بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ * لا الہٰ الا اللہ محمّد رسول اللہ * قُلْ هُوَ اللّـٰهُ اَحَدٌ - اَللَّـهُ الصَّمَدُ - لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُوْلَدْ - وَلَمْ يَكُنْ لَّـهٝ كُفُوًا اَحَدٌ

محمد اسحاق قریشی


اسلام اور سائنس

2017-06-15 13:01:09 

سائنس عقل کے تابع ہے اور وحی عقل سے ماورا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔! اللہ رب العزت کی وحی کا پہلا لفظ تھا "اقراء " یعنی پڑھو ۔ لیکن "باسم ربک الذی خلق" اس رب کے نام کے ساتھ جس نے تمہیں پیدا کیا ! "خلق الانسان من علق" کس چیز سے پیدا فرمایا "علق" یعنی خون کے جمے ہوئے لوتھڑے سے ۔ مزید آگے فرمایا "علم الانسان مالم یعلم" یعنی انسان کو وہ سب سکھایا جو وہ پہلے نہیں جانتا تھا ۔ پہلی وحی میں ہی اللہ عزوجل نے انسان کی تخلیق کے متعلق آگاہ فرما دیا کہ انسان جمے ہوئے خون کے لوتھڑے سے پیدا کیا گیا ! اور اس انسان کو اللہ عزوجل نے وہ علم سکھایا جس نے اسے تمام مخلوقات میں سب زیادہ معزز و محترم اور شرف والا بنا دیا۔ جس نے انسان کو مسجود ملائکہ بنا کر تمام مخلوقات میں عزت بخشی !جس نے انسان کو عقل و شعور اور علم کی روشنی عطا فرما کر زمین پر اپنا نائب و خلیفہ بنایا ! اور انسان کو وہ سب کچھ سکھا دیا جس سے انسان اس سے قبل واقف تک نہ تھا ! انسان کو جو بھی علم ملا وہ اللہ رب العزت نے عطا فرمایا ! اللہ رب العزت نے انسان کے اندر تحقیق و جستجو کی لگن اور تڑپ پیدا کی ۔ اپنی آخری الہامی کتاب "قرآن عظیم" میں متعدد بار کائنات پر غور و فکر کرنے کی دعوت دی ! انسان کو مظاہر فطرت پر غور کرنے کی ترغیب دلائی ! دن کے رات میں بدلنے اور رات کے دن میں بدلنے کو اپنی نشانیاں قرار دیا ! ان نشانیوں میں غور و فکر اور تدبر کرنے کا حکم دیا ! فرمایا:۔ إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ وَاخْتِلاَفِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَالْفُلْكِ الَّتِي تَجْرِي فِي الْبَحْرِ بِمَا يَنفَعُ النَّاسَ وَمَا أَنزَلَ اللّهُ مِنَ السَّمَاء مِن مَّاء فَأَحْيَا بِهِ الأرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَبَثَّ فِيهَا مِن كُلِّ دَآبَّةٍ وَتَصْرِيفِ الرِّيَاحِ وَالسَّحَابِ الْمُسَخِّرِ بَيْنَ السَّمَاء وَالأَرْضِ لآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَعْقِلُونَ (البقرۃ ۔ 164) بیشک آسمانوں اور زمین کی پیدائش، رات اور دن کا ہیر پھیر ، کشتیوں کا لوگوں کو نفع دینے والی چیز کو لیے ہوئے سمندروں میں چلنا ، آسمان سے پانی اتار کر مردہ زمین کو زندہ کر دینا ، اس میں ہر قسم کے جانوروں کو پھیلادینا ، ہواؤں کے رخ بدلنا، اور بادل، جو آسمان اور زمین کے درمیان مسخر ہیں ۔،ان میں عقلمندوں کے لیے قدرتِ الہٰی کی نشانیاں ہیں " آج سائنس بھی اس بات کو تسلیم کرتی ہے کہ تخلیق کے وقت زمین انتہائی گرم تھی اور گیسوں سے گھری ہوئی تھی ۔اس حالت میں زمین پر پانی کی موجودگی ناممکن تھی ! زمین پر پانی کہاں سے آیا اس کی ابتداء کیسے ہوئی آج تک سائنس بتانے سے قاصر ہے سوائے تک بندیوں اور مفروضوں کے ! اور یہ پانی صرف زمین ہی پر کیوں آیا دیگر سیاروں پر کیوں نہیں اترا اس معاملے میں سائنس خاموش ہے ۔ یہاں اللہ عزوجل خالق و مالک کائنات فرماتا ہے " وَمَا أَنزَلَ اللّهُ مِنَ السَّمَاء مِن مَّاء فَأَحْيَا بِهِ الأرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا" یہ اللہ عزوجل ہی ہے جو آسمانوں سے پانی برسانے والا ہے مردہ زمین پر ! اس زمین پر جو اپنے اندر زندگی کو قائم رکھنے کی صلاحیت نہیں رکھتی ۔ اس مردہ زمین پر پانی برسا کر اسے زندہ کرنا یعنی اسے زندگی کو قائم رکھنے کے قابل بنانے والا اللہ عزوجل ہی تو ہے ! وہی تو ہے جو زمین کو زندہ کر کے اس میں جانداروں کا پیدا کرنے والا ہے ! وہی تو ہے جو ہواؤں کے رخ بدلتا ہے !وہی تو ہے جو دن کو رات میں اور رات کو دن میں بدلتا ہے ! وہی تو ہے جو ہر شئے کا خالق ہے ! وہی تو ہے جو اپنے منکرین کو یوں کہہ کر غور و فکر کی دعوت دیتا ہے :۔ " نَحْنُ خَلَقْنَاكُمْ فَلَوْلَا تُصَدِّقُونَ () أَفَرَأَيْتُمْ مَا تُمْنُونَ () أَأَنْتُمْ تَخْلُقُونَهُ أَمْ نَحْنُ الْخَالِقُونَ (الواقعہ:۵۷۔۵۹) ''ہم ہی نے تم سب کو پیدا کیا ہے پھر تم کیوں باور نہیں کرتے۔اچھاپھر یہ بتلائوکہ جو منی تم ٹپکاتے ہو۔ کیا اس کا (انسان)تم بناتے ہو یا پیدا کرنے والے ہم ہی ہیں۔ '' أَفَرَأَيْتُمْ مَا تَحْرُثُونَ () أأَنْتُمْ تَزْرَعُونَهُ أَمْ نَحْنُ الزَّارِعُونَ () لَوْ نَشَاءُ لَجَعَلْنَاهُ حُطَامًا فَظَلْتُمْ تَفَكَّهُونَ (الواقعہ:۶۳۔۶۵) ''اچھاپھریہ بھی بتلائو کہ تم جو کچھ بوتے ہو،اسے تم ہی اُگاتے ہو یا ہم اُگانے والے ہیں۔ اگر ہم چاہیں تو اسے ریزہ ریزہ کر ڈالیں اور تم حیرت کے ساتھ باتیں بناتے رہ جاؤ۔'' أَفَرَأَيْتُمُ النَّارَ الَّتِي تُورُونَ () أَأَنْتُمْ أَنْشَأْتُمْ شَجَرَتَهَا أَمْ نَحْنُ الْمُنْشِئُونَ (الواقعہ:۷۱،۷۲) کبھی تم نے خیال کیا کہ یہ آگ جو تم سلگاتے ہو، اس کا درخت تم نے پیدا کیا ہے یا اس کے پیدا کرنے والے ہم ہیں؟"'' اللہ عزوجل غور و فکر کرنے کی دعوت دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ غور تو کرو نطفے سے انسان تخلیق کرنے والا کون ہے ؟ بیج تم اگاتے ہو ؟ یا خالق کائنات؟ جس درخت کو جلا کر تم آگ حاصل کرتے ہو اس کا پیدا کرنے والا کون ہے ؟ یہ ایسے سوالات ہیں جن کے جواب سے سائنس قاصر ہے ! وَمِنْ آيَاتِهِ خَلْقُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافُ أَلْسِنَتِكُمْ وَأَلْوَانِكُمْ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ لِلْعَالِمِينَ (الروم:۲۲) ''اس( کی قدرت )کی نشانیوں میں سے آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور تمہاری زبانوں اور رنگتوں کا اختلاف (بھی ) ہے۔ دانش مندوں کے لیے اس میں یقینا بڑی نشانیاں ہیں ۔'' اتنی بڑی اور وسیع و عریض زمین اور اس پر چھت کی مانند آسمان اس کو کس نے پیدا کیا؟ کیا یہ سب کچھ یونہی بلاوجہ بلامقصد پیدا ہو گیا ؟ مذہب تو دور کی بات کیا عقل اس بات کو تسلیم کرتی ہے کہ اتنی بڑی زمین اور اتبا بڑا آسمان خود بخود ہی پیدا ہو گیا ؟ زمین کے ہر خطہ میں موجود انسانوں کی رنگت الگ الگ ہے کوئی سرخ ہے کوئی سفید کوئی کالا ہے کوئی سانولا، اسی حساب سے ہر ایک کی زبان بھی الگ الگ ہے ! کیا سائنس اور عقل اس کی کوئی توجیح کر سکتے ہیں ؟ جب انسان کی پیدائش کا مآخذ ایک تو رنگت و زبان الگ الگ کیوں ہیں ؟ کیا سائنس یہ بتا سکتی ہے کہ جانور جو گھاس چرتا ہے وہ اس کے پیٹ میں سے گوبر اور دودھ کی شکل میں کیسے الگ الگ ہو جاتی ہے ؟ الغرض کائنات کی ہر شئے کائنات کا ذرہ ذرہ مشیت الٰہی کے تابع ہے ! سائنس جہاں بے بسی کی انتہاؤں کی چھوتی نظر آتی ہے وہاں میرے رب کریم کی صدا آتی ہے "کن " ہو جا "فیکون" پس وہ ہو جاتا ہے سائنس لاکھ چاہے خالق کی موجودگی کا انکار نہیں کر سکتی ! کیونکہ انکار ایسے ایسے سوالات کو جنم دیتا ہے جن سے نبرد آزما ہونا سائنس کے بس کی بات نہیں ! سائنس کا علم محدود ہے ! اس کے نظریات میں تغیر و تبدل واقع ہوتا رہتا ہے ! آج ایک نظریہ پیش کرتی ہے کل اسی کی نفی کرتی نظر آتی ہے ! اس کے برعکس دین اسلام کے عقائد و نظریات اٹل، قطعی اور ناقابل تردید ہیں جن میں صدہا سال سے کسی بھی قسم کا تغیر و تبدل واقع نہیں ہوا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔! اس لیئے دین اسلام کو سائنس کی کسوٹی پر نہیں بلکہ سائنس کو دین اسلام کی کسوٹی پر پرکھنا ہی منطقی اور عقلی لحاظ سے درست ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔!

لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِيْ رَسُولِ اللهِ

2017-06-14 02:30:59 

............. ﷽ .............
نبی مہربان #محمد_ﷺ
ایز اے
#بیسٹ_رول_ماڈل
کیا کوئی ایک بھی مثال پیش کر سکتا ہے کہ
نبی مہربان ﷺ 
سے بہتر کوئی ہستی دُنیا میں آئی ہے ؟؟؟ 
تو جواب ناں میں ہی ہو گا 
کیوں کہ آپ ﷺ جیسا نہ تو کوئی دُنیا میں 
آیا ہے اور نہ ہی قیامت تک آئے گا 
إن شاءالله العزيز و بعون اللہ تعالٰی
تاریخِ انسانی میں بہت سی نامور شخصیات گُزری ہیں 
جیسے کہ 
یونان کا أرسطو ہو یا پھر سکندرِ اعظم 
فرانس کا نپولین یا پھر چین کا ماؤزے 
جنوبی افریقہ کا نیلسن منڈیلا ہو یا پھر 
جرمنی کا ہٹلر 
پاپ اسٹار مائیکل جیکسن ہو یا پھر پکاسو ( مُصوّر )
سائنس کی دُنیا میں انقلاب برپا کرنے والا تھامس ایڈیسن ہو یا پھر ولیم شیکسپیئر( ناول نگار )
و غیر ھُم 
 ان میں سے ہر کوئی شعبہ ہائے زندگی میں سے ایک یا دو پر دسترس رکھتا تھا اور جب ہم باقی ماندہ شعبہ جات کا جائزہ لیں تو یہ سب اُن میں ناکام نظر آتے ہیں
 اور جب ہم نبی مہربان ﷺ کی مُبارك زندگی پر نظر دوڑاتے ہیں تو آپ ﷺ زندگی کے ہر شعبے
میں یکتا اور تنہا نظر آتے ہیں 
بحیثیتِ ............. باپ و شوہر 
بحیثیتِ ............. حاکم و مُنتظم 
بحیثتِ ............. داعی و مُبلغ 
بحیثتِ ............. قاضی و قانون داں 
بحیثتِ ............. فاتح و سپہ سالار 
بحیثتِ ............. عابد و زاہد 
غرضیکہ 
زندگی کے کسی بھی پہلو پر دیکھنا چاہیں تو 
آپ ﷺ ہر صفت کو بہترین طریقے سے سرانجام دیتے نظر آتے ہیں 
اسی لیے تو #الله_ﷻ نے ارشاد فرمایا کہ
" لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِيْ رَسُولِ اللهِ اُسْوَةٌ حَسَنَة "
" البتہ تحقیق تمہارے لیے اللہ کی رسول کی زندگی بہترین نمونہ ہے " 
اور اگر ہم آپ ﷺ کی کسی بھی صفت کو 
کماحقہ بیان کرنے کی کوشش کریں تو 
ناکامیاب ہی رہیں گے کیوں کہ
بقولِ شاعر ........
" خامہء ربّ کے سوا ، سارے قلم ہیں معذُور 
کوئی بھی مُحمّد ﷺ کا حق ادا نہیں کر سکتا " 
اور اسی طرح 
" زندگیاں بیت گئیں اور قلم ٹوٹ گئے 
آپ ﷺ کے اوصاف کا اک باب بھی پورا نہ ہوا "
اگر ہم 
بحیثتِ باپ .. آپ ﷺ کی زندگی کا جائزہ لیں تو 
آپ ﷺ نے ہمیں عمل کر کے بتلا دیا کہ 
اولاد کے حقوق کیا ہیں اور اُن کی تربیت کیسے کرنا ہے 
بحیثتِ شوہر .. آپ ﷺ کی زندگی پہ نظر ڈالیں تو 
 آپ ﷺ ہمیں گیارہ بیویوں کے درمیاں انصاف کرتے نظر آتے ہیں اُن کے ساتھ پیار و محبت اور اُن کی توقیر و تکریم کرتے نظر آتے ہیں 
بحیثتِ حاکم .. آپ ﷺ کے راج کا جائزہ لیں تو 
 آپ ﷺ عوام الناس کے قلوب و اذہان پر حکومت کرتے نظر آتے ہیں کہ آپ کے ایک اشارے پہ 
لوگ جان دینے کو سعادت سمجھتے ہیں 
بحیثتِ مُنتظم .. آپ ﷺ انتظامی اُمور کا جائزہ لیں تو 
آپ ﷺ کبھی بیت المال قائم کرتے ہیں تو کبھی زکوٰة کا نظام 
کبھی پڑوسیوں کے حقوق کے متعلق بتلاتے ہیں تو کبھی غُرباء و مساکین کی مدد کے لیے 
اہلِ ثروت و مالدار حضرات کو تلقین کرتے نظر آتے ہیں 
 بحیثتِ داعی و مُبلغ .. آپ ﷺ کی مساعی کی طرف دیکھا جائے تو آپ ﷺ کبھی اپنوں کے ہاتھوں ہی تکلیف اُٹھاتے نظر آتے ہیں تو کبھی اہلِ طائف کی جانب سے مارے گئے پتھروں سے لہولہان نظر آتے ہیں 
 تو کبھی شعبِ أبی طالب میں کسمپرسی کی زندگی گُزارنے پر مجبور اور کبھی اپنی جائے پیدائش کو چھوڑ کر ہجرت کے لیے مجبور نظر آتے ہیں 
 لیکن اللہ تعالٰی کی طرف سے مبعوث کی گئی ذمہ داری کو کماحقہ پورا کرتے ہیں اور کامیاب و کامران ٹھہرتے ہیں 
 بحیثتِ قاضی و قانون داں .. آپ ﷺ کی جانب سے بتائے گئے قوانین و ضوابط پر اک نظر ڈالیں تو آپ ﷺ فرماتے ہیں کہ قانون سب کے لیے یکساں ہے 
گورے کو کالے یا کالے کو گورے پر 
عربی کو عجمی پر اور عجمی کو عربی پر 
کوئی فوقیت حاصل نہیں إلا یہ کہ وہ کتنا مُتقی اور پرہیزگار ہے 
مُسلمان وہ ہے جس کی ہاتھ اور زبان سے دوسرے مُسلمان محفوظ رہیں 
چور کی جو سزا فاطمہ بنتِ ( ..... ) کے لیے ہے وہی سزا فاطمہ بنتِ مُحمّد ﷺ کے لیے ہے
 بحیثتِ فاتح و سپہ سالار ... آپ ﷺ کا جائزہ لیا جائے تو آپ ﷺ تقریباً ہر معرکہء حق و باطل میں إسلامی فوج کی قیادت کرتے ہوئے نظر آتے ہیں اور اپنے جاں نثاروں کو سختی سے تلقین کرتے ہیں کہ 
رستے میں یا دُشمنوں کے علاقوں میں آنے والی فصلوں ، مویشیوں کو نُقصان نہ پُہنچانا 
اور فتح کی صورت میں مفتُوحہ علاقوں میں 
 بچوں ، بُوڑھوں ، عورتوں اور ہتھیار پھینکنے والوں کو قتل نہ کرنا اور اس کی مثال اپنے بہترین عمل سے " فتح مَکّہ " کے موقع پر قائم کی جس کی نظیر پوری تاریخِ انسانی میں نہیں ملتی 
بحیثتِ عابد و زاہد .. آپ ﷺ کی حیاتِ مطہرہ کو دیکھا جائے تو 
 آپ ﷺ راتوں کو اُٹھ کر اپنے ربّ کی عبادت کرتے ہوئے نظر آتے ہیں معصوم و گناہوں سے پاک ہونے کے باوجود 
دن میں سو مرتبہ توبہ توبہ و استغفار کرتے ہوئے نظر آتے ہیں 
صدقہ و خیرات کرنے میں آپ کا کوئی ثانی نہیں 
رمضان المبارک کے علاوہ جمعہ و سوموار کے روزے کی پابندی کرتے ہوئے نظر آتے ہیں 
یہ تو تھیں چند خُصوصیات 
آپ ﷺ باقی ماندہ صفات کو بھی بخوبی سرانجام دیتے ہوئے نظر آتے ہیں 
ہم تمام اہلِ إسلام سے بالعموم اور 
کُفّار و مُلحدین کو دعوتِ توحید دیتے ہیں 
اور نبی مہربان ﷺ کی سیرتِ طیبہ کا مُطالعہ 
کرنے کی بھی دعوت دیتے ہیں کہ 
 اللہ رب العزت کی توفیق سے آپ بھی راہِ راست پر آ جائیں اسی میں دُنیا و آخرت کی کامیابی ہے 
وَ مَا عَلَیْنَا إِلَّا الْبَلَاغْ ........
اللہ سبحانه و تعالٰی !!! 
ہم سب کو ہدایت عطا فرمائے اور 
ہمارا خاتمہ بالإيمان فرمائے اور 
دُنیا و آخرت میں کامیابی عطا فرمائے 
آمِین یَا رَبَّ الْعٰلَمِیْن 
 وَ الصَّلاَةُ و َالسَّلَامُ عَلٰی رَسُولِ الله ﷺ

توحید

2017-06-13 04:09:30 

توحید

 اللہ واحد ہے اسکا کوئی شریک نہیں : جان لو انبیا و رسل کی دعوت کا خلاصہ توحید ہے سب سے پہلے نبی اپنی قوم کو توحید ہی کی دعوت دیتا ہے کما فی قولہ تعالی : ولقد بعثنا فی کل امة رسولا ان اعبدوااللہ واجتنبواالطاغوت ۔ نحل 36 وقال تعالی : وماارسلنا من قبلک من رسول الا نوحی الیہ انہ لاالہ الا انا فاعبدون ۔انبیاء 25 ۔
 کوئی شے خدا کی مثل نہیں : اس پر اتفاق ہے کہ کوئی شے خدا کی مثل نہیں ۔ نہ ذات میں نہ صفات میں اور نہ ہی افعال میں ' کمافی قولہ تعالی : لیس کمثلہ شیئ و ھو السمیع العلیم ۔ شوری 11 ۔ جو خدا کو مخلوق کے مشابہ بتاتے ہیں انکے رد میں مذکورہ آیت کا پہلا جز لیس کمثلہ شیئ فرمایا گیا اور جو خدا کی ذات کا تو اقرار کرتے ہیں مگر اسے معطل اور بےکار متصور کرتے ہیں انکے رد میں وھو السمیع البصیر فرمایا گیا 
 کوئی شے خدا کو عاجز اور تھکا نہیں سکتی کیونکہ اسکی قدرت کامل ہے قال تعالی : ان اللہ علی کل شیئ قدیر ۔ بقرہ 20 ۔ وقال : وکان اللہ علی کل شیئ مقتدرا : کھف 45 ۔ وقال تعالی : وماکان اللہ لیعجزہ من شیئ فی السماوات ولا فی الارض انہ کان علیما قدیرا ، فاطر 44 ۔ وسع کرسیہ السموات والارض ولا یوودہ حفظھما و ھو العلی العظیم : بقرہ 255 ۔ اسی طرح ہمارا خدا ظلم نہیں کرتا کیونکہ وہ اسکا عدل کامل ہے کقولہ تعالی : ولایظلم ربک احدا : کھف 49 ۔ کوئی شے اسکے علم سے خارج نہیں کیونکہ وہ کامل علم والا ہے کقولہ تعالی : لایعزب عنہ مثقال ذرة فی السماوات ولا فی الارض : سبا :4 ۔ وہ تھکتا نہیں کیونکہ اسکی قدرت کامل کقولہ تعالی : ومامسنا من لغوب : ق 38 وہ اپنی صفت حیات اور قیومیت میں کامل کما فی قولہ لا تاخذہ سنة ولا نوم : بقرہ : 255 ۔ کوئی مخلوق اسکی کنہ کا ادراک نہیں کرسکی کیونکہ اسکا جلال ' اسکی عظمت اور اسکی کبریائی کامل کمافی قولہ تعالی : لاتدرکہ الابصار :انعام 103 
اللہ قدیم بلا ابتداء دائم بلا انتہاء 
 خدا قدیم و ازلی و ابدی ہے : نہ اسکی ابتدا نہ اسکی انتہا ۔ وہ ذات غیر متناہی ہے کمافی قولہ تعالی : ھو الاول و الاخر : حدید 3 وقال صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم : اللہم انت الاول فلیس قبلک شیئ وانت الاخر فلیس بعدک شیئی :اخرجہ مسلم ، قول باری تعالی و حدیث کا مستفاد یہی کچھ ہے کہ مخلوق ساری متناہی اور خالق کائنات غیر متناہی ۔

لایفنی ولا یبید 
 اسکی ذات کو فنا نہیں قال تعالی : کل من علیھا فان ویبقی وجہ ربک ذو الجلال والاکرام : رحمان : 26 ' 27 ۔

ولایکون الا مایرید 
وہی ہوتا ہے جو وہ ارادہ کرتا ہے کما فی قولہ تعالی : ولکن اللہ یفعل مایرید : بقرہ 2533 ۔

لاتبلغہ الاوھام ولاتدرکہ الافہام 
 اوہام و افہام کی اسکی بارگاہ میں رسائی نہیں عقل اس راہ میں راندہ درگاہ ہی رہی عقول نے جتنا اس کی ذات میں سوچا پریشان ہی رہی ۔۔۔
وہ حی لا یموت ہے قیوم لاینام ہے وہ ذات خالق بلا حاجة ہے رازق بلامونة ہے '  ممیت بلا مخافة ہے اور باعث بلامشقة ہے 
 اسکی ذات کی کنہ اور حقیقت تک رسائی محال البتہ من وجہ جس قدر اسنے اپنے انبیاء کی معرفت کتب و صحائف میں ہمیں آگاہی بخشی سب پر ہمارا ایمان و اتقان ہے 

تحریر: ابوالحقائق احمد 

حجیت احادیث پر قرآنی آیات

2017-06-13 04:05:31 

احادیث طیبہ کی اہمیت و حجیت کے متعلق چند قرآنی آیات:۔
٭ قُلْ اِنْ كُنْتُـمْ تُحِبُّوْنَ اللّـٰهَ فَاتَّبِعُوْنِىْ يُحْبِبْكُمُ اللّـٰهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُـوْبَكُمْ ۗ وَاللّـٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِـيْـمٌ
سورۃ آل عمران (31)

کہہ دو اگر تم اللہ کی محبت رکھتے ہو تو میری تابعداری کرو تاکہ تم سے اللہ محبت کرے اور تمہارے گناہ بخشے، اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔


اس آیہ کریمہ میں اللہ عزوجل حضور اکرم ﷺ کی اطاعت کو ہی اللہ سے محبت کے دعویٰ کی واحد دلیل قرار دے رہاہے۔اور ساتھ ہی ان لوگوں کو اپنی محبوبیت اور گناہوں کی بخشش کا مژدہ سنا رہا ہےجو حضور اکرم ﷺ کی اتباع کرتے ہیں۔حضور اکرم ﷺ کی اتباع جو محبت خدا کے لیئے بھی ضروری ہے اور جو گناہوں کی بخشش کا بھی ذریعہ ہے، وہ حدیث رسول اللہ ﷺ اور سنت رسول اللہ ﷺ کے بغیر ممکن ہی نہیں کیونکہ اتباع  کا مفہو م یہ ہے کہ:۔
"کسی کے فعل کی اتباع کا یہ معنی ہے کہ اس کے فعل کو عین اسی طرح کیا جائے جس طرح وہ کرتا ہے اور اسی لیئے کیا جائے کیونکہ وہ کرتا ہے"

(ضیاء القرآن جلد 1)
اتباع کی اس تشریح سے یہ حقیقت واضح ہو گئی کہ حضور اکرم ﷺ نے جو کام  کیئے ہیں وہ بعینہ اسی طرح کیئے جائیں اور اس لیئے کیئے جائیں کیونکہ آپ ﷺ نے کیئے۔ ہم مستشرقین اور ان کے شاگردوں سے پوچھتے ہیں کہ کیا قرآن حکیم کے اس ارشاد پر احادیث طیبہ کی مدد کے بغیر عمل کرنا ممکن ہے ؟ قطعاََ نہیں ۔ کیونکہ رسول اللہ ﷺ جو کام کیا کرتے تھے اور جس طرح کیا کرتے تھے اس کا پتا ہمیں صرف احادیث ہی سے ملتا ہے۔اس لیئے ہم قرآن حکیم کے اس ارشاد پر عمل کرنے اور اس ارشاد خداوندی میں جن انعامات کا تذکرہ ہے انہیں حاصل کرنے کے لیئے احادیث طیبہ کے محتاج ہیں۔
٭  قُلْ اَطِيْعُوا اللّـٰهَ وَالرَّسُوْلَ ۖ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّ اللّـٰهَ لَا يُحِبُّ الْكَافِـرِيْنَ
سورۃ آل عمران(32)

کہہ دو اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرو، پھر اگر وہ منہ موڑیں تو اللہ کافروں کو دوست نہیں رکھتا۔

یہ آیت کریمہ اللہ کی اطاعت کے ساتھ ساتھ حضور اکرم ﷺ کی اطاعت کا بھی حکم دے  رہی ہے۔اللہ عزوجل کی اطاعت کے حکم پر تو ہم قرآن مجیدکی تعلیمات کو اپنا کر عمل کر سکتے ہیں ۔ لیکن حضور اکرم ﷺ کی اطاعت تبھی ممکن ہے جب آپ ﷺ کے اقوال و افعال اور تقاریر کی تفصیلات ہمارے سامنے ہوں۔اور یہ تمام تفصیلات ہمیں صرف احادیث طیبہ ہی سے ملتی ہیں۔ اس لیئے قرآن حکیم کے اس حکم پر ہم احادیث طیبہ کے بغیر عمل نہیں کر سکتے۔

٭   تِلْكَ حُدُوْدُ اللّـٰهِ ۚ وَمَنْ يُّطِــعِ اللّـٰهَ وَرَسُوْلَـهٝ يُدْخِلْـهُ جَنَّاتٍ تَجْرِىْ مِنْ تَحْتِـهَا الْاَنْـهَارُ خَالِـدِيْنَ فِيْـهَا ۚ وَذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيْـمُ
سورۃ النساء(13)

یہ اللہ کی قائم کی ہوئی حدیں ہیں، اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کے حکم پر چلے (اللہ) اسے بہشتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی ان میں ہمیشہ رہیں گے، اور یہی بڑی کامیابی ہے۔

اس آیہ کریمہ میں اللہ عزوجل مسلمانوں کو اس حقیقت عظمیٰ سے آگاہ فرما رہا ہے کہ انسان کی اصل اور حقیقی کامیابی یہ ہے کہ اس کا رب اس سے راضی ہواور دنیا سے کوچ کرنے کے بعد وہ جنت کی ابدی بہاروں سے بہرہ ور ہو۔ساتھ ہی اللہ عزوجل نے اس حقیقت کو بھی واضح فرما دیا ہے کہ اس کامیابی کو حاصل کرنے کا واحد طریقہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی اطاعت چونکہ احادیث طیبہ کے بغیر ممکن ہی نہیں اس لیئے مسلمانوں کے لیئے اپنی تاریخ کے کسی بھی دور میں احادیث طیبہ سے بے اعتنائی ممکن نہ تھی۔مستشرقین کی اکثریت زندگی کی مادی تشریح کی عادی ہے۔ان کے لیئے شاید یہ سمجھنا ممکن ہی نہیں کہ کس طرح مسلمان دنوی نعمتوں سے بے نیاز ہو کر اخروی زندگی کی کامیابی کے لیئے کوشاں تھے۔مسلمانوں نے کسی بھی مادی مفاد کے بغیر اپنی جائیدادیں، اپنا گھر بار، اپنے عزیز و اقارب اور اپنی اولاد سب کچھ چھوڑ دیا اور وقت آنے پر اپنی جان کی قربانی دینے سے بھی گریز نہیں کیا۔قرون اولیٰ کے مسلمانوں کی ان قربانیوں کو مستشرقین کی عقل تسلیم نہیں کرتی اس لیئے وہ مسلمانوں کی تاریخ کو خلاف عقل قرار دینے سے بھی باز نہیں آتے۔وجہ یہ ہے کہ مستشرقین مسلمانوں کی ان بے مثال قربانیوں کی کوئی مادی توجیہ نہیں کر سکتے۔حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کی ان بے مثال قربانیوں کے پیچھے کوئی مادی مقصد تھا بھی نہیں ۔ وہ تو یہ قربانیاں اس کامیابی کو حاصل کرنے کے لیئے دے رہے تھے جسے ان کے رب نے فوز عظیم قرار دیا تھا۔ جب مسلمانوں کی ساری قربانیاں اس فوز عظیم کی خاطر تھیں تو پھر وہ اطاعت خدا  اور اطاعت رسول ﷺ کیسے نظر انداز کر سکتے تھے جسے ان کے پروردگار نے اس کامیابی کے حصول کی اولین شرط قرار دیا تھا۔

٭  يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا تَنَاجَيْتُمْ فَلَا تَتَنَاجَوْا بِالْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَمَعْصِيَتِ الرَّسُولِ وَتَنَاجَوْا بِالْبِرِّ وَالتَّقْوَىٰ وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ
سورۃ المجادلہ( 9 )

مومنو! جب تم آپس میں سرگوشیاں کرنے لگو تو گناہ اور زیادتی اور پیغمبر کی نافرمانی کی باتیں نہ کرنا بلکہ نیکوکاری اور پرہیزگاری کی باتیں کرنا۔ اور خدا سے جس کے سامنے جمع کئے جاؤ گے ڈرتے رہنا
اسلام مسلمانوں کو حکم دیتا ہے کہ اپنے قومی امور باہم مشورہ سے طے کیا کریں لیکن یہ آیت کریمہ انہیں یہ بتا رہی ہے کہ باہم مشورہ کرنے کا یہ مطلب نہیں کہ تم جو چاہو کروبلکہ مسلمانوں کے لیئے یہ ضروری ہے کہ جب وہ باہم کوئی فیصلہ کریں تو یہ فیصلہ گناہ، حدود  سے تجاوز اور رسول اللہ ﷺ کی نافرمانی کے زمرے میں نہ آتا ہو۔احکام خدا کی خلاف ورزی گناہ ہے۔خدا کی مقرر کردہ حدود اے تجاوز عدوان ہےاور سنت رسول ﷺ کی مخالفت معصیت الرسول ہے۔ مسلمانوں کی پارلیمانی تنظیموں اور مشاورتی اداروں کو یہ آیہ کریمہ حکم دے رہی ہے کہ خبردار! قومی امور میں مشاورت کے وقت وہ مادر پدر آزادی کا مظاہرہ نہ کریں۔وہ قومی امور کے متعلق فیصلے کرتے وقت مغربی جمہوریت کی نقل نہ کریں جو کثرت رائے سے حلال کو حرام اور حرام کو حلال تک قرار دے دیتی ہے۔ یہ آیہ کریمہ مسلمانوں کو متبنہ کر رہی ہے کہ تمہارا جو اجتماعی یا اکثریتی فیصلہ احکام خدا و رسول ﷺ کے خلاف ہو گا ناجائز ہو گا اور اس کے لیئے تمہیں روز قیامت جواب دہ ہونا پڑے گا۔مسلمان، خصوصاََ عہد صحابہ کے مسلمان اپنے معاملات ہمیشہ باہمی مشاورت سے طے کرتے رہے ہیں ۔ ان کی جب بھی باہمی مجلس مشاورت منعقد ہوتی تھی یقیناََ یہ آیہ کریمہ ان کی نظروں کے سامنے رہتی تھی اور انہیں معلوم ہوتا تھا کہ کوئی ایسا مشورہ جو حکم خدا اور حکم رسول ﷺ کے منافی ہو گاوہ خدا کی نافرمانی کے زمرے میں آئے گا۔اگر احادیث طیبہ ان کے پاس محفوظ نہ ہوتیں تو انہیں کیسے معلوم ہوتا کہ وہ جو مشورہ کر رہے ہیں وہ فرمان رسول ﷺکے مطاق ہے یا مخالف؟ اس لیئے اس بات میں شک کی کوئی گنجائش نہیں کہ اگر مسلمانوں کے پاس ذخیرہ حدیث محفوظ نہ ہوتا تو وہ اس آیہ کریمہ پر عمل نہ کر سکتے

٭ قَاتِلُوا الَّـذِيْنَ لَا يُؤْمِنُـوْنَ بِاللّـٰهِ وَلَا بِالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَلَا يُحَرِّمُوْنَ مَا حَرَّمَ اللّـٰهُ وَرَسُوْلُـهٝ وَلَا يَدِيْنُـوْنَ دِيْنَ الْحَقِّ مِنَ الَّـذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتَابَ حَتّـٰى يُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَنْ يَّدٍ وَّهُـمْ صَاغِرُوْنَ
سورۃ التوبہ(29)

ان لوگوں سے لڑو جو اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان نہیں لاتے اور نہ اسے حرام جانتے ہیں جسے اللہ اور اس کے رسول نے حرام کیا ہے اور سچا دین قبول نہیں کرتے ان لوگوں میں سے جو اہل کتاب ہیں یہاں تک کہ عاجز ہو کر اپنے ہاتھ سے جزیہ دیں۔

 

اس آیہ کریمہ میں اللہ عزوجل مسلمانوں کو اہل کتاب سے جنگ کرنے کا حکم دے رہا ہے اور اہل کتاب پر جو فرد جرم عائد کر رہا ہے وہ یہ ہے کہ یہ لوگ نہ اللہ پر ایمان رکھتے ہیں نہ یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہیں نہ ان چیزوں کو حرام سمجھتے ہیں جن کو اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے حرام قرار دیااور نہ ہی وہ دین حق کے پیروکار ہیں۔گویا مسلمانوں کو یہ حکم ہے کہ جو لوگ ان چیزوں کو حرام نہیں سمجھتے جن کو اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے حرام قرار دیا تو وہ ان کے خلاف جنگ کریں ۔اگر مسلمانوں کے پاس احادیث طیبہ کا مجموعہ نہ ہو تو انہیں کیسے پتا چلے کہ رسول اللہ ﷺ نے کن چیزوں کو حرام قرار دیا۔ اس لیئے احادیث طیبہ کے بغیر مسلمانوں کے لیئے اس آیہ کریمہ پر عمل کرنا بھی ممکن نہیں ہے۔

٭  وَمَآ اٰتَاكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْا ۚ وَاتَّقُوا اللّـٰهَ ۖ اِنَّ اللّـٰهَ شَدِيْدُ الْعِقَابِ (7)
سورۃ الحشر
اور جو کچھ تمہیں رسول دے اسے لے لو اور جس سے منع کرے اس سے باز رہو، اور اللہ سے ڈرو بے شک اللہ سخت عذاب دینے والا ہے۔

یہ آیہ کریمہ حکم دے رہی ہے کہ امور حیات میں رسول اللہ ﷺ تمہیں جو کام کرنے کا حکم دیں اس کے سامنے سر تسلیم خم کر دو اور جس چیز سے روکیں اس کے قریب بھی مت پھٹکو۔ حضور اکرم ﷺ کے اوامر و نواہی کا علم احادیث طیبہ کے بغیر ممکن نہیں ۔اس لیئے مسلمان قرآن حکیم کی اس آٰہ پر بھی عمل کرنے کے لیئے احادیث طیبہ کے محتاج ہیں۔
٭ يَآ اَيُّـهَا الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا لَا تُقَدِّمُوْا بَيْنَ يَدَىِ اللّـٰهِ وَرَسُوْلِـهٖ ۖ وَاتَّقُوا اللّـٰهَ ۚ اِنَّ اللّـٰهَ سَـمِيْعٌ عَلِـيْمٌ
سورۃ الحجرات(1)

اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول کے سامنے پہل نہ کرو، اللہ سے ڈرتے رہو، بے شک اللہ سب کچھ سننے والا جاننے والا ہے۔

علامہ ابن جریر لکھتے ہیں کہ جب کوئی شخص اپنے پیشوا یا امام کے ارشاد کے بغیر ہی امر و نہی کے نفاذ میں جلدی کرے تو عرب کہتے ہیں کہ :" فلاں یقدم بین یدی امامہ" یعنی فلاں شخص اپنے امام کے آگے آگے چلتا ہے۔علامہ ابن کثیر  نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے ان الفاظ کی تفسیر یوں بیان کی ہے کہ :
"عن ابن عباس لا تقولوا خلاف الکتاب والسنۃ" کہ کتاب و سنت کی خلاف ورزی نہ کرو۔
حق تو یہ ہے کہ اللہ عزوجل اور اس کے نبی کریم ﷺ پر ایمان لانے کے بعد کسی کو بھی یہ حق ہی نہیں پہنچتا کہ وہ اپنے رب اور رسول اللہ ﷺکے ارشاد کے علی الرغم کوئی بات کہے یا کوئی کام کرے۔جب انسان اپنے مسلمان ہونے کا اعلان کرتا ہے تو وہ ساتھ اس امر کا بھی اعلان کر رہا ہوتا ہے کہ آج کے بعد اس کی مرضی، اس کی خواہش اور اس کی ہر مصلحت اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے  ہر حکم پر بلا تامل قربان کر دی جائے گی۔یہ حکم اہل اسلام کی فقط انفرادی اور شخصی زندگی تک نہیں بلکہ قومی و اجتماعی زندگی کے تمام گوشوں، سیاسی ، اقتصادی اور اخلاقی کو بھی محیط ہے۔نہ کسی مقنّنہ کو حق پہنچتا ہے کہ وہ کوئی ایسا قانون بنائے جو قرآن و سنت کے خلاف ہواور نہ ہی کسی عدالت کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ شریعت کے برعکس کوئی فیصلہ دے۔
یہ آیہ کریمہ مسلمانوں کو حکم دے رہی ہے کہ زندگی میں کوئی کام کرنے سے قبل یہ معلوم کر لو کہ آیا اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے اس کام کے کرنے کی اجازت بھی دی ہے کہ نہیں۔ہم مستشرقین کے شاگردوں سے وضاحت چاہتے ہیں کہ اگر مسلمان احادیث طیبہ کو نظر انداز کر دیں تو کیا وہ اس آیہ کریمہ پر عمل کر سکتے ہیں جو ہر کام سے قبل اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی رضا معلوم کرنے کا حکم دے رہی ہے۔

 

٭  فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُـوْنَ حَتّـٰى يُحَكِّمُوْكَ فِيْمَا شَجَرَ بَيْنَـهُـمْ ثُـمَّ لَا يَجِدُوْا فِىٓ اَنْفُسِهِـمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوْا تَسْلِيْمًا
سورۃ النساء(65)

سو تیرے رب کی قسم ہے یہ کبھی مومن نہیں ہوں گے جب تک کہ اپنے اختلافات میں تجھے منصف نہ مان لیں پھر تیرے فیصلہ پر اپنے دلوں میں کوئی تنگی نہ پائیں اور خوشی سے قبول کریں۔

اس آیہ کریمہ کا حکم صرف عہد نبوی ﷺ کے مسلمانوں ہی تک محدود نہیں بلکہ قیامت تک آنے والے سب مسلمانوں کے لیئے ہے۔یہ آیہ کریمہ اعلان کر رہی ہے کہ جو لوگ اپنے امور حیات میں رسول اللہ ﷺ کے فیصلے کو نہ مانیں یا فرمان رسول ﷺ پر عمل کرتے ہوئے ان کے دل تنگی محسوس کریں تو ان کا ایمان کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ مومن کی ساری متاع حیات ہی ایمان ہے اسی قوت ایمانی کے سہارے وہ زندگی کی سختیوں کو خندہ پیشانی سے برداشت کرتا ہے۔جب اطاعت رسول ﷺ کے بغیر ایمان ہی معتبر نہیں تو پھر ایک مسلمان اطاعت رسول ﷺ کے بغیر دین کے باقی احکام پر کیسے عمل پیرا ہو سکتا ہے؟حضور اکرم ﷺ کے فیصلوں کا علم ہمیں احادیث طیبہ سے ملتا ہے ۔ اس لیئے ایک مسلمان کبھی بھی کسی بھی حالت میں بھی احادیث طیبہ سے بے نیاز نہیں ہو سکتا۔کیونکہ احادیث طیبہ کے مطابق ہی اس کا عمل اس کے مومن ہونے کی نشانی ہے اور احادیث طیبہ پر عمل کے بغیر بارگاہ خداوندی میں اس کا ایمان ہی غیر معتبر ہے۔

٭  يَآ اَيُّـهَا الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوٓا اَطِيْعُوا اللّـٰهَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ وَلَا تُبْطِلُوٓا اَعْمَالَكُمْ
سورۃ محمد(33)

اے ایمان والو! اللہ کا حکم مانو اور اس کے رسول کا حکم مانو اور اپنے اعمال کو ضائع نہ کرو۔
یہ آیت کریمہ اللہ عزوجل کی اطاعت کے ساتھ ساتھ رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کا بھی حکم دے رہی ہے ۔اور ساتھ ہی تنبیہ بھی کر رہی ہے کہ خبردار! اگر تم نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت میں کوتاہی کی تو تم اپنے اعمال ضائع کر بیٹھو گے ۔ اللہ عزوجل کی اطاعت تو قرآن حکیم کے احکامات پر عمل سے  ہو جائے گی رسول اللہ ﷺ کی اطاعت احادیث طیبہ کے بغیر کیسے ممکن ہے ؟

٭  وَاِنْ تُطِيْعُوا اللّـٰهَ وَرَسُوْلَـهٝ لَا يَلِتْكُمْ مِّنْ اَعْمَالِكُمْ شَيْئًا ۚ اِنَّ اللّـٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِـيْـمٌ
الحجرات(14)

اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانو تو تمہارے اعمال میں سے کچھ بھی کم نہیں کرے گا، بے شک اللہ بخشنے والا نہایت رحم والا ہے۔

اس آیہ کریمہ میں اللہ عزوجل اپنی اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کرنے والے کو یقین دہانی کرا رہا ہے کہ جو کوئی بھی اللہ عزوجل اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کرے گا  اس کو اس کے اعمال حسنہ کا اجر ضرور ملے گا۔ اور اس کے اعمال ضائع نہ ہونگے۔یعنی اللہ عزوجل اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت ہی اعمال کے قبول ہونے کی ضامن ہے۔
کسی بھی مذہب کے پیروکار جب مذہب کے حلقے میں داخل ہوتے ہیں تو اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ وہ اس مذہب کا نجات اخروی کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔گو کہ کوئی بھی سچامذہب دنیوی فوز و فلاح کو بھی نظر انداز نہین کرتا، لیکن مذہب کی نظر میں دنیوی زندگی چند روزہ ہوتی ہےاور حقیقی زندگی اخروی زندگی ہی ہوتی ہے۔اس لیئے ہر مذہب اخروی زندگی کی فلاح و کامرانی کے لیئے اپنے پیروکاروں کو اعمال صالحہ کی طرف دعوت دیتا ہے۔اسلام ایک سچا مذہب ہے اور وہ اپنے پیروکاروں کو اعمال صالحہ کا حکم دیتا ہے۔اور ساتھ ہی یہ بھی بتاتا ہے کہ اعمال صالحہ ہی روز قیامت کام آئیں گے۔ایمان کے بعد مومن کی سب سے بڑی متاع اعمال صالح ہیں۔یہ آیات ہمیں بتا رہی ہیں کہ اعمال صالحہ انہی لوگوں کے قبول اور مؤثر ہوں گے جن کی زندگیاں اطاعت خدا اور اطاعت رسول ﷺ کے رنگوں میں رنگی ہوں گی۔اور جو لوگ اطاعت رسول ﷺ کو چھوڑ کر صرف اطاعت خدا ہی کو کافی سمجھیں گے ان کے دفتر عمل روز قیامت انہیں نیکیوں سے خالی نظر آئیں گے۔وہ مسلمان جنہوں نے اپنی زندگیوں میں اعمال صالح کے علاوہ کوئی اور کمائی نہیں کی مستشرقین کے شاگردوں کو ان سے یہ توقع نہیں رکھنی چاہیئے کہ وہ کوئی ایسا کام کریں گے جس سے ان کے اعمال صالح برباد ہو جائیں۔
چونکہ اطاعت رسول ﷺ ہی مومن کے اعمال صالح کی حفاظت کی ضامن ہے اس لیئے مسلمان اطاعت رسول ﷺ کے معاملے میں غفلت نہیں برت سکتے ۔اور اطاعت رسول ﷺ کے لیئے وہ احادیث طیبہ کے محتاج ہیں۔لہذا احادیث طیبہ ان کے لیئے ایک بیش بہا سرمایہ ہیں۔اور اس سرمائے کی حفاظت کے لیئے ان کا ہر ممکن کوشش کرنا ایک قدرتی بات ہے۔
قرآن حکیم کی مذکورہ بالا آیات پر تو احادیث طیبہ کے بغیر عمل کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ لیکن احادیث طیبہ کی ضرورت اور اہمیت صرف انہی آیات قرآنی پر عمل کرنے تک ہی محدود نہیں بلکہ بے شمار قرآنی احکامات جو اللہ عزوجل کی طرف سے بندوں کے لیئے نازل کیئے گئے ، ان پر بھی حضور اکرم ﷺ کی قولی یا عملی راہنمائی لیئے بغیر عمل کرنا ممکن نہیں۔
وما علینا الاالبلاغ المبین

قرآنسٹس اور قرآن

2017-06-13 03:59:56 

انگریزوں کے زمانے میں ہندوستان کے ایک شہر میں ایک صاحب ایک انگریز کلکٹر کے میر منشی تھے۔ کلکٹر اگرچہ انگریز تھا مگر اسے یہ زعم تھا کہ وہ اردو بہت اچھی طرح جانتا ہے۔چنانچہ وہ میر منشی سے کہا کرتا کہ ہم تم سے زیادہ اردو جانتے ہیں تو بیچارے منشی خون کے گھونٹ پی کر رہ جاتے کیونکہ ملازمت کا سوال تھا۔ ایک دن کلکٹر نے کسی بات پر جوش میں آ کر میز پر مکّا مارتے ہوئے کہا:
منشی جی! یقیناً ہم تم سے زیادہ اردو جانتے ہیں۔
اس بار منشی کو بھی جوش آ گیا، انھوں نے سوچ لیا کہ ملازمت رہے نہ رہے اسے جواب دے ہی دوں گا۔ انھوں نے بھی میز پر مکّا مار کر کہا:
صاحب بہادر! آپ اردو کی ابجد بھی نہیں جانتے۔
یہ سن کر انگریز کلکٹر بڑا حیران ہوا اور کہا :تم میرا امتحان لے لو۔
تو منشی جی نے کہا :اگر میں آپ کا امتحان لوں گا تو آپ بغلیں جھانکنے لگیں گے۔
 اب صاحب بہادر واقعی بغلیں جھانکنے لگا کہ اس کا کیا مطلب ہوا! بہت غور کیا مگر خاک سمجھ آتی۔ آخر اس نے کہا:
منشی جی! مجھے تین دن کی مہلت دو،میں اس کا مطلب بتا دوں گا۔
منشی جی نے کہا :تین دن نہیں سات دن کی مہلت لے لیجئے۔
 الغرض اس نے اس لفظ کو لغت میں تلاش کیا۔ مگر لغت میں کیا ملتا۔ لغت میں ’’بغل‘‘ مل گیا ’’جھانکنا‘‘ مل گیا مگر مفہوم نہیں ملا۔ آخر سات دنوں کے بعد اس نے کہا:
اس کا مطلب ہے کہ ہاتھ کو اٹھا کر بغل کو دیکھ لیا جائے۔
میر منشی ہنس پڑے،تب کلکٹر نے پوچھا : پھر اس کا مطلب کیا ہے؟
 میر منشی نے کہا : اس کا مطلب آپ کو میں اس شرط پر بتاؤں گا کہ اب آپ کبھی اردو دانی کا دعویٰ نہیں کریں گے۔
 چنانچہ اس نے اقرار کیا تو منشی نے بتایا کہ دراصل یہ جملہ تحیر سے کنایہ ہے یعنی اگر کلکٹر کا میں امتحان لوں تو وہ حیرت میں پڑ جائیں گے۔
 ٭ یہی حالت نام نہاد قرآنسٹ عرف منکرین حدیث کی ہے ان کا بھی دعویٰ ہے کہ یہ قرآن زیادہ جانتے اور سمجھتے ہیں پوری امت مسلمہ کی قرآن کے جس مفہوم تک رسائی نہ ہو سکی وہ چودھویں صدی کے ایک مجہول الحال شخص پرویز خان پر آشکار ہو گیا 
 یہ بھی اس اردو دانی کا دعویٰ رکھنے والے انگریز کی طرح لغات ہی کو اپنا سب کچھ مانے ہوئے ہیں اسی لیئے ہر جگہ ٹھوکریں کھاتے پھرتے ہیں ہر جگہ بدترین تحریف کے مرتکب ہیں !

 

خلافت یا جمہوریت

2017-06-13 03:50:59 

خلافت یا جمہوریت۔۔۔۔۔فیصلہ آپ کا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!
خلافت عثمانیہ کا دور ہے ۔۔۔۔۔تخت خلافت پر سلطان عبد الحمید  خان متمکن ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 
یہ وہ دور ہے کہ مسلمانوں میں انتشار اور آپس کے اختلافات کے باعث۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
امت مسلمہ ناچاقی کا شکار ہے ۔۔۔۔۔۔اس کے باوجود خلافت کی ڈور میں سبھی بندھے ہیں ۔۔۔۔۔
 اس وقت دنیا پر انگریز کی حکومت ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔قصر خلافت میں خبر ملتی ہے کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فرانس اور برطانیہ۔۔۔۔۔ جو کہ اس وقت دنیا کی طاقتور ترین ۔۔۔۔
حکومتیں ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مسلمانوں کی جان سے بھی عزیز ہستی۔۔۔۔
محمد رسول اللہ ﷺ کی شان اقدس میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔گستاخانہ  ڈرامہ بنا رہی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جس کو یورپ کے تمام۔۔۔تھیٹروں میں پیش کیا جانا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ خبر ملتے ہی۔۔۔۔۔۔خلیفتہ المسلمین  سلطان عبد الحمید خان غضبناک ہو جاتے ہیں ۔۔۔۔۔۔
اپنی تمام فوج کو ۔۔۔۔۔۔عسکری تیاریوں کا حکم دیتے ہوئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عسکری لباس میں ملبوس رہنے کا حکم صادر فرماتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 اور خود بھی عسکری لباس زیب تن کر کے ۔۔۔۔۔۔۔ہتھیاروں کو جسم پر آویزاں کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔
اسی غضب کے عالم میں ۔۔۔۔۔۔۔ فرانسیس سفیر کی طلبی ہوتی ہے،،،،،،،،،،
 سفیر یہ سوچتا ہے کہ ۔۔۔۔۔۔شاید خلیفتہ المسلمین۔۔۔۔۔۔حکومت فرانس کو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 کوئی مذمتی بیان دیں گے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔(موجودہ دور کے غداران اور ننگ دین وملت حکمران نما کٹھ پتلیوں کی طرح)
 اور ڈرامے کے موضوع پر ۔۔۔۔۔بات چیت ہو گی۔۔۔۔۔۔۔اور ہم ڈرامہ پیش کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے،،،،،،
مگر جب وہ سفیر ۔۔۔۔۔۔۔۔قصر خلافت میں داخل ہوا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تو یہ دیکھ کر دنگ رہ گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قصر خلافت کا ہر فرد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔عسکری لباس میں ملبوس تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 جب وہ خلیفتہ المسلمین کے دربار میں پہنچا۔۔۔۔۔۔ تو یہ دیکھ کر ۔۔۔۔۔۔۔اس پر بجلی سی گر گئی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کہ خود خلیفہ عسکری لباس میں ہتھیار زیب تن کیئے بیٹھے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!
اس سفیر نے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔مرد مومن کی ہیبت سے مغلوب ہو کر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فوراََ کہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میرے آقا! آپ کا پیغام مل گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!
 اس کے بعد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس سفیر نے ۔۔۔۔۔۔حکومت فرانس کو فوراََ لکھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 کہ یہ ڈرامہ بند کر دو۔۔۔۔۔۔۔۔۔! ورنہ اس کے نتائج ۔۔۔۔۔۔۔سہنے کی ہم میں طاقت نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔!!!
 حکومت فرانس تفصیلات معلوم ہونے پر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس گستاخانہ ڈرامے کو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔روکنے پر مجبور ہو گئی۔۔۔۔۔۔
 ایسا ہی پیغام ۔۔۔۔۔۔۔۔۔برطانیہ کو دیا گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مگر ۔۔۔۔۔۔۔وہ ٹکٹوں کی فروخت کا بہانہ بنانے لگا۔۔۔۔۔۔۔
اس پر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ خلیفتہ المسلمین سلطان عبد الحمید خان نے قصر خلافت سے ،،،،،،،،،،،،
 برطانیہ کے خلاف اعلان جہاد کرتے ہوئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اپنی تلوار ننگی کر لی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!
 اور قسم کھائی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کہ یہ تلوار ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس وقت تک نیام میں نہیں آئے گی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 جب تک برطانیہ و یورپ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔اپنے ان گھناؤنے ارادوں سے باز نہیں آ جاتے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!

سلطان عبد الحمید خان کے اس اقدام پر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پورا یورپ تھرا اٹھا،،،،،،،،،،،،،،،!!!

اور انہوں نے خلیفتہ المسلمین سلطان عبد الحمید خان سے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فوراََ اپنے ان غلیظ اور گھناؤنے عزائم کی معافی طلب کی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!

آج بھی پورے یورپ کی طرف سے سیدالکونین، امام الانبیاء، محبوب خدا، فخر موجودات ، وجہ تخلیق کائنات حضرت محمد ﷺ کی شان اقدس میں گستاخیوں کا سلسلہ جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!
 آج بھی امت مسلمہ کو ایک ایسے لیڈر کی ضرورت ہے جو مغرب کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر للکار سکے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!
 آج بھی امت مسلمہ ایک صلاح الدین ایوبی کی منتظر ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔جو گستاخ رسول ﷺ ریجی نالڈ کا سر قلم کر دے۔۔۔۔۔۔۔۔!!!
 آج بھی امت مسلمہ سلطان عبد الحمید خان کی منتظر ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جس کی ایک دھاڑ پر یورپ تھرا اٹھے ۔۔۔۔۔۔۔۔!!!
 آج امت مسلمہ کو اپنے نام نہاد بکاؤ اور یہود و نصاری کے تلوے چاٹنے والے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔لیڈروں کے مذمتی بیانوں کی نہیں ،،،،،،،،
 بلکہ غازیان ناموس رسالت کی ضرورت ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ جو ہر گستاخ کا سر قلم کرنے کی جرات اور حوصلہ رکھتے ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!

کی محمدﷺ سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں ۔۔۔!!!
 یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں ۔۔۔۔۔!!!

غامدی عقائد بمقابل اسلامی عقائد

2017-06-13 03:40:34 

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
غامدیت کا متفقہ اسلامی عقائد و اعمال سے تقابل
 جاوید احمد غامدی کے عقائد ونظریات امت مسلمہ اور علماء امت کے متفقہ اور اجماعی عقائد و اعمال سے بلکل الگ اور مختلف ہیں انہوں نے "سبیل المومنین" کو چھوڑ کر اس "غیر سبیل المومنین" کو اختیار کر لیاجس کے بارے میں اللہ عزوجل کا ارشاد پاک ہے کہ:۔ 
 وَمَنْ يُّشَاقِقِ الرَّسُوْلَ مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَـهُ الْـهُدٰى وَيَتَّبِــعْ غَيْـرَ سَبِيْلِ الْمُؤْمِنِيْنَ نُـوَلِّـهٖ مَا تَوَلّـٰى وَنُصْلِـهٖ جَهَنَّـمَ ۖ وَسَآءَتْ مَصِيْـرًا (115)
 اور جو کوئی رسول کی مخالفت کرے بعد اس کے کہ اس پر سیدھی راہ کھل چکی ہو اور سب مسلمانوں کے راستہ کے خلاف چلے تو ہم اسے اسی طرف چلائیں گے جدھر وہ خود پھر گیا ہے اور اسے دوزخ میں ڈالیں گے، اور وہ بہت برا ٹھکانا ہے۔
 ذیل میں علماء اسلام اور غامدی صاحب کے عقائد و نظریات کا ایک تقابلی جائزہ پیش کیا جاتا ہے جس کے بعد ہر شخص کے لیئے فیصلہ کرنا آسان ہو جاتا ہے کہ ان میں سے کون راہ حق پر ہے اور کون گمراہ ہے؟
 پہلے غامدی صاحب کا عقیدہ بیان کر کے اس کے بعد امت مسلمہ کا اجماعی عقیدہ پیش کیا جائے گا تاکہ ہر ایک عقیدہ کے موازنہ میں آسانی رہے۔
غامدی: قرآن کی صرف ایک قرات درست ہے باقی سب قراتیں عجم ہیں
اسلامی عقیدہ: قرآن کی سات قراتیں متواتر اور صحیح ہیں
غامدی: قرآن کا ایک نام میزان بھی ہے
اسلامی عقیدہ: میزان قرآن کے ناموں میں سے کوئی نام نہیں ہے۔
غامدی: قرآن کی متشابہ آیات کا بھی ایک واضح اور قطعی مفہوم سمجھا جا سکتا ہے
اسلامی عقیدہ: قرآن کی متشابہ آیات کا واضح اور قطعی مفہوم متعین نہیں کیا جا سکتا۔
غامدی: سورہ نصر مکی ہے 
اسلامی عقیدہ: سورہ نصر مدنی ہے
غامدی: قرآن میں اصحاب الاخدود سے مراد دور نبوی ﷺ کے قریش کے فراعنہ ہیں
اسلامی عقیدہ: اصحاب الاخدود کا واقعہ بعثت نبوہ ﷺ سے بھی بہت پہلے کا ہے۔
غامدی: سورہ لہب میں ابو لہب سے مراد قریش کے سردار ہیں
اسلامی عقیدہ: سورہ لہب میں ابو لہب سے مراد نبی کریم ﷺ کا کافر چچا ہے
 غامدی:اصحاب الفیل کو پرندوں نے ہلاک نہیں کیا تھا بلکہ وہ قریش کے پتھراؤ اور آندھی کی وجہ سے ہلاک ہوئے تھے۔ پرندے صرف ان کی لاشوں کو کھانے کے لیئے آئے تھے۔
 اسلامی عقیدہ: اللہ تعالی نے اصحاب الفیل پر ایسے پرندے بھیجے جنہوں نے انہیں تباہ و برباد کر کے رکھ دیا۔
غامدی: سنت قرآن سے مقدم ہے 
اسلامی عقیدہ؛ قرآن سنت پر مقدم ہے
 غامدی: سنت صرف افعال کا نام ہے اور اس کی ابتداء حضرت محمد ﷺ سے نہیں بلکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام سے ہوتی ہے۔
 اسلامی عقیدہ: سنت میں نبی کریم ﷺ کے اقوال، افعال اور تقریرات(خاموش تائید) سب شامل ہیں اور اس کی ابتداء آپ ﷺ سے ہی ہوتی ہے۔
غامدی: سنت صرف ستائیس اعمال کا نام ہے
اسلامی عقیدہ: سنتوں کی تعداد ہزاروں میں ہے
 غامدی: ثبوت کے اعتبار سے قرآن و سنت میں کوئی فرق نہیں ان دونوں کا ثبوت اجماع اور عملی تواتر سے ہوتا ہے۔
 اسلامی عقیدہ: ثبوت کے اعتبار سے قرآن و سنت میں واضح فرق ہے سنت کے ثبوت کے لیئے اجماع شرط نہیں 
غامدی: حدیث سے کوئی اسلامی عقیدہ یا عمل ثات نہیں ہوتا
اسلامی عقیدہ: حدیث سے بھی اسلامی عقائد و اعمال ثابت ہوتے ہیں۔
 غامدی:حضور اکرم ﷺ نے حدیث کی حفاظت اور اشاعت و تبلیغ کے لیئے کوئی اہتمام نہیں کیا
 اسلامی عقیدہ: رسول اللہ ﷺ نے احادیث کی حفاظت، اشاعت و تبلیغ کے لیئے بہت اہتمام کیا تھا۔
 غامدی: ابن شہاب زہری رحمہ اللہ کی کوئی روایت قبول نہیں کی جا سکتی وہ ایک ناقابل اعتبار راوی ہیں۔
 اسلامی عقیدہ: امام ان شہاب زہری رحمہ اللہ روایت حدیث میں ثقہ و معتبر راوی ہیں اور ان کی روایات قابل قبول ہیں۔
 غامدی: دین کے مصادر قرآن کے علاوہ دین فطرت کے حقائق، سنت ابراہیمی اور قدیم صحائف بھی ہیں۔
 اسلامی عقیدہ: دین و شریعت کے مصادر و مآخذ قرآن و سنت اور اجماع و قیاس (اجتہاد) ہیں۔
غامدی: معروف و منکر کا تعین انسانی فطرت کرتی ہے
اسلامی عقیدہ: معروف و منکر کا تعین وحی الٰہی کرتی ہے۔
غامدی: نبی کریم ﷺ کی وفات کے بعد کسی شخص کو بھی کافر قرار نہیں دیا جا سکتا
 اسلامی عقیدہ: جو شخص دین کے بنیادی امور اور ضروریات دین میں سے کسی ایک کا بھی منکر ہو اسے کافر قرار دیا جا سکتا ہے۔
 غامدی:عورتیں بھی باجماعت نماز میں امام کی غلطی پر بلند آواز سے سبحان اللہ کہہ سکتی ہیں۔
اسلامی عقیدہ: امام کی غلطی پر عورتوں کے لیئے بلند آواز میں سبحان اللہ کہنا جائز نہیں۔
غامدی: زکٰوۃ کا نصاب منصوص اور مقرر نہیں ہے
اسلامی عقیدہ: زکٰوۃ کا نصاب منصوص اور مقرر شدہ ہے۔
غامدی: ریاست کسی بھی چیز کو زکٰوۃ سے مستشنٰی کر سکتی ہے
اسلامی عقیدہ: اسلامی ریاست کسی بھی چیز یا شخص کو زکٰوۃ سے مستشنٰی نہیں کر سکتی
غامدی: بنو ہاشم کو زکٰوۃ دینا جائز ہے
اسلامی عقیدہ: بنو ہاشم کو زکٰوۃ دینی جائز نہیں
 غامدی: اسلام میں موت کی سزا صرف دو جرائم "قتل نفس اور فساد فی الارض" پر دی جا سکتی ہے۔
اسلامی عقیدہ: اسلامی شریعت میں موت کی سزا بہت سے جرائم پر دی جا سکتی ہے
غامدی: دیت کا قانون وقتی اور عارضی تھا
اسلامی عقیدہ: دیت کا قانون اور حکم ہمیشہ کے لیئے ہے
غامدی: عورت اور مرد کی دیت برابر ہے
اسلامی عقیدہ: عورت کی دیت مرد کی دیت سے آدھی ہے
غامدی: اب مرتد کی سزاء قتل باقی نہیں ہے
اسلامی عقیدہ: اسلام میں مرتد کے لیئے قتل کی سزاء ہمیشہ کے لیئے ہے 
غامدی: زانی کنوارا ہو یا شادی شدہ دونوں کی سزاء سو کوڑے ہے۔
اسلامی عقیدہ: شادی شدہ زانی کی سزاء ازروئے سنت سنگساری ہے
غامدی: چور کا دایاں ہاتھ کاٹنا قرآن سے ثابت ہے
اسلامی عقیدہ: چور کا دایاں ہاتھ کاٹنا صرف سنت سے ثابت ہے 
غامدی: شراب نوشی پر کوئی شرعی سزا نہیں ہے
 اسلامی عقیدہ: شراب نوشی کی شرعی سزا موجود ہے جو اجماع امت کی رو سے اسی کوڑے مقرر ہیں 
 غامدی: صرف عہد نبوی ﷺ کے عرب مشرکین اور یہود ونصاریٰ مسلمانوں کے وارث نہیں ہو سکتے
اسلامی عقیدہ: کوئی کافر کسی مسلمان کا کبھی وارث نہیں ہو سکتا
غامدی: عورت کے لیئے دوپٹہ اوڑھنا شرعی حکم نہیں 
 اسلامی عقیدہ: عورت کے لیئے دوپٹہ اور اوڑھنی پہننے کاحکم قرآن کی سورۃ النور کی آیہ نمبر 31 سے ثابت ہے۔
 غامدی: کھانے کی صرف چار چیزیں ہی حرام ہیں :خون، مردار، سؤر کا گوشت اور غیر اللہ کے نام کاذبیحہ
 اسلامی عقیدہ: ان کے علاوہ بھی کھانے کی بہت سی چیزیں حرام ہیں جیسے کتے اور پالتو گدھے کا گوشت وغیرہ وغیرہ
غامدی: کئی انبیاء قتل ہوئے مگر کوئی رسول قتل نہیں ہوا
اسلامی عقیدہ: ازروئے قرآن بہت سے انبیاء و رسل قتل ہوئے
غامدی: عیسی علیہ السلام وفات پا چکے ہیں
 اسلامی عقیدہ: حضرت عیسی علیہ السلام آسمان پر زندہ اٹھا لیئے گئے۔ وہ قرب قیامت کو دوبارہ دنیا میں تشریف لائیں گے اور دجال لعین کو قتل کریں گے
غامدی:یاجوج ماجوج اور دجال سے مراد مغربی اقوام ہیں 
 اسلامی عقیدہ: یاجوج ماجوج اور دجال قرب قیامت کی دو الگ الگ نشانیاں ہیں ۔ احادیث کی رو سے دجال ایک یہودی شخص ہو گا جو دائیں آنکھ سے کانا ہو گا
غامدی: جہاد و قتال کے بارے میں کوئی شرعی حکم نہیں ہے
اسلامی عقیدہ: جہاد و قتال ایک شرعی فریضہ ہے
 غامدی: کافروں کے خلاف جہاد کرنے کا حکم اب باقی نہیں رہا اور اب مفتوح کافروں سے جزیہ نہیں لیا جا سکتا
 اسلامی عقیدہ: کفار کے خلاف جہاد کا حکم ہمیشہ کے لیئے ہےاور مفتوح کفار (ذمیوں) سے جزیہ لیا جا سکتا ہے

حفاظت قرآن اور اغیار کی گواہی

2017-06-13 03:24:59 

 کلام پاک جب نازل ہو رہا تھا اس زمانے میں عرب میں لکھنے پڑھنے کا رواج بہت ہی کم تھا۔کتاب نام کی کوئی چیز نہ تھی۔ شعراء وغیرہ کا کلام لوگ زبانی یاد رکھا کرتے تھے۔وہ بھی گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ ذہنوں سے مفقود ہو جاتا۔حتیٰ کہ مذاہب عالم کی مقدس کتابیں بھی وقت کے ہاتھوں محفوظ نہ رہیں۔ اکثر تو وہ زبان جس میں یہ نازل ہوئی تھیں ختم ہو گئیں۔ مثلاََ حضرت عیسیٰ علیہ السلام جنہیں آسمانوں کی طرف اٹھائے ہوئے تقریباََ دو ہزار سال ہوئے ان کے خطبات ناپید ہیں ۔ان کی تالیف کردہ انجیل کہیں بھی نہیں اور جو ہے وہ ان کے پیروکاروں کی لکھی باتیں ہیں۔وہ بھی ترجموں میں ، اصل زبان جس میں یہ لکھی گئی وہ بھی ختم ہو چکی۔باقی مذاہب کی کتابوں کا بھی یہی حال ہے۔اس پس منظر میں قرآن حکیم فرقان حمید اعلان کرتا ہے :۔ 
"إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ"
 ہم ہی اس پیغام کو نازل کرنے والے ہیں اور ہم ہی اس کی حفاظت کے ذمہ دار ہیں۔ (سورۃ الحجر آیہ 9)
 یہ ایک بہت بڑی پیشنگوئی تھی۔وقت قرآن کریم کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکا۔بلکہ اس سے عربی زبان کو دوام مل گیا ہے۔قرآن حکیم کے غیر مسلم ناقدین کے نزدیک بھی قرآن حکیم اپنے حروف،الفاظ،آیات،سورتوں کی ترتیب غرض ہر لحاظ سے وہی ہےجو دنیا کو ختم الرسل حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے دیا تھا۔اللہ عزوجل نے اس کی حفاظت کو کاغذ، قلم اور پرنٹنگ کے سپرد کرنے کے بجائےیہ کام لوگوں کے دلوں کو سونپ دیا۔اور اسے یاد رکھنا اتنا آسان بنا دیا کہ چھ سات سال کے بچوں کو بھی قرآن حکیم زبانی یاد ہو جاتا ہے۔چنانچہ آج بھی دنیا میں لاکھوں لوگ حافظ قرآن ہیں۔ مطلب یہ کہ جب تک دنیا میں انسان باقی ہے قرآن باقی ہے۔
 یہ قرآن پاک کا زندہ معجزہ ہے کہ کٹر سے کٹر مخالفین بھی اس کی صحت پر انگلی نہیں اٹھا سکتے۔لیکن ان کے بیانات میں کچھ نہ کچھ حد تک خبث باطن ضرور ہوتا ہے۔چنانچہ قرآن حکیم کے متعلق چند مخالفین کے اقوال درج ذیل ہیں:۔
11۔ہیری گیلارڈ ڈارمن لکھتا ہے کہ "قرآن پاک کے بیانات جو مسلمانوں کے پیغمبر حضرت محمد ﷺ پر اللہ عزوجل نے وحی کے ذریعے نازل کیئےوہ اپنے معنی میں ہر زمانے کے لیئے پکے معجزات کی طرح ہیں"
22۔فرانسیسی مصنفہ لوراویسیا والر لکھتی ہے کہ "قرآن پاک کے کتاب قدسی ہونے کا یہی ایک ثبوت کافی ہے کہ زمانہ اس میں زیر و زبر تک کا تغیر نہ لا سکا" 
33۔روڈی پیرٹ لکھتا ہے کہ "ہمارے پاس ایسا کوئی سبب نہیں جو ہمیں یہ اعتقاد رکھنے پر مجبور کرے کہ قرآن میں کوئی ایک بھی آیہ ایسی ہے جو حضرت محمد ﷺ سے مروی نہیں"4۔ انگریز پروفیسر اے جی ایبرےجس نے قرآن کریم کا ترجمہ بھی کیا، نے یہ دلیل پیش کی کہ"اہل مغرب کے دلوں میں قرآن پاک کے متعلق جو غلط فہمیاں ہیںاس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ان تک قرآن پاک کے صحیح تراجم نہیں پہنچے۔اور مغرب کے سکالروں کو صحیح طور پر کسی نے یہ نہ سمجھایا کہ وہ قرآن پاک کو سمجھنے کے لیئے کیا طریقہ کار اختیار کریں۔وہ جس طرح تورات و انجیل کو پڑھتے ہیں یہ طریقہ قرآن سمجھنے میں مددگار ثابت نہیں ہو سکتا"
5۔ "ایکس لیورزون “ فرانسیسی فلاسفر کا قول ملاحظہ فرمائیے:
 ”قرآن ایک روشن اور پرحکمت کتاب ہے، اس میں کچھ شک نہیں کہ وہ ایسے شخص پرنازل ہوئی جو سچا نبی تھا اور خدا نے اس کو بھیجا تھا۔“
6۔ ”ریورنڈ میکسوئیل کنگ“ لکھتا ہے کہ
 ”قرآن الہامات کا مجموعہ ہے، اس میں اسلام کے قوانین، اصول اوراخلاق کی تعلیم اور روز مرہ کے کاروبار کی نسبت صاف ہدایات ہیں۔ اس لحاظ سے اسلام کو عیسائیت پر فوقیت ہے کہ اس کی مذہبی تعلیم اور قانون علیحدہ چیز نہیں ہیں۔“

کمیونزم اور انسانی حقوق

2017-06-11 08:25:53 

کمیونزم اور انسانی حقوق:۔ کمیونزم یوں تو محنت کش طبقہ کے معاشرتی و سماجی استحصال اور غیر طبقاتی سماج کی جدوجہد کے لیئے وجود میں آیا ۔ جس میں ہر فرد کو تمام سہولیات زندگی برابری کی بنیاد پر مہیا کرنے اور تمام ذرائع پیداوار عوام کی ملکیت ہونے کا خوش نما نعرہ لگایا گیا۔ لیکن کمیونزم کو جب روس و چین میں اقتدار ملا تو انہوں نے انسانی حقوق کی بدترین پامالی کی جس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی ۔ اس کے نتیجے میں پوری کی پوری اقوام کے حقوق سلب کر کے انہیں کمیونسٹ پارٹی کا غلام بنا دیا گیا۔ کمیونزم میں انسانوں کو جن بنیادی حقوق سے محروم کیا گیا اس کاخلاصہ درج ذیل ہے :۔ ٭ انسانوں کو ذاتی جائیداد رکھنے کے حق سے محروم کر دیا گیا۔ ہر شخص کی ملکیت میں جو پراپرٹی تھی اسے حکومت کی تحویل میں دے دیا گیا ٭ صرف اور صرف ایک سیاسی جماعت ، کمیونسٹ پارٹی کے قیام کی اجازت دی گئی۔ کسی شخص کو یہ حق حاصل نہ تھا کہ وہ کسی دوسری سیاسی پارٹی یا نظریے کی بنیاد رکھ سکے ٭سرکار ی نظریے اور اقدامات پر تنقید کرنے کا حق چھین لیا گیااور آزادی اظہار رائے کا مکمل طور پر خاتمہ کر دیا گیا۔ ٭ لوگوں کی جان ، مال اور عزت کے خلاف ہر قسم کی کارروائی کرنے کا حق سوویت انٹیلی جینس ایجنسی کو دے دیا گیا۔ ٭ جوزف اسٹالن کے دور میں کثیر تعداد میں ان لوگوں کو قتل کر دیا گیا جن کے متعلق ذرہ بھر بھی شبہہ تھا کہ وہ کمیونزم کے خلاف ہیں۔اسٹالن کے دور میں جن افراد کو سزائے موت دی گئی ان کی تعداد کا اندازہ اسی لاکھ سے لیکر پانچ کروڑ تک لگایا گیا ہے ۔درست اندازہ لگانا اس وجہ سے ممکن نہیں کہ سوویت حکومت کے ریکارڈز تک کسی کو بھی رسائی حاصل نہ تھی۔ ٭ بسا اوقات چند افراد کے جرائم کی سزا پوری کی پوری کمیونٹی کو دی گئی ۔ ان میں جرمن، یونانی، تاتار اور چیچنی کمیونٹیز شامل ہیں۔ ٭آزادی اظہار رائے پر ہر طرح سے پابندیاں عائد کی گئیں اور سنسر شپ کے قانون کو سختی کے ساتھ نافذ کیا گیا۔ ٭ عوام الناس پر اکٹھا ہو کر کوئی اجتماع کرنے یا تنظیم بنانے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی۔ ٭ مذہب پر پابندی عائد کر کے ہر مذہب سے تعلق رکھنے افراد کو بری طرح سے کچل دیا گیا۔ان میں مسلمان، عیسائی ، یہودی اور دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے سبھی شامل تھے ۔ ٭ حکومت کی اجازت کے بغیر کسی بھی شخص کو ملک سے باہر جانے کی اجازت نہ تھی ۔بعض شہروں کو "بند شہر" قرار دے کر سرے سے ہی ان میں داخلہ تک ممنوع قرار دے دیا گیا۔ ٭ کمیونسٹ چین میں روس کی بنسبت صورت حال قدرے بہتر تھی اور لوگوں پر روس کی بنسبت کم پابندیاں عائد کی گئیں۔مذہب کی اجازت دی گئی لیکن سخت پابندیاں عائد کرنے کے بعد۔سیاسی آزادی کو تقریباََ ختم کر دیا گیا اور ہر خاندان پر پابندی عائد کر دی کہ ایک سے زائد بچہ پیدا نہیں کر سکتے۔آزادی اظہار رائے کی اجازت پورے کمیونسٹ دور میں کبھی بھی نہیں رہی۔ ٭ کمیونسٹ نظام میں انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس نظام کی باقیات جو ابھی تک "کیوبا" میں موجود ہیں اس میں انسانوں پر اس قدر جبر روا رکھا گیا کہ اپریل 2008ء تک یہاں کے لوگوں کو کمپیوٹر تک رکھنے کی اجازت حاصل نہ تھی ۔ یہ ہیں وہ نظام جنہیں آج کل کے دیسی لیبرل اور ملحدین آئیڈیالائز کرتے ہیں ۔ ان حکومتوں میں انسانی حقوق کی جس برے طریقے سے پامالی کی گئی اس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی ۔

الحاد ایک ذہنی خلجان

2017-06-09 14:21:15 

الحاد ایک شدید قسم کے ذہنی خلجان کا نتیجہ ہے

یہ ایک ایسا مرض ہے جس کا شکار ہوتا تو انسان ہے شکل و صورت، ہاتھ پاؤں سب کچھ انسانوں جیسا ہی ہوتا ہے لیکن یہ اپنے آپ کو انسان نہیں مانتا۔

بلکہ اصرار کرتا ہے کہ اسے انسان کی نہیں بلکہ بن مانس اور باندر کی اولاد مانا جائے۔

اسے آئینہ دکھا کر بڑا سمجھایا جاتا ہے کہ بھئی تم باندر نہیں بلکہ انسان ہو لیکن مجال ہے جو مان جائے ۔

اس کے دماغ میں اکثر خیالی واقعات کی بھی بھرمار رہتی ہے۔ عقلی اور منطقی بات اس کے دماغ سے میلوں دور رہتی ہےِ اس لیئے اس کے دماغ میں ہمیشہ الٹی سیدھی فلمیں چلتی رہتی ہیں

جن میں سے ایک ارتقاء نامی فلم ہے یہ فلم ملحدوں کے باکس آفس پر اتنی ہِٹ ہے کہ ہر ملحد ارتقاء ارتقاء کی مالا جپتا نظر آتا ہے۔

کیونکہ یہی ارتقاء نامی فلم انہیں ان کے "اصل باپ" کا پتا دیتی ہے اس لیئے یہ اس کے خلاف کچھ سن نہیں سکتے اگر کوئی دلیل سے سمجھانے کی کوشش کرے تو سیخ پا ہو جاتے ہیں۔

شدیدتحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ  جس کو ملحد اپنا جد امجد مانتے ہیں وہ خود ان ملحدین کے کرتوت دیکھ کر انہیں اپنی "اولاد" ماننے سے انکاری ہیں۔

  اور اکثر "چاچا ڈارون" کو کوستے نظر آتے ہیں جس نے تاریخ کا یہ عظیم ترین "بہتان" ان پر لگایا۔ کیونکہ بقول ان کے ان کی بھی معاشرے میں کچھ "عزت" ہے ۔

اب اس صورت حال میں ملحدین کا لائحہ عمل کیا ہوگا؟ ان کا اگلا متوقع ارتقائی "اَبّا" کون ہو گا اس کے بارے میں وثوق سے کچھ بھی کہا نہیں جا سکتا۔

ان کا اکثر رویہ باندر جیسا ہوتا ہے کہ یہ بات کرتے وقت ایک ٹاپک پر بات نہیں کرتے ۔

بلکہ اِدھر سے اُدھر اور اُدھر سے اِدھر گلاٹیاں مار مار کر اپنے آپ کو "باندر کی اولاد" ثابت کرنے کے جتن کرتے رہتے ہیں۔

اس نسل کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ دوران ارتقاء اس میں تمام جانوروں کی رزیل صفات بھی ٹرانسفر ہوئی ہیں۔

جس کی وجہ سے کبھی کبھار ان کا رویہ کتوں جیسا ہوتا ہے جس کا ثبوت یہ اسلام جیسے آفاقی دین پر بھونک بھونک کر دیتے ہیں۔

اور کبھی ان کی حالت خنزیر جیسی ہوتی ہے ۔ جو گروہ کی شکل میں ہر طرف "شکار" کی تلاش میں رال ٹپکاتا نظر آتا ہے۔
عام طور پر ان کی کیفیت "گدھے" جیسی ہوتی ہے جو شیرکی کھال پہن کر گھومتے رہتے ہیں کہ کہیں پہچان نہ لیئے جائیں۔ چونکہ گیدڑ کی بزدلی بھی ان میں بدرجہ اتم موجود ہے

اس لیئے یہ منافقت کی چادر اوڑھے اپنی اصلیت چھپا کر معاشرے میں مسلمانوں جیسی وضع قطع بنا کر رہتے ہیں ۔

ان کا ایک تعجب آمیز اور شدید حیران کن نعرہ "انسانی حقوق" کا بھی سننے کو ملتا ہے ۔

یہ نعرہ سن کر کئی لوگ تو مارے حیرت کے انگلیاں دانتوں میں دبا لیتے ہیں کہ" ذات کا جانور اور بات انسانی حقوق کی "

ان میں کچھ "گینڈا نما آنٹیاں" بھی پائی جاتی ہیں  جن کو اور تو کوئی کام کاج ہوتا نہیں اکثر سڑکوں پر بیٹھ کر "موم بتیوں" سے" کھیلتی "نظر آتی ہیں۔

ان کا دماغ چونکہ بقول ان کے باندر کے دماغ کے ارتقاء کا نتیجہ ہے اس لیئے ان کی اپنی ایک الگ "سائنس "ہے۔

اور اس "سائنس" میں "انسانیت" کی فلاح و بہبود کے لیئے ان کی بے شمار" مفید اور حیرت انگیز دریافتیں" بھی ہیں۔کیونکہ ایجادات کے تو یہ قابل نہیں اس لیئے دریافتوں پر ہی اکتفاء کیئے بیٹھے ہیں

مثال کے طور پر  "نظریہ خود بخود" ان کی ایک ایسی حیرت انگیز اور ناقابل بیان "خوبیوں" بھری دریافت ہے جس کی مثال پوری دنیا کی تاریخ میں نہیں ملتی ۔
یہ دنیا کی واحد عجیب و غریب "مخلوق" ہیں جو خود بخود پیدا ہوئی ہیں !
یہ نظریہ ان کے بڑا کام آتا ہے ۔ جہاں مومن اپنے عقلی و منطقی دلائل سے ان ناطقہ بند کر دیتے ہیں وہاں یہ "نعرہ خود بخود" لگا دیتے ہیں !

ان کی ایک اور حیران کن دریافت پچھلے دنوں سامنے آئی جس کے مطابق"برقع وٹامن ڈی کے حصول کی راہ میں رکاوٹ ہے" ۔

ان کی اس دریافت نے تو "سائنسی دنیا" میں انقلاب برپا کر دیا۔

پوری دنیا کے سائنس دان اس عظیم دریافت کے بانی کو ہاتھوں میں چراغ لے کر ڈھونڈ رہے ہیں  تاکہ اس عظیم سائنس داند کی مناسب "خاطر تواضع" کی جا سکے۔

لیکن وہ عظیم "سائنس داند" شاید "شہرت و ناموری" کی تمنا نہیں رکھتے اس لیئے اس دن سے ہی گدھے کے سر سے سینگ کی مانند غائب ہیں!

اس کے علاوہ ان کی ایک فقید المثال دریافت سامنے آئی ہے کہ "پاکستان میں چاند پر جانے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ "مولوی" ہے"۔

اس دریافت نے تو جیسے ملحدوں کی دنیا ہی بدل کر رکھ دی ۔اب ہر ملحد اپنی نالائقی، نکمے اور پھوہڑ پن،کاہلی اور بیکاری کا ذمہ دار "مولوی" کو قرار دے کر بری الذمہ ہو سکتا تھا۔

اس دریافت کے نتیجے میں کچھ "نئے نویلے" ملحد اپنی ولادت نا مسعود تک کا ذمہ دار بھی "مولوی" کو قرار دیتے پائے گئے ۔

اکثر یہ نیند میں بھی مولوی،اسلام، برقعہ ، داڑھی وغیرہ بڑبڑاتے پائے گئے ۔

ان کی ایک اندھا دھند تحقیق کے مطابق دنیا بھر میں ملحدین کی تعداد میں آئے روز اضافہ بھی ہو رہا ہے۔

ان کی اس بات کو سنجیدہ لے کر ہمارے کچھ "محققین" نے تحقیق کی ٹھانی ۔  نتیجہ یہ سامنے آیا کہ بھارت کے کسی شہر میں "اصل باندروں" کی آبادی میں خاطر خواہ اضافہ دیکھنے میں آیا تھا۔

اور چونکہ یہ ملحدین باندروں کو اپنا جد امجد مانتے ہیں (وہ الگ بات کہ باندر اس سے انکاری ہیں) اس لیئے ان کی آبادی میں اضافے کو یہ اپنی آبادی میں اضافہ گردانتے ہیں !

الحاد چونکہ ایک ذہنی عارضہ ہے اس لیئے اس عارضے کے متاثرین کی حالت بسا اوقات انتہائی قابل رحم ہوتی ہے !

انہیں امریکہ اور اتحادی ممالک کا انسانیت کا قتل عام نظر نہیں آتا لیکن عید الاضحیٰ پر غرباء و مساکین کی امداد ے لیئے دی جانے والی قربانی جانوروں پر "ظلم" لگتی ہے۔
انہیں مسلمانوں پر "بموں کی ماں" گرانے والے انسانیت کے چیمپئن لگتے ہیں اور اپنے دفاع میں ہاتھ اٹھانے والامظلوم مسلمان دہشتگرد!

انہیں دنیا میں ہر خرابی کے پیچھے اسلام  اور مسلمان نظر آتا ہے !
اگر آپ کو کہیں یہ مخلوق نظر آئے تو پانی میں بھگو کر آٹھ دس چھتر ماریں آدھے گھنٹے کے لیئے چھت سے لٹکا کر سرخ مرچوں کی دھونی دیں !
ایک فیصد امکان ہے کہ یہ مرض ان کی ٭٭٭ کے راستے باہر نکل آئے گا ! دوسری صورت میں جس طریقے سے پاگل کتے کا علاج کیا جاتا ہے وہ طریقہ آزمائیں
خود بھی ان سے نجات حاصل کریں اور دوسروں کو بھی ان سے نجات دلائیں!

 

 

 

 

قرآںی معلومات

2017-06-06 04:33:24 

معلوماتِ قرآن کریم

قرآن کریم کی پہلی منزل میں چار سورتیں، پچاسی رکوع اور چھے سو انہتر آیات ہیں۔

قرآن کریم کی دوسری منزل میں پانچ سورتیں، چھیاسی رکوع اور چھے سو پچانوے آیات ہیں۔

قرآن کریم کی تیسری منزل میں سات سورتیں، اڑسٹھ رکوع اور چھے سو پینسٹھ آیات ہیں۔

قرآن کریم کی چوتھی منزل میں نو سورتیں، چھہتر رکوع اور نو سو تین آیات ہیں۔

قرآن کریم کی پانچویں منزل میں گیارہ سورتیں، بہتر رکوع اور آٹھ سو چھپن آیات ہیں۔

قرآن کریم کی چھٹی منزل میں چودہ سورتیں، انہتر رکوع اور اور آٹھ سو ستاسی آیات ہیں۔

قرآن کریم کی ساتویں منزل میں چونسٹھ سورتیں، ایک سو دو رکوع اور ایک ہزار پانچ سو اکسٹھ آیات ہیں۔

قرآن کریم کا سب سے بڑا پارہ تیسواں پارہ ہے جس میں سینتیس سورتیں ، انتالیس رکوع اور پانچ سو چونسٹھ آیات ہیں۔

قرآن کریم کا سب سے چھوٹا پارہ چھٹا پارہ ہے جس میں ایک سو گیارہ آیات ہیں۔

قرآن کریم کی سب سے چھوٹی آیات(بامعنی) سورة المدثر کی آیت نمبر اکیس ہے۔
ثم نظر ( پھر تامل کیا)
 سورة المدثر۔۔آیت نمبر اکیس

قرآن کریم کی سب سے بڑی آیت سورة البقرہ کی آیت نمبر دو سو بیاسی ہے۔

قرآن کریم کا سب سے بڑا رکوع سورة صفٰت کا دوسرا رکوع ہے جس میں تریپن آیات ہیں۔

قرآن کریم کا سب سے چھوٹا رکوع سورة المزمل کا دوسرا رکوع ہے جس میں ایک ہی آیت ہے۔

قرآن کریم کی سب سے چھوٹی سورت سورة الکوثر ہے جس کی تین آیات ہیں ، گیارہ الفاظ ہیں اور سینتیس اعراب ہیں۔

قرآن کریم کی سب سے بڑی سورة البقرہ ہے جس کی دو سو چھیاسی آیات ہیں،چالیس رکوع ہیں اور چھے ہزار نو سو اٹھاون الفاظ ہیں۔

سورة اخلاص تہائی قرآن ہے جبکہ سورة کافرون اور سورة زلزال چوتھائی قرآن ہے،
 (ترمذی)

قرآن کریم میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو گیارہ بار "يا أيها النبي " پکارا گیا ہے۔

عرب ممالک میں ہر پارے کے دو حصے ہوتے ہیں ہر حصہ حزب کہلاتا ہے۔

لفظ قرآن، قرآن مجید میں بطور معرفہ پچاس بار اور بطور نکرہ اسی بار آیا ہے ۔یعنی پچاس بار قرآن کا مطلب کلام مجید ہے اور اسی بار ویسے کسی پڑھے جانے والی چیز کے معنی 
 میں استعمال ہوا ہے۔

قرآن کریم کی وہ سورتیں جو سو سے کم آیات والی ہیں مثانی کہلاتی ہیں۔

قرآں کی وہ سورتیں جو سو سے زیادہ آیات والی ہیں مَیں کہلاتی ہیں۔

قرآن کریم کے دوسرے اور پانچویں پارے میں نہ کسی سورت کی ابتداء ہے اور نہ ہی انتہا۔

قرآن کریم کے دو جملے جن کو الٹی سمت میں بھی پڑھا جائے تو مطلب اور تلفظ وہی رہتا ہے
کل فی فلک۔۔۔۔۔۔سورة الانبیا، آیت تینتیس
 ربک فکبر۔۔۔۔۔۔۔سورة المدثر، آیت تین

قرآن پاک کی سورة المجادلہ کی ہر سورت میں لفظ خاص" اللہ " آیا ہے۔

قرآن کریم کے آٹھ پارے ایک نئی سورت سے شروع ہوتے ہیں۔

قرآن کریم میں صحابہ کرام میں سے صرف ایک صحابی کا نام آیا ہے۔۔۔حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔۔

ہدہد کا نام قرآن کریم میں صرف ایک بار آیا ہے۔۔۔سورة النمل آیت بیس۔

قرآن کریم میں ہے کہ قیامت کے دن اللہ پاک کے عرش کو آٹھ فرشتوں نے تھام رکھا ہو گا۔۔۔۔سورة الحاقہ، آیت سترہ۔

قرآن کریم میں سب سے زیادہ دہرائی جانے والی آیت" پس تم اپنے پردوردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاو گے؟
 سورة الرحمن میں اکتیس بار

قرآن کریم میں تین مساجد کا نام آیا ہے
 مسجد اقصٰی، مسجد الحرام اور مسجد ضرار

قرآن کریم کے مطابق سیدنا موسٰی علیہ السلام کو نو معجزے عطاء فرمائے گئے۔۔۔۔
حوالہ
 سورة النمل آیت نمبر بارہ۔۔۔۔۔سورة بنی اسرائیل آیت نمبر ایک سو ایک

پانچ نبی جن کے نام اللہ رب العزت نے ان کی پیدائش سے قبل بتا دیے تھے
سیدنا احمد صلی اللہ علیہ وسلم۔۔۔سورة الصف آیت نمبر چھے
سیدنا یحیٰی علیہ السلام۔۔۔سورة المریم آیت نمبر سات
سیدنا عیسٰی علیہ السلام ۔۔۔سورة آل عمران آیت نمبر پینتالیس
سیدنا اسحاق علیہ السلام
سیدنا یعقوب علیہ السلام
 سورة ھود آیت نمبر اکہتر

قرآن کریم میں اللہ پاک نے اپنی صفت ربوبیت کا ذکر سب سے زیادہ مرتبہ فرمایا ہے قرآن کریم میں لفظ رب ایک ہزار چار سو اٹھانوے مرتبہ آیا ہے۔

قرآن کریم کی سورة الفاتحہ کو سورة واجبہ بھی کہتے ہیں کیوں کہ نماز میں اس کی قرآت واجب ہے۔

قرآن کریم میں دو دریاوں کا ذکر آیا ہے کہ یہ ایک ساتھ ہونے کے باوجود ان کا پانی آپس میں نہیں ملتا ایک کا پانی کھارا ہے ایک کا پانی میٹھا ہے ان دریاوں کا ذکر سورة الرحمٰن آیت نمبر انیس بیس میں ہے یہ دونوں دریا جنوبی افریقہ کے شہر کیپ ٹاون میں واقع ہیں۔

سورة صمد،سورة نجات،سورة اساس، سورة معوذہ،سورة تفرید،سورة تجرید،سورة جمال اور سورة ایمان۔۔یہ سب سورة اخلاص کے نام ہیں۔

سورة الحجر آیت نمبر بہتر میں اللہ پاک نے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان (عمر) کی قسم کھائی ہے

تیری جان(عمر) کی قسم وہ تو اپنی مستیوں میں مدہوش تھے۔

قرآن کریم کی پانچ سورتوں کا آغاز الحمد سے ہوتا ہے۔
 سورة الفاتحہ،سورة الانعام، سورة سبا،سورة الکہف اور سورة فاطر۔

قرآن کریم کی پانچ سورتوں کا آغاز قل سے ہوتا ہے
 سورة االاخلاص،سورة الکافرون ،سورة الفلق،سورة الناس اور سورة الجن

لاالہ الا محمد الرسول اللہ(صلی اللہ علیہ وسلم)
 پورا کلمہ طیبہ قرآن کریم میں کسی ایک جگہ بھی نہیں آیا ہے۔

"بسم اللہ الرحمٰن الرحیم " سب سے پہلے سیدنا خالد بن سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے لکھی تھی۔

قرآن کریم میں چار سبزیوں کا ذکر ہے۔
 ساگ،ککڑی ،لہسن اور پیاز

قرآن کریم کی آخری وحی کے کاتب سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے۔

قرآن کریم میں تین شہروں کا نام آیا ہے
 یثرب،بابل اور مکہ

قرآن کریم میں چار پہاڑوں کا نام آیا ہے
 کوہ جودی،کوہِ صفا،کوہِ مروہ اور کوہِ طور

قرآن کریم میں چار دھاتوں کا ذکر آیا ہے
 لوہا،سونا،چاندی اور تانبا

قرآن کریم میں تین درختوں کا نام آیا ہے
 کھجور،بیری اور زیتون

قرآن کریم میں پانچ پرندوں کا ذکر آیا ہے
 ہدہد،ابابیل،کوا،تیتر اور بٹیر

قرآن کریم نے ابولہب کے علاوہ کسی کو کنیت سے نہیں پکارا
 عرب کسی کو عزت اور شرف سے نوازنے کے لیے کنیت سے پکارتے ہیں لیکن یہاں معاملہ اور ہے ابولہب کا اصل نام عبدالعزیٰ تھا جو ایک کہ شرکیہ نام ہے عزیٰ اس بت کا نام تھا جسے قریش کے کفار پوجتےتھے اور عبدالعزیٰ کا معنی عزیٰ کا غلام۔۔لہذا اللہ پاک نے شرکیہ نام سے پکارنے بجائے ابولہب کو کنیت سے پکارا۔

قرآن کریم میں سب سے طویل نام والی سورت سورة بنی اسرائیل ہے۔

قرآن کریم میں سب سے زیادہ اسماء الحسنےٰ کا ذکر سورة الحشر کی آیت نمبر تئیس میں ہے۔

قرآن کریم میں پیغمبروں کے نام سے چھے سورتیں ہیں
 سورة یونس،سورة یوسف،سورة ہود، سورة ابراہیم،سورة محمد اور سورة نوح

قرآن کریم کی تین سورتیں ہیں جن کا نام ان سورتوں کے پہلے لفظ سے لیا گیا ہے
 سورة طحہٰ، سورة یٰسین اور سورة ق

قرآن کریم کی بارہ سورتیں ہیں جن کے نام میں کوئی نقطہ نہیں آتا
 مائدہ،ہود،رعد،طٰہ،روم،ص،م حمد،طور،،ملک،دہر،اعلی، اور عصر

قرآن کریم لفظ الرحمٰن ستاون اور الرحیم ایک سو چودہ مرتبہ آیا ہے۔

قرآن میں لفظ ابلیس گیارہ مرتبہ آیا ہے،۔

قرآن کریم میں انسانوں میں سب سے زیادہ ذکر سیدنا موسیٰ علیہ السلام کا آیا ہے۔۔چھتیس بار
 (کم و بیش)

نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد قرآن کریم کے سب سے پہلے حافظ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے۔

سورة بنی اسرائیل کا دوسرا نام سورة اسراء بھی ہے۔

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ترجمانِ قرآن بھی کہا جاتا ہے۔

قرآن کریم میں لفظ احمد ایک بار آیا ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم چار مرتبہ

قرآن کریم میں لفظ اللہ دو ہزار چھے سو اٹھانوے دفعہ آیا ہے۔

قرآن کریم کا سب سے پہلے اردو ترجمہ سترہ سو چھہتر میں شاہ رفع الدین نے کیا تھا۔

قرآن کریم کی ایک سورت کا آغاز دو پھلوں کے نام سے ہوا ہے
سورة التین
والتین وزیتون
 انجیر اور زیتون

قرآن کریم کی جس سورت کا اختتام دو نبیوں کے نام پر ہوتا ہے وہ سورة الاعلی ہے
 ابراہیم و موسی

قرآن کریم کی حوامیم(یعنی جن سورتوں کا آغاز حم سے ہوتا ہے) وہ سات ہیں۔
 سورة غافر،، سورة فصلت، سورة زخرف،سورة الدخان ،سورة الجاثیہ ،سورة الاحقاف اور سورة الشوریٰ

قرآن کریم کی پانچ سورتیں ہیں جن کا آغاز الر سے ہوتا ہے
 سورة یونس ، سورة ہود، سورة یوسف، سورة الحجر اور سورة ابراہیم

قرآن کریم کی تین سورتیں سبح سے شروع ہوتی ہیں
سورة الحدید،سورة الحشر، سورة اور سورة الصف
قرآن کریم میں دو سورتیں ہیں جن کا آغاز یسبح سے ہوتا ہے
 سورة الجمعہ اور سورة التغابن

دو سورتیں ہیں جن کی ابتدا تبارک سے ہوتی ہے
 سورة الفرقان اورسورة الملک

چھے سورتیں ہیں جو الم سے شروع ہوتی ہیں
 سورة البقرة ،سورة آل عمران، سورة العنکبوت،سورة الروم،سورة لقمان اور سورة السجدہ

قرآن کریم میں دو سورتیں ہیں جن کا آغاز طسم سے ہوتا ہے۔
 سورة الشعراء اورسورة القصص

چار سورتیں ہیں جن کی ابتداء انا سے ہوتی ہے
 سورة الفتح،سورة نوح،سورة القدر اور سورة الکوثر

دو سورتیں ہیں جو ویل سے شروع ہوتی ہے
 سورة المطفیفین، سورة الھمزہ

تین سورتیں ہیں جن کی ابتداء یاایھالنبی سے ہوتی ہے
 سورة الاحزاب ،سور ة الطلاق اور سورة التحریم

سورة الاخلاص کی تمام آیات د پر ختم ہوتی ہیں۔

سورة التوبہ کی آیت نمبر چھتیس میں ہے کہ مہینوں کی تعداد بارہ ہے۔

سورة المجادلہ کا دوسرا نام سورة ظہار ہے۔

قرآن کریم کہ پے در پے تین سورتیں ہیں جن میں لفظ اللہ نہیں آیا
 سورة الرحمن،سورة الواقعہ اور سورة القمر

سورہ محمد کا دوسرا نام سورة القتال ہے۔

قرآن کریم کی سات سورتیں حیوانوں کے نام پر آئی ہیں۔
 سورة البقرة۔۔ گائے

سورة الانعام۔۔۔مویشی

سورة النحل۔۔۔شہد کی مکھی

سورة النمل ۔۔۔چیونٹیاں

سورة العنکبوت۔۔۔۔مکڑی

سورة العادیات۔۔۔۔۔گھوڑے

سورة الفیل۔۔۔۔۔ہاتھی

اور

قرآن کریم میں
آدم علیہ السلام کا ذکر پچیس بار
ادریس علیہ السلام کا ذکر دو بار
نوح علیہ السلام کا ذکر تینتالیس بار
ہود علیہ السلام کا ذکر سات بار
صالح علیہ السلام کا ذکر نو بار
ابراہیم علیہ السلام کا ذکر انہتر بار
لوط علیہ السلام کا ذکر ستائیس بار
اسماعیل علیہ السلام کا ذکر بارہ بار
اسحاق علیہ السلام کا سترہ مرتبہ
یعقوب علیہ السلام کا سولہ مرتبہ
یوسف علیہ السلام کا ستائیس مرتبہ
ایوب علیہ السلام کا چار بار
شعیب علیہ السلام کا گیارہ بار
ہارون علیہ السلام کا بیس مرتبہ
ذوالفکل علیہ السلام کا دو مرتبہ
داود علیہ السلام کا سولہ مرتبہ
سلیمان علیہ السلام کا سترہ بار
ہارون علیہ السلام کا بیس بار
الیسع علیہ السلام کا کا د وبار
یونس علیہ السلام کا چار بار
زکریا علیہ السلام کا سات مرتبہ
یحییٰ علیہ السلام کا پانچ مرتبہ
اور
 عیسی علیہ السلام کا پچیس مرتبہ

ذکر آیا ہے
اللہ پاک کمی پیشی معاف فرمائے
 آمین

اقوام عالم اور توہین مذہب

2017-06-03 02:39:03 

 حضور سرور کائنات ﷺ کی دنیا میں بعثت کے وقت تک لوگ آزادی نام کی کسی چیز سے واقف تک نہ تھے۔آزادی منوں مٹی تلے دب چکی تھی۔عقول پر پردے پڑے ہوئے تھے۔ جہالت اور تاریکی کے تالے عقل کے دروازوں تک پہنچنے کی راہ میں حائل تھے۔آج جس علم و عقل پر دنیا نازاں ہے وہ سب انہی کے طفیل ہے جنہیں دنیا محمد ﷺ کے نام سے جانتی ہے۔انہوں نے دنیا میں بسنے والوں کو بتا دیا کہ سبقت کا میدان نیکی اور فضیلت ہے۔ بلندی اور فوقیت کی بنیاد اچھائی اور بھلائی ہے۔باہمی تعاون کی بنیاد مقاصد ہیں نہ کہ قوم، قبیلے، جنسیت اور رنگ۔ جس کے نتیجے میں مختلف ممالک، جنسوں، رنگوں اور نسلوں کے لوگ اکٹھے ہو کر پروان چڑھے۔انہوں نے تقویٰ، اعلیٰ اخلاق اور حسن سلوک کے ہزاروں منصوبوں کو پروان چڑھایا اور پھر اس دنیا میں حسین اقدار کی بہار کا آغاز ہوا۔
 جب رسول اللہ ﷺ کی حرمت و تقدس کے متعلق کوئی بات ہوتی ہے تویورپ کے بدمست ہاتھی تڑپ اٹھتے ہیں۔اقتدار کے ایوانوں میں ہلچل ہونے لگتی ہے۔ غیظ و غضب کی حالت میں وہ اپنی انگلیوں کے پورے چبانے لگتے ہیں انہین آزادی اظہار رائے پر ضرب پڑتی نظر آتی ہے۔اور وہ اسے انسانیت پر ظلم قرار دیتے ہیں حالانکہ مذہبی عقیدتیں بڑی حساس اور نازک ہوتی ہیں ہر شخص جو کسی مذہب سے تعلق رکھتا ہے وہ اپنے مذہب اور بانی مذہب کے خلاف کچھ بھی سننے کا روادار نہیں ۔ اپنی مذہبی اقدار کو تحفظ دینے کی خاطر ہر دور میں لوگ اپنے مذہب کے خلاف باتیں کرنے والوں کے لیئے سزائیں مقرر کرتے رہےاور اپنے مذاہب کی مقتدر شخصیات کی توہین کو قابل گردن زنی قرار دیتے رہے۔مذہب کے ساتھ ربط و تعلق شعوری طور پر ہو تو بانیان مذہب کی توہین کی سزا ہر جگہ قتل ہی رہی ہے۔البتہ ضمیر مردہ ہوجائے، مال و زر کی چمک آنکھوں کو خیرہ کرنے لگے عیاشی و بدمستی ہی خیال و قلب میں جاگزیں ہوتو پھر سوچ کے دھارے بدل جاتے ہیں۔مردہ قلوب آزادی اظہار رائے،روشن خیالی اور جدٹ پسندی کے نام پر ہر چیز کو قبول کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے۔ تاریخ کے اوراق سے مذاہب کی معروف و مقتدر شخصیات کی توہین کے حوالے سے سزا کا ایک جائزہ پیش خدمت ہے:۔
٭ قدیم عراق:۔
 نمرود اپنی سلطنت کی تمام تر وسعتوں کے ساتھ تخت نشین تھا۔لوگوں کی محنت کے بعد تمام اجناس اپنے خزانہ میں جمع کر لیتا ۔ اور بعد میں اپنے خدا ہونے کا اقرار لینے کے بعد لوگوں کو وہ غلہ فراہم کرتا۔یہ ظلم و تشدد اپنے عروج پر تھا۔لوگ نمرود کے علاوہ کئی بت بنا کر ان کی پرستش میں مصروف تھے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جب ان حالات کو ملاحظہ فرمایاتو قوم کو خدا وحدہ ُلاشریک کی عبادت کرنے کی دعوت دی اور بت پرستی سے منع فرمایا۔
إِذْ قَالَ لِأَبِيهِ وَقَوْمِهِ مَا هَٰذِهِ التَّمَاثِيلُ الَّتِي أَنتُمْ لَهَا عَاكِفُونَ 
سورۃ الانبیاء ( 52 ) 
 "جب انہوں نے اپنے چچا اور اپنی قوم کے لوگوں سے کہا یہ کیا مورتیں ہیں جن (کی پرستش) پر تم معتکف (وقائم) ہو؟"
اور پھر بلخصوص آپ علیہ السلام نے اپنے چچا کو مخاطب کر کے فرمایا:۔
اِذْ قَالَ لِاَبِيْهِ يَآ اَبَتِ لِمَ تَعْبُدُ مَا لَا يَسْـمَعُ وَلَا يُبْصِرُ وَلَا يُغْنِىْ عَنْكَ شَيْئًا 
سورۃ مریم (42)
 "جب اپنے چچا سے کہا اے میرے چچا تو کیوں پوجتا ہے ایسے کو جو نہ سنتا ہے اور نہ دیکھتا ہے اور نہ تیرے کچھ کام آ سکے۔"
 کیونکہ آپ کا چچا بتوں کی پوجا کرتا تھا اور انہیں برگزیدہ سمجھتا تھا تو اس نے سخت سزا کا اعلان کرتے ہوئے کہا:۔
قَالَ اَرَاغِبٌ اَنْتَ عَنْ اٰلِـهَتِىْ يَآ اِبْـرَاهِيْـمُ ۖ لَئِنْ لَّمْ تَنْتَهِ لَاَرْجُـمَنَّكَ ۖ وَاهْجُرْنِىْ مَلِيًّا 
سورۃ مریم (46)
 "کہا اے ابراہیم کیا تو میرے معبودوں سے پھرا ہوا ہے، البتہ اگر تو باز نہ آیا میں تجھے سنگسار کردوں گا، اور مجھ سے ایک مدت تک دور ہو جا۔"
 صرف آپ کا چچا ہی نہیں بلکہ جب آپ نےقوم کے بت خانے میں جا کر بتوں کو توڑا اور بعد میں اپنی قوم کو اس معاملے میں لاجواب بھی کر دیا ۔ اس کے باوجود انہوں نے ایک دوسرے سے کہا کہ اب ابراہیم علیہ السلام کو کیا سزا دی جائے تو لوگوں نے کہا:۔
قَالُوا حَرِّقُوهُ وَانصُرُوا آلِهَتَكُمْ إِن كُنتُمْ فَاعِلِينَ 
سورۃ الانبیاء ( 68 ) 
 "(تب وہ) کہنے لگے کہ اگر تمہیں (اس سے اپنے معبود کا انتقام لینا اور) کچھ کرنا ہے تو اس کو جلا دو اور اپنے معبودوں کی مدد کرو"
 یہ بات انہوں نے نہ صرف کہی بلکہ عملی طور پر بھی ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں پھینک دیا۔ رب قدیر کی قدرت سے وہ آگ ان کے لیئے سلامتی والی بن گئی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا وہ کون سا فعل تھا جس کی وجہ سے آپ کی قوم نے آپ کو آگ میں پھینکا تو وہ سوائے اس کے کیا ہے کہ آپ نے ان کے بتوں کو توڑ کر انہیں خدا واحد کی عبادت کرنے کی دعوت دی تو انہوں نے اسے اپنے بتوں کی توہین سمجھا ۔ اس سے ثابت ہوا کہ بت پرست اپنے بتوں کی گستاخی کی سزا قتل کا تصور رکھتے ہیں!
٭ قدیم مصر:
 فرعون مصر اپنی جلوہ سامانیوں کے ساتھ تخت پر موجود تھا۔اور بنی اسرائیل ست قبطی کام لے رہے تھے اور فرعون لوگوں سے اپنے خدا ہونے کا اقرار لے رہاتھا۔لوگ کفر و شرک کی تاریک وادیوں میں گم ہو چکے تھے۔ان کی عقلیں جہالت و لاعلمی کے پردوں میں لپٹ کر رہ گئی تھیں۔حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرعون اور اس کی قوم کواللہ لایزال ولم یزل کی عبادت کی تبلیغ فرمائی۔ فرعون کی دماغی گندگی آسمان کو چھو رہی تھی ۔زہنی طور پر وہ مفلوج ہو چکا تھا شرک کی تاریکی اس کا مقدر بن چکی تھی۔وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مقابلہ میں جادوگر لے آیا ۔ جب ان جادوگروں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے معجزات دیکھےتو وہ آپ پر ایمان لے آئے۔ فرعون یہ دیکھ کر سٹپٹا کر رہ گیا۔ اس نے جادوگروں کو سزا دینے کا فیصلہ کیا۔
 قَالَ اٰمَنْتُـمْ لَـهٝ قَبْلَ اَنْ اٰذَنَ لَكُمْ ۖ اِنَّهٝ لَكَبِيْـرُكُمُ الَّـذِىْ عَلَّمَكُمُ السِّحْرَۚ فَلَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ ۚ لَاُقَطِّعَنَّ اَيْدِيَكُمْ وَاَرْجُلَكُمْ مِّنْ خِلَافٍ وَّّلَاُصَلِّبَنَّكُمْ اَجْـمَعِيْنَ 
سورۃ الشعراء (49)
 "کہا کیا تم میری اجازت سے پہلے ہی ایمان لے آئے، بے شک وہ تمہارا استاد ہے جس نے تمہیں جادو سکھایا ہے، سو تمہیں ابھی معلوم ہو جائے گا، البتہ میں تمہارا ایک طرف کا ہاتھ اور دوسری طرف کا پاؤں کاٹ دوں گا اور تم سب کو سولی پر چڑھا دوں گا۔"
 وہ جادوگر فرعون کے کہنے پر میدان میں آئے تھےپھر فرعون ہی نے انہیں اس قدر سخت سزا دینے کا فیصلہ کیوں کیا۔ معلوم یہ ہوا کہ فرعون اور اس کی قوم یہ سمجھتی تھی کہ پیشوایان مذہب کی توہین کی سزا قتل ہے۔جادوگر جب حضرت موسیٰ علیہ السلام پر ایمان لائے تو فرعون نے اسے اپنی اور اپنے بتوں کی توہین قرار دیتے ہوئے جادوگروں کو قتل کرنے کا فیصلہ کیا۔
٭قدیم ایران:
 قدیم ایران میں مختلف ادوار میں مختلف حکومتیں تبدیل ہوتی رہی ہیں۔آریہ قوم، زرتشت،مزدک اور ساسانی لوگ ایران پر مختلف اوقات میں حکومت کرتے رہے۔نوشیروان بھی ایران کا حکمران رہا جو عدل و انصاف کے معاملے میں عالمی شہرت رکھتا ہے۔آج بھی مؤرخ اسے ایک عادل حکمران کے طور پر پیش کرتا ہے ۔ ان کے ہاں عدل و انصاف کے کیا قوانین تھے اس کے متعلق مشہور مذہبی سکالر جناب پیر کرم شاہ رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ : 
قانون میں تین قسم کے افعال کو جرم قرار دیا گیا تھا۔ 
 وہ جرم جو خدا کے خلاف ہوں یعنی جب ایک شخص مذہب سے برگشتہ ہو جائے یا اعتقاد میں بدعت پیدا کرے
 وہ جرم جو بادشاہ کے خلاف ہوں جب ایک شخص بغاوت یا لڑائی کرے یا جنگ میں پیٹھ پھیر کر بھاگ جائے
وہ جرم جو آپس میں ایک دوسرے کے خلاف ہوں۔
پہلی اور دوسری قسم کے جرائم کی سزا فوری موت تھی۔ اور تیسری قسم کے جرائم  کی سزا بعض صورتوں میں عقوبت اور بعض صورتوں میں موت ہوتی تھی۔
(ضیاء النبی جلد اول ص 96)
 مذکورہ بالا سطور سے یہ بات بلکل واضح ہے کہ قدیم ایران میں مذہب کی مقتدر شخصیات کی توہین قابل مواخذہ جرم تھا اور اس کی سزا فوری موت مقرر تھی۔یعنی وہ لوگ جو مذہبی طور پر اس قدر پست خیال تھے کہ آگ اور مختلف مورتیوں کی پوجا کرتے تھے ان کے نزدیک بھی پیشوایان مذہب کی گستاخی یا توہین کی سزا موت تھی ۔
٭ قدیم ہندوستان:۔
ہندوستان کی تاریخ  پانچ ہزار سال پہلے سے تہذیب کی روشنی پر پھیلی ہوئی تھی۔ہندوستان کی زیادہ تر آبادی ہندوؤں پر مشتمل تھی ۔اہل مغرب کی اصطلاح کے مطابق ہندوازم کو مذہب نہیں کہا جا سکتاکیونکہ یہ ہر قسم کے عقیدہ کو اپنانے کے لیئے تیار ہوتا ہے ۔ علامہ البیرونی نے اپنی زندگی کا ایک حصہ ہندوستان میں گزاراتحقیق و جستجو کر کے ہندوستان کے حالات اکٹھے کیئےوہ ہندوؤں کے بارے میں اپنی تحقیق "ما للھند" مین رقم طراز ہیں :۔
 "بڑی رکاوٹ یہ ہے کہ وہ اپنے علاوہ سب کو ملیچھ(ناپاک) سمجھتے ہیں۔کسی غیر کے ساتھ مباحثہ ، مناظرہ حتی ٰ کہ تبادلہ خیال تک ان کے نزدیک ناجائز ہے باہمی نکاح، نشست و برخاست اور خورد و نوش کو بھی حرام قرار دیا گیا ہے۔اگر کوئی اجنبی ان کا مذہب قبول کرنا چاہے تو اسے بھی اپنے مذہب میں داخل نہیں کرتے۔" 
 مزید فرماتے ہیں کہ سب سے گھٹیا طبقہ شودروں کا تھا ۔ یہ مشہور کے کہ ان کا باپ شودر(گھٹیا انسان) اور ان کی ماں برہمن دونوں نے باہمی زنا کیا اس سے یہ طبقہ پیدا ہوا اس لیئے یہ انتہائی گھٹیا لوگ ہیں۔ان کو اجازت نہیں کہ وہ شہروں اور عام بستیوں میں آباد ہوں۔ان کے لیئے یہ بھی پابندی تھی کہ وہ نہ تو اپنے مذہب کا وید خود پڑھ سکتے تھے اور نہ ہی ان محفلوں میں شرکت کر سکتے تھے جہاں وید پڑھا جاتا ہے مبادا کہ وید کے مقدس کلمات شودروں کے کانوں کے پردہ سے ٹکرائیں۔اگر یہ ثابت ہو جاتا کہ ویش یا شودر نے وید سنا ہے تو برہمن اسے حاکم وقت کے پاس پیش کرتے جو سزا کے طور پر ان کی زبانیں کاٹ دیتا۔
(ضیاء النبی جلد اول)
 جو لوگ مذہب کے بارے میں اتنے غیر سنجیدہ ہوں کہ چاند، سورج، پتھر کی مورتیاں اور ہر اعلیٰ چیز کا بت بنا کر پوجنا شروع ہو جائیں اور ان سے امیدیں وابستہ رکھیں وہ بھی اپنی مذہبی کتاب تک کو اتنا مقدس اور متبرک سمجھتے ہیں کہ اپنے ہی ہم مذہب کو اسے سننے تک کی اجازت نہین دیتے۔اگرچہ یہ سراسر ظلم اور ناانصافی ہے کہ کوئی کسی مذہب پر ایمان رکھے اور اسے اس مذہب کی مقدس کتاب کو پڑھنا تو درکنار چھونے اور سننے تک کی اجازت نہ ہو۔اسے مذہبی گراوٹ کے علاوہ اور کیا نام دیا جا سکتا ہے۔لیکن اس سے یہ بات بھی واضح ہے کہ مذہبی کتاب سننے کی اس قدر سخت سزا ہے تو مذہبی پیشوا کے خلاف بات کرنے والے کی بھی ان کے نزدیک یہی سزا ہو گی کہ اسے قتل کر دیا جائے۔
٭ مہاتما بدھ کے مجسمے کی توہین کی سزا:
چین کے فوجداری قوانین کے مطابق بدھ مت کے بانی مہاتما بدھ کے مجسمے کی توہین  کرنا جرم ہے۔ اس جرم کے مرتکب شخص کو موت کی سزا دی جاتی ہے۔ایسے ہی ایک شخص کو سزا موت سنا کر اس کا سر قلم کر دیا گیا۔وانگ ہونگ نامی شخص اور اس کا ساتھی صوبہ سی چوان کے ایک مندر میں چھپ گئے اور رات کے وقت آری کی مدد سے مہاتما بدھ کے مجسمے کا سر کاٹ کے لے گئے۔جس پر مجرم کو گرفتار کر لیا گیا اور انتیس مارچ کو عدالت نے جرم ثابت ہونے پر مذکورہ شخص کو سزا موت سنا دی اور اس کا سر قلم کر دیا گیا۔
(روزنامہ جنگ 6 اپریل 1990)
 حیرت تو اس بات پر ہے کہ بتوں، کاہنوں اور مجسموں کی توہین کی سزا قتل ہے اور اس پر کوئی اعتراض نہیں ہوتا تو توہین رسالت کے قانون پر اس قدر اعتراض اور واویلہ کیوں؟
٭ یہودیت میں توہین مذہب کی سزا:
 یہودی حضرت موسیٰ علیہ السلام کی شریعت کے پیروکار ہونے کا دعویٰ رکھتے ہیں۔اور اپنی کتب کے الہامی ہونے کے قائل ہیں۔انہوں نے اپنی خواہشات کے تابع ہو کر آسمانی کتب میں تغیر و تبدل بھی کیااور اپنی مرضی کے قانون بھی بنائے لیکن اس کے باوجود ان کی کتب میں مذہبی عقائد کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت سزائیں موجود ہیں۔
 "اور بنی اسرائیل سے خطاب کر کے کہہ کہ جس انسان نے اپنے خدا پر لعنت کی اس کا گناہ اس کے سر ہو گااور جو کوئی بھی خداوند کے نام پر کفر بکے گا ضرورقتل کیا جائے گاساری جماعت اسے ضرور سنگسار کرے خواہ وہ پردیسی ہو یا دیسی جس کسی نے بھی خداوند کے نام پر کفر بکا ضرور قتل کیا جائے گا" 
(کلام مقدس احبار باب 24 فقرات 15-16)
 خواہ پردیسی ہو یا دیسی اس جملے سے وضاحت ہو رہی ہے کہ جو کوئی بھی ہو اگر توہین مذہب کرے گا اسے قتل کیا جائے گا۔حالانکہ یہ صاف ظاہر ہے کہ پردیسی شخص تو یہودی مذہب سے کوئی تعلق نہیں رکھتا۔ حیرت اس بات کی ہے کہ غیر مسلم کو توہین مذہب کی وجہ سے سزا موت پر واویلہ مچانے والوں کی زبانوں پر یہاں بولتے ہوئے نجانے کیوں تالے لگ جاتے ہیں !
توہین رسالت کی سزا: عیسائیت کے ایک مبلغ  استیفانس پر یہودیوں نے حضرت موسیٰ علیہ اسلام کی توہین کا الزام لگایا اور پھر مقدمہ عدالت میں چلا گیا اور اسی جرم میں اس شخص کو قتل کر دیا گیا۔
 اس پر انہوں نے بعض کو سکھایا جو یہ کہیں کہ ہم نے اس کو موسیٰ علیہ السلام اور خدا کی نسبت کفر گوئی کرتے سنا ہے ۔ پھر وہ عوام، بزرگوں اور فقیہوں کو ابھار کر اس پر چڑھ گئے اور اسے گرفتار کر کے عدالت عالیہ لے گئے اور جھوٹے گواہوں کو کھڑا کیا۔جنہوں نے یہ کہا کہ یہ شخص مقدس مقام اور شریعت کے خلاف باتیں کرنے سے باز نہیں آتا۔(رسولوں کے اعمال باب 4 فقرات 11-14)
 توہین ہیکل کی سزا:حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شریعت کی تبلیغ کرنے والے شخص پولوس پر یہودیوں نے مذہبی عقائد اور مذہبی مقامات کی توہین کا الزام لگا کر اس کے بھی قتل کا مطالبہ کیا تھا۔پولوس ان آدمیوں کو لے کر اور دوسرے دن ان کے ساتھ پاک ہو کر ہیکل میں داخل ہوا اور خبر دی کہ تطہیر کے ایام پورے نہ ہوں گے جب تک ہم میں سے ہر ایک کی نذر نہ چڑھائی جائے۔لیکن جب وہ سات دن پورے ہونے کو تھے تو آسیہ (مقام کا نام) کے یہودیوں نے اسے ہیکل میں دیکھ کر سب لوگوں کو ابھارااس پر ہاتھ ڈالے اور چلائے اے اسرائیلی مردو !مدد کرو یہ وہی آدمی ہے جو ہر جگہ سب امت اور شریعت اور اس کے مقام کے خلاف تعلیم دیتا ہےاور اس کے علاوہ غیر قوموں کو بھی ہیکل میں لایا اور اسے ناپاک کیاہے ۔ کیونکہ انہوں نے تروفمس افسی کو اس کے ساتھ شہر میں دیکھا تھا اس لیئے یہ خیال کیا کہ یہی اس کو ہیکل میں لایا ہے ۔ تمام شہر میں ہنگامہ ہوا اور لوگ دوڑ کر جمع ہوئے اس کو گھسیٹ کر ہیکل سے باہر نکالااور فوراََ دروازے بند کر لیئے۔جب وہ اس کے قتل کے درپے تھے تو سپاہ کے قائد کو خبر ملی کہ تمام یروشلم میں فساد بپا ہے ۔ وہ اسی دم سپاہیوں اور صوبیداروں کو لے کر ان پر دوڑ آیا۔ اور وہ قائد اور سپاہیوں کو دیکھ کر پولوس کو پیٹنے سے باز آئے۔ تب قائد نے قریب آ کر اسے گرفتار کیا اور دو زنجیروں میں باندھنے کا حکم دیا۔اور پوچھا کہ یہ کون ہے اور اس نے کیا جرم کیا ہے۔ ہجوم میں سے بعض کچھ چلائے اور بعض کچھ۔جب وہ شور کے سبب صحیح طریقے سے دریافت نہ کر سکا تو حکم دیا کہ اسے قلعے لے چلو۔ جب سیڑھیوں تک پہنچا تو ہجوم کی زبردستی کی وجہ سے سپاہیوں کو اسے اٹھا کر لے جانا پڑا کیونکہ عوام کا یہ ہجوم چلاتا ہوا اس کے پیچھے پڑا تھا تاکہ اس کا کام تمام کرے ۔
(رسولوں کے اعمال باب 21 فقرات27-36)
یوم سبت کی توہین کی سزا:۔
یوم سبت یعنی ہفتہ کا دن دین موسوی میں انتہائی  مقدس دن ہے۔اور یہودیوں کے لیئے ہفتہ کے دن کوئی بھی کام کرنا ممنوع ہے۔(اسی لیئے یہود و نصاریٰ نواز حکومت کے اسلام کے سیدالایام جمعہ کے دن کی چھٹی ختم کر کے یہودیوں کی تقلید میں ہفتہ اور عیسائیوں کی تقلید میں اتوار کو سرکاری چھٹی کا دن مقرر کیا ہے) وہ اس برکت والے دن عبادات کو اپنے معمولات میں شامل کرنا ضروری خیال کرتے ہیں۔اور کسی کام کاج کو اس دن برا جانتے ہیں۔اور جو کوئی اس دن کام کرے یہودیوں کے نزدیک یہ یوم سبت کی توہین ہے۔اور اس کی سزا قتل ہے!
 "پس تم سبت کو مانوکیونکہ وہ تمہارے لیئے مقدس ہے۔اور جو کوئی اس کو توڑے ضرور قتل کیا جائےاور جو کوئی اس مین کچھ کام کرے تو وہ شخص اپنی قوم میں سے خارج کیا جائے۔ چھ دن تم اپنا کام کاج کرو اور ساتواں دن آرام کا سبت خدا کے لیئے مقدس ہے۔جو کوئی سبت کے دن کام کرے ضرور قتل کیا جائے۔" 
(کلام مقدس خروج باب31 فقرات 14-15)
 اور خروج ہی کے دیگر مقامات پر یہ سزا الفاظ کے کچھ فرق کے ساتھ یوں بیان کی گئی ہے کہ "تب موسی ٰ علیہ السلام نے اپنی قوم کی تمام جماعت کو اکٹھا کیاان سے کہا وہ باتیں جن کا کرنے کا خداوند نے حکم دیا ہے وہ یہ ہیں چھ دن تو اپنا کام کاج کر۔ساتواں دن تمہارے لیئے مقدس ہو گا خداوند کے لیئے آرام کا سبت جو کوئی اس میں کام کرے گا قتل کیا جائے گا۔تم سب اپنے مکانوں میں سبت کے دن آگ مت جلاؤ۔
(کلام مقدس خروج باب 35 فقرات 1-3)
یہودیوں کا حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر الزام:۔
 حضرت عیسیٰ علیہ السلام خالق کائنات کے برگزیدہ نبی ہیں ۔ اللہ عزوجل نے انہیں بنی اسرائیل کی طرف مبعوث فرمایا۔لیکن یہودیوں نے آپ پر ایمان لانے کے بجائے آپ کے خلاف سازشیں شروع کر دیں۔اور آپ پر یہ الزام تراشی شروع کر دی کہ آپ شریعت موسوی کی مخالفت کے مرتکب ہو رہے ہیں۔انجیل میں اس الزام کو اپنے انداز میں بیان کیا گیا
کاہن اعظم نے اس سے کہا میں تمہیں زندہ خدا کی قسم دیتا ہوں اگر تو المسیح  ہے خدا کا بیٹا تو ہم کو بتا دے یسوع نے اس سے کہا تو نے خود ہی کہہ دیا ہے بلکہ میں تم سے کہتا ہوں کہ اب سے تم ابن انسان کو القادر کے دائیں بیٹھا اور آسمانوں کے بادلوں پر آتا دیکھو گے ۔ اس پر کاہن اعظم نے یہ کہہ کر اپنے کپڑے پھاڑے کہ اس نے کفر بکا ہے۔اب ہمیں گواہوں کی کیا ضرورت ہے دیکھو تم نے ابھی یہ کفر سنا ہے اب تمہاری کیا رائے ہے ۔ انہوں نے جواب مین کہا وہ قتل کے لائق ہے ۔
(مقدس متی باب 26 فقرات63-66)
مقدس یوحنا میں اس بات کو اس طرح نقل کیا گیا ہے 
 جب سرداروں ، کاہنوں اور پیادوں نے اسے دیکھا تو چلا کر کہا صلیب دے صلیب ۔ پیلاطس نے ان سے کہا تم ہی اسے لے جاؤ اور صلیب دو۔ کیونکہ میں اس میں کچھ قصور نہیں پاتا۔ یہودیوں نے اسے جواب دیا کہ ہماری ایک شرع ہے اور اس شرع کے مطابق یہ قتل کے لائق ہے کیونکہ اس نے اپنے آپ کو خدا کا بیٹا بتایا ہے۔
(مقدس یوحنا باب 19فقرات 6-7)
 ان اقتباسات سے یہ ثابت ہو رہا ہے کہ یہودیوں نے عیسیٰ علیہ السلام پر ابن اللہ ہونے کا الزام لگایا اور یہ بات کہ اب سے تم ابن انسان کو الخ اس لفظ ابن انسان سے یہ واضح ہو رہا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنے ابن الہٰ ہونے کا انکار کیا لیکن بعد کے عیسائیوں نے خود ہی عقیدہ تثلیث گھڑ لیا ۔ اس اقتباس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ انبیاء کرام علیہم السلام نے اپنی قوم کو وحدانیت کا درس دیا یہ شرکیہ عقائد ان قوموں کے اپنے گھڑے ہوئے ہیں ۔
٭ رومن قانون:۔
 قانون موسوی کے مطابق قبل مسیح توہین ایام، مقدس ایام اور تورات کی بے حرمتی کی سزا قتل مقرر تھی ۔ رومن ایمپائر کے شہنشاہ جسٹینین کا اقتدار اسلام سے قبل 528 صدی عیسوی کے زمانہ میں رہا۔ یہ عادل مزاج شخص تھا ۔ اس نے رومن قوانین کو نئے سرے سے مرتب کیا۔اس نے جب دین مسیحی قبول کیا تو قانون موسوی کو منسوخ کر کے انبیاء بنی اسرائیل کے بجائے صرف حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین اور انجیل کی تعلیمات سے انحراف کی سزا موت مقرر کی ۔اس دور سے قانون توہین مسیح یورپ کی حکومتوں کے آئین میں شامل ہو گیا ۔
(انسائیکلو پیڈیا آف برٹانیکا)
٭ رشین لاء:۔
روس میں جب بالشویک انقلاب کے بعد کمیونسٹ حکومت برسراقتدار آئی  تو سب سے پہلے انہوں نے دین و مذہب کو سیاست و ریاست سے بلکل الگ اور خارج کر دیا۔اس کے بعد بھی یہاں سزا موت برقرار رہی لیکن اہانت مسیح کے جرم میں نہیں بلکہ مسیح کی جگہ اشتراکی امپریلزم کے سربراہ نے لے لی ۔اسٹالن جو رشین ایمپائر کا سربراہ بن بیٹھا تھا اس کی اہانت تو بہت بڑی بات تھی اس سے اختلاف رائے رکھنا بھی سنگین جرم تھا۔ ایسے سر پھرے لوگوں کے سر کچل دیا کرتے تھے جس کی مثال لنین کے ساتھی ٹروٹسکی کی خونچکاں موت کی صور ت میں موجود ہے۔ جو اپنی جان بچانے کی خاطر روس سے بھاگ کر امریکہ پناہ گزین تھا۔یا ایسے مجرموں کو سائبیریا کے بیگار کیمپوں میں موت کے حوالے کر دیا جاتا تھا۔ ایسی اذیتناک سزاؤں اور موت کی گرم بازاری نے زار روس کے دور کی سیاہ عقوبتوں کو بھی بھلا دیا۔(قانون توہین رسالت)
٭ برطانیہ کا قانون:
 برطانیہ کے قانون میں اگرچہ جسمانی سزا مذہب سے انحراف کر کے بدل دی گئی ہے لیکن اہانت مسیح کی سزا کامن لاء کے تحت قابل تعزیر جرم ہے۔ اگر توہین زبانی ہو تو گواہوں کی موجودگی ضروری ہے اور اگر تحریری ہو تو ایسی تحریر بطور ثبوت پیش کرنا ضروری ہے ۔ اور جرم ثابت ہونے پر حکومت برطانیہ ایسے شخص کے تمام شہری حقوق بھی سلب کر لیتی ہے۔
٭ امریکہ کا قانون:۔
 امریکہ اور اس کی سیکولر ریاستوں میں ہر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگاگرچہ مختلف مزاہب سے تعلق رکھتے ہیں لیکن وہاں عیسائیوں کی تعداد زیادہ ہے۔حکومتی نظم و نسق بھی تقریباََ انہی کے ہاتھوں ہے تو امریکہ کی سپریم کورٹ نے سٹیٹ بنام موکس ایک فیصلہ کیا جو انتہائی اہمیت کا حامل ہے ۔ اس کا ایک اقتباس پیش خدمت ہے :
 "اگرچہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں چرچ اور سٹیٹ ایک دوسرے سے علیٰحدہ ہیں اور ان میں باہمی کوئی ربط و تعلق نہیں لیکن اسلام ، بدھ مت اور دیگر مذاہب کے پیروان کے مقابل پیروان مسیح کی تعداد زیادہ ہے اور حکومت کی زمام کار انہی کے ہاتھوں میں ہونے کی وجہ سے ہر شعبہ زندگی میں ان کا اثر رسوخ ہے۔اور عیسائیت ریاست اور ملک کی غالب اکثریت کا مذہب ہے اور یہ بھی ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ دنیا میں تہذیب و تمدن کے آغاز ہی سے کسی ملک کے طرز حکومت کی تشکیل میں دین و مذہب کا بڑا ہاتھ رہا ہے ۔اور اس ملک کے استحکام اور بقاء کا انحصار بڑی حد تک اس مذہب کے احترام و تکریم سے ہےجو یہاں کی غالب اکثریت کے دینی شعائر سے علیٰحدہ نہ ہونے والالازمی حصہ ہے۔
(بحوالہ قانون توہین رسالت)
٭ قانون پاکستان:۔
 پاکستان ایک نظریاتی ملک ہے جس کی بنیاد کلمہ طیبہ پر رکھی گئی ہے برصغیر کے مسلمانوں نے اپنے اسلامی تشخص کی بقاء کی خاطر یہ ملک حاصل کیا۔ اس کے حصول کے لیئے لاکھوں قربانیاں دیں اور اس کی بنیادوں میں یہ سوچ کر اپنا لہونچھاور کیاکہ آئیندہ نسلیں دامن مصطفیٰ ﷺ کے ساتھ عشق و محبت کا رشتہ برقرار رکھ سکیں۔اور نغمات محبوب کی خوشبو سے یہ سارا چمن مہک اٹھے ۔قیام پاکستان کے پہلے مختصر عرصے کو چھوڑ کر اگرچہ حکمران پاکستان اغیار کے ہاتھو کھلونا بنے رہے لیکن بعد میں علماء دین کی انتھک محنت اور کوششوں کی بدولت ناموس رسالت کے حوالے سے ایک قانون مرتب کیا گیا جو 295 سی کے نام سے جانا جاتا ہے۔
پیغمبر اسلام ﷺ کی شان میں توہین آمیز الفاظ استعمال کرنا:
 تفصیل:۔ جو کوئی بھیالفاظ کے ذریعے چاہے زبانی ہوں یا تحریری یا مرئی نقوش کے ذریعےیا کسی تہمت، کنایہ یا درپردہ تعریض کے ذریعے بالواسطہ یا بلا واسطہ رسول پاک حضرت محمد ﷺ کے نام کی توہین کرے گاتو اسے سزا موت دی جائے گی اور وہ جرمانے کا مستوجب ہو گا۔(میجر ایکٹ ص 400 مرتبہ ایس اے حیدر)

دنیا کے تمام مذاہب اور ریاستوں میں ان کے مذہب کی مقتدر شخصیات کی توہین کی پاداش میں سزائیں مقرر ہیں۔ وہ لوگ جو سیکولرازم کے حامی ہیں جن کا دین مذہب سے کوئی واسطہ نہیں وہ بھی اپنے لیڈروں کی توہین کو ناقابل برداشت سمجھتے ہیں۔دنیا کے تمام خطوں میں جرم بغاوت کا قانون موجود ہے جس کی سزا موت مقرر ہے۔جو لوگ اس الزام کے تحت گرفتار ہوں انہیں گیس چیمبرز اور الیکٹرک چیئرز جیسے وحشیانہ اور اذیت ناک طریقے سے موت کے گھاٹ اتارا جاتا ہے۔یا انتہائی خوف ناک عقوبت خانوں میں انہیں تڑپ تڑپ کر مرنے کے لیئے چھوڑ دیا جاتا ہے۔نائن الیون کے بعد گوانتانا موبے میں بے گناہ لوگوں پر ظلم و تشدد کے جو پہاڑ ڈھائے گئے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔لیکن جب تاجدار انبیاء محسن انسانیت، رسول معظم ، جان عالمین ، حضرت محمد ﷺ کی حرمت و ناموس کے لیئے پاکستان میں قانون بنایا گیا تو اس کے بعد سے یورپ کے صاحبان حل و عقد اس پر نشتر زنی کر رہے ہیں اور اسے انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دے رہے ہیں۔اس کے علاوہ پاکستان کے وہ ارباب اختیار، لبرل ازم کے حامی سکالر اور موم بتی مافیا جو انگریز کے تلوے چاٹنے کو ایک مقدس فریضہ سمجھتے ہیں وہ بھی اس قانون سے خائف نظر آتے ہیں۔لیکن سوال یہ ہے کہ جب ہر جگہ توہین و بغاوت کی سزا موت موجود ہے تو پھر فقط توہین رسالت کے قانون ہی پر اس قدر واویلہ کیوں ؟؟؟
یہ کیسے ممکن ہے کہ مسلمانوں کے آقا ختم الرسل حضرت محمد ﷺ  جن کے نام پر مسلمان اپنی جان و مال آل اولاد اور ہر چیز قربان کرنے کو اپنا حاصل زندگی سمجھتے ہیں ان کی عزت و حرمت پر کیچڑ اچھالنے والے ملعون قانون کی گرفت سے آزاد رہیں ۔ قانون توہین رسالت پر اعتراض دین و ملت سے غداری بلکہ خود اپنی فہم و عقل کا انکار ہے 

مبلغ بنیئے فسادی نہیں

2017-06-02 01:43:47 

مبلغ بنیے فسادی نہیں 
 بنی عبد الاشہل کے سردار سعد بن معاذ بہت غصے میں تھا ۔۔۔۔بس بہت ہوگئی اب ہمارے ضعیف الاعتقاد لوگوں کو گمراہ مت کرو ان کو بے وقوف مت بناؤ اور اب آئندہ اس علاقے میں نظر مت آنا ورنہ بہت برا ہو گا اب میری آنکھوں سے جتنی جلدی ممکن ہے دور ہو جاؤ ۔
 بنی عبد الاشہل کا نوجوان سردار سعد بن معاذ ،مبلغ ِ اسلام مصعب بن عمیر کے سامنے سینہ تان کر کھڑا دھمکی دے رہا تھا ۔
سیدنا مصعب بن عمیر نے سعد بن معاذ سے کہا 
ذرا تشریف رکھیے ! ہماری بات سنیے ! اگر آپ کو ہماری بات پسند آگئی تو اسے قبول کر لیجیے گا اور اگر آپ کو ہماری بات پسند نہیں آئی تو ہم خاموش ہو جائیں گے اور آپ کو ایسی بات نہیں سُنائیں گے جو آپ کو سننا پسند نہیں ۔
 سعدبن معاذ نے کہا :تم نے انصاف کی بات کہی اور اپنا نیزہ زمین میں گاڑھ کر وہیں بیٹھ گئے سیدنا مصعب بن عمیر کی بات سننے لگے 
 سیدنا مصعب نے گفتگو شروع کی اسلام کے بنیادی عقائد بتائے قرآن کریم کی کچھ آیات تلاوت کی 
سعد بن معاذ کا چہرہ نورِ ایمان سے تمتمانے لگا اور انہوں نے اسلام قبول کر لیا ۔
قبول اسلام کے فورا بعد وہ اپنے قبلیے میں گئے اور کہا 
اے بنی عبد الاشہل ! میرے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے ؟
قبیلے کے لوگوں نے کہا 
آپ ہمارے سردار ہیں ہم سب آپ کی رائے کا احترام کرتے ہیں 
 سعد بن معاذ نے کہا مجھ پر اس وقت تک تم سے بات کرنا حرام ہے جب تک تم اللہ و رسول ﷺ پر ایمان نہ لے آؤ
شام تک بنی عبد الشہل میں کوئی مرداور عورت ایس انہیں تھا جو ایمان نہ لے آیا ہو ۔۱
 میرے نوجوان دوستو! سوشیل میڈیا پر جب آپ اپنی بات بیان کریں تو آپ کا انداز تبلیغ کرنے کا ہو نا چاہیے اپنے اسلاف کی طرح اور آپس میں تو لازما ۔
 سیدنا مصعب بن عمیر کا انداز اس قدر خوبصور ت تا کہ وہ شخص جو انہیں نکال دینا چاہتا تھا بستی سے وہ خود ان کا گرویدہ ہو گیا یہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک ہم محبت پیش نہ کریں 
دلوں کومسخر کرنا مشکل نہیں بس تھوڑی سی محبت چاہیے 
۱۔ حوالے کے لیے دیکھیے ضیاء النبی جلد دوم صفحہ ۵۸۸ از پیر کرم شاہ الازہری 
تحریر :محمد اسمٰعیل بدایونی

تاجدار انبیاء ﷺ غیر مسلموں کی نظر میں

2017-06-01 03:24:14 

یہود و نصاریٰ کا اسلام اور پیغمبر اسلام ﷺ سے بغض و عناد کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں انہوں نے حضور نبی کریم ﷺ اور اسلام کے متعلق جو زہر اگلا تاریخ کے صفحات  ان سازشوں اور حربوں سے بھرے پڑے ہیں۔مغربی علماء ، دانشور اور مصنفین نے پیغمبر اسلام ﷺ اور اسلام کے خلاف اتنے گمراہ کن اور جھوٹے پروپیگنڈے پھیلائے کہ اسلامی معاشرت و قوانین کے متعلق غلط تصورات رواج پا گئے۔کہیں تو مسلمانوں کو دہشتگرد اور جنگجو دکھایا گیاجس سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی کہ اسلام تلوار کے زور پر پھیلا ہےاور کہیں براہ راست حضور اکرم ﷺ کی ذات اقدس پر حملے کیئے گئے۔لیکن اس حقیقت کے ادراک پر قلب و جان فرط مسرت سے جھومنے لگتے ہیں کہ ہر صدی ، ہر عہد اور ہر دور کے صاحب ادب و فن نے اپنا بہترین اثاثہ فکر بارگاہ نبوی ﷺ کی نذر کیا ہے۔ ہر قرن میں چشم فلک نے تمام مذاہب کے اہل قلم کے قافلوں کو ارض طیبہ کی جانب بڑھتے دیکھا ۔مسلم ہی نہیں غیر مسلم بھی ، اپنے ہی نہیں بلکہ بیگانے بھی سرور کونین ﷺ کی بارگاہ اقدس میں عقیدت کے نذرانے پیش کرتے نظر آتے ہیں اور "رویندر جین" کا یہ شعر اس صورت حال کی عکاسی کرتا نظر آتا ہے:۔
"آپ کے ماننے والوں میں ضروری تو نہیں صرف شامل ہوں مسلمان رسول اکرم ﷺ"حضور اکرم ﷺ کو اپنی جان، مال ، اولاد  سے بھی بڑھ کر محبوب رکھنا مسلمان کے ایمان کی تو دلیل ہے ہی مگر ایک غیر مسلم کا بارگاہ نبوی ﷺ میں اظہار عقیدت کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ  اس کا ذوق پاکیزہ اور بصیرت بے عیب ہے کیونکہ آفتاب کو اگر کوئی آفتاب کہہ کر پکارے تو آفتاب پر کوئی احسان نہیں بلکہ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اس شخص کی بصیرت ابھی زندہ ہے۔
ذیل میں ہم ان لوگوں کا ذکر کرتے ہیں جو باوجود غیر مسلم اور اسلام کے سخت مخالف ہونے کے حق بات کہنے پر مجبور ہو گئے
1۔ تھامس کارلائل:۔اس نے "ہیرو اینڈ ہیرو ورشپ" کے نام سے ایک کتاب لکھی  جو 1841ء میں شائع ہوئی ۔وہ لکھتا ہے کہ:
"کہتے ہیں کہ اس مذہب کی عمارت جھوٹ پر کھڑی کی گئی ہے۔میں کہتا ہوں کہ جھوٹا آدمی اینٹوں کی معمولی سی عمارت بھی کھڑی نہیں کرسکتا چہ جائیکہ وہ ایک مذہب کا بانی ہو اور جس نے ایک تہذیب کی بنیاد رکھی ہو۔معمولی عقل کا آدمی بھی یہ سمجھ سکتا ہے کہ جب تک تعمیر کرنے والے شخص کو مٹی چونے اور کام میں استعمال ہونے والی اشیاء کے خواص کا علم نہ ہو ایسے شخص کا بنایا گیا مکان ، مکان نہیں مٹی کا ڈھیر ہو گاجو دھڑام سے نیچے آ گرے گا ۔ ایسا مکان بارہ صدیوں تک قائم نہیں رہ سکتا اور نہ ہی کروڑوں انسان اس میں سما سکتے ہیں۔مگر یہ مکان(اسلام کی عمات) تو اتنے طویل عرصے سے قائم ہے ۔ حضرت محمد ﷺ کی شخصیت ، ان کے اقوال و ہدایت کی صداقت پر ایمان رکھنے والےانسان ہماری طرح ہی ذی شعور اور صاحب فراست ہیں اور ہماری ہی طرح دست قدرت کی صناعی کا نمونہ ہیں۔ان بندگان خدا کی تعداد مسلسل بڑھتی جا رہی ہے۔
ایک دوسر ےمقام پر حضور اکرم ﷺ پر لگائے گئے الزامات کا جواب دیتے ہوئے لکھتا ہے کہ اگر ہم حضرت محمد ﷺ کو (معاذ اللہ ) حریص اور سازشی قرار دیں اور ان کی تعلیمات کو بے بصیرتی اور نادانی قرار دیں تو یہ ہماری سخت حماقت اور جہالت ہو گی ۔انہوں نے سادہ اور غیر مرصع جو پیغام دیا وہ برحق تھا وہ پردہ غیب سے ابھرنے والی حیران کن آواز تھی اس کا نہ کوئی قول جھوٹ نکلا نہ کوئی فعل غلط ثابت ہوا نہ ان کی گفتگو بے معنی تھی  اور نہ ہی ان جیسی کوئی مثال پہلے موجود تھی ۔وہ زندگی کا ایک روشن جلوہ تھا جو سینہ فطرت سے اس لیئے ظہور پذیر ہوا کہ دنیا کو منور کر ڈالے کیونکہ اس کائنات کا خالق اس کے ذریعے سے اس دنیاکو اندھیروں سے نجات دلانا چاہتا تھا۔ وہ جو پیغام سرمدی لے کر آئے اس کی اہمیت اور عظمت اپنی جگہ مسلم ہے نبی کریم ﷺ پر ایسا کوئی الزام ثابت نہیں کیا جا سکا۔نبی ﷺ کے منہ سے جو بات نکلتی ہے ہمارا ضمیر گواہی دیتا ہے کہ وہ برحق ہے اس جیسے الفاظ کسی عام انسان کی زبان سے نکل ہی نہیں سکتے ۔ اس کی زندگی کا مقصد و مدعا  اس کے ہر لفظ اور ہر حرکت سے عیاں ہوتا ہے سنی سنائی باتوں سے وہ قطعاََ بے گانہ ہوتا ہے اس کا دل سچائیوں کا امین اور حقائق کی روشنیوں سے منور ہوتا ہے۔اس کی باتیں الہامی ہوتی ہیں ۔بالفاظ دیگر وہ کائنات کے حقیقی اسرار سے آگاہی رکھتا ہے۔ اس کی ہر بات ترجمان حقیقت ہوتی ہے۔اس سے پہلے بھی انبیا ء کرام علیہم السلام پر وحی آتی رہی ہے لیکن اب کی بار وحی آخری اور تازہ ترین ہے کیا یہ نبی ﷺ اس خدا کا بندہ نہیں؟ ہم اس کی باتوں کو کیسے سنی ان سنی کر سکتے ہیں۔
(تھامس کارلائل  انتہا درجے کا متعصب مستشرق ہونے کے باوجود یہ اعترافات کرنے پر مجبور ہوا )
2۔ مائیکل ہارٹ:۔
مائیکل ہارٹ ایک امریکی ادیب اور عیسائیت کا پیروکار تھا۔ اس نے "
The 100”کے نام سے عہد ساز شخصیتوں کے کارناموں پر مشتمل ایک کتاب لکھی۔ جس میں اس نے حضرت محمد ﷺ کو سرفہرست رکھا اور اس کی وجہ یوں لکھی: "اگر مارکونی ریڈیو ایجاد نہ کرتا تو چند سالوں بعد کوئی دوسرا آدمی یہ کارنامہ سرانجام دے سکتا تھا۔سپین کا برنانڈو اگر منظر عام پر نہ آتا تب بھی سپین میکسیکو پر قبضہ کر لیتا۔ ماہر حیاتیات چارلس ڈارون اگر تحقیق و جستجو نہ کرتا تب بھی نظریہ ارتقاء چند سالوں میں دنیا کے علم میں آ جاتا۔ لیکن حضرت محمد ﷺ وہ شخصیت ہیں کہ جو کارنامے انہوں نے سرانجام دیئے کسی دوسرے کے ہاتھوں انجام نہ پا سکتے تھے ۔"
3۔ ہمفرے:
یہ ایک برطانوی جاسوس تھا اور سلطنت اسلامیہ کا شیرازہ منتشر کرنے کی اس نے بے حد کوششیں کیں ایک مسلمان کا روپ دھار کر ملت اسلامیہ میں زہر گھولتا رہا۔اس کے باوجود سید عالم ﷺ کی ذات اقدس کے متعلق اپنے خیالات کا اظہار یوں کرتا ہے :"بہرحال میں حضور اکرم ﷺکی قدر و منزلت اور بزرگی کا قائل ہوں۔ بے شک آپ ﷺ کا شمار ان بافضیلت افراد میں ہوتا ہے جن کی کوششیں تربیت بشر کے لیئے ناقابل انکار ہیں اور تاریخ اس بات پر شاہد ہے" (ہمفرے کے اعترافات)
4۔ نپولین بونا پارٹ:
یہ 1799ء میں فرانس کا صدر منتخب ہوا اور 1804ء میں شہنشاہ بن گیا۔ تاریخ اسے فاتح اعظم کے نام سے یاد کرتی ہے۔حضور سید عالم ﷺ کو ان الفاظ کے ساتھ خراج تحسین پیش کرتا ہے :
"حضرت محمد ﷺ کی ذات گرامی ایک مرکز ثقل تھی  جس کی طرف لوگ کھنچے چلے آتے تھے۔ان کی تعلیمات نے لوگوں کو اپنا گرویدہ بنا لیااورایک گروہ پیدا ہو گیا جس نے چند ہی سالوں میں اسلام کا غلغلہ نصف دنیا میں بلند کر دیا۔ اسلام کے ان پیروکاروں نے دنیا کو جھوٹے خداؤں سے چھڑا لیا انہوں نے بت سرنگوں کر دیئے۔حضرت موسیٰ و عیسیٰ علیہ السلام کے پیروکاروں نے پندرہ سو سالوں مین کفر کی اتنی نشانیوں منہدم نہ کی تھیں جتنی انہوں نے پندرہ سالوں میں کر دیں۔حقیقت یہ ہے کہ حضرت محمد ﷺ کی ہستی بہت ہی بڑی تھی "(پیغمبر اسلام ﷺ غیر مسلموں کی نظر میں )
5۔ڈاکٹر ڈی رائٹ:
حضرت محمد ﷺ صرف اپنی ذات اور قوم ہی کے لیئے نہیں بلکہ دنیائے ارضی کے لیئے ابر رحمت تھے ۔تاریخ میں کسی ایسے شخص کی مثال موجود نہیں جس نے احکام خداوندی کو اس قدر مستحسن طریقے سے انجام دیا ہو۔ (اسلامک ریویو اینڈ مسلم انڈیا فروری 1920ء)
6۔ کونٹ ٹالسٹائی:۔
اس میں کسی قسم کا بھی شک و شبہ نہیں کہ حضور اکرم ﷺ ایک عظیم المرتب مصلح تھے۔جنہوں نے انسانیت کی خدمت کی  آپ ﷺ کے لیئے یہ فخر کیا کم ہے کہ آپ امت کو نور حق کی طرف لے گئے اور اسے اس قابل بنا دیا کہ وہ امن و سلامتی کی گرویدہ ہو جائےاور زہد و تقویٰ کی زندگی کو ترجیح دینے لگے ۔ آپ ﷺ نے اسے انسانی خونریزی سے منع فرمایا اس کے لیئے حقیقی ترقی و تمدن کی راہیں کھول دیں۔ اور یہ ایک ایسا عظیم الشان کام ہے جو اس شخص سے انجام پا سکتا ہے جس کے ساتھ کوئی مخفی قوت ہواور ایسا شخص یقیناََ اکرام و احترام کا مستحق ہے
(حمایت اسلام لاھور 1935ء)
7۔ ڈاکٹر ای اے فریمن:
اس میں کوئی شک نہیں کہ حضرت محمد ﷺ بڑے پکے اور راست باز ریفارمر تھے ۔ (معجزات اسلام)
8۔مسٹر سار مستشرق:
قرون وسطیٰ میں جب یورپ میں جہل کی موجیں آسمان سے باتیں کر رہی تھیں عربستان کے شہر سے نور تاباں کا ظہور ہواجس نے اپنی ضیاء باریوں سے علم و ہنر اور ہدایت کے چھلکتے ہوئے نوری دریا بہا دیئے۔ اسی کا طفیل ہے کہ یورپ کو عربوں کے توسط سے یونانیوں کے علوم و فلسفے نصیب ہو سکے (صوت الحجاز ذی قعدہ 1353ء)
9۔ ڈاکٹر لین پول:
اگر حضرت محمد ﷺ سچے نبی نہ تھے تو دنیا  میں کوئی برحق نبی آیا ہی نہیں ۔ (ہسٹری آف دی مورش ایمپائر یورپ)

10۔ ڈاکٹر بدھ ویر سنگھ دہلوی:

محمد صاحب ﷺ ایک ایسی ہستی تھے اس میں ذرہ بھر بھی شک نہیں کہ مسلمانوں کو چھوڑ کر جن کے عقیدہ کے لحاظ سے وہ ایک پیغمبر تھے دوسرے لوگوں کے لیئے ان کی سوانح عمری ایک نہایت ہی دل بڑھانے والی اور سبق آموز ثابت ہوئی ہے۔(رسالہ مولوی ربیع الاول 1351ء)

11۔ سوامی برج نارائن سنیاسی بی اے:

حقیقت بہرحال حقیقت ہے ۔اگر بغض و عباد کی پٹی آنکھوں سے ہٹا دی جائے تو پیغمبر اسلام ﷺ کا نورانی چہرہ ان تمام داغ دھبوں سے پاک و صاف نظر آئے گاجو بتلائے جاتے ہیں۔سب سے پہلی چیز یہ ہے کہ خدا نے پیغمبر اسلام ﷺ کو تمام کائنات کے لیئے سراپا رحمت بنا کر بھیجا ہے اور کائنات میں عالم انسان، عالم حیوان، عالم نباتات اور عالم جمادات سب شامل ہیں ۔(نقوش رسول نمبر ص 487)

12۔ کملا دیوی بی اے بمبئی:

اے عرب کے مہاپرش آپ وہ ہیں جن کی شکشا سے مورتی پوجا مٹ گئی اور ایشور کی بھگتی کا دھیان پیدا ہوا۔بے شک آپ نے دھرم سیوکوں میں وہ بات پیدا کر دی کہ ایک ہی سمے کے اندر وہ جرنیل کمانڈر اور چیف جسٹس بھی تھے اور آتما کے سدھار کا کام بھی کرتے تھے۔آپ نے عورت کی مٹی ہوئی عزت کو بچایااور اس کے حقوق مقرر کیئے۔آپ نے اس دکھ بھری دنیا میں شانتی اور امن کا پرچار کیااور امیر و غریب سب کو ایک سبھا میں جمع کیا۔ (الامان دہلی 17 جولائی 1932ء)

13۔ بابو جگل کشور کھنہ :

حضرت محمد ﷺ کی لائف اور آپ ﷺ کی بنیادی تعلیمات کے متعلق جان کر ہر شخص اس نتیجہ پر باآسانی پہنچ سکتا ہے کہ حضرت محمد ﷺ نے دنیا پر بہت احسانات کیئے ہیں۔اور دنیا نے آپ ﷺ کی تعلیمات سے بہت فائدہ اٹھایا۔صرف ملک عرب پر ہی آپ ﷺ کے احسانات نہیں بلکہ آپ ﷺ کا فیض تعلیم و ہدایت دنیا کے ہر گوشے میں پہنچا۔ غلامی کےخلاف سب سے پہلی آواز حضرت محمد ﷺ نے بلند کی  اور غلاموں کے بارے میں ایسے احکام جاری کیئے کہ ان کے حقوق بھائیوں کے برابر کر دیئے۔آپ نے عورتوں اور استریوں کے درجہ کو بلند کر دیا۔سود کو قطعاََ حرام قرار دے کر سرمایہ کاری کی جڑ پر ایسا کلہاڑا مارا کہ اس کے بعد پھر یہ درخت اچھی طرح پھل پھول ہی نہ سکا۔سود خوری ہمیشہ کے لیئے ایک لعنت ہی رہی ہے۔مساوات کی طرف ایک ایسا عملی اقدام کیا کہ اس سے قبل دنیا اس سے ناآشنا اور ناواقف تھی ۔حضرت محمد ﷺ نے نہایت پرزور طریقے سے توہمات کے خلاف جہاد کیااور نہ صرف اپنے پیروؤں کے اندر سے اس کی بیخ و بنیاد اکھاڑ پھینکی بلکہ دنیا کو ایک ایسی روشنی عطا کی کہ توہمات کے بھیانک چہرے اور اس کی ہیئت کے خدوخال سب کو نظر آگئے۔(رسالہ مولوی ربیع الاول 1351ء)

14۔بی ایس رندھاوا ہوشیارپوری:

حضرت محمد ﷺ کو جتنا ستایا گیا اتنا کسی بھی ہادی اور پیغمبر کو نہیں ستایا گیاایسی حالت میں کیوں نہ محمد صاحب ﷺ کی رحمدلی، شفقت اور مروت علی المخلوقات کی داد دو ں جنہوں نے خود تو ظلم و ستم کے پہاڑ اپنے سر اٹھا لیئے مگر اپنے ستانے والے اور دکھ دینے والے کو اف تک نہ کہا۔بلکہ ان کے حق میں دعائیں مانگیں ۔ اور طاقت و اقتدار مل جانے پر بھی ان سے انتقام نہ لیا ۔ بانیان مذاہب میں سب سے زیادہ کسی پر ظلم اور ناانصافی کی گئی ہے تو پیغمبر اسلام ﷺ پر۔اور کوشش کی گئی ہے کہ پیغمبر اسلام ﷺ کو ایک خونخوار اور بے رحم انسان دکھایا جائے اور خواہ مخواہ دوسروں کو ان سے نفرت دلائی جائے۔اس کا بڑا سبب یہ ہوا ہے کہ حضرت محمد ﷺ کی لائف پر تنقید کرنے والوں نے اسلامی تاریخ اور بانی اسلام کی صحیح سیرت کا مطالعہ کرنے کی زحمت ہی گوارا نہیں کی بلکہ سنی سنائی اور بے بنیاد باتوں کو سرمایہ بنا کر اعتراضات کی بوچھاڑ کر دی۔اگر وہ اسلامی روایات کو سمجھ لیتے اور سچائی کے اظہار کے لیئے اپنے اندر اگر کوئی جرات و ہمت پاتے تو ضرور اپنی رائے تبدیل کرنے پر مجبور ہو جاتے،

(حوالہ مذکور)

15۔ سوامی لکشمن رائے :

مفسر راز حیات حضرت محمد ﷺ کے سوا تاریخ عالم کے تمام صفحات زندگی اس قدر صحیح تفسیر کرنے والی کسی دوسری شخصیت عظمیٰ کے بیان سے خالی ہیں۔ وہ کون سی اذیتیں تھیں جو کفرستان عرب کے کافروں نے اپنے عقائد باطلہ کی حفاظت میں عرب کے اس بت شکن پیغمبر کو نہیں دیں۔وہ کون سے انسانیت سوز مظالم تھے جو عرب کے درندوں نے اس رحم و ہمدردی کے مجسمہ پر نہیں توڑے۔ وہ کون سے زہرہ گداز ستم تھے جو جہالت کے گہوارے میں پلنے والی قوم نے اپنے سچے ہادی پر روا نہیں رکھے۔مگر انسانیت کے اس محسن اعظم کی زبان فیض ترجمان سے بجائے بددعا کے دعا ہی نکلی ۔غیر مسلم مصنفوں کا برا ہو جنہوں نے قسم کھالی ہے کہ قلم ہاتھ میں لیتے وقت عقل کو چھٹی دے دیا کریں گے  اور آنکھوں پر تعصب کی ٹھیکری رکھ کر ہر واقعہ کو اپنی کج فیمی اور کج نگاہی کے رنگ میں رنگ کر دنیا کے سامنے پیش کریں گے۔آمکھیں چکا چوند ہو جاتی ہیں اور ان کے گستاخ اور کج رقم قلموں کو اعترافات کرتے ہی بنتی ہے کہ واقعی اس نفس کش پیغمبر ﷺ نے جس شان استغناء سے دولت، شہرت ، عزت اور حسن کی طلسمی طاقتوں کو اپنے اصولوں پر قربان کیا وہ ہر کس و ناکس کے بس کی بات نہیں ۔ عرب کے سربرآوردہ  بزرگوں نے اپنے عقائد باطلہ کی حفاظت کے لیئے اس آفتاب حقانیت کے سامنے جس کی ہر ایک کرن کفر سوز تھی ، ایک دوسرے سے بلکل متضاد اور مخالف راستے رکھ دیئے ۔اور ان کو اختیار دے دیا گیا کہ ان میں سے جو راستہ چاہیں حسب خواہش اختیار کر لیں۔ ایک طرف ریگستان عرب کی حسین سے حسین عورتیں  دولت کے انبار اور عزت و شہرت کی دستار قدموں میں نثار کرنے کو تیار تھیں اور دوسری طرف ذرہ ذرہ مخالفت کے طوفان اٹھا رہا تھا۔قتل کی دھمکیاں دی جاتی تھیں آوازے کسے جاتے تھے نجاستیں پھینکی جاتی تھیں راستے میں کانٹے بچھائے جاتے تھے ۔ تاریخ عالم اس حقیقت غیر مشتبہ پر شاہد عادل ہے کہ اس کے اوراق کو تزکیہ نفس کے ایسے فقید المثال مظاہرہ کا بیان کبھی نصیب میسر نہیں ہوا۔اس حق کوش پیغمبر کو جس کا مدعا نفس پروری سے کوسوں دور تھا دولت کی جھنکار اپنی طرف متوجہ نہیں کر سکی  شہرت کی طلسمی طاقت اس کے دل کو فریب نہ دے سکی  حسن اپنی تمام دل آویزوں سمیت نظر التفات سے محروم رہا۔ انہوں نے بلا تامل فیصلہ کن لہجہ میں کہہ دیااگر آپ لوگ چاند اور سورج کو میری گود میں لا کر ڈال دیں تو بھی میں تبلیغ حق سے باز نہیں آؤں گا۔
(نقوش رسول نمبر صفحہ 453)

16۔ وشوانرائن:۔

دولت، عزت اور جاہ و حشمت کی خواہش سے  آنحضرت ﷺ نے اسلام کی بنیاد نہیں ڈالی ۔ شاہی تاج ان کے نزدیک ذلیل اور حقیر شئے تھی۔تخت شاہی کو آپ ٹھکراتے تھے دنیاوی وجاہت کے طالب نہ تھے ۔ ان کی زندگی کا مقصد تو موت و حیات کے اہم زاویوں کا پرچار تھا۔0مدینہ جولائی 1932ء)

17۔ گاندھی:
وہ (رسول اکرم ﷺ) روحانی پیشوا تھے بلکہ ان کی تعلیمات کو سب سے بہتر سمجھتا ہوں۔ کسی روحانی پیشوا نے خدا کی بادشاہت کا ایسا جامع اور مانع پیغام نہیں سنایا جیسا  کی پیغمبر اسلام نے ۔
(ایمان پٹی ضلع لاہوراگست 1936ء)

18۔میجر آرتھر گلن لیونارڈ:

حضرت محمد ﷺ نہایت عظیم المرتبت انسان تھے ۔ وہ ایک مفکر اور معمار تھے انہوں نے اپنے زمانہ کے حالات کے مقابلہ کی فکر نہیں کی  اور جو تعمیر کی وہ صرف اپنے زمانہ ہی کے لیئے نہیں کی  بلکہ رہتی دنیا تک کے مسائل کو سوچا اور جو تعمیر کی  وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیئے کی ۔ (نقوش رسول نمبر )

19۔ ڈاکٹر شیلے:

حضرت محمد ﷺ گزشتہ اور موجودہ سبھی انسانوں سے افضل اور اکمل تھے اور آئیندہ ان کی مثال پیدا ہونا محال بلکہ ناممکن ہے ۔ (نقوش رسول نمبر)

20۔ سر فلیکڈ:

حضرت محمد ﷺ کی عقل ان عظیم ترین عقلوں میں سے تھی ۔جن کا وجود دنیا میں عنقاء کا حکم رکھتا ہے ۔ وہ معاملہ کی تہہ میں پہلی ہی نظر میں پہنچ جایا کرتے تھے ۔ اپنے خاص معاملات میں نہایت ایثار اور انصاف سے کام لیتے۔ دوست و دشمن، امیر و غریب، قوی و ضعیف ہر ایک کے ساتھ عدل و مساوات کا سلوک کرتے۔

21۔ جان ڈیون پورٹ:

حضور سرور عالم ﷺ کے حسن و جمال کے بارے میں رقمطراز ہیں

آپ ﷺ کی شکل شاہانہ تھی خدوخال باقاعدہ اور دل پسند تھے۔آنکھیں سیاہ اور منور تھیں۔بینی ذرا اٹھی ہوئی، دہن خوبصورت تھادانت نوتی کی طرح چمکتے تھے ۔ رخسار سرخ تھے  آپ ﷺ کی صحت نہایت اچھی تھی آپ کا تبسم دلآویز اور آواز شیریں اور دلکش تھی ۔(نقوش رسول نمبر)

اس کے علاوہ دنیا کی عظیم غیر مسلم شخصیات میں  یوکمباؤمائنٹ (بدھ لیڈر)،مانگ تونگ پیشوا بدھ مذہب،جارج برنارڈ شاہ، رابندر ناتھ،ٹیگور،ایس مارگو لیوتھ،مسٹر سکاٹ،جارج سیل،کونسٹن ورجیل جارجیو،کرنل سائکس،شیو پرساد،وہبی لکھنوی،رگھوناتھ خطیب سرحدی،جوش ملیسانی،تلوک چند محروم،نریش کمار شاد،ویاشنکرنسیم، عزت سنگھ عیش دہلوی،پنڈت ہری چندر اختر، نردیو سنگھ اشک دہلوی،بی ڈی اہلیہ بوڑ سنگھ، رام پیار لکھنوی،اروڑہ رائے، سالک رام سالک،شنکر لال ساقی،کنور مہندر سنگھ،بیدی سحر،سردار شیر سنگھ شمیم،بابا افضل کاشی،لالہ شنکر داس جی،فراق گھور کھپوری اور دیگر سیکڑوں اشخاص شامل ہیں ۔نثر کے علاوہ غیر مسلم شعراء نے بھی بارگاہ نبوی ﷺ میں منظوم خراج عقیدت پیش کیا ۔ ان اشعار میں حضور اکرم ﷺ کے ساتھ عقیدت و وارفتگی کا اقرار بھی ہے  اور حضور اکرم ﷺ کی آفاقی اور دائمی نبوت کا دلکش اظہار بھی ہے اور اسلام کی عظمتوں کا اعتراف بھی ۔ان میں پنڈت بال مکند عرش ملیسانی، چرن سرن نازمانک پوری،مہاراجی سرکشن پرشاد،رویندر جین رویندر،جان رابٹ جان،پنڈت جگن ناتھ پرشاد آنند،کالکا پرشاد،پنڈت رگھوندرراؤ تخلص جذب، لالہ امر چند جالندھری تخلص قیس، اودھے ناتھ لکھنوی تخلص نشتر، چوہدھری دلو رام کوثری، امر ناتھ ساحر شامل ہیں۔انہوں نے بارگاہ نبوی ﷺ میں دلی عقیدت کے اظہار کے ساتھ اقوام عالم کو یہی سبق دیا کہ حضور سید عالم ﷺ صرف مسلمانوں ہی کے راہبر و راہنما نہیں بلکہ آپ ﷺ عالم انسانیت کے تاجداراور ہر دور کے پیشوا ہیں۔ان اشخاص کی عقیدت سے حضور سرور کائنات ﷺ کی آفاقیت اور مرکزیت بھی ثابت ہوتی ہے کہ آپ ﷺ پوری کائنات کے مرکز نگاہ ہیں  اور ہر شخص آپ ﷺ کی داد رسی کا منتظر رہتا ہے ۔ان لوگوں نے جس ہستی بالا صفات کو خراج عقیدت پیش کیا اس کی عزت و عظمت کا سورج تاابد روشن رہے گا۔ بلکہ آنے والے ہر دور میں جو شخص بھی ہٹ دھرمی، تعصب اور بغض سے ہٹ کر سیرت النبی ﷺ کا مطالعہ کرے گا وہ عظمت رسول ﷺ کاپاسبان بن جائے گااور سید کائنات ﷺ کی آفاقیت اور مرکزیت کا قائل نظر آئے گا۔

اخلاق حسنہ کی اہمیت

2017-05-30 05:33:04 

الحمد للہ رب العالمین ۔ والصلوٰۃ والسلام علیک یا سیدالانبیاء و المرسلین 
اما بعد
فاعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم 
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم 
دین اسلام اخلاق حسنہ پر زور دیتا ہے اور بداخلاقی بدزبانی سے منع کرتا ہے 
 حضور اکرم ﷺ بھی اخلاق حسنہ کو محبوب رکھتے تھے چنانچہ آپ ﷺ کا فرمان عالیشان ہے کہ :
"ان من احبکم الی احسنکم اخلاقا"
 میرے نزدیک تم میں سب سے زیادہ محبوب وہ ہے جس کے اخلاق سب سے بہترین ہوں ( بخاری ٣٧٥٩) 
 ایک حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حسن اخلاق کے حامل شخص کی ان الفاظ میں تعریف وتحسین کی ہے
"ان من خیارکم احسنکم اخلاقا"
تم میں بہترین وہ ہے جس کے اخلاق اچھے ہیں (بخاری ٣٥٥٩)
کامل ایمان کی نشانی یہ بیان فرمائی :
"اکمل المؤمنین ایمانا احسنھم خلقا"
کامل مومن وہ ہے جس کے اخلاق اچھے ہوں(ابوداؤد ٤٦٨٦، ترمذی ١١٦٢)
اخلاق حسنہ اپنانے والے کو بشارت دی 
"ان المؤمن لیدرک بحسن خلقہ درجہ الصائم القائم"
 مومن اپنے حسن اخلاق سے دن میں روزہ رکھنے والے اور رات میں عبادت کرنے والے کا درجہ پالیتا ہے۔(ابوداؤد ٤٧٩٨)
نیز فرمایا "مامن شئی اتقل فی المیزان منحسن الخلق"
احسن خلق سے زیادہ باوزن ترازو میں کوئی چیز نہ ہوگی۔
نبی ﷺ نے اپنی بعثت کا مقصد بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے کہ: 
 بُعِثْتُ لِاُتَمِّمَ مَکَارِمَ الْاَخْلَاق۔ یعنی ’’میں مکارمِ اخلاق کی تکمیل کے لئے مبعوث کیا گیا ہوں۔‘‘ 
حضور ﷺ کے اخلاقِ حسنہ کے بارے میں قرآن مجید کی شہادت یہ ہے کہ: 
اِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیْمٍ۔ 
’’بے شک آپ اخلاق کے بلند ترین مرتبہ پر فائز ہیں۔‘‘ 
 حضرت انسؓ کا بیان ہے کہ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اَحْسَنَ النَّاسِ خُلْقًا رسول اللہ ﷺ تمام انسانوں سے اعلیٰ اخلاق رکھتے تھے۔ (متفق علیہ) 
 اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاں حسن اخلاق کو اختیار کرنے کی تلقین فرمائی ہے۔۔۔ وہیں معاملات کو بخوبی انجام دینے پر زور دیا، اچھی صفات سے متصف ہونے کی تاکید کی ہے اور بدخلقی کی مذمت کی ہے اس کے بھیانک اور مہلک نتائج سے خبردار کیا ہے اور بدخلق شخص سے اپنی بیزاری اور ناراضگی کا اظہار فرمایا ہے اس موضوع کی چند احادیث ملاحظہ ہوں.

حضرت عائشہ سے روایت ہے کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
“ابغض الرجال الی اللہ الالد الخصم”
 اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ مبضوض شخص وہ ہے جو ضدی قسم کا اور جھگڑالو ہو (ترمذی٢٩٧٦)

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
“المؤمن غیرکریم والفاجر خب لئیم”
مومن بھولا بھالا اور شریف ہوتا ہے اور فاجر چالاک اور کمینہ ہوتا ہے(ترمذی ١٩٦٤٤ البانی نے اسے صحیح قرار دیا ہے)

ایک اور روایت میں ہے کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
“ان اللہ لیبغض الفاحش البذیء”
اللہ تعالٰی بےحیا اور فحش گو شخص سے نفرت کرتا ہے (ترمذی ٢٠٠٢٢ صحیحہ الالبانی)

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
“البذاء من الجفاء والضفاء فی النار”
 فحش گوئی (اللہ سے) بدعہدی ہے اور بدعہدی جہنم میں (لےجانے والی) ہے (ترمذی ٢٠٠٩صحیحہ البانی)
 بد اخلاقی ، بدزبانی اور فحش گوئی کی مذمت کرتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ سلم نے فرمایا:

"میری امت میں تو مفلس وہ ہے جو قیامت کے روز ڈھیر ساری نمازیں، روزے اور زکوتیں لے کر آئے گا مگر ساتھ ہی اس حال میں آئےگا کہ کسی کو گالی دی، کسی پہ تہمت لگائی، کسی کا مال کھایا، کسی کا خون بہایا، کسی کو مارا۔ پس (ان مظالم کے قصاص میں) اس دعوے دار کو اس کی نیکیاں دے دی جائیں گی، یہاں تک کہ اگر حساب پورا ہونے سے پہلے اس کی نیکیاں ختم ہوگئیں، تو ان (دعوے داروں) کے گناہ اس پر ڈال دیے جائیں گے، اور پھر وہ سر کے بل آگ میں ڈال دیا جائےگا۔"

"جس نے اپنے بھائی پر کوئی ظلم کیا ہو۔ عزت کے معاملہ میں یا کسی بھی چیز کے بارے میں۔ وہ آج کے دن ہی اس سے معاف کرا لے، اس سے پہلے کہ اس کے پاس نہ دینار ہوں نہ درہم (کیونکہ اس دن) جتنا ظلم اس نے کیا، اتنی اس کی نیکیاں مظلوم کو دے دی جائیں گی اور نیکیاں نہ ہوں گی تو مظلوم کی برائیاں اس پر لاد دی جائیں گی۔"

(بخاری و مسلم )
 مندرجہ بالا احادیث کی روشنی میں اپنے آپ کو پرکھیں کہ دین اسلام ہمیں کیا تعلیم دیتا ہے اور ہم کس راہ پر چل رہے ہیں ۔ 
 اللہ عزوجل ہم سب کو اپنے محبوب ﷺ کی سنتیں اور اخلاق حسنہ اپنانے کی توفیق و ہمت عطا فرمائے اور روز قیامت حضور نبی کریم ﷺ کی شفاعت نصیب فرمائے آمین ثم آمین 
وما علینا الا البلاغ المبین 
 اللھم صلی علی سیدنا و مولانا محمد عدد ما فی علم اللہ صلوٰۃ دائمۃ بدوام ملک اللہ

مستشرقین کے اہداف و مقاصد

2017-05-29 09:06:19 

1۔ دینی اہداف:۔ یہودی و عیسائی ج سکہ خود کو اللہ کی پسندیدہ قوم قرار دیتے تھے اور آنے والے نبی کے منتظر تھے تاکہ اس کے ساتھ مل کر ساری دنیا پر قبضہ کیا جائے لیکن جب ان کی نافرمانیوں اور بدکاریوں کے باعث فضیلت کے منصب سے محروم کر کے نبوت و رسالت کی ذمہ داری بنو اسماعیل کے ایک فرد حضرت محمد ﷺ پر ڈال دی تو وہ حسد، بغض اور جلن سے اپنے حواس کھو بیٹھے اور باوجود آپ ﷺ کو نبی کی حثیت سے پہچان لینے کے آپ ﷺ کی نبوت کا انکار کر دیا۔ اسلام چونکہ انتہائی سرعت سے عرب سے نکل کر دنای کے ایک بڑے حصے پر چھا گیا تھا اس لیئے یہود و نصاری کو یہ خظرہ محسوس ہوا کہ اگر اسلام اسی رفتار سے پھیلتا رہا تو کہیں ان کا دین بلکل ہی ختم نہ ہو جائے چنانچہ انہوں نے سوچا کہ ایک طرف اسلامی تعلیمات پر شکوک کے پردے ڈالے جائیں اور اسے ناقص، ناکام اور غیر الہامی فلسفہ قرار دیا جائے اور دوسری طرف یہودیوں اور عیسائیوں کو اسلام قبول کرنے سے روکا جائے اور تمام دنیا میں اپنے مذہب کا پرچار کیا جائے اس کام کے لیئے انہوں نے پادریوں کی تربیت کی اور مسلم ممالک سے اسلامی علوم کی کتب جمع کر کے ان میں کمزوریاں تلاش کرنے کی کوشش کی تاکہ اسلام اور مسلمانوں کو بدنام کیا جا سکے۔ انہوں نے نبی کریم ﷺ کی ذات، ازواج، قرآن مجید، احکام، سیرت صحابہ ہر چیز کو ہدف بنایا اور اس میں شکوک و شبہات پیدا کرنے کی کوشش کی۔ مسلمانوں میں اتحاد و اخوت ختم کر کے ان میں نسلی، لسانی اور علاقائی تعصبات کو ابھارنے کی کوشش کی
2. علمی اہداف:۔ اگرچہ مستشرقین میں کچھ منصف مزاج لوگ بھی موجود ہیں جو کبھی کبھی کوئی صحیح بات بھی منہ سے نکال لیتے ہیں لیکن چونکہ یہ بات ان کی تربیت میں شامل ہو چکی ہے کہ عیسائیت ہی صحیح دین ہے اس لیئے وہ اسلامی تعلیمات کو ہمیشہ اپنے انداز سے دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ صدیوں پر محیط اسلام دشمن پروپیگنڈا کی وجہ سے مغربی عوام کے اذہان اسلام کے بارے میں کوئی صحیح بات آسانی سے قبول نہیں کرتے۔ ان کے علماء و فضلاء نے علمی تحریکوں اور تحقیق و جستجو کے نام پر صرف اسلام مخالف مواد جمع کیا ہے۔ یہودی و عیسائی جو ہمیشہ سے ایک دوسرے کے جانی دشمن رہے ہیں لیکن مسلمانوں کا مقابلہ کرنے کے لیئے صدیوں کی دشمنی بھول کر ایک ہو چکے ہیں وہ ہر اس کام پر متفق ہیں جس سے اسلام اور مسلمانوں کو نقصان پہنچایا جا سکے۔ مختلف ادارے اور انجمنیں بنا کر مسلمانوں کو اسلام سے برگشتہ کرنے کے لیئے سائنسی بنیادوں پر کام کر رہے ہیں۔ اسلام چھوڑنے والوں کو ہاتھوں ہاتھ لیا جاتا ہے مسلمان عورتوں میں آزادی کے نام پر بے پردگی اور بے راہ روی کو فروغ دیا جاتا ہے۔ غریب ممالک میں عیسائی تنظیمیں فلاحی کاموں کی آڑ میں عیسائیت کا پرچار کر رہی ہیں۔ مسلمان ممالک کے پالیسی ساز اداروں پر اثر انداز ہو کر تعلیمی نصاب اور طریق تعلیم کو اپنی مرضی کے مطابق کرنے کی بھر پور کوشش کی جاتی ہے ۔
3۔ اقتصادی و معاشی اہداف:۔ اگرچہ استشراق کی اس تحریک کا آغاز اسلام کی بڑھتی ہوئی طاقت کو روکنے کے لیئے ہوا تھا، لیکن بعد میں اس کے مقاصد میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔ اہل مغرب نے مسلم ممالک کی تکنیکی مہارت حاصل کرنے کے لیئے اور اپنے معاشی مفادات اور تجارتی معاملات کو بہتر بنانے کے لیئے عربی زبان اور اسلامی تہذیب و ثقافت کا مطالعہ کیا۔ مسلم ممالک میں اپنے اثر و رسوخ اور نفوذ کو بڑھایا اور مقامی طور پر ایسے حالات پیدا کرنے کی کوشش کی کہ ان ممالک کے وسائل مکمل طور پر نہ سہی، کسی حد تک اہل مغرب کے ہاتھوں می چلے جائیں۔ مشرق کو اہل مغرب سونے کی چڑیا قرار دیتے تھے۔ مغرب جب صنعتی دور میں داخل ہوا تو اس کی نظر مشرق میں موجود خام مال کے ذخیروں پر تھی اسی لیئے تمام ممالک نے مختلف مشرقی ممالک میں اپنے اثر و رسوخ اور نفوذ کو بڑھانے کے لیئے ان کو اپنی کالونیاں بنانے کی کوشش کی۔ اس سلسلے میں تمام غیر اخلاقی حربے استعمال کیئے گئے۔ چنانچہ ایک انگریز ادیب "سڈنی لو" نے اپنے ہم قوموں کے رویے کا اظہار ان الفاظ میں کیا ہے:۔
" مغرب کی عیسائی حکومتیں کئی سالوں سے امم شرقیہ کے ساتھ جو سلوک کر رہی ہیں اس سلوک کی وجہ سے یہ حکومتیں چوروں کے اس گروہ کے ساتھ مشابہت رکھتی ہیں جو پرسکون آبادیوں میں داخل ہوتے ہیں، ان کے کمزور مکینوں کو قتل کرتے ہیں اور ان کا مال و اسباب لوٹ کر لے جاتے ہیں۔ کیا وجہ ہے کہ یہ حکومتیں ان قوموں کے حقوق پامال کر رہی ہیں جو آگے بڑھنے کی تگ و دو میں مصروف ہیں ۔ اس ظلم کی کیا وجہ ہے جو ان کمزوروں کے خلاف روا رکھا جا رہا ہے۔ کتوں جیسے اس لالچ کا جواز کیا ہے کہ ان قوموں کے پاس جو کچھ ہے وہ ان سے چھیننے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔ یہ عیسائی قوتیں اپنے اس عمل سے اس دعوی کی تائید کر رہی ہیں کہ طاقتور کو حق پہنچتا ہے کہ وہ کمزوروں کے حقوق غصب کرے" (ضیاء النبی ﷺ بحوالہ الا ستشراق وجہ للاستعمار)
4۔ سیاسی اور استعماری اہداف: ۔ اتفاق سے جب یہود و نصاری کی اجتماعی کوششوں اور کچھ مسلمانوں کی اپنی کمزوریوں کے نتیجے میں مسلمان زوال کا شکار ہوئے تو اسی اثناء میں مغرب میں علمی و سائنسی ترقی کا آغاز ہو رہا تھا۔ کچھ اسلام دشمن مفکرین و مصنفین اور کچھ صلیبی جنگوں کے اثرا ت کے تحت اہل مغرب مسلمانوں کو اپنا بدترین دشمن گردانتے تھے۔ ان کی ساری جدوجہد اسلام کے روشن چہرے کو مسخ کرنے، نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کی شخصیات کو ان کے مقام و مرتبے سے گرانے اور قرآن و حدیث میں شکوک و شبہات پیدا کرنے میں صرف ہو رہی تھی ۔ اسلام سے اس دشمنی اور مسلمانوں کی نشاۃ ثانیہ کے خوف نے یہود و نصاری کو ایک ایسے نہ ختم ہونے والے خبط میں مبتلاء کر دیا جو اسلام کے خاتمے کے بغیر ختم ہونے والا نہ تھا۔انہوں نے ایک طرف تو مسلمانوں کو دینی اور اخلاقی لحاط سے پست کرنے کی کوشش کی اور دوسری طرف ایسا منصوبہ بنایا کہ مسلمان دوبارہ کبھی اپنے پاؤں پر کھڑے نہ ہو سکیں۔ سابقہ تجربات کی بدولت ان لوگوں کو بخوبی علم ہو چکا تھا کہ مسلمانوں کو جنگ و جدل سے ختم کرنا ناممکن ہے اس لیئے انہوں نے متبادل طریقوں سے مسلمانوں کو کمزور کرنے اور ان کے وسائل پر قبضہ کرنے کا منصوبہ بنایا۔ طویل منصوبہ بندی کے بعد مسلمانوں کی قوت اور طاقت کی بنیادوں کو جان کر ان کو کمزور کرنے کی کوشش کی ۔ علماء و محققین کے پردے میں مسلم ممالک میں اپنے تربیت یافتہ لوگوں کو بھیج کر مسلمانوں کی دینی حمیت، اتحاد و اخوت، جہاد، پردہ اغیرہ جیسی امتیازی اقدار کو کمزور کرنے کی کوشش کی۔ اس کے ساتھ ہی مختلف قسم کے علاقائی، نسلی، لسانی اور مسلکی اختلافات کو ہوا دینے کی کوشش کی۔ پہلے مرحلے میں مسلمانوں کے مذہبی و سیاسی اتحاد کو پارہ پارہ کرنے کے بعد اپنے اثر و نفوذ میں اضافہ کر کے کمزور ممالک کو اپنی طفیلی ریاستوں کی صورت دے دی۔ اس طرح ایک طرف تو مسلمان ہر لحاظ سے کمزور ہو گئے اور دوسری طرف ان کے تمام وسائل پر یہود و نصاری کا قبضہ ہو گیا۔ جرمن مفکر پاؤل شمٹ نے اپنی کتاب میں تین چیزوں کو مسلمانوں کی شان و شوکت کا سبب قرار دیتے ہوئے ان پر قابو پانے اور انہیں ختم کرنے پر زور دیا ہے
1. دین اسلام،اس کے عقائد، اس کا نظام اخلاق، مختلف رنگوں نسلوں اور ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں میں رشتہ اخوت استوار کرنے کی صلاحیت
 2. ملت اسلامیہ کے طبعی وسائل
3. مسلمانوں کی روز افزوں عددی قوت۔۔۔۔۔!!!
اگر یہ تینوں قوتیں جمع ہو گئیں، مسلمان عقیدے کی بناء پر بھائی بھائی بن گئے اور انہوں نے اپنے طبعی وسائل کو صحیح استعمال کرنا شروع کر دیا تو اسلام ایک ایسی مہیب قوت بن کر ابھرے گا جس سے یورپ کی تباہی اور تمام دنیا کا اقتدار مسلمانوں کے میں چلے جانے کا خطرہ پیدا ہو جائے گا۔۔۔۔!!!

 

سوشل میڈیا اور دینی طبقہ

2017-05-26 23:52:43 

تحریر:  مولوی انوار حیدر

احباب سے گذارش ہیکہ اِس پوسٹ کو اپنی پیاری سی فیسبک وال پہ شیئر کردیجیئے تاکہ یہ پیغام زیادہ سے دوستوں تک باالخصوص مدارس کے نئے فضلاء تک پہنچ سکے تقریباً ایک عشرہ (دس سال قبل) سوشل میڈیا پہ مستشرقین،
مستغربِین، قادیانی، سیکولرز و لبرلز، متجددین، اور ملحدین نے بتدریج اپنا فکری اور تشہیری کام شروع کیا، صدیوں پرانے گِھسےپِٹے بوگس سوالات حل شدہ اعتراضات کو نئے عنوانات کیساتھ پیش کرتے اور کم علم مسلمانون کو شک میں ڈال جاتے، اِس طرف سے سوشل میڈیا استعمال کرنے والے اکثر نوجوان تھے اور اکثریت اپرکلاس سوسائٹی سے تھی، عموماً تب یہاں پہ دینی تعلیم سے واقفیت رکھنے والے لوگ بہت کم تعداد میں ہوتے تھے، ضرورت تھی کہ اِس منفی پروپیگنڈے کا ٹھوس جواب دیا جائے، پہلے مرحلہ میں ہماری یونیورسٹیز سے تعلق رکھنے والے ماسٹر لیول کے کچھ احباب اور دیگر طلباء اِس طرف متوجہ ہوئے، عقیدے کی سچائی کے یقین کیساتھ یہ لوگ یہاں بِھڑگئے جیسا کہ دوستوں سے سنا ہے یہاں دنوں ہفتوں تک مباحثے جاری رہتے، کئی یادگار اور نتیجہ خیز مناظرے اور مکالمے یہاں وقوع پذیر ہوئے، چند سال بعد انڈرائڈ موبائل کے آنے سے سوشل میڈیا تک عوامی طبقات کی رسائی نسبتاً آسان ہوگئی، اِس کا منفی استعمال تو بہرحال زیادہ پھیلا لیکن ایک بڑی تعداد سنجیدہ لوگوں کی بھی اِس طرف متوجہ ہوئی، یہاں موجود مخالفانہ مواد بہت سارے لوگوں کیلئے نیا تھا، کچھ بیچارے مطالعہ اور تحقیق کی جستجو میں تشکیک کا شکار ہوتے گئے، کچھہ اعوذبااللّٰہ پڑھ کے کنارہ کرتے گئے تو کچھ بسم اللّٰہ پڑھ کے رد کرنے اور جواب دینے میں جُٹ گئے، حق و باطل کی اِس معرکہ آرائی میں ہر طرح کے نتیجے نکلے، نقصان بھی اٹھانا پڑا اور فتوحات بھی حاصل ہوتی رہیں، بغیر کسی لگی لپٹی کے کہنا پڑیگا کہ اِس معرکہ کے اولین کارکنان عصری تعلیمی اداروں سے ہی تعلق رکھتے تھے، دینی مدارس کے طلباء اور فضلاء بہت بعد میں سوشل میڈیا پہ آئے، جب آئے تو اول اول اُنہیں اپنے روایتی موضوعات تک ہی محدود رہنا پڑا، بین المسالک موضوعات ہی اُن کا مدعا موضوع اور خطبہ تھے، لیکن ایک ہی پلیٹ فارم پہ قریب میں استشراقیت، جدیدیت و غامدیت، تشکیک و الحاد کے زیادہ اہم موضوعات زیرِبحث تھے، چنانچہ بتدریج یہ حضرات بھی اُدھر جانے لگے، ایک وقت تھا جب سوشل میڈیا پہ بین المسالک مباحثے عروج پہ ہوتے تھے، ایک دوسرے کے رد کیلئے مضبوط ترین گروپ بنائے ہوئے تھے، لیکن جب مشترکہ عقائد و عمومی فکری مفادات پہ بیرونی حملہ آرائی دیکھی تو محنت کا رخ پھرنے لگا، گفتگو کا دائرہ بین المسالک موضوعات سے نکل کر بین المذاہب موضوعات پہ جا پہنچا، ایک دوسرے کے فریق باہم رفیق بن گئے، ایک دوسرے کی ضرورت بن گئے، اور یہ ایک یادگار سنگم تھا جب دو تعلیمی نظاموں سے تعلق رکھنے والے مختلف مسالک کو فالو کرنے والے ایک رخ پہ آگئے، سابقہ نسبتیں فراموش ہونے لگیں اور سابقہ جھگڑے مِٹنے لگے، عصری اور دینی ۔ ۔ تعلیمی اداروں سے تعلق رکھنے والوں نے متحد ہوکر بےدینی، تشکیک اور الحاد کے آگے ایک مضبوط دیوار کھڑی کردی، الحمدللہ اُسی اتفاق کی برکت ہے کہ آج سوشل میڈیا کے خصوصاً اردو حلقہ میں دینی فکر کا دعوےٰ مضبوط پوزیشن اختیار کرچکا ہے، کوئی بھی سوال کہیں سے بھی سامنے آئے درجنوں بندے اُس کا جواب دینے کیلئے دستیاب ہوتے ہیں، اگلی بات اور آخری بات چونکہ سوشل میڈیا پہ وقفہ اور چھٹی کا کوئی امکان نہیں تو متواتر ایک لیول برقرار رہنے سے کام یکسوئی اختیار کرگیا، جمود بھی محسوس ہونے لگا، احباب بتاتے ہیں بہت بار ایسا ہوتا ہے کہ مہینوں پہلے ہوچکی بحث کے سوالات کسی نے دوبارہ چھیڑدیئے تو بوریت محسوس ہونے لگتی ہے، اگر کسی نے دلیل قبولنے سے انکار کیا تو فرسٹریشن محسوس ہونے لگی، ایسے مواقع پہ ذمہ دار اور پرانے لوگ تو کنارہ کرجاتے لیکن نوآموز بعض مرتبہ الجھ پڑتے اِس سے بعض مرتبہ نقصان بھی ہوا مقابل آدمی بجائے سمجھنے کے مایوس ہوکے ہٹ گیا، یا کبھی مخالف ہی ہوگیا جبکہ سال دوہزار سولہ سترہ میں اِن تمام طبقات میں اور تمام موضوعات پہ ناگہانی طور پہ یکدم تیزی آگئی، ہر طرف سے تابڑتوڑ بحث مباحثےشروع ہوگئے، اکثر مواقع پہ الحمدللّٰہ نتیجہ مثبت ہی جارہا ہے لیکن کام کی وسعت اور تیزی کے مدنظر اب محسوس ہونے لگا ہے کہ دینی فکر کیلئے کام کرنے والوں کو سوشل میڈیا پہ نئے سرے سے صف بندی کی ضرورت ھے اور اِس کیلئے دینی مدارس اور دینی تنظیمات سے تعلق رکھنے والی معتبر شخصیات جید علماء کی پہلے سے زیادہ تعداد کو یہاں متوجہ کرنا ضروری ہوگیا ھے، الحمدللّٰہ مدارس میں ایسے بہت علماءِ کرام موجود ہیں جو بات کو علمی منطقی انداز میں مدلَّل طور پہ احسن انداز میں سمجھاسکتے ہیں، اُنہیں اِس طرف متوجہ کرنا ہے کہ حضرت یہاں بھی آپکی ضرورت ہے، بقدرِ فرصت تھوڑا بہت وقت سوشل میڈیا پہ دیدیا کریں، کسی نہ کسی کو علمی فائدہ ضرور پہنچیگا آپکو اجر ملیگا، اِس کے ساتھ ساتھ درسِ نظامی سے فارغ ہونے والے نئے فُضلاء کو بھی اِس طرف متوجہ کیا جانا چاہیئے، ہاں نئے آنے والوں کو یہاں کی نزاکتیں اور چلاکیاں بتانا نہ بھولئییگا یہاں موجود پرانے احباب سے مزید سنجیدگی، یکسوئی اور توجہ کی اپیل ہے کہ اِس سلسلہ میں آپ بھی اپنا کردار ادا کیجیئے، نیکی کر دریا میں ڈال صلہ اور اجر اللّٰہ دیگا

 

تحریک استشراق کا آغاز

2017-05-26 01:13:40 

 اگرچہ لفظ استشراق نومولود ہے لیکن تحریک استشراق کا آغاز بہت پہلے ہی ہو چکا تھا۔ اہل مغرب کی اسلام دشمنی کی تاریخ کا آغاز حضرت محمد ﷺ پر غار حرا میں پہلی وحی کے ساتھ ہی ہو گیا تھا۔ اہل مغرب سے یہاں میری مراد اہل کتاب یہود و نصاری ہیں جو مشرکین مکہ کے بعد اسلام کے دوسرے مخاطب تھے۔ یہود و نصاری کی کتب و صحائف میں آخری سمانے میں آنے والے ایک نبی کا ذکر بڑی صراحت اور واضح نشانیوں کے ساتھ مذکور تھا۔ وہ اپنی کتابوں اور انبیاء بنی اسرائیل کی پیش گوئیوں کی روشنی میں ایک آنے والے نبی کے منتظر تھے اور ان کو اس حد تک اس نبی کی آمد اور مقام آمد کا یقین تھا کہ انہوں نے مدینہ منورہ کو اپنا مرکز بنا لیا تھا اور عربوں کو اکثر جتلاتے رہتے تھے کہ عنقریب ہمارا ایک نبی آنے والا ہے اور ہم اس کے ساتھ مل کر سارے عرب پر غلبہ حاصل کر لیں گے ۔ جیسا کہ قرآن مجید اس کو یوں بیان کرتا ہے :۔

وَلَمَّا جَاءَهُمْ كِتَابٌ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ مُصَدِّقٌ لِمَا مَعَهُمْ وَكَانُوا مِنْ قَبْلُ يَسْتَفْتِحُونَ عَلَى الَّذِينَ كَفَرُوا فَلَمَّا جَاءَهُمْ مَا عَرَفُوا كَفَرُوا بِهِ فَلَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الْكَافِرِينَ

(البقرة:89)

اور اس سے پہلے وہ کفار پر فتح مانگا کرتے تھے، پھر جب ان کے پاس وہ چیز آئی جسے انہوں نے پہچان لیا تو اس کا انکار کیا، سو کافروں پر اللہ کی لعنت ہے۔

اللہ عزوجل نے فرمایا کہ یہودی اور عیسائی اپنی کتابوں میں بیان کردہ نشانیوں کے لحاظ سے حضرت محمد ﷺ کو یقینی طور پر بطور نبی جانتے اور پہچانتے تھے جیسا کہ ارشاد ہے کہ :۔

 

الَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ يَعْرِفُونَهُ كَمَا يَعْرِفُونَ أَبْنَاءَهُمْ وَإِنَّ فَرِيقًا مِنْهُمْ لَيَكْتُمُونَ الْحَقَّ وَهُمْ يَعْلَمُونَ

(البقرة:146)

وہ لوگ جنہیں ہم نے کتاب دی تھی وہ اسے(محمد ﷺ) پہچانتے ہیں جیسے اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں، اور بے شک کچھ لوگ ان میں سے حق کوچھپاتے ہیں اور وہ جانتے ہیں۔

بنی اسرائیل چونکہ اپنے آپ کو اللہ کی پسندیدہ قوم سمجھتے تھے اور اس خوش گمانی میں مبتلا تھے کہ اپنی تمام تر نافرمانیوں کے باوجود وہ جنت میں جائیں گے اور یہ کہ وہ خدا کی چہیتی قوم ہیں ۔جب ان کی تمام تر خوش گمانیوں کے برعکس اللہ عزوجل نے اپنے آخری نبی ﷺ کو بنی اسماعیل میں مبعوث فرمایا تو یہود نے فرشتہ جبرائیل علیہ السلام کو اپنا دشمن قرار دے دیا کہ انہوں نے دانستہ وحی یہود کے بجائے بنی اسماعیل کے ایک فرد محمد ﷺ پر نازل کر دی ہے۔ چنانچہ اس جلن اور حسد کی وجہ سے انہوں نے جانتے بوجھتے آپ ﷺ کا انکار کر دیا۔ اسی حسد اور جلن نے یہود و نصاری کو مسلمانوں کا دشمن بنا دیا۔

چنانچہ اسی پس منظر کے باعث مغربی مفکرین بلعموم اسلام کے بارے میں منفی انداز فکر سے کام لیتے ہیں۔ اور اسلام کے تمام تعمیری کاموں کو نظر انداز کر کے صرف انہی پہلوؤں پر زور دیتے ہیں جن کے ذریعے وہ لوگوں میں اسلام کے بارے میں غلط فہمیاں پھیلا سکیں

چنانچہ اسی حسد کی وجہ سے عیسائیوں اور یہودیوں نے اسلام اور مسلمانوں کو ختم کرنے کے لیئے ہر ایک حربہ آزمایا لیکن ناکام رہے۔ نبی کریم ﷺ کے ساتھ کیئے گئے معاہداے کی خلاف ورزی کی پاداش میں یہود کو مدینہ سے نکال دیا گیا اور ان کی نسلی و علمی برتری کا نشہ ٹوٹ گیا۔ اسلام کے شاندار اور تابندہ نظریات کے آگے ان کی ایک نہ چلی بلکہ یہود و نصاری کے مذہبی اور روحانی مرکز بیت المقدس پر بھی مسلمانوں کا قبضہ ہو گیا۔ظہور اسلام کے ایک سو سال مکمل ہونے سے پہلے ہی اسلام اپنے آپ کو دنیا میں ایک روشن خیال، علم دوست، شخصی آزادیوں کے ضامن، عدل و انصاف، رواداری اور احترام انسانیت جیسی خوبیوں سے متصٖ دین کے طور پر منوا چکا تھا۔اور یہ کامیابی یہود و نصاری کو ہر گز گوارا نہ تھی۔ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف یہود و نصاری کی ریشہ دوانیوں کا آغاز حیات نبوی ﷺ میں ہی ہو چکا تھا ۔ لیکن ان کارروائیوں کا عملا کچھ زیادہ نقصان نہیں ہوا۔ مسلمان ذہنی اور علمی لحاظ سے یہود و نصاری سے کہیں آگے تھے اس لیئے دشمنان دین کی سرگرمیاں زیادہ تر جنگ و جدل تک ہی محدود رہیں لیکن اس محاذ پر بھی مسلمانوں کی برتری قائم رہی اور اسلامی ریاست کی حدود پھیلتی گئیں یہاں تک کہ یہود و نصاری کے مذہبی مقامات بیت المقدس وغیرہ بھی مسلمانوں کے قبضے میں آ گئے۔ خیر القرون کے خاتمے کے بعد یہود و نصاری کے پروردہ لوگوں نے مسلمانوں میں غلط عقائد و نظریات کو فروغ دینا شروع کر دیا مسلمانوں کے باہمی اختلافات کو بھڑکایا اور غلط فہمیاں پیدا کرنا شروع کیں۔

پہلا آدمی جس نے باقاعدہ طور پر اسلام کے خلاف تحریری جنگ شروع کی وہ جان آف دمشق یوحنا دمشقی 749ء تھا۔ جو خلیفہ ہشام کے زمانے میں بیت المال میں ملازم تھا۔ اس نے ملازمت ترک کر دی اور فلسطین کے ایک گرجے میں بیٹھ کر مسلمانوں کی تردید میں کتابیں لکھنے لگا۔  اس نے اسلام کے خلاف دو کتب " محاورہ مع المسلم" اور "ارشادات النصاری فی جدل المسلمین" لکھیں۔ یہ دونوں تصانیف اسی مقصد کے تحت لکھی گئی تھیں جس کے تحت مستشرقین نے تصنیفات کے انبار لگا دیئے ہیں اس لیئے ٰوحنا دمشقی کی مساعی کو تحریک استشراق کا نقطہ آغاز قرار دیا جا سکتا ہے۔

کچھ لوگوں کی رائے یہ ہے کہ اس تحریک کا آغاز 1312ء میں ہوا جن فینا میں کلیسا کی کانفرنس ہوئی جس میں یہ طے کیا گیا کہ یورپ کی جامعات میں عربی، سریانی، اور عبرانی زبان کی تدریس کے لیئے چئیرز مقرر کی جائیں ۔ بعض اہل علم کے نزدیک یہ تحریک دسویں صدی میں شروع ہوئی جب فرانسیسی پادری جربرٹ ڈی اوریلیک(Gerbert d’Aurillac) حصول علم کے لیئے اندلس گیا اور وہاں کی جامعات سے فارغ التحصیل ہونے لے بعد 999ء سے لیکر 1003ء تک پوپ سلویسٹر ثانی کے نام سے پاپائے روم کے منصب پر فائز رہا۔ اسی طرح بعض نے اس کا آغاز 1229ء سے قرار دیا ہے جب قشالیہ (Castile)کے شاہ الفانسو دہم نے 1229ء میں مرسیا (Murcia) میں اعلی تعلیم کا ایک ادارہ قائم کیا اور مسلم، عیسائی اور یہودی علماء کو تصنیف و تالیف اور ترجمے کا کام سونپا۔

اسی طرح بعض کے نزدیک اس تحریک کا بنی پطرس تھا جو کلونی فرانس کا رہنے والا تھا۔ اس نے اسلامی علوم کے تراجم کے لیئے مختلف علماء پر مشتمل ایک کمیٹی بنائی جس میں مشہور انگریزی عالم رابرٹ آف کیٹن بھی تھا اس نے قرآن مجید کا پہلا لاطینی ترجمہ کیا جس کا مقدمہ پطرس نے لکھا۔ اہل مغرب نے سمجھ لیا تھا کی مسلمانوں پر غلبہ حاصل کرنے کے لیئے انہیں علمی میدان میں مسلمانوں کو شکست دینی ہو گی۔ اس لیئے انہوں نے مختلف طریقے اختیار کیئے ایک طرف اپنے اہل علم کو مسلمانوں کے علوم و فنون سیکھنے پر لگا دیا اور دوسری طرف مسلمانوں میں ان کے افکار کو دھندلانے کی کوشش کی ۔ 1539ء میں فرانس، 1632ء کیمبرج اور 1638ء میں آکسفورڈ میں عربی و اسلامی علوم کی چیئرز قائم کی گئیں۔ 1671ء میں فرانس کے شاہ لوئی چہار دہم نے تمام اسلامی ممالک سے اپنے کارندوں کے ذریعے سے مخطوطات اکٹھے اور سلسلے میں تمام ممالک میں موجود سفارت خانوں کو ہدایت کی کہ اپنے تمام افادی و مالی وسائل استعمال کریں ۔

تحریک استشراق تعارف

2017-05-23 07:57:10 

غیر مشرقی لوگوں کا مشرقی زبانوں، تہذیب، فلسفے، ادب اور مذہب کے مطالعے میں مشغول ہو جانے کا نام استشراق ہے۔ اس تعریف کی رو سے ہر وہ غیر مشرقی عالم جو اپنے آپ کو مشرقی علوم کے لیئے وقف کرے گا اسے مستشرق کہا جائے گا۔
آکسفورڈ کی جدید ڈکشنری کے مطابق مستشرق وہ ہے جو مشرقی علوم و آداب میں مہارت حاصل کرے
المنجد کے مطابق مستشرق وہ ہے جو مشرقی زبانوں، آداب اور علوم کا عالم ہو اور اس علم کا نام استشراق ہے
ان تعریفوں میں کوئی بھی تعریف ایسی نہیں جو تحریک استشراق کے مقاصد اور عملی پہلوؤں پر روشنی ڈالتی ہو۔مشرق کا لفظ بذات خود وضاحت طلب ہے۔ مشرق و مغرب کے مفہوم میں تبدیلیاں ہوتی رہتی ہیں۔ قرون وسطی میں بحیرہ روم کو دنیا کا مرکز قرار دیا جاتا تھا اور جہتوں کا تعین اسی سے ہوتا تھا۔ اس کے مشرقی علاقوں کو مشرق اور مغربی علاقوں کو مغرب سے تعبیر کیا جاتا تھا اگر ہم مشرق کے اس مفہوم کو تسلیم کر بھی لیں تب بھی مستشرق کی مندرجہ بالا تعریف جامع نہیں رہتی اس تعریف کی رو سے دین عیسوی کا تعلق بھی مشرق سے ہے اور اس حساب سے جو عالم حضرت عیسی علیہ السلام کی زبان، معاشرت، مذہب اور سیرت کے مطالعے کے لیئے خود کو وقف کر دے اسے بھی مستشرق قرار دیا جانا چاہیئے مگر عملی طور پر ایسا نہیں ہے۔ بائبل کے دونوں حصوں عہد نامہ قدیم و جدید میں اکثر واقعات کا تعلق مشرق سے ہے مگر بائبل کے عالم کو کوئی بھی مستشرق نہیں کہتا۔ ایک حیران کن حقیقت یہ بھی ہے کہ وہ علمی مصادر جو مستشرقین کی مساعی کا نتیجہ ہیں یا تو وہ اس تحریک کے متعلق کلیتہ خاموش ہیں یا اگر کہیں ذکر ملتا بھی ہے تو وہ ناکافی اور مبہم ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مستشرقین اپنے مقاصد کو پوشیدہ رکھنا چاہتے ہیں ۔
یہ تحریک صدیوں مصروف عمل رہی مگر اس کا کوئی باضابطہ نام نہ تھا۔ اربری کہتا ہے کہ
Orientalist کا نام پہلی دفعہ 1630 ء میں مشرقی یا یونانی کلیسا کے ایک پادری کے لیئے استعمال ہوا۔ روڈنسن کہتا ہے کہ Orientalism یعنی استشراق کا لفظ پہلی دفعہ انگریزی زبان میں 1779 ء میں داخل ہوا۔ فرانس کی کلاسیکی لغت میں استشراق کے لفظ کا اندراج 1838 ء میں ہوا۔ حالانکہ عملی طور پر تحریک استشراق اس سے کئی صدیاں پہلے وجود میں آ چکی تھی اور پورے زور و شور سے مصروف عمل تھی۔ جن لوگوں نے تحریک استشراق کا تفصیلی جائزہ لیا ہے ان کے اغراض و مقاصد، ان کی تاریخ اور ان کے علمی کارناموں کو بیان کرنے کی کوشش کی ہے انہوں نے مستشرقین کے مختلف نظریات اور مساعی کے پیش نظر استشراق کی کچھ تعریفیں بیان کی ہیں ڈاکٹر احمد عبد الحمید غراب نے اپنی کتاب رویۃ الاسلامیہ لاستشراق میں کچھ تعریفیں لکھی ہیں جن میں سے چند ایک مندرجہ ذیل ہیں :۔
1۔ استشراق مغربی اسلوب فکر کا نام ہے جس کی بنیاد مشرق و مغرب کی نسلی تقسیم کے نظریہ پر قائم ہے۔ جس کی رو سے اہل مغرب کو اہل مشرق پر نسلی اور ثقافتی برتری حاصل ہے یہ تعریف گو کہ ہر مستشرق کی ذہنی کیفیت کو ظاہر کرتی ہے لیکن اگر اس تعریف کی رو سے دیکھا جائے تو آج سارا یورپ ہی مستشرق نظر آئے گا۔ کیونکہ جب سے انہوں نے صنعتی و عسکری میدان میں ترقی کی ہے اسی وقت سے سارا یورپ اسی انداز سے سوچتا ہے ۔اس صورت میں یہ تعریف استشراق کو سمجھنے میں معاون ثابت نہیں ہو سکتی۔
2۔ استعماری مغربی ممالک کے علماء اپنی نسلی برتری کے نظریے کی بنیاد پر، مشرق پر غلبہ حاصل کرنے کی نیت سے اس کی تاریخ، تہذیبوں، ادیان، زبانوں، سیاسی اور اجتماعی نظاموں، ذخائز دولت اور امکانات کا جو تحقیقی مطالعہ غیر جانبدارانہ تحقیق کے بھیس میں کرتے ہیں اسے استشراق کہا جاتا ہے۔
3. استشراق اس مغربی اسلوب کا نام ہے جس کا مقصد مشرق پر غلبہ حاصل کرنے کے لیئے اس کی فکری اور سیاسی تشکیل نو کرنا ہے ۔
آخری دو تعریفیں گو کہ مستشرقین کے استعماری اور استحصالی ارادوں کا پتا دیتی ہیں لیکن ان کے سینوں میں چھپی ہوئی اس حقیقی خواہش کا پتا نہیں دیتیں جس کا پردہ ہمارے علیم و خبیر پروردگار عالم نے صدیوں پہلے چاک کر دیا تھا :۔

وَدَّتْ طَّـآئِفَةٌ مِّنْ اَهْلِ الْكِتَابِ لَوْ يُضِلُّوْنَكُمْ ؕ وَمَا يُضِلُّوْنَ اِلَّآ اَنْفُسَهُـمْ وَمَا يَشْعُرُوْنَ (69)
بعض اہلِ کتاب دل سے چاہتے ہیں کہ کسی طرح تم کو گمراہ کردیں، اور (وہ) گمراہ نہیں کرتے مگر اپنے نفسوں کو اور نہیں سمجھتے۔

ڈاکٹر احمد عبد الحمید غراب نے مندرجہ بالا تعریفیں بمع تبصرہ نقل کرنے کے بعد استشراق کی جو تعریف خود کی ہے وہ مندرجہ ذیل ہے :۔
" مغربی اہل کتاب، مسیحی مغرب کی اسلامی مشرق پر نسلی اور ثقافتی برتری کے زعم کی بنیاد پر، مسلمانوں پر اہل مغرب کا تسلط قائم کرنے کے لیئے مسلمانوں کو اسلام کے بارے میں گمراہی اور شکوک کا شکار کرنے اور اسلام کو مسخ شدہ صورت میں پیش کرنے کی غرض سے، مسلمانوں کے عقیدہ، شریعت، ثقافت، تاریخ، نظام اور وسائل و امکانات کا جو مطالعہ غیر جانبدارانہ تحقیق کے دعوے کے ساتھ کرتے ہیں اسے استشراق کہا جاتا ہے ۔"
یہ تعریف مستشرقین کے اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں پوشیدہ عزائم کو ظاہر کرتی ہے لیکن اس میں خامی یہ ہے کہ اس کی رو سے تمام مستشرقین ایک ہی زمرے میں شمار ہو جاتے ہیں جبکہ مستشرقین کو کئی گروہوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ اس میں ایک خامی اور ہے کہ جو مستشرقین اسلام کے علاوہ دیگر مشرقی علوم اور تہذیبوں کے میدان عمل میں مصروف ہیں وہ مستشرقین کے دائرہ کار سے نکل جاتے ہیں۔ حالانکہ معروف معنوں میں وہ مستشرق ہیں۔
ڈاکٹر محمد ابراہیم رودی بارت کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ مستشرقین کے عرف میں لفظ مشرق کا جغرافیائی مفہوم مراد نہیں بلکہ ان کے ہاں مشرق سے مراد وہ خطے ہیں جہاں اسلام کو عروج حاصل ہوا۔ گویا مستشرقین دنیائے اسلام کو مشرق کے لفظ سے تعبیر کرتے ہیں۔
مشرق کے اس مفہون کے تحت، مستشرقین کی عملی جدوجہد جن خفیہ مقاصد کی غمازی کرتی ہے ان کو اور مستشرقین کے بے شمار علمی کارناموں اور طبقات کو مدنظر رکھتے ہوئے مستشرقین کی تعریف یوں کی جا سکتی ہے :۔
" اہل مغرب بلعموم اور یہود و نصاری بالخصوص، جو مشرقی عوام خصوصا ملت اسلامیہ کے مذاہب، زبانوں، تہذیب و تمدن، تاریخ، ادب، انسانی قدروں، ملی خصوصیات، وسائل، حیات اور امکانات کا مطالعہ معروضی تحقیق کے لبادے میں اس غرض سے کرتے ہیں کہ ان اقوام کو اپنا ذہنی غلام بنا کر ان پر اپنا مذہب اور تہذیب مسلط کر سکیں اور ان پر غلبہ پا کر ان کے وسائل حیات کا استحصال کر سکیں ان کو مستشرقین کہا جاتا ہے اور جس تحریک سے یہ لوگ وابستہ ہیں اسے تحریک استشراق کہا جاتا ہے۔"

قرآن حکیم کی شان اعجاز

2017-05-23 07:50:39 

ولید بن مغیرہ قرآن اور صاحب قرآن کا بہت بڑا دشمن تھا۔اس کی قادر الکلامی کی دھوم پورے مکہ میں تھی۔ابوجہل چاہتا تھا کہ اس کی زبان سے قرآن حکیم کے خلاف کچھ کلمات نکلوائے۔ولید بن مغیرہ اسلام کا دشمن تو تھا مگر قرآن کی عظمت نے اسے سرنگوں کر رکھا تھا۔ابوجہل کے اصرار پر اس نے کہا کہ تم جانتے ہو کہ میں تمام اصناف سخن کا تم سے زیادہ شناسا ہوں۔لیکن خدا کی قسم محمد ﷺ کا کلام اصناف سخن میں کسی سے بھی تعلق نہیں رکھتا۔اس موقعہ پر ولید بن مغیرہ نے یہ تاریخی جملے کہے:۔
وَاللّٰہِ اِنَّ لِقَولِہٖ لَحَلَاوَۃََ وَاِنَّ عَلَیہِ لَطَلَاوَۃََ وَاِنَّہُ لَمُنِیرُُ اَعلَاہُ مُشرِقُُ اَسٗفَلُہُ وَاِنَّہُ لَیَعلُوٗ وَمَا یُعلٰی وَاِنَّہُ لَیَحطِمُ مَا تَحتَہُ0
"خدا کی قسم اس کلام میں ایک عجیب قسم کی مٹھاس ہے۔حسن وجمال اس پر سایہ کناں ہے۔اس کا اوپر والا حصہ ضیاء بار اور نیچے والا حصہ تجلی ریز ہے۔یہ غالب آتا ہے مغلوب نہیں ہو سکتا۔جو اس کے نیچے آتا ہے یہ اسے پیس کر رکھ دیتا ہے"
 

منتخب تحریریں

ولید بن مغیرہ قرآن اور صاحب قرآن کا بہت بڑا دشمن تھا۔اس کی قادر الکلامی کی دھوم پورے مکہ میں تھی۔ابوجہل چاہتا تھا کہ اس کی زبان سے قرآن حکیم کے خلاف کچھ کلمات نکلوائے۔ولید بن مغیرہ اسلام کا دشمن تو تھا مگر قرآن کی عظمت نے اسے سرنگوں کر رکھا تھا۔ابوجہل کے اصرار پر اس نے کہا کہ تم جانتے ہو کہ میں تمام اصناف سخن کا تم سے زیادہ شناسا ہوں۔لیکن خدا کی قسم محمد ﷺ کا کلام اصناف سخن میں کسی سے بھی تعلق نہیں رکھتا۔اس موقعہ پر ولید بن مغیرہ نے یہ تاریخی جملے کہے:۔
وَاللّٰہِ اِنَّ لِقَولِہٖ لَحَلَاوَۃََ وَاِنَّ عَلَیہِ لَطَلَاوَۃََ وَاِنَّہُ لَمُنِیرُُ اَعلَاہُ مُشرِقُُ اَسٗفَلُہُ وَاِنَّہُ لَیَعلُوٗ وَمَا یُعلٰی وَاِنَّہُ لَیَحطِمُ مَا تَحتَہُ0
"خدا کی قسم اس کلام میں ایک عجیب قسم کی مٹھاس ہے۔حسن وجمال اس پر سایہ کناں ہے۔اس کا اوپر والا حصہ ضیاء بار اور نیچے والا حصہ تجلی ریز ہے۔یہ غالب آتا ہے مغلوب نہیں ہو سکتا۔جو اس کے نیچے آتا ہے یہ اسے پیس کر رکھ دیتا ہے"
 

ولید بن مغیرہ قرآن اور صاحب قرآن کا بہت بڑا دشمن تھا۔اس کی قادر الکلامی کی دھوم پورے مکہ میں تھی۔ابوجہل چاہتا تھا کہ اس کی زبان سے قرآن حکیم کے خلاف کچھ کلمات نکلوائے۔ولید بن مغیرہ اسلام کا دشمن تو تھا مگر قرآن کی عظمت نے اسے سرنگوں کر رکھا تھا۔ابوجہل کے اصرار پر اس نے کہا کہ تم جانتے ہو کہ میں تمام اصناف سخن کا تم سے زیادہ شناسا ہوں۔لیکن خدا کی قسم محمد ﷺ کا کلام اصناف سخن میں کسی سے بھی تعلق نہیں رکھتا۔اس موقعہ پر ولید بن مغیرہ نے یہ تاریخی جملے کہے:۔
وَاللّٰہِ اِنَّ لِقَولِہٖ لَحَلَاوَۃََ وَاِنَّ عَلَیہِ لَطَلَاوَۃََ وَاِنَّہُ لَمُنِیرُُ اَعلَاہُ مُشرِقُُ اَسٗفَلُہُ وَاِنَّہُ لَیَعلُوٗ وَمَا یُعلٰی وَاِنَّہُ لَیَحطِمُ مَا تَحتَہُ0
"خدا کی قسم اس کلام میں ایک عجیب قسم کی مٹھاس ہے۔حسن وجمال اس پر سایہ کناں ہے۔اس کا اوپر والا حصہ ضیاء بار اور نیچے والا حصہ تجلی ریز ہے۔یہ غالب آتا ہے مغلوب نہیں ہو سکتا۔جو اس کے نیچے آتا ہے یہ اسے پیس کر رکھ دیتا ہے"
 

ولید بن مغیرہ قرآن اور صاحب قرآن کا بہت بڑا دشمن تھا۔اس کی قادر الکلامی کی دھوم پورے مکہ میں تھی۔ابوجہل چاہتا تھا کہ اس کی زبان سے قرآن حکیم کے خلاف کچھ کلمات نکلوائے۔ولید بن مغیرہ اسلام کا دشمن تو تھا مگر قرآن کی عظمت نے اسے سرنگوں کر رکھا تھا۔ابوجہل کے اصرار پر اس نے کہا کہ تم جانتے ہو کہ میں تمام اصناف سخن کا تم سے زیادہ شناسا ہوں۔لیکن خدا کی قسم محمد ﷺ کا کلام اصناف سخن میں کسی سے بھی تعلق نہیں رکھتا۔اس موقعہ پر ولید بن مغیرہ نے یہ تاریخی جملے کہے:۔
وَاللّٰہِ اِنَّ لِقَولِہٖ لَحَلَاوَۃََ وَاِنَّ عَلَیہِ لَطَلَاوَۃََ وَاِنَّہُ لَمُنِیرُُ اَعلَاہُ مُشرِقُُ اَسٗفَلُہُ وَاِنَّہُ لَیَعلُوٗ وَمَا یُعلٰی وَاِنَّہُ لَیَحطِمُ مَا تَحتَہُ0
"خدا کی قسم اس کلام میں ایک عجیب قسم کی مٹھاس ہے۔حسن وجمال اس پر سایہ کناں ہے۔اس کا اوپر والا حصہ ضیاء بار اور نیچے والا حصہ تجلی ریز ہے۔یہ غالب آتا ہے مغلوب نہیں ہو سکتا۔جو اس کے نیچے آتا ہے یہ اسے پیس کر رکھ دیتا ہے"
 

ولید بن مغیرہ قرآن اور صاحب قرآن کا بہت بڑا دشمن تھا۔اس کی قادر الکلامی کی دھوم پورے مکہ میں تھی۔ابوجہل چاہتا تھا کہ اس کی زبان سے قرآن حکیم کے خلاف کچھ کلمات نکلوائے۔ولید بن مغیرہ اسلام کا دشمن تو تھا مگر قرآن کی عظمت نے اسے سرنگوں کر رکھا تھا۔ابوجہل کے اصرار پر اس نے کہا کہ تم جانتے ہو کہ میں تمام اصناف سخن کا تم سے زیادہ شناسا ہوں۔لیکن خدا کی قسم محمد ﷺ کا کلام اصناف سخن میں کسی سے بھی تعلق نہیں رکھتا۔اس موقعہ پر ولید بن مغیرہ نے یہ تاریخی جملے کہے:۔
وَاللّٰہِ اِنَّ لِقَولِہٖ لَحَلَاوَۃََ وَاِنَّ عَلَیہِ لَطَلَاوَۃََ وَاِنَّہُ لَمُنِیرُُ اَعلَاہُ مُشرِقُُ اَسٗفَلُہُ وَاِنَّہُ لَیَعلُوٗ وَمَا یُعلٰی وَاِنَّہُ لَیَحطِمُ مَا تَحتَہُ0
"خدا کی قسم اس کلام میں ایک عجیب قسم کی مٹھاس ہے۔حسن وجمال اس پر سایہ کناں ہے۔اس کا اوپر والا حصہ ضیاء بار اور نیچے والا حصہ تجلی ریز ہے۔یہ غالب آتا ہے مغلوب نہیں ہو سکتا۔جو اس کے نیچے آتا ہے یہ اسے پیس کر رکھ دیتا ہے"