بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ * لا الہٰ الا اللہ محمّد رسول اللہ * قُلْ هُوَ اللّـٰهُ اَحَدٌ - اَللَّـهُ الصَّمَدُ - لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُوْلَدْ - وَلَمْ يَكُنْ لَّـهٝ كُفُوًا اَحَدٌ

محمد اسحاق قریشی


قرون وسطیٰ کے مسلمان

2017-05-23 07:45:38 

اہل مغرب جس دور کو قرون وسطیٰ کے نام سے یاد کرتے ہیں یہی دور طلوع اسلام اور اسلامی عروج و ارتقاء کا دور ہے۔اس دور میں مسلمانوں نے ایک طرف سیاسی اور عسکری فتوحات کے ذریعے ایک عالم کو اپنا زیر نگین بنایاتو دوسری طرف انہوں نے علم و تہذیب کے میدان میں وہ ترقی کی جس کی مثال تاریخ پیش کرنے سے قاصر ہے۔ ساتویں صدی عیسوی کے اوائل میں مدینہ طیبہ میں اسلامی ریاست کی ابتداء ہوئی۔اور نویں صودی عیسوی کے وسط تک اسلامی سلطنت کی حدود شمال میں بحیرہ اسود، جنوب میں ملتان، مشرق میں سمرقند اور مغرب میں جنوبی فرانس اور ساحل اوقیانوس تک پھیلی ہوئی تھیں۔اس زمانے میں بغداد، ایران ، مصر، سپین اور سسلی سے اسلامی علوم و فنون اور تہذیب و تمدن کی نورانی لہریں اٹھ رہی تھیں۔اور ایک عالم کو بقعہ نور بنا رہی تھیں۔مسلمان جہاں گئے وہاں خوبصورت عمارتوں، رنگا رنگ پارکوں،سڑکوں، نہروں، باغات، پلوں، تالابوں،مدرسوں اور کتب خانوں کا جال بچھا دیا۔انہوں نے دنیا بھر سے علمی شاہپارے اکٹھے کیئے۔ انہیں جہاں بھی کسی عالِم کی موجودگی کا علم ہوا ، اسے دربار خلافت میں لا کر علم کی خدمت پر مامور کر دیا۔
انہوں نے علماء کی حوصلہ افزائی کی جس کے نتیجے میں علماء نے یونان کے فلسفہ کو عربی میں منتقل کیا۔اس کی خامیاں تلاش کیں۔اور انہوں نے اس جامد فلسفہ کو اپنے مسلسل تجربات کے ذریعے انسانیت کی فلاح اور ترقی کے لیے استعمال کیا۔ ان کی ان مسلسل کوششوں سے اسلامی شہروں اور ان شہروں میں بسنے والوں کی جو کیفیت تھی اس کی ایک جھلک پیش خدمت ہے :۔
عہد مامون (813- 833) میں بغداد کی آبادی دس لاکھ تھی ۔ جس میں تیس ہزار مساجد،دس ہزار حمام،ایک ہزار محل اور آٹھ سو اطباء تھے ۔نیز ایک دارالحکمت تھاجس میں ایران، عراق، شام،مصر اور ہندوستان کے سینکڑوں حکماء دنیا بھر کے علوم و فنون کو عربی میں منتقل کر رہے تھے ۔سڑکوں پر ہر روز گلاب اور کیوڑے کا عرق عرق چھڑکا جاتا تھا۔ (بحوالہ یورپ پر اسلام کے احسانات)
ول ڈیوران لکھتا ہے کہ دمشق میں سو حمام،سو فوارے،پونے چھ سو مساجداور بے شمار باغات تھے ۔ آبادی ڈیڑھ لاکھ سے زائد تھی۔شہر کاطول بارہ میل اور عرض تین میل تھا۔یہاں ولید اول(705-715) نے ایک مسجد تعمیر کرائی جس پر بارہ ہزار مزدور آٹھ سال تک کام کرتے رہے۔(ول ڈیوران "دی ایج آف فیتھ")
رابرٹ بریفالٹ لکھتا ہے کہ عربوں کے نفیس کتانی، سوتی، اونی  اور ریشمی لباس، بغداد کے حریر و پرنیاں، دمشقی مشجر، موصل کی ململ، غازہ کی جالی، غرناطہ کے اونی کپڑے، ایرانی تافتہ اور طرابلس کے شیفون نے یورپ کے نیم برہنہ  آبادی کو اعلیٰ لباس کا شوقین  بنا دیا۔اس قسم کے مناظر اکثر دیکھنے میں آئےکہ بشپ گرجے میں عبادت کر رہا ہے اور اس کی عبا پر قرآنی آیات کاڑھی ہوئی ہیں۔مرد تو رہے ایک طرف عورتیں بھی عربی قمیص اور جبہ بڑے شوق سے پہنتی تھیں۔سپین اور سسلی میں بے شمار کرگھے تھے۔ صرف اشبیلہ میں سولہ ہزار تھے۔قرطبہ میں ریشم بافوں کی تعداد ایک لاکھ تین ہزار تھی۔سسلی کے پایہ تخت میں تین ہزار سے زائد جامہ باف تھے۔ ان کی تیار کردہ عباؤں، قباؤں اور چادروں پر قرآنی آیات بھی رقم ہوتی تھیں۔جنہیں عیسائی بادشاہ اور پادری بڑے فخر سے پہنتے تھے۔سسلی میں عیسائی عورتیں نقاب اوڑھتی تھیں۔(یورپ پر اسلام کے احسانات بحوالہ تشکیل انسانیت)۔
عبد الرحمٰن سوم (912-961) کے زمانے میں قرطبہ کی آبادی پانچ لاکھ تک پہنچ گئی تھی۔اس میں سات سو مساجد،تین سو حمام، ایک لاکھ تیرہ ہزار مکانات،اکیس مضافاتی بستیاں اور ستر لائبریریاں تھیں۔اس میں شیشہ سازی اور چمڑہ رنگنے کے کارخانےتھے، مسلمانوں نے سسلی میں نہریں نکالیں، دور دراز سے شفتالو اور لیموں وغیرہ کے درخت منگوا کر لگوائے۔ کپاس اور نیشکر کو عام کیا۔ریشم کو رواج دیا ۔ تعمیرات میں سرخ و سفید پتھر استعمال کیا۔ نوکدار محرابوں، آرائشی طاقچوں،جالیوں اور میناروں کو مقبول بنایا۔ محلات و مساجد پر خط طغرائی میں آیات نویسی کا سلسلہ شروع کیا۔جابجا درسگاہیں اور کتب خانے قائم کیئے۔ایک سو تیرہ بندرگاہیں بنائیں اور وہاں کے لوگ اسلامی تہذیب سے اتنے متاثر ہوئے کہ ان کا لباس،تمدن، نظام تعلیم اور رہن سہن سب کچھ اسلامی سانچے میں ڈھل گیا۔(یورپ پر اسلام کے احسانات)
مسلمانوں کی بلند اخلاقی:۔
اسلام کی تعلیمات میں حسن اخلاق کوانسانیت کا زیور قرار دیا گیا ہے۔حضور اکرم ﷺ کا ارشاد گرامی  کا مفہوم ہے کہ تم میں سے حسین ترین شخصیت کا مالک وہ ہے جس کے اخلاق اچھے ہوں۔حضور اکرم ﷺ معلم اخلاق کی حثیت سے اس دنیا میں تشریف لائے۔ قرآن حکیم کی تعلیمات اور حضور اکرم ﷺ کے ارشادات نے امت مسلمہ کو جس بلند اخلاقی کے زیور سے آراستہ کیا، اس کی جھلک مسلمان معاشروں میں ہر دور میں عیاں نظر آتی رہی ہے۔دراصل یہی بلند اخلاقی مسلمانوں کا اصل ہتھیار رہاہے جس کی بدولت وہ دشمنوں کے دل جیتنے میں کامیاب رہے اور مفتوح اقوام کے دلوں میں اپنے لیئے عقیدت و احترام کا وہ جذبہ پیدا کیا  جس کی نظیر تاریخ اقوام و ملل میں ملنی محال ہے۔
حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے دور میں مسلمان اہلیان شام سے جزیہ وصول کیا کرتے تھے۔ایک بار ایسا ہوا کہ مسلمان رومیوں کے دباؤ کی وجہ سے اس علاقہ کو چھوڑنے پر مجبور ہو گئے۔مسلمانوں کے سپہ سالار امین الامت حضرت ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ نے رومیوں سے وصول کردہ تمام جزیہ واپس کر دیا اور فرمایا کہ ہم نے یہ جزیہ تم سے اس شرط پر لیا تھا کہ ہم تمہاری حفاظت کریں گے۔ موجودہ حالات میں چونکہ ہم تمہاری حفاظت نہیں کر سکتے اس لیئے جزیہ واپس کر رہے ہیں۔
کیا رقت انگیز منظر تھا کہ مسلمان واپسی کے لیئے رخت سفر باندھ رہے تھے اور عیسائی مسلمانوں کو جاتے ہوئے دیکھ کر زار و قطار رو رہے تھے ۔ان کا پوپ انجیل ہاتھ میں پکڑ کر کہہ رہا تھا"اس مقدس کتاب کی قسم !اگر کبھی ہمیں اپنا حاکم خود مقرر کرنے کا اختیار دیا گیاتو ہم عربوں کو ہی منتخب کریں گے۔ (بحوالہ یورپ پر اسلام کے احسانات)
سلجوقی سلطان الپ ارسلان نے قیصر رومنس کو شکست دے کر گرفتار کر لیا۔قیصر کو سلان کے سامنے پیش کیا گیا۔سلطان نے پوچھا اگر میں گرفتار ہو کر تمہارے سامنے پیش کیا جاتاتو تم میرے ساتھ کیا سلوک کرتے؟قیصر نے جواب دیا "کوڑوں سے تمہاری کھال کھینچ لیتا"۔ سلطان نے کہا مسلم اور عیسائی میں یہی فرق ہے۔ اس کے بعد قیصر کی خدمت میں بیش بہا تحائف پیش کیئے اور اسے بڑے احترام کے ساتھ رخصت کیا۔ (بحوالہ  ایج آف فیتھ) برطانیہ کے بادشا رچرڈ شیردل کو صلیبی جنگوں کا ہیرو تصور کیا جاتا ہے۔ وہ سلطان صلاح الدین ایوبی رحمہ اللہ کے خلاف مسلسل برسرپیکار رہا۔ایک مرتبہ جب وہ بیمار ہوا تو اس کی بیماری کے دوران سلطان صلاح الدین ایوبی اسے مفرحات اور پھل وغیرہ بطور تحفہ بھیجتا رہا۔
موسیو لیبان لکھتا ہے کہ "عربوں نے چند صدیوں میں اندلس کو مالی اور علمی لحاظ سے یورپ کا سرتاج بنا دیا" یہ انقلاب صرف علمی اور اقتصادی نہ تھا بلکہ اخلاقی بھی تھا۔ انہوں نے نصاریٰ کو انسانی خصائل سکھائے۔ان کا سلوک یہود و نصاریٰ کے ساتھ وہی تھا جو کہ مسلمانوں کے ساتھ تھا۔ انہیں سلطنت کا ہر عہدہ مل سکتا تھا ۔ مذہبی مجالس کی کھلے عام آزادی تھی۔یہ وہ سلوک تھا جس سے متاثر ہو کر صرف غرناطہ میں انیس لاکھ عیسائیوں نے اسلام قبول کر لیا تھا۔اسی سلوک کی وجہ سے مسلمان جس بھی علاقے میں گئے وہاں ان کی شان و شوکت اور ان کے دین کی عظمت  کے پرچم صدیوں لہراتے رہے۔
مسلمانوں کی علم دوستی:۔
اسلام علم و عمل کا دین ہے۔اس کی الہامی کتاب کا جو پہلا جملہ نازل ہوا  وہ  "اقرا باسم ربک الذی خلق"(سورۃ العلق) تھا۔یعنی پڑھیئے اپنے رب کے نام کے ساتھ جس نے (سب کو) پیدا فرمایا۔قرآن حکیم نے بار بار علم کی عظمت کو بیان فرمایا اور حضور اکرم ﷺ نے اپنے ارشادات سے مسلمانوں کے اندر علم سے محبت کا وہ جذبہ پیدا فرمایا جس کی وجہ سے ان کی کثیر تعداد نے اپنی زندگیاں علم کے لیئے وقف کر دیں۔انہوں نے اپنی مادی ضروریات سے بے نیاز ہو کرالہامی علم کے نور سے اپنے سینوں کو منور کیا۔انہوں نے قرآن حکیم کے ایک ایک لفظ کو اپنے سینے کے اندر محفوظ کیا اسے سپرد قلم کیا اور آئندہ آنے والی نسلوں کی طرف منتقل کیا۔انہوں نے حضور اکرم ﷺ کی حیات طیبہ کا مکمل  اور جامع ریکارڈ تیار کیا۔ جو بات آپ ﷺ کی زبان اقدس سے نکلی یا جو کام آپ ﷺ نے کیا وہ پوری محنت اور دیانتداری کے ساتھ آئندہ نسلوں کی طرف منتقل کیا۔
قرآن حکیم نے مسلمانوں کو انفس و آفاق میں غور و تدبر کرنے کا بار بار حکم دیا۔اور مسلمانوں نے اس ارشاد خداوندی کی تعمیل میں اپنی زندگیاں کائنات کے مخفی اور سربستہ رازوں کی کھوج لگانے میں صرف کر دیں۔جب یورپ جہالت کی تاریکیوں میں سر سے پاؤں تک ڈوبا ہوا تھا اس وقت مسلمانوں کی علمی حالت کیا تھی ، اس کی چند ایک جھلکیاں پیش خدمت ہیں۔
یزید اول کے بیٹے خالد نے ایک دارالترجمہ قائم کیا۔ جس میں ایک پادری ایرن نامی نگرانی پر مامور تھا۔ خود خالد بھی مصنف تھا۔اب الندیم نے الفہرست میں خالد کی چار کتابوں کے نام دیئے ہیں۔
عباسی خلفاء نے دنیا کے ہر حصے میں آدمی بھیجے جو کہ کتابوں کے انبار لے کر واپس آئے۔ جہاں بھر کے علماء اور حکماء دربار خلافت میں طلب ہوئے اور تصنیف و ترجمہ پر مامور ہوئے۔ ان لوگوں نے تھیلز(640 ق م) سے لیکر بطلیموس (151ء) تک  کی تصانیف عربی میں منتقل کر لیں۔جالینوس اور ارسطو کی شروحات لکھیں۔بطلیموس کے بعض مشاہدات پر تنقید کی ۔اور نہایت محنت سے ستاروں کے مقام وحرکت کی فہرستیں مرتب کیں۔ خسوف و کسوف کے اسباب بتائے۔زمین کی جسامت متعین کی۔کئی قسم کے اصطرلاب بنائے۔ علماء کے ساتھ بعض وزراء ، امراء اور سلاطین بھی  کتب خانوں اور رصد گاہوں میں جا بیٹھے۔ حکمت یونان جسے دنیا بھول چکی تھی ، پھر سے زندہ کیا۔قرطبہ سے سمرقند تک ہزاروں درسگاہیں تعمیر کیں۔ان میں طلبہ کی کثرت کا یہ عالم تھا کہ بقول ول ڈیوران:"جغرافیہ دانوں، مؤرخوں،منجموں، فقیہوں، محدثوں، طبیبوں اور حکیموں کے ہجوم کے سبب سڑکوں پر چلنا مشکل تھا۔جب سلطان محمود غزنوی کو معلوم ہوا کہ خوارزم شاہ کے دربار میں البیرونی اور ابن سینا جیسے علماء موجود ہیں تو اس نے خوارزم شاہ کو پیغام بھیجا کہ یہ علماء اس کے پاس بھیج دیئے جائیں۔محمود کے دربار میں چار سو علماء و شعراء تھے۔
ایک دفعہ مامون نے قیصر روم کو لکھا کہ وہاں کے ایک حکیم لیونامی کو دربار خلافت میں بھیج دیجئے۔ اس کے عوض چالیس من سونا دیا اور دائمی صلح کا وعدہ کیا۔مامون علماء دارلحکمت کی تصانیف کو سونے میں تولتااور یہ سونا مصنف کو دے دیتا۔جب شیخ سعدی رحمۃ اللہ علیہ بغداد کے دارالعلوم نظامیہ میں داخل ہوئے تو اس وقت زیر تعلیم طلبہ کی تعداد سات ہزار تھی۔اور اس میں ابھی مزید طلبہ کی گنجائش موجود تھی۔مرزا حیرت دہلوی اپنی کتاب (حیات سعدی) میں لکھتے ہیں کہ دارالعلوم نظامیہ ایک پورا شہر تھا۔لاتعداد کمرے اور ایک وسیع و عریض ہال جس میں دس ہزار انسان سما سکتے تھے۔دارالعلوم میں قرآن، حدیث، فقہ، فلسفہ، ریاضی، ہیئت، اور دیگر کئی اقسام کے علوم کی تدریس کا پورا انتظام موجود تھا۔ایک شعبہ اجنبی زبانوں کا تھا جہاں یونانی، عبرانی، لاطینی، سنسکرت اور فارسی پڑھائی جاتی تھیں۔تیر اندازی، تیغ بازی اور گھڑ سواری کی بھی مشقیں کرائی جاتی تھیں۔
جب گیارہویں صدی میں اٹلی کا ایک پادری پٹیر نامی حصول علم کے لیئے سپین گیا تو اس نے قرطبہ اور غرناطہ کے ہر خطے میں طلبہ دیکھے جن میں انگریز بھی تھے ۔ اساتذہ کا سلوک بیرونی ممالک کے طلبہ سے بڑا مشفقانہ اور فیاضانہ تھا۔خلیفہ کے محل میں ایک بہت بڑا کتب خانہ تھا۔جس میں کتابوں کی تعداد چار لاکھ تھی۔وہاں کاتبوں، جلد سازوں،اور نقاشوں کا ایک گروہ بھی تھا جس کا کام کتابوں کو نقل کرنا اور جلد باندھنا تھا۔خلیفہ کے درجنوں قاصد دنیا بھر سے کتابیں جمع کرنے پر مامور تھے۔ جامعہ قرطبہ عربوں کی قدیم ترین یونیورسٹی تھی۔جس کی بنیاد عبد الرحمٰن سوم نے ڈالی تھی۔اس میں یورپ، افریقہ اور ایشیا سے طلبہ آتے تھے۔اس کی لائبریری میں چھ لاکھ کتابیں تھیں۔ اس کی فہرست چوالیس جلدوں میں تیار ہوئی تھی۔عربوں نے ایک درسگاہ طلیطلہ میں قائم کی تھی۔جہاں یورپ کے ہر حصے سے طلبہ آتے تھے۔اس کالج سے بڑے بڑے اہل قلم نکلےمثلاََ رابرٹ(1140ء)جس نے قرآن حکیم اور خوارزمی کے الجبرا کو لاطینی میں منتقل کیا۔مائیکل سکاٹ، ڈینیل مارلے اور ایڈل ہارڈ جنہوں نے عربوں سے علوم سیکھےاور پھر یورپ میں علم کی روشنی پھیلانے میں اہم کردار ادا کیا۔
مسلمانوں نے اٹلی اور فرانس کے مختلف شہروں میں بھی مدارس قائم کیئے جہاں مسلمان فلاسفہ کی کتابیں پڑھائی جاتی تھیں۔مسلمانوں نے نہ صرف مدارس قائم کیئے، کتابیں لکھیں بلکہ خلفاء ، سلاطین اور امراء کی علم دوستی نے کتابوں سے محبت کو ملت اسلامیہ کی پہچان بنا دیا۔دنیائے اسلام میں جہاں ہر یونیورسٹی اور کالج کے ساتھ ایک بہت بڑا کتب خانہ قائم تھاوہاں بے شمار لوگوں کے ذاتی کتب خانے بھی تھے۔ان نجی کتب خانوں میں کتابوں کے قیمتی ذخائر موجود تھے ۔ چند ایک کتب خانوں کی تفصیل پیش خدمت ہے:۔
مشہور محدث ابن شھاب  الزہری (742ء) کی کتابیں اس قدر تھیں کہ جب وہ ایک کتب خانے میں منتقل کی گئیں تو کئی خچر اور خر استعمال ہوئے۔
حماۃ(شام) کے والی مشہور مؤرخ ابولفداء(1331ء) کے پاس بہت بڑا کتب خانہ تھا جس میں دو سو علماء و کاتبین کتابیں لکھنے اور نقل کرنے پر مامور تھے۔
جب نصیر الدین طوسی نے ایران کے ایک شہر مراغہ میں رصد گاہ قائم کی تو ساتھ ہی ایک لائبریری بھی بنائی جس میں کتابوں کی تعداد چار لاکھ تھی۔
حملہ تاتار کے وقت بغداد میں چھتیس سرکاری لائبریریاں تھیں۔اور ہر تعلیم یافتہ آدمی کے پاس  بھی کتب کا خاصا ذخیرہ تھا۔
جس زمانے میں عالم اسلام میں کتابوں کی یہ بہتات تھی اس زمانے میں عیسائیوں کی سب سے بڑی لائبریری کنٹر بری میں تھی جس میں صرف پانچ ہزار کتابیں تھیں۔اور دوسری بڑی کائبریری فرانس میں تھی جس میں کل پانچ سو ستر کتابیں تھیں۔بحوالہ ایج آف فیتھ۔
لطف کی بات یہ ہے کہ جس زمانے میں یورپ کی سب سے بڑی لائبریری صرف پانچ ہزار کتابوں پر مشتمل تھی ، ول ڈیوران اس زمانے کے متعلق بڑے فخر سے کہتا ہے کہ لائبریریوں کی یورپ میں کثرت تھی۔حالانکہ یہ وہی زمانہ ہے جب عالم اسلام میں لائبریریوں کی بہتات تھی اور ایک ایک لائبریری لاکھوں کتب پر مشتمل تھی۔
مسلمانوں کے علمی کارنامے:
مسلمانوں نے علم اور سائنس کی دنیا میں جو کارنامے سرانجام دیئےان کی فہرست بڑی طویل ہے۔یورپ نے اپنے دور عروج میں جو سائنسی ترقی کی ہے اس کی بنیادیں مسلمانوں ہی نے رکھی ہیں۔
کولمبس بحر اوقیانوس کو عبور کر کے امریکہ جا پہنچا تھا لیکن اس مہم کے لیئے اس نے جو" قطب نما "استعمال کیا تھا وہ مسلمانوں ہی کا ایجاد کردہ تھا۔اسی کی مدد سے مسلمانوں کے جہاز جدہ سے چین جاتے تھے۔اور اسی کی مدد سے واسکوڈے گاماہندوستان تک نکل گیا تھا۔
بارود جیسے اہل یورپ راجر بیکن کی ایجاد سمجھتے ہیں وہ راجر بیکن سے صدیوں قبل مسلمان استعمال کر رہے تھے۔
نویں صدی عیسوی میں قرطبہ کے مسلمان سائنس دان ابن فرناس نے عینک، میزان الوقت،اور اڑنے والی ایک مشین یعنی طیارہ ایجاد کر کے بنی نوع انسان کی مادی ترقی کی بنیادیں رکھ دی تھیں۔
سپین کی مصنوعات کو افریقہ اور ایشیا لے جانے والابحری بیڑہ ہزار جہازوں پر مشتمل تھا۔سینکڑوں بندرگاہوں سے بحری جہاز تجارتی مقاصد کے لیئے سپین کی بندرگاہوں پر لنگرانداز ہوتے تھے۔
ہم یہاں مسلمان سائنس دانوں کی دومحیر العقول ایجادات کا ذکر کرتے ہیں تاکہ ان سے مسلمانوں کی سائنسی میدان میں مہارت  کا اندازہ لگایا جا سکے:۔
جرمنی کا بادشاہ فریڈرک عربی علوم و تہذیب کا دلدادہ تھا۔وہ پوپ کے حکم سے صلیبی جنگوں میں شامل ہوا۔مصر و شام کے بادشاہ محمد الکامل نے اس کا دوستانہ استقبال کیااور جب فریڈڑک رخصت ہوا تو الکامل نے اسے ایک کلاک بطور تحفہ دیا۔کلاک پر ایک چاند اور ایک سورج بنا ہوا تھا۔اور کلاک کے آفتاب و ماہتاب، آسمانی آفتاب و ماہتاب کی حرکت کے عین مطابق حرکت کرتے تھے۔موسم کی تبدیلی کے باوجود ان کی حرکت آسمانی سورج و چاند کی حرکت کے عین مطابق رہتی تھی۔
ترکستان کے ایک شہر نخشب میں حکم بن ہاشم نے ایک چاند بنایا تھاجو غروب آفتاب کے ساتھ نخشب کے ایک کنویں سے نکلتا۔ تقریباََ سو مربع میل کے ایک رقبے کو رات بھر منور رکھتااور طلوع آفتاب سے عین پہلے ڈوب جاتا۔ہر موسم میں اس کا طلوع و غروب سورج کی حرکت کے عین مطابق ہوتا۔یہ چاند ماہ نخشب کے نام سے اسلامی ادب میں خاصی شہرت رکھتا ہے۔(یورپ پر اسلام کے احسانات بحوالہ تمدن عرب)
مآخذ و مصادر:۔
ضیا النبی ﷺ از کرم شاہ الزہروی رحمۃ اللہ علیہ
یورپ پر اسلام کے احسانات
تمدن عرب
 ایج آف فیتھ
تشکیل انسانیت
طبقات ابن سعد
وفیات الاعیان
معرکہ مذہب و سائنس

کیا قرآن میں جدت کا فقدان ہے

2017-05-23 07:42:55 

اعتراض : قرآن حکیم میں جدت کا فقدان ہے
جواب:۔ مستشرقین نے قرآن حکیم کے متعلق یہ تاثر قائم کرنے کی کوشش کی ہے کہ اس کی تعلیمات میں کوئی چیز نئی نہیں ۔ مستشرقین میں عام طور پر یہ فقرہ مشہور ہے کہ " قرآن حکیم میں جو کچھ جدید ہے وہ صحیح نہیں اور جو صحیح ہے وہ جدید نہیں "
مستشرقین کہنا یہ چاہتے ہیں کہ حضور اکرم ﷺ نے قرآن حکیم کی جو تعلیمات یہود و نصاریٰ سے اخذ کی ہیں وہ صحیح ہیں لیکن جو باتیں آپ ﷺ نے اپنی طرف سے پیش کی ہیں وہ صحیح نہیں ۔وہ اپنے اسی نظریے کو ذہن میں رکھ کر قرآن حکیم  کی تعلیمات کا منبع تلاش کرنے کے لیئے عہدنامہ قدیم و جدید کا مطالعہ کرتے ہیں۔جب انہیں قرآن حکیم کی کوئی بات سابقہ صحف سماویہ کے مطابق نظر آتی ہے تو بڑی خوشی سے اعلان کرتے ہیں کہ محمد ﷺ نے یہ بات فلاں جگہ سے اخذ کی ہے تاکہ قاری یہ محسوس کرے کہ قرآن حکیم اللہ کا نازل کردہ کلام نہیں بلکہ محمد ﷺ نے دیگر کتب سماویہ سے نقل کر کے اس کو تصنیف کیا ہے۔مستشرقین صحف سماویہ کے علاوہ زمانہ جاہلیت کے عربوں کی روایات، مکی زندگی کے رسوم و رواج اور جاہلی عرب شاعری میں بھی ایسے مقامات تلاش کرتے ہیں جن کو قرآن حکیم کا منبع قرار دیا جاسکے۔
مستشرقین سے ایک سوال ہے کہ انہوں نے یہ اصول کہاں سے حاصل کیا کہ سچ وہی ہوتا ہے جو نیا ہو یا دین وہی سچا ہوتا ہے جو اپنے سے پہلے انسانی معاشرے میں موجود تمام عقائد، نظریات، روایات اور معمولات کو یکسر ملیامیٹ کر دے ۔اور پھر ان کے کھنڈروں پر عمارت نو تعمیر کرے؟ کیا اصلاحی تحریکیں وہی سچی ہوتی ہیں جو جو معاشرے کی ہر قدر کو ،صحت و سقم کی تمیز کے بغیرملیامیٹ کر دیں اور پھر نظریات، اخلاق، اقدار اور روایات کا وہ مجموعہ پیش کریں جس کی پہلے کہیں نظیر نہ ملتی ہو؟

یہ بات سچ ہے کہ اسلام کی بہت سی باتیں ایسی ہیں جو نئی نہیں مگر یہ بات بھی غلط ہے کہ اسلام نے یہ سب کسی انسانی ذریعے سے حاصل کیں۔ اسلام نے یہ دعوی کب کیا ہے کہ جو تعلیمات اس نے پیش کیں وہ اس سے پہلے کسی نبی یا رسول نے پیش نہیں کیں؟ اسلام کا تو دعوی ہی یہی ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام سے لیکر حضور اکرم ﷺ تک تمام انبیاء و رسل عظام ایک ہی پیغام کے علمبردار رہے۔ حق ناقابل تغیر ہوتا ہے وہ زمانے کے بدلنے سے نہیں بدلتا۔جو بات حضرت آدم علیہ السلام کے زمانے میں حق تھی وہی بات حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانے میں بھی حق تھی ۔جو بات حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں حق تھی وہی بات حضرت محمد ﷺ کے زمانے میں بھی حق تھی ۔چونکہ تمام انبیاء کرام علیھم السلام حق ہی کے علمبردار تھے تو ان کے پیغامات میں موافقت ایک قدرتی بات ہے۔

دور حاضر میں موجودقرآن کے علاوہ دیگر صحف سماویہ میں جو تضاد نظر آتا ہے وہ اس لیئے نہیں کہ پیغمبران کرام ایک دوسرے سے متضاد پیغامات لے کر آئے تھے بلکہ اس لیئے ہے کہ یہود و نصاریٰ نے صدیوں اپنے صحائف کو بازیچہ اطفال بنا رکھا ہے۔اگر آج بھی اصل انجیل، زبور اور تورات مل جائیں تو ان کی بنیادی تعلیمات اور قرآن کی بنیادی تعلیمات میں سرمو فرق نظر نہ آئے۔تفصیلات کے معمولی اختلافات زمانے کے تقاضوں کے مطابق ضروری ہیں۔اور ان میں عین حکمت ہے۔
قرآن حکیم تو بار بار اعلان فرما رہا ہے کہ وہ باقی صحف سماویہ کی تصدیق کرنے والا ہے۔اگر اس کی تعلیمات اور اس سے قبل صحف سماویہ کی تعلیمات میں فرق ہو تو یہ ان کی تصدیق کیسے کر سکتا ہے؟ اسلام میں تو ایمان بالرسات اور ایمان بالکتب کا مطلب ہی یہی ہے کہ رسالت کے پورے ادارے اور الہامی کتابوں کے مکمل سلسلے پر ایمان لایا جائے۔کوئی بھی مسلمان صرف حضور اکرم ﷺ کی رسالت پر ایمان لا کر ایمان بالرسالت کے تقاضے پورے نہیں کر سکتا بلکہ اسے دیگر تمام انبیاء و رسل پر ایمان لانا پڑتا ہے ۔ اسی طرح ایمان بالکتب  کے لیئے صرف قرآن پر ایمان لانا کافی نہیں بلکہ ضروری ہے کہ مسلمان مجملاََ یہ عقیدہ رکھے کہ سابق انبیاء و رسل پر جو نازل ہوا وہ بھی برحق ہے۔گویا اسلام کے ایمان بالرسالت اور ایمان بالکتب کاتقاضا ہی یہی ہے کہ تمام انبیاء و رسل ایک ہی دین کے علمبردار ہوں اور تمام کتب سماوی کا منبع ایک ہی ہو۔

اگر مستشرقین کے اعتراض کے مطابق کسی کتاب کے منز ل من اللہ ہونے کا یہ معیار ہو کہ اس کی تعلیمات کسی دوسری کتاب کی تعلیمات سے مشابہ نہ ہوں تو ایمان بالکتب ممکن ہی نہیں رہتا۔اس صورت میں تو ایمان بالکتب کے لیئے یہ نئی اصطلاح استعمال کرنی ہو گی کہ تمام انبیاء و رسل کے پیروکار صرف ایک ہی کتاب پر ایمان رکھیں۔اس سے نہ صرف مسلمان متاثر ہوں گے بلکہ خود مستشرقین کے لیئے بھی مسئلہ بن جائے گا۔
ہم مستشرقین سے پوچھتے ہیں کہ اگر انہیں اناجیل کی کوئی بات تورات سے مشابہ نظر آ جائے تو کیا وہ اس بنا پر اناجیل کے کلام الٰہی ہونے کا انکار کر دیں گے اور اسے تورات سے نقل شدہ کتاب قرار دیں گے ؟؟؟
اگر نہیں اور یقیناََ نہیں تو کیا وجہ ہے کہ انجیل کی تعلیمات کی سابقہ کتب سے مشابہت کے باوجود اس کے کلام الٰہی ہونے پر کوئی حرف نہ آئے اور اگر قرآن میں کوئی بات سابقہ صحف سماوی سے مشابہ نظر آ جائے تو اس کے کلام الٰہی ہونے کا انکار کر کے اسے سابقہ کتب کی نقل قرار دے دیا جائے ؟؟؟

ہمارا ایمان ہے کہ تمام کتب جو انبیاء و رسولوں پر نازل ہوئیں سب برحق تھیں سب کا پیغام اور تعلیمات ایک تھیں ۔ ان میں سے کوئی بھی کتاب کسی دوسری کتاب کی نقل نہ تھی ۔بلکہ ہر کتاب بذریعہ وحی اللہ عزوجل نے اپنے ایک برگزیدہ بندے اور رسول پر نازل فرمائی تھی۔

مستشرقین اگر ایک اصول بنا کر اسے تمام کتابوں پر لاگو کر دیں تو انہیں اعتراض کرنے کا قطعاََ کوئی موقع نہ ملے۔مگر عجیب بات یہ ہے کہ قرآن حکیم پر اعتراض کرنے کے لیئے مستشرقین جو اصول وضع کرتے ہیں ان اصولوں سے وہ ان کتابوں کو مستشنٰی سمجھتے ہیں جو ان کے عقیدے کے مطابق منزل من اللہ ہیں۔یہ دوغلی پالیسی نہ علم ہے نہ معروضیت ۔ اس لیئے مستشرقین کے یہ جانبدارانہ اور یک طرفہ فیصلے قطعاََ درخو اعتناء نہیں ۔

قرآنی آیات کے ناسخ منسوخ ہونے پراعتراض

2017-05-23 07:29:09 

مستشرقین کا قرآن حکیم پر یہ ایک بڑا مشہور اعتراض ہے کہ قرآن حکیم میں ایسی آیات موجود ہیں جو باہم ایک دوسرے کے متضاد ہیں۔لیکن مسلمان یہ کہہ کر جان چھڑا لیتے ہیں کہ یہ باہم متضاد نہیں بلکہ ان کا آپس میں تعلق ناسخ منسوخ کا ہے۔مستشرقین کہتے ہیں کہ مسلمان اس طرح قرآن حکیم پر ہونے والے ایک بڑے اعتراض سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں ۔بلکہ وہ یہاں تک بھی اپنے اس مفروضے کو طول دینے سے باز نہیں آتے کہ تضادات سے بچنے کا یہ طریقہ خود حضور اکرم ﷺ نے وضع کیا تھا۔یہی وجہ ہے کہ قرآن میں آیات کو منسوخ کرنے یا ایک کو دوسری سے بدلنے کا ذکر ہے۔اپنے اس دعویٰ کے ثبوت کے طور پر وہ قرآن حکیم کی اس آیہ کریمہ کو پیش کرتے ہیں :۔
"جو آیت ہم منسوخ کر دیتے ہیں یا فراموش کرا دیتے ہیں تو لاتے ہیں (دوسری) بہتر اس  سے یا(کم ازکم) اس جیسی"۔ سورۃ البقرہ آیہ 106
جارج سیل اپنے ترجمہ قرآن کے مقدمے میں لکھتا ہے کہ: "قرآن میں کچھ آیات ایسی ہیں جو باہم متضاد ہیں۔مسلمان علماء نسخ کے اصول کے ذریعے ان پر وارد ہونے والے اعتراضات کا تدارک کرتے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ اللہ عزوجل نے قرآن حکیم میں کچھ احکام صادر فرمائے جن کو بعد میں معقول وجوہات کی بناء پر منسوخ کر دیا گیا"
" صفحہ 52
The Koran"
مستشرقین یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ نسخ کا لفظ نظر ثانی کے مترادف ہے۔اور حضرت محمد ﷺ قران میں نظرثانی و ترمیم کیا کرتے تھے۔اور قرآن کی ترتیب کو نئی شکل دیتے تھے۔مستشرقین کے ان تمام دعوؤں کی دلیل یہ ہے کہ قرآن اس بات کو بیان کرتا ہے کہ اس کی کچھ آیات دوسری آیات کے ذریعے منسوخ ہو گئی ہیں۔اگر یہی حقیقت ہو تو پھر قرآن کوکلام الہٰی ماننے کی کوئی گنجائش ہی نہیں رہتی۔ اگر اس نظریے کو قبول کر لیا جائے کہ حضور اکرم ﷺ قرآن میں ازخود ترمیم کر لیا کرتے تھے تو پھر قرآن کے منزل من اللہ ہونے کے عقیدے کی ضرورت ہی کیا ہے؟جو قرآن میں ترمیم کر سکتا ہے وہ قرآن کو تصنیف بھی کر سکتا ہے۔مستشرقین الفاظ کے ہیر پھیر سے اسی نتیجہ تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔
مستشرقین کا یہ دعوی بلکل غلط اور باطل ہے۔ قرآن حکیم نہ تو حضور اکرم ﷺ کو قرآن کا مصنف کہتا ہے اور نہ ہی اس کی ترتیب اور نسخ کو حضور اکرم ﷺ کی طرف منسوب کرتا ہے۔قرآن حکیم اللہ عزوجل ہی کو اس کتاب کا نازل فرمانے والاقرار دیتا ہے اور اس میں نسخ کو بھی اسی ذات سے منسوب کرتا ہے۔نسخ کو حضور اکرم ﷺ کی طرف سے نظر ثانی قرار دینا نہ قرآن کا بیان ہے اور نہ ہی کبھی مسلمانوں نے اسے تسلیم کیا ہے۔مستشرقین اپنے مزعومات کو قرآن حکیم اور مسلمانوں کے سر تھوپ کر اپنی روایتی علمی بددیانتی کا ثبوت دے رہے ہیں۔مسلمان ساڑھے چودہ سو سال سے قرآن حکیم اور احادیث کی تشریح اور ان سے استنباط احکام کے لیئے نسخ کے اصول کو استعمال کرتے آئے ہیں۔

یہ اسلامیات کی ایک مستقل اصطلاح ہےجس کی اپنی مخصوص تعریف ہے اور اس کی کچھ شرائط ہیں۔نسخ کوئی قانون چھری نہیں کہ جس عقیدے کو چاہے باطل کر دےجس تاریخی بیان کو چاہے بدل دےجس قانون کو چاہے کالعدم قرار دے دےجس اخلاقی ضابطے کو چاہے ملیامیٹ کر دے۔ نہ اس کے لیئے زمانے کی پابندی ہو اور نہ مسئلے کی نوعیت اس قانون پر اثر انداز ہوتی ہو۔ بلکہ جس بات کو جب خلاف مصلحت سمجھا کالعدم قرار دے دیا۔ نسخ کے متعلق اس قسم کا کوئی بھی تصور درست نہیں۔یہ ایک شرعی اصطلاح ہے جو اپنے دائرے اور پابندیوں کے اندر نافذ العمل ہوتی ہے۔جدیدیت پسندوں نے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ قرآن میں جہاں نسخ کا ذکر ہے اس سے مراد یہ ہے کہ قرآن حکیم سابقہ شریعتوں کو منسوخ کرتا ہے،قرآن کی آیات کے ذریعے دوسری آیات منسوخ کرنے کا کوئی ذکر نہیں ۔لیکن ان کے موقف کی تائید نہ تو  متعلقہ قرآنی آیات کے الفاظ کرتے ہیں اور نہ ہی ملت اسلامیہ کی علمی تاریخ ان کی تصدیق کرتی ہے۔نسخ کا قانون مسلمانوں کے ہاں مسلم ہے اس کا انکار کر کے ہم قرآن حکیم کی کوئی خدمت نہیں کر سکتے۔اور نہ ہی ہمیں اس کا انکار کرنے کی ضرورت ہے۔کیونکہ ضروری نہیں کہ جس بات میں مستشرقین کو نقص نظر آتا ہو وہ لازماََ ناقص ہی ہو۔ان کو تو اسلام کی کسی بات میں کوئی بھی خوبی نظر نہیں آتی۔ان کی قلبی کیفیت کے بارے میں اللہ عزوجل ہمیں یوں آگاہ فرماتا ہے :۔
"اور ہرگز خوش نہ ہوں گے آپ سے یہودی نہ عیسائی،یہاں تک کہ آپ پیروی کرنے لگیں ان کے دین کی" سورۃ البقرہ آیہ 120۔

ذیل میں ہم نسخ کا وہ مفہوم پیش کرتے ہیں جو حضور نبی کریم ﷺ نے اپنی امت کو سمجھایا اور جو ساڑھے چودہ سو سال سے امت مسلمہ میں مروج ہے۔

نسخ کا مفہوم:۔ نسخ کا لغوی معنیٰ زائل کرنا یا نقل کرنا ہے۔ جیسے کہ کہتے ہیں کہ " نَسَختِ الرَیخُ آثَارَ القَدَمِ اَی اَزَلَتہُ۔ہوا نے قدموں کے آثار مٹا دیئے یعنی ان کا ازالہ کر دیا"

اسی طرح جب ایک کتاب کے مندرجات کو دوسری کتاب میں نقل کیا جائے تو کہتے ہیں" نَسَختُ الکِتَابَ" اور اصطلاح میں نسخ کی مختصر تعریف یہ ہے کہ:

  • " شارع کا ایک حکم شرعی کو کسی دوسری دلیل شرعی سے ساقط کر دینا"
    نسخ کا تعلق ایک طرف شارع سے ہے اور دوسری طرف امت کت مکلفین سے۔مکلفین کی نسبت سے تو نسخ کا یہ یہی مفہوم بنے گا کہ پہلے جو حکم موجود تھا اب وہ ساقط ہو گیا ہے اور اب اس کی جگہ ایک نیا حکم نافذ کر دیا گیا ہے ۔لیکن شارع کی نسبت اس میں رفع کا معنی موجود ہی نہیں  بلکہ اس نسبت سے اس کا مفہوم یہ ہے کہ شارع نے سابق حکم کے نفاذ کی مدت کے ختم ہونے کا اعلان کر دیا ہے۔
    اللہ تعالیٰ کی نگاہ قدرت سے نہ حال پوشیدہ ہے نہ مستقبل۔ یہ بات اس کے لامحدود علم میں ہے کہ کون سے حکم کی افادیت کس وقت تک رہے گیاور کب اس کی جگہ دوسرا حکم مفید رہے گا۔ نسخ کے ذریعے ایک حکم کے خاتنے اور دوسرے حکم کے نفاذ کا جو اعلان ہوتا ہے اس کا فیصلہ تو پہلے سے ہی ہو چکا ہوتا ہے۔لیکن چونکہ بندوں کو اس کا علم نہیں ہوتا اس لیئے جب ناسخ آیت کا نزول ہوتا ہے تو وہ سمجھتے ہیں کہ پہلے حکم کو ساقط کر کے اس کی جگہ نیا حکم نافذ کر دیا گیا ہے۔ حالانکہ شارع کے علم کے مطابق یہ تبدیلی پہلے حکم کی مدت کے خاتمے اور دوسرے حکم کی مدت کے آغاز کا اعلان ہوتی ہے۔
    یہاں بعض لوگ یہ وسوسہ پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ اگر مان لیا جائے کہ قرآن کی بعض آیات دوسری آیات کی ناسخ ہیں تو اس سے لازم آئے گا کہ پہلا حکم نازل کرتے وقت معاذاللہ ، اللہ عزوجل کو معلوم نہ تھا کہ یہ حکم مفید ہےاور جب تجربے کے ذریعے اس کے غیر مفید ہونے کا علم ہوا تب دوسرا حکم نافذ کر دیا گیا۔
    یہ محض وسوسہ ہے اس کا حقیقت سے کچھ تعلق نہیں ۔کیونکہ ضروری نہیں کہ ہر مفید حکم ہر زمانے کے لیئے مفید ہو۔بلکہ حالات کے بدلنے سے حکم کی افادیت بدلتی رہتی ہے۔طبیب مرض کا علاج مرحلہ وار کرتا ہےپہلے مرحلے پر وہ جو دوا دیتا ہے وہ اسی مرحلے کے لیئے مفید ہوتی ہےلیکن اسی علاج کو مستقل کر دینا نہ طبابت ہے اور نہ عقلمندی۔طبیب ہر مرحلے کے بعد علاج کو تبدیل کرے گا اور یہی عقلمندی ہے۔اب اگر کوئی فلسفی مزاج مریض طبیب کی طرف سے نسخے کی تبدیلی پر یہ اعتراض کر دے کہ ڈاکٹر صاحب! پہلے آپ نے یہ علاج کیوں تجویز نہ کیا تھا کیا اس وقت آپ کو اس بات کا علم نہ تھا جو اب آپ کے نوٹس میں آئی ہے؟ تو ایسا مریض کسی طبیب کے علاج سے صحتیاب کیسے ہو گا؟یہ مثال محض وضاحت کے لیئے ہے اس مثال سے یہ حقیقت منکشف ہو چکی کہ نسخ کا مطلب یہ نہیں کہ شارع نے پہلے غلط حکم دے دیااور جب اس کی غلطی کا پتا چلا تو اس کو دوسرے حکم سے بدل دیا۔بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک حکم جب تک مفید تھا نافذالعمل رہا جب اس کی افادیت ختم ہو گئی تو اس کو دوسرے حکم سے بدل دیا
    نسخ کا اصول نہ نظری معاملات اور عقائد میں لاگو ہوتا ہے اور نہ خبر میں ۔نسخ کا یہ مطلب نہیں کہ اسلام پہلے ایک عقیدے کا پرچار کرے اور پھر اس کی جگہ دوسر اعقیدہ پیش کر کے کہے کہ پہلا عقیدہ منسوخ ہو گیا ہے۔اور نہ ہی نسخ کا یہ مطلب ہے کہ پہلے قرآن ایک حقیقت یا خبر کو بیان کرے اور اور پھر اس کو منسوخ قرار دے دے۔بلکہ نسخ کا قاعدہ صرف عملی احکام میں لاگو ہوتا ہے مگر چند شرائط کے ساتھ۔۔۔!
    نسخ کی اس وضاحت سے مندرجہ ذیل احکام نسخ کے دائرہ کار سے خارج ہو جائیں گے:۔
    شریعت کے احکام کلیہ اور اصول عامہ جیسے امر بالمعروف و نہی عن المنکر وغیرہ

ایسے احکام جن کے مشروع نہ ہونے کا احتمال ہی نہیں۔ جیسے وہ اصلی احکام جن کا تعلق عقائد سے ہے مثلاََ اللہ پر ایمان، فرشتوں ، کتابوں، رسولوں اور  یوم آخرت پر ایمان، ایسے احکام جو نیکی اور فضیلت کی بنیاد ہیں جیسے عدل، صداقت،امانت،والدین سے حسن سلوک، ایفائے عہد اور اسی قسم کے دیگر فضائل۔
ایسے احکام جن کی مشروعیت کا سرے سے احتمال ہی نہیں جیسے کفر اور دیگر اصلی رزائل مثلاََ ظلم، جھوٹ، خیانت، والدین کی نافرمانی، دھوکہ دہی وغیرہ کیونکہ یہ ایسی چیزیں جن کی قباحت بدل نہیں سکتی
ایسے احکام جن کے ساتھ کوئی ایسی چیز ملحق ہو جو نسخ کے منافی ہومثلاََ اس حکم کے ساتھ یہ وضاحت بھی ہو کہ یہ حکم تاابد ہے ۔ اس کی مثال حضور اکرم ﷺ کی ازدواج مطہرات سے نکاح کی حرمت کا مسئلہ ہے۔

جیسے کہ قرآن حکیم نے واضح الفاظ میں فرما دیا ہے کہ :۔ وَمَا کَانَ لَکُم اَن تُوذُوا  رَسُولَ اللَّہِ وَلا اَن تَنکِحُوا اَزوَاجَہُ مِن بَعدِہِ اَبَدا------الاحزاب:53
اور تمہیں زیب نہیں دیتا کہ تم رسول اللہ ﷺ کو اذیت پہنچاؤ۔ اور تمہیں اس بات کی بھی اجازت نہیں کہ ان کی ازدواج سے ان کے بعد کبھی بھی نکاح کرو۔
اس آیہ کریمہ میں لفظ ابدا کے ساتھ اس بات کی صراحت کر دی گئی ہے کہ ازدواج رسول اللہ ﷺ سے نکاح ابدی طور پر حرام ہے ۔ اس حکم کو ابدی قرار دینا اس بات کی دلیل ہے کہ یہ حکم ابدی طور پر مفید ہے۔ کیونکہ اگر  اس حکم میں نسخ کا امکان ہو تو یہ اس بات کے منافی ہو گا کہ یہ حکم ابدی طور پر مفید ہو ۔دوسرے قسم کے احکام وہ ہیں کہ جن کے ابدی ہونے کی صریح نص تو موجود نہیں مگر قرائن اس کی شہادت دیتے ہیں ۔ جیسے کہ ایسے احکام جن کا نسخ حضور اکرم ﷺ کی حیات ظاہری میں ثابت نہیں ۔ ایسے احکام بھی ابدی ہیں اور نسخ کو قبول نہیں کرتے کیونکہ نسخ کے لیئے قول رسول اللہ ﷺ ضروری ہےاور حضور اکرم ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں کیونکہ آپ ﷺ خاتم الانبیاء و المرسلین ہیں ۔ اس طرح وہ احکام بھی نسخ کو قبول نہیں کرتے جن کا وقت متعین کر دیا گیا ہو۔کیونکہ ایسا حکم وقت گزرنے کے ساتھ خودبخود ساقط ہو جاتا ہے اور اس کو ختم کرنے کے لیئے کسی دوسرے حکم کی ضرورت نہیں پڑتی۔

نسخ کی شرائط:۔
نسخ کے مؤثر ہونے کی چند شرائط ہیں  جو درج ذیل ہیں:۔
منسوخ ہونے والا حکم شریعت کا ایسا جزئی اور عملی حکم ہو جو قرآن و سنت سے ثابت ہو اور اس حکم کے ساتھ نہ تو ابدیت کی شرط ہواور نہ ہی اس کی مدت متعین ہواور ساتھ ہی منسوخ کے لیئے ضروری ہے کہ وہ ناسخ سے مقدم ہو۔
ناسخ قرآن کی آیت یا حضور اکرم ﷺ کی قولی یا فعلی سنت ہو جو منسوخ سے متاخر ہو
نسخ کی صورتیں :۔
نسخ کی کئی صورتیں ہیں جن کی تفصیل درج ذیل ہے:۔
کبھی ایک حکم منسوخ ہوتا ہے اور اس کی جگہ دوسرا حکم نازل نہیں ہوتا جیسے کہ پہلے حضور اکرم ﷺ کے ساتھ گفتگو کرنے سے پہلے صدقہ کرنا لازم تھابعد میں یہ حکم منسوخ ہو گیا اور اس کی جگہ کوئی دوسرا حکم نازل نہیں ہوا۔
کبھی ایک حکم کو منسوخ کر کے اس کی جگہ دوسرا ایسا حکم نازل کیا جاتا ہے جو جو تاکید اور شدت کے حساب سے منسوخ حکم کے برابر ہوتا ہے  جیسے بیت المقدس کے بجائے خانہ کعبہ کو قبلہ بنانے کا حکم
کبھی ایک سخت حکم کو منسوخ کر کے اس کی جگہ ایک آسان حکم نافذ کر دیا جاتا ہے جیسے کہ پہلے یہ حکم تھا کہ ایک مسلمان دس مشرکوں کے مقابل صبر کا مظاہرہ کرے بعد میں یہ حکم منسوخ ہو گیااور اس کے بدلے ایک آسان حکم نازل ہو گیا کہ ایک مسلمان صرف دو مشرکوں کے مقابل صبر کا مظاہرہ کرے۔
کبھی آسان حکم کو منسوخ کر کے اس کی جگہ سخت حکم نافذ کر دیا جاتا ہے جیسے کہ پہلے حکم تھا کہ کفار کی اذیتوں پر صبر کیا جائےبعد میں اس حکم کو منسوخ کر کے ان سے جہاد و قتال کا حکم نازل کیا گیا۔ اسی طرح پہلے صرف یوم عاشورہ کا روزہ فرض تھا بعد میں اس فرضیت کو منسوخ کر کے پورے رمضان المبارک کے روزے فرض قرار دے دیئے گئے۔
کبھی قاعدہ نسخ کے ذریعے ممانعت کے حکم کو اباحت میں تبدیل کر دیا جاتا ہے جیسے کہ پہلے رمضان المبارک کے مہینے میں بعد از عشاء اور سونے سے قبل مباشرت کی ممانعت تھی  پھر اس حکم کو اس آیہ کریمہ کے ذریعے منسوخ کر دیا گیا:۔ "حلال کر دیا گیا تمہارے لیئے رمضان کی راتوں میں اپنی عورتوں کے پاس جانا" سورۃ البقرہ آیہ 187
کبھی نسخ صراحتاََ ہوتا ہے اور کبھی ضمناََ۔ پہلی صورت میں ناسخ حکم کی صراحت کر دی جاتی ہےکہ یہ حکم پہلے حکم کو منسوخ کر رہا ہےجیسے کہ پہلے قرآن حکیم نے حکم دیا:۔
" اے نبی ﷺ برانگیختہ کیجیئے مومنوں کو جہاد پر۔ اگر ہوں تم میں سے بیس آدمی صبر کرنے والے تو وہ غالب آئیں گے دو سو پراور اگر ہوئے تم میں سے سو آدمی تو وہ غالب آئیں گے ہزار پر۔ کیونکہ یہ کافر وہ لوگ ہیں جو کچھ نہیں سمجھتے" سورۃ الانفال:65
بعد میں اس آیہ کریمہ کے حکم کو دوسری آیہ کریمہ کے حکم سے منسوخ کر دیا گیا۔ ارشاد خداوندی ہوا کہ :۔
" اب تخفیف کر دی ہے اللہ نے تم پر اور وہ جانتا ہے کہ تم میں کمزوری ہے۔ تو اگر ہوئے تم میں سے سو آدمی صبر کرنے والےتو وہ غالب آئیں گے دو سو پراور اگر ہوئے تم میں ہزار آدمی تو وہ غالب آئیں گے دو ہزار پراللہ کےحکم سے ۔ اور اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے " سورۃ الانفال : 66
دووسری آیہ میں جو کہ ناسخ ہے الئنَ خفف اللہ عنکم کے الفاظ صراحت کر رہے ہیں کہ پہلا حکم منسوخ ہو گیا ہے
دوسری صورت میں شارع نسخ کی صراحت تو نہیں کرتا مگر ضمناََ نسخ کا پتا چل جاتا ہے۔ اس کی سورت یہ ہے کہ متاخر نص کا حکم مقدم نص کے حکم کے متضاد ہو۔ دونوں میں نہ تو تطبیق ممکن ہو اور نہ ہی ایک کو دوسری پر ترجیح دی جا سکتی ہو۔اس  صورت میں پتا چل جائے گاکہ دوسری نص پہلی نص کی ناسخ ہے۔
نسخ کا اصول شریعت محمدیہ ﷺ سے خاص نہیں :۔ مستشرقین نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ نسخ کا اصول مسلمانوں کی اختراع ہے اور پیغمبر اسلام ﷺ نے تضادات قرآن کو جواز فراہم کرنے کے لیئے یہ طریقہ اختیار کیا تھالیکن یہ مستشرقین کی روایتی علمی بددیانتی ہے وہ ایک ایسی چیز کے ذریعے اسلام کو موردالزام ٹھہرانے کی مذموم کوشش کر رہے ہیں جو ان کے ہاں بھی مروج العمل ہے۔ جس کی چند ایک مثالیں درج ذیل ہیں :۔

1۔  بائیبل کے بیان کے مطابق حضرت نوح علیہ السلام کی شریعت میں تمام سبزیوں اور تمام جانوروں کا کھانا حلال تھا۔کتاب پیدائش باب نمبر 9 آیہ نمبر 3 میں حضرت نوح علیہ السلام سے کہا جا رہا ہے کہ "سبزیوں کی طرح تمام حرکت کرنے والے جانور جو زندہ ہیں وہ تمہاری خوراک بن سکتے ہیں میں تمہیں وہ سب عطا فرماتا ہوں "
لیکن شریعت موسویہ میں اکثر جانوروں کو حرام قرار دے دیا گیا۔کتاب الاحبار کے باب نمبر 11 میں ان جانوروں کی تفصیل بیان کی گئی ہے جو حضرت موسی علیہ السلام کے پیروکاروں کے لیئے حرام ہیں ۔ حضرت نوح علیہ اسلام کی شریعت میں تمام جانور حلال تھے اور حضرت موسی علیہ اسلام کی شریعت میں اکثر کی حرمت کا اعلان کر دیا گیا یہ نسخ نہیں تو اور کیا ہے۔۔۔۔۔۔؟؟؟
2۔ شریعت موسویہ میں مرد کو کسی بھی سبب سے اپنی بیوی کو طلاق دینے کا اختیار تھا ۔ اور مطلقہ عورت کے ساتھ کوئی بھی نکاح کر سکتا تھا  جیسا کی کتاب استثناء کے باب چوبیس کی پہلی اور دوسری آیت میں وضاحت کے ساتھ بیان کر دیا گیا ہے۔ مگر شریعت عیسوی میں بدکاری کی علت کے علاوہ کسی وجہ سے بھی مرد کو طلاق دینے کی اجازت نہیں اور نہ ہی مطلقہ کے ساتھ کسی دوسرے مرد کو شادی کی اجازت ہے۔متی کی انجیل کے پانچویں باب کی آیت نمبر 31 اور 32 کے الفاظ وضاحت کر رہے ہیں کہ اب پہلا حکم منسوخ ہو گیا ہے۔
3۔ کتاب پیدائش کے باب نمبر 17 کی آیت نمبر 14میں ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی شریعت میں ختنے کا ابدی حکم تھا ۔ یہ حکم حضرت اسماعیل و اسحاق علیہ السلام کی نسلوں میں مروج رہا۔شریعت موسوی میں بھی ختنے کا حکم تھا۔لوقا کی انجیل کے دوسرے باب کی آیت نمبر 21 کے مطابق حضرت عیسی علیہ السلام کا بھی ختنہ ہوا۔ یہ حکم حضرت عیسی علیہ السلام کے رفع آسمانی تک جاری رہا۔گو حضرت عیسی علیہ السلام کی شریعت میں اس حکم کو منسوخ نہیں کیا گیا۔لیکن حضرت عیسی علیہ السلام کے بعد جن "مقدسین" نے آپ کی شریعت کو بازیچہ اطفال بنائے رکھا انہوں نے اس ابدی حکم کو منسوخ کر دیا۔مسلمانوں کے نزدیک گو کہ کسی نبی کے بعد اس کے حکم کو منسوخ قرار دے دینا ناممکن ہے مگر جو عیسائی ان "مقدسین" کی وضع کردہ شریعت پر کاربند ہیں و ہ اس کو نسخ کے علاوہ کیا نام دیں گے ؟

4۔ ذبیحہ کے احکام شریعت موسویہ میں بے شمار تھے جو شریعت عیسوی میں منسوخ ہو گئے۔

5۔ شریعت موسویہ کے بے شمار احکام شریعت عیسویہ میں منسوخ ہو گئے ۔ چنانچہ حضرت عیسی علیہ السلام کے بعد سینٹ پال اور دوسرے "مقدسین" نے تورات کے اکثر احکامات کو کالعدم قرار دے دیا۔عبرانیوں کے نام پولس کے خط کے ساتویں باب کی آیت نمبر 18 میں درج ذیل الفاظ موجود ہیں :"یقیناََ سابقہ احکام کو ان کی کمزوری اور ان کے بے اثر ہونے کے سبب سے منسوخ کیا جاتا ہے "
عبرانیوں کے نام خط کے آٹھویں باب میں بنو اسرائیل کے ساتھ خدا کے قدیم عہد کے بدلے ایک جدید عہد کا ذکر ہےاس باب کی آٰت نمبر 7 میں ہے کہ : " اگر پہلا عہد بےعیب ہوتا تو نئے عہد کی گنجائش نہ ہوتی"
اسی باب کی آیت نمبر 13 کے الفاظ یہ ہیں کہ : "نئے عہد کا لفظ استعمال کر کے اس نے پرانے عہد کو منسوخ کر دیا ہے۔ اب جس کو منسوخ قرار دے دیا گیا ہے اور جو پرانا ہو رہا ہے وہ مٹ جانے کے قریب ہے "
عبرانیوں کے نام خط کے ساتویں باب کی آیت نمبر 12 میں سینٹ پال نے ایک ایسا اصول وضع کر دیا ہے جس کے بعد عیسائیوں کے لیئے نسخ کو قبول نہ کرنے کی کوئی گنجائش نہیں بچتی۔سینٹ پال کہتا ہے کہ :۔
"جب امامت تبدیل ہو رہی ہو تو ضروری ہو جاتا ہے کہ شریعت بھی تبدیل ہو"۔
مندرجہ بالا مثالوں سے یہ حقائق روز روشن کی طرح عیاں ہو جاتے ہیں کہ"۔
دوسری شریعتوں کے بعض احکام کو منسوخ کرنا شریعت اسلامیہ ہی کا خاصہ نہیں بلکہ سابقہ شریعتوں میں بھی یہ اصول مروج رہا ہے۔
تورات کے عملی احکام خواہ وہ ابدی تھے یا غیر ابدی شریعت عیسوی میں منسوخ ہو گئے۔
تورات کے احکام کے متعلق نسخ کا لفظ عیسائی کتابوں میں بھی موجود ہے ۔
سینٹ پال نے وضاحت کی ہے کہ امامت تبدیل ہونے سے قانون تبدیل ہونا ضروری ہے۔
سینٹ پال کا دعوی ہے کہ قدیم شئے فنا کے قریب ہوتی ہے ۔
مندرجہ بالا حقائق کے ہوتے ہوئے یہودی اور عیسائی اسلام پر یہ الزام کیسے لگا سکتے ہیں کہ مسلمانوں نے قرآن حکیم کے تضادات کو رفع کرنے کے لیئے نسخ کا اصول وضع کیا ہے ۔۔۔۔؟
گزشتہ سطور میں ایک شریعت کے احکام کو دوسری شریعت کے احکام سے منسوخ کرنے کے دلائل دیئے گئے ۔ اب ہم ایک شریعت کے احکام کو اسی شریعت کے دوسرے احکام سے منسوخ کرنے کی مثالیں پیش کرتے ہیں :۔
1۔ کتاب پیدائش کے بائیسویں باب میں اس بات کی تفصیل موجود ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پہلے ابراہیم علیہ اسلام کو حکم دیا کہ اپنے بیٹے اسحاق علیہ السلام کو قربان کریں لیکن جب انہوں نے حکم کی تعمیل کا ارادہ کر لیا تو انہیں اللہ کی طرف سے یہ حکم ملا کہ وہ اپنے بیٹے کو قربان نہ کریں ۔
یہاں اگر پہلا حکم دوسرے حکم سے منسوخ نہیں تو اور کیا ہے ۔۔۔۔۔؟
2۔ صموئل اول کے دوسرے باب میں ہے کہ " اللہ تعالیٰ نے وعدہ کیا تھا کہ امامت کا منصب بڑے پادری کے خاندان میں ہمیشہ رہے گا"لیکن بعد میں اللہ نے اس فیصلہ کو بدل دیا۔ مذکورہ باب کی آیت نمبر 30 کے الفاظ یہ ہیں کہ : "خدائے اسرائیل کا فرمان یہ ہے کہ : میں نے تمہارے اور تمہارے اسلاف کے گھرانے سے یہ کہا تھا کہ تم ہمیشہ میرے آگے آگے چلا کرو گے لیکن اب خدا کا  فرمان یہ ہے کہ جہاں تک میرا تعلق ہے یہ بات ناقابل تصور ہے کیونکہ جو میری تسبیح کرتے ہیں میں ان کا احترام کرتا ہوں اور جو میری توہین کرتے ہیں ان کی میرے نزدیک کوئی حثیت نہیں"
اسی باب کی آیت نمبر 35 میں ہے ک ہ:
"میں یقیناََ اپنے لیئے ایک وفادار پادری پیدا کروں گا جو وہی کرے گا جو میرے دل اور روح کے مطابق ہو گا"
کتاب صموئیل اول کی ان آیات سے واضح ہے کہ اللہ نے پہلے بڑے پادری کے خاندان کو منصب امامت تاابد عطا فرمانے کا وعدہ کیا تھالیکن بعد میں اس فیصلے کو بدل دیا اور منصب امامت دوسروں کو تفویض کر دیا۔بائیبل کے مفسرین کہتے ہیں کہ" یہ منصب اللہ تعالیٰ نے حضرت ہارون علیہ السلام کے بڑے بیٹے "عازار" کو ہمیشہ کے لیئے عطا فرمایا تھالیکن بعد میں یہ حکم منسوخ ہو گیا" اظہار الحق جلد1 صفحہ 532
یہاں عیسائی تو خدا کے ابدی وعدے پر بھی نسخ کا اصول لاگو کر رہے ہیں جو کہ مسلمانوں کے نزدیک ناممکن العمل ہے۔وعدہ کر کے پورا نہ کیا جائے تو یہ نسخ نہیں وعدہ خلافی کہلاتا ہے اور مسلمان اللہ عزوجل کی ذات کو ان تمام عیوب سے مبرا مانتے ہیں ۔
3۔ کتاب الاحبار کے سترھویں باب میں ہے کہ بنو اسرائیل کا جو شخص کوئی جانور ذبح کرے وہ اپنی قربانی کو خدا کے حضور پیش کرنے کے لیئے خیمہ عبادت کے دروازے تک لائےجو ایسا نہ کرے وہ قابل گردن زدنی ہے ۔لیکن کتاب استثناء کے بارہویں باب میں ہے کہ جب جی چاہے اور جہاں جی چاہے جو جانور چاہو ذبح کرو اور کھاؤ۔
ان آیات کی تفسیر میں بائیبل کا ایک بہت بڑا مفسر ھورن لکھتا ہے کہ :۔  ان دونوں مقامات میں بظاہر تناقض نظر آتا ہے لیکن اگر غور سے دیکھا جائے تو پتا چلتا ہے کہ شریعت موسویہ میں بنی اسرائیل کے حالات کے مطابق کمی بیشی ہوتی رہتی تھی۔اور شریعت موسی ایسی نہ تھی کہ اس میں بوقت ضرورت تبدیلی نہ کی جا سکے۔
اس کے بعد مفسر مذکور لکھتا ہے کہ : حضرت موسی علیہ السلام نے اپنی ہجرت کے چالیسویں سال فلسطین میں داخل ہونے سے پہلے اس حکم کو منسوخ کر دیا۔
مفسر مذکور نے یہاں نسخ کو بھی تسلیم کیا ہے اور حالات کے مطابق شریعت میں کمی بیشی کو بھی ۔ لیکن مقام حیرت یہ ہے کہ اسی نسخ کو یہود و نصاریٰ اسلام پر ایک بہت بڑے اعتراض کے طور پر پیش کرتے ہیں ۔
4۔ کتاب گنتی کے چوتھے باب کی مختلف آیات میں خیمہ عبادت کے خادمین کی عمریں تیس اور پچاس سال کے درمیان مقرر کی گئی ہیں۔جبکہ اسی کتاب کے آٹھویں باب کی آیات چوبیس اور پچیس میں خدام کی عمروں کی حد پچیس سے پچاس سال متعین کی گئی ہے۔ اب ظاہر ہے کہ ان میں سے ایک حکم منسوخ ہے اور دوسرا ناسخ۔
5۔ کتاب الاحبار کے چوتھے باب میں جماعت کی غلطی کا فدیہ صرف ایک بیل کی قربانی قرار دیا گیا ہے لیکن کتاب گنتی کے پندرہویں باب میں جماعت کی غلطی کا کفارہ ایک بیل کے علاوہ غلے، مشروبات اور بکری کے ایک بچے کی قربانی کو قرار دیا گیا ہے۔گویا دوسرے حکم نے پہلے حکم کومنسوخ کر دیا۔۔۔۔۔۔۔۔!
ان دونوں اقسام کی مثالوں سے یہ بات بلکل واضح ہے کہ نسخ کا قانون ہر شریعت میں رائج رہا ہے۔اور عہد نامہ قدیم و جدید میں کچھ مثالیں ایسی بھی موجود ہیں جو نسخ سے بھی کچھ زائد ہیں۔
اللہ تعالیٰ حکیم ہے اس کا کوئی کام حکمت سے خالی نہیں ہوتا۔زمانہ کے بدلنے کے ساتھ ساتھ انسانی ضرورتیں اور تقاضے بھی بدلتے رہتے ہیں۔کسی حالت میں کوئی ایک حکم مفید ہوتا ہے تو دوسری حالت میں وہی حکم مضر بھی ثابت ہو سکتا ہے ۔ایک حکم ایک زمانے میں قابل عمل ہوتا ہے اور دوسرے زمانے میں نہیں ۔کسی زمانے کے لوگ کسی حکم کے تقاضوں کو سمجھنے اور اسے بجا لانے کے قابل ہوتے ہیں جبکہ دوسرے زمانے کے لوگ نہ تو اس کے تقاضوں کو سمجھ پاتے ہیں اور نہ ہی اس حکم کو پورا کرنے کے اہل ہوتے ہیں۔لہذا دانائی کا تقاضا یہی تھا کہ ہر زمانے  کے حالات کے مطابق احکامات نازل کیئے جاتے۔
الغرض ابو جہل سے لیکر کر سلمان رشدی لعین تک، مکہ کے کفار ومشرکین سے لے کر یورپ کے مستشرقین تک سب دشمن اس کو نقصان پہنچانے کے لیئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں ۔ لیکن اس دین متین کا جھنڈا نت نئی بلندیوں پر لہراتا نظر آتا ہے۔
یہ اللہ عزوجل کی قدرت اور دین اسلام کی صداقت کی منہ بولتی نشانی ہے۔کاش کہ دشمنان اسلام اس سے عبرت حاصل کریں ۔

منتخب تحریریں

مستشرقین کا قرآن حکیم پر یہ ایک بڑا مشہور اعتراض ہے کہ قرآن حکیم میں ایسی آیات موجود ہیں جو باہم ایک دوسرے کے متضاد ہیں۔لیکن مسلمان یہ کہہ کر جان چھڑا لیتے ہیں کہ یہ باہم متضاد نہیں بلکہ ان کا آپس میں تعلق ناسخ منسوخ کا ہے۔مستشرقین کہتے ہیں کہ مسلمان اس طرح قرآن حکیم پر ہونے والے ایک بڑے اعتراض سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں ۔بلکہ وہ یہاں تک بھی اپنے اس مفروضے کو طول دینے سے باز نہیں آتے کہ تضادات سے بچنے کا یہ طریقہ خود حضور اکرم ﷺ نے وضع کیا تھا۔یہی وجہ ہے کہ قرآن میں آیات کو منسوخ کرنے یا ایک کو دوسری سے بدلنے کا ذکر ہے۔اپنے اس دعویٰ کے ثبوت کے طور پر وہ قرآن حکیم کی اس آیہ کریمہ کو پیش کرتے ہیں :۔
"جو آیت ہم منسوخ کر دیتے ہیں یا فراموش کرا دیتے ہیں تو لاتے ہیں (دوسری) بہتر اس  سے یا(کم ازکم) اس جیسی"۔ سورۃ البقرہ آیہ 106
جارج سیل اپنے ترجمہ قرآن کے مقدمے میں لکھتا ہے کہ: "قرآن میں کچھ آیات ایسی ہیں جو باہم متضاد ہیں۔مسلمان علماء نسخ کے اصول کے ذریعے ان پر وارد ہونے والے اعتراضات کا تدارک کرتے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ اللہ عزوجل نے قرآن حکیم میں کچھ احکام صادر فرمائے جن کو بعد میں معقول وجوہات کی بناء پر منسوخ کر دیا گیا"
" صفحہ 52
The Koran"
مستشرقین یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ نسخ کا لفظ نظر ثانی کے مترادف ہے۔اور حضرت محمد ﷺ قران میں نظرثانی و ترمیم کیا کرتے تھے۔اور قرآن کی ترتیب کو نئی شکل دیتے تھے۔مستشرقین کے ان تمام دعوؤں کی دلیل یہ ہے کہ قرآن اس بات کو بیان کرتا ہے کہ اس کی کچھ آیات دوسری آیات کے ذریعے منسوخ ہو گئی ہیں۔اگر یہی حقیقت ہو تو پھر قرآن کوکلام الہٰی ماننے کی کوئی گنجائش ہی نہیں رہتی۔ اگر اس نظریے کو قبول کر لیا جائے کہ حضور اکرم ﷺ قرآن میں ازخود ترمیم کر لیا کرتے تھے تو پھر قرآن کے منزل من اللہ ہونے کے عقیدے کی ضرورت ہی کیا ہے؟جو قرآن میں ترمیم کر سکتا ہے وہ قرآن کو تصنیف بھی کر سکتا ہے۔مستشرقین الفاظ کے ہیر پھیر سے اسی نتیجہ تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔
مستشرقین کا یہ دعوی بلکل غلط اور باطل ہے۔ قرآن حکیم نہ تو حضور اکرم ﷺ کو قرآن کا مصنف کہتا ہے اور نہ ہی اس کی ترتیب اور نسخ کو حضور اکرم ﷺ کی طرف منسوب کرتا ہے۔قرآن حکیم اللہ عزوجل ہی کو اس کتاب کا نازل فرمانے والاقرار دیتا ہے اور اس میں نسخ کو بھی اسی ذات سے منسوب کرتا ہے۔نسخ کو حضور اکرم ﷺ کی طرف سے نظر ثانی قرار دینا نہ قرآن کا بیان ہے اور نہ ہی کبھی مسلمانوں نے اسے تسلیم کیا ہے۔مستشرقین اپنے مزعومات کو قرآن حکیم اور مسلمانوں کے سر تھوپ کر اپنی روایتی علمی بددیانتی کا ثبوت دے رہے ہیں۔مسلمان ساڑھے چودہ سو سال سے قرآن حکیم اور احادیث کی تشریح اور ان سے استنباط احکام کے لیئے نسخ کے اصول کو استعمال کرتے آئے ہیں۔

یہ اسلامیات کی ایک مستقل اصطلاح ہےجس کی اپنی مخصوص تعریف ہے اور اس کی کچھ شرائط ہیں۔نسخ کوئی قانون چھری نہیں کہ جس عقیدے کو چاہے باطل کر دےجس تاریخی بیان کو چاہے بدل دےجس قانون کو چاہے کالعدم قرار دے دےجس اخلاقی ضابطے کو چاہے ملیامیٹ کر دے۔ نہ اس کے لیئے زمانے کی پابندی ہو اور نہ مسئلے کی نوعیت اس قانون پر اثر انداز ہوتی ہو۔ بلکہ جس بات کو جب خلاف مصلحت سمجھا کالعدم قرار دے دیا۔ نسخ کے متعلق اس قسم کا کوئی بھی تصور درست نہیں۔یہ ایک شرعی اصطلاح ہے جو اپنے دائرے اور پابندیوں کے اندر نافذ العمل ہوتی ہے۔جدیدیت پسندوں نے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ قرآن میں جہاں نسخ کا ذکر ہے اس سے مراد یہ ہے کہ قرآن حکیم سابقہ شریعتوں کو منسوخ کرتا ہے،قرآن کی آیات کے ذریعے دوسری آیات منسوخ کرنے کا کوئی ذکر نہیں ۔لیکن ان کے موقف کی تائید نہ تو  متعلقہ قرآنی آیات کے الفاظ کرتے ہیں اور نہ ہی ملت اسلامیہ کی علمی تاریخ ان کی تصدیق کرتی ہے۔نسخ کا قانون مسلمانوں کے ہاں مسلم ہے اس کا انکار کر کے ہم قرآن حکیم کی کوئی خدمت نہیں کر سکتے۔اور نہ ہی ہمیں اس کا انکار کرنے کی ضرورت ہے۔کیونکہ ضروری نہیں کہ جس بات میں مستشرقین کو نقص نظر آتا ہو وہ لازماََ ناقص ہی ہو۔ان کو تو اسلام کی کسی بات میں کوئی بھی خوبی نظر نہیں آتی۔ان کی قلبی کیفیت کے بارے میں اللہ عزوجل ہمیں یوں آگاہ فرماتا ہے :۔
"اور ہرگز خوش نہ ہوں گے آپ سے یہودی نہ عیسائی،یہاں تک کہ آپ پیروی کرنے لگیں ان کے دین کی" سورۃ البقرہ آیہ 120۔

ذیل میں ہم نسخ کا وہ مفہوم پیش کرتے ہیں جو حضور نبی کریم ﷺ نے اپنی امت کو سمجھایا اور جو ساڑھے چودہ سو سال سے امت مسلمہ میں مروج ہے۔

نسخ کا مفہوم:۔ نسخ کا لغوی معنیٰ زائل کرنا یا نقل کرنا ہے۔ جیسے کہ کہتے ہیں کہ " نَسَختِ الرَیخُ آثَارَ القَدَمِ اَی اَزَلَتہُ۔ہوا نے قدموں کے آثار مٹا دیئے یعنی ان کا ازالہ کر دیا"

اسی طرح جب ایک کتاب کے مندرجات کو دوسری کتاب میں نقل کیا جائے تو کہتے ہیں" نَسَختُ الکِتَابَ" اور اصطلاح میں نسخ کی مختصر تعریف یہ ہے کہ:

  • " شارع کا ایک حکم شرعی کو کسی دوسری دلیل شرعی سے ساقط کر دینا"
    نسخ کا تعلق ایک طرف شارع سے ہے اور دوسری طرف امت کت مکلفین سے۔مکلفین کی نسبت سے تو نسخ کا یہ یہی مفہوم بنے گا کہ پہلے جو حکم موجود تھا اب وہ ساقط ہو گیا ہے اور اب اس کی جگہ ایک نیا حکم نافذ کر دیا گیا ہے ۔لیکن شارع کی نسبت اس میں رفع کا معنی موجود ہی نہیں  بلکہ اس نسبت سے اس کا مفہوم یہ ہے کہ شارع نے سابق حکم کے نفاذ کی مدت کے ختم ہونے کا اعلان کر دیا ہے۔
    اللہ تعالیٰ کی نگاہ قدرت سے نہ حال پوشیدہ ہے نہ مستقبل۔ یہ بات اس کے لامحدود علم میں ہے کہ کون سے حکم کی افادیت کس وقت تک رہے گیاور کب اس کی جگہ دوسرا حکم مفید رہے گا۔ نسخ کے ذریعے ایک حکم کے خاتنے اور دوسرے حکم کے نفاذ کا جو اعلان ہوتا ہے اس کا فیصلہ تو پہلے سے ہی ہو چکا ہوتا ہے۔لیکن چونکہ بندوں کو اس کا علم نہیں ہوتا اس لیئے جب ناسخ آیت کا نزول ہوتا ہے تو وہ سمجھتے ہیں کہ پہلے حکم کو ساقط کر کے اس کی جگہ نیا حکم نافذ کر دیا گیا ہے۔ حالانکہ شارع کے علم کے مطابق یہ تبدیلی پہلے حکم کی مدت کے خاتمے اور دوسرے حکم کی مدت کے آغاز کا اعلان ہوتی ہے۔
    یہاں بعض لوگ یہ وسوسہ پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ اگر مان لیا جائے کہ قرآن کی بعض آیات دوسری آیات کی ناسخ ہیں تو اس سے لازم آئے گا کہ پہلا حکم نازل کرتے وقت معاذاللہ ، اللہ عزوجل کو معلوم نہ تھا کہ یہ حکم مفید ہےاور جب تجربے کے ذریعے اس کے غیر مفید ہونے کا علم ہوا تب دوسرا حکم نافذ کر دیا گیا۔
    یہ محض وسوسہ ہے اس کا حقیقت سے کچھ تعلق نہیں ۔کیونکہ ضروری نہیں کہ ہر مفید حکم ہر زمانے کے لیئے مفید ہو۔بلکہ حالات کے بدلنے سے حکم کی افادیت بدلتی رہتی ہے۔طبیب مرض کا علاج مرحلہ وار کرتا ہےپہلے مرحلے پر وہ جو دوا دیتا ہے وہ اسی مرحلے کے لیئے مفید ہوتی ہےلیکن اسی علاج کو مستقل کر دینا نہ طبابت ہے اور نہ عقلمندی۔طبیب ہر مرحلے کے بعد علاج کو تبدیل کرے گا اور یہی عقلمندی ہے۔اب اگر کوئی فلسفی مزاج مریض طبیب کی طرف سے نسخے کی تبدیلی پر یہ اعتراض کر دے کہ ڈاکٹر صاحب! پہلے آپ نے یہ علاج کیوں تجویز نہ کیا تھا کیا اس وقت آپ کو اس بات کا علم نہ تھا جو اب آپ کے نوٹس میں آئی ہے؟ تو ایسا مریض کسی طبیب کے علاج سے صحتیاب کیسے ہو گا؟یہ مثال محض وضاحت کے لیئے ہے اس مثال سے یہ حقیقت منکشف ہو چکی کہ نسخ کا مطلب یہ نہیں کہ شارع نے پہلے غلط حکم دے دیااور جب اس کی غلطی کا پتا چلا تو اس کو دوسرے حکم سے بدل دیا۔بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک حکم جب تک مفید تھا نافذالعمل رہا جب اس کی افادیت ختم ہو گئی تو اس کو دوسرے حکم سے بدل دیا
    نسخ کا اصول نہ نظری معاملات اور عقائد میں لاگو ہوتا ہے اور نہ خبر میں ۔نسخ کا یہ مطلب نہیں کہ اسلام پہلے ایک عقیدے کا پرچار کرے اور پھر اس کی جگہ دوسر اعقیدہ پیش کر کے کہے کہ پہلا عقیدہ منسوخ ہو گیا ہے۔اور نہ ہی نسخ کا یہ مطلب ہے کہ پہلے قرآن ایک حقیقت یا خبر کو بیان کرے اور اور پھر اس کو منسوخ قرار دے دے۔بلکہ نسخ کا قاعدہ صرف عملی احکام میں لاگو ہوتا ہے مگر چند شرائط کے ساتھ۔۔۔!
    نسخ کی اس وضاحت سے مندرجہ ذیل احکام نسخ کے دائرہ کار سے خارج ہو جائیں گے:۔
    شریعت کے احکام کلیہ اور اصول عامہ جیسے امر بالمعروف و نہی عن المنکر وغیرہ

ایسے احکام جن کے مشروع نہ ہونے کا احتمال ہی نہیں۔ جیسے وہ اصلی احکام جن کا تعلق عقائد سے ہے مثلاََ اللہ پر ایمان، فرشتوں ، کتابوں، رسولوں اور  یوم آخرت پر ایمان، ایسے احکام جو نیکی اور فضیلت کی بنیاد ہیں جیسے عدل، صداقت،امانت،والدین سے حسن سلوک، ایفائے عہد اور اسی قسم کے دیگر فضائل۔
ایسے احکام جن کی مشروعیت کا سرے سے احتمال ہی نہیں جیسے کفر اور دیگر اصلی رزائل مثلاََ ظلم، جھوٹ، خیانت، والدین کی نافرمانی، دھوکہ دہی وغیرہ کیونکہ یہ ایسی چیزیں جن کی قباحت بدل نہیں سکتی
ایسے احکام جن کے ساتھ کوئی ایسی چیز ملحق ہو جو نسخ کے منافی ہومثلاََ اس حکم کے ساتھ یہ وضاحت بھی ہو کہ یہ حکم تاابد ہے ۔ اس کی مثال حضور اکرم ﷺ کی ازدواج مطہرات سے نکاح کی حرمت کا مسئلہ ہے۔

جیسے کہ قرآن حکیم نے واضح الفاظ میں فرما دیا ہے کہ :۔ وَمَا کَانَ لَکُم اَن تُوذُوا  رَسُولَ اللَّہِ وَلا اَن تَنکِحُوا اَزوَاجَہُ مِن بَعدِہِ اَبَدا------الاحزاب:53
اور تمہیں زیب نہیں دیتا کہ تم رسول اللہ ﷺ کو اذیت پہنچاؤ۔ اور تمہیں اس بات کی بھی اجازت نہیں کہ ان کی ازدواج سے ان کے بعد کبھی بھی نکاح کرو۔
اس آیہ کریمہ میں لفظ ابدا کے ساتھ اس بات کی صراحت کر دی گئی ہے کہ ازدواج رسول اللہ ﷺ سے نکاح ابدی طور پر حرام ہے ۔ اس حکم کو ابدی قرار دینا اس بات کی دلیل ہے کہ یہ حکم ابدی طور پر مفید ہے۔ کیونکہ اگر  اس حکم میں نسخ کا امکان ہو تو یہ اس بات کے منافی ہو گا کہ یہ حکم ابدی طور پر مفید ہو ۔دوسرے قسم کے احکام وہ ہیں کہ جن کے ابدی ہونے کی صریح نص تو موجود نہیں مگر قرائن اس کی شہادت دیتے ہیں ۔ جیسے کہ ایسے احکام جن کا نسخ حضور اکرم ﷺ کی حیات ظاہری میں ثابت نہیں ۔ ایسے احکام بھی ابدی ہیں اور نسخ کو قبول نہیں کرتے کیونکہ نسخ کے لیئے قول رسول اللہ ﷺ ضروری ہےاور حضور اکرم ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں کیونکہ آپ ﷺ خاتم الانبیاء و المرسلین ہیں ۔ اس طرح وہ احکام بھی نسخ کو قبول نہیں کرتے جن کا وقت متعین کر دیا گیا ہو۔کیونکہ ایسا حکم وقت گزرنے کے ساتھ خودبخود ساقط ہو جاتا ہے اور اس کو ختم کرنے کے لیئے کسی دوسرے حکم کی ضرورت نہیں پڑتی۔

نسخ کی شرائط:۔
نسخ کے مؤثر ہونے کی چند شرائط ہیں  جو درج ذیل ہیں:۔
منسوخ ہونے والا حکم شریعت کا ایسا جزئی اور عملی حکم ہو جو قرآن و سنت سے ثابت ہو اور اس حکم کے ساتھ نہ تو ابدیت کی شرط ہواور نہ ہی اس کی مدت متعین ہواور ساتھ ہی منسوخ کے لیئے ضروری ہے کہ وہ ناسخ سے مقدم ہو۔
ناسخ قرآن کی آیت یا حضور اکرم ﷺ کی قولی یا فعلی سنت ہو جو منسوخ سے متاخر ہو
نسخ کی صورتیں :۔
نسخ کی کئی صورتیں ہیں جن کی تفصیل درج ذیل ہے:۔
کبھی ایک حکم منسوخ ہوتا ہے اور اس کی جگہ دوسرا حکم نازل نہیں ہوتا جیسے کہ پہلے حضور اکرم ﷺ کے ساتھ گفتگو کرنے سے پہلے صدقہ کرنا لازم تھابعد میں یہ حکم منسوخ ہو گیا اور اس کی جگہ کوئی دوسرا حکم نازل نہیں ہوا۔
کبھی ایک حکم کو منسوخ کر کے اس کی جگہ دوسرا ایسا حکم نازل کیا جاتا ہے جو جو تاکید اور شدت کے حساب سے منسوخ حکم کے برابر ہوتا ہے  جیسے بیت المقدس کے بجائے خانہ کعبہ کو قبلہ بنانے کا حکم
کبھی ایک سخت حکم کو منسوخ کر کے اس کی جگہ ایک آسان حکم نافذ کر دیا جاتا ہے جیسے کہ پہلے یہ حکم تھا کہ ایک مسلمان دس مشرکوں کے مقابل صبر کا مظاہرہ کرے بعد میں یہ حکم منسوخ ہو گیااور اس کے بدلے ایک آسان حکم نازل ہو گیا کہ ایک مسلمان صرف دو مشرکوں کے مقابل صبر کا مظاہرہ کرے۔
کبھی آسان حکم کو منسوخ کر کے اس کی جگہ سخت حکم نافذ کر دیا جاتا ہے جیسے کہ پہلے حکم تھا کہ کفار کی اذیتوں پر صبر کیا جائےبعد میں اس حکم کو منسوخ کر کے ان سے جہاد و قتال کا حکم نازل کیا گیا۔ اسی طرح پہلے صرف یوم عاشورہ کا روزہ فرض تھا بعد میں اس فرضیت کو منسوخ کر کے پورے رمضان المبارک کے روزے فرض قرار دے دیئے گئے۔
کبھی قاعدہ نسخ کے ذریعے ممانعت کے حکم کو اباحت میں تبدیل کر دیا جاتا ہے جیسے کہ پہلے رمضان المبارک کے مہینے میں بعد از عشاء اور سونے سے قبل مباشرت کی ممانعت تھی  پھر اس حکم کو اس آیہ کریمہ کے ذریعے منسوخ کر دیا گیا:۔ "حلال کر دیا گیا تمہارے لیئے رمضان کی راتوں میں اپنی عورتوں کے پاس جانا" سورۃ البقرہ آیہ 187
کبھی نسخ صراحتاََ ہوتا ہے اور کبھی ضمناََ۔ پہلی صورت میں ناسخ حکم کی صراحت کر دی جاتی ہےکہ یہ حکم پہلے حکم کو منسوخ کر رہا ہےجیسے کہ پہلے قرآن حکیم نے حکم دیا:۔
" اے نبی ﷺ برانگیختہ کیجیئے مومنوں کو جہاد پر۔ اگر ہوں تم میں سے بیس آدمی صبر کرنے والے تو وہ غالب آئیں گے دو سو پراور اگر ہوئے تم میں سے سو آدمی تو وہ غالب آئیں گے ہزار پر۔ کیونکہ یہ کافر وہ لوگ ہیں جو کچھ نہیں سمجھتے" سورۃ الانفال:65
بعد میں اس آیہ کریمہ کے حکم کو دوسری آیہ کریمہ کے حکم سے منسوخ کر دیا گیا۔ ارشاد خداوندی ہوا کہ :۔
" اب تخفیف کر دی ہے اللہ نے تم پر اور وہ جانتا ہے کہ تم میں کمزوری ہے۔ تو اگر ہوئے تم میں سے سو آدمی صبر کرنے والےتو وہ غالب آئیں گے دو سو پراور اگر ہوئے تم میں ہزار آدمی تو وہ غالب آئیں گے دو ہزار پراللہ کےحکم سے ۔ اور اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے " سورۃ الانفال : 66
دووسری آیہ میں جو کہ ناسخ ہے الئنَ خفف اللہ عنکم کے الفاظ صراحت کر رہے ہیں کہ پہلا حکم منسوخ ہو گیا ہے
دوسری صورت میں شارع نسخ کی صراحت تو نہیں کرتا مگر ضمناََ نسخ کا پتا چل جاتا ہے۔ اس کی سورت یہ ہے کہ متاخر نص کا حکم مقدم نص کے حکم کے متضاد ہو۔ دونوں میں نہ تو تطبیق ممکن ہو اور نہ ہی ایک کو دوسری پر ترجیح دی جا سکتی ہو۔اس  صورت میں پتا چل جائے گاکہ دوسری نص پہلی نص کی ناسخ ہے۔
نسخ کا اصول شریعت محمدیہ ﷺ سے خاص نہیں :۔ مستشرقین نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ نسخ کا اصول مسلمانوں کی اختراع ہے اور پیغمبر اسلام ﷺ نے تضادات قرآن کو جواز فراہم کرنے کے لیئے یہ طریقہ اختیار کیا تھالیکن یہ مستشرقین کی روایتی علمی بددیانتی ہے وہ ایک ایسی چیز کے ذریعے اسلام کو موردالزام ٹھہرانے کی مذموم کوشش کر رہے ہیں جو ان کے ہاں بھی مروج العمل ہے۔ جس کی چند ایک مثالیں درج ذیل ہیں :۔

1۔  بائیبل کے بیان کے مطابق حضرت نوح علیہ السلام کی شریعت میں تمام سبزیوں اور تمام جانوروں کا کھانا حلال تھا۔کتاب پیدائش باب نمبر 9 آیہ نمبر 3 میں حضرت نوح علیہ السلام سے کہا جا رہا ہے کہ "سبزیوں کی طرح تمام حرکت کرنے والے جانور جو زندہ ہیں وہ تمہاری خوراک بن سکتے ہیں میں تمہیں وہ سب عطا فرماتا ہوں "
لیکن شریعت موسویہ میں اکثر جانوروں کو حرام قرار دے دیا گیا۔کتاب الاحبار کے باب نمبر 11 میں ان جانوروں کی تفصیل بیان کی گئی ہے جو حضرت موسی علیہ السلام کے پیروکاروں کے لیئے حرام ہیں ۔ حضرت نوح علیہ اسلام کی شریعت میں تمام جانور حلال تھے اور حضرت موسی علیہ اسلام کی شریعت میں اکثر کی حرمت کا اعلان کر دیا گیا یہ نسخ نہیں تو اور کیا ہے۔۔۔۔۔۔؟؟؟
2۔ شریعت موسویہ میں مرد کو کسی بھی سبب سے اپنی بیوی کو طلاق دینے کا اختیار تھا ۔ اور مطلقہ عورت کے ساتھ کوئی بھی نکاح کر سکتا تھا  جیسا کی کتاب استثناء کے باب چوبیس کی پہلی اور دوسری آیت میں وضاحت کے ساتھ بیان کر دیا گیا ہے۔ مگر شریعت عیسوی میں بدکاری کی علت کے علاوہ کسی وجہ سے بھی مرد کو طلاق دینے کی اجازت نہیں اور نہ ہی مطلقہ کے ساتھ کسی دوسرے مرد کو شادی کی اجازت ہے۔متی کی انجیل کے پانچویں باب کی آیت نمبر 31 اور 32 کے الفاظ وضاحت کر رہے ہیں کہ اب پہلا حکم منسوخ ہو گیا ہے۔
3۔ کتاب پیدائش کے باب نمبر 17 کی آیت نمبر 14میں ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی شریعت میں ختنے کا ابدی حکم تھا ۔ یہ حکم حضرت اسماعیل و اسحاق علیہ السلام کی نسلوں میں مروج رہا۔شریعت موسوی میں بھی ختنے کا حکم تھا۔لوقا کی انجیل کے دوسرے باب کی آیت نمبر 21 کے مطابق حضرت عیسی علیہ السلام کا بھی ختنہ ہوا۔ یہ حکم حضرت عیسی علیہ السلام کے رفع آسمانی تک جاری رہا۔گو حضرت عیسی علیہ السلام کی شریعت میں اس حکم کو منسوخ نہیں کیا گیا۔لیکن حضرت عیسی علیہ السلام کے بعد جن "مقدسین" نے آپ کی شریعت کو بازیچہ اطفال بنائے رکھا انہوں نے اس ابدی حکم کو منسوخ کر دیا۔مسلمانوں کے نزدیک گو کہ کسی نبی کے بعد اس کے حکم کو منسوخ قرار دے دینا ناممکن ہے مگر جو عیسائی ان "مقدسین" کی وضع کردہ شریعت پر کاربند ہیں و ہ اس کو نسخ کے علاوہ کیا نام دیں گے ؟

4۔ ذبیحہ کے احکام شریعت موسویہ میں بے شمار تھے جو شریعت عیسوی میں منسوخ ہو گئے۔

5۔ شریعت موسویہ کے بے شمار احکام شریعت عیسویہ میں منسوخ ہو گئے ۔ چنانچہ حضرت عیسی علیہ السلام کے بعد سینٹ پال اور دوسرے "مقدسین" نے تورات کے اکثر احکامات کو کالعدم قرار دے دیا۔عبرانیوں کے نام پولس کے خط کے ساتویں باب کی آیت نمبر 18 میں درج ذیل الفاظ موجود ہیں :"یقیناََ سابقہ احکام کو ان کی کمزوری اور ان کے بے اثر ہونے کے سبب سے منسوخ کیا جاتا ہے "
عبرانیوں کے نام خط کے آٹھویں باب میں بنو اسرائیل کے ساتھ خدا کے قدیم عہد کے بدلے ایک جدید عہد کا ذکر ہےاس باب کی آٰت نمبر 7 میں ہے کہ : " اگر پہلا عہد بےعیب ہوتا تو نئے عہد کی گنجائش نہ ہوتی"
اسی باب کی آیت نمبر 13 کے الفاظ یہ ہیں کہ : "نئے عہد کا لفظ استعمال کر کے اس نے پرانے عہد کو منسوخ کر دیا ہے۔ اب جس کو منسوخ قرار دے دیا گیا ہے اور جو پرانا ہو رہا ہے وہ مٹ جانے کے قریب ہے "
عبرانیوں کے نام خط کے ساتویں باب کی آیت نمبر 12 میں سینٹ پال نے ایک ایسا اصول وضع کر دیا ہے جس کے بعد عیسائیوں کے لیئے نسخ کو قبول نہ کرنے کی کوئی گنجائش نہیں بچتی۔سینٹ پال کہتا ہے کہ :۔
"جب امامت تبدیل ہو رہی ہو تو ضروری ہو جاتا ہے کہ شریعت بھی تبدیل ہو"۔
مندرجہ بالا مثالوں سے یہ حقائق روز روشن کی طرح عیاں ہو جاتے ہیں کہ"۔
دوسری شریعتوں کے بعض احکام کو منسوخ کرنا شریعت اسلامیہ ہی کا خاصہ نہیں بلکہ سابقہ شریعتوں میں بھی یہ اصول مروج رہا ہے۔
تورات کے عملی احکام خواہ وہ ابدی تھے یا غیر ابدی شریعت عیسوی میں منسوخ ہو گئے۔
تورات کے احکام کے متعلق نسخ کا لفظ عیسائی کتابوں میں بھی موجود ہے ۔
سینٹ پال نے وضاحت کی ہے کہ امامت تبدیل ہونے سے قانون تبدیل ہونا ضروری ہے۔
سینٹ پال کا دعوی ہے کہ قدیم شئے فنا کے قریب ہوتی ہے ۔
مندرجہ بالا حقائق کے ہوتے ہوئے یہودی اور عیسائی اسلام پر یہ الزام کیسے لگا سکتے ہیں کہ مسلمانوں نے قرآن حکیم کے تضادات کو رفع کرنے کے لیئے نسخ کا اصول وضع کیا ہے ۔۔۔۔؟
گزشتہ سطور میں ایک شریعت کے احکام کو دوسری شریعت کے احکام سے منسوخ کرنے کے دلائل دیئے گئے ۔ اب ہم ایک شریعت کے احکام کو اسی شریعت کے دوسرے احکام سے منسوخ کرنے کی مثالیں پیش کرتے ہیں :۔
1۔ کتاب پیدائش کے بائیسویں باب میں اس بات کی تفصیل موجود ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پہلے ابراہیم علیہ اسلام کو حکم دیا کہ اپنے بیٹے اسحاق علیہ السلام کو قربان کریں لیکن جب انہوں نے حکم کی تعمیل کا ارادہ کر لیا تو انہیں اللہ کی طرف سے یہ حکم ملا کہ وہ اپنے بیٹے کو قربان نہ کریں ۔
یہاں اگر پہلا حکم دوسرے حکم سے منسوخ نہیں تو اور کیا ہے ۔۔۔۔۔؟
2۔ صموئل اول کے دوسرے باب میں ہے کہ " اللہ تعالیٰ نے وعدہ کیا تھا کہ امامت کا منصب بڑے پادری کے خاندان میں ہمیشہ رہے گا"لیکن بعد میں اللہ نے اس فیصلہ کو بدل دیا۔ مذکورہ باب کی آیت نمبر 30 کے الفاظ یہ ہیں کہ : "خدائے اسرائیل کا فرمان یہ ہے کہ : میں نے تمہارے اور تمہارے اسلاف کے گھرانے سے یہ کہا تھا کہ تم ہمیشہ میرے آگے آگے چلا کرو گے لیکن اب خدا کا  فرمان یہ ہے کہ جہاں تک میرا تعلق ہے یہ بات ناقابل تصور ہے کیونکہ جو میری تسبیح کرتے ہیں میں ان کا احترام کرتا ہوں اور جو میری توہین کرتے ہیں ان کی میرے نزدیک کوئی حثیت نہیں"
اسی باب کی آیت نمبر 35 میں ہے ک ہ:
"میں یقیناََ اپنے لیئے ایک وفادار پادری پیدا کروں گا جو وہی کرے گا جو میرے دل اور روح کے مطابق ہو گا"
کتاب صموئیل اول کی ان آیات سے واضح ہے کہ اللہ نے پہلے بڑے پادری کے خاندان کو منصب امامت تاابد عطا فرمانے کا وعدہ کیا تھالیکن بعد میں اس فیصلے کو بدل دیا اور منصب امامت دوسروں کو تفویض کر دیا۔بائیبل کے مفسرین کہتے ہیں کہ" یہ منصب اللہ تعالیٰ نے حضرت ہارون علیہ السلام کے بڑے بیٹے "عازار" کو ہمیشہ کے لیئے عطا فرمایا تھالیکن بعد میں یہ حکم منسوخ ہو گیا" اظہار الحق جلد1 صفحہ 532
یہاں عیسائی تو خدا کے ابدی وعدے پر بھی نسخ کا اصول لاگو کر رہے ہیں جو کہ مسلمانوں کے نزدیک ناممکن العمل ہے۔وعدہ کر کے پورا نہ کیا جائے تو یہ نسخ نہیں وعدہ خلافی کہلاتا ہے اور مسلمان اللہ عزوجل کی ذات کو ان تمام عیوب سے مبرا مانتے ہیں ۔
3۔ کتاب الاحبار کے سترھویں باب میں ہے کہ بنو اسرائیل کا جو شخص کوئی جانور ذبح کرے وہ اپنی قربانی کو خدا کے حضور پیش کرنے کے لیئے خیمہ عبادت کے دروازے تک لائےجو ایسا نہ کرے وہ قابل گردن زدنی ہے ۔لیکن کتاب استثناء کے بارہویں باب میں ہے کہ جب جی چاہے اور جہاں جی چاہے جو جانور چاہو ذبح کرو اور کھاؤ۔
ان آیات کی تفسیر میں بائیبل کا ایک بہت بڑا مفسر ھورن لکھتا ہے کہ :۔  ان دونوں مقامات میں بظاہر تناقض نظر آتا ہے لیکن اگر غور سے دیکھا جائے تو پتا چلتا ہے کہ شریعت موسویہ میں بنی اسرائیل کے حالات کے مطابق کمی بیشی ہوتی رہتی تھی۔اور شریعت موسی ایسی نہ تھی کہ اس میں بوقت ضرورت تبدیلی نہ کی جا سکے۔
اس کے بعد مفسر مذکور لکھتا ہے کہ : حضرت موسی علیہ السلام نے اپنی ہجرت کے چالیسویں سال فلسطین میں داخل ہونے سے پہلے اس حکم کو منسوخ کر دیا۔
مفسر مذکور نے یہاں نسخ کو بھی تسلیم کیا ہے اور حالات کے مطابق شریعت میں کمی بیشی کو بھی ۔ لیکن مقام حیرت یہ ہے کہ اسی نسخ کو یہود و نصاریٰ اسلام پر ایک بہت بڑے اعتراض کے طور پر پیش کرتے ہیں ۔
4۔ کتاب گنتی کے چوتھے باب کی مختلف آیات میں خیمہ عبادت کے خادمین کی عمریں تیس اور پچاس سال کے درمیان مقرر کی گئی ہیں۔جبکہ اسی کتاب کے آٹھویں باب کی آیات چوبیس اور پچیس میں خدام کی عمروں کی حد پچیس سے پچاس سال متعین کی گئی ہے۔ اب ظاہر ہے کہ ان میں سے ایک حکم منسوخ ہے اور دوسرا ناسخ۔
5۔ کتاب الاحبار کے چوتھے باب میں جماعت کی غلطی کا فدیہ صرف ایک بیل کی قربانی قرار دیا گیا ہے لیکن کتاب گنتی کے پندرہویں باب میں جماعت کی غلطی کا کفارہ ایک بیل کے علاوہ غلے، مشروبات اور بکری کے ایک بچے کی قربانی کو قرار دیا گیا ہے۔گویا دوسرے حکم نے پہلے حکم کومنسوخ کر دیا۔۔۔۔۔۔۔۔!
ان دونوں اقسام کی مثالوں سے یہ بات بلکل واضح ہے کہ نسخ کا قانون ہر شریعت میں رائج رہا ہے۔اور عہد نامہ قدیم و جدید میں کچھ مثالیں ایسی بھی موجود ہیں جو نسخ سے بھی کچھ زائد ہیں۔
اللہ تعالیٰ حکیم ہے اس کا کوئی کام حکمت سے خالی نہیں ہوتا۔زمانہ کے بدلنے کے ساتھ ساتھ انسانی ضرورتیں اور تقاضے بھی بدلتے رہتے ہیں۔کسی حالت میں کوئی ایک حکم مفید ہوتا ہے تو دوسری حالت میں وہی حکم مضر بھی ثابت ہو سکتا ہے ۔ایک حکم ایک زمانے میں قابل عمل ہوتا ہے اور دوسرے زمانے میں نہیں ۔کسی زمانے کے لوگ کسی حکم کے تقاضوں کو سمجھنے اور اسے بجا لانے کے قابل ہوتے ہیں جبکہ دوسرے زمانے کے لوگ نہ تو اس کے تقاضوں کو سمجھ پاتے ہیں اور نہ ہی اس حکم کو پورا کرنے کے اہل ہوتے ہیں۔لہذا دانائی کا تقاضا یہی تھا کہ ہر زمانے  کے حالات کے مطابق احکامات نازل کیئے جاتے۔
الغرض ابو جہل سے لیکر کر سلمان رشدی لعین تک، مکہ کے کفار ومشرکین سے لے کر یورپ کے مستشرقین تک سب دشمن اس کو نقصان پہنچانے کے لیئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں ۔ لیکن اس دین متین کا جھنڈا نت نئی بلندیوں پر لہراتا نظر آتا ہے۔
یہ اللہ عزوجل کی قدرت اور دین اسلام کی صداقت کی منہ بولتی نشانی ہے۔کاش کہ دشمنان اسلام اس سے عبرت حاصل کریں ۔

مستشرقین کا قرآن حکیم پر یہ ایک بڑا مشہور اعتراض ہے کہ قرآن حکیم میں ایسی آیات موجود ہیں جو باہم ایک دوسرے کے متضاد ہیں۔لیکن مسلمان یہ کہہ کر جان چھڑا لیتے ہیں کہ یہ باہم متضاد نہیں بلکہ ان کا آپس میں تعلق ناسخ منسوخ کا ہے۔مستشرقین کہتے ہیں کہ مسلمان اس طرح قرآن حکیم پر ہونے والے ایک بڑے اعتراض سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں ۔بلکہ وہ یہاں تک بھی اپنے اس مفروضے کو طول دینے سے باز نہیں آتے کہ تضادات سے بچنے کا یہ طریقہ خود حضور اکرم ﷺ نے وضع کیا تھا۔یہی وجہ ہے کہ قرآن میں آیات کو منسوخ کرنے یا ایک کو دوسری سے بدلنے کا ذکر ہے۔اپنے اس دعویٰ کے ثبوت کے طور پر وہ قرآن حکیم کی اس آیہ کریمہ کو پیش کرتے ہیں :۔
"جو آیت ہم منسوخ کر دیتے ہیں یا فراموش کرا دیتے ہیں تو لاتے ہیں (دوسری) بہتر اس  سے یا(کم ازکم) اس جیسی"۔ سورۃ البقرہ آیہ 106
جارج سیل اپنے ترجمہ قرآن کے مقدمے میں لکھتا ہے کہ: "قرآن میں کچھ آیات ایسی ہیں جو باہم متضاد ہیں۔مسلمان علماء نسخ کے اصول کے ذریعے ان پر وارد ہونے والے اعتراضات کا تدارک کرتے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ اللہ عزوجل نے قرآن حکیم میں کچھ احکام صادر فرمائے جن کو بعد میں معقول وجوہات کی بناء پر منسوخ کر دیا گیا"
" صفحہ 52
The Koran"
مستشرقین یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ نسخ کا لفظ نظر ثانی کے مترادف ہے۔اور حضرت محمد ﷺ قران میں نظرثانی و ترمیم کیا کرتے تھے۔اور قرآن کی ترتیب کو نئی شکل دیتے تھے۔مستشرقین کے ان تمام دعوؤں کی دلیل یہ ہے کہ قرآن اس بات کو بیان کرتا ہے کہ اس کی کچھ آیات دوسری آیات کے ذریعے منسوخ ہو گئی ہیں۔اگر یہی حقیقت ہو تو پھر قرآن کوکلام الہٰی ماننے کی کوئی گنجائش ہی نہیں رہتی۔ اگر اس نظریے کو قبول کر لیا جائے کہ حضور اکرم ﷺ قرآن میں ازخود ترمیم کر لیا کرتے تھے تو پھر قرآن کے منزل من اللہ ہونے کے عقیدے کی ضرورت ہی کیا ہے؟جو قرآن میں ترمیم کر سکتا ہے وہ قرآن کو تصنیف بھی کر سکتا ہے۔مستشرقین الفاظ کے ہیر پھیر سے اسی نتیجہ تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔
مستشرقین کا یہ دعوی بلکل غلط اور باطل ہے۔ قرآن حکیم نہ تو حضور اکرم ﷺ کو قرآن کا مصنف کہتا ہے اور نہ ہی اس کی ترتیب اور نسخ کو حضور اکرم ﷺ کی طرف منسوب کرتا ہے۔قرآن حکیم اللہ عزوجل ہی کو اس کتاب کا نازل فرمانے والاقرار دیتا ہے اور اس میں نسخ کو بھی اسی ذات سے منسوب کرتا ہے۔نسخ کو حضور اکرم ﷺ کی طرف سے نظر ثانی قرار دینا نہ قرآن کا بیان ہے اور نہ ہی کبھی مسلمانوں نے اسے تسلیم کیا ہے۔مستشرقین اپنے مزعومات کو قرآن حکیم اور مسلمانوں کے سر تھوپ کر اپنی روایتی علمی بددیانتی کا ثبوت دے رہے ہیں۔مسلمان ساڑھے چودہ سو سال سے قرآن حکیم اور احادیث کی تشریح اور ان سے استنباط احکام کے لیئے نسخ کے اصول کو استعمال کرتے آئے ہیں۔

یہ اسلامیات کی ایک مستقل اصطلاح ہےجس کی اپنی مخصوص تعریف ہے اور اس کی کچھ شرائط ہیں۔نسخ کوئی قانون چھری نہیں کہ جس عقیدے کو چاہے باطل کر دےجس تاریخی بیان کو چاہے بدل دےجس قانون کو چاہے کالعدم قرار دے دےجس اخلاقی ضابطے کو چاہے ملیامیٹ کر دے۔ نہ اس کے لیئے زمانے کی پابندی ہو اور نہ مسئلے کی نوعیت اس قانون پر اثر انداز ہوتی ہو۔ بلکہ جس بات کو جب خلاف مصلحت سمجھا کالعدم قرار دے دیا۔ نسخ کے متعلق اس قسم کا کوئی بھی تصور درست نہیں۔یہ ایک شرعی اصطلاح ہے جو اپنے دائرے اور پابندیوں کے اندر نافذ العمل ہوتی ہے۔جدیدیت پسندوں نے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ قرآن میں جہاں نسخ کا ذکر ہے اس سے مراد یہ ہے کہ قرآن حکیم سابقہ شریعتوں کو منسوخ کرتا ہے،قرآن کی آیات کے ذریعے دوسری آیات منسوخ کرنے کا کوئی ذکر نہیں ۔لیکن ان کے موقف کی تائید نہ تو  متعلقہ قرآنی آیات کے الفاظ کرتے ہیں اور نہ ہی ملت اسلامیہ کی علمی تاریخ ان کی تصدیق کرتی ہے۔نسخ کا قانون مسلمانوں کے ہاں مسلم ہے اس کا انکار کر کے ہم قرآن حکیم کی کوئی خدمت نہیں کر سکتے۔اور نہ ہی ہمیں اس کا انکار کرنے کی ضرورت ہے۔کیونکہ ضروری نہیں کہ جس بات میں مستشرقین کو نقص نظر آتا ہو وہ لازماََ ناقص ہی ہو۔ان کو تو اسلام کی کسی بات میں کوئی بھی خوبی نظر نہیں آتی۔ان کی قلبی کیفیت کے بارے میں اللہ عزوجل ہمیں یوں آگاہ فرماتا ہے :۔
"اور ہرگز خوش نہ ہوں گے آپ سے یہودی نہ عیسائی،یہاں تک کہ آپ پیروی کرنے لگیں ان کے دین کی" سورۃ البقرہ آیہ 120۔

ذیل میں ہم نسخ کا وہ مفہوم پیش کرتے ہیں جو حضور نبی کریم ﷺ نے اپنی امت کو سمجھایا اور جو ساڑھے چودہ سو سال سے امت مسلمہ میں مروج ہے۔

نسخ کا مفہوم:۔ نسخ کا لغوی معنیٰ زائل کرنا یا نقل کرنا ہے۔ جیسے کہ کہتے ہیں کہ " نَسَختِ الرَیخُ آثَارَ القَدَمِ اَی اَزَلَتہُ۔ہوا نے قدموں کے آثار مٹا دیئے یعنی ان کا ازالہ کر دیا"

اسی طرح جب ایک کتاب کے مندرجات کو دوسری کتاب میں نقل کیا جائے تو کہتے ہیں" نَسَختُ الکِتَابَ" اور اصطلاح میں نسخ کی مختصر تعریف یہ ہے کہ:

  • " شارع کا ایک حکم شرعی کو کسی دوسری دلیل شرعی سے ساقط کر دینا"
    نسخ کا تعلق ایک طرف شارع سے ہے اور دوسری طرف امت کت مکلفین سے۔مکلفین کی نسبت سے تو نسخ کا یہ یہی مفہوم بنے گا کہ پہلے جو حکم موجود تھا اب وہ ساقط ہو گیا ہے اور اب اس کی جگہ ایک نیا حکم نافذ کر دیا گیا ہے ۔لیکن شارع کی نسبت اس میں رفع کا معنی موجود ہی نہیں  بلکہ اس نسبت سے اس کا مفہوم یہ ہے کہ شارع نے سابق حکم کے نفاذ کی مدت کے ختم ہونے کا اعلان کر دیا ہے۔
    اللہ تعالیٰ کی نگاہ قدرت سے نہ حال پوشیدہ ہے نہ مستقبل۔ یہ بات اس کے لامحدود علم میں ہے کہ کون سے حکم کی افادیت کس وقت تک رہے گیاور کب اس کی جگہ دوسرا حکم مفید رہے گا۔ نسخ کے ذریعے ایک حکم کے خاتنے اور دوسرے حکم کے نفاذ کا جو اعلان ہوتا ہے اس کا فیصلہ تو پہلے سے ہی ہو چکا ہوتا ہے۔لیکن چونکہ بندوں کو اس کا علم نہیں ہوتا اس لیئے جب ناسخ آیت کا نزول ہوتا ہے تو وہ سمجھتے ہیں کہ پہلے حکم کو ساقط کر کے اس کی جگہ نیا حکم نافذ کر دیا گیا ہے۔ حالانکہ شارع کے علم کے مطابق یہ تبدیلی پہلے حکم کی مدت کے خاتمے اور دوسرے حکم کی مدت کے آغاز کا اعلان ہوتی ہے۔
    یہاں بعض لوگ یہ وسوسہ پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ اگر مان لیا جائے کہ قرآن کی بعض آیات دوسری آیات کی ناسخ ہیں تو اس سے لازم آئے گا کہ پہلا حکم نازل کرتے وقت معاذاللہ ، اللہ عزوجل کو معلوم نہ تھا کہ یہ حکم مفید ہےاور جب تجربے کے ذریعے اس کے غیر مفید ہونے کا علم ہوا تب دوسرا حکم نافذ کر دیا گیا۔
    یہ محض وسوسہ ہے اس کا حقیقت سے کچھ تعلق نہیں ۔کیونکہ ضروری نہیں کہ ہر مفید حکم ہر زمانے کے لیئے مفید ہو۔بلکہ حالات کے بدلنے سے حکم کی افادیت بدلتی رہتی ہے۔طبیب مرض کا علاج مرحلہ وار کرتا ہےپہلے مرحلے پر وہ جو دوا دیتا ہے وہ اسی مرحلے کے لیئے مفید ہوتی ہےلیکن اسی علاج کو مستقل کر دینا نہ طبابت ہے اور نہ عقلمندی۔طبیب ہر مرحلے کے بعد علاج کو تبدیل کرے گا اور یہی عقلمندی ہے۔اب اگر کوئی فلسفی مزاج مریض طبیب کی طرف سے نسخے کی تبدیلی پر یہ اعتراض کر دے کہ ڈاکٹر صاحب! پہلے آپ نے یہ علاج کیوں تجویز نہ کیا تھا کیا اس وقت آپ کو اس بات کا علم نہ تھا جو اب آپ کے نوٹس میں آئی ہے؟ تو ایسا مریض کسی طبیب کے علاج سے صحتیاب کیسے ہو گا؟یہ مثال محض وضاحت کے لیئے ہے اس مثال سے یہ حقیقت منکشف ہو چکی کہ نسخ کا مطلب یہ نہیں کہ شارع نے پہلے غلط حکم دے دیااور جب اس کی غلطی کا پتا چلا تو اس کو دوسرے حکم سے بدل دیا۔بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک حکم جب تک مفید تھا نافذالعمل رہا جب اس کی افادیت ختم ہو گئی تو اس کو دوسرے حکم سے بدل دیا
    نسخ کا اصول نہ نظری معاملات اور عقائد میں لاگو ہوتا ہے اور نہ خبر میں ۔نسخ کا یہ مطلب نہیں کہ اسلام پہلے ایک عقیدے کا پرچار کرے اور پھر اس کی جگہ دوسر اعقیدہ پیش کر کے کہے کہ پہلا عقیدہ منسوخ ہو گیا ہے۔اور نہ ہی نسخ کا یہ مطلب ہے کہ پہلے قرآن ایک حقیقت یا خبر کو بیان کرے اور اور پھر اس کو منسوخ قرار دے دے۔بلکہ نسخ کا قاعدہ صرف عملی احکام میں لاگو ہوتا ہے مگر چند شرائط کے ساتھ۔۔۔!
    نسخ کی اس وضاحت سے مندرجہ ذیل احکام نسخ کے دائرہ کار سے خارج ہو جائیں گے:۔
    شریعت کے احکام کلیہ اور اصول عامہ جیسے امر بالمعروف و نہی عن المنکر وغیرہ

ایسے احکام جن کے مشروع نہ ہونے کا احتمال ہی نہیں۔ جیسے وہ اصلی احکام جن کا تعلق عقائد سے ہے مثلاََ اللہ پر ایمان، فرشتوں ، کتابوں، رسولوں اور  یوم آخرت پر ایمان، ایسے احکام جو نیکی اور فضیلت کی بنیاد ہیں جیسے عدل، صداقت،امانت،والدین سے حسن سلوک، ایفائے عہد اور اسی قسم کے دیگر فضائل۔
ایسے احکام جن کی مشروعیت کا سرے سے احتمال ہی نہیں جیسے کفر اور دیگر اصلی رزائل مثلاََ ظلم، جھوٹ، خیانت، والدین کی نافرمانی، دھوکہ دہی وغیرہ کیونکہ یہ ایسی چیزیں جن کی قباحت بدل نہیں سکتی
ایسے احکام جن کے ساتھ کوئی ایسی چیز ملحق ہو جو نسخ کے منافی ہومثلاََ اس حکم کے ساتھ یہ وضاحت بھی ہو کہ یہ حکم تاابد ہے ۔ اس کی مثال حضور اکرم ﷺ کی ازدواج مطہرات سے نکاح کی حرمت کا مسئلہ ہے۔

جیسے کہ قرآن حکیم نے واضح الفاظ میں فرما دیا ہے کہ :۔ وَمَا کَانَ لَکُم اَن تُوذُوا  رَسُولَ اللَّہِ وَلا اَن تَنکِحُوا اَزوَاجَہُ مِن بَعدِہِ اَبَدا------الاحزاب:53
اور تمہیں زیب نہیں دیتا کہ تم رسول اللہ ﷺ کو اذیت پہنچاؤ۔ اور تمہیں اس بات کی بھی اجازت نہیں کہ ان کی ازدواج سے ان کے بعد کبھی بھی نکاح کرو۔
اس آیہ کریمہ میں لفظ ابدا کے ساتھ اس بات کی صراحت کر دی گئی ہے کہ ازدواج رسول اللہ ﷺ سے نکاح ابدی طور پر حرام ہے ۔ اس حکم کو ابدی قرار دینا اس بات کی دلیل ہے کہ یہ حکم ابدی طور پر مفید ہے۔ کیونکہ اگر  اس حکم میں نسخ کا امکان ہو تو یہ اس بات کے منافی ہو گا کہ یہ حکم ابدی طور پر مفید ہو ۔دوسرے قسم کے احکام وہ ہیں کہ جن کے ابدی ہونے کی صریح نص تو موجود نہیں مگر قرائن اس کی شہادت دیتے ہیں ۔ جیسے کہ ایسے احکام جن کا نسخ حضور اکرم ﷺ کی حیات ظاہری میں ثابت نہیں ۔ ایسے احکام بھی ابدی ہیں اور نسخ کو قبول نہیں کرتے کیونکہ نسخ کے لیئے قول رسول اللہ ﷺ ضروری ہےاور حضور اکرم ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں کیونکہ آپ ﷺ خاتم الانبیاء و المرسلین ہیں ۔ اس طرح وہ احکام بھی نسخ کو قبول نہیں کرتے جن کا وقت متعین کر دیا گیا ہو۔کیونکہ ایسا حکم وقت گزرنے کے ساتھ خودبخود ساقط ہو جاتا ہے اور اس کو ختم کرنے کے لیئے کسی دوسرے حکم کی ضرورت نہیں پڑتی۔

نسخ کی شرائط:۔
نسخ کے مؤثر ہونے کی چند شرائط ہیں  جو درج ذیل ہیں:۔
منسوخ ہونے والا حکم شریعت کا ایسا جزئی اور عملی حکم ہو جو قرآن و سنت سے ثابت ہو اور اس حکم کے ساتھ نہ تو ابدیت کی شرط ہواور نہ ہی اس کی مدت متعین ہواور ساتھ ہی منسوخ کے لیئے ضروری ہے کہ وہ ناسخ سے مقدم ہو۔
ناسخ قرآن کی آیت یا حضور اکرم ﷺ کی قولی یا فعلی سنت ہو جو منسوخ سے متاخر ہو
نسخ کی صورتیں :۔
نسخ کی کئی صورتیں ہیں جن کی تفصیل درج ذیل ہے:۔
کبھی ایک حکم منسوخ ہوتا ہے اور اس کی جگہ دوسرا حکم نازل نہیں ہوتا جیسے کہ پہلے حضور اکرم ﷺ کے ساتھ گفتگو کرنے سے پہلے صدقہ کرنا لازم تھابعد میں یہ حکم منسوخ ہو گیا اور اس کی جگہ کوئی دوسرا حکم نازل نہیں ہوا۔
کبھی ایک حکم کو منسوخ کر کے اس کی جگہ دوسرا ایسا حکم نازل کیا جاتا ہے جو جو تاکید اور شدت کے حساب سے منسوخ حکم کے برابر ہوتا ہے  جیسے بیت المقدس کے بجائے خانہ کعبہ کو قبلہ بنانے کا حکم
کبھی ایک سخت حکم کو منسوخ کر کے اس کی جگہ ایک آسان حکم نافذ کر دیا جاتا ہے جیسے کہ پہلے یہ حکم تھا کہ ایک مسلمان دس مشرکوں کے مقابل صبر کا مظاہرہ کرے بعد میں یہ حکم منسوخ ہو گیااور اس کے بدلے ایک آسان حکم نازل ہو گیا کہ ایک مسلمان صرف دو مشرکوں کے مقابل صبر کا مظاہرہ کرے۔
کبھی آسان حکم کو منسوخ کر کے اس کی جگہ سخت حکم نافذ کر دیا جاتا ہے جیسے کہ پہلے حکم تھا کہ کفار کی اذیتوں پر صبر کیا جائےبعد میں اس حکم کو منسوخ کر کے ان سے جہاد و قتال کا حکم نازل کیا گیا۔ اسی طرح پہلے صرف یوم عاشورہ کا روزہ فرض تھا بعد میں اس فرضیت کو منسوخ کر کے پورے رمضان المبارک کے روزے فرض قرار دے دیئے گئے۔
کبھی قاعدہ نسخ کے ذریعے ممانعت کے حکم کو اباحت میں تبدیل کر دیا جاتا ہے جیسے کہ پہلے رمضان المبارک کے مہینے میں بعد از عشاء اور سونے سے قبل مباشرت کی ممانعت تھی  پھر اس حکم کو اس آیہ کریمہ کے ذریعے منسوخ کر دیا گیا:۔ "حلال کر دیا گیا تمہارے لیئے رمضان کی راتوں میں اپنی عورتوں کے پاس جانا" سورۃ البقرہ آیہ 187
کبھی نسخ صراحتاََ ہوتا ہے اور کبھی ضمناََ۔ پہلی صورت میں ناسخ حکم کی صراحت کر دی جاتی ہےکہ یہ حکم پہلے حکم کو منسوخ کر رہا ہےجیسے کہ پہلے قرآن حکیم نے حکم دیا:۔
" اے نبی ﷺ برانگیختہ کیجیئے مومنوں کو جہاد پر۔ اگر ہوں تم میں سے بیس آدمی صبر کرنے والے تو وہ غالب آئیں گے دو سو پراور اگر ہوئے تم میں سے سو آدمی تو وہ غالب آئیں گے ہزار پر۔ کیونکہ یہ کافر وہ لوگ ہیں جو کچھ نہیں سمجھتے" سورۃ الانفال:65
بعد میں اس آیہ کریمہ کے حکم کو دوسری آیہ کریمہ کے حکم سے منسوخ کر دیا گیا۔ ارشاد خداوندی ہوا کہ :۔
" اب تخفیف کر دی ہے اللہ نے تم پر اور وہ جانتا ہے کہ تم میں کمزوری ہے۔ تو اگر ہوئے تم میں سے سو آدمی صبر کرنے والےتو وہ غالب آئیں گے دو سو پراور اگر ہوئے تم میں ہزار آدمی تو وہ غالب آئیں گے دو ہزار پراللہ کےحکم سے ۔ اور اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے " سورۃ الانفال : 66
دووسری آیہ میں جو کہ ناسخ ہے الئنَ خفف اللہ عنکم کے الفاظ صراحت کر رہے ہیں کہ پہلا حکم منسوخ ہو گیا ہے
دوسری صورت میں شارع نسخ کی صراحت تو نہیں کرتا مگر ضمناََ نسخ کا پتا چل جاتا ہے۔ اس کی سورت یہ ہے کہ متاخر نص کا حکم مقدم نص کے حکم کے متضاد ہو۔ دونوں میں نہ تو تطبیق ممکن ہو اور نہ ہی ایک کو دوسری پر ترجیح دی جا سکتی ہو۔اس  صورت میں پتا چل جائے گاکہ دوسری نص پہلی نص کی ناسخ ہے۔
نسخ کا اصول شریعت محمدیہ ﷺ سے خاص نہیں :۔ مستشرقین نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ نسخ کا اصول مسلمانوں کی اختراع ہے اور پیغمبر اسلام ﷺ نے تضادات قرآن کو جواز فراہم کرنے کے لیئے یہ طریقہ اختیار کیا تھالیکن یہ مستشرقین کی روایتی علمی بددیانتی ہے وہ ایک ایسی چیز کے ذریعے اسلام کو موردالزام ٹھہرانے کی مذموم کوشش کر رہے ہیں جو ان کے ہاں بھی مروج العمل ہے۔ جس کی چند ایک مثالیں درج ذیل ہیں :۔

1۔  بائیبل کے بیان کے مطابق حضرت نوح علیہ السلام کی شریعت میں تمام سبزیوں اور تمام جانوروں کا کھانا حلال تھا۔کتاب پیدائش باب نمبر 9 آیہ نمبر 3 میں حضرت نوح علیہ السلام سے کہا جا رہا ہے کہ "سبزیوں کی طرح تمام حرکت کرنے والے جانور جو زندہ ہیں وہ تمہاری خوراک بن سکتے ہیں میں تمہیں وہ سب عطا فرماتا ہوں "
لیکن شریعت موسویہ میں اکثر جانوروں کو حرام قرار دے دیا گیا۔کتاب الاحبار کے باب نمبر 11 میں ان جانوروں کی تفصیل بیان کی گئی ہے جو حضرت موسی علیہ السلام کے پیروکاروں کے لیئے حرام ہیں ۔ حضرت نوح علیہ اسلام کی شریعت میں تمام جانور حلال تھے اور حضرت موسی علیہ اسلام کی شریعت میں اکثر کی حرمت کا اعلان کر دیا گیا یہ نسخ نہیں تو اور کیا ہے۔۔۔۔۔۔؟؟؟
2۔ شریعت موسویہ میں مرد کو کسی بھی سبب سے اپنی بیوی کو طلاق دینے کا اختیار تھا ۔ اور مطلقہ عورت کے ساتھ کوئی بھی نکاح کر سکتا تھا  جیسا کی کتاب استثناء کے باب چوبیس کی پہلی اور دوسری آیت میں وضاحت کے ساتھ بیان کر دیا گیا ہے۔ مگر شریعت عیسوی میں بدکاری کی علت کے علاوہ کسی وجہ سے بھی مرد کو طلاق دینے کی اجازت نہیں اور نہ ہی مطلقہ کے ساتھ کسی دوسرے مرد کو شادی کی اجازت ہے۔متی کی انجیل کے پانچویں باب کی آیت نمبر 31 اور 32 کے الفاظ وضاحت کر رہے ہیں کہ اب پہلا حکم منسوخ ہو گیا ہے۔
3۔ کتاب پیدائش کے باب نمبر 17 کی آیت نمبر 14میں ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی شریعت میں ختنے کا ابدی حکم تھا ۔ یہ حکم حضرت اسماعیل و اسحاق علیہ السلام کی نسلوں میں مروج رہا۔شریعت موسوی میں بھی ختنے کا حکم تھا۔لوقا کی انجیل کے دوسرے باب کی آیت نمبر 21 کے مطابق حضرت عیسی علیہ السلام کا بھی ختنہ ہوا۔ یہ حکم حضرت عیسی علیہ السلام کے رفع آسمانی تک جاری رہا۔گو حضرت عیسی علیہ السلام کی شریعت میں اس حکم کو منسوخ نہیں کیا گیا۔لیکن حضرت عیسی علیہ السلام کے بعد جن "مقدسین" نے آپ کی شریعت کو بازیچہ اطفال بنائے رکھا انہوں نے اس ابدی حکم کو منسوخ کر دیا۔مسلمانوں کے نزدیک گو کہ کسی نبی کے بعد اس کے حکم کو منسوخ قرار دے دینا ناممکن ہے مگر جو عیسائی ان "مقدسین" کی وضع کردہ شریعت پر کاربند ہیں و ہ اس کو نسخ کے علاوہ کیا نام دیں گے ؟

4۔ ذبیحہ کے احکام شریعت موسویہ میں بے شمار تھے جو شریعت عیسوی میں منسوخ ہو گئے۔

5۔ شریعت موسویہ کے بے شمار احکام شریعت عیسویہ میں منسوخ ہو گئے ۔ چنانچہ حضرت عیسی علیہ السلام کے بعد سینٹ پال اور دوسرے "مقدسین" نے تورات کے اکثر احکامات کو کالعدم قرار دے دیا۔عبرانیوں کے نام پولس کے خط کے ساتویں باب کی آیت نمبر 18 میں درج ذیل الفاظ موجود ہیں :"یقیناََ سابقہ احکام کو ان کی کمزوری اور ان کے بے اثر ہونے کے سبب سے منسوخ کیا جاتا ہے "
عبرانیوں کے نام خط کے آٹھویں باب میں بنو اسرائیل کے ساتھ خدا کے قدیم عہد کے بدلے ایک جدید عہد کا ذکر ہےاس باب کی آٰت نمبر 7 میں ہے کہ : " اگر پہلا عہد بےعیب ہوتا تو نئے عہد کی گنجائش نہ ہوتی"
اسی باب کی آیت نمبر 13 کے الفاظ یہ ہیں کہ : "نئے عہد کا لفظ استعمال کر کے اس نے پرانے عہد کو منسوخ کر دیا ہے۔ اب جس کو منسوخ قرار دے دیا گیا ہے اور جو پرانا ہو رہا ہے وہ مٹ جانے کے قریب ہے "
عبرانیوں کے نام خط کے ساتویں باب کی آیت نمبر 12 میں سینٹ پال نے ایک ایسا اصول وضع کر دیا ہے جس کے بعد عیسائیوں کے لیئے نسخ کو قبول نہ کرنے کی کوئی گنجائش نہیں بچتی۔سینٹ پال کہتا ہے کہ :۔
"جب امامت تبدیل ہو رہی ہو تو ضروری ہو جاتا ہے کہ شریعت بھی تبدیل ہو"۔
مندرجہ بالا مثالوں سے یہ حقائق روز روشن کی طرح عیاں ہو جاتے ہیں کہ"۔
دوسری شریعتوں کے بعض احکام کو منسوخ کرنا شریعت اسلامیہ ہی کا خاصہ نہیں بلکہ سابقہ شریعتوں میں بھی یہ اصول مروج رہا ہے۔
تورات کے عملی احکام خواہ وہ ابدی تھے یا غیر ابدی شریعت عیسوی میں منسوخ ہو گئے۔
تورات کے احکام کے متعلق نسخ کا لفظ عیسائی کتابوں میں بھی موجود ہے ۔
سینٹ پال نے وضاحت کی ہے کہ امامت تبدیل ہونے سے قانون تبدیل ہونا ضروری ہے۔
سینٹ پال کا دعوی ہے کہ قدیم شئے فنا کے قریب ہوتی ہے ۔
مندرجہ بالا حقائق کے ہوتے ہوئے یہودی اور عیسائی اسلام پر یہ الزام کیسے لگا سکتے ہیں کہ مسلمانوں نے قرآن حکیم کے تضادات کو رفع کرنے کے لیئے نسخ کا اصول وضع کیا ہے ۔۔۔۔؟
گزشتہ سطور میں ایک شریعت کے احکام کو دوسری شریعت کے احکام سے منسوخ کرنے کے دلائل دیئے گئے ۔ اب ہم ایک شریعت کے احکام کو اسی شریعت کے دوسرے احکام سے منسوخ کرنے کی مثالیں پیش کرتے ہیں :۔
1۔ کتاب پیدائش کے بائیسویں باب میں اس بات کی تفصیل موجود ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پہلے ابراہیم علیہ اسلام کو حکم دیا کہ اپنے بیٹے اسحاق علیہ السلام کو قربان کریں لیکن جب انہوں نے حکم کی تعمیل کا ارادہ کر لیا تو انہیں اللہ کی طرف سے یہ حکم ملا کہ وہ اپنے بیٹے کو قربان نہ کریں ۔
یہاں اگر پہلا حکم دوسرے حکم سے منسوخ نہیں تو اور کیا ہے ۔۔۔۔۔؟
2۔ صموئل اول کے دوسرے باب میں ہے کہ " اللہ تعالیٰ نے وعدہ کیا تھا کہ امامت کا منصب بڑے پادری کے خاندان میں ہمیشہ رہے گا"لیکن بعد میں اللہ نے اس فیصلہ کو بدل دیا۔ مذکورہ باب کی آیت نمبر 30 کے الفاظ یہ ہیں کہ : "خدائے اسرائیل کا فرمان یہ ہے کہ : میں نے تمہارے اور تمہارے اسلاف کے گھرانے سے یہ کہا تھا کہ تم ہمیشہ میرے آگے آگے چلا کرو گے لیکن اب خدا کا  فرمان یہ ہے کہ جہاں تک میرا تعلق ہے یہ بات ناقابل تصور ہے کیونکہ جو میری تسبیح کرتے ہیں میں ان کا احترام کرتا ہوں اور جو میری توہین کرتے ہیں ان کی میرے نزدیک کوئی حثیت نہیں"
اسی باب کی آیت نمبر 35 میں ہے ک ہ:
"میں یقیناََ اپنے لیئے ایک وفادار پادری پیدا کروں گا جو وہی کرے گا جو میرے دل اور روح کے مطابق ہو گا"
کتاب صموئیل اول کی ان آیات سے واضح ہے کہ اللہ نے پہلے بڑے پادری کے خاندان کو منصب امامت تاابد عطا فرمانے کا وعدہ کیا تھالیکن بعد میں اس فیصلے کو بدل دیا اور منصب امامت دوسروں کو تفویض کر دیا۔بائیبل کے مفسرین کہتے ہیں کہ" یہ منصب اللہ تعالیٰ نے حضرت ہارون علیہ السلام کے بڑے بیٹے "عازار" کو ہمیشہ کے لیئے عطا فرمایا تھالیکن بعد میں یہ حکم منسوخ ہو گیا" اظہار الحق جلد1 صفحہ 532
یہاں عیسائی تو خدا کے ابدی وعدے پر بھی نسخ کا اصول لاگو کر رہے ہیں جو کہ مسلمانوں کے نزدیک ناممکن العمل ہے۔وعدہ کر کے پورا نہ کیا جائے تو یہ نسخ نہیں وعدہ خلافی کہلاتا ہے اور مسلمان اللہ عزوجل کی ذات کو ان تمام عیوب سے مبرا مانتے ہیں ۔
3۔ کتاب الاحبار کے سترھویں باب میں ہے کہ بنو اسرائیل کا جو شخص کوئی جانور ذبح کرے وہ اپنی قربانی کو خدا کے حضور پیش کرنے کے لیئے خیمہ عبادت کے دروازے تک لائےجو ایسا نہ کرے وہ قابل گردن زدنی ہے ۔لیکن کتاب استثناء کے بارہویں باب میں ہے کہ جب جی چاہے اور جہاں جی چاہے جو جانور چاہو ذبح کرو اور کھاؤ۔
ان آیات کی تفسیر میں بائیبل کا ایک بہت بڑا مفسر ھورن لکھتا ہے کہ :۔  ان دونوں مقامات میں بظاہر تناقض نظر آتا ہے لیکن اگر غور سے دیکھا جائے تو پتا چلتا ہے کہ شریعت موسویہ میں بنی اسرائیل کے حالات کے مطابق کمی بیشی ہوتی رہتی تھی۔اور شریعت موسی ایسی نہ تھی کہ اس میں بوقت ضرورت تبدیلی نہ کی جا سکے۔
اس کے بعد مفسر مذکور لکھتا ہے کہ : حضرت موسی علیہ السلام نے اپنی ہجرت کے چالیسویں سال فلسطین میں داخل ہونے سے پہلے اس حکم کو منسوخ کر دیا۔
مفسر مذکور نے یہاں نسخ کو بھی تسلیم کیا ہے اور حالات کے مطابق شریعت میں کمی بیشی کو بھی ۔ لیکن مقام حیرت یہ ہے کہ اسی نسخ کو یہود و نصاریٰ اسلام پر ایک بہت بڑے اعتراض کے طور پر پیش کرتے ہیں ۔
4۔ کتاب گنتی کے چوتھے باب کی مختلف آیات میں خیمہ عبادت کے خادمین کی عمریں تیس اور پچاس سال کے درمیان مقرر کی گئی ہیں۔جبکہ اسی کتاب کے آٹھویں باب کی آیات چوبیس اور پچیس میں خدام کی عمروں کی حد پچیس سے پچاس سال متعین کی گئی ہے۔ اب ظاہر ہے کہ ان میں سے ایک حکم منسوخ ہے اور دوسرا ناسخ۔
5۔ کتاب الاحبار کے چوتھے باب میں جماعت کی غلطی کا فدیہ صرف ایک بیل کی قربانی قرار دیا گیا ہے لیکن کتاب گنتی کے پندرہویں باب میں جماعت کی غلطی کا کفارہ ایک بیل کے علاوہ غلے، مشروبات اور بکری کے ایک بچے کی قربانی کو قرار دیا گیا ہے۔گویا دوسرے حکم نے پہلے حکم کومنسوخ کر دیا۔۔۔۔۔۔۔۔!
ان دونوں اقسام کی مثالوں سے یہ بات بلکل واضح ہے کہ نسخ کا قانون ہر شریعت میں رائج رہا ہے۔اور عہد نامہ قدیم و جدید میں کچھ مثالیں ایسی بھی موجود ہیں جو نسخ سے بھی کچھ زائد ہیں۔
اللہ تعالیٰ حکیم ہے اس کا کوئی کام حکمت سے خالی نہیں ہوتا۔زمانہ کے بدلنے کے ساتھ ساتھ انسانی ضرورتیں اور تقاضے بھی بدلتے رہتے ہیں۔کسی حالت میں کوئی ایک حکم مفید ہوتا ہے تو دوسری حالت میں وہی حکم مضر بھی ثابت ہو سکتا ہے ۔ایک حکم ایک زمانے میں قابل عمل ہوتا ہے اور دوسرے زمانے میں نہیں ۔کسی زمانے کے لوگ کسی حکم کے تقاضوں کو سمجھنے اور اسے بجا لانے کے قابل ہوتے ہیں جبکہ دوسرے زمانے کے لوگ نہ تو اس کے تقاضوں کو سمجھ پاتے ہیں اور نہ ہی اس حکم کو پورا کرنے کے اہل ہوتے ہیں۔لہذا دانائی کا تقاضا یہی تھا کہ ہر زمانے  کے حالات کے مطابق احکامات نازل کیئے جاتے۔
الغرض ابو جہل سے لیکر کر سلمان رشدی لعین تک، مکہ کے کفار ومشرکین سے لے کر یورپ کے مستشرقین تک سب دشمن اس کو نقصان پہنچانے کے لیئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں ۔ لیکن اس دین متین کا جھنڈا نت نئی بلندیوں پر لہراتا نظر آتا ہے۔
یہ اللہ عزوجل کی قدرت اور دین اسلام کی صداقت کی منہ بولتی نشانی ہے۔کاش کہ دشمنان اسلام اس سے عبرت حاصل کریں ۔

مستشرقین کا قرآن حکیم پر یہ ایک بڑا مشہور اعتراض ہے کہ قرآن حکیم میں ایسی آیات موجود ہیں جو باہم ایک دوسرے کے متضاد ہیں۔لیکن مسلمان یہ کہہ کر جان چھڑا لیتے ہیں کہ یہ باہم متضاد نہیں بلکہ ان کا آپس میں تعلق ناسخ منسوخ کا ہے۔مستشرقین کہتے ہیں کہ مسلمان اس طرح قرآن حکیم پر ہونے والے ایک بڑے اعتراض سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں ۔بلکہ وہ یہاں تک بھی اپنے اس مفروضے کو طول دینے سے باز نہیں آتے کہ تضادات سے بچنے کا یہ طریقہ خود حضور اکرم ﷺ نے وضع کیا تھا۔یہی وجہ ہے کہ قرآن میں آیات کو منسوخ کرنے یا ایک کو دوسری سے بدلنے کا ذکر ہے۔اپنے اس دعویٰ کے ثبوت کے طور پر وہ قرآن حکیم کی اس آیہ کریمہ کو پیش کرتے ہیں :۔
"جو آیت ہم منسوخ کر دیتے ہیں یا فراموش کرا دیتے ہیں تو لاتے ہیں (دوسری) بہتر اس  سے یا(کم ازکم) اس جیسی"۔ سورۃ البقرہ آیہ 106
جارج سیل اپنے ترجمہ قرآن کے مقدمے میں لکھتا ہے کہ: "قرآن میں کچھ آیات ایسی ہیں جو باہم متضاد ہیں۔مسلمان علماء نسخ کے اصول کے ذریعے ان پر وارد ہونے والے اعتراضات کا تدارک کرتے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ اللہ عزوجل نے قرآن حکیم میں کچھ احکام صادر فرمائے جن کو بعد میں معقول وجوہات کی بناء پر منسوخ کر دیا گیا"
" صفحہ 52
The Koran"
مستشرقین یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ نسخ کا لفظ نظر ثانی کے مترادف ہے۔اور حضرت محمد ﷺ قران میں نظرثانی و ترمیم کیا کرتے تھے۔اور قرآن کی ترتیب کو نئی شکل دیتے تھے۔مستشرقین کے ان تمام دعوؤں کی دلیل یہ ہے کہ قرآن اس بات کو بیان کرتا ہے کہ اس کی کچھ آیات دوسری آیات کے ذریعے منسوخ ہو گئی ہیں۔اگر یہی حقیقت ہو تو پھر قرآن کوکلام الہٰی ماننے کی کوئی گنجائش ہی نہیں رہتی۔ اگر اس نظریے کو قبول کر لیا جائے کہ حضور اکرم ﷺ قرآن میں ازخود ترمیم کر لیا کرتے تھے تو پھر قرآن کے منزل من اللہ ہونے کے عقیدے کی ضرورت ہی کیا ہے؟جو قرآن میں ترمیم کر سکتا ہے وہ قرآن کو تصنیف بھی کر سکتا ہے۔مستشرقین الفاظ کے ہیر پھیر سے اسی نتیجہ تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔
مستشرقین کا یہ دعوی بلکل غلط اور باطل ہے۔ قرآن حکیم نہ تو حضور اکرم ﷺ کو قرآن کا مصنف کہتا ہے اور نہ ہی اس کی ترتیب اور نسخ کو حضور اکرم ﷺ کی طرف منسوب کرتا ہے۔قرآن حکیم اللہ عزوجل ہی کو اس کتاب کا نازل فرمانے والاقرار دیتا ہے اور اس میں نسخ کو بھی اسی ذات سے منسوب کرتا ہے۔نسخ کو حضور اکرم ﷺ کی طرف سے نظر ثانی قرار دینا نہ قرآن کا بیان ہے اور نہ ہی کبھی مسلمانوں نے اسے تسلیم کیا ہے۔مستشرقین اپنے مزعومات کو قرآن حکیم اور مسلمانوں کے سر تھوپ کر اپنی روایتی علمی بددیانتی کا ثبوت دے رہے ہیں۔مسلمان ساڑھے چودہ سو سال سے قرآن حکیم اور احادیث کی تشریح اور ان سے استنباط احکام کے لیئے نسخ کے اصول کو استعمال کرتے آئے ہیں۔

یہ اسلامیات کی ایک مستقل اصطلاح ہےجس کی اپنی مخصوص تعریف ہے اور اس کی کچھ شرائط ہیں۔نسخ کوئی قانون چھری نہیں کہ جس عقیدے کو چاہے باطل کر دےجس تاریخی بیان کو چاہے بدل دےجس قانون کو چاہے کالعدم قرار دے دےجس اخلاقی ضابطے کو چاہے ملیامیٹ کر دے۔ نہ اس کے لیئے زمانے کی پابندی ہو اور نہ مسئلے کی نوعیت اس قانون پر اثر انداز ہوتی ہو۔ بلکہ جس بات کو جب خلاف مصلحت سمجھا کالعدم قرار دے دیا۔ نسخ کے متعلق اس قسم کا کوئی بھی تصور درست نہیں۔یہ ایک شرعی اصطلاح ہے جو اپنے دائرے اور پابندیوں کے اندر نافذ العمل ہوتی ہے۔جدیدیت پسندوں نے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ قرآن میں جہاں نسخ کا ذکر ہے اس سے مراد یہ ہے کہ قرآن حکیم سابقہ شریعتوں کو منسوخ کرتا ہے،قرآن کی آیات کے ذریعے دوسری آیات منسوخ کرنے کا کوئی ذکر نہیں ۔لیکن ان کے موقف کی تائید نہ تو  متعلقہ قرآنی آیات کے الفاظ کرتے ہیں اور نہ ہی ملت اسلامیہ کی علمی تاریخ ان کی تصدیق کرتی ہے۔نسخ کا قانون مسلمانوں کے ہاں مسلم ہے اس کا انکار کر کے ہم قرآن حکیم کی کوئی خدمت نہیں کر سکتے۔اور نہ ہی ہمیں اس کا انکار کرنے کی ضرورت ہے۔کیونکہ ضروری نہیں کہ جس بات میں مستشرقین کو نقص نظر آتا ہو وہ لازماََ ناقص ہی ہو۔ان کو تو اسلام کی کسی بات میں کوئی بھی خوبی نظر نہیں آتی۔ان کی قلبی کیفیت کے بارے میں اللہ عزوجل ہمیں یوں آگاہ فرماتا ہے :۔
"اور ہرگز خوش نہ ہوں گے آپ سے یہودی نہ عیسائی،یہاں تک کہ آپ پیروی کرنے لگیں ان کے دین کی" سورۃ البقرہ آیہ 120۔

ذیل میں ہم نسخ کا وہ مفہوم پیش کرتے ہیں جو حضور نبی کریم ﷺ نے اپنی امت کو سمجھایا اور جو ساڑھے چودہ سو سال سے امت مسلمہ میں مروج ہے۔

نسخ کا مفہوم:۔ نسخ کا لغوی معنیٰ زائل کرنا یا نقل کرنا ہے۔ جیسے کہ کہتے ہیں کہ " نَسَختِ الرَیخُ آثَارَ القَدَمِ اَی اَزَلَتہُ۔ہوا نے قدموں کے آثار مٹا دیئے یعنی ان کا ازالہ کر دیا"

اسی طرح جب ایک کتاب کے مندرجات کو دوسری کتاب میں نقل کیا جائے تو کہتے ہیں" نَسَختُ الکِتَابَ" اور اصطلاح میں نسخ کی مختصر تعریف یہ ہے کہ:

  • " شارع کا ایک حکم شرعی کو کسی دوسری دلیل شرعی سے ساقط کر دینا"
    نسخ کا تعلق ایک طرف شارع سے ہے اور دوسری طرف امت کت مکلفین سے۔مکلفین کی نسبت سے تو نسخ کا یہ یہی مفہوم بنے گا کہ پہلے جو حکم موجود تھا اب وہ ساقط ہو گیا ہے اور اب اس کی جگہ ایک نیا حکم نافذ کر دیا گیا ہے ۔لیکن شارع کی نسبت اس میں رفع کا معنی موجود ہی نہیں  بلکہ اس نسبت سے اس کا مفہوم یہ ہے کہ شارع نے سابق حکم کے نفاذ کی مدت کے ختم ہونے کا اعلان کر دیا ہے۔
    اللہ تعالیٰ کی نگاہ قدرت سے نہ حال پوشیدہ ہے نہ مستقبل۔ یہ بات اس کے لامحدود علم میں ہے کہ کون سے حکم کی افادیت کس وقت تک رہے گیاور کب اس کی جگہ دوسرا حکم مفید رہے گا۔ نسخ کے ذریعے ایک حکم کے خاتنے اور دوسرے حکم کے نفاذ کا جو اعلان ہوتا ہے اس کا فیصلہ تو پہلے سے ہی ہو چکا ہوتا ہے۔لیکن چونکہ بندوں کو اس کا علم نہیں ہوتا اس لیئے جب ناسخ آیت کا نزول ہوتا ہے تو وہ سمجھتے ہیں کہ پہلے حکم کو ساقط کر کے اس کی جگہ نیا حکم نافذ کر دیا گیا ہے۔ حالانکہ شارع کے علم کے مطابق یہ تبدیلی پہلے حکم کی مدت کے خاتمے اور دوسرے حکم کی مدت کے آغاز کا اعلان ہوتی ہے۔
    یہاں بعض لوگ یہ وسوسہ پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ اگر مان لیا جائے کہ قرآن کی بعض آیات دوسری آیات کی ناسخ ہیں تو اس سے لازم آئے گا کہ پہلا حکم نازل کرتے وقت معاذاللہ ، اللہ عزوجل کو معلوم نہ تھا کہ یہ حکم مفید ہےاور جب تجربے کے ذریعے اس کے غیر مفید ہونے کا علم ہوا تب دوسرا حکم نافذ کر دیا گیا۔
    یہ محض وسوسہ ہے اس کا حقیقت سے کچھ تعلق نہیں ۔کیونکہ ضروری نہیں کہ ہر مفید حکم ہر زمانے کے لیئے مفید ہو۔بلکہ حالات کے بدلنے سے حکم کی افادیت بدلتی رہتی ہے۔طبیب مرض کا علاج مرحلہ وار کرتا ہےپہلے مرحلے پر وہ جو دوا دیتا ہے وہ اسی مرحلے کے لیئے مفید ہوتی ہےلیکن اسی علاج کو مستقل کر دینا نہ طبابت ہے اور نہ عقلمندی۔طبیب ہر مرحلے کے بعد علاج کو تبدیل کرے گا اور یہی عقلمندی ہے۔اب اگر کوئی فلسفی مزاج مریض طبیب کی طرف سے نسخے کی تبدیلی پر یہ اعتراض کر دے کہ ڈاکٹر صاحب! پہلے آپ نے یہ علاج کیوں تجویز نہ کیا تھا کیا اس وقت آپ کو اس بات کا علم نہ تھا جو اب آپ کے نوٹس میں آئی ہے؟ تو ایسا مریض کسی طبیب کے علاج سے صحتیاب کیسے ہو گا؟یہ مثال محض وضاحت کے لیئے ہے اس مثال سے یہ حقیقت منکشف ہو چکی کہ نسخ کا مطلب یہ نہیں کہ شارع نے پہلے غلط حکم دے دیااور جب اس کی غلطی کا پتا چلا تو اس کو دوسرے حکم سے بدل دیا۔بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک حکم جب تک مفید تھا نافذالعمل رہا جب اس کی افادیت ختم ہو گئی تو اس کو دوسرے حکم سے بدل دیا
    نسخ کا اصول نہ نظری معاملات اور عقائد میں لاگو ہوتا ہے اور نہ خبر میں ۔نسخ کا یہ مطلب نہیں کہ اسلام پہلے ایک عقیدے کا پرچار کرے اور پھر اس کی جگہ دوسر اعقیدہ پیش کر کے کہے کہ پہلا عقیدہ منسوخ ہو گیا ہے۔اور نہ ہی نسخ کا یہ مطلب ہے کہ پہلے قرآن ایک حقیقت یا خبر کو بیان کرے اور اور پھر اس کو منسوخ قرار دے دے۔بلکہ نسخ کا قاعدہ صرف عملی احکام میں لاگو ہوتا ہے مگر چند شرائط کے ساتھ۔۔۔!
    نسخ کی اس وضاحت سے مندرجہ ذیل احکام نسخ کے دائرہ کار سے خارج ہو جائیں گے:۔
    شریعت کے احکام کلیہ اور اصول عامہ جیسے امر بالمعروف و نہی عن المنکر وغیرہ

ایسے احکام جن کے مشروع نہ ہونے کا احتمال ہی نہیں۔ جیسے وہ اصلی احکام جن کا تعلق عقائد سے ہے مثلاََ اللہ پر ایمان، فرشتوں ، کتابوں، رسولوں اور  یوم آخرت پر ایمان، ایسے احکام جو نیکی اور فضیلت کی بنیاد ہیں جیسے عدل، صداقت،امانت،والدین سے حسن سلوک، ایفائے عہد اور اسی قسم کے دیگر فضائل۔
ایسے احکام جن کی مشروعیت کا سرے سے احتمال ہی نہیں جیسے کفر اور دیگر اصلی رزائل مثلاََ ظلم، جھوٹ، خیانت، والدین کی نافرمانی، دھوکہ دہی وغیرہ کیونکہ یہ ایسی چیزیں جن کی قباحت بدل نہیں سکتی
ایسے احکام جن کے ساتھ کوئی ایسی چیز ملحق ہو جو نسخ کے منافی ہومثلاََ اس حکم کے ساتھ یہ وضاحت بھی ہو کہ یہ حکم تاابد ہے ۔ اس کی مثال حضور اکرم ﷺ کی ازدواج مطہرات سے نکاح کی حرمت کا مسئلہ ہے۔

جیسے کہ قرآن حکیم نے واضح الفاظ میں فرما دیا ہے کہ :۔ وَمَا کَانَ لَکُم اَن تُوذُوا  رَسُولَ اللَّہِ وَلا اَن تَنکِحُوا اَزوَاجَہُ مِن بَعدِہِ اَبَدا------الاحزاب:53
اور تمہیں زیب نہیں دیتا کہ تم رسول اللہ ﷺ کو اذیت پہنچاؤ۔ اور تمہیں اس بات کی بھی اجازت نہیں کہ ان کی ازدواج سے ان کے بعد کبھی بھی نکاح کرو۔
اس آیہ کریمہ میں لفظ ابدا کے ساتھ اس بات کی صراحت کر دی گئی ہے کہ ازدواج رسول اللہ ﷺ سے نکاح ابدی طور پر حرام ہے ۔ اس حکم کو ابدی قرار دینا اس بات کی دلیل ہے کہ یہ حکم ابدی طور پر مفید ہے۔ کیونکہ اگر  اس حکم میں نسخ کا امکان ہو تو یہ اس بات کے منافی ہو گا کہ یہ حکم ابدی طور پر مفید ہو ۔دوسرے قسم کے احکام وہ ہیں کہ جن کے ابدی ہونے کی صریح نص تو موجود نہیں مگر قرائن اس کی شہادت دیتے ہیں ۔ جیسے کہ ایسے احکام جن کا نسخ حضور اکرم ﷺ کی حیات ظاہری میں ثابت نہیں ۔ ایسے احکام بھی ابدی ہیں اور نسخ کو قبول نہیں کرتے کیونکہ نسخ کے لیئے قول رسول اللہ ﷺ ضروری ہےاور حضور اکرم ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں کیونکہ آپ ﷺ خاتم الانبیاء و المرسلین ہیں ۔ اس طرح وہ احکام بھی نسخ کو قبول نہیں کرتے جن کا وقت متعین کر دیا گیا ہو۔کیونکہ ایسا حکم وقت گزرنے کے ساتھ خودبخود ساقط ہو جاتا ہے اور اس کو ختم کرنے کے لیئے کسی دوسرے حکم کی ضرورت نہیں پڑتی۔

نسخ کی شرائط:۔
نسخ کے مؤثر ہونے کی چند شرائط ہیں  جو درج ذیل ہیں:۔
منسوخ ہونے والا حکم شریعت کا ایسا جزئی اور عملی حکم ہو جو قرآن و سنت سے ثابت ہو اور اس حکم کے ساتھ نہ تو ابدیت کی شرط ہواور نہ ہی اس کی مدت متعین ہواور ساتھ ہی منسوخ کے لیئے ضروری ہے کہ وہ ناسخ سے مقدم ہو۔
ناسخ قرآن کی آیت یا حضور اکرم ﷺ کی قولی یا فعلی سنت ہو جو منسوخ سے متاخر ہو
نسخ کی صورتیں :۔
نسخ کی کئی صورتیں ہیں جن کی تفصیل درج ذیل ہے:۔
کبھی ایک حکم منسوخ ہوتا ہے اور اس کی جگہ دوسرا حکم نازل نہیں ہوتا جیسے کہ پہلے حضور اکرم ﷺ کے ساتھ گفتگو کرنے سے پہلے صدقہ کرنا لازم تھابعد میں یہ حکم منسوخ ہو گیا اور اس کی جگہ کوئی دوسرا حکم نازل نہیں ہوا۔
کبھی ایک حکم کو منسوخ کر کے اس کی جگہ دوسرا ایسا حکم نازل کیا جاتا ہے جو جو تاکید اور شدت کے حساب سے منسوخ حکم کے برابر ہوتا ہے  جیسے بیت المقدس کے بجائے خانہ کعبہ کو قبلہ بنانے کا حکم
کبھی ایک سخت حکم کو منسوخ کر کے اس کی جگہ ایک آسان حکم نافذ کر دیا جاتا ہے جیسے کہ پہلے یہ حکم تھا کہ ایک مسلمان دس مشرکوں کے مقابل صبر کا مظاہرہ کرے بعد میں یہ حکم منسوخ ہو گیااور اس کے بدلے ایک آسان حکم نازل ہو گیا کہ ایک مسلمان صرف دو مشرکوں کے مقابل صبر کا مظاہرہ کرے۔
کبھی آسان حکم کو منسوخ کر کے اس کی جگہ سخت حکم نافذ کر دیا جاتا ہے جیسے کہ پہلے حکم تھا کہ کفار کی اذیتوں پر صبر کیا جائےبعد میں اس حکم کو منسوخ کر کے ان سے جہاد و قتال کا حکم نازل کیا گیا۔ اسی طرح پہلے صرف یوم عاشورہ کا روزہ فرض تھا بعد میں اس فرضیت کو منسوخ کر کے پورے رمضان المبارک کے روزے فرض قرار دے دیئے گئے۔
کبھی قاعدہ نسخ کے ذریعے ممانعت کے حکم کو اباحت میں تبدیل کر دیا جاتا ہے جیسے کہ پہلے رمضان المبارک کے مہینے میں بعد از عشاء اور سونے سے قبل مباشرت کی ممانعت تھی  پھر اس حکم کو اس آیہ کریمہ کے ذریعے منسوخ کر دیا گیا:۔ "حلال کر دیا گیا تمہارے لیئے رمضان کی راتوں میں اپنی عورتوں کے پاس جانا" سورۃ البقرہ آیہ 187
کبھی نسخ صراحتاََ ہوتا ہے اور کبھی ضمناََ۔ پہلی صورت میں ناسخ حکم کی صراحت کر دی جاتی ہےکہ یہ حکم پہلے حکم کو منسوخ کر رہا ہےجیسے کہ پہلے قرآن حکیم نے حکم دیا:۔
" اے نبی ﷺ برانگیختہ کیجیئے مومنوں کو جہاد پر۔ اگر ہوں تم میں سے بیس آدمی صبر کرنے والے تو وہ غالب آئیں گے دو سو پراور اگر ہوئے تم میں سے سو آدمی تو وہ غالب آئیں گے ہزار پر۔ کیونکہ یہ کافر وہ لوگ ہیں جو کچھ نہیں سمجھتے" سورۃ الانفال:65
بعد میں اس آیہ کریمہ کے حکم کو دوسری آیہ کریمہ کے حکم سے منسوخ کر دیا گیا۔ ارشاد خداوندی ہوا کہ :۔
" اب تخفیف کر دی ہے اللہ نے تم پر اور وہ جانتا ہے کہ تم میں کمزوری ہے۔ تو اگر ہوئے تم میں سے سو آدمی صبر کرنے والےتو وہ غالب آئیں گے دو سو پراور اگر ہوئے تم میں ہزار آدمی تو وہ غالب آئیں گے دو ہزار پراللہ کےحکم سے ۔ اور اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے " سورۃ الانفال : 66
دووسری آیہ میں جو کہ ناسخ ہے الئنَ خفف اللہ عنکم کے الفاظ صراحت کر رہے ہیں کہ پہلا حکم منسوخ ہو گیا ہے
دوسری صورت میں شارع نسخ کی صراحت تو نہیں کرتا مگر ضمناََ نسخ کا پتا چل جاتا ہے۔ اس کی سورت یہ ہے کہ متاخر نص کا حکم مقدم نص کے حکم کے متضاد ہو۔ دونوں میں نہ تو تطبیق ممکن ہو اور نہ ہی ایک کو دوسری پر ترجیح دی جا سکتی ہو۔اس  صورت میں پتا چل جائے گاکہ دوسری نص پہلی نص کی ناسخ ہے۔
نسخ کا اصول شریعت محمدیہ ﷺ سے خاص نہیں :۔ مستشرقین نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ نسخ کا اصول مسلمانوں کی اختراع ہے اور پیغمبر اسلام ﷺ نے تضادات قرآن کو جواز فراہم کرنے کے لیئے یہ طریقہ اختیار کیا تھالیکن یہ مستشرقین کی روایتی علمی بددیانتی ہے وہ ایک ایسی چیز کے ذریعے اسلام کو موردالزام ٹھہرانے کی مذموم کوشش کر رہے ہیں جو ان کے ہاں بھی مروج العمل ہے۔ جس کی چند ایک مثالیں درج ذیل ہیں :۔

1۔  بائیبل کے بیان کے مطابق حضرت نوح علیہ السلام کی شریعت میں تمام سبزیوں اور تمام جانوروں کا کھانا حلال تھا۔کتاب پیدائش باب نمبر 9 آیہ نمبر 3 میں حضرت نوح علیہ السلام سے کہا جا رہا ہے کہ "سبزیوں کی طرح تمام حرکت کرنے والے جانور جو زندہ ہیں وہ تمہاری خوراک بن سکتے ہیں میں تمہیں وہ سب عطا فرماتا ہوں "
لیکن شریعت موسویہ میں اکثر جانوروں کو حرام قرار دے دیا گیا۔کتاب الاحبار کے باب نمبر 11 میں ان جانوروں کی تفصیل بیان کی گئی ہے جو حضرت موسی علیہ السلام کے پیروکاروں کے لیئے حرام ہیں ۔ حضرت نوح علیہ اسلام کی شریعت میں تمام جانور حلال تھے اور حضرت موسی علیہ اسلام کی شریعت میں اکثر کی حرمت کا اعلان کر دیا گیا یہ نسخ نہیں تو اور کیا ہے۔۔۔۔۔۔؟؟؟
2۔ شریعت موسویہ میں مرد کو کسی بھی سبب سے اپنی بیوی کو طلاق دینے کا اختیار تھا ۔ اور مطلقہ عورت کے ساتھ کوئی بھی نکاح کر سکتا تھا  جیسا کی کتاب استثناء کے باب چوبیس کی پہلی اور دوسری آیت میں وضاحت کے ساتھ بیان کر دیا گیا ہے۔ مگر شریعت عیسوی میں بدکاری کی علت کے علاوہ کسی وجہ سے بھی مرد کو طلاق دینے کی اجازت نہیں اور نہ ہی مطلقہ کے ساتھ کسی دوسرے مرد کو شادی کی اجازت ہے۔متی کی انجیل کے پانچویں باب کی آیت نمبر 31 اور 32 کے الفاظ وضاحت کر رہے ہیں کہ اب پہلا حکم منسوخ ہو گیا ہے۔
3۔ کتاب پیدائش کے باب نمبر 17 کی آیت نمبر 14میں ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی شریعت میں ختنے کا ابدی حکم تھا ۔ یہ حکم حضرت اسماعیل و اسحاق علیہ السلام کی نسلوں میں مروج رہا۔شریعت موسوی میں بھی ختنے کا حکم تھا۔لوقا کی انجیل کے دوسرے باب کی آیت نمبر 21 کے مطابق حضرت عیسی علیہ السلام کا بھی ختنہ ہوا۔ یہ حکم حضرت عیسی علیہ السلام کے رفع آسمانی تک جاری رہا۔گو حضرت عیسی علیہ السلام کی شریعت میں اس حکم کو منسوخ نہیں کیا گیا۔لیکن حضرت عیسی علیہ السلام کے بعد جن "مقدسین" نے آپ کی شریعت کو بازیچہ اطفال بنائے رکھا انہوں نے اس ابدی حکم کو منسوخ کر دیا۔مسلمانوں کے نزدیک گو کہ کسی نبی کے بعد اس کے حکم کو منسوخ قرار دے دینا ناممکن ہے مگر جو عیسائی ان "مقدسین" کی وضع کردہ شریعت پر کاربند ہیں و ہ اس کو نسخ کے علاوہ کیا نام دیں گے ؟

4۔ ذبیحہ کے احکام شریعت موسویہ میں بے شمار تھے جو شریعت عیسوی میں منسوخ ہو گئے۔

5۔ شریعت موسویہ کے بے شمار احکام شریعت عیسویہ میں منسوخ ہو گئے ۔ چنانچہ حضرت عیسی علیہ السلام کے بعد سینٹ پال اور دوسرے "مقدسین" نے تورات کے اکثر احکامات کو کالعدم قرار دے دیا۔عبرانیوں کے نام پولس کے خط کے ساتویں باب کی آیت نمبر 18 میں درج ذیل الفاظ موجود ہیں :"یقیناََ سابقہ احکام کو ان کی کمزوری اور ان کے بے اثر ہونے کے سبب سے منسوخ کیا جاتا ہے "
عبرانیوں کے نام خط کے آٹھویں باب میں بنو اسرائیل کے ساتھ خدا کے قدیم عہد کے بدلے ایک جدید عہد کا ذکر ہےاس باب کی آٰت نمبر 7 میں ہے کہ : " اگر پہلا عہد بےعیب ہوتا تو نئے عہد کی گنجائش نہ ہوتی"
اسی باب کی آیت نمبر 13 کے الفاظ یہ ہیں کہ : "نئے عہد کا لفظ استعمال کر کے اس نے پرانے عہد کو منسوخ کر دیا ہے۔ اب جس کو منسوخ قرار دے دیا گیا ہے اور جو پرانا ہو رہا ہے وہ مٹ جانے کے قریب ہے "
عبرانیوں کے نام خط کے ساتویں باب کی آیت نمبر 12 میں سینٹ پال نے ایک ایسا اصول وضع کر دیا ہے جس کے بعد عیسائیوں کے لیئے نسخ کو قبول نہ کرنے کی کوئی گنجائش نہیں بچتی۔سینٹ پال کہتا ہے کہ :۔
"جب امامت تبدیل ہو رہی ہو تو ضروری ہو جاتا ہے کہ شریعت بھی تبدیل ہو"۔
مندرجہ بالا مثالوں سے یہ حقائق روز روشن کی طرح عیاں ہو جاتے ہیں کہ"۔
دوسری شریعتوں کے بعض احکام کو منسوخ کرنا شریعت اسلامیہ ہی کا خاصہ نہیں بلکہ سابقہ شریعتوں میں بھی یہ اصول مروج رہا ہے۔
تورات کے عملی احکام خواہ وہ ابدی تھے یا غیر ابدی شریعت عیسوی میں منسوخ ہو گئے۔
تورات کے احکام کے متعلق نسخ کا لفظ عیسائی کتابوں میں بھی موجود ہے ۔
سینٹ پال نے وضاحت کی ہے کہ امامت تبدیل ہونے سے قانون تبدیل ہونا ضروری ہے۔
سینٹ پال کا دعوی ہے کہ قدیم شئے فنا کے قریب ہوتی ہے ۔
مندرجہ بالا حقائق کے ہوتے ہوئے یہودی اور عیسائی اسلام پر یہ الزام کیسے لگا سکتے ہیں کہ مسلمانوں نے قرآن حکیم کے تضادات کو رفع کرنے کے لیئے نسخ کا اصول وضع کیا ہے ۔۔۔۔؟
گزشتہ سطور میں ایک شریعت کے احکام کو دوسری شریعت کے احکام سے منسوخ کرنے کے دلائل دیئے گئے ۔ اب ہم ایک شریعت کے احکام کو اسی شریعت کے دوسرے احکام سے منسوخ کرنے کی مثالیں پیش کرتے ہیں :۔
1۔ کتاب پیدائش کے بائیسویں باب میں اس بات کی تفصیل موجود ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پہلے ابراہیم علیہ اسلام کو حکم دیا کہ اپنے بیٹے اسحاق علیہ السلام کو قربان کریں لیکن جب انہوں نے حکم کی تعمیل کا ارادہ کر لیا تو انہیں اللہ کی طرف سے یہ حکم ملا کہ وہ اپنے بیٹے کو قربان نہ کریں ۔
یہاں اگر پہلا حکم دوسرے حکم سے منسوخ نہیں تو اور کیا ہے ۔۔۔۔۔؟
2۔ صموئل اول کے دوسرے باب میں ہے کہ " اللہ تعالیٰ نے وعدہ کیا تھا کہ امامت کا منصب بڑے پادری کے خاندان میں ہمیشہ رہے گا"لیکن بعد میں اللہ نے اس فیصلہ کو بدل دیا۔ مذکورہ باب کی آیت نمبر 30 کے الفاظ یہ ہیں کہ : "خدائے اسرائیل کا فرمان یہ ہے کہ : میں نے تمہارے اور تمہارے اسلاف کے گھرانے سے یہ کہا تھا کہ تم ہمیشہ میرے آگے آگے چلا کرو گے لیکن اب خدا کا  فرمان یہ ہے کہ جہاں تک میرا تعلق ہے یہ بات ناقابل تصور ہے کیونکہ جو میری تسبیح کرتے ہیں میں ان کا احترام کرتا ہوں اور جو میری توہین کرتے ہیں ان کی میرے نزدیک کوئی حثیت نہیں"
اسی باب کی آیت نمبر 35 میں ہے ک ہ:
"میں یقیناََ اپنے لیئے ایک وفادار پادری پیدا کروں گا جو وہی کرے گا جو میرے دل اور روح کے مطابق ہو گا"
کتاب صموئیل اول کی ان آیات سے واضح ہے کہ اللہ نے پہلے بڑے پادری کے خاندان کو منصب امامت تاابد عطا فرمانے کا وعدہ کیا تھالیکن بعد میں اس فیصلے کو بدل دیا اور منصب امامت دوسروں کو تفویض کر دیا۔بائیبل کے مفسرین کہتے ہیں کہ" یہ منصب اللہ تعالیٰ نے حضرت ہارون علیہ السلام کے بڑے بیٹے "عازار" کو ہمیشہ کے لیئے عطا فرمایا تھالیکن بعد میں یہ حکم منسوخ ہو گیا" اظہار الحق جلد1 صفحہ 532
یہاں عیسائی تو خدا کے ابدی وعدے پر بھی نسخ کا اصول لاگو کر رہے ہیں جو کہ مسلمانوں کے نزدیک ناممکن العمل ہے۔وعدہ کر کے پورا نہ کیا جائے تو یہ نسخ نہیں وعدہ خلافی کہلاتا ہے اور مسلمان اللہ عزوجل کی ذات کو ان تمام عیوب سے مبرا مانتے ہیں ۔
3۔ کتاب الاحبار کے سترھویں باب میں ہے کہ بنو اسرائیل کا جو شخص کوئی جانور ذبح کرے وہ اپنی قربانی کو خدا کے حضور پیش کرنے کے لیئے خیمہ عبادت کے دروازے تک لائےجو ایسا نہ کرے وہ قابل گردن زدنی ہے ۔لیکن کتاب استثناء کے بارہویں باب میں ہے کہ جب جی چاہے اور جہاں جی چاہے جو جانور چاہو ذبح کرو اور کھاؤ۔
ان آیات کی تفسیر میں بائیبل کا ایک بہت بڑا مفسر ھورن لکھتا ہے کہ :۔  ان دونوں مقامات میں بظاہر تناقض نظر آتا ہے لیکن اگر غور سے دیکھا جائے تو پتا چلتا ہے کہ شریعت موسویہ میں بنی اسرائیل کے حالات کے مطابق کمی بیشی ہوتی رہتی تھی۔اور شریعت موسی ایسی نہ تھی کہ اس میں بوقت ضرورت تبدیلی نہ کی جا سکے۔
اس کے بعد مفسر مذکور لکھتا ہے کہ : حضرت موسی علیہ السلام نے اپنی ہجرت کے چالیسویں سال فلسطین میں داخل ہونے سے پہلے اس حکم کو منسوخ کر دیا۔
مفسر مذکور نے یہاں نسخ کو بھی تسلیم کیا ہے اور حالات کے مطابق شریعت میں کمی بیشی کو بھی ۔ لیکن مقام حیرت یہ ہے کہ اسی نسخ کو یہود و نصاریٰ اسلام پر ایک بہت بڑے اعتراض کے طور پر پیش کرتے ہیں ۔
4۔ کتاب گنتی کے چوتھے باب کی مختلف آیات میں خیمہ عبادت کے خادمین کی عمریں تیس اور پچاس سال کے درمیان مقرر کی گئی ہیں۔جبکہ اسی کتاب کے آٹھویں باب کی آیات چوبیس اور پچیس میں خدام کی عمروں کی حد پچیس سے پچاس سال متعین کی گئی ہے۔ اب ظاہر ہے کہ ان میں سے ایک حکم منسوخ ہے اور دوسرا ناسخ۔
5۔ کتاب الاحبار کے چوتھے باب میں جماعت کی غلطی کا فدیہ صرف ایک بیل کی قربانی قرار دیا گیا ہے لیکن کتاب گنتی کے پندرہویں باب میں جماعت کی غلطی کا کفارہ ایک بیل کے علاوہ غلے، مشروبات اور بکری کے ایک بچے کی قربانی کو قرار دیا گیا ہے۔گویا دوسرے حکم نے پہلے حکم کومنسوخ کر دیا۔۔۔۔۔۔۔۔!
ان دونوں اقسام کی مثالوں سے یہ بات بلکل واضح ہے کہ نسخ کا قانون ہر شریعت میں رائج رہا ہے۔اور عہد نامہ قدیم و جدید میں کچھ مثالیں ایسی بھی موجود ہیں جو نسخ سے بھی کچھ زائد ہیں۔
اللہ تعالیٰ حکیم ہے اس کا کوئی کام حکمت سے خالی نہیں ہوتا۔زمانہ کے بدلنے کے ساتھ ساتھ انسانی ضرورتیں اور تقاضے بھی بدلتے رہتے ہیں۔کسی حالت میں کوئی ایک حکم مفید ہوتا ہے تو دوسری حالت میں وہی حکم مضر بھی ثابت ہو سکتا ہے ۔ایک حکم ایک زمانے میں قابل عمل ہوتا ہے اور دوسرے زمانے میں نہیں ۔کسی زمانے کے لوگ کسی حکم کے تقاضوں کو سمجھنے اور اسے بجا لانے کے قابل ہوتے ہیں جبکہ دوسرے زمانے کے لوگ نہ تو اس کے تقاضوں کو سمجھ پاتے ہیں اور نہ ہی اس حکم کو پورا کرنے کے اہل ہوتے ہیں۔لہذا دانائی کا تقاضا یہی تھا کہ ہر زمانے  کے حالات کے مطابق احکامات نازل کیئے جاتے۔
الغرض ابو جہل سے لیکر کر سلمان رشدی لعین تک، مکہ کے کفار ومشرکین سے لے کر یورپ کے مستشرقین تک سب دشمن اس کو نقصان پہنچانے کے لیئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں ۔ لیکن اس دین متین کا جھنڈا نت نئی بلندیوں پر لہراتا نظر آتا ہے۔
یہ اللہ عزوجل کی قدرت اور دین اسلام کی صداقت کی منہ بولتی نشانی ہے۔کاش کہ دشمنان اسلام اس سے عبرت حاصل کریں ۔

مستشرقین کا قرآن حکیم پر یہ ایک بڑا مشہور اعتراض ہے کہ قرآن حکیم میں ایسی آیات موجود ہیں جو باہم ایک دوسرے کے متضاد ہیں۔لیکن مسلمان یہ کہہ کر جان چھڑا لیتے ہیں کہ یہ باہم متضاد نہیں بلکہ ان کا آپس میں تعلق ناسخ منسوخ کا ہے۔مستشرقین کہتے ہیں کہ مسلمان اس طرح قرآن حکیم پر ہونے والے ایک بڑے اعتراض سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں ۔بلکہ وہ یہاں تک بھی اپنے اس مفروضے کو طول دینے سے باز نہیں آتے کہ تضادات سے بچنے کا یہ طریقہ خود حضور اکرم ﷺ نے وضع کیا تھا۔یہی وجہ ہے کہ قرآن میں آیات کو منسوخ کرنے یا ایک کو دوسری سے بدلنے کا ذکر ہے۔اپنے اس دعویٰ کے ثبوت کے طور پر وہ قرآن حکیم کی اس آیہ کریمہ کو پیش کرتے ہیں :۔
"جو آیت ہم منسوخ کر دیتے ہیں یا فراموش کرا دیتے ہیں تو لاتے ہیں (دوسری) بہتر اس  سے یا(کم ازکم) اس جیسی"۔ سورۃ البقرہ آیہ 106
جارج سیل اپنے ترجمہ قرآن کے مقدمے میں لکھتا ہے کہ: "قرآن میں کچھ آیات ایسی ہیں جو باہم متضاد ہیں۔مسلمان علماء نسخ کے اصول کے ذریعے ان پر وارد ہونے والے اعتراضات کا تدارک کرتے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ اللہ عزوجل نے قرآن حکیم میں کچھ احکام صادر فرمائے جن کو بعد میں معقول وجوہات کی بناء پر منسوخ کر دیا گیا"
" صفحہ 52
The Koran"
مستشرقین یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ نسخ کا لفظ نظر ثانی کے مترادف ہے۔اور حضرت محمد ﷺ قران میں نظرثانی و ترمیم کیا کرتے تھے۔اور قرآن کی ترتیب کو نئی شکل دیتے تھے۔مستشرقین کے ان تمام دعوؤں کی دلیل یہ ہے کہ قرآن اس بات کو بیان کرتا ہے کہ اس کی کچھ آیات دوسری آیات کے ذریعے منسوخ ہو گئی ہیں۔اگر یہی حقیقت ہو تو پھر قرآن کوکلام الہٰی ماننے کی کوئی گنجائش ہی نہیں رہتی۔ اگر اس نظریے کو قبول کر لیا جائے کہ حضور اکرم ﷺ قرآن میں ازخود ترمیم کر لیا کرتے تھے تو پھر قرآن کے منزل من اللہ ہونے کے عقیدے کی ضرورت ہی کیا ہے؟جو قرآن میں ترمیم کر سکتا ہے وہ قرآن کو تصنیف بھی کر سکتا ہے۔مستشرقین الفاظ کے ہیر پھیر سے اسی نتیجہ تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔
مستشرقین کا یہ دعوی بلکل غلط اور باطل ہے۔ قرآن حکیم نہ تو حضور اکرم ﷺ کو قرآن کا مصنف کہتا ہے اور نہ ہی اس کی ترتیب اور نسخ کو حضور اکرم ﷺ کی طرف منسوب کرتا ہے۔قرآن حکیم اللہ عزوجل ہی کو اس کتاب کا نازل فرمانے والاقرار دیتا ہے اور اس میں نسخ کو بھی اسی ذات سے منسوب کرتا ہے۔نسخ کو حضور اکرم ﷺ کی طرف سے نظر ثانی قرار دینا نہ قرآن کا بیان ہے اور نہ ہی کبھی مسلمانوں نے اسے تسلیم کیا ہے۔مستشرقین اپنے مزعومات کو قرآن حکیم اور مسلمانوں کے سر تھوپ کر اپنی روایتی علمی بددیانتی کا ثبوت دے رہے ہیں۔مسلمان ساڑھے چودہ سو سال سے قرآن حکیم اور احادیث کی تشریح اور ان سے استنباط احکام کے لیئے نسخ کے اصول کو استعمال کرتے آئے ہیں۔

یہ اسلامیات کی ایک مستقل اصطلاح ہےجس کی اپنی مخصوص تعریف ہے اور اس کی کچھ شرائط ہیں۔نسخ کوئی قانون چھری نہیں کہ جس عقیدے کو چاہے باطل کر دےجس تاریخی بیان کو چاہے بدل دےجس قانون کو چاہے کالعدم قرار دے دےجس اخلاقی ضابطے کو چاہے ملیامیٹ کر دے۔ نہ اس کے لیئے زمانے کی پابندی ہو اور نہ مسئلے کی نوعیت اس قانون پر اثر انداز ہوتی ہو۔ بلکہ جس بات کو جب خلاف مصلحت سمجھا کالعدم قرار دے دیا۔ نسخ کے متعلق اس قسم کا کوئی بھی تصور درست نہیں۔یہ ایک شرعی اصطلاح ہے جو اپنے دائرے اور پابندیوں کے اندر نافذ العمل ہوتی ہے۔جدیدیت پسندوں نے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ قرآن میں جہاں نسخ کا ذکر ہے اس سے مراد یہ ہے کہ قرآن حکیم سابقہ شریعتوں کو منسوخ کرتا ہے،قرآن کی آیات کے ذریعے دوسری آیات منسوخ کرنے کا کوئی ذکر نہیں ۔لیکن ان کے موقف کی تائید نہ تو  متعلقہ قرآنی آیات کے الفاظ کرتے ہیں اور نہ ہی ملت اسلامیہ کی علمی تاریخ ان کی تصدیق کرتی ہے۔نسخ کا قانون مسلمانوں کے ہاں مسلم ہے اس کا انکار کر کے ہم قرآن حکیم کی کوئی خدمت نہیں کر سکتے۔اور نہ ہی ہمیں اس کا انکار کرنے کی ضرورت ہے۔کیونکہ ضروری نہیں کہ جس بات میں مستشرقین کو نقص نظر آتا ہو وہ لازماََ ناقص ہی ہو۔ان کو تو اسلام کی کسی بات میں کوئی بھی خوبی نظر نہیں آتی۔ان کی قلبی کیفیت کے بارے میں اللہ عزوجل ہمیں یوں آگاہ فرماتا ہے :۔
"اور ہرگز خوش نہ ہوں گے آپ سے یہودی نہ عیسائی،یہاں تک کہ آپ پیروی کرنے لگیں ان کے دین کی" سورۃ البقرہ آیہ 120۔

ذیل میں ہم نسخ کا وہ مفہوم پیش کرتے ہیں جو حضور نبی کریم ﷺ نے اپنی امت کو سمجھایا اور جو ساڑھے چودہ سو سال سے امت مسلمہ میں مروج ہے۔

نسخ کا مفہوم:۔ نسخ کا لغوی معنیٰ زائل کرنا یا نقل کرنا ہے۔ جیسے کہ کہتے ہیں کہ " نَسَختِ الرَیخُ آثَارَ القَدَمِ اَی اَزَلَتہُ۔ہوا نے قدموں کے آثار مٹا دیئے یعنی ان کا ازالہ کر دیا"

اسی طرح جب ایک کتاب کے مندرجات کو دوسری کتاب میں نقل کیا جائے تو کہتے ہیں" نَسَختُ الکِتَابَ" اور اصطلاح میں نسخ کی مختصر تعریف یہ ہے کہ:

  • " شارع کا ایک حکم شرعی کو کسی دوسری دلیل شرعی سے ساقط کر دینا"
    نسخ کا تعلق ایک طرف شارع سے ہے اور دوسری طرف امت کت مکلفین سے۔مکلفین کی نسبت سے تو نسخ کا یہ یہی مفہوم بنے گا کہ پہلے جو حکم موجود تھا اب وہ ساقط ہو گیا ہے اور اب اس کی جگہ ایک نیا حکم نافذ کر دیا گیا ہے ۔لیکن شارع کی نسبت اس میں رفع کا معنی موجود ہی نہیں  بلکہ اس نسبت سے اس کا مفہوم یہ ہے کہ شارع نے سابق حکم کے نفاذ کی مدت کے ختم ہونے کا اعلان کر دیا ہے۔
    اللہ تعالیٰ کی نگاہ قدرت سے نہ حال پوشیدہ ہے نہ مستقبل۔ یہ بات اس کے لامحدود علم میں ہے کہ کون سے حکم کی افادیت کس وقت تک رہے گیاور کب اس کی جگہ دوسرا حکم مفید رہے گا۔ نسخ کے ذریعے ایک حکم کے خاتنے اور دوسرے حکم کے نفاذ کا جو اعلان ہوتا ہے اس کا فیصلہ تو پہلے سے ہی ہو چکا ہوتا ہے۔لیکن چونکہ بندوں کو اس کا علم نہیں ہوتا اس لیئے جب ناسخ آیت کا نزول ہوتا ہے تو وہ سمجھتے ہیں کہ پہلے حکم کو ساقط کر کے اس کی جگہ نیا حکم نافذ کر دیا گیا ہے۔ حالانکہ شارع کے علم کے مطابق یہ تبدیلی پہلے حکم کی مدت کے خاتمے اور دوسرے حکم کی مدت کے آغاز کا اعلان ہوتی ہے۔
    یہاں بعض لوگ یہ وسوسہ پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ اگر مان لیا جائے کہ قرآن کی بعض آیات دوسری آیات کی ناسخ ہیں تو اس سے لازم آئے گا کہ پہلا حکم نازل کرتے وقت معاذاللہ ، اللہ عزوجل کو معلوم نہ تھا کہ یہ حکم مفید ہےاور جب تجربے کے ذریعے اس کے غیر مفید ہونے کا علم ہوا تب دوسرا حکم نافذ کر دیا گیا۔
    یہ محض وسوسہ ہے اس کا حقیقت سے کچھ تعلق نہیں ۔کیونکہ ضروری نہیں کہ ہر مفید حکم ہر زمانے کے لیئے مفید ہو۔بلکہ حالات کے بدلنے سے حکم کی افادیت بدلتی رہتی ہے۔طبیب مرض کا علاج مرحلہ وار کرتا ہےپہلے مرحلے پر وہ جو دوا دیتا ہے وہ اسی مرحلے کے لیئے مفید ہوتی ہےلیکن اسی علاج کو مستقل کر دینا نہ طبابت ہے اور نہ عقلمندی۔طبیب ہر مرحلے کے بعد علاج کو تبدیل کرے گا اور یہی عقلمندی ہے۔اب اگر کوئی فلسفی مزاج مریض طبیب کی طرف سے نسخے کی تبدیلی پر یہ اعتراض کر دے کہ ڈاکٹر صاحب! پہلے آپ نے یہ علاج کیوں تجویز نہ کیا تھا کیا اس وقت آپ کو اس بات کا علم نہ تھا جو اب آپ کے نوٹس میں آئی ہے؟ تو ایسا مریض کسی طبیب کے علاج سے صحتیاب کیسے ہو گا؟یہ مثال محض وضاحت کے لیئے ہے اس مثال سے یہ حقیقت منکشف ہو چکی کہ نسخ کا مطلب یہ نہیں کہ شارع نے پہلے غلط حکم دے دیااور جب اس کی غلطی کا پتا چلا تو اس کو دوسرے حکم سے بدل دیا۔بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک حکم جب تک مفید تھا نافذالعمل رہا جب اس کی افادیت ختم ہو گئی تو اس کو دوسرے حکم سے بدل دیا
    نسخ کا اصول نہ نظری معاملات اور عقائد میں لاگو ہوتا ہے اور نہ خبر میں ۔نسخ کا یہ مطلب نہیں کہ اسلام پہلے ایک عقیدے کا پرچار کرے اور پھر اس کی جگہ دوسر اعقیدہ پیش کر کے کہے کہ پہلا عقیدہ منسوخ ہو گیا ہے۔اور نہ ہی نسخ کا یہ مطلب ہے کہ پہلے قرآن ایک حقیقت یا خبر کو بیان کرے اور اور پھر اس کو منسوخ قرار دے دے۔بلکہ نسخ کا قاعدہ صرف عملی احکام میں لاگو ہوتا ہے مگر چند شرائط کے ساتھ۔۔۔!
    نسخ کی اس وضاحت سے مندرجہ ذیل احکام نسخ کے دائرہ کار سے خارج ہو جائیں گے:۔
    شریعت کے احکام کلیہ اور اصول عامہ جیسے امر بالمعروف و نہی عن المنکر وغیرہ

ایسے احکام جن کے مشروع نہ ہونے کا احتمال ہی نہیں۔ جیسے وہ اصلی احکام جن کا تعلق عقائد سے ہے مثلاََ اللہ پر ایمان، فرشتوں ، کتابوں، رسولوں اور  یوم آخرت پر ایمان، ایسے احکام جو نیکی اور فضیلت کی بنیاد ہیں جیسے عدل، صداقت،امانت،والدین سے حسن سلوک، ایفائے عہد اور اسی قسم کے دیگر فضائل۔
ایسے احکام جن کی مشروعیت کا سرے سے احتمال ہی نہیں جیسے کفر اور دیگر اصلی رزائل مثلاََ ظلم، جھوٹ، خیانت، والدین کی نافرمانی، دھوکہ دہی وغیرہ کیونکہ یہ ایسی چیزیں جن کی قباحت بدل نہیں سکتی
ایسے احکام جن کے ساتھ کوئی ایسی چیز ملحق ہو جو نسخ کے منافی ہومثلاََ اس حکم کے ساتھ یہ وضاحت بھی ہو کہ یہ حکم تاابد ہے ۔ اس کی مثال حضور اکرم ﷺ کی ازدواج مطہرات سے نکاح کی حرمت کا مسئلہ ہے۔

جیسے کہ قرآن حکیم نے واضح الفاظ میں فرما دیا ہے کہ :۔ وَمَا کَانَ لَکُم اَن تُوذُوا  رَسُولَ اللَّہِ وَلا اَن تَنکِحُوا اَزوَاجَہُ مِن بَعدِہِ اَبَدا------الاحزاب:53
اور تمہیں زیب نہیں دیتا کہ تم رسول اللہ ﷺ کو اذیت پہنچاؤ۔ اور تمہیں اس بات کی بھی اجازت نہیں کہ ان کی ازدواج سے ان کے بعد کبھی بھی نکاح کرو۔
اس آیہ کریمہ میں لفظ ابدا کے ساتھ اس بات کی صراحت کر دی گئی ہے کہ ازدواج رسول اللہ ﷺ سے نکاح ابدی طور پر حرام ہے ۔ اس حکم کو ابدی قرار دینا اس بات کی دلیل ہے کہ یہ حکم ابدی طور پر مفید ہے۔ کیونکہ اگر  اس حکم میں نسخ کا امکان ہو تو یہ اس بات کے منافی ہو گا کہ یہ حکم ابدی طور پر مفید ہو ۔دوسرے قسم کے احکام وہ ہیں کہ جن کے ابدی ہونے کی صریح نص تو موجود نہیں مگر قرائن اس کی شہادت دیتے ہیں ۔ جیسے کہ ایسے احکام جن کا نسخ حضور اکرم ﷺ کی حیات ظاہری میں ثابت نہیں ۔ ایسے احکام بھی ابدی ہیں اور نسخ کو قبول نہیں کرتے کیونکہ نسخ کے لیئے قول رسول اللہ ﷺ ضروری ہےاور حضور اکرم ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں کیونکہ آپ ﷺ خاتم الانبیاء و المرسلین ہیں ۔ اس طرح وہ احکام بھی نسخ کو قبول نہیں کرتے جن کا وقت متعین کر دیا گیا ہو۔کیونکہ ایسا حکم وقت گزرنے کے ساتھ خودبخود ساقط ہو جاتا ہے اور اس کو ختم کرنے کے لیئے کسی دوسرے حکم کی ضرورت نہیں پڑتی۔

نسخ کی شرائط:۔
نسخ کے مؤثر ہونے کی چند شرائط ہیں  جو درج ذیل ہیں:۔
منسوخ ہونے والا حکم شریعت کا ایسا جزئی اور عملی حکم ہو جو قرآن و سنت سے ثابت ہو اور اس حکم کے ساتھ نہ تو ابدیت کی شرط ہواور نہ ہی اس کی مدت متعین ہواور ساتھ ہی منسوخ کے لیئے ضروری ہے کہ وہ ناسخ سے مقدم ہو۔
ناسخ قرآن کی آیت یا حضور اکرم ﷺ کی قولی یا فعلی سنت ہو جو منسوخ سے متاخر ہو
نسخ کی صورتیں :۔
نسخ کی کئی صورتیں ہیں جن کی تفصیل درج ذیل ہے:۔
کبھی ایک حکم منسوخ ہوتا ہے اور اس کی جگہ دوسرا حکم نازل نہیں ہوتا جیسے کہ پہلے حضور اکرم ﷺ کے ساتھ گفتگو کرنے سے پہلے صدقہ کرنا لازم تھابعد میں یہ حکم منسوخ ہو گیا اور اس کی جگہ کوئی دوسرا حکم نازل نہیں ہوا۔
کبھی ایک حکم کو منسوخ کر کے اس کی جگہ دوسرا ایسا حکم نازل کیا جاتا ہے جو جو تاکید اور شدت کے حساب سے منسوخ حکم کے برابر ہوتا ہے  جیسے بیت المقدس کے بجائے خانہ کعبہ کو قبلہ بنانے کا حکم
کبھی ایک سخت حکم کو منسوخ کر کے اس کی جگہ ایک آسان حکم نافذ کر دیا جاتا ہے جیسے کہ پہلے یہ حکم تھا کہ ایک مسلمان دس مشرکوں کے مقابل صبر کا مظاہرہ کرے بعد میں یہ حکم منسوخ ہو گیااور اس کے بدلے ایک آسان حکم نازل ہو گیا کہ ایک مسلمان صرف دو مشرکوں کے مقابل صبر کا مظاہرہ کرے۔
کبھی آسان حکم کو منسوخ کر کے اس کی جگہ سخت حکم نافذ کر دیا جاتا ہے جیسے کہ پہلے حکم تھا کہ کفار کی اذیتوں پر صبر کیا جائےبعد میں اس حکم کو منسوخ کر کے ان سے جہاد و قتال کا حکم نازل کیا گیا۔ اسی طرح پہلے صرف یوم عاشورہ کا روزہ فرض تھا بعد میں اس فرضیت کو منسوخ کر کے پورے رمضان المبارک کے روزے فرض قرار دے دیئے گئے۔
کبھی قاعدہ نسخ کے ذریعے ممانعت کے حکم کو اباحت میں تبدیل کر دیا جاتا ہے جیسے کہ پہلے رمضان المبارک کے مہینے میں بعد از عشاء اور سونے سے قبل مباشرت کی ممانعت تھی  پھر اس حکم کو اس آیہ کریمہ کے ذریعے منسوخ کر دیا گیا:۔ "حلال کر دیا گیا تمہارے لیئے رمضان کی راتوں میں اپنی عورتوں کے پاس جانا" سورۃ البقرہ آیہ 187
کبھی نسخ صراحتاََ ہوتا ہے اور کبھی ضمناََ۔ پہلی صورت میں ناسخ حکم کی صراحت کر دی جاتی ہےکہ یہ حکم پہلے حکم کو منسوخ کر رہا ہےجیسے کہ پہلے قرآن حکیم نے حکم دیا:۔
" اے نبی ﷺ برانگیختہ کیجیئے مومنوں کو جہاد پر۔ اگر ہوں تم میں سے بیس آدمی صبر کرنے والے تو وہ غالب آئیں گے دو سو پراور اگر ہوئے تم میں سے سو آدمی تو وہ غالب آئیں گے ہزار پر۔ کیونکہ یہ کافر وہ لوگ ہیں جو کچھ نہیں سمجھتے" سورۃ الانفال:65
بعد میں اس آیہ کریمہ کے حکم کو دوسری آیہ کریمہ کے حکم سے منسوخ کر دیا گیا۔ ارشاد خداوندی ہوا کہ :۔
" اب تخفیف کر دی ہے اللہ نے تم پر اور وہ جانتا ہے کہ تم میں کمزوری ہے۔ تو اگر ہوئے تم میں سے سو آدمی صبر کرنے والےتو وہ غالب آئیں گے دو سو پراور اگر ہوئے تم میں ہزار آدمی تو وہ غالب آئیں گے دو ہزار پراللہ کےحکم سے ۔ اور اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے " سورۃ الانفال : 66
دووسری آیہ میں جو کہ ناسخ ہے الئنَ خفف اللہ عنکم کے الفاظ صراحت کر رہے ہیں کہ پہلا حکم منسوخ ہو گیا ہے
دوسری صورت میں شارع نسخ کی صراحت تو نہیں کرتا مگر ضمناََ نسخ کا پتا چل جاتا ہے۔ اس کی سورت یہ ہے کہ متاخر نص کا حکم مقدم نص کے حکم کے متضاد ہو۔ دونوں میں نہ تو تطبیق ممکن ہو اور نہ ہی ایک کو دوسری پر ترجیح دی جا سکتی ہو۔اس  صورت میں پتا چل جائے گاکہ دوسری نص پہلی نص کی ناسخ ہے۔
نسخ کا اصول شریعت محمدیہ ﷺ سے خاص نہیں :۔ مستشرقین نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ نسخ کا اصول مسلمانوں کی اختراع ہے اور پیغمبر اسلام ﷺ نے تضادات قرآن کو جواز فراہم کرنے کے لیئے یہ طریقہ اختیار کیا تھالیکن یہ مستشرقین کی روایتی علمی بددیانتی ہے وہ ایک ایسی چیز کے ذریعے اسلام کو موردالزام ٹھہرانے کی مذموم کوشش کر رہے ہیں جو ان کے ہاں بھی مروج العمل ہے۔ جس کی چند ایک مثالیں درج ذیل ہیں :۔

1۔  بائیبل کے بیان کے مطابق حضرت نوح علیہ السلام کی شریعت میں تمام سبزیوں اور تمام جانوروں کا کھانا حلال تھا۔کتاب پیدائش باب نمبر 9 آیہ نمبر 3 میں حضرت نوح علیہ السلام سے کہا جا رہا ہے کہ "سبزیوں کی طرح تمام حرکت کرنے والے جانور جو زندہ ہیں وہ تمہاری خوراک بن سکتے ہیں میں تمہیں وہ سب عطا فرماتا ہوں "
لیکن شریعت موسویہ میں اکثر جانوروں کو حرام قرار دے دیا گیا۔کتاب الاحبار کے باب نمبر 11 میں ان جانوروں کی تفصیل بیان کی گئی ہے جو حضرت موسی علیہ السلام کے پیروکاروں کے لیئے حرام ہیں ۔ حضرت نوح علیہ اسلام کی شریعت میں تمام جانور حلال تھے اور حضرت موسی علیہ اسلام کی شریعت میں اکثر کی حرمت کا اعلان کر دیا گیا یہ نسخ نہیں تو اور کیا ہے۔۔۔۔۔۔؟؟؟
2۔ شریعت موسویہ میں مرد کو کسی بھی سبب سے اپنی بیوی کو طلاق دینے کا اختیار تھا ۔ اور مطلقہ عورت کے ساتھ کوئی بھی نکاح کر سکتا تھا  جیسا کی کتاب استثناء کے باب چوبیس کی پہلی اور دوسری آیت میں وضاحت کے ساتھ بیان کر دیا گیا ہے۔ مگر شریعت عیسوی میں بدکاری کی علت کے علاوہ کسی وجہ سے بھی مرد کو طلاق دینے کی اجازت نہیں اور نہ ہی مطلقہ کے ساتھ کسی دوسرے مرد کو شادی کی اجازت ہے۔متی کی انجیل کے پانچویں باب کی آیت نمبر 31 اور 32 کے الفاظ وضاحت کر رہے ہیں کہ اب پہلا حکم منسوخ ہو گیا ہے۔
3۔ کتاب پیدائش کے باب نمبر 17 کی آیت نمبر 14میں ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی شریعت میں ختنے کا ابدی حکم تھا ۔ یہ حکم حضرت اسماعیل و اسحاق علیہ السلام کی نسلوں میں مروج رہا۔شریعت موسوی میں بھی ختنے کا حکم تھا۔لوقا کی انجیل کے دوسرے باب کی آیت نمبر 21 کے مطابق حضرت عیسی علیہ السلام کا بھی ختنہ ہوا۔ یہ حکم حضرت عیسی علیہ السلام کے رفع آسمانی تک جاری رہا۔گو حضرت عیسی علیہ السلام کی شریعت میں اس حکم کو منسوخ نہیں کیا گیا۔لیکن حضرت عیسی علیہ السلام کے بعد جن "مقدسین" نے آپ کی شریعت کو بازیچہ اطفال بنائے رکھا انہوں نے اس ابدی حکم کو منسوخ کر دیا۔مسلمانوں کے نزدیک گو کہ کسی نبی کے بعد اس کے حکم کو منسوخ قرار دے دینا ناممکن ہے مگر جو عیسائی ان "مقدسین" کی وضع کردہ شریعت پر کاربند ہیں و ہ اس کو نسخ کے علاوہ کیا نام دیں گے ؟

4۔ ذبیحہ کے احکام شریعت موسویہ میں بے شمار تھے جو شریعت عیسوی میں منسوخ ہو گئے۔

5۔ شریعت موسویہ کے بے شمار احکام شریعت عیسویہ میں منسوخ ہو گئے ۔ چنانچہ حضرت عیسی علیہ السلام کے بعد سینٹ پال اور دوسرے "مقدسین" نے تورات کے اکثر احکامات کو کالعدم قرار دے دیا۔عبرانیوں کے نام پولس کے خط کے ساتویں باب کی آیت نمبر 18 میں درج ذیل الفاظ موجود ہیں :"یقیناََ سابقہ احکام کو ان کی کمزوری اور ان کے بے اثر ہونے کے سبب سے منسوخ کیا جاتا ہے "
عبرانیوں کے نام خط کے آٹھویں باب میں بنو اسرائیل کے ساتھ خدا کے قدیم عہد کے بدلے ایک جدید عہد کا ذکر ہےاس باب کی آٰت نمبر 7 میں ہے کہ : " اگر پہلا عہد بےعیب ہوتا تو نئے عہد کی گنجائش نہ ہوتی"
اسی باب کی آیت نمبر 13 کے الفاظ یہ ہیں کہ : "نئے عہد کا لفظ استعمال کر کے اس نے پرانے عہد کو منسوخ کر دیا ہے۔ اب جس کو منسوخ قرار دے دیا گیا ہے اور جو پرانا ہو رہا ہے وہ مٹ جانے کے قریب ہے "
عبرانیوں کے نام خط کے ساتویں باب کی آیت نمبر 12 میں سینٹ پال نے ایک ایسا اصول وضع کر دیا ہے جس کے بعد عیسائیوں کے لیئے نسخ کو قبول نہ کرنے کی کوئی گنجائش نہیں بچتی۔سینٹ پال کہتا ہے کہ :۔
"جب امامت تبدیل ہو رہی ہو تو ضروری ہو جاتا ہے کہ شریعت بھی تبدیل ہو"۔
مندرجہ بالا مثالوں سے یہ حقائق روز روشن کی طرح عیاں ہو جاتے ہیں کہ"۔
دوسری شریعتوں کے بعض احکام کو منسوخ کرنا شریعت اسلامیہ ہی کا خاصہ نہیں بلکہ سابقہ شریعتوں میں بھی یہ اصول مروج رہا ہے۔
تورات کے عملی احکام خواہ وہ ابدی تھے یا غیر ابدی شریعت عیسوی میں منسوخ ہو گئے۔
تورات کے احکام کے متعلق نسخ کا لفظ عیسائی کتابوں میں بھی موجود ہے ۔
سینٹ پال نے وضاحت کی ہے کہ امامت تبدیل ہونے سے قانون تبدیل ہونا ضروری ہے۔
سینٹ پال کا دعوی ہے کہ قدیم شئے فنا کے قریب ہوتی ہے ۔
مندرجہ بالا حقائق کے ہوتے ہوئے یہودی اور عیسائی اسلام پر یہ الزام کیسے لگا سکتے ہیں کہ مسلمانوں نے قرآن حکیم کے تضادات کو رفع کرنے کے لیئے نسخ کا اصول وضع کیا ہے ۔۔۔۔؟
گزشتہ سطور میں ایک شریعت کے احکام کو دوسری شریعت کے احکام سے منسوخ کرنے کے دلائل دیئے گئے ۔ اب ہم ایک شریعت کے احکام کو اسی شریعت کے دوسرے احکام سے منسوخ کرنے کی مثالیں پیش کرتے ہیں :۔
1۔ کتاب پیدائش کے بائیسویں باب میں اس بات کی تفصیل موجود ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پہلے ابراہیم علیہ اسلام کو حکم دیا کہ اپنے بیٹے اسحاق علیہ السلام کو قربان کریں لیکن جب انہوں نے حکم کی تعمیل کا ارادہ کر لیا تو انہیں اللہ کی طرف سے یہ حکم ملا کہ وہ اپنے بیٹے کو قربان نہ کریں ۔
یہاں اگر پہلا حکم دوسرے حکم سے منسوخ نہیں تو اور کیا ہے ۔۔۔۔۔؟
2۔ صموئل اول کے دوسرے باب میں ہے کہ " اللہ تعالیٰ نے وعدہ کیا تھا کہ امامت کا منصب بڑے پادری کے خاندان میں ہمیشہ رہے گا"لیکن بعد میں اللہ نے اس فیصلہ کو بدل دیا۔ مذکورہ باب کی آیت نمبر 30 کے الفاظ یہ ہیں کہ : "خدائے اسرائیل کا فرمان یہ ہے کہ : میں نے تمہارے اور تمہارے اسلاف کے گھرانے سے یہ کہا تھا کہ تم ہمیشہ میرے آگے آگے چلا کرو گے لیکن اب خدا کا  فرمان یہ ہے کہ جہاں تک میرا تعلق ہے یہ بات ناقابل تصور ہے کیونکہ جو میری تسبیح کرتے ہیں میں ان کا احترام کرتا ہوں اور جو میری توہین کرتے ہیں ان کی میرے نزدیک کوئی حثیت نہیں"
اسی باب کی آیت نمبر 35 میں ہے ک ہ:
"میں یقیناََ اپنے لیئے ایک وفادار پادری پیدا کروں گا جو وہی کرے گا جو میرے دل اور روح کے مطابق ہو گا"
کتاب صموئیل اول کی ان آیات سے واضح ہے کہ اللہ نے پہلے بڑے پادری کے خاندان کو منصب امامت تاابد عطا فرمانے کا وعدہ کیا تھالیکن بعد میں اس فیصلے کو بدل دیا اور منصب امامت دوسروں کو تفویض کر دیا۔بائیبل کے مفسرین کہتے ہیں کہ" یہ منصب اللہ تعالیٰ نے حضرت ہارون علیہ السلام کے بڑے بیٹے "عازار" کو ہمیشہ کے لیئے عطا فرمایا تھالیکن بعد میں یہ حکم منسوخ ہو گیا" اظہار الحق جلد1 صفحہ 532
یہاں عیسائی تو خدا کے ابدی وعدے پر بھی نسخ کا اصول لاگو کر رہے ہیں جو کہ مسلمانوں کے نزدیک ناممکن العمل ہے۔وعدہ کر کے پورا نہ کیا جائے تو یہ نسخ نہیں وعدہ خلافی کہلاتا ہے اور مسلمان اللہ عزوجل کی ذات کو ان تمام عیوب سے مبرا مانتے ہیں ۔
3۔ کتاب الاحبار کے سترھویں باب میں ہے کہ بنو اسرائیل کا جو شخص کوئی جانور ذبح کرے وہ اپنی قربانی کو خدا کے حضور پیش کرنے کے لیئے خیمہ عبادت کے دروازے تک لائےجو ایسا نہ کرے وہ قابل گردن زدنی ہے ۔لیکن کتاب استثناء کے بارہویں باب میں ہے کہ جب جی چاہے اور جہاں جی چاہے جو جانور چاہو ذبح کرو اور کھاؤ۔
ان آیات کی تفسیر میں بائیبل کا ایک بہت بڑا مفسر ھورن لکھتا ہے کہ :۔  ان دونوں مقامات میں بظاہر تناقض نظر آتا ہے لیکن اگر غور سے دیکھا جائے تو پتا چلتا ہے کہ شریعت موسویہ میں بنی اسرائیل کے حالات کے مطابق کمی بیشی ہوتی رہتی تھی۔اور شریعت موسی ایسی نہ تھی کہ اس میں بوقت ضرورت تبدیلی نہ کی جا سکے۔
اس کے بعد مفسر مذکور لکھتا ہے کہ : حضرت موسی علیہ السلام نے اپنی ہجرت کے چالیسویں سال فلسطین میں داخل ہونے سے پہلے اس حکم کو منسوخ کر دیا۔
مفسر مذکور نے یہاں نسخ کو بھی تسلیم کیا ہے اور حالات کے مطابق شریعت میں کمی بیشی کو بھی ۔ لیکن مقام حیرت یہ ہے کہ اسی نسخ کو یہود و نصاریٰ اسلام پر ایک بہت بڑے اعتراض کے طور پر پیش کرتے ہیں ۔
4۔ کتاب گنتی کے چوتھے باب کی مختلف آیات میں خیمہ عبادت کے خادمین کی عمریں تیس اور پچاس سال کے درمیان مقرر کی گئی ہیں۔جبکہ اسی کتاب کے آٹھویں باب کی آیات چوبیس اور پچیس میں خدام کی عمروں کی حد پچیس سے پچاس سال متعین کی گئی ہے۔ اب ظاہر ہے کہ ان میں سے ایک حکم منسوخ ہے اور دوسرا ناسخ۔
5۔ کتاب الاحبار کے چوتھے باب میں جماعت کی غلطی کا فدیہ صرف ایک بیل کی قربانی قرار دیا گیا ہے لیکن کتاب گنتی کے پندرہویں باب میں جماعت کی غلطی کا کفارہ ایک بیل کے علاوہ غلے، مشروبات اور بکری کے ایک بچے کی قربانی کو قرار دیا گیا ہے۔گویا دوسرے حکم نے پہلے حکم کومنسوخ کر دیا۔۔۔۔۔۔۔۔!
ان دونوں اقسام کی مثالوں سے یہ بات بلکل واضح ہے کہ نسخ کا قانون ہر شریعت میں رائج رہا ہے۔اور عہد نامہ قدیم و جدید میں کچھ مثالیں ایسی بھی موجود ہیں جو نسخ سے بھی کچھ زائد ہیں۔
اللہ تعالیٰ حکیم ہے اس کا کوئی کام حکمت سے خالی نہیں ہوتا۔زمانہ کے بدلنے کے ساتھ ساتھ انسانی ضرورتیں اور تقاضے بھی بدلتے رہتے ہیں۔کسی حالت میں کوئی ایک حکم مفید ہوتا ہے تو دوسری حالت میں وہی حکم مضر بھی ثابت ہو سکتا ہے ۔ایک حکم ایک زمانے میں قابل عمل ہوتا ہے اور دوسرے زمانے میں نہیں ۔کسی زمانے کے لوگ کسی حکم کے تقاضوں کو سمجھنے اور اسے بجا لانے کے قابل ہوتے ہیں جبکہ دوسرے زمانے کے لوگ نہ تو اس کے تقاضوں کو سمجھ پاتے ہیں اور نہ ہی اس حکم کو پورا کرنے کے اہل ہوتے ہیں۔لہذا دانائی کا تقاضا یہی تھا کہ ہر زمانے  کے حالات کے مطابق احکامات نازل کیئے جاتے۔
الغرض ابو جہل سے لیکر کر سلمان رشدی لعین تک، مکہ کے کفار ومشرکین سے لے کر یورپ کے مستشرقین تک سب دشمن اس کو نقصان پہنچانے کے لیئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں ۔ لیکن اس دین متین کا جھنڈا نت نئی بلندیوں پر لہراتا نظر آتا ہے۔
یہ اللہ عزوجل کی قدرت اور دین اسلام کی صداقت کی منہ بولتی نشانی ہے۔کاش کہ دشمنان اسلام اس سے عبرت حاصل کریں ۔