بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ * لا الہٰ الا اللہ محمّد رسول اللہ * قُلْ هُوَ اللّـٰهُ اَحَدٌ - اَللَّـهُ الصَّمَدُ - لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُوْلَدْ - وَلَمْ يَكُنْ لَّـهٝ كُفُوًا اَحَدٌ

محمد اسحاق قریشی


کیا کبھی کوئی رسول قتل نہیں ہوا

2017-09-15 06:53:03 

غامدی صاحب نے نبی و رسول کے درمیان منصب اور درجے کے لحاظ سے امتیاز کرتے ہوئے یہ گوہرافشانی کی ہے کہ  اللہ عزوجل کے نبیوں کو ان کی قوم بعض اوقات قتل کر دیتی تھی لیکن کبھی کسی قوم کے ہاتھوں کوئی رسول قتل نہیں ہوا۔ اس امر کو وہ ایک اصول ایک عقیدہ اور قانون الٰہی مانتے ہیں کہ نبی کے لیئے وفات پانے یا قتل ہونے کی دونوں صورتیں ممکن ہیں  مگر کوئی رسول کبھی قتل نہیں ہو سکتا۔

چنانچہ وہ لکھتے ہیں کہ :۔
رسولوں کے بارے میں اس اہتمامکا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ زمین پر خدا کی کامل حجت بن کر آتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نبیوں کو ہم دیکھتے ہیں کہ ان کی قوم بارہا ان کی تکذیب ہی نہیں کرتی بلکہ ان کے قتل کے درپے بھی ہو جاتی ہے۔۔۔۔۔لیکن قرآن ہی سے معلوم ہوتا ہے کہ رسولوں کے متعلق اللہ کا قانون اس سے مختلف ہے۔
(میزان حصہ اول ص21 مطبوعہ 1985)

مزید کہتے ہیں کہ
نبی اپنی قوم کے مقابلے میں ناکام ہو سکتا ہے لیکن رسولوں کے لیئے غلبہ لازمی ہے
(میزان جلد اول ص 23 مطبوعہ 1985)

غامدی صاحب کا یہ مؤقف جسے وہ قانون الٰہی بھی قرار دینے سے نہیں چوکتے ، قرآن کے بلکل متضاد ہے ۔ قرآن کے مطابق نہ صرف نبی بلکہ رسول بھی قتل کیئے جاتے رہے ۔ چنانچہ قرآن میں ارشاد الٰہی ہے کہ :۔
اَفَكُلَّمَا جَآءَكُمْ رَسُوْلٌ بِمَا لَا تَهْوٰٓى اَنْفُسُكُمُ اسْتَكْبَـرْتُـمْ فَفَرِيْقًا كَذَّبْتُـمْ وَفَرِيْقًا تَقْتُلُوْنَ (87)

البقرہ
جب تمہارے پاس کوئی رسول وہ حکم لایا جسے تمہارے دل نہیں چاہتے تھے تو تم اکڑ بیٹھے، پھر ایک جماعت کو تم نے جھٹلایا اور ایک جماعت کو قتل کیا۔

اس آیت سے واضح معلوم ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل کے ہاتھوں کئی رسول قتل ہوئے۔

مزید ایک جگہ ارشاد ہے :۔
لَقَدْ اَخَذْنَا مِيْثَاقَ بَنِىٓ اِسْرَآئِيْلَ وَاَرْسَلْنَـآ اِلَيْـهِـمْ رُسُلًا ۖ كُلَّمَا جَآءَهُـمْ رَسُوْلٌ بِمَا لَا تَـهْوٰٓى اَنْفُسُهُـمْ فَرِيْقًا كَذَّبُوْا وَفَرِيْقًا يَّقْتُلُوْنَ (مائدہ:70)

ہم نے بنی اسرائیل سے پختہ وعدہ لیا تھا اور ان کی طرف کئی رسول بھیجے تھے، جب کبھی کوئی رسول ان کے پاس وہ حکم لایا جو ان کے نفس نہیں چاہتے تھے تو (رسولوں کی) ایک جماعت کو جھٹلایا اور ایک جماعت کو قتل کر ڈالا۔

 

اس آیت سے بھی صریح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل نے اللہ عزوجل کے بھیجے ہوئے کئی رسولوں کو قتل کیا۔

مزید سورہ آل عمران میں بنی اسرائیل کے لیئے ارشاد ہوا :۔
اَلَّـذِيْنَ قَالُوٓا اِنَّ اللّـٰهَ عَهِدَ اِلَيْنَآ اَلَّا نُؤْمِنَ لِرَسُوْلٍ حَتّـٰى يَاْتِيَنَا بِقُرْبَانٍ تَاْكُلُـهُ النَّارُ ۗ قُلْ قَدْ جَآءَكُمْ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِىْ بِالْبَيِّنَاتِ وَبِالَّـذِىْ قُلْتُـمْ فَلِمَ قَتَلْتُمُوْهُـمْ اِنْ كُنْتُـمْ صَادِقِيْنَ (آل عمران:183)

وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ اللہ نے ہمیں حکم فرمایا تھا کہ ہم کسی پیغمبر پر ایمان نہ لائیں یہاں تک کہ وہ ہمارے پاس قربانی لائے کہ اسے آگ کھا جائے، کہہ دو مجھ سے پہلے کتنے رسول نشانیاں لے کر تمہارے پاس آئے اور یہ نشانی بھی (لے کر آئے) جو تم کہتے ہو، پھر انہیں تم نے کیوں قتل کیا اگر تم سچے ہو۔

 

 

اس مقام پر واضح طور پر ارشاد ہے کہ بنی اسرائیل کا یہ عقیدہ تھا  کہ اللہ عزوجل نے ان سے عہد کر رکھا ہے کہ وہ کسی ایسے رسول پر ایمان نہ لائیں جو ان کے سامنے قربانی کو آسمانی آگ سے جلا کر نہ دکھائے۔

اللہ عزوجل نے اس دعوے کا یہ جواب دیا ہے کہ اے نبی ﷺ ان سے کہہ دیں اگر یہی بات ہے تو جو رسول ان کے پاس مذکورہ معجزہ لاتے رہے  انہیں تم نے کیوں قتل کیا۔

یہ قرآن مجید کی واضح ترین نصوص ہیں جن کے مطابق رسول بھی قتل ہوتے رہے۔ بالخصوص بنی اسرائیل نے کئی رسولوں کو جھٹلایا اور کئی رسولوں کو قتل کیا۔ مذکورہ دلائل و براہین کے بعد یہ دعویٰ کرنے کی کیا گنجائش بچتی  ہے کہ قانون الٰہی ہی یہی رہا ہے کہ کوئی رسول قتل نہیں ہوا؟
 

آگاہ رہیں اور آگاہ کرتے رہیں

2017-08-30 11:07:14 

آگاہ رہیں 
دین اسلام واحد دین ہے جو بغیر کسی تغیر و تبدل کے ہم تک ہو بہو ویسا ہی پہنچا ہے جیسا کہ پیغمبر اسلام حضرت محمد ﷺ کے دور میں تھا۔
یہ وہ واحد دین ہے جسے اللہ نے کامل و اکمل کیا اور وہ واحد دین ہے جس پر اللہ عزوجل راضی ہوا۔
" اَلْيَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِىْ وَرَضِيْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِيْنًا" 
(سورۃ المائدہ:3)
یہ وہ واحد دین ہے جو اللہ عزوجل کی بارگاہ اقدس میں مقبول ہے اور اس کے علاوہ سبھی ادیان و مذاہب مردود ہیں
وَمَنْ يَّبْتَـغِ غَيْـرَ الْاِسْلَامِ دِيْنًا فَلَنْ يُّقْبَلَ مِنْهُۚ وَهُوَ فِى الْاٰخِرَةِ مِنَ الْخَاسِرِيْنَ (آل عمران:85)
اور جو کوئی اسلام کے سوا اور کوئی دین چاہے تو وہ اس سے ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا، اور وہ آخرت میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوگا۔
تو زرا سوچیئے 
ایسا دین جس کی خود اللہ عزوجل تکمیل فرما رہا ہو، جس سے خود رب کائنات راضی ہو اور جس کے علاوہ کوئی بھی دین بارگاہ الٰہی میں مقبول نہ ہو، کیا اس میں کسی بھی قسم کی ملاوٹ ہو سکتی ہے ؟
کیا ایسے دین کے بنیادی عقائد و معاملات اور عبادات و احکامات میں کسی بھی قسم کی تحریف اور تغیر و تبدل ممکن ہے َ؟
ایک ایسا دین جو ساڑھے چودہ سو سال سے چلا آرہا ہے جس میں ذرہ بھر بھی تغیر و تبدل وقوع پذیر نہ ہوا نہ ہو گا اور نہ ہو سکے گا، اس کی حقانیت میں شبہہ ممکن ہے؟
ایک ایسا دین جس کے ہم تک پہنچانے والے اپنے اپنے عہد کے صادق ترین اور سب سے بڑھ کر متقی و پرہیزگار لوگ تھے جن کی زبانیں کذب جیسے فعل سے ساری زندگی پاک و صاف رہیں، وہ تحریف شدہ ہو سکتا ہے ؟
ایک ایسا دین جس کے ہم تک پہنچانے والوں کی اول تا آخرمکمل سوانح حیات محفوظ ہے ان کی ثقاہت و فقاہت، حفظ و عدالت اور صادق و امین ہونے کی ہزارہا گواہیاں موجود ہیں وہ جھوٹا ہو سکتا ہے ؟
اس قدر متقی و پرہیزگار سلف صالحین اور خلف پر جھوٹ باندھ کر کبھی ان کی خدمات کو تشکیک کی نظر سے دیکھنا اور کبھی انہیں معاذ اللہ مجوسی سازش قرار دینا ظلم نہین تو اور کیا ہے ؟
اور حد یہ کہ دین اسلام کے نماز جیسے بنیادی اور اہم ترین رکن کی حثیت کو مشکوک بنانے کی کوشش کرنا اور یہ باور کرانے کی مذموم کوشش کرنا کہ نماز جیسا اہم ترین رکن دین معاذ اللہ زرتشت مذہب سے لیا گیا، یہ ذہنی پسماندگی، دل کے اندھے پن اور بے جا تعصب کی کارستانی نہیں تو اور کیا ہے ؟
کیا اللہ عزوجل یہ گوارا کر سکتا ہے کہ اس کے کامل و اکمل اور محبوب دین جس سے وہ راضی ہوا اس میں مشرکوں اور کفار کی رسومات بطور دین رواج پا جائیں اور پوری کی پوری امت مسلمہ اجماعی طور پر ان کا اہتمام کرے اور ان پر دین کے نام سے عمل پیرا ہو ؟
ہرگز نہیں !
ایسا ہر گز ممکن نہیں 
اس لیئے منکرین حدیث نام نہاد اہل قرآن کے بھیس میں چھپے نیم ملحدوں کے گھناؤنے کردار سے آگاہ رہیں اور دین کے متعلق ان کی پھیلائی گئی تشکیک سے ذہن کو آلودہ مت ہونے دیں 
آگاہ رہیں کہ وہ دین جو اللہ کا محبوب دین ہے اس میں کبھی شرکیہ اور کفریہ اعمال بطور دین رواج نہین پا سکتے 
آگاہ رہیں اور آگاہ کرتے رہیں !!!

شرک، بدگمانی اور جھوٹے الزام کی قباحت

2017-08-07 06:43:38 

 
بے شک سب سے عظیم ترین گناہ شرک ہے۔ سب گناہ معاف ہو سکتے ہیں لیکن شرک کی کوئی معافی نہیں اس کا مرتکب ہمیشہ ہمیشہ کے لیئے جہنمی ہے جہنمی ہے جہنمی ہے اور اس میں زرہ بھر شک و شبہہ کی کوئی گنجائش موجود نہیں بلکہ جو مشرک کے عذاب اور جہنمی ہونے میں شک کرے وہ خود بھی کافر ہے !

چنانچہ حضرت لقمان علیہ السلام اپنے بیٹے کو کی گئی نصیحتوں میں سے ایک سب سے اہم نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ :۔

٭٭ لَا تُشْرِكْ بِاللَّهِ ۖ إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ
(سورہ لقمان)

ترجمہ :۔ اللہ کے ساتھ شریک نہ ٹھہراؤ۔ بے شک شرک ظلم عظیم ہے۔

بے شک شرک ایسا گناہ ہے جو تمام گناہوں پر بھاری ہے۔ اگر ایک میزان میں باقی تمام گناہ اور دوسری طرف صرف شرک کا گناہ رکھا جائے تو شرک کے گناہ کا پلڑہ سب گناہوں پر بھاری ہو گا۔
---------------------------------------------------------------------------------------------------
اسلام اخوت و بھائی چارے کا درس دیتا ہے ۔ اور اپنے مومن بھائیوں سے بدگمانی، تجسس اور اس کی غیبت ایسی چیزیں ہیں جو پیغام اخوت و محبت کے لیئے زہر قاتل کی سی حثیت رکھتی ہیں ۔ اس لیئے قرآن عظیم  میں اللہ عزوجل نے  مومن کے متعلق زیادہ گمان   کرنے سے منع فرمایا ۔ کیونکہ بعض اوقات یہ انسان دوسرے کے متعلق وہ گمان کر لیتا ہے جو اس میں ہے ہی نہیں ۔ چنانچہ اللہ عزوجل فرماتا ہے کہ :۔

٭٭ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِّنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ ۖ وَلَا تَجَسَّسُوا وَلَا يَغْتَب بَّعْضُكُم بَعْضًا ۚ أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَن يَأْكُلَ لَحْمَ أَخِيهِ مَيْتًا فَكَرِهْتُمُوهُ ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ ۚ إِنَّ اللَّهَ تَوَّابٌ رَّحِيمٌ
(سورۃ الحجرات)

ترجمہ :۔ اے ایمان والو! بہت سی بدگمانیوں سے بچتے رہو، کیوں کہ بعض گمان تو گناہ ہیں، اور ٹٹول بھی نہ کیا کرو اور نہ کوئی کسی سے غیبت کیا کرے، کیا تم میں سے کوئی پسند کرتا ہے کہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھائے سو اس کو تو تم ناپسند کرتے ہو، اور اللہ سے ڈرو، بے شک اللہ بڑا توبہ قبول کرنے والا نہایت رحم والا ہے۔
بدگمانی، دوسروں کے معاملات میں بے جا تجسس اور غیبت کی قباحت بیان کرتے ہوئے ان گناہوں سے باز آنے  اور ان گناہوں کی بابت اللہ عزوجل سے ڈرنے کا حکم دیا گیا ہے ۔ اور ساتھ ہی ساتھ ان گناہوں سے توبہ کرنے والے کو بخشش اور رحم کی بشارت سنائی گئی ہے !
--------------------------------------------------------------------------------------------------

یہ بات اخلاق سے کس قدر گری ہوئی ہے کہ انسان کوئی گناہ یا خطا کرے  خود اور اس کا الزام دوسرے کے سر لگا دے ۔ چنانچہ اس کی قباحت کو بیان کرتے ہوئے اللہ عزوجل کا ارشااد پاک ہے کہ :۔
٭٭ وَمَن يَكْسِبْ خَطِيئَةً أَوْ إِثْمًا ثُمَّ يَرْ‌مِ بِهِ بَرِ‌يئًا فَقَدِ احْتَمَلَ بُهْتَانًا وَإِثْمًا مُّبِينًا۔
 (النساء)

ترجمہ:۔ اور جو شخص کوئی گناه یا خطا کر کے کسی بے گناه کے ذمے تھوپ دے، اس نے بہت بڑا بہتان اٹھایا اور کھلا گناه کیا

انسان اگر کوئی خطا یا گناہ کرتا ہے تو اس میں اتنی اخلاقی جرات ہونی چاہیئے کہ وہ اپنے اس گناہ یا  خطا کا اعتراف کر سکے ۔ اپنی خطاؤں پر دوسروں کو مورد الزام ٹھہرانا اخلاق سے گری ہوئی حرکت ہے ۔
----------------------------------------------------------------------------------------------------
کسی بے گناہ پر الزام لگانے سے اس کے دل پر کیا گزرتی ہے یہ وہی جانتا ہے ۔ یہ اس قدر گھناؤنا اور گھٹیا فعل ہے جس کی جس قدر مذمت کی جائے کم ہے ۔ کسی انسان کو ایسے فعل کا مرتکب ٹھہرانا جو اس نے کبھی کیا ہی نہ ہو اخلاقی پستی کی بدترین مثال ہے ۔ اس گھناؤنے فعل کی مذمت میں رسول اللہ ﷺ کا ارشاد پاک ہے کہ :۔

 

٭٭ وَمَنْ قَالَ فِى مُؤْمِنٍ مَا لَيْسَ فِيهِ أَسْكَنَهُ اللَّهُ رَدْغَةَ الْخَبَالِ حَتَّى يَخْرُجَ مِمَّا قَالَ
 (سنن ابی داؤد:3599)

ترجمہ :۔ اور جس نے کسی مؤمن کے بارے میں کوئی ایسی بات کہی جوا س میں نہیں تھی تو اللہ اس کا ٹھکانہ جہنمیوں میں بنا ئے گا یہاں تک کہ اپنی کہی ہوئی بات سے تو بہ کر لے

یعنی کسی بے گناہ پر جھوٹا الزام لگانا اس قدر قبیح فعل ہے کہ جب تک وہ اس سے توبہ نہ کر لے اس کا ٹھکانہ جہنم ہے ۔ یہاں مقام غور ہے ان لوگوں کے لیئے جو دوسروں پر بلاوجہ  اس کام کا الزام لگاتے ہیں جو کبھی انہوں نے کیا ہی نہیں ہوتا اور نہ ہی ایسا کرنے کا سوچا تک ہوتا ہے !!!


 

  

وجود و وحدانیت باری تعالیٰ

2017-08-03 04:04:39 

وجود باری تعالیٰ :۔
یہ بات بلکل بدیہی اور اظہر من الشمس ہے کہ عالم میں جو بھی شئے مشاہدے میں ہے، وہ جسم ہے یا قائم بالجسم اور جسم دو حال سے خالی نہیں وہ متفرق ہو گا یا مجتمع ، اگر متفرق ہے تو اس میں ترکیب و تالیف کا امکان یقینی ہے۔ اور اگر مجتمع ہے تو اس کے اندر بھی اختراق ممکن ہے۔اور یہ دونوں (یعنی اختراق مع احتمال الترتیب یا اجتماع مع احتمال الاختراق) چونکہ لازم و ملزوم ہیں اس لیئے ایک کے معدوم ہونے سے دوسرا بھی معدوم ہو جائے گا۔

جب دو جزو اختراق کے بعد مجتمع ہوں تو ان کا یہ اجتماع حادث ہو گا اس لیئے کہ یہ اجتماعی شکل پہلے سے نہ تھی۔اسی طرح اجتماع کے بعد اگر اختراق واقع ہو تو یہ اختراق بھی حادث ہو گا اس لیئے کہ یہ اجتماعی اور اختراقی شکل پہلے سے نہ تھی بلکہ بعد میں پیدا ہوئی۔جب عالم میں موجود ہر شئے کا یہی حال ہے کہ اس پر حدوث طاری ہوتا ہے تو ان مشاہداتی اشیاء کی جنس میں سے جو اشیاء مشاہد نہیں تو ان کا بھی حکم معلوم ہو گیا کہ وہ بھی حدوث سے خالی نہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ اس بات میں بھی کوئی شک نہیں کہ اگر کوئی شئے مجتمع ہے تو کسی مؤلف کی تالیف(ترکیب) کی وجہ سے ہی وہ اس شکل میں ہے۔ اور اسی طرح اگر متفرق ہے تو کسی مفرق کی تفریق ہی کے سبب ہے۔ اور یہ مؤلف و مفرق ایسی ذات ہی ہو سکتی ہے جو ان تمام حدوث سے پاک ہو جو ان پر واقع ہوتے ہیں۔یعنی اجتماع و اختراق کا وقوع اس پر جائز نہ ہو اور وہ واحد و قہار ذات ہے جو تمام مختلفات کو جامع ہے اور اس کی مثل کوئی چیز نہیں اور وہ ہر شئے پر قادر ہے ۔

ان دلائل سے حتمی طور پر یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان اشیاء کی مجتمع یا متفرق صورت بنانے والااور ان کا محدث ہر چیز سے پہلے وجود رکھتا تھا۔سو لیل و نہار، زمان و ساعات سب حادث ہیں اور ان کا محدث وہ ہے جو ان کے وجود سے قبل ہی ان میں تدبیر و تصرف کرتا تھا۔اس لیئے یہ بات ناممکن ہے کہ اشیاء حادث موجود ہوں اوران سے پہلے ان کا محدث موجود نہ ہو۔
اللہ عزوجل کا یہ قول اس پر نہایت مضبوط و قوی دلیل ہے :۔
"کیا انہوں نے اونٹ کی طرف نہیں دیکھا کہ اس نے کیسے اس کو بنایا ہے۔اور آسمان کی طرف کہ اس نے اس کو کیسا بلند کیا۔ اور پہاڑوں کی طرف کہ اس نے انہیں کیسا نصب کیا۔ اور زمین کی طرف کہ اس نے اسے کیسے بچھایا۔"
(سورۃ الغاشیہ آیت 17-20)

یہ دلیل اس شخص کے لیئے ہے جو اپنی عقل کا استعمال کرے اور غور وفکر کرےاور ان کے ذریعے باری تعالیٰ قدیم اور محدث ہونے پر استدلال کرے  نیز ان اشیاء کے علاوہ جو ان کی ہم جنس ہیں ان کے حادث ہونے پر اور اس پر کہ ان سب کی خالق ایک ایسی ذات ہے جو ان کے مشابہ نہیں اس پر بھی استدلال کرے ۔

اللہ عزوجل نے ان اشیاء یعنی اونٹ، پہاڑ اور زمین وغیرہ کا جو ذکر فرمایا ہے ، ابن آدم ان پر باربرداری کرنا، منتقل کرنا، کھودنا، چھیلنا، گرانا وغیرہ وغٰرہ جیسے تصرفات کرتا ہے ان میں سے کوئی بھی تصرف ممتنع نہیں ۔لیکن ان سب تصرفات کے باوجود ابن آدم ان میں سے کسی بھی چیز کی تخلیق پر قادر نہیں ۔ جو تخلیق سے عاجز ہو وہ اپنی ذات کے حق میں بھی محدث نہیں ہو سکتا۔ اس کے علاوہ ان اشیاء کے مثل بھی کوئی چیز ان کے لیئے مؤجد نہیں ہو سکتی۔ پس حقیقت یہ ہے کہ ان کی مؤجد ایک ایسی ذات ہے جس کے ارادہ میں کوئی چیز حائل نہیں ہو سکتی۔اور نہ کسی چیز کا احداث اس کے لیئے ممتنع ہے۔پس وہ اللہ عزوجل کی ذات ہے ۔
وحدانیت باری تعالیٰ:۔
اگر کوئی شخص اشیاء کے وجود کو کسی قدیم کا فعل مانے لیکن قدیم کے واحد ہونے کا انکار کرے تو اس کا جواب یہ ہے کہ :۔
جب ہم اپنے وجود کی طرف نگاہ ڈالتے ہیں تو ہمیں محیر العقول نظام اور مسلسل اور متصل تدابیر و تصرفات نظر آتے ہیں اور تخلیقی ڈھانچہ انتہائی کامل دکھائی دیتا ہے۔لہذا اس بناء پر ہم کہتے ہیں کہ اگر تدبیر و تصرف کرنے والے دو ہوں تو ان میں اتفاق ہو گا یا اختلاف، اگر اتفاق ہو گا تو یہ بلکل ایک ہی ہوگااور دونوں کا معنی ایک ہی ہوگا۔ جبکہ قائل نے ازخود ایک کو دو قرار دے دیا جو خلاف عقل ہے ۔ یہ ضروری نہیں کہ دو میں ہر جگہ اتفاق ہی ہو کہیں نہ کہیں اختلاف بھی بہرحال موجود رہتا ہے۔ اور اگر اختلاف ہو وجود خلق احسن اور کامل نہ ہواور نہ ہی اس میں تدبیر و تصرف منظم پیمانے پر ممکن ہو۔اس لیئے کہ ہر ایک کا فعل دوسرے کے خلاف ہوگا۔ان میں سے ایک جب کسی کو زندہ کرے گاتو دوسرا اسے موت سے ہمکنار کرے گا۔اگر ایک کسی چیز کو ایجاد کرے گا تو دوسرا اسے فنا کر دے گا۔اس کشمکش میں یہ محال و ناممکن ہے کہ کسی شئے کا وجود صحیح سلامت پایا جائے۔لہذا تمام نظام خلق کا اس احسن و منظم پیمانے پر ہوناذات قدیم کے واحد ہونے کی بدیہی اور مشاہداتی دلیل ہے۔

اسی حقیقت کا اللہ عزوجل نے قرآن حکیم میں ذکر فرمایا:۔
"اگر آسمان و زمین میں کئی خداہوتے تو یہ دونوں تباہ و فنا ہو جاتے۔پس اللہ تعالیٰ کو کہ رب عرش ہےان تمام چیزوں سے پاک ہے جو یہ مشرکین بیان کرتے ہیں۔"
(سورۃ الانبیاء آیہ 22)

ایک دوسری جگہ ارشاد فرمایا:۔
"اللہ نے کسی کو اپنی اولاد قرار نہیں دیا اور نہ ہی اس کے ساتھ کوئی اور اللہ ہےاگر ایسا ہوتا تو ہر اللہ اپنی بنائی ہوئی چیز کو جدا کر لیتا اور دوسرے پر چڑھائی کر دیتا۔ لیکن اللہ اس چیز سے پاک ہے جو یہ (مشرکین )بیان کرتے ہیں۔وہ پوشیدہ اور ظاہر تمام چیزوں کا جاننے والااور ہر قسم کے شریک سے بلند و برتر اور پاک ہے ۔"

(سورۃ المؤمنون آیت 91-92)
یہ دونوں آیات اہل شرک کے دعوی کے بطلان پر مختصر و بلیغ ترین حجت اور مضبوط ترین دلیل ہیں۔ان کا حاصل یہی ہے کہ اگر زمین پر ماسوائے اللہ کئی اللہ ہوتے تو ان میں اتفاق ہوتا یا اختلاف۔ اتفاق ہونے کی صورت میں قدیم کے دو ہونے کا قول باطل ٹھہرتا ہے اور اختلاف ہونے کی صورت میں آسمان و زمین میں فساد و فنا لازم آتااس لیئے کہ ایک اگر کسی چیز کو پیدا کرتا تو دوسرا اس کی مخالفت کی بناء پر معدوم و فنا کرنے کی کوشش کرتا۔ کیونکہ دونوں کے افعال ایک دوسرے سے مختلف ہوتے جیسے آگ کا کام گرم کرنا ہے اور برف کا کام ٹھنڈا کرنا ہے۔

اس کے علاوہ ایک اور اعتبار سے بھی یہ قول باطل ہے  کہ اگر دو قدیم مان لیئے جائیں تو وہ دونوں دو حال سے خالی نہ ہوں گے دونوں قوی ہوں گے یا دونوں عاجز۔ اگر عاجز ہوں تو ہر ایک اپنے مقابل کی نسبت عاجز ہو گا۔ اس لیئے کہ مقابل کو ہم نے قوی تسلیم کر لیا تو دوسرے کا عجز لازم آئے گااور ایک اگر اپنے مقابل پر قوی ہو تو مغلوب اپنے ساتھی کی قوت کے سامنے عاجز و بے بس ہو گا اور عجز و بے بسی اللہ کے منافی ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ قدیم واحد کا تسلیم کرنا ضروری ہےوگرنہ ہر صورت مین محال کو تسلیم کرنا لازم آتا ہے۔اور اللہ تعالیٰ اہل شرک کی افتراء پردازیوں سے پاک و صاف اور منزہ ہے

ان تمام عقلی و نقلی دلائل سے یہ معلوم ہو گیا کہ اشیاء کا خالق تھا اور اس حال میں کہ اس کے سوا کوئی دوسرا نہ تھااور اسی نے اشیاء کو پیدا کیا۔

 

 

نسب نبویﷺ پر اعتراض کا جواب

2017-08-01 06:47:17 

میں اکثر یہ بات سوچتا ہوں کہ اگر مستشرقین نہ ہوتے تو آج کل کے ملحدین کا کیا بنتا ۔ موسمی ملحدین جن کی اپنی کوئی علمی حثیت نہیں وہ تو یتیم ہو کر رہ جاتے ۔ یہ انہی مستشرقین کی دین ہے کہ موسمی ملحدین صدیوں قبل ان کے کیئے گئے اعتراضات بار بار دہراتے رہتے ہیں اور ہر بار عزت افزائی کے ساتھ جواب دیا جاتا ہے ۔ لیکن چین ان کو پھر بھی نہیں آتا ۔حال ہی میں ملحدین کی جانب سے رسول اللہ ﷺ کے نسب مبارک پر سوال اٹھایا گیا ہے کہ آپ ﷺ نسل اسماعیل میں سے نہیں تھے نعوذو باللہ !
یہ وہ اعتراض ہے جو مستشرقین نے اٹھایا اور اس کا تسلی بخش جواب دے کر ان کا تو منہ بند کر دیا گیا لیکن علمی یتیم اور عقل سے بے بہرہ ملحدین کا حال بندر کے ہاتھ میں ماچس کی ڈبیا جیسا ہو گیا  اور انہیں اس پر اپنی دکانداری چلانے کا موقع مل گیا ۔اپنی دانست میں موسمی ملحدین نے یہ اعتراض دہرا کر بہت بڑا کارنامہ کیا ہے جسے بڑے فخر سے وہ بطور چیلنج دہراتے پھر رہے ہیں !
مستشرقین کے اس اعتراض کے سارق ملحدین کی خارشی طبع کی تسلی کے لیئے مستشرقین کے اس اعتراض کا جواب مستشرقین کی اپنی ہی زبانی پیش خدمت ہے :۔
٭ انسائیکلوپیڈیا آف ریلیجن اینڈ ایتھکس کا مقالہ نگا رجیمز ہیسٹنگز لکھتا ہے کہ :۔
"حضرت محمد ﷺ ایک اسماعیلی تھے۔جنہوں نے اپنے ہم وطنوں کو یہ تعلیم دی کہ وہ دین ابراہیمی کی طرف رجوع کریں  اور ان خدائی وعدوں سے بہرہ یاب ہوں جو نسل اسماعیل علیہ السلام کے ساتھ کیئے گئے ہیں۔"
(انسائیکلوپیڈیا آف ریلیجن اینڈ ایتھکس  جلد 8)
٭ گبن وہ مشہور مؤرخ ہے جس کو پورا مغرب قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور اس کی حثیت اہل مغرب کے ہاں مسلم ہے ۔ وہ بھی اسلام کے خلاف معاندانہ جذبات رکھتا ہے۔ لیکن مستشرقین نے جس طرح حضور اکرم ﷺ کے نسب نامہ کو  جس طرح مشکوک بنانے کی کوشش کی گئی ہے اس پر شدید تنقید کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ :۔
"حضرت محمد ﷺ کی اصل کو حقیر اور عامیانہ ثابت کرنے کی کوشش عیسائیوں کی ایک غیر دانشمندانہ تہمت ہے ۔ جس سے ان کے مخالف کا  مقام گھٹنے کے بجائے بڑھا ہے ۔"
اس کے علاوہ گبن اپنی اسی کتاب کے فٹ نوٹ پر لکھتا ہے کہ :۔ "تھیوفینز جو کہ پرانے زمانے کے یونانیوں میں سے ہے وہ تسلیم کرتا ہے کہ حضور اکرم ﷺ نسل اسماعیل علیہ السلام میں سے تھے ۔"
اس کے علاوہ مزید لکھتا ہے کہ :۔ "ابولفداء  اور گیگنیئر نے اپنی اپنی کتابوں میں حضرت محمد ﷺ کا جو نسب نامہ لکھا ہے وہی مستند ہے۔"
یاد رہے کہ یہ وہی نسب نامہ ہے جو حضور اکرم ﷺ کے نسل اسماعیل میں سے ہونے کی گواہی دیتا ہے۔
(ایڈورڈ گبن: دی ڈیکلائین اینڈ فال آف رومن ایمپائر جلد 5)

٭ مسٹر فاسٹر بھی اس بات کی گواہی دیتا نظر آتا ہے ۔ چنانچہ لکھتا ہے کہ :۔
"----خاص عرب کے لوگوں کی یہ قدیمی روایت ہے کہ قیدار اور اس کی اولاد ابتداء میں حجاز میں آباد ہوئی تھی ۔چنانچہ قوم قریش اور خصوصاََ مکہ کے بادشاہ اور کعبہ کے متولی ہمیشہ اس بزرگ کی نسل سے ہونے کا دعوی کرتے تھے۔ اور خاص کر حضرت محمد ﷺ نے اسی بنیاد پر کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام اور قیدار کی اولاد میں سے ہیں ، اپنی قوم کی دینی و دنیوی عظمتوں کے استحقاق کی تائید کی ہے۔"
(بحوالہ : سیرت محمدی ﷺ  از سرسید احمد خان)

حقیقت یہ ہے کہ مستشرقین اور ان کے سارق ملحدین چاہے جتنی مرضی کوششیں کر لیں جتنا مرضی پروپیگنڈہ کر لیں  اپنی پوری طاقت صرف کر لیں لیکن حضور اکرم ﷺ کے اس فرمان عالیشان کو جھٹلانا ان کے بس سے باہر ہے :۔
"حضور اکرم ﷺ نے فرمایا:۔ اللہ عزوجل نے اولاد ابراہیم میں سے اسماعیل کو چنا، اولاد اسماعیل سے کنانہ کو چنا، بنی کنانہ سے قریش کو چنا ، قریش سے بنی ہاشم کو چنا اور بنی ہاشم سے مجھے چنا۔"
(سنن الترمذی)

عربوں میں بے شمار خامیاں تھیں  وہ لوگ جہالت، بربریت، بدکاری  اور نخوت و تکبر کی دلدل میں سرتاپا ڈوبے ہوئے تھے لیکن اس کے باوجود ان میں کچھ خوبیاں بھی تھیں جو انہیں دیگر اقوام عالم سے ممتاز بناتی ہیں ۔یہ قوم جرات و بہادری میں اپنی مثال آپ تھی۔ ان کی قوت حافظہ بھی مثالی تھی ۔ اس کے علاوہ اپنے خیالات کے اظہارانہیں جو قدرت حاصل تھی وہ صرف انہی کا خاصہ ہے ۔اپنی اس قوت حافظہ کو انہوں نے اپنے نسب نامے حفظ کرنے کے لیئے دل کھول کر استعمال کیا تھا ۔ہر کوئی نہ صرف اپنا نسب نامہ یاد رکھتا بلکہ دیگر قبائل کے نسب ناموں کو بھی اپنی یادداشت میں محفوظ کر لیتا ۔ تاکہ وقت آنے پر وہ دیگر قبائل کے نسب ناموں کی کمزوریوں کو واضح کر کے اپنی نسبی برتری ثابت کر سکے ۔
اس کے علاوہ عرب جھوٹ بولنے سے بھی سخت نفرت کرتے تھے اور انہیں یہ بات بلکل بھی گوارا نہ تھی کہ ان کی شہرت ایک جھوٹے کی حثیت سے ہو۔اسی لیئے ہرقل کے دربار میں ابوسفیان خواہش کے باوجود حضور اکرم ﷺ کے خلاف کوئی جھوٹی بات نہ کر سکے ۔ عربوں کی یہ روایتیں کسی بھی تاریخی روایت کے مقابل مستند قرار دی جا سکتی ہیں اور ان روایات کے مطابق خانہ کعبہ حضرت ابراہیم و اسماعیل علیہ السلام نے تعمیر کیا تھا۔ اور عربوں کی ایک قسم جو "عرب مستعربہ" کہلاتی تھی وہ حضرت ابراہیم و اسماعیل علیہ السلام کی نسل سے تھی ۔قریش اسی عربی النسل کا ایک قبیلہ تھا جس ایک معزز ترین شاخ بنو ہاشم تھی ۔اس دور میں تمام عرب قریش کا نسل اسماعیل میں سے ہونے کی وجہ سے احترام کرتا تھا اور کسی کو بھی ان کے اسماعیل علیہ السلام کی نسل مین سے ہونے میں کوئی شبہہ نہ تھا۔
(ضیاء النبی ﷺ جلد7)
علاوہ ازیں اگر حضور اکرم ﷺ نسل اسماعیل علیہ السلام سے نہ ہوتے تو یہود مدینہ آپ ﷺ پر سب سے پہلے ایمان لاتے ۔ یہود مدینہ کا آپ ﷺ پر ایمان نہ لانا صرف اور صرف اسی وجہ سے تھا کہ آپ ﷺ نسل اسماعیل میں سے تھے ۔ اور نبوت یہود سے چھن کر نسل اسماعیل میں منتقل ہو چکی تھی ۔ جو کہ یہود کی سیاسی و مذہبی برتری پر ایک کاری ضرب تھی ۔

الغرض
حضور اکرم ﷺ کا نسل اسماعیل میں سے ہونے کی حقیقت کو مشکوک قرار دینے کی کوشش کرنا نہ صرف روایات عرب کے برخلاف ہے بلکہ خود مستشرقین کی تحقیق بھی اس کے منافی ہے ۔ اس لیئے ملحدین سے گزارش ہے کہ دوسروں کا تھوکا چاٹنے کے بجائے  کچھ اپنی عقل کا استعمال کریں تاکہ ان کی علمی حثیت اور اوقات بھی واضح ہو سکے !!!
  

 

قادیانی کی دلیل کا رد

2017-07-29 04:52:58 

قادیانی کی دلیل کا رد :۔ 
قادیانی:۔ 
محتر م ہم تو پہلے سے ہی سورۃ - ا لنساء - 70 - کے مطا بق جیسا کہ اس آ یت میں بتا یا گیا ہے کہ جو لو گ اللہ تعا لی اور ( ا س ر سو ل ) یعنی محمد ر سو ل اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی کا مل ا طا عت کر نے و ا لے ہو نگے - ان میں سے نبی بھی ہونگے ' صد یق بھی ہو نگے ' شہید بھی ہونگے اور صا لحین میں سے بھی ہو نگے یعنی وہ سب اللہ کے کے ا نعا م یا فتہ عا لی مرا تب کے حا مل ہو نگے - یعنی ا یسے سب مد ا رج اللہ اور ر سول اللہ کی خو شنو دی سے ہی حا صل ہو سکتے ہیں -

لیکن منکر ین میں تو تم لو گ ہو - یعنی جب کہ تمہیں قر ا نی آ یا ت سے د لا ئل بھیجے جا تے ہیں ' تو تم لو گ ان آ یا ت کا ا نکا ر کر دیتے ہو - - اور جو بھی ر سول اللہ پر نازل ہو ئ کتا ب کی آ یا ت کا ا نکا ر کر تے ہیں ' تو وہ گو یا اس ر سول اللہ کا بھی ا نکار کر نے وا لے ہیں - 
اس کے بعد اور کیا د لیل ہو سکتی ہے ؟ ؟ ؟ //
جواب:۔ 
قرآن کی من مانی تاویلات اور قرآنی الفاظ کو من چاہے معنی پہنانے کا کا م تو قادیانیوں کا من پسند کام ہے ۔ قرآن کو من چاہے معنی پہنا کر اس معنی کے منکر کو بڑے آرام سے منکر قرآن کہہ دیتے ہیں ۔ جس کی وجہ سے سادہ لوح لوگ ان کے جھانسے میں آ جاتے ہیں ۔ لیکن صاحب علم جانتے ہیں کہ یہ کس قدر بددیانت اور خائن ہیں جو قرآن جیسی لاریب کتاب تک میں تحریف معنوی سے باز نہیں آتے۔
مذکوہ بالا دلیل بھی اسی معنوی تحریف کی بدترین مثال ہے ۔ سب سے پہلی بات تو یہ کہ قادیانی کا حوالہ ہی غلط ہے یہ آیہ سورہ نساء کی 70 نہیں بلکہ اس سے قبل 69 نمبر آیہ ہے ۔
دوسرا قادیانی کے من چاہے معنی کے پوسٹ مارٹم کے لیئے میں آپ کے سامنے اس آیہ کے عربی الفاظ اور ان کا لفظ بہ لفظ ترجمہ رکھتا ہوں تاکہ اس کا دجل و فریب آشکار ہو سکے ۔
آیہ یہ ہے :۔
وَمَنْ يُّطِعِ اللّـٰهَ وَالرَّسُوْلَ فَاُولٰٓئِكَ مَعَ الَّـذِيْنَ اَنْعَمَ اللّـٰهُ عَلَيْـهِـمْ مِّنَ النَّبِيِّيْنَ وَالصِّدِّيْقِيْنَ وَالشُّهَدَآءِ وَالصَّالِحِيْنَ ۚ وَحَسُنَ اُولٰٓئِكَ رَفِيْقًا (سورۃ النساء 69)
اب اس آیہ کا لفظ بہ لفظ ترجمہ ملاحظہ فرمائیں :۔
وَمَنْ :۔ اور جو
يُّطِعِ :۔ اطاعت کرے
اللّـٰهَ وَالرَّسُوْلَ :۔ اللہ اور رسول ﷺ کی 
فَاُولٰٓئِكَ :۔ پس یہی لوگ
مَعَ الَّـذِيْنَ :۔ ان لوگوں کے ساتھ
اَنْعَمَ :۔ انعام کیا
اللّـٰهُ عَلَيْـهِـمْ :۔ اللہ نے ان پر
مِّنَ :۔ سے (یعنی)
النَّبِيِّيْنَ :۔ انبیاء 
وَالصِّدِّيْقِيْنَ :۔ اور صدیق
وَالشُّهَدَآءِ :۔ اور شہداء
وَالصَّالِحِيْنَ ۚ :۔ اور صالحین
وَحَسُنَ اُولٰٓئِكَ رَفِيْقًا :۔ اور یہ لوگ اچھے ساتھی ہیں۔ 
لفظ بہ لفظ اس ترجمے کو دیکھیں اور اس کے بعد قادیانی کے بتائے گئے ترجمے کو دیکھیں تو اس کا دجل و فریب اور منافقت آشکار ہو جاتی ہے ۔
قادیانی کہتا ہے کہ جو لوگ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی کامل اطاعت کرنے والے ہوں گے ان میں سے نبی بھی ہوں گے صدیقین و شہدا اور صالحین بھی معاذ اللہ 
قرآن کی اس آیہ کے ترجمے میں سے وہ ان الفاظ سے چشم پوشی کر گیا جو اس کے ساری دلیل کا ہی ستیاناس کر دیتے ہیں ۔ اس آیت کا درست ترجمہ یہ ہے کہ :۔ 
" اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کا فرمانبردار ہو تو ایسے لوگ ان کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے انعام کیا جو نبیوں اور صدیقوں اور شہیدوں اور صالحوں میں سے ہیں، اور یہ رفیق کیسے اچھے ہیں۔"
قرآن یہ کہتا ہے کہ جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرے وہ ان لوگوں کے ساتھ ہو گا جن پر اللہ نے انعام فرمایا اور پھر بتاتا ہے کہ وہ کون لوگ ہیں جن پر اللہ نے انعام کیا تو وہ لوگ انبیاء ، صدیقین، شہداء اور صالحین ہیں ۔ قرآن کی اس آیہ کا یہ مفہوم ہر گز نہین بنتا کہ کامل اطاعت کرنے والوں میں سے انبیاء ہونگے ۔
قادیانی کی یہ دلیل باطل ہے ۔ اور اپنی ہی پیش کردہ دلیل کے تحت قادیانی خود منکر قرآن اور منکر رسالت ہے ۔

کیا اسلام تلوار کے ذریعے پھیلا ؟

2017-07-21 08:52:05 

کیا اسلام تلوار کے ذریعے پھیلا ؟
مستشرقین اور ان کے پروردہ  ملحدین اکثر یہ اعتراض بڑی شد و مد سے دہراتے نظر آتے ہیں کہ اسلام بزور شمشیر پھیلا۔ یہ ایک ایسا مفروضہ ہے جس کی کوئی بنیاد ہی نہیں۔حقیقت یہ ہے کہ کسی انسان کو بزور شمشیر مسلمان بنانا ممکن ہی نہیں۔کیونکہ اسلام کی بنیاد ایمان پر ہے اور ایمان کا تعلق دل سے ہے۔ تلوار کا وار جسم پر اثر انداز ہوتا ہے دل پر نہیں ۔تلوار کے ذریعے کسی شخص کی زبان سے کلمہ تو پڑھوایا جا سکتا ہے لیکن تلوار میں اتنی طاقت نہیں ہوتی کہ وہ کسی کے دل میں عقیدہ توحید و رسالت کی تخم ریزی کر سکے۔جو شخص زبان سے کلمہ پڑھتا ہے اور اس کا دل توحید و رسالت کے عقیدے سے یکسر خالی ہے اسلامی اصطلاح میں وہ شخص مسلمان نہیں بلکہ منافق ہےاور منافق کو اسلام نے عام کافروں سے بھی بدتر قرار دیا ہے۔یہ کون سی عقلمندی ہے کہ مسلمان لوگوں کو بزور شمشیر منافق بناتے رہیں؟منافقین حضور اکرم ﷺ اور صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کے لیئے مکہ کے مشرکین اور مدینہ و خیبر کے یہود سے کم خطرناک نہ تھے ۔

کسی کو بزور شمشیر مسلمان بنانے میں مسلمانوں کو نہ کوئی مذہبی فائدہ تھا اور نہ ہی کوئی سیاسی فائدہ تھا۔اور نہ ہی اس طریقے سے ان کے سماجی مسائل حل ہو سکتے تھے ۔اسلام دین حکمت ہے اور وہ کسی بے مقصد کام کا حکم نہیں دے سکتا۔اسی لیئے اسلام نے اپنے پیروکاروں کو واضح ہدایات دیں کہ کسی کو بھی اسلام قبول کرنے پر مجبور نہ کریں۔قرآن حکیم نے انتہائی واضح الفاظ میں مسلمانوں کو حکم دیا:۔

"دین مین کوئی زبردستی نہیں ۔ اور بےشک ہدایت گمراہی سے واضح ہو چکی " البقرہ 256

قرآن حکیم وضاحت سے یہ بتاتا ہے کہ حضور اکرم ﷺ کا یہ کام نہیں کہ وہ لوگوں کو زبردستی اسلام قبول کرنے پر مجبور کریں بلکہ آپﷺ کا کام تو یہ ہے کہ حقیقت کے جو جلوے بذریعہ وحی آپ ﷺ کے قلب انور پر ظاہر ہوئے آپ لوگوں تک ان کی روشنی پہنچا دیں۔آپ ﷺ لوگوں کو بتا دیں کہ حق کیا ہے اور باطل کیا، جھوٹ کیا ہے اور سچ کیا، جنت کی ابدی بہاروں کی طرف کون سا راستہ جاتا ہے اور کون سا راستہ انسان کو جہنم کی گہرائیوں میں گرانے کا باعث بنے گا۔ان حقائق کی تبلیغ سے آپ ﷺ کی ذمہ داری پوری ہو جاتی ہے۔ اب جس کی مرضی ہے وہ حقائق کی روشنی سے اپنے قلب کو منور کر لے اور جو چاہے باطل کی تاریکیوں میں دھکے کھاتا پھرے ۔چنانچہ قرآن حکیم میں ارشاد ہے :۔
فَذَكِّرْ اِنَّمَآ اَنْتَ مُذَكِّرٌ0 لَّسْتَ عَلَيْـهِـمْ بِمُصَيْطِرٍ

"پس آپ ﷺ انہیں سمجھاتے رہا کریں ، آپ ﷺ کا کام سمجھانا ہی تو ہے۔ آپ ﷺ انہیں جبر سے منوانے والے تو نہیں ہیں"  سورۃ الغاشیہ 21-22

قرآن حکیم نے ایک اور مقام پر واضح الفاظ میں ارشاد ربانی ہے کہ :۔
نَّحْنُ اَعْلَمُ بِمَا يَقُوْلُوْنَ ۖ وَمَآ اَنْتَ عَلَيْـهِـمْ بِجَبَّارٍ ۖ فَذَكِّرْ بِالْقُرْاٰنِ مَنْ يَّخَافُ وَعِيْدِ (ق:45)

"ہم خوب جانتے ہیں جو وہ کہتے ہیں۔اور آپ ﷺ ان پر جبر کرنےوالے نہیں۔ پس آپ ﷺ نصیحت کرتے رہیئے اس قرآن سے ہر اس شخص کو جو میرے عذاب سے ڈرتا ہے۔"

قرآن حکیم کی یہ آیات کریمہ واضح الفاظ میں رسول اللہ ﷺ اور امت مسلمہ کو حکم دے رہی ہیں کہ کسی کو مسلمان بنانے میں طاقت کا استعمال نہ کریں ۔ اور حضور اکرم ﷺ  اللہ تعالیٰ کے حبیب اور اولوالعزم  پیغمبر ہیں۔ آپ ﷺ سے یہ توقع نہیں کی جاسکتی کہ آپ ﷺ  اللہ عزوجل کو راضی کرنے کے لیئے وہ کام کریں جس سے اللہ عزوجل نے آپ کو منع فرما دیا ۔حضور اکرم ﷺ نے اللہ عزوجل کے ایک ایک حکم پر عمل کیا اور فریضہ تبلیغ کما حقہ ادا کیا۔ اور تبلیغ کے بعد سننے والوں پر چھوڑ دیا کہ وہ اس بات کو قبول کریں یا اس کا انکار کر دیں۔تاریخ اس بات پر شاہد ہے کہ آپ ﷺ نے کسی ایک آدمی کو بھی جبراََ مسلمان نہیں بنایا۔

امام محمد ابوزہرہ لکھتے ہیں کہ :۔ "یہ بات ثابت نہیں کہ حضور اکرم ﷺ نے کسی کو زبردستی اسلام قبول کرنے پر مجبور کیا ہو۔ البتہ یہ بات ثابت شدہ ہے کہ بعض انصار نے زبردستی اپنے بچوں کو حلقہ اسلام میں داخل کرنا چاہا تو آپ ﷺ نے ان کو ایسا کرنے سے منع فرما دیا۔" (خاتم النبیین جلد 2)

کسی کو بزور شمشیر مسلمان بنانا نہ تو ممکن ہے اور نہ ہی اسلام نے اس کی اجازت دی ہے۔اس لیئے  مسلمانوں پر یہ الزام نہیں لگایا جا سکتا کہ انہوں نے لوگوں کو جبراََ مسلمان کیا۔ البتہ جن لوگوں نے مسلمانوں کو محض مسلمان ہونے کے جرم میں ظلم کا نشانہ بنایا ، انہیں اپنے دین سے پھیرنے کی کوشش کی ، تبلیغ اسلام کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کیں اور حق کی آواز کو طاقت سے دبانے کی کوشش کی  اسلام نے ان لوگوں کے خلاف نہ صڑف جہاد کی اجازت دی بلکہ حکم دیا اور اس راستے میں جان کی قربانی کو مومن کا عمدہ ترین عمل قرار دیا۔مسلمانوں نے ایک طویل مدت تک مظالم سہنے کے بعد اللہ عزوجل کے حکم سے جہاد کیا۔ وہ انہی قوتوں کے خلاف برسرپیکار ہوئے جو تبلیغ اسلام کی راہ میں مزاحم ہوئے۔اس کی وجہ یہ تھی  کہ جو لوگ طاقت کی زبان بولنا چاہتے تھے انہیں دلیل سے قائل کرنا عبث تھا۔اذن جہاد کے بعد جو لوگ مسلمانوں کے خلاف آمادہ جنگ ہوئے ان کے خلاف مسلمانوں نے جہاد کیا۔جن لوگوں نے جنگ سے ہاتھ روک لیا ان سے مسلمانوں نے کوئی تعرض نہ کیا۔

اگر حضور اکرم ﷺ تلوار کے ذریعے اسلام پھیلانا چاہتے تو مختلف غزوات و سرایا میں جو جنگی قیدی مسلمانوں کے ہاتھ لگتے ان کی جان بخشی کی ایک ہی صورت ہوتی کہ وہ اسلام قبول کر لیں۔ لیکن ایسا نہیں ہوا۔جو لوگ حضور اکرم ﷺ کے قبضے میں آئے آپ ﷺ نے ان میں سے معدودے چند کو ان کے سیاہ اعمال کی وجہ سے قتل کرنے کا حکم دیا اور باقی اسیروں کو اپنی رحمت اللعالمینی کا مظاہرہ کرتے ہوئے رہا کر دیا یا  جو صاحب استطاعت تھے ان سے فدیہ لے کر انہیں چھوڑ دیا۔اور جو آدمی آپ ﷺ کو قتل کرنے کی نیت سے آیا، آپ ﷺ نے اس ارادے سے مطلع ہو کر بھی  اپنی رحمت سے اسے معاف کر دیا۔قریش مکہ نے بیس اکیس سال کا عرصہ حضور اکرم ﷺ اور آپ کے پیروکاروں کے ساتھ عداوت کی  لیکن جب اللہ عزوجل نے آپ ﷺ کو ان پر  غلبہ عطا فرمایا تو آپ ﷺ نے ان کو معاف فرما دیا۔اور لطف کی بات یہ ہے کہ اس دن عام معافی میں یہ شرط موجود ہی نہ تھی کہ جو مسلمان  ہو گا اسے معاف کر دیا جائے گا ۔ بلکہ اس دن معافی کا اعلان ان الفاظ میں ہواکہ جو شخص ہتھیار پھینک دے گا یا جو شخص ابو سفیان رضی اللہ عنہ کے گھر پناہ لے لے گایا مسجد میں داخل  ہو جائے گا یا  اپنے گھر کا دروازہ بند کر لے گا  اس کو امن دیا جائے گا۔اگر لوگوں کو تلوار کے زور پر مسلمان بنانا مقصود ہوتا تو فتح مکہ جیسے تاریخی موقع کو اس لیئے استعمال نہ کیاجاتا؟

مستشرقین جو اعتراض اسلام پر اٹھاتے ہیں اس کی زد میں تو ان کا اپنا دین آتا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ عیسائی پادری اور پوپ عیسائیت کو بزور شمشیر پھیلانا چاہتے تھےیہی وجہ ہے کہ جن جن علاقوں میں عیسائی حکومتیں قائم ہوئیں وہاں سے ان تمام مذاہب کا خاتمہ ہو گیا جو اس سے پہلے وہاں موجود تھے۔مسلمانوں نے سپین پر آٹھ سو سال تک حکومت کی ۔ اس طویل دورانیئے کے باوجود وہاں سے عیسائی اور یہودی مذہب ختم نہیں ہوئے بلکہ ان کے ماننے والے پوری آزادی کے ساتھ اپنے مذاہب پر عمل کرتے رہے۔اور اسلامی حکومت میں مختلف عہدوں پر اپنی خدمات سرانجام دیتے رہے۔لیکن جب سپین پر مسلمانوں کے اقتدار کا خاتمہ ہوا اور عیسائی حکومت قائم ہوئی تو مسلمانوں کے پاس دو ہی راستے تھے یا تو اپنا دین چھوڑ کر عیسائیت قبول کر لیں یا اپنے دین کی خاطر بھڑکتے ہوئے شعلوں میں کودنے کے لیئے تیار ہو جائیں۔

اسلام اگر تلوار کے ذریعے پھیلا ہوتا تو جن ممالک میں پہلی صدی یجری سے لیکر آج تک مسلمانوں کو اقتدار حاصل ہے وہاں سے دیگر مذاہب کا مکمل صفایا ہو گیا ہوتا۔ اگر آج ہم مسلمانوں کی آبادی کے نقطہ نظر سے دنیا کے نقشے پر نظر ڈالیں تو یہ بات بلکل واضح اور روشن ہو جاتی ہے کہ اسلام تلوار کے ذریعے نہیں بلکہ اپنی تعلیمات کی کشش کے ذریعے پھیلا۔ کیونکہ آج مسلمانوں کی اکثریت ان علاقوں میں آباد ہے جہاں تک مسلمانوں کی تلوار نہیں پہنچی۔انڈونیشیا، ہندوستان، چین، براعظم افریقہ کے ساحلی علاقے اور افریقہ کے صحرا وہ علاقے ہیں جہاں آج کروڑوں کی تعداد میں مسلمان بستے ہیں۔ان علاقوں کے لوگوں کی مسلمانوں کے ساتھ جنگیں یا تو بلکل نہیں ہوئیں یا اتنی کم ہوئیں ہیں کہ یہ کہنا خلاف عقل ہے کہ ان جنگوں کی وجہ سے کروڑوں کی آبادی  اپنا آبائی مذہب ترک کر کے مسلمان ہو گئی۔

اسلام کے تلوار کے ذریعے نہ پھیلنے اور اپنی پرکشش تعلیمات کے ذریعے پھیلنے کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ آج امریکہ جو پوری دنیا میں اپنی چودھراہٹ قائم کیئے ہوئے ہےاور کوئی ایک بھی ایسا اسلامی ملک نہیں جس کی داخلہ و خارجہ پالیسیوں پر امریکہ براہراست اثر انداز نہ ہوتا ہو، اور کوئی ایک بھی اسلامی حکومت اس قابل نہیں کہ یورپ کے شہریوں کو تلوار کے زور پر یا طاقت کے بل بوتے پر اسلام قبول کرنے پر مجبور کر سکے ۔ لیکن اس کے باوجود اسلام  امریکہ اور یورپ میں تیزی کے ساتھ پھیل رہا ہے۔ یور پ کا کوئی ایک بھی شہر  یا ملک ایسا نہیں جہاں اذان کی آواز نہ گونجتی ہو ۔ دنیا کی کوئی ایک بھی قوم ایسی نہیں جس کے کثیر افراد نے کلمہ پڑھ کر دامن اسلام میں پناہ نہ لی ہو۔

تھامس کارلائل جو خود بھی ایک مستشرق تھا وہ دین اسلام پر اس اعتراض کی تردید کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ :۔

"اس بات کو بہت ہوا دی گئی ہے کہ حضرت محمد ﷺ نے دین کو تلوار کے ذریعے پھیلایا۔اگر دین اسلام تلوار کے ذریعے پھیلا تھا تو دیکھنا یہ ہے کہ وہ تلوار آئی کہاں سے تھی۔ہر نئی رائے اپنے آغاز میں اکیلے شخص کے ذہن میں جنم لیتی ہے۔ابتداء میں صرف ایک شخص اس پر یقین رکھتا ہے ۔ وہ اکیلا شخص ایک طرف ہوتا ہے اور ساری انسانیت ایک طرف۔ان حالات میں اگر وہ اکیلا شخص ہاتھ میں تلوار لے کر کھڑا ہو جائے اور اپنی رائے کی تبلیغ تلوار کے ذریعے شروع کر دے تو وہ کچھ نہیں کر سکے گا۔پہلے تلوار حاصل کرنے کی ضرورت پڑتی ہے۔ مختصراََ یہ کہ ابتداء میں ہر چیز اپنی استطاعت کے مطابق اپنا پرچار خود کرتی ہے۔عیسائی مذہب کے متعلق بھی تاریخ ہمیں یہ نہیں بتاتی کہ جب اس کے ہاتھ میں تلوار آ گئی تو اس نے ہمیشہ کے لیئے اس کا استعمال ترک کر دیا۔ شارلیمان نے سیکسن قبائل کو تبلیغ کے ذریعے عیسائی نہیں بنایا تھا۔"

(Heroes an Hero Worship By Thomas Carlyle)

اگر یہ تسلیم کر بھی لیا جائے کہ امت مسلمہ کے ہاتھ میں جب طاقت آ گئی تو انہوں نے اس طاقت کو اپنے دین کی اشاعت کے لیئے استعمال کیا تو سوال یہ اٹھتا ہے کہ جو لوگ اشاعت اسلام کی خاطر تلوار کا استعمال کر رہے تھے ان کے مسلمان ہونے سبب کیا تھا؟یویناََ ان کے مسلمان ہونے کا سبب تلوار نہ تھی بلکہ اسلامی تعلیمات کے حسن اور کشش نے انہیں دامن اسلام میں پناہ لینے پر مجبور کیا تھا۔اس دین کی تعلیمات نے ان کے اذہان و قلوب کو اس قدر متاثر کیا تھا کہ وہ اپنا گھر بار، اولاد، رشتہ دار، وطن  سب کچھ لٹانے پر آمادہ ہو گئے تھے ۔

حقیقت یہ ہے کہ جس طاقت نے ابتدائی دنوں میں لوگوں کو اسلام کا شیدائی اور گرویدہ بنایا تھا وہی طاقت ہر دور میں اسلام کے سرعت کے ساتھ پھیلنے کا سبب بنتی رہی ہے۔

دین کی تبدیلی یا تلوار کسی بھی دور میں مسلمانوں کا نعرہ نہیں رہا۔بلکہ مسلمانوں کو ان کے دین کی طرف سے حکم تھا کہ جب بھی کسی دشمن کے خلاف برسرپیکار ہوں تو اس کے سامنے تین چیزیں رکھیں  پہلی یہ کہ وہ اسللام قبول کر کے ملت اسلامیہ کا حصہ بن جائے۔ دوسری یہ کہ وہ جزیہ دے کر ان تمام حقوق سے متمتع ہو جن سے ایک مسلمان متمتع ہوتا ہے۔ اگر یہ دونوں باتیں قبول نہ ہوں تو ان کے درمیان تلوار فیصلہ کرے گی۔
یہ بات خود مستشرقین کے اپنے ادیان کے خلاف جاتی ہے  اس کو بھی مستشرقین نے اسلام کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش کی ہے ۔ تاکہ ان کی سیاہ کاریوں پر کسی کی نظر ہی نہ جائے۔لیکن حق بات تو یہ ہے کہ اسلام کے پاک دامن پر دیگر جھوٹے اعتراضات کی طرح ان کا یہ اعتراض بھی کذب، دروغ گوئی اور جھوٹ پر مشتمل ہے ۔ اور اسلام کا دامن دیگر اعتراضات کی طرح اس اعتراض سے بھی پاک ہے !

مدح قرآن علامہ بوصیری رحمہ اللہ

2017-07-19 14:02:33 

مدح قرآن از  صاحب قصیدہ بردہ شریف علامہ بوصیری رحمۃ اللہ علیہ  
دعنى ووصفى آىات له ظهرت
ظهور نار القرى
ٰ لىلا على علم

اب مجھے رسول اللہ ﷺ کے معجزات بیان کرنے دیجیئے جو اتنے نمایاں اور ایسے مشہور ہیں جیسے رات کے وقت پہاڑ پر جلائی جانے والی ضیافت کی آگ۔

فالدریزداد حسنا  و ھوا منتظم

ولیس ینقص قدرا غیر منتظم

جب موتی کو ایک لڑی میں پرو دیا جائے تو اس کا حسن دوبالا ہو جاتا ہے۔ اور اگر اسے نہ پرویا جائے تو اس کے حسن میں کمی واقع نہیں ہوتی۔

لم تقترن بزمان و ھی  تخبرنا

عن المعاد وعن عاد وعن ارم

قرآن کے الفاظ و معانی قدیم ہیں اس لیئے اس کی آیات کسی زمانے کے ساتھ وابستہ نہیں ہیں۔ یہ ہمیں امور آخرت ، قوم عاد کی تاریخ اور اس کے مقام و سکونت اور باغات وغیرہ کی خبر دیتی ہیں۔

دامت لدینا ففاقت کل معجزۃ

من النبیین اذجاء ت ولم تدم

آیات قرآنی کو دوام نصیب ہوا۔ اس لیئے وہ دوسرے انبیاء کرام کے معجزوں سے بڑھ گئیں۔ جب کہ ان کے معجزے وقتی طور پر ظاہر ہوئے اور انہیں دوام حاصل نہ ہوا۔

محکمات فما یبقین  من شبہ

لذی شقاق ولا یبغین من حکم

یہ آیات قرآنی واضح ہیں اور کسی مخالف کے لیئے کسی قسم کے شک و شبہہ کی گنجائش نہیں چھوڑتیں۔اور نہ کسی منصف کے فیصلے کی محتاج ہیں۔

ماحوربت قط الاعاد من حرب

اعدی الاعادی  الیھا  ملقی السلم

قرآن کے خلاف جب بھی  جنگ چھیڑی گئی تو اس کا بدترین دشمن بھی صلح پر مائل  ہوا۔(یعنی اسے اپنے عجز کا اعتراف کرنا پڑا)

ردت بلاغتھا دعوی معارضھا

رد الغیور ید الجانی عن الحرم

اس کی فصاحت و بلاغت نے مخالفوں کے  بے بنیاد دعوں کو یوں رد کر دیا جیسے ایک غیور شخص کسی بدکار کے ہاتھ کو اپنے اہل خانہ سے دور کرتا ہے

لھامعان کموج  البحرفی مدد

وفوق جوھرہ  فی الحسن والقیم

اس کے معانی اپنی وسعت اور پھیلاؤ میں سمندر کی موجوں کی مانند ہیں۔اور حسن و قیمت میں سمندر کے موتوں سے بدرجہا بڑھ کر ہیں۔

فماتعد ولا تحصی عجائبھا

ولا تسام  علی الاکثاربالسام

اس کے عجیب و غریب نکات نہ تو شمار کیئے جا سکتے ہیں اور نہ انہیں سمیٹا جا سکتا ہے۔مزید برآں ان اسرار و رموز کی کثرت قاری پر بار گراں نہیں بنتی۔

قرت بھا عین قاریھا فقلت لہ

لقد ظفرت بحبل اللہ فاعتصم

اس کی تلاوت پڑھنے والے کی آنکھوں کی ٹھنڈک بنتی ہے۔میں نے (اس کے قاری کو) کہا تو نے اللہ کی رسی کو پا لیا ہےسو اس کے ساتھ اپنا مضبوط تعلق استوار رکھ۔

ان تتلھا خیفۃمن حرنار لظی

اطفات حر لظی من وردھاالشبم

اگر تم دوزخ کی آگ کے خوف سے قرآن کی تلاوت کرو گے تو اس کے خنک اثرات سے اس کی بھڑکتی ہوئی آگ کو بجھا دو گے۔

کانھا الحوض  تبیض الوجوہ بہ

من العصاۃ وقد جاء وہ کالحمم

قرآن حکیم گویا حوض کوثر ہے جس کے پانی سے گنہگاروں کے سیاہ چہرے دھل کر اجلے اور سفید ہو جاتے ہیں۔

وکالصراط وکالمیزان معدلۃ

فالقسط من غیر ھافی الناس لم یقم

یہ کتاب عدل و انصاف کے باب میں صراط اور میزان کا درجہ رکھتی ہے۔اس سے ہٹ کر لوگوں میں کوئی عدل و انصاف قائم نہیں ہو سکتا

لا تعجبن لحسود راح ینکرھا

تجاھلا وھو عین الحاذق الفھم

اگر کوئی حاسد اور دشمن ماہر اور سمجھدار  ہونے کے باوجود جان بوجھ کر جاہل بن جائے اور قرآن کی خوبیوں کا انکار شروع کر دے تو آپ کو تعجب نہیں کرنا چاہیئے۔

قد تنکر العین ضوء الشمس من رمد

و ینکر الفم طعم الماء من سقم

کیونکہ کبھی کبھی آشوب چشم کی وجہ سے سورج کی روشنی اچھی نہیں لگتی اور بیماری کی وجہ سے منہ کا ذائقہ بگڑ جاتا ہے۔ حتیٰ کہ میٹھا پانی بھی تلخ محسوس ہوتا ہے۔!

نیوٹن اور ملحد سائنس دان

2017-07-19 11:39:19 

قرون وسطیٰ میں چرچ کی زندگی کے ہر شعبے میں بالا دستی قائم تھی ۔ بادشاہ وقت بھی چرچ کا مطیع و فرمانبردار تھا اور چرچ کے فیصلوں کے خلاف جانے کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ اس زمانے میں جب کائناتی و فلکیاتی تحقیقات شروع ہوئیں  تو انہیں چرچ کی جانب سے سخت ترین مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔سائنسی تحقیقات کو قابل سزا جرم قرار دے دیا گیا اور ہزاروں سائنس دانوں کو اس جرم کی سزا کے طور پر زندہ جلوا دیا گیا۔چرچ کے انسانیت سوز مظالم کی وجہ سے سائنس دانوں کی بڑی تعداد مذہب سے متنفر ہو کر دہریہ بن گئی ۔لیکن کچھ سائنس دان اب بھی ایسے تھے جو اللہ کے وجود  اور اس کی عظمتوں کے قائل تھے ۔ ان میں سر آئزک نیوٹن ، جینز کالسن، ایڈنگٹن وغیرہ سرفہرست ہیں۔
ایک دفعہ آئز ک نیوٹن اپنے کمرے میں ایک کتاب کے مطالعہ میں مشغول تھا۔ اس کے سامنے  نظام شمسی کا ایک دھاتی نمونہ پڑا تھا جس کو کسی کاریگر نے انتہائی مہارت اور قابلیت سے بنایا تھا۔ اس کو جب گھمایا جاتا تو تمام سیارے اپنی اپنی رفتار کے تناسب سے گھومنے لگتے تھے۔ بظاہر یہ بڑا عجیب منظر پیش کرتا تھا۔نیوٹن کا ایک سائنس دان دوست جو اس وقت کے حالات سے متاثر ہو کر دہریہ اور اللہ کا منکر بن گیا تھا ، نیوٹن کے کمرے میں داخل ہوا اور نظام شمسی کے اس نمونے کو دیکھ کر بے اختیار پوچھنے لگا کہ  "اس کو کس نے بنایا ہے؟"
نیوٹن نے سوال سن کر اس کی طرف دیکھے بغیر جواب دیا "کسی نے بھی نہیں "
سائنس دان نے کہا "آپ نے میرا مطلب نہیں سمجھا"
نیوٹن نے کتاب پر سے نظر ہٹا کر اپنے دوست سے کہا :۔ " نہیں اسے کسی نے بھی نہیں بنایا۔ جس چیز کو تم اتنی حیرت سے دیکھ رہے ہو  اس نے "خود بخود" اپنی یہ شکل اختیار کر لی ہے۔"
نیو ٹن کے اس جواب میں طنز تھا۔ مگر اس جواب نے سائنس دان کو مضطرب کر ڈالا۔ اس نے جھلاتے ہوئے پوچھا
"کیا تم مجھے بے وقوف سمجھ رہے ہو ۔ بے شک اس کو کسی نے بنایا ہے اور وہ بے انتہا  ماہر کاریگر ہے میں اس کا نام جاننا چاہتا ہوں۔"
اپنی کتاب کو بازو میں رکھتے ہوئے نیوٹن کھڑا ہو گیا اور اپنے دوست کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولا" یہ نمونہ ایک ادنیٰ ترین نقل ہےاس شاندار نظام کائنات یعنی نظام شمسی کی جس کے قانون سے تم بھی واقف ہو۔اور میں اس قابل نہیں کہ تم کو قائل کر سکوں کہ یہ معمولی کھلونا خود بخود وجود میں آیا۔"
نیوٹن نے اپنے دوست سے کہا "تم مجھے پہلے یہ بتاؤ کہ تم اس نظریے پر کیسے پہنچے کہ اس قدر شاندار نظام بغیر خالق کے وجود میں آگیا ہے۔"
نیوٹن کا دوست سوائے خاموشی کے کوئی جواب نہ دے سکا۔
نیوٹن نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے اپنے دوست کو بتایا کہ:۔ "اس شاندار نظام کائنات کا خالق اللہ ہے۔جو اس کے وجود کو اللہ کے بغیر سمجھتے ہیں وہ غلطی کرتے ہیں۔
یہ معمولی سی مثال خالق کائنات کے وجود کا زبردست ثبوت پیش کرتی ہے۔

 

یورپ میں دہریت کے اسباب

2017-07-16 05:38:12 

زمانہ قدیم میں چرچ زندگی کے تمام معاملات میں اس قدر حاوی تھا کہ سلطنتوں کے خارجہ تعلقات تک چرچ کی مرضی سے تشکیل دیئے جاتے تھے۔ وقت کا بادشاہ تک چرچ کا مطیع اور فرمانبردار تھا اور چرچ کے فیصلے کے خلاف جانے کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔
٭ زمانہ وسطیٰ میں جب کائناتی تحقیقت شروع ہوئیں تو اس سے قبل چرچ نے عوام اور عوامی شعبوں پر زبردست فوقیت حاصل کر لی تھی ۔ ان کا سلوک اور رویہ آمرانہ ہو گیا تھا۔ہر بات کے احکام کی چرچ کے نام سے جبراََ تعمیل کرائی جاتی تھی ۔بادشاہوں اور ان کی سلطنتوں کے معاملات میں بھی غیر ضروری مداخلتیں ہونے لگیں۔حتیٰ کہ قیصر روم اور شاہ انگلستان کو بھی چرچ کے احکامات کے آگے سر جھکانا پڑتا تھا۔جس کی وجہ سے چرچ اور مذہب کے خلاف ایک عام تنفر پھیل گیا۔
٭ دوسری وجہ یہ تھی کہ پڑھا لکھا طبقہ چرچ کی اس بالا دستی سے محفوظ نہ رہ سکا۔ کٹر قسم کے ان پڑھ اور جاہل پادریوں کی تنگ دلی اور تعصب نے پڑھے لکھے اور قابل سائنس دانوں کے حوصلے پست کر دیئے۔ان کی علمی تحقیقات اور تجربات کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کی گئیں۔کائناتی تحقیقات کو جرم قرار دے کر ان کو تکالیف اور اذیتیں دی گئیں۔ان کی تحقیقاتی کتابوں کے پڑھنے پر پابندی لگا دی گئی۔ جس کی وجہ سے سائنس دان مذہب اور چرچ سے متنفر ہو گئے۔
٭ تیسری وجہ یہ تھی کہ وہ تمام مذہبی کتابیں جن پر وہ لوگ یقین رکھتے تھے ان کی علمی جستجو کی پیاس نہ بجھا سکیں۔تخلیق کائنات کے متعلق ان کی کتابوں میں ایسے اشارات بھی نہیں تھے جو ان کی راہنمائی کر سکیں۔ ان کو اپنے مذہب کی کم وسعتی کا احساس ہونے لگا۔چنانچہ ان کے دلوں میں مذہب سے کنارہ کشی کی رغبت پرورش پانے لگی۔
٭ چوتھی وجہ یہ تھی کہ سائنسی تحقیقات عجیب و غریب اور حیرت انگیز رازوں کا انکشاف کر رہی تھیں ۔ جن کا ذکر ان کی کتابوں میں اشارتاََ بھی نہیں تھا۔خاص طور پر بائبل شدید تنقید کا شکار ہو چکی تھی۔اور بطلیموس کا نظریہ بری طرح فیل ہو چکا تھا۔انہوں نے سائنسی تحقیقات کو مذہبی نظریات پر فوقیت و ترجیح دی۔ان کو وہ تمام کائناتی قصے مضحکہ خیز نظر آنے لگے جو اس سے پہلے صحیح سمجھے جاتے تھے۔انہوں نے اپنی تحقیقات کو سائنس کا نام دے کر مذہب اور چرچ کی پابندیوں سے آزاد ہونا شروع کر دیا ۔ جو اس وقت ان کی تحقیقات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ تھے۔
٭ پانچویں وجہ یہ تھی کہ اگر وہ مادہ کی تخلیق کو ذات الہٰی سے وابستہ کر دیتے تو اس کا مطلب چرچ کی بالا دستی کو تسلیم کرنا اور اس کے ان پڑھ اور جاہل پادریوں کے سامنے اپنا سر جھکانا تھا جو اپنے آپ کو چرچ کا ٹھیکیدار سمجھے ہوئے تھے۔اس زمانے میں کلیسا کے تقریباََ تمام پادری ان پڑھ تھے بعض معمولی لکھنا پڑھنا جانتے تھے۔اس لیئے انہوں نے اپنی تحقیقات کو پادریوں کا مرہون منت نہیں بنانا چاہا اور تخلیق کائنات کو جو کہ ایک کثیر مادہ کا سراغ دے رہی تھی ، خدا سے وابستہ کرنے سے گریز کیا۔انہوں نے یونانی مفکرین کی طرح ہی مادہ کو اصل اور ہیولیٰ سمجھ کر اللہ کے وجود سے ہی انکار کر دیا۔ اور دہریہ کہلانے لگ گئے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ دہریت عام ہو گئی اور ہر تعلیم یافتہ اپنے آپ کو دہریہ کہلوانے میں فخر محسوس کرنے لگ گیا۔
٭ چھٹی وجہ یہ تھی کہ سائنسی تحقیقت کو جرم قرار دے کر فلکیاتی تحقیقات میں مصروف تقریباََ تین لاکھ سائنس دانوں کو مختلف سزائین دی گئیں۔اور کم و بیش تیس ہزار سائنس دانوں کو زندہ جلا دیا گیا۔ جس کی وجہ سے پڑھے لکھے لوگوں کے ذہنوں میں چرچ سے بغاوت کا خیال مضبوطی پکڑتا گیا اور لوگ ان سائنس دانوں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے دہریے بن گئے اور نتیجہ کے طور پر دہریت میں اضافہ ہوا

گستاخ رسول ﷺ کے متعلق علما و فقہا کے فتاوی جات

2017-07-13 13:06:54 


1. امام مالک فرماتے ہیں : من سب رسول اللہ ا او شتمہ او عابہ او تنقصہ قتل مسلما کان او کافرا ولا یسطاب (الصارم المسلول ص ۵۲۶) ’’
جس شخص نے حضورا کو گالی دی یا آپ کی طرف عیب منسوب کیا یا آپ کی شان اقدس میں تحقیر و تنقیص کا ارتکاب کیا خواہ وہ مسلمان ہو یا کافر اسے قتل کر دیا جائے گا اس کی توبہ بھی قبول نہیں کی جائے گی

2. امام احمد بن حنبل فرماتے ہیں : کل من شتم النبی او تنقصہ مسلما کان او کافرا فعلیہ القتل (الصارم المسلول ص ۵۲۵)

3.امام ابو یوسف فرماتے ہیں : وایما رجل مسلم سب رسول ا او کذبہ او عابہ او تنقصہ فقد کفر با اللہ وبانت منہ زوجہ۔ (کتاب الخراج ص ۱۸۲)
ترجمہ:کوئی بھی مسلمان جو رسول اللہ ا کو گالی دے یا آپ کی تکذیب کرے یا عیب جوئی کرے یا آپ کی شان میں کمی کرے اس نے یقینا اللہ کا انکار کیا اور اس کی بیوی اس کے نکاح سے نکل گئی ۔ (جد ا ہو گئی)

4.قاضی عیاض علیہ الرحمۃ بیان کرتے ہیں : ہر شخص جس نے رسول اکرم ا کو گالی دی اور آپ کی طرف عیب منسوب کیا یا آپ کی ذات اقدس کے متعلق اور نسب وحسب اور آپ کے لائے ہو ئے دین اسلام یا آپ کی عادات کریمہ میں سے کسی عادت کی طرف کوئی نقص وکمی منسوب کی یا اشارۃً کنائۃً آپ کی شان اقدس میں نا مناسب وناموزوں بات کہی یا آپ کو کسی شے سے گالی دینے کی طریق پر تشبیہہ دی یا آپ کی شان وعظمت وتقدس اور رفعت کی تنقیص وکمی چاہی یا آپ کے مقام و مرتبے کی کمی کا خواہش مند ہو یا عیب جوئی کی تو فھو سب والحکم فیہ حکم الساب لیقتل (الشفا ء ج ۲ ص ۲۲) ’’یہ شخص سب وشتم کرنے والا ہے اس میں گالی دینے والے کا حکم ہی جاری ہو گا اور وہ یہ کہ قتل کر دیا جائے گا ‘‘۔
امام احمد بن سلمان نے فرمایا: من قا ل ان النبی کان اسود یقتل (الشفا ء ج ۲ ص ۶۳۹)
’’جس شخص نے کہا حضور ا کا رنگ سیاہ ہے وہ قتل کر دیا جائے گا ‘‘۔

5. امام ابو بکر بن علی نیشا پوری فرماتے ہیں ـ: اجمع عوام اہل العلم علی ان من سب النبی یقتل قال ذالک مالک بن انس واللیث واحمد واسحاق وھو مذہب الشافعی وھو منتھیٰ قول ابی بکر
(الصارم المسلول درالمختار ۲۳۲)
’’سب اہل علم کا اس بات پر اجماع ہے کہ جس شخص نے نبی اکرم ا کو سب وشتم کیا وہ قتل کیا جائے گا ۔ جن آئمہ کرام نے یہ فتوی دیا ان میں امام مالک امام لیث امام احمد وامام اسحاق شامل ہیں یہی امام شافعی کا مذہب ہے اور یہی حضرت ابو بکر صدیق کے قول کا مدعا ہے ‘‘۔
تنویر الابصار اور در مختار فقہ حنفی کی بڑی مستند کتابیں ہیں ان میں یہ عبارت در ج ہے : کل مسلم ارتدفتو بتہ مقبولۃ الا الکافر بسب نبی من الانبیاء فانہ یقتل حدا ولا تقبل توبتہ مطلقاً ‘‘(در المختار جلد ۴ صفحہ ۲۳۱) ’’جو مسلمان مرتد ہو اس کی توبہ قبول کی جائے گی سوائے اس کافر ومرتد کے جو انبیاء علیہم السلام میں سے کسی بھی نبی کو گالی دے تو اسے حداً قتل کر دیا جائے گا اور مطلقا اس کی توبہ قبول نہ کی جائے گی ‘‘

6. امام ابن سحنون مالکی نے فرمایا : اجمع المسلمون ان شاتمہ کافر وحکمہ القتل ومن شک فی عذابہ وکفرہٖ کفر (در المختار جلد ۴ صفحہ ۲۳۳)
 ’’مسلمانوں کا اس امر پر اجماع ہے کہ حضور نبی ا کو گالی دینے والا کافر ہے اور اس کا حکم قتل ہے جو اس کے عذاب اور کفر میں شک کرے وہ کافر ہے ‘

7. مام ابن عتاب مالکی نے حضور اکرم ا کی بے ادبی اور گستاخی کرنے والے کے لئے سزائے موت کا فتویٰ دیا ہے : الکتاب والسنۃ موجبان ان من قصد النبی باذی او نقص معرضا او مصر حاوان قل فقتلہ واجب فھدا الباب کلہ مماعدہ العلماء سبا او تنقصا وجب قتل قائلہ لم یختلف فی ذالک متقدمھم ولا متاخرھم ۔ ’’
قرآن وسنت اس بات کو واجب کرتے ہیں کہ جو شخص رسول اللہ ا کی ایذا کا ارادہ کرے صریح وغیر صریح طور پر یعنی اشارہ وکنایہ کے انداز میں آپ کی تنقیص کرے اگرچہ قلیل ہی کیوں نہ ہو تو ایسے شخص کو قتل کرنا واجب ہے اس باب میں جن جن چیزوں کو آئمہ وعلماء کرام نے سب وتنقیص میں شمار کیا ہے آئمہ متقدمین ومتاخرین کے نزدیک بالاتفاق اس کے قائل کا قتل واجب ہے ‘‘۔

8. امام ابن الھمام حنفی کا فتوی : والذی عند ی من سبہ او نسبہ مالا ینبغی الی اللہ تعالیٰ وان کانوا لا یعتقد ونہ کنسبۃ الولدالی اللہ تعالیٰ وتقدس عن ذالک اذا اظھرہ یقتل بہ وینتقض عھدہ ۔ (فتح القدیر ج ۵ ص ۳۰۳) ’’میرے نزدیک مختار یہ ہے کہ ذمی نے اگر حضور ا کو گالی دی یا غیر مناسب چیز اللہ تعالیٰ کی طر ف منسوب کی جو کہ ان کے عقائد سے خارج ہے جسے اللہ تعالیٰ کی طرف بیٹے کی نسبت حالانکہ وہ اس سے پاک ہے جب وہ ایسی چیز کا اظہار کرے گا تو اسے قتل کیا جائے گا اور اس کا عہد ٹوٹ جائے گا ‘‘۔

9. امام ابو سلیمان خطابی کا فتویٰ : لا اعلم احدا من المسلمین اختلف فی وجوب قتلہ اذا کان مسلما ۔ (الشفاء ۲ ص ۹۳۵)
’’میں مسلمانوں سے کسی ایک فرد کو بھی نہیں جانتا جس نے گستاخ رسول کی سزائے قتل کے واجب ہو نے میں اختلاف کیا ہو جبکہ وہ مسلمان بھی ہو ‘

10. بو بکر الجصاص کا فتوی : ولا خلاف بین المسلمین ان من قصد النبی صلی اللہ بذالک فھو فمن ینتحل الاسلام انہ مرتد یستحق القتل (احکام القرآن للجصاص ج ۳ ص ۱۰۹)
 ’’مسلمانوں کے مابین اس میں کسی کا اختلاف نہیں کہ جس نے رسول اللہ ا کی اہانت وایذا کا قصد کیا حالانکہ وہ خود کو مسلمان بھی کہلواتا ہو تو ایسا شخص مرتد اور مستحق قتل ہے ‘‘۔

11. امام حصکفی کا فتویٰ : من نقص مقام الرسالۃ بقولہ بان سبہ او بفعلہ بان بغضہ بفعلہٖ قتل حدا (درالمختار ۴ص ۲۳۲)
’’جس شخص نے مقام رسالت مآب ا کی تنقیص وتحقیر اپنے قول کے ذریعے بایں صورت کہ آپ کو گالی دی یا اپنے فعل سے اس طرح کہ دل سے آپ سے بغض رکھا تو وہ شخص بطور حد قتل کر دیا جائے گا ‘‘

12. علامہ ابن تیمیہ مزید لکھتے ہیں : واذا کان کذالک وجب علینا ان ننصر لہ ممن انتھک عرضہ والانتصار لہ با لقتل لان انتھاک عرضہ انتھاک دین اللہ (الصارم المسلول ص ۲۱۱)
’’اور جب یہ حقیقت ہم پر لازم ہے کہ حضور ا کی خاطر اس شخص کے خلاف صدائے احتجاج بلند کریں جو آپ کی شان میں گستاخی کرے اور احتجاج یہ ہے کہ اسے قتل کردیں اس لئے آپ ا کی عزت کو پامال کر نا اللہ کے دین کی اہانت کرنا ہے ‘

13. فتاوٰی حامدیہ میں ہے : فقد صرح علماء نافی غالب کتبھم بان من سب رسول اللہ ا أو احدا ً من الانبیاء علیھم الصلٰوۃ والسلام وااستخف بھم فانہ یقتل حدا ولا توبۃ لہ اصلاً سواء بعد القدرۃ علیہ والشھادۃ او جاء تایباً من قبل نفسہ لا تہ حق تعلق بہ حق البعد فلا یسقط بالتوبۃ کسائر حقوق الآدمیین ووقع فی عبارۃ البزازیہ ولو عاب نبیاً کفر (فتاوٰی حامدیہ صفحہ ۱۷۳)
’’ہمارے علماء کرام نے اپنی اکثر کتب میں اس بات کی تصریح فرمائی ہے کہ جو شخص رسول اللہ ا کی توہین کرے یا انبیاء کرام میں سے کسی بھی نبی کی توہین کرے ۔ یا ان کا استخفاف کرے تو اس کو بطور حد قتل کیا جائے گا ۔ اس کی توبہ اصلاً قبول نہیں ۔ خواہ گرفتار ہونے اور شہادت پیش ہونے بعد توبہ کرے یا گرفتاری اور شہادت سے قبل از خود توبہ کر لے بہر صورت ا س کی توبہ مقبول نہیں ۔ کیونکہ یہ ایسا حق ہے جس کے ساتھ حق عبد متعلق ہو چکا ہے ۔ لہذا انسانوں کے تمام حقوق کی طرح یہ حق بھی توبہ سے ساقط نہیں ہو گا اور بزازیہ کی عبارت میں ہے جو شخص کسی نبی پر عیب لگائے وہ اس کے سبب کا فر ہو جائے گا ‘‘۔

14. گستاخ رسول کے قتل پر صحابہ کا اجماع : علامہ ابن تیمیہ مذکورہ مسئلے میں صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کے اجماع کا ذکر ان الفاظ میں کرتے ہیں ۔ اما اجماع الصحابہ فلان ذالک نقل عنھم فی قضا یا متعددۃ ینتشر مثلھا ویستفیض ولم ینکر ھا احد منھم فصارت اجماعا (الصارم المسلول ۲۰۰)
 ’’مذکورہ مسئلے پر اجماع صحابہ کا ثبوت یہ ہے کہ یہی بات (گستاخان رسول ا واجب القتل ہے ان کے بہت سے فیصلوں سے ثابت ہے مزید برآں کہ ایسی چیز مشہور ہو جاتی تھی لیکن اس کے باوجود کسی صحابی نے بھی اس کا انکار نہیں کیا جو اس کی بین دلیل ہے

15۔ ۔ قاضی ثناء اللہ پانی پتی تفسیر مظہری میں فرماتے ہیں : من اذی رسول اللہ بطعن فی شخصہ ودینہ او نسبہ او صفتہ من صفاتہ او بوجہ من وجوہ الشین فیہ صراحۃ وکنایۃ او تعریضا او اشارۃ کفرو لعنھم اللہ فی الدنیا واعد لہ عذاب جہنم (۱ تفسیر مظہری ج ۷ صفحہ ۳۸۱)
’’جس شخص نے رسول اللہا کو اشارۃ وکنائۃ صریح وغیر صریح طریق سے عیب کی جملہ وجوہ میں سے کسی ایک وجہ سے یا آپ کی صفات میں سے کسی ایک صفت میں ، آپ کے نسب ، میں آپ کے دین میں یا آپ کی ذات مقدسہ کے متعلق کسی قسم کی زبان طعن دراز کی تو وہ کافر ہوا ۔ اللہ تعالیٰ نے دنیا اور آخرت میں اس پر لعنت کی اور اس کے لئے جہنم کا عذاب تیار کر رکھا ہے۔

16. قد حکیٰ ابو بکر الفارسی من اصحاب الشافعی اجماع المسلمین علی ان حد من سب النبی القتل کما ان حد من سب غیرہ الجلد وھذا لا جماع الذی حکاہ محمول علی الصدر الاول من الصاحبۃ والتابعین اوانہ ارادا جماعھم علی ان ساب النبی یجب قتلہ اذا کان مسلما (الصار م المسلول ۳)
’’امام ابو بکر فارسی جو اصحاب شافعی میں سے ہیں انہوں نے امت مسلمہ کا ا س بات پر اجماع بیان کیا ہے کہ جس شخص نے حضور ا کو گالی دی تو اس کی سزا حد اً قتل ہے جس طرح کہ کسی غیر نبی کو گالی دینے والے کی سزا (حد )کوڑے لگانا ہے یہ اجماع صدر اول کے یعنی صحابہ وتابعین کے اجماع پر محمول ہے یا اس سے مراد یہ ہے کہ حضور ا کو گالی دینے والا اگر مسلمان ہے تو اس کے وجوب قتل پر اجماع ہے ‘‘۔

17. ابوبکر بن منذر رحمہ اللہ نے کہا ھے کہ عام اھل علم کا اس بات پر اجماع ھے کہ جو شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دے اسے قتل کردینا چاہیئے۔ یہی بات امام مالک، لیث، احمد، اسحاق وغیرہ رحمہم اللہ نے بھی کہی ھے یہی امام شافعی رحمہ اللہ کا مذھب ھے۔۔۔ یہی حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالی عنہکے قول کا تقاضا ھے ۔۔۔ ایسے شخص کے مباح الدم ھونے میں کوئی اختلاف نہیں(الشفا٢٢٠)

18. ابن القاسم رحمہ اللہ نے العتبیة میں لکھا ھے کہ جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دے یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر عیب لگائے یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم میں نقص نکالے ، اسے قتل کیا جائے گا اور ساری امت کے نزدیک اسکو قتل کرنے کا حکم اسی طرح ھے جس طرح زندیق کو قتل کرنے کا حکم ھے ، اس لئے کہ اللہ تعالی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم و توقیر کو فرض قرار دیا ھے(٢٢١)

19. امام مالک رحمہ اللہ سے روایت ھے کہ جس شخص نے یہ کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی چادر یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قمیض کے کنارے میلے ھیں اور اس سے اس کا ارادہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تحقیر کا ھو تواسے قتل کیا جائے ۔
20. ابو الحسن قالبسی رحمہ اللہ نے ایسے شخص کو قتل کرنے کا فتوی دیا جس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں پر بوجھ اور ابو طالب کے یتیم تھے

21. :علامہ شرنبالی رحمہ اللہ لکھتے ہیں :
ولا تقبل توبة ساب النبی علیہ السلام سواء جاء تائبا من قبل نفسہ او شھد علیہ بذلک


22. :علامہ خفاجی رحمہ اللہ نسیم الریاض ص٣٩٩ پر لکھتے ہیں :
کسی کیلئے روا نہیں کہ نبی کی شان میں گستاخی سنے سوائے اسکے کہ یاتو اس گستاخ کی جان لے لے یا اپنی جان فی سبیل اللہ دے دے

23۔ تفسیر مظہری (اردو)ص٥٣٤ج ھفتم میں ہے کہ :
حتی کہ علماء نے یہاں تک کہا ہے کہ اگر کسی نے نشہ کی حالت میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے غلیظ الفاظ استعمال کئے تو اسے قتل کردیا جائے۔۔ الخ

علامہ شامی رحمہ اللہ شاتم الرسول کے مباح الدم ہونے پر آئمہ اربعہ کا اجماع نقل کرتے ہیں :
لا شک ولا شبھة فی کفر شاتم النبی صلی اللہ علیہ وسلم و فی استباحة قتلہ وھو منقول عن الائمة الاربعة۔۔ الخ (شامی ص٤٠٦ج٣)
شاتم رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے کفر اور قتل کے جائز ہونے میں کوئی شک شبہہ نہیں ہے ،چاروں اماموں (امام اعظم ابوحنیفہ، امام مالک، امام شافعی، امام احمد بن حنبل رحمہم اللہ) سے یہی منقول ہے۔
علامہ شامی رحمہ اللہ واسعہ آئمہ اربعہ کے گستاخ رسول ﷺ کے متعلق مذہب کو آج کل کے نام نہاد دانشوران سے بہتر جاننے والے تھے ،،،،،یہاں سے ہی گستاخ رسول ﷺ کی سزا موت کے متعلق امت مسلمہ کا اجماع ثابت ہوتا ہے

یہ ہے گستاخ رسول ﷺ کی ایک ہی سزا موت پر تمام امت مسلمہ کے اجماع کا ثبوت ،،،،،،،،،،،،،،،،،
اب بھی اگر کوئی ہٹ دھرمی سے کام لے تو اسے اپنے ایمان کی فکر کرنی چاہئے
یہ ان علما و فقہا کے فتاوی جات ہیں جو بلاشبہ آج کل کے نام نہاد مفکرین اور مجتہدین سے کہیں بہتر کتاب و سنت کو جاننے والے تھے اور ان میں سے اکثر اس بات پر امت مسلمہ کا اجماع نقل کرتے ہیں ،،،، اب بھی اگر کوئی ان کو چھوڑ کر ٓج کل کے غامدی جیسے راہزن دین و ایمان کے پیچھے چلنے کو ترجیح دے تو اس کے بدمذہب ہونے پر کوئی شک نہیں ،،،،
وماعلینا الا البلاغ المبین

اخبار آحاد کے احکام

2017-07-08 17:06:53 

اخبار آحاد سے ثابت ہونے والی چند سنن و احکام:
1۔ وضو میں موزوں پر مسح کرنا
2۔ شہید کی میت کو نہ غسل دینا اور نہ ہی کفن پہنانا
3۔ اذان کا طریقہ
4۔ نماز کی حالت میں قہقہے سے نماز کا ٹوٹ جانا
5۔ عورت پر صلوۃ الجمعہ فرض نہ ہونا
6۔ مسلمان کی میت پر نماز جنازہ پڑھنا
7۔ ماں کی عدم موجودگی میں میت کی دادی کو وراثت میں سے چھٹا حصہ دینا
8۔ وارث کے حق میں وصیت کا ناجائز ہونا
9۔ مرتد کے لیئے قتل کی سزا ہونا
10۔ شادی شدہ زانی کے لیئے رجم کی سزا
11۔ مفتوح پارسیوں سے جزیہ لینا
12۔ نبی کریم ﷺ کے وصال کے بعد قریش کی حکومت ہونا
13۔ نبی کریم ﷺ کا جہاں وصال ہوا وہیں مدفون ہونا
14۔ مردوں کے لیئے ریشم و سونے کا استعمال ممنوع ہونا
15۔ مدینہ منورہ کا حرم ہونا
16۔ قرآن حکیم کی تلاوت کے وقت مقام سجود پر سجدہ کرنا

قرات سبعہ پر اعتراض کا جواب

2017-07-08 16:34:24 

مستشرقین کاایک طریقہ کار یہ بھی ہے کہ وہ اپنے صحائف میں جو قابل اعتراض بات دیکھتے ہیں یا قرآن حکیم ان پر جو اعتراض کرتا ہے وہ قرآن پر ہی لوٹانے کی کوشش کرتے ہیں۔ عہد نامہ قدیم اور عہد نامہ جدید کی کتابیں تضادات سے بھر پور ہیں ۔ان کے مختلف فرقوں کے نزدیک ان کتابوں کی تعداد میں بھی اختلاف ہے۔ تاریخی بیانات اور اعداد و شمار کے اختلافات جابجا نظر آتے ہیں۔
مسٹر ہارن نے عہد نامہ قدیم و جدید میں اس قسم کے اختلافات کے اسباب یہ بتائے ہیں :۔
٭نقل کرنے والوں کی غلطیاں
٭ جس دستاویز سے نقل کی جا رہی ہے اس میں غلطیوں کا موجود ہونا
٭ کاتبوں کا کسی سند اور ثبوت کے بغیر متن میں اصلاح کی کوشش کرنا
٭ مختلف مذہبی فریقوں کا اپنے مؤقف اور مدعا کو ثابت کرنے کے لیئے قصداََ تحریف کرنا
مسٹر ہارن نے جو کچھ لکھا ہے اس کا ثبوت ہمیں بائبل کے مختلف ورژن کے مطالعے میں جابجا ملتا ہے۔ اناجیل اربعہ کے مصنفوں نے ایک ہی واقعہ لکھنے میں ایک دوسرے سے اختلاف کیا ہے۔ ہر انجیل کے مختلف ورژن ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ ایک زبان کی انجیل کچھ کہتی ہے اور اس کا دوسری زبان میں ترجمہ کچھ کہتا ہے۔اور عیسائیوں کے پاس ایسا کوئی طریقہ بھی نہیں جس سے وہ صحیح غلط کی تمیز کر سکیں۔
مستشرقین قرآن حکیم میں بھی اسی صورت حال کو ثابت کرنا چاہتے ہیں اور اس کے لیئے مختلف حربے استعمال کرتے رہتے ہیں ۔ان مختلف حربوں میں سے ایک حربہ قرآن کی قرآت مختلفہ کو غلط رنگ میں پیش کرنا ہے۔وہ یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ جس طرح بائبل کے مختلف ورژن ہیں اسی طرح قرآن کی یہ قراتیں بھی اس کا مختلف ورژن ہیں۔
چنانچہ جارج سیل اپنی کتاب "دی قرآن" میں لکھتا ہے کہ :۔ 
"قرآن کے ایڈیشنوں کا ذکر کرنے کے بعد قارئین کو اس حقیقت سے آگاہ کرنا نامناسب نہ ہو گا کہ قرآن کے ابتدائی ایڈیشن سات ہیں۔اگر ان کو ایڈیشن کہنا مناسب ہو یا ہم ان کو قرآن کی سات نقلیں کہہ سکتے ہیں۔ جن میں سے دو مدینہ میں شائع ہوئیں اور وہیں استعمال ہوتی رہیں تیسری مکہ میں ، چوتھی کوفہ میں ، پانچویں بصرہ میں ، چھٹی شام میں اور ساتویں نقل کو عام ایڈیشن کہہ سکتے ہیں ۔"
جارج سیل نے قرآن حکیم کی یہ تاریخ کہاں سے نقل کی ہے اس کا مآخذ کیا ہے کچھ کہا نہیں جاسکتا ۔ اس نے جن شہروں کے ساتھ قرآن کے ایڈیشنوں کو منسوب کرنے کی کوشش کی ہے دور رسالت میں تو ان میں سے اکثر اسلامی قلمرو میں شامل ہی نہیں ہوئے تھے ۔حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی خلافت تک لوگ مختلف لہجوں میں قرآن کی تلاوت کیا کرتے تھے ۔ لیکن آُ نے لغت قریش کے مطابق قرآن حکیم کے مختلف نسخے تیار کرا کر مختلف شہروں کو بھیجے جو اسلامی قلمرو کا حصہ تھے۔
غالباََ جارج سیل نے قرآن حکیم کی مختلف قراتوں اور اور حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے مختلف شہروں میں قرآن کی نقلیں بھیجنے کے واقعات کو اکٹھا کر کے اپنے تخیل کے زور پر یہ افسانہ گھڑا ہے۔ وہ یہ تاثر دینا چاہتے ہیں کہ جس طرح رومن کیتھولک عیسائیوں کی بائبل اور ہے اور عیسائی پروٹسٹنٹ کی اور ، اسی طرح مدینہ کے مسلمانوں کا قرآن اور تھا اور مکہ کے مسلمانوں کا قرآن اور ، کوفہ، بصرہ اور شام والوں کا اور، اور ایک قرآن ایسا بھی تھا جو عام تھا جس کی تخصیص نہ تھی۔ اگر بالفرض محال صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کے دور میں اس قدر قرآن مروج ہوتے تو آج ان کی تعداد ہزاروں سے بھی متجاوز ہوتی۔لیکن آج ہم جارج سیل کے پسماندگان کو چیلنج کرتے ہیں کہ وہ پوری دنیا کا چکر لگائیں دنیا کے تمام براعظموں کا سروے کریں پوری دنیا میں انہیں قرآن عظیم کے کروڑوں نسخے ملیں گے لیکن ان میں سرمو اختلاف ثابت کر کے دکھائیں ؟
وہ جہاں بھی جائیں انہیں ان شاء اللہ العزیز ایک ہی قرآن نظر آئے گا۔جو قرآن عربوں کے پاس ملے گا افریقہ کے حبشیوں کے پاس بھی وہی قرآن ہو گا۔ عالم اسلام میں جنم لینے والوں کے پاس جو قرآن ہو گا یورپ کے نومسلموں کے پاس بھی وہی قرآن ہو گا۔ جارج سیل کے پسماندگان نے غالباََ اسی قسم کا ایک سروے کیا ہے اسی لیئے انسائیکلوپیڈیا آف بریٹانیکا کا مقالہ نگار لکھتا ہے کہ :۔
"حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی نظر ثانی سے جو نسخہ تیار ہوا وہ ساری ملت اسلامیہ کے لیئے ایک معیاری نسخہ قرار پایا اور آج تک اس کی یہ حثیت مسلّم ہے۔"
(انسائیکلوپیڈیا آف بریٹانیکا جلد 13 ص 480)
آج اگر ساڑھے چودہ سو سال بعد بھی قرآن ایک ہی ہے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ دور صحابہ میں اس کے سات مختلف اصلی ایڈیشن موجود ہوں ؟
مستشرقین نے قرآن حکیم میں اختلاف کے مفروضے کا محل تعمیر کرنے کے لیئے قرآن کی سات قراتوں کو بنیاد بنایا ہے۔ وہ قرآن حکیم کی سات قراتوں کے الفاظ پر تو زور دیتے ہیں لیکن یہ ظاہر کرنے سے احتراز کرتے ہیں کہ اس اختلاف کی نوعیت کیا تھی ۔ یہاں ہم اختلاف قرات کی چند ایک مثالیں پیش کرتے ہیں تاکہ اس اختلاف کی نوعیت ظاہر ہو سکے۔
٭ يَآ اَيُّـهَا الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوٓا اِنْ جَآءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَاٍ فَتَبَيَّنُـوٓا اَنْ تُصِيْبُوْا قَوْمًا بِجَهَالَـةٍ فَتُصْبِحُوْا عَلٰى مَا فَعَلْـتُـمْ نَادِمِيْنَ
الحجرات آیہ 6 

اے ایمان والو ! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لائے تو اس کی خوب تحقیق کر لیا کرو ۔ ایسا نہ ہو تم کسی قوم کو لاعلمی میں ضرر پہنچا بیٹھو۔
اس آیت کے لفظ "فتبینو" کو حضرت حفص کے علاوہ دیگر حضرات نے " فَتَثَبَّتُوا" پڑھا ہے ۔ "فَتَبَیَّنُوا" کا معنی ہے تحقیق کرنا اور معاملے کی چھان بین کرنا۔اور فَتَثَبَّتُوا کا معنی بھی بلکل یہی ہے ۔ چنانچہ "المنجد" میں تثبت کا معنی یوں لکھا ہے :۔
"کسی معاملے میں جلد بازی نہ کرنا، اس رائے کے متعلق مشورہ کرنا اور اس کی خوب تحقیق کرنا "
(افترءات المستشرقین علی الاسلام)
یہاں اختلاف قرات سے مفہوم میں کوئی تبدیلی نہیں آئی بلکہ مفہوم میں وسعت آ گئی کہ جب مسلمان کوئی مشکوک خبر سنیں تو اس کے مطابق عمل کرنے میں جلد بازی نہ کریں بلکہ باہم مشورہ کریں ، معاملہ کی خوب تحقیق کریں اور جب معاملہ بلکل واضح ہو جائے تو پھر کارروائی کریں ۔ اختلاف قرات میں ایک حکمت یہ بھی ہے کہ اس سے آیات کے معنی میں وسعت پیدا ہوتی ہےجس سے امت مستفید ہوتی ہے اور اس سے زندگی کے بے شمار مسائل کو حل کرنے میں مدد ملتی ہے۔
٭ وَقَالُوا اتَّخَذَ اللّـٰهُ وَلَـدًا ۙ سُبْحَانَهٝ
البقرہ آیہ 116

"اور یہ کہتے ہیں کہ بنا لیا ہے اللہ نے (اپنا) ایک بیٹا۔ پاک ہے وہ (اس تہمت سے)۔
ابن عامر نے اس کو بغیر واؤ کے پڑھا ہے۔ لیکن جمہور قراء نے اس کو واؤ کے ساتھ پڑھا ہے جو حضرات بغیر واؤ کے پڑھتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ یہاں سے ایک نیا جملہ شروع ہو رہا ہےاور جو اس کو واؤ کے ساتھ پڑھتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ اس کا اپنے ماقبل پر عطف ہے۔ دونوں صورتوں میں معنی ایک ہی رہتا ہے کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوتی۔
3۔ سورۃ البقرہ کی آیہ نمبر 185 میں ہے کہ "ولتکملو العدۃ" یعنی اور (چاہتاہے) کہ تم گنتی پوری کر لیا کرو
اس لفظ کو جمہور قراء نے میم کی شد کے بغیر جزم کے ساتھ پڑھا ہے جبکہ ابو بکر و یعقوب نے اس کو میم کی شد کے ساتھ پڑھا ہے۔ دونوں جگہ مادہ ایک ہے صرف ابواب کا فرق ہے ۔ اس مادہ کے باب افعال اور باب تفعیل کا معنی علماء لغت کے نزدیک ایک ہی ہے۔
یہ ہے قراتوں میں اختلاف کی حقیقت، یہاں معنی میں تضاد کی کوئی گنجائش نہیں ۔ قرات کے اس اختلاف کا اس تناقض سے دور دور تک کوئی واسطہ نہیں جو عہد نامہ قدیم اور عہدنامہ جدید میں ہے۔اور جس کو یہود و نصاریٰ کے علما وقتاََ فوقتاََ دور کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔
"افترءات المستشرقین علی الاسلام " کے مؤلف نے تورات کے تناقض کی ایک مثال کتاب التواریخ دوم کے باب اکیس اور بائیس سے دی ہے۔ باب اکیس بتاتا ہے کہ "یورام" فوت ہوا تو اس کی عمر چالیس سال تھی۔لیکن باب بائیس بتاتا ہے کہ یورام کی موت کے بعد اس کا بیٹا "اخزیا" تخت نشین ہوا اور تخت نشینی کے وقت اس کی عمر بیالیس سال تھی۔ یعنی بیٹا باپ سے بھی دو برس بڑا تھا۔لیکن اب "نیو ورلڈ بائیبل ٹرانسلیشن کمیٹی" نے 1971ء کی نظر ثانی کے بعد نیو یارک سے 1981ء میں بائیبل کا جو ایڈیشن شائع کروایا ہے اس کی کتاب التاریخ ثانی کے باب بائیس میں اخزیا کی تخت نشینی کے وقت عمر بائیس سال لکھی گئی ہے۔
بیالیس کا ترجمہ بائیس بنا دینا یہود و نصاریٰ کے لیئے معمولی بات ہے ۔ان کے اس ترجمے یا اصلاح سے بیٹے کے باپ سے بڑا ہونے کی الجھن تو دور ہو جاتی ہے لیکن یہ الجھن برقرار رہتی ہے کہ جو نسخہ بیالیس سال عمر بتا رہا تھا وہ درست ہے یا جس نسخے میں بائیس سال لکھی گئی ہے وہ درست ہے ؟
بائبل کے اختلافات اور قرآن مجید کے اختلاف قرات کا جائزہ لینے سے یہ بات بلکل واضح ہو جاتی ہے قرآن حکیم بائبل کی طرح کے اختلافات اور تناقضات سے مطلقاََ پاک ہے۔ اور مزید برآں قرآن میں قرات کے معمولی اختلاف کو بھی عام مسلمانوں کی صوابدید پر نہیں چھوڑا گیا بلکہ وہ قرات بھی حضور اکرم ﷺ سے مروی ہیں۔چنانچہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:۔ 
"حضرت جبرائیل علیہ السلام نے مجھے قرآن حکیم پڑھ کر سنایا۔ میں نے دوبارہ پڑھنے کے لیئے کہا۔ انہوں نے دوبارہ پڑھا۔میں قراتوں میں اضافے کے لیئے کہتا رہا وہ قراتوں میں اضافہ کرتے گئے ۔ حتیٰ کہ معاملہ سات قراتوں تک جا پہنچا۔"
(صحیح بخاری جلد دوم باب انزال القرآن علی سبعۃ احرف)
یہاں بھی حضور اکرم ﷺ کی اپنی امت کے لیئے شفقت و رحمت اپنا رنگ دکھا رہی ہے ۔ آپ ﷺ کی تمنا ہے کہ آپ ﷺ کی امت کو ایک سے زائد قراتوں کی اجازت ہو تاکہ آپ ﷺ کی امت مشقت سے بچ سکے۔ایک اور حدیث پاک حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ :۔ 
"حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے ہشام بن حزام کو سورۃ الفرقان پڑھتے سنا۔ وہ اس سے مختلف پڑھ رہے تھے جیسا کہ میں پڑھتا تھا۔ اور مجھے تو خود رسول اللہ ﷺ نے سورۃ الفرقان پڑھائی تھی۔قریب تھا کہ میں ان کو سزا دیتا لیکن میں نے انہیں مہلت دی ۔ جب وہ واپس آئے تو میں نے انہیں چادر سے پکڑا اور حضور اکرم ﷺ کی خدمت میں لے آیا۔مین نے حضور اکرم ﷺ سے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ! یہ سورۃ الفرقان اس سے مختلف پڑھ رہے تھے جیسے آپ ﷺ نے مجھے پڑھائی تھی۔حضور اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا پڑھو ! انہوں نے اسی طریقے سے پڑھا جیسے میں نے انہیں پڑھتے ہوئے سنا تھا۔حضور اکرم ﷺ نے فرمایا: یہ سورت یونہی نازل ہوئی ہے۔پھر آپ ﷺ نے مجھے حکم دیا کہ تم پڑھو۔ میں نے پڑھا تو حضور اکرم ﷺ نے فرمایا : یہ سورت یونہی نازل ہوئی ہے ۔ یہ قرآن سات قراتوں پر نازل ہوا ہے ۔ تمہیں جو آسان محسوس ہو تم ویسے پڑھ لیا کرو۔"
(الصحیح مسلم جلد اول باب انزل القرآن علی سبعۃ احرف)
تمام عربوں کی زبان ایک تھی مگر لہجوں میں فرق تھا۔کسی عرب کو چونکہ دوسرے عربوں کے لہجوں کے مطابق قرآن پڑھنا مشکل تھا اس لیئے ابتداء میں ہر ایک کو اپنے اپنے لہجے کے مطابق قرآن پڑھنے کی اجازت تھی ۔زکریا ہاشم زکریا اپنی کتاب" المستشرقون و لاسلام "میں لکھتے ہیں کہ :۔
"ابتداء میں قرآن حکیم مختلف عربی لہجوں میں پڑھنے کی اجازت تھی۔ لیکن جب نزول قرآن کا سلسلہ مکمل ہو گیا تو ایک کے علاوہ باقی سبھی لہجے منسوخ ہو گئے۔اور حضور اکرم ﷺ کے ساتھ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے قرآن حکیم کا جو آخری دور کیا تھا وہ ایک ہی لہجے کے مطابق تھا۔اور ایک ہی لہجہ کے اندر بھی تمام متواتر قراتوں کا احتمال موجود تھا۔"
یہی مصنف ایک اور جگہ لکھتے ہیں کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے زمانے میں قرآن حکیم کا جو نسخہ تیار ہوا تھا ، اس کو نقطوں اور اعراب کے بغیر لکھنے کی حکمت یہ تھی کہ تمام منزل قراتوں کا احتمال باقی رہے ۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قرات میں اختلاف کی نوعیت کتنی معمولی تھی کہ اگر عبارت پر نقطے نہ ہوں توتمام قراتوں کے مطابق پڑھنا ممکن ہو جاتا ہے۔ہم نے اختلاگ قرات کی جو مثالیں سطور بالا میں ذکر کی ہیں ان میں سے ایک اختلاف قرات "فَتَبَیَّنُوا" اور " فَتَثَبَّتُوا" ہے۔ اگر اس لفظ سے نقطے اور اعراب مٹا دیئے جائیں تو "مسسوا" کی شکل میں لکھا جائے گا اور اس کو دونوں طریقوں سے پڑھنا ممکن ہوگا۔
جس طرح آبگینہ معمولی سی ٹھوکر کو بھی برداشت نہیں کر سکتا اسی طرح قرآن حکیم کا تقدس اتنے معمولی سے اختلاف کو بھی برداشت نہیں کر سکتا تھااس لیئے اس کو عام عوام کی صوابدید پر نہیں چھوڑا گیا بلکہ تمام قراتیں اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائیں۔حضور اکرم ﷺ نے انہیں صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کو پڑھ کر سنایا اور صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین نے ان کو روایت کیا۔مختلف لہجے ابتداء میں لوگوں کی سہولت کے لیئے جائز قرار دیئے گئے لیکن قرآن حکیم کا نزول مکمل ہونے کے بعد اس جواز کو ختم کر دیا گیا۔
جب تک اسلامی قلمرو کی حدود عرب تک محدود تھیں اس وقت تک تو مختلف لہجوں مین قرآن حکیم کی تلاوت سے کوئی فرق نہ پڑتا تھاکیونکہ عرب جانتے تھے کہ لہجوں کے اس اختلاف سے معنی میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔حضرت جبرائیل علیہ السلام کے ساتھ حضور اکرم ﷺ کے قرآن کے آخری دور میں اسے لغت واحد پر جمع کر دیا گیا۔ لیکن جب دور عثمان غنی رضی اللہ عنہ میں کچھ لوگوں کو منسوخ لہجوں کے مطابق قرآن پڑھتے دیکھا گیا جس سے غیر عرب نو مسلموں میں انتشار کے بھی آثار نظر آئے ۔ تو حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے ایک جماعت صحابہ کو حکم دیا کہ وہ قرآن کو صرف لغت قریش کے مطابق جمع کریں۔اس جماعت نے لغت قریش کے مطابق کو نسخہ تیار کیا اس کی نقلیں مختلف صوبوں میں بھیجی گئیں اور لغت قریش کے برخلاف سبھی لہجوں میں قرآن کے نسخوں کو تلف کرنے کا حکم دیا۔
وہ اختلافات جو ملت کے انتشار کا باعث بن سکتے تھے انہیں عہد رسالت ہی میں ختم کر دیا گیا۔ لیکن قراتیں جو ملت اسلامیہ کے لیئے رحمت خداوندی کا مظہر تھیں وہ اب بھی موجود ہیں لیکن ان کی موجودگی کے باوجود قرآن حکیم کے نسخوں میں مشرق و مغرب میں ساری ملت اسلامیہ صرف ایک ہی قرات پر جمع ہے۔ دوسری قراتیں کتب احادیث و تفاسیر میں تواتر کے ساتھ نقل ہوتی چلی آ رہی ہیں اور ان سے علماء مسائل کا بھی استنباط کرتے ہیں ۔ یہ بھی قرآن حکیم کی صداقت کی دلیل ہے کہ سات قراتوں میں سے جو بھی قرات تلاوت کی جائے قرآن حکیم کی شان اعجاز اسی طرح باقی رہتی ہے۔
جو لوگ عربی زبان سے واقفیت رکھتے ہیں وہ بخوبی جانتے ہیں کہ عربی الفاظ میں اعراب نہیں لگائے جاتے اس لیئے کئی الفاظ کو مختلف طریقے سے پڑھنے کا احتمال رہتا ہے۔ قرآن حکیم بھی ابتداء میں اعراب بلکہ نقطوں کے بھی بغیر لکھا جاتا تھا۔ اگر قرآن صرف ایک ہی قرات پر نازل ہوتا تواس قسم کے مقامات جہاں الفاظ کو مختلف طریقوں سے پڑھنے کا احتمال ہوتا، منزل طریقے کے علاوہ کسی اور طریقے پر پڑھنے میں تحریف لازم آتی۔ لیکن اللہ عزوجل نے اپنے حبیب ﷺ کی امت کو اس مشقت سے بچا لیا۔ اس لیئے وہ ان سات منزل قراتوں میں سے جو بھی قرات پڑھتے اس میں تبدیلی و تحریف کا کوئی اندیشہ نہ تھا۔
مستشرقین نے یہ بھی ثابت کرنے کی ناکام کوشش کی ہے کہ مسلمان قرآن حکیم کی روایت بالمعنی کو جائز سمجھتے ہیں۔(الاستشراق والخلفیۃ الفکریہ للصراع الحضاری) اپنے اس مفروضے کو بھی انہوں نے قرات سبعہ سے منسلک کرنے کی ناکام کوشش کی ہے کہ مسلمان قرآن حکیم کے معانی کو اپنے اپنے الفاظ میں بیان کرتے تھے اس لیئے قرات سبعہ وجود میں آئیں۔ وہ یہ بھی ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ روایت بالمعنی کی آزادی کے ماحول میں قرآن حکیم کی تدوین کا عمل مکمل ہوا۔ ان کا مدعا یہ ہے کہ یہ ثابت کیا جائے کہ جب روایت بالمعنی مسلمانوں کے ہاں مسلم ہے تو قرآن کے الفاظ میں تبدیلی لازم ہو جاتی ہے۔ 
لیکن حقیقت اس کے بلکل برعکس ہے۔ مسلمانوں کی کوئی ایک بھی جماعت ایسی نہیں جو روایت بالمعنی کو جائز مانتی ہو۔ تمام مسلمانوں کا ایمان ہے کہ قرآن حکیم کے الفاظ اور معنی دونوں منزل من اللہ ہیں۔اور دونوں تواتر کے ساتھ مروی ہو کر ہم تک پہنچے ہیں۔
اختلاف قرات کا روایت بالمعنی سے کوئی تعلق نہیں ۔ روایت بالمعنی کے جائز ہونے کا مطلب تو یہ ہے کہ قرآن حکیم کے الفاظ کو عام انسانوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جائے۔ روایت بالمعنی کی صورت میں تو قرآن حکیم کی وہی کیفیت ہو جاتی جو اناجیل کی ہے کہ ایک ہی واقعہ کو "متی" نے کسی اور طریق سے بیان کیا ہے اور "مرقس" نے اس سے الٹا راستہ اختیار کیا ہے۔لیکن بفضلہٖ تعالیٰ قرآن حکیم اس صورت حال سے یکسر پاک ہے۔ اگر قرآن کی روایت بالمعنی کی اجازت دی گئی ہوتی تو الفاظ انسانی ہوتے اور ان کی نظیر پیش کرنا انسانوں کے لیئے ناممکن نہ ہوتا۔ قرآن کی نظیر پیش کرنے سے عربوں کا ساڑھے چودہ سو سال سے عاجز رہنا اس بات کی دلیل ہے کہ قرآن کے الفاظ، معنی اور عبارات سب الہامی ہیں اور کسی انسان کے لیئے یہ ممکن ہی نہیں کہ وہ ان کی نظیر پیش کر سکے۔مستشرقین اور دیگر دشمنان اسلام کا یہ اعتراض بھی ان کے دیگر اعتراضات کی طرح ایک بے بنیاد اور لایعنی وسوسے کے سوا پرکاہ جتنی حثیت بھی نہیں رکھتا۔

یہودی عالِم کا قبول اسلام

2017-07-05 10:23:45 

یہود کا کتمان حق
حضرت عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ یہودیوں کے بہت بڑے عالم اور تورات کے حافظ تھے ۔آپ حضرت سیدنا یوسف علیہ السلام کی اولاد میں سے تھے ۔اسلام سے قبل ان کا نام حصین ابن سلام تھا ۔ قبول اسلام کے بعد حضور اکرم ﷺ نے ان کا نام عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ رکھا۔قرآن عظیم میں ان کی شان یوں بیان ہوئی ہے :۔
"اور بنی اسرائیل میں سے کوئی گواہ اس جیسی کتاب پر گواہی دے کر ایمان لائےاور تم تکبر ہی میں رہو۔" (سورۃ الاحقاف آیہ 10)
حضرت عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ بنی قینقاع کے یہود میں سے تھے ۔ جس دن رسول اکرم ﷺ ہجرت فرما کر مدینہ میں حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے مکان میں تشریف لائے اسی دن یہ آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ خود حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے ہی روایت ہے کہ جب حضور اکرم ﷺ مدینہ تشریف لائے تو لوگ جوق در جوق آپ ﷺ کی زیارت کے لیئے آپ کے پاس آنے لگے ۔چنانچہ میں بھی انہی لوگوں میں شامل تھا ۔جونہی میں نے آنحضرت ﷺ کے چہرہ مبارک پر پہلی نظر ڈالی میرے دل نے گواہی دی کہ یہ چہرہ اقدس کسی جھوٹے کا نہیں ہو سکتا !
اس کے بعد میں نے آپ ﷺ کو یہ فرماتے سنا:۔ "لوگو! سلام کو زیادہ سے زیادہ عام کرو۔رشتہ داروں کے حقوق ادا کرو ۔ لوگوں کو کھانا کھلاؤ یعنی اپنا دسترخوان وسیع رکھو ۔اور راتوں کو اس وقت اللہ کا نام لو اور عبادت کرو جب لوگ سو رہے ہوں اور ان اعمال کے نتیجہ میں سلامتی کے ساتھ جنت کے حقدار بن جاؤ۔"
حضرت عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے جیسے ہی حضور اکرم ﷺ کا یہ فرمان سنا فوراََ پکار اٹھے "میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ ﷺ سچے ہیں اور سچائی لے کر آئے ہیں۔"
وہ کہتے ہیں کہ پھر میں اپنے گھر واپس آیا اور اپنے گھر والوں کو بھی اسلام قبول کرنے کی دعوت دی چنانچہ وہ بھی مسلمان ہو گئے ۔مگر میں نے اپنا اور اپنے گھر والوں کا اسلام ابھی ظاہر نہیں کیا۔اس کے بعد میں حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے مکان میں آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی کہ :۔ اے رسول اللہ ﷺ آپ کو معلوم ہے کہ میں سردار ابن سردار ہوں اور خود بھی ان کے مذہب کا سب سے بڑا عالِم ہوں اور سب سے بڑے عالِم کا بیٹا ہوں۔میں چاہتا ہوں کہ میں یہاں ایک طرف پوشیدہ ہو کر بیٹھوں اور یہودی آپ ﷺ کے پاس آئیں، آپ انہیں اسلام کی دعوت دیجئے اس سے قبل کہ انہیں میرے قبول اسلام کا علم ہو میرے بارے میں ان کی رائے پوچھیئے ۔ کیونکہ یہود ایک ایسی قوم ہیں کہ ان کے دل میں کچھ اور ہوتا ہے اور زبان پر کچھ اور۔یہ لوگ پرلے درجے کے جھوٹے اور مکار ہیں اگر انہیں میرے قبول اسلام کا پہلے علم ہو گیا تو یہ مجھ میں ایسے ایسے عیب نکالیں گے جو مجھ میں ہیں ہی نہیں۔لہذا ان کی رائے معلوم کرنے کے بعد ان سے عہد لے لیجئے کہ اگر میں آپ کی پیروی کر لوں اور آپ ﷺ پر نازل کردہ کتاب پر ایمان لے آؤں تو کیا یہ لوگ بھی آپﷺ اور آپ پر نازل کردہ کتاب پر ایمان لے آئیں گے ۔
چنانچہ حضور اکرم ﷺ نے یہود کو بلایا جب وہ آپ ﷺ کے پاس آ گئے تو آپ ﷺ نے فرمایا:۔
اے گروہ یہود! تم پر افسوس ہے اللہ سے ڈرو قسم ہے اس ذات کی جس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں تم جانتے ہو کہ میں حقیقت میں اللہ کا رسول ہوں اور میں تمہارے پاس حق اور سچائی لے کر آیا ہوں ۔ اس لیئے اسلام قبول کر لو۔
اس پر یہودیوں نے کہا ہم آپ ﷺ کے بارے میں کچھ نہیں جانتے۔آپﷺ نے یہی بات تین مرتبہ ان سے کہی اور ہر بار انہوں نے یہی جواب دیا۔آخر آپ ﷺ نے فرمایا :۔
اچھا یہ بتلاو ابن سلام رضی اللہ عنہ تم میں سے کس قسم کا آدمی ہے ؟
یہودیوں نے کہا
وہ ہمارے سردار ہیں اور سردار کے بیٹے ہیں ۔ ہم میں سب سے بڑے عالِم ہیں اور عالِم کے بیٹے ہیں ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ وہ ہم میں سب سے بہترین آدمی ہیں اور بہترین آدمی کے بیٹے ہیں ۔ اللہ کی کتاب تورات کو سب سے زیادہ جاننے والے ہیں ہمارے سردار ہیں ہمارے بزرگ ہیں اور ہم میں سے سب سے افضل ہیں ۔
آپ ﷺ نے فرمایا
اگر وہ اس بات کی گواہی دے دیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں اور اللہ کی کتاب پر ایمان لے آئیں تو کیا تم بھی ایمان لے آؤ گے ؟
یہودیوں نے کہا ہاں ! چنانچہ آپﷺ نے نے ابن سلام رضی اللہ عنہ کو آواز دی کہ باہر آ جاؤ۔جب وہ باہر آ گئے تو آپ ﷺ نے پوچھا اے ابن سلام رضی اللہ عنہ ! کیا تم اس بات کو نہیں جانتے کہ میں اللہ کا رسول ہوں ۔ میرے متعلق تم نے تورات میں خبریں پڑھی ہوں گی جہاں اللہ تعالیٰ نے تم یہودیوں سے عہد لیا ہے کہ تم میں سے جو بھی میرا زمانہ پائے میری پیروی کرے۔
ابن سلام رضی اللہ عنہ نے کہا:۔ ہاں اے گروہ یہود تم پر افسوس ہے اللہ سے ڈرو ۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں تم بخوبی اس بات کو جانتے ہو کہ یہ اللہ کے رسول ہیں اور حق اور سچ لے کر آئے ہیں ۔ بعض روایات میں ان الفاظ کا اضافہ ہے کہ تم تورات میں آنحضرت ﷺ کا نام اور حلیہ بھی لکھا ہوا پاتے ہو۔
یہودی یہ بات سن کر بگڑ گئے اور اپنی بات سے پھر کر انہوں نے ابن سلام رضی اللہ عنہ سے کہا
"تو جھوٹ بولتا ہے تو ہم میں سے خود بھی بدترین ہے اور بدترین کا بیٹا ہے"
اس روایت میں یہودیوں نے "انت اشرنا و ابن اشرنا" کے الفاظ استعمال کیئے جو تیسرے درجے کے بازاری اور عامیانہ الفاظ ہیں 
غرض یہ سن کر ابن سلام رضی اللہ عنہ نے کہا :۔ یا رسول اللہ ﷺ! میں اسی بات سے ڈرتا تھا میں نے آپ ﷺ سے عرض کیا تھا کہ یہ لوگ بڑے جھوٹے ، دغا بازاور کمینہ خصلت ہیں۔
اس کے بعد آپ ﷺ نے یہودیوں کو واپس کر دیا اور عبد اللہ ابن سلام رضی اللہ عنہ نے اپنے قبول اسلام کا اعلان کر دیا۔ اور اس کے بعد اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی 
"اور بنی اسرائیل میں سے کوئی گواہ اس جیسی کتاب پر گواہی دے کر ایمان لائےاور تم تکبر ہی میں رہو۔" (سورۃ الاحقاف آیہ 10)

نعمتوں کی شکرگزاری

2017-07-02 14:42:15 

اللہ پاک کی
نعمتوں کی شکر گزاری کیوں اور کیسے؟

اللہ تعالی نے نعمتوں کی بقا و دوام اور زیادتی کے لیے صرف ایک شرط رکھی ہے، جی ہاں! صرف ایک شرط، اور وہ یہ ہے کہ ان نعمتوں کو پاکر اس منعم حقیقی کی احسان شناسی اور شکرگذاری کریں

اللہ تعالی نے نعمتوں کی بقا و دوام اور زیادتی کے لیے صرف ایک شرط رکھی ہے، جی ہاں! صرف ایک شرط، اور وہ یہ ہے کہ ان نعمتوں کو پاکر اس منعم حقیقی کی احسان شناسی اور شکرگذاری کریں

جب ایک شخص آپ پرکوئی معمولی احسان کرتا ہے تو بے ساختہ آپ کے زیرلب ‘‘شکریہ، تھینک یو، جزا ک اللہ خیرا جیسے الفاظ آجاتے ہیں اور اگر اسی نے کسی تنگی سے نکال دیا اورنازک وقت میں کام آیا توھم اس کے احسان شناس بن جاتے ہیں اور اس کے احسان کا اعتراف کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ‘‘نہ جانے کن الفاظ میں آپ کا شکرادا کروں’’ ،‘‘آپ کی شکرگزاری کےلیے ہمارے پاس الفاظ نہیں’’ ، اب ہمیں سوچنا چاہیے کہ یہ معاملہ ایک معمولی انسان کے ساتھ ہوتا ہے اورایسے انسان کے ساتھ جس سے کبھی کبھار ایسا سابقہ پڑتا ہے، تو پھرمالک ارض وسما اوررب العالمین کے ساتھ ہمارا معاملہ کیسا ہونا چاہئے جس کا ارشاد ہے:

وآتاكم من كل ما سألتموه وان تعدوا نعمة الله لا تحصوها (سوره ابراهيم 34)

‘‘اسی نےتمہیں تمہاری منہ مانگی کل چیزوں میں سے دے رکھا ہے، اگرتم اللہ تعالی کے احسان گننا چاہوتو انہیں گن نہیں سکتے’’ –

اس منعم حقیقی کا فرمان ہے: وَأَسْبَغَ عَلَيْكُمْ نِعَمَهُ ظَاهِرَةً وَبَاطِنَةً (سورہ لقمان 20)

‘‘اور تمہیں اللہ تعالی نے اپنی ظاہری وباطنی نعمتیں بھرپور دے رکھی ہیں’’۔

جی ہاں !بندے پراللہ تعالی کی بے شمار، انگنت اور لامتناہی نعمتیں ہیں، قطرہ آب سے پیدا ہونے والا انسان کبھی کچھ نہیں تھا، اللہ تعالی نے اسے نو مہینہ تک رحم مادرمیں رکھا، کرہ ارض پر وجود بخشا، اور بے شمارظاہری وباطنی نعمتوں سے نوازا

وَاللَّـهُ أَخْرَجَكُم مِّن بُطُونِ أُمَّهَاتِكُمْ لَا تَعْلَمُونَ شَيْئًا وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالْأَبْصَارَ وَالْأَفْئِدَةَ ۙ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ (سورہ النحل آیت نمبر78

‘‘اللہ نے تم کو تمہاری ماؤں کے پیٹوں سے نکالا اس حالت میں کہ تم کچھ نہ جانتے تھے، اُس نے تمہیں کان دیے، آنکھیں دیں، اور سوچنے والے دل دیے، اس لیے کہ تم شکر گزار بنو’’ ۔

اس منعم حقیقی نے دیکھنے کے لیے دو آنکھیں دیں، سننے کے لیے دوکان دیا، چلنے کے لیے دو پیر دیا، پکڑنے کے لیے دو ہاتھ دیا، سونگھنے کے لیے ناک دیا، بولنے کے لیے زبان دیا اور سمجھنے اور رطب و یابس میں تمیز کرنے کے لیے عقل و دماغ دیا اور پھر مال و دولت، لباس و پوشاک، گھر و مکان، آب و دانہ ، صحت و عافیت، آل و اولاد اور خوشحال و سعادتمند زندگی عطا کی، ان نعمتوں کی قدر وہی جان سکتا ہے جو ان نعمتوں سے محروم ہو، مال ودولت کی اہمیت جاننا ہوتو فقیروں سے پوچھیے، گھر ومکان کی قیمت جاننا ہو تو بے گھروں اور وقتی خیموں میں پناہ لینے والوں سے پوچھیے، آب و دانہ کی اہمیت جاننا ہوتو فاقہ کشوں سے پوچھیے، آل و اولاد کی نعمت جاننا ہو تو آل اولاد سے محروم کو دیکھیے، صحت و عافیت کی اہمیت جاننا ہو تو بیماروں کی زندگی میں جھانک کر دیکھیے، خوشحال زندگی کی اہمیت جاننا ہو تو بدحالی کی زندگی گذارنے والوں کو دیکھیے، تعجب تو اس بات پر ہے کہ مصائب و شدائد میں بھی اللہ تعالی کی نعمتیں انسان سے جدا نہیں ہوتیں، چنانچہ اگر انسان نے مصیبت میں صبر و شکیبائی کے دامن کو تھامے رکھا تو اس کے گناہ مٹا دئیے جاتے ہیں، اس کے اجر وثواب میں اضافہ کردیا جاتا ہے، اور اس سے بری بری بلائیں دور کردی جاتی ہیں، لیکن ان بنیادی نعمتوں سے اعلی و ارفع اور عظیم نعمت جو اللہ تعالی نے ہمیں عطا کی ہے وہ ایمان کی نعمت ہے، جس سے شرفیاب وہی ہوتا ہے جو اللہ کی نظر میں محبوب ہو، اس نعمت کے سامنے دنیا کی ساری نعمتیں ہیچ ہیں، کیونکہ اس کے بغیر انسانی زندگی تن مردہ بن جاتی ہے، غرضیکہ حضرت انسان سرتاپا اللہ تعالی کے احسانات اور نعمتوں میں ڈوبا ہوا ہے، جی ہاں! یہ نعمتیں انگنت، لاتعداد اور حیطہ تحریر سے باہر ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ہم ان کی حفاظت کیسے کریں؟ انہیں ہم اپنے قابو میں کیسے کریں؟ اللہ تعالی نے ان بے بہا نعمتوں کی بقا و دوام اور زیادتی کے لیے صرف ایک شرط رکھی ہے، جی ہاں! صرف ایک شرط، اور وہ یہ ہے کہ ان نعمتوں کو پاکر اس منعم حقیقی کی احسان شناسی اور شکرگذاری کریں، اللہ تعالی کا فرمان ہے

فَاذْكُرُونِي أَذْكُرْكُمْ وَاشْكُرُوا لِي وَلَا تَكْفُرُونِ (سورۃ البقرہ ۱۵۲

لہٰذا تم مجھے یاد رکھو، میں تمہیں یاد رکھوں گا اور میرا شکر ادا کرو، کفران نعمت نہ کرو ۔

اس کا مطلب یہ نہیں کہ اللہ تعالی ہمارے شکر کا محتاج ہے، وہ ذات بے ہمتا تو اس قدر بے نیاز ہے کہ اگر سب لوگ اس کے نافرمان ہوجائیں تو اس سے اس کی سلطنت میں کوئی کمی واقع نہ ہوگی، اور اگر سب اس کے اطاعت گذار بن جائیں تو اس سے اس کی قوت میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا،اللہ تعالی نے فرمایا:

يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَنتُمُ الْفُقَرَاءُ إِلَى اللَّـهِ ۖ وَاللَّـهُ هُوَ الْغَنِيُّ الْحَمِيدُ ( سورہ الفاطر ۱۵

‘‘لوگو! تم ہی اللہ کے محتاج ہو اور اللہ تو غنی و حمید ہے’’۔

لہذا اگر کوئی شکرگزاری کرتا ہے تو اس کا پورا فائدہ شکرگذار ہی کو ملنے والا ہے، اللہ تعالی کا فرمان ہے

وَمَن شَكَرَ فَإِنَّمَا يَشْكُرُ لِنَفْسِهِ ۖ وَمَن كَفَرَ فَإِنَّ رَبِّي غَنِيٌّ كَرِيمٌ (سورہ النمل 40

‘‘اور جو کوئی شکر کرتا ہے اس کا شکر اس کے اپنے ہی لیے مفید ہے، ورنہ کوئی ناشکری کرے تو میرا رب بے نیاز اور اپنی ذات میں آپ بزرگ ہے’’۔

تاہم اللہ تعالی اپنے بندے کی اطاعت اور شکرگزاری دیکھنا چاہتا ہے، اسی لیے اللہ تعالی نے ہمیں شکرگزاری کا حکم دیا، شاکرین کی تعریف کی، اور اپنے خاص بندوں کو اس صفت سے متصف کیا، چنانچہ اللہ تعالی نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بارے میں فرمایا:

إِنَّ إِبْرَاهِيمَ كَانَ أُمَّةً قَانِتًا لِّلَّـهِ حَنِيفًا وَلَمْ يَكُ مِنَ الْمُشْرِكِينَ ، شَاكِرًا لِّأَنْعُمِهِ ۚ اجْتَبَاهُ وَهَدَاهُ إِلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ (سورہ النمل 120-121)

‘‘واقعہ یہ ہے کہ ابراہیمؑ اپنی ذات سے ایک پوری امت تھا، اللہ کا مطیع فرمان اور یک سو وہ کبھی مشرک نہ تھا،اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے والا تھا اللہ نے اس کو منتخب کر لیا اور سیدھا راستہ دکھایا’’۔

اور حضرت نوح علیہ السلام کی بابت فرمایا

ذُرِّيَّةَ مَنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوحٍ ۚ إِنَّهُ كَانَ عَبْدًا شَكُورًا (سورۃ الاسرا ۳

‘‘ تم ان لوگوں کی اولاد ہو جنہیں ہم نے نوحؑ کے ساتھ کشتی پر سوار کیا تھا، اور نوحؑ ایک شکر گزار بندہ تھا’’۔

اور پھر اللہ تعالی نے اپنا نام بھی شاکر اور شکور رکھا ہے جس سے شکرگزاری کی اہمیت مزید دوبالا ہوتی ہے، شکر کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ اللہ تعالی نے قرآن کریم کے اندر شکر کا ذکر متعدد معانی میں تقریبا 75 مقامات پر کیا ہے۔

مومن نعمتوں میں شکر گذار ہوتا ہے
ایک مومن نعمتوں کو پاکر اللہ تعالی کا شکر ادا کرتا ہے، اور ان نعمتوں کو اللہ تعالی کی اطاعت و فرمانبرداری میں صرف کرتا ہے، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ بروز قیامت اس سے ان نعمتوں کے بارے میں پوچھا جانے والاہے، فرمان الہی ہے

ثُمَّ لَتُسْأَلُنَّ يَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِيمِ سورۃ التکاثر 8

پھر ضرور اُس روز تم سے اِن نعمتوں کے بارے میں جواب طلبی کی جائے گی۔

چنانچہ اللہ تعالی اس کی شکرگزاری کی بنیاد پراس کی نعمتوں میں مزید اضافہ اور زیادتی کرتا ہے ،جب کہ کافر نعمتوں کو پاکر ظلم وعدوان کا شکار ہوجاتا ہے ، نافرمانی اس کی عادت ثانیہ بن جاتی ہے، حالانکہ یہ نعمتیں حقیقت میں اس کے حق میں وبال جان ہوتی ہیں۔

شکرگذاری کے درجات
نعمتوں کی شکرگذاری کے چند درجات ہیں: شکر کا پہلا درجہ یہ ہے کہ انسان رب کریم کی ان نعمتوں کا شکر بجالائےجن سے وہ شبانہ روز مستفید ہورہا ہے۔

شکرگذاری کا دوسرا درجہ یہ ہے کہ انسان مصائب وآلام اور شدائد سے نجات پانے کے بعد اللہ تعالی کا شکر بجا لائے جن سے وہ بذات خود دوچار رہا ہے، یا اس کا کوئی بھائی، لیکن اللہ تعالی نے اسے اپنے فضل وکرم سے نجات بخشی۔

شکرگذاری کا تیسرا درجہ یہ ہے کہ انسان مصائب و آلام میں گھرے رہنے کے باوجود اللہ تعالی کو یاد کرے، اور اس بات پر اللہ تعالی کا شکر ادا کرے کہ اس ذات پاک نے ہمیں بہیترے لوگوں سے اچھا رکھا ہے، اور مصائب پر صبر وشکیبائی اختیار کرنا شکر ہی تو ہے، اسی لیے ایک حدیث میں آتا ہے، صحیح مسلم کی روایت ہے، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

عجبا لأمر المؤمن إن أمره كله خير ، وليس ذاك لأحد إلا للمؤمن ؛ إن أصابته سرّاء شكر ؛ فكان خيراً له ، وإن أصابته ضرّاء صبر ؛ فكان خيراً له . رواه مسلم

‘‘مومن کا معاملہ بھی کیا خوب ہے، اس کے ہر کام میں اس کے لیے بھلائی ہے، اگر اسے خوشحالی نصیب ہو تو اس پر اللہ تعالی کا شکر ادا کرتا ہے، تو یہ شکر کرنا بھی اس کے لیے بہتر ہے، اور اگر اسے تکلیف پہنچے تو صبر کرتا ہے اور یہ صبر کرنا بھی اس کے لیے بہتر ہے۔ یعنی صبر بھی بجائے خود نیک عمل اور باعث اجر و ثواب ہے’’۔

شکرگذاری کیسے کی جائے؟
نعمتوں کا اعتراف کریں

ایک اثر میں حضرت داود علیہ السلام کا قول نقل کیا گیا ہے: ” اے رب میں تیرا شکر کس طرح کروں، جبکہ شکر بجائے خود تیری طرف سے مجھ پر ایک نعمت ہے، اللہ تعالی نے فرمایا: اے داود اب تونے میرا شکر ادا کردیا، جبکہ تونے اعتراف کرلیا کہ اے اللہ میں تیری نعمتوں کا شکر ادا کرنے سے قاصر ہوں” ۔

لہذا سب سے پہلے نعمت کی اہمیت و عظمت کو اپنے دل میں بٹھائیں اور یہ بات ذہن نشیں کرلیں کہ اللہ تعالی کے علاوہ کوئی ذات نہیں جو نعمتیں عنایت کرنے کی طاقت رکھتی ہو۔

اللہ تعالی کی حمد و ثنا بیان کریں

نعمتوں کی شکر گذاری میں یہ شامل ہے کہ ایک بندہ زبان سے اللہ تعالی کی حمد و ثنا بیان کرے، صحیح مسلم کی روایت کے مطابق اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے

إن اللهَ ليرضى عن العبدِ أن يأكلَ الأكلةَ فيحمدَه عليها . أو يشربَ الشربةَ فيحمدَه عليها (صحیح مسلم 2734

‘‘بیشک اللہ تعالی ایسے بندے سے خوش ہوتا ہے جو ایک لقمہ کھائے تو اللہ تعالی کی حمد و ثنا بیان کرے اور ایک گھونٹ پانی پئے تو اللہ کی حمد و ثنا بیان کرے’’۔

انگنت نعمتوں کا ذکر کرتے رہیں

نعمتوں کی شکرگذاری میں یہ بات داخل ہے کہ بندہ مومن اپنے اوپر اللہ تعالی کی انگنت نعمتوں کا ذکر کرتا رہے اور اس کی کرم نوازی کا عاجزانہ اظہار کرے، اللہ تعالی نے انسانوں کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا:

یا أَيُّهَا النَّاسُ اذْكُرُوا نِعْمَتَ اللَّـهِ عَلَيْكُمْ ۚ هَلْ مِنْ خَالِقٍ غَيْرُ اللَّـهِ يَرْزُقُكُم مِّنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ ۚ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ ۖ فَأَنَّىٰ تُؤْفَكُونَ سورۃ الفاطر ۳

‘‘لوگو! تم پر اللہ کے جو احسانات ہیں انہیں یاد رکھو کیا اللہ کے سوا کوئی اور خالق بھی ہے جو تمہیں آسمان اور زمین سے رزق دیتا ہو؟ کوئی معبود اُس کے سوا نہیں، آخر تم کہاں سے دھوکا کھا رہے ہو؟ ’’

اور حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر فرمایا:

من لم يشكرِ القليلَ لم يشكرِ الكثيرَ ، و من لم يشكرِ الناسَ ، لم يشكرِ اللهَ ، و التحدُّثُ بنعمةِ اللهِ شكرٌ ، وتركُها كفرٌ ۔۔۔ (صحيح الترغيب ( 976

‘‘جو شخص تھوڑے پر اللہ کا شکر ادا نہیں کرسکتا وہ زیادتی پر بھی شکرگذار نہیں بن سکتا، جس شخص نے لوگوں کا شکر ادا نہیں کیا تو اللہ تعالی کا بھی شکر ادا نہیں کرسکتا اور اللہ تعالی کی نعمتوں کو بیان کرنا اس کی شکر گذاری ہے، اور اللہ تعالی کی نعمتوں کو بیان نہ کرنا کفران نعمت ہے’’۔

پتہ یہ چلا کہ اللہ تعالی کے انعامات کا تذکرہ اور ان کا اظہار اللہ تعالی کو بہت پسند ہے، لیکن تکبر اور فخر کے طور پر نہیں بلکہ اللہ تعالی کے فضل وکرم اور اس کے احسان سے زیربار ہوتے ہوئے اور اس کی قدرت و طاقت سے ڈرتے ہوئے کہ کہیں وہ ہمیں اپنی نعمتوں سے محروم نہ کردے۔

نعمتوں کا اثرجسم پرظاہرہونا چاہئے

نعمتوں کا ذکرکرنے کے ساتھ ساتھ اس کا اثربھی جسم پرظاہرہونا چاہئےکیوں کہ اللہ تعالی کو یہ بات پسند ہے کہ بندے کے جسم پراپنی نعمتوں کا اثردیکھے، مسند احمد کی روایت ہے کہ ایک صحابی حضورپاک صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضرہوئے اس وقت ان کے جسم پر نہایت ہی گھٹیا اور معمولی لباس تھا ،آپ نے پوچھا کیا تمہارے پاس مال ودولت ہے ،اس نے کہا جی ہاں، دریافت فرمایا :کس طرح کامال ہے ؟ اس نے کہا اللہ نے مجھے ہرقسم کامال دے رکھا ہے ،اونٹ بھی ہیں ،گائے بھی ہیں، بکریاں بھی ہیں، گھوڑے بھی ہیں، اورغلام بھی ہیں، آپ نے فرمایا : اذا آتاک اللہ مالا فلیرعلیک جب اللہ تعالی نے تجھے مال دے رکھا ہے تواس کا اثرتمہارے جسم پرظاہرہونا چاہئے

نعمتوں کا استعمال اللہ کے مکروہات میں نہ کریں

نعمتوں کی شکرگزاری یہ بات داخل ہے کہ ہم ان نعمتوں کا استعمال اللہ تعالی کے مکروہات میں نہ کریں، اللہ تعالی کے تابع وفرمابرداربن جائیں، اس کی رضامندی کاکام کریں اگریہ نعمت مال کی شکل میں ہے تو اس میں سے فقراء ومساکین کا حق اداکریں، رشتے داروں اورقرابتداروں کی مالی اعانت کریں، یتیموں اور بیواؤں کے ساتھ مواسات وغمخواری کریں

اعتدال اور توازن:

نعمتوں کی شکرگزاری میں یہ بات بھی شامل ہے کہ ہم نعمتوں کے استعمال میں اعتدال اور توازن کو مدنظر رکھیں، بطورمثال بجلی اور پانی کو لیجئے جوبندوں پر اللہ تعالی کے احسانات میں سے ایک عظیم احسان ہے،یہ ایسی نعمت ہے جس سے کوئی مخلوق بے نیازنہیں ہوسکتی اللہ تعالی کا ارشاد ہے: وجعلنا من الماء کل شئ حی ‘‘ہم نے پانی سے ہرجاندارچیزکو زندگی بخشا۔

اور سورہ واقعہ میں اللہ تعالی ہمیں اس نعمت کا یوں احساس دلاتا ہے

أَفَرَأَيْتُمُ الْمَاءَ الَّذِي تَشْرَبُونَ أَأَنتُمْ أَنزَلْتُمُوهُ مِنَ الْمُزْنِ أَمْ نَحْنُ الْمُنزِلُونَ لَوْ نَشَاءُ جَعَلْنَاهُ أُجَاجًا فَلَوْلَا تَشْكُرُونَ

کیا تم اس پانی کی طرف نہیں دیکھتے جسے تم پیتے ہو، اِسے تم نے بادل سے برسایا ہے یا اِس کے برسانے والے ہم ہیں، ہم چاہیں تو اسے سخت کھاری بنا کر رکھ دیں، پھر کیوں تم شکر گزار نہیں ہوتے۔

شکر گذاری کے فوائد و ثمرات
ایک انسان جب نعمتیں پاکر اللہ تعالی کا شکر بجا لاتا ہے تو ایسا نہیں کہ اس نے عقل وفطرت کے تقاضے پر عمل کیا اور بس بلکہ اسے شکرگزاری کے بے شمار نمبرات اورفوائد بھی حاصل ہوتے ہیں ۔

رضائے الہی اور بے پناہ اجر وثواب

شکرگزاری کاپہلافائدہ یہ ہے کہ اللہ تعالی اس سے راضی ہوتاہے اور بے پناہ اجروثواب سے نوازتاہے، فرمان الہی ہے:

نِّعْمَةً مِّنْ عِندِنَا ۚ كَذَٰلِكَ نَجْزِي مَن شَكَرَ 
(سورہ القمر35)

اُن کو ہم نے اپنے فضل سے رات کے پچھلے پہر بچا کر نکال دیا یہ جزا دیتے ہیں ہم ہر اُس شخص کو جو شکر گزار ہوتا ہے۔

اور اللہ تعالی نے فرمایا

وَمَا كَانَ لِنَفْسٍ أَن تَمُوتَ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّـهِ كِتَابًا مُّؤَجَّلًا ۗ وَمَن يُرِدْ ثَوَابَ الدُّنْيَا نُؤْتِهِ مِنْهَا وَمَن يُرِدْ ثَوَابَ الْآخِرَةِ نُؤْتِهِ مِنْهَا ۚ وَسَنَجْزِي الشَّاكِرِينَ (سورہ آل عمران145)

‘‘کوئی ذی روح اللہ کے اذن کے بغیر نہیں مرسکتا موت کا وقت تو لکھا ہوا ہے جو شخص ثواب دنیا کے ارادہ سے کام کرے گا اس کو ہم دنیا ہی میں سے دیں گے، اور جو ثواب آخرت کے ارادہ سے کام کرے گا وہ آخرت کا ثواب پائے گا اور شکر کرنے والوں کو ہم اُن کی جزا ضرور عطا کریں گے۔’’

ان آیات سے پتہ یہ چلا کہ اللہ تعالی نے شکرگزاربندوں کے لیے بے پناہ اجروثواب کا وعدہ کیا ہے، اوراللہ تعالی اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔

نعمتوں میں اضافہ

شکرگزاری کا دوسرا فائدہ یہ ہے کہ انسان مزید اللہ تعالی کی نعمتوں سے مالامال ہوتا ہے، اوراس پرنعمتوں کی بارش ہوتی ہے، ارشاد باری تعالی ہے:

وَإِذْ تَأَذَّنَ رَبُّكُمْ لَئِن شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ ۖ وَلَئِن كَفَرْتُمْ إِنَّ عَذَابِي لَشَدِيدٌ 
(سورہ ابراہیم ۷)

‘‘اور یاد رکھو، تمہارے رب نے خبردار کر دیا تھا کہ اگر شکر گزار بنو گے تو میں تم کو اور زیادہ نوازوں گا اور اگر کفران نعمت کرو گے تو میری سزا بہت سخت ہے۔’’

اس آیت کریمہ میں اللہ تعالی نے شکرکی بنیاد پرنعمتوں میں اضافہ کا وعدہ کیا ہے، اوراس زیادتی کی کوئی تحدید بھی نہیں کی ہے، امام بخاری رحمہ اللہ تاریخ میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں کہ حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

جس شخص کو پانچ چیزوں کی توفیق مل گئی، وہ پانچ چیزوں سے محروم نہیں رہ سکتا ،ان میں سے ایک یہ ہے کہ جسے شکرکی توفیق مل گئی وہ (نعمتوں میں ) زیادتی سے محروم نہیں رہ سکتا ،

اسی لیے فضیل بن عیاضی رحمہ اللہ علیہ فرماتے ہیں

من عرف نعمۃ اللہ بقلبہ وحمدہ بلسانہ لم یستتم ذلک حتی یری الزیادۃ

‘‘جس نے اللہ تعالی کی نعمت کو اپنے دل سے پہچانا اور اپنی زبان سے اس کی حمد وثنا بیان کی، تووہ ضروراپنی نعمتوں میں زیادتی دیکھے گا’’ ۔

عذاب سے حفاظت

شکرگزاری کا تیسرا فائدہ یہ ہے کہ اللہ تعالی مخلوق سے عذاب کو روک لیتا ہے، اللہ تعالی کا فرمان ہے

مَّا يَفْعَلُ اللَّـهُ بِعَذَابِكُمْ إِن شَكَرْتُمْ وَآمَنتُمْ ۚ وَكَانَ اللَّـهُ شَاكِرًا عَلِيمًا (سورہ النساآیت نمبر147)

‘‘ آخر اللہ کو کیا پڑی ہے کہ تمہیں خواہ مخواہ سزا دے اگر تم شکر گزار بندے بنے رہو اور ایمان کی روش پر چلو اللہ بڑا قدر دان ہے اور سب کے حال سے واقف ہے’’،

تاریخ شاہد ہے کہ اگراللہ تعالی نے کسی قوم پرعذاب بھیجا ہے تو یہ دراصل اس کی ناشکری کا نتیجہ رہاہے،لیکن جس قوم نے اللہ تعالی کی شکرگزاری کی ہے،اس کی مرضیات کے مطابق زندگی گذارا ہے اور شریعت اسلامیہ کی پاسداری کی ہے تو وہ دنیا وآخرت دونوں میں امن وامان اور سعادتمند زندگی سے ہمکنار ہوئی ہے ۔

رب کریم کے بے پایاں الطاف عنایات کا کیاکہنا کہ اسی ذات نے انسان پر ہرطرح کی نعمت نچھاور کی اور صرف بندے کی شکرگزاری کے نتیجے میں مزید دینے کاوعدہ کیا لیکن آہ انسان کس قدر ناشکرا واقع ہواہے کہ جس مالک کی روٹی کھا رہا ہے،اسی کی نمک حرامی پر تلا ہوا ہے، جس ذات کی نعمتوں میں پل رہا ہے اسی کے خلاف قدم اٹھا رہا ہے، حالانکہ اگر انسان کو اللہ تعالی کی معمولی ایک نعمت کا صحیح اندازہ ہو جائے تو کبھی ناشکری کی جرات بھی نہ کر سکے، ایک مرتبہ ابن سماک خلیفہ ہارون رشید کے پاس آئے اور انہیں نصیحت کی، نصیحت سن کر ہارون رشید آب دیدہ ہو گئے، اس کے بعد خلیفہ نے پینے کے لیے پانی منگوایا،ابن سما ک نے کہا: امیرالمومنین! اگر آپ پیاس سے بے تاب ہوں اور ایک گلاس پانی پینے کے لیےدنیا اور اس کے اندر کی ساری چیزیں چکانا پڑے تو کیا آپ اس کے لیے تیار ہوجائیں گے؟ ہارون رشید نے کہا : جی ہاں ! ابن سماک نے کہا :ا
للہ برکت دے پی لیجئے

جب پانی پی چکے تو ابن سماک نے کہا: امیرالمومنین! ابھی آپ نے جو پانی پیا ہے اگر وہ پیشاب کے راستے میں رک جائے اور اسے نکالنے کے لیے دنیا اور اس کے اندر کی ساری چیزیں چکانا پڑے تو کیا آپ چکا دیں گے؟ ہارون رشید نے کہا: ہاں! بالکل، تب ابن سماک نے کہا: فما تصنع بشیء شربۃ ماء خیر منہ تو آخر اس حکومت کا کیا فائدہ جس سے بہتر ایک گھونٹ پانی ہو۔

رب کریم نے ہمیں بے شمار، انگنت اور لامتناہی نعمتوں سے مالامال کیا ہے جن سے ہم ہر وقت، ہر آن اور ہر لمحہ فائدہ اٹھا رہے ہیں، پلک جھپکنے کے برابر بھی ہم اس کی نعمتوں سے بے نیاز نہیں ہوسکتے، اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم ذات باری تعالی کا شکر ادا کریں، اس کے احکام کی تابعداری کریں اور ان نعمتوں کو خیر کے کام میں صرف کریں۔ اللہ تعالی ہمیں اس کی توفیق دے۔

٭٭٭کائنات کی مقدس ترین ہستی٭٭٭

2017-07-02 12:22:25 
وہ پیشے کے لحاظ سے نجار (لکڑی کے کاریگر) تھے ۔۔۔۔۔۔۔انتہائی شریف النفس اور اپنے کام سے کام رکھنے والے۔۔۔۔۔۔۔۔ صبح سویرے کام پر جاتے، دن بھر کی محنت مزدوری کے بعد شام کو واپس گھر ۔۔۔۔۔یہی ان کا روزانہ کا معمول تھا۔۔۔۔ ان دنوں برصغیر پر انگریزوں کی حکومت تھی ۔ انگریز اپنی حکمرانی کے نشے میں بدمست مسلمانوں پر ہر طرح کے ظلم و ستم ڈھا رہا تھا۔ دوسری طرف ہندو بنیا سیکڑوں برس کی غلامی کا بدلہ چکانے کے لیئے تیار بیٹھا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جب انگریزوں اور ہندوؤں نے مسلما ن کو بے بس سمجھ لیا تو انہوں نے اپنے خبث باطنی کا اظہار شروع کر دیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مسلمانوں ہی کی نہیں بلکہ کائنات کی مقدس ترین ہستی پر زبان درازی کی جرآت کی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہر سمت سے ہر روز نت نئی گستاخی کی خبروں نے عالم اسلام میں ہلچل برپا کر کے رکھ دی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ انہی دنوں ایک ہندو ملعون راجپال نے حضور اکرم ﷺ کی شان اقدس میں گستاخانہ کتاب لکھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جس کے نتیجے میں مسلمانوں میں اشتعال کی فضا پیدا ہو گئی۔۔۔۔ مسلمانوں نے راجپال ملعون کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا، جلسے جلوس ہوتے رہے ۔۔۔۔۔۔۔ مگر حکومت کے کانوں پر جوں تک نہ رینگی۔۔۔۔۔۔انہیں اس سارے طوفان کی کچھ خبر نہ تھی ۔۔۔۔ ایک دن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کام سے واپسی پر راستے میں ایک ہجوم دیکھا۔۔۔۔۔۔۔ قریب گئے اور لوگوں سے دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ راجپال ملعون نے کائنات کی مقدس ترین ہستی کی شان میں گستاخی کی ہے ۔۔۔۔اور یہ اسی سلسلے میں جلسہ نکالا گیا ہے ۔۔۔ جلسے کے شرکاء کی تقاریر نے آپ کے دل پر انتہائی گہرا اثر کیا۔۔۔۔۔۔۔اس دن سے کام سے آپ کا دل اچاٹ ہو گیا۔۔۔۔۔۔۔ اپنے پیارے نبی ﷺ کی شان میں گستاخی کا سن کر آپ کی راتوں کی نیند اڑ گئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس رات انہیں خواب میں ایک بزرگ کی بھی زیارت ہوئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ انہوں نے کہا: تمہارے نبی ﷺ کی شان اقدس میں گستاخی ہو رہی ہے اور تم سوئے ہوئے ہو۔ اٹھو اور جلدی کرو۔۔۔۔۔۔۔ وہ ہڑبڑا کر اٹھے اور سیدھے اپنے ایک دوست کے گھر پہنچے۔۔۔۔اسے بھی ویسا ہی خواب آیا تھا۔۔۔۔۔اور اسے بھی راجپال ملعون کو واصل جہنم کرنے کا حکم ملا تھا۔۔۔۔ دونوں ہی کی خواہش تھی کہ یہ سعادت انہیں حاصل ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کافی دیر بحث چلتی رہی ۔۔۔۔۔۔۔آخر قرعہ اندازی کی گئی تو نتیجہ ان کے حق میں نکلا۔۔۔۔۔۔۔۔چنانچہ و ہ راجپال ملعون کے دفتر گئے ۔۔۔۔۔۔۔۔ وہاں سے اس کے متعلق معلومات حاصل کیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔تو معلوم ہوا کہ وہ ملعون ابھی دفتر نہیں پہنچا۔۔۔۔۔ اتنے میں راجپال ملعون کار پر دفتر پہنچا۔۔۔۔۔۔۔۔یہ معلوم ہونے پر کہ یہی راجپال ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ آپ اس کے دفتر کے اندر داخل ہوئے ۔۔۔۔۔۔۔۔ راجپال ملعون نے آُ پ کو اندر آتے ہوئے دیکھا ۔۔۔۔۔۔۔۔مگر اس ملعون کو یہ خبر نہ تھی کہ آپ کی صورت میں موت اس کے قریب آ چکی ہے۔۔۔۔ آپ نے پلک جھپکتے ہی چھری نکالی۔۔۔۔۔ہاتھ فضا میں بلند ہوا۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور چھری سیدھی اس ملعون کے جگر پر لگی۔۔۔۔ ایک ہی وار کارگر ثابت ہوا ۔۔۔۔۔۔۔اور وہ ملعون واصل جہنم ہو گیا۔۔۔۔۔۔ آپ الٹے پاؤں باہر نکلے ۔۔۔اور اعلان کیا کہ اس ملعون نے چونکہ کائنات کی مقدس ترین ہستی کی شان اقدس میں گستاخانہ کتاب لکھی تھی ۔۔۔۔اس لیئے میں نے اسے واصل جہنم کر دیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔اگر کوئی اور بھی ایسا سوچنے کی جرات کرے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو اس کا بھی یہی انجام ہو گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!! آپ کو گرفتار کر لیا گیا۔۔۔۔۔۔۔آ پ کے گھر والوں کو علم ہوا ۔۔۔۔۔۔تو وہ حیران ضرور ہوئے ۔۔۔۔مگر انہیں پتا چل گیا کہ ان کے نورچشم نے۔۔۔۔۔۔۔۔کیاکارنامہ سرانجام دیاہے۔۔۔۔۔۔۔۔گستاخ رسول ﷺ کوعلی الاعلان واصل جہنم کر کے ۔۔۔۔۔گستاخوں اوران کے سرپرستوں ۔۔۔۔۔۔۔کو بتا دیا کہ ۔۔۔۔۔۔۔غیرت مسلم ابھی زندہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔!!! آپ کو 1929ء کو سزائے موت سنائی گئی۔۔۔۔۔۔اور آپ کے جسد خاکی کو ۔۔۔۔۔۔۔۔ مثالی اور غیر معمولی اعزاز و اکرام کے ساتھ لاہور میں سپرد خاک کر دیا گیا اس موقع پر شاعر مشرق حضرت علامہ محمد اقبال رحمہ اللہ نے ایک مشہور فقرہ کہا جو تاریخ کاحصہ بن گیا۔۔۔۔۔۔۔۔ ٭اسی گلاں کردے رہ گئے تے ترکھاناں دا منڈا بازی لے گیا٭ آج دنیا آپ کو غازی علم دین شہید رحمہ اللہ کے نام سے جانتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عالم اسلام کی تاریخ میں آپ کا نام ناموس رسالت ﷺ کے پاسبانوں کی فہرست میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!

امام اعظم امام ابوحنیفہ ؒ کا ملحدین سے مناظرہ

2017-06-29 11:41:16 

ایک دفعہ بغداد میں کافی علماء جمع ہو گئے کہ دہروں کے ساتھ خدا کے وجود کے متعلق مناقشہ کریں ۔ ان علماء نے امام ابو حنیفہ ؒ کے استاد امام حماد ؒ کو اپنا نمائیند ہ مقرر کیا۔اتنے میں امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ تشریف لے آئے۔اور فرمایا کہ میرے استاد خود اس لیئے نہیں آئے اور مجھے بھیج دیا کہ یہ بہت معمولی مسئلہ ہے ۔ چنانچہ بحث شروع ہوئی ۔
فریق مخالف:۔ تمہارا خدا کس سن میں پیدا ہوا
امام صاحب ؒ:۔خدا پیدا نہیں ہوا بلکہ وہ ہمیشہ سے ہے چنانچہ کتاب اللہ میں ہے"لم یلد ولم یولد" نہ وہ پیدا ہوا اور نہ اس کو کسی نے پیدا کیا"
فریق مخالف: تمہارا رب کس سال وجود میں آیا
امام صاحب ؒ:۔اللہ پاک وقت کی قیود سے آزاد ہے وہ قدیم ہے اس کے وجود کے لیئے ابتداء نہیں ہے۔
فریق مخالف: ہمیں چند ایسے محسوس واقعے بیان کرو جن سے تمہارے جواب کی وضاحت ہو جائے
امام صاحب ؒ :۔ چار سے پہلے کون سا عدد ہے؟
فریق مخالف:۔ تین
امام صاحب ؒ :۔ تین سے پہلے؟
فریق مخالف:۔ دو
امام صاحب ؒ :۔ دو سے پہلے
فریق مخالف :۔ ایک
امام صاحب ؒ:۔ ایک سے پہلے
فریق مخالف:۔ کچھ نہیں 
امام صاحب ؒ:۔ اچھا گنتی کے ایک سے پہلے کچھ نہیں ہو سکتا تو پھر واحد حقیقی یعنی خدا سے پہلے کچھ کیونکر ہو سکتا ہے ؟ خدا قدیم ہے اس لیئے ابتداء نہیں ہے۔
فریق مخالف:۔ آپ کا خدا کس طرف منہ کرتا ہے؟
امام صاحب ؒ :۔ اگر ایک تاریک کمرے میں لالٹین رکھ دی جائے تو اس کی روشنی کا منہ کس طرف ہو گا؟
فریق مخالف :۔ سب اطراف کو۔
امام صاحبؒ:۔یہ تو مصنوعی روشنی کا حال ہے کہ سب اطراف کو پھیل جاتی ہے تو اس آسمانوں اور زمین کے نور یعنی خدا کے بارے میں کیا خیال ہے کہ کس طرف منہ کرتا ہے ؟
فریق مخالف:۔ ہمیں اپنے رب کے بارے میں یہ بتا دیں کہ وہ لوہے کی طرح سخت ہے ، پانی کی طرح سیال یا دھوئیں اور بخار کی طرح اوپر اٹھنے والا؟
امام صاحبؒ:َ آپ کبھی ایسے مریض کے قریب بیٹھے ہیں جو قریب المرگ ہو یعنی اس پر حالت نزع طاری ہو؟
فریق مخالف:۔ ہاں
امام صاحبؒ:َ۔ وہ آپ کے ساتھ بات کیا کرتا تھا ۔ پہلے متحرک تھا موت کے بعد ساکن ہو ا ۔ اس کی حالت کس نے بدل ڈالی؟
فریق مخالف:۔ روح کے نکلنے نے 
امام صاحبؒ:۔ اس کی روح نکل گئی اور آپ بیٹھے تھے ؟
فریق مخالف:۔ جی ہاں
امام صاحبؒ:۔ اس روح کی تعریف کیجئے آیا یہ لوہے کی طرح سخت تھی، پانی کی طرح سیال تھی یا دھوئیں اور بخار کی طرح اوپر کو اٹھنے والی؟
فریق مخالف:۔ ہم روح کی تعریف نہیں کر سکتے
امام صاحبؒ:۔ مطلب یہ کہ روح کی حقیقت تک تو آپ کی رسائی ہو نہیں سکتی تو پھر آپ مجھ سے ذات الہٰی کی حقیقت کیسے معلوم کرتے ہیں ؟
فریق مخالف:۔ آپ کا رب کس جگہ موجود ہے ؟
امام صاحبؒ:۔ دودھ کے بھرے ہوئے پیالے میں گھی کہاں موجود ہوتا ہے ؟
فریق مخالف:۔ گھی کسی خاص مقام پر نہیں ہوتا بلکہ سارے دودھ میں پھیلا ہوتا ہے 
امام صاحبؒ:، جب ایک تخلیق شدہ چیز کے لیئے کوئی خاص جگہ متعین نہیں کی جا سکتی تو پھر ذات الہٰی کے لیئے مخصوص جگہ کا تعین کیسے کیا جا سکتا ہے ؟
فریق مخالف:۔ جب سارے امور کی تقدیر تخلیق کائنات سے پہلے ہی مقرر کی جا چکی ہے تو اس میں تمہارے رب کا کارنامہ کیا ہے ؟
امام صاحب ؒ:۔ خدا امور کو ظاہر کرتا ہے ان کی ابتداء نہیں کرتا ۔
فریق مخالف: جب دخول جنت کے لیئے ابتداء ہے تو اس کے لیئے انتہا بھی ضروری ہے جبکہ جنتی ہمیشہ جنت میں رہیں گے ؟
امام صاحبؒ:۔ گنتی کے ہندسوں کے لیئے ابتداء ہے انتہا نہیں ۔ (جب گنتی کے ہندسوں کے لیئے انتہا نہیں تو جنت میں قیام کی انتہا کیسے ہو سکتی ہے)
فریق مخالف:۔ ہم جنت میں کھائیں گے پیئں گے لیکن بول و براز نہیں کریں گے ؟
امام صاحب ؒ:۔ ہم ، آپ اور سب مخلوق رحم مادر میں نو مہینے رہتے ہیں کھاتے ہیں پیتے ہیں لیکن بول و براز نہیں کرتے (تو جنت جیسی پاک و صاف جگہ پر کیسے کر سکتے ہیں)
فریق مخالف:۔جنت کی چیزیں خرچ کرنے سے کیسے بڑھتی ہیں حالانکہ ہونا یہ چاہیئے تھا کہ یہ خرچ کرنے سے گھٹتیں؟
امام صاحب ؒ:۔ علم جب خرچ کیا جاتا ہے تو بڑھتا ہے گھٹتا نہیں 
آخر میں ان تینوں نے آپ ؒ سے سوال کیئے 
پہلا :۔ آپ کہتے ہیں کہ خدا موجود ہے میں چاہتا ہوں کہ اسے دیکھ لوں۔
دوسرا:۔ آپ کہتے ہیں کہ قیامت کے دن آگ کا عذاب دیا جائے گا ۔ جن تو آگ سے پیدا کیئے گئے ہیں انہیں آگ کیسے عذاب پہنچائے گی ؟
تیسرا:۔ آپ کہتے ہیں کہ ہر ایک چیز قضا و قدر کے ذریعے وجود میں آتی ہے اگر آپ کی بات ٹھیک ہے تو پھر انسان کو اس کے عمل کی سزا نہیں دی جانی چاہیئے ۔
امام صاحب ؒ نے جواب میں کچھ بھی نہیں فرمایا بس ایک مٹی کی ٹوکری لی اور مٹی ان کے چہروں پر ڈال دی اور فرمایا کہ یہ آپ لوگوں کے سوالات کے جوابات ہیں۔
وزیر الدولہ جو اس مباحثے کے دوران وہاں موجود تھا اس نے آپ سے اس فعل کے متعلق دریافت کیا 
آپ نے فرمایا :۔
ان کی آنکھوں میں مٹی ڈالنا میری طرف سے ان کے سوالات کا واضح جواب تھا 
پہلے نے پوچھا تھا کہ میں اس کو خدا دکھاؤں۔ میں اس سے پوچھتا ہوں مجھے وہ درد دکھاؤ جو مٹی ڈالنے پر تمہیں محسوس ہوا ہے ؟ اس کے بعد میں تمہیں خدا دکھاؤں گا ۔
حقیقت یہ ہے کہ بہت ساری چیزیں ایسی ہیں جو نظر تو نہیں آتیں لیکن ان کا وجود ہے مثلاََ عقل انسانی موجود ہے لیکن نظر نہیں آتی !
دوسرے نے پوچھا تھا کہ جن تو آگ سے پیدا ہوئے ہیں انہیں آگ کیسے عذاب میں مبتلا کر سکتی ہے 
تو اسے بتائیں کہ وہ بھی تو مٹی سے پیدا ہوا ہے پھر اس مٹی سے اسے اس قدر تکلیف کیوں پہنچی ؟
پھر تیسرے نے کہا کہ میں ضرور بالضرور اس کی یہ منطق مان لوں کہ انسان اپنے اعمال میں مجبور محض ہے وہ یہ بھول گیا ہے کہ انسان مختار بھی ہے ۔
جب میں اس کی آنکھوں میں مٹی ڈالنے پر مجبور تھا تو اس نے اس بات کا شکوہ کیوں کیا ؟ اعظم رحمہ اللہ نے اپنے جوابات سے یوں ملحدین کو خائب و خاسر اور لاجواب کر دیا !

وجود باری تعالیٰ فلاسفہ کے نظریات کا رد

2017-06-28 02:21:06 

کیا وجود باری تعالی ذہنی ارتقاء کی ایجاد ہے ؟

یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ جب انسان کو کسی چیز کی حقیقت یا اس کے اسباب و محرکات کی کہنہ معلوم نہ ہو تو وہ اس کے بارے میں قیاس آرائی شروع کر دیتا ہے۔اور اپنی عقل سے اس قیاس کو معقولیت کا جامہ پہنانے کی کوشش کرتا ہے۔اور اپنے اسی قیاس کو یقین باور کرانے پر بھی اصرار کرتا ہے۔اور جو شخص اس کے ایجاد کردہ قیاسی نظریہ کے خلاف لب کشائی کی جرات کرتا ہےتو اسے نادانی یا کم عقلی سے تعبیر کرتا ہے۔یہی حال آج کل ان کور چشم نام نہاد فلاسفروں کا ہےجو ہستی باری تعالیٰ کو ذہنی ارتقاء کا نتیجہ مانتے ہیں۔اور پھر لطف یہ کے اس بارے میں ان کا کوئی متفقہ خیال بھی نظر نہیں آتا۔بلکہ وہ مختلف قیاسات دوڑاتے ہیں۔گو قیاسات اصولاََ تو متفق نظر آتے ہیں کہ وجود باری تعالیٰ کا یہ مسئلہ ذہنی ارتقاء کا نتیجہ ہےمگر ارتقائی زاویہ فکریعنی اس کی ترقی کے اسباب و منازل کی تفصیلات بلکل مختلف بلکہ بعض اوقات مخالف نظر آتی ہیں۔اس لیئے اس کی جزئیات پر الگ الگ جرح تو محال ہے البتہ اجمالاََ اصولی طور پر اس نظریہ کی تغلیط کے دلائل درج  ذیل ہیں :۔

مسئلہ ارتقاء میں توسیع:

اس سے پہلے میں ارتقاء والوں کی ایک لغزش کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ اول اول اس مسئلہ کو حیوانات کی مختلف انواع تک ہی محدود رکھا گیا کہ یہ چیزیں اپنی ادنیٰ حالتوں سے ترقی پا کر موجودہ صورتوں تک پہنچی ہیں ۔ مگر رفتہ رفتہ یہ ایک وسیع مسئلہ بن گیا ہے اور یہاں تک اس کو بڑھایا گیا کہ انسانی تاریخ و خیالات، توہمات و عقائد سب کچھ ارتقاء ہی کے زیر اثر سمجھا جانے لگا۔ اسی طرح وجود باری تعالیٰ کی توجیہ بھی ارتقاء کے ذریعے ہونے لگی ۔

ارتقاء کے تین نظریات:

بعض لوگوں کا یہ نظریہ ہے کہ وجود باری تعالیٰ انسانوں کے جذبہ خوف کا نتیجہ ہے۔وہ کہتے ہیں کہ جب انسان میں شعور  پیدا ہوا تو اس نے اپنے اردگرد ایک خوفناک  اور پر ہول ماحول کو پایا۔ مثلاََ خونخوار درندے، خطرناک وبائیں، قدرتی قحط، زلزلے اور اسی طرح وہ فوق الفہم اور حیرت انگیز نظام شمسی جس نے انسان کے اندر حیرت اور خوف کے جذبات پیدا کر دیئے۔اور ظاہر ہے کہ انسان ہمیشہ حیرت اور خوف کے جذبات میں گھر کر زندگی بسر نہیں کر سکتا تھا۔ اس لیئے اپنی ڈھارس و پناہ، سکون و اطمینان کے لیئے اس کے نفس نے یہ تجویز کی کہ کہ ان خوفناک اور ڈراؤنی اشیاء کو لجاجت و خوشامد کے ذریعے راضی کیا جا سکتا ہے۔چنانچہ اس نے ان کی پوجا شروع کر دی ۔اور پھر جوں جوں اس کا شعور ترقی کرتا گیا اور ذہنی رفعت اس کو حاصل ہوتی گئی اسی نسبت سے وہ اپنے قدرتی جذبہ خوف سے پناہ ڈھونڈتا ڈھونڈتا ایک ایسے خدا کا قائل ہو گیا جو تمام طاقتوں کا مالک ہے۔

اسی طرح ماہر نفسیات پروفیسر فرائیڈ کا ذہنی اختراع یہ ہے کہ چونکہ انسانی فطرت کی بنیاد نفسانیت و شہوانیت پر ہے اور ہر شخص اس دنیا میں آزادانہ طور پر ان خواہشات کو پورا نہیں کر سکتا اور جب دو افراد کی خواہش ٹکرا جائے تو لڑائی کی صورت حال پیدا ہو جاتی ہے ۔اس لیئے وہ ان خواہشات کی تکمیل صرف ایک ہی صورت میں کر سکتے تھے جب افراد حتی الوسع ایک دوسرے سے امن میں رہتے ہوں۔اور امن کے لیئے یہ ناگزیر ہے کہ وہ اپنی خواہشات  ایک دوسرے کے لیئے قربان کر دیں۔اور یہ قربانی بھی اس وقت تک محال ہے جب تک اس کا کائی معاوضہ نہ ہو۔چونکہ دنیا میں انسانی قربانی کا کوئی حقیقی معاوضہ نہ ہو سکتا تھا اس لیئے اس نے ایک خیالی معاوضہ(خدا) تجویز کیا۔اور یہی خیالی معاوضہ ارتقائی منازل طے کرتا ہوا موجودہ صورت کو پہنچا۔

اس سلسلہ میں تیسرا نظریہ ماہرین اقتصادیات کا ایجاد کردہ ہے جو موجودہ تمدن کے سخت دشمن ہیں اور اس کی بنیادوں کو ہلانا چاہتے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ وجود باری دراصل امراء اور غرباء کی تمدنی کشمکش کا نتیجہ ہے۔ کیونکہ ایک امیر اپنی امارت میں استقلال کے لیئے یہی چاہتا ہے کہ غریب ہوشیار ہو کر اپنی حالت نہ بدلیں۔اور غرباء کو غافل رکھنے کے لیئے ان کے دل میں یہ خیال بٹھانا ضروری ہوا کہ غربت و امارت وغیرہ امور مقدور سے تعلق رکھتے ہیں۔اور ایک نگران خدا ہے جو خوب جانتا ہے کہ نظام عالم چلانے کے لیئے دولت کی تقسیم کس طرح ہونی چاہیئے۔جو امیر و غریب میں دولت کی تقسیم خدا نے کر رکھی ہے اسی تقسیم پر ہر انسان کو قانع رہنا چاہیئے۔ پس عدم مساوات کو قائم رکھنے اور امیر و غریب کی تفریق کے استحکام کی خاطرغرباء کو غافل رکھنے کے لیئے امراء نے وجود باری کا عقیدہ تجویز کیا ہے۔ اور ابتداََ یہ صرف خیالی تھا اور بعد میں رفتہ رفتہ عادتاََ اور حقیقتاََ انسانوں میں رائج ہو گیا۔

قیاسی نظریہ:

مندرجہ بالا تینوں نظریات پر یکجا نظر ڈالنے سے صاف محسوس ہوتا ہے کہ یہ قیاسی نظریات ہیں جن کا حقیقت کے ساتھ کوئی  تعلق نہیں ۔اس کی مثال ایسی ہے جیسے رات کے دو بجے کوئی شخص گلی سے گزر رہا ہو۔تو اس کے بارے میں یہ قیاس کیا جا سکتا ہے کہ وہ کوئی داکٹر ہے ، پولیس کا آدمی ہے یا کوئی ایسا مریض ہے کو نیند کی حالت میں چلنا شروع کر دیتا ہے۔یا ممکن ہے کہ وہ کوئی ایسا شخص ہو جس کے گھر میں کسی مریض کی حالت ناگفتہ بہ ہو اور وہ ڈاکٹر کو لینے جارہا ہو۔ الغرض مختلف قسم کے قیاسات قائم کر کے اس کے عقلی ثبوت بھی دیئے جا سکتے ہیں۔ اسی طرح ان ارتقاء والوں نے بھی اپنے نظریات و قیاسات ثابت کرنے کے لیئےان لوگوں کے ھالات زندگی سے استدلال کرنے کی کوشش کی ہے جن کا مذہب ایک مسخ شدہ حالت میں ہوتا ہے۔ظاہر ہے اگر ایک بگڑے ہوئے مذہب پر قیاس آرائی شروع کر دی جائے  تو اس سے غلط نتائج اور فاحش نظریات ہی قائم کیئے جا سکتے ہیں۔اور یہی ان کی بنیادی لغزش ہے۔ اگر وہ اپنے نظریات کو انبیاء کرام علیہم السلام کی زندگیوں پر چسپاں کر کے دکھاتے جو دراصل ایک مذہب کے بانی ہیں تو تب ان کے نظریات کی ساری قلعی ہی کھل جاتی ۔اسی وجہ سے ان کے نظریات و قیاسات محض خیال آرائی ہی ثابت ہوتے ہیں۔

ذیل میں ان کے نظریات پر تنقیدی نظر ڈالتے ہیں !

وجود باری تعالیٰ اور خوف:

جو لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ وجود باری تعالیٰ محض خوف اور جذبہ حیرت کی کارستانی ہےیہ اس لیئے درست نہیں کہ اگر وجود باری تعالیٰ کا عقیدہ خوف کا نتیجہ ہوتا تو  اس عقیدہ کے بانی انبیاء کرام علیہم السلام  معاذ اللہ سب سے زیادہ بزدل ہوتے اور دنیا کی مادی قوتوں سے خوف کھاتے۔لیکن کیا یہ حقیقت نہیں کہ وہ اس عقیدہ کی تلقین و تبلیغ کی خاطراور اس کے قیام کے سلسلہ میں اپنی جان و آبرو کو بھی خطرے میں ڈالتے رہے ہیں۔اور دنیا کا کوئی خطرہ دنیا کا کوئی بھی خوف ان کے پائے استقلال کو متزلزل نہ کر سکا۔اور اسی طرح اگر عقیدہ مختلف اوہام کا نتیجہ ہے تو انبیاء اکرام علیہم السلام کو معاذ اللہ سب سے زیادہ توہمات میں گرفتار ہونا چاہیئے تھا۔اور سب سے زیادہ شکوک و شبہات کا شکار ہونا چاہیئے تھا۔ لیکن اس کے برعکس اشد ترین مخالف اور مذہب کا انکار کرنے والے بھی اس بات کی شہادت دیتے ہیں کہ ان کی زندگی حق الیقین کے اس بلند و بالا اور مستحکم چٹان پر پر قائم رہتی ہے جس سے دنیا بھر کی مخالفتیں، سارے خوف و اوہام ٹکرا کر پاش پاش ہو جاتے ہیں۔

اسی طرح اگر یہ عقیدہ خوف کا لازمہ تھاتو پھر عقل یہ کہتی ہے کہ جوں جوں ہم کسی نبی کے زمانہ کے قرب کی طرف بڑھتے چلے جائیں اسی نسبت سے خوف و اوہام بڑھتے نظر آنے چاہیئں۔ لیکن یہ امر واقعہ ہے کہ نبی کے اپنے زمانے اور قریب تر زمانے میں شکوک و شبہات اور اوہام کا وجود تک نہیں ملتا۔بلکہ ہوتا یوں ہے کہ جوں جوں کسی نبی کے زمانے سے دور ہوتے چلے جائیں جائیں گے شکوک و شبہات اور اوہام میں اضافہ نظر آئے گا۔جیسے اسلام کے علاوہ دیگر مذاہب میں شجر پرستی، کواکب پرستی، آفتاب پرستی اور اس طرح کی دیگر  غلط اور خلاف مذہب عبادات رواج پذیر ہو گئی ہیں تو ایسے مسخ شدہ مذہب اور گم گشتہ راہ اہل مذاہب کے خیالات و عقائد فاسدہ اور اوہام باطلہ سے استدلال عقلمندی کا مذاق اڑانا ہے اور نتیجہ یہ نکالنا کہ اس طرح خدا پرستی بھی جذبہ خوف کی ایجاد ہے قرین انصاف نہیں ۔ ایسے لوگوں کے طرز عمل سے استدلال کرتے ہوئے وجود باری تعالیٰ کو خوف کا نتیجہ قرار دینا انتہائی نادانی ہے۔

فرائیڈ کا نظریہ:

اسی طرح یہ نظریہ کہ جذباتی کشمکش میں توازن برقرار رکھنے کا علاج دوسروں ی خاطر قربانی دینے کا معاوضہ خدا کی صورت مین تجویز کیا گیا ہے بایں وجہ باطل ہے کہ اگر یہ خیال درست ہوتا توسب سے زیادہ انقباض  طبیعت اور جذباتی کشمکش انہی لوگوں میں پائی جاتی جو وجود باری تعالیٰ کے ناشر تھے۔کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ انبیاء کرام علیہم السلام میں عمر کے کسی بھی حصہ میں ایسا انقباض یا جذباتی کشمکش پائی جاتی ہے ؟ہر گز نہیں !اس کے برعکس انبیاء رام علیہم السلام اپنے بچپن و جوانی، ادھیڑ عمر و بڑھاپے میں سکینت کی ایک حسیں تصویر نظر آتے ہیں۔چنانچہ کسی بھی نبی کی زندگی پر نظر ڈالوسکینت ہی سکینت پاؤ گے۔ان کو اپنی خواہشات سے کبھی جنگ نہیں کرنا پڑی۔اگر وجود باری تعالیٰ انقباض و جذباتی کشمکش کا نتیجہ ہوتا تو ان انبیاء اکرام علیہم السلام کی تعلیمات میں کوئی ربط نظر نہ آتا ان کی ساری باتیں مجنونانہ ہوتیں لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ان کی تعلیم ان کے احکام انتہائی دانائی سے پر ہوتے ہیں۔حتی کہ دنیا تمدنی و علمی ، سیاسی و معاشی امور میں ساری دانائی اپنے انبیاء کرام علیہم السلام سے ہی لیتی ہے ۔

عدم مساوات کا نظریہ:

اسی طرح ماہرین اقتصادیات کا یہ کہنا کہ وجود باری تعالیٰ کا تصور عدم مساوات کو جاری و قائم رکھنے کے لیئے وجود میں آیا مذہب پر صریح الزام ہے۔کاش کہ وہ انبیاء کرام علیہم السلام کی زندگی اور انسانوں کے ساتھ ان کے سلوک کو ایک نظر دیکھتے تو کبھی ایسا قیاس نہ کرتے۔اگر بالفرض ان کا یہ قیاس صحیح ہوتا تو پھر انبیاء کرام علیہم السلام  کو سب سے زیادہ عدم مساوات کا حامی ہونا چاہیئے تھا کیونکہ وہ اس عقیدہ کے بانی تھے ۔مگر اس کے برعکس وہ عدم مساوات کے خلاف ایک زبردست محاذ قائم کر کے ایک ایسا معاشرہ قائم کرتے ہیں جس میں دنیوی دولت و ثروت کو کوئی امتیاز حاصل نہیں ہوتا۔وہ ایسی تعلیم اور ایسے احکام دیتے ہیں جن سے دنیوی امارت و ثروت کو استقلال اور دوام حاصل ہو ہی نہیں سکتا۔اس سلسلہ میں انبیاء کرام علیہم السلام کی اقتصادی تعلیم سے درگزر کرتے ہوئے اس نظریہ کے قائلین کی توجہ اسلام کے اقتصادی اور معاشی اصول کی طرف دلانا چاہوں گا ۔ ذرا غور فرمایئے کیا اسلام نے اپنی عبادات اور تہذیب و تمدن  کی بنیاد ہی مساوات کے اصول پر قائم نہیں کی  ؟

کیا اس نے معیار تکریم اور وجہ تفوق امارت و ثروتاور دنیوی جاہ حشمت کے بجائے تقویٰ اور خدا ترسی کو نہیں بنایا؟

اسلام میں سود کا امتناع، ایتاء زکوٰۃکا حکم جو دراصل سرمایہ کاری پر ایک ضرب کاری ہے اور اسی طرح قانون وراثت جو دولت کو صرف ایک ہی شخص کی تجوری میں بند نہیں رکھتا ۔اور اسی طرح نظام صدقہ و خیرات کے متعلق احکام کیا عدم مساوات اور امیر و غریب کی تفریق مٹانے کو کامیاب علاج اور یقینی تریاق نہیں ؟

علاوہ ازیں اگر امراء ہی وجود باری تعالیٰ کے مؤجد ہوتے تو کیا وجہ ہے کہ جب بھی کوئی نبی ؑخدا  کی توحید قائم کرنے کے لیئے کھڑا ہوتا ہے تو امراء ہی سب سے زیادہ اس کی مخالفت میں پیش پیش ہوتے ہیں ؟اور غرباء ہی سب سے پہلے اس کی تائید کرتے ہیں ؟جبکہ حقیقت یہ ہوتی ہے کہ انبیاء کرام علیہم السلام کی تحریک کو سب سے زیادہ غرباء ہی کی تائید حاصل ہوتی ہے اور امراء پیچھے رہ جاتے ہیں ۔

پس ماہرین اقتصادیات کا یہ کہنا کہ یہ عقیدہ  عدم مساوات، امیر و غریب کی تفرق کو قائم رکھنے  کے لیئے وجود میں آیا صریحاََ غلط ہے !

یہ عقیدہ الہامی ہے :

خدا کے وجود کو ذہنی ارتقاء کا نتیجہ سمجھنے والوں کے قیاسات اس قدر بودے اور کمزور ہیں کہ تار عنکبوت سے زیادہ حثیت نہیں رکھتے۔ اگر قدیم سے قدیم اقوام کے عقائد اور بعد میں آنے والی اقوام کے عقائد کا موازنہ کیا جائے تو ان میں کوئی نمایاں فرق نظر نہین آتا بلکہ ان میں ایسی مماثلت نظر آتی ہے جو ایک انسان کو ورطہ حیرت  وا ستعجاب میں ڈالنے کے لیئے کافی ہے۔اور اس مماثل عقیدہ کو ہر دور میں بعض مخصوص اور معین ہستیوں نے قائم کیا۔اور انہی پاک ہستیوں کی تاثیر و شہادت سے اس زمانہ کے لوگوں نے قبول کیا۔ذرا غور کیا جائے تو یہ ناممکن نظر آتا ہے کہ کسی ذہنی اختراع سے پیدا شدہ عقیدہ جس کی کوئی حقیقت نہ ہو اس قدر عظیم انقلاب برپا کر سکتا ہے جو اس عقیدہ نے برپا کر دکھایا۔

بے شک شروع میں انبیاء کرام علیہم السلام ی تعلیم شروع شروع میں نئی نظر آتی ہے لیکن ان معنوں میں ہر گز نہیں  کہ جس کو ہم ذہنی اختراع سے تعبیر کر سکیں۔دنیا میں کئی ایسے فلاسفر موجود ہیں جو اپنے ذہن سے نئے نئے خیال پیدا کرتے ہیں اور بعد میں اکثر غلط بھی ثابت ہو جاتے ہیں لیکن ان فلاسفروں کی کبھی بھی مخالفت نہیں کی جاتی جو بے سروپا نظریات قائم کرتے ہیں۔اور اگر مخالفت کی بھی جاتی ہے تو انتہائی معمولی۔ لیکن کیا یہ حقیقت نہیں کہ انبیاء کرام علیہم السلام جو عقیدہ دنیا کے سامنے پیش جرتے ہیں اس کی شدید ترین مخالفت کی جاتی ہے۔چھوٹابڑا اپنا پرایا سبھی مخالفت پر تل آتے ہیں اور انہی مخالف حالات کے بوجود وہ اپنا مشن قائم کر جاتے ہیں۔ ہر نبی ؑ کا خطرناک مقابلہ کیا جاتا رہاہےکیا کوئی بتا سکتا ہے کہ ارتقائی اشیاء و خیالات کی بھی کہیں اس درجہ مخالفت ہوئی ہے ؟ہر گز نہیں ! مخالفت تو کجا ان کا احساس تک نہیں ہوتا کہ یہ چیزیں کب، کیسے اور کس وجہ سے معرض وجودد میں آئیں۔ پس یہ شدت مخالفت خود اس بات کا ثبوت ہے کہ اس امر کا اس عقیدہ کے ساتھ ارتقاء سے کوئی تعلق نہیں ۔ذہنی ارتقاء نے اس مسئلہ کو ایجاد نہیں کیا بلکہ بذریعہ الہام اسے انسانی ذہن میں بٹھایا گیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ وجود باری تعالیٰ کا عقیدہ پرانی سے پرانی اور نئی سے نئی ہر قوم میں پایا جاتا ہے۔پھر من حیث المجموع اس کی ذات و صفات کے بارہ میں یکساں خیال موجود ہے۔ پس یہ ہم آہنگی اور اس عقیدہ کے قیام میں انبیاء کرام علیہم السلام کی شدید ترین مخالفت اور ان سے یکساں سلوک اور ان دانا و فہیم اور پاک ہستیوں کی ثقہ شہادت اور اسی قسم کے شواہد و نظائر از قبیل نشانات و پیشنگوئیاں مسئلہ وجود باری تعالیٰ کے ارتقائی نہ ہونے اور الہامی ہونے پر کافی و شافی دلیل ہیں ۔

آلات موسیقی گانا اور اسلام

2017-06-24 04:35:08 

جدید آلات والے ماڈرن ڈسکو میوزک اور سریلی آواز و دف کے ساتهہ نعت خوانی میں زمین و آسمان کا فرق ہے.
تحریر : ابو نصر میر امام یحیٰ
 اللہ سُبحانہ ُ و تعالیٰ فرماتا ہے (وَمِن النَّاسِ مَن یَشتَرِی لَہوَ الحَدِیثِ لِیُضِلَّ عَن سَبِیلِ اللَّہِ بِغَیرِ عِلمٍ وَّ یَتَّخِذَھَا ھُزُواً اُولَٰۤئک لَھُم عَذَابٌ مُّھِینٌ)(اورلوگوں میں ایسے بھی ہیں جوایسی چیزوں کو خریدتے ہیں جِن کے ذریعے بے عِلمی کے ساتھ لوگوں کو اللہ کی راہ سے بہکائیں اور اِسے ( اللہ کی راہ کو ) مذاق بنائیں یہی ہیں وہ لوگ جِن کے لیے رسوا کر دینے والاعذاب ہے ) سورت لُقمان / آیت ٦ ، اِس آیت میں فرمائے گئے اِلفاظ '' لَہوَالحَدِیث'' کی تفسیر میں عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ ُ نے تین بار فرمایا ''' ھُو الغناء والذی لا إِلہ إِلَّا ھُو، اللہ کی قسم جِس کے عِلاوہ کوئی سچا معبود نہیں اِس کا مطلب گانا ہے ''' مُستدرک الحاکم /حدیث ٣٥٤٢ /کتاب التفسیر /باب٣٢ (حدیث صحیح/تحریم آلات الطرب۔ِ ألبانی/ص۔١٤٣)

::: اورعبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہُما کا فرمان ہے ''' ھُو الغِنَا و اشباھہ ،اِسکا مطلب گانا اور اُس جیسے دیگر کام ہیں ''' مُصنف ابن ابی شیبہ /کتاب التفسیر /باب ١٣٩ ، اِس باب میں اِن دو صحابیوں کے عِلاوہ تابعین کی طرف سے بھی یہی تفسیر بیان ہوئی ہے۔
 ::::: کیا آپ کو پتہ کہ جب شیطان نے آدم کی اولاد کو بھٹکانے کےلیئے اللہ تعالیٰ سے قیامت تک مہلت طلب کی تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ( قَالَ اذْہَب فَمَن تَبِعَکَ مِنہُم فَإِنَّ جَہَنَّمَ جَزَآؤُکُم جَزَاء مَّوفُوراًo وَاستَفزِز مَنِ استَطَعتَ مِنہُم بِصَوتِکَ وَأَجلِب عَلَیہِم بِخَیلِکَ وَرَجِلِکَ وَشَارِکہُم فِی الأَموَالِ وَالأَولادِ وَعِدہُم وَمَا یَعِدُہُمُ الشَّیطَانُ إِلاَّ غُرُوراًo إِنَّ عِبَادِی لَیسَ لَکَ عَلَیہِم سُلطَانٌ وَکَفَی بِرَبِّکَ وَکِیلo) ( اللہ نے فرمایا ،جاؤ اِنسانوں میں سے جو تمہاری تابعداری کرے گا تو تم سب کی سزا جہنم ہے جو ( تم سب کے کیئے کا )پورا پورا بدلہ ہے O اِن میں سے جِسے بھی تُم اپنی آواز سے بہکا سکو بہکا لو ، اور اِن پر اپنے سوار و پیدل سب (ساتھیوں) کے ساتھ چڑھائی کر لو ، اور اِنکے مال اور اولاد میں بھی اپنی شراکت بنا لو ، اور اُن سے وعدے کر لو ، اور شیطان اِنسانوں سے جتنے بھی وعدے کرتا ہے سب کے سب فریب ہوتے ہیںo میرے ( سچے اِیمان والے ) بندوں پر تیرا کوئی قابو اوربس نہیں ، اور تیرا رب کار سازی کرنے والا کافی ہے O ) سورت الإسراء ( بنی إسرائیل ) آیات ٦٣ تا ٦٥ ، 
 اِن آیات میں اللہ تعالیٰ نے شیطان کی آواز کا ذِکر فرمایا ،اِمام القُرطبی نے اپنی تفسیر ''' الجامعُ لِاحکام القُرآن ''' میں عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما ، امام مُجاھد ( تابعی ) رحمہ اللہ کی بیان کردہ تفسیر لکھی کہ '' شیطان کی آواز ، گانا ، بانسُری اور آلاتِ موسیقی ہیں '' اور اِمام الضحاک رحمہ اللہ نے کہا ''' باجوں کی آواز ''' ، اور اِمام الآلوسی البُغدادی نے اپنی تفسیر ''' روحُ المَعانی ''' میں اِمام ابن المنذر اور اِمام ابن جریر کے حوالے سے اِمام مُجاھد کی یہی تفسیر نقل کی ۔

اللہ سُبحانہ ُ و تعالیٰ نے مُشرکین اور کافروں کی مذمت فرماتے ہوئے اِرشاد فرمایا ( أَفَمِن ہَذَا الحَدِیثِ تَعجَبُونo وَتَضحَکُونَ وَلَا تَبْکُونَ O وَأَنتُم سَامِدُونَ O ) ( کیا تُم لوگ قُران سُن کر حیران ہو رہے ہو O اور اِس پر ہنستے ہو اور روتے نہیں O اور تُم لوگ ( قُران کے مُقابلے میں گانے ) گاتے ہو O ) سورت النجم / آیات ٥٩ تا ٦١ ، 
 سامدون کامصدر ''سمود '' ہے ، عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ''' السمود ''' کی تفسیر میں فرمایا ''' السمود یمنی لُغت میں گانے کو کہتے ہیں ''' السنن الکبری للبیھقی / حدیث ٢٠٧٩٤ ،اِمام الہیثمی نے '' مجع الزوائد '' میں کہا '' یہ روایت البزار نے صحیح راویوں کے ذریعے بیان کی ہے ۔
 اِمام الآلوسی نے '' رُوحُ المعانی '' میں لکھا ''' مکہ کے کفار لوگوں کو قران سننے سے دور رکھنے کے لیئے گانے سنواتے تھے '''
 اور میں کہتا ہوں کہ ،آج تک اُن کے روحانی پیرو کار یہ کام کرتے چلے آ رہے ہیں کیونکہ :::
ہو سکتے نہیں اِک دِل میں اکٹھے ::: کلام اللہ کی مُحبت اورمُحبتِ قِیان 
 کبھی سُن لیا اِدھر اور کبھی اُدھر،کہ ::: خوش رہے رحمان،اور نہ بگڑے شیطان

اب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے اِرشادات میں سے کچھ ملاحظہ فرمائیے ، 
 ::::: ابو مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ ُ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سُنا ( لَیَکُونَنَّ مِن اُمَّتِی اَقوامٌ یَستَحَلُّونَ الحِرَ و الحَرِیرَ و الخَمرَو المَعازِفَ ) ( ضرور میری اُمت میں ایسے لوگ ہوں گے جو زِنا، ریشم اور شراب اور باجوں کوحلال کرنے کی کوشش کریں گے ) صحیح البُخاری / حدیث٥٥٩٠/ کتاب الأشربہ /باب ٦ ،شعب الإيمان (7/ 118)

::: اِس حدیث مُبارک سے دو باتیں بالکل صاف ظاہر ہو رہی ہیں :::

::::: ( ١ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلمنے تمام باجوں کا ذِکر فرمایا ہے ، اِس میں سے کِسی ایک کو بھی نکالنے کی گُنجائش نہیں ، اور ،

::::: (٢ ) یہ کہ تمام باجے ،شراب ، زنا اور ریشم کی طرح حرام ہیں ، کیونکہ اگر وہ حرام نہ ہوتے تو یہ نہ کہا جاتا کہ لوگ اُنہیں حلال کرنے کی کوشش کریں گے ، پس اِس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے بڑی وضاحت کے تمام تر آلاتِ موسیقی کو حرام قرار فرمایا ہے.

عام طور پر ''' معازف ''' اُن باجوں کو کہا جاتا ہے جِنکو چوٹ مار کر بجایا جاتا ہے ، جیسے ، ڈھول ، طبلہ طنبور وغیرہ ، ( لِسان العرب ) اور ،ملاہی کھلونوں اور موسیقی کے تمام آلات کو کہا جاتا ہے ( مُختار الصحاح ، غریب الحدیث لابن سلام، لِسان العرب ) 
 اگر کِسی کے دِل میں اِس لفظی معنی کی وجہ سے یہ خیال پیدا ہو کہ ''' حرام تو صرف معازِف کو کہا گیا ہے ، یعنی مار کر بجائے جانے والے آلاتِ موسیقی کو ، دوسری چیزوں کو تونہیں ، لہذا کچھ کی گُنجائش رہ ہی جاتی ہے ''' بلکہ کچھ کو تو یہ کہتے سُنا گیا ہے کہ ''' اُس وقت کے آلات تو اور تھے اُن سے منع کیا گیا تھا ، اب تو وہ آلات کہاں ، کِسی کا نام تو نہیں لیا گیا کہ فُلان آلہءِ موسیقی حرام ہے ''' تو ایسے مُسلمان بھائی بہنیں مندرجہ ذیل أحادیث ملاحظہ فرمائیں :::
 ::::: عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کا کہنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے فرمایا (إ ِنَّ اللَّہ َ قَد حَرَّمَ عَلیٰ اُمتِی الخَمر و المَیسَر و المزر والکُوبَۃَ و القَنِینَ و زادنی صلاۃ الوِتر ) ( بے شک اللہ تعالیٰ نے میری اُمت پر شراب اور جُوا اور مکئی کی نبیذ اور طبل (ڈھول ) اور قنین حرام کر دئیے ہیں اور ( اِنکے بدلے ) مجھے نماز وتر عطا فرمائی ہے ) سلسلۃ الاحادیث الصحیحہ/حدیث ١٧٠٨
 ''' الکُوبَۃ ''' طبل یعنی ڈھول کو کہا جاتا ہے ، اب اِس ڈھول کو کوئی بھی شکل دے دیجیئے وہ اصل میں رہے گا تو ڈھول ہی ، کوئی بھی نام دیجیئے اُسکی حقیقت تو نہیں بدلے گی ، اُسے ڈھول کہیئے یا ڈھولکی ، طبلہ کہیئے یا طبلی ، ڈرم کہیئے یا باس بیٹر ، ہے تو وہ ''' الکُوبَۃ '''، 
 اور ''' القَنِین''' ہر اُس آلہءِ موسیقی کو کہا جاتا ہے جِسکا اُوپر والا حصہ ایک ڈنڈے کی صورت میں ہوتا ہے ، لکڑی کا ہو یا کِسی دھات کا اور نیچے والا حصہ کھوکھلا اورگول یا بیضوی شکل میں ہوتا ہے اور اوپر والے حصے کے آغاز سے نیچے والے حصے کے درمیان تک ایک یا زیادہ تاریں بندھی ہوتی ہیں ،
 اب اِس دورِ جدید میں کِسی کی جمالیاتی حِس ایسے کِسی آلے کو کوئی بھی نام دے ، اِک تارا ، کہے یا دو تارا ، سارنگی کہے یا سِتار ، گِٹار کہے یا وائلن ، حقیقت تو نہیں بدلے گی ، کیونکہ نام بدلنے سے حقیقت نہیں بدلتی اور حُکم کِسی چیز کی حقیقت پر ہوتا ہے نہ کہ اُس کے نام پر ، لہذا نام بدلنے سے کوئی حرام چیز یا کام حلال نہیں ہو جاتا ، اور نہ ہی کوئی حلال حرام ہو جاتا ہے ،

لیکن ، افسوس کہ ہماری اُمت میں ایسا ہو رہا ہے کہ لوگ نام بدل کر چیزوں کو اِستعما ل کرتے ہیں اور نام کی تبدیلی کی وجہ اُن چیزوں کو حلال کرنے کی کوشش کرتے ہیں ، اِس بات کی خبر بھی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے کر دی تھی کہ ہماری اُمت میں ایسا ہو گا ،، فرمایا (یَشرَبَنَّ نَاسٌ مِن اُمتِی الخَمرَ یَسُمُّونَھَا بِغَیرِ اِسمِھَا یُعزَفُ عَلیٰ رُؤُسَھَم بِالمَعازِفِ و المّغَنِّیاتِ یَخسِفُ اللَّہُ بِھِمُ الاَرضَ و یَجعَلُ مِنھُمُ القِردۃَ و الخَنَازِیرَ )( ضرور میری اُمت میں لوگ شراب کو (حلال کرنے کے لیے اُسے) کوئی اور نام دے کر پیئیں گے ،( وہ لوگ ایسے ہوں گے کہ ) اُن کے پاس باجے بجائیں جائیں گے اور گانے والیاں گایا کریں گی ، اللہ تعالیٰ اُنہیں زمین بوس کرے گا اور اُن میں سے بندر اور سور بنا دیئے جائیں گے ) یہ اِلفاظ اِمام النسائی نے اپنی سْنن میں نقل کیئے ہیں ، جبکہ اِس حدیث کو اِلفاظ کے کُچھ فرق سے مْختلِف صحابہ سے اِمام الطبرانی ، اِمام الدارمی ، اِمام الحاکم ، اِمام ابو داؤد ، اِمام ابنِ ماجہ نے اپنی اپنی کِتابوں میں نقل کیا ہے اور م الالبانی سلسلہ الاحادیث الصحیحہ حدیث نمبر ٩١ کی تحقیق میں اِس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے ، 
 لہذا اب اگر شراب کو کوئی اور نام دے کر پیا جا ئے تو وہ شراب ہی رہتی ہے ، آبِ جو ، انگور کی بیٹی ، سیب کا رس وغیرہ کہنے سے اْس کی حقیقت نہیں بدلتی ، اور اِسی طرح موسیقی اور گانا ہے ، اُسے روح کی غذا ، ذہنی سکوں کا سبب ، دُکھے دِل کا چین یا کُچھ بھی کہا جائے ، ہے تو وہی جِسے اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے حرام قرار دِیا ہے.

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ُ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے فرمایا ( الجرسُ مِزمار الشیطان ) ( گھنٹی شیطان کی بانسُری ہے ) مستدرک الحاکم / حدیث ١٦٢٩ ، صحیح ابن حبان /حدیث ٤٧٠٤
 ::::: أنس رضی اللہ عنہ ُ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے فرمایا ( لَیَکُونَنَّ فی ھذہِ الاُمۃِ خَسفٌ ، و قذَفٌ ، و مَسحٌ ، و ذَلِکَ إِذا شَربُوا الخَمور َ ، و اتَّخَذُوا القَینَاتِ ، وضَربُوا المعازِفِ ) ( (میری ) اِس اُمت میں بھی یقینا زمین میں دھنسنے اور پتھر برسنے اور شکلیں بدلنے کے واقعات ہوں گے ، اور یہ اُسوقت ہو گا جب لوگ شرابیں پینے لگیں گے ، اورگانے والیوں کوزندگی کا جُز بنا لیں گے اور باجے بجانے(بجوانے ) لگیں گے ) سلسلہ الأحادیث الصحیحہ / حدیث ٢٢٠٣ ( قینات ، قین سے ہے اور القینۃُ یعنی گانے والے عورت ، کی جمع ہے ، لِسان العرب ) ، 
 رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے اِس ارشاد گرامی سے جہاں یہ پتہ چلتا ہے کہ گانا بجانا بھی شراب خوری کے جیسا حرام کام ہے وہاں یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ اِس کی دُنیا میں بھی کیا سزا مل سکتی ہے ، اللہ تعالیٰ ہر مُسلمان کو ہر گُناہ سے بچنے کی توفیق عطاء فرمائے ۔
 دورِ جدید میں اب کیسٹس ، سی ڈیز ، ڈی وی ڈیز ، اور ایم پی تھری ،فور پلئیرز اور کئی دیگر آلات کے ذریعے گانے والیاں اور گانے والے ہر جگہ موجود ہیں ، ہم مسلمانوں کی شاید ہی کوئی ایسی جگہ ہو جِسے ہم نے شیطان کی آواز سے بچائے رکھا ہو ، اللہ ہی ہے کہ اپنی خاص رحمت سے ہمیں اِن عذابوں سے بچائے رکھے ورنہ ہم نے تو کوئی کسر نہیں چھوڑ رکھی کہ ہم پر یہ عذاب آن پڑیں،
تو پھر کیوں نہ کہوں کہ ::: 
سُن کر حُکمِ الہی اور قولِ رسولِ کریم ::: اگر رہے باقی گانے بجانے کا ارمان
پھرذرا ٹٹول کر دیکھ تو اُسے کتنا ہے ::: جو بچ رہا ہے اُس دِل میں اِیمان
 گو کہ کِسی معاملے کا شرعی حُکم جاننے کے لیئے، اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے ارشادات اور صحابہ رضی اللہ عنہم کی بیان کردہ تفسیر کے بعد کِسی اِیمان والے کو کِسی اور چیز کی ضرورت نہیں رہتی ، لیکن دوسری پارٹی بھی تو اپنا کام کر رہی ہے ، اور ہر معاملے میں طرح طرح کے فلسفے بنا کر مُسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش میں ہے ، پس اِس معاملے میں بھی ، جمالیاتی حس ، ذوقِ جمال ، اباحیتِ اجزاء وغیرہ جیسے فلسفوں کے ذریعے موسیقی اور گانے کو حلال بلکہ ضرورت ثابت کرنے کی کوشش ہوتی چلی آرہی ہے، لیکن اللہ کی مہربانی سے ہر دور میں اللہ کے ایسے بندے رہے ہیں جِنہوں نے اِن باتوں کا مکمل علمی جواب دیا ہے !

 

 

جزیہ پر اعتراض کا جواب

2017-06-23 14:58:42 

 جزیہ ایک ٹیکس ہے جو اسلامی مملکت کے غیر مسلم شہریوں سے وصول کیا جاتا ہے ۔جو اسلامی مملکت کی بالادستی کو قبول کرتے ہوئے ایک پر امن شہری کی طرح وہاں آباد ہونے کا معاہدہ کریں ۔دشمنان اسلام نے جزیہ کی وجہ سے اسلامی نظام سیاست پر اعتراضات کی بوچھاڑ کی ہےاور اسلام کے بارے میں لوگوں کے ذہنوں میں غلط تصورات پیدا کرنے کی مساعی ناپاک کی ہے۔اس لیئے یہ ضروری ہے کہ جزیہ کے متعلق زرا تفصیل سے لکھا جائے تاکہ معترضین کے اعتراضات کی حقیقت طشت از بام کی جا سکےاور اسلام کے اس بے لاگ انصافی کے نظام کے متعلق شکوک و شبہات کا ازالہ کیا جا سکے۔ اسلامی مملکت کے باشندوں کوہم دو حصوں میں تقسیم کر سکتے ہیں ٭مسلم رعایا ٭ غیر مسلم رعایا غیر مسلم رعایا کی بھی آگے دو قسمیں ہیں ۔ ایک وہ جنہوں نے جنگ کیئے بغیر صلح کی اور صلح نامے کے مطابق اسلامی مملکت کی شہریت قبول کر لی اور دوسرے وہ جنہوں نے جنگ میں شکست کھانے کے بعد گھٹنے ٹیکے اور اسلامی مملکت میں پر امن شہری کے طور پر سکونت پذیر ہو گئے ۔ان دونوں قسموں کو آسانی سے ہم اہل ذمہ کے نام سے موسوم کر سکتے ہیں ۔ مملکت اسلامیہ میں سکونت پذیر ان تینوں طبقات کی جان ومال عزت و آبرو کی حفاظت کی مکمل ذمہ داری اسلامی حکومت پرعائد ہوتی ہے ۔یہ ذمہ داری صرف قول کی حد تک نہین بلکہ عملی طور پر اس سے عہدہ برآ ہونا اسلامی حکومت کا دینی فریضہ ہے۔ غیر مسلم رعایاکی جان و مال اور عزت و آبرو کی حفاظت کے لیئے ہادی برحق ﷺ نے جو تاکیدی ارشادات فرمائے ان کی فصاحت و بلاغت اور زور بیاں سے پتھر دل بھی پسیج جاتے ہیں اور رعونت سے اکڑی گردنیں جھک جاتی ہیں ۔
ان ان گنت فرامین میں سے چند ایک درج ذیل ہیں :۔
٭ ایک دفعہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے ایک صحابی حضرت عبد اللہ بن ارقم رضی اللہ عنہ کو اہل ذمہ سے جزیہ وصول کرنے کو بھیجا ۔ جب وہ بارگاہ رسالت سے رخصت لے کر روانہ ہوئے تو نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والتسلیم نے انہیں اپنے پاس بلایا اور ارشاد فرمایا:۔ "اے عبد اللہ ! ! جس نے بھی کسی معاہد (اہل ذمہ) پر ظلم کیا، یا اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف دی ،یا اسے نقصان پہنچایا، یا اس کی رضامندی کے بغیر اس کی کوئی چیز لی تو قیامت کے روز میں اس کا گریبان پکڑوں گا ۔"
(کتاب الخراج امام ابو یوسف یعقوب بن ابراہیم ص 150)
غور فرمایئے جو شخص حضور اکرم ﷺ کو اپنا نبی اور ہادی تسلیم کرتا ہے کیا وہ برداشت کر سکتا ہے کہ وہ ایسے جرم کا ارتکاب کرے جس کے باعث روز قیامت شفیع المذنبین ﷺ اس کا گریبان پکڑ کر اللہ عزوجل کی بارگاہ میں پیش کریں۔اس سے بلیغ تر اسلوب ناممکن ہے ۔
٭ حضرت نافع حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ "آپ نے بتایا کہ رسول اللہ ﷺ نے دنیا سے انتقال فرماتے ہوئے جو آخری بات فرمائی وہ یہ تھی کہ میں نے جن لوگوں کی جان و مال عزت و آبرو کی حفاظت کی ذمہ داری اٹھائی ہے اس کی لاج رکھنا اور اس پر آنچ نہ آنے دینا۔"
(ابو یعلی محمد بن الحسین الفراء الحنبلی، الاحکام السلطانیہ ص 154)
کیا شان ہے اس نبی رحمت ﷺ کی کہ آخری وقت میں بھی مملکت اسلامیہ کی غیر مسلم رعایا کا اتنا خیال رہا اور اپنی امت کو وصیت کی اور اس طرف توجہ دلائی کہ کسی غیر مسلم پر زیادتی کر کے تم یہ نہ سمجھو کہ تم نے غیر مسلم پر صرف زیادتی کی ہے بلکہ درحقیقت تم نے میرے عہد کو توڑا ہے۔جس کے ایفاء کی میں نے ذمہ داری قبول کی تھی ۔اس کی سنگینی اور سزا کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔ پہلی حدیث کے ذریعہ سے بھی مسلمانوں کی توجہ اس حقیقت کی طرف دلائی کہ اگر تم نے اسلامی مملکت کے کسی غیر مسلم شہری کی جان و مال عزت و آبرو پر دست درازی کی تو تم یہ نہ سمجھنا کہ تمہارے مسلمان ہونے یا اعمال حسنہ کی وجہ سے پردہ پوشی کر لی جائے گی ۔ ہر گز نہیں بلکہ میں خود روز قیامت تمہارا گریبان پکڑ کر بارگاہ ایزدی میں تمہارے خلاف مقدمہ دائر کروں گا ! حضور نبی کریم روؤف الرحیم ﷺ کے خلفاء راشدین نے بھی اس حکم نامے کو ہمیشہ اپنے پیش نظر رکھا ۔یہاں تک کہ حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے بھی جو آخرئ وصیت فرمائی اس کا تعلق بھی غیر مسلم رعایا سے تھا ۔آپ شدید زخمی ہیں زندگی کے آخری لمحے ہیں اس وقت آپ نے جو گفتگو فرمائی وہ بھی ملاحظہ فرمائیں تاکہ یہ بات واضح ہو جائے کہ اسلامی سلطنت کی غیر مسلم رعایا کی جان و مال عزت و آبرو کی اسلام کے نزدیک کیا قدر ومنزلت ہے! قاضی امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ :۔
" حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی وفات کے وقت جو گفتگو فرمائی وہ یہ تھی کہ میں اپنے بعد منصب خلافت کے لیئے مقرر ہونے والے خلیفہ کو رسول اللہ ﷺ کے ذمہ کی وصیت کرتا ہوں ۔ یعنی اہل ذمہ کے ساتھ جو معاہدہ کیا گیا ہے وہ اسے پورا کرے۔اگر ان پر بیرونی یا اندرونی دشمن حملہ آور ہو تو اپنی فوجوں سے ان کا دفاع کرے ۔اور ان پر کوئی ایسا بوجھ نہ ڈالے جس کو اٹھانے کی ان میں طاقت نہ ہو۔"
(کتاب الخراج 149)
اسلام کا فوجداری اور دیوانی قانون مسلم و غیر مسلم کے لیئے بلکل یکساں ہے ۔یعنی اگر کوئی مسلمان کسی ذمی کو قتل کرے گا تو مسلمان ہونے کی وجہ سے اس کے ساتھ کوئی رعایت نہ برتی جائے گی بلکہ اس سے اسی طرح قصاص لیا جائے گا جیسے مسلم مقتول کا لیا جاتا ہے ۔ چنانچہ ایک دفعہ عہد رسالت میں ایک مسلمان نے ایک ذمی کو قتل کر دیا۔ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اس قاتل کو قصاص میں قتل کر دیا جائے۔ چنانچہ اس کا سر قلم کر دیا گیا ۔حضور اکرم ﷺ نے فرمایا: "میں سب سے زیادہ اس بات کا حق دار ہوں کہ اپنی ذمہ داری کو پورا کروں۔"
(العنایہ شرح الہدایہ امام محمد بن محمود البابرتی)
اسی طرح سیدنا علی کرم اللہ وجہہ کے زمانے میں بھی ایک مسلمان نے ذمی کو قتل کر دیا مقتول کے بھائی نے قاتل کو معاف کر دیا۔ لیکن حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو اطمینان نہ ہوا آپ نے اسے اپنے پاس بلایا اور پوچھا کہ شاید ان لوگوں نے تمہیں ڈرایا ہو یا دھمکی دی ہو اور اس لیئے تم نے قصاص معاف کر دیا ہو۔ اس نے عرض کی اے امیر المؤمنین!میں نے اپنے مقتول بھائی کی دیت لے لی ہے اور میں نے اس کا خون معاف کر دیا ہے۔ تب آپ نے اس قاتل کو رہا کر دیا اور ایک ایسا جملہ ارشاد فرمایاجس میں اسلام کے قانون کا خلاصہ بیان کر دیا گیا ۔ فرمایا: " ان لوگوں نے اس لیئے ذمی کے معاہدے کو قبول کر لیا ہے تاکہ ان کا مال ہمارے مالوں کی طرح اور ان کے خون ہمارے خونوں کی طرح ہو جائیں "
(برہان شرح مواہب الرحمان)
یہ ہے اپنی غیر مسلم رعایا کے بارے میں اسلام کا طرز عمل ! کیا دنیا کا کوئی اور نظام اس کی ہمسری کا دعویٰ کر سکتا ہے ؟ جب مملکت اسلامیہ کے ہر شہری کی جان و مال عزت و آبرو کی ذمہ داری اسلامی حکومت کی ہے تو ہر محب وطن شہری پر بھی لازم ہے کہ وہ اپنی استطاعت کے مطابق بیت المال میں حصہ داخل کرے تاکہ اسلامی مملکت کی سرحدوں کی حفاظت اور اندرون ملک امن و امان برقرار رکھنے کے لیئے اخراجات برداشت کر سکے ۔مسلمان رعایا بیت المال میں جو رقم جمع کراتی ہے اسے زکوٰۃ و عشر کہتے ہیں ۔یہ زکوٰۃ و عشر مردوو عورت اور بچوں(بچوں پر صرف عشر) سب پر فرض ہے۔اور ذمی رعایا جو رقم بیت المال میں جمع کراتی ہے اسے جزیہ کہتے ہیں ۔یہ وہ جزیہ ہے جس کے بارے میں اسلام کے سیاسی حریفوں نے کہرام مچا کر رکھا ہوا ہے۔اسلام کے رخ زیبا کو شکوک و شبہات کی گرد سے غبار آلود کرنے میں اپنی ساری قوتیں صرف کر رہے ہیں ۔کبھی کہتے ہیں کہ غیر مسلموں کے ساتھ امتیازی سلوک برتا جاتا ہے ۔ جزیہ صرف غیر مسلموں سے وصول کیا جاتا ہے مسلمانوں سے نہیں کیا جاتا۔ ایک مملکت کا شہری ہونے کے ناطے دونوں کے ساتھ مساویانہ سلوک ہونا چاہیئے تھالیکن اسلام نے غیر مسلموں کے ساتھ امتیازی سلوک برتا ہے ۔ کبھی ہتے ہیں کہ غیر مسلموں کی مالی مشکلات بڑھانے کے لیئے ان پر جزیہ کی ادائیگی ضروری قرار دی گئی ہے ۔ ان کے تمام اعتراضات کی تان اس پر آ کر ٹوٹتی ہے کہ جزیہ کا اصل مقصد یہ ہے کہ غیر مسلموں پر یہ مالی تاوان لگا کر انہیں مجبور کیا جائے کہ وہ اسلام قبول کر لیں ! ان اعتراضات کا حقائق کی روشنی میں جائزہ لیتے ہیں :۔
کہا جاتا ہے کہ جزیہ صرف غیر مسلموں سے وصول کیا جاتا ہے مسلمانوں سے وصول نہیں کیا جاتا۔اور یہ ناروا سلوک ہے۔ اس کے بارے میں عرض ہے کہ یہ بلکل جھوٹا الزام ہے جیسا کہ پہلے بھی بتایا جا چکا مسلمان بھی اپنے کمائے ہوئے مال سے حصہ دیتے ہیں جسے زکوٰۃ و عشر کہا جاتا ہے ۔اور وہ مقدار میں جزیہ سے کئی گناہ زیادہ ہے۔ نیز اگر مسلمانوں کے پاس مویشی ہوں بھیڑ ، بکریاں، گائے، بھینس، گھوڑے اور اونٹ تو ان کی بھی زکوٰۃ مسلمانوں کوا دا کرنی پڑتی ہے۔حالانکہ ذمی رعایا سے مویشیوں پر کسی بھی قسم کا لگان یا ٹیکس ادا نہیں کرنا پڑتا۔ مسلمان عورت اگر صاحب نصاب ہو یا بچہ اگر اگر صاحب نصاب ہو تو اس کو بھی لازمی طور پر اپنے اموال کی زکوٰۃ و عشر دینا پڑتا ہے۔اس کے برعکس کسی ذمی عورت اور بچے سے کوئی جزیہ نہیں لیا جاتا۔خود ہی سوچیئے کہ اسلام نے مالی ذمہ داریوں کے نقطہ نظر سے ذمیوں کو کس قدر مراعات سے بہرہ ور کیا ہے۔ بجائے اس کے کہ ان حقائق کو سمجھا جاتا ، اعتراف کیا جاتا، اور اسلام کی فیاضی کا شکریہ ادا کیا جاتا، الٹا یہ الزام عائد کیا جاتا رہا کہ اسلام غیر مسلم رعایا سے امتیازی سلوک روا رکھتا ہے۔اب خود ہی فیصلہ کریں کہ یہ الزام کس حد تک درست ہے ؟ دوسرا یہ الزام کے جزیہ ایک مالی تاوان ہےجس سے اسلامی حکومت اپنی غیر مسلم رعایا کو زیر بار کرتی ہےاور ان کو مالی دشواریوں سے دوچار کرتی ہےاس کے بارے میں اتنا ہی کہنا کافی ہے کہ اگر آپ جزیہ کی مقدار سے آگاہ ہو جائیں تو یہ الزام خود بخود کالعدم ہو جائے گا ۔
امام اعظم امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے مطابق غیر مسلموں کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ دولت مند طبقہ متوسط طبقہ فقراء امراء پر اڑتالیس درہم سالانہ یعنی چار درہم ماہوار، متوسط طبقہ پر چوبیس درہم سالانہ یعنی دو درہم ماہوار اور تیسرے طبقہ پر بارہ درہم سالانہ یعنی ایک درہم ماہوار ! اب آپ خود سوچیئے کہ کیا یہ اتنا بڑا "بوجھ" ہے جو ان کے لیئے ناقابل برداشت ہے ؟؟؟ اور ان کو طرح طرح کی مالی پریشانیوں میں مبتلاء کرنے کا باعث بن سکتا ہے ؟یہ ایک نہایت قلیل اور حقیر سی رقم ہے جو قطعاََ بوجھ تصور نہیں کیا جا سکتا۔ ان کی آخری تہمت کہ جزیہ وصول کرنے کا مقصد یہ ہے کہ غیر مسلموں کو اسلام قبول کرنے پر مجبور کیا جائے ۔ اس کے سراسر کذب و افتراء ہونے میں کوئی شک و شبہہ نہیں ۔جس دین کا بنیادی اصول ہی ہو "لا اکراہ فی الدین" ، اس دین کے پیروکار کسی پر جبر کر کے اسے مسلمان بنانے میں کیوں اپنی طاقت اور وقت صرف کریں گے ؟کیا عقیدہ اتنی حقیر اور کم مایہ چیز ہے کہ اتنی قلیل سی رقم کی ادائیگی سے بچنے کے لیئے انسان اپنے پہلے عقیدے کو چھوڑ کر ایک نیا عقیدہ قبول کر لے جس کو اس کا ضمیر تسلیم نہیں کرتا ۔لوگ تو اپنے عقیدہ کے لیئے وطن چھوڑ دیتے ہین اپنی عمر بھر کی کمائی پر لات مار دیتے ہیں اور اپنے عقیدہ کی راہ میں سر کٹانا پڑے تو اس کو بھی بصد مسرت قبول کر لیتے ہیں ۔ عقیدہ اتنی سستی اور ارزاں چیز نہیں کہ لوگ اتنی حقیر اور قلیل رقم کے بدلے تبدیل کر لیں ۔
یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ ہر غیر مسلم پر جزیہ کی ادائیگی لازم نہیں بلکہ اس کے لیئے کچھ شرائط کاپایا جانا ضروری ہے ۔ اگر ان شرائط میں سے کوئی شرط نہیں پائی جائے گی تو جزیہ ساقط ہو جائے گا۔ جزیہ ادا کرنے کی شرائط درج ذیل ہیں ٭ عاقل و بالغ ہو اور مرد ہو۔ ٭ جسمانی عوارض سے محفوظ ہو ۔ یعنی اپاہج، اندھا، پیر فرتوت اور دائم المرض نہ ہو۔ ٭ آزاد ہو ٭ ایسا مفلس نہ ہو جو بے روزگار ہو۔ ان شرائط سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ نابالغ، دیوانہ، بچہ ، عورت، اپاہج، اندھا، پیر فرتوت، دائم المرض، غلام اور بے روزگار سے جزیہ وصول نہیں کیا جاتایہ سب لوگ جزیہ کے حکم سے مستشنیٰ ہیں۔اگر جزیہ کا مقصد غیر مسلموں کو جبراََ مسلمان بنانا ہوتا تو ان سب پر ضرور جزیہ لگایا جاتا۔کم از کم نابالغ بچے اور عورت سے تو ضرور جزیہ وصول کیا جاتا کیونکہ نابالغ مسلمان بچے اور عورت سے بھی زکوٰۃ اور عشر لیا جاتا ہے ان تمام افراد کو مستشنیٰ کرنے سے کیا ان لوگوں کے اس الزام کی تردید نہیں ہو جاتی کہ جزیہ کا مقصد لوگوں کو جبراََ مسلمان بنانا ہے ؟ اور یہ صرف نظریات ہی نہیں بلکہ مسلمانوں نے اپنے عہد اقتدار میں ان احکامات پر عمل بھی کیا ہے ۔
امام ابو یوسف رحمہ اللہ اپنی کتاب الخراج میں فرماتے ہیں کہ : حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے جن غیر مسلم قوموں اور قبیلوں سے صلح کی ان کو صلح نامے لکھ کر دیئے ان میں یہ جملہ موجود ہے کہ "اگر کوئی بوڑھا کام کرنے کے قابل نہ رہے یا بدنی بیماریوں میں سے اسے کوئی بیماری لگ جائےیا پہلے وہ غنی تھا اب محتاج ہو گیا اور اس کے مذہب والے اس کو صدقہ و خیرات دینے لگیں، ان حالات میں اس سے جزیہ ساقط ہو جائے گا۔اور اس کا اور اس کے اہل و عیال کا خرچ بیت المال سے ادا کیا جائے گا جب تک سلطنت اسلامیہ میں سکونت پذیر رہے ۔" جزیہ کی اصل وجہ :۔ جزیہ کے متعلق اسلام کے سیاسی حریفوں کے پیدا کیئے شکوک و شبہات کے طشت ازبام ہونے کے بعد یہ بات تو بلکل واضح ہو چکی کہ جزیہ کا مقصد نہ تو غیر مسلم رعایا سے امتیازی سلوک ہے نہ انہیں زیربار لانا ہے اور نہ ہی زبردستی اسلام قبول کرانا۔ آیئے دیکھتے ہیں کہ اس کی اصل وجہ کیا ہے ؟ مسلم اور غیر مسلم سے جو الگ الگ رقم وصول کی جاتی ہے اس کے مختلف ناموں کی وجہ یہ ہے کہ زکوٰۃ یا عشر جو مسلمانوں کے ذمہ واجب الادا ء ہےیہ اسلام کی دوسری عبادتوں کی طرح ہی ایک عبادت ہے۔اور غیر مسلم رعایا جو اسلام کو نہیں مانتی ان کی ادا کی گئی رقم کو زکوٰۃ یا عشر سے موسوم کرنا قرین انصاف نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اسلام ان کو اپنے نظام عبادات پر عمل کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جو اس کی سچائی کو مانتے ہی نہیں ۔یہ کتنی بے انصافی کی بات ہے کہ ان غیر مسلموں کو اسلام کے پیش کردہ نظام عبادات کا پابند بنایا جائے۔ اسلام کی عادلانہ روح اس چیز کو قبول نہیں کر سکتی۔ اس لیئے ان کے ذمہ جو واجبات ہیں ان کو الگ نام دیا گیا اور ان کی مقدار بھی کم رکھی گئی تاکہ مسلمانوں کے واجبات اور غیرم مسلم ذمیوں کے واجبات کے درمیان امتیاز باقی رہے۔ اس قدر عادلانہ اور انسانی حقوق کے پاسدار دین کی مخالفت کرنا سورج کو چراغ دکھانے اور چاند پر تھوکنے کے مترادف ہے !

منتخب تحریریں

 جزیہ ایک ٹیکس ہے جو اسلامی مملکت کے غیر مسلم شہریوں سے وصول کیا جاتا ہے ۔جو اسلامی مملکت کی بالادستی کو قبول کرتے ہوئے ایک پر امن شہری کی طرح وہاں آباد ہونے کا معاہدہ کریں ۔دشمنان اسلام نے جزیہ کی وجہ سے اسلامی نظام سیاست پر اعتراضات کی بوچھاڑ کی ہےاور اسلام کے بارے میں لوگوں کے ذہنوں میں غلط تصورات پیدا کرنے کی مساعی ناپاک کی ہے۔اس لیئے یہ ضروری ہے کہ جزیہ کے متعلق زرا تفصیل سے لکھا جائے تاکہ معترضین کے اعتراضات کی حقیقت طشت از بام کی جا سکےاور اسلام کے اس بے لاگ انصافی کے نظام کے متعلق شکوک و شبہات کا ازالہ کیا جا سکے۔ اسلامی مملکت کے باشندوں کوہم دو حصوں میں تقسیم کر سکتے ہیں ٭مسلم رعایا ٭ غیر مسلم رعایا غیر مسلم رعایا کی بھی آگے دو قسمیں ہیں ۔ ایک وہ جنہوں نے جنگ کیئے بغیر صلح کی اور صلح نامے کے مطابق اسلامی مملکت کی شہریت قبول کر لی اور دوسرے وہ جنہوں نے جنگ میں شکست کھانے کے بعد گھٹنے ٹیکے اور اسلامی مملکت میں پر امن شہری کے طور پر سکونت پذیر ہو گئے ۔ان دونوں قسموں کو آسانی سے ہم اہل ذمہ کے نام سے موسوم کر سکتے ہیں ۔ مملکت اسلامیہ میں سکونت پذیر ان تینوں طبقات کی جان ومال عزت و آبرو کی حفاظت کی مکمل ذمہ داری اسلامی حکومت پرعائد ہوتی ہے ۔یہ ذمہ داری صرف قول کی حد تک نہین بلکہ عملی طور پر اس سے عہدہ برآ ہونا اسلامی حکومت کا دینی فریضہ ہے۔ غیر مسلم رعایاکی جان و مال اور عزت و آبرو کی حفاظت کے لیئے ہادی برحق ﷺ نے جو تاکیدی ارشادات فرمائے ان کی فصاحت و بلاغت اور زور بیاں سے پتھر دل بھی پسیج جاتے ہیں اور رعونت سے اکڑی گردنیں جھک جاتی ہیں ۔
ان ان گنت فرامین میں سے چند ایک درج ذیل ہیں :۔
٭ ایک دفعہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے ایک صحابی حضرت عبد اللہ بن ارقم رضی اللہ عنہ کو اہل ذمہ سے جزیہ وصول کرنے کو بھیجا ۔ جب وہ بارگاہ رسالت سے رخصت لے کر روانہ ہوئے تو نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والتسلیم نے انہیں اپنے پاس بلایا اور ارشاد فرمایا:۔ "اے عبد اللہ ! ! جس نے بھی کسی معاہد (اہل ذمہ) پر ظلم کیا، یا اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف دی ،یا اسے نقصان پہنچایا، یا اس کی رضامندی کے بغیر اس کی کوئی چیز لی تو قیامت کے روز میں اس کا گریبان پکڑوں گا ۔"
(کتاب الخراج امام ابو یوسف یعقوب بن ابراہیم ص 150)
غور فرمایئے جو شخص حضور اکرم ﷺ کو اپنا نبی اور ہادی تسلیم کرتا ہے کیا وہ برداشت کر سکتا ہے کہ وہ ایسے جرم کا ارتکاب کرے جس کے باعث روز قیامت شفیع المذنبین ﷺ اس کا گریبان پکڑ کر اللہ عزوجل کی بارگاہ میں پیش کریں۔اس سے بلیغ تر اسلوب ناممکن ہے ۔
٭ حضرت نافع حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ "آپ نے بتایا کہ رسول اللہ ﷺ نے دنیا سے انتقال فرماتے ہوئے جو آخری بات فرمائی وہ یہ تھی کہ میں نے جن لوگوں کی جان و مال عزت و آبرو کی حفاظت کی ذمہ داری اٹھائی ہے اس کی لاج رکھنا اور اس پر آنچ نہ آنے دینا۔"
(ابو یعلی محمد بن الحسین الفراء الحنبلی، الاحکام السلطانیہ ص 154)
کیا شان ہے اس نبی رحمت ﷺ کی کہ آخری وقت میں بھی مملکت اسلامیہ کی غیر مسلم رعایا کا اتنا خیال رہا اور اپنی امت کو وصیت کی اور اس طرف توجہ دلائی کہ کسی غیر مسلم پر زیادتی کر کے تم یہ نہ سمجھو کہ تم نے غیر مسلم پر صرف زیادتی کی ہے بلکہ درحقیقت تم نے میرے عہد کو توڑا ہے۔جس کے ایفاء کی میں نے ذمہ داری قبول کی تھی ۔اس کی سنگینی اور سزا کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔ پہلی حدیث کے ذریعہ سے بھی مسلمانوں کی توجہ اس حقیقت کی طرف دلائی کہ اگر تم نے اسلامی مملکت کے کسی غیر مسلم شہری کی جان و مال عزت و آبرو پر دست درازی کی تو تم یہ نہ سمجھنا کہ تمہارے مسلمان ہونے یا اعمال حسنہ کی وجہ سے پردہ پوشی کر لی جائے گی ۔ ہر گز نہیں بلکہ میں خود روز قیامت تمہارا گریبان پکڑ کر بارگاہ ایزدی میں تمہارے خلاف مقدمہ دائر کروں گا ! حضور نبی کریم روؤف الرحیم ﷺ کے خلفاء راشدین نے بھی اس حکم نامے کو ہمیشہ اپنے پیش نظر رکھا ۔یہاں تک کہ حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے بھی جو آخرئ وصیت فرمائی اس کا تعلق بھی غیر مسلم رعایا سے تھا ۔آپ شدید زخمی ہیں زندگی کے آخری لمحے ہیں اس وقت آپ نے جو گفتگو فرمائی وہ بھی ملاحظہ فرمائیں تاکہ یہ بات واضح ہو جائے کہ اسلامی سلطنت کی غیر مسلم رعایا کی جان و مال عزت و آبرو کی اسلام کے نزدیک کیا قدر ومنزلت ہے! قاضی امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ :۔
" حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی وفات کے وقت جو گفتگو فرمائی وہ یہ تھی کہ میں اپنے بعد منصب خلافت کے لیئے مقرر ہونے والے خلیفہ کو رسول اللہ ﷺ کے ذمہ کی وصیت کرتا ہوں ۔ یعنی اہل ذمہ کے ساتھ جو معاہدہ کیا گیا ہے وہ اسے پورا کرے۔اگر ان پر بیرونی یا اندرونی دشمن حملہ آور ہو تو اپنی فوجوں سے ان کا دفاع کرے ۔اور ان پر کوئی ایسا بوجھ نہ ڈالے جس کو اٹھانے کی ان میں طاقت نہ ہو۔"
(کتاب الخراج 149)
اسلام کا فوجداری اور دیوانی قانون مسلم و غیر مسلم کے لیئے بلکل یکساں ہے ۔یعنی اگر کوئی مسلمان کسی ذمی کو قتل کرے گا تو مسلمان ہونے کی وجہ سے اس کے ساتھ کوئی رعایت نہ برتی جائے گی بلکہ اس سے اسی طرح قصاص لیا جائے گا جیسے مسلم مقتول کا لیا جاتا ہے ۔ چنانچہ ایک دفعہ عہد رسالت میں ایک مسلمان نے ایک ذمی کو قتل کر دیا۔ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اس قاتل کو قصاص میں قتل کر دیا جائے۔ چنانچہ اس کا سر قلم کر دیا گیا ۔حضور اکرم ﷺ نے فرمایا: "میں سب سے زیادہ اس بات کا حق دار ہوں کہ اپنی ذمہ داری کو پورا کروں۔"
(العنایہ شرح الہدایہ امام محمد بن محمود البابرتی)
اسی طرح سیدنا علی کرم اللہ وجہہ کے زمانے میں بھی ایک مسلمان نے ذمی کو قتل کر دیا مقتول کے بھائی نے قاتل کو معاف کر دیا۔ لیکن حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو اطمینان نہ ہوا آپ نے اسے اپنے پاس بلایا اور پوچھا کہ شاید ان لوگوں نے تمہیں ڈرایا ہو یا دھمکی دی ہو اور اس لیئے تم نے قصاص معاف کر دیا ہو۔ اس نے عرض کی اے امیر المؤمنین!میں نے اپنے مقتول بھائی کی دیت لے لی ہے اور میں نے اس کا خون معاف کر دیا ہے۔ تب آپ نے اس قاتل کو رہا کر دیا اور ایک ایسا جملہ ارشاد فرمایاجس میں اسلام کے قانون کا خلاصہ بیان کر دیا گیا ۔ فرمایا: " ان لوگوں نے اس لیئے ذمی کے معاہدے کو قبول کر لیا ہے تاکہ ان کا مال ہمارے مالوں کی طرح اور ان کے خون ہمارے خونوں کی طرح ہو جائیں "
(برہان شرح مواہب الرحمان)
یہ ہے اپنی غیر مسلم رعایا کے بارے میں اسلام کا طرز عمل ! کیا دنیا کا کوئی اور نظام اس کی ہمسری کا دعویٰ کر سکتا ہے ؟ جب مملکت اسلامیہ کے ہر شہری کی جان و مال عزت و آبرو کی ذمہ داری اسلامی حکومت کی ہے تو ہر محب وطن شہری پر بھی لازم ہے کہ وہ اپنی استطاعت کے مطابق بیت المال میں حصہ داخل کرے تاکہ اسلامی مملکت کی سرحدوں کی حفاظت اور اندرون ملک امن و امان برقرار رکھنے کے لیئے اخراجات برداشت کر سکے ۔مسلمان رعایا بیت المال میں جو رقم جمع کراتی ہے اسے زکوٰۃ و عشر کہتے ہیں ۔یہ زکوٰۃ و عشر مردوو عورت اور بچوں(بچوں پر صرف عشر) سب پر فرض ہے۔اور ذمی رعایا جو رقم بیت المال میں جمع کراتی ہے اسے جزیہ کہتے ہیں ۔یہ وہ جزیہ ہے جس کے بارے میں اسلام کے سیاسی حریفوں نے کہرام مچا کر رکھا ہوا ہے۔اسلام کے رخ زیبا کو شکوک و شبہات کی گرد سے غبار آلود کرنے میں اپنی ساری قوتیں صرف کر رہے ہیں ۔کبھی کہتے ہیں کہ غیر مسلموں کے ساتھ امتیازی سلوک برتا جاتا ہے ۔ جزیہ صرف غیر مسلموں سے وصول کیا جاتا ہے مسلمانوں سے نہیں کیا جاتا۔ ایک مملکت کا شہری ہونے کے ناطے دونوں کے ساتھ مساویانہ سلوک ہونا چاہیئے تھالیکن اسلام نے غیر مسلموں کے ساتھ امتیازی سلوک برتا ہے ۔ کبھی ہتے ہیں کہ غیر مسلموں کی مالی مشکلات بڑھانے کے لیئے ان پر جزیہ کی ادائیگی ضروری قرار دی گئی ہے ۔ ان کے تمام اعتراضات کی تان اس پر آ کر ٹوٹتی ہے کہ جزیہ کا اصل مقصد یہ ہے کہ غیر مسلموں پر یہ مالی تاوان لگا کر انہیں مجبور کیا جائے کہ وہ اسلام قبول کر لیں ! ان اعتراضات کا حقائق کی روشنی میں جائزہ لیتے ہیں :۔
کہا جاتا ہے کہ جزیہ صرف غیر مسلموں سے وصول کیا جاتا ہے مسلمانوں سے وصول نہیں کیا جاتا۔اور یہ ناروا سلوک ہے۔ اس کے بارے میں عرض ہے کہ یہ بلکل جھوٹا الزام ہے جیسا کہ پہلے بھی بتایا جا چکا مسلمان بھی اپنے کمائے ہوئے مال سے حصہ دیتے ہیں جسے زکوٰۃ و عشر کہا جاتا ہے ۔اور وہ مقدار میں جزیہ سے کئی گناہ زیادہ ہے۔ نیز اگر مسلمانوں کے پاس مویشی ہوں بھیڑ ، بکریاں، گائے، بھینس، گھوڑے اور اونٹ تو ان کی بھی زکوٰۃ مسلمانوں کوا دا کرنی پڑتی ہے۔حالانکہ ذمی رعایا سے مویشیوں پر کسی بھی قسم کا لگان یا ٹیکس ادا نہیں کرنا پڑتا۔ مسلمان عورت اگر صاحب نصاب ہو یا بچہ اگر اگر صاحب نصاب ہو تو اس کو بھی لازمی طور پر اپنے اموال کی زکوٰۃ و عشر دینا پڑتا ہے۔اس کے برعکس کسی ذمی عورت اور بچے سے کوئی جزیہ نہیں لیا جاتا۔خود ہی سوچیئے کہ اسلام نے مالی ذمہ داریوں کے نقطہ نظر سے ذمیوں کو کس قدر مراعات سے بہرہ ور کیا ہے۔ بجائے اس کے کہ ان حقائق کو سمجھا جاتا ، اعتراف کیا جاتا، اور اسلام کی فیاضی کا شکریہ ادا کیا جاتا، الٹا یہ الزام عائد کیا جاتا رہا کہ اسلام غیر مسلم رعایا سے امتیازی سلوک روا رکھتا ہے۔اب خود ہی فیصلہ کریں کہ یہ الزام کس حد تک درست ہے ؟ دوسرا یہ الزام کے جزیہ ایک مالی تاوان ہےجس سے اسلامی حکومت اپنی غیر مسلم رعایا کو زیر بار کرتی ہےاور ان کو مالی دشواریوں سے دوچار کرتی ہےاس کے بارے میں اتنا ہی کہنا کافی ہے کہ اگر آپ جزیہ کی مقدار سے آگاہ ہو جائیں تو یہ الزام خود بخود کالعدم ہو جائے گا ۔
امام اعظم امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے مطابق غیر مسلموں کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ دولت مند طبقہ متوسط طبقہ فقراء امراء پر اڑتالیس درہم سالانہ یعنی چار درہم ماہوار، متوسط طبقہ پر چوبیس درہم سالانہ یعنی دو درہم ماہوار اور تیسرے طبقہ پر بارہ درہم سالانہ یعنی ایک درہم ماہوار ! اب آپ خود سوچیئے کہ کیا یہ اتنا بڑا "بوجھ" ہے جو ان کے لیئے ناقابل برداشت ہے ؟؟؟ اور ان کو طرح طرح کی مالی پریشانیوں میں مبتلاء کرنے کا باعث بن سکتا ہے ؟یہ ایک نہایت قلیل اور حقیر سی رقم ہے جو قطعاََ بوجھ تصور نہیں کیا جا سکتا۔ ان کی آخری تہمت کہ جزیہ وصول کرنے کا مقصد یہ ہے کہ غیر مسلموں کو اسلام قبول کرنے پر مجبور کیا جائے ۔ اس کے سراسر کذب و افتراء ہونے میں کوئی شک و شبہہ نہیں ۔جس دین کا بنیادی اصول ہی ہو "لا اکراہ فی الدین" ، اس دین کے پیروکار کسی پر جبر کر کے اسے مسلمان بنانے میں کیوں اپنی طاقت اور وقت صرف کریں گے ؟کیا عقیدہ اتنی حقیر اور کم مایہ چیز ہے کہ اتنی قلیل سی رقم کی ادائیگی سے بچنے کے لیئے انسان اپنے پہلے عقیدے کو چھوڑ کر ایک نیا عقیدہ قبول کر لے جس کو اس کا ضمیر تسلیم نہیں کرتا ۔لوگ تو اپنے عقیدہ کے لیئے وطن چھوڑ دیتے ہین اپنی عمر بھر کی کمائی پر لات مار دیتے ہیں اور اپنے عقیدہ کی راہ میں سر کٹانا پڑے تو اس کو بھی بصد مسرت قبول کر لیتے ہیں ۔ عقیدہ اتنی سستی اور ارزاں چیز نہیں کہ لوگ اتنی حقیر اور قلیل رقم کے بدلے تبدیل کر لیں ۔
یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ ہر غیر مسلم پر جزیہ کی ادائیگی لازم نہیں بلکہ اس کے لیئے کچھ شرائط کاپایا جانا ضروری ہے ۔ اگر ان شرائط میں سے کوئی شرط نہیں پائی جائے گی تو جزیہ ساقط ہو جائے گا۔ جزیہ ادا کرنے کی شرائط درج ذیل ہیں ٭ عاقل و بالغ ہو اور مرد ہو۔ ٭ جسمانی عوارض سے محفوظ ہو ۔ یعنی اپاہج، اندھا، پیر فرتوت اور دائم المرض نہ ہو۔ ٭ آزاد ہو ٭ ایسا مفلس نہ ہو جو بے روزگار ہو۔ ان شرائط سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ نابالغ، دیوانہ، بچہ ، عورت، اپاہج، اندھا، پیر فرتوت، دائم المرض، غلام اور بے روزگار سے جزیہ وصول نہیں کیا جاتایہ سب لوگ جزیہ کے حکم سے مستشنیٰ ہیں۔اگر جزیہ کا مقصد غیر مسلموں کو جبراََ مسلمان بنانا ہوتا تو ان سب پر ضرور جزیہ لگایا جاتا۔کم از کم نابالغ بچے اور عورت سے تو ضرور جزیہ وصول کیا جاتا کیونکہ نابالغ مسلمان بچے اور عورت سے بھی زکوٰۃ اور عشر لیا جاتا ہے ان تمام افراد کو مستشنیٰ کرنے سے کیا ان لوگوں کے اس الزام کی تردید نہیں ہو جاتی کہ جزیہ کا مقصد لوگوں کو جبراََ مسلمان بنانا ہے ؟ اور یہ صرف نظریات ہی نہیں بلکہ مسلمانوں نے اپنے عہد اقتدار میں ان احکامات پر عمل بھی کیا ہے ۔
امام ابو یوسف رحمہ اللہ اپنی کتاب الخراج میں فرماتے ہیں کہ : حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے جن غیر مسلم قوموں اور قبیلوں سے صلح کی ان کو صلح نامے لکھ کر دیئے ان میں یہ جملہ موجود ہے کہ "اگر کوئی بوڑھا کام کرنے کے قابل نہ رہے یا بدنی بیماریوں میں سے اسے کوئی بیماری لگ جائےیا پہلے وہ غنی تھا اب محتاج ہو گیا اور اس کے مذہب والے اس کو صدقہ و خیرات دینے لگیں، ان حالات میں اس سے جزیہ ساقط ہو جائے گا۔اور اس کا اور اس کے اہل و عیال کا خرچ بیت المال سے ادا کیا جائے گا جب تک سلطنت اسلامیہ میں سکونت پذیر رہے ۔" جزیہ کی اصل وجہ :۔ جزیہ کے متعلق اسلام کے سیاسی حریفوں کے پیدا کیئے شکوک و شبہات کے طشت ازبام ہونے کے بعد یہ بات تو بلکل واضح ہو چکی کہ جزیہ کا مقصد نہ تو غیر مسلم رعایا سے امتیازی سلوک ہے نہ انہیں زیربار لانا ہے اور نہ ہی زبردستی اسلام قبول کرانا۔ آیئے دیکھتے ہیں کہ اس کی اصل وجہ کیا ہے ؟ مسلم اور غیر مسلم سے جو الگ الگ رقم وصول کی جاتی ہے اس کے مختلف ناموں کی وجہ یہ ہے کہ زکوٰۃ یا عشر جو مسلمانوں کے ذمہ واجب الادا ء ہےیہ اسلام کی دوسری عبادتوں کی طرح ہی ایک عبادت ہے۔اور غیر مسلم رعایا جو اسلام کو نہیں مانتی ان کی ادا کی گئی رقم کو زکوٰۃ یا عشر سے موسوم کرنا قرین انصاف نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اسلام ان کو اپنے نظام عبادات پر عمل کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جو اس کی سچائی کو مانتے ہی نہیں ۔یہ کتنی بے انصافی کی بات ہے کہ ان غیر مسلموں کو اسلام کے پیش کردہ نظام عبادات کا پابند بنایا جائے۔ اسلام کی عادلانہ روح اس چیز کو قبول نہیں کر سکتی۔ اس لیئے ان کے ذمہ جو واجبات ہیں ان کو الگ نام دیا گیا اور ان کی مقدار بھی کم رکھی گئی تاکہ مسلمانوں کے واجبات اور غیرم مسلم ذمیوں کے واجبات کے درمیان امتیاز باقی رہے۔ اس قدر عادلانہ اور انسانی حقوق کے پاسدار دین کی مخالفت کرنا سورج کو چراغ دکھانے اور چاند پر تھوکنے کے مترادف ہے !

 جزیہ ایک ٹیکس ہے جو اسلامی مملکت کے غیر مسلم شہریوں سے وصول کیا جاتا ہے ۔جو اسلامی مملکت کی بالادستی کو قبول کرتے ہوئے ایک پر امن شہری کی طرح وہاں آباد ہونے کا معاہدہ کریں ۔دشمنان اسلام نے جزیہ کی وجہ سے اسلامی نظام سیاست پر اعتراضات کی بوچھاڑ کی ہےاور اسلام کے بارے میں لوگوں کے ذہنوں میں غلط تصورات پیدا کرنے کی مساعی ناپاک کی ہے۔اس لیئے یہ ضروری ہے کہ جزیہ کے متعلق زرا تفصیل سے لکھا جائے تاکہ معترضین کے اعتراضات کی حقیقت طشت از بام کی جا سکےاور اسلام کے اس بے لاگ انصافی کے نظام کے متعلق شکوک و شبہات کا ازالہ کیا جا سکے۔ اسلامی مملکت کے باشندوں کوہم دو حصوں میں تقسیم کر سکتے ہیں ٭مسلم رعایا ٭ غیر مسلم رعایا غیر مسلم رعایا کی بھی آگے دو قسمیں ہیں ۔ ایک وہ جنہوں نے جنگ کیئے بغیر صلح کی اور صلح نامے کے مطابق اسلامی مملکت کی شہریت قبول کر لی اور دوسرے وہ جنہوں نے جنگ میں شکست کھانے کے بعد گھٹنے ٹیکے اور اسلامی مملکت میں پر امن شہری کے طور پر سکونت پذیر ہو گئے ۔ان دونوں قسموں کو آسانی سے ہم اہل ذمہ کے نام سے موسوم کر سکتے ہیں ۔ مملکت اسلامیہ میں سکونت پذیر ان تینوں طبقات کی جان ومال عزت و آبرو کی حفاظت کی مکمل ذمہ داری اسلامی حکومت پرعائد ہوتی ہے ۔یہ ذمہ داری صرف قول کی حد تک نہین بلکہ عملی طور پر اس سے عہدہ برآ ہونا اسلامی حکومت کا دینی فریضہ ہے۔ غیر مسلم رعایاکی جان و مال اور عزت و آبرو کی حفاظت کے لیئے ہادی برحق ﷺ نے جو تاکیدی ارشادات فرمائے ان کی فصاحت و بلاغت اور زور بیاں سے پتھر دل بھی پسیج جاتے ہیں اور رعونت سے اکڑی گردنیں جھک جاتی ہیں ۔
ان ان گنت فرامین میں سے چند ایک درج ذیل ہیں :۔
٭ ایک دفعہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے ایک صحابی حضرت عبد اللہ بن ارقم رضی اللہ عنہ کو اہل ذمہ سے جزیہ وصول کرنے کو بھیجا ۔ جب وہ بارگاہ رسالت سے رخصت لے کر روانہ ہوئے تو نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والتسلیم نے انہیں اپنے پاس بلایا اور ارشاد فرمایا:۔ "اے عبد اللہ ! ! جس نے بھی کسی معاہد (اہل ذمہ) پر ظلم کیا، یا اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف دی ،یا اسے نقصان پہنچایا، یا اس کی رضامندی کے بغیر اس کی کوئی چیز لی تو قیامت کے روز میں اس کا گریبان پکڑوں گا ۔"
(کتاب الخراج امام ابو یوسف یعقوب بن ابراہیم ص 150)
غور فرمایئے جو شخص حضور اکرم ﷺ کو اپنا نبی اور ہادی تسلیم کرتا ہے کیا وہ برداشت کر سکتا ہے کہ وہ ایسے جرم کا ارتکاب کرے جس کے باعث روز قیامت شفیع المذنبین ﷺ اس کا گریبان پکڑ کر اللہ عزوجل کی بارگاہ میں پیش کریں۔اس سے بلیغ تر اسلوب ناممکن ہے ۔
٭ حضرت نافع حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ "آپ نے بتایا کہ رسول اللہ ﷺ نے دنیا سے انتقال فرماتے ہوئے جو آخری بات فرمائی وہ یہ تھی کہ میں نے جن لوگوں کی جان و مال عزت و آبرو کی حفاظت کی ذمہ داری اٹھائی ہے اس کی لاج رکھنا اور اس پر آنچ نہ آنے دینا۔"
(ابو یعلی محمد بن الحسین الفراء الحنبلی، الاحکام السلطانیہ ص 154)
کیا شان ہے اس نبی رحمت ﷺ کی کہ آخری وقت میں بھی مملکت اسلامیہ کی غیر مسلم رعایا کا اتنا خیال رہا اور اپنی امت کو وصیت کی اور اس طرف توجہ دلائی کہ کسی غیر مسلم پر زیادتی کر کے تم یہ نہ سمجھو کہ تم نے غیر مسلم پر صرف زیادتی کی ہے بلکہ درحقیقت تم نے میرے عہد کو توڑا ہے۔جس کے ایفاء کی میں نے ذمہ داری قبول کی تھی ۔اس کی سنگینی اور سزا کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔ پہلی حدیث کے ذریعہ سے بھی مسلمانوں کی توجہ اس حقیقت کی طرف دلائی کہ اگر تم نے اسلامی مملکت کے کسی غیر مسلم شہری کی جان و مال عزت و آبرو پر دست درازی کی تو تم یہ نہ سمجھنا کہ تمہارے مسلمان ہونے یا اعمال حسنہ کی وجہ سے پردہ پوشی کر لی جائے گی ۔ ہر گز نہیں بلکہ میں خود روز قیامت تمہارا گریبان پکڑ کر بارگاہ ایزدی میں تمہارے خلاف مقدمہ دائر کروں گا ! حضور نبی کریم روؤف الرحیم ﷺ کے خلفاء راشدین نے بھی اس حکم نامے کو ہمیشہ اپنے پیش نظر رکھا ۔یہاں تک کہ حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے بھی جو آخرئ وصیت فرمائی اس کا تعلق بھی غیر مسلم رعایا سے تھا ۔آپ شدید زخمی ہیں زندگی کے آخری لمحے ہیں اس وقت آپ نے جو گفتگو فرمائی وہ بھی ملاحظہ فرمائیں تاکہ یہ بات واضح ہو جائے کہ اسلامی سلطنت کی غیر مسلم رعایا کی جان و مال عزت و آبرو کی اسلام کے نزدیک کیا قدر ومنزلت ہے! قاضی امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ :۔
" حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی وفات کے وقت جو گفتگو فرمائی وہ یہ تھی کہ میں اپنے بعد منصب خلافت کے لیئے مقرر ہونے والے خلیفہ کو رسول اللہ ﷺ کے ذمہ کی وصیت کرتا ہوں ۔ یعنی اہل ذمہ کے ساتھ جو معاہدہ کیا گیا ہے وہ اسے پورا کرے۔اگر ان پر بیرونی یا اندرونی دشمن حملہ آور ہو تو اپنی فوجوں سے ان کا دفاع کرے ۔اور ان پر کوئی ایسا بوجھ نہ ڈالے جس کو اٹھانے کی ان میں طاقت نہ ہو۔"
(کتاب الخراج 149)
اسلام کا فوجداری اور دیوانی قانون مسلم و غیر مسلم کے لیئے بلکل یکساں ہے ۔یعنی اگر کوئی مسلمان کسی ذمی کو قتل کرے گا تو مسلمان ہونے کی وجہ سے اس کے ساتھ کوئی رعایت نہ برتی جائے گی بلکہ اس سے اسی طرح قصاص لیا جائے گا جیسے مسلم مقتول کا لیا جاتا ہے ۔ چنانچہ ایک دفعہ عہد رسالت میں ایک مسلمان نے ایک ذمی کو قتل کر دیا۔ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اس قاتل کو قصاص میں قتل کر دیا جائے۔ چنانچہ اس کا سر قلم کر دیا گیا ۔حضور اکرم ﷺ نے فرمایا: "میں سب سے زیادہ اس بات کا حق دار ہوں کہ اپنی ذمہ داری کو پورا کروں۔"
(العنایہ شرح الہدایہ امام محمد بن محمود البابرتی)
اسی طرح سیدنا علی کرم اللہ وجہہ کے زمانے میں بھی ایک مسلمان نے ذمی کو قتل کر دیا مقتول کے بھائی نے قاتل کو معاف کر دیا۔ لیکن حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو اطمینان نہ ہوا آپ نے اسے اپنے پاس بلایا اور پوچھا کہ شاید ان لوگوں نے تمہیں ڈرایا ہو یا دھمکی دی ہو اور اس لیئے تم نے قصاص معاف کر دیا ہو۔ اس نے عرض کی اے امیر المؤمنین!میں نے اپنے مقتول بھائی کی دیت لے لی ہے اور میں نے اس کا خون معاف کر دیا ہے۔ تب آپ نے اس قاتل کو رہا کر دیا اور ایک ایسا جملہ ارشاد فرمایاجس میں اسلام کے قانون کا خلاصہ بیان کر دیا گیا ۔ فرمایا: " ان لوگوں نے اس لیئے ذمی کے معاہدے کو قبول کر لیا ہے تاکہ ان کا مال ہمارے مالوں کی طرح اور ان کے خون ہمارے خونوں کی طرح ہو جائیں "
(برہان شرح مواہب الرحمان)
یہ ہے اپنی غیر مسلم رعایا کے بارے میں اسلام کا طرز عمل ! کیا دنیا کا کوئی اور نظام اس کی ہمسری کا دعویٰ کر سکتا ہے ؟ جب مملکت اسلامیہ کے ہر شہری کی جان و مال عزت و آبرو کی ذمہ داری اسلامی حکومت کی ہے تو ہر محب وطن شہری پر بھی لازم ہے کہ وہ اپنی استطاعت کے مطابق بیت المال میں حصہ داخل کرے تاکہ اسلامی مملکت کی سرحدوں کی حفاظت اور اندرون ملک امن و امان برقرار رکھنے کے لیئے اخراجات برداشت کر سکے ۔مسلمان رعایا بیت المال میں جو رقم جمع کراتی ہے اسے زکوٰۃ و عشر کہتے ہیں ۔یہ زکوٰۃ و عشر مردوو عورت اور بچوں(بچوں پر صرف عشر) سب پر فرض ہے۔اور ذمی رعایا جو رقم بیت المال میں جمع کراتی ہے اسے جزیہ کہتے ہیں ۔یہ وہ جزیہ ہے جس کے بارے میں اسلام کے سیاسی حریفوں نے کہرام مچا کر رکھا ہوا ہے۔اسلام کے رخ زیبا کو شکوک و شبہات کی گرد سے غبار آلود کرنے میں اپنی ساری قوتیں صرف کر رہے ہیں ۔کبھی کہتے ہیں کہ غیر مسلموں کے ساتھ امتیازی سلوک برتا جاتا ہے ۔ جزیہ صرف غیر مسلموں سے وصول کیا جاتا ہے مسلمانوں سے نہیں کیا جاتا۔ ایک مملکت کا شہری ہونے کے ناطے دونوں کے ساتھ مساویانہ سلوک ہونا چاہیئے تھالیکن اسلام نے غیر مسلموں کے ساتھ امتیازی سلوک برتا ہے ۔ کبھی ہتے ہیں کہ غیر مسلموں کی مالی مشکلات بڑھانے کے لیئے ان پر جزیہ کی ادائیگی ضروری قرار دی گئی ہے ۔ ان کے تمام اعتراضات کی تان اس پر آ کر ٹوٹتی ہے کہ جزیہ کا اصل مقصد یہ ہے کہ غیر مسلموں پر یہ مالی تاوان لگا کر انہیں مجبور کیا جائے کہ وہ اسلام قبول کر لیں ! ان اعتراضات کا حقائق کی روشنی میں جائزہ لیتے ہیں :۔
کہا جاتا ہے کہ جزیہ صرف غیر مسلموں سے وصول کیا جاتا ہے مسلمانوں سے وصول نہیں کیا جاتا۔اور یہ ناروا سلوک ہے۔ اس کے بارے میں عرض ہے کہ یہ بلکل جھوٹا الزام ہے جیسا کہ پہلے بھی بتایا جا چکا مسلمان بھی اپنے کمائے ہوئے مال سے حصہ دیتے ہیں جسے زکوٰۃ و عشر کہا جاتا ہے ۔اور وہ مقدار میں جزیہ سے کئی گناہ زیادہ ہے۔ نیز اگر مسلمانوں کے پاس مویشی ہوں بھیڑ ، بکریاں، گائے، بھینس، گھوڑے اور اونٹ تو ان کی بھی زکوٰۃ مسلمانوں کوا دا کرنی پڑتی ہے۔حالانکہ ذمی رعایا سے مویشیوں پر کسی بھی قسم کا لگان یا ٹیکس ادا نہیں کرنا پڑتا۔ مسلمان عورت اگر صاحب نصاب ہو یا بچہ اگر اگر صاحب نصاب ہو تو اس کو بھی لازمی طور پر اپنے اموال کی زکوٰۃ و عشر دینا پڑتا ہے۔اس کے برعکس کسی ذمی عورت اور بچے سے کوئی جزیہ نہیں لیا جاتا۔خود ہی سوچیئے کہ اسلام نے مالی ذمہ داریوں کے نقطہ نظر سے ذمیوں کو کس قدر مراعات سے بہرہ ور کیا ہے۔ بجائے اس کے کہ ان حقائق کو سمجھا جاتا ، اعتراف کیا جاتا، اور اسلام کی فیاضی کا شکریہ ادا کیا جاتا، الٹا یہ الزام عائد کیا جاتا رہا کہ اسلام غیر مسلم رعایا سے امتیازی سلوک روا رکھتا ہے۔اب خود ہی فیصلہ کریں کہ یہ الزام کس حد تک درست ہے ؟ دوسرا یہ الزام کے جزیہ ایک مالی تاوان ہےجس سے اسلامی حکومت اپنی غیر مسلم رعایا کو زیر بار کرتی ہےاور ان کو مالی دشواریوں سے دوچار کرتی ہےاس کے بارے میں اتنا ہی کہنا کافی ہے کہ اگر آپ جزیہ کی مقدار سے آگاہ ہو جائیں تو یہ الزام خود بخود کالعدم ہو جائے گا ۔
امام اعظم امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے مطابق غیر مسلموں کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ دولت مند طبقہ متوسط طبقہ فقراء امراء پر اڑتالیس درہم سالانہ یعنی چار درہم ماہوار، متوسط طبقہ پر چوبیس درہم سالانہ یعنی دو درہم ماہوار اور تیسرے طبقہ پر بارہ درہم سالانہ یعنی ایک درہم ماہوار ! اب آپ خود سوچیئے کہ کیا یہ اتنا بڑا "بوجھ" ہے جو ان کے لیئے ناقابل برداشت ہے ؟؟؟ اور ان کو طرح طرح کی مالی پریشانیوں میں مبتلاء کرنے کا باعث بن سکتا ہے ؟یہ ایک نہایت قلیل اور حقیر سی رقم ہے جو قطعاََ بوجھ تصور نہیں کیا جا سکتا۔ ان کی آخری تہمت کہ جزیہ وصول کرنے کا مقصد یہ ہے کہ غیر مسلموں کو اسلام قبول کرنے پر مجبور کیا جائے ۔ اس کے سراسر کذب و افتراء ہونے میں کوئی شک و شبہہ نہیں ۔جس دین کا بنیادی اصول ہی ہو "لا اکراہ فی الدین" ، اس دین کے پیروکار کسی پر جبر کر کے اسے مسلمان بنانے میں کیوں اپنی طاقت اور وقت صرف کریں گے ؟کیا عقیدہ اتنی حقیر اور کم مایہ چیز ہے کہ اتنی قلیل سی رقم کی ادائیگی سے بچنے کے لیئے انسان اپنے پہلے عقیدے کو چھوڑ کر ایک نیا عقیدہ قبول کر لے جس کو اس کا ضمیر تسلیم نہیں کرتا ۔لوگ تو اپنے عقیدہ کے لیئے وطن چھوڑ دیتے ہین اپنی عمر بھر کی کمائی پر لات مار دیتے ہیں اور اپنے عقیدہ کی راہ میں سر کٹانا پڑے تو اس کو بھی بصد مسرت قبول کر لیتے ہیں ۔ عقیدہ اتنی سستی اور ارزاں چیز نہیں کہ لوگ اتنی حقیر اور قلیل رقم کے بدلے تبدیل کر لیں ۔
یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ ہر غیر مسلم پر جزیہ کی ادائیگی لازم نہیں بلکہ اس کے لیئے کچھ شرائط کاپایا جانا ضروری ہے ۔ اگر ان شرائط میں سے کوئی شرط نہیں پائی جائے گی تو جزیہ ساقط ہو جائے گا۔ جزیہ ادا کرنے کی شرائط درج ذیل ہیں ٭ عاقل و بالغ ہو اور مرد ہو۔ ٭ جسمانی عوارض سے محفوظ ہو ۔ یعنی اپاہج، اندھا، پیر فرتوت اور دائم المرض نہ ہو۔ ٭ آزاد ہو ٭ ایسا مفلس نہ ہو جو بے روزگار ہو۔ ان شرائط سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ نابالغ، دیوانہ، بچہ ، عورت، اپاہج، اندھا، پیر فرتوت، دائم المرض، غلام اور بے روزگار سے جزیہ وصول نہیں کیا جاتایہ سب لوگ جزیہ کے حکم سے مستشنیٰ ہیں۔اگر جزیہ کا مقصد غیر مسلموں کو جبراََ مسلمان بنانا ہوتا تو ان سب پر ضرور جزیہ لگایا جاتا۔کم از کم نابالغ بچے اور عورت سے تو ضرور جزیہ وصول کیا جاتا کیونکہ نابالغ مسلمان بچے اور عورت سے بھی زکوٰۃ اور عشر لیا جاتا ہے ان تمام افراد کو مستشنیٰ کرنے سے کیا ان لوگوں کے اس الزام کی تردید نہیں ہو جاتی کہ جزیہ کا مقصد لوگوں کو جبراََ مسلمان بنانا ہے ؟ اور یہ صرف نظریات ہی نہیں بلکہ مسلمانوں نے اپنے عہد اقتدار میں ان احکامات پر عمل بھی کیا ہے ۔
امام ابو یوسف رحمہ اللہ اپنی کتاب الخراج میں فرماتے ہیں کہ : حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے جن غیر مسلم قوموں اور قبیلوں سے صلح کی ان کو صلح نامے لکھ کر دیئے ان میں یہ جملہ موجود ہے کہ "اگر کوئی بوڑھا کام کرنے کے قابل نہ رہے یا بدنی بیماریوں میں سے اسے کوئی بیماری لگ جائےیا پہلے وہ غنی تھا اب محتاج ہو گیا اور اس کے مذہب والے اس کو صدقہ و خیرات دینے لگیں، ان حالات میں اس سے جزیہ ساقط ہو جائے گا۔اور اس کا اور اس کے اہل و عیال کا خرچ بیت المال سے ادا کیا جائے گا جب تک سلطنت اسلامیہ میں سکونت پذیر رہے ۔" جزیہ کی اصل وجہ :۔ جزیہ کے متعلق اسلام کے سیاسی حریفوں کے پیدا کیئے شکوک و شبہات کے طشت ازبام ہونے کے بعد یہ بات تو بلکل واضح ہو چکی کہ جزیہ کا مقصد نہ تو غیر مسلم رعایا سے امتیازی سلوک ہے نہ انہیں زیربار لانا ہے اور نہ ہی زبردستی اسلام قبول کرانا۔ آیئے دیکھتے ہیں کہ اس کی اصل وجہ کیا ہے ؟ مسلم اور غیر مسلم سے جو الگ الگ رقم وصول کی جاتی ہے اس کے مختلف ناموں کی وجہ یہ ہے کہ زکوٰۃ یا عشر جو مسلمانوں کے ذمہ واجب الادا ء ہےیہ اسلام کی دوسری عبادتوں کی طرح ہی ایک عبادت ہے۔اور غیر مسلم رعایا جو اسلام کو نہیں مانتی ان کی ادا کی گئی رقم کو زکوٰۃ یا عشر سے موسوم کرنا قرین انصاف نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اسلام ان کو اپنے نظام عبادات پر عمل کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جو اس کی سچائی کو مانتے ہی نہیں ۔یہ کتنی بے انصافی کی بات ہے کہ ان غیر مسلموں کو اسلام کے پیش کردہ نظام عبادات کا پابند بنایا جائے۔ اسلام کی عادلانہ روح اس چیز کو قبول نہیں کر سکتی۔ اس لیئے ان کے ذمہ جو واجبات ہیں ان کو الگ نام دیا گیا اور ان کی مقدار بھی کم رکھی گئی تاکہ مسلمانوں کے واجبات اور غیرم مسلم ذمیوں کے واجبات کے درمیان امتیاز باقی رہے۔ اس قدر عادلانہ اور انسانی حقوق کے پاسدار دین کی مخالفت کرنا سورج کو چراغ دکھانے اور چاند پر تھوکنے کے مترادف ہے !

 جزیہ ایک ٹیکس ہے جو اسلامی مملکت کے غیر مسلم شہریوں سے وصول کیا جاتا ہے ۔جو اسلامی مملکت کی بالادستی کو قبول کرتے ہوئے ایک پر امن شہری کی طرح وہاں آباد ہونے کا معاہدہ کریں ۔دشمنان اسلام نے جزیہ کی وجہ سے اسلامی نظام سیاست پر اعتراضات کی بوچھاڑ کی ہےاور اسلام کے بارے میں لوگوں کے ذہنوں میں غلط تصورات پیدا کرنے کی مساعی ناپاک کی ہے۔اس لیئے یہ ضروری ہے کہ جزیہ کے متعلق زرا تفصیل سے لکھا جائے تاکہ معترضین کے اعتراضات کی حقیقت طشت از بام کی جا سکےاور اسلام کے اس بے لاگ انصافی کے نظام کے متعلق شکوک و شبہات کا ازالہ کیا جا سکے۔ اسلامی مملکت کے باشندوں کوہم دو حصوں میں تقسیم کر سکتے ہیں ٭مسلم رعایا ٭ غیر مسلم رعایا غیر مسلم رعایا کی بھی آگے دو قسمیں ہیں ۔ ایک وہ جنہوں نے جنگ کیئے بغیر صلح کی اور صلح نامے کے مطابق اسلامی مملکت کی شہریت قبول کر لی اور دوسرے وہ جنہوں نے جنگ میں شکست کھانے کے بعد گھٹنے ٹیکے اور اسلامی مملکت میں پر امن شہری کے طور پر سکونت پذیر ہو گئے ۔ان دونوں قسموں کو آسانی سے ہم اہل ذمہ کے نام سے موسوم کر سکتے ہیں ۔ مملکت اسلامیہ میں سکونت پذیر ان تینوں طبقات کی جان ومال عزت و آبرو کی حفاظت کی مکمل ذمہ داری اسلامی حکومت پرعائد ہوتی ہے ۔یہ ذمہ داری صرف قول کی حد تک نہین بلکہ عملی طور پر اس سے عہدہ برآ ہونا اسلامی حکومت کا دینی فریضہ ہے۔ غیر مسلم رعایاکی جان و مال اور عزت و آبرو کی حفاظت کے لیئے ہادی برحق ﷺ نے جو تاکیدی ارشادات فرمائے ان کی فصاحت و بلاغت اور زور بیاں سے پتھر دل بھی پسیج جاتے ہیں اور رعونت سے اکڑی گردنیں جھک جاتی ہیں ۔
ان ان گنت فرامین میں سے چند ایک درج ذیل ہیں :۔
٭ ایک دفعہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے ایک صحابی حضرت عبد اللہ بن ارقم رضی اللہ عنہ کو اہل ذمہ سے جزیہ وصول کرنے کو بھیجا ۔ جب وہ بارگاہ رسالت سے رخصت لے کر روانہ ہوئے تو نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والتسلیم نے انہیں اپنے پاس بلایا اور ارشاد فرمایا:۔ "اے عبد اللہ ! ! جس نے بھی کسی معاہد (اہل ذمہ) پر ظلم کیا، یا اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف دی ،یا اسے نقصان پہنچایا، یا اس کی رضامندی کے بغیر اس کی کوئی چیز لی تو قیامت کے روز میں اس کا گریبان پکڑوں گا ۔"
(کتاب الخراج امام ابو یوسف یعقوب بن ابراہیم ص 150)
غور فرمایئے جو شخص حضور اکرم ﷺ کو اپنا نبی اور ہادی تسلیم کرتا ہے کیا وہ برداشت کر سکتا ہے کہ وہ ایسے جرم کا ارتکاب کرے جس کے باعث روز قیامت شفیع المذنبین ﷺ اس کا گریبان پکڑ کر اللہ عزوجل کی بارگاہ میں پیش کریں۔اس سے بلیغ تر اسلوب ناممکن ہے ۔
٭ حضرت نافع حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ "آپ نے بتایا کہ رسول اللہ ﷺ نے دنیا سے انتقال فرماتے ہوئے جو آخری بات فرمائی وہ یہ تھی کہ میں نے جن لوگوں کی جان و مال عزت و آبرو کی حفاظت کی ذمہ داری اٹھائی ہے اس کی لاج رکھنا اور اس پر آنچ نہ آنے دینا۔"
(ابو یعلی محمد بن الحسین الفراء الحنبلی، الاحکام السلطانیہ ص 154)
کیا شان ہے اس نبی رحمت ﷺ کی کہ آخری وقت میں بھی مملکت اسلامیہ کی غیر مسلم رعایا کا اتنا خیال رہا اور اپنی امت کو وصیت کی اور اس طرف توجہ دلائی کہ کسی غیر مسلم پر زیادتی کر کے تم یہ نہ سمجھو کہ تم نے غیر مسلم پر صرف زیادتی کی ہے بلکہ درحقیقت تم نے میرے عہد کو توڑا ہے۔جس کے ایفاء کی میں نے ذمہ داری قبول کی تھی ۔اس کی سنگینی اور سزا کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔ پہلی حدیث کے ذریعہ سے بھی مسلمانوں کی توجہ اس حقیقت کی طرف دلائی کہ اگر تم نے اسلامی مملکت کے کسی غیر مسلم شہری کی جان و مال عزت و آبرو پر دست درازی کی تو تم یہ نہ سمجھنا کہ تمہارے مسلمان ہونے یا اعمال حسنہ کی وجہ سے پردہ پوشی کر لی جائے گی ۔ ہر گز نہیں بلکہ میں خود روز قیامت تمہارا گریبان پکڑ کر بارگاہ ایزدی میں تمہارے خلاف مقدمہ دائر کروں گا ! حضور نبی کریم روؤف الرحیم ﷺ کے خلفاء راشدین نے بھی اس حکم نامے کو ہمیشہ اپنے پیش نظر رکھا ۔یہاں تک کہ حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے بھی جو آخرئ وصیت فرمائی اس کا تعلق بھی غیر مسلم رعایا سے تھا ۔آپ شدید زخمی ہیں زندگی کے آخری لمحے ہیں اس وقت آپ نے جو گفتگو فرمائی وہ بھی ملاحظہ فرمائیں تاکہ یہ بات واضح ہو جائے کہ اسلامی سلطنت کی غیر مسلم رعایا کی جان و مال عزت و آبرو کی اسلام کے نزدیک کیا قدر ومنزلت ہے! قاضی امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ :۔
" حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی وفات کے وقت جو گفتگو فرمائی وہ یہ تھی کہ میں اپنے بعد منصب خلافت کے لیئے مقرر ہونے والے خلیفہ کو رسول اللہ ﷺ کے ذمہ کی وصیت کرتا ہوں ۔ یعنی اہل ذمہ کے ساتھ جو معاہدہ کیا گیا ہے وہ اسے پورا کرے۔اگر ان پر بیرونی یا اندرونی دشمن حملہ آور ہو تو اپنی فوجوں سے ان کا دفاع کرے ۔اور ان پر کوئی ایسا بوجھ نہ ڈالے جس کو اٹھانے کی ان میں طاقت نہ ہو۔"
(کتاب الخراج 149)
اسلام کا فوجداری اور دیوانی قانون مسلم و غیر مسلم کے لیئے بلکل یکساں ہے ۔یعنی اگر کوئی مسلمان کسی ذمی کو قتل کرے گا تو مسلمان ہونے کی وجہ سے اس کے ساتھ کوئی رعایت نہ برتی جائے گی بلکہ اس سے اسی طرح قصاص لیا جائے گا جیسے مسلم مقتول کا لیا جاتا ہے ۔ چنانچہ ایک دفعہ عہد رسالت میں ایک مسلمان نے ایک ذمی کو قتل کر دیا۔ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اس قاتل کو قصاص میں قتل کر دیا جائے۔ چنانچہ اس کا سر قلم کر دیا گیا ۔حضور اکرم ﷺ نے فرمایا: "میں سب سے زیادہ اس بات کا حق دار ہوں کہ اپنی ذمہ داری کو پورا کروں۔"
(العنایہ شرح الہدایہ امام محمد بن محمود البابرتی)
اسی طرح سیدنا علی کرم اللہ وجہہ کے زمانے میں بھی ایک مسلمان نے ذمی کو قتل کر دیا مقتول کے بھائی نے قاتل کو معاف کر دیا۔ لیکن حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو اطمینان نہ ہوا آپ نے اسے اپنے پاس بلایا اور پوچھا کہ شاید ان لوگوں نے تمہیں ڈرایا ہو یا دھمکی دی ہو اور اس لیئے تم نے قصاص معاف کر دیا ہو۔ اس نے عرض کی اے امیر المؤمنین!میں نے اپنے مقتول بھائی کی دیت لے لی ہے اور میں نے اس کا خون معاف کر دیا ہے۔ تب آپ نے اس قاتل کو رہا کر دیا اور ایک ایسا جملہ ارشاد فرمایاجس میں اسلام کے قانون کا خلاصہ بیان کر دیا گیا ۔ فرمایا: " ان لوگوں نے اس لیئے ذمی کے معاہدے کو قبول کر لیا ہے تاکہ ان کا مال ہمارے مالوں کی طرح اور ان کے خون ہمارے خونوں کی طرح ہو جائیں "
(برہان شرح مواہب الرحمان)
یہ ہے اپنی غیر مسلم رعایا کے بارے میں اسلام کا طرز عمل ! کیا دنیا کا کوئی اور نظام اس کی ہمسری کا دعویٰ کر سکتا ہے ؟ جب مملکت اسلامیہ کے ہر شہری کی جان و مال عزت و آبرو کی ذمہ داری اسلامی حکومت کی ہے تو ہر محب وطن شہری پر بھی لازم ہے کہ وہ اپنی استطاعت کے مطابق بیت المال میں حصہ داخل کرے تاکہ اسلامی مملکت کی سرحدوں کی حفاظت اور اندرون ملک امن و امان برقرار رکھنے کے لیئے اخراجات برداشت کر سکے ۔مسلمان رعایا بیت المال میں جو رقم جمع کراتی ہے اسے زکوٰۃ و عشر کہتے ہیں ۔یہ زکوٰۃ و عشر مردوو عورت اور بچوں(بچوں پر صرف عشر) سب پر فرض ہے۔اور ذمی رعایا جو رقم بیت المال میں جمع کراتی ہے اسے جزیہ کہتے ہیں ۔یہ وہ جزیہ ہے جس کے بارے میں اسلام کے سیاسی حریفوں نے کہرام مچا کر رکھا ہوا ہے۔اسلام کے رخ زیبا کو شکوک و شبہات کی گرد سے غبار آلود کرنے میں اپنی ساری قوتیں صرف کر رہے ہیں ۔کبھی کہتے ہیں کہ غیر مسلموں کے ساتھ امتیازی سلوک برتا جاتا ہے ۔ جزیہ صرف غیر مسلموں سے وصول کیا جاتا ہے مسلمانوں سے نہیں کیا جاتا۔ ایک مملکت کا شہری ہونے کے ناطے دونوں کے ساتھ مساویانہ سلوک ہونا چاہیئے تھالیکن اسلام نے غیر مسلموں کے ساتھ امتیازی سلوک برتا ہے ۔ کبھی ہتے ہیں کہ غیر مسلموں کی مالی مشکلات بڑھانے کے لیئے ان پر جزیہ کی ادائیگی ضروری قرار دی گئی ہے ۔ ان کے تمام اعتراضات کی تان اس پر آ کر ٹوٹتی ہے کہ جزیہ کا اصل مقصد یہ ہے کہ غیر مسلموں پر یہ مالی تاوان لگا کر انہیں مجبور کیا جائے کہ وہ اسلام قبول کر لیں ! ان اعتراضات کا حقائق کی روشنی میں جائزہ لیتے ہیں :۔
کہا جاتا ہے کہ جزیہ صرف غیر مسلموں سے وصول کیا جاتا ہے مسلمانوں سے وصول نہیں کیا جاتا۔اور یہ ناروا سلوک ہے۔ اس کے بارے میں عرض ہے کہ یہ بلکل جھوٹا الزام ہے جیسا کہ پہلے بھی بتایا جا چکا مسلمان بھی اپنے کمائے ہوئے مال سے حصہ دیتے ہیں جسے زکوٰۃ و عشر کہا جاتا ہے ۔اور وہ مقدار میں جزیہ سے کئی گناہ زیادہ ہے۔ نیز اگر مسلمانوں کے پاس مویشی ہوں بھیڑ ، بکریاں، گائے، بھینس، گھوڑے اور اونٹ تو ان کی بھی زکوٰۃ مسلمانوں کوا دا کرنی پڑتی ہے۔حالانکہ ذمی رعایا سے مویشیوں پر کسی بھی قسم کا لگان یا ٹیکس ادا نہیں کرنا پڑتا۔ مسلمان عورت اگر صاحب نصاب ہو یا بچہ اگر اگر صاحب نصاب ہو تو اس کو بھی لازمی طور پر اپنے اموال کی زکوٰۃ و عشر دینا پڑتا ہے۔اس کے برعکس کسی ذمی عورت اور بچے سے کوئی جزیہ نہیں لیا جاتا۔خود ہی سوچیئے کہ اسلام نے مالی ذمہ داریوں کے نقطہ نظر سے ذمیوں کو کس قدر مراعات سے بہرہ ور کیا ہے۔ بجائے اس کے کہ ان حقائق کو سمجھا جاتا ، اعتراف کیا جاتا، اور اسلام کی فیاضی کا شکریہ ادا کیا جاتا، الٹا یہ الزام عائد کیا جاتا رہا کہ اسلام غیر مسلم رعایا سے امتیازی سلوک روا رکھتا ہے۔اب خود ہی فیصلہ کریں کہ یہ الزام کس حد تک درست ہے ؟ دوسرا یہ الزام کے جزیہ ایک مالی تاوان ہےجس سے اسلامی حکومت اپنی غیر مسلم رعایا کو زیر بار کرتی ہےاور ان کو مالی دشواریوں سے دوچار کرتی ہےاس کے بارے میں اتنا ہی کہنا کافی ہے کہ اگر آپ جزیہ کی مقدار سے آگاہ ہو جائیں تو یہ الزام خود بخود کالعدم ہو جائے گا ۔
امام اعظم امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے مطابق غیر مسلموں کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ دولت مند طبقہ متوسط طبقہ فقراء امراء پر اڑتالیس درہم سالانہ یعنی چار درہم ماہوار، متوسط طبقہ پر چوبیس درہم سالانہ یعنی دو درہم ماہوار اور تیسرے طبقہ پر بارہ درہم سالانہ یعنی ایک درہم ماہوار ! اب آپ خود سوچیئے کہ کیا یہ اتنا بڑا "بوجھ" ہے جو ان کے لیئے ناقابل برداشت ہے ؟؟؟ اور ان کو طرح طرح کی مالی پریشانیوں میں مبتلاء کرنے کا باعث بن سکتا ہے ؟یہ ایک نہایت قلیل اور حقیر سی رقم ہے جو قطعاََ بوجھ تصور نہیں کیا جا سکتا۔ ان کی آخری تہمت کہ جزیہ وصول کرنے کا مقصد یہ ہے کہ غیر مسلموں کو اسلام قبول کرنے پر مجبور کیا جائے ۔ اس کے سراسر کذب و افتراء ہونے میں کوئی شک و شبہہ نہیں ۔جس دین کا بنیادی اصول ہی ہو "لا اکراہ فی الدین" ، اس دین کے پیروکار کسی پر جبر کر کے اسے مسلمان بنانے میں کیوں اپنی طاقت اور وقت صرف کریں گے ؟کیا عقیدہ اتنی حقیر اور کم مایہ چیز ہے کہ اتنی قلیل سی رقم کی ادائیگی سے بچنے کے لیئے انسان اپنے پہلے عقیدے کو چھوڑ کر ایک نیا عقیدہ قبول کر لے جس کو اس کا ضمیر تسلیم نہیں کرتا ۔لوگ تو اپنے عقیدہ کے لیئے وطن چھوڑ دیتے ہین اپنی عمر بھر کی کمائی پر لات مار دیتے ہیں اور اپنے عقیدہ کی راہ میں سر کٹانا پڑے تو اس کو بھی بصد مسرت قبول کر لیتے ہیں ۔ عقیدہ اتنی سستی اور ارزاں چیز نہیں کہ لوگ اتنی حقیر اور قلیل رقم کے بدلے تبدیل کر لیں ۔
یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ ہر غیر مسلم پر جزیہ کی ادائیگی لازم نہیں بلکہ اس کے لیئے کچھ شرائط کاپایا جانا ضروری ہے ۔ اگر ان شرائط میں سے کوئی شرط نہیں پائی جائے گی تو جزیہ ساقط ہو جائے گا۔ جزیہ ادا کرنے کی شرائط درج ذیل ہیں ٭ عاقل و بالغ ہو اور مرد ہو۔ ٭ جسمانی عوارض سے محفوظ ہو ۔ یعنی اپاہج، اندھا، پیر فرتوت اور دائم المرض نہ ہو۔ ٭ آزاد ہو ٭ ایسا مفلس نہ ہو جو بے روزگار ہو۔ ان شرائط سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ نابالغ، دیوانہ، بچہ ، عورت، اپاہج، اندھا، پیر فرتوت، دائم المرض، غلام اور بے روزگار سے جزیہ وصول نہیں کیا جاتایہ سب لوگ جزیہ کے حکم سے مستشنیٰ ہیں۔اگر جزیہ کا مقصد غیر مسلموں کو جبراََ مسلمان بنانا ہوتا تو ان سب پر ضرور جزیہ لگایا جاتا۔کم از کم نابالغ بچے اور عورت سے تو ضرور جزیہ وصول کیا جاتا کیونکہ نابالغ مسلمان بچے اور عورت سے بھی زکوٰۃ اور عشر لیا جاتا ہے ان تمام افراد کو مستشنیٰ کرنے سے کیا ان لوگوں کے اس الزام کی تردید نہیں ہو جاتی کہ جزیہ کا مقصد لوگوں کو جبراََ مسلمان بنانا ہے ؟ اور یہ صرف نظریات ہی نہیں بلکہ مسلمانوں نے اپنے عہد اقتدار میں ان احکامات پر عمل بھی کیا ہے ۔
امام ابو یوسف رحمہ اللہ اپنی کتاب الخراج میں فرماتے ہیں کہ : حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے جن غیر مسلم قوموں اور قبیلوں سے صلح کی ان کو صلح نامے لکھ کر دیئے ان میں یہ جملہ موجود ہے کہ "اگر کوئی بوڑھا کام کرنے کے قابل نہ رہے یا بدنی بیماریوں میں سے اسے کوئی بیماری لگ جائےیا پہلے وہ غنی تھا اب محتاج ہو گیا اور اس کے مذہب والے اس کو صدقہ و خیرات دینے لگیں، ان حالات میں اس سے جزیہ ساقط ہو جائے گا۔اور اس کا اور اس کے اہل و عیال کا خرچ بیت المال سے ادا کیا جائے گا جب تک سلطنت اسلامیہ میں سکونت پذیر رہے ۔" جزیہ کی اصل وجہ :۔ جزیہ کے متعلق اسلام کے سیاسی حریفوں کے پیدا کیئے شکوک و شبہات کے طشت ازبام ہونے کے بعد یہ بات تو بلکل واضح ہو چکی کہ جزیہ کا مقصد نہ تو غیر مسلم رعایا سے امتیازی سلوک ہے نہ انہیں زیربار لانا ہے اور نہ ہی زبردستی اسلام قبول کرانا۔ آیئے دیکھتے ہیں کہ اس کی اصل وجہ کیا ہے ؟ مسلم اور غیر مسلم سے جو الگ الگ رقم وصول کی جاتی ہے اس کے مختلف ناموں کی وجہ یہ ہے کہ زکوٰۃ یا عشر جو مسلمانوں کے ذمہ واجب الادا ء ہےیہ اسلام کی دوسری عبادتوں کی طرح ہی ایک عبادت ہے۔اور غیر مسلم رعایا جو اسلام کو نہیں مانتی ان کی ادا کی گئی رقم کو زکوٰۃ یا عشر سے موسوم کرنا قرین انصاف نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اسلام ان کو اپنے نظام عبادات پر عمل کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جو اس کی سچائی کو مانتے ہی نہیں ۔یہ کتنی بے انصافی کی بات ہے کہ ان غیر مسلموں کو اسلام کے پیش کردہ نظام عبادات کا پابند بنایا جائے۔ اسلام کی عادلانہ روح اس چیز کو قبول نہیں کر سکتی۔ اس لیئے ان کے ذمہ جو واجبات ہیں ان کو الگ نام دیا گیا اور ان کی مقدار بھی کم رکھی گئی تاکہ مسلمانوں کے واجبات اور غیرم مسلم ذمیوں کے واجبات کے درمیان امتیاز باقی رہے۔ اس قدر عادلانہ اور انسانی حقوق کے پاسدار دین کی مخالفت کرنا سورج کو چراغ دکھانے اور چاند پر تھوکنے کے مترادف ہے !

 جزیہ ایک ٹیکس ہے جو اسلامی مملکت کے غیر مسلم شہریوں سے وصول کیا جاتا ہے ۔جو اسلامی مملکت کی بالادستی کو قبول کرتے ہوئے ایک پر امن شہری کی طرح وہاں آباد ہونے کا معاہدہ کریں ۔دشمنان اسلام نے جزیہ کی وجہ سے اسلامی نظام سیاست پر اعتراضات کی بوچھاڑ کی ہےاور اسلام کے بارے میں لوگوں کے ذہنوں میں غلط تصورات پیدا کرنے کی مساعی ناپاک کی ہے۔اس لیئے یہ ضروری ہے کہ جزیہ کے متعلق زرا تفصیل سے لکھا جائے تاکہ معترضین کے اعتراضات کی حقیقت طشت از بام کی جا سکےاور اسلام کے اس بے لاگ انصافی کے نظام کے متعلق شکوک و شبہات کا ازالہ کیا جا سکے۔ اسلامی مملکت کے باشندوں کوہم دو حصوں میں تقسیم کر سکتے ہیں ٭مسلم رعایا ٭ غیر مسلم رعایا غیر مسلم رعایا کی بھی آگے دو قسمیں ہیں ۔ ایک وہ جنہوں نے جنگ کیئے بغیر صلح کی اور صلح نامے کے مطابق اسلامی مملکت کی شہریت قبول کر لی اور دوسرے وہ جنہوں نے جنگ میں شکست کھانے کے بعد گھٹنے ٹیکے اور اسلامی مملکت میں پر امن شہری کے طور پر سکونت پذیر ہو گئے ۔ان دونوں قسموں کو آسانی سے ہم اہل ذمہ کے نام سے موسوم کر سکتے ہیں ۔ مملکت اسلامیہ میں سکونت پذیر ان تینوں طبقات کی جان ومال عزت و آبرو کی حفاظت کی مکمل ذمہ داری اسلامی حکومت پرعائد ہوتی ہے ۔یہ ذمہ داری صرف قول کی حد تک نہین بلکہ عملی طور پر اس سے عہدہ برآ ہونا اسلامی حکومت کا دینی فریضہ ہے۔ غیر مسلم رعایاکی جان و مال اور عزت و آبرو کی حفاظت کے لیئے ہادی برحق ﷺ نے جو تاکیدی ارشادات فرمائے ان کی فصاحت و بلاغت اور زور بیاں سے پتھر دل بھی پسیج جاتے ہیں اور رعونت سے اکڑی گردنیں جھک جاتی ہیں ۔
ان ان گنت فرامین میں سے چند ایک درج ذیل ہیں :۔
٭ ایک دفعہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے ایک صحابی حضرت عبد اللہ بن ارقم رضی اللہ عنہ کو اہل ذمہ سے جزیہ وصول کرنے کو بھیجا ۔ جب وہ بارگاہ رسالت سے رخصت لے کر روانہ ہوئے تو نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والتسلیم نے انہیں اپنے پاس بلایا اور ارشاد فرمایا:۔ "اے عبد اللہ ! ! جس نے بھی کسی معاہد (اہل ذمہ) پر ظلم کیا، یا اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف دی ،یا اسے نقصان پہنچایا، یا اس کی رضامندی کے بغیر اس کی کوئی چیز لی تو قیامت کے روز میں اس کا گریبان پکڑوں گا ۔"
(کتاب الخراج امام ابو یوسف یعقوب بن ابراہیم ص 150)
غور فرمایئے جو شخص حضور اکرم ﷺ کو اپنا نبی اور ہادی تسلیم کرتا ہے کیا وہ برداشت کر سکتا ہے کہ وہ ایسے جرم کا ارتکاب کرے جس کے باعث روز قیامت شفیع المذنبین ﷺ اس کا گریبان پکڑ کر اللہ عزوجل کی بارگاہ میں پیش کریں۔اس سے بلیغ تر اسلوب ناممکن ہے ۔
٭ حضرت نافع حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ "آپ نے بتایا کہ رسول اللہ ﷺ نے دنیا سے انتقال فرماتے ہوئے جو آخری بات فرمائی وہ یہ تھی کہ میں نے جن لوگوں کی جان و مال عزت و آبرو کی حفاظت کی ذمہ داری اٹھائی ہے اس کی لاج رکھنا اور اس پر آنچ نہ آنے دینا۔"
(ابو یعلی محمد بن الحسین الفراء الحنبلی، الاحکام السلطانیہ ص 154)
کیا شان ہے اس نبی رحمت ﷺ کی کہ آخری وقت میں بھی مملکت اسلامیہ کی غیر مسلم رعایا کا اتنا خیال رہا اور اپنی امت کو وصیت کی اور اس طرف توجہ دلائی کہ کسی غیر مسلم پر زیادتی کر کے تم یہ نہ سمجھو کہ تم نے غیر مسلم پر صرف زیادتی کی ہے بلکہ درحقیقت تم نے میرے عہد کو توڑا ہے۔جس کے ایفاء کی میں نے ذمہ داری قبول کی تھی ۔اس کی سنگینی اور سزا کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔ پہلی حدیث کے ذریعہ سے بھی مسلمانوں کی توجہ اس حقیقت کی طرف دلائی کہ اگر تم نے اسلامی مملکت کے کسی غیر مسلم شہری کی جان و مال عزت و آبرو پر دست درازی کی تو تم یہ نہ سمجھنا کہ تمہارے مسلمان ہونے یا اعمال حسنہ کی وجہ سے پردہ پوشی کر لی جائے گی ۔ ہر گز نہیں بلکہ میں خود روز قیامت تمہارا گریبان پکڑ کر بارگاہ ایزدی میں تمہارے خلاف مقدمہ دائر کروں گا ! حضور نبی کریم روؤف الرحیم ﷺ کے خلفاء راشدین نے بھی اس حکم نامے کو ہمیشہ اپنے پیش نظر رکھا ۔یہاں تک کہ حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے بھی جو آخرئ وصیت فرمائی اس کا تعلق بھی غیر مسلم رعایا سے تھا ۔آپ شدید زخمی ہیں زندگی کے آخری لمحے ہیں اس وقت آپ نے جو گفتگو فرمائی وہ بھی ملاحظہ فرمائیں تاکہ یہ بات واضح ہو جائے کہ اسلامی سلطنت کی غیر مسلم رعایا کی جان و مال عزت و آبرو کی اسلام کے نزدیک کیا قدر ومنزلت ہے! قاضی امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ :۔
" حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی وفات کے وقت جو گفتگو فرمائی وہ یہ تھی کہ میں اپنے بعد منصب خلافت کے لیئے مقرر ہونے والے خلیفہ کو رسول اللہ ﷺ کے ذمہ کی وصیت کرتا ہوں ۔ یعنی اہل ذمہ کے ساتھ جو معاہدہ کیا گیا ہے وہ اسے پورا کرے۔اگر ان پر بیرونی یا اندرونی دشمن حملہ آور ہو تو اپنی فوجوں سے ان کا دفاع کرے ۔اور ان پر کوئی ایسا بوجھ نہ ڈالے جس کو اٹھانے کی ان میں طاقت نہ ہو۔"
(کتاب الخراج 149)
اسلام کا فوجداری اور دیوانی قانون مسلم و غیر مسلم کے لیئے بلکل یکساں ہے ۔یعنی اگر کوئی مسلمان کسی ذمی کو قتل کرے گا تو مسلمان ہونے کی وجہ سے اس کے ساتھ کوئی رعایت نہ برتی جائے گی بلکہ اس سے اسی طرح قصاص لیا جائے گا جیسے مسلم مقتول کا لیا جاتا ہے ۔ چنانچہ ایک دفعہ عہد رسالت میں ایک مسلمان نے ایک ذمی کو قتل کر دیا۔ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اس قاتل کو قصاص میں قتل کر دیا جائے۔ چنانچہ اس کا سر قلم کر دیا گیا ۔حضور اکرم ﷺ نے فرمایا: "میں سب سے زیادہ اس بات کا حق دار ہوں کہ اپنی ذمہ داری کو پورا کروں۔"
(العنایہ شرح الہدایہ امام محمد بن محمود البابرتی)
اسی طرح سیدنا علی کرم اللہ وجہہ کے زمانے میں بھی ایک مسلمان نے ذمی کو قتل کر دیا مقتول کے بھائی نے قاتل کو معاف کر دیا۔ لیکن حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو اطمینان نہ ہوا آپ نے اسے اپنے پاس بلایا اور پوچھا کہ شاید ان لوگوں نے تمہیں ڈرایا ہو یا دھمکی دی ہو اور اس لیئے تم نے قصاص معاف کر دیا ہو۔ اس نے عرض کی اے امیر المؤمنین!میں نے اپنے مقتول بھائی کی دیت لے لی ہے اور میں نے اس کا خون معاف کر دیا ہے۔ تب آپ نے اس قاتل کو رہا کر دیا اور ایک ایسا جملہ ارشاد فرمایاجس میں اسلام کے قانون کا خلاصہ بیان کر دیا گیا ۔ فرمایا: " ان لوگوں نے اس لیئے ذمی کے معاہدے کو قبول کر لیا ہے تاکہ ان کا مال ہمارے مالوں کی طرح اور ان کے خون ہمارے خونوں کی طرح ہو جائیں "
(برہان شرح مواہب الرحمان)
یہ ہے اپنی غیر مسلم رعایا کے بارے میں اسلام کا طرز عمل ! کیا دنیا کا کوئی اور نظام اس کی ہمسری کا دعویٰ کر سکتا ہے ؟ جب مملکت اسلامیہ کے ہر شہری کی جان و مال عزت و آبرو کی ذمہ داری اسلامی حکومت کی ہے تو ہر محب وطن شہری پر بھی لازم ہے کہ وہ اپنی استطاعت کے مطابق بیت المال میں حصہ داخل کرے تاکہ اسلامی مملکت کی سرحدوں کی حفاظت اور اندرون ملک امن و امان برقرار رکھنے کے لیئے اخراجات برداشت کر سکے ۔مسلمان رعایا بیت المال میں جو رقم جمع کراتی ہے اسے زکوٰۃ و عشر کہتے ہیں ۔یہ زکوٰۃ و عشر مردوو عورت اور بچوں(بچوں پر صرف عشر) سب پر فرض ہے۔اور ذمی رعایا جو رقم بیت المال میں جمع کراتی ہے اسے جزیہ کہتے ہیں ۔یہ وہ جزیہ ہے جس کے بارے میں اسلام کے سیاسی حریفوں نے کہرام مچا کر رکھا ہوا ہے۔اسلام کے رخ زیبا کو شکوک و شبہات کی گرد سے غبار آلود کرنے میں اپنی ساری قوتیں صرف کر رہے ہیں ۔کبھی کہتے ہیں کہ غیر مسلموں کے ساتھ امتیازی سلوک برتا جاتا ہے ۔ جزیہ صرف غیر مسلموں سے وصول کیا جاتا ہے مسلمانوں سے نہیں کیا جاتا۔ ایک مملکت کا شہری ہونے کے ناطے دونوں کے ساتھ مساویانہ سلوک ہونا چاہیئے تھالیکن اسلام نے غیر مسلموں کے ساتھ امتیازی سلوک برتا ہے ۔ کبھی ہتے ہیں کہ غیر مسلموں کی مالی مشکلات بڑھانے کے لیئے ان پر جزیہ کی ادائیگی ضروری قرار دی گئی ہے ۔ ان کے تمام اعتراضات کی تان اس پر آ کر ٹوٹتی ہے کہ جزیہ کا اصل مقصد یہ ہے کہ غیر مسلموں پر یہ مالی تاوان لگا کر انہیں مجبور کیا جائے کہ وہ اسلام قبول کر لیں ! ان اعتراضات کا حقائق کی روشنی میں جائزہ لیتے ہیں :۔
کہا جاتا ہے کہ جزیہ صرف غیر مسلموں سے وصول کیا جاتا ہے مسلمانوں سے وصول نہیں کیا جاتا۔اور یہ ناروا سلوک ہے۔ اس کے بارے میں عرض ہے کہ یہ بلکل جھوٹا الزام ہے جیسا کہ پہلے بھی بتایا جا چکا مسلمان بھی اپنے کمائے ہوئے مال سے حصہ دیتے ہیں جسے زکوٰۃ و عشر کہا جاتا ہے ۔اور وہ مقدار میں جزیہ سے کئی گناہ زیادہ ہے۔ نیز اگر مسلمانوں کے پاس مویشی ہوں بھیڑ ، بکریاں، گائے، بھینس، گھوڑے اور اونٹ تو ان کی بھی زکوٰۃ مسلمانوں کوا دا کرنی پڑتی ہے۔حالانکہ ذمی رعایا سے مویشیوں پر کسی بھی قسم کا لگان یا ٹیکس ادا نہیں کرنا پڑتا۔ مسلمان عورت اگر صاحب نصاب ہو یا بچہ اگر اگر صاحب نصاب ہو تو اس کو بھی لازمی طور پر اپنے اموال کی زکوٰۃ و عشر دینا پڑتا ہے۔اس کے برعکس کسی ذمی عورت اور بچے سے کوئی جزیہ نہیں لیا جاتا۔خود ہی سوچیئے کہ اسلام نے مالی ذمہ داریوں کے نقطہ نظر سے ذمیوں کو کس قدر مراعات سے بہرہ ور کیا ہے۔ بجائے اس کے کہ ان حقائق کو سمجھا جاتا ، اعتراف کیا جاتا، اور اسلام کی فیاضی کا شکریہ ادا کیا جاتا، الٹا یہ الزام عائد کیا جاتا رہا کہ اسلام غیر مسلم رعایا سے امتیازی سلوک روا رکھتا ہے۔اب خود ہی فیصلہ کریں کہ یہ الزام کس حد تک درست ہے ؟ دوسرا یہ الزام کے جزیہ ایک مالی تاوان ہےجس سے اسلامی حکومت اپنی غیر مسلم رعایا کو زیر بار کرتی ہےاور ان کو مالی دشواریوں سے دوچار کرتی ہےاس کے بارے میں اتنا ہی کہنا کافی ہے کہ اگر آپ جزیہ کی مقدار سے آگاہ ہو جائیں تو یہ الزام خود بخود کالعدم ہو جائے گا ۔
امام اعظم امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے مطابق غیر مسلموں کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ دولت مند طبقہ متوسط طبقہ فقراء امراء پر اڑتالیس درہم سالانہ یعنی چار درہم ماہوار، متوسط طبقہ پر چوبیس درہم سالانہ یعنی دو درہم ماہوار اور تیسرے طبقہ پر بارہ درہم سالانہ یعنی ایک درہم ماہوار ! اب آپ خود سوچیئے کہ کیا یہ اتنا بڑا "بوجھ" ہے جو ان کے لیئے ناقابل برداشت ہے ؟؟؟ اور ان کو طرح طرح کی مالی پریشانیوں میں مبتلاء کرنے کا باعث بن سکتا ہے ؟یہ ایک نہایت قلیل اور حقیر سی رقم ہے جو قطعاََ بوجھ تصور نہیں کیا جا سکتا۔ ان کی آخری تہمت کہ جزیہ وصول کرنے کا مقصد یہ ہے کہ غیر مسلموں کو اسلام قبول کرنے پر مجبور کیا جائے ۔ اس کے سراسر کذب و افتراء ہونے میں کوئی شک و شبہہ نہیں ۔جس دین کا بنیادی اصول ہی ہو "لا اکراہ فی الدین" ، اس دین کے پیروکار کسی پر جبر کر کے اسے مسلمان بنانے میں کیوں اپنی طاقت اور وقت صرف کریں گے ؟کیا عقیدہ اتنی حقیر اور کم مایہ چیز ہے کہ اتنی قلیل سی رقم کی ادائیگی سے بچنے کے لیئے انسان اپنے پہلے عقیدے کو چھوڑ کر ایک نیا عقیدہ قبول کر لے جس کو اس کا ضمیر تسلیم نہیں کرتا ۔لوگ تو اپنے عقیدہ کے لیئے وطن چھوڑ دیتے ہین اپنی عمر بھر کی کمائی پر لات مار دیتے ہیں اور اپنے عقیدہ کی راہ میں سر کٹانا پڑے تو اس کو بھی بصد مسرت قبول کر لیتے ہیں ۔ عقیدہ اتنی سستی اور ارزاں چیز نہیں کہ لوگ اتنی حقیر اور قلیل رقم کے بدلے تبدیل کر لیں ۔
یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ ہر غیر مسلم پر جزیہ کی ادائیگی لازم نہیں بلکہ اس کے لیئے کچھ شرائط کاپایا جانا ضروری ہے ۔ اگر ان شرائط میں سے کوئی شرط نہیں پائی جائے گی تو جزیہ ساقط ہو جائے گا۔ جزیہ ادا کرنے کی شرائط درج ذیل ہیں ٭ عاقل و بالغ ہو اور مرد ہو۔ ٭ جسمانی عوارض سے محفوظ ہو ۔ یعنی اپاہج، اندھا، پیر فرتوت اور دائم المرض نہ ہو۔ ٭ آزاد ہو ٭ ایسا مفلس نہ ہو جو بے روزگار ہو۔ ان شرائط سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ نابالغ، دیوانہ، بچہ ، عورت، اپاہج، اندھا، پیر فرتوت، دائم المرض، غلام اور بے روزگار سے جزیہ وصول نہیں کیا جاتایہ سب لوگ جزیہ کے حکم سے مستشنیٰ ہیں۔اگر جزیہ کا مقصد غیر مسلموں کو جبراََ مسلمان بنانا ہوتا تو ان سب پر ضرور جزیہ لگایا جاتا۔کم از کم نابالغ بچے اور عورت سے تو ضرور جزیہ وصول کیا جاتا کیونکہ نابالغ مسلمان بچے اور عورت سے بھی زکوٰۃ اور عشر لیا جاتا ہے ان تمام افراد کو مستشنیٰ کرنے سے کیا ان لوگوں کے اس الزام کی تردید نہیں ہو جاتی کہ جزیہ کا مقصد لوگوں کو جبراََ مسلمان بنانا ہے ؟ اور یہ صرف نظریات ہی نہیں بلکہ مسلمانوں نے اپنے عہد اقتدار میں ان احکامات پر عمل بھی کیا ہے ۔
امام ابو یوسف رحمہ اللہ اپنی کتاب الخراج میں فرماتے ہیں کہ : حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے جن غیر مسلم قوموں اور قبیلوں سے صلح کی ان کو صلح نامے لکھ کر دیئے ان میں یہ جملہ موجود ہے کہ "اگر کوئی بوڑھا کام کرنے کے قابل نہ رہے یا بدنی بیماریوں میں سے اسے کوئی بیماری لگ جائےیا پہلے وہ غنی تھا اب محتاج ہو گیا اور اس کے مذہب والے اس کو صدقہ و خیرات دینے لگیں، ان حالات میں اس سے جزیہ ساقط ہو جائے گا۔اور اس کا اور اس کے اہل و عیال کا خرچ بیت المال سے ادا کیا جائے گا جب تک سلطنت اسلامیہ میں سکونت پذیر رہے ۔" جزیہ کی اصل وجہ :۔ جزیہ کے متعلق اسلام کے سیاسی حریفوں کے پیدا کیئے شکوک و شبہات کے طشت ازبام ہونے کے بعد یہ بات تو بلکل واضح ہو چکی کہ جزیہ کا مقصد نہ تو غیر مسلم رعایا سے امتیازی سلوک ہے نہ انہیں زیربار لانا ہے اور نہ ہی زبردستی اسلام قبول کرانا۔ آیئے دیکھتے ہیں کہ اس کی اصل وجہ کیا ہے ؟ مسلم اور غیر مسلم سے جو الگ الگ رقم وصول کی جاتی ہے اس کے مختلف ناموں کی وجہ یہ ہے کہ زکوٰۃ یا عشر جو مسلمانوں کے ذمہ واجب الادا ء ہےیہ اسلام کی دوسری عبادتوں کی طرح ہی ایک عبادت ہے۔اور غیر مسلم رعایا جو اسلام کو نہیں مانتی ان کی ادا کی گئی رقم کو زکوٰۃ یا عشر سے موسوم کرنا قرین انصاف نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اسلام ان کو اپنے نظام عبادات پر عمل کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جو اس کی سچائی کو مانتے ہی نہیں ۔یہ کتنی بے انصافی کی بات ہے کہ ان غیر مسلموں کو اسلام کے پیش کردہ نظام عبادات کا پابند بنایا جائے۔ اسلام کی عادلانہ روح اس چیز کو قبول نہیں کر سکتی۔ اس لیئے ان کے ذمہ جو واجبات ہیں ان کو الگ نام دیا گیا اور ان کی مقدار بھی کم رکھی گئی تاکہ مسلمانوں کے واجبات اور غیرم مسلم ذمیوں کے واجبات کے درمیان امتیاز باقی رہے۔ اس قدر عادلانہ اور انسانی حقوق کے پاسدار دین کی مخالفت کرنا سورج کو چراغ دکھانے اور چاند پر تھوکنے کے مترادف ہے !