بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ * لا الہٰ الا اللہ محمّد رسول اللہ * قُلْ هُوَ اللّـٰهُ اَحَدٌ - اَللَّـهُ الصَّمَدُ - لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُوْلَدْ - وَلَمْ يَكُنْ لَّـهٝ كُفُوًا اَحَدٌ

فیضان رضا سید


حیاتِ عالم میں نظامِ ربوبیت کے مظاہر

2017-06-15 18:03:15 

رب العالمین کے الفاظ سے ظاہر ہو رہا ہے کہ کائنات جملہ عوالم اور مظاہر حیات کی تخلیق وتکمیل کے مسلسل نظام ارتقاء سے گزر رہی ہے۔ کیونکہ رب یرب اور تربیت و ربوبیت کا معنی ارتقائی، تدریجی اور مرحلہ وار پرورش کے مفہوم پر ہی دلالت کرتا ہے، جس کی تفصیل پہلے لفظ رب کے معنی و مفہوم کے تحت گزر چکی ہے۔ باری تعالیٰ نے کائنات کی تخلیق اور فعل خلق کی تکمیل کے بیان کے لیے اپنی صفت ربوبیت کو منتخب فرمایا ہے، جس سے اس حقیقت پر روشنی پڑتی ہے۔ قرآن تصور ربوبیت کی صورت میں اپنا ایک نظریہ ارتقاء دے رہاہے جس کا ثبوت ہمیں انفس و آفاق کے دونوں عالموں میں واضح طور پر میسر آتا ہے اور رب العالمین کے الفاظ کے ذریعے اس امر کی وضاحت ہوجاتی ہے کہ کائنات ہمیں جس شکل میں آج نظر آرہی ہے یہ اس کی وہ اصل ابتدائی شکل نہیں جس میں اسے اولاً تخلیق کیا گیا تھا بلکہ یہ تخلیقی ارتقاء کے مختلف مراحل اورمدارج طے کرتی ہوئی یہاں تک پہنچی ہے۔ امر تخلیق اور اصول ارتقاء قرآن مجید رب العالمین کی شان تخلیق کو دو الفاظ کے ذریعے واضح کرتا ہے : 1۔ امر اور 2۔ خلق ارشاد ربانی ہے : ألَا لَهُ الْخَلْقُ وَالْأمْرُ. خبردار! ہر چیز کی تخلیق اور حکم و تدبیر کا نظام چلانا اسی کا کام ہے۔ (الاعراف، 7 : 54) اس حوالے سے امر، ابداع (عدم سے وجود میں لانا) کے معنی میں استعمال ہوتا ہے اور خلق کا ایک استعمال ابداع کے مقابلے میں ایجاد الشئ من الشئ (ایک شے سے دوسری شے وجود میں لانا) کے معنی میں ہے۔ اس معنوی جہت کی بنا پر تخلیق کے دومرحلے ہیں جو ربوبیت الہیہ کے فیضان سے مکمل ہوتے ہیں۔ امر پہلا مرحلہ ہے اور خلق دوسرا۔ خلق کی تعریف انگریزی زبان میں یوں کی جاسکتی ہے : KHALQ : is to creat a new object the existing constituents, which means appearance of an object in its manifest form. امر کو ان الفاظ میں واضح کیا جاسکتا ہے : AMR : is a process of becoming, prior to the stage of Khalq, which means coming of an object in its original existence. امرو خلق کے مراحل میں ارادہ ربوبیت اور الوہی فلسفہ کار فرما ہوتا ہے، اسے مشیت کہتے ہیں۔ ارشاد قرآنی ہے : إِنَّمَا أَمْرُهُ إِذَا أَرَادَ شَيْئًا أَنْ يَقُولَ لَهُ كُنْ فَيَكُونُO اس کی شان یہ ہے کہ جب وہ کسی چیز کو (پیدا کرنے) کا ارادہ فرماتا ہے، اس سے کہتا ہے ہوجا! پس وہ ہوجاتی ہے۔ (يسين، 36 : 82) اس شے کا ہوجانا کیا ہے؟ یہ بھی ایک عمل ارتقائی ہے جو فوری طور پر وجود میں آتا جاتا ہے۔ توجہء کن، ارادۂ حق یا مشیت ربانی سے اس شے کو جس کا وجود پہلے فقط درجۂ علم میں ہوتا ہے، دو صفات عطا کردی جاتی ہیں : 1۔ منظوریت (Objectivity) 2۔ استمرار (Persistence / Existence) اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ شے وجود علمی سے وجود خارجی میں منتقل ہوجاتی ہے۔ اب دیکھے جانے کے قابل ہوجاتی ہے اور برقرار رہ سکتی ہے۔ یہ عالم غیر نامی (Inorganic World) کا آغاز ہوتا ہے۔ جمادات وغیرہ کا تعلق اسی عالم سے ہے۔ بعدازاں اسے امر کن کے فیضان مسلسل سے صفت نمو (Organism) عطا کردی جاتی ہے اور عالم نامی (Organic World) وجود میں آجاتا ہے۔ نباتات کا تعلق اس عالم سے ہے۔ پھر اس عالم سے امر کن کے ذریعے ہی شعور (Conscience) کا اضافہ کیا جاتا ہے تو عالم حیوانات (Animal World) وجود میں آجاتا ہے اور اس میں خود شعوری کا اضافہ ہوتاہے تو عالم انس کا ظہور عمل میں آتا ہے۔ پھرہر ہر عالم کے اندر ایک جداگانہ نظام ارتقاء ہے جس سے سلسلۂ تخلیق کو وسعت ملتی چلی جاتی ہے۔ یہ سب مادی کائنات کا سلسلئہ تخلیق ہے جسے عرف عام میں عالم خلق سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اسی طرح غیر مادی یا فوق الطبیعی کائنات بھی ہے، جسے عرف عام میں عالم امر سے تعبیر کرتے ہیں۔ اس کا بھی ایک سلسلۂ تخلیق ہے جو جداگانہ نظام ارتقاء پرمبنی ہے۔ یہ انوار و ارواح کا عالم ہے۔ اس کے ارتقائی اور توسیعی سلسلے پر کچھ روشنی اس حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پڑتی ہے، جس میں حضرت جابر بن عبداﷲ رضی اللہ عنہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کرتے ہیں : بأبی أنت و أمی أخبرنی عن أول شئ خلق اﷲ تعالٰی قبل الأشياء قال يا جابر إن اﷲ تعالٰي خلق قبل الأشياء نور نبيک من نوره. یا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں مجھے خبر دیجئے کہ سب اشیاء سے پہلے اﷲ تعالٰی نے کون سی چیز پیدا کی؟ آپ نے فرمایا : اے جابر! اﷲ تعالٰی نے تمام اشیاء سے پہلے تیرے نبی کا نور اپنے نور (کے فیض) سے پیدا کیا۔ (السيرة الحلبيه، 1 : 30) (المواهب اللدنية، 1 : 9) (شرح المواهب، 1 : 46) پھر اس نور کی تقسیم ہوئی جس سے قلم، عرش اور حاملانِ عرش وجود میں آئے۔ پھر اس کی مزید تقسیم سے کرسی اور ملائکہ وغیرہ پیدا ہوئے۔ اس حدیث سے بھی اس حقیقت پر روشنی پڑتی ہے کہ تخلیق موجودات کے سارے نظام میں شان ربوبیت کی کارفرمائی اور ارتقاء و تدریج کا نظام ہے۔ ہر چیز خواہ اس کا تعلق کسی بھی عالم سے ہو، ایک ارتقائی نظام کے تحت وجود میں آئی ہے۔ یہی رب العالمین کا مفہوم ہے۔ نظام ربوبیت اور انسانی زندگی کا کیمیائی ارتقاء جس طرح عالم آفاق کے جلوے اجمالا ًعالم انفس میں کار فرما ہیں، اسی طرح نظام ربوبیت کے آفاقی مظاہر بھی پوری آب و تاب کے ساتھ حیات انسانی کے اندر جلوہ افروز ہیں۔ انسان کے احسن تقویم کی شان کے ساتھ منصہ خلق پر جلوہ گر ہونے سے پہلے اس کی زندگی ایک ارتقائی دور سے گزری۔ یہی اسکے کیمیائی ارتقاء (Chemical Evolution) کا دور ہے۔ جس میں باری تعالیٰ کے نظام ربوبیت کا مطالعہ بجائے خود ایک دلچسپ اور نہایت اہم موضوع ہے۔ یہ کیمیائی ارتقاء کا قبل از حیاتیاتی دور ہے۔ یہ حقائق آج صدیوں کے بعد سائنس کو معلوم ہو رہے ہیں جبکہ قرآن انہیں چودہ سو سال پہلے بیان کرچکا ہے۔ قرآن مجید کا مطالعہ کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ انسانی زندگی کا کیمیائی ارتقاء کم وبیش سات مرحلوں سے گزر کر تکمیل پذیر ہوا ہے جو درج ذیل ہے : 1. تُرَابٌ (Inorganic matter) 2. مَآءٌ (Water) 3. طِيْنٌ (Clay) 4. طِيْنٌ لَازِبٌ (Sticky clay / Adsorption) 5. صَلْصَالٌ مِنْ حَمَاءٍ مَسْنُوْنٍ (Old, Physically & Chemically altered mud) 6. صَلْصَالٌ کَالْفَخَّارِ (Dried & Highly purified clay) 7. سُلَالَةٌ مِنْ طِيْنٍ (Extract of purified clay) قرآن مجید میں مذکورہ بالا سات مرحلوں کا ذکر مختلف مقامات پر یوں آتا ہے : 1۔ تراب (Inorganic matter) هوَ الَّذِيْ خَلَقَکُمْ مِنْ تُرَابٍ. وہی ہے جس نے تم کو (پہلے) مٹی (یعنی غیر نامی مادے) سے بنایا۔ (المؤمن، 40 : 67) اس آیت کریمہ میں آگے حیاتیاتی ارتقاء کے بعض مراحل کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ مثلاً : ثُمَّ مِنْ نُطْفَۃٍ ثُمَّ مِنْ عَلَقَۃٍ ثُمَّ یُخْرِجُکُمْ طِفْلاً۔ لیکن قابل توجہ پہلو یہ بھی ہے کہ انسانی زندگی کے ان ارتقائی مرحلوں کا ذکر باری تعالیٰ نے اپنی صفت رب العالمین کے بیان سے شروع کیا ہے۔ اس سے پہلی آیت کے آخری الفاظ یہ ہیں : وَأُمِرْتُ أَنْ أُسْلِمَ لِرَبِّ الْعَالَمِينَO اور مجھے یہ حکم مل چکا ہے کہ میں سارے جہانوں کے پروردگار کا فرمانبردار رہوں۔ (المؤمن، 40 : 66) یہاں اپنی شان رب العالمین کا ذکر کر کے ساتھ ہی دلیل کے طور پر انسانی زندگی کا ارتقاء بیان کردیا گیا ہے، جس سے واضح طور پر یہ سبق ملتا ہے کہ قرآن باری تعالیٰ کے رب العالمین ہونے کو انسانی زندگی کے نظام ارتقاء کے ذریعے سمجھنے کی دعوت دے رہا ہے کہ اے نسل نبی آدم! ذرا اپنی زندگی کے ارتقاء کے مختلف ادوار و مراحل پر غور کرو کہ تم کس طرح مرحلہ وار اپنی تکمیل کی طرف لے جائے گئے ہو۔ کس طرح تمہیں ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف منتقل کیا گیا اور کس طرح تم بالآخر احسن تقویم کی منزل کو پہنچے۔ کیا یہ سب کچھ رب العالمین کی پرورش کا مظہر نہیں ہے، جس نے تمہیں بجائے خود ایک عالم بنا دیا ہے۔ 2۔ ماء (Water) وَهُوَ الَّذِي خَلَقَ مِنَ الْمَاءِ بَشَرًا. اور ہم نے (زمین پر) پر زندہ چیز (کی زندگی) کی نمود پانی سے کی تو کیا وہ (ان حقائق سے آگاہ ہو کر اب بھی) ایمان نہیں لاتے۔ (الفرقان، 25 : 54) اس آیت کریمہ میں بھی تخلیق انسانی کے مرحلے کے ذکر کے بعد باری تعالیٰ کی شان ربوبیت کا بیان ہے : وَکَانَ رَبُّکَ قَدِيْراًo اورآپ کا رب قدرت والا ہے۔ (الفرقان، 25 : 54) گویا یہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ تخلیق انسانی کا یہ سلسلہ باری تعالیٰ کے نظام ربوبیت کا مظہر ہے۔ ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا گیا : وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍّ أَفَلَا يُؤْمِنُونَO اور ہم نے (زمین پر) ہر زندہ چیز (کی زندگی) کی نمود پانی سے کی تو کیا وہ (ان حقائق سے آگاہ ہو کر اب بھی) ایمان نہیں لاتے۔ (الانبياء، 21 : 30) یہ آیت کریمہ حیات انسانی یا حیات ارضی کے ارتقائی مراحل پر تحقیق کرنے والے سائنسدانوں کے لیے دعوت فکر بھی ہے اور دعوت ایمان بھی۔ 3۔ طین (Clay) هُوَ الَّذِي خَلَقَكُم مِّن طِينٍ. (اللہ) وہی ہے جس نے تمہیں مٹی کے گارے سے پیدا فرمایا۔ (الانعام، 6 : 2) یہاں یہ امر قابل توجہ ہے کہ مترجمین قرآن نے بالعموم تراب اور طین دونوں کا معنی مٹی کیا ہے۔ جس سے یہ مغالطہ پیدا ہوسکتا ہے کہ آیا یہ دو الگ مرحلے ہیں یا ایک ہی مرحلے کے دو مختلف نام۔ اس لیے ہم نے دونوں کے امتیاز کو برقرار رکھنے کے لیے طین کا معنی گارا کیا ہے۔ تراب اصل میں خشک مٹی کو کہتے ہیں۔ بلکہ امام راغب اصفھانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : التراب : الارض نفسھا (تراب سے مراد فی نفسہ زمین ہے) جبکہ طین اس مٹی کو کہتے ہیں جو پانی کے ساتھ گوندی گئی ہو۔ جیسا کہ مذکور ہے : الطين : التراب والماء المختلط. مٹی اور پانی باہم ملے ہوئے ہوں تو اسے طین کہتے ہیں۔ (المفردات : 312) اسی طرح کہا گیا ہے : الطين : التراب الذی يجبل بالماء. طین سے مراد وہ مٹی ہے جو پانی کے ساتھ گوندھی گئی ہو۔ (اسی حالت کو گارا کہتے ہیں) (المنجد : 496) اس لحاظ سے یہ ترتیب واضح ہوجاتی ہے : مٹی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پانی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ گارا۔ 4۔ طین لازب (Sticky Clay) إِنَّا خَلَقْنَاهُم مِّن طِينٍ لَّازِبٍO ہم نے تو ان لوگوں کو ایک چپکتے ہوئے گارے سے پیدا کیا۔ (الصافات، 37 : 11) طین لازب، طین کی اگلی شکل ہے، جب گارے کا گاڑھا پن زیادہ ہوجاتا ہے۔ کہا جاتا ہے : اذا زال عنه (الطين) قوة الماء فهو طين لازب. جب گارے سے پانی کی سیلانیت زائل ہوجائے تو اسے طین لازب کہتے ہیں۔ یہ وہ حالت ہے جب گارا قدرے سخت ہوکر چپکنے لگتا ہے۔ 5۔ صلصال من حماء مسنون (Old, Physically & Chemically Altered Mud) وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ مِن صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَإٍ مَّسْنُونٍO اوربے شک ہم نے انسان کی (کیمیائی) تخلیق ایسے خشک بجنے والے گارے سے کی جو (پہلے) سن رسیدہ، سیاہ بدبودار ہو چکا تھا۔ (الحجر، 15 : 26) اس آیت کریمہ سے پتہ چلتا ہے کہ تخلیق انسانی کے کیمیائی ارتقاء میں یہ مرحلہ طین لازب کے بعد آتا ہے۔ یہاں صلصال (بجتی مٹی) کا لفظ استعمال کیا گیا ہے جس کی اصل صلل ہے۔ اس کا معنی ہے : تردد الصوت من الشئ اليابس سمی الطين الجاف صلصالا. خشک چیز سے پیدا ہونے والی آواز کا تردد یعنی کھنکھناہٹ، اسی لیے خشک مٹی کو صلصال کہتے ہیں کیونکہ یہ بجتی اور آواز دیتی ہے۔ (المفردات : 274) اہل لغت الصلصال کا معنیٰ کچھ اس طرح سے بیان کرتے ہیں : الصلصال : الطين اليابس الذي يصل من يبسه اي يصوت. صلصال سے مراد وہ خشک مٹی ہے جو اپنی خشکی کی وجہ سے بجتی ہے، یعنی آواز دیتی ہے۔ (المنجد : 442) صلصال کی حالت گارے کے خشک ہونے کے بعد ہی ممکن ہے، پہلے نہیں۔ کیونکہ عام خشک مٹی، جسے تراب کہا گیا ہے، اپنے اندر بجنے اور آواز دینے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔ لفظ صلصال اس اعتبار سے تراب سے مختلف مرحلے کی نشاندہی کر رہا ہے۔ لہذا صلصال کا مرحلہ طین لازب یعنی چپکنے والے گارے کے بعد آیا۔ جب طین لازب (چپکنے والا گارا) وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ خشک ہوتا گیا تو اس خشکی سے اس میں بجنے اور آواز دینے کی صلاحیت پیدا ہوگئی۔ یہ تو طبعی تبدیلی (Physical change) تھی مگر اس کے علاوہ اس پر وقت گزرنے کے مرحلے میں صاف ظاہر ہے کیمیائی تبدیلی (Chemical change) بھی ناگزیر تھی، جس میں اس مٹی کے کیمیائی خواص میں بھی تغیر آیا ہوگا۔ ان دونوں چیزوں کی تصدیق اس آیت کے اگلے الفاظ سے ہوجاتی ہے : صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَإٍ مَّسْنُونٍO ایسے خشک بجنے والے گارے سے جو (پہلے) سن رسیدہ، سیاہ بدبودار ہو چکا تھا۔ (الحجر، 15 : 26) اس آیت کریمہ میں دو الفاظ قابل توجہ ہیں : 1۔ حماء 2۔ مسنون حماء : سیاہ گارے کو کہتے ہیں۔ گارے یا کیچڑ کی سیاہی بھی اس کے سڑے ہوئے ہونے پر دلالت کرتی ہے۔ حمیٰ حرارت اور بخار کو کہتے ہیں۔ قرآن مجید میں یہ لفظ تپنے، کھولنے اور جلنے وغیرہ کے معنوں میں کثرت سے استعمال ہوا ہے۔ ارشاد ربانی ہے : 1. تَصْلَى نَارًا حَامِيَةًO دہکتی ہوئی آگ میں جاگریں گے۔ (الغاشية، 88 : 4) 2. يَوْمَ يُحْمَى عَلَيْهَا فِي نَارِ جَهَنَّمَ. جس دن اس (سونے، چاندی اور مال) پر دوزخ کی آگ میں تاپ دی جائے گی۔ (التوبة، 9 : 35) 3. لَّا يَذُوقُونَ فِيهَا بَرْدًا وَلَا شَرَابًاO إِلَّا حَمِيمًا. نہ وہ اس میں(کسی قسم کی) ٹھنڈک کا مزہ چکھیں گے اور نہ کسی پینے کی چیز کا سوائے کھولتے ہوئے گرم پانی کے۔ (النباء، 78 : 24، 25) الغرض حماء میں اس سیاہ گارے کا ذکر ہے جس کی سیاہی، تپش اور حرارت کے باعث وجود میں آئی ہو۔ گویا یہ لفظ جلنے اور سڑنے کے مرحلے کی نشان دہی کر رہا ہے۔ مسنون : اس سے مراد متغیر اور بدبودار ہے۔ یہ سِنٌ سے مشتق ہے جس کے معنی صاف کرنے چمکانے اور صیقل کرنے کے بھی ہیں۔ مگر یہاں اس سے مراد متغیر ہوجانا ہے، جس کے نتیجے میں کسی شے میں بو پیدا ہوجاتی ہے۔ یہ احماء (جلانے اور ساڑنے) کا لازمی نتیجہ ہے۔ جس کا ذکر اوپر ہو چکا ہے۔ قرآن مجید میں ہے : فَانظُرْ إِلَى طَعَامِكَ وَشَرَابِكَ لَمْ يَتَسَنَّهْ پس (اب) تو پنے کھانے اور پینے (کی چیزوں) کو دیکھ (وہ) متغیر (باسی) بھی نہیں ہوئیں۔ (البقرة، 2 : 259) جب گارے (طین لازب) پر طویل زمانہ گزرا اور اس نے جلنے سڑنے کے مرحلے عبور کیے تو اس کا رنگ بھی متغیر ہو کر سیاہ ہوگیا اور جلنے کے اثر سے اس میں بو بھی پیدا ہوگئی۔ اسی کیفیت کا ذکر صَلْصَالٍ مِنْ حَمَاء مَسْنُوْنٍ میں کیا جا رہا ہے۔ کسی شے کے جلنے سے بدبو کیوں پیدا ہوتی ہے؟ اس کا جواب بڑا واضح ہے کہ جلنے کے عمل سے کثافتیں سڑتی ہیں اور بدبو کو جنم دیتی ہیں جو کہ مستقل نہیں ہوتی۔ اس وقت تک رہتی ہے جب تک کثافتوں کے سڑنے کا عمل یا اس کا اثر باقی رہتا ہے اور جب کثافت ختم ہوجاتی ہے بدبو بھی معدوم ہوجاتی ہے۔ اس لیے ارشاد فرمایا گیا : صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَإٍ مَّسْنُونٍO ایسے خشک بجنے والے گارے جو (پہلے) سن رسیدہ، سیاہ بدبودار ہو چکا تھا۔ (الحجر، 15 : 26) گویا لفظ صلصال واضح کر رہا ہے کہ اس مرحلے تک پہنچتے پہنچتے مٹی کی سیاہی اور بدبو وغیرہ سب ختم ہو چکی تھی اور اس کی کثافت بھی کافی حد تک معدوم ہوچکی تھی۔ 6۔ صلصال کالفخار (Dried & Highly Pured Clay) اس مرحلے کی نسبت ارشاد باری تعالیٰ ہے : خَلَقَ إلْانْسَانَ مِنْ صَلْصَالٍ کَالْفَخَّارِ. اسی نے انسان کو مٹی سے جو ٹھیکرے کی طرح بجتی تھی پیدا کیا۔ (الرحمن، 55 : 14) جب تپانے اور جلانے کا عمل مکمل ہوتا ہے تو گارا پک کر خشک ہو جاتا ہے۔ اس کیفیت کو صلصال کالفخار سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اس تشبیہ میں دو اشارے ہیں : i۔ ٹھیکرے کی طرح پک کر خشک ہو جانا۔ ii۔ کثافتوں سے پاک ہو کر نہایت لطیف اور عمدہ حالت میں آجانا۔ لفظ فخار کا مادہ فخر ہے جس کے معنی مباہات اور اظہار فضیلت کے ہیں۔ یہ فاخر سے مبالغے کے صیغے میں ہے یعنی بہت فخر کرنے والا۔ فخار عام طور پر گھڑے کو بھی کہتے ہیں اور مترجمین و مفسرین نے بالعموم یہاں یہی معنی مراد لیے ہیں۔ ٹھیکرا اور گھڑا چونکہ اچھی طرح پک چکا ہوتا ہے اور خوب بجتا اور آواز دیتا ہے، گویا اپنی آواز اور گونج سے اپنے پکنے خشک اور پختہ ہونے کو ظاہر کرتا ہے، اس لیے اسے فخر کرنے والے کے ساتھ تشبیہ دے دی گئی ہے کہ وہ بھی اپنی فضیلت اور شرف کو ظاہر کرتا ہے۔ فاخر اور فخار کا ایک دوسرا معنی بھی ہے، جس کی طرف عام طور پر توجہ نہیں کی گئی، حالانکہ وہ اس پس منظر میں نہایت اہم ہے۔ امام راغب اصفہانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : يعبر عن کل نفيس بالفاخريقال ثوب فاخر وناقة فخور. ہر نفیس اور عمدہ چیز کو فاخر کہتے ہیں۔ اس لیے ثوب فاخر نفیس کپڑے کو اور ناقۃ فخور عمدہ اونٹنی کو کہا جاتا ہے۔ (المفردات : 374) فخار، فاخر سے مبالغہ ہے جو کثرت نفاست اور نہایت عمدگی پر دلالت کرتا ہے۔ صاحب المحیط بیان کرتے ہیں : الفاخر : الجيد من کل شیء فاخر : کسی بھی شے کی عمدگی کو کہتے ہیں۔ (القاموس المحيط، 2 : 112) فخار میں عمدگی اور نفاست میں مزید اضافہ مراد ہے۔ اس معنی کی رو سے اظہار شرف کی بجائے اصل شرف کی طرف اشارہ ہے۔ دونوں معانی میں ہرگز کوئی تخالف اور تعارض نہیں بلکہ ان میں شاندار مطابقت اور ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔ باری تعالیٰ تخلیق انسانی کے سلسلہ ارتقاء کے ضمن میں اس مرحلے پر یہ واضح فرما رہے ہیں کہ وہ مٹی اور گارا جو انسانی بشریت کی اصل تھا اس قدر تپایا اور جلایا گیا کہ وہ خشک ہو کر پکتا بھی گیا اور ساتھ ہی ساتھ مٹی اپنی کثافتوں سے پاک صاف ہو کر نفاست اور عمدگی کی حالت کو بھی پاتی گئی۔ یہاں تک کہ جب وہ صلصال کالفخار کے مرحلے تک پہنچی تو ٹھیکرے کی طرح خشک ہوچکی تھی اور کثافتوں سے پاک ہو کر نہایت لطیف اور عمدہ مادے کی حالت اختیار کرچکی تھی۔ گویا اب ایسا پاک صاف، نفیس، عمدہ اور لطیف مادہ تیار ہوچکا تھا کہ اسے اشرف المخلوقات کی بشریت کا خمیر بنایا جاسکے۔ انسان اور جن کی تخلیق میں یہی فرق ہے کہ جن کی خلقت ہی آگ سے ہوئی مگر انسان کی خلقت میں صلصال کی پاکیزگی طہارت اور لطافت کے حصول کے لیے آگ کو محض استعمال کیا گیا۔ اسے خلقت انسانی کا مادہ نہیں بنایا گیا۔ جیسا کہ ارشاد ربانی ہے : خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ صَلْصَالٍ کَالْفَخَّارِo وَ خَلَقَ الْجَانَّ مِنْ مَارِجٍ مِنْ نَارٍo اسی نے انسان کو مٹی سے جو ٹھیکرے کی طرح بجتی تھی پیدا کیا اور جنات کو آگ کے شعلے سے پیدا کیا۔ (الرحمن، 55 : 14، 15) اسی طرح ارشاد فرمایا گیا : وَ الْجَآنَّ خَلَقْنَاهُ مِنْ قَبْل مِنْ نَارِ السَّمُومِo اور اس سے پہلے ہم نے جنوں کو شدید جلا دینے والی آگ سے پیدا کیا جس میں دھواں نہیں تھا۔ (الحجر، 15 : 27) اس لئے خلقت انسانی کے مراحل میں آگ کو ایک حد تک دخل ضرور ہے مگر وہ جنات کی طرح انسان کا مادہ تخلیق نہیں۔ 7۔ سُلالۃٌ من طین (Extract of purified clay) ارشاد ایزدی ہے : وَ لَقَدْ خَلَقْنَا إلْانْسَانَ مِنْ سُلَالَةٍ مِنْ طِيْنٍo اور بے شک ہم نے انسان کی تخلیق (کی ابتدائی) مٹی (کے کیمیائی اجزاء) کے خلاصہ سے فرمائی۔ (المومنون، 23 : 12) اس میں گارے کے اس مصفّٰی اور خالص نچوڑ کی طرف اشارہ ہے، جس میں اصل جوہر کو چن لیا جاتا ہے۔ یہاں طین لازب کے تزکیہ و تصفیہ کا بیان ہے۔ سُلالۃ : سل یسل سے مشتق ہے، جس کے معنی میں نکالنا، چننا اور میل کچیل سے اچھی طرح صاف کرنا شامل ہے۔ امام راغب اصفہانی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ سُلالۃ من طین سے مراد الصفو، الذی یسل من الارض ہے۔ یعنی مٹی سے چنا ہوا وہ جوہر جسے اچھی طرح میلے پن سے پاک صاف کردیا گیا ہو۔ جس تلوار کی دھار خوب تیز کی گئی ہو اسے السیف السلیل کہتے ہیں۔ الغرض سُلالۃ اس وقت وجود میں آتا ہے جب کسی چیز کو اچھی طرح صاف کیا جائے، اس کی کثافتوں اور میلے پن کو ختم کیا جائے اور اس کے جوہر کو مصفّٰی اور مزّٰکی حالت میں نکالا جائے۔ گویا سُلالۃ کا لفظ کسی چیز کی اس لطیف ترین شکل پر دلالت کرتا ہے جو اس چیز کا نچوڑ اور جوہر کہلاتی ہے۔

انسانی زندگی میں فساد کے اسباب

2017-06-15 17:59:20 

انسانی زندگی جس قدر اعتقادی و نظریاتی فسادات کاشکار ہوسکتی ہے رب العالمین میں ان سب کا علاج مضمر ہے۔ انسانی زندگی میں فساد کی جتنی صورتیں بھی نظرآتی ہیں اگران کا بنظر غائر جائزہ لیا جائے تووہ بالواسطہ یا بلاواسطہ مندرجہ ذیل اسباب میں سے کسی نہ کسی ایک پر ضرور مبنی ہوتی ہیں : 1۔ وجود باری تعالی کا انکار انسانی زندگی میں فساد کے اسباب میں سے سب سے اہم صورت یہ ہے کہ بندہ حق بندگی بجا لانے کی بجائے سرے سے اس کائنات اور اس کے نظام کو بغیر کسی خالق و مالک کے ماننے لگ جائے اوراسے نقطہء زندگی کے اتفاقی آغاز کا مظہر قرار دیتا پھرے۔ 2۔ خود کو خالق کائنات سے بے نیاز و مستغنی سمجھنا دوسری صورت یہ ہے کہ اﷲ تعالی کو محض خالق تسلیم کرنے کے بعد اس کائناتی زندگی کے بقاء و فروغ کے نظام میں اس کے عمل دخل اور تصرف کی بناء پر انکارکیا جائے کہ اب یہ عالم فقط اسباب و علل (Causes & effects) کے نظام کے تحت آزادانہ طور پر قائم ہے اوراسی صورت میں چل رہا ہے۔ اس میں کسی مستقل بالذات، واجب الوجود، قادر مطلق اور موثر حقیقی طاقت کا کوئی ارادہ، تدبیر اور تصرف کار فرما نہیں ہے۔ گویا معاذ اﷲ! اﷲ تعالی ہمیں تخلیق کرنے کے بعد ہمارے معاملات سے بے دخل اور لاتعلق ہوگیا ہے اورہمیں اس کی ہرگز حاجت نہیں۔ چنانچہ اس تصور سے انسان خود کو اﷲ تعالٰی کے سامنے جوابدہی سے آزاد سمجھنے لگتا ہے۔ 3۔ باری تعالی کی ذات و صفات یا افعال میں شرک اﷲ تعالی کی شان خلاقیت و ملوکیت پر اعتقاد رکھنے کے ساتھ ساتھ یہ خیال رکھاجائے کہ اس کی ذات، صفات یا افعال میں کچھ اور افراد یا اشیاء شریک ہیں۔ اس بنا پر وہ بھی مستحق عبادت وبندگی ہیں اور ان کا حکم و تصرف بھی خالق و مالک ہی کی طرح کائنات میں موجود اور موثر ہے۔ 4۔ اﷲ تعالی کو محض کسی ایک آدھ صفت کامظہر قرار دینا یہ خیال رکھنا کہ باری تعالی فقط قہر و غضب اور عذاب وعقاب کی صفات سے مختص ہے۔ اس سے انسانی ذہن اور اعتقاد مایوسی و محرومی کا آئینہ دار ہوجاتا ہے۔ یا یہ خیال رکھنا کہ وہ فقط بخشش و مغفرت اور رحمت ومحبت کی صفات سے مختص ہے۔ اس سے انسانی زندگی، احکام و اوامر کی گرفت سے آزادی کی طرف مائل ہوجاتی ہے۔ الغرض اسی قسم کے محدود اور یک جہتی تصورات کو اﷲ تعالی کی طرف منسوب کرنا بھی انسانی زندگی میں کئی فسادات کا موجب ہوتا ہے۔ 5۔ وجود و ضرورتِ رسالت کا انکار اﷲ رب العزت کے وجود اور وحدانیت کا اقرار کرنے کے باوجود نبوت و رسالت کی ضرورت اور کائنات میں اس کے وجود کا انکار کیا جائے اور زندگی کے لیے نبوت و رسالت کے ذریعہ حاصل ہونے والی ہدایت ربانی کو ناگزیر اور نتیجہ خیز تصور نہ کیا جائے۔ 6۔ بعض انبیاء و رسل کا انکار نظام رسالت کو اصولی طور پر مان کر بعض انبیاء و رسل کوبوجوہ تسلیم نہ کرنا جیساکہ یہود و نصاریٰ نے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رسالت کا انکار کردیا۔ 7۔ آخرت کا انکار انعقاد قیامت اور نظام جزا و سزا کا انکار کیا جائے۔ جس میں برزخی اور اخروی زندگی کے ساتھ ساتھ حیات بعدالموت کا انکار بھی شامل ہے۔ اس کی جگہ یہ اعتقاد رکھا جائے کہ یہی زندگی ہی سب کچھ ہے اور اس کے بعد کوئی زندگی نہیں جس میں یہاں کے معاملات کا حساب و کتاب ہوسکے۔ 8۔ ربوبیت و رحمت الہیہ کو تحدید اس سے مراد نسلی، لسانی، علاقائی اور طبقاتی فوقیت وبرتری اور تفاضل و تفاخر کے وہ سارے تصورات ہیں جو انسانی مساوات اور شرف و تکریم آدمیت کے فطری اور آفاقی اصولوں کی نفی کرتے ہیں۔ یہ فساد فکر اس اعتقاد سے جنم لیتا ہے کہ اﷲ تعالٰی کی ربوبیت اور رحمت و عنایت فقط ہمارے ساتھ خاص ہے اور دوسرے اس فیض سے محروم ہیں۔ کم و بیش فکر ونظر کے یہی بنیادی فسادات ہیں جو انسانی زندگی میں کبھی فرعونیت، کبھی قارونیت، اور کبھی یزیدیت کا روپ دھارتے ہیں۔ کبھی ذلت و پستی اور غلامی و رسوائی کی تباہ کن شکلوں میں نمودار ہوتے ہیں اور کبھی زندگی کو اعتدال و توازن کی حسین شاہراہ سے ہٹاکر غیر حقیقت پسندانہ ڈگر پر ڈال دیتے ہیں۔ اس کے لیے مذکورہ بالا اسباب ہی جملہ فسادات حیات کا سرچشمہ ہیں۔ رب العالمین۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جملہ فسادات کا علاج ان الفاظ نے نہ صرف مذکورہ بالا تمام اعتقادی فسادات کی بیخ کنی کی ہے بلکہ دیگر انسانی مغالطوں کی بھی اصلاح کردی ہے۔ یہ دو الفاظ پر مشتمل قرآنی اعلان، انسانی فکر و اعتقاد کے علاج اور اصلاح کے لیے مندرجہ ذیل اشارات و تعلیمات پر مبنی پورا ضابطہ عطا کر رہا ہے : 1۔ رب العالمین سے اس کائنات کے خالق و مالک کے وجود کا واضح ثبوت مل رہا ہے۔ کائنات موجود ہے تو اسکا موجد بھی ہونا چاہیے کیونکہ موجود بغیر موجد کے نہیں ہوسکتا۔ پرورش اور تربیت بغیر مربی کے ممکن نہیں اور نظام بغیر منتظم کے نہیں چل سکتا۔ یہ کیونکر ممکن ہے کہ کائنات کے ہر وجود بلکہ خود تمام کائناتوں کی جملہ ضرورتوں کی کفالت ہورہی ہو مگر کفیل کوئی نہ ہو۔ زندگی مسلسل ظہور میں آرہی ہو مگر زندگی دینے والا کوئی نہ ہو۔ اس قدر وسیع سلسلہ ہائے کائنات اور لاتعداد مظاہر حیات کاوجود میں آنا، بقاء و فروغ کے مراحل طے کرنا اورایک حسین نظم ونسق کے سلسلے کا قائم رہنا زبان حال سے پکار کر کہہ رہا ہے کہ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کوئی ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اسی کا صفاتی نام رب العالمین ہے۔ 2۔ رب العالمین سے پتہ چل رہا ہے کہ رب ایک ہے کیونکہ رب کے علاوہ جو کچھ بھی ہے وہ العالمین میں شامل ہے، جو لفظ کا مضاف الیہ اور ذات رب کامربوب ہے۔ جب ایک رب ہے اور باقی عالم تو اشتراک کا امکان کیونکر ممکن ہے۔ مضاف الیہ کو مضاف کیسے سمجھا جائے مربوب کو مربی کیسے کہا جائے۔ زیر پرورش کو پرورش کرنے والا کیسے بنایا جائے۔ مخلق و خالق، محتاج کو مستغنی، ممکن کو واجب اور زیر کفالت کو کفیل کیسے سمجھ لیا جائے۔ امر واقعہ ہے کہ شرک کا گمان ہی عقل کے نقصان یا فقدان پر دلالت کرتا ہے۔ العالمین کے سارے نظام جس نسق، ہم آہنگی اورحسن ترتیب سے چل رہے ہیں، ان میں کوئی خلل ہے نہ ٹکراؤ، تضاد ہے نہ تصادم، یہ اس حقیقت کی نشاندہی کررہے ہیں کہ ان کے پیچھے ایک موثر حقیقی کا ہاتھ ہے جو بلاشرکت غیرے، بغیر کسی مخالفت و مزاحمت کے اپنے ارادہ و قدرت کو ہرجگہ ظاہر فرما رہے۔ نظم کائنات سے بھی رنگ وحدت ٹپک رہا ہے۔ قرآن یہی اعلان ان الفاظ میں کرتا ہے : لَوْ كَانَ فِيهِمَا آلِهَةٌ إِلَّا اللَّهُ لَفَسَدَتَا. اگر ان دونوں (زمین و آسمان) میں اللہ کے سوا اور (بھی) معبود ہوتے تو یہ دونوں تباہ ہوجاتے۔ (الانبياء، 21 : 22) 3۔ رب العالمین سے واضح ہو رہا ہے کہ العالمین کا کوئی وجود باری تعالی سے بے نیاز و مستغنی نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ ربوبیت جو درجہ بدرجہ پرورش کرنے اور کمال تک پہنچانے سے عبارت، ہے ایک ایسا نظام ہے جو ہمہ وقت از ابتداء تا انتہا قائم رہتا ہے۔ اس کے تسلسل اور دوام سے وجود کا کوئی مرحلہ خالی نہیں ہوسکتا۔ اس لیے جو خود کو کسی بھی لحاظ سے رب کا محتاج تصور نہیں کرتا اور خود کو اس سے بے نیاز قرار دیتا ہے۔ وہ خود کو العالمین سے خارج قرار دے رہا ہے اور یہ ممکن نہیں، العالمین سے کوئی شے بھی خارج نہیں ہوسکتی کیونکہ اس کے سوا تو فقط رب کی ذات ہے اس لیے خود کو العالمین سے خارج تصور کرنا، اپنے آپ کو رب کہنے کے سوا کوئی معنی نہیں رکھتا۔ اگر کاروبار حیات کے دوران انسان کا دھیان اسباب و علل کے نظام پر ہی ہوتو معلوم ہونا چاہیے کہ نظام اسباب وعلل بھی ایک عالم ہے جو رب العالمین کے وجود کی نشاندہی کرتا ہے۔ اس لیے کہ اسباب ہمیشہ مسبّب کا پتہ دیتے ہیں اور نظام علل میں یہ ممکن نہیں کہ کوئی سب سے پہلی علت نہ ہو۔ وہ سب سے پہلی علت جس سے سب علل وجود میں آئی ہیں، علت اولیٰ کہلاتی ہے۔ اولیٰ وہی ارادۂ رب العالمین ہے جو امرکن فیکون کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے، وہی علۃ العلل (Cause of the causes) ہے اور وہی غایۃ العلل (Ultimate cause) ہے۔ اس لئے یہ سمجھنا غلط ہے کہ نظام اسباب و علل کے باعث ہم اﷲ تعالیٰ سے بے نیاز ہوگئے ہیں۔ بے نیاز فقط رب ہے، عالمین سارے محتاج ہیں اور اسباب وعلل کا نظام بھی اسی کا تخلیق کردہ اور اسی سے قائم ہے۔ 4۔ رب العالمین محض ایک آدھ صفت سے خاص نہیں ہوسکتا بلکہ وہ ہمہ صفتی رب ہے۔ اس کی ربوبیت کل کائنات کے لیے ہے، جوہر شے کی، ہر ضرورت کی کفالت کی ذمہ دار ہے۔ چونکہ موجودات عالم کی ضرورتیں بے شمار ہیں اس لئے رب العالمین کی صفات بھی بے شمار ہیں، جن سے وہ ہرزیر پرورش وجود کی ہرضرورت کی تکمیل فرماتا ہے۔ بیمار کو صحت کی طلب ہے، جاہل کو علم کی، بھوکے کو کھانے کی طلب ہے، پیاسے کو پانی کی، دھوپ کو سائے کی طلب ہے، اندھیرے کو اجالے کی، اطاعت گزار کو ثواب کی طلب ہے، سرکش و باغی کو عتاب و عذاب کی، گنہگار کو مغفرت کی طلب ہے، اور ظالم کو سزا کی۔ الغرض ہر شے کی طلب اور ضرورت اس کے حسب حال مختلف ہے اور رب العالمین وہی ہوسکتا ہے جو ہرشے کی طلب و ضرورت ایجابی ہو یا سلبی، مثبت ہویا منفی بصورت جزا ہو یا سزا، پوری کرسکے۔ یہی ذات حق کی شان ہے جو کسی اور کو زیبا نہیں۔ وہ صفات میں جامع، قدرت میں کامل اور فعل میں قادر و مختار ہے۔ 5۔ رب العالمین اس امر کا واضح اعلان ہے کہ باری تعالیٰ تمام مخلوقات کی جملہ ضروریات کی کفالت فرماتا ہے۔ مخلوقات عالم میں سے اہم ترین مخلوق انسان ہے۔ اور انسان کی جملہ ضروریات میں سے اہم ترین ضرورت ہدایت اور زندگی کا لائحہ عمل ہے، جس کی تکمیل شریعت اور وحی ربانی کے بغیر ممکن نہیں۔ لہذا باری تعالیٰ کا رب العالمین ہونا خود اس امر کا متقاضی ہے کہ بنی نوع انسان کی رہنمائی کے لیے انبیاء و رسل علیہم السلام کو مبعوث کیا جاتا اور ان کے ذریعے اللہ رب العزت کی وحی اور ہدایت پر مبنی شریعت اور نظام حیات عطا کیا جاتا، جس کے تحت افراد بنی آدم کی اخلاقی و روحانی تربیت اور فکری و اعتقادی پرورش ہوتی۔ سو اس ضرورت کو اس نے نظام نبوت و رسالت کے ذریعے پورا فرما دیا ہے۔ اس لیے ارشاد فرمایا گیا : وَمَا قَدَرُواْ اللّهَ حَقَّ قَدْرِهِ إِذْ قَالُواْ مَا أَنزَلَ اللّهُ عَلَى بَشَرٍ مِّن شَيْءٍ قُلْ مَنْ أَنزَلَ الْكِتَابَ الَّذِي جَاءَ بِهِ مُوسَى نُورًا وَهُدًى لِّلنَّاسِ تَجْعَلُونَهُ قَرَاطِيسَ تُبْدُونَهَا وَتُخْفُونَ كَثِيرًا وَعُلِّمْتُم مَّا لَمْ تَعْلَمُواْ أَنتُمْ وَلاَ آبَاؤُكُمْ. اور انہوں نے (یعنی یہود نے) اﷲ کی وہ قدر نہ جانی جیسی قدر جاننا چاہیے تھی، جب انہوں نے یہ کہہ (کر رسالتِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انکار کر) دیا کہ اﷲ نے کسی آدمی پر کوئی چیز نہیں اتاری۔ آپ فرما دیجئے: وہ کتاب کس نے اتاری تھی جو موسٰی (علیہ السلام) لے کر آئے تھے جو لوگوں کے لئے روشنی اور ہدایت تھی؟ تم نے جس کے الگ الگ کاغذ بنا لئے ہیں تم اسے (لوگوں پر) ظاہر (بھی) کرتے ہو اور (اس میں سے) بہت کچھ چھپاتے (بھی) ہو، اور تمہیں وہ (کچھ) سکھایا گیا ہے جو نہ تم جانتے تھے اور نہ تمہارے باپ دادا۔ (الانعام، 6 : 91) انسانی تربیت وپرورش کے لیے نظام رسالت کا وجود اور ہدایت ربانی کی نتیجہ خیزی رب العالمین کا ایسا مفہوم ہے جس کے بغیر اﷲ تعالٰی کی ربوبیت کو تسلیم کرنے کا حق بھی ادا نہیں ہوسکتا۔ 6۔ رب العالمین کے اعلان میں ربوبیت الہیہ کاآفاقی ہونا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ پوری کائنات انسانی کی ہدایت کے لیے ہر طبقے اورہر قوم کی طرف انبیاء و رسل مبعوث کیے گئے تاکہ انسانی اعتقاد و عمل کی صحیح نشوونما اور اصلاح ہوسکے۔ روحانی تربیت و پرورش کی اس نعمت سے کسی طبقے کو محروم نہیں رکھا گیا، اس لیے ارشاد فرمایا گیا : إِن مِّنْ أُمَّةٍ إِلَّا خلَا فِيهَا نَذِيرٌO کوئی امت ایسی نہیں ہوئی جس میں کوئی نصیحت کرنے والا (پیغمبر) نہ گزرا ہو۔ (فاطر، 35 : 24) جب ربوبیت الہیہ نے اپنے فیضان ہدایت کے لیے کسی طبقہ و قوم کومستثنیٰ نہیں کیا تو افرادِ انسانی کو یہ حق کس طرح پہنچتا ہے کہ وہ بعض پیغمبروں پر ایمان لائیں اور بعض کا انکار کردیں۔ یہ امتیازی سلوک، خود فی الواقع ربوبیت الہیہ کی آفاقیت کا انکار ہے۔ اسی لئے قرآن مجید نے یہ تعلیم دی : لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أحَدٍ مِنْهُمْ وَ نَحْنُ لَهُ مُسْلِمُوْنَO ہم ان میں سے کسی ایک (پر بھی ایمان) میں فرق نہیں کرتے، اور ہم اسی (معبود واحد) کے فرماں بردار ہیں۔ (البقره، 2 : 136) اس مقام پر تمام انبیاء کرام پرایمان لانا اور اﷲ کے حضور گردن جھکانا دونوں کوایک ساتھ بیان کیا گیا ہے کیونکہ باری تعالٰی پر ایمان لانے کا تقاضا یہی ہے کہ اس کے بھیجے ہوئے تمام پیغمبروں کو مانا جائے اورایمان میں سے کسی سے امتیاز نہ برتا جائے۔ سورہ بقرہ میں اس مضمون کا آغاز کچھ اس طرح سے ہورہا ہے : إذْ قَالَ لَهُ رَبُّهُ أسْلِمْ قَالَ أسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعَالَمِيْنَo اور جب ان کے رب نے ان سے فرمایا (میرے سامنے) گردن جھکا دو، تو عرض کرنے لگے : میں نے سارے جہانوں کے رب کے سامنے سر تسلیم خم کر دیا۔ (البقرة، 2 : 131) اس حکم کے بعد اس وصیت اور تعلیم کا بیان شروع ہوجاتا ہے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت یعقوب علیہ السلام نے اپنی اپنی اولاد کو دی اور یہ بیان تمام انبیاء و رسل پر بلا امتیاز ایمان لانے کے حکم پر ختم ہوتا ہے۔ گویا یہ مضمون رب العالمین کی آٰفاقی ربوبیت کے بیان سے شروع ہوا اور اس کے بھیجے ہوئے تمام انبیاء و رسل پر ایمان لانے کے حکم پر ختم ہوا، جس کا واضح مقصد یہ ہے کہ یہ ہمہ گیر ایمان رب العالمین کے مفہوم میں نہ صرف شامل ہے بلکہ اس کا مدعا ہے۔ 7۔ رب العالمین کے الفاظ خود جزا و سزا کے نظام کا اثبات کررہے ہیں، کیونکہ وہ تربیت کیسی ہے جس کے اختتام پر امتحان نہ ہو اور نیک وبد کے ساتھ انجام کار صحیح انصاف نہ ہو۔ اس احساس جوابدہی کو ختم کرکے جزا و سزا کے وجود سے انکار کے بعد کوئی نظام تربیت و پرورش اپنے مقاصد کو حاصل کرہی نہیں سکتا۔ کیونکہ اس کے بغیر افراد کا اخلاقی کمال کو پانا اور ان کی عملی عظمت و گراوٹ کا پرکھا جانا نہ صرف ممکن ہی نہیں بلکہ خود تربیت و پرورش کا نظام بے مقصد و بے سود ہوکر رہ جاتا ہے۔ اساتذہ اور والدین کے حسن پرورش وتربیت میں بھی یہی محرک کار فرما ہوتا ہے۔ 8۔ رب العالمین اس امر کا واضح اعلان بھی ہے کہ باری تعالٰی کی ربوبیت و رحمت کا فیضان کسی خا ص نسل، قبیلے، علاقے اور طبقے کے لیے محدود و مختص نہیں بلکہ تمام افراد بنی آدم کے لیے عام ہے، اس لیے سب نسلی، لسانی اور گروہی تفاخر کے تصورات باطل ہیں۔ اورحق یہ ہے کہ ربوبیت الہیہ کی عالمگیریت کے حوالے سے انسانی سطح پر عالمی اخوت و مساوات کا ایسا علم بلند کیاجا ئے کہ کوئی قوم کسی دوسری قوم پر ناروا برتری اور تفوق کا حق نہ جما سکے اورنہ اس بنیاد پر اس کا استحصال کرسکے۔ 9۔ رب العالمین کا تقاضا یہ بھی ہے کہ جملہ افراد اپنی زندگی کے سارے معاملات میں باری تعالٰی کی اطاعت کریں۔ کیونکہ حق یہی ہے کہ جو پیدا کرنے والا، پالنے والا اور تمام جسمانی و روحانی ضروریات کی کفالت کرکے بندوں کو اپنے کمال تک پہنچانے والا ہے، وہی حقدار ہے کہ اس کا ہرحکم مانا جائے، جس کا حکم ماننے کو وہ کہے اس کو مانا جائے اورجس سے منع کرے اس سے باز رہا جائے۔ ہم نے اﷲ کے سوا اطاعت احکام کی جتنی دیگر سمتیں بنا رکھی ہیں، جو اطاعت الہی سے متضاد و متصادم ہیں، سب طاغوت ہیں۔ ان کا اقرار و اطاعت فی الواقع اﷲ تعالٰی کی ربوبیت کے اعتقاد کے خلاف بغاوت ہے۔ جب رب کائنات وہ ہے تو گردنیں اس کے غیر کے سامنے کیوں جھکیں!!! 10۔ رب العالمین کا اعلان انسان کو اس حقیقت سے بھی آشنا کرتا ہے کہ باری تعالیٰ سے بڑھ کر اس کا کوئی اور خیر خواہ اور محبت کرنے والا نہیں ہوسکتا۔ جو ازخود پالنے اورحفاظت کرنے کی ذمہ داری نبھا رہا ہو، بھلا اس سے بڑھ کر بھی کوئی خیر خواہ ہوسکتا ہے؟ لہذا بندے کو چاہیئے کہ وہ ہرحال میں اسی پر بھروسہ کرے اس کی رحمت سے مایوس نہ ہو، ہر قدم پر اسی کی رضا کا متلاشی رہے اور اس کے دیئے ہوئے نظام زندگی پر ہی اکتفا و قناعت کرے۔ انسانی زندگی کا جو دائمی منصوبہ اس کی ہدایت اور تعلیم میں ہوسکتا ہے کسی اور فکر و نظریہ میں ممکن نہیں۔ اس لیے اہل دنیا کے وہ تمام سیاسی، اقتصادی اور اخلاقی ومذہبی فلسفے، جو رب العالمین کی عطا کردہ ہدایت سے متصادم ہیں وہ بالآخر کسی نہ کسی شکل میں ظلم واستحصال ہی کا باعث ہوتے ہیں۔ حقیقی فلاح فقط اسی نظام میں ہے، جو ساری انسانیت کے پالنے والے رب نے عطا کیا ہے، جو قرآن وسنت کی صورت میں امت مسلمہ کے پاس موجود ہے۔ سو اسی کا دامن تھامنے میں اصل کامیابی ہے۔ 11۔ رب العالمین کااعلان پرورش اس امر کو بھی واضح کررہاہے کہ دوسروں کی پرورش اور کفالت کرنا چونکہ اﷲ تعالیٰ کا سب سے پہلا محبوب فعل ہے اس لئے اسے اپنی مخلوق میں سب سے زیادہ محبت بھی اسی شخص اور طبقے سے ہوتی ہے جو دوسرے افراد کے لیے اسی کردار کو اپناتا ہے۔ اﷲ تعالیٰ کے قریب ہونے کا راز یہی ہے کہ اس کی صفات و اخلاق کو اپنایا جائے۔ سو ہرکس و ناکس، اپنے پرائے، دوست دشمن اور واقف و ناواقف کے ساتھ مربیانہ سلوک جس میں دوسرے کے لیے نفع بخشی، فیض رسانی، حسب ضرورت کفالت و پرورش اور ایثار و انفاق کے پہلو پائے جائیں، روا رکھنا قرب الہی کا باعث ہے۔ یہی اخلاق الہی ہے اور یہی اخلاق محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم۔ رب العالمین کی شان یہ ہے کہ کوئی اسے مانے نہ مانے وہ ہر ایک عمل سے اور کردار سے بے نیاز ہو کر اس کی ضرورتوں کی کفالت کرتا جا رہا ہے۔ پس وہی شخص اﷲ تعالیٰ کو محبوب تر ہے، جو لوگوں کے رویے، کردار، حسد، مخالفت اور مخاصمت سے بے نیازہوکر رحمت اور بھلائی کی خیرات بانٹتا چلا جائے۔ اس کا مقصود کسی سے انتقام لینا نہ ہو بلکہ ہرایک کے لیے بھلائی چاہنا ہو۔ جو مخلوق خدا کی جس قدر بڑھ کر پرورش کرے گا، اﷲ تعالیٰ کے فیضان پرورش سے اسی قدر زیادہ فیض پائے گا۔ کاش ہمیں من حیث القوم اس نکتے کی سمجھ آجائے۔

کائنات ارض و سماء کی سائنسی تحقیق

2017-06-15 17:51:09 

ارض کا معنی نظام شمسی میں گردش پذیر جس سیارے میں ہم رہائش رکھتے ہیں، ارض (Earth، زمین) کہلاتا ہے۔ یہ لفظ عام طور پر آسمان کے مقابل بولا جاتا ہے۔ لغت عرب میں ہر نچلی چیز ارض سے تعبیر کی جاتی ہے۔ امام راغب لکھتے ہیں: الارض يعبربها عن اسفل الشئ کما يعبر بالسمآء عن اعلاه. کبھی ارض کا لفظ بول کر کسی چیز کا نیچے کا حصہ مراد لیتے ہیں جس طرح سماء کا لفظ اوپر والے حصے پر بولا جاتا ہے۔ (المفردات : 73) قرآن مجید نے ہر جگہ ارض کا صغیہ واحد ہی استعمال کیا ہے۔ جمع (ارضون یا ارضین) کا صیغہ استعمال نہیں کیا۔ تاہم کئی زمینوں کا وجود یوں بھی ثابت ہوتا ہے کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے : اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ وَمِنَ الْأَرْضِ مِثْلَهُنَّ. اللہ وہی ہے جس نے سات آسمان اور انہی کی طرح زمین بھی (اپنی ہی قدرت و حکمت سے) پیدا کی۔ (الطلاق، 65 : 12) اس آیت کریمہ سے اس امر پر روشنی پڑتی ہے کہ زمینیں بھی آسمانوں کی طرح سات یا متعدد ہیں۔ سات آسمانوں کا معنی السمآء کا لفظ سما، یسمو سے ہے، جس کے معنی بلندی کے ہیں۔ لغت عرب میں ہے : سماء کل شی أعلاه. ہر چیز کے اوپر جو کچھ ہے وہ اس چیز کا سماء ہے۔ (المفردات : 427) لہذا کرہ ارض کے اوپر جس قدر کائنات موجود ہے، وہ عالم سماوات ہے، بلکہ خود کرہ ارض کے اندر وہ بالائی طبقۂ فضا جہاں بادل اڑتے ہیں اور ٹھنڈک کے باعث آبی قطرات کی صورت میں بارش بن کر برستے ہیں، بھی ’’سماء،، کہلاتا ہے ارشاد باری تعالیٰ ہے : وَّأَنزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً. اور آسمانوں کی طرف سے پانی برسایا۔ (البقره، 2 : 22) بنا بریں زمین کے اوپر کا طبقۂ کائنات عالم طبیعی کی آخری حد تک عالم سماء کہلاتا ہے۔ اسلام اور یونانی فلسفے کے موقف میں فرق عام طور پراہل علم نے مختلف زمانوں میں فلسفیانہ تصورات کی بناء پر آسمانوں کی ماہیت اور حقیقت متعین کرنے کی کوشش کی ہے، اسی وجہ سے کسی نے چاند کو پہلے آسمان میں مرکوز، سورج کو چوتھے آسمان میں اور دیگر سیار گان فلکی کو دوسرے آسمانوں میں مرکوز قرار دیا۔ کسی نے اس سے مختلف ترتیب بیان کی۔ عوام الناس نے بعض علماء کی ان تحریروں سے یہ اخذ کیا کہ شاید یہی اسلام کا موقف ہے اور یہی کچھ قرآن و حدیث سے ثابت ہے۔ یہ تاثر کلیتاً غلط ہے۔ قرآن وحدیث کی کوئی ایک نص بھی اس تصور کی تائید نہیں کرتی۔ یہ موقف دراصل قدیم علماء ہیت کا تھا، جو یونانی فلسفے پر مبنی تھا۔ دینی کتابوں میں اس کے بیان ہوجانے کی وجہ سے اسے غلط طور پر دینی تعلیمات کی طرف منسوب کردیا گیا۔ یہی وجہ تھی کہ جب تسخیر ماہتاب کاواقعہ پیش آیا تو بعض لوگوں نے کم فہمی کی بناء پر اسے دینی تصورات کے منافی سمجھا۔ حالانکہ اس واقعے کا امکان دینی تصورات اوراسلام کے بیان کردہ حقائق کے عین مطابق تھا۔ اس میں عقلاً و نقلا ًکسی قسم کی مخالفت نہ تھی کیونکہ سورج، چاند اور دیگر سیارے کرہ ارض کے اوپر کروڑوں، اربوں میلوں پر محیط بالائی طبقے میں گردش کرتے ہیں۔ یہ تمام سماوی طبقات اپنے اپنے ’’افلاک،، (Orbits) میں محو گردش ہیں۔ جو زمین اور آسمان کے درمیان واقع ہیں۔ ابن ابی حاتم اور ابوالشیخ نے حسان بن عطیہ سے روایت کیا ہے : الشمس و القمر و النجوم مسخرة فی فلک بين السماء و الارض. شمس و قمر اور تمام سیارگان، آسمان اور زمین کے درمیان اپنے فلک یعنی مدار (Orbit) میں گردش کررہے ہیں۔ (الدرالمنثور، 4 : 318) یہ ارشاد اس قرآنی آیت کی تعبیر میں وارد ہوا ہے : کُلٌّ فِيْ فَلَکٍ يَسْبَحُوْنَo تمام (آسمانی کرے) اپنے اپنے مدار کے اندر تیزی سے تیرتے چلے جاتے ہیں۔ (الانبياء، 21 : 33) امام ابن جریر رحمۃ اللہ علیہ اورامام ابن ابی حاتم رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت ابن زید رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے : الفلک الذی بين السماء و الأرض من مجاری النجوم و الشمس و القمر. ’’فلک،، سے مراد آسمان اور زمین کے درمیان واقع مدار ہیں، جن میں تمام ستارے، سورج اور چاند (سمیت تمام اجرام فلکی) گردش کرتے ہیں۔ (تفسير الدرالمنثور، 4 : 318) اس امر کی وضاحت اس قول سے بھی ہوتی ہے : الفلک موج مکفوف تجري فيه الشمس و القمر و النجوم. ’’فلک،، آسمانوں کے نیچے خلا کا نام ہے جس میں سورج، چانداور ستارے گردش کرتے ہیں۔ (تفسير کبير، 22 : 167) امام رازی رحمۃ اللہ علیہ رحمۃ اللہ علیہ نے مزید بیان کیا ہے کہ فلک ستاروں کے مدار یعنی ان کی گردش کے راستوں کوکہتے ہیں: وهو فی کلام العرب کل شئي مستدير وجمعه أفلاک. لغت عرب میں ہر گول شے کو فلک کہتے ہیں اس کی جمع افلاک ہے۔ (تفسيرکبير، 22 : 167) امام ابوالبرکات نسفی رحمۃ اللہ علیہ نے یہاں تک صراحت بیان فرمائی ہے : و الجمهور علی أن الفلک موج مکفوفٌ تحت السماء تجري فيه الشمس و القمر و النجوم. . . يسيرون اي يدورون جمہور علماء کا مذہب یہی ہے کہ فلک آسمانوں کے نچیے خلا کا نام ہے جس میں سورج، چاند اور دیگر سیارے مستدیراً گردش کرتے ہیں۔ (تفسير المدارک، 3 : 78) اس لحاظ سے جتنے سیارے بھی خلا میں گردش کرتے ہیں، ہر ایک کا مدار اس کا فلک کہلاتا ہے۔ ابتداء علم ہیت (ASTROMONY) کے ماہرین کا خیال تھا کہ سیاروں کی کل تعداد 7 ہے اور ان میں ہر سیارہ جس مدار میں موجود ہے وہی اس کا فلک ہے۔ بنا بریں عالم بالا کل سات افلاک میں منقسم ہے، پہلے میں چاند ہے، دوسرے میں عطارد، تیسرے میں زہرہ، چوتھے میں شمس، پانچویں میں مریخ، چھٹے میں مشتری اور ساتویں میں زحل، جیسا کہ امام رازی رحمۃ اللہ علیہ نے دور قدیم کے علماء ہیت کا یہ قول نقل کیا ہے۔ (تفسیرکبیر، 26 : 77) بعض مسلمان اہل علم کی فکری لغزش ہمارے خیال میں جب یہی نقطہ نظر بعض علماء اسلام نے اپنی کتابوں میں درج کیا تواسی سے یہ تصور پیدا ہوگیا کہ سات آسمانوں میں سے ہر آسمان میں ایک سیارہ ہے اوروہ آسمان اسی سیارے کے نام سے موسوم ہے۔ یہ ایسا مغالطہ تھا جو سات افلاک کے تصور اور سات آسمانوں کے تصور کے درمیان التباس (CONFUSION) کے باعث پیدا ہوا۔ پھر بقول شیخ طنطاوی جوہری جب فلسفہ یونانی پرفارابی اور ابن سینا کی تصانیف عربی زبان میں منظر عام پر آئیں تو 9 افلاک کا تصور قبولیت پاگیا۔ چنانچہ اس کی توجیہہ بعض علماء اور فلاسفہ نے یوں کی کہ ان سے مراد سات آسمان، کرسی اور عرش ہے۔ کرسی، فلک الثوابت ہے اور عرش، فلک محیط۔ یہ تعبیرات اس وجہ سے اسلامی لٹریچر میں شامل ہوگئیں کہ مختلف ادوار میں جب کوئی نئی فلسفیانہ یا سائنسی تحقیق منظر عام پر آئی بعض اہل علم نے اسے قرآنی آیات پر یا قرآنی آیات کو اس پر منطبق کرنے کی کوشش کی۔ حالانکہ وہ تحقیق فی نفسہا حتمی اور قطعی نہ تھی۔ عقلاء، فلاسفہ اور سائنسدان تجربات اور مشاہدات کی بنا پر اقدام وخطاء (TRIAL & ERROR) کے انداز میں اپنی نئی سے نئی تحقیقات پیش کر رہے تھے۔ ان تحقیقات کو اسلامی تصورات بنانے کی کوشش نے ایسے کئی موضوعات میں علمی مغالطے پیدا کر دیئے جو اب تک بعض اہل علم کے ہاں منتقل ہوتے چلے آرہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ان بے بنیاد اور غلط تصورات کی کوئی سند قرآن و حدیث میں نہیں ملتی۔ جوں جوں انسانی عقل اپنے سائنسی تجربات و مشاہدات کی بناء پر ترقی کررہی ہے۔ عالم بالا کے ہزاروں نئے طبقات منصہ علم پر آرہے ہیں۔ نظام شمسی اور عالم افلاک پہلے جن سیاروں کی کل تعداد 9 بیان کی گئی تھی موجودہ سائنس نے یہ حقیقت منکشف کردی ہے کہ یہ 9سیارے (Planets) تو صرف نظام شمسی (SOLAR SYSTEM) میں موجود ہیں جن کے نام یہ ہیں : 1۔ عطارد (Mercury) 2۔ زہرہ (Vencus) 3۔ زمین (Earth) 4۔ مریخ (Mars) 5۔ مشتری (Jupiter) 6۔ زحل (Saturn) 7۔ یورینس (Uranus) 8۔ نیپچون (Neptune) 9۔ پلوٹو (Pluto) ہماری زمین کے گرد واقع چاند کی طرح ان 9 سیاروں کے گرد کل 61 چاند موجود ہیں ان کے علاوہ تقریباً 45,000 سے زائد Astroids بھی اس نظام شمسی میں موجود ہیں۔ مزید برآں کئی ایسے مزید سیارے تصور کیے جاتے ہیں جو اسی نظام میں ہیں لیکن ابھی تک ظاہر نہیں ہوئے۔ یہ سب وہ سیارے ہیں جو سورج کے گرد اپنے اپنے مدار میں محو حرکت ہیں پھرخود مذکورہ بالا بڑے سیاروں (PLANETS) کے گرد گردش کرنے والے کئی سیارے ہیں جنہیں Satellites کہا جاتا ہے۔ ہمارا چاند (Moon) ان میں سے سب سے بڑا ہے اور زمین کے گرد محو گردش ہے، جس کا ذکر قرآن مجید ان میں الفاظ میں کرتا ہے : وَجَعَلَ الْقَمَرَ فِيهِنَّ نُورًا. اور ان میں (تمہارے لئے) چاند کو چمکنے والا بنایا۔ (نوح، 71 : 16) کچھ اجرام فلکی ہیں جنہیں COMETS کہا جاتا ہے یہ نام غالباً قرآن حکیم کی اصطلاح الجوار الکنس سے اخذ کیا گیا ہے، جس کا ذکر سیاروں ہی کے ضمن میں یوں آیا ہے : فَلَا أُقْسِمُ بِالْخُنَّسِO الْجَوَارِ الْكُنَّسِO پھر میں قسم کھاتا ہوں چلتے چلتے (پیچھے) پلٹ جانے والے تاروں کی (اور قسم کھاتا ہوں) سیدھے چلنے والے (اور) رکے رہنے والے تاروں کی۔ (التکوير، 81 : 15، 16) Comets بھی سورج کے گرد گھومتے ہیں اور مختلف مدتوں میں اپنا مدار مکمل کرتے ہیں۔ ان میں سے ایک HALLEY'S COMET سے نام سے معروف ہے۔ جو سورج کے گرد اپنا مدار مکمل کرنے میں اوسطاً 77برس لگاتا ہے، گویا 77 برس میں ایک بار نظر آتا ہے، بقیہ عرصہ چھپا رہتا ہے۔ آخری بار HALLAY'S COMETS 80, 156 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے 9 فروری 1986ء کو سورج کے قریب سے گزرا European Space Agency ۔(ESA) کے خلائی جہاز Giotto نے اس کے انتہائی قریب جاکر اس کی تصاویر اتاریں اور اہل زمین کیلئے زمینی سٹیشن کو ارسال کیں۔ یہ COMET اب دوبارہ ان شاء اﷲ سورج کے قریب 29 اپریل 2061ء کو گزرے گا۔ الکنس میں چھپنے کا مفہوم بھی پایا جاتا ہے صاحب المحیط رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں : الکنس هی الخنس لانها تکنس فی المغيب. ’’الکنس،، کا معنی چھپنا اور گم جانا ہے۔ وجہ تسمیہ یہ ہے کہ وہ (Comet) کسی نادیدہ مقام کی وسعتوں میں کھو جاتا ہے۔ (القاموس المحيط، 2 : 256) مزید برآں کچھ چھوٹے چھوٹے اجرام فلکی اور بھی ہیں جو METEORS کہلاتے ہیں۔ وہ بھی سورج کے گرد چکر لگاتے رہتے ہیں۔ کبھی کبھی یہ زمین کی بالائی فضا میں داخل ہوتے ہیں مگر حرارت کی شدت کے باعث جل کر راکھ ہوجاتے ہیں۔ ان کے ٹوٹنے سے جو منتشر چمکتے ہوئے ذرات شعلوں اور چنگاریوں کی صورت میں گرتے ہیں انہیں SHOOTING STARS کہتے ہیں۔ انہی کا ذکر قرآن مجید میں یوں آیا ہے : وَلَقَدْ زَيَّنَّا السَّمَاءَ الدُّنْيَا بِمَصَابِيحَ وَجَعَلْنَاهَا رُجُومًا لِّلشَّيَاطِينِ. اور بے شک ہم نے آسمانِ دنیا کو چراغوں سے مزین کیا ہے اور ان کو شیاطین کے مارنے کا ذریعہ بھی بنایا ہے۔ (الملک، 67 : 5) اندازہ یہ ہے کہ تقریباً دس کروڑ METEORS روزانہ زمین کی بالائی فضا میں داخل ہوتے ہیں۔ کہکشاں کی وسعت کروڑوں کی تعداد میں پائے جانے والے یہ سب چھوٹے بڑے اجرام صرف نظام شمسی کا حصہ ہیں اور سورج عالم افلاک کے کروڑوں ستاروں میں سے ایک اوسط درجے کا ستارہ (STAR) ہے۔ جس کا Diameter (قطر) 1,400,000کلومیٹر ہے۔ سورج ہماری زمین سے 149,600,000 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ روشنی ایک لاکھ چھیاسی ہزار تین سو میل فی سیکنڈ کے حساب سے سفر کرتی ہے۔ اس کے باوجود روشنی کی ایک کرن جو سورج سے نکلتی ہے، زمین تک پہنچنے میں آٹھ منٹ لگا دیتی ہے۔ جیسا کہ ہم نے پہلے عرض کیا کہ جس طرح زمین، نظام شمسی کے بے شمار سیاروں میں سے ایک ہے۔ اسی طرح سورج 15,000,000,000 ستاروں پر مشتمل کہکشاں (Milky Way) میں سے ایک ہے۔ جب کہ اس کہکشاں کی وسعت اور مسافت کااندازہ اس امر سے لگایئے کہ اسی کہکشاں میں سورج کے بعد ہم سے قریب ترین ستارے Proxima Centauri کی روشنی اسی رفتار سے چل کر چار سال سے زائد عرصہ میں ہم تک پہنچتی ہے۔ جو روشنی صرف ایک سیکنڈ میں ایک لاکھ چھیاسی ہزار تین سو میل طے کرتی ہے، وہ ایک سال میں کتنے ارب میل کی مسافت طے کرتی ہوگی! اور پھر چار سال کے عرصے میں طے ہونے والی مسافت کا عالم کیا ہوگا! اسی طرح ہماری کہکشاں کا ایک ستارہ ALTAIR جس کی روشنی زمین تک 1600 سال میں پہنچتی ہے۔ ’’DENEB،، نامی ستارے کی روشنی زمین تک 1500سال میں پہنچتی ہے۔ یہاں تک کہ کچھ ستارے ایسے ہیں جن کی روشنی زمین تک کئی ہزار سال بعد پہنچتی ہے۔ بلکہ اس وقت تک کی تحقیقات کے مطابق اس کائنات میں ایسے ستارے بھی موجود ہیں جن کی روشنی کے زمین تک پہنچنے کا کل عرصہ پچاس ارب سال بنتا ہے۔ صرف ہماری کہکشاں کی لمبائی اس قدر ہے کہ اس کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک روشنی ایک لاکھ سال کے عرصے میں پہنچتی ہے اوراسکی موٹائی کے رخ کا فاصلہ دس ہزار سال کے عرصے میں طے کرتی ہے۔ یہ وسعت تو صرف اس کہکشاں Milky Way کی ہے جس میں ہماری زمین واقع ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس جیسی کئی کروڑ کہکشائیں (GALAXIES) عالم افلاک میں موجود ہیں۔ امریکہ کی National Optical Astronomy Observations کی تحقیق کے مطابق تقریباً 400 کہکشائیں (Galaxies) توآپس میں ہی منسلک نظر آتی ہیں۔ باقی کہکشاؤں کے سلسلوں کا کیا حال ہے اور یہ سارا عالم افلاک جس کی کل وسعت اور مسافت کااندازہ انسان اپنی تصوراتی قوت سے بھی نہیں کرسکتا، پہلے آسمان یعنی سماء الدنیا سے نیچے واقع ہے۔ لہذا یہ سب صرف پہلے آسمان کے نیچے وسعتوں کا عالم ہے، خدا جانے اس سے اوپر کی وسعتوں کا کیا حال ہے۔ اسی طرح دوسرے، تیسرے، چوتھے اور بالآخر ساتویں آسمان تک کی کائنات کس قدر وسیع ہے۔ اس کے بعد عرش اور مافوق العرش کی وسعتوں کا عالم کیا ہوگا! یہ ساری تفصیل اس لئے عرض کی گئی تاکہ اس کی روشنی میں اتنی بات سمجھی جاسکے کہ مختلف سیاروں، ستاروں، کہکشاؤں اور نظام ہائے نجوم کی آئے دن دریافت ہونے والی نئی سے نئی تقسیمات اور تحقیقات کو سات آسمانوں کی حقیقت قرار نہیں دیا جاسکتا۔ سائنس ابھی تک آسمان دنیا کی کہکشاؤں اور ستاروں کی تلاش میں سرگرداں ہے۔ وہ تو صرف اس معلوم عالم افلاک کی جملہ حقیقتوں کا احاطہ بھی نہیں کرسکی جب کہ سبع سماوات کی حقیقت اس سے کہیں بلند ہے۔ ممکن ہے آئندہ زمانوں کی سائنسی تحقیق اس عالم بالا کے وجود کا کوئی نشان پا سکے۔ اس کی حقیقت و ماہیت اور اس کی تقسیم کا جو کہ سات طبقات پر مشتمل ہے کوئی مزید سراغ پا سکے۔ کیونکہ انسان کا آسمانوں تک پہنچنا اور ان کی حقیقت کی خبر پانا شریعت کی رو سے نہ تو ناممکن ہے اورنہ ہی اس میں کوئی امر مانع ہے۔ یہاں تک کہ اصول فقہ کی بعض کتابوں میں یہ تصریح ملتی ہے کہ اگر کوئی شخص آسمان پر جانے کی قسم کھالے تو اس کی قسم منعقد ہوجائے گی کیونکہ آسمان پر جانا ممکنات میں سے ہے۔ اس سے اس بات کی طرف بھی رہنمائی ملتی ہے کہ اسلامی تحقیقات پر مشتمل سینکڑوں ہزاروں سال پرانے لٹریچر میں بھی آسمان کی وسعتوں میں سفر کو ممکن سمجھا جاتا تھا۔ مذکورہ بالا ساری تفصیل فقط عالم طبیعی سے متعلق ہے جبکہ مابعد الطبیعی عالم کا تو سائنس ادراک بھی نہیں کرسکتی۔ قرآن مجید میں عالم طبیعی کی تقسیم ان تین حصوں میں کی گئی ہے : 1۔ آسمانی کائنات (HEAVENS) 2۔ زمینی کائنات (EARTH) 3۔ فضائی کائنات (SPACE) ارشاد ربانی ہے : ألَّذِيْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَيْنَهمَا فِيْ سِتَّةِ أيَّامٍ ثُمَّ اسْتَویٰ عَلٰی الْعَرْشِ. (وہی ہے) جس نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان دونوں میں ہے چھ دن میں پیدا کیا۔ پھر (اپنے) عرش (قدرت و حکمت) پر قائم ہوا۔ (الفرقان، 25 : 59) اس وقت سائنس اپنی تحقیق کے فضائی دور (Age of space) میں داخل ہوچکی ہے تاہم اس کی تمام تر وسعتوں کا مکمل اندازہ تاحال سائنس نہیں لگا سکی۔ قرآن مجید کے الفاظ وَمَا بَيْنَھُمَا آسمان اور زمین کی درمیانی کائنات یعنی Space اور Intermediary creation کی واضح نشاندہی کر رہے ہیں۔ انسانی علم تو ابھی تک فقط عالم طبیعی کے تیسرے حصے Space کی وسعتوں کے اندازے میں گم ہے، جبکہ آسمانی کائنات اس سے کہیں زیادہ وسیع و عریض ہے۔ پھر اس کے اختتام پر مابعدالطبیعی عالم یعنی کائنات عرش اور مافوق العرش کا آغاز ہوتا ہے۔ جہاں باری تعالی کا مقام استوار ہے اور یہ سب کچھ العالمین کا مصداق ہے۔ اس عالم طبیعی کی تخلیق کے چھ دن میں کیے جانے کا مفہوم معروف معنوں میں ہرگز چھ دن نہیں کیونکہ اس وقت تو سورج اور رات دن کی تخلیق بھی عمل میں نہیں آئی تھی اور معروف دنوں کی تقسیم کا سلسلہ سورج کی تخلیق کے بعد ہی شروع ہوا۔ لہذا 6 دنوں سے مراد تخلیق کے 6 ادوار ہیں جن میں کائناتی تخلیق کا نظام ارتقائی مرحلے طے کرکے یہاں تک پہنچا ہے۔

لفظ رب کی علمی تحقیق

2017-06-15 17:46:35 

لفظ رب کی علمی تحقیق یہ لفظ سورہ فاتحہ میں ذات باری تعالیٰ کی پہلی صفت کے طور پر استعمال ہوا ہے، جس کے معنی مربی اور مالک کے ہیں۔ فاتحۃ الکتاب میں باری تعالیٰ کی شان الوہیت پر دلالت کرنے والے پہلے صفاتی نام کی حیثیت سے اس کے معنی و مفہوم کو مختلف جہتوں سے سمجھنا اس لیے بھی ضروری ہے کہ اس کے اندر مضمر اعلان ربوبیت درحقیقت توحید الٰہی کا سب سے کامل اور بین ثبوت ہے۔ کیونکہ دور جاہلیت کے کفار و مشرکین کی طرح انسانی زندگی میں شرک، تصور خالقیت کی راہ سے کم اور تصورِ ربوبیت کی راہ سے زیادہ داخل ہوا ہے۔ یہ امر ثابت اور مسلّم ہے کہ کفار و مشرکین عرب اللہ تعالیٰ کو نام خواہ کچھ بھی دیتے ہوں، اسے رب الارباب ضرور مانتے تھے۔ کائنات میں اس کی مطلق بڑائی سے کسی کو انکار نہ تھا۔ مسئلہ صرف یہ تھا کہ وہ اس بالادست ہستی کے نیچے کئی رب اور بھی مانتے تھے اور اسی عقیدے نے ان کی جبینوں کو متعدد خداؤں کی پرستش کے لیے جھکا دیا تھا۔ ربوبیت میں اس تصور شراکت نے عقیدہ توحید کے خالص اور نکھرے ہوئے چہرے کو ان کی نظروں سے اوجھل کردیا تھا۔ بنا بریں ہم لفظ رب کے معنی کا جائزہ علمی و عملی ہر دوگوشوں سے لینا چاہتے ہیں تاکہ اس کے حقیقی مفہوم اور تصور کی معرفت حاصل ہوسکے۔ اس کی مختصر تحقیق یہ ہے کہ یہ لفظ تربیت کے معنی میں اصلاً مصدر ہے مگر اس کا اطلاق و صفاً فائل کے معنی میں ہوتا ہے۔ جیسے عادل کے لیے مبالغۃ عدل کا اور صائم کے لیے صوم کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔ جس کا مفاد یہ ہے کہ فی الحقیقت رب صرف مربی کو نہیں بلکہ نہایت ہی کامل مربی کو کہا جاسکتا ہے۔ صاف ظاہر ہے کہ جو خود ہر جہت سے کامل ہو وہی دوسرے کی کامل تربیت کرنے کا اہل ہوسکتا ہے۔ اس لیے تربیت کی تعریف ان الفاظ میں کی گئی ہے : التربية هی تبليغ الشئي الي کماله شيا فشيا. تربیت سے مراد کسی چیز کو درجہ بدرجہ اس کے کمال تک پہنچانا ہے۔ (تفسيرأبی السعود، 1 : 13) بعض اہل علم کے نزدیک لفظ رب، مربی کے معنی میں خود نعت ہے۔ (جیسے نعمَّ۔ ینمّ۔ فھونمٌّ، ربّ، یربّ، فھو ربٌّ) لیکن دونوں صورتوں میں اصل مفہوم اور اس کی دلالت ایک ہی رہتی ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اصل میں یہ لفظ راب تھا جس کی درمیانی الف حذف کردی گئی اور رجل بار سے رجل بر کی طرح راب سے لفظ رب رہ گیا۔ جیسا کہ ابوحیان کا قول ہے۔ بعض نے اسے مبالغہ پر اسم فاعل بھی قرار دیا ہے اور بعض نے صفت مشبہ کیونکہ وہ بسا اوقات فاعل کی صورت میں بھی پائی جاتی ہے مثلاً الخالق، المنعم اور الصاحب وغیرہ ہیں۔ تربیت اور ملکیت ائمہ تفسیر نے بالعموم رب کے معنی میں دو صفات کو شامل کیا ہے۔ ان دونوں کی اپنی اپنی جگہ معنوی حکمت و افادیت معلوم ہونی چاہئیے۔ تربیت : اس کی تعریف سے واضح ہے کہ یہ دو شرائط کا تقاضا کرتی ہے : i۔ تکمیل ii۔ تدریج تربیت کی مختصر تعریف ان الفاظ میں کی گئی ہے : هوالتبليغ الي الکمال تدريجاً. یہ کسی شے کو تدریجا کمال تک پہنچانے کا نام ہے۔ امام راغب اصفہانی رحمۃ اللہ علیہ نے اس مفہوم کو نہایت بلیغ انداز میں واضح کیاہے۔ وہ فرماتے ہیں : الرب في الاصل التربيه و هو انشاء الشيء حالا فحالًا اليٰ حد التمام. لفظ رب اصلاً تربیت کے معنی میں ہے اور اس سے مراد کسی چیز کو درجہ بدرجہ مختلف احوال میں سے گزارتے ہوئے آخری کمال کی حد تک پہنچا دینا ہے۔ (المفردات : 184) کمال سے یہاں مراد ہے ما یتم بہ الشیء فی صفاتہ یعنی یہ کسی چیز کی وہ حالت ہوتی ہے جہاں وہ اپنی جملہ صفات کے اعتبار سے انتہا کو پہنچ جائے۔ ان توضیحات سے معلوم ہوا کہ اگر تربیت پانے والا اپنے کمال یعنی صفاتی انتہا کو نہ پہنچے، تب بھی تربیت نامکمل رہی، اور اگر اس نے جملہ تدریجی اور ارتقائی مراحل طے نہ کیے ہوں تب بھی تربیت کامل نہ ہوئی۔ لہذا نظام تربیت کا کمال یہ ہے کہ مربوب (تربیت پانے والا) تدریجی اور ارتقائی منزلوں میں سے گزرتا ہوا اپنی صفات کی آخری حد کو پالے۔ اس تصور تربیت سے مزید دو باتوں پر روشنی پڑتی ہے : 1۔ حفاظت و کفالت اور ملکیت و قدرت 2۔ ارتقاء میں تسلسل اور استمرار حقیقی تکمیل اس وقت تک ممکن نہیں جب تک مربوب کی تمام ضرورتوں کی صحیح کفالت اور اس کے جملہ مفادات کی صحیح حفاظت نہ ہو۔ اگر کسی بھی جہت سے مربوب کی کفالت یا حفاظت میں کوئی کمی رہ جائے تو اس کی تکمیل نا ممکن ہوجاتی ہے۔ اور کفالت و حفاظت کی جملہ شرائط اس وقت تک پوری نہیں ہوسکتیں جب تک وہ شے کاملا ً مربی کے قبضہ و تصرف میں نہ ہو۔ اگر مربی بلا شرکت غیرے اپنے مربوب کا مالک ہو اور بحیثیت مالک اسے اپنے مربوب کے تمام معاملات میں مکمل تصرف اور قدرت حاصل ہو تو تبھی وہ بتمام و کمال کفالت و حفاظت کی ذمہ داری پوری کرسکتا ہے، جس کے نتیجے میں ا س کا کامل مربی ہونا واقعہ بن سکے گا اور اس کی تربیت حقیقی تربیت قرار پائے گی۔ اس لیے لفظ رب اس الوہی شان کی نشاندہی کرتا ہے کہ وہ کامل مربی و مالک ہے۔ وہی قادر اور جمیع امور میں حقیقی متصرف ہے۔ اس کی شان ربوبیت میں کوئی شریک ہے نہ دخیل۔ اس لیے اس کا رب ہونا علی الاطلاق ہے جبکہ اس عالم اسباب میں کئی افراد جو ایک دوسرے کے مربی ہوتے ہیں، انہیں جب مجازا رب کہا جاتا ہے تو ہمیشہ اضافت کی شرط کے ساتھ کہا جاتا ہے۔ مثلاً گھر اور گھوڑے کے مالک کو مجازا ً رب الدار او ر رب الفرس کہا جاتا ہے۔ اسی طرح حضرت یوسف علیہ السلام قید خانے میں ایک شخص سے بادشاہ مصر کے بارے میں فرماتے ہیں : اذْكُرْنِي عِندَ رَبِّكَ فَأَنسَاهُ الشَّيْطَانُ ذِكْرَ رَبِّهِ. اپنے بادشاہ کے پاس میرا ذکر کردینا (شاہد اسے یاد آجائے) کہ ایک اور بے گناہ بھی قید میں ہے) مگر شیطان نے اسے اپنے بادشاہ کے پاس (وہ) ذکر کرنا بھلا دیا۔ (يوسف، 12 : 42) اسی طرح آپ ایلچی کو فرماتے ہیں : ارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ فَاسْأَلْهُ مَا بَالُ النِّسْوَةِ اللاَّتِي قَطَّعْنَ أَيْدِيَهُنَّ. اپنے بادشاہ کے پاس لوٹ جا اور اس سے (یہ) پوچھ (کہ) ان عورتوں کا (اب) کیا حال ہے جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ ڈالے تھے۔ (يوسف، 12 : 50) اسی طرح والدین کی نسبت بارگاہ ایزدی میں اس دعا کی تلقین فرمائی گئی ہے : وَقُل رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًاO اور (اللہ کے حضور) عرض کرتے رہو اے میرے رب ! ان دونوں پر رحم فرما جیسا کہ انہوں نے بچپن میں مجھے (رحمت و شفقت سے) پالا تھا۔ (بني اسرائيل، 17 : 24) یہاں بھی رَبَّیٰنِی کا فعل رب مصدر سے والدین کے حق میں مجازاً استعمال کیا گیا ہے۔ الغرض جہاں بھی رب بطور مصدر یا کسی فرد کے لیے مجازاً استعمال ہوگا کسی نہ کسی اضافت کے ساتھ ہوگا۔ مطلقاً اس کا استعمال صرف اللہ تعالی کے لیے ہے کیونکہ حقیقی مربی اور مالک مطلق وہی ذات ہے اور اسی کی ملکیت و پرورش ساری کائنات کے لیے علی الاطلاق ہے۔ اس لیے وہی اکیلا قادر مطلق اور مسبب الاسباب ہے۔ اگر اس کی اس شان ربوبیت میں کوئی اور شریک ہوتا تو نظام کائنات اس حسن تدبیر کے ساتھ کبھی نہ چل سکتا۔ جیسا کہ خود قرآن اعلان فرماتا ہے : لَوْ كَانَ فِيهِمَا آلِهَةٌ إِلَّا اللَّهُ لَفَسَدَتَا. اگران دونوں (زمین و آسمان) میں اللہ کے سوا اور (بھی) معبود ہوتے تو یہ دونوں تباہ ہوجاتے۔ (الانبياء، 21 : 22) بنا بریں بعض مفسرین نے رب کا اطلاق مالک، نگران، مربی، مدبر، منعم، مصلح اور معبود کے معانی پر کیا ہے۔ اور بطور خاص حفظ اور ملک کو معنی ربوبیت کا لازمی حصہ تصور کیا ہے۔ دوسری بات جو معنی تربیت میں شامل ہے وہ تکمیل کے سلسلے میں تدریج و ارتقاء کا تسلسل اور استمرار ہے۔ تدریج باب تفعیل کے خواص میں سے ہے اور تدریج و ارتقاء کی صحت اس کے تسلسل اور استمرار پر منحصر ہوتی ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ کمال کی طرف بڑھنے کا سلسلہ رفتہ رفتہ اور درجہ بدرجہ کسی مرحلے پر رکے بغیر جاری رہے تو تدریج کی صحت اور فوائد برقرار رہتے ہیں اور اگر درمیان میں انقطاع اور عدم تسلسل آجائے تو تکمیل متاثر ہوجاتی ہے۔ نظام ربوبیت اور تصور ارتقاء پر باقاعدہ گفتگو تو ذرا آگے چل کر ہوگی لیکن یہاں اسی قدر سمجھ لینا ضروری ہے کہ رب کے نظام پرورش میں تدریج و ارتقاء بھی ہے اور تسلسل و استمرار بھی۔ جیسا کہ قرآن مجید میں واضح فرمایا گیا ہے : يَا أَيُّهَا الْإِنسَانُ مَا غَرَّكَ بِرَبِّكَ الْكَرِيمِO الَّذِي خَلَقَكَ فَسَوَّاكَ فَعَدَلَكَO فِي أَيِّ صُورَةٍ مَّا شَاءَ رَكَّبَكَO اے انسان تجھے کس چیز نے اپنے رب کریم کے بارے میں دھوکے میں ڈال دیا؟ جس نے تجھے پیدا کیا، پھر اس نے تجھے درست اور سیدھا کیا، پھر وہ تیری ساخت میں متناسب تبدیلی لایا جس صورت میں بھی چاہا اس نے تجھے ترکیب دے دیا۔ (الانفطار، 82 : 6، 7، 8) اس آیت میں باری تعالیٰ نے اپنا ذکر شان ربوبیت سے فرمایا ہے اورساتھ ہی انسانی شخصیت کی جسمانی تکمیل کے سلسلے میں تدریج اور تسلسل کو بیان کیا ہے جس سے مذکورہ بالا تصور کو اجمالی تائید میسر آجاتی ہے اور لفظ رب کی اس معنوی خصوصیت کو سمجھنے میں کافی مدد ملتی ہے۔ ربوبیت اور اعانت میں فرق اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات اقدس کو قرآن مجید میں کم و بیش نو سو اڑسٹھ (968) مرتبہ شان ربوبیت کے ذریعے بصراحت متعارف کرایا ہے۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کی یہ شان مخلوقات عالم کے ہر وجود کو اپنے فیض سے نواز رہی ہے۔ فیضیاب تو کئی صورتوں میں لوگ ایک دوسرے سے ہوتے رہتے ہیں۔ مثلاً کوئی پیاسے کو پانی پلاتا ہے، کوئی بھوکے کو کھانا کھلاتا ہے، کوئی محتاج کی مالی اعانت کرتا ہے، کوئی کمزور کا سہارا بنتا ہے، یہ ساری نفع بخشیاں اور فیض رسانیاں ایک دوسرے کی امداد و اعانت کی مختلف صورتیں اور احسان و انعام کی مختلف شکلیں ضرور ہیں مگر ربوببیت کے عنوان میں نہیں آسکتیں، کیونکہ ربوبیت سے مراد کسی کی پرورش کرنا اور پالنا ہے۔ مذکورہ بالا سب صورتیں اپنی نوعیت اور دائرہ کار کے لحاظ سے دو جہتی یاسہ جہتی اعانتیں ہیں، مگر ربوبیت ہمہ گیر و ہمہ جہت شے ہے۔ مزید یہ کہ دوسری تمام اعانتیں ہنگامی اور وقتی ہوسکتی ہیں مگر ربوبیت ایک مستقل اور مسلسل عمل ہے جو کبھی بھی منقطع نہیں ہوسکتا۔ وہ ہر حال میں ہر لحظہ جملہ سمتوں میں جاری رہتا ہے۔ عام اعانتوں احسانات و انعامات سے ضرورت مندوں کی ایک دو ضرورتوں اور حاجتوں کی تکمیل کا سامان ہوتا ہے۔ لیکن انسانی وجود کو اپنی پیدائش سے پہلے بطن مادر کے دور سے لے کر عالم شباب کو پہنچنے اور اس کے بعد ضعف و پیری کے مرحلوں میں سے گزرنے کے لیے ہر زمانے میں جو جو حاجت اور ضرورت ہوتی ہے ربوبیت اس کی کفیل ہوتی ہے۔ پھر حاجت و ضرورت کی تکمیل کے لیے عالم داخل اور عالم خارج میں جیسے جیسے حالات، تقاضے، تغیرات، عواطف و میلانات اور احوال و کیفیات درکار ہوتی ہیں ربوبیت انہیں بغیر کسی مطالبے بغیر کسی تاخیر کے از خود مہیا کرتی رہتی ہے۔ پس معلوم ہوا کہ یہ خوبی کسی ایسی ذات میں ہوسکتی ہے جو ہر وجود پر ابتداء سے انتہاء تک اپنے علم و قدرت کے ساتھ حاوی اور محیط ہو، اس کی مالک اور نگہبان ہو۔ اس کی ہر حالت اور ضرورت سے ہر وقت اچھی طرح واقف اور اس پر نہایت شفیق اور مہربان ہو۔ ہر قسم کی مدد واعانت پر مکمل طور پر قادر اور خود ہر حاجت و ضرورت سے کلیتہً بے نیا ز ہو اور تمام امور میں حقیقی متصرف اور مدبر ہو۔ یہ تمام خوبیاں چونکہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور میں نہیں ہوسکتی تھیں، اس لیے اس نے الحمدللہ فرما کر حقیقتاً خود کو مستحق حمد ٹھہرایا اور استحقاق حمد کی دلیل اپنی ربوبیت کو قرار دیا جو فی الحقیقت صرف اسی کی شان ہے جیسا کہ ارشاد فرمایا گیا ہے : قُلْ أَغَيْرَ اللّهِ أَبْغِي رَبًّا وَهُوَ رَبُّ كُلِّ شَيْءٍ فرما دیجئے کیا میں اللہ کے سوا کوئی دوسرا رب تلاش کروں حالانکہ وہ ہر شے کا پروردگار ہے۔ (الانعام، 6 : 164) العالمین کا مفہوم باری تعالیٰ نے اپنی صفت ربوبیت کی اضافت و نسبت اس لفظ کے ساتھ کی ہے۔ اس لئے یہ جاننا انتہائی ضروری ہوجاتا ہے کہ العالمین سے کیا مراد ہے؟ عالمین، عالم کی جمع ہے۔ یہ اسم جنس ہے اور خود بھی جمع ہے مگر اس کا واحد کوئی نہیں، جیسے لفظ الناس جمع ہے مگر اس کا واحد کوئی نہیں۔ یہ ’’ع، ل، م،، سے مشتق ہے اور اسم آلہ ہے۔ اس کی مختصر ترین تعریف ان الفاظ میں کی گئی ہے : العالم اسم لما يعلم به. عالم وہ اسم ہے جس سے کسی کو جانا اور پہچانا جائے۔ (تفسير ابي السعود، 1 : 13) (تفسير روائع البيان، 1 : 24) گویا عالم وسیلہ علم ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ کس کو جاننے کا وسیلہ اور ذریعہ ہے۔ اس کا مختصر جواب اس تعریف میں مضمر ہے : انه من العلامة و هو يقوي قول أهل النظر فکأنه انما سمي عندهم بذالک لأنه دالٌّ علي وجود الخالق. ’’عالم،، کے علامت سے (مشتق) ہونے کی وجہ سے اہل نظر کا یہ قول برحق ثابت ہوتا ہے کہ اسے ’’عالم،، کہنے کی وجہ یہ ہے کہ وہ اپنے خالق کے وجود پر دلالت کرتا ہے۔ (تفسير زاد المسير، 1 : 12) واضح رہے کہ کسی کو معلوم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ وہ پہلے سے موجود ہو۔ موجود کی دو اقسام ہیں : 1۔ واجب الوجود 2۔ ممکن الوجود۔ واجب الوجود تو فقط باری تعالیٰ ہے اور ممکن الوجود اس کے سوا سب کچھ ہے۔ جوذات واجب الوجود ہے وہ ہمارے حواس و مشاہدات، عقلی ادراکات حتی کہ قلبی لطائف و اکتشافات سے بھی ماوراء ہے۔ اس کی حقیقت انسان کی ہر سطح کی نفسی استعداد کے حیطۂ ادارک سے بلند ہے۔ وہ موجود ہے لیکن غیر مرئی اور غیر محسوس۔ اس لیے اسے جاننے کے لیے کوئی ذریعہ اور وسیلہ چاہئیے۔ چنانچہ اس نے اپنی معرفت کے ذریعے اور وسیلے کے طور پر پوری کائنات کو تخلیق کیا، یہ کائنات ممکن الوجود ہے مگر واجب الوجود پر دلالت کر تی ہے، جو خود حادث ہے مگر قدیم پر دلالت کرتی ہے، جو خود عارضی مگر دائمی پر دلالت کرتی ہے، جو خود متغیر ہے مگر غیر متغیر پر دلالت کرتی ہے، جو خود اضافی ہے مگر حقیقی پر دلالت کرتی ہے، جو خود محدود و متناہی ہے مگر غیر محدود اور لا متناہی پر دلالت کرتی ہے۔ الغرض کائنات پس و بالا کے وجود کا ہر ذرہ اور اس کے نظام کا ہر گوشہ اپنے خالق و منتظم کی نشاندہی کرتا ہے۔ عالم ذریعہ علم ہے اور وہ ذات حق خود مقصود علم۔ حق یہ ہے کہ یہاں العالمین کا معنوی اطلاق اﷲ کی مخلوق کی کسی خاص نوع یا صنف سے مختص نہیں بلکہ جملہ مخلوقات کی تمام انواع و اصناف اور افراد و اجزاء کو شامل ہے۔ اس کائنات ہست و بود میں جس شے کی بھی دلالت ذات حق اور اس کی ربوبیت پر موجود ہے، وہ العالمین میں داخل ہے۔ کیونکہ اس کا وجود اس کے صانع کے وجود کی دلیل ہے اور یہی مفہوم عالم ہے۔ امام راغب اصفہانی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں : العالم آلة في الدلالة علي صانعه. عالم اپنے بنانے والے کے وجود کے لیے آلہ دلالت ہے۔ (المفردات، 344) اسی قبیل سے علم ہے جس کے معنی جھنڈے کے ہیں۔ وہ بھی کسی ملک جماعت، عمارت، دفتر، شخصیت یا لشکر کی علامت ہوتا ہے۔ ا ندھیری رات میں اگر کہیں دیا جل رہا ہو جو وہاں کسی انسان کی موجودگی کا پتہ دے تو اسے بھی علم کہا جائے گا۔ اس لیے ارشاد فرمایا گیا : سَنُرِيهِمْ آيَاتِنَا فِي الْآفَاقِ وَفِي أَنفُسِهِمْ حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُ الْحَقُّ ہم عنقریب ان کو دنیا میں اور خود ان کی ذات میں اپنی (قدرت و حکمت کی) نشانیاں دکھائیں گے یہاں تک کہ ان پر کھل جائے گا کہ یہ (قرآن) حق ہے۔ (حم السجدة، 41 : 53) مزید ارشاد فرمایا گیا ہے : أَوَلَمْ يَنظُرُواْ فِي مَلَكُوتِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا خَلَقَ اللّهُ مِن شَيْءٍ. کیا انہوں نے آسمانوں اور زمین کی بادشاہت میں اور (علاوہ ان کے) جو کوئی چیز بھی اللہ نے پیدا فرمائی ہے (اس میں) نگاہ نہیں ڈالی۔ (الاعراف، 7 : 185) ایک اور مقام پر آسمان و زمین کی ساری کائنات کی ذات حق پر شان دلالت کا ذکر یوں کیا گیا ہے : إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلاَفِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَآيَاتٍ لِّأُوْلِي الْأَلْبَابِO الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللّهَ قِيَامًا وَقُعُودًا وَعَلَى جُنُوبِهِمْ وَيَتَفَكَّرُونَ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذَا بَاطِلاً. بے شک آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں اور شب و روز کی گردش میں عقل سلیم والوں کے لئے (اللہ کی قدرت کی) نشانیاں ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو (سراپا نیاز بن کر) کھڑے اور (سراپا ادب بن کر) بیٹھے اور (ہجر میں تڑپتے ہوئے) اپنی کروڑوں پر (بھی) اللہ کو یاد کرتے رہتے ہیں۔ (آل عمران، 3 : 190، 191) جب یہ امر بالکل واضح ہے کہ کائنات ارض و سماء کی ہر شے اور مخلوقات و موجودات کا ہر فرد، وجود الٰہی، اس کی شان خلاقیت اور صفت ربوبیت کی دلیل و علامت ہے تو اس میں سے کسی بھی حصے کو اس جگہ عالمین کے دائرہ اطلاق سے خارج تصور کرنا مناسب معلوم نہیں ہوتا۔ قرآن مجید خود بھی ایک مقام پر اس معنی کی تصریح ان الفاظ میں کرتا ہے : قَالَ فِرْعَوْنُ وَمَا رَبُّ الْعَالَمِينَO قَالَ رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا إن كُنتُم مُّوقِنِينَO فرعون بولا اور پروردگار عالم کی حقیقت کیا ہے؟ (یعنی وہ ہے کیا) فرمایا (وہ) آسمانوں اور زمین کا پروردگار ہے اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے اگر تم لوگ یقین کرو۔ (الشعراء، 26 : 23، 24) یہاں قرآن مجید نے رب العالمین کی وضاحت میں خود ساری کائنات پست و بالا اور اس کے جملہ موجودات کو بیان کردیا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس قرآنی تصریح کے بعد رب العالمین کے مفہوم کو اس مقام پر صرف جن و انس یا بعض دیگر انواع خلق پر محصور و محدود کرنے کی کوئی خاص وجہ نہیں رہ جاتی۔ مذکورہ بالا آیت میں آسمانی اور زمینی کائنات اور اس کے جملہ موجودات کو العالمین میں شمار کر کے فرمایا گیا ہے ان کنتم مؤقنین یعنی اگر تم صاحب ایقان ہو۔ ایقان اس علم صحیح کو کہتے ہیں جو استدلال سے حاصل ہو۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کی شان میں موقن نہیں کہا جاتا بلکہ موقن مخلوق ہی ہوسکتی ہے کیونکہ وہ موجودات عالم اور ان کے نظام ہائے گوناگوں سے ان کے خالق و صانع پر استدلال کرتی اور اس کی ہستی پر یقین حاصل کرتی ہے۔ جیسا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لیے فرمایا گیا : وَكَذَلِكَ نُرِي إِبْرَاهِيمَ مَلَكُوتَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَلِيَكُونَ مِنَ الْمُوقِنِينَO اور اسی طرح ہم نے ابراہیم علیہ السلام کو آسمانوں اور زمین کی تمام بادشاہتیں (یعنی عجائبات خلق) دکھائیں اور (یہ) اس لیے کہ وہ وعین الیقین والوں میں ہوجائے۔ (الانعام، 6 : 75) یہاں بھی زمین و آسمان کی ساری کائنات اور عوالم ارض و سماء کے تمام موجودات کے مشاہدے کو بنائے ایقان قرار دیا گیا ہے۔ جس سے باری تعالیٰ کی ربوبیت مطلقہ پر دلالت میسر آتی ہے۔ اس لیے رب العالمین میں العالمین کا مفہوم اور دائرہ صرف عالم انسانیت یا عالم جن و انس تک ہی مختص تصور نہیں کیا جانا چاہئیے، جیسا کہ بعض مترجمین اور مفسرین نے کیا ہے، بلکہ اس مقام پر اس لفظ کی معنوی وسعت میں جملہ عوالم اور ان کے موجودات کو شامل تصور کیا جانا ضروری ہے۔ درست ہے کہ قرآن مجید میں العالمین کا لفظ ہر جگہ اسی معنوی وسعت کے حوالے سے استعمال نہیں ہوا بلکہ مختلف وجوہ پر وارد ہوا ہے۔ مثلاً سورۃ البقرہ اورسورۃ الجاثیہ میں ’’أَنِّي فَضَّلْتُكُمْ عَلَى الْعَالَمِينَ،، اور سورۃالدخان میں وَلَقَدِ اخْتَرْنَاهُمْ عَلَى عِلْمٍ عَلَى الْعَالَمِينَ کا اطلاق ایک مخصوص زمانے کی اقوام پر ہے۔ اسی طرح سورۃآل عمران میں وَاصْطَفَاكِ عَلَى نِسَاءِ الْعَالَمِينَ کا اطلاق ہے۔بَارَكْنَا فِيهَا لِلْعَالَمِينَ میں العالمین کا اطلاق جمیع اولاد آدم پر ہے۔ سَلَامٌ عَلَى نُوحٍ فِي الْعَالَمِينَ میں اطلاق اہل کتاب (یہود و نصاریٰ) پر ہے۔ وَلَـكِنَّ اللّهَ ذُو فَضْلٍ عَلَى الْعَالَمِينَ میں اطلاق جمیع اہل ایمان پر ہے۔ أَوَلَيْسَ اللَّهُ بِأَعْلَمَ بِمَا فِي صُدُورِ الْعَالَمِينَ میں اطلاق قوم منافقین پر ہے۔ الغرض ہر جگہ اس لفظ کے دائرہ اطلاق کا اندازہ خود ان آیات کے سیاق و سباق سے ہو جاتا ہے۔ قاعدہ یہ ہے کہ جب بھی کوئی لفظ اپنے اصل اطلاق اور انطباق کی وسعت سے ہٹ کر کسی خاص دائرے میں استعمال ہوتا ہے تو اس کے لیے واضح قرینہ موجود ہوتا ہے اور جہاں ایسا خاص قرینہ موجود نہ ہو وہاں اسے اپنے اصل مفہوم کی وسعت پر ہی قائم رکھا جاتا ہے۔ اس آیت میں چونکہ جملہ حمد کے استحقاق کے لئے باری تعالیٰ نے اپنے العالمین کے رب ہونے کو بطور دلیل پیش فرمایا ہے۔ لہذا کائنات کی جو شے بھی رب کریم کے فیضان ربوبیت سے پروان چڑھ رہی ہے وہ بہر صورت العالمین کے دائرہ اطلاق میں داخل ہوگی۔ رَحمۃٌ للعالمین کے لئے العالمین کا استعمال مذکورہ بالا اصول کا حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات اقدس کے لیے بھی اطلاق ہوتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نسبت سے قرآن مجید میں بھی العالمین کا لفظ دو طرح استعمال ہوا ہے : 1۔ العالمین بمعنی عالم انس و جان۔ 2۔ العالمین بمعنی موجودات کائنات۔ پہلا استعمال لِيَكُونَ لِلْعَالَمِينَ نَذِيرًا۔ (الفرقان : 1) ’’تاکہ وہ دنیا جہان والوں کو (اللہ کی نافرمانی کے عواقب سے) ڈرانے والے ہوں،، یہاں عالمین کی معنوی وسعت، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان نذیریت کے حوالے سے متعین کی جائے گی۔ صاف ظاہر ہے کہ نذیر ہوناصرف اس ذوی العقول مخلوق کے لیے ہی ہوسکتا ہے جو بارگہ ایزدی میں اپنے اعمال پر جوابدہ ہو اور یہ مکلف مخلوق فقط عالم انس و جان کے افراد ہیں۔ اس لیے یہاں عالمین سے مراد تمام انسان اور جنات ہوں گے۔ تمام اقوام عالم بھی اس معنی میں شامل ہیں۔ العالمین کا دوسرا استعمال وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَO ’’(اے رسول محتشم) ہم نے آپ کو نہیں بھیجا مگر تمام جہانوں کے لئے رحمت بنا کر،، (الانبیاء، 21 : 107) کی صورت میں کیا گیا ہے۔ یہاں اس کی معنوی وسعت کا تعین حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان رحمت کے حوالے سے ہوگا۔ یہ امر ثابت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فیضان رحمت سے نہ صرف عالم انس و جان متمتع ہوئے ہیں بلکہ عالم ملائک، عالم ارواح، عالم اجسام، عالم نباتات و جمادات، عالم حیوانات، ذوی العقول، غیرذوی العقول حتی کہ دنیا و آخرت کے جملہ عوالم میں ہر کسی نے رحمت مصطفوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اپنے اپنے حسب حال فیض حاصل کیا ہے، کر رہا ہے اور کرے گا۔ اس لیے کہ رحمت صرف بصورت ہدایت ہی نہیں اور بھی کئی صورتوں میں صادر ہوتی ہے جو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کمالات و معجزات سے تواتر اور صحت کے ساتھ ثابت ہیں۔ اس لیے یہاں العالمین کا دائرہ کائنات ارض و سماء کے جملہ موجودات کو محیط ہے۔ لہذا جہاں العالمین کی معنوی وسعت باری تعالی کی شان ربوبیت کے حوالے سے متعین ہوگی۔ اس کا دائرہ جملہ عوالم و موجودات کو کیوں محیط نہ ہوگا؟ العالمین کی ناقابل تصور وسعت یہ پہلوخاص طور پر قابل توجہ ہے کہ جب انواع خلق کے لحاظ سے ایک عالم پوری کائنات ہے توپھر عالمین کی وسعت کتنے عالموں اور کائناتوں کو محیط ہوگی۔ حضرت وہب رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں۔ اﷲ ثمانية عشر ألف عالم، الدنيا منها عالم واحد. اﷲ تعالیٰ کے تخلیق کردہ اٹھارہ ہزار (18,000) عالم ہیں اور دنیا ان میں سے ایک ہے۔ (الدرالمنثور، 1 : 13) (تفسيرأبي السعود، 1 : 14) حضرت کعب الاحبار فرماتے ہیں : لایحصیٰ عدد العالمین۔ عوالم کی تعداد کا شمار نہیں کیا جاسکتا۔ قرآن مجید میں ہے : وَمَا يَعْلَمُ جُنُودَ رَبِّكَ إِلَّا هُوَ. اور آپ کے پروردگار کے لشکروں کو بجز اس کے کوئی نہیں جانتا۔ (المدثر، 74 : 31) یہاں لشکروں سے مراد مختلف انواع خلق ہیں جو ارض و سماء کی وسعتوں میں جدا جدا عالمین میں موجود ہیں۔ جن کی صحیح تعداد اور حتمی تفصیلات خالق کائنات کے سوا کسی اور کو معلوم نہیں۔ اسی طرح ارشاد فرمایا گیا : وَيَخْلُقُ مَا لاَ تَعْلَمُونَO اور وہ پیدا فرمائے گا جنہیں تم (آج) نہیں جانتے۔ (النحل، 16 : 8) اس آیت کریمہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کا سلسلہ ازل سے جاری ہے اورہمیشہ جاری رہے گا۔ بنابریں اس کے تخلیق کردہ عوالم اس قدر ہیں کہ کسی کو ان کا اندازہ بھی نہیں۔ اس امر کی تائید اس ارشاد سے بھی ہوتی ہے : يَزِيدُ فِي الْخَلْقِ مَا يَشَاءُ. وہ اپنی تخلیق میں جو چاہتا ہے بڑھاتا جاتا ہے۔ (فاطر، 35 : 1) یہ سب مقامات بتاتے ہیں کہ نہ معلوم دن بدن اور لمحہ بہ لمحہ کتنی کائناتیں اور عوالم منصہ خلق پر ظہور پذیر ہورہے ہیں۔ بقول اقبال : یہ کائنات ابھی ناتمام ہے شاید کہ آرہی ہے دما دم صدائے کن فیکون چنانچہ جن علماء نے مختلف عالموں کی تعداد کا ذکر کیا ہے وہ کسی نہ کسی خاص نسبت اور جہت سے کیا ہے : 1۔ اہل علم پر جوں جوں علوم وفنون منکشف ہوتے رہے ہیں وہ اپنی اپنی بساط اور ذوق و فہم کے مطابق عالمین کی اقسام بیان کرتے رہے ہیں۔ کوئی عالم اجسام اور عالم ارواح کی تقسیم اس طور پر بیان کرتا ہے کہ عالم اجسام میں پھر اجسام علویہ اور اجسام سفلیہ کے عوالم ہیں۔ اجسام علویہ میں شمس و قمر دیگر سیارات، افلاک وکواکب، عرش و کرسی، سدرۃ المنتہٰی، لوح و قلم اور جنت وغیرہ کے عالم شامل ہیں۔ اجسام سفلیہ میں کرہ ارض، کرہ ہوا اور کرہ نار ہیں۔ یہ سب اہل فلسفہ کے نزدیک اجسام بسیط کے عالم ہیں اور اجسام مرکبہ میں عالم نباتات، عالم معدنیات، عالم حیوانات وغیرہ شامل ہیں۔ اسی طرح عالم ارواح میں بھی علوی اور سفلی کی تقسیم ہے جن میں ملائکہ اور جن و انس کے عوالم آجاتے ہیں۔ 2۔ بعض اہل علم عالم اکبر اور عالم اصغر کی تقسیم کرتے ہیں۔ عالم اکبر سے مراد ساری خارجی کائنات ہے جس کی وسعتیں زمین وآسمان کو محیط ہیں اور عالم اصغر خود وجود انسانی ہے جو عالم اکبر کی جملہ حقیقتوں کا جامع ہے۔ عالم اکبر جن حقائق کی تفصیل ہے عالم اصغر ان سب کا اجمال ہے بایں طور کائنات عالم مفصل ہے اور انسان عالم مجمل ارشاد باری تعالیٰ ہے : وَفِي الْأَرْضِ آيَاتٌ لِّلْمُوقِنِينَO وَفِي أَنفُسِكُمْ أَفَلَا تُبْصِرُونَO اور (یوں تو) یقین رکھنے والوں کے لئے زمین میں (بے شمار) نشانیاںْ ہیں اور (اے لوگو) خود تمہارے نفسوں میں بھی (اللہ کی قدرت کی نشانیاں ہیں) پھر کیا تم غور نہیں کرتے۔ (الذرايت، 51 : 20، 21) اسی طرح : سَنُرِيهِمْ آيَاتِنَا فِي الْآفَاقِ وَفِي أَنفُسِهِمْ. ہم عنقریب ان کو دنیا میں اور خود ان کی ذات میں (اپنی قدرت و حکمت کی) نشانیاں دکھائیں گے۔ (حم السجدة، 41 : 53) اس آیت میں واضح طور پر عالم انفس اور عالم آفاق کا ذکر ہے۔ دونوں میں فرق یہی ہے کہ جو آیات الہیہ عالم آفاق میں منتشر ہیں وہ سب عالم انسانی میں متجمع ہیں اس لیے کہا گیا ہے : من عرف نفسه فقد عرف ربه. جس نے اپنے نفس کو پہچان لیا پس اس نے اپنے رب کو پہچان لیا۔ (الحاوي للفتاويٰ، 2 : 412) (کشف الخفاء، 2 : 262) کیونکہ عالم انفس میں مخفی حقیقتیں سب رب کریم کی ذات و صفات کا پتہ دیتی ہیں۔ بقول اقبال : اگر خواہی خدا را فاش بینی خودی را فاش تر دیدن بیاموز 3۔ عالمین کی وسعت کا ایک ادنیٰ سا اندازہ وہ بھی ہے جو آج سائنسی انکشافات کے ذریعے حاصل ہورہا ہے۔ اس کا تذکرہ رب العالمین کے الفاظ میں پنہاں ربوبیت الہیہ کی بے کراں وسعتوں کو کسی حد تک اجمالاً سمجھنے میں یقیناً ممد ہوگا۔ ملحص از: لفظ رب العالمین کی علمی اور سائنسی تحقیق ۔۔ڈاکٹر طاہر القادری

فسلسفہ تسمیہ

2017-06-15 17:15:44 

تسمیہ کی ترکیب نحوی اور ایک لطیف نکتہ بسم اللّٰہ الرحمن الرحیم میں ’’حرف باء،، جار ہے، ’’اسم،، مجرور اور مضاف، ’’لفظ اللہ،، مضاف الیہ اور موصوف ہے، لفظ ’’الرحمن الرحیم،، دونوں یکے بعد دیگرے موصوف یعنی اللہ کی صفات ہیں۔ موصوف (اللہ) اپنی دونوں صفات (الرحمن الرحیم) کے ساتھ مل کر اسم کا مضاف الیہ بن گیا اور مضاف (اسم) اپنے مضاف الیہ (اللہ الرحمن الرحیم) سے مل کر جار یعنی ’’حرف باء،، کا مجرور ہو گیا۔ اب اس حرف باء (جار) کا ایک متعلق ہے جو فعل محذوف ہے۔ وہ یہاں أشرع، أبدا يا أقراء وغیرہ ہو سکتا ہے۔ چنانچہ جار و ’’مجرور،، اور ’’فعل محذوف،، جس میں فاعل بھی ہے۔ سب مل کر ’’جملہ فعلیہ خبریہ،، پر منتج ہو گئے۔ اس کی دوسری صورت یہ بھی ہے کہ یہاں فعل محذوف صیغہ امر أبدا يا أقراء کو مانا جائے۔ اس طرح تسمیہ، ’’جملہ فعلیہ انشائیہ،، قرار پائے گا۔ یہاں ایک لطیف نکتہ قابل غور ہے کہ تسمیہ کا ’’جملہ فعلیہ خبریہ یا جملہ فعلیہ انشائیہ،، ہونا فعل محذوف کی نوعیت پر مبنی تھا۔ اگر فعل محذوف کی بجائے زیادہ توجہ حرف باء کے مفہوم اور اس کی نوعیت کے تعین پر کی جائے جیسے کہ بعد میں بیان کیا جائے گا تو تسمیہ کا کلام ہر صورت میں ’’دعائیہ،، قرار پا جاتا ہے کیونکہ یہاں حرف باء تین حالتوں میں سے یقیناً کسی نہ کسی ایک حالت کا حامل ہے اور وہ ہیں۔ ’’الصاق و مصاجت،، ’’استمداد و استعانت،، اور ’’تبرک و تیمن،، لہذا ’’بائ،، مذکورہ بالا میں سے جس حالت پر بھی دلالت کرے۔ کلام تسمیہ ایک ’’دعا،، بن جاتی ہے اور یہی مقصود الٰہی ہے۔ تسمیہ کی شرعی حیثیت : بسم اﷲ الرحمن الرحیم کے الفاظ کو اصطلاح میں ’’تسمیہ،، کہا جاتا ہے۔ یہی تسمیہ ایک آیت کے حصے کے طور پر قرآن حکیم کی سورۃ النمل میں وارد ہوا ہے۔ اس لحاظ سے یہ بالاتفاق حصہ قرآن بھی ہے۔ ارشاد باری تعا لیٰ ہے۔ إِنَّهُ مِن سُلَيْمَانَ وَإِنَّهُ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِO (النمل، 27 : 30) بے شک وہ (خط) سلیمان کی جانب سے (آیا) ہے اور وہ اللہ کے نام سے شروع (کیا گیا) ہے جو بے حد مہربان بڑا رحم فرمانے والا ہےO آئمہ فقہ میں سے شوافع اسے سورۃ الفاتحہ کاجزو قرار دیتے ہیں۔ جب کہ بعض علماء ہر سورت سے پہلے بسم اﷲ وارد ہونے کی بناء پر سوائے سورۃ برات کے اسے ہر سورت کا جزو تسلیم کرتے ہیں۔ ان میں ابن عباس رضی اللہ عنہ، ابن عمر رضی اللہ عنہ، ابن زبیر رضی اللہ عنہ، ابوہریرۃ رضی اللہ عنہ اور تابعین میں سے عطاء رحمۃ اللہ علیہ، طاؤس رحمۃ اللہ علیہ، سعید بن جبیر رحمۃ اللہ علیہ، مکحول رحمۃ اللہ علیہ اور زہری رحمۃ اللہ علیہ و غیرہم کے اسماء بیان کیے جاتے ہیں۔ امام عبداﷲ بن مبارک رحمۃ اللہ علیہ، امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ اور امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ سے بھی ایک قول اسیطرح منقول ہے۔ قول معروف اور مذہب مختار یہ ہے کہ بسم اﷲ قرآن کا حصہ ہے۔ لیکن سورۃ الفاتحہ یا دوسری سورتوں کا جزو نہیں بلکہ ہر سورت سے پہلے اسے محض امتیاز و انفصال اور تیمن و تبرک کے لیے بیان کیا گیا ہے۔ عبداﷲ بن عباس رضی اللہ عنہ سے اسناد صحيح کے ساتھ مروی ہے : کان المسلمون لايعرفون انقضاء السورة، (وفي رواية لايعرفون فصل السورة) حتي تنزل بسم اﷲ الرحمن الرحيم فاذا نزلت عرفوا ان السورة قد انقضت، وفي رواية ان السورة قد ختمت واستقبلت اوابتداء ت سورة اخري. مسلمانوں دو سورتوں کے درمیان فرق و انفصال کا پتہ نہیں چلتا تھا۔ چنانچہ بسم اﷲ الرحمن الرحیم کے نازل ہونے سے ایسی حد فاصل قائم ہوئی کہ لوگوں کو اس کے ذریعے ہرایک سورت کے شروع ہونے یا ختم ہونے اور دوسری کے شروع ہونے کی معرفت حاصل ہوگئی۔ 1. سنن ابی داؤد، 1 : 122، کتاب الصلاة، باب من جهربها، رقم : 788 2. السنن الکبری للبيهقی، 2 : 43 3. المستدرک للحاکم، 1 : 231، 232، رقم 845، 846 مدینہ، بصرہ اور شام کے قراء و فقہاء بھی اسی قول کے موید ہیں کہ ’’ بسم اﷲ،، ’’سورۃ النمل،، میں وارد ہونے کے اعتبار سے ایک مرتبہ تو قرآن کی مستقل آیت ہے۔ لیکن باقی تمام سورتوں سے اس کا ورود محض علامت فصل کے طور پر ہے تاکہ اس کے ذریعے دو متصل سورتوں کے درمیان واضح فرق کا پتہ چل جائے۔ امام ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ، امام مالک رحمۃ اللہ علیہ، امام سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ، امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ، امام اوزاعی رحمۃ اللہ علیہ وغیرہم کا مذہب بھی یہی ہے۔ نماز میں قراتِ تسمیہ کا حکم : تسمیہ کی شرعی حیثیت کے تحت تسمیہ کا سورہ فاتحہ کا حصہ نہ ہونا اس امر سے بھی مترشح ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جہر ی نمازوں میں قرات بالجہر کا آغاز ’’ الحمد ﷲ رب العالمین،، سے کرتے تھے۔ بسم اﷲ کی قرات جہراً نہ فرماتے تھے۔ اس سلسلے میں چند احادیث ملاحظہ ہوں۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے : ان النبی صلی اﷲ عليه وسلم وابابکر و عمر و عثمان کانوا يفتتحون القراة بالحمد ﷲ رب العلمين وزاد مسلم لايذکرون بسم اﷲ الرحمن الرحيم فی اول قرأة ولا فی آخرها سنن دارمی میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ، اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ جہری قرات کا آغاز الحمدﷲ سے فرمایا کرتے تھے صحيح مسلم کے مزید الفاظ یہ ہیں کہ پہلی اور دوسری مرتبہ دونوں قراتوں میں (جہرا) بسم اﷲ نہیں پڑھتے تھے۔ 1. صحيح لمسلم، 1 : 172، کتاب الصلاة، رقم : 52 2. مسند احمد بن حنبل، 3 : 101، 114 3. سنن الدارمی، 1 : 300 مطبوعه، دارالقلم دمشق 4. سنن النساءی، 2 : 97، رقم : 902 سعید بن منصور سنن میں ابووائل رضی اللہ عنہ سے اسناد صحيح کے ساتھ روایت کرتے ہیں۔ کانوا يسرون التعوذ والبسملة فی الصلٰوة. صحابہ کرام نماز میں تعوذ اور تسمیہ آہستہ پڑھتے تھے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ اسنادِ صحيح کے ساتھ روایت کرتے ہیں۔ قال صليت خلف رسول اﷲ صلي اﷲ عليه وسلم وابي بکر وعمر وعثمان (رضي الله عنهم) فلم أسمع أحدا منهم يجهرء بسم اﷲ الرحمن الرحيم. انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، ابوبکر رضی اللہ عنہ، عمر رضی اللہ عنہ اور عثمان رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی ہے۔ میںنے ان میں سے کسی کو بھی جہراً بسم اﷲ پڑھتے نہیں سنا۔ (سنن نسائی، 2 : 99، رقم : 907) آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکی دور میں ابتداًء دوران نماز بسم اﷲ جہراً پڑھتے تھے۔ اس پر مشرکین مکہ استہزاء کرتے کیونکہ وہ ’’مسلیمہ کذاب،، کو رحمن کہتے تھے اور بسم اﷲ الرحمن الرحیم سن کر وہ طعنہ دیتے کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اہل یمامہ کے معبود ’’مسلیمہ کذاب،، کی طرف بلاتے ہیں۔ اس پر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کو بسم اﷲ کی قرأت آہستہ کرنے کا حکم صادر فرمایا۔ حدیث کے الفاظ یہ ہیں۔ فامر رسول اﷲ صلی اﷲ عليه وسلم باخفائها فما جهر بها حتٰی مات. لہذا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم صادر فرمایا کہ بسم اﷲ الرحمن الرحیم پوشیدہ پڑھا کرو، پھر تاوقتِ وفات کبھی نماز میں بسم اﷲ پکار کر نہیں پڑھی۔ (طبرانی) حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ فلما نزلت هذه الاية أمر رسول اﷲ صلی اﷲ عليه وسلم ان لايجهربها. جب آیت بسم اﷲ نازل ہوئی تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ بسم اﷲ بلند آواز سے نہ پڑھی جائے۔ (طبرانی) اسی طرح صحيح بخاری، صحيح مسلم اور طبرانی کے علاوہ مصنف ابن ابی شیبہ، ترمذی، ابوداؤد، نسائی، ابن ماجہ، ابن خزیمہ، اور بیہقی وغیرہ متعدد کتب حدیث میں اس امر کی صراحت موجود ہے کہ تسمیہ کی قرات سورہ فاتحہ یا کسی اور سورت کے حصے کے طور پر نہیں بلکہ الگ حیثیت سے کی جاتی تھی۔ اگر یہ حصہ سورۃ فاتحہ ہوتی تو یقیناً اس کی قرات بھی اس کے ساتھ بلند آواز سے کی جاتی۔ جن روایات میں بسم اﷲ کی قرات کا دوران نماز بلند آواز سے ہونا مذکور ہے وہ مکی دورکے اوائل ایام سے متعلق ہیں۔ لیکن بعد میں صراحت کے ساتھ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پکار کر پڑھنے کی ممانعت فرما دی۔ لہذا تسمیہ کا نماز میں پڑھا جانا تلاوتِ قرآن کے آغاز و افتتاح کے طور پر ہے۔ کیونکہ حمد وثناء کے بعد جب سورہ فاتحہ کی قرات شروع ہوتی ہے تویہی دوران نماز تلاوت قرآن کا آغاز ہے اور یہاں بھی یہ حکم ہے کہ تلاوت قرآن کا آغاز پہلے تعوذ ( اعوذ باﷲ من الشیطن الرجیم ) اور پھر تسمیہ (بسم اﷲ الرحمن الرحیم) سے کیا جائے۔ تسمیہ سے ہرکام کے آغاز کا حکم (تاریخی پس منظر) : شریعتِ اسلامیہ میں ہمیشہ سے یہی تعلیم دی جاتی رہی ہے کہ ہر جائز اور مشروع کام کا آغاز خدا کے نام سے کیا جائے۔ 1۔ جب نوع علیہ السلام نے طوفان سے بچاؤ کے لیے اِذنِ الٰہی کے مطابق کشتی تیار کرلی اور اپنے ساتھیوں کو اس میں سوار کرلیا تو کشتی چلانے سے قبل فرمایا : وَقَالَ ارْكَبُواْ فِيهَا بِسْمِ اللّهِ مَجْرِهَا وَمُرْسَاهَا إِنَّ رَبِّي لَغَفُورٌ رَّحِيمٌO (هود، 11 : 41) اور نوح نے کہا تم لوگ اس میں سوار ہو جاؤ، اللہ ہی کے نام سے اسکا چلنا اور اسکا ٹھہرنا ہے بے شک میرا رب بڑا ہی بخشنے والا نہایت مہربان ہےo 2۔ اسی طرح حضرت سلیمان علیہ السلام نے ملکہ صبا کو جو تبلیغی خط لکھا۔ اس کا آغاز بھی انہی مبارک کلمات سے کیا گیا تھا۔ إِنَّهُ مِن سُلَيْمَانَ وَإِنَّهُ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِO بے شک وہ(خط) سلیمان کی جانب سے (آیا) ہے اور وہ (اللہ کے نام سے شروع (کیا گیا) ہے جو بے حد مہربان بڑا رحم فرمانے والا ہےo (النمل، 27 : 30) 3۔ عہد عیسوی میں بھی ان کلمات کی برکات و تاثیرات کا پتہ چلتا ہے۔ اسرائیلیات میں ایک روایت مذکور ہے کہ عیسٰے علیہ السلام کا ایک قبر پر گزر ہوا۔ آپ نے فرشتوں کو دیکھا کہ وہ صاحب قبر پر عذاب کررہے ہیں۔ جب دوسری مرتبہ گزر ہوا تو دیکھا کہ رحمت کے فرشتے نور کے طبق اس پر پیش کر رہے ہیں۔ آپ کو بہت تعجب ہوا، نماز پڑھی اور کشف حال کے لیے دعا کی۔ فاوحي اﷲ تعالٰي إليه : يا عيسٰي، کان هذا العبد عاصياً و مذمات کان محبوسا في عذابي، وکان قد ترک إمراة حبلٰي فولدت ولدا وربته حتٰي کبر، فسلمته الٰي الکتاب فلقنة المعلم بسم اﷲ الرحمن الرحيم فاستحييت من عبدي إن أعذبه بناري في بطن الأرض وولد يذکر إسمي علي وج الارض. (التفسيرالکبير، 1 : 172) پس اﷲ تعالیٰ نے وحی کی انکی طرف کہ اے عیسٰی علیہ السلام یہ بندہ گناہ گار تھا اور اپنی موت کے دن سے میرے عذاب میں گرفتار تھا۔ وقتِ مرگ اس کی بیوی حاملہ تھی۔ جس نے بعد میں ایک بچہ پیدا کیا۔ اس کی ماں نے اسے پالا اور معلمِ دین کے سپرد کر دیا۔ اس معلم نے جب اس بچے کو بسم اﷲ الرحمن الرحیم پڑھائی تو ہم کو شرم آگئی کہ اس کا باپ قبر میں عذاب میں مبتلا رہے اوراس کا بیٹا زمین پر ہمارے نام کا ذکر کرے پس ہم نے اس کو بخش دیا۔ 4۔ اسی طرح حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی ہرکام سے پہلے بسم اﷲ پڑھنے کا حکم صادر فرمایا۔ چنانچہ یہ حکم بعض معاملات میں ’’واجب،، کا درجہ رکھتا ہے۔ بعض میں ’’سنت،، کا اور بعض میں ’’مستحب،، کا۔ قرآن حکیم میں ارشاد فرمایا گیا : فَکُلُوْا مِمَّا ذُکِرَ اسْمُ اﷲِ عَلَيْهِ. (الانعام، 6 : 118) سوتم اس(ذبیحہ) سے کھایا کرو جس پر (ذبح کے وقت) اللہ کا نام لیا گیا ہو۔ اس سے آگے مزید حکم دیا گیا۔ وَمَالَکُمْ اَلَّا تَاکُلُوْا مِمَّا ذُکِرِاسْمُ اﷲِ عَلَيْهِ. (الانعام، 6 : 119) اور تمہیں کیا ہے کہ تم (ذبیحہ) سے نہیں کھاتے جس پر (ذبح کے وقت) اللہ کا نام لیا گیا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : کل أمر ذي بال لايبداء فيه بسم اﷲ الرحمن الرحيم فهو أجزم. جو کام بسم اﷲ الرحمن الرحیم سے شروع نہ کیا جائے وہ ناقص رہتا ہے یعنی اپنے کمال کو نہیں پہنچ سکتا۔ 1. سنن ابن ماجه، 1 : 610، رقم : 1894 2. المعجم الکبير، 19 : 68، رقم : 141 3. کنزالعمال، 1 : 555، رقم : 2491 اس حدیث کا مفہوم اس طرح سمجھیں جیسے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : لا وضوء لمن لم يذکر اسم اﷲ عليه. اس شخص کا وضو نہیں جس نے اس پر بسم اﷲ نہ پڑھی۔ مسند احمدبن حنبل، 2 : 418 مسند احمدبن حنبل، 3 : 41 مسند احمدبن حنبل، 4 : 70 مسند احمدبن حنبل، 5 : 381 مسند احمدبن حنبل، 6 : 397 اس کا مطلب ہرگز نہیں کہ بسم اﷲ کے نہ پڑھنے سے وضو کی فرضیت ہی ناقص رہ جاتی ہے بلکہ فرض توادا ہو جاتا ہے۔ لیکن سنن و مستحبات کی شمولیت سے جوکمال نصیب ہوتا ہے اس سے محروم رہ جاتا ہے۔ اسی طرح ہر فعل جو بغیر بسم اﷲ کے شروع کیا جائے۔ ممکن ہے کہ دینوی لحاظ سے مطلوبہ نتائج کے حصول میں تو ناکام نہ ہو لیکن اپنے اجرو ثواب کے اعتبار سے عنداﷲ کامل نہ ہوگا۔ اسی روحانی کمال اور نقص کی طرف متذکرہ بالا حدیث میں ارشاد فرمایا گیا ہے۔ آپ غور فرمائیں کہ کلام الٰہی جو سراسر خیر وبرکت ہے۔ جب اس کے پڑھنے سے بھی پہلے بسم اﷲ کا پڑھنا بطور شرط لازم ہے تو دیگر امور حیات سے قبل تسمیہ کا پڑھا جانا کس قدر ضروری ہوگا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اپنی عملی مداومت بھی اسی اصول پر تھی۔ 5۔ حتی کہ باری تعالیٰ نے خود اپنے کلام مبارک کے نزول کے آغاز و افتتاح کے لیے جو کلمات منتخب فرمائے وہ بھی ’’تسمیہ،، کی نوعیت کے تھے۔ غارحرا میں گونجنے والی سب سے پہلی قرآنی صدا بھی یہ تھی۔ اِقْرَأ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَO اے محمد آپ پڑھیے اپنے رب کے نام کے ساتھ جس نے آپ کو اور سب کو پیدا کیاo (العلق، 96 : 1) گویا آداب قرات میں سب سے پہلا قرینہ بسم اﷲ سے شروع کرنا تھا اور اسی قرینہ کے مطابق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے قرات کا آغاز کرایا گیا۔ مفسرین عام طور پر بسم اﷲ کو معنوی وسعت کے اعتبار سے تمام قرآنی علوم کی جامع قرار دیتے ہیں۔ امام فخرالدین رازی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں۔ کل العلوم مندرج فی الکتب الاربعة وعلومها فی القرآن، وعلوم القرآن فی الفاتحة وعلوم الفاتحة فی (بسم اﷲ الرحمن الرحيم) و علومها فی الباء من بسم اﷲ تمام علوم و معارف چار الہامی کتابوں میں درج کیے گئے ہیں اور ان کے تمام علوم قرآن میں اور قرآن کے تمام علوم سورۃ الفاتحہ میں اور سورۃ الفاتحہ کے تمام علوم بسم اﷲ الرحمن الرحیم میں، اور اس کے تمام علوم بائے بسم اﷲ میں۔ (تفيسر کبير، 1 : 99) چنانچہ تسمیہ کی ہمہ پہلو تفسیر اسی طرح ناممکن ہے جیسے پورے قرآن کی۔ تاہم یہاں اس کے چند گوشوں پر کچھ روشنی ڈالی جاتی ہے۔ حذفِ فعل کی حکمت : قرآن میں تسمیہ کا بیان اس طرح ہے بسم اﷲ الرحمن الرحیم۔ اﷲ کے نام سے (شروع کرتا ہوں) جونہایت مہربان رحمت والا ہے۔ یہاں ایک خاص امر قابل توجہ ہے کہ قرآنی عبارت میں ’’شروع کرتاہوں،، کے لیے کوئی لفظ یا کلمہ استعمال نہیں ہوا۔ ترجمے میں یہ الفاظ معنوی طور پر از خود تصور کیے جاتے ہیں۔ درحقیقت قرآن کے اس انداز میں خاص حکمت پنہاں ہے۔ اگر قرآن ’’شروع کرتا ہوں،، کے الفاظ اپنی عبارت میں استعمال کرتا تو اس کی صورت یہ ہوتی أبداء. . . أشرع يا أبداء (میں آغاز کرتا ہوں)۔ ان میں ہر لفظ فعل اور فاعل دونوں کا جامع ہوتا۔ عام طور پر یہی عربی ادب کا اسلوب ہے کہ فعل اور فاعل اکٹھے ہوا کرتے ہیں۔ اب اس کی دو ہی صورتیں ممکن تھیں۔ 1۔ ایک یہ کہ ابداء وغیرہ کا لفظ بسم اﷲ سے پہلے استعمال کیا جاتا۔ 2۔ دوسری یہ کہ ایسا لفظ بسم اﷲ کے بعد استعمال ہوتا۔ لیکن قرآن نے اسے ہر صورت میں ہی محذوف اور مضمر کردیا۔ اس کی چند حکمتیں ہیں۔ ان حکمتوں کے بیان سے قبل یہ اصول ذہن نشین ہوجانا چاہیے کہ بعض اوقات عربی عبارت میں ایسے حروف استعمال ہوتے ہیں جن سے پہلے کوئی فعل محذوف تصورکیا جاتا ہے یعنی اس کا شمار معنی میں تو ہوتا ہے لیکن عبارت میں نہیں۔ جیسا کہ قرآن مجید میں اس کی مثال واضح ہے : اِذْ قَالَ رَبُّکَ لِلْمَلَآ ئِکَة. اور (وہ وقت یاد کریں) جب آپ کے رب نے فرشتوں سے فرمایا۔ (البقرة، 2 : 30) یہاں قاعدہ نحو کے مطابق اذ سے پہلے اُذْکَرْ فعل محذوف ہے۔ جس کا معنی ہے ’’یاد کرو،، جب تمہارے رب نے فرشتوں سے کہا۔ اسی طرح حرف باء جس سے تسمیہ کا آغاز ہو رہا ہے، سے بھی پہلے ایک فعل محذوف ہے جس کا ذکر اوپر کیا جاچکا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس فعل کو محذوف رکھنے میں کیا حکمت پوشیدہ ہے۔ پہلی حکمت : اگر ابداء یا اس جیسا کوئی لفظ بسم اﷲ سے پہلے وارد ہوتا تو یہ امر واضح تھا کہ اس کا فاعل وہ شخص خود ہی ہوتا جو قرآن کی تلاوت یا کسی دوسرے کام کا آغاز کررہا تھا۔ ابداء کا فاعل اﷲ تعالیٰ کسی لحاظ سے بھی نہ ہوسکتا تھا۔ باری تعالیٰ چونکہ تعلیم یہ دینا چاہتے تھے کہ قرآن کی تلاوت ہویا کوئی اور جائز کام، اس کا آغاز اﷲ کے نام سے ہی ہونا چاہیے۔ کیونکہ اس مخصوص ادب معاشرت کی تعلیم کلمات تسمیہ کے ذریعے دی جا رہی تھی۔ اس لیے یہ ہرگز مناسب نہ تھا کہ خود ان ہی کلمات کا آغاز اﷲ کے نام کے علاوہ کسی دوسرے کے ذکر سے ہوتا۔ چنانچہ اس مخصوص ادب اور ضابطہ عمل کی تعلیم بھی اسی انداز سے دی گئی کہ اظہار مدعا کا آغاز بھی براہ راست اﷲ ہی کے ذکر سے ہو۔ کسی اور کے ذکر سے نہیں۔ کیونکہ اسی طرح کمال برکت کاحصول ممکن ہے۔ دوسری حکمت : صیغہ متکلم واحد کا استعمال ہوتا یا جمع کا، دونوں صورتوں میں قائل اپنا اور اپنے فعل کا ذکر اسم باری تعالیٰ پر مقدم کرتا۔ یہ امر ادب واحترام کی اعلٰی منزلوں کے منافی تھا۔ یہ لحاظ عام گفتگو میں بھی رکھا جاتا ہے کہ اگر قائل کسی کام کے ضمن میں اپنے علاوہ دوسرے افراد کا ذکر بھی مشترکہ طور پر کرنا چاہتا ہوتو پہلے دوسروں کا نام لیا جاتا ہے اور آخر میں متکلم اپنا نام لیتا ہے کیونکہ یہ آداب تہذیب کلام کا حصہ ہیں۔ اپنا نام لینا معیارِ لطافت کے خلاف ہے۔ اسی طرح کسی کام میں افضل پر مفضول کی سبقت بھی خلاف ادب تصورکی جاتی ہے۔ اس کی ایک مثال قرآن حکیم سے بیان کی جاتی ہے کہ بعض لوگوں نے عہد رسالت میں عیدالاضحی کے دن آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پہلے قربانی کردی اس پر یہ آیت نازل ہوئی : يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌO اے ایمان والو! تم اللہ اور رسول سے (کسی معاملہ میں) سبقت نہ کیا کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو بے شک اللہ سننے والا اور خوب جاننے والا ہےo (الحجرات، 49 : 1) اﷲ تعالیٰ نے باوجود اس کے کہ ان کا عمل حکم الٰہی کی اطاعت پر مشتمل تھا اور وہ خون بھی محض رضائے الٰہی کی خاطر بہایا گیا تھا جو کہ خالصتاً عبادت تھا۔ لیکن ان سے خطا صرف یہ سرزد ہوئی کہ وہ عمل میں وقتی طور پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر تقدم کر بیٹھے تھے۔ یہی بات اﷲ تعالیٰ کو رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعظیم وادب کے منافی معلوم ہوئی۔ انہیں قربانیاں پھر سے کرنے کا حکم صادر کیا گیا اور آئندہ کے لیے حکماً اس اقدام کے امکان کو بھی ختم کردیا گیا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بعض لوگ رمضان المبارک سے ایک دن قبل روزہ رکھنا شروع کردیتے تھے اور اس طرح وہ آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر تقدم کر بیھٹتے تھے۔ چنانچہ اس آیت کے ذریعے اﷲ تعالیٰ نے ان کو حکماً منع فرما دیا۔ اس مثال کے ذریعے درحقیقت یہ بات واضح کرنا مقصود تھی کہ بعض اوقات تقدم خلافِ ادب تصور کیا جاتا ہے چنانچہ بسم اﷲ میں جوکہ خود ہی سراسر ادب کی تعلیم ہے، اسی اصول کو لفظاً بھی ملحوظ رکھا گیا ہے تاکہ کلام میں بھی ادبِ الوہیت نظر انداز نہ ہوکیونکہ یہی کمالِ ایمان کی علامت ہے۔ ادب سے محروم شخص علم و عمل کی بے پناہ دولتوں کے باوجود لذت ایمان سے محروم رہتا ہے۔ اسی لیے ہر سطح پر جس قدر بھی ملحوظ رہے بہتر ہے۔ کلام میں اس قدر لفظی احتیاط اورحکمت و مصلحت انسانی کوشش کے باوجود پیش نظر نہیں رہ سکتی۔ یہ صرف کلام الٰہی کا اعجاز ہے جو بغیر تصنع کے ان حکمتوں پر دلالت کررہا ہے۔ تیسری حکمت : یہ حکمتیں تو ابداء وغیرہ کے الفاظ بسم اﷲ پر مقدم نہ کرنے میں مضمر تھیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اﷲ کے نام سے پہلے کسی اور کا ذکر تو خلاف ادب تھا۔ اس لیے اسے محذوف رکھا گیا۔ مگر بعد میں بیان نہ کرنے میں کیا مصلحت پوشیدہ ہے۔ یہ امر ذہن نشین رہے کہ صاحب حکمت کا کوئی فعل حکمت و مصلحت سے خالی نہیں ہوتا۔ جب ابداء یا اشراع کی صورت میں کسی کام کے شروع کرنے کا ذکر آئے گا تو اس میں فاعل خود متکلم کی ذات ہوگی۔ گویا متکلم تسمیہ کے ذریعے کسی نہ کسی فعل میں اپنے فاعل ہونے کا ذکر بھی ساتھ ہی کر رہا ہوگا کہ ’’ اﷲ کے نام سے میں (فلاں کام) شروع کرتا ہوں،،۔ اس طرح فعل کی نسبت متکلم کی طرف ہوجاتی ہے اور اسی کا فاعل ہونا بھی ثابت ہوتا ہے۔ یہاں مصلحت یہ تھی کہ انسان خود کو باری تعالیٰ کے لطف وکرم کا اس حد تک محتاج سمجھے کہ تمام امو رکی نسبت اسی ذات کاملہ کی طرف کردے۔ ہرچند کہ افعال کا صدور انسان ہی سے ہوتا ہے۔ لیکن ہر فعل کے صادر کرنے کی قوت وہمت اور طاقت وصلاحیت انسان کو بارگہ رب ذوالجلال سے نصیب ہوتی ہے کیونکہ تمام قوتوں اور طاقتوں کا مبداء و سرچشمہ وہی ذات ہے۔ چونکہ تسمیہ میں بسم اﷲ کے ذریعے خدا کی مدد اور اس کے فعلِ عنایت کا ذکر آگیا تھا۔ اس کے بعد متکلم کا اپنا فاعل ہونا بیان کرنا اﷲ تعالیٰ کی شانِ الوہیت کے منافی تھا۔ گویا یہ تعلیم دی گئی کہ اے انسان تو ہرکام شروع کرتے ہوئے خدا کا نام لے اور ا س کام کی توفیق بھی اسی ذات کی طرف منسوب کر۔ کبھی بھی اس فعل کو اپنا کمال نہ سمجھ، کیونکر فاعل حقیقی تو نہیں اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ یہاں انسانی فکر کو کبر ونخوت کی تباہ کاریوں سے بچنے کی صورت بتائی گئی ہے کہ اگر انسان زبان سے ذات حق کا نام لے کر دل میں یقین بھی اسی کی طاقت کی کارفرمائی پر رکھے گا تو سوچ کا یہ اندازا سے کبھی بھٹکنے نہ دے گا۔ یہ فکر ایمانی آداب کا لازمہ ہے سورۃ نساء میں اسی کی تلقین کی گئی ہے۔ قُلْ كُلٌّ مِّنْ عِندِ اللّهِ فَمَا لِهَـؤُلاَءِ الْقَوْمِ لاَ يَكَادُونَ يَفْقَهُونَ حَدِيثًاO فرما دیجیئے سب کچھ اﷲ کی طرف سے ہی ہے تو ان لوگوں کو کیا ہوا۔ کوئی بات سمجھتے معلوم نہیں ہوتے۔ (النساء، 4 : 78) یہاں ہرکام کی توفیق کا اﷲ تعالیٰ کی طرف سے حاصل ہونا مذکور ہے۔ اسی انداز سخن اور طرز فکر کی تلقین تسمیتہ کے ذریعے کی جارہی ہے۔ یہاں ایک اور لطیف نکتہ قابل غور ہے کہ بسم اﷲ میں چونکہ ذکر صرف اﷲ تعالیٰ کا ہے اور ابتداء فعل یا ارتکابِ فعل کی نسبت انسان کی طرف مذکور نہیں ہے۔ اس لیے حکم ہے کہ بسم اﷲ محض جائز کاموں کے آغاز میں پڑھی جائے۔ ناجائز اور خلاف شرع امور نہیں۔ کیونکہ غلط کاموں میں توفیق فعل کے حوالے سے ان کی نسبت باری تعالیٰ کی طرف کرنا خلاف تقاضائے بندگی ہے۔ بندے کو یہ زیب نہیں دیتا کہ اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں کو اپنے آقا کی طرف منسوب کرتا پھرے۔ ارشاد فرمایاگیا ہے۔ مَآ اَصَابَکَ مِنْ حَسَنَة فَمِنَ اﷲِ وَمَا اَصَابَکَ مِنْ سَيِّئَة فَمِنْ نَّفْسِکَ. (اے انسان اپنی تربیت یوں کرکہ) جب تجھے کوئی بھلائی پہنچے تو (سمجھو کہ) وہ اللہ کی طرف سے ہے (اسے اپنے حسنِ تدبیر کی طرف منسوب نہ کر) اور جب تجھے کوئی برائی پہنچے تو (سمجھ کہ) وہ تیری اپنی طرف سے ہے (یعنی اسے اپنی خرابی نفس کی طرف منسوب کر)۔ (النساء، 4 : 79) مذکورہ بالا دو آیات میں حقیقت حال بھی واضح کردی گئی ہے اور آداب فکر و قول بھی کہ توفیق اور طاقت ہرکام کی اﷲ تعالیٰ کی طرف سے منسوب ہوتی ہے۔ لیکن نیکی صادر ہوتو بندگی یہ ہے کہ انسان اسے اپنے آقا کی رحمت سمجھ کر اسی کی طرف منسوب کردے اور بدی صادر ہوتو اسے اپنی سوچ اور کاوش کا نتیجہ سمجھے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسی انداز فکر سے انسان کی اپنے عیبوں اور کوتاہیوں پر نظر رہتی ہے اور وہ خود تنقیدی کے ذریعے اپنی اصلاح کا طالب و خوگر ہوسکتا ہے اور دوسری طرف وہ بعض اچھائیوں کو محض اپنی صلاحیت کا ثمرہ سمجھ کر پیکرِ رعونت بھی نہیں بننے پاتا۔ چونکہ ہر کام کی توفیق اور ہمت و قدرت کا مبداء و منبع اﷲ تعالیٰ کی ذات ہے۔ اس لیے تسمیہ میں اسی کے مجرد ذکر پر اکتفا کیا گیا اور انسان کے فعل یا اس کے فاعل ہونے کا ذکر محذوف کردیا گیا۔ گویا حقیقت کو عیاں رکھا اور جو کچھ محض ظاہر تھا اسے پوشیدہ کردیا۔ آیت الحمد سے استدلال : سورۃ الفاتحہ کا آغاز بھی اسی فلسفے کی نشاندہی کرتا ہے۔ ارشاد فرمایا گیا ہے۔ اَلْحَمْدُلِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ O سب تعریفیں اللہ ہی کے لئے ہیں جو تمام جہانوں کی پرورش فرمانے والا ہےo (الفاتحه، 1 : 1) یہ بات بڑی واضح ہے کہ جب کسی کی خوبی یا تعریف ہوگی تو یقیناً کوئی نہ کوئی تعریف کرنے والا بھی ہوگا۔ کیونکہ زبانِ حمد کھولے بغیر بیانِ حمد نہیں ہوسکتا۔ لیکن یہاں حمد کا ذکر ہے حامد یا فعلِ حمد کا بیان نہیں ہے۔ محض اس لیے کہ اگر حمد کرنے والے کا ذکر کردیا جاتا تو ممکن ہے وہ یہ سمجھتا کہ محمود میری حمد کا محتاج ہے یا میری تحمید نے اسے عظمت دی ہے۔ حالانکہ حمد کسی کا کارنامہ نہیں۔ یہ حسنِ الوہیت کا اپنا استحقاق ہے۔ لہذا اﷲ تعالیٰ نے اپنا محمود ہونا بیان کردیا۔ مگر کسی کا حامد ہونا صراحت سے بیان نہیں کیا۔ اسی طرح تسمیہ میں فعل اور فاعل کو مضمر اور محذوف رکھنے میں حکمت یہ تھی کہ یقیناً وہ کام جس کے آعاز میں بسم اﷲ پڑھی جارہی ہے تو کوئی نہ کوئی شخص ہی کرے گا۔ لیکن کہیں وہ اپنی فاعلیت پر ایسا گمان نہ کرنے لگے کہ یہ کام میں اپنی ہمت و توفیق سے کر رہا ہوں۔ چنانچہ خدا کا نام محض برکت کی غرض سے نہیں بلکہ اس یقین و اعتماد سے لیا جائے کہ اس کام کی توفیق بھی محض اﷲ تعالیٰ کی عطا سے ہے۔ چوتھی حکمت : اولاً یا آخراً کسی صورت میں بھی خدا کے ماسوا کے ذکر کا تسمیہ میں نہ ہونا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ واجب الوجود صرف اسی کی ذات ہے اور اس کے علاوہ جو کچھ ہے وہ ممکن ہے اور اس وجہ سے ھالک و معدوم۔ تسمیہ چونکہ تمام معارف قرآنی کا خلاصہ ہے اس لیے اس کا اندازِ بیان بھی دین حق کے جملہ مقاصد و مطالب کا خلاصہ ہوگا۔ بسم اﷲ الرحمن الرحیم کا آغاز و انجام صرف خدا ہی کی ذات و صفات کے ذکر پر مبنی ہے اس کے علاوہ اس میں نہ کسی فعل کا بیان ہے نہ کسی فاعل کا۔ گویا یہ الفاظ خدا کی وحدانیت کو اسی طرح اجاگر کررہے ہیں کہ اس کائنات میں اس کے بغیر نہ تو کسی فعل کا صدور ممکن ہے اور نہ کسی فاعل کا وجود۔ بلکہ دوامِ حقیقی اور ثباتِ ابدی اگر کسی کو حاصل ہے تو وہ صرف خلاّق عالم ہی کی ذات و صفات ہے۔ وہی اول تھا اور وہی آخر بھی ہوگا۔ اس لیے نہ اس سے پہلے کسی فعل کا ذکر ممکن ہے اور نہ اس کے بعد ارشاد ربانی ہے۔ 1. هُوَ الْأَوَّلُ وَالْآخِرُ وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌO (الحديد، 57 : 3) 2. لِلَّهِ الْأَمْرُ مِن قَبْلُ وَمِن بَعْدُ. وہ (سب سے) پہلا تھا اور (سب سے) آخر اور(اپنی قدرت کے اعتبار سے) ظاہر اور (اپنی ذات کے اعتبار سے) پوشیدہ ہے وہ سب کچھ خوب جانتا ہےo (الروم، 30 : 4) حکم اﷲ ہی کا ہے، پہلے بھی اور بعد میں بھی۔ اسی امر کا بیان ایک اور مقام پر اس طرح ہے۔ 3. لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ كُلُّ شَيْءٍ هَالِكٌ إِلَّا وَجْهَهُ. اس کے سوا کوئی معبود نہیں (لوگو! خوب یاد رکھو فانی شے معبود نہیں ہوا کرتی) ہر شے اللہ کی ذات کے سوا فانی ہے۔ (القصص، 28 : 88) چنانچہ تسمیہ کے کلمات میں خدا کے سوا ہر قسم کے فعل اور فاعل کے ذکر کا محذوف و معدوم ہونا انسان کو پوری کائنات اور ا سکے نظام کی بے ثباتی کی یاد دلاتا ہے۔ یہ کلام پکا رپکار کر دنیا کی بے حقیقت رنگینیوں میں محو و مستغرق انسانوں کو حقیقتِ ابدی کی طرف متوجہ کررہا ہے تاکہ لوگ خواب غفلت سے بیدار ہوکر بے کم و کاست اسی احکم الحاکمین کی قدرتوں اور قوتوں پر کامل ایمان لے آئیں اوراس سراب حیات کو ہی آخری منزل نہ سمجھ لیں۔ تسمیہ سے چونکہ قرآن کا آغاز ہورہا ہے۔ اس موقع پر جامع و مانع انداز سے خدا کی ہستی اور اس کی صفات کا ذکر اور اس کے ماسوا کا حذف واضمار انسان کویہ تعلیم دیتا ہے کہ وہ دل و دماغ سے غیر کا خیال نکال دے اور ہر لمحہ ذات حق پر نظر رکھے۔ یہ معراج عبدیت ہے اور قرآن کا پہلا سبق بھی یہی ہے جیسا کہ ارشاد ایزدی ہے۔ وَلِلّٰهِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ فَاَيْنَمَا تُوَلُّوْا فَثَمَّ وَجْهُ اﷲِ. اور مشرق ومغرب (سب) اﷲ ہی کا ہے پس تم جدھر بھی رخ کرو ادھر ہی اللہ کی توجہ ہے۔ (البقره، 2 : 115) مزید برآں وہ ایسا موجود حقیقی ہے کہ ہر وجود کا مبداء بھی وہی ہے اور مرجع بھی۔ بلکہ دوسرے لفظوں میں ہر وجود کائنات کا جواز بھی اسی کے وجود سے ہے۔ وہ حقیقت ہے اور اس کے ماسوا جو کچھ ہے مجاز ہے۔ اس لیے تسمیہ میں حقیقت کا ذکر کیا گیا اور مجاز کو ترک کر دیا۔ حرفِ باء کی افادیت : کلماتِ تسمیہ کا پہلا حرف ’’بار،، ہے۔ جس کا معنی ’’سے،، کیا گیا ہے یہ فعل محذوف سے متعلق ہے۔ محذوف سے مراد وہ فعل اور فاعل ہے۔ جس کا ذکر یہاں لفظاً نہیں بلکہ معناً موجود ہے۔ یعنی میں شروع کرتا ہوں اﷲ کے نام سے گویا حرفِ باء فعلِ محذوف کو اﷲ کے نام سے ملانے کے لیے استعمال ہوا ہے۔ حرفِ باء کی اپنے استعمال و افادیت کے لحاظ سے متعدد اقسام ہیں۔ جنہیں علماء نحو نے شرح و بسط کے ساتھ بیان کیا ہے۔ لیکن یہاں یہ حرف ان میں سے تین اقسام پر مشتمل ہوسکتا ہے۔ 1۔ بائے الصاق و مصاحبت 2۔ بائے استعانت 3۔ بائے تیمن و تبرک بائے مصاحبت : الصاق و مصاحبت کا معنی اکٹھا ہونا اور رفاقت و معیت اختیار کرنا ہے۔ اس صورت میں جب کہ با مصاحبت کے لیے تصور کی جائے تو تسمیہ کا مفہوم یہ ہوگا کہ میں اﷲ کے نام کو اپنا ساتھی بناتے ہوئے اس کے دامن رحمت سے وابستہ اور منسلک ہوتے ہوئے اور محض اسی کی رفاقت و معیت پر بھروسہ کرتے ہوئے، اپنے کام کا آغاز کرتا ہوں۔ امام فخرالدین رازی رحمۃ اللہ علیہ اس مقام پر فرماتے ہیں۔ هذا الباء باء الا لصاق فهو يلصق العبد بالرب فهو کمال المقصود. یہ ’’با،، بائے الصاق ہے چنانچہ یہ بندے کو رب سے ملاتی ہے اور یہی انسانی مقصود کا کمال ہے۔ (تفسيرکبير، 1 : 99) حرف باء کے اس مفہوم کی افادیت یہ ہے کہ تسمیہ کے ذریعے انسان کو اپنے ہرکام کے آغاز سے انجام تک خدا کی رفاقت و معیت کا احساس رہے۔ یہ امر واقع ہے کہ اگر انسان کو کسی نہایت قوی، مضبوط اور ہمدرد بہی خواہ ساتھی کی رفاقت کا احساس اور یقین ہو تو اسے کسی سطح پر بھی خوف وخطر دامنگیر نہیں ہوسکتا۔ چنانچہ انسان کو کارگہ زیست میں ہر خوف و غم سے بے نیاز کرنے کے لیے بسم اﷲ کے ذریعے دل ودماغ میں یہ احساس جاگزیں کیا جارہا ہے کہ اﷲ تعالیٰ پر بھروسہ کرو گے تو اس کی معیت بھی تمہیں حاصل ہوگی۔ جس کی حفاظت کے باعث تمہیں نہ کوئی نقصان پہنچ سکے گا اور نہ تمہاری کاوشیں بے نتیجہ حاصل ہوں گی۔ اسی تصور کو قرآن یوں بیان کرتا ہے۔ وَهُوَ مَعَکُمْ اَيْنَ مَا کُنْتُمْ وَاﷲُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْرٌO وہ تمہارے ساتھ ہے جہاں بھی تم ہو اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اسے دیکھ رہا ہےo (الحديد، 57 : 4) اسی شب ہجرت حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو غار ثور میں تنہائی کے احساس سے کچھ خدشہ محسوس ہوا کہ شاید کفار مکہ جو آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تعاقب میں تھے۔ انہیں نقصان پہنچا دیں۔ اس پر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے بزبان وجی ان سے ارشاد فرمایا : لَا تَحْزُنْ اِنَّ اﷲَ مَعَنَا فَاَنْزَلَ اﷲُ سَکِيْنَتَه عَلَيْهِ. غمزدہ نہ ہو بے شک اللہ ہمارے ساتھ ہے پس اللہ نے ان پر اپنی تسکین نازل فرما دی۔ (التوبه، 9 : 40) اس ارشاد پر غور کریں تو اندازہ ہوگا کہ خدا کی معیت پر ایمان تو حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا پہلے سے ہی تھا۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو وہ اس قدر عداوت و مخالفت کے ماحول میں اپنے گھروالوں کواکیلا چھوڑ کر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے شریکِ سفر نہ ہوتے۔ لیکن ظاہرًا بے سروسامانی کا عالم، تنہائی کا ماحول اور کفارو مشرکین کے مخاصمانہ تعاقب کا خیال وقتی طور پر حزن و ملال کا باعث بن گیا اور یہ انسانی طبیعت کا لازمی تقاضا بھی تھا۔ اس پر آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صرف انہیں معیت خداوندی کی طرف متوجہ کردیا۔ یہ احساس بحال ہونا تھا کہ دل کو سکون و اطمینان کی دولت نصیب ہوگئی۔ گویا معیت خداوندی قلبی تسکین کا لازمی سبب ہے۔ یہی فلسفہ تسمیہ ہے کہ انسان خدا کی معیت کو رفاقت کا احساس اجاگر کرکے جہدِ حیات کا آغاز کرے تو کوئی خوف و حزن سے اسے پریشان نہیں کرسکتا۔ خوف وحزن سے نجات پاکر انسانی جدوجہد کو وہ تازگی اور قوت میسر آتی ہے۔ جس سے کامیابی وکامرانی کی منزل بھی آسان ہوجاتی ہے۔ ورنہ بے یقینی اور مایوسی کی کیفیت تگ و دو کو مطلوبہ منزل تک نہیں پہنچنے دیتی۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ فَلَا تَهِنُوْا وَتَدْعُوْآ اِلَی السَّلِمْ وَاَنْتُمْ الْاَعْلَوْنَ وَاﷲُ مَعَکُمْ وَلَنْ يَّتِرَکُمْ اَعْمَالَکُمْO پس تم سستی نہ کرو اور خود صلح کی طرف نہ بلاؤ اور تم ہی غالب آؤ گے اور اﷲ تمہارے ساتھ ہے اور وہ ہرگز تمہاری کوششیں بے نتیجہ نہیں جانے دے گا۔ (محمد، 47 : 35) یہاں یہ امر ذہن نشین رہے کہ خدا کی معیت تو درحقیقت ہمہ وقت انسان کو حاصل ہوتی ہے۔ لیکن اسے اس معیت کا احساس اور شعور نہیں ہوتا۔ شعورِ معیتِ الٰہی متحقق نہ ہونے کی بناء پر وہ اس کے جملہ ثمرات و لطائف سے بہرور نہیں ہوسکتا۔ تسمیہ معیتِ الٰہی مہیا کرنے کے لیے نہیں بلکہ اس کا شعور بیدار کرنے کے لیے ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ وَنَعْلَمُ مَا تُوَسْوِسُ بِهِ نَفْسُهُ وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيدِO اور بے شک ہم نے آدمی کو پیدا کیا اور ہم جانتے ہیں جو وسوسہ اس کا نفس ڈالتا ہے اور ہم اس سے اس کے دل کی رگ سے بھی زیادہ نزدیک ہیںo (ق، 50 : 16) اس آیت سے یہ حقیقت اچھی طرح واضح ہوگئی کہ معیت الٰہی تو انسان کو پہلے سے ہی میسر ہوتی ہے۔ لیکن اس کا شعور پیدا نہیں ہوتا۔ جب اس معیت و رفاقتِ خداوندی کا شعور انسان کے اندر ایک زندہ قوت بن جاتا ہے تو تمام وساوس نفسانی اور دنیوی خطرات وخدشات نیست ونابود ہوجاتے ہیں اور قلب وباطن پر اس احساس کے محیط ہوجانے سے ایک عجیب لطف و سکون اورلذت و طمانیت کی کیفیت طاری ہوجاتی ہے۔ انسان کو پھر نہ توکسی اور کی رفاقت کی طلب رہتی ہے اور نہ کسی کے قرب کی۔ دوعالم سے کرتی ہے بیگانہ دل کو عجب چیز ہے لذت آشنائی لیکن اس لطف کا اندازہ بیان سے نہیں خود دھیان سے ہی ہوسکتا ہے کیونکہ لذت بتانے کی نہیں حاصل کرنے کی چیز ہے۔ بائے استعانت : استعانت سے مراد مدد طلب کرنا ہے اس کے معنی کے لحاظ سے مفہوم تسمیہ یہ ہوگا کہ ’’اﷲ کے نام سے مدد طلب کرتے ہوئے شروع کرتا ہوں،،۔ حضرت نوح علیہ السلام نے قیامت خیز طوفان سے اپنے پیروکاروں کوبچانے کے لیے حکم الٰہی سے ایک کشتی بنائی اور انہیں اس میں سوار ہوجانے کو کہا۔ قرآن حکیم اس کا تذکرہ اس طرح کرتا ہے۔ وَقَالَ ارْكَبُواْ فِيهَا بِسْمِ اللّهِ مَجْرِهَا وَمُرْسَاهَا إِنَّ رَبِّي لَغَفُورٌ رَّحِيمٌO اور نوح نے کہا تم لوگ اس میں سوار ہو جاؤ اللہ ہی کے نام سے چلنا اور اس کا ٹھہرنا ہے بے شک میرا رب بڑا ہی بخشنے والا نہایت مہربان ہےo (هود، 11 : 41) گویا اس آیت کے ذریعے جملہ مہمات میں خدائے رحمان و رحیم کے نام سے استعانت کی تعلیم دی جا رہی ہے تاکہ انسان پر یہ حقیقت آشکار ہوکہ اﷲ تعالیٰ کی مدد واعانت کے بغیر نہ توکسی خیر کو حاصل کیا جاسکتا ہے اور نہ کسی شر سے محفوظ ہوا جاسکتا ہے۔ چونکہ فعل محذوف کے اعتبار سے یہاں کام کے شروع کرنے کا ذکر ہو رہا ہے۔ اس لیے بائے استعانت کا معنوی اطلاق یوں ہوگا کہ’’ اے اﷲ میں ہر کام کے شروع کرنے میں بھی تیری مدد کا محتاج ہوں،،۔ جب کوئی کام خدا کی مدد اور توفیق کے بغیر آغاز پذیر ہی نہیں ہوسکتا تواس کا انجام پذیر ہونا کیونکر ممکن ہوگا۔ دراصل یہاں انسان کو اپنی حاجتمندی کا احساس دلایا جارہا ہے تاکہ وہ دینوی متاع کو کثرت کے ساتھ حاصل کرکے خدائے لم یزل کے حضور سرنیازِخم کرنے سے باغی نہ ہوجائے۔ انسان کے ذہن میں یہ حقیقت ہر وقت موجود رہے کہ میں رب ذوالجلال کی عنایت کے بغیر اپنی جہدِ حیات میں پہلا قدم بھی نہیں اٹھا سکتا۔ کس قدر ظالم اور احسان فراموش ہے وہ شخص جس کا قدم بھی خدا کے لطف و انعام سے اٹھے۔ لیکن وہ بجائے اس کی اطاعت کے اسی کے احکام کی خلاف ورزی کے لیے بڑھ رہا ہو۔ اگر انسان کا یہ شعور بیدار ہوکہ اس کی زبان کو قوتِ گویائی، اس کے کانوں کو قوتِ سماعت، اس کی آنکھوں کو قوتِ دید، اس کے دست وبازو کوقوتِ عمل، اس کے قدموں کو قوتِ نقل وحرکت اور اس کے دماغ کو قوتِ فکر الغرض سب کچھ خدا کی مدد واعانت کے سبب میسر آیا ہے تو اس ظاہری اور باطنی اعضاء وجوارح میں سے کوئی عضو بھی رضائے الٰہی کے خلاف حرکت میں نہ آئے۔ ہم سے جوگناہ سرزد ہوتے ہیں اور ہمارے فکر میں جو تمرد وانحراف جنم لیتا ہے یہ دراصل اسی شعور و ادراک کے فقدان کا نتیجہ ہے۔ تسمیہ فی الحقیقت انسان کی فکری و عملی اصلاح کا شاندار ذریعہ ہے۔ اگر ہرکام شروع کرنے سے پہلے زبان اور دل خدا کانام لینے اور اس سے مدد طلب کرنے کی طرف راغب ہوں اوریہ انکی عادی خصوصیت بن جائے تو نواہی و محرمات سے ازخود پرہیز ہونے لگے گا۔ کیونکہ خدا کی یاد کے ہوتے ہوئے حکمِ خدا کی خلاف ورزی ممکن نہیں رہتی۔ مزید برآں استعانت دعا ہے اور دعا خود مغز عبادت۔ اس لحاظ سے تسمیہ فی نفسہ عبادت کی روح قرار پاتا ہے۔ اس کا فلسفہ یہ ہے کہ انسان خود کسی کام کے کرسکنے میں اپنے ذرائع اور اسباب و وسائل کے باوجود ناکافی وعاجز تصور کرتا ہے اور پھر اپنی بے بسی و بے کسی کے اعتراف کے ساتھ خدا بزرگ و برتر کی مناجات کرتے ہوئے اس سے مدد طلب کرتا ہے۔ گویا انسان بارگاہ ایزدی میں سراپا سوال بن کر حاضر ہے، وہ دنیاو مافیہا سے ناامید اور تمام اسباب سے مایوس ہوکر مسبب الاسباب کی بارگاہ میں نیاز مندی کے ساتھ آن کھڑا ہوا ہے۔ اس کی آرزو مندی دل کو درد وسوز کی لذت سے آشنا کردیتی ہے اور یہی کیفیت انسان کو مقامِ بندگی سے ہمکنار کرتی ہے۔ بقول شخصے سراپا آرزو ہونے نے بندہ کردیا مجھ کو وگرنہ میں خدا ہوتا جو دل بے مدعا ہوتا اسی مقام کو علامہ اقبال یوں بیان کرتے ہیں۔ متاع بے بہا ہے درد و سوز و آرزو مندی مقام بندگی دے کر نہ لوں شانِ خداوندی قرآن میں حرفِ باء کا استعمال کئی مقامات پر اسی مقصد کے لیے ہوا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ اسْتَعِينُواْ بِالصَّبْرِ وَالصَّلاَةِ إِنَّ اللّهَ مَعَ الصَّابِرِينَO اے ایمان والو! صبر اور نماز کے ذریعے (مجھ سے) مدد چاہا کرو یقیناً اللہ صبر کرنے والوں کیساتھ ہوتا ہےo (البقره، 2 : 153) یہاں صبر اور نماز دونوں کو ذریعہِ استعانت کے طور پر بیان کیا گیا ہے کہ استعانت تو لامحالہ باری تعالیٰ سے ہوگی لیکن اس کے کامل استحقاق کے لیے صبر و نماز کو اپنا لوتا کہ ان کے واسطے سے اﷲ تعالیٰ کا لطف و کرم اور عنایت واعانت زیادہ سے زیادہ نصیب ہوسکے۔ اسی تصور کو ایک اور مقام پر یوں واضح کیا گیا ہے۔ قَالَ مُوسَى لِقَوْمِهِ اسْتَعِينُوا بِاللّهِ وَاصْبِرُواْ. موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا ! تم اللہ سے مدد مانگو اور صبر کرو۔ (الاعراف، 7 : 128) اسباب سے صرفِ نظر کرکے مسبّب الاسباب پر نظر رکھنا ہی صبر کہلاتا ہے۔ اس لیے قرآن استعانت کے ساتھ توحید مطلب کی بھی تعلیم دے رہا ہے۔ تسمیہ میں بائے استعانت سے پہلے یا بعد میں کسی کا ذکر نہیں۔ صرف خدا ہی کے نام پر اکتفا کیا گیا ہے۔ جس کا واضح مقصد یہی ہے کہ انسان کی تمام ضروریات و مشکلات میں خدا ہی کی ذات کافی ہے۔ اسے کسی اور چیز پر توکل یا انحصار کی ضرورت نہیں۔ بائے تبرک : تبرک کا معنی حاصل کرنا ہے۔ لہذا بائے تبرک کے حوالے سے تسمیہ کا معنی یہ ہوگا کہ ’’ اﷲ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے شروع کرتا ہوں،،۔ خدا کے نام سے شروع کرنا اس اعتبار سے باعث برکت ہے کہ اس کام کے پایہ تکمیل تک پہنچنے کے امکانات زیادہ روشن ہو جاتے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ اسباب و وسائل کا مہیا کرنا بھی تو اسی کا کام ہے۔ اس لیے جب اس ذات کے مقدس نام سے برکت طلب کی جائے تو وہ ذات اس کام کا انجام تک پہنچنا آسان کردیتی ہے۔ اس لیے آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : کل امر ذي بال لا يبدا فيه ببسم اﷲ فهو أجذم او أقطع اولم يبدا فيه باسم اﷲ فهو أبتر اولا يفتح بذکر اﷲ فهو أبتر أو أ قطعا. 1. سنن ابن ماجه، 1 : 610، رقم : 1894 2. کنزالعمال، 1 : 555، رقم : 249 جو کام بسم اﷲ پڑھے بغیر شروع کیا جائے وہ دم بریدہ اور ناقص رہ جاتا ہے، جو کام بسم اﷲ کے شروع کے بغیر شروع کیا جائے ناتمام رہ جاتا ہے، جس امر کا افتتاح خدا کے ذکر کے بغیر ہوگا وہ انجام خیر تک نہیں پہنچے گا۔ اس وقت ہمارے پیش نظر لفظ اسم کی لغوی اور معنوی دلالت نہیں ہے۔ سردست ہم نحوی قاعدے کے مطابق اس کے صرف ایک پہلو پر روشنی ڈالنا چاہتے ہیں۔ عربی زبان میں کلمہ تین قسم کا ہوتا ہے۔ حرف، فعل اور اسم تمام ائمہ نحو وادب اس امر پر متفق ہیں کہ : الحرف هی الکلمة لا يصح الاخبار عنها ولابها. حرف وہ کلمہ ہے جو نہ توکسی اور کی خبر دیتا ہے اور نہ خود کسی پر دلالت کرتا ہے۔ حرف جب تک کسی اور سے منسلک نہ ہو اس میں کوئی معنویت پیدا نہیں ہوتی۔ یعنی یہ ازخود کسی کامل مفہوم کی نشاندہی نہیں کرسکتا۔ اس لحاظ سے نہ ’’مسند،، ہے اور نہ ’’مسند الیہ،،۔ الفعل هی الکلمة لا يصح الاخبار عنها لکن يصح الاخبار بها. فعل وہ کلمہ ہے جو فی نفسہ کسی اور کی خبر تو نہیں دے سکتا لیکن خود کسی نہ کسی خبر پر دلالت کرتا ہے۔ اس لحاظ سے فعل ’’مسند الیہ،، نہیں۔ یعنی اس کو خود تو کسی عمل یا خبر سے نسبت ہوتی ہے مگر کسی اور کو اس سے بالذات کوئی نسبت نہیں ہوتی۔ جب تک کوئی اسم اس کا فاعل بن کر مذکور نہ ہو۔ اس کی معنویت بھی کامل نہیں ہوسکتی۔ الاسم هی الکلمة يصح الاخبار عنها وبها. اسم وہ کلمہ ہے جو خود بھی کسی اور کی خبر دیتا ہے اور کوئی بھی اس سے نسبت رکھتا ہے۔ اس لحاظ سے اسم کو ’’مسند،، اور ’’مسند الیہ،، دونوں حیثیتیں حاصل ہوتی ہیں۔ یعنی یہ خود بھی اپنی ذات میں کسی نہ کسی کی خبر دیتا ہے اور کوئی دوسرا اس سے منسلک ہوجائے یا اس سے نسبت پیدا کرلے تو وہ بھی بامعنی یعنی کامل بن جاتا ہے۔ بہ الفاظ ویگر اسم خود ’’کامل گر،، بھی ہے۔ مذکورہ بالا تینوں کلمات کا باہمی تعلق یہ ہے کہ حرف بھی اس سے نسبت پیدا کرکے خود کو بامعنی بناتا ہے، فعل بھی اسم سے نسبت پیدا کرکے اپنی معنویت اور دلالت کو کامل بناتا ہے۔ لیکن اسم ایک ایسا کلمہ ہے جو خود ہی اپنے مقصد اور ذات معینہ پر دلالت کرتا ہے یا اس کی خبر دیتا ہے۔ اس کو اپنی اس حیثیت کی تشکیل کے لیے نہ کسی اور حرف کی حاجت ہے نہ کسی فعل کی۔ گویا اسم میں دلالتِ کاملہ اور دلالتِ مطلقہ ہوتی ہے۔ فعل میں ناقصہ اورحرف میں سرے سے ہوتی ہی نہیں۔ تسمیہ میں فعل، حرف اور اسم کے باہمی تعلق پر اشارۂ لطیف : مذکورہ بالا بحث کی روشنی میں ’’تسمیہ،، کے الفاظ پر غور فرمائیں تو ’’فعل،، جس کا تعلق کسی غیر سے ہوسکتا تھا، محذوف کردیا گیا۔ کلماتِ تسمیہ کا آغاز ’’حرف باء،، سے کیا گیا۔ جو اپنی ذات میں کوئی معنی و مفہوم نہیں رکھتا۔ اس میں جو بھی معنویت او ر افادیت پیدا ہوئی ہے۔ صرف اسم کے ساتھ نسبت پیدا کرنے کے باعث ہوئی ہے۔ ’’حرف باء،، کا مقصد محض اپنے ماقبل محذوف کو یعنی کسی غیر کو جو متکلم یا فعل ہوگا، اسم کے ساتھ ملانا ہے۔ پھر لفظ ’’اسم،، وارد کیا گیا اور اس کے بعد ’’ اﷲ الرحمن الرحیم،، کے الفاظ بیان ہوئے۔ اسم کا معنی ’’علامت،، ہے۔ ذات و صفات باری تعالیٰ کے ذکر سے پہلے ’’اسم،، کا لایا جانا اس بات کو واضح کرنا تھا کہ اﷲ اپنی واحدانیت، الوہیت اور ہویت میں اس طرح غیر محسوس و غیر مبصر، وہم و ادراک سے بالا اور عقل و خرد سے بلند ہے کہ اس تک کسی کا وہم و گمان نہیں پہنچ سکتا، بندوں کا اس تک وصول محال ہے۔ لہذا اس مخفی وباطن اور پاک و منزہ ہستی تک وصول کے لیے ایسی علامت درکار ہے جو خود ظاہر ہو، اس ہستی کی خبر دینے والی ہو، اپنی ذات کے ظہور میں بھی کامل ہو اوراس ذات مطلق کے اظہار کے لیے بھی کامل ہو، جو خود اس کی خبر بھی رکھتی ہو اور دوسروں کو اس سے باخبر بھی کرسکتی ہویعنی وہ علامت ذات حق کے ظہور کی ایسی دلیل بن جائے کہ خود بھی اس سے ملی ہوئی ہو اور دوسروں کو بھی اس سے ملا سکے اوراس غرض سے دوسرے اس علامت سے نسبت و تعلق قائم کرنے کے لیے مجبور و مامور ہوں۔ ایسی علامت کاملہ جس کی شان یہ ہوکہ۔ اُدھر سے اﷲ سے واصل، اِدھر مخلوق میں شامل خواص اس برزخ کبرٰی کو ہے حرفِ مشدد کا وہ علامت صرف ذات محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہی تھی جسے ’’ کلمہ اسم،، کے عنوان سے بطور ذریعہ بیان کردیا گیا۔ تصورِ دلالت اور کلمۂ اسم کی وساطت : یہاں یہ امر غور طلب ہے کہ لفظ ’’ اﷲ،، کی دلالت کے لیے کلمۂ اسم بطور ذریعہ وارد ہوا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ’’ کیا ذات حق اپنی دلالت کے لیے کسی ذریعے کی محتاج ہے؟،، اس کا جواب صاف نفی میں ہے۔ بذاتِ خود باری تعالیٰ اپنی دلالت کے لیے کسی ذریعے، واسطے اور علامت کی محتاج نہیں ہے لیکن اس حقیقت سے تو انکار نہیں کیا جاسکتا کہ کلمہ اسم اﷲ ذات باری تعالیٰ ہی کی دلالت کے لیے بطور ذریعہ و علامت وارد ہوا ہے تو پھر اس ذریعے اور علامت کی احتیاج کس کو ہے۔ اس کا جواب خود عبارت تسمیہ میں ہے جو حرف باء سے شروع ہوتی ہے۔ ’’حرف باء،، اپنے سے پہلے بہر صورت کسی فعل و فاعل کو محذوف کے طور پر طلب کرتا ہے۔ یہ محذوف وہ شخص ہے جو بارگہ الوہیت تک رسائی حاصل کرنا چاہتا ہے جو ’’ابداء، اشرع، اقراء وغیرہ،، کا فاعل ہے اور اس شخص کو ’’اسم،، یعنی علامت ذات حق سے ملانے کے لیے حرف باء درمیان میں لگایا گیا ہے۔ گویا مخلوق خدا حرف باء کے توسل سے اسم کے ساتھ اپنی نسبت پیدا کر رہی ہے تاکہ اسم کے ساتھ نسبت اور تعلق پیدا کرکے طالبان حق کو ذات حق تک رسائی نصیب ہوسکے۔ یہ اسم علامت کے طور پر اس ہستی مبارکہ کو بیان کررہا ہے جو ذات حق سے واصل اور اس کی عارف بھی ہے اور دیگر مخلوقات کو ذات حق کا وصال اور معرفت عطا کرنے والی بھی۔ ذاتِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کلمہ اسم کا مدلول کامل ہے : پورا قرآن شروع سے آخر تک اس امر کی تائید کرتا ہے کہ اسی مقصد کے لیے دنیا میں انبیاء و رسل تشریف لاتے رہے۔ وہ ذات حق کی معرفت اور اس تک رسائی کا بہترین ذریعہ و واسطہ بھی تھے اور علامت ودلالت بھی۔ پھر یہ انبیاء و رسل ایک دوسرے پر فضیلت بھی رکھتے تھے۔ ارشاد قرآنی ہے۔ تِلْکَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلٰی بَعْضٍ. یہ سب رسول ( جوہم نے مبعوث فرمائے) ہم نے ان میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے۔ (البقره، 2 : 353) انبیاء و رسل کی تمام فضیلتیں جس نقطے پر جاکر اپنے منتہائے کمال کو پہنچ گئیں۔ وہ نقطہ نبوت محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا تھا۔ اس لیے ذات حق پر آپ کی دلالت بھی سب سے زیادہ اکمل و افضل تھی اور آپ کی شانِ علامت بھی سب سے ارفع و اعلیٰ تھی۔ اس لیے نبوت و رسالت جہاں مقام و مرتبہ کے اعتبار سے آپ کی ذات ستودہ صفات پر ختم ہوگئی۔ وہاں ادوار زمانی کے اعتبار سے بھی آپ ہی پر اختتام پذیر ہوگئی۔ چنانچہ ذات حق کی علامتِ تامہ اور دلالتِ مطلقہ ذات مصطفوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قرار پاگئی۔ قرآن مجید نے کئی مقامات پر اس حقیقت کی واضح نشاندہی بھی کی ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے : وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ تَعَالَوْاْ إِلَى مَا أَنزَلَ اللّهُ وَإِلَى الرَّسُولِ رَأَيْتَ الْمُنَافِقِينَ يَصُدُّونَ عَنكَ صُدُودًاO (النساء، 4 : 61) اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ کے نازل کردہ (قرآن) کی طرف اور رسول کی طرف آجاؤ تو آپ منافقوں کو دیکھیں گے کہ وہ آپ (کی طرف رجوع کرنے) سے گریزاں رہتے ہیںo اس آیت نے صراحت کے ساتھ اس حقیقت کو بے نقاب کردیا کہ منافقت یہ ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے واسطہ کے بغیر ہی ذات حق کی بارگاہ میں بازیابی کے حصول کی کوشش کی جائے۔ یعنی منافقت کی پہچان یہ ہے کہ ’’ رسول کو وصالِ حق کا ذریعہ نہ ماناجائے۔ اس کو معرفت حق کی علامت اور ذاتِ حق کی دلالت تسلیم نہ کیا جائے،،۔ یعنی منافق یہ سمجھتا ہے کہ نسبت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بغیر ہی احکام خداوندی پر عمل باعثِ ایمان ثابت ہوجائے گا۔ حالانکہ قرآن اسے ’’ منافقت،، کہہ کر رد کرچکا ہے۔ اسی تصور کو ایک اور مقام پر یوں بیان کیاگیا ہے۔ وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ تَعَالَوْا يَسْتَغْفِرْ لَكُمْ رَسُولُ اللَّهِ لَوَّوْا رُؤُوسَهُمْ وَرَأَيْتَهُمْ يَصُدُّونَ وَهُم مُّسْتَكْبِرُونَO اور (ان کی حالت تو یہ ہے کہ) جب ان سے کہا جاتا ہے کہ آؤ رسول اللہ تمہارے لئے ( اللہ سے) بخشش طلب فرمائیں تو (یہ گستاخی سے) سر ہلاتے ہیں اور آپ دیکھتے ہیں کہ وہ بے رخی کرتے ہیں اور وہ تکبر کرتے ہیںo (المنافقون، 63 : 5) ان گستاخان رسالت اور بے نیازاِن درِ نبوت کے بارے میں مزید حکم صادر کیا گیا۔ ’’ کہ اے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میری غیرت اور شان مجیت کا تقاضا یہی ہے کہ اگر یہ تیرے ذریعہ وواسطہ کو اپنا کر میری ذات تک پہنچیں گے تو انہیں بخش دوں گا۔ لیکن اس طرح تجھ سے منہ موڑ کر تجھ سے تکبر کرتے ہوئے، تجھے میری ذات تک رسائی کا واحد ذریعہ و واسطہ اور علامت نہ سمجھتے ہوئے براہ راست مجھ سے معافی مانگنا چاہیں یا تو سراپا رحمت و رافت ہونے کی بناء پر انکے غرور و تکبر کے باوجود اپنے طور پر ان کیلئے مغفرت مانگے تو میں ان بدبختوں کو پھر معاف نہیں کروں گا۔ ان کو تجھ سے منہ موڑنے کا مزہ چکھا کر ہی رہوں گا۔ سَوَاءٌ عَلَيْهِمْ أَسْتَغْفَرْتَ لَهُمْ أَمْ لَمْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ لَن يَغْفِرَ اللَّهُ لَهُمْ. آپ ان کے لئے بخشش مانگیں یا ان کے لئے بخشش نہ مانگیں ان کے حق میں برابر ہے اللہ ان کو ہرگز نہ بخشے گا۔ (المنافقون، 63 : 6) اگر یہ آپ کی سفارش، شفاعت اور غلامی کے ذریعہ کو ٹھکرا کر بھی بخشے جائیں تو پھر ان غلامانِ رسالت کا کیا حال ہوگا جو قدم قدم پر تیری بارگاہ میں نیاز مندیاں کرتے ہیں اور تجھے میری ذات کی علامت سمجھ کر تیرے واسطے سے مجھ تک پہنچتے ہیں۔ میں ان بدنصیبوں کو ان خوش نصیبوںکے برابر نہیں ٹھہرا سکتا اور پھر میرا دستور مغفرت ہی یہی ہے کہ لوگ بارگاہ رسالت کی وساطت سے مجھ تک پہنچیں۔ باری تعالیٰ خود اعلان فرماتے ہیں۔ وَمَا أَرْسَلْنَا مِن رَّسُولٍ إِلاَّ لِيُطَاعَ بِإِذْنِ اللّهِ وَلَوْ أَنَّهُمْ إِذ ظَّلَمُواْ أَنفُسَهُمْ جَآؤُوكَ فَاسْتَغْفَرُواْ اللّهَ وَاسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُولُ لَوَجَدُواْ اللّهَ تَوَّابًا رَّحِيمًاO اور ہم نے کوئی پیغمبر نہیں بھیجا مگر اس لئے کہ اللہ کے حکم سے اس کی اطاعت کی جائے اور (اے حبیب) اگر وہ لوگ اپنی جانوں پر ظلم کر بیٹھے تھے آپ کی خدمت میں حاضر ہو جاتے اور اللہ سے معافی مانگتے اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی ان کے لئے مغفرت طلب کرتے تو وہ (اس وسیلہ اور شفاعت کی بنا پر) ضرور اللہ کو توبہ قبول فرمانے والا نہایت مہربان پاتےo (النساء، 4 : 64) اس آیت کا مفہوم و مدعا سابقہ آیت کی روشنی میں سمجھا جائے تو حقیقت منکشف ہوجاتی ہے کہ لوگ ظلم ومعصیت کے بعد اگر ذات محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو واسطہ وصال الٰہی اور ذریعہ مغفرت حق مان کر در رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سرنیاز خم کردیں، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وساطت سے بارگاہ الوہیت تک رسائی کی آرزو کریں اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ذریعہ و واسطہ سمجھنے سے انکاری ہوں بلکہ آپ کی سفارش سے ہی منہ پھیر لیں تو پھر کوئی صورت نہیں کہ وہ بخشے جائیں۔ اس لیے کہ اندریں صورت میں ان کی بخشش سنت الٰہی کے خلاف ہے اور ارشاد ایزدی ہے۔ وَلَن تَجِدَ لِسُنَّةِ اللَّهِ تَبْدِيلًاO اور آپ اللہ کی سنت میں کبھی فرق نہ پائیں گےo (الفتح، 48 : 23) متذکرہ بالا آیات نے اس حقیقت کو اظہر من الشمس کردیا کہ ذات حق تک رسائی کے لیے صرف اور صرف ذات محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی واسطہ و ذریعہ ہے۔ اسی وجہ سے آپ کو تسمیہ میں ’’ کلمہ اسم،، سے تعبیر کردیا گیا اور آپ کو علی الاطلاق برھان من ربکم (تمہارے رب کی طرف سے حتمی و قطعی دلالت) کے لقب سے سرفراز کیا گیا ہے۔ چنانچہ بسم اﷲ الرحمن الرحیم کی اولین تعلیم ہی یہی تھی کہ ذات باری تعالیٰ اور اس کی صفاتِ کاملہ تک رسائی واسطہ و علامت کے بغیر ممکن نہیں اور وہ واسطہ جلیل ذات محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے جسے اس ذات نے محمد، احمد، حامد اور محمود کے اسماء مبارکہ کے ذریعے اپنی شان اسمیت سے نواز رکھا ہے۔ ذات محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور شان اسمیت : مذکورہ بالا تحقیق کا خلاصہ یہ ہوا کہ جناب مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ’’اسم،، ہیں کیونکہ ان کو اﷲ سے نسبت ہے اور ساری مخلوق خدا کو ان سے نسبت ہے یہی اسم کی شان اور تعریف پہلے بیان ہوچکی ہے کہ وہ مسند بھی ہوتا ہے اور مسندالیہ بھی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی اسی حیثیت کو اسطرح واضح فرمایا : إنما أنا قاسم واﷲ يعطي. بے شک نعمتوں کو مخلوق خدا میں تقسیم میں ہی کرنے والا ہوں اور مجھے عطا اﷲ تعالیٰ کرتاہے۔ (صحيح المسلم، 2 : 333، 12. کتاب الزکوة، 33. باب النهی عن المسألة، رقم حديث : 100) اس حدیث صحيح کے ذریعے ذات محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دو نسبتیں واضح ہوگئیں۔ 1۔ نسبت الی الخالق۔ 2۔ نسبت الی الخلق ’’نسبت الی الخالق،، یہ ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خالق سے حاصل کرتے ہیں اور ’’ نسبت الی الخلق،، یہ ہے کہ مخلوق میں تقسیم فرماتے ہیں۔ سورہ الضحٰی میں یہی دو نسبتیں خاص انداز سے بیان کی گئی ہیں۔ وَلَسَوْفَ يُعْطِيْکَ رَبُّکَ فَتَرْضٰیO اَلَمْ يَجِدْکَ يَتِيْمًا فَاٰوٰیO وَوَجَدَکَ ضَآلًا فَهَدَیO وَوَجَدَکَ عَآئِلًا فَاَغْنٰیO اور بے شک قریب ہے کہ آپ کا رب آپ کو اتنا دے گاکہ آپ راضی ہوجائیں گے کیا اﷲ نے آپ کو حالت یتیمی میں نہ پایا۔ پس اس نے آپ کو بلند مقام سے سرفراز کردیا اور اس نے آپ کو اپنی محبت میں خود رفتہ پایا۔ پس اپنا قرب و وصال عطا کردیا اور اس نے آپ کو اپنی نعمتوں کا ضرورت مند اورطلبگار پایا تو اتنا عطا کیا کہ غنی اور مالدار کردیا۔ (الضحٰی، 93 : 5 - 8) ان آیات میں پہلی نسبت کا بیان تھا کہ جس جس چیز کی ضرورت ذات مصطفوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو محسوس ہوئی رب ذوالجلال نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عطا کردی۔ اپنی نعمتوں اور عطاؤں کے خزانے نے ذات نبوی پر اس طرح کھول دیئے کہ انہیں ’’غنی،، یعنی بے نیاز کردیا۔ اب مخلوق خدا کو حکم دیاکہ میری نعمتوں اور عطاؤں کو حاصل کرنا چاہتے ہوتو تمہارے لیے واسطہ اتم مقرر فرمادیا ہے۔ جاؤ درِ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر حاضری دو، وہاں دامن سوال دراز کرو، جو کچھ مانگو وہی کچھ ملے گا۔ کیونکہ ہم نے عطا میں کوئی کمی نہیں کی، وہ تقسیم میں بھی کچھ نہیں کریں گے۔ ساتھ ہی ’’نسبت الی الخلق، ’ کے حوالے سے اپنے اسم مقدس کو حکم صادر فرمایا : فَاَمَّا الْيَتِيْمَ فَلَا تَقْهَرْO وَاَمَّا السَّآئِلَ فَلَا تَنْهَرْO وَاَمَّا بِنِعْمَة رَبِّکَ فَحَدِّثْO پس اے محبوب، اے تقسیم کرنے والے، اب اگر آپ کے پاس کوئی یتیم آئے تو اس (کے مانگنے) پر ناراض نہ ہوں، اور جو کوئی سائل آپ کے در پر آئے۔ پس اسے خالی نہ موڑیے اور اپنے رب کی عطاؤں اور نعمتوں کو ہر ایک میں تقسیم کرکے خوب چرچا کرو۔ (الضحٰی، 93 : 9 - 11) لہذا ذات محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان اسمیت یہ قرار پائی کہ ’’نسبت الی الخالق،، کے نتیجے میں ساری کائنات میں انعامات الٰہیہ کی تقسیم کے فیضان رحمت کے مظہر اتم بن گئے اور ’’نسبت الی الخلق،، کے نتیجے میں ساری کائنات میں انعامات الٰہیہ کی تقسیم کے ضامن بن گئے بقول مولانا احمد رضا خان : بخدا، خدا کا یہی ہے در، نہیں اورکوئی مفر مقر جو وہاں سے ہو یہاں آکے ہو، جو یہاں نہیں تو وہاں نہیں سورۃ الضحٰی کی آیت متذکرہ 8 اور 10 اور حدیث مذکورہ بالا دونوں مقامات میں نہ ’’عطا،، میں تخصیص فرمائی گئی ہے اور نہ تقسیم میں۔ عطا بھی مطلق اور بلاقید ہے۔ تقسیم بھی مطلق اور بلاقید ہے۔ اسی طرح سائلان و وابستگان پر بھی کوئی پابندی عائد نہیں کی گئی کہ تم کیا مانگو اور کیا نہ مانگو۔ جو کچھ بھی مانگو گے، دنیا مانگو یا آخرت، سب کچھ ملے گا کیونکہ ہم نے اپنے محبوب کو بلا استثنٰی تمہاری ضرورتوں سے بھی زیادہ عطا کر دیا ہے۔ پھر اس سے قبل یہ بھی اعلان فرما دیاگیا۔ وَلَلْاٰخِرَة خَيْرٌ لَّکَ مِنَ الْاٰوْلٰیO اے محبوب! تمہاری ہر آنے والی گھڑی، گزری ہوئی گھڑی سے بہتر ہوگی۔ (الضحٰی، 93 : 4) یعنی آپ پر ہر آن ہماری عطاؤں کا سلسلہ بڑھتا رہے گا۔ جب عطاؤں میں کمی نہیں آسکتی اسی طرح تقسیم میں بھی کمی یا رکاوٹ نہیں آنی چاہیے۔ چنانچہ ابدالآباد تک ذات محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یہ دونوں نسبتیں ( نسبت الی الخالق۔ ۔ ۔ جو حصول فیضان سے عبارت ہے اور نسبت الی الخلق۔ ۔ ۔ جو تقسیم فیضان سے عبارت ہے) قائم و دائم رہیں گی۔ اس لیے قرآن کے پیغام ابدی کے ساتھ ساتھ مخلوق خدا کے لیے اسم مقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فیضان وساطت و رسالت بھی جاری و ساری رہے گا۔ حرفِ جار کی نسبت ایک لطیف نکتہ : یہاں یہ امر بھی ذہن نشین رہنا چاہیے کہ تسمیہ میں کلمہ اسم کو حرف جار (باء) سے منسلک کیا گیا ہے ’’جر،، کے معنی کشش اور جذب کرنے کے ہوتے ہیں۔ حرف جار کشش کے لیے مقرر ہے چونکہ حرف جار فعل محذوف کو اسم سے ملانے کے لیے واقع ہوا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ جو بھی ذات حق کا ماسوی ہے اور اسے ذات باری تعالیٰ کا قرب و وصال اور معرفت و اعانت مطلوب ہے۔ وہ ذات محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جسے بطور علامت عنوان ’’اسم،، کے تحت بیان کیا گیا ہے جذب وکشش پیدا کرلے۔ اسے جس قدر ذات محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا قرب اور جذب و کشش نصیب ہوگی اسی قدر ذات حق کی محبوبیت کا سزا وار ہوتا چلا جائے گا۔ جیسے کہ ارشاد خداوندی ہے۔ قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اﷲَ فَاتَّبِعُوْنِیْ يُحْبِبْکُمُ اﷲُ. (اے حبیب!) آپ فرما دیں اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو تب اللہ تمہیں (اپنا) محبوب بنالے گا۔ (آل عمران، 3 : 31) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی اسی شان کریمی کا ذکر کرتے ہوئے یوں فرمایا : مثلی کمثل رجل استوقد ناراً فلما أضاء ت ماحولها جعل الفراش و هذه الدوآب التی فی النار يقعن فيها و جعل يحجزهن و يغلبنه فيتقحمن فيها قال فذلکم مثلي و مثلکم أنا أخذ بحجرکم عن النارهلم عن النارهلم عن النار فتغلبوني و تقحمون فيها. (صحيح لمسلم، 2 : 248، 43. کتاب الصقائل، 6. باب شفقة صلي الله عليه وآله وسلم علي امته، رقم : 18) حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا میری مثال اس شخص کی طرح ہے جس نے آگ جلائی اور جب اس آگ نے ماحول کو روشن کر دیا تو اس میں پروانے اور حشرات الارض گرنے لگے وہ شخص ان کو آگ میں گرنے سے روکتا ہے اور وہ اس غالب آکر آگ میں دھڑا دھڑ گر رہے ہیں پس یہ میری مثال اور تمہاری مثال ہے میں تمہاری کمر پکڑ کر تم کو جہنم میں جانے سے روک رہا ہوں اور کہہ رہا ہوں کہ جہنم کے پاس سے چلے آؤ اور تم لوگ میری بات نہ مان کر جہنم میں گرے جا رہے ہو۔ اس حدیث کے ذریعے اس جذب و کشش کی ماہیت بھی واضح ہوگئی جو کلمہ کے باعث اسم مقدس میں پیدا ہو گئی تھی۔ اسم نحوی کا خاصہ جر من حیث الوقع ہے اور اسم الٰہی کا خاصہ جرمن حیث الصدور ہے۔ خلاصہ کلام یہ ہوا کہ بسم اﷲ الرحمن الرحیم کے ذریعے باری تعالیٰ نے ’’توحیدِخالص،، کی تعلیم دی لیکن اس کی صحت وقبولیت کی شرط بھی متعین فرما دی اور وہ شرط واسطہ رسالت محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے۔ اسی لیے اسم ذات ’’اﷲ،، کو علی التخصیص الرحمن الرحیم کے ذریعے صفتِ رحمت سے اجاگر کیا تاکہ ’’شانِ اسمیت،، کے معنی ومفہوم پر بھی دلالت ہوجائے کہ اسمِ مقدس کا کامل ترین مدلول ذات محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے۔ فسلفہ تسمیہ از ڈاکٹر طاہر القادری

منتخب تحریریں

تسمیہ کی ترکیب نحوی اور ایک لطیف نکتہ بسم اللّٰہ الرحمن الرحیم میں ’’حرف باء،، جار ہے، ’’اسم،، مجرور اور مضاف، ’’لفظ اللہ،، مضاف الیہ اور موصوف ہے، لفظ ’’الرحمن الرحیم،، دونوں یکے بعد دیگرے موصوف یعنی اللہ کی صفات ہیں۔ موصوف (اللہ) اپنی دونوں صفات (الرحمن الرحیم) کے ساتھ مل کر اسم کا مضاف الیہ بن گیا اور مضاف (اسم) اپنے مضاف الیہ (اللہ الرحمن الرحیم) سے مل کر جار یعنی ’’حرف باء،، کا مجرور ہو گیا۔ اب اس حرف باء (جار) کا ایک متعلق ہے جو فعل محذوف ہے۔ وہ یہاں أشرع، أبدا يا أقراء وغیرہ ہو سکتا ہے۔ چنانچہ جار و ’’مجرور،، اور ’’فعل محذوف،، جس میں فاعل بھی ہے۔ سب مل کر ’’جملہ فعلیہ خبریہ،، پر منتج ہو گئے۔ اس کی دوسری صورت یہ بھی ہے کہ یہاں فعل محذوف صیغہ امر أبدا يا أقراء کو مانا جائے۔ اس طرح تسمیہ، ’’جملہ فعلیہ انشائیہ،، قرار پائے گا۔ یہاں ایک لطیف نکتہ قابل غور ہے کہ تسمیہ کا ’’جملہ فعلیہ خبریہ یا جملہ فعلیہ انشائیہ،، ہونا فعل محذوف کی نوعیت پر مبنی تھا۔ اگر فعل محذوف کی بجائے زیادہ توجہ حرف باء کے مفہوم اور اس کی نوعیت کے تعین پر کی جائے جیسے کہ بعد میں بیان کیا جائے گا تو تسمیہ کا کلام ہر صورت میں ’’دعائیہ،، قرار پا جاتا ہے کیونکہ یہاں حرف باء تین حالتوں میں سے یقیناً کسی نہ کسی ایک حالت کا حامل ہے اور وہ ہیں۔ ’’الصاق و مصاجت،، ’’استمداد و استعانت،، اور ’’تبرک و تیمن،، لہذا ’’بائ،، مذکورہ بالا میں سے جس حالت پر بھی دلالت کرے۔ کلام تسمیہ ایک ’’دعا،، بن جاتی ہے اور یہی مقصود الٰہی ہے۔ تسمیہ کی شرعی حیثیت : بسم اﷲ الرحمن الرحیم کے الفاظ کو اصطلاح میں ’’تسمیہ،، کہا جاتا ہے۔ یہی تسمیہ ایک آیت کے حصے کے طور پر قرآن حکیم کی سورۃ النمل میں وارد ہوا ہے۔ اس لحاظ سے یہ بالاتفاق حصہ قرآن بھی ہے۔ ارشاد باری تعا لیٰ ہے۔ إِنَّهُ مِن سُلَيْمَانَ وَإِنَّهُ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِO (النمل، 27 : 30) بے شک وہ (خط) سلیمان کی جانب سے (آیا) ہے اور وہ اللہ کے نام سے شروع (کیا گیا) ہے جو بے حد مہربان بڑا رحم فرمانے والا ہےO آئمہ فقہ میں سے شوافع اسے سورۃ الفاتحہ کاجزو قرار دیتے ہیں۔ جب کہ بعض علماء ہر سورت سے پہلے بسم اﷲ وارد ہونے کی بناء پر سوائے سورۃ برات کے اسے ہر سورت کا جزو تسلیم کرتے ہیں۔ ان میں ابن عباس رضی اللہ عنہ، ابن عمر رضی اللہ عنہ، ابن زبیر رضی اللہ عنہ، ابوہریرۃ رضی اللہ عنہ اور تابعین میں سے عطاء رحمۃ اللہ علیہ، طاؤس رحمۃ اللہ علیہ، سعید بن جبیر رحمۃ اللہ علیہ، مکحول رحمۃ اللہ علیہ اور زہری رحمۃ اللہ علیہ و غیرہم کے اسماء بیان کیے جاتے ہیں۔ امام عبداﷲ بن مبارک رحمۃ اللہ علیہ، امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ اور امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ سے بھی ایک قول اسیطرح منقول ہے۔ قول معروف اور مذہب مختار یہ ہے کہ بسم اﷲ قرآن کا حصہ ہے۔ لیکن سورۃ الفاتحہ یا دوسری سورتوں کا جزو نہیں بلکہ ہر سورت سے پہلے اسے محض امتیاز و انفصال اور تیمن و تبرک کے لیے بیان کیا گیا ہے۔ عبداﷲ بن عباس رضی اللہ عنہ سے اسناد صحيح کے ساتھ مروی ہے : کان المسلمون لايعرفون انقضاء السورة، (وفي رواية لايعرفون فصل السورة) حتي تنزل بسم اﷲ الرحمن الرحيم فاذا نزلت عرفوا ان السورة قد انقضت، وفي رواية ان السورة قد ختمت واستقبلت اوابتداء ت سورة اخري. مسلمانوں دو سورتوں کے درمیان فرق و انفصال کا پتہ نہیں چلتا تھا۔ چنانچہ بسم اﷲ الرحمن الرحیم کے نازل ہونے سے ایسی حد فاصل قائم ہوئی کہ لوگوں کو اس کے ذریعے ہرایک سورت کے شروع ہونے یا ختم ہونے اور دوسری کے شروع ہونے کی معرفت حاصل ہوگئی۔ 1. سنن ابی داؤد، 1 : 122، کتاب الصلاة، باب من جهربها، رقم : 788 2. السنن الکبری للبيهقی، 2 : 43 3. المستدرک للحاکم، 1 : 231، 232، رقم 845، 846 مدینہ، بصرہ اور شام کے قراء و فقہاء بھی اسی قول کے موید ہیں کہ ’’ بسم اﷲ،، ’’سورۃ النمل،، میں وارد ہونے کے اعتبار سے ایک مرتبہ تو قرآن کی مستقل آیت ہے۔ لیکن باقی تمام سورتوں سے اس کا ورود محض علامت فصل کے طور پر ہے تاکہ اس کے ذریعے دو متصل سورتوں کے درمیان واضح فرق کا پتہ چل جائے۔ امام ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ، امام مالک رحمۃ اللہ علیہ، امام سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ، امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ، امام اوزاعی رحمۃ اللہ علیہ وغیرہم کا مذہب بھی یہی ہے۔ نماز میں قراتِ تسمیہ کا حکم : تسمیہ کی شرعی حیثیت کے تحت تسمیہ کا سورہ فاتحہ کا حصہ نہ ہونا اس امر سے بھی مترشح ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جہر ی نمازوں میں قرات بالجہر کا آغاز ’’ الحمد ﷲ رب العالمین،، سے کرتے تھے۔ بسم اﷲ کی قرات جہراً نہ فرماتے تھے۔ اس سلسلے میں چند احادیث ملاحظہ ہوں۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے : ان النبی صلی اﷲ عليه وسلم وابابکر و عمر و عثمان کانوا يفتتحون القراة بالحمد ﷲ رب العلمين وزاد مسلم لايذکرون بسم اﷲ الرحمن الرحيم فی اول قرأة ولا فی آخرها سنن دارمی میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ، اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ جہری قرات کا آغاز الحمدﷲ سے فرمایا کرتے تھے صحيح مسلم کے مزید الفاظ یہ ہیں کہ پہلی اور دوسری مرتبہ دونوں قراتوں میں (جہرا) بسم اﷲ نہیں پڑھتے تھے۔ 1. صحيح لمسلم، 1 : 172، کتاب الصلاة، رقم : 52 2. مسند احمد بن حنبل، 3 : 101، 114 3. سنن الدارمی، 1 : 300 مطبوعه، دارالقلم دمشق 4. سنن النساءی، 2 : 97، رقم : 902 سعید بن منصور سنن میں ابووائل رضی اللہ عنہ سے اسناد صحيح کے ساتھ روایت کرتے ہیں۔ کانوا يسرون التعوذ والبسملة فی الصلٰوة. صحابہ کرام نماز میں تعوذ اور تسمیہ آہستہ پڑھتے تھے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ اسنادِ صحيح کے ساتھ روایت کرتے ہیں۔ قال صليت خلف رسول اﷲ صلي اﷲ عليه وسلم وابي بکر وعمر وعثمان (رضي الله عنهم) فلم أسمع أحدا منهم يجهرء بسم اﷲ الرحمن الرحيم. انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، ابوبکر رضی اللہ عنہ، عمر رضی اللہ عنہ اور عثمان رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی ہے۔ میںنے ان میں سے کسی کو بھی جہراً بسم اﷲ پڑھتے نہیں سنا۔ (سنن نسائی، 2 : 99، رقم : 907) آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکی دور میں ابتداًء دوران نماز بسم اﷲ جہراً پڑھتے تھے۔ اس پر مشرکین مکہ استہزاء کرتے کیونکہ وہ ’’مسلیمہ کذاب،، کو رحمن کہتے تھے اور بسم اﷲ الرحمن الرحیم سن کر وہ طعنہ دیتے کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اہل یمامہ کے معبود ’’مسلیمہ کذاب،، کی طرف بلاتے ہیں۔ اس پر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کو بسم اﷲ کی قرأت آہستہ کرنے کا حکم صادر فرمایا۔ حدیث کے الفاظ یہ ہیں۔ فامر رسول اﷲ صلی اﷲ عليه وسلم باخفائها فما جهر بها حتٰی مات. لہذا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم صادر فرمایا کہ بسم اﷲ الرحمن الرحیم پوشیدہ پڑھا کرو، پھر تاوقتِ وفات کبھی نماز میں بسم اﷲ پکار کر نہیں پڑھی۔ (طبرانی) حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ فلما نزلت هذه الاية أمر رسول اﷲ صلی اﷲ عليه وسلم ان لايجهربها. جب آیت بسم اﷲ نازل ہوئی تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ بسم اﷲ بلند آواز سے نہ پڑھی جائے۔ (طبرانی) اسی طرح صحيح بخاری، صحيح مسلم اور طبرانی کے علاوہ مصنف ابن ابی شیبہ، ترمذی، ابوداؤد، نسائی، ابن ماجہ، ابن خزیمہ، اور بیہقی وغیرہ متعدد کتب حدیث میں اس امر کی صراحت موجود ہے کہ تسمیہ کی قرات سورہ فاتحہ یا کسی اور سورت کے حصے کے طور پر نہیں بلکہ الگ حیثیت سے کی جاتی تھی۔ اگر یہ حصہ سورۃ فاتحہ ہوتی تو یقیناً اس کی قرات بھی اس کے ساتھ بلند آواز سے کی جاتی۔ جن روایات میں بسم اﷲ کی قرات کا دوران نماز بلند آواز سے ہونا مذکور ہے وہ مکی دورکے اوائل ایام سے متعلق ہیں۔ لیکن بعد میں صراحت کے ساتھ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پکار کر پڑھنے کی ممانعت فرما دی۔ لہذا تسمیہ کا نماز میں پڑھا جانا تلاوتِ قرآن کے آغاز و افتتاح کے طور پر ہے۔ کیونکہ حمد وثناء کے بعد جب سورہ فاتحہ کی قرات شروع ہوتی ہے تویہی دوران نماز تلاوت قرآن کا آغاز ہے اور یہاں بھی یہ حکم ہے کہ تلاوت قرآن کا آغاز پہلے تعوذ ( اعوذ باﷲ من الشیطن الرجیم ) اور پھر تسمیہ (بسم اﷲ الرحمن الرحیم) سے کیا جائے۔ تسمیہ سے ہرکام کے آغاز کا حکم (تاریخی پس منظر) : شریعتِ اسلامیہ میں ہمیشہ سے یہی تعلیم دی جاتی رہی ہے کہ ہر جائز اور مشروع کام کا آغاز خدا کے نام سے کیا جائے۔ 1۔ جب نوع علیہ السلام نے طوفان سے بچاؤ کے لیے اِذنِ الٰہی کے مطابق کشتی تیار کرلی اور اپنے ساتھیوں کو اس میں سوار کرلیا تو کشتی چلانے سے قبل فرمایا : وَقَالَ ارْكَبُواْ فِيهَا بِسْمِ اللّهِ مَجْرِهَا وَمُرْسَاهَا إِنَّ رَبِّي لَغَفُورٌ رَّحِيمٌO (هود، 11 : 41) اور نوح نے کہا تم لوگ اس میں سوار ہو جاؤ، اللہ ہی کے نام سے اسکا چلنا اور اسکا ٹھہرنا ہے بے شک میرا رب بڑا ہی بخشنے والا نہایت مہربان ہےo 2۔ اسی طرح حضرت سلیمان علیہ السلام نے ملکہ صبا کو جو تبلیغی خط لکھا۔ اس کا آغاز بھی انہی مبارک کلمات سے کیا گیا تھا۔ إِنَّهُ مِن سُلَيْمَانَ وَإِنَّهُ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِO بے شک وہ(خط) سلیمان کی جانب سے (آیا) ہے اور وہ (اللہ کے نام سے شروع (کیا گیا) ہے جو بے حد مہربان بڑا رحم فرمانے والا ہےo (النمل، 27 : 30) 3۔ عہد عیسوی میں بھی ان کلمات کی برکات و تاثیرات کا پتہ چلتا ہے۔ اسرائیلیات میں ایک روایت مذکور ہے کہ عیسٰے علیہ السلام کا ایک قبر پر گزر ہوا۔ آپ نے فرشتوں کو دیکھا کہ وہ صاحب قبر پر عذاب کررہے ہیں۔ جب دوسری مرتبہ گزر ہوا تو دیکھا کہ رحمت کے فرشتے نور کے طبق اس پر پیش کر رہے ہیں۔ آپ کو بہت تعجب ہوا، نماز پڑھی اور کشف حال کے لیے دعا کی۔ فاوحي اﷲ تعالٰي إليه : يا عيسٰي، کان هذا العبد عاصياً و مذمات کان محبوسا في عذابي، وکان قد ترک إمراة حبلٰي فولدت ولدا وربته حتٰي کبر، فسلمته الٰي الکتاب فلقنة المعلم بسم اﷲ الرحمن الرحيم فاستحييت من عبدي إن أعذبه بناري في بطن الأرض وولد يذکر إسمي علي وج الارض. (التفسيرالکبير، 1 : 172) پس اﷲ تعالیٰ نے وحی کی انکی طرف کہ اے عیسٰی علیہ السلام یہ بندہ گناہ گار تھا اور اپنی موت کے دن سے میرے عذاب میں گرفتار تھا۔ وقتِ مرگ اس کی بیوی حاملہ تھی۔ جس نے بعد میں ایک بچہ پیدا کیا۔ اس کی ماں نے اسے پالا اور معلمِ دین کے سپرد کر دیا۔ اس معلم نے جب اس بچے کو بسم اﷲ الرحمن الرحیم پڑھائی تو ہم کو شرم آگئی کہ اس کا باپ قبر میں عذاب میں مبتلا رہے اوراس کا بیٹا زمین پر ہمارے نام کا ذکر کرے پس ہم نے اس کو بخش دیا۔ 4۔ اسی طرح حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی ہرکام سے پہلے بسم اﷲ پڑھنے کا حکم صادر فرمایا۔ چنانچہ یہ حکم بعض معاملات میں ’’واجب،، کا درجہ رکھتا ہے۔ بعض میں ’’سنت،، کا اور بعض میں ’’مستحب،، کا۔ قرآن حکیم میں ارشاد فرمایا گیا : فَکُلُوْا مِمَّا ذُکِرَ اسْمُ اﷲِ عَلَيْهِ. (الانعام، 6 : 118) سوتم اس(ذبیحہ) سے کھایا کرو جس پر (ذبح کے وقت) اللہ کا نام لیا گیا ہو۔ اس سے آگے مزید حکم دیا گیا۔ وَمَالَکُمْ اَلَّا تَاکُلُوْا مِمَّا ذُکِرِاسْمُ اﷲِ عَلَيْهِ. (الانعام، 6 : 119) اور تمہیں کیا ہے کہ تم (ذبیحہ) سے نہیں کھاتے جس پر (ذبح کے وقت) اللہ کا نام لیا گیا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : کل أمر ذي بال لايبداء فيه بسم اﷲ الرحمن الرحيم فهو أجزم. جو کام بسم اﷲ الرحمن الرحیم سے شروع نہ کیا جائے وہ ناقص رہتا ہے یعنی اپنے کمال کو نہیں پہنچ سکتا۔ 1. سنن ابن ماجه، 1 : 610، رقم : 1894 2. المعجم الکبير، 19 : 68، رقم : 141 3. کنزالعمال، 1 : 555، رقم : 2491 اس حدیث کا مفہوم اس طرح سمجھیں جیسے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : لا وضوء لمن لم يذکر اسم اﷲ عليه. اس شخص کا وضو نہیں جس نے اس پر بسم اﷲ نہ پڑھی۔ مسند احمدبن حنبل، 2 : 418 مسند احمدبن حنبل، 3 : 41 مسند احمدبن حنبل، 4 : 70 مسند احمدبن حنبل، 5 : 381 مسند احمدبن حنبل، 6 : 397 اس کا مطلب ہرگز نہیں کہ بسم اﷲ کے نہ پڑھنے سے وضو کی فرضیت ہی ناقص رہ جاتی ہے بلکہ فرض توادا ہو جاتا ہے۔ لیکن سنن و مستحبات کی شمولیت سے جوکمال نصیب ہوتا ہے اس سے محروم رہ جاتا ہے۔ اسی طرح ہر فعل جو بغیر بسم اﷲ کے شروع کیا جائے۔ ممکن ہے کہ دینوی لحاظ سے مطلوبہ نتائج کے حصول میں تو ناکام نہ ہو لیکن اپنے اجرو ثواب کے اعتبار سے عنداﷲ کامل نہ ہوگا۔ اسی روحانی کمال اور نقص کی طرف متذکرہ بالا حدیث میں ارشاد فرمایا گیا ہے۔ آپ غور فرمائیں کہ کلام الٰہی جو سراسر خیر وبرکت ہے۔ جب اس کے پڑھنے سے بھی پہلے بسم اﷲ کا پڑھنا بطور شرط لازم ہے تو دیگر امور حیات سے قبل تسمیہ کا پڑھا جانا کس قدر ضروری ہوگا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اپنی عملی مداومت بھی اسی اصول پر تھی۔ 5۔ حتی کہ باری تعالیٰ نے خود اپنے کلام مبارک کے نزول کے آغاز و افتتاح کے لیے جو کلمات منتخب فرمائے وہ بھی ’’تسمیہ،، کی نوعیت کے تھے۔ غارحرا میں گونجنے والی سب سے پہلی قرآنی صدا بھی یہ تھی۔ اِقْرَأ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَO اے محمد آپ پڑھیے اپنے رب کے نام کے ساتھ جس نے آپ کو اور سب کو پیدا کیاo (العلق، 96 : 1) گویا آداب قرات میں سب سے پہلا قرینہ بسم اﷲ سے شروع کرنا تھا اور اسی قرینہ کے مطابق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے قرات کا آغاز کرایا گیا۔ مفسرین عام طور پر بسم اﷲ کو معنوی وسعت کے اعتبار سے تمام قرآنی علوم کی جامع قرار دیتے ہیں۔ امام فخرالدین رازی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں۔ کل العلوم مندرج فی الکتب الاربعة وعلومها فی القرآن، وعلوم القرآن فی الفاتحة وعلوم الفاتحة فی (بسم اﷲ الرحمن الرحيم) و علومها فی الباء من بسم اﷲ تمام علوم و معارف چار الہامی کتابوں میں درج کیے گئے ہیں اور ان کے تمام علوم قرآن میں اور قرآن کے تمام علوم سورۃ الفاتحہ میں اور سورۃ الفاتحہ کے تمام علوم بسم اﷲ الرحمن الرحیم میں، اور اس کے تمام علوم بائے بسم اﷲ میں۔ (تفيسر کبير، 1 : 99) چنانچہ تسمیہ کی ہمہ پہلو تفسیر اسی طرح ناممکن ہے جیسے پورے قرآن کی۔ تاہم یہاں اس کے چند گوشوں پر کچھ روشنی ڈالی جاتی ہے۔ حذفِ فعل کی حکمت : قرآن میں تسمیہ کا بیان اس طرح ہے بسم اﷲ الرحمن الرحیم۔ اﷲ کے نام سے (شروع کرتا ہوں) جونہایت مہربان رحمت والا ہے۔ یہاں ایک خاص امر قابل توجہ ہے کہ قرآنی عبارت میں ’’شروع کرتاہوں،، کے لیے کوئی لفظ یا کلمہ استعمال نہیں ہوا۔ ترجمے میں یہ الفاظ معنوی طور پر از خود تصور کیے جاتے ہیں۔ درحقیقت قرآن کے اس انداز میں خاص حکمت پنہاں ہے۔ اگر قرآن ’’شروع کرتا ہوں،، کے الفاظ اپنی عبارت میں استعمال کرتا تو اس کی صورت یہ ہوتی أبداء. . . أشرع يا أبداء (میں آغاز کرتا ہوں)۔ ان میں ہر لفظ فعل اور فاعل دونوں کا جامع ہوتا۔ عام طور پر یہی عربی ادب کا اسلوب ہے کہ فعل اور فاعل اکٹھے ہوا کرتے ہیں۔ اب اس کی دو ہی صورتیں ممکن تھیں۔ 1۔ ایک یہ کہ ابداء وغیرہ کا لفظ بسم اﷲ سے پہلے استعمال کیا جاتا۔ 2۔ دوسری یہ کہ ایسا لفظ بسم اﷲ کے بعد استعمال ہوتا۔ لیکن قرآن نے اسے ہر صورت میں ہی محذوف اور مضمر کردیا۔ اس کی چند حکمتیں ہیں۔ ان حکمتوں کے بیان سے قبل یہ اصول ذہن نشین ہوجانا چاہیے کہ بعض اوقات عربی عبارت میں ایسے حروف استعمال ہوتے ہیں جن سے پہلے کوئی فعل محذوف تصورکیا جاتا ہے یعنی اس کا شمار معنی میں تو ہوتا ہے لیکن عبارت میں نہیں۔ جیسا کہ قرآن مجید میں اس کی مثال واضح ہے : اِذْ قَالَ رَبُّکَ لِلْمَلَآ ئِکَة. اور (وہ وقت یاد کریں) جب آپ کے رب نے فرشتوں سے فرمایا۔ (البقرة، 2 : 30) یہاں قاعدہ نحو کے مطابق اذ سے پہلے اُذْکَرْ فعل محذوف ہے۔ جس کا معنی ہے ’’یاد کرو،، جب تمہارے رب نے فرشتوں سے کہا۔ اسی طرح حرف باء جس سے تسمیہ کا آغاز ہو رہا ہے، سے بھی پہلے ایک فعل محذوف ہے جس کا ذکر اوپر کیا جاچکا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس فعل کو محذوف رکھنے میں کیا حکمت پوشیدہ ہے۔ پہلی حکمت : اگر ابداء یا اس جیسا کوئی لفظ بسم اﷲ سے پہلے وارد ہوتا تو یہ امر واضح تھا کہ اس کا فاعل وہ شخص خود ہی ہوتا جو قرآن کی تلاوت یا کسی دوسرے کام کا آغاز کررہا تھا۔ ابداء کا فاعل اﷲ تعالیٰ کسی لحاظ سے بھی نہ ہوسکتا تھا۔ باری تعالیٰ چونکہ تعلیم یہ دینا چاہتے تھے کہ قرآن کی تلاوت ہویا کوئی اور جائز کام، اس کا آغاز اﷲ کے نام سے ہی ہونا چاہیے۔ کیونکہ اس مخصوص ادب معاشرت کی تعلیم کلمات تسمیہ کے ذریعے دی جا رہی تھی۔ اس لیے یہ ہرگز مناسب نہ تھا کہ خود ان ہی کلمات کا آغاز اﷲ کے نام کے علاوہ کسی دوسرے کے ذکر سے ہوتا۔ چنانچہ اس مخصوص ادب اور ضابطہ عمل کی تعلیم بھی اسی انداز سے دی گئی کہ اظہار مدعا کا آغاز بھی براہ راست اﷲ ہی کے ذکر سے ہو۔ کسی اور کے ذکر سے نہیں۔ کیونکہ اسی طرح کمال برکت کاحصول ممکن ہے۔ دوسری حکمت : صیغہ متکلم واحد کا استعمال ہوتا یا جمع کا، دونوں صورتوں میں قائل اپنا اور اپنے فعل کا ذکر اسم باری تعالیٰ پر مقدم کرتا۔ یہ امر ادب واحترام کی اعلٰی منزلوں کے منافی تھا۔ یہ لحاظ عام گفتگو میں بھی رکھا جاتا ہے کہ اگر قائل کسی کام کے ضمن میں اپنے علاوہ دوسرے افراد کا ذکر بھی مشترکہ طور پر کرنا چاہتا ہوتو پہلے دوسروں کا نام لیا جاتا ہے اور آخر میں متکلم اپنا نام لیتا ہے کیونکہ یہ آداب تہذیب کلام کا حصہ ہیں۔ اپنا نام لینا معیارِ لطافت کے خلاف ہے۔ اسی طرح کسی کام میں افضل پر مفضول کی سبقت بھی خلاف ادب تصورکی جاتی ہے۔ اس کی ایک مثال قرآن حکیم سے بیان کی جاتی ہے کہ بعض لوگوں نے عہد رسالت میں عیدالاضحی کے دن آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پہلے قربانی کردی اس پر یہ آیت نازل ہوئی : يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌO اے ایمان والو! تم اللہ اور رسول سے (کسی معاملہ میں) سبقت نہ کیا کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو بے شک اللہ سننے والا اور خوب جاننے والا ہےo (الحجرات، 49 : 1) اﷲ تعالیٰ نے باوجود اس کے کہ ان کا عمل حکم الٰہی کی اطاعت پر مشتمل تھا اور وہ خون بھی محض رضائے الٰہی کی خاطر بہایا گیا تھا جو کہ خالصتاً عبادت تھا۔ لیکن ان سے خطا صرف یہ سرزد ہوئی کہ وہ عمل میں وقتی طور پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر تقدم کر بیٹھے تھے۔ یہی بات اﷲ تعالیٰ کو رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعظیم وادب کے منافی معلوم ہوئی۔ انہیں قربانیاں پھر سے کرنے کا حکم صادر کیا گیا اور آئندہ کے لیے حکماً اس اقدام کے امکان کو بھی ختم کردیا گیا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بعض لوگ رمضان المبارک سے ایک دن قبل روزہ رکھنا شروع کردیتے تھے اور اس طرح وہ آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر تقدم کر بیھٹتے تھے۔ چنانچہ اس آیت کے ذریعے اﷲ تعالیٰ نے ان کو حکماً منع فرما دیا۔ اس مثال کے ذریعے درحقیقت یہ بات واضح کرنا مقصود تھی کہ بعض اوقات تقدم خلافِ ادب تصور کیا جاتا ہے چنانچہ بسم اﷲ میں جوکہ خود ہی سراسر ادب کی تعلیم ہے، اسی اصول کو لفظاً بھی ملحوظ رکھا گیا ہے تاکہ کلام میں بھی ادبِ الوہیت نظر انداز نہ ہوکیونکہ یہی کمالِ ایمان کی علامت ہے۔ ادب سے محروم شخص علم و عمل کی بے پناہ دولتوں کے باوجود لذت ایمان سے محروم رہتا ہے۔ اسی لیے ہر سطح پر جس قدر بھی ملحوظ رہے بہتر ہے۔ کلام میں اس قدر لفظی احتیاط اورحکمت و مصلحت انسانی کوشش کے باوجود پیش نظر نہیں رہ سکتی۔ یہ صرف کلام الٰہی کا اعجاز ہے جو بغیر تصنع کے ان حکمتوں پر دلالت کررہا ہے۔ تیسری حکمت : یہ حکمتیں تو ابداء وغیرہ کے الفاظ بسم اﷲ پر مقدم نہ کرنے میں مضمر تھیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اﷲ کے نام سے پہلے کسی اور کا ذکر تو خلاف ادب تھا۔ اس لیے اسے محذوف رکھا گیا۔ مگر بعد میں بیان نہ کرنے میں کیا مصلحت پوشیدہ ہے۔ یہ امر ذہن نشین رہے کہ صاحب حکمت کا کوئی فعل حکمت و مصلحت سے خالی نہیں ہوتا۔ جب ابداء یا اشراع کی صورت میں کسی کام کے شروع کرنے کا ذکر آئے گا تو اس میں فاعل خود متکلم کی ذات ہوگی۔ گویا متکلم تسمیہ کے ذریعے کسی نہ کسی فعل میں اپنے فاعل ہونے کا ذکر بھی ساتھ ہی کر رہا ہوگا کہ ’’ اﷲ کے نام سے میں (فلاں کام) شروع کرتا ہوں،،۔ اس طرح فعل کی نسبت متکلم کی طرف ہوجاتی ہے اور اسی کا فاعل ہونا بھی ثابت ہوتا ہے۔ یہاں مصلحت یہ تھی کہ انسان خود کو باری تعالیٰ کے لطف وکرم کا اس حد تک محتاج سمجھے کہ تمام امو رکی نسبت اسی ذات کاملہ کی طرف کردے۔ ہرچند کہ افعال کا صدور انسان ہی سے ہوتا ہے۔ لیکن ہر فعل کے صادر کرنے کی قوت وہمت اور طاقت وصلاحیت انسان کو بارگہ رب ذوالجلال سے نصیب ہوتی ہے کیونکہ تمام قوتوں اور طاقتوں کا مبداء و سرچشمہ وہی ذات ہے۔ چونکہ تسمیہ میں بسم اﷲ کے ذریعے خدا کی مدد اور اس کے فعلِ عنایت کا ذکر آگیا تھا۔ اس کے بعد متکلم کا اپنا فاعل ہونا بیان کرنا اﷲ تعالیٰ کی شانِ الوہیت کے منافی تھا۔ گویا یہ تعلیم دی گئی کہ اے انسان تو ہرکام شروع کرتے ہوئے خدا کا نام لے اور ا س کام کی توفیق بھی اسی ذات کی طرف منسوب کر۔ کبھی بھی اس فعل کو اپنا کمال نہ سمجھ، کیونکر فاعل حقیقی تو نہیں اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ یہاں انسانی فکر کو کبر ونخوت کی تباہ کاریوں سے بچنے کی صورت بتائی گئی ہے کہ اگر انسان زبان سے ذات حق کا نام لے کر دل میں یقین بھی اسی کی طاقت کی کارفرمائی پر رکھے گا تو سوچ کا یہ اندازا سے کبھی بھٹکنے نہ دے گا۔ یہ فکر ایمانی آداب کا لازمہ ہے سورۃ نساء میں اسی کی تلقین کی گئی ہے۔ قُلْ كُلٌّ مِّنْ عِندِ اللّهِ فَمَا لِهَـؤُلاَءِ الْقَوْمِ لاَ يَكَادُونَ يَفْقَهُونَ حَدِيثًاO فرما دیجیئے سب کچھ اﷲ کی طرف سے ہی ہے تو ان لوگوں کو کیا ہوا۔ کوئی بات سمجھتے معلوم نہیں ہوتے۔ (النساء، 4 : 78) یہاں ہرکام کی توفیق کا اﷲ تعالیٰ کی طرف سے حاصل ہونا مذکور ہے۔ اسی انداز سخن اور طرز فکر کی تلقین تسمیتہ کے ذریعے کی جارہی ہے۔ یہاں ایک اور لطیف نکتہ قابل غور ہے کہ بسم اﷲ میں چونکہ ذکر صرف اﷲ تعالیٰ کا ہے اور ابتداء فعل یا ارتکابِ فعل کی نسبت انسان کی طرف مذکور نہیں ہے۔ اس لیے حکم ہے کہ بسم اﷲ محض جائز کاموں کے آغاز میں پڑھی جائے۔ ناجائز اور خلاف شرع امور نہیں۔ کیونکہ غلط کاموں میں توفیق فعل کے حوالے سے ان کی نسبت باری تعالیٰ کی طرف کرنا خلاف تقاضائے بندگی ہے۔ بندے کو یہ زیب نہیں دیتا کہ اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں کو اپنے آقا کی طرف منسوب کرتا پھرے۔ ارشاد فرمایاگیا ہے۔ مَآ اَصَابَکَ مِنْ حَسَنَة فَمِنَ اﷲِ وَمَا اَصَابَکَ مِنْ سَيِّئَة فَمِنْ نَّفْسِکَ. (اے انسان اپنی تربیت یوں کرکہ) جب تجھے کوئی بھلائی پہنچے تو (سمجھو کہ) وہ اللہ کی طرف سے ہے (اسے اپنے حسنِ تدبیر کی طرف منسوب نہ کر) اور جب تجھے کوئی برائی پہنچے تو (سمجھ کہ) وہ تیری اپنی طرف سے ہے (یعنی اسے اپنی خرابی نفس کی طرف منسوب کر)۔ (النساء، 4 : 79) مذکورہ بالا دو آیات میں حقیقت حال بھی واضح کردی گئی ہے اور آداب فکر و قول بھی کہ توفیق اور طاقت ہرکام کی اﷲ تعالیٰ کی طرف سے منسوب ہوتی ہے۔ لیکن نیکی صادر ہوتو بندگی یہ ہے کہ انسان اسے اپنے آقا کی رحمت سمجھ کر اسی کی طرف منسوب کردے اور بدی صادر ہوتو اسے اپنی سوچ اور کاوش کا نتیجہ سمجھے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسی انداز فکر سے انسان کی اپنے عیبوں اور کوتاہیوں پر نظر رہتی ہے اور وہ خود تنقیدی کے ذریعے اپنی اصلاح کا طالب و خوگر ہوسکتا ہے اور دوسری طرف وہ بعض اچھائیوں کو محض اپنی صلاحیت کا ثمرہ سمجھ کر پیکرِ رعونت بھی نہیں بننے پاتا۔ چونکہ ہر کام کی توفیق اور ہمت و قدرت کا مبداء و منبع اﷲ تعالیٰ کی ذات ہے۔ اس لیے تسمیہ میں اسی کے مجرد ذکر پر اکتفا کیا گیا اور انسان کے فعل یا اس کے فاعل ہونے کا ذکر محذوف کردیا گیا۔ گویا حقیقت کو عیاں رکھا اور جو کچھ محض ظاہر تھا اسے پوشیدہ کردیا۔ آیت الحمد سے استدلال : سورۃ الفاتحہ کا آغاز بھی اسی فلسفے کی نشاندہی کرتا ہے۔ ارشاد فرمایا گیا ہے۔ اَلْحَمْدُلِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ O سب تعریفیں اللہ ہی کے لئے ہیں جو تمام جہانوں کی پرورش فرمانے والا ہےo (الفاتحه، 1 : 1) یہ بات بڑی واضح ہے کہ جب کسی کی خوبی یا تعریف ہوگی تو یقیناً کوئی نہ کوئی تعریف کرنے والا بھی ہوگا۔ کیونکہ زبانِ حمد کھولے بغیر بیانِ حمد نہیں ہوسکتا۔ لیکن یہاں حمد کا ذکر ہے حامد یا فعلِ حمد کا بیان نہیں ہے۔ محض اس لیے کہ اگر حمد کرنے والے کا ذکر کردیا جاتا تو ممکن ہے وہ یہ سمجھتا کہ محمود میری حمد کا محتاج ہے یا میری تحمید نے اسے عظمت دی ہے۔ حالانکہ حمد کسی کا کارنامہ نہیں۔ یہ حسنِ الوہیت کا اپنا استحقاق ہے۔ لہذا اﷲ تعالیٰ نے اپنا محمود ہونا بیان کردیا۔ مگر کسی کا حامد ہونا صراحت سے بیان نہیں کیا۔ اسی طرح تسمیہ میں فعل اور فاعل کو مضمر اور محذوف رکھنے میں حکمت یہ تھی کہ یقیناً وہ کام جس کے آعاز میں بسم اﷲ پڑھی جارہی ہے تو کوئی نہ کوئی شخص ہی کرے گا۔ لیکن کہیں وہ اپنی فاعلیت پر ایسا گمان نہ کرنے لگے کہ یہ کام میں اپنی ہمت و توفیق سے کر رہا ہوں۔ چنانچہ خدا کا نام محض برکت کی غرض سے نہیں بلکہ اس یقین و اعتماد سے لیا جائے کہ اس کام کی توفیق بھی محض اﷲ تعالیٰ کی عطا سے ہے۔ چوتھی حکمت : اولاً یا آخراً کسی صورت میں بھی خدا کے ماسوا کے ذکر کا تسمیہ میں نہ ہونا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ واجب الوجود صرف اسی کی ذات ہے اور اس کے علاوہ جو کچھ ہے وہ ممکن ہے اور اس وجہ سے ھالک و معدوم۔ تسمیہ چونکہ تمام معارف قرآنی کا خلاصہ ہے اس لیے اس کا اندازِ بیان بھی دین حق کے جملہ مقاصد و مطالب کا خلاصہ ہوگا۔ بسم اﷲ الرحمن الرحیم کا آغاز و انجام صرف خدا ہی کی ذات و صفات کے ذکر پر مبنی ہے اس کے علاوہ اس میں نہ کسی فعل کا بیان ہے نہ کسی فاعل کا۔ گویا یہ الفاظ خدا کی وحدانیت کو اسی طرح اجاگر کررہے ہیں کہ اس کائنات میں اس کے بغیر نہ تو کسی فعل کا صدور ممکن ہے اور نہ کسی فاعل کا وجود۔ بلکہ دوامِ حقیقی اور ثباتِ ابدی اگر کسی کو حاصل ہے تو وہ صرف خلاّق عالم ہی کی ذات و صفات ہے۔ وہی اول تھا اور وہی آخر بھی ہوگا۔ اس لیے نہ اس سے پہلے کسی فعل کا ذکر ممکن ہے اور نہ اس کے بعد ارشاد ربانی ہے۔ 1. هُوَ الْأَوَّلُ وَالْآخِرُ وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌO (الحديد، 57 : 3) 2. لِلَّهِ الْأَمْرُ مِن قَبْلُ وَمِن بَعْدُ. وہ (سب سے) پہلا تھا اور (سب سے) آخر اور(اپنی قدرت کے اعتبار سے) ظاہر اور (اپنی ذات کے اعتبار سے) پوشیدہ ہے وہ سب کچھ خوب جانتا ہےo (الروم، 30 : 4) حکم اﷲ ہی کا ہے، پہلے بھی اور بعد میں بھی۔ اسی امر کا بیان ایک اور مقام پر اس طرح ہے۔ 3. لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ كُلُّ شَيْءٍ هَالِكٌ إِلَّا وَجْهَهُ. اس کے سوا کوئی معبود نہیں (لوگو! خوب یاد رکھو فانی شے معبود نہیں ہوا کرتی) ہر شے اللہ کی ذات کے سوا فانی ہے۔ (القصص، 28 : 88) چنانچہ تسمیہ کے کلمات میں خدا کے سوا ہر قسم کے فعل اور فاعل کے ذکر کا محذوف و معدوم ہونا انسان کو پوری کائنات اور ا سکے نظام کی بے ثباتی کی یاد دلاتا ہے۔ یہ کلام پکا رپکار کر دنیا کی بے حقیقت رنگینیوں میں محو و مستغرق انسانوں کو حقیقتِ ابدی کی طرف متوجہ کررہا ہے تاکہ لوگ خواب غفلت سے بیدار ہوکر بے کم و کاست اسی احکم الحاکمین کی قدرتوں اور قوتوں پر کامل ایمان لے آئیں اوراس سراب حیات کو ہی آخری منزل نہ سمجھ لیں۔ تسمیہ سے چونکہ قرآن کا آغاز ہورہا ہے۔ اس موقع پر جامع و مانع انداز سے خدا کی ہستی اور اس کی صفات کا ذکر اور اس کے ماسوا کا حذف واضمار انسان کویہ تعلیم دیتا ہے کہ وہ دل و دماغ سے غیر کا خیال نکال دے اور ہر لمحہ ذات حق پر نظر رکھے۔ یہ معراج عبدیت ہے اور قرآن کا پہلا سبق بھی یہی ہے جیسا کہ ارشاد ایزدی ہے۔ وَلِلّٰهِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ فَاَيْنَمَا تُوَلُّوْا فَثَمَّ وَجْهُ اﷲِ. اور مشرق ومغرب (سب) اﷲ ہی کا ہے پس تم جدھر بھی رخ کرو ادھر ہی اللہ کی توجہ ہے۔ (البقره، 2 : 115) مزید برآں وہ ایسا موجود حقیقی ہے کہ ہر وجود کا مبداء بھی وہی ہے اور مرجع بھی۔ بلکہ دوسرے لفظوں میں ہر وجود کائنات کا جواز بھی اسی کے وجود سے ہے۔ وہ حقیقت ہے اور اس کے ماسوا جو کچھ ہے مجاز ہے۔ اس لیے تسمیہ میں حقیقت کا ذکر کیا گیا اور مجاز کو ترک کر دیا۔ حرفِ باء کی افادیت : کلماتِ تسمیہ کا پہلا حرف ’’بار،، ہے۔ جس کا معنی ’’سے،، کیا گیا ہے یہ فعل محذوف سے متعلق ہے۔ محذوف سے مراد وہ فعل اور فاعل ہے۔ جس کا ذکر یہاں لفظاً نہیں بلکہ معناً موجود ہے۔ یعنی میں شروع کرتا ہوں اﷲ کے نام سے گویا حرفِ باء فعلِ محذوف کو اﷲ کے نام سے ملانے کے لیے استعمال ہوا ہے۔ حرفِ باء کی اپنے استعمال و افادیت کے لحاظ سے متعدد اقسام ہیں۔ جنہیں علماء نحو نے شرح و بسط کے ساتھ بیان کیا ہے۔ لیکن یہاں یہ حرف ان میں سے تین اقسام پر مشتمل ہوسکتا ہے۔ 1۔ بائے الصاق و مصاحبت 2۔ بائے استعانت 3۔ بائے تیمن و تبرک بائے مصاحبت : الصاق و مصاحبت کا معنی اکٹھا ہونا اور رفاقت و معیت اختیار کرنا ہے۔ اس صورت میں جب کہ با مصاحبت کے لیے تصور کی جائے تو تسمیہ کا مفہوم یہ ہوگا کہ میں اﷲ کے نام کو اپنا ساتھی بناتے ہوئے اس کے دامن رحمت سے وابستہ اور منسلک ہوتے ہوئے اور محض اسی کی رفاقت و معیت پر بھروسہ کرتے ہوئے، اپنے کام کا آغاز کرتا ہوں۔ امام فخرالدین رازی رحمۃ اللہ علیہ اس مقام پر فرماتے ہیں۔ هذا الباء باء الا لصاق فهو يلصق العبد بالرب فهو کمال المقصود. یہ ’’با،، بائے الصاق ہے چنانچہ یہ بندے کو رب سے ملاتی ہے اور یہی انسانی مقصود کا کمال ہے۔ (تفسيرکبير، 1 : 99) حرف باء کے اس مفہوم کی افادیت یہ ہے کہ تسمیہ کے ذریعے انسان کو اپنے ہرکام کے آغاز سے انجام تک خدا کی رفاقت و معیت کا احساس رہے۔ یہ امر واقع ہے کہ اگر انسان کو کسی نہایت قوی، مضبوط اور ہمدرد بہی خواہ ساتھی کی رفاقت کا احساس اور یقین ہو تو اسے کسی سطح پر بھی خوف وخطر دامنگیر نہیں ہوسکتا۔ چنانچہ انسان کو کارگہ زیست میں ہر خوف و غم سے بے نیاز کرنے کے لیے بسم اﷲ کے ذریعے دل ودماغ میں یہ احساس جاگزیں کیا جارہا ہے کہ اﷲ تعالیٰ پر بھروسہ کرو گے تو اس کی معیت بھی تمہیں حاصل ہوگی۔ جس کی حفاظت کے باعث تمہیں نہ کوئی نقصان پہنچ سکے گا اور نہ تمہاری کاوشیں بے نتیجہ حاصل ہوں گی۔ اسی تصور کو قرآن یوں بیان کرتا ہے۔ وَهُوَ مَعَکُمْ اَيْنَ مَا کُنْتُمْ وَاﷲُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْرٌO وہ تمہارے ساتھ ہے جہاں بھی تم ہو اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اسے دیکھ رہا ہےo (الحديد، 57 : 4) اسی شب ہجرت حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو غار ثور میں تنہائی کے احساس سے کچھ خدشہ محسوس ہوا کہ شاید کفار مکہ جو آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تعاقب میں تھے۔ انہیں نقصان پہنچا دیں۔ اس پر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے بزبان وجی ان سے ارشاد فرمایا : لَا تَحْزُنْ اِنَّ اﷲَ مَعَنَا فَاَنْزَلَ اﷲُ سَکِيْنَتَه عَلَيْهِ. غمزدہ نہ ہو بے شک اللہ ہمارے ساتھ ہے پس اللہ نے ان پر اپنی تسکین نازل فرما دی۔ (التوبه، 9 : 40) اس ارشاد پر غور کریں تو اندازہ ہوگا کہ خدا کی معیت پر ایمان تو حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا پہلے سے ہی تھا۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو وہ اس قدر عداوت و مخالفت کے ماحول میں اپنے گھروالوں کواکیلا چھوڑ کر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے شریکِ سفر نہ ہوتے۔ لیکن ظاہرًا بے سروسامانی کا عالم، تنہائی کا ماحول اور کفارو مشرکین کے مخاصمانہ تعاقب کا خیال وقتی طور پر حزن و ملال کا باعث بن گیا اور یہ انسانی طبیعت کا لازمی تقاضا بھی تھا۔ اس پر آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صرف انہیں معیت خداوندی کی طرف متوجہ کردیا۔ یہ احساس بحال ہونا تھا کہ دل کو سکون و اطمینان کی دولت نصیب ہوگئی۔ گویا معیت خداوندی قلبی تسکین کا لازمی سبب ہے۔ یہی فلسفہ تسمیہ ہے کہ انسان خدا کی معیت کو رفاقت کا احساس اجاگر کرکے جہدِ حیات کا آغاز کرے تو کوئی خوف و حزن سے اسے پریشان نہیں کرسکتا۔ خوف وحزن سے نجات پاکر انسانی جدوجہد کو وہ تازگی اور قوت میسر آتی ہے۔ جس سے کامیابی وکامرانی کی منزل بھی آسان ہوجاتی ہے۔ ورنہ بے یقینی اور مایوسی کی کیفیت تگ و دو کو مطلوبہ منزل تک نہیں پہنچنے دیتی۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ فَلَا تَهِنُوْا وَتَدْعُوْآ اِلَی السَّلِمْ وَاَنْتُمْ الْاَعْلَوْنَ وَاﷲُ مَعَکُمْ وَلَنْ يَّتِرَکُمْ اَعْمَالَکُمْO پس تم سستی نہ کرو اور خود صلح کی طرف نہ بلاؤ اور تم ہی غالب آؤ گے اور اﷲ تمہارے ساتھ ہے اور وہ ہرگز تمہاری کوششیں بے نتیجہ نہیں جانے دے گا۔ (محمد، 47 : 35) یہاں یہ امر ذہن نشین رہے کہ خدا کی معیت تو درحقیقت ہمہ وقت انسان کو حاصل ہوتی ہے۔ لیکن اسے اس معیت کا احساس اور شعور نہیں ہوتا۔ شعورِ معیتِ الٰہی متحقق نہ ہونے کی بناء پر وہ اس کے جملہ ثمرات و لطائف سے بہرور نہیں ہوسکتا۔ تسمیہ معیتِ الٰہی مہیا کرنے کے لیے نہیں بلکہ اس کا شعور بیدار کرنے کے لیے ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ وَنَعْلَمُ مَا تُوَسْوِسُ بِهِ نَفْسُهُ وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيدِO اور بے شک ہم نے آدمی کو پیدا کیا اور ہم جانتے ہیں جو وسوسہ اس کا نفس ڈالتا ہے اور ہم اس سے اس کے دل کی رگ سے بھی زیادہ نزدیک ہیںo (ق، 50 : 16) اس آیت سے یہ حقیقت اچھی طرح واضح ہوگئی کہ معیت الٰہی تو انسان کو پہلے سے ہی میسر ہوتی ہے۔ لیکن اس کا شعور پیدا نہیں ہوتا۔ جب اس معیت و رفاقتِ خداوندی کا شعور انسان کے اندر ایک زندہ قوت بن جاتا ہے تو تمام وساوس نفسانی اور دنیوی خطرات وخدشات نیست ونابود ہوجاتے ہیں اور قلب وباطن پر اس احساس کے محیط ہوجانے سے ایک عجیب لطف و سکون اورلذت و طمانیت کی کیفیت طاری ہوجاتی ہے۔ انسان کو پھر نہ توکسی اور کی رفاقت کی طلب رہتی ہے اور نہ کسی کے قرب کی۔ دوعالم سے کرتی ہے بیگانہ دل کو عجب چیز ہے لذت آشنائی لیکن اس لطف کا اندازہ بیان سے نہیں خود دھیان سے ہی ہوسکتا ہے کیونکہ لذت بتانے کی نہیں حاصل کرنے کی چیز ہے۔ بائے استعانت : استعانت سے مراد مدد طلب کرنا ہے اس کے معنی کے لحاظ سے مفہوم تسمیہ یہ ہوگا کہ ’’اﷲ کے نام سے مدد طلب کرتے ہوئے شروع کرتا ہوں،،۔ حضرت نوح علیہ السلام نے قیامت خیز طوفان سے اپنے پیروکاروں کوبچانے کے لیے حکم الٰہی سے ایک کشتی بنائی اور انہیں اس میں سوار ہوجانے کو کہا۔ قرآن حکیم اس کا تذکرہ اس طرح کرتا ہے۔ وَقَالَ ارْكَبُواْ فِيهَا بِسْمِ اللّهِ مَجْرِهَا وَمُرْسَاهَا إِنَّ رَبِّي لَغَفُورٌ رَّحِيمٌO اور نوح نے کہا تم لوگ اس میں سوار ہو جاؤ اللہ ہی کے نام سے چلنا اور اس کا ٹھہرنا ہے بے شک میرا رب بڑا ہی بخشنے والا نہایت مہربان ہےo (هود، 11 : 41) گویا اس آیت کے ذریعے جملہ مہمات میں خدائے رحمان و رحیم کے نام سے استعانت کی تعلیم دی جا رہی ہے تاکہ انسان پر یہ حقیقت آشکار ہوکہ اﷲ تعالیٰ کی مدد واعانت کے بغیر نہ توکسی خیر کو حاصل کیا جاسکتا ہے اور نہ کسی شر سے محفوظ ہوا جاسکتا ہے۔ چونکہ فعل محذوف کے اعتبار سے یہاں کام کے شروع کرنے کا ذکر ہو رہا ہے۔ اس لیے بائے استعانت کا معنوی اطلاق یوں ہوگا کہ’’ اے اﷲ میں ہر کام کے شروع کرنے میں بھی تیری مدد کا محتاج ہوں،،۔ جب کوئی کام خدا کی مدد اور توفیق کے بغیر آغاز پذیر ہی نہیں ہوسکتا تواس کا انجام پذیر ہونا کیونکر ممکن ہوگا۔ دراصل یہاں انسان کو اپنی حاجتمندی کا احساس دلایا جارہا ہے تاکہ وہ دینوی متاع کو کثرت کے ساتھ حاصل کرکے خدائے لم یزل کے حضور سرنیازِخم کرنے سے باغی نہ ہوجائے۔ انسان کے ذہن میں یہ حقیقت ہر وقت موجود رہے کہ میں رب ذوالجلال کی عنایت کے بغیر اپنی جہدِ حیات میں پہلا قدم بھی نہیں اٹھا سکتا۔ کس قدر ظالم اور احسان فراموش ہے وہ شخص جس کا قدم بھی خدا کے لطف و انعام سے اٹھے۔ لیکن وہ بجائے اس کی اطاعت کے اسی کے احکام کی خلاف ورزی کے لیے بڑھ رہا ہو۔ اگر انسان کا یہ شعور بیدار ہوکہ اس کی زبان کو قوتِ گویائی، اس کے کانوں کو قوتِ سماعت، اس کی آنکھوں کو قوتِ دید، اس کے دست وبازو کوقوتِ عمل، اس کے قدموں کو قوتِ نقل وحرکت اور اس کے دماغ کو قوتِ فکر الغرض سب کچھ خدا کی مدد واعانت کے سبب میسر آیا ہے تو اس ظاہری اور باطنی اعضاء وجوارح میں سے کوئی عضو بھی رضائے الٰہی کے خلاف حرکت میں نہ آئے۔ ہم سے جوگناہ سرزد ہوتے ہیں اور ہمارے فکر میں جو تمرد وانحراف جنم لیتا ہے یہ دراصل اسی شعور و ادراک کے فقدان کا نتیجہ ہے۔ تسمیہ فی الحقیقت انسان کی فکری و عملی اصلاح کا شاندار ذریعہ ہے۔ اگر ہرکام شروع کرنے سے پہلے زبان اور دل خدا کانام لینے اور اس سے مدد طلب کرنے کی طرف راغب ہوں اوریہ انکی عادی خصوصیت بن جائے تو نواہی و محرمات سے ازخود پرہیز ہونے لگے گا۔ کیونکہ خدا کی یاد کے ہوتے ہوئے حکمِ خدا کی خلاف ورزی ممکن نہیں رہتی۔ مزید برآں استعانت دعا ہے اور دعا خود مغز عبادت۔ اس لحاظ سے تسمیہ فی نفسہ عبادت کی روح قرار پاتا ہے۔ اس کا فلسفہ یہ ہے کہ انسان خود کسی کام کے کرسکنے میں اپنے ذرائع اور اسباب و وسائل کے باوجود ناکافی وعاجز تصور کرتا ہے اور پھر اپنی بے بسی و بے کسی کے اعتراف کے ساتھ خدا بزرگ و برتر کی مناجات کرتے ہوئے اس سے مدد طلب کرتا ہے۔ گویا انسان بارگاہ ایزدی میں سراپا سوال بن کر حاضر ہے، وہ دنیاو مافیہا سے ناامید اور تمام اسباب سے مایوس ہوکر مسبب الاسباب کی بارگاہ میں نیاز مندی کے ساتھ آن کھڑا ہوا ہے۔ اس کی آرزو مندی دل کو درد وسوز کی لذت سے آشنا کردیتی ہے اور یہی کیفیت انسان کو مقامِ بندگی سے ہمکنار کرتی ہے۔ بقول شخصے سراپا آرزو ہونے نے بندہ کردیا مجھ کو وگرنہ میں خدا ہوتا جو دل بے مدعا ہوتا اسی مقام کو علامہ اقبال یوں بیان کرتے ہیں۔ متاع بے بہا ہے درد و سوز و آرزو مندی مقام بندگی دے کر نہ لوں شانِ خداوندی قرآن میں حرفِ باء کا استعمال کئی مقامات پر اسی مقصد کے لیے ہوا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ اسْتَعِينُواْ بِالصَّبْرِ وَالصَّلاَةِ إِنَّ اللّهَ مَعَ الصَّابِرِينَO اے ایمان والو! صبر اور نماز کے ذریعے (مجھ سے) مدد چاہا کرو یقیناً اللہ صبر کرنے والوں کیساتھ ہوتا ہےo (البقره، 2 : 153) یہاں صبر اور نماز دونوں کو ذریعہِ استعانت کے طور پر بیان کیا گیا ہے کہ استعانت تو لامحالہ باری تعالیٰ سے ہوگی لیکن اس کے کامل استحقاق کے لیے صبر و نماز کو اپنا لوتا کہ ان کے واسطے سے اﷲ تعالیٰ کا لطف و کرم اور عنایت واعانت زیادہ سے زیادہ نصیب ہوسکے۔ اسی تصور کو ایک اور مقام پر یوں واضح کیا گیا ہے۔ قَالَ مُوسَى لِقَوْمِهِ اسْتَعِينُوا بِاللّهِ وَاصْبِرُواْ. موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا ! تم اللہ سے مدد مانگو اور صبر کرو۔ (الاعراف، 7 : 128) اسباب سے صرفِ نظر کرکے مسبّب الاسباب پر نظر رکھنا ہی صبر کہلاتا ہے۔ اس لیے قرآن استعانت کے ساتھ توحید مطلب کی بھی تعلیم دے رہا ہے۔ تسمیہ میں بائے استعانت سے پہلے یا بعد میں کسی کا ذکر نہیں۔ صرف خدا ہی کے نام پر اکتفا کیا گیا ہے۔ جس کا واضح مقصد یہی ہے کہ انسان کی تمام ضروریات و مشکلات میں خدا ہی کی ذات کافی ہے۔ اسے کسی اور چیز پر توکل یا انحصار کی ضرورت نہیں۔ بائے تبرک : تبرک کا معنی حاصل کرنا ہے۔ لہذا بائے تبرک کے حوالے سے تسمیہ کا معنی یہ ہوگا کہ ’’ اﷲ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے شروع کرتا ہوں،،۔ خدا کے نام سے شروع کرنا اس اعتبار سے باعث برکت ہے کہ اس کام کے پایہ تکمیل تک پہنچنے کے امکانات زیادہ روشن ہو جاتے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ اسباب و وسائل کا مہیا کرنا بھی تو اسی کا کام ہے۔ اس لیے جب اس ذات کے مقدس نام سے برکت طلب کی جائے تو وہ ذات اس کام کا انجام تک پہنچنا آسان کردیتی ہے۔ اس لیے آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : کل امر ذي بال لا يبدا فيه ببسم اﷲ فهو أجذم او أقطع اولم يبدا فيه باسم اﷲ فهو أبتر اولا يفتح بذکر اﷲ فهو أبتر أو أ قطعا. 1. سنن ابن ماجه، 1 : 610، رقم : 1894 2. کنزالعمال، 1 : 555، رقم : 249 جو کام بسم اﷲ پڑھے بغیر شروع کیا جائے وہ دم بریدہ اور ناقص رہ جاتا ہے، جو کام بسم اﷲ کے شروع کے بغیر شروع کیا جائے ناتمام رہ جاتا ہے، جس امر کا افتتاح خدا کے ذکر کے بغیر ہوگا وہ انجام خیر تک نہیں پہنچے گا۔ اس وقت ہمارے پیش نظر لفظ اسم کی لغوی اور معنوی دلالت نہیں ہے۔ سردست ہم نحوی قاعدے کے مطابق اس کے صرف ایک پہلو پر روشنی ڈالنا چاہتے ہیں۔ عربی زبان میں کلمہ تین قسم کا ہوتا ہے۔ حرف، فعل اور اسم تمام ائمہ نحو وادب اس امر پر متفق ہیں کہ : الحرف هی الکلمة لا يصح الاخبار عنها ولابها. حرف وہ کلمہ ہے جو نہ توکسی اور کی خبر دیتا ہے اور نہ خود کسی پر دلالت کرتا ہے۔ حرف جب تک کسی اور سے منسلک نہ ہو اس میں کوئی معنویت پیدا نہیں ہوتی۔ یعنی یہ ازخود کسی کامل مفہوم کی نشاندہی نہیں کرسکتا۔ اس لحاظ سے نہ ’’مسند،، ہے اور نہ ’’مسند الیہ،،۔ الفعل هی الکلمة لا يصح الاخبار عنها لکن يصح الاخبار بها. فعل وہ کلمہ ہے جو فی نفسہ کسی اور کی خبر تو نہیں دے سکتا لیکن خود کسی نہ کسی خبر پر دلالت کرتا ہے۔ اس لحاظ سے فعل ’’مسند الیہ،، نہیں۔ یعنی اس کو خود تو کسی عمل یا خبر سے نسبت ہوتی ہے مگر کسی اور کو اس سے بالذات کوئی نسبت نہیں ہوتی۔ جب تک کوئی اسم اس کا فاعل بن کر مذکور نہ ہو۔ اس کی معنویت بھی کامل نہیں ہوسکتی۔ الاسم هی الکلمة يصح الاخبار عنها وبها. اسم وہ کلمہ ہے جو خود بھی کسی اور کی خبر دیتا ہے اور کوئی بھی اس سے نسبت رکھتا ہے۔ اس لحاظ سے اسم کو ’’مسند،، اور ’’مسند الیہ،، دونوں حیثیتیں حاصل ہوتی ہیں۔ یعنی یہ خود بھی اپنی ذات میں کسی نہ کسی کی خبر دیتا ہے اور کوئی دوسرا اس سے منسلک ہوجائے یا اس سے نسبت پیدا کرلے تو وہ بھی بامعنی یعنی کامل بن جاتا ہے۔ بہ الفاظ ویگر اسم خود ’’کامل گر،، بھی ہے۔ مذکورہ بالا تینوں کلمات کا باہمی تعلق یہ ہے کہ حرف بھی اس سے نسبت پیدا کرکے خود کو بامعنی بناتا ہے، فعل بھی اسم سے نسبت پیدا کرکے اپنی معنویت اور دلالت کو کامل بناتا ہے۔ لیکن اسم ایک ایسا کلمہ ہے جو خود ہی اپنے مقصد اور ذات معینہ پر دلالت کرتا ہے یا اس کی خبر دیتا ہے۔ اس کو اپنی اس حیثیت کی تشکیل کے لیے نہ کسی اور حرف کی حاجت ہے نہ کسی فعل کی۔ گویا اسم میں دلالتِ کاملہ اور دلالتِ مطلقہ ہوتی ہے۔ فعل میں ناقصہ اورحرف میں سرے سے ہوتی ہی نہیں۔ تسمیہ میں فعل، حرف اور اسم کے باہمی تعلق پر اشارۂ لطیف : مذکورہ بالا بحث کی روشنی میں ’’تسمیہ،، کے الفاظ پر غور فرمائیں تو ’’فعل،، جس کا تعلق کسی غیر سے ہوسکتا تھا، محذوف کردیا گیا۔ کلماتِ تسمیہ کا آغاز ’’حرف باء،، سے کیا گیا۔ جو اپنی ذات میں کوئی معنی و مفہوم نہیں رکھتا۔ اس میں جو بھی معنویت او ر افادیت پیدا ہوئی ہے۔ صرف اسم کے ساتھ نسبت پیدا کرنے کے باعث ہوئی ہے۔ ’’حرف باء،، کا مقصد محض اپنے ماقبل محذوف کو یعنی کسی غیر کو جو متکلم یا فعل ہوگا، اسم کے ساتھ ملانا ہے۔ پھر لفظ ’’اسم،، وارد کیا گیا اور اس کے بعد ’’ اﷲ الرحمن الرحیم،، کے الفاظ بیان ہوئے۔ اسم کا معنی ’’علامت،، ہے۔ ذات و صفات باری تعالیٰ کے ذکر سے پہلے ’’اسم،، کا لایا جانا اس بات کو واضح کرنا تھا کہ اﷲ اپنی واحدانیت، الوہیت اور ہویت میں اس طرح غیر محسوس و غیر مبصر، وہم و ادراک سے بالا اور عقل و خرد سے بلند ہے کہ اس تک کسی کا وہم و گمان نہیں پہنچ سکتا، بندوں کا اس تک وصول محال ہے۔ لہذا اس مخفی وباطن اور پاک و منزہ ہستی تک وصول کے لیے ایسی علامت درکار ہے جو خود ظاہر ہو، اس ہستی کی خبر دینے والی ہو، اپنی ذات کے ظہور میں بھی کامل ہو اوراس ذات مطلق کے اظہار کے لیے بھی کامل ہو، جو خود اس کی خبر بھی رکھتی ہو اور دوسروں کو اس سے باخبر بھی کرسکتی ہویعنی وہ علامت ذات حق کے ظہور کی ایسی دلیل بن جائے کہ خود بھی اس سے ملی ہوئی ہو اور دوسروں کو بھی اس سے ملا سکے اوراس غرض سے دوسرے اس علامت سے نسبت و تعلق قائم کرنے کے لیے مجبور و مامور ہوں۔ ایسی علامت کاملہ جس کی شان یہ ہوکہ۔ اُدھر سے اﷲ سے واصل، اِدھر مخلوق میں شامل خواص اس برزخ کبرٰی کو ہے حرفِ مشدد کا وہ علامت صرف ذات محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہی تھی جسے ’’ کلمہ اسم،، کے عنوان سے بطور ذریعہ بیان کردیا گیا۔ تصورِ دلالت اور کلمۂ اسم کی وساطت : یہاں یہ امر غور طلب ہے کہ لفظ ’’ اﷲ،، کی دلالت کے لیے کلمۂ اسم بطور ذریعہ وارد ہوا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ’’ کیا ذات حق اپنی دلالت کے لیے کسی ذریعے کی محتاج ہے؟،، اس کا جواب صاف نفی میں ہے۔ بذاتِ خود باری تعالیٰ اپنی دلالت کے لیے کسی ذریعے، واسطے اور علامت کی محتاج نہیں ہے لیکن اس حقیقت سے تو انکار نہیں کیا جاسکتا کہ کلمہ اسم اﷲ ذات باری تعالیٰ ہی کی دلالت کے لیے بطور ذریعہ و علامت وارد ہوا ہے تو پھر اس ذریعے اور علامت کی احتیاج کس کو ہے۔ اس کا جواب خود عبارت تسمیہ میں ہے جو حرف باء سے شروع ہوتی ہے۔ ’’حرف باء،، اپنے سے پہلے بہر صورت کسی فعل و فاعل کو محذوف کے طور پر طلب کرتا ہے۔ یہ محذوف وہ شخص ہے جو بارگہ الوہیت تک رسائی حاصل کرنا چاہتا ہے جو ’’ابداء، اشرع، اقراء وغیرہ،، کا فاعل ہے اور اس شخص کو ’’اسم،، یعنی علامت ذات حق سے ملانے کے لیے حرف باء درمیان میں لگایا گیا ہے۔ گویا مخلوق خدا حرف باء کے توسل سے اسم کے ساتھ اپنی نسبت پیدا کر رہی ہے تاکہ اسم کے ساتھ نسبت اور تعلق پیدا کرکے طالبان حق کو ذات حق تک رسائی نصیب ہوسکے۔ یہ اسم علامت کے طور پر اس ہستی مبارکہ کو بیان کررہا ہے جو ذات حق سے واصل اور اس کی عارف بھی ہے اور دیگر مخلوقات کو ذات حق کا وصال اور معرفت عطا کرنے والی بھی۔ ذاتِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کلمہ اسم کا مدلول کامل ہے : پورا قرآن شروع سے آخر تک اس امر کی تائید کرتا ہے کہ اسی مقصد کے لیے دنیا میں انبیاء و رسل تشریف لاتے رہے۔ وہ ذات حق کی معرفت اور اس تک رسائی کا بہترین ذریعہ و واسطہ بھی تھے اور علامت ودلالت بھی۔ پھر یہ انبیاء و رسل ایک دوسرے پر فضیلت بھی رکھتے تھے۔ ارشاد قرآنی ہے۔ تِلْکَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلٰی بَعْضٍ. یہ سب رسول ( جوہم نے مبعوث فرمائے) ہم نے ان میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے۔ (البقره، 2 : 353) انبیاء و رسل کی تمام فضیلتیں جس نقطے پر جاکر اپنے منتہائے کمال کو پہنچ گئیں۔ وہ نقطہ نبوت محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا تھا۔ اس لیے ذات حق پر آپ کی دلالت بھی سب سے زیادہ اکمل و افضل تھی اور آپ کی شانِ علامت بھی سب سے ارفع و اعلیٰ تھی۔ اس لیے نبوت و رسالت جہاں مقام و مرتبہ کے اعتبار سے آپ کی ذات ستودہ صفات پر ختم ہوگئی۔ وہاں ادوار زمانی کے اعتبار سے بھی آپ ہی پر اختتام پذیر ہوگئی۔ چنانچہ ذات حق کی علامتِ تامہ اور دلالتِ مطلقہ ذات مصطفوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قرار پاگئی۔ قرآن مجید نے کئی مقامات پر اس حقیقت کی واضح نشاندہی بھی کی ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے : وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ تَعَالَوْاْ إِلَى مَا أَنزَلَ اللّهُ وَإِلَى الرَّسُولِ رَأَيْتَ الْمُنَافِقِينَ يَصُدُّونَ عَنكَ صُدُودًاO (النساء، 4 : 61) اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ کے نازل کردہ (قرآن) کی طرف اور رسول کی طرف آجاؤ تو آپ منافقوں کو دیکھیں گے کہ وہ آپ (کی طرف رجوع کرنے) سے گریزاں رہتے ہیںo اس آیت نے صراحت کے ساتھ اس حقیقت کو بے نقاب کردیا کہ منافقت یہ ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے واسطہ کے بغیر ہی ذات حق کی بارگاہ میں بازیابی کے حصول کی کوشش کی جائے۔ یعنی منافقت کی پہچان یہ ہے کہ ’’ رسول کو وصالِ حق کا ذریعہ نہ ماناجائے۔ اس کو معرفت حق کی علامت اور ذاتِ حق کی دلالت تسلیم نہ کیا جائے،،۔ یعنی منافق یہ سمجھتا ہے کہ نسبت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بغیر ہی احکام خداوندی پر عمل باعثِ ایمان ثابت ہوجائے گا۔ حالانکہ قرآن اسے ’’ منافقت،، کہہ کر رد کرچکا ہے۔ اسی تصور کو ایک اور مقام پر یوں بیان کیاگیا ہے۔ وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ تَعَالَوْا يَسْتَغْفِرْ لَكُمْ رَسُولُ اللَّهِ لَوَّوْا رُؤُوسَهُمْ وَرَأَيْتَهُمْ يَصُدُّونَ وَهُم مُّسْتَكْبِرُونَO اور (ان کی حالت تو یہ ہے کہ) جب ان سے کہا جاتا ہے کہ آؤ رسول اللہ تمہارے لئے ( اللہ سے) بخشش طلب فرمائیں تو (یہ گستاخی سے) سر ہلاتے ہیں اور آپ دیکھتے ہیں کہ وہ بے رخی کرتے ہیں اور وہ تکبر کرتے ہیںo (المنافقون، 63 : 5) ان گستاخان رسالت اور بے نیازاِن درِ نبوت کے بارے میں مزید حکم صادر کیا گیا۔ ’’ کہ اے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میری غیرت اور شان مجیت کا تقاضا یہی ہے کہ اگر یہ تیرے ذریعہ وواسطہ کو اپنا کر میری ذات تک پہنچیں گے تو انہیں بخش دوں گا۔ لیکن اس طرح تجھ سے منہ موڑ کر تجھ سے تکبر کرتے ہوئے، تجھے میری ذات تک رسائی کا واحد ذریعہ و واسطہ اور علامت نہ سمجھتے ہوئے براہ راست مجھ سے معافی مانگنا چاہیں یا تو سراپا رحمت و رافت ہونے کی بناء پر انکے غرور و تکبر کے باوجود اپنے طور پر ان کیلئے مغفرت مانگے تو میں ان بدبختوں کو پھر معاف نہیں کروں گا۔ ان کو تجھ سے منہ موڑنے کا مزہ چکھا کر ہی رہوں گا۔ سَوَاءٌ عَلَيْهِمْ أَسْتَغْفَرْتَ لَهُمْ أَمْ لَمْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ لَن يَغْفِرَ اللَّهُ لَهُمْ. آپ ان کے لئے بخشش مانگیں یا ان کے لئے بخشش نہ مانگیں ان کے حق میں برابر ہے اللہ ان کو ہرگز نہ بخشے گا۔ (المنافقون، 63 : 6) اگر یہ آپ کی سفارش، شفاعت اور غلامی کے ذریعہ کو ٹھکرا کر بھی بخشے جائیں تو پھر ان غلامانِ رسالت کا کیا حال ہوگا جو قدم قدم پر تیری بارگاہ میں نیاز مندیاں کرتے ہیں اور تجھے میری ذات کی علامت سمجھ کر تیرے واسطے سے مجھ تک پہنچتے ہیں۔ میں ان بدنصیبوں کو ان خوش نصیبوںکے برابر نہیں ٹھہرا سکتا اور پھر میرا دستور مغفرت ہی یہی ہے کہ لوگ بارگاہ رسالت کی وساطت سے مجھ تک پہنچیں۔ باری تعالیٰ خود اعلان فرماتے ہیں۔ وَمَا أَرْسَلْنَا مِن رَّسُولٍ إِلاَّ لِيُطَاعَ بِإِذْنِ اللّهِ وَلَوْ أَنَّهُمْ إِذ ظَّلَمُواْ أَنفُسَهُمْ جَآؤُوكَ فَاسْتَغْفَرُواْ اللّهَ وَاسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُولُ لَوَجَدُواْ اللّهَ تَوَّابًا رَّحِيمًاO اور ہم نے کوئی پیغمبر نہیں بھیجا مگر اس لئے کہ اللہ کے حکم سے اس کی اطاعت کی جائے اور (اے حبیب) اگر وہ لوگ اپنی جانوں پر ظلم کر بیٹھے تھے آپ کی خدمت میں حاضر ہو جاتے اور اللہ سے معافی مانگتے اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی ان کے لئے مغفرت طلب کرتے تو وہ (اس وسیلہ اور شفاعت کی بنا پر) ضرور اللہ کو توبہ قبول فرمانے والا نہایت مہربان پاتےo (النساء، 4 : 64) اس آیت کا مفہوم و مدعا سابقہ آیت کی روشنی میں سمجھا جائے تو حقیقت منکشف ہوجاتی ہے کہ لوگ ظلم ومعصیت کے بعد اگر ذات محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو واسطہ وصال الٰہی اور ذریعہ مغفرت حق مان کر در رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سرنیاز خم کردیں، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وساطت سے بارگاہ الوہیت تک رسائی کی آرزو کریں اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ذریعہ و واسطہ سمجھنے سے انکاری ہوں بلکہ آپ کی سفارش سے ہی منہ پھیر لیں تو پھر کوئی صورت نہیں کہ وہ بخشے جائیں۔ اس لیے کہ اندریں صورت میں ان کی بخشش سنت الٰہی کے خلاف ہے اور ارشاد ایزدی ہے۔ وَلَن تَجِدَ لِسُنَّةِ اللَّهِ تَبْدِيلًاO اور آپ اللہ کی سنت میں کبھی فرق نہ پائیں گےo (الفتح، 48 : 23) متذکرہ بالا آیات نے اس حقیقت کو اظہر من الشمس کردیا کہ ذات حق تک رسائی کے لیے صرف اور صرف ذات محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی واسطہ و ذریعہ ہے۔ اسی وجہ سے آپ کو تسمیہ میں ’’ کلمہ اسم،، سے تعبیر کردیا گیا اور آپ کو علی الاطلاق برھان من ربکم (تمہارے رب کی طرف سے حتمی و قطعی دلالت) کے لقب سے سرفراز کیا گیا ہے۔ چنانچہ بسم اﷲ الرحمن الرحیم کی اولین تعلیم ہی یہی تھی کہ ذات باری تعالیٰ اور اس کی صفاتِ کاملہ تک رسائی واسطہ و علامت کے بغیر ممکن نہیں اور وہ واسطہ جلیل ذات محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے جسے اس ذات نے محمد، احمد، حامد اور محمود کے اسماء مبارکہ کے ذریعے اپنی شان اسمیت سے نواز رکھا ہے۔ ذات محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور شان اسمیت : مذکورہ بالا تحقیق کا خلاصہ یہ ہوا کہ جناب مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ’’اسم،، ہیں کیونکہ ان کو اﷲ سے نسبت ہے اور ساری مخلوق خدا کو ان سے نسبت ہے یہی اسم کی شان اور تعریف پہلے بیان ہوچکی ہے کہ وہ مسند بھی ہوتا ہے اور مسندالیہ بھی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی اسی حیثیت کو اسطرح واضح فرمایا : إنما أنا قاسم واﷲ يعطي. بے شک نعمتوں کو مخلوق خدا میں تقسیم میں ہی کرنے والا ہوں اور مجھے عطا اﷲ تعالیٰ کرتاہے۔ (صحيح المسلم، 2 : 333، 12. کتاب الزکوة، 33. باب النهی عن المسألة، رقم حديث : 100) اس حدیث صحيح کے ذریعے ذات محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دو نسبتیں واضح ہوگئیں۔ 1۔ نسبت الی الخالق۔ 2۔ نسبت الی الخلق ’’نسبت الی الخالق،، یہ ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خالق سے حاصل کرتے ہیں اور ’’ نسبت الی الخلق،، یہ ہے کہ مخلوق میں تقسیم فرماتے ہیں۔ سورہ الضحٰی میں یہی دو نسبتیں خاص انداز سے بیان کی گئی ہیں۔ وَلَسَوْفَ يُعْطِيْکَ رَبُّکَ فَتَرْضٰیO اَلَمْ يَجِدْکَ يَتِيْمًا فَاٰوٰیO وَوَجَدَکَ ضَآلًا فَهَدَیO وَوَجَدَکَ عَآئِلًا فَاَغْنٰیO اور بے شک قریب ہے کہ آپ کا رب آپ کو اتنا دے گاکہ آپ راضی ہوجائیں گے کیا اﷲ نے آپ کو حالت یتیمی میں نہ پایا۔ پس اس نے آپ کو بلند مقام سے سرفراز کردیا اور اس نے آپ کو اپنی محبت میں خود رفتہ پایا۔ پس اپنا قرب و وصال عطا کردیا اور اس نے آپ کو اپنی نعمتوں کا ضرورت مند اورطلبگار پایا تو اتنا عطا کیا کہ غنی اور مالدار کردیا۔ (الضحٰی، 93 : 5 - 8) ان آیات میں پہلی نسبت کا بیان تھا کہ جس جس چیز کی ضرورت ذات مصطفوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو محسوس ہوئی رب ذوالجلال نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عطا کردی۔ اپنی نعمتوں اور عطاؤں کے خزانے نے ذات نبوی پر اس طرح کھول دیئے کہ انہیں ’’غنی،، یعنی بے نیاز کردیا۔ اب مخلوق خدا کو حکم دیاکہ میری نعمتوں اور عطاؤں کو حاصل کرنا چاہتے ہوتو تمہارے لیے واسطہ اتم مقرر فرمادیا ہے۔ جاؤ درِ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر حاضری دو، وہاں دامن سوال دراز کرو، جو کچھ مانگو وہی کچھ ملے گا۔ کیونکہ ہم نے عطا میں کوئی کمی نہیں کی، وہ تقسیم میں بھی کچھ نہیں کریں گے۔ ساتھ ہی ’’نسبت الی الخلق، ’ کے حوالے سے اپنے اسم مقدس کو حکم صادر فرمایا : فَاَمَّا الْيَتِيْمَ فَلَا تَقْهَرْO وَاَمَّا السَّآئِلَ فَلَا تَنْهَرْO وَاَمَّا بِنِعْمَة رَبِّکَ فَحَدِّثْO پس اے محبوب، اے تقسیم کرنے والے، اب اگر آپ کے پاس کوئی یتیم آئے تو اس (کے مانگنے) پر ناراض نہ ہوں، اور جو کوئی سائل آپ کے در پر آئے۔ پس اسے خالی نہ موڑیے اور اپنے رب کی عطاؤں اور نعمتوں کو ہر ایک میں تقسیم کرکے خوب چرچا کرو۔ (الضحٰی، 93 : 9 - 11) لہذا ذات محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان اسمیت یہ قرار پائی کہ ’’نسبت الی الخالق،، کے نتیجے میں ساری کائنات میں انعامات الٰہیہ کی تقسیم کے فیضان رحمت کے مظہر اتم بن گئے اور ’’نسبت الی الخلق،، کے نتیجے میں ساری کائنات میں انعامات الٰہیہ کی تقسیم کے ضامن بن گئے بقول مولانا احمد رضا خان : بخدا، خدا کا یہی ہے در، نہیں اورکوئی مفر مقر جو وہاں سے ہو یہاں آکے ہو، جو یہاں نہیں تو وہاں نہیں سورۃ الضحٰی کی آیت متذکرہ 8 اور 10 اور حدیث مذکورہ بالا دونوں مقامات میں نہ ’’عطا،، میں تخصیص فرمائی گئی ہے اور نہ تقسیم میں۔ عطا بھی مطلق اور بلاقید ہے۔ تقسیم بھی مطلق اور بلاقید ہے۔ اسی طرح سائلان و وابستگان پر بھی کوئی پابندی عائد نہیں کی گئی کہ تم کیا مانگو اور کیا نہ مانگو۔ جو کچھ بھی مانگو گے، دنیا مانگو یا آخرت، سب کچھ ملے گا کیونکہ ہم نے اپنے محبوب کو بلا استثنٰی تمہاری ضرورتوں سے بھی زیادہ عطا کر دیا ہے۔ پھر اس سے قبل یہ بھی اعلان فرما دیاگیا۔ وَلَلْاٰخِرَة خَيْرٌ لَّکَ مِنَ الْاٰوْلٰیO اے محبوب! تمہاری ہر آنے والی گھڑی، گزری ہوئی گھڑی سے بہتر ہوگی۔ (الضحٰی، 93 : 4) یعنی آپ پر ہر آن ہماری عطاؤں کا سلسلہ بڑھتا رہے گا۔ جب عطاؤں میں کمی نہیں آسکتی اسی طرح تقسیم میں بھی کمی یا رکاوٹ نہیں آنی چاہیے۔ چنانچہ ابدالآباد تک ذات محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یہ دونوں نسبتیں ( نسبت الی الخالق۔ ۔ ۔ جو حصول فیضان سے عبارت ہے اور نسبت الی الخلق۔ ۔ ۔ جو تقسیم فیضان سے عبارت ہے) قائم و دائم رہیں گی۔ اس لیے قرآن کے پیغام ابدی کے ساتھ ساتھ مخلوق خدا کے لیے اسم مقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فیضان وساطت و رسالت بھی جاری و ساری رہے گا۔ حرفِ جار کی نسبت ایک لطیف نکتہ : یہاں یہ امر بھی ذہن نشین رہنا چاہیے کہ تسمیہ میں کلمہ اسم کو حرف جار (باء) سے منسلک کیا گیا ہے ’’جر،، کے معنی کشش اور جذب کرنے کے ہوتے ہیں۔ حرف جار کشش کے لیے مقرر ہے چونکہ حرف جار فعل محذوف کو اسم سے ملانے کے لیے واقع ہوا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ جو بھی ذات حق کا ماسوی ہے اور اسے ذات باری تعالیٰ کا قرب و وصال اور معرفت و اعانت مطلوب ہے۔ وہ ذات محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جسے بطور علامت عنوان ’’اسم،، کے تحت بیان کیا گیا ہے جذب وکشش پیدا کرلے۔ اسے جس قدر ذات محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا قرب اور جذب و کشش نصیب ہوگی اسی قدر ذات حق کی محبوبیت کا سزا وار ہوتا چلا جائے گا۔ جیسے کہ ارشاد خداوندی ہے۔ قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اﷲَ فَاتَّبِعُوْنِیْ يُحْبِبْکُمُ اﷲُ. (اے حبیب!) آپ فرما دیں اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو تب اللہ تمہیں (اپنا) محبوب بنالے گا۔ (آل عمران، 3 : 31) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی اسی شان کریمی کا ذکر کرتے ہوئے یوں فرمایا : مثلی کمثل رجل استوقد ناراً فلما أضاء ت ماحولها جعل الفراش و هذه الدوآب التی فی النار يقعن فيها و جعل يحجزهن و يغلبنه فيتقحمن فيها قال فذلکم مثلي و مثلکم أنا أخذ بحجرکم عن النارهلم عن النارهلم عن النار فتغلبوني و تقحمون فيها. (صحيح لمسلم، 2 : 248، 43. کتاب الصقائل، 6. باب شفقة صلي الله عليه وآله وسلم علي امته، رقم : 18) حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا میری مثال اس شخص کی طرح ہے جس نے آگ جلائی اور جب اس آگ نے ماحول کو روشن کر دیا تو اس میں پروانے اور حشرات الارض گرنے لگے وہ شخص ان کو آگ میں گرنے سے روکتا ہے اور وہ اس غالب آکر آگ میں دھڑا دھڑ گر رہے ہیں پس یہ میری مثال اور تمہاری مثال ہے میں تمہاری کمر پکڑ کر تم کو جہنم میں جانے سے روک رہا ہوں اور کہہ رہا ہوں کہ جہنم کے پاس سے چلے آؤ اور تم لوگ میری بات نہ مان کر جہنم میں گرے جا رہے ہو۔ اس حدیث کے ذریعے اس جذب و کشش کی ماہیت بھی واضح ہوگئی جو کلمہ کے باعث اسم مقدس میں پیدا ہو گئی تھی۔ اسم نحوی کا خاصہ جر من حیث الوقع ہے اور اسم الٰہی کا خاصہ جرمن حیث الصدور ہے۔ خلاصہ کلام یہ ہوا کہ بسم اﷲ الرحمن الرحیم کے ذریعے باری تعالیٰ نے ’’توحیدِخالص،، کی تعلیم دی لیکن اس کی صحت وقبولیت کی شرط بھی متعین فرما دی اور وہ شرط واسطہ رسالت محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے۔ اسی لیے اسم ذات ’’اﷲ،، کو علی التخصیص الرحمن الرحیم کے ذریعے صفتِ رحمت سے اجاگر کیا تاکہ ’’شانِ اسمیت،، کے معنی ومفہوم پر بھی دلالت ہوجائے کہ اسمِ مقدس کا کامل ترین مدلول ذات محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے۔ فسلفہ تسمیہ از ڈاکٹر طاہر القادری