ ہے '' اس کے ساتھ یہ بیان دینے والے اس بات کا اعتراف بھی کرتے ہیں کہ '' اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔'' لیکن اس کے ساتھ ساتھ ان کا خیال یہ بھی ہے کہ '' جب کسی انسان نے کلمہ پڑھ لیا وہ مسلمان ہے، گناہ ثواب جزا سزا سب کچھ اللہ اور اس انسان کا معاملہ ہوگیا۔ ''
ہے نا دلچسپ بات ہے کہ ایک ہی لمحہ میں '' اسلام '' کو مکمل ضابطہ حیات کہا جاتا ہے اور دوسری ہی لمحہ اس کی نفی کی جاتی ۔
آج کے دور کر بلا شبہ دورِ فتن کہنا مناسب ہے۔ آئے روز نت نئے نظریات سامنے آتے ہیں جو عقل کو دنگ کر دیتے ہیں۔۔۔
لیکن جب ان کی گہرائی کو جانچا جائے تو ہم آسانی سے پتا چلا سکتے ہیں کہ یہ کوئی نیا نظریہ نہیں بلکہ ان کے ڈانڈے پرانے نظریات سے جا ملتے ہیں۔
کسی بھی صحت مند معاشرے کے لیے اصول و ضوابط اور اخلاقی اقدار بنیاد کی حثیت رکھتے ہیں ۔ انسان کے بنائے ہوئے قوانین کسی بھی لحاظ سے مکمل قرار نہیں دئیے جا سکتے کہ یہ انسان کی فطرت کا مکمل احاطہ نہیں کرتے، ایسے میں مذہب ہی ہے جو ایک فرد کو زندگی گزارنے کے رہنما اصول و ضوابط فراہم کرتا ہے اس کے اندر احساسِ ذمہ داری پیدا کرتا ہے اور اسے اس کےحقوق کے ساتھ ساتھ فرائض یاد دلاتا ہے کیونکہ مذہب صرف اصول و ضوابط یا قانون کا نام نہیں ہے بلکہ اپنے کردار و عمل کو مذہب کے مطابق ڈھال لینے کا نام ہے۔
ہمارے سامنے ایسے معاشروں کی مثالیں موجود ہیں جنہوں نے مذہب کو '' ذاتی '' معاملہ کہا لیکن کیا ان معاشروں کو مثالی کہا جاسکتا ہے؟؟؟
ان معاشروں کی مثال ایسی ہے جیسے کہ کچرے کے ڈھیر کے اوپر خوشنما قالین ڈال دیا جائے ۔
'' تھیوکریسی '' کے ردِ عمل میں اپنایا جانے والا نظریے سیکولر ازم کے بانی ہولی اوک کے مطابق ''سیکولر ازم نام ہے اس ضابطے کا جسکا تعلق دنیا سے متعلق فرائض سے ہے ، جسکی غایت خالصتاََ انسانی ہے اور یہ بنیادی طور پر ان افراد کے لیے ہے جو الہیات کو نامکمل یا ناکافی ، ناقابلِ اعتبار یا فضول اور بے معنی سمجھتے ہیں۔''
دوسرے الفاظ میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ سیکولر ازم اس وقت بطور نظریہ سامنے آتا ہے جب انسان مذہب سے غیر متعلق ہونا شروع کردے۔ اسے مذہب میں اپنے مسائل کا حل نہ ملے یا پھر وہ یہ سمجھے کہ مذہبی عقائد ناقابلِ یقین ہیں ۔
اسی حقیقت کا ادراک کرتے ہوئے امریکی مفکر رابرٹ گرین نے سیکولر ازم کو '' انسانیت کا مذہب قرار دیا ۔''
اسی سیکولر ازم کی بنیاد پر قائم جمہوری حکومتیں جن کے نزدیک صرف اپنے ملک میں بسنے والے انسان کو ''انسانیت'' کے پیمانے پر پورا اترتے ہیں ، اور باقی دنیا کے انسان اس پیمانے سے خارج ہیں جس کا ثبوت بوسنیا، شام، فلسطین، کشمیر، برما میں ہونے والے وحشیانہ مظالم ہیں ۔ پوری دنیا کو ''انسانیت'' کا درس دینے والوں کے ہی ہاتھوں انسانیت تڑپ ، سسک اور مظالم کا شکار ہے۔ کیا یہ حیران کن بات نہیں؟؟؟
اسلام اس دنیا کو آخرت کی تیاری کے لیے '' کھیتی '' قرار دیتا ہے جس کا بدلہ فرد کو بعد از موت ملے گا۔ اسلیے مسلمانوں کے ہاں دین اور دنیا میں کوئی تفریق نہیں ہے ۔ مسلمانوں کو ایسے ہر کام سے منع کیا گیا ہے جس کے لیے اسلامی شریعت اجازت نہیں دیتی اور اسی طرح حکومت کے معاملات بھی کسی کی شخصی خواہش کے مطابق نہیں چلائے جاتے بلکہ اللہ کے احکامات کے مطابق چلائے جاتے ہیں۔
اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔ جو انسان کی معاشرتی، اخلاقی ، معاشی، سیاسی ہر پہلو سے رہنمائی کرتا ہے۔
اب یہ بہت عجیب بات ہوگی کہ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہو لیکن اس کا اطلاق صرف فرد کی ذات تک محدود رہے اور وہ زندگی کے باقی شعبوں کے لیے '' سیکولر ازم '' کا سہارا لے۔۔۔۔
مثل مشہور ہے جو زہر سے نہ مرے اسے شہد سے مارو۔۔۔ آج اسلام کے مکمل ضابطہ حیات قرار دینے والے جب اس میں تڑکہ لگاتے ہیں کہ '' مذہب انسان کا ذاتی معاملہ ہے '' تو اسکا مطلب اس کے سوا کچھ نہیں کہ وہ سیکولر ازم کی کی زہریلی گولی کو انسانیت کے شہد میں لپیٹ کر کھانے کا کہہ رہے ہیں۔
آج اگر کچھ مفاد پرست عناصر مسجد منبر کے تقدس کا خیال کئے بغیر مسلمانوں میں تفرقہ پیدا کر رہے ہیں تو اس کے ذمہ دار '' دینِ اسلام '' ہر گز نہیں بلکہ یہ مفاد پرست عناصر ہیں جو اپنی ذاتی مفاد اور اسلام دشمنوں کی ایما پر ایسا کر رہے ہیں۔
دین اسلام سے زیادہ انسانوں کی عظمت اور انسانیت کی بھلائی اور محبت کی بات کرنے والا کون ہے؟؟
"سورہ المائدہ کی آیت ۳۲ ترجمہ : 'ایک انسان کا ناحق قتل پوری انسانیت کا قتل کرنے کے مترادف ہے۔''
ضرورت صرف اس کی ہے کہ ہم اسلام کو اپنی ذاتی اور اجتماعی زندگی کا حصہ بنائیں۔
اللہ تعالی ہمیں اسلام کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا کرے ۔ آمین

منتخب تحریریں

آج کل مختلف فورمز پر یہ بات تواتر سے پڑھنے کو مل رہی ہے کہ '' مذہب انسان کا ذاتی معاملہ ہے '' اس کے ساتھ یہ بیان دینے والے اس بات کا اعتراف بھی کرتے ہیں کہ '' اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔'' لیکن اس کے ساتھ ساتھ ان کا خیال یہ بھی ہے کہ '' جب کسی انسان نے کلمہ پڑھ لیا وہ مسلمان ہے، گناہ ثواب جزا سزا سب کچھ اللہ اور اس انسان کا معاملہ ہوگیا۔ ''
ہے نا دلچسپ بات ہے کہ ایک ہی لمحہ میں '' اسلام '' کو مکمل ضابطہ حیات کہا جاتا ہے اور دوسری ہی لمحہ اس کی نفی کی جاتی ۔
آج کے دور کر بلا شبہ دورِ فتن کہنا مناسب ہے۔ آئے روز نت نئے نظریات سامنے آتے ہیں جو عقل کو دنگ کر دیتے ہیں۔۔۔
لیکن جب ان کی گہرائی کو جانچا جائے تو ہم آسانی سے پتا چلا سکتے ہیں کہ یہ کوئی نیا نظریہ نہیں بلکہ ان کے ڈانڈے پرانے نظریات سے جا ملتے ہیں۔
کسی بھی صحت مند معاشرے کے لیے اصول و ضوابط اور اخلاقی اقدار بنیاد کی حثیت رکھتے ہیں ۔ انسان کے بنائے ہوئے قوانین کسی بھی لحاظ سے مکمل قرار نہیں دئیے جا سکتے کہ یہ انسان کی فطرت کا مکمل احاطہ نہیں کرتے، ایسے میں مذہب ہی ہے جو ایک فرد کو زندگی گزارنے کے رہنما اصول و ضوابط فراہم کرتا ہے اس کے اندر احساسِ ذمہ داری پیدا کرتا ہے اور اسے اس کےحقوق کے ساتھ ساتھ فرائض یاد دلاتا ہے کیونکہ مذہب صرف اصول و ضوابط یا قانون کا نام نہیں ہے بلکہ اپنے کردار و عمل کو مذہب کے مطابق ڈھال لینے کا نام ہے۔
ہمارے سامنے ایسے معاشروں کی مثالیں موجود ہیں جنہوں نے مذہب کو '' ذاتی '' معاملہ کہا لیکن کیا ان معاشروں کو مثالی کہا جاسکتا ہے؟؟؟
ان معاشروں کی مثال ایسی ہے جیسے کہ کچرے کے ڈھیر کے اوپر خوشنما قالین ڈال دیا جائے ۔
'' تھیوکریسی '' کے ردِ عمل میں اپنایا جانے والا نظریے سیکولر ازم کے بانی ہولی اوک کے مطابق ''سیکولر ازم نام ہے اس ضابطے کا جسکا تعلق دنیا سے متعلق فرائض سے ہے ، جسکی غایت خالصتاََ انسانی ہے اور یہ بنیادی طور پر ان افراد کے لیے ہے جو الہیات کو نامکمل یا ناکافی ، ناقابلِ اعتبار یا فضول اور بے معنی سمجھتے ہیں۔''
دوسرے الفاظ میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ سیکولر ازم اس وقت بطور نظریہ سامنے آتا ہے جب انسان مذہب سے غیر متعلق ہونا شروع کردے۔ اسے مذہب میں اپنے مسائل کا حل نہ ملے یا پھر وہ یہ سمجھے کہ مذہبی عقائد ناقابلِ یقین ہیں ۔
اسی حقیقت کا ادراک کرتے ہوئے امریکی مفکر رابرٹ گرین نے سیکولر ازم کو '' انسانیت کا مذہب قرار دیا ۔''
اسی سیکولر ازم کی بنیاد پر قائم جمہوری حکومتیں جن کے نزدیک صرف اپنے ملک میں بسنے والے انسان کو ''انسانیت'' کے پیمانے پر پورا اترتے ہیں ، اور باقی دنیا کے انسان اس پیمانے سے خارج ہیں جس کا ثبوت بوسنیا، شام، فلسطین، کشمیر، برما میں ہونے والے وحشیانہ مظالم ہیں ۔ پوری دنیا کو ''انسانیت'' کا درس دینے والوں کے ہی ہاتھوں انسانیت تڑپ ، سسک اور مظالم کا شکار ہے۔ کیا یہ حیران کن بات نہیں؟؟؟
اسلام اس دنیا کو آخرت کی تیاری کے لیے '' کھیتی '' قرار دیتا ہے جس کا بدلہ فرد کو بعد از موت ملے گا۔ اسلیے مسلمانوں کے ہاں دین اور دنیا میں کوئی تفریق نہیں ہے ۔ مسلمانوں کو ایسے ہر کام سے منع کیا گیا ہے جس کے لیے اسلامی شریعت اجازت نہیں دیتی اور اسی طرح حکومت کے معاملات بھی کسی کی شخصی خواہش کے مطابق نہیں چلائے جاتے بلکہ اللہ کے احکامات کے مطابق چلائے جاتے ہیں۔
اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔ جو انسان کی معاشرتی، اخلاقی ، معاشی، سیاسی ہر پہلو سے رہنمائی کرتا ہے۔
اب یہ بہت عجیب بات ہوگی کہ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہو لیکن اس کا اطلاق صرف فرد کی ذات تک محدود رہے اور وہ زندگی کے باقی شعبوں کے لیے '' سیکولر ازم '' کا سہارا لے۔۔۔۔
مثل مشہور ہے جو زہر سے نہ مرے اسے شہد سے مارو۔۔۔ آج اسلام کے مکمل ضابطہ حیات قرار دینے والے جب اس میں تڑکہ لگاتے ہیں کہ '' مذہب انسان کا ذاتی معاملہ ہے '' تو اسکا مطلب اس کے سوا کچھ نہیں کہ وہ سیکولر ازم کی کی زہریلی گولی کو انسانیت کے شہد میں لپیٹ کر کھانے کا کہہ رہے ہیں۔
آج اگر کچھ مفاد پرست عناصر مسجد منبر کے تقدس کا خیال کئے بغیر مسلمانوں میں تفرقہ پیدا کر رہے ہیں تو اس کے ذمہ دار '' دینِ اسلام '' ہر گز نہیں بلکہ یہ مفاد پرست عناصر ہیں جو اپنی ذاتی مفاد اور اسلام دشمنوں کی ایما پر ایسا کر رہے ہیں۔
دین اسلام سے زیادہ انسانوں کی عظمت اور انسانیت کی بھلائی اور محبت کی بات کرنے والا کون ہے؟؟
"سورہ المائدہ کی آیت ۳۲ ترجمہ : 'ایک انسان کا ناحق قتل پوری انسانیت کا قتل کرنے کے مترادف ہے۔''
ضرورت صرف اس کی ہے کہ ہم اسلام کو اپنی ذاتی اور اجتماعی زندگی کا حصہ بنائیں۔
اللہ تعالی ہمیں اسلام کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا کرے ۔ آمین

آج کل مختلف فورمز پر یہ بات تواتر سے پڑھنے کو مل رہی ہے کہ '' مذہب انسان کا ذاتی معاملہ ہے '' اس کے ساتھ یہ بیان دینے والے اس بات کا اعتراف بھی کرتے ہیں کہ '' اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔'' لیکن اس کے ساتھ ساتھ ان کا خیال یہ بھی ہے کہ '' جب کسی انسان نے کلمہ پڑھ لیا وہ مسلمان ہے، گناہ ثواب جزا سزا سب کچھ اللہ اور اس انسان کا معاملہ ہوگیا۔ ''
ہے نا دلچسپ بات ہے کہ ایک ہی لمحہ میں '' اسلام '' کو مکمل ضابطہ حیات کہا جاتا ہے اور دوسری ہی لمحہ اس کی نفی کی جاتی ۔
آج کے دور کر بلا شبہ دورِ فتن کہنا مناسب ہے۔ آئے روز نت نئے نظریات سامنے آتے ہیں جو عقل کو دنگ کر دیتے ہیں۔۔۔
لیکن جب ان کی گہرائی کو جانچا جائے تو ہم آسانی سے پتا چلا سکتے ہیں کہ یہ کوئی نیا نظریہ نہیں بلکہ ان کے ڈانڈے پرانے نظریات سے جا ملتے ہیں۔
کسی بھی صحت مند معاشرے کے لیے اصول و ضوابط اور اخلاقی اقدار بنیاد کی حثیت رکھتے ہیں ۔ انسان کے بنائے ہوئے قوانین کسی بھی لحاظ سے مکمل قرار نہیں دئیے جا سکتے کہ یہ انسان کی فطرت کا مکمل احاطہ نہیں کرتے، ایسے میں مذہب ہی ہے جو ایک فرد کو زندگی گزارنے کے رہنما اصول و ضوابط فراہم کرتا ہے اس کے اندر احساسِ ذمہ داری پیدا کرتا ہے اور اسے اس کےحقوق کے ساتھ ساتھ فرائض یاد دلاتا ہے کیونکہ مذہب صرف اصول و ضوابط یا قانون کا نام نہیں ہے بلکہ اپنے کردار و عمل کو مذہب کے مطابق ڈھال لینے کا نام ہے۔
ہمارے سامنے ایسے معاشروں کی مثالیں موجود ہیں جنہوں نے مذہب کو '' ذاتی '' معاملہ کہا لیکن کیا ان معاشروں کو مثالی کہا جاسکتا ہے؟؟؟
ان معاشروں کی مثال ایسی ہے جیسے کہ کچرے کے ڈھیر کے اوپر خوشنما قالین ڈال دیا جائے ۔
'' تھیوکریسی '' کے ردِ عمل میں اپنایا جانے والا نظریے سیکولر ازم کے بانی ہولی اوک کے مطابق ''سیکولر ازم نام ہے اس ضابطے کا جسکا تعلق دنیا سے متعلق فرائض سے ہے ، جسکی غایت خالصتاََ انسانی ہے اور یہ بنیادی طور پر ان افراد کے لیے ہے جو الہیات کو نامکمل یا ناکافی ، ناقابلِ اعتبار یا فضول اور بے معنی سمجھتے ہیں۔''
دوسرے الفاظ میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ سیکولر ازم اس وقت بطور نظریہ سامنے آتا ہے جب انسان مذہب سے غیر متعلق ہونا شروع کردے۔ اسے مذہب میں اپنے مسائل کا حل نہ ملے یا پھر وہ یہ سمجھے کہ مذہبی عقائد ناقابلِ یقین ہیں ۔
اسی حقیقت کا ادراک کرتے ہوئے امریکی مفکر رابرٹ گرین نے سیکولر ازم کو '' انسانیت کا مذہب قرار دیا ۔''
اسی سیکولر ازم کی بنیاد پر قائم جمہوری حکومتیں جن کے نزدیک صرف اپنے ملک میں بسنے والے انسان کو ''انسانیت'' کے پیمانے پر پورا اترتے ہیں ، اور باقی دنیا کے انسان اس پیمانے سے خارج ہیں جس کا ثبوت بوسنیا، شام، فلسطین، کشمیر، برما میں ہونے والے وحشیانہ مظالم ہیں ۔ پوری دنیا کو ''انسانیت'' کا درس دینے والوں کے ہی ہاتھوں انسانیت تڑپ ، سسک اور مظالم کا شکار ہے۔ کیا یہ حیران کن بات نہیں؟؟؟
اسلام اس دنیا کو آخرت کی تیاری کے لیے '' کھیتی '' قرار دیتا ہے جس کا بدلہ فرد کو بعد از موت ملے گا۔ اسلیے مسلمانوں کے ہاں دین اور دنیا میں کوئی تفریق نہیں ہے ۔ مسلمانوں کو ایسے ہر کام سے منع کیا گیا ہے جس کے لیے اسلامی شریعت اجازت نہیں دیتی اور اسی طرح حکومت کے معاملات بھی کسی کی شخصی خواہش کے مطابق نہیں چلائے جاتے بلکہ اللہ کے احکامات کے مطابق چلائے جاتے ہیں۔
اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔ جو انسان کی معاشرتی، اخلاقی ، معاشی، سیاسی ہر پہلو سے رہنمائی کرتا ہے۔
اب یہ بہت عجیب بات ہوگی کہ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہو لیکن اس کا اطلاق صرف فرد کی ذات تک محدود رہے اور وہ زندگی کے باقی شعبوں کے لیے '' سیکولر ازم '' کا سہارا لے۔۔۔۔
مثل مشہور ہے جو زہر سے نہ مرے اسے شہد سے مارو۔۔۔ آج اسلام کے مکمل ضابطہ حیات قرار دینے والے جب اس میں تڑکہ لگاتے ہیں کہ '' مذہب انسان کا ذاتی معاملہ ہے '' تو اسکا مطلب اس کے سوا کچھ نہیں کہ وہ سیکولر ازم کی کی زہریلی گولی کو انسانیت کے شہد میں لپیٹ کر کھانے کا کہہ رہے ہیں۔
آج اگر کچھ مفاد پرست عناصر مسجد منبر کے تقدس کا خیال کئے بغیر مسلمانوں میں تفرقہ پیدا کر رہے ہیں تو اس کے ذمہ دار '' دینِ اسلام '' ہر گز نہیں بلکہ یہ مفاد پرست عناصر ہیں جو اپنی ذاتی مفاد اور اسلام دشمنوں کی ایما پر ایسا کر رہے ہیں۔
دین اسلام سے زیادہ انسانوں کی عظمت اور انسانیت کی بھلائی اور محبت کی بات کرنے والا کون ہے؟؟
"سورہ المائدہ کی آیت ۳۲ ترجمہ : 'ایک انسان کا ناحق قتل پوری انسانیت کا قتل کرنے کے مترادف ہے۔''
ضرورت صرف اس کی ہے کہ ہم اسلام کو اپنی ذاتی اور اجتماعی زندگی کا حصہ بنائیں۔
اللہ تعالی ہمیں اسلام کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا کرے ۔ آمین