بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ * لا الہٰ الا اللہ محمّد رسول اللہ * قُلْ هُوَ اللّـٰهُ اَحَدٌ - اَللَّـهُ الصَّمَدُ - لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُوْلَدْ - وَلَمْ يَكُنْ لَّـهٝ كُفُوًا اَحَدٌ

منطق ریسرچ ونگ


اِسلامی سپین میں تہذیب و سائنس کا اِرتقا

2017-07-27 07:47:54 

برِاعظم یورپ کے جنوب مغربی کنارے پر موجود جزیرہ نما آئبیریا (Iberian Peninsula) جو ’کوہستانِ پیرینیز‘ (Pyrenees) کی وجہ سے باقی برِاعظم سے کافی حد تک کٹا ہوا ہے اور آجکل سپین (Spain) اور پرتگال (Portugal) نامی دو ممالک پر مشتمل ہے، مسلمانوں نے اُس پر تقریباً 800 برس تک حکومت کی۔ اِسلامی تاریخ میں اس ملک کو ’اندلس‘ کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ اندلس جو کبھی اپنی وُسعت میں پھیلتا ہوا موجودہ سپین اور پرتگال کے ساتھ ساتھ فرانس کے جنوبی علاقوں اربونہ (Narbonne)، بربنیان (Perpignan)، قرقشونہ (Carcassonne) اور تولوشہ (Toulouse) وغیرہ تک جا پہنچا تھا، دورِ زوال میں اُس کی حدُود جنوب مشرقی سمت میں سکڑتے ہوئے محض ’غرناطہ‘ (Granada) تک محدُود ہو گئیں۔ تاریخِ اندلس جہاں ہمیں عروج و زوال کی ہوش رُبا داستان سناتی ہے وہاں قرونِ وُسطیٰ میں مسلمان سائنسدانوں کے عظیم کارہائے نمایاں سے بھی نقاب اُلٹتی نظر آتی ہے، اور اِس حقیقت سے آگاہ کرتی ہے کہ موجودہ سائنسی ترقی کی بنیادوں میں دراصل قرونِ وُسطیٰ کے مسلمان سائنسدانوں ہی کا ہاتھ ہے اور اِسلامی سپین کے سائنسدان بغداد کے مسلمان سائنسدانوں سے کسی طور پیچھے نہ تھے۔ سپین میں سائنسی علوم و فنون اور تہذیب و ثقافت کے ذکر سے پہلے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ کچھ اَحوال اُس کی فتح اور اَدوارِ حکومت کے حوالے سے بھی بیان کر دیئے جائیں تاکہ قارئین کو اُس کا پس منظر سمجھنے میں آسانی ہو۔ اَدوارِ حکومت اِسلامی سپین کی تاریخ درج ذیل بڑے اَدوار میں منقسم ہے : فتوحات و عصرِ وُلاۃ 19جولائی 711ء تا 773ء دورِ بنو اُمیہ 773ء تا 1008ء دورِ ملوکُ الطوائف 1008ء تا 1091ء دورِ مرابطون 1091ء تا 1145ء دورِ موحّدون 1147ء تا 1214ء طوائفُ الملوکی 1214ء تا 1232ء دورِ بنونصر (غرناطہ) 1232ء تا 2 جنوری 1492ء فتحِ سپین ولید بن عبدالملک کے دورِ خلافت (705ء تا 715ء) میں موسیٰ بن نصیر کو شمالی افریقہ کی گورنری تفوِیض ہوئی۔ اُس دور میں سپین کی سیاسی و معاشی حالت اِنتہائی اَبتر تھی۔ عیش کوش ’گاتھ‘ حکمرانوں نے غریب رِعایا کا جینا دوبھر کر رکھا تھا۔ عیش و عشرت کے دِلدادہ بدمست اُمراء اور پادریوں نے عوام کو ٹیکسوں کے بوجھ تلے دبا رکھا تھا۔ یہودیوں کی حالت سب سے بری تھی۔ اُنہیں کوئی دَم سکھ کا سانس نہیں لینے دیا جاتا تھا۔ ظلم و بربریت کے اُس نظام سے تنگ آ کر بڑی تعداد میں لوگوں نے ہجرت کی سوچی اور وہاں سے فرار ہو کر موسیٰ بن نصیر کے زیرِ اِنتظام شمالی افریقہ میں پناہ لینا شروع کر دی جہاں اِسلامی نظامِ حکومت کے باعث لوگ پُرامن زندگی بسر کر رہے تھے۔ جب معاملہ حد سے بڑھا اور مہاجرین بڑی تعداد میں سمندر پار کرکے افریقہ آنے لگے تو موسیٰ نے سپین کی مظلوم رِعایا کو بدمست حکمرانوں کے چنگل سے آزاد کروانے کا منصوبہ بنایا۔ سپین پر باقاعدہ حملے سے قبل دُشمن کی فوجی طاقت کے صحیح اندازے کے لئے موسیٰ نے اپنے ایک قابل غلام ’طریف‘ کی کمان میں جولائی 710ء میں 100 سواروں اور 400 پیادوں کا دستہ روانہ کیا، جس نے سپین کے جنوبی ساحل پر پڑاؤ کیا، جسے آج تک اُس کی یاد میں ’طریفہ‘ کہا جاتا ہے۔ آس پاس کے علاقوں پر کامیاب یلغار کے بعد ’طریف‘ نے موسیٰ کو اِطلاع دی کہ فضاء سازگار ہے، اگر حملہ کیا جائے تو جلد ہی عوام کو ظالم حکمرانوں کے پنجۂ تسلط سے نجات دِلائی جاسکتی ہے۔ موسیٰ بن نصیر نے اگلے ہی سال 711ء بمطابق 92ھ معروف بربر جرنیل ’طارق بن زیاد‘ کو 7,000 فوج کے ساتھ سپین پر لشکر کشی کیلئے روانہ کیا۔ افریقہ اور یورپ کے درمیان واقع 13 کلومیٹر چوڑائی پر مشتمل آبنائے کو عبور کرنے کے بعد اِسلامی لشکر نے سپین کے ساحل پر جبل الطارق (Gibraltar) کے مقام پر پڑاؤ کیا۔ ’طارق‘ کا سامنا وہاں سپین کے حکمران ’راڈرک‘ کی ایک لاکھ سے زیادہ اَفواج سے ہوا۔ تین روز گھمسان کی لڑائی جاری رہی مگر فتح کے آثار دِکھائی نہ دیئے۔ چوتھے دِن طارق بن زیاد نے فوج کے ساتھ اپنا تاریخی خطاب کیا، جس کے اِبتدائی الفاظ یوں تھے : أيها النّاسُ! أين المفرّ؟ البحر مِن ورائِکم و العدوّ أمامکم، و ليس لکم و اﷲِ إلا الصّدق و الصبر. (دولةُ الاسلام فی الاندلس، 1 : 46) اے لوگو! جائے فرار کہاں ہے؟ تمہارے پیچھے سمندر ہے اور سامنے دُشمن، اور بخدا تمہارے لئے ثابت قدمی اور صبر کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ شریف اِدریسی نے اپنی کتاب ’’نُزھۃُ المشتاق‘‘ میں لکھا ہے کہ اِس خطاب سے قبل ’طارق‘ نے سمندر میں کھڑی اپنی کشتیاں جلادی تھیں تاکہ فتح کے سوا زِندہ بچ نکلنے کے باقی تمام راستے مسدُود ہو جائیں۔ چنانچہ مسلمان فوج بے جگری سے لڑی اور 19جولائی711ء کے تاریخی دِن ’وادئ لکہ‘ کے مقام پر ہسپانوی اَفواج کو شکستِ فاش سے دوچار کیا، جس میں گاتھ بادشاہ فرار ہوتے ہوئے دریا میں ڈوب کر مر گیا۔ اِس بڑے معرکے کے بعد جہاں عالمِ اِسلام خصوصاً افریقہ میں مسرّت کی لہر دوڑ گئی وہاں سپین کے عوام نے یومِ نجات منایا۔ اس کے بعد اکتوبر 711ء میں اِسلامی اندلس کا نامور شہر قرطبہ (Cordoba) ’مغیث رومی‘ کے ہاتھوں فتح ہوا اور دُوسرے شہر بھی یکے بعد دیگرے تیزی سے فتح ہوتے چلے گئے۔ بعد اَزاں جون 712ء میں ’موسیٰ بن نصیر‘ نے خود 18,000 فوج لے کر اندلس کی طرف پیش قدمی کی اور ’اشبیلیہ‘ (Seville) اور ’ماردہ‘ (Merida) کو فتح کیا۔ دونوں اِسلامی لشکر ’طلیطلہ‘ (Tledo) کے مقام پر آن ملے جو پہلے ہی کسی مزاحمت کے بغیر فتح ہو چکا تھا۔ اِسلامی لشکر جن شہروں کو فتح کرتا وہاں کے مفلوک الحال مقامی باشندے خصوصاً یہودی مسلمانوں کا بھرپور ساتھ دیتے۔ عوامی پذیرائی کچھ اِس قدر بڑھی کہ مسلمان تھوڑے سے وقت میں پورا سپین فتح کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ طارق بن زیاد کی فتوحات میں سے آخری فتح ’خلیج بسکونیہ‘ (Bay of Biscay) پر واقع شہر ’خیخون‘ (Gijon) کی تھی، جس کے بعد فتوحات کا سلسلہ روک کر ملکی اِنتظام و اِنصرام کی طرف توجہ دی گئی۔ (دولۃُ الاسلام فی الاندلس، 1 : 51) اِسی اثناء میں موسیٰ بن نصیر کو خلیفہ ولید بن عبدالملک کی طرف سے پیغام موصول ہوا کہ وہ اور طارق بن زیادہ اس مہم کو یہیں چھوڑ کر دِمشق چلے آئیں۔ دو سال کی قلیل مدّت میں کم و بیش سارا سپین فتح ہو چکا تھا، موسیٰ نے وہاں سے واپسی سے پہلے اُس کے اِنتظام حکومت کا اِہتمام کیا۔ قرطبہ (Cordoba) کو اندلس کا دارالحکومت قرار دیا، اپنے بیٹے ’عبدالعزیز‘ کو وہاں کا حاکم بنایا اور خلیفہ کے حکم کے مطابق دِمشق کی طرف عازمِ سفر ہوا۔ عصرِ وُلاۃ ’موسیٰ بن نصیر‘ اور ’طارق بن زیاد‘ کی واپسی کے بعد 714ء سے 756ء تک 43 سالوں میں ملک سیاسی حوالے سے عدم اِستحکام کا شکار رہا۔ اُس دوران میں کل 22گورنر اندلس میں مقرر ہوئے۔ یہی وجہ ہے کہ علمی اور تہذیبی اِرتقاء کے ضمن میں اُس دور میں کوئی خاص پیش رفت نہ ہو سکی۔ اندلس کی تاریخ میں یہ دور کافی حد تک غیر واضح ہے۔ اُس دَور کو اِسلامی سپین کی تاریخ میں عصرِ وُلاۃ (یعنی گورنروں کا دَور) کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ دورِ بنواُمیہ 40 ہجری سے 132 ہجری تک عالمِ اِسلام پر حکمرانی کے بعد جب اُموی دورِ خلافت کا خاتمہ ہوا اور بنو عباس نے غلبہ پانے کے بعد شاہی خاندان کے اَفراد کو چن چن کر قتل کرنا شروع کیا تو اُموی خاندان کے چند اَفراد بمشکل جان بچا سکے۔ اُنہی بچ نکلنے والوں میں سے ’ہشام بن عبدالملک‘ کا 20 سالہ نوجوان پوتا ’عبدالرحمن بن معاویہ‘ بھی تھا جس کی ماں ’قیوطہ‘ افریقہ کے بربری قبیلہ ’نفرہ‘ سے تعلق رکھتی تھی۔ عبدالرحمن نے عباسیوں کے مظالم سے بچنے کیلئے افریقہ کا رُخ کیا جہاں اُس کیلئے پناہ کے مواقع ایشیا کی نسبت بہت زیادہ تھے۔ وہ افریقہ سے گزرتا ہوا 5سال بعد اندلس کے ساحل تک جا پہنچا۔ جہاں اُموی دور کی شاہی اَفواج موجود تھیں۔ کچھ ہی دنوں میں عبدالرحمن نے اُن میں اِتنا اثر پیدا کر لیا کہ اُنہوں نے اُسے اپنا کمانڈر بنا لیا۔ یہ فوج شمال کی سمت چلی اور چند ہی سالوں میں تمام اندلس اُس کے زیرِ قبضہ آگیا۔ مقامی اُمراء اور عوام نے اُس کی اِطاعت قبول کر لی اور پورا ملک آزاد اُموی ریاست کی صورت اِختیار کر گیا۔ تاریخ اُسے ’عبدالرحمن الداخل‘ کے نام سے یاد کرتی ہے۔ اُس نے اندلس پر 756ء سے 788ء تک کل 32 سال حکومت کی۔ اس دوران میں اُس نے مقامی اُمراء کی بغاوتوں کو فرو کرنے کے علاوہ فرانس کے بادشاہ ’شارلیمان‘ کا حملہ بھی بری طرح پسپا کیا۔ اُس کے بعد اُس کا بیٹا ’ہشام‘ تختِ سلطنت پر بیٹھا۔ اُس کے عہد میں مسلمانوں نے جنوبی فرانس کے بہت سے شہروں کو فتح کیا۔ یہ وہ دور تھا جب فقہ مالکی کو ریاست میں قانون کی بنیاد کے طور پر نافذ کیا گیا۔ 822ء میں ’عبدالرحمن دُوم‘ تخت نشین ہوا۔ اُس کے 30 سالہ دورِ حکومت میں ملک اِنتظامی طور پر مضبوط ہوا۔ علوم و فنون کی ترقی کا آغاز ہوا، سائنسی علوم کی تروِیج عام ہونے لگی۔ صنعت و حرفت نے بھی بہت زیادہ ترقی کی اور تجارت دُور دراز ممالک تک پھیل گئی۔ اندلس کی بحری طاقت بڑھ جانے سے تجارت کو خوب فروغ حاصل ہوا۔ یہ دَور تعمیرات اور دولت کی فرانوانی کا دَور تھا۔ (آگے چل کر ہم اس کا تفصیلی جائزہ لیں گے۔) دُوسری طرف یہی وہ دَور ہے جس میں یورپ میں اِسلام کے خلاف باقاعدہ طور پر مسیحی تحریک کا آغاز ہوا۔ جس نے بعدازاں صدیوں تک سپین کے مسلمانوں کو جنگوں میں اُلجھائے رکھا اور بالآخر جزیرہ نما آئبیریا (Iberian Peninsula) سے نکال کر دَم لیا۔ اِسلامی سپین کی تاریخ میں سب سے عظیم حکمران ’عبدالرحمن سوم‘ تھا۔ اُس نے 21 برس کی عمر میں 912ء میں اپنے دادا ’عبداللہ‘ کی وفات کے بعد سلطنت کا اِنتظام سنبھالا۔ یہ وہ دَور تھا جب اندلس میں مسلمان رُوبہ زوال تھے اور صلیبی تحریک خوب زور پکڑ چکی تھی۔ اُس نے ہر طرح کی داخلی بدامنی اور خارجی شورشوں کو کچل کر معاشرے کا امن بحال کیا اور ایک نئے دَور کی بنیاد رکھی۔ یہ اندلس کا پہلا حکمران تھا جس نے ’الناصر لدین اﷲ‘ کے لقب کے ساتھ اپنی خلافت کا اِعلان کیا۔ اپنے 912ء سے 961ء تک 49 سالہ دورِ حکومت میں اُس نے نہ صرف بہت سی عیسائی ریاستوں کو اپنا زیرِنگیں کر لیا بلکہ ملک کو عظیم اِسلامی تہذیب و تمدّن کا گہوارہ بنا دیا۔ اُس کے دَور میں علوم و فنون کو عروج ملا جس سے اندلس اپنے دَور کی ایک عظیم ویلفیئر سٹیٹ بن کر اُبھرا۔ ’عبدالرحمن سوم‘ کے بعد ’حکم ثانی‘، ’ہشام‘ اور ’مظفر‘ تخت آرائے خلافت ہوئے مگر اُن کے بعد 1010ء میں سلطنت کا اِنتظام بکھرنا شروع ہوا اور پورا اندلس خانہ جنگی کی لپیٹ میں آگیا۔ 1010ء سے 1031ء تک 21 سالوں میں کل 9 خلفاء تخت نشین ہوئے مگر کوئی بھی حالات کے دھارے کو قابو میں نہ لاسکا۔ 1031ء میں اِنتشار اِس حد تک بڑھا کہ اُس کے نتیجے میں اندلس سے اُموی خلافت کا ہمیشہ کے لئے خاتمہ ہو گیا، سلطنت بہت سے حصوں میں بٹ گئی اور ہر علاقے میں مقامی سرداروں اور ملوک نے حکومت شروع کر دی۔ تاریخ اُن سرداروں کو ’ملوکُ الطوائف‘ کے نام سے یاد کرتی ہے۔ دَورِ مرابطون شمالی افریقہ کے بربری خاندان اور تحریکِ مرابطین کے زیرِ اِنتظام قائم حکومت کے تیسرے حکمران ’یوسف بن تاشفین‘ کا دورِحکومت 1091)ء تا 1106ء ( شمالی افریقہ کے بہترین اَدوار میں سے ایک ہے۔ اُس کے کارہائے گراں مایہ کے اِعتراف میں بغداد کی خلافت کی طرف سے اُسے ’امیر المسلمین‘ کے خطاب سے بھی نوازا گیا تھا۔ جب اندلس میں طوائفُ الملوکی حد سے بڑھی اور عیسائی حکومتوں کی طرف سے مسلمان ریاستوں پر حملوں کا آغاز ہوا اور اِسلامی سپین کی سرحدیں سُکڑنا شروع ہوئیں تو ملوکُ الطوائف کو اپنے اِنجام سے خطرہ لاحق ہوا۔ ایسے میں اُنہیں ہمسایہ مسلمان ریاست کا فرمانروا ’یوسف بن تاشفین‘ اپنی اُمیدوں کے آخری سہارے کی صورت میں دِکھائی دیا۔ اندلس کے سفیروں نے ’یوسف بن تاشفین‘ کو اندلسی مسلمانوں پر ہونے والے عیسائیوں کے مظالم کی لرزہ خیز داستان سنائی اور اُسے صلیبی حملوں کے خلاف اِمداد کے لئے بلایا، جس کے نتیجے میں وہ 1086ء میں 100 جہازوں کے بیڑے کے ساتھ 12 ہزار کی فوج لے کر افریقہ کی بندرگاہ ’سبتہ‘ سے اندلس روانہ ہوا۔ ملوکُ الطوائف بالخصوص معتمد اشبیلیہ (Seville) کے 8,000 اَفواج بھی اُس کے ساتھ آن ملیں۔ یوں 20,000 اَفواج کے ساتھ اُس نے ’سرقسطہ‘ (Zaragoza) کے مقام پر ’لیون‘ (Leon) کے حملہ آور باشادہ ’الفانسوششُم‘ کے 80,000 سپاہیوں کو تہِ تیغ کیا، جن میں سے بمشکل چند سو سپاہی جان بچا کر اپنے وطن واپس لوٹ سکے۔ جنگ زلّاقہ کے نام سے معروف یہ لڑائی اِس اِعتبار سے سپین کی تاریخ میں اہم مقام رکھتی ہے کہ عیسائیوں کی طرف سے مسلمانوں کو جو زبردست خطرہ لاحق ہو گیا تھا وہ ایک طوِیل عرصے کے لئے ٹل گیا۔ اگر یوسف بن تاشفین عیسائیوں کا پیچھا کرتا تو اُن کی طاقت کو مستقل طور پر ناقابلِ تلافی نقصان سے دوچار کر سکتا تھا مگر اُس نے واپسی کا اِرادہ کیا اور اپنی 3,000 فوج اشبیلیہ (Seville) کی حفاظت کے لئے چھوڑ کر باقی لشکر کے ساتھ عازمِ افریقہ ہوا۔ ’یوسف بن تاشفین‘ تو ’الفانسو‘ کو شکست سے دوچار کرنے کے بعد واپس افریقہ چلا گیا مگر اندلس کے ملوک اِس قدر بگڑے ہوئے تھے کہ اُن کا اِتحاد کسی صورت نہ رہ سکا اور ملک میں پھر سے اَمن و امان کا مسئلہ اُٹھ کھڑا ہوا۔ چنانچہ یوسف نے چند سال بعد اندلسی علماء اور عوامُ الناس کے بھرپور اِصرار پر1091ء میں اندلس کو اپنی افریقی ریاست کے ساتھ مدغم کر لیا، یہیں سے ’مرابطین کے دور کا آغاز‘ ہوا۔ اُس دَور میں اندلس کا امن اور خوشحالی ایک بارپھر عود کر آئی تاہم یہ کوئی زیادہ طویل دَور نہ تھا۔ مرابطون کا دورِ حکومت صرف 54 سال تک قائم رہنے کے بعد 1145ء میں ختم ہو گیا۔ صدیوں پر محیط اندلس کی تاریخ میں اِس مختصر دَور کو فلاحِ عامہ کے نکتۂ نظر سے اِنتہائی اچھے لفظوں میں یاد کیا جاتا ہے۔ دورِ مؤحِّدُون مغربِ اَقصیٰ (موجودہ مراکش) سے 1120ء میں ایک نئی اِصلاحی تحریک نے جنم لیا، جس کا بانی ’ابوعبداللہ محمد بن تومرت‘ تھا۔ مہدیت کے دعوے پر مشتمل اُس کی تبلیغ مَن گھڑت عقائد و نظریات کے باوُجود بڑی پُراثر تھی، جس کے نتیجے میں نہ صرف ہزاروں کی تعداد میں لوگ اُس کے مُرید ہونے لگے بلکہ جلد ہی وہ افریقہ کی ایک عظیم سیاسی قوت کی صورت میں اُبھرا۔ اُس کے مریدین مؤحّدوں کہلاتے تھے۔ ’محمد بن تومرت‘ کے جانشین ’عبدالمومن علی‘ کے دَور میں اُس تحریک نے اپنی سیاسی قوت میں بے پناہ اِضافہ کیا، جس کے نتیجے میں 1145ء میں مرابطون کی حکومت کا خاتمہ ہو گیا۔ جن دِنوں مؤحّدون نے مرابطون کا خاتمہ کیا سپین کے صلیبی حکمران ’الفانسوہفتم‘ نے ’قرطبہ‘ (Cordoba) اور ’اشبیلیہ‘ (Seville) سمیت اندلس کے بہت سے شہروں پر قبضہ کر لیا۔ چنانچہ اندلس میں مؤحّدون کے دَور کا آغاز ایک سُکڑی ہوئی ریاست کے طور پر ہوا۔ اس کے باوُجود عبدالمؤمن کے جانشینوں نے نہ صرف صلیبی حملوں کا پُرزور مقابلہ کیا بلکہ ریاست کی تمدّنی ترقی کی طرف بھی خصوصی توجہ دی۔ بہت سی مساجد، محلات، فوجی مدرسے، قلعے، پل اور سڑکیں اُسی دَور میں تعمیر ہوئیں۔ اُس دَور میں بندرگاہوں کی توسیع بھی عمل میں آئی اور جہاز رانی کے کارخانے قائم ہوئے۔ صنعت و حرفت کو خوب فروغ ملا اور تجارت نے بھی ترقی کی۔ 1214ء میں مؤحّدون کے آخری فرمانروا ’ابوعبداللہ محمدالناصر‘ نے ’الفانسونہم‘ کی زیرقیادت حملہ آور قشتالہ، لیون، نبرہ اور ارغون کی مشترکہ اَفواج سے ’العقاب‘ کی جنگ میں شکست کھائی۔ یہ جنگ مسلمانوں کے حق میں فیصلہ کن ثابت ہوئی اور آئندہ کہیں بھی وہ عیسائیوں کے خلاف جم کر نہ لڑ سکے اور اُن کی عظمت و شکوہ کا سکہ پامال ہوئے بغیر نہ رہ سکا۔ جس کے نتیجے میں اندلس ایک بار پھر طوائفُ الملوکی میں گھِرگیا جو 1232ء تک جاری رہی۔ دورِ بنو نصر مؤحّدون کے بعد ملک میں چھانے والی طوائفُ الملوکی کے دوران اندلس کی حدُود تیزی سے سمٹنے لگیں اور بہت سی مسلم ریاستیں یکے بعد دِیگرے عیسائی مقبوضات میں شامل ہوتی چلی گئیں۔ حتیٰ کہ ’خاندانِ بنو نصر‘ کے آغاز سے قبل اِسلامی سپین محض 700 میل کے لگ بھگ رقبے پر مشتمل رہ گیا، جس میں غرناطہ (Granada)، المریہ (Almeria)، مالقہ (Malaga)، قادِس (Cadiz)، بیضاء (Baza) اور جیان (Jaen) کے مشہور شہر شامل تھے۔ غرناطہ کا خاندانِ بنو نصر جس نے 1232ء سے 1492ء تک 260 سال حکومت کی، تاریخِ اندلس میں ایک خاص مقام رکھتا ہے۔ اُس خاندان نے اِتنے طوِیل عرصے تک اپنے محدُود ریاستی وسائل کے باوُجود یورپ بھر کی اِجتماعی یلغار کو روکے رکھا۔ 1423ء میں صحیح معنوں میں ریاست کے زوال کا آغاز ہوا جو بالآخر 2 جنوری 1492ء کے تاریخی دِن اپنے اِنجام کو جاپہنچا۔ عیسائی قابضین نے غرناطہ (Granada) کے مسلمان عوام کے ساتھ کئے گئے جان، مال، عزت و آبرو اور مذہبی آزادی کے وعدے کے برخلاف اُن پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے اور اُنہیں تبدیلی مذہب یا جلاوطنی میں سے ایک پر مجبور کیا گیا۔ جس کے نتیجہ میں سپین سے مکمل طور پر مسلمانوں کا خاتمہ ہو گیا۔ اِسلامی سپین کے چند عظیم سائنسدان سپین کی سرزمین اِسلام کی علمی تاریخ میں بڑی زرخیز ثابت ہوئی ہے۔ اُس کا مقام مردم خیزی میں کسی طرح بھی بغداد (Baghdad) اور دِمشق (Damascus) کی یونیورسٹیوں سے کم نہیں۔ اندلس کی کوکھ سے جن عظیم سائنسدانوں نے جنم لیا یہ اُنہی کا کسبِ کمال تھا جس کی بدولت قرطبہ (Cordoba) جیسا عظیم شہر قرونِ وُسطیٰ میں رشکِ فلک بنا۔ اندلس کی تمدّنی زندگی کے پیچھے اُس کے جلیل القدر سائنسدانوں ہی کا ہاتھ تھا۔ قرونِ وُسطیٰ کی بہت سی نامور شخصیات اندلس ہی سے تعلق رکھتی تھیں۔ چنانچہ عظیم مفسرِ قرآن اِمام قرطبی رحمۃ اللہ علیہ ، مشہورِ عالم سیاح اِبنِ بطوطہ اور اِبنِ جبیر، موجدِ سرجری و ماہرِاَمراضِ چشم ابوالقاسم الزہراوِی، معروف فلسفی و طبیب اِبنِ باجّہ، خالق فلسفۂ وحدتُ الوُجود اِبنِ عربی، عظیم فلسفی و طبیب اِبنِ رُشد، بطلی موسی نظریۂ کواکب کا دلائل کے ساتھ ردّ کرنے والے عظیم اِسلامی ماہرینِ فلکیات اَبواِسحاق الزّرقالی اور اَبواِسحاق البطرُوجی، تاریخ و عمرانیات کے اِمام اِبنِ خلدون، نامور طبیب یونس الحرانی، معروف جغرافیہ نگار و ماہرِ فلکیات شریف اِدریسی، ہوائی جہاز کا موجد عباس بن فرناس، نامور طبیب اِبنِ الہیثم، ماہرِ فلکیات و الجبراء نصیر الدین طوسی اور دِیگر بے شمار علمی و ادبی شخصیات کا تعلق سپین ہی کی عظیم سرزمین سے تھا۔ اِن مسلمان سائنسدانوں نے علم کو صرف اِسلام ہی کی دولت سمجھتے ہوئے محدُود کرنے کی بجائے اپنے دروازے ہر مذہب کے ماننے والوں کے لئے کھلے رکھے اور علم کو بنی نوع انسان کا مشترکہ وِرثہ قرار دیا۔ چنانچہ سپین کی یونیورسٹیوں میں عیسائی اور یہودی طلباء بھی بڑی تِعداد میں تعلیم حاصل کرنے آتے تھے۔ حتیٰ کہ مسلمان سائنسدانوں کے یہودی و عیسائی شاگرد بعد میں نامور سائنسدان ہوئے اور اپنی قوم میں سائنسی تعلیم کی تروِیج کا باعث بنے۔ یہیں سے سپین کا علمی سرمایہ مغربی اور وسطی یورپ منتقل ہونا شروع ہوا۔ معروف مستشرق ’منٹگمری واٹ‘ اِس سلسلے میں رقمطراز ہے : Already when the fortunes of the Muslims were in the ascendant, their learning had attracted scholars of all faiths. Spanish Jews in particular were -- including the great Maimonides (1135-1204) -- sat at the feet of Arabic-speaking teachers and wrote their books in Arabic. (W. Montgomery Watt A History of Islamic Spain P.157) ترجمہ : ’’جب مسلمانوں کی قسمت اپنے عروج پر تھی تو اُن کی تعلیمات نے تمام مذاہب کے ماننے والے طلباء کو اپنی جانب متوجہ کر لیا تھا۔ سپین کے یہودی بطورِ خاص عرب فکر سے متاثر ہوئے، اور (عظیم میمونائیڈز سمیت) اُن میں سے بیشتر نے عربی بولنے والے اساتذہ سے زانوئے تلمّذ طے کیا اور عربی زبان میں کتابیں لکھیں‘‘۔

قرونِ وُسطیٰ میں سائنسی علوم کا فروغ

2017-07-27 07:45:47 

تاجدارِ کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت سے تاریخِ اِنسانیت میں علم و فن، فکر و فلسفہ، سائنس و ٹیکنالوجی اور ثقافت کے نئے اسالیب کا آغاز ہوا اور دُنیا علمی اور ثقافتی حوالے سے ایک نئے دَور میں داخل ہوئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نازِل ہونے والے صحیفۂ اِنقلاب نے اِنسانیت کو مذہبی حقائق سمجھنے کے لئے تعقّل و تدبّر اور تفکّر و تعمق کی دعوت دی۔ اَفَلاَ تَعْقِلُوْنَ (تم عقل سے کام کیوں نہیں لیتے؟)، اَفَلاَ یَتَدَبَّرُوْنَ (وہ غور و فکر کیوں نہیں کرتے؟) اور اَلَّذِیْنَ یَتَفَکَّرُوْنَ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ (جو لوگ آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں غور و فکر کرتے ہیں) جیسے الفاظ کے ذریعے اللہ ربّ العزت نے اپنے کلامِ برحق میں بار بار عقلِ اِنسانی کو جھنجھوڑا اَور اِنسانی و کائناتی حقائق اور آفاقی نظام کو سمجھنے کی طرف متوجہ کیا۔ اِس طرح مذہب اور فلسفہ و سائنس کی غیریت بلکہ تضاد و تصادُم کو ختم کر کے اِنسانی علم و فکر کو وحدت اور ترقی کی راہ پر گامزن کر دیا گیا۔ تاجدارِ رحمت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اِس اِحسان کا بدلہ اِنسانیت رہتی دُنیا تک نہیں چکا سکتی۔ حقیقت تو یہ ہے کہ آج تک دُنیا میں جس قدر علمی و فکری اور ثقافتی و سائنسی ترقی ہوئی ہے یا ہوگی وہ سب دینِ اِسلام کے اِنقلاب آفریں پیغام کا نتیجہ ہے، جس کے ذرِیعے علم و فکر اور تحقیق و جستجو کے نئے دَر وَا ہوئے۔ معلّمِ اِنسانیت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بِعثت سے قبل دُنیا میں علم، فلسفہ اور سائنس کی ترقی کا جو بھی معیار تھا اُس کی بنیاد سقراط (Socrates)، اَفلاطون (Plato) اور اَرسطو (Aristotle) کے دیئے گئے نظریات پر تھی۔ آمدِ دینِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے قبل یونان (Greece) اور اسکندریہ (Alexandria) کی سرزمین علم کی سرپرستی کرتی رہی تھیں۔ اُن مخصوص خطہ ہائے زمین کے علاوہ دُنیا کا بیشتر حصہ جہالت کی تاریکی میں گم تھا۔ سرزمینِ عرب کا بھی یہی حال تھا، جہاں کے لوگ اپنی جہالت اور جاہلیت پر فخر کرتے تھے۔ قدیم یونان، اسکندریہ اور رُوما (اٹلی) میں علم اور تمدّن کی ترقی کا کوئی فائدہ اہلِ عرب کو اِس لئے نہ تھا کہ اُن کے مابین زبانوں کا بہت فرق تھا۔ تاہم جاہلی عرب میں بعض علوم و فنون کا اپنا رواج اور ماحول تھا۔ مختلف علمی و اَدبی میدانوں میں عربوں کا اپنا مخصوص ذوق اور اُس کے اِظہار کا اپنا ایک مخصوص انداز ضرور تھا۔ ایسے حالات میں قرآنِ مجید کی پہلی آیاتِ طیبات اِلٰہیات، اَخلاقیات، فلسفہ اور سائنس کا پیغام لے کر نازل ہوئیں۔ اِرشادِ ربانی ہوا : اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَO خَلَقَ الْإِنسَانَ مِنْ عَلَقٍO اقْرَأْ وَرَبُّكَ الْأَكْرَمُO الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِO عَلَّمَ الْإِنسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْO (العلق، 96 : 1 - 5) (اے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے رب کے نام سے (آغاز کرتے ہوئے) پڑھئے جس نے (ہر چیز کو) پیدا فرمایاo اُس نے اِنسان کو (رحمِ مادر میں) جونک کی طرح معلّق وُجود سے پیدا کیاo پڑھئے اور آپ کا ربّ بڑا ہی کریم ہےo جس نے قلم کے ذرِیعے (لکھنے پڑھنے کا) علم سکھایاo جس نے اِنسان کو (اس کے علاوہ بھی) وہ (کچھ) سکھا دیا جو وہ نہیں جانتا تھاo تاجدارِ رحمت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نازِل ہونے والی پہلی وحی کی پہلی آیت نے اِسلامی ’اِلٰہیات‘ و ’اَخلاقیات‘ کی علمی بنیاد فراہم کی، دُوسری آیت نے ’حیاتیات‘ اور ’جینیات‘ کی سائنسی اَساس بیان کی، تیسری آیت نے اِنسان کو اِسلامی عقیدہ و فلسفۂ حیات کی طرف متوجہ کیا، چوتھی آیت نے فلسفۂ علم و تعلیم اور ذرائعِ علم پر روشنی ڈالی اور پانچویں آیت نے علم و معرفت، فکر و فن اور فلسفہ و سائنس کے تمام میدانوں میں تحقیق و جستجو کے دروازے کھول دیئے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی حیاتِ طیبہ میں علم و فن اور تعلیم و تعلم کی ایسی سرپرستی فرمائی کہ اپنی جہالت پر فخر کرنے والی اُمیّ (اَن پڑھ) قوم تھوڑے ہی عرصہ میں پوری دُنیا کے علوم و فنون کی اِمام و پیشوا بن گئی اور شرق سے غرب تک علم و اَخلاق اور فلسفہ و سائنس کی روشنی پھیلانے لگی۔ وہ عرب قوم۔۔۔ جسے علم و سائنس کی راہ پر ڈالنے کے لئے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غزوۂ بدر کے کافر قیدیوں کے لئے چار ہزار درہم زرِ فدیہ کی خطیر رقم چھوڑتے ہوئے دس دس مسلمان بچوں کو پڑھانے کا فدیہ مقرر کر دِیا تھا۔۔۔ اِسلام کی اَوائل صدیوں کے اندر ہی پوری دُنیائے اِنسانیت کی معلّم بن کر اُبھری۔ اور اُس نے سائنسی علوم کو اَیسی مضبوط بنیادیں فراہم کیں جن کا لوہا آج بھی مانا جاتا ہے۔ اِس باب میں قرآن و سنت کی تعلیمات کا نمایاں پہلو یہ ہے کہ اُس نے اِنسانی ذِہن کو اپنے وُجود اور نظامِ کائنات کے حقائق کو سمجھنے کے لئے دعوتِ غور و فکر دی۔ کلامِ مجید میں اِرشادِ باری تعالیٰ ہے : سَنُرِيهِمْ آيَاتِنَا فِي الْآفَاقِ وَفِي أَنفُسِهِمْ حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُ الْحَقُّ. (حم السجده، 41 : 53) ہم عنقریب اُنہیں اپنی نشانیاں خارجی کائنات (universal phenomenon) میں اور اُن کے وُجودوں (human world) کے اند ر دِکھا دیں گے، حتی کہ اُن پر آشکار ہوجائے گا کہ اللہ ہی حق ہے۔ تاجدارِ کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اُس جاہل بدوِی قوم کو حقائق کے تجزیہ و تعلیل کا مزاج دیا، حقائقِ کائنات میں جستجو اور تحقیق کا ذَوق دیا۔ کائنات کی تخلیق سے لے کر اُس کے اِختتام تک اور اِنسان کی تخلیق سے لے کر اُس کی موت تک، پھر موت سے قیامت تک کے اَحوال پر غور و فکر کے لئے بھی بنیادی مواد فراہم کیا۔ اِس طرح کائناتی اور اِنسانی علوم (sciences) کی ترقی کی راہیں تسلسل کے ساتھ کھلتی ہی چلی گئیں۔ چنانچہ اُمتِ مسلمہ میں علمی ذوق نے اِس حد تک فروغ پایا کہ حکم قرآنی ’’عَلَّمَ بِالْقَلَمِ‘‘ کا اِشارہ پاکر مسلم اہلِ علم نے ’’قلم‘‘ کی تاریخی تحقیق کا بھی حق اَدا کردیا۔ یہاں تک کہ اِمام عبدالرحمن بن محمد بن علی الحنفی البسطامی رحمۃ اللہ علیہ نے ابوالبشر سیدنا آدم علیہ السلام سے لے کر اپنے دَور تک قلم کے جملہ مناہج و اَسالیب کی تاریخ پر ایک کتاب لکھی، جس کا نام ’’مباھجُ الاعلام فی مناھجِ الاقلام‘‘ رکھا۔ اُس کتاب میں اُنہوں نے 150 سے زائد قلموں اور اُن کے اَدوار و اَحوال کی تاریخ مرتب کی ہے۔ غالباً یہ دُنیا میں اپنی نوعیت کا ایک منفرد کام ہے۔ اُس کا مخطوطہ یونیورسٹی آف لیڈن (ہالینڈ) میں محفوظ ہے۔ برائے حوالہ ملاحظہ ہو : Catalogue of Arabic Manuscripts (xxi) Fasciule 2 by J. J. Witkam, (Leiden University Press, Leiden, 1984) عالمِ اِسلام میں تہذیب و ثقافت کا فروغ اِبنِ حوقل نے بیان کیا ہے کہ قرونِ وُسطیٰ میں اِسلامی اور عرب دُنیا میں شرحِ خواندگی اور تعلیم و تعلم (education & literacy) کے شغل نے یہاں تک ترقی کی کہ صرف سسلی (Sicily) جیسے ایک چھوٹے سے شہر میں 600 پرائمری سکول موجود تھے اور اُن کی وُسعت کا یہ عالم تھا کہ ابو القاسم بلخی کی رِوایت کے مطابق 3,000 طلباء صرف اُن کے اپنے اِنسٹیٹیوٹ میں زیرتعلیم تھے۔ اِسی طرح دِمشق (Damascus)، حلب (Halab)، بغداد (Baghdad)، موصل (Mosul)، مصر (Egypt)، بیتُ المقدس (Jerusalem)، بعلبک، قرطبہ (Cordoba)، نیشاپور اور خراسان (Central Asia) وغیرہ بھی سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں سے معمور تھے۔ ’جامعہ نظامیہ بغداد‘۔۔۔ جو پانچویں صدی سے نوی صدی ہجری تک دُنیا کی عظیم ترین یونیورسٹی تھی۔۔۔ اُس میں ریگولر طلبہ کی تِعداد 6,000 رہتی تھی۔ دسویں صدی میں بقول اِمام نعیمی رحمۃ اللہ علیہ، صرف شہر دِمشق میں فقہ و قانون (law and jurisprudence) کے کالجز اور جامعات کا عالم یہ تھا کہ 63 تعلیمی اِدارے فقہ شافعی کے تھے، 52 فقہ حنفی کے، 11 فقہ حنبلی کے اور 4 فقہ مالکی کے تھے۔ اِس کے علاوہ علمُ الطب (medical sciences) کے سکول اور کالج الگ تھے۔ اِمام ابنِ کثیر رحمۃ اللہ علیہ تاریخ پر اپنی کتاب ’البدایہ والنہایہ‘ میں سن 631ھ کے ضمن میں لکھتے ہیں کہ اُس سال ’مدرسہ مستنصریہ‘ کی تعمیر مکمل ہوئی، جو اُس وقت کی قانون کی سب سے بڑی درسگاہ تھی۔ اُس میں چاروں فقہی و قانونی مکاتبِ فکر کے 62، 62 ماہرین و متخصّصین فقہ و قانون کے شعبوں میں تدرِیس کے لئے تعینات تھے۔ اِسلامی تاریخ کا سب سے پہلا باقاعدہ ہسپتال اُموِی خلیفہ ’ولید بن عبدالملک‘ (86ھ تا 96ھ) کے زمانے میں پہلی صدی ہجری میں ہی تعمیر ہوگیا تھا۔ اُس سے قبل ڈسپنسریاں (dispensaries) موبائل میڈیکل یونٹ (mobile medical units) اور میڈیکل ایڈ سنٹرز (medical aid centres) وغیرہ موجود تھے، جو عہدِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں غزوۂ خندق کے موقع پر بھی مدینہ طیبہ میں کام کر رہے تھے۔ اُس ہسپتال میں indoor patients کے باقاعدہ وارڈز تھے اور ڈاکٹروں کو رہائش گاہوں کے علاوہ بڑی معقول تنخواہیں بھی دی جاتی تھیں۔ اِسلامی تاریخ کے اُس دورِ اوائل کے ہسپتالوں میں درج ذیل شعبہ جات مستقل طور پر قائم ہوچکے تھے : 1- Department of Systematic Diseases 2- Ophthalmic department 3- Surgical department 4- Orthopaedic department 5- Department of mental diseases اُن میں سے بعض بڑے ہسپتالوں کے ساتھ میڈیکل کالج(medical colleges) بھی متعلق کردیئے گئے تھے, جہاں پوری دُنیا کے طلبہ medical science کی تعلیم حاصل کرتے تھے۔ دِمشق کا ’نوری ہسپتال‘ (Noorie Hospital) اور مصر کا ’ابنِ طولون ہسپتال‘ (Ibn-i-Tulun Hospital) اِس سلسلے میں بڑے نمایاں تھے۔ ابنِ طولون میڈیکل کالج میں اِتنی عظیم لائبریری موجود تھی جو صرف medical sciences ہی کی ایک لاکھ سے زائد کتابوں پر مشتمل تھی۔ ہسپتالوں کا نظام دَورِ جدید کے مغربی ہسپتالوں کی طرح نہایت منظم اور جامع تھا اور یہ معیار دِمشق، بغداد، قاہرہ، بیتُ المقدس، مکہ، مدینہ اور اندلس ہر جگہ برقرار رکھا گیا تھا۔ بغداد کا ’اَزدی ہسپتال‘ (Azdi Hospital) جو 371ھ میں تعمیر ہوا، دِمشق کا ’نوری ہسپتال‘ (Noorie Hospital)، مصر کا ’منصوری ہسپتال‘ (Mansuri Hospital) اور مراکش کا ’مراکو ہسپتال‘ (Moroccan Hospital) اُس وقت دُنیا کے سب سے بڑے اور تمام ضروری سہولتوں اور آلات سے لیس ہسپتال تھے۔ اِسلامی تعلیمات کی بدولت ملنے والی ترغیب سے مسلمان تو تعلیم اور صحت کے میدانوں میں ترقی کی اِس اَوج پر فائز تھے جبکہ یورپ کے باسیوں کو پینے کا صاف پانی بھی میسر نہ تھا۔ مسلمانوں کے علمی شغف کا یہ عالم تھا کہ اِسلامی دُنیا کے ہر شہر میں پبلک اور پرائیویٹ لائبریریوں کی قابلِ رشک تعداد موجود تھی اور بیشتر لائبریریاں لاکھوں کتابوں کا ذخیرہ رکھتی تھی۔ قرطبہ (Cordoba)، غرناطہ (Granada)، بغداد (Baghdad) اور طرابلس (Tarabulus) وغیرہ کی لائبریریاں دُنیا کا عظیم تاریخی اور علمی سرمایہ تصوّر ہوتی تھیں۔ علوم القرآن (Quranic Sciences) قرآنِ مجید ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو ہمیں اِنسانی زِندگی کے ہر گوشے سے متعلق ہدایت فراہم کرتا ہے۔ یہ ایک اَیسی کتابِ ہدایت ہے جس سے تمام علوم کے سُوتے پھوٹتے ہیں۔ چنانچہ اَوائل دورِ اِسلام ہی سے قرآنِ مجید کو منبعِ علوم تصوّر کرتے ہوئے اُس سے مستنبط ہونے والے علوم و فنون پر کام کیا گیا۔ قاضی ابو بکر بن عربی رحمۃ اللہ علیہ اپنی کتاب ’قانونُ التاوِیل‘ میں بیان کرتے ہیں کہ قرآنی علوم کی تعداد 77,450 ہے۔ مسلمان اہلِ علم نے صرف مطالعۂ قرآن کے ذرِیعے جو علمی و اَدبی اور سائنسی و سماجی علوم و فنون اَخذ کئے اُن میں سے چند ایک یہ ہیں : علمُ التوحید (theology) علمُ القراۃ والتجوید (pronunciation) علمُ النحو (grammer & syntax) علمُ الصرف (morphology) علمُ التفسیر (exegesis) علمُ اللغہ (linguistics) علمُ الاصول (science of fundamentals) علمُ الفروع (science of branches) علمُ الکلام (theology) علمُ الفقہ والقانون (law & jurisprudence) علمُ الفرائض والمیراث(law of inheritance) علمُ الجریمہ (criminology) علمُ الحرب (science of war) علمُ التاریخ (history) علمُ التزکیہ والتصوف (theosophy) علمُ التعبیر (oneiromancy) علمُ الادب (literature) علمُ البلاغت، المعانی، البیان، البدیع (rhetoric) علمُ الجبر و المقابلہ (algebra) علمُ المناظرہ (polemics) علمُ الفلسفہ (philosophy) علمُ النفسیات (psychology) علمُ الاَخلاق (ethics) علمُ السیاسہ (political science) علمُ المعاشرہ (sociology) علمُ الثقافہ (culture) علمُ الخطاطی (calligraphy) علمُ المعیشت والاقتصاد(economics) علمُ الکیمیا (chemistry) علمُ الطبیعیات (physics) علمُ الحیاتیات (biology) علمُ النباتات (botany) علمُ الزراعہ (agronomy) علمُ الحیوانات (zoology) علمُ الطب (medical science) علمُ الادویہ (pharmacology) علمُ الجنین (embryology) علم تخلیقیات (cosmology) علم کونیات (cosmogony) علمُ الہیئت (astronomy) علمِ جغرافیہ (geography) علمُ الارضیات (geology) علمُ الآثار (archaeology) علمُ المیقات (timekeeping) وغیرہ اِسی طرح اَحادیثِ نبوی سے بھی ہزارہا علوم و فنون کا اِستنباط کیا گیا اور اگلی صدیوں میں اُن پر تحقیق کے ذریعے ہزاروں کتب کا بیش بہا ذخیرہ مرتب ہوا۔ اَب ہم اِسلامی تعلیمات کی روشنی میں چند سائنسی اور سماجی علوم و فنون کے اِرتقاء میں ہونے والی پیش رفت کا باری باری جائزہ لیتے ہیں۔ علمِ ہیئت و فلکیات (Astronomy) علم ہیئت و فلکیات کے میدان میں مسلمان سائنسدانوں کی خدمات ناقابلِ فراموش ہیں۔ اُنہوں نے یونانی فلسفے کے گرداب میں پھنسے علمُ الہیئت کو صحیح معنوں میں سائنسی بنیادوں پر اُستوار کیا۔ مغربی زبانوں میں اَب بھی بے شمار اَجرام سماوِی کے نام عربی میں ہیں، کیونکہ وہ مسلم ماہرینِ فلکیات کی دریافت ہیں۔ عظیم مغربی مؤرخ Prof Hitti لکھتا ہے : Not only are most of the star۔۔۔ names in European languages of Arabic origins۔۔۔ but a numbers of technical terms۔۔۔ are likewise of Arabic etymology and testify to the rich legacy of Islam to Christian Europe." (History of the Arabs, pp.568-573) ترجمہ : ’’یورپ کی زبانوں میں نہ صرف بہت سے ستاروں کے نام عربی الاصل (عربی زبان سے نکلنے والے) ہیں بلکہ لاتعداد اِصطلاحات بھی داخل کی گئی ہیں جو یورپ پر اِسلام کی بھرپور وراثت کی مہرِ تصدیق ثبت کرتی ہیں‘‘۔ اندلس کے عظیم مسلمان سائنسدان ابنِ رشد۔۔۔ جسے مغرب میں Averroes کے بدلے ہوئے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔۔۔ نے سورج کی سطح کے دھبوں (sun spots) کو پہچانا۔ Gregorian کیلنڈر کی اِصلاحات ’عمر خیام‘ نے مرتب کیں۔ خلیفہ مامون الرشید کے زمانہ میں زمین کے محیط کی پیمائشیں عمل میں آئیں، جن کے نتائج کی درُستگی آج کے ماہرین کے لئے بھی حیران کن ہے۔ سورج اور چاند کی گردِش، سورج گرہن، علمُ المیقات (timekeeping) اور بہت سے سیاروں کے بارے میں غیرمعمولی سائنسی معلومات بھی البتانی اور البیرونی جیسے نامور مسلم سائنسدانوں نے فراہم کیں۔ مسلمانوں کی علمُ المیقات (timekeeping) کے میدان میں خصوصی دِلچسپی کی وجہ یہ تھی کہ اِس علم کا تعلق براہِ راست نمازوں اور روزوں کے معاملات سے تھا۔ یاد رہے کہ البتانی (877ء۔ 918ء) اور البیرونی (973ء۔ 1050ء) کا زمانہ صرف تیسری اور چوتھی صدی ہجری کا ہے، گویا یہ کام بھی آج سے گیارہ سو سال قبل اِنجام پذیر ہوئے۔ (History of the Arabs, pp.373-378) پنج وقتی نمازوں کے تعینِ اَوقات کی غرض سے ہر طول و عرض بلد پر واقع شہروں کے لئے مقامی ماہرینِ تقوِیم و فلکیات نے الگ الگ کیلنڈرز وضع کئے۔ رمضانُ المبارک کے روزوں نے طلوع و غروبِ آفتاب کے اَوقات کے تعین کے لئے پوری تقوِیم بنانے کی الگ سے ترغیب دی، جس سے بعداَزاں ہر طول بلد پر واقع شہر کے مطابق الگ الگ کیلنڈرز اور پھر مشترکہ تقوِیمات کو فروغ ملا۔ یہاں تک کہ تیرہویں صدی عیسوی میں باقاعدہ طور پر ’مؤقّت‘ کا عہدہ وُجود میں آگیا، جو ایک پیشہ ور ماہرِفلکیات ہوتا تھا۔ مغرب کے دورِ جدید کی مشاہداتی فلکیات (observational astronomy) میں اِستعمال ہونے والا لفظ almanac بھی عربی الاصل ہے اِس کی عربی اصل ’المناخ‘ (موسم) ہے۔ یہ نظام بھی اصلاً مسلم سائنسدانوں نے اِیجاد کیا تھا۔ ’شیخ عبدالرحمن الصوفی رحمۃ اللہ علیہ‘ نے اِس موضوع پر ایک عظیم کتاب ’صورُالکواکب‘ (figures of the stars) کے نام سے تصنیف کی تھی، جو جدید علمِ فلکیات کی بنیاد بنی۔ مستزاد یہ کہ اِس باب میں ’ابنُ الہیثم‘۔۔۔ جسے اہلِ مغرب لاطینی زبان میں Alhazen لکھتے ہیں۔۔۔ کی خدمات بھی ناقابلِ فراموش سائنسی سرمایہ ہے۔ علمِ ہیئت و فلکیات (astronomy) اور علمِ نجوم (astrology) کے ضمن میں اندلسی مسلمان سائنسدانوں میں اگرچہ ’علی بن خلاف اندلسی‘ اور ’مظفرالدین طوسی‘ کی خدمات بڑی تاریخی اہمیت کی حامل ہیں۔ مگر اُن سے بھی بہت پہلے تیسری صدی ہجری میں قرطبہ (Cordoba) کے عظیم سائنسدان ’عباس بن فرناس‘ نے اپنے گھر میں ایک کمرہ تیار کر رکھا تھا جو دورِ جدید کی سیارہ گاہ (Planetarium) کی بنیاد بنا۔ اُس میں ستارے، بادل اور بجلی کی گرج چمک جیسے مظاہرِ فطرت کا بخوبی مشاہدہ کیا جا سکتا تھا۔ ’عباس بن فرناس‘ وہ عظیم سائنسدان ہے جس نے دُنیا کا سب سے پہلا ہوائی جہاز بنا کر اُڑایا۔ بعد اَزاں البیرونی (al-Biruni) اور ازرقیل (Azarquiel) وغیرہ نے equatorial instruments کو وضع کیا اور ترقی دی۔ اِسی طرح سمتِ قبلہ کے درُست تعین اور چاند اور سورج گرہن (lunar & solar eclipses) کو قبل اَز وقت دریافت کرنے، حتیٰ کہ چاند کی گردِش کا مکمل حساب معلوم کرنے کا نظام بھی البطانی، ابنِ یونس اور ازرقیل جیسے مسلم سائنسدانوں نے وضع کیا۔ اِس سلسلے میں اُنہوں نے Toledan Astronomical Tables مرتب کئے۔ چنانچہ بعض غیرمسلم مؤرخین نے اِس حقیقت کا اِن اَلفاظ میں اِعتراف کیا ہے : "Muslim astrologers also discovered (around the thirteenth century) the system for giving the ephemerids of the sun and the moon --- later extended to the other planets --- as a function of concrete annual dates. Such was the origin of the almanacs which were to be so widely used when trans-oceanic navigation began." (The Legacy of Islam, pp. 474-482) ترجمہ : ’’مسلمان ماہرینِ فلکیات نے بھی (تیرہویں صدی عیسوی کے قریب) چاند اور سورج کو حرکت دینے والے نظام کو دریافت کیا اور بعد ازاں دُوسرے سیاروں کے حوالے سے تحقیق شروع کی۔ طے شدہ سالانہ تاریخوں کے حساب سے اور اُن تاریخوں کا رجسٹر کا آغاز کچھ ایسا تھا کہ اسے سمندر کو پار کرنے کے لئے جہازوں کی رہنمائی میں بہت زیادہ اِستعمال میں لایا گیا‘‘۔ حساب، الجبرا، جیومیٹری (Mathematics, Algebra, Geometry) حساب، الجبرا اور جیومیٹری کے میدان میں ’الخوارزمی‘ مؤسسینِ علم میں سے ایک ہے۔ حساب میں algorism یا algorithm کا لفظ الخوارزمی (al-Khwarizimi) کے نام سے ہی ماخوذ ہے۔ اُن کی کتاب ’’الجبر و المقابلہ‘‘ کا بارہویں صدی عیسوی میں عربی سے لاطینی زبان میں ترجمہ کیا گیا۔ یہ کتاب سولہویں صدی عیسوی تک یورپ کی یونیورسٹیوں میں بنیادی نصابی کتاب (textbook) کے طور پر پڑھائی جاتی رہی اور اُسی سے عالمِ مغرب میں الجبرا متعارف ہوا۔ اُس کتاب میں ’تفرّق کے معکوس‘ (integration) اور ’مساوات‘ (equation) کی آٹھ سو سے زائد مثالیں دِی گئی تھیں۔ مستزاد یہ کہ یورپ میں trigonometrical functions کا علم ’البتانی‘ کی تصانیف کے ذریعے اور tangents کا علم ’ابوالوفا‘ کی تصانیف کے ذریعے پہنچا۔ اسی طرح صفر (zero) کا تصوّر مغرب میں متعارف ہونے سے کم از کم 250 سال قبل عرب مسلمانوں میں متعارف تھا۔ ابو الوفاء، الکندی، ثابت بن القرّاء، الفارابی، عمرخیام، نصیرالدین طوسی، ابنُ البناء المراکشی، ابنِ حمزہ المغربی، ابوالکامل المصری اور اِبراہیم بن سنان وغیرہ کی خدمات arithmetic، algebra، geometry اور trigonometry وغیرہ میں تاسیسی حیثیت کی حامل ہیں۔ حتیٰ کہ اِن مسلمان ماہرین نے باقاعدہ اُصولوں کے ذریعے optics اور mechanics کو بھی خوب ترقی دِی۔ یہ بات بھی قابلِ ذِکر ہے کہ ’المراکشی‘ نے mathematics کی مختلف شاخوں پر 70 کتابیں تصنیف کی تھیں، جو بعد اَزاں اِس علم کا اَساسی سرمایہ بنیں۔ الغرض مسلم ماہرین نے علمِ ریاضی کو یونانیوں سے بہت آگے پہنچا دیا اور یہی اِسلامی کام جدید mathematics کی بنیاد بنا۔ طبیعیات، میکانیات اورحرکیات (Physics, Mechanics, Dynamics) قرونِ وُسطیٰ کے مسلمان سائنسدانوں میں سے ابنِ سینا، الکندی، نصیرالدین طوسی اور ملا صدرہ کی خدمات طبیعیات کے فروغ میں اِبتدائی طور پر بہت اہمیت کی حامل ہیں۔ بعد اَزاں محمد بن زکریا رازی، البیرونی او ر ابو البرکات البغدادی نے اُسے مزید ترقی دی۔ الرازی نے علمِ تخلیقیات (cosmology) کو خاصا فروغ دیا۔ البیرونی نے ارسطو (Aristotole) کے کئی طبیعیاتی نظریات کو ردّ کیا۔ البغدادی کی کتاب ’کتاب المعتبر‘ قدیم فزکس میں نمایاں مقام رکھتی ہے۔ حرکت (motion) اور سمتی رفتار (velocity) کی نسبت البغدادی اور ملاصدرہ کے نظریات و تحقیقات آج کے سائنسدانوں کے لئے بھی باعثِ حیرت ہیں۔ پھر ابنُ الہیثم نے density, atmosphere, measurements, weight, space, time, velocities, gravitation, capillary attraction جیسے موضوعات اور تصورات کی نسبت بنیادی مواد فراہم کر کے علمِ طبیعیات (physics) کے دامن کو علم سے بھر دیا۔ اِسی طرح mechanics اور dynamics کے باب میں بھی ابن سینا اور ملا صدرہ نے نمایاں خدمات سراَنجام دیں۔ ابنُ الہیثم کی ’کتابُ المناظر‘ (optical thesaurus) نے اِس میدان میں گرانقدر علم کا اِضافہ کیا۔ ابنِ باجّہ نے بھی dynamics میں نمایاں علمی خدمات اِنجام دیں۔ اُنہوں نے ارسطو کے نظریۂ رفتار کو ردّ کیا۔ اِسی طرح ابنِ رشد نے بھی اِس علم کو ترقی دی۔ اِن مسلم سائنسدانوں نے galileo سے بھی پہلے gravitational force کی خبر دِی مگر اُن کا تصوّر دورِ حاضر کے تصوّر سے قدرے مختلف تھا۔ اِسی طرح momentum کا تصوّر بھی اِسلامی سائنس کے ذرِیعے مغربی دُنیا میں متعارف ہوا۔ ثابت بن قراء نے lever پر پوری کتاب لکھی، جسے مغربی تاریخ میں liber karatonis کے نام سے جانا جاتا ہے۔ بغداد کے دِیگر مسلم سائنسدانوں نے تاریخ کے کئی mechanical devices اور godgets وغیرہ پر بہت زیادہ سائنسی مواد فراہم کیا۔ علم بصریات (Optics) بصریات (optics) کے میدان میں تو اِسلامی سائنسی تاریخ کو غیرمعمولی عظمت حاصل ہے۔ بقول پروفیسر آرنلڈ (Arnold) اِس میدان میں چوتھی صدی ہجری کے ابنُ الہیثم اور کمالُ الدین الفارسی کی سائنسی خدمات نے پچھلے نامور سائنسدانوں کے علم کے چراغ بجھادیئے۔ ابنُ الہیثم کی معرکۃُ الآراء کتاب "On Optics" آج اپنے لاطینی ترجمہ کے ذرِیعے زندہ ہے۔ اُنہوں نے تاریخ میں پہلی مرتبہ lenses کی magnifying power کو دریافت کیا اور اِس تحقیق نے magnifying lenses کے نظریہ کو اِنسان کے قریب تر کردیا۔ ابنُ الہیثم نے ہی یونانی نظریۂ بصارت (nature of vision) کو ردّ کر کے دُنیا کو جدید نظریۂ بصارت سے رُوشناس کرایا اور ثابت کیا کہ روشنی کی شعاعیں (rays) آنکھوں سے پیدا نہیں ہوتیں بلکہ بیرونی اَجسام (external objects) کی طرف سے آتی ہیں۔ اُنہوں نے پردۂ بصارت (retina) کی حقیقت پر صحیح طریقہ سے بحث کی اور اُس کا optic nerve اور دِماغ (brain) کے ساتھ باہمی تعلق واضح کیا۔ الغرض ابنُ الہیثم نے بصریات کی دُنیا میں اِس قدر تحقیقی پیش رفت کی کہ Euclid اور Kepler کے درمیان اُس جیسا کوئی اور شخص تاریخ میں پیدا نہیں ہوا۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ وُہی جدید بصریات (optics) کے بانی کا درجہ رکھتے ہیں۔ اُن کے کام نے نہ صرف Witelo Roger Bacon اور Peckham جیسے قدیم سائنسدانوں کو ہی متاثر کیا بلکہ دورِ جدید میں Kepler اور Newton کے کام بھی اُن سے خاصے متاثر نظر آتے ہیں۔ مزید برآں اُن کا نام velocities, light, lenses, astronomical observations, meteorology اور camera وغیرہ پر تاسیسی شان کا حامل ہے۔ اِسی طرح قطبُ الدین شیرازی اور القزوِینی نے بھی اِس میدان میں گرانقدر خدمات اِنجام دی ہیں۔ علمُ النباتات (Botany) اِس موضوع پر الدینوری (895ء) کی چھ جلدوں پر مشتمل ’کتابُ النبات‘ سائنسی دُنیا میں سب سے پہلا ضخیم اور جامع Encyclopaedia Botanica ہے۔ یہ مجموعہ اُس وقت تحریر کیا گیا جب یونانی کتب کا عربی ترجمہ بھی شروع نہیں ہوا تھا۔ ایک مغربی سائنسی مورخ Strassburg لکھتا ہے : "Anyhow it is astonishing enough that the entire botanical literature of antiquity furnishes us only two parallels to our book (of Dinawari). How was it that the Muslim people could, during so early a period of its literacy life, attain the level of the people of such a genius as the Hellenic one, and even surpassed it in this respect." (Zeitschrift fuer Assyriologie, Strassburg, vols. 25,44) ترجمہ ’’الغرض یہ ایک اِنتہائی حیران کن بات ہے کہ زمانۂ قدیم میں لکھا جانے والا علمِ نباتات کا مواد ہمیں الدنیوری کی کتاب جیسی صرف دو مثالیں پیش کرتا ہے۔ یہ کیسے ممکن ہوا کہ اپنی تعلیمی زندگی کے اُس اِبتدائی دَور میں مسلمانوں نے قدیم یونان جیسے دانشور و محقق لوگوں کا درجہ حاصل کرلیا تھا بلکہ وہ اِس معاملے میں تو اُن سے بھی آگے نکل گئے تھے‘‘۔ پروفیسر آرنلڈ کے مطابق دُنیا بھر سے مسلمانوں کے مکہ و مدینہ کی طرف حج اور زیارت کے لئے سفر کرنے کے عمل نے biological science کو خاصی ترقی دی ہے۔ الغفیقی اور الادریسی نے اندلس (Spain) سے افریقہ تک سفر کر کے سینکڑوں پودوں کی نسبت معلومات جمع کیں اور کتابیں مرتب کیں۔ ابنُ العوام نے 585 پودوں کے خواص و اَحوال پر مشتمل کتاب مرتب کی اور علمُ النباتات (botany) کو ترقی کی راہوں پر گامزن کیا۔ پروفیسر Hitti بیان کرتا ہے : "In the field of natural history especially botany, pure and applied, as in that of astronomy and mathematics, the western Muslims (of Spain) enriched the world by their researches. They made accurate observations on the sexual difference (of various plants)." (Ameer Ali, The Spirit of Islam. pp. 385-387) ترجمہ : ’’قدرتی تاریخ کے میدان میں خاص طور پر خالص یا اطلاقی علم نباتات میں فلکیات اور ریاضیات کی طرح اندلس کے مغربی مسلمانوں نے اپنی تحقیقات کے ذریعہ سے دُنیا کو مستفید کیا۔ اِسی طرح مختلف پودوں میں پائے جانے والے جنسی اِختلاف کے بارے میں اُن (ابو عبداللہ التمیمی اور ابو القاسم العراقی) کی تحقیقات بھی علمُ النباتات کی تاریخ کا نادِر سرمایہ ہیں‘‘۔ اِسلامی سپین کے فرمانروا عبدالرحمن اوّل نے قرطبہ (Cordoba) میں ایک زرعی تحقیقاتی اِدارے ’’حدیقہ نباتاتِ طبیہ‘‘ کی بنیاد رکھی، جس سے نہ صرف علمِ نباتات (botany) کو مستحکم بنیادوں پر اُستوار کرنے کے مواقع میسر آئے بلکہ علمُ الطب (medical sciences) میں بھی تحقیق کے دَر وَا ہوئے۔ چنانچہ اندلس کے ماہرینِ نباتات نے پودوں میں جنسی اِختلاف کی موجودگی کو بجا طور پر دریافت کرلیا تھا۔ اِس دریافت میں جہاں اُنہیں ’’حدیقہ نباتاتِ طبیہ‘‘ میں کی گئی تجربی تحقیقات نے مدد دی وہاں اللہ ربّ العزت کے فرمان ’’خَلَقَ اﷲُ کُلَّ شَیْئٍ زَوْجًا‘‘ (اللہ تعالیٰ نے ہر شے کو جوڑا جوڑا بنایا) نے بھی بنیادی رہنمائی عطا کی۔ عبداللہ بن عبدالعزیز البکری نے ’کتاب اَعیان النبات و الشجریات الاندلسیہ‘ کے نام سے اندلس کے درختوں اور پودوں کے خواص مرتب کئے۔ اشبیلیہ کے ماہرِنباتات (botanist) ابنُ الرومیہ نے اندلس کے علاوہ افریقہ اور ایشیا کے بیشتر ممالک کی سیاحت کی اور اُس دوران ملنے والے پودوں اور جڑی بوٹیوں پرخالص نباتی نقطۂ نظر سے تحقیقات کیں۔ اِس کے علاوہ ابنُ البیطار، شریف اِدریسی اور ابنِ بکلارش بھی اندلس کے معروف ماہرینِ نباتا ت میں سے ہیں۔ علمُ الطب (Medical Science) اِس میدان میں بھی اِسلامی تاریخ عدیمُ المثال مقام کی حامل ہے۔ اِس باب میں الرازی، ابو القاسم الزہراوی، ابنِ سینا، ابنِ رُشد اور الکندی کے نام سرِ فہرست آتے ہیں۔ ’’مسلم سائنسدانوں نے اِسلام کے دورِ اَوائل میں ہی بڑے بڑے ہسپتال اور طبی اِدارے (medical colleges) قائم کرلئے تھے، جہاں علم الادویہ (pharmacy) اور علمُ الجراحت (surgery) کی کلاسیں بھی ہوتی تھیں‘‘۔ (Islamic Science, S.H. Nasr, pp.156) ایک میلینئم سے زیادہ وقت گزرا جب عالمِ اِسلام کے نامور طبیب ’الرازی‘ (930ء) نے علمُ الطب (medical science) پر 200 سے زائد کتب تصنیف کی تھیں، جن میں سے بعض کا لاطینی، انگریزی اور دُوسری جدید زبانوں میں ترجمہ کیا گیا اور اُنہیں صرف 1498ء سے 1866ء تک تقریباً 40 مرتبہ چھاپا گیا۔ smallpox اور measles پر سب سے پہلے صحیح تشخیص بھی ’الرازی‘ نے ہی پیش کی۔ اِسی طرح ابو علی الحسین بن سینا (Avicenna)(1037ء) نے ’القانون‘ (Canon of Medicine) لکھ کر دُنیائے طب میں ایک عظیم دَور کا اِضافہ کیا۔ اِس کا ترجمہ بھی عربی سے لاطینی اور دِیگر زبانوں میں کیا گیا اور یہ کتاب 1650ء تک یورپ کی بیشتر یونیورسٹیوں میں شاملِ نصاب رہی۔ ابو ریحان البیرونی (1048ء) نے pharmacology کو مرتب کیا۔ اِسی طرح علی بن عیسیٰ بغدادی اور عمار الموصلی کی اَمراضِ چشم اور ophthalmology پر لکھی گئی کتب اٹھارویں صدی عیسوی کے نصف اوّل تک فرانس اور یورپ کے medical colleges میں بطور textbooks شاملِ نصاب تھیں۔ ایک غیرمسلم مغربی مفکر E. G. Browne لکھتا ہے : ’’جب عیسائی یورپ کے لوگ اپنے علاج کے لئے بتوں کے سامنے جھکتے تھے اُس وقت مسلمانوں کے ہاں لائسنس یافتہ ڈاکٹرز، معا لجین، ماہرین اور شاندار ہسپتال موجود تھے‘‘۔ اِس سے آگے اُس کے اَلفاظ ملاحظہ ہوں : The practice of medicine was regulated in the Muslim world from the tenth century onwards. At one time, Sinan ibn Thabit was Chairman of the Board of Examiners in Baghdad. Pharmacists were also regulated and the Arabs produced the first pharamcopia drug stores. Barber shops were also subject to inspection. Travelling hospitals were known in the eleventh century۔۔۔ The great hospital of al-Mansur, founded at Damascus around 1284 AD, was open to all sick persons, rich or poor, male or female, and had separate wards for men and women. One ward was set apart for fevers, another for ophthalmic cases, one for surgical cases and one for dysentry and kindred intestinal ailments. There were in addition, kitchens, lecture-rooms, a dispensary and so on. (E. G. Browne, Arabian Medicine, pp.101) ترجمہ ’’اِسلامی دُنیا میں دسویں صدی عیسوی سے ہی علمِ طب اور ادوِیہ سازی کو منظم اور مرتب کر دیا گیا تھا۔ ایک وقت ایسا تھا جب سنان بن ثابت بغداد میں ممتحنین کے بورڈ کے صدر تھے۔ ادوِیہ سازوں کو بھی باقاعدہ منظم کیا گیا تھا اور عربوں نے ہی سب سے پہلے میڈیکل سٹورز قائم کئے حتیٰ کہ طبی نقطۂ نظر سے حجاموں کی دُکانوں کا بھی معائنہ کیا جاتا تھا۔ گیارہویں صدی میں سفری (mobile) ہسپتالوں کا بھی ذِکر ملتا ہے۔ 1284ء کے قریب دِمشق میں قائم شدہ عظیمُ الشان ’المنصور ہسپتال‘ موجود تھا۔ جس کے دروازے امیر و غریب، مرد و زن، غرض تمام مریضوں کے لئے کھلے تھے اور اُس ہسپتال میں عورتوں اور مردوں کے لئے علیحدہ علیحدہ وارڈ موجود تھے۔ ایک وارڈ مکمل طور پر بخار کے لئے (fever ward) ایک آنکھوں کی بیماریوں کے لئے (eye ward) ایک وارڈ سرجری کے لئے (surgical ward) اور ایک وارڈ پیچش (dysentry) اور آنتوں کی بیماریوں (intestinal ailments) کے لئے مخصوص تھا۔ علاوہ ازیں اُس ہسپتال میں باورچی خانے، لیکچر ہال اور اَدویات مہیا کرنے کی ڈسپنسریاں بھی تھیں اور اِسی طرح طب کی تقریباً ہر شاخ کے لئے یہاں اِہتمام کیا گیا تھا‘‘۔ یہ بات طے شدہ ہے کہ مسلمانوں کی طبی تحقیقات و تعلیمات کے تراجم یورپی زبانوں میں کئے گئے جن کے ذریعے یہ سائنسی علوم یورپی مغربی دُنیا تک منتقل ہوئے۔ خاص طور پر ابوالقاسم الزہراوی اور المجوسی کی کتب نے طبی تحقیق کی دُنیا میں اِنقلاب بپا کیا۔ ملاحظہ ہو : "Their medical studies, later translated into Latin and the European languages, revealed their advanced knowledge of blood circulation in the human body. The work of Abu`l-Qasim al-Zahrawi, Kitab al-Tasrif,on surgery, was translated into Latin by Gerard of Cremona and into Hebrew about a century later by Shem-tob ben Isaac. Another important work in this field was the Kitab al-Maliki of al-Majusi (died 982 AD), which shows according to Browne that the Muslim physicians had an elementary conception of the capillary system (optic) and in the wokrs of Max Meyerhof, Ibn al-Nafis (died 1288 AD) was the first in time and rank of the precursors of William Harvery. In fact, he propounded the theory of pulmonary circulation three centuries before Michael Servetus. The blood, after having been refined must rise in the arterious veins to the lung in order to expand its volume, and to be mixed with air so that its finest part may be clarified and may reach the venous artery in which it is transmitted to the left cavity of the heart. (Ibn al-Nafis and his Theory of the Lasser Circulation, Islamic Science, 23 : 166, June, 1935) ترجمہ : ’’اُن کے طبی علم اور معلومات والی کتب جن کا بعد ازاں لاطینی اور یورپی زبانوں میں ترجمہ ہوا، اُن کی اِنسانی جسم میں خون کی گردِش کے متعلق وُ سعتِ علم کا اِنکشاف کرتی ہیں۔ ’ابوالقاسم الزہراوی‘ کی جراحی پر تحقیق ’کتابُ التصریف لِمَن عجز عنِ التالیف‘ جس کا ترجمہ Cremona کے Gerard نے لاطینی زبان میں کیا، اور ایک صدی بعد Shem-tob ben Isaac نے عبرانی زبان میں کیا۔ اِسی میدان میں ایک اور اہم ترین کام المجوسی (وفات 982ء) کی تصنیف ’کتابُ الملیکی‘ ہے، ’براؤن‘ کے مطابق یہ کتاب اِس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ مسلمان اَطباء کو شریانوں کے نظام کے بارے میں بنیادِی تصوّرات اور معلومات حاصل تھیں اور ’میکس میئرہوف‘ کے اَلفاظ میں ’ابنُ النفیس‘ (وفات 1288ء) وقت اور مرتبے کے لحاظ سے ’ولیم ہاروے‘ کا پیش رَو تھا۔ حقیقت میں اُس نے ’مائیکل سرویٹس‘ سے تین صدیاں پہلے سینے میں پھیپھڑوں کی حرکت اور خون کی گردِش کا سراغ لگایا تھا۔ خون صاف کئے جانے کے بعد بڑی بڑی شریانوں میں وہ یقیناً پھیپھڑے کی شریانوں میں بلند ہونا چاہئے تاکہ اُس کا حجم بڑھ سکے اور وہ ہوا کے ساتھ مل سکے تاکہ اُس کا بہترین حصہ صاف ہو جائے اور وہ نبض کی شریان تک پہنچ سکے جس سے یہ دِل کے بائیں حصے میں پہنچتا ہے‘‘۔ علم ادوِیہ سازی (Pharmacology) Seirton اور Gulick جیسے مغربی محققین نے لکھا ہے کہ ابن البیطار نے سادہ ادوِیات کے مجموعے (collection of simple drugs) کے نام سے ایک کتاب لکھی جو کہ علمِ نباتات (botany) پر عربی زبان میں اُس زمانے کی سب سے بڑی تصنیف تسلیم کی جاتی ہے۔ اُس نے بحیرۂ رُوم میں اندلس (Spain) سے لے کر شام (Syria) تک کے علاقے سے مختلف پودے، جڑی بوٹیاں اور دوائیاں اِکٹھی کیں اور 1,400 سے بھی زیادہ طبی ادوِیات کا اپنی کتاب میں ذِکر کیا اور اُن کا موازنہ اپنے سے قبل 150 دِیگر مصنفین کی تصنیفات سے بھی کیا : Ibn al-Baytr wrote the Collection of Simple Drugs, which is regarded as the greatest Arabic book on botany of the age. He collected plants, herbs and drugs around the Mediterranean from Spain to Syria and described more than 1400 medicinal drugs, comparing them with the records of over 150 writers before him. اُس دَور کے عظیم مسلمان ادوِیہ سازوں (pharmacologists) میں ابوبکر محمد بن زکریا رازی، علی بن عباس، ابوالقاسم خلاف ابن عباس الزہراوی (جسے لاطینی زبان میں Albucasis کا نام دیا گیا)، ابو مروان ابن ظہر (جسے لاطینی زبان میں Aben Bethar کا نام دیا گیا) کے نام بڑے معروف ہیں۔ اِسی طرح medicine پر ابنِ رُشد (Ibn Rushd) کی ’کتابُ الکلیات‘ ایک معرکہ آراء تصنیف ہے، جسے لاطینی میں ترجمہ کر کے پورے عالمِ مغرب میں نصابی کتاب (textbook) کا درجہ دیا گیا مگر اَفسوس کہ ترجمہ کے ذریعے اُس کا نام بدل کر colliget بن گیا، جسے آج کوئی معلوم نہیں کر سکتا کہ یہ حقیقت میں کون سی کتاب تھی۔ (Islamic Science, p.181) علمُ الجراحت (Surgery) اندلس کے عظیم طبیب اور سرجن ابوالقاسم بن عباس الزہراوی کی نسبت پروفیسر Hitti لکھتا ہے : Albucasis (1013 AD) was not only a physician but a surgeon of the first rank. He performed the most difficult surgical operations in his own and the obstetrical departments. The ample description he has left of the surgical instruments employed his time gives an idea of the development of surgery among the Arabs in lithotomy, he was equal to the foremost surgeons of modern times. His work al-Tasrif li-Man Ajaz an al-Ta'alif (an aid to him who is not equal to the large treatises) introduces or emphasises new ideas. It was translated into Latin by Gerard of Cremona and various editions were published at Venice in 1497 AD, at Basle in 1541 AD and at Oxford in 1778 AD. It held its own for centuries as the manual of surgery in Salerono, Montpellier and other early schools of medicine." (Hitti, History of Arabs, pp.576-577) ترجمہ ’’آپ نہ صرف ایک ماہر طبیب تھے بلکہ اوّل درجے کے عظیم سرجن بھی تھے۔ اُنہوں نے اپنے شعبے میں اِنتہائی مشکل اور پیچیدہ سرجری (آپریشن) کئے اور اُس کے ساتھ ہی ساتھ اُنہوں نے زچگی کے شعبے میں بھی آپریشن کئے اور اُنہوں نے اپنے زیراستعمال آلاتِ سرجری کی بڑی واضح اور روشن وضاحت کی ہے، جس سے عربوں میں سرجری کے فن کی ترقی کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ Lithotomy میں وہ موجودہ دَور کے عظیم ترین سرجنوں کا ہم پلہ تھے۔ اُن کا کام ’التصریف لِمن عجز عنِ التالیف‘ نئے تصوّرات کو متعارف کرواتا ہے۔ اُس کا ترجمہ کریمونا (Cremona) کے Gerard نے کیا اور اُس کے مختلف ایڈیشن 1497ء میں وِینس سے اور 1541ء میں باسلے اور 1778ء میں آکسفورڈ سے شائع ہوئے۔ اُنہوں نے اپنا مقام و مرتبہ صدیوں تک سرجری کے علم میں برقرار رکھا اور طب کے اِبتدائی اَیام میں بھی طبی سکولوں میں اچھے کام کے ساتھ متعارف رہے‘‘۔ سید حسین نصر نے ابنِ زہر کے مقام و مرتبہ کے بارے میں لکھا ہے : Al-Zahrawi's rank in the art of surgery was paralleled by that of Ibn Zuhr (Aven-Zoar) in the science of medicine (1091-1162 AD). Of the six medical works written by them three are extent. The most valuable is al-Taysir fil-Mudawat al-Tadbir (the Facilitation of Therapy and Diet). Ibn Zuhr is hailed as the greatest physician since Galen. At least he was the greatest clinician in Islam after al-Razi. Ibn Zuhr wrote another book, Kitab al-Aghdhiyah (the Book of Diets) which is among the best of its kind dealing with the subject. (Islamic Science, p.181) ترجمہ : ’’ابنِ زہر کا مرتبہ ادوِیہ (medicine) میں وُہی ہے جو الزہراوی کا سرجری (surgery) کے فن میں تھا۔ جو چھ قسم کا کام اُنہوں نے ’ادوِیہ سازی‘ پر کیا اُن میں سے تین ابھی تک جاری و ساری ہیں۔ سب سے گراں قدر کام ’خوراک اور غذائیت کی نشو ونما‘ ہے۔ گیلن کے بعد ابنِ زہر کو سب سے بڑا طبیب تسلیم کیا جاتا ہے۔ کم از کم ’الرازی‘ کے بعد دُنیائے اِسلام میں وہ سب سے بڑے مطب (clinic) کے مالک تھے۔ ابنِ زہر نے ایک اور تصنیف ’کتاب الاغذیہ‘ بھی ہے، جو اپنے موضوع کے اِعتبار سے اہم ترین کتب میں شمار ہوتی ہے‘‘۔ علمِ اَمراضِ چشم (Ophthalmology) مسلم اَطباء نے اَمراضِ چشم کی دواسازی میں بھی بیش بہا علمی اِضافے کئے۔ علی بن عیسیٰ نے اِنتہائی مشہور کتاب Tadhkirat al-Kahhalin لکھی اور مؤخر الذکر نے صدیوں تک ماہرینِ اَمراضِ چشم کی رہنمائی کی۔ علی بن عیسیٰ کی تصنیفات کو دُنیا میں ہر جگہ پڑھایا گیا حتیٰ کہ Tractus de Oculis Jesu ben Hali کے نام سے اُس کا لاطینی زبان میں ترجمہ بھی ہوا۔ اَمراضِ چشم سے وابستہ ایسی بہت سی فنی اِصطلاحات لاطینی زبان کے علاوہ دِیگر جدید یورپی زبانوں میں بھی اِستعمال ہو رہی ہیں، جن کا منبع عربی زبان ہے۔ اس سے اُن موضوعات پر اِسلامی اَثرات کی بخوبی تصدیق ہوتی ہے۔ Muslim physicians also added valuable knowledge to another branch of medicine, Ali ibn Isa wrote the famous work, Tadhkirat al-Kahhalin (Treasury of Ophthalmologists) and Abu Ruh Muhammad al-Jurani entitled Zarrindast (the Golden Hand) wrote Nur al-Ain (the Light of the Eye). The last book has served practitioners of the art for centuries. Ali ibn Isa's works were taught everywhere and even translated into Latin as Tractus de Oculis Jesu ben Hali. Many of the technical terms pertaining to ophthalmology in Latin as well as in some modern European languages, are of Arabic origin, and attest to the influence of Islamic sources on this subject. (Islamic Science, pp.166-167) بیہوش کرنے کا نظام (Anaesthesia) علی بن عیسیٰ تاریخِ عالم میں پہلا سائنسدان تھا جس نے سرجری سے پہلے مریض کو بے ہوش و بے حس کرنے کے طریقے تجویز کئے۔ اندلس کا نامور سرجن ابوالقاسم الزہراوِی بھی آپریشن سے قبل مریض کو بے ہوشی کی دوا دینے سے بخوبی آگاہ تھا۔ اُسی عہد میں تیونس میں ایک اور ماہر اِسحاق بن سلیمان الاسرائیلی منظرِ عام پر آئے، جو اَمراضِ چشم کے ماہر تھے اور اُن کی تصنیفات کا ترجمہ بھی لاطینی اور عبرانی زبانوں میں کیا گیا۔ Ali ibn Isa was also the first person to propose the use of anaesthesia for surgery. Another person appeared at this time in Tunis, Ishaq ibn Sulaiman al-Israili, who practised ophthalmology and his works were also translated into Latin and Hebrew languages. (Islamic Science, p.178) علمُ الکیمیا (Chemistry) اِسلام کی تاریخ میں علمُ الکیمیا کے باب میں خالد بن یزید رضی اللہ عنہ (704ء) اور امام جعفرالصادق رضی اللہ عنہ (765ء) کی شخصیات بانی اور مؤسس کی حیثیت سے پہچانی جاتی ہیں۔ نامور مسلم سائنسدان ’جابر بن حیان‘ (776ء) اِمام جعفرالصادق رضی اللہ عنہ ہی کا شاگرد تھا، جس نے کیمسٹری کی دُنیا میں اَنمٹ نقوش چھوڑے۔ مفروضہ اور تصوّر (hypothesis & speculation) کی بجائے اُنہوں نے تجزیاتی تجربیت (objective experimentation) کو رواج دیا اور اُن مسلم رہنماؤں کی بدولت ہی قدیم الکیمی (Alchemy) باقاعدہ سائنس کا رُوپ دھار گئی۔ evaporation، sublimation اور crystallization کے طریقوں کے موجد ’جابر بن حیان‘ ہی ہیں۔ اُن کی کتابیں بھی عرصۂ دراز تک یورپ کے کالجوں اور یونیورسٹیوں میں شاملِ نصاب رہی ہیں۔ ’جابر بن حیان‘ اور اُن کے شاگردوں کی سائنسی تصانیف The Jabirean Corpus کہلاتی ہیں۔ اُن میں کتابُ السبعین (The Seventy Books) اور کتابُ المیزان (The Book of Balance) وغیرہ خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔ اُن کے علاوہ ’ابو مشعر‘، ’سہروردی‘، ’ابنِ عربی‘ اور ’الکاشانی‘ وغیرہ کا کام بھی کیمسٹری کی تاریخ کا عظیم سرمایہ ہے۔ یہ سب علمی اور سائنسی سرمایہ عربی زبان سے لاطینی اور پھر انگریزی میں منتقل کیا گیا۔ چنانچہ زبانوں کی تبدیلی سے مسلم سائنسدانوں کے نام بھی بدلتے گئے۔ مثلاً الرازی کو Rhazes، ابنِ سینا کو Avicenna، ابوالقاسم کو Abucasis اور ابنُ الھیثم کو Alhazen بنا دیا گیا۔ اِسی طرح عربی اِصطلاحات بھی تراجم کے ذرِیعے تبدیل ہو گئیں، نتیجتاً آج کا کوئی مسلمان یا مغربی سائنسدان جب تاریخ میں اُن ناموں اور اصطلاحات کو پڑھتا ہے تو وہ یہ تصور بھی نہیں کر سکتا کہ یہ سب اِسلامی تاریخ کا حصہ ہے اور یہ اَسماء عربیُ الاصل (Arabic origin) ہیں۔ اِن حقائق کو جاننے کے لئے مزید ملاحظہ فرمائیں : 1. Prof. Hitti, History of the Arabs, pp.578-579 (London, 1974). 2. A and R. Kahane, The Krater and the Grail, Hermetic Sources of the Parzival, Urbana (Illinois, 1965). 3. Corbin, En Islamiranien vol.2, chap.4 (Paris, 1971). 4. F.a.Yates, Giordana Bruno and the Hermetic Tradition (London, 1964). 5. Syed Husain Nasir, Islamic Science (London, 1976). 6. George Sorton, An Introduction to the History of Science. 7. Briffault, The Making of Humanity. 8. Schaclt. J and Bosworth C.E. The Legacy of Islam (Oxford, 1947). 9. Watt-W.M. and Cachina P, A History of Islamic Spain (Edinlwrgh). 10. Robert Gulick L.Junior, Muhammad, The Educator (Lahore, 1969). فنونِ لطیفہ (Fine Arts) جہاں تک فنونِ لطیفہ کا تعلق ہے، قرآنِ مجید ہی کے شغف سے قرونِ وُسطیٰ میں ’فنِ خطاطی‘ (calligraphy) کو فروغ ملا۔ مساجد کی تعمیر سے ’فنِ تعمیر‘ (architecture) اور ’فن تزئین و آرائش‘ (decorative art) میں ترقی ہوئی۔ حرمِ کعبہ، مسجدِنبوی، بیتُ المقدس، سلیمانیہ اور دیگر مساجدِ اِستنبول ترکی، تاج محل، قصرِخُلد (بغداد)، جامع قرطبہ، الحمراء اور قصرُ الزہراء (اندلس) وغیرہ اِس فن کی عظیم تاریخی مثالیں ہیں۔ اندلس میں فنونِ لطیفہ کو تمام عالمِ اِسلام سے بڑھ کر تروِیج ملی اور وہاں خطّاطی (calligraphy)، موسیقی (music)، تعمیر و تزئین(architecture & decorative art)، مصوّری (painting)، فیشن اور دُوسرے بہت سے صنعتی فنون اپنے دَور کی مناسبت سے ترقی کی اَوجِ ثریا پر فائز تھے۔ اندلس کی ثقافتی ترقی اور فنونِ لطیفہ کے اِرتقاء کا ذِکر متعلقہ باب میں بالتفصیل ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔ علمِ فقہ و قانون (Law & Jurisprudence) اِس باب میں اِمامِ اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ (متوفی 150ھ) نے دُوسری صدی ہجری کے اَوائل میں ہی تاریخِ قانون میں اُن نادِر ذخائر کا اِضافہ کیا جو صدیاں گزرنے کے باوُجود آج تک مینارۂ نور ہیں۔ 1۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ کے تلامذہ میں سے بالخصوص اِمام محمد بن حسن شیبانی رحمۃ اللہ علیہ نے ’السیرالکبیر‘ اور ’السیرالصغیر‘ کی صورت میں public international law اور private international law پر اِما مِ اعظم رحمۃ اللہ علیہ کی فرمودہ تصانیف مرتب کیں۔ جن پر بعد ازاں اِمام سرخسی رحمۃ اللہ علیہ نے ’شرحُ السیر‘ کے نام سے چار جلدوں پر مشتمل شرح لکھی، جو اپنے دَور میں آج کے strake اور oppeheim سے بہتر مجموعہ تھا۔ اِمام سرخسی رحمۃ اللہ علیہ کی ہی 30 جلدوں پر مشتمل ضخیم کتاب ’المبسوط‘ قانون (law) پر آج سے تقریباً ایک ہزار سال قبل کا لکھا ہوا ایک نادرُ المثال مجموعہ ہے۔ یہ تاجدارِکائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی کے عطا کردہ فیض کا کارنامہ تھا کہ عالمِ اِسلام اُس دَور میں قانون پر ایسی کتب مہیا کر رہا تھا، جبکہ باقی پوری دُنیا جہالت کے اَٹاٹوپ اندھیروں میں گم تھی۔ آج مغرب کی علمی تاریخ میں اُس دَور کو dark ages کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، جبکہ اہلِ اِسلام کے ہاں وہ دَور علوم و فنون کی روشنی سے درخشاں و منوّر تھا۔ 2۔ بین الاقوامی قانون پر اِمام زید بن علی رحمۃ اللہ علیہ (متوفی 120ھ) کی کتاب ’المجموع‘ میں بھی مفصل باب شامل تھا۔ اِمام مالک رحمۃ اللہ علیہ، اِمام ابویوسف رحمۃ اللہ علیہ، اِمام محمد رحمۃ اللہ علیہ، اِمام اَوزاعی رحمۃ اللہ علیہ، اِمام شافعی رحمۃ اللہ علیہ اور دیگر ائمہ فقہ و قانون نے بھی اِس موضوع پر بھرپور مواد فراہم کیا، جو علمی و قانونی تاریخ کا بیش بہا سرمایہ ہے۔ 3۔ comparative case law، جو دورِ جدید کا ایک نہایت اہم قانونی فن اور علمی موضوع ہے، اُس پر دُوسری صدی ہجری میں ہی باضابطہ کام شروع ہو گیا تھا۔ دبوسی، ابنِ رُشد، شاطبی اور سیموری وغیرہ کی تصانیف اِس فن کے اَعلیٰ پایہ کے نمونے ہیں۔ 4۔ علمِ دستور (constitutional law) پر دُنیا کی سب سے پہلی باضابطہ دستاویز خود حضور سرورِکائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا تیارہ کردہ ’’میثاقِ مدینہ‘‘ (The Pact of Madina) ہے، جو 63 دفعات (articals) پر مشتمل ہے۔ یہ آئینی و دستوری دستاویز ابنِ ہشام رحمۃ اللہ علیہ، ابنِ اِسحاق رحمۃ اللہ علیہ، ابو عبید رحمۃ اللہ علیہ، ابنِ سعد رحمۃ اللہ علیہ، ابنِ کثیر رحمۃ اللہ علیہ اور ابنِ اَبی خثیمہ رحمۃ اللہ علیہ کے ذرِیعے کامل شکل میں ہم تک پہنچی۔ جدید مغربی دُنیا کا آئینی و دستوری سفر 1215ء میں اُس وقت شروع ہوا جب شاہِ انگلستان King John نے ’محضّرکبیر‘ (Magna Carta) پر دستخط کئے، جبکہ اُس سے 593 سال قبل ہجرت کے پہلے سال 622ء میں ریاستِ مدینہ میں حضور نبئ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے اِنسانیت کو معاشی و سماجی عدل اور مساوات پر مُشتمل ایک جامع تحریری دستور دیا جا چکا تھا۔ یہ دُنیا کا سب سے پہلا تحریری آئین (written constitution) ہے، جس سے قبل تاریخِ عالم میں باقاعدہ اور باضابطہ ریاستی دستور کے تحریر کئے جانے کی ایک مثال بھی نہیں ملتی۔ یہ تاریخِ علم و قانون اور تاریخِ سیاسیات میں حضور نبئ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پہلا کارنامہ ہے۔ اُس سے پہلے شہری ریاستوں اور ہندوستان کے دساتیر سمیت منوسمرتی (500 ق م)، آرتھ شاستر (300 ق م) اور ارسطو (322ق م) کی تصانیف میں جو کچھ ملتا ہے وہ سب پند و نصائح پر مشتمل درسی اور تعلیمی نوعیت کا کام ہے۔ ارسطو کا ’شہر ایتھنز کا دستور‘ (Athenian Constitution) جو گزشتہ صدی میں مصر سے دریافت ہوا اور 1891ء میں شائع ہوا، وہ بھی اِسی نوعیت کا کام ہے جو مسلمانوں کے ہاں ’نصیحتُ الملوک‘ جیسی کتابوں میں عام پایا جاتا ہے، جن میں کسی ریاست کا نظام چلانے کے سلسلے میں بادشاہوں کے لئے پندونصائح شامل ہیں۔ کسی سربراہِ ریاست یا حکومت کی طرف سے ارسطو کی یہ دستاویزات باقاعدہ دستور کے طور پر نافذ ہوئیں اور نہ ہی وہ اِس نوعیت کے دستاویز تھیں کہ اُنہیں نافذ کیا جاتا۔ یہ شان سب سے پہلے ’’میثاقِ مدینہ‘‘ کو حاصل ہوئی اور یہ اَمر سیرتِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ایک درخشندہ تاریخی باب ہے۔ تاجدارِ کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے دستوری و آئینی کام کے باضابطہ آغاز کے بعد اِس موضوع پر الماوردی رحمۃ اللہ علیہ اور ابوعلی رحمۃ اللہ علیہ کی ’الاحکام السلطانیہ‘، غزالی رحمۃ اللہ علیہ کی ’نصیحۃُ الملوک‘، طرطوسی رحمۃ اللہ علیہ کی ’سراجُ الملوک‘ اور الفارابی رحمۃ اللہ علیہ کی ’المدینہ الفاضلہ‘ جیسی درسی کتب بھی معرضِ وُجود میں آئیں۔ الغرض مسلمانوں کی دستوری و آئینی خدمات میں سے سب سے اہم خدمت یہ ہے کہ اُنہوں نے ریاست کے تین اہم اعضاء مقننہ (legislature)، اِنتظامیہ (executive) اور عدلیہ (judiciary) کو الگ الگ تشخص دیا۔ اُنہیں عہدِ خلافتِ راشدہ میں ہی ’اہل الحل والعقد‘، ’اُولی الامر‘ اور ’القضا‘ کے مستقل نام دے دیئے گئے تھے اور اُن کے دائرہ ہائے کار بھی متعین کر دیئے گئے تھے، جبکہ مغربی علمِِ دستور میں اُن کا تصوّر بہت بعد میں فروغ پذیر ہوا۔ 5۔ Common law پر باقاعدہ فقہی و قانونی مجموعات (juristic & legal codes) بھی اِسلام کی دُوسری صدی کے اَوائل میں مرتب ہونا شروع ہو گئے تھے۔ جنہیں باقاعدہ حصص اور اَبواب (parts & chapters) میں تقسیم کیا جاتا تھا۔ عبادات (religious laws)، مناکحات (family laws)، معاملات و معاہدات (civil & contractual laws)، عقوبات (penal laws)، مالیات (fiscal laws) اور قضا و شہادات (procedural & evidence laws) وغیرہ کی باقاعدہ قانونی تقسیم بھی تاریخِ اِسلام کی پہلی صدی میں ہی عمل میں آچکی تھی۔ یہ سب وہ علمی نظم تھا جو مسلمانوں کو اَوائلِ اِسلام سے ہی قرآنِ مجید کی تعلیمات اور حضور نبئ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنتِ مبارکہ کے ذریعے میسر آگیا تھا، جبکہ اُس وقت مغربی دُنیا بنیادی حقوق انسانی اور علم و آگہی کے تصوّر سے ہی یکسر محروم تھی۔ اِمام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی کتب ’ظاہرالروایہ‘ جنہیں اُن کے شاگرد اِمام محمد رحمۃ اللہ علیہ نے مرتب کیا، اُن کے علاوہ اِمام مالک رحمۃ اللہ علیہ کی ’الموطا‘، اِمام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کی ’کتابُ الام‘ اور دیگر ائمہ کی تصانیف کے ذریعے فقہ و قانون کا عظیم سرمایہ معرضِ وُجود میں آگیا تھا۔ بعد اَزاں ’’فقہ حنفی‘‘ میں سرخسی رحمۃ اللہ علیہ کی ’المبسوط‘، مرغینانی رحمۃ اللہ علیہ کی ’الھدایہ‘، ابن ہمام رحمۃ اللہ علیہ کی ’فتح القدیر‘، کاسانی رحمۃ اللہ علیہ کی ’بدائع الصنائع‘ وغیرہ، ’’فقہ مالکی‘‘ میں ابنِ سحنون رحمۃ اللہ علیہ کی ’المدوّنۃ الکبریٰ‘، ابنِ جزی رحمۃ اللہ علیہ کی ’القوانین الفقیہ‘، ابنِ فرحون رحمۃ اللہ علیہ کی ’تبصرۃُ الحکام‘، الخطاب رحمۃ اللہ علیہ اور خرشی رحمۃ اللہ علیہ کی شرح ’المختصر‘ وغیرہ، ’’فقہ شافعی‘‘ میں نووی رحمۃ اللہ علیہ کی ’المجموع‘، غزالی رحمۃ اللہ علیہ کی ’الوجیز‘، بصیر رحمۃ اللہ علیہ کی ’النہایہ‘ وغیرہ، ’’فقہ حنبلی‘‘ میں ابنِ قدامہ رحمۃ اللہ علیہ کی ’کتابُ المغنی‘ اور ابنِ القیم رحمۃ اللہ علیہ کی ’اعلام الموقعین عن رب العالمین‘، ابنِ حزم رحمۃ اللہ علیہ کی ’المحلی‘ اور القرافی رحمۃ اللہ علیہ کی ’الفروق‘ وغیرہ، ’’فقہ جعفریہ‘‘ میں الحلی رحمۃ اللہ علیہ کی ’شرائع الاسلام‘ جواد مغنیہ رحمۃ اللہ علیہ کی ’فقہ الامام جعفر الصادق‘ وغیرہ اور ’الفقہ علی المذاہب الاربعہ‘ (الجزیری) جیسی کتب مرتب ہوتی رہی ہیں۔ Case law پر فتاویٰ اور شرعی فیصلہ جات (judicial decisions) کے ’فتاویٰ قاضی خان‘، ’فتاویٰ بزازیہ‘، ’فتاویٰ ابنِ تیمیہ‘، ’فتاویٰ اِمام نووِی‘، ’فتاویٰ اِمام سبکی‘ اور ’فتاویٰ الہندیہ‘ جیسے مجموعات مرتب ہوئے۔ 6۔ fiscal & taxation law اور administrative law میں اِمام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ اور یحییٰ بن آدم رحمۃ اللہ علیہ کی ’کتابُ الخراج‘ اور ابو عبید قاسم بن سلام رحمۃ اللہ علیہ کی ’کتابُ الاموال‘ اوائل دَور کے بہترین علمی شہ پارے ہیں۔ علم تاریخ اور عمرانیات (Historiography & Sociology) اِن علوم میں بھی اِسلام کی اِبتدائی صدیوں میں گرانقدر سرمایہ جمع کیا گیا، جس کے ذریعے نہ صرف سیرتِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بلکہ دس ہزار سے زائد صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کے حالات و سوانح بھی پوری تحقیق کے بعد مرتب ہوئے۔ تاریخِ اِسلام میں اِس علم کو ’اَسماءُ الرِجال‘ کے نام سے پکارا جاتا ہے، جس کے تحت محققین نے 5 لاکھ سے زیادہ صحابہ، تابعین، تبع تابعین اور دِیگر رُواۃِ حدیث کے اَحوالِ حیات مرتب کئے۔ یہ فن اپنی نوعیت میں منفرد ہے جو دُنیا کی کسی قوم اور مذہب میں تھا اور نہ ہے۔ ابنِ اِسحاق رحمۃ اللہ علیہ، جنہوں نے عہدِ حضرت آدم علیہ السلام سے عہدِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پوری اِنسانی تاریخ مرتب کی، اِسلام کے عظیم اوّلیں مورخین میں سے ہیں۔ اِسی طرح ابنِ ہشام رحمۃ اللہ علیہ، طبری رحمۃ اللہ علیہ، مسعودی رحمۃ اللہ علیہ، مسکویہ حلبی رحمۃ اللہ علیہ، اندلسی رحمۃ اللہ علیہ، ابنِ خلدون رحمۃ اللہ علیہ، دیار بکری رحمۃ اللہ علیہ، یعقوبی رحمۃ اللہ علیہ، بلاذری رحمۃ اللہ علیہ، ابنُ الاثیر رحمۃ اللہ علیہ، ابنِ کثیر رحمۃ اللہ علیہ، سہیلی رحمۃ اللہ علیہ، ابنِ سیدُالناس رحمۃ اللہ علیہ وغیرہ کے کام بھی تاریخی اہمیت کے حامل ہیں، جبکہ political thought اور sociology میں غزالی رحمۃ اللہ علیہ، فارابی رحمۃ اللہ علیہ، ماوردی رحمۃ اللہ علیہ، ابنِ خلدون رحمۃ اللہ علیہ، ابنِ رُشد رحمۃ اللہ علیہ، ابنِ تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ، ابنُ القیم رحمۃ اللہ علیہ اور شاہ ولی اللہ محدّث دِہلوی رحمۃ اللہ علیہ کی تالیفات نہایت اہم ہیں۔ جغرافیہ اور مواصلات (Geography & Communications) اِسلامی عہد کے عروج کے موقع پر علمِ جغرافیہ میں بھی خوب ترقی ہوئی۔ بلاذری رحمۃ اللہ علیہ اور ابنِ جوزی رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ عہدِ فاروقی میں ہی خلافتِ اِسلامیہ کی ڈاک ہر وقت ’ترکستان‘ (Central Asia) سے ’مصر‘ (Egypt) تک کے علاقے میں روانہ ہوتی تھی۔ geography اور topography کے ماہرین ڈاک کے ساتھ دورانِ سفر تمام علاقوں کے نقشے تیار کر کے لف کرتے اور تمام متعلقہ مقامات کی جغرافیائی، تاریخی اور اِقتصادی معلومات بھی بترتیبِ ہجائی (alphabetic order) میں فراہم کرنے کا اِہتمام کیا جاتا تھا۔ اوائل دورِ اسلام میں ’ابنِ حوقل‘ نے بھی معلوم کرۂ ارض کے نقشے تیار کئے اور cartography کے فن پر تحقیق کی۔ اپنے بنائے ہوئے نقشوں میں اُس نے زمین کو کروِی شکل (circular shape) میں دِکھانے کے ساتھ ساتھ بحیرۂ رُوم (mediterranian sea) کی حدُود کی صحیح شناخت بھی کروائی۔ اِسی طرح ’الادریسی‘ کا نقشہ جو شاہِ سسلی (1101ء۔ 1154ء) کے لئے آج سے 9 صدیاں قبل تیار کیا گیا تھا، اُس میں دُنیائے عالم کے طوِیل ترین دریا ’دریائے نیل‘ (Nile) کے مصادر (sources) تک کی خبر دی گئی ہے، جو اُس کے ڈیلٹا سے 6,670 کلومیٹر کی مسافت پر واقع ہے۔ ’یاقوت حموِی رحمۃ اللہ علیہ ‘ نے ’معجمُ البلدان‘ کے نام سے جغرافیہ پر اُس وقت کی سب سے بڑی معجم (dictionary) مرتب کی، جس نے اہلِ دُنیا کو دُنیا کا علم فراہم کیا۔ اِس کتاب میں اُنہوں نے دُنیا کے تمام بڑے شہروں اور قصبوں کی تفصیلات حروفِ تہجی کی ترتیب (alphabetic order) سے پیش کی ہیں۔ ’خوارزمی‘ نے ’صورۃُ الارض‘ (Image of the Earth) کے نام سے ایسا جغرافیائی مطالعہ اہلِ علم کو عطا کیا جو بعد ازاں جدید جغرافیہ کی بنیاد بنا۔ ’حمدانی‘ (945ء) نے آج سے گیارہ سو سال قبل چوتھی صدی ہجری میں علمِ جغرافیہ میں اِنتہائی گرانقدر معلومات کا اِضافہ کیا۔ نامور مغربی مؤرِخ Prof. Hitti نے اِن مسلمان ماہرینِ فن کی علمی خدمات کے اِعتراف میں لکھا ہے کہ : "The bulk of this scientific material, whether astronomical, astrological or geographical, penetrated the west through Spanish and Sicilian channels." (History of the Arabs, pp.383-387) ترجمہ : ’’اُس سائنسی مواد کا زیادہ تر حصہ۔۔۔ خواہ وہ ’علمِ فلکیات‘ (اَجرامِ سماوِی کا علم) کے مطالعہ پر مبنی ہو یا ’علم نجوم‘ (پیش بینی) کے مطالعہ پر یا ’علم جغرافیہ‘ پر مبنی ہو۔۔۔ اندلس (Spain) اور (اٹلی کے جنوبی ساحل پر واقع جزیرے) سسلی (Sicily) کے ذریعے عالمِ مغرب میں داخل ہوا‘‘۔ علمِ جغرافیہ (geography) میں قرونِ وُسطیٰ کے مسلمان اِس قدر مشّاق تھے کہ اُن کا فن عالمی شہرت اِختیار کر گیا تھا۔ چنانچہ 1331ء میں چین (China) کا سرکاری نقشہ (official map) بھی مسلمان جغرافیہ دانوں نے ہی تیار کیا تھا۔ (Islamic Culture, 8 : 514, Oct.1934) وہ ہزارہا اِسلامی سکے جو جزیرہ نمائے سکینڈے نیویا (Scandinavia)، فن لینڈ (Finland)، کازن (Kazan) اور رُوس (Russia) کے دِیگر دُور دراز مقامات کی کھدائیوں سے دریافت ہوئے ہیں، مسلمانوں کے اوائلِ اسلام میں کئے جانے والے تجارتی سفروں اور عالمی سرگرمیوں کی خبر دیتے ہیں۔ Vasco de Gama کے پائلٹ ابنِ ماجد نے مسلمانوں میں اُس دَور میں قطب نما (compass) کے اِستعمال کی خبر دی ہے۔ اِس فن کی بہت سی جدید اِصطلاحات میں بھی قرونِ وُسطیٰ کے عرب مسلمان سائنسدانوں کی باقیات ملتی ہیں۔ حتیٰ کہ arsenal, admiral, cable, monsoon اور tariff وغیرہ جیسے بے شمار عربیُ الاصل اَلفاظ و اِصطلاحات آج کی جدید دُنیا میں بھی متداوَل ہیں، جس سے جدید مغربی کلچر پر مسلم علم و ثقافت کے اَثرات کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ صحرائے عرب کے اَن پڑھ باسی جن کے ہاں پڑھنا لکھنا بھی عیب تصوّر ہوتا تھا، جن کی بدوِی زندگی میں صدیوں تک علمی و فکری ترقی کے ظاہراً کوئی اِمکانات دکھائی نہ دیتے تھے اور ’فتوحُ البلدان‘ میں ’بلاذری‘ کی رِوایت کے مطابق جس قوم کی شرحِ خواندگی کا یہ عالم تھا کہ مکہ شہر کے گرد و نواح میں آباد لاکھوں کی آبادی میں کل 10 سے 15 اَفراد ایسے تھے جو سادہ حد تک لکھ پڑھ سکتے تھے، اُن کے علاوہ کسی کو اپنا نام تک لکھنا نہیں آتا تھا۔ وہ قوم تعلیمی پسماندگی کی اُس حالت سے اُٹھ کر صرف ایک ہی صدی کے بعد علم و فن، تہذیب و ثقافت اور سائنس و ٹیکنالوجی کے آسمان پر ستاروں کی طرح چمکنے لگی اور پوری دُنیائے تاریک میں تہذیب و ثقافت اور علوم و فنون کی روشنی پھیلانے لگی۔ آخر اس محیرالعقول علمی و فکری اور سائنسی و ثقافتی اِنقلاب کا سبب کیا تھا؟ کیا یہ عدیمُ المثال اِنقلاب صرف اور صرف حضور نبئ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فیضانِ سیرت اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے دی گئی اِسلام کی آفاقی تعلیمات کا نتیجہ نہیں تھا جس نے اَن پڑھ صحرا نشینوں کو ہزارہا علوم و فنون کا بانی اور جدید تہذیب و ثقافت کا مؤسس بنا دیا؟ یہ وہ سوال ہے جس نے مغربی مفکرین اور مؤرِخین کو بھی جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ اُن کے ذِہنوں میں بھی یہی سوال اُٹھا ہے اور بعضوں نے اُس کا صحیح جواب تلاش کر لیا ہے اور بعض ابھی تک متذبذب ہیں۔ اِسلامی سائنس اور مستشرقین کے اِعترافات یہ ایک حقیقت ہے کہ دُنیائے علم و ثقافت میں عرب مسلمانوں کی یہ حیرت انگیز ترقی اِسلام کی آفاقی تعلیمات ہی کی بدولت ممکن ہوئی اور جب تک مسلمان بحیثیتِ قوم قرآن و سنت کی فطری تعلیمات سے متمسّک رہے رُوحانی بلندی کے ساتھ ساتھ مادّی ترقی کی بھی اَوجِ ثریا پر فائز رہے اور جونہی اُنہوں نے لغزش کی اور اِسلامی تعلیمات سے اِعراض کا رستہ اپنایا قعرِ مذلّت میں جا گرے۔ ایک غیر مسلم مؤرّخ نے اِسی حقیقت کو یوں بیان کیا ہے : The coming of Islam six hundred years after Christ, was the new, powerful impulse. It started as a local event, uncertain in its outcome; but once Muhammad conquered Makkah in 630 AD, it took the southern world by storm. In a hundred years, Islam conquered Alexandria, established a fabulous city of learning in Baghdad and thrust its frontier to the east beyond Isfahan in Persia. By 730 AD the Muslim Empire reached from Spain and Southern France to the borders of China and India. An empire of spectacular strength and grace while Europe lapsed into the Dark Age۔۔۔ Muhammad had been firm that Islam was not to be a religion of miracles, it became in intellectual content a pattern of contemplation and analysis. (J Bronowski, The Ascent of Man, London 1973, pp.165-166) ترجمہ : ’’حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے چھ سو برس بعد اِسلام کا ظہور ایک نئی توانا تحریک کے طور پر ہوا۔ اُس کا آغاز ایک مقامی حیثیت سے ہوا، اور شروع میں نتائج کے اِعتبار سے صورتِ حال غیر یقینی تھی، مگر نبئ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم 630ء میں جونہی فاتح بن کر مکہ میں داخل ہوئے تو دُنیا کے جنوبی حصہ میں حیرت انگیز تبدیلی واقع ہوئی۔ ایک صدی کے اندر ’اسکندریہ‘ فتح ہوا، ’بغداد‘ اِسلامی علم و فضل کا شاندار مرکز بنا اور اِسلامی حدوں کی وُسعت مشرقی اِیران کے شہر ’اِصفہان‘ سے آگے نکل گئی۔ 730ء تک اِسلامی سلطنت ’اندلس‘ اور ’جنوبی فرانس‘ کو سمیٹتی ہوئی ’چین‘ اور ’ہندوستان‘ کی سرحدوں تک جا پہنچی۔ طاقت اور وقار کی اِس اِمتیازی شان کے ساتھ جہاں مسلم سلطنت اپنے عروج پر تھی وہاں یورپ اُس وقت پستی اور تنزّل کے تاریک دَور سے گزر رہا تھا۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اِسلام کو معجزات کے محدُود دائرہ میں رکھنے کی بجائے اُسے غور و فکر اور تجزیہ کی نمایاں عقلی و فکری چھاپ عطا کی۔ اِسی طرح Robert L. Gulick نے بیان کیا ہے : It should be borne in mind, however, that these aphorisms (maxims found in ahadith) have been widely accepted as authentic and it cannot be doubted that they have exerted a wide and salutary influence. The words attributed to Muhammad must assuredly have stimulated and encouraged the great thinkers of the Golden Age of Islamic civilisation. (Muhammad, The Educator) ترجمہ : ’’اِس اَمر کو بخوبی ذِہن میں رکھنا چاہئے کہ ان اَحادیث کو اِنتہائی مستند حیثیت حاصل رہی ہے اور نبئ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اُن اِرشادات کا بہت مفید اور گہرا اَثر مرتب ہوا ہے۔ اُن اَحادیث نے اِسلامی تہذیب کے سنہری دَور کے عظیم مفکرین پر نہایت صحتمند اور رہنما اَثر ڈالا ہے‘‘۔ پروفیسر Robert علم اور حصولِ علم کی اہمیت و فضیلت پر مبنی آیات و اَحادیث کے ذِکر کے بعد مزید لکھتا ہے : These statements must not be construed as idle and useless words. The results have been very substantial. The strength of Islamic science was its devotion to practical matters rather than to the vague notions of the Byzantine Greeks. (Muhammad, The Educator) ’’Robert L. Gulick کہتا ہے کہ (اِسلام کے) اُن اَقوال کو بے فائدہ اور بے مقصد نہیں سمجھنا چاہئے، کیونکہ اُن پر عمل کرنے سے ٹھوس نتائج مرتب ہوئے ہیں۔ اِسلامی سائنس کی اصل طاقت اِس اَمر میں مضمر ہے کہ یہ بازنطینی یونانی واہموں کے برعکس تجرباتی اُمور پر زیادہ توجہ مرکوز کرتی ہے‘‘۔ اِس موضوع پر مغرب کے نامور مؤرِخ اور محقق Robert Briffault کا تجزیہ ملاحظہ ہو۔ وہ لکھتا ہے : It is highly probable that but for the Arabs, modern European civilisation never have assumed that۔۔۔ character which has enabled it to transcend all previous phases of evolution. For although there is not a single aspect of European growth in which the decisive influence of Islamic culture is not traceable, nowhere is it so clear and momentous as in the genesis of that power which constitutes the paramount distinctive force of the modern world and the supreme source of its victory, natural science and the scientific spirit. What we call science arose in Europe as a result of a new spirit of enquiry, of new methods of investigation, experiment, observation and measurement of the development of mathematics in a form unknown to the Greeks. That spirit and those methods were introduced into the European world by the Arabs. (The Making of Humanity, pp.190-191) رابرٹ بریفالٹ نے کہا ہے کہ اِس بات کا غالب اِمکان ہے کہ عرب مشاہیر سے خوشہ چینی کئے بغیر جدید یورپی تہذیب دورِ حاضر کا وہ اِرتقائی نقطۂ عروج کبھی حاصل نہیں کر سکتی تھی جس پر وہ آج فائز ہے۔ یوں تو یورپی فکری نشوونما کے ہر شعبے میں اِسلامی ثقافت کا اثر نمایاں ہے لیکن سب سے نمایاں اثر یورپی تہذیب کے اُس مقتدِر شعبے میں ہے جسے ہم تسخیرِ فطرت اور سائنسی وِجدان کا نام دیتے ہیں۔ یورپ کی سائنسی ترقی کو ہم جن عوامل کی وجہ سے پہچانتے ہیں وہ ’جستجو‘، ’تحقیق‘، ’تحقیقی ضابطے‘، ’تجربات‘، ’مُشاہدات‘، ’پیمائش‘ اور ’حسابی مُوشگافیاں‘ ہیں۔ یہ سب چیزیں یورپ کو معلوم تھیں اور نہ یونانیوں کو، یہ سارے تحقیقی اور فکری عوامل عربوں کے حوالے سے یورپ میں متعارف ہوئے۔ یہ بات بڑی حوصلہ اَفزا ہے کہ مغربی مفکرین نے اِس حقیقت کو اِن کھلے اَلفاظ میں تسلیم کیا ہے : There is no doubt that the Islamic sciences exerted a great influence on the rise of European science; and in this Renaissance of knowledge in the west there was no single influence, but diverse ones; the main influence was of course, from Spain, then from Italy and Palestine through the crusaders, who had mixed with Muslims and seen the effect of sciences in Muslim culture. (Joseph Schacht & C.E.Bosworth, The Legacy of Islam, pp.426-427) ترجمہ : ’’اِس اَمر میں قطعی کوئی شبہ نہیں کہ یورپ کے سائنسی فکر پر اِسلامی سائنسی فکر کا گہرا اَثر مرتب ہوا۔ مغرب کی اِس علمی نشاۃِ ثانیہ پر دِیگر کئی اَثرات بھی مرتب ہوئے۔ مگر بنیادی طور پر سب سے گہرا اَثر اندلس (Spain) سے آیا، پھر اٹلی اور فلسطین کی جانب سے اَثرات مرتب ہوئے کیونکہ صلیبی جنگوں نے مغربی ممالک کے لوگوں کو فلسطینی مسلم ثقافت اور سائنسی اُسلوب سے رُوشناس کرایا‘‘۔ ایک اور یورپی محقق نے اِس اَمر کی تصریح اِن اَلفاظ میں کی ہے : Islam, impinging culturally upon adjacent Christian countries, was the virtual creator of the Renaissance in Europe. (Stanwood Cobb, Islam's Contribution to World Culture) Stanwood Cobb نے اپنی درج بالا کتاب میں یہاں تک کہا ہے کہ یورپ کی نشاۃِ ثانیہ حتمی طور پر اِسلام کا مرہونِ منت ہے۔ اِس اِعترافِ حقیقت کے ساتھ ساتھ یورپی محققین نے براہِ راست اِس سوال پر بھی توجہ کی ہے کہ وہ اِنقلاب کس چیز کے زیرِاثر آیا اور اُس کا محرّک کیا تھا؟ Robert L. Gulick نے درج ذیل اَلفاظ میں اِس حقیقت کا برملا اِظہار کیا ہے : That important contributions to world intellectual progress were made by the Arabs is not open to question. But were these development the result of the influence of Muhammad? (Muhammad, The Educator) ترجمہ : ’’یہ ایک مصدّقہ حقیقت ہے کہ دُنیا کی شعوری ترقی میں عربوں نے نہایت اہم کردار اَدا کیا، مگر کیا یہ ساری ترقی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اَثر کا نتیجہ نہ تھی‘‘۔ اُس نے ’بریفالٹ‘ کے اِس نقطۂ نظر کو ردّ کر دیا ہے کہ عرب سائنسدانوں کا مذہب سے کوئی خاص لگاؤ نہیں تھا اور یہ تمام ترقی عرب علماء اور سائنسدانوں کی اپنی محنت تھی۔ اُس کے نزدیک اِس تمام ترقی کی بنیاد صرف اور صرف دینِ اِسلام اور سیرتِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تھی، جس کے ذرِیعے عرب مسلمان اور سائنسدان علوم و فنون اور تحقیق و جستجوکی شاہراہ پر گامزن ہو گئے تھے۔ Reverend George Bush نے بڑی صراحت کے ساتھ لکھا ہے : No revolution in history, if we accept that affected by the religion of the Gospel, has introduced greater changes into the state of the civilised world than that which has grown out of the rise, progress and permanence of Muhammadanism. (The Life of Muhammad) ترجمہ : ’’اِلہامی کتابوں کے حوالہ سے کوئی بھی تاریخی اِنقلاب اِتنے ہمہ گیر اَثرات کا حامل نہیں جس قدر پیغمبرِ اسلام کا لایا ہوا اِنقلاب جسے اُنہوں نے پائیدار بنیادوں سے اُٹھایا اور بتدرِیج اُستوار کیا‘‘۔ قرآن اور جدید سائنس از ڈاکٹر طاہر القادری

اسلا م اور سائنس میں عدم مغایرت

2017-07-27 07:43:37 

اِسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہونے کے ساتھ ساتھ دینِ فطرت بھی ہے جو اُن تمام اَحوال و تغیرات پر نظر رکھتا ہے جن کا تعلق اِنسان اور کائنات کے باطنی اور خارجی وُجود کے ظہور سے ہے۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ اِسلام نے یونانی فلسفے کے گرداب میں بھٹکنے والی اِنسانیت کو نورِ علم سے منوّر کرتے ہوئے جدید سائنس کی بنیادیں فراہم کیں۔ قرآنِ مجید کا بنیادی موضوع ’’اِنسان‘‘ ہے، جسے سینکڑوں بار اِس اَمر کی دعوت دی گئی ہے کہ وہ اپنے گرد و پیش وُقوع پذیر ہونے والے حالات و واقعات اور حوادثِ عالم سے باخبر رہنے کے لئے غور و فکر اور تدبر و تفکر سے کام لے اور اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ شعور اور قوتِ مُشاہدہ کو بروئے کار لائے تاکہ کائنات کے مخفی و سربستہ راز اُس پر آشکار ہوسکیں۔ قرآنِ مجید نے بندۂ مومن کی بنیادی صفات و شرائط کے ضمن میں جو اَوصاف ذِکر کئے ہیں اُن میں آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں تفکر (علمِ تخلیقیات (Cosmology) کو بنیادی اہمیت دی گئی ہے۔ قرآ نِ حکیم نے آئیڈیل مسلمان کے اَوصاف بیان کرتے ہوئے اِرشاد فرمایا : إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلاَفِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَآيَاتٍ لِّأُوْلِي الْأَلْبَابِO الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللّهَ قِيَامًا وَقُعُودًا وَعَلَى جُنُوبِهِمْ وَيَتَفَكَّرُونَ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذَا بَاطِلاً سُبْحَانَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِO (آل عمران، 3 : 190، 191) بیشک آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں اور شب و روز کی گردِش میں عقلِ سلیم والوں کیلئے (اللہ کی قدرت کی) نشانیاں ہیںo یہ وہ لوگ ہیں جو (سراپا نیاز بن کر) کھڑے اور (سراپا ادب بن کر) بیٹھے اور (ہجر میں تڑپتے ہوئے) اپنی کروٹوں پر (بھی) اللہ کو یاد کرتے رہتے ہیں اور آسمانوں اور زمین کی تخلیق (میں کارفرما اُس کی عظمت اور حسن کے جلوؤں) میں فکر کرتے رہتے ہیں۔ (پھر اُس کی معرفت سے لذّت آشنا ہوکر پکار اُٹھتے ہیں) اے ہمارے رب! تو نے یہ (سب کچھ) بے حکمت اور بے تدبیر نہیں بنایا۔ تو (سب کوتاہیوں اور مجبوریوں سے) پاک ہے، ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچالےo اِن آیاتِ طیبات میں بندۂ مومن کی جو شرائط پیش کی گئی ہیں اُن میں جہاں کھڑے، بیٹھے اور لیٹے ہوئے زِندگی کے ہر حال میں اپنے مولا کی یاد اور اُس کے حضور حاضری کے تصوّر کو جاگزیں کرنا مطلوب ہے، وہاں اِس برابر کی دُوسری شرط یہ رکھی گئی ہے کہ بندۂ مومن آسمانوں اور زمین کی خِلقت کے باب میں غور و فکر کرے اور یہ جاننے میں کوشاں ہو کہ اِس وُسعتِ اَفلاک کا نظام کن اُصول و ضوابط کے تحت کارفرما ہے اور پھر پلٹ کر اپنی بے وُقعتی کا اَندازہ کرے۔ جب وہ اِس وسیع و عریض کائنات میں اپنے مقام و مرتبہ کا تعین کرلے گا تو خودہی پکار اُٹھے گا : ’’اے میرے ربّ! تو ہی میرا مولا ہے اور تو بے عیب ہے۔ حق یہی ہے کہ اِس وُسعتِ کائنات کو تیری ہی قوت وُجود بخشے ہوئے ہے۔ اور تو نے یہ عالم بے تدبیر نہیں بنایا‘‘۔ مذکورہ بالا آیتِ کریمہ کے پہلے حصہ میں ’خالق‘ اور دُوسرے حصے میں ’خَلق‘ کی بات کی گئی ہے، یعنی پہلے حصے کا تعلق مذہب سے ہے اور دُوسرے کا براہِ راست سائنس اور خاص طور پر علمِ تخلیقیات (cosmology) سے ہے۔ مذہب اور سائنس میں تعلق آج کا دَور سائنسی علوم کی معراج کا دَور ہے۔ سائنس کو بجا طور پر عصری علم (contemporary knowledge) سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ لہٰذا دَورِحاضر میں دِین کی صحیح اور نتیجہ خیز اِشاعت کا کام جدید سائنسی بنیادوں پر ہی بہتر طور پر سراَنجام دِیا جاسکتا ہے۔ بناء بریں اِس دَور میں اِس اَمر کی ضرورت گزشتہ صدیوں سے کہیں زیادہ بڑھ کر ہے کہ مُسلم معاشروں میں جدید سائنسی علوم کی تروِیج کو فروغ دیا جائے اور دِینی تعلیم کو سائنسی تعلیم سے مربوط کرتے ہوئے حقانیتِ اِسلام کا بول بالا کیا جائے۔ چنانچہ آج کے مسلمان طالبِ علم کے لئے مذہب اور سائنس کے باہمی تعلق کو قرآن و سنت کی روشنی میں سمجھنا از بس ضروری ہے۔ مذہب ’خالق‘ (Creator) سے بحث کرتا ہے اور سائنس اللہ تعالی کی پیدا کردہ ’خَلق‘ (creation) سے۔ دُوسرے لفظوں میں سائنس کا موضوع ’خَلق‘ اور مذہب کا موضوع ’خالق‘ ہے۔ یہ ایک قرینِ فہم و دانش حقیقت ہے کہ اگر مخلوق پر تدبروتفکر اور سوچ بچار مثبت اور درُست انداز میں کی جائے تو اُس مثبت تحقیق کے کمال کو پہنچنے پر لامحالہ اِنسان کو خالق کی معرفت نصیب ہوگی اور وہ بے اِختیار پکار اُٹھے گا : رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذَا بَاطِلاً. (آل عمران، 3 : 191) اے ہمارے رب! تو نے یہ (سب کچھ) بے حکمت اور بے تدبیر نہیں بنایا۔ بندۂ مومن کو سائنسی علوم کی ترغیب کے ضمن میں اللہ ربّ العزت نے کلامِ مجید میں ایک اور مقام پر یوں اِرشاد فرمایا : سَنُرِيهِمْ آيَاتِنَا فِي الْآفَاقِ وَفِي أَنفُسِهِمْ حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُ الْحَقُّ. (حم السجده، 41 : 53) ہم عنقریب اُنہیں کائنات میں اور اُن کے اپنے (وُجود کے) اندر اپنی نشانیاں دِکھائیں گے، یہاں تک کہ وہ جان لیں گے کہ وُہی حق ہے۔ اِس آیتِ کریمہ میں باری تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ ہم اِنسان کو اُس کے وُجود کے اندر موجود داخلی نشانیاں (internal signs) بھی دِکھا دیں گے اور کائنات میں جابجا بکھری خارجی نشانیاں (external signs) بھی دِکھا دیں گے، جنہیں دیکھ لینے کے بعد بندہ خود بخود بے تاب ہوکر پکار اُٹھے گا کہ حق صرف اللہ ہی ہے۔ دَورِحاضر کا المیہ قرآنِ مجید میں کم و بیش ہر جگہ مذہب اور سائنس کا اِکٹھا ذِکر ہے، مگر یہ ہمارے دَور کا اَلمیہ ہے کہ مذہب اور سائنس دونوں کی سیادت و سربراہی ایک دُوسرے سے ناآشنا اَفراد کے ہاتھوں میں ہے۔ چنانچہ دونوں گروہ اپنے مدِّ مقابل دُوسرے علم سے دُوری کے باعث اُسے اپنا مخالف اور متضاد تصوّر کرنے لگے ہیں۔ جس سے عامۃُ الناس کم علمی اور کم فہمی کی وجہ سے مذہب اور سائنس میں تضاد اور تخالف (conflict & contradiction) سمجھنے لگتے ہیں، جبکہ حقیقت اِس کے بالکل برعکس ہے۔ مغربی تحقیقات اِس امر کا مسلّمہ طور پر اِقرار کرچکی ہیں کہ جدید سائنس کی تمامتر ترقی کا اِنحصار قرونِ وُسطیٰ کے مسلمان سائنسدانوں کی فراہم کردہ بنیادوں پر ہے۔ مسلمان سائنسدانوں کو سائنسی نہج پر کام کی ترغیب قرآن و سنت کی اُن تعلیمات نے دی تھی جن میں سے کچھ کا تذکرہ گزشتہ صفحات میں گزر چکا ہے۔ اِسی منشائے ربانی کی تکمیل میں مسلم سائنسدانوں نے ہر شعبۂ علم کو ترقی دی اور آج اَغیار کے ہاتھوں وہ علوم اپنے نکتۂ کمال کو پہنچ چکے ہیں۔ شومئ قسمت کہ جن سائنسی علوم و فنون کی تشکیل اور اُن کے فروغ کا حکم قرآن و حدیث میں جا بجا موجود ہے اور جن کی اِمامت کا فریضہ ایک ہزار برس تک خود بغداد، رے، دِمشق، اسکندریہ اور اندلس کے مسلمان سائنسدان سراَنجام دیتے چلے آئے ہیں، آج قرآن و سنت کے نام لیوا طبقِ ارضی پر بکھرے اَرب بھر مسلمانوں میں سے ایک بڑی تِعداد اُسے اِسلام سے جدا سمجھ کر اپنی ’تجدّد پسندی‘ کا ثبوت دیتے نہیں شرماتی۔ سائنسی علوم کا وہ پودا جسے ہمارے ہی اَجداد نے قرآنی علوم کی روشنی میں پروان چڑھایا تھا، آج اَغیار اُس کے پھل سے محظوظ ہو رہے ہیں اور ہم اپنی اصل تعلیمات سے رُوگرداں ہوکر دیارِ مغرب سے اُنہی علوم کی بھیک مانگ رہے ہیں۔ آج ایک طبقہ اگر اِسلام سے اِس حد تک رُوگرداں ہے تو دُوسرا نام نہاد ’مذہبی طبقہ‘ سائنسی علوم کو اَجنبی نظریات کی پیداوار قرار دے کر اُن کے حصول کی راہ میں سب سے بڑی رُکاوٹ بنا ہوا ہے۔ مذہبی و سائنسی علوم میں مغایرت کا یہ تصوّر قوم کو دو واضح حصوں میں تقسیم کر چکا ہے۔ نسلِ نو اپنے اَجداد کے سائنسی کارہائے نمایاں کی پیروِی کرنے یا کم از کم اُن پر فخر کرنے کی بجائے زوال و مسکنت کے باعث اپنے علمی، تاریخی اور سائنسی وِرثے سے اِس قدر لاتعلق ہوگئی ہے کہ خود اُنہی کو اِسلام اور سائنس میں عدم مغایرت پر قائل کرنے کی ضرورت پیش آ رہی ہے۔ مذہب اور سائنس میں عدمِ تضاد سائنس اور اِسلام میں تضاد کیونکر ممکن ہے جبکہ اِسلام خود سائنس کی ترغیب دے رہا ہے! بنا بریں اِسلامی علوم کل ہیں اور سائنسی علوم محض اُن کا ایک جزو۔ جزو اور کل میں مغایرت (conflict) ناممکن ہے۔ مذہب اور سائنس پر اپنی اپنی سطح پر تحقیقات کرنے والے دُنیا بھر کے محققین کے لئے یہ ایک عالمگیر چیلنج ہے کہ مذہب اور سائنس میں کوئی تضاد نہیں۔ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ مذہب اور سائنس میں تضاد ہے تو اُس کے ساتھ دو میں سے یقینا ایک بات ہوگی، ایک اِمکان تو یہ ہے کہ وہ مذہب کی صحیح سمجھ سے عاری ہو گا بصورتِ دیگر اُس نے سائنس کو صحیح طور پر نہیں سمجھا ہو گا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ جس نکتے پر اُسے تضاد نظر آرہا ہو مطالعہ میں کمی کے باعث وہ نکتہ اُس پر صحیح طور پر واضح نہ ہو سکا ہو۔ اگر کسی معاملے کو صحیح طور پر ہر پہلو سے جانچ پرکھ کر سمجھ لیا جائے تو بندہ از خود یہ تسلیم کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ مذہب اور سائنس میں کوئی تضاد نہیں کیونکہ اِسلام کی رُو سے مذہب اور سائنس دونوں دینِ مبین کا حصہ ہیں۔ سائنس کا دائرۂ کار مُشاہداتی اور تجرباتی علوم پر منحصر ہے جبکہ مذہب اَخلاقی و رُوحانی اور ما بعد الطبیعیاتی اُمور سے متعلق ہے۔ اَب ہم مذہب اور سائنس میں عدمِ تضاد کے حوالے سے تین اہم دلائل ذِکر کرتے ہیں : 1۔ بنیاد میں فرق مذہب اور سائنس میں عدمِ تضاد کی بڑی اہم وجہ یہ ہے کہ دونوں کی بنیادیں ہی جدا جدا ہیں۔ دَرحقیقت سائنس کا موضوع ’علم‘ ہے جبکہ مذہب کا موضوع ’ایمان‘ ہے۔ علم ایک ظنّی شے ہے، اِسی بناء پر اُس میں غلطی کا اِمکان پایا جاتا ہے، بلکہ سائنس کی تمام پیش رفت ہی اِقدام و خطاء (trial & error) کی طوِیل جِدّوجُہد سے عبارت ہے۔ جبکہ دُوسری طرف اِیمان کی بنیاد ظن کی بجائے یقین پر ہے، اِس لئے اُس میں خطا کا کوئی اِمکان موجود نہیں۔ اِیمان کے ضمن میں سورۂ بقرہ میں اِرشادِ ربانی ہے : الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ. (البقره، 2 : 3) جو غیب پر اِیمان لاتے ہیں۔ گویا اِیمان جو کہ مذہب کی بنیاد ہے، مُشاہدے اور تجربے کی بناء پر نہیں بلکہ وہ بغیر مُشاہدہ کے نصیب ہوتا ہے۔ اِیمان ہے ہی اُن حقائق کو قبول کرنے کا نام جو مُشاہدے میں نہیں آتے اور پردۂ غیب میں رہتے ہیں۔ وہ ہمیں اپنے خودساختہ ذرائعِ علم سے معلوم نہیں ہوسکتے بلکہ اُنہیں مشاہدے اور تجربے کے بغیر محض اللہ اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بتانے سے مانا جاتا ہے، مذہب کی بنیاد اِن حقائق پر ہے۔ اِس کے مقابلے میں جو چیزیں ہمیں نظرآرہی ہیں، جن کے بارے میں حقائق اور مُشاہدات آئے دِن ہمارے تجربے میں آتے رہتے ہیں، اُن حقائق کا علم سائنس کہلاتا ہے۔ چنانچہ سائنس اِنسانی اِستعداد سے تشکیل پانے والا علم (human acquired wisdom) ہے، جبکہ مذہب خدا کی طرف سے عطاکردہ علم (God-gifted wisdom) ہے۔ اِسی لئے سائنس کا سارا علم اِمکانات پر مبنی ہے، جبکہ مذہب میں کوئی اِمکانات نہیں بلکہ وہ سراسر قطعیات پر مبنی ہے۔ مذہب کے تمام حقائق وُثوق اور حتمیت (certainty & finality) پر مبنی ہیں، یعنی مذہب کی ہر بات حتمی اور اَمرِ واجب ہے، جبکہ سائنس کی بنیاد اور نکتۂ آغاز ہی مفروضوں (hypothesis) پر ہے۔ اِسی لئے سائنس میں درجۂ اِمکان (degree of probability) بہت زیادہ ہوتا ہے۔ مفروضہ، مشاہدہ اور تجربہ کے مختلف مراحل میں سے گزر کر کوئی چیز قانون (law) بنتی ہے اور تب جاکر اُس کا علم ’حقیقت‘ کے زُمرے میں آتا ہے، سائنسی تحقیقات کی جملہ پیش رفت میں حقیقی صورتحال یہ ہے کہ جن حقائق کو ہم بارہا اپنی عقل کی کسوٹی پر پرکھنے کے بعد سائنسی قوانین قرار دیتے ہیں اُن میں بھی اکثر ردّ و بدل ہوتا رہتا ہے۔ چنانچہ اِس بہت بڑے فرق کی بنیاد پر ہم یہ کہنے میں حق بجانب ہیں کہ مذہب اور سائنس میں ٹکراؤ کا اِمکان ہی خارِج اَز بحث ہے۔ 2۔ دائرۂ کار میں فرق مذہب اور سائنس میں کسی قسم کے تضاد کے نہ پائے جانے کا دُوسرا بڑا سبب دونوں کے دائرۂ کار کا مختلف ہونا ہے، جس کے باعث دونوں میں تصادُم اور ٹکراؤ کا کوئی اِمکان کبھی پیدا ہی نہیں ہو سکتا۔ اِس کی مثال یوں ہے جیسے ایک ہی سڑک پر چلنے والی دو کاریں آمنے سامنے آرہی ہوں تو وہ آپس میں ٹکراسکتی ہیں، اِسی طرح عین ممکن ہے کہ سٹیشن ماسٹر کی غلطی سے دو ریل گاڑیاں آپس میں ٹکرا جائیں لیکن یہ ممکن نہیں کہ کار اور ہوائی جہاز یا کار اور بحری جہاز آپس میں ٹکرا جائیں۔ اَیسا اِس لئے ممکن نہیں کہ دونوں کے سفر کے راستے الگ الگ ہیں۔ کار نے سڑک پر چلنا ہے، بحری جہاز نے سمندر میں اور ہوائی جہاز نے ہوا میں۔ جس طرح سڑک اور سمندر میں چلنے والی سواریاں کبھی آپس میں ٹکرا نہیں سکتیں اِسی طرح مذہب اور سائنس میں بھی کسی قسم کا ٹکراؤ ممکن نہیں، کیونکہ سائنس کا تعلق طبیعیاتی کائنات (physical world) سے ہے جبکہ مذہب کا تعلق مابعد الطبیعیات (meta physical world) سے ہے۔ اِس بات کو دُوسرے لفظوں میں یوں بھی سمجھا جاسکتا ہے کہ سائنس فطرت (nature) سے بحث کرتی ہے جبکہ مذہب کی بحث مافوق الفطرت (supernature) دُنیا سے ہے، لہٰذا اِن دونوں میں سکوپ کے اِختلاف کی بناء پر اِن میں کسی صورت بھی تضاد ممکن نہیں ہے۔ 3۔ اِقدام و خطاء کا فرق اِس ضمن میں تیسری دلیل بھی نہایت اہم ہے، اور وہ یہ کہ خالقِ کائنات نے اِس کائناتِ ہست و بُود میں کئی نظام بنائے ہیں، جو اپنے اپنے طور پر اپنی خصوصیات کے ساتھ روَاں دوَاں ہیں۔ مثلاً اِنسانی کائنات، حیوانی کائنات، جماداتی کائنات، نباتاتی کائنات، ماحولیاتی کائنات، فضائی کائنات اور آسمانی کائنات وغیرہ۔ اِن تمام نظاموں کے بارے میں ممکنُ الحصول حقائق جمع کرنا سائنس کا مطمحِ نظر ہے۔ دُوسری طرف مذہب یہ بتاتا ہے کہ یہ ساری اشیاء اﷲ تعالیٰ نے پیدا کی ہیں۔ چنانچہ سائنس کی یہ ذِمہ داری ہے کہ اللہ ربّ العزت کے پیداکردہ عوالم اور اُن کے اندر جاری و ساری عوامل (functions) کا بنظرِ غائر مطالعہ کرے اور کائنات میں پوشیدہ مختلف سائنسی حقائق کو بنی نوع اِنسان کی فلاح کے لئے سامنے لائے۔ اللہ ربّ العزت کی تخلیق کردہ اِس کائنات میں غوروفکر کے دَوران ایک سائنسدان کو بارہا اِقدام و خطاء (trial & error) کی حالت سے گزرنا پڑتا ہے۔ بار ہا ایسا ہوتا ہے کہ ایک دفعہ کی تحقیق سے کسی چیز کو سائنسی اِصطلاح میں ’حقیقت‘ کا نام دے دِیا جاتا ہے مگر مزید تحقیق سے پہلی تحقیق میں واقع خطا ظاہر ہونے پر اُسے ردّ کر تے ہوئے نئی تحقیق کو ایک وقت تک کیلئے حتمی قرار دے دیا جاتا ہے۔ سائنسی طریقِ کار میں اگرچہ ایک ’مفروضے‘ کو مسلّمہ ’نظرئیے‘ تک کا درجہ دے دیا جاتا ہے، تاہم سائنسی طریقِ تحقیق میں کسی نظرئیے کو بھی ہمیشہ کیلئے حقیقت کی حتمی شکل قرار نہیں دیا جاسکتا۔ سائنس کی دُنیا میں کوئی نظریہ جامد (unchangeable) اور مطلق (absolute) نہیں ہوتا، ممکنہ تبدیلیوں کا اِمکان بہرحال موجود رہتا ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ نئے تجربات کی روشنی میں صدیوں سے مسلّمہ کسی نظرئیے کو مکمل طور پر مستردّ کردیا جائے۔ مذہب اِقدام و خطاء سے مکمل طور پر آزاد ہے کیونکہ اُس کا تعلق اللہ ربّ العزت کے عطا کردہ علم سے ہوتا ہے، جو حتمی، قطعی اور غیر متبدّل ہے اور اُس میں خطاء کا کلیتاً کوئی اِمکان نہیں ہوتا۔ جبکہ سائنسی علوم کی تمام تر تحقیقات اِقدام و خطا (trial & error) کے اُصول کے مطابق جاری ہیں۔ ایک وقت تک جو اشیاء حقائق کا درجہ رکھتی تھیں موجودہ سائنس اُنہیں کلی طور پر باطل قرار دے کر نئے حقائق منظرِ عام پر لا رہی ہے۔ یہ الگ بات کہ حقائق تک پہنچنے کی اِس کوشش میں بعض اَوقات سائنس غلطی کا شکار بھی ہوجاتی ہے، بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ سائنس کی بنیاد ہی سعی اور خطاء (trial & error) پر ہے جو مختلف مُشاہدات اور تجربات کے ذرِیعے حقائق تک رسائی کی کوشش کرتی ہے۔ مذہب مابعدُ الطبیعیاتی (metaphysical) حقائق سے آگہی کے ساتھ ساتھ ہمیں اِس مادّی کائنات سے متعلق بھی بہت سی معلومات فراہم کرتا ہے، جن کی روشنی میں ہم سائنسی علوم کے تحت اِس کائنات کو اپنے لئے بہتر اِستعمال میں لا سکتے ہیں۔ قرآنِ مجید میں اِرشا دِ باری تعالیٰ ہے : وَسَخَّرَ لَكُم مَّا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ. (الجاثيه، 45 : 13) اور اُس (اﷲ) نے سماوِی کائنات اور زمین میں جو کچھ ہے وہ سب تمہارے لئے مسخر کردیا ہے۔ جہاں تک مذہب کا معاملہ تھا اُس نے تو ہمیں اِس حقیقت سے آگاہ کر دِیا کہ زمین و آسمان میں جتنی کائنات بکھری ہوئی ہے سب اِنسان کے لئے مسخر کر دی گئی ہے۔ اَب یہ اِنسان کا کام ہے کہ وہ سائنسی علوم کی بدولت کائنات کی ہر شے کو اِنسانی فلاح کے نکتۂ نظر سے اپنے لئے بہتر سے بہتر اِستعمال میں لائے۔ اِسی طرح ایک طرف ہمیں مذہب یہ بتاتا ہے کہ جملہ مخلوقات کی خِلقت پانی سے عمل میں آئی ہے تو سائنس اور ٹیکنالوجی کی ذِمہ داری یہ رہنمائی کرنا ہے کہ بنی نوع اِنسان کو پانی سے کس قدر فوائد بہم پہنچائے جاسکتے ہیں اور اُس کا طریقِ کار کیا ہو۔ چنانچہ اِس ساری بحث سے ہم اِس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ سائنس اور مذہب کہیں بھی اور کسی درجے میں بھی ایک دُوسرے سے متصادِم نہیں ہیں۔ مغالطے کے اَسباب اَب جبکہ ہم یہ حقیقت جان چکے ہیں کہ مذہب اور سائنس میں حقیقتاً کوئی تضاد موجود نہیں ہے تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ عام ذِہن میں اَیسی غلط فہمی کیوں پائی جاتی ہے اور اِس مغالطے کے اَسباب و عوامل کیا ہیں؟ اگرچہ اِس مغالطے کے اَسباب بہت سے ہیں لیکن بنیادی طور پر دو اہم اَسباب ایسے ہیں جن پر ہم سرِدست خاص طور پر توجہ دینا چاہیں گے۔ اُن میں سے ایک کا تعلق یورپ سے ہے اور دُوسرے کا عالمِ اِسلام سے۔ پہلا سبب۔ ۔ ۔ سولہویں صدی کے کلیسائی مظالم عالمِ مغرب میں یہ مغالطہ اُس دَور میں پیدا ہوا جب برِاعظم یورپ عیسائی پادریوں کے تسلط میں جہالت کے اَٹاٹوپ اندھیرے میں ڈُوبا ہوا تھا۔ جاہل پادری عیسوی مذہب اور بائبل کی اصل اِسلامی تعلیمات کو مسخ کرکے مَن گھڑت عیسائیت کو فروغ دینے میں کامیاب ہو چکے تھے۔ بائبل میں تحرِیف کی وجہ سے عقائد اَوہام میں اور عبادات رسوم میں بدل چکی تھیں اور معاشرہ کفر و شرک کی اندھی دلدل میں دھنستا ہی چلا جا رہا تھا۔ عیسائی مذہب کی بنیادی تعلیمات جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے آج سے دو ہزار برس قبل دی تھیں اُنہیں بدل کر توحید کی جگہ تثلیث کا عقیدہ گھڑ لیا گیا، جو ایک اِنتہائی نامعقول تصوّر تھا اور اُسے آج خود عیسائی سکالر اور فلاسفر بھی ردّ کر رہے ہیں۔ اِس تحرِیف کے بعد سب سے بڑا فتنہ یہ پیدا ہوا کہ یونانی فلسفہ بائبل کا حصہ بن گیا، جسے دینِ عیسوی کے ماننے والے رفتہ رفتہ اپنا مستقل عقیدہ سمجھنے لگ گئے۔ حالانکہ وہ عقیدہ دراصل اُن کا نہ تھا بلکہ وہ محض یونانی فلسفے کے غلط تصوّرات تھے جو پادریوں کے ذریعے بائبل میں ڈال دیئے گئے تھے۔ اَب اِس تحریف کی وجہ سے بائبل میں یونانی فلسفے پر مبنی بے شمار سائنسی اَغلاط دَر آئیں۔ سولہویں صدی میں جب سائنس نے اُن غلط نظریات کو تحقیق کی روشنی میں جھٹلایا تو اُس وقت کے پادری یہ سمجھے کہ سائنسدان مذہب کو سائنس کے ذریعے ردّ کر رہے ہیں۔ چنانچہ وہ سائنسدانوں اور سائنسی علوم کے خلاف کفر کے فتوے دینے لگے۔ پہلے پہل نظامِ شمسی اور حرکتِ زمین کے بارے میں نئے سائنسی تصوّرات کا یہ نتیجہ نکلا کہ پادریوں نے تکفیر کے فتوے دیئے۔ گلیلیو نے جب 1609ء میں دُوربین اِیجاد کی اور اُس کی مدد سے نظامِ شمسی کی بابت اپنی تحقیقات دُنیا کے سامنے پیش کیں تو پادریوں نے اُسے اِس جرم کی پاداش میں سزائے قید سنائی اور وہ دورانِ قید ہی مر گیا۔ علیٰ ہذا القیاس متعدّد سائنسدانوں کو مذہب کے نام پر متعصب ظالمانہ قوانین کے شکنجے میں کستے ہوئے اُنہیں اپنے سائنسی نظریات واپس لینے پر مجبور کیا گیا، یہاں تک کہ اُن میں سے بعض کو زندہ آگ میں جلا دیا گیا۔ اِن تمام باتوں کے باوُجود سائنس کا کارواں مسلسل آگے ہی آگے بڑھتا چلا گیا اور نوبت یہاں تک پہنچی کہ اُس جاہلانہ معاشرے میں مذہب اور سائنس کے درمیان ایک گھمبیر جنگ چھڑ گئی۔ قانونِ قدرت کے مطابق حق (سائنس) کو بالآخر فتح نصیب ہوئی اور مسخ شدہ عیسائیت اپنا سر پیٹ کر رہ گئی۔ سائنس کے غلبے کا دَور آیا تو ردِعمل (reaction) کے طور پر سائنسدانوں نے بچے کھچے عیسائی مذہب اور مسخ شدہ بائبل کے خلاف بدلے کے طور پر ایک مہم چلائی، جس کے تحت ایک بڑی تِعداد میں کتابیں اور مضامین شائع کئے گئے۔ باقاعدہ علمی معرکے بپا ہوئے جن کے دَوران عیسائی پادریوں کی کونسل کے اِجلاس بھی ہوتے رہے، جن میں وہ عیسائیت کے دِفاع کی کوشش کرتے۔ چند سال پیشتر پوپ آف روم نے بعض اہلِ کلیسا کی طرف سے دیئے گئے آسمانی کائنات کے متعلق غیرسائنسی اور جاہلانہ فتاویٰ کو منسوخ کرنے کا اِعلان کیا ہے۔ عیسائیت کی شکست کے بعد اگرچہ یہ جنگ اَب ختم ہو چکی ہے تاہم جدید ذِہن اِسلام سمیت دِیگر تمام اَدیان کو بھی عیسائیت ہی کے پردے میں دیکھ رہا ہے اور اُنہیں بھی سائنسی تحقیقات پر پہرے بٹھانے والے اور باطل اَدیان سمجھ رہا ہے، حالانکہ حقیقت بالکل اِس کے برعکس ہے۔ مذہب اور سائنس میں مغایرت کی بحث کبھی بھی اِسلام کی بحث نہ تھی، یہ عیسائیت کے مسخ شدہ مذہب اور سائنس کی جنگ تھی۔ بدقسمتی سے ہمارے نوجوانوں نے سائنسی علوم کی اِبتداء اور پیش رفت کے بارے میں جاننے کے لئے عالمِ اِسلام کی زرّیں تاریخ کا مطالعہ کرنے کی زحمت ہی نہیں کی۔ اُنہوں نے اندلس (Spain)، بغداد (Baghdad)، دِمشق (Damascus) اور نیشاپور کی اِسلامی سائنسی ترقی کا مطالعہ ہی نہیں کیا۔ آج بھی ہالینڈ کی لیڈن یونیورسٹی کی لائبریری کے ایشین سیکشن (Asian section) میں مسلم سائنسدانوں کی لکھی ہوئی صدیوں پرانی کتابیں موجود ہیں، جو ہمیں اِس حقیقت سے آگاہ کرتی ہیں کہ جب یورپ جہالت کی اتھاہ تاریکیوں میں ڈوبا ہوا تھا اُس وقت دُنیائے اِسلام میں سائنسی تحقیقات کی بدولت علم و حکمت اور فکر و دانش کا سورج اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ چمک رہا تھا۔ قرونِ وُسطیٰ میں اِسلامی سائنس کے عروج کے دَور میں سائنسی علوم پر بے شمار کتابیں لکھی گئیں، جن کی تِعداد لاکھوں میں ہے۔ چنانچہ مذہب اور سائنس کی یہ چپقلش اِسلام کی پیدا کردہ نہیں بلکہ یورپ کے دورِ جاہلیت (dark ages) کی پیدا وار ہے اور ہماری نوجوان نسل کی یہ بدقسمتی ہے کہ اُنہوں نے آج تک اِسلام کی تاریخ کو براہِ راست اپنے اِسلامی ذرائع سے نہیں پڑھا اور فقط مغربی ذرائعِ علم پر ہی اِکتفا کیا ہے۔ وہ اِس نکتے کو نہ سمجھ سکے کہ مذہب پر کی جانے والی تمام تنقیدیں اِسلام کے خلاف نہیں بلکہ عیسائیت کی مسخ شدہ مذہبی تعلیمات کے خلاف ہیں۔ مغربی سائنسدانوں کے سامنے تو اِسلام کا سِرے سے کوئی تصوّر ہی نہیں تھا، لہٰذا کسی بھی سائنسدان کی طرف سے مذہب کے خلاف کی جانے والی تنقیدات کا ہدف اِسلام نہیں۔ ایسی تنقید نام نہاد عیسائی مذہب کے مبنی برجہالت و تعصب نظریات اورعقائد کے خلاف متصوّر ہونی چاہئے۔ اِسلام کا اُس سے کوئی سروکار نہیں۔ دُوسرا سبب۔ ۔ ۔ علمائے اِسلام کی سائنسی علوم میں عدم دِلچسپی دُوسری اہم وجہ ہمارے علمائے کرام کے اَذہان میں پایا جانے والا ایک غلط تصوّر ہے کہ ہمارے ہاں مدارسِ اِسلامیہ کے نصاب ’درسِ نظامی‘ میں صدیوں سے جو فلسفہ پڑھایا جارہا ہے وہ اِسلام سے مآخوذ ہے۔ یہ تصوّر ہی حقیقت کے خلاف ہے، کیونکہ وہ فلسفہ بنیادی طور پر اِسلامی نہیں بلکہ یونانی فلسفہ ہے۔ ہمارے بعض کم نظر علماء وہ کتابیں پڑھ کر یہ تمیز بھول گئے ہیں کہ وہ فلسفہ یونانی ہے قرآنی نہیں۔ اِسی وجہ سے یہ سمجھا جاتا رہا ہے کہ بعض سائنسی تصورات ہمارے مذہب کے خلاف ہیں، حالانکہ حقیقت اِس سے یکسر مختلف ہے اور بدِیہی طور پر اِسلام اور سائنس میں کسی قسم کا کوئی تضاد اور ٹکراؤ نہیں بلکہ یہ تضاد غلط سوچ اور حقائق سے لاعلمی کی پیداوار ہے۔ نظریۂ اِضافیت (Theory of Relativity) کے خالق شہرہ آفاق سائنسدان ’آئن سٹائن‘ کا کہنا ہے کہ : "Science without religion is lame and religion without science is blind". ترجمہ : ’’مذہب کے بغیر سائنس لنگڑی ہے اور سائنس کے بغیر مذہب اندھا ہے‘‘۔ یہ ایک مسلّمہ حقیقت ہے کہ اِسلام اپنے ماننے والوں کو مذہب اور سائنس دونوں کا نور عطا کرتا ہے۔ اِس لئے یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ اِسلام دُنیا کا سب سے زیادہ ترقی یافتہ دِین ہے، جو نہ صرف قدم قدم سائنسی علوم کے ساتھ چلتا نظر آتا ہے بلکہ تحقیق و جستجو کی راہوں میں سائنسی ذِہن کی ہر مشکل میں رہنمائی بھی کرتا ہے۔ واضح رہے کہ جو سائنسی تصوّرات اِس وقت بنی نوع اِنسان کے سامنے آچکے ہیں اور مستقبل کے تناظرات میں سائنس جس طرف بڑھ رہی ہے اُس کے پیش کردہ بنیادی نظریات قرآن و حدیث کے تصوّرات کی تائید و تصدیق کرتے چلے جا رہے ہیں۔ جوں جوں سائنس ترقی کر رہی ہے اِسلام کی حقانیت ثابت ہوتی جارہی ہے۔ بلکہ یہ کہنا بے جا اور مبالغہ آمیز نہ ہوگا کہ جدید سائنس کی ترقی سے مذہب کا نور نکھرتا جارہا ہے اور ایک وقت آئے گا کہ جب سائنس اپنی تحقیقات کے نکتۂ کمال کو پہنچے گی تو اللہ کے دین کا ہر اِیمانی تصوّر سائنس کے ذرِیعے صحیح ثابت ہوجائے گا۔ قرآنِ مجید اور سائنس کا تقابلی مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ سائنس کے بے شمار نظریات قرآنی تصوّرات کو صد فی صد صحیح ثابت کرتے ہیں اور وہ دِن دُور نہیں جب سائنس کلی طور پر دینی نظریات کی تائید و توثیق کرنے لگے گی۔ اسلام اور جدید سائنس از ڈاکٹر طاہر القادری

قرآنی تعلیمات اور سائنسی علوم کی ترغیب

2017-07-27 07:40:15 

اِسلام کا فلسفۂ زندگی دیگر اَدیانِ باطلہ کی طرح ہرگز یہ نہیں کہ چند مفروضوں پر عقائد و نظریات کی بنیادیں اُٹھا کر اِنسان کی ذِہنی صلاحیتوں کو بوجھل اور بے معنی فلسفیانہ مُوشگافیوں کی نذر کر دِیا جائے اور حقیقت کی تلاش کے سفر میں اِنسان کو اِس طرح ذِہنی اُلجھاؤ میں گرفتار کر دِیا جائے کہ اُس کی تمام تر تخلیقی صلاحیتیں مفلوج ہو کر رہ جائیں۔ اِسلام نے کسی مرحلہ پر بھی اِنتہاء پسندی کی حوصلہ اَفزائی نہیں کی، بلکہ اِس کے برعکس اِسلام کی فطری تعلیمات نے ہمیشہ ذہنِ اِنسانی میں شعور و آگہی کے اَن گنت چراغ روشن کر کے اُسے خیر و شر میں تمیز کا ہنر بخشا ہے۔ اِسلام نے اپنے پیروکاروں کو سائنسی علوم کے حصول کا درس دیتے ہوئے ہمیشہ اِعتدال کی راہ دِکھا ئی ہے۔ اِسلام نے اِس کارخانۂ قدرت میں اِنسانی فطرت اور نفسیات کے مطابق اِنسان کو اَحکامات اور ضابطوں کا ایک پورا نظام دِیا ہے اور اُس کے ظاہر و باطن کے تضادات کو مٹا کر اُسے اپنے نصبُ العین کی سچائی کا شعور عطا کیا ہے۔ تاریخِ علوم کا مطالعہ کریں تو یہ حقیقت اپنی جملہ توانائیوں کے ساتھ ہمارے ذِہن پر روشن اور واضح ہوتی ہے کہ آفاق (universe) اور اَنفس (human life) کی رہگزر فکر و نظر کے اَن گنت چراغوں سے منوّر ہے۔ غور و خوض اور تفکر و تدبر حکمِ خداوندی ہے، کیونکہ تفکر کے بغیر سوچ کے دروازے نہیں کھلتے اور اگر یہ دروازے مقفّل رہیں تو تاریخ کا سفر گویا رُک جاتا ہے اور اِرتقائے نسلِ اِنسانی کی تاریخ اندھیروں میں گم ہو جاتی ہے۔ مسلمانوں نے اپنے سفر کی اِبتدائی صدیوں میں تفکر و تدبر کے ذرِیعہ سائنسی علوم میں نہ صرف بیش بہا اِضافے کئے بلکہ اِنسان کو قرآنی اَحکامات کی روشنی میں تسخیرِ کائنات کی ترغیب بھی دی۔ چنانچہ اُس دَور میں بعض حیران کن اِیجادات بھی عمل میں آئیں اور سائنسی علوم کو اَیسی ٹھوس بنیادیں فراہم ہوئیں جن پر آگے چل کر جدید سائنسی علوم کی بنیاد رکھی گئی۔ یہاں ہم قرآنِ مجید کی چندایسی آیاتِ کریمہ پیش کر رہے ہیں جن کے مطالعہ سے قرونِ اُولیٰ کے مسلمان سائنسدانوں کو سائنسی تحقیقات کی طرف ترغیب ملی اور اُس کے نتیجے میں بنی نوعِ اِنسان نے تجرّبی توثیق کو حقیقت تک رسائی کی کسوٹی قرار دے کر تحقیق و جستجو کے نئے باب روشن کئے : آیاتِ ترغیبِ علم إِنَّمَا يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاءُ. (فاطر، 35 : 28) اللہ سے تو اُس کے بندوں میں سے علم والے ہی ڈرتے ہیں (جو صاحبِ بصیرت ہیں)۔ قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ إِنَّمَا يَتَذَكَّرُ أُوْلُوا الْأَلْبَابِO (الزمر، 39 : 9) آپ فرما دیجئے کہ علم والے اور بے علم کہیں برابر ہوتے ہیں! تحقیق سوچتے وُہی ہیں جو صاحبِ عقل ہیںo وَالَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ دَرَجَاتٍ (المجادله، 58 : 11) اور جنہیں علم عطا کیا گیا ہے (اﷲ) اُن لوگوں کے درجے بلند کرے گا۔ وَأَعْرِضْ عَنِ الْجَاهِلِينَO (الاعراف، 7 : 199) اور جاہلوں سے کنارہ کشی اِختیار کر لیںo وَمَا يَذَّكَّرُ إِلاَّ أُوْلُواْ الْأَلْبَابِO (آل عمران، 3 : 7) اور نصیحت صرف اہلِ دانش ہی کو نصیب ہوتی ہےo وَقُل رَّبِّ زِدْنِي عِلْمًاO (طهٰ، 20 : 114) اور آپ (ربّ کے حضور یہ) عرض کریں کہ اَے میرے رب! مجھے علم میں اور بڑھا دےo اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَO (العلق، 96 : 1) (اے حبیب!) اپنے ربّ کے نام سے (آغاز کرتے ہوئے) پڑھیئے جس نے (ہر چیز کو) پیدا فرمایاo فَاسْأَلُواْ أَهْلَ الذِّكْرِ إِن كُنتُمْ لاَ تَعْلَمُونَO (النحل، 16 : 43) سو تم اہلِ ذِکر سے پوچھ لیا کرو اگر تمہیں خود (کچھ) معلوم نہ ہوo کائنات میں غوروفکر کی ترغیب إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ وَاخْتِلاَفِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَالْفُلْكِ الَّتِي تَجْرِي فِي الْبَحْرِ بِمَا يَنفَعُ النَّاسَ وَمَا أَنزَلَ اللّهُ مِنَ السَّمَاءِ مِن مَّاءٍ فَأَحْيَا بِهِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَبَثَّ فِيهَا مِن كُلِّ دَآبَّةٍ وَتَصْرِيفِ الرِّيَاحِ وَالسَّحَابِ الْمُسَخِّرِ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالأَرْضِ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَعْقِلُونَO (البقره، 2 : 164) بیشک آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں اور رات دِن کی گردش میں اور اُن جہازوں (اور کشتیوں) میں جو سمندر میں لوگوں کو نفع پہنچانے والی چیزیں اُٹھا کر چلتی ہیں اور اُس (بارش) کے پانی میں جسے اللہ آسمان کی طرف سے اُتارتا ہے، پھر اُس کے ذریعے زمین کو مُردہ ہو جانے کے بعد زندہ کرتا ہے، (وہ زمین) جس میں اُس نے ہر قسم کے جانور پھیلا دیئے ہیں اور ہواؤں کے رُخ بدلنے میں اور اُس بادل میں جو آسمان اور زمین کے درمیان (حکمِ الٰہی کا) پابند (ہو کر چلتا) ہے (اِن میں) عقلمندوں کے لئے (قدرتِ الٰہیہ کی بہت سی) نشانیاں ہیںo إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلاَفِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَآيَاتٍ لِّأُوْلِي الْأَلْبَابِO الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللّهَ قِيَامًا وَقُعُودًا وَعَلَى جُنُوبِهِمْ وَيَتَفَكَّرُونَ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذَا بَاطِلاً سُبْحَانَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِO (آل عمران، 3 : 190، 191) بیشک آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں اور شب و روز کی گردِش میں عقلِ سلیم والوں کے لئے (اللہ کی قدرت کی) نشانیاں ہیںo یہ وہ لوگ ہیں جو (سراپا نیاز بن کر) کھڑے اور (سراپا اَدب بن کر) بیٹھے اور (ہجر میں تڑپتے ہوئے) اپنی کروَٹوں پر (بھی) اللہ کو یاد کرتے رہتے ہیں اور آسمانوں اور زمین کی تخلیق (میں کارفرما اُس کی عظمت اور حسن کے جلوؤں) میں فکر کرتے رہتے ہیں (پھر اُس کی معرفت سے لذّت آشنا ہو کر پکار اُٹھتے ہیں : ) اَے ہمارے رب! تو نے یہ (سب کچھ) بے حکمت اور بے تدبیر نہیں بنایا۔ تو (سب کوتاہیوں اور مجبوریوں سے) پاک ہے، ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا لےo إِنَّ فِي اخْتِلاَفِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَمَا خَلَقَ اللّهُ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَتَّقُونَO (يونس، 10 : 6) بیشک رات اور دِن کے بدلتے رہنے میں اور اُن (جملہ) چیزوں میں جو اللہ نے آسمانوں اور زمین میں پیدا فرمائی ہیں اُن لوگوں کے لئے نشانیاں ہیں جو تقویٰ رکھتے ہیںo وَهُوَ الَّذِي مَدَّ الْأَرْضَ وَجَعَلَ فِيهَا رَوَاسِيَ وَأَنْهَارًا وَمِن كُلِّ الثَّمَرَاتِ جَعَلَ فِيهَا زَوْجَيْنِ اثْنَيْنِ يُغْشِي اللَّيْلَ النَّهَارَ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَO وَفِي الْأَرْضِ قِطَعٌ مُّتَجَاوِرَاتٌ وَجَنَّاتٌ مِّنْ أَعْنَابٍ وَزَرْعٌ وَنَخِيلٌ صِنْوَانٌ وَغَيْرُ صِنْوَانٍ يُسْقَى بِمَاءِ وَاحِدٍ وَنُفَضِّلُ بَعْضَهَا عَلَى بَعْضٍ فِي الْأُكُلِ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَعْقِلُونَO (الرعد، 13 : 3، 4) اور وُہی ہے جس نے (گولائی کے باوُجود) زمین کو پھیلایا اور اُس میں پہاڑ اور دریا بنائے اور ہر قسم کے پھلوں میں (بھی) اُس نے دو دو (جنسوں کے) جوڑے بنائے، (وُہی) رات سے دِن کو ڈھانک لیتا ہے، بیشک اِس میں تفکر کرنے والے کے لئے (بہت) نشانیاں ہیںo اور زمین میں (مختلف قسم کے) قطعات ہیں جو ایک دُوسرے کے قریب ہیں اور انگوروں کے باغات ہیں اور کھیتیاں ہیں اور کھجور کے درخت ہیں جھنڈدار اور بغیرجھنڈ کے، اُن (سب) کو ایک ہی پانی سے سیراب کیا جاتا ہے اور (اُس کے باوُجود) ہم ذائقہ میں بعض کو بعض پر فضیلت بخشتے ہیں۔ بیشک اِس میں عقلمندوں کے لئے (بڑی) نشانیاں ہیںo هُوَ الَّذِي أَنزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً لَّكُم مِّنْهُ شَرَابٌ وَمِنْهُ شَجَرٌ فِيهِ تُسِيمُونَO يُنبِتُ لَكُم بِهِ الزَّرْعَ وَالزَّيْتُونَ وَالنَّخِيلَ وَالْأَعْنَابَ وَمِن كُلِّ الثَّمَرَاتِ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَةً لِّقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَO (النحل، 16 : 10، 11) وُہی ہے جس نے تمہارے لئے آسمان کی جانب سے پانی اُتارا، اُس میں سے (کچھ) پینے کا ہے اور اُسی میں سے (کچھ) شجرکاری کا ہے (جس سے نباتات، سبزے اور چراگاہیں اُگتی ہیں) جن میں تم (اپنے مویشی) چراتے ہوo اُسی پانی سے تمہارے لئے کھیت اور زیتون اور کھجور اور انگور اور ہر قسم کے پھل (اور میوے) اُگاتا ہے۔ بیشک اِس میں غور و فکر کرنے والے لوگوں کے لئے نشانی ہےo أَوَلَمْ يَتَفَكَّرُوا فِي أَنفُسِهِمْ مَا خَلَقَ اللَّهُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا إِلَّا بِالْحَقِّ وَأَجَلٍ مُّسَمًّى. (الروم، 30 : 8) کیا اُنہوں نے اپنے دِل میں غور نہیں کیا کہ اللہ نے آسمانوں اور زمین اور جو کچھ اُن کے درمیان ہے سب کو (اپنی) مصلحت (اور حکمت) ہی سے ایک معینہ مدّت کے لئے (عارضی طور پر) پیدا فرمایا ہے۔ وَمِنْ آيَاتِهِ خَلْقُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافُ أَلْسِنَتِكُمْ وَأَلْوَانِكُمْ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ لِّلْعَالِمِينَO (الروم، 30 : 22) اور آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور تمہاری زبانوں اور تمہارے رنگوں کا اِختلاف اُس کی نشانیوں میں سے ہے۔ بیشک اِس میں علم رکھنے والوں کے لئے (حیرت انگیز اور مستند) نشانیاں ہیںo وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَمَا أَنزَلَ اللَّهُ مِنَ السَّمَاءِ مِن رِّزْقٍ فَأَحْيَا بِهِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَتَصْرِيفِ الرِّيَاحِ آيَاتٌ لِّقَوْمٍ يَعْقِلُونَO (الجاثيه، 45 : 5) اور شب و روز کے یکے بعد دِیگرے آنے جانے میں اور اُس رزق میں جو اللہ آسمان سے اُتارتا ہے، پھر جس سے زمین کو مُردہ ہو جانے کے بعد زِندہ فرماتا ہے اور ہواؤں کے بدلنے میں عقل سے کام لینے والوں کے لئے (بڑی) نشانیاں ہیںo وَمَا مِن دَآبَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلاَ طَائِرٍ يَطِيرُ بِجَنَاحَيْهِ إِلاَّ أُمَمٌ أَمْثَالُكُم مَّا فَرَّطْنَا فِي الكِتَابِ مِن شَيْءٍ ثُمَّ إِلَى رَبِّهِمْ يُحْشَرُونَO (الانعام، 6 : 38) اور (اے اِنسانو!) کوئی بھی چلنے پھرنے والا (جانور) اور پرندہ جو اپنے دو بازوؤں سے اُڑتا ہو (ایسا) نہیں ہے مگر یہ کہ (بہت سی صفات میں) وہ سب تمہارے ہی مماثل طبقات ہیں۔ ہم نے کتاب میں کوئی چیز نہیں چھوڑی (جسے صراحۃً یا اِشارۃً بیان نہ کر دیا ہو)، پھر سب (لوگ) اپنے ربّ کے پاس جمع کئے جائیں گےo هُوَ الَّذِي جَعَلَ الشَّمْسَ ضِيَاءً وَالْقَمَرَ نُورًا وَقَدَّرَهُ مَنَازِلَ لِتَعْلَمُواْ عَدَدَ السِّنِينَ وَالْحِسَابَ مَا خَلَقَ اللّهُ ذَلِكَ إِلاَّ بِالْحَقِّ يُفَصِّلُ الْآيَاتِ لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَO (يونس، 10 : 5) وہی ہے جس نے سورج کو روشنی (کا منبع) بنایا اور چاند کو (اس سے) روشن (کیا) اور اس کے لئے (کم و بیش دکھائی دینے کی) منزلیں مقرر کیں تاکہ تم برسوں کا شمار اور (اوقات کا) حساب معلوم کر سکو، اور اللہ نے یہ (سب کچھ) نہیں پیدا فرمایا مگر درست تدبیر کے ساتھ، وہ (ان کائناتی حقیقتوں کے ذریعے اپنی خالقیت، وحدانیت اور قدرت کی) نشانیاں ان لوگوں کے لئے تفصیل سے واضح فرماتا ہے جو علم رکھتے ہیںo وَلَقَدْ خَلَقْنَا فَوْقَكُمْ سَبْعَ طَرَائِقَ وَمَا كُنَّا عَنِ الْخَلْقِ غَافِلِينَO (المؤمنون، 23 : 17) اور بیشک ہم نے تمہارے اُوپر (کرۂ ارضی کے گرد فضائے بسیط میں نظامِ کائنات کی حفاظت کے لئے) سات راستے (یعنی سات مقناطیسی پٹیاں یا میدان) بنائے ہیں اور ہم (کائنات کی) تخلیق (اور اُس کی حفاظت کے تقاضوں) سے بے خبر نہ تھےo قُلْ أَئِنَّكُمْ لَتَكْفُرُونَ بِالَّذِي خَلَقَ الْأَرْضَ فِي يَوْمَيْنِ وَتَجْعَلُونَ لَهُ أَندَادًا ذَلِكَ رَبُّ الْعَالَمِينَO وَجَعَلَ فِيهَا رَوَاسِيَ مِن فَوْقِهَا وَبَارَكَ فِيهَا وَقَدَّرَ فِيهَا أَقْوَاتَهَا فِي أَرْبَعَةِ أَيَّامٍ سَوَاءً لِّلسَّائِلِينَO ثُمَّ اسْتَوَى إِلَى السَّمَاءِ وَهِيَ دُخَانٌ فَقَالَ لَهَا وَلِلْأَرْضِ اِئْتِيَا طَوْعًا أَوْ كَرْهًا قَالَتَا أَتَيْنَا طَائِعِينَO فَقَضَاهُنَّ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ فِي يَوْمَيْنِ وَأَوْحَى فِي كُلِّ سَمَاءٍ أَمْرَهَا وَزَيَّنَّا السَّمَاءَ الدُّنْيَا بِمَصَابِيحَ وَحِفْظًا ذَلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِO (حم السجده، 41 : 9 - 12) آپ (ذرا اُن سے) پوچھئے : کیا تم لوگ اُس (کی ذات) سے منکر ہو جس نے دو اَدوار میں زمین بنائی اور تم اُس کے (ساتھ دُوسروں کو) ہمسر ٹھہراتے ہو؟ (یاد رکھو کہ) وُہی تمام جہانوں کا پروردگار ہےo اور اُس نے اِس (زمین) میں اُوپر سے بھاری پہاڑ رکھے اور اِس (زمین) کے اندر بڑی برکت رکھی (قسم قسم کی کانیں اور نشوونما کی قوّتیں) اور اِس میں (اپنی مخلوق کے لئے) سامانِ معیشت مقرر کیا (یہ سب کچھ اُس نے) چار اَدوارِ (تخلیق) میں (پیدا کیا) جو تمام طلبگاروں کے لئے یکساں ہےo پھر (اللہ) آسمان کی طرف متوجہ ہوا کہ وہ (اُس وقت) دُھواں (سا) تھا۔ پھر اُسے اور زمین کو حکم دیا کہ تم دونوں (میری قدرت کے قوانین کے تابع ہو کر) آؤ، خواہ تم اِس پر خوش ہو یا ناخوش۔ اُن دونوں نے کہا ہم خوشی سے حاضر ہیںo پھر دو مراحل میں سات آسمان بنا دیئے اور ہر آسمان کے اَحکام اُس میں بھیج دیئے اور ہم نے آسمانِ دُنیا کو چراغوں (یعنی ستاروں) سے رونق بخشی اور اُسے محفوظ (بھی) کر دیا۔ یہ اِنتظام ہے زبردست (اور) علم والے (پروردگار) کاo الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ طِبَاقًا مَّا تَرَى فِي خَلْقِ الرَّحْمَنِ مِن تَفَاوُتٍ فَارْجِعِ الْبَصَرَ هَلْ تَرَى مِن فُطُورٍO ثُمَّ ارْجِعِ الْبَصَرَ كَرَّتَيْنِ يَنقَلِبْ إِلَيْكَ الْبَصَرُ خَاسِأً وَهُوَ حَسِيرٌO (الملک، 67 : 3، 4) اُسی نے اُوپر تلے سات آسمان بنائے، تو رحمن کی کاریگری میں کوئی فرق نہ دیکھے گا۔ ذرا دوبارہ آنکھ اُٹھا کر دیکھ، کیا تجھے کہیں کوئی خلل نظر آتا ہے؟o (ہاں) پھر بار بار آنکھ اُٹھا کر دیکھ (ہربار) تیری نگاہ تھک کر ناکام لوٹے گیo وَانشَقَّتِ السَّمَاءُ فَهِيَ يَوْمَئِذٍ وَاهِيَةٌO (الحاقه، 69 : 16) اور آسمان پھٹ جائے گا، پھر اُس دِن وہ بالکل بودا (بے حقیقت) ہو جائے گاo أَلَمْ تَرَوْا كَيْفَ خَلَقَ اللَّهُ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ طِبَاقًاO (نوح، 71 : 15) کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے کس طرح سات آسمان تہ بہ تہ بنائے ہیں؟o الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ بِحُسْبَانٍO (الرحمن، 55 : 5) سورج اور چاند ایک مقرر حساب کے پابند ہیںo خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِالْحَقِّ تَعَالَى عَمَّا يُشْرِكُونَO (النحل، 16 : 3) اُسی نے آسمان اور زمین کو درُست تدبیر کے ساتھ پیدا فرمایا، وہ اُن چیزوں سے برتر ہے جنہیں کفار (اُس کا) شریک گردانتے ہیںo إِنَّ اللّهَ فَالِقُ الْحَبِّ وَالنَّوَى يُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَمُخْرِجُ الْمَيِّتِ مِنَ الْحَيِّ ذَلِكُمُ اللّهُ فَأَنَّى تُؤْفَكُونَO فَالِقُ الْإِصْبَاحِ وَجَعَلَ اللَّيْلَ سَكَنًا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ حُسْبَانًا ذَلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِO (الانعام، 6 : 95، 96) بیشک اللہ دانے اور گھٹلی کو پھاڑ نکالنے والا ہے، وہ مُردہ سے زِندہ کو پیدا فرماتا ہے اور زِندہ سے مُردہ کو نکالنے والا ہے، یہی (شان والا) تو اللہ ہے، پھر تم کہاں بہکے پھرتے ہو؟o (وُہی) صبح (کی روشنی) کو رات کا اندھیرا چاک کر کے نکالنے والا ہے اور اُسی نے رات کو آرام کے لئے بنایا ہے اور سورج اور چاند کو حساب و شمار کے لئے، یہ بہت غالب بڑے علم والے (ربّ) کا مقررہ اَندازہ ہےo وَهُوَ الَّذِيَ أَنشَأَكُم مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ فَمُسْتَقَرٌّ وَمُسْتَوْدَعٌ قَدْ فَصَّلْنَا الْآيَاتِ لِقَوْمٍ يَفْقَهُونَO وَهُوَ الَّذِيَ أَنزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَأَخْرَجْنَا بِهِ نَبَاتَ كُلِّ شَيْءٍ فَأَخْرَجْنَا مِنْهُ خَضِرًا نُّخْرِجُ مِنْهُ حَبًّا مُّتَرَاكِبًا وَمِنَ النَّخْلِ مِن طَلْعِهَا قِنْوَانٌ دَانِيَةٌ وَجَنَّاتٍ مِّنْ أَعْنَابٍ وَالزَّيْتُونَ وَالرُّمَّانَ مُشْتَبِهًا وَغَيْرَ مُتَشَابِهٍ انظُرُواْ إِلِى ثَمَرِهِ إِذَا أَثْمَرَ وَيَنْعِهِ إِنَّ فِي ذَلِكُمْ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يُؤْمِنُونَO (الانعام، 6 : 98، 99) اور وُہی (اللہ) ہے جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا فرمایا ہے، پھر (تمہارے لئے) ایک جائے اِقامت (ہے) اور ایک جائے اِمانت۔ بیشک ہم نے سمجھنے والے لوگوں کے لئے (اپنی قدرت کی) نشانیاں کھول کر بیان کر دی ہیںo اور وُہی ہے جس نے آسمان کی طرف سے پانی اُتارا، پھر ہم نے اُس (بارش) سے ہر قسم کی پیوستہ دانے نکالتے ہیں اور کھجور کے گابھے سے لٹکتے ہوئے گچھے اور انگوروں کے باغات اور زیتون اور اَنار (بھی پیدا کئے جو کئی اِعتبارات سے) آپس میں ایک جیسے (لگتے) ہیں اور (پھل، ذائقے اور تاثیرات) جداگانہ ہیں۔ تم درخت کے پھل کی طرف دیکھو جب وہ پھل لائے اور اُس کے پکنے کو (بھی دیکھو)۔ بیشک اِن میں اِیمان رکھنے والے لوگوں کے لئے نشانیاں ہیںo وَهُوَ الَّذِي خَلَق السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ. (هود، 11 : 7) اور وُہی (اللہ) ہے جس نے آسمانوں اور زمین (کی بالائی اور زیریں کائناتوں) کو چھ روز (یعنی تخلیق و اِرتقاء کے چھ اَدوار و مراحل) میں پیدا فرمایا۔ اللّهُ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَأَنزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَأَخْرَجَ بِهِ مِنَ الثَّمَرَاتِ رِزْقًا لَّكُمْ وَسَخَّرَ لَكُمُ الْفُلْكَ لِتَجْرِيَ فِي الْبَحْرِ بِأَمْرِهِ وَسَخَّرَ لَكُمُ الْأَنْهَارَO (اِبراهيم، 14 : 32) اللہ وہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا فرمایا اور آسمان کی جانب سے پانی اُتارا پھر اُس پانی کے ذریعہ سے تمہارے رِزق کے طور پر پھل پیدا کئے اور اُس نے تمہارے لئے کشتیوں کو مسخر کر دِیا تاکہ اُس کے حکم سے سمندر میں چلتی رہیں اور اُس نے تمہارے لئے دریاؤں کو (بھی) مسخر کر دیاo وَسَخَّر لَكُمُ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ دَآئِبَينَ وَسَخَّرَ لَكُمُ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَO (اِبراهيم، 14 : 33) اور اُس نے تمہارے (فائدے) کے لئے سورج اور چاند کو (باقاعدہ ایک نظام کا) مطیع بنا دیا جو ہمیشہ (اپنے اپنے مدار میں) گردِش کرتے رہتے ہیں اور تمہارے (نظامِ حیات کے) لئے رات اور دِن کو بھی (ایک) نظام کے تابع کر دِیاo وَسَخَّرَ لَكُمُ اللَّيْلَ وَالْنَّهَارَ وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ وَالْنُّجُومُ مُسَخَّرَاتٌ بِأَمْرِهِ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَعْقِلُونَO (النحل، 16 : 12) اور اُسی نے تمہارے لئے رات اور دِن کو اور سورج اور چاند کو مسخر کر دیا ہے، اور تمام ستارے بھی اُسی کی تدبیر (سے نظام) کے پابند ہیں۔ بیشک اِس میں عقل رکھنے والوں کے لئے نشانیاں ہیںo وَهُوَ الَّذِي سَخَّرَ الْبَحْرَ لِتَأْكُلُواْ مِنْهُ لَحْمًا طَرِيًّا وَتَسْتَخْرِجُواْ مِنْهُ حِلْيَةً تَلْبَسُونَهَا وَتَرَى الْفُلْكَ مَوَاخِرَ فِيهِ وَلِتَبْتَغُواْ مِن فَضْلِهِ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَO (النحل، 16 : 14) اور وُہی ہے جس نے (فضا و بر کے علاوہ) بحر (یعنی دریاؤں اور سمندروں) کو بھی مسخر فرما دِیا تاکہ تم اُس میں سے تازہ (و پسندیدہ) گوشت کھاؤ اور تم اُس میں سے موتی (وغیرہ) نکالو جنہیں تم زیبائش کے لئے پہنتے ہو اور (اَے اِنسان!) تو کشتیوں (اور جہازوں) کو دیکھتا ہے جو (دریاؤں اور سمندروں کا) پانی چیرتے ہوئے اُس میں چلے جاتے ہیں اور (یہ سب کچھ اِس لئے کیا) تاکہ تم (دُور دُور تک) اُس کا فضل (یعنی رِزق) تلاش کرو اور یہ کہ تم شکرگزار بن جاؤo وَأَلْقَى فِي الْأَرْضِ رَوَاسِيَ أَن تَمِيدَ بِكُمْ وَأَنْهَارًا وَسُبُلاً لَّعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَO وَعَلامَاتٍ وَبِالنَّجْمِ هُمْ يَهْتَدُونَO (النحل، 16 : 15، 16) اور اُسی نے زمین میں (مختلف مادّوں کو) باہم ملا کر بھاری پہاڑ بنا دیئے مبادا وہ (زمین اپنے مدار میں) حرکت کرتے ہوئے تمہیں لے کر کانپنے لگے اور نہریں اور (قدرتی) راستے (بھی) بنائے تاکہ تم (منزلوں تک پہنچنے کے لئے) راہ پا سکوo اور (دِن کو راہ تلاش کرنے کے لئے) علامتیں بنائیں اور (رات کو) لوگ ستاروں کے ذریعہ (بھی) راہ پاتے ہیںo أَوَلَمْ يَرَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنَّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ كَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنَاهُمَا وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍّ أَفَلَا يُؤْمِنُونَO وَجَعَلْنَا فِي الْأَرْضِ رَوَاسِيَ أَن تَمِيدَ بِهِمْ وَجَعَلْنَا فِيهَا فِجَاجًا سُبُلًا لَّعَلَّهُمْ يَهْتَدُونَO وَجَعَلْنَا السَّمَاءَ سَقْفًا مَّحْفُوظًا وَهُمْ عَنْ آيَاتِهَا مُعْرِضُونَO وَهُوَ الَّذِي خَلَقَ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ كُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَO (الانبياء، 21 : 30 - 33) اور کیا کافر لوگوں نے نہیں دیکھا کہ جملہ آسمانی کائنات اور زمین (سب) ایک اِکائی کی شکل میں جڑے ہوئے تھے، پس ہم نے اُنہیں پھاڑ کر جدا کر دِیا، اور ہم نے (زمین پر) ہر زندہ چیز (کی زِندگی) کی نمود پانی سے کی، تو کیا وہ (اِن حقائق سے آگاہ ہو کر اَب بھی) اِیمان نہیں لاتے!o اور ہم نے زمین میں مضبوط پہاڑ بنا دیئے مبادا وہ (زمین اپنے مدار میں) حرکت کرتے ہوئے اُنہیں لے کر کانپنے لگے اور ہم نے اُس (زمین) میں کشادہ راستے بنائے تاکہ لوگ (مختلف منزلوں تک پہچنے کے لئے) راہ پا سکیںo اور ہم نے سماء (یعنی زمین کے بالائی کرّوں) کو محفوظ چھت بنایا (تاکہ اہلِ زمین کو خلا سے آنے والی مہلک قوّتوں اور جارِحانہ لہروں کے مضر اَثرات سے بچائیں) اور وہ اُن (سماوِی طبقات کی) نشانیوں سے رُوگرداں ہیںo اور وُہی (اللہ) ہے جس نے رات اور دِن کو پیدا کیا اور سورج اور چاند کو (بھی)، تمام (آسمانی کرّے) اپنے اپنے مدار کے اندر تیزی سے تیرتے چلے جاتے ہیںo الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ. (الفرقان، 25 : 59) جس نے آسمانی کرّوں اور زمین کو اور اُس (کائنات) کو جو اُن دونوں کے درمیان ہے چھ اَدوارِ (تخلیق) میں پیدا فرمایا۔ تَبَارَكَ الَّذِي جَعَلَ فِي السَّمَاءِ بُرُوجًا وَجَعَلَ فِيهَا سِرَاجًا وَقَمَرًا مُّنِيرًاO وَهُوَ الَّذِي جَعَلَ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ خِلْفَةً لِّمَنْ أَرَادَ أَن يَذَّكَّرَ أَوْ أَرَادَ شُكُورًاO (الفرقان، 25 : 61، 62) وُہی بڑی برکت و عظمت والا ہے جس نے آسمانی کائنات میں (کہکشاؤں کی شکل میں) سماوِی کرّوں کی وسیع منزلیں بنائیں اور اُس میں (سورج کو روشنی اور تپش دینے والا) چراغ بنایا اور (اُس نظامِ شمسی کے اندر) چمکنے والا چاند بنایاo اور وُہی ذات ہے جس نے رات اور دِن کو ایک دُوسرے کے پیچھے گردِش کرنے والا بنایا، اُس کے لئے جو غور و فکر کرنا چاہے یا شکرگزاری کا اِرادہ رکھے (اِن تخلیقی قدرتوں میں نصیحت و ہدایت ہے)o قُلْ سِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَانظُرُوا كَيْفَ بَدَأَ الْخَلْقَ ثُمَّ اللَّهُ يُنشِئُ النَّشْأَةَ الْآخِرَةَ إِنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌO (العنکبوت، 29 : 20) فرما دیجئے : تم زمین میں (کائناتی زندگی کے مطالعہ کے لئے) چلو پھرو، پھر دیکھو (یعنی غور و تحقیق کرو) کہ اُس نے مخلوق کی (زندگی کی) اِبتداء کیسے فرمائی، پھر وہ دُوسری زندگی کو کس طرح اُٹھا کر (اِرتقاء کے مراحل سے گزارتا ہوا) نشوونما دیتا ہے، بیشک اﷲ ہر شے پر بڑی قدرت والا ہےo خَلَقَ اللَّهُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِالْحَقِّ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَةً لِّلْمُؤْمِنِينَO (العنکبوت، 29 : 44) اﷲ نے آسمانوں اور زمین کو درُست تدبیر کے ساتھ پیدا فرمایا ہے۔ بیشک اِس (تخلیق) میں اہلِ ایمان کے لئے (اُس کی وحدانیت اور قدرت کی) نشانی ہےo لَا الشَّمْسُ يَنبَغِي لَهَا أَن تُدْرِكَ الْقَمَرَ وَلَا اللَّيْلُ سَابِقُ النَّهَارِ وَكُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَO (يسين، 36 : 40) نہ آفتاب کی یہ مجال ہے کہ چاند کو جا پکڑے اور نہ رات دِن سے پہلے آ سکتی ہے اور سب (سیارے) اپنے اپنے مدار میں تیر رہے ہیںo وَمِنْ آيَاتِهِ يُرِيكُمُ الْبَرْقَ خَوْفًا وَطَمَعًا وَيُنَزِّلُ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَيُحْيِي بِهِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَعْقِلُونَO (الروم، 30 : 24) اور اُس کی نشانیوں میں سے (ایک یہ بھی) ہے کہ وہ تمہیں خوفزدہ کرنے اور اُمید دِلانے کے لئے بجلیاں دِکھاتا ہے اور بادلوں سے بارش برساتا ہے اور اُس سے مُردہ زمین کو زِندہ کر دیتا ہے، اس میں عقل والوں کے لئے بہت سی نشانیاں ہیںo اللَّهُ الَّذِي يُرْسِلُ الرِّيَاحَ فَتُثِيرُ سَحَابًا فَيَبْسُطُهُ فِي السَّمَاءِ كَيْفَ يَشَاءُ وَيَجْعَلُهُ كِسَفًا فَتَرَى الْوَدْقَ يَخْرُجُ مِنْ خِلَالِهِ فَإِذَا أَصَابَ بِهِ مَن يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ إِذَا هُمْ يَسْتَبْشِرُونَO (الروم، 30 : 48) اللہ ہی تو ہے جو ہواؤں کو بھیجتا ہے تو وہ بادلوں کو اُٹھاتی ہیں، پھر وہ جس طرح چاہتا ہے اُسے آسمان میں پھیلا دیتا ہے اور اُسے تہ بہ تہ کر دیتا ہے پھر تم اُس کے اندر سے بارش کو نکلتے دیکھتے ہو، پھر جب (اُس بارش کو) اپنے بندوں میں سے جنہیں چاہتا ہے اُن (کی آبادی) کو پہنچاتا ہے تو وہ خوشیاں منانے لگتے ہیںo فَانظُرْ إِلَى آثَارِ رَحْمَتِ اللَّهِ كَيْفَ يُحْيِي الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا إِنَّ ذَلِكَ لَمُحْيِي الْمَوْتَى وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌO (الروم، 30 : 50) بیشک وُہی مُردوں کو بھی زِندہ کرنے والا ہے اور وہ سب کچھ کر سکتا ہےo إِنَّمَا أَمْرُهُ إِذَا أَرَادَ شَيْئًا أَنْ يَقُولَ لَهُ كُنْ فَيَكُونُO (يٰسين، 36 : 82) اُس کی شان یہ ہے کہ جب وہ کسی چیز (کو پیدا کرنے) کا اِرادہ فرماتا ہے تو اُس سے کہتا ہے کہ ہو جا! پس وہ ہو جاتی ہےo يَخْلُقُكُمْ فِي بُطُونِ أُمَّهَاتِكُمْ خَلْقًا مِن بَعْدِ خَلْقٍ فِي ظُلُمَاتٍ ثَلَاثٍ. (الزمر، 39 : 6) وہ تمہیں تمہاری ماؤں کے بطنوں میں تین تاریک پردوں میں (بتدرِیج) ایک حالت کے بعد دُوسری حالت میں بناتا ہےo وَالسَّمَاءَ بَنَيْنَاهَا بِأَيْدٍ وَإِنَّا لَمُوسِعُونَO (الذاريات، 51 : 47) اور ہم نے سماوِی کائنات کو اپنے دستِ قدرت سے بنایا اور ہم ہی (کائنات کو) وسیع سے وسیع تر کرنے والے ہیںo أَأَنتُمْ أَشَدُّ خَلْقًا أَمِ السَّمَاءُ بَنَاهَاO رَفَعَ سَمْكَهَا فَسَوَّاهَاO وَأَغْطَشَ لَيْلَهَا وَأَخْرَجَ ضُحَاهَاO وَالْأَرْضَ بَعْدَ ذَلِكَ دَحَاهَاO أَخْرَجَ مِنْهَا مَاءَهَا وَمَرْعَاهَاO وَالْجِبَالَ أَرْسَاهَاO مَتَاعًا لَّكُمْ وَلِأَنْعَامِكُمْO (النازعات، 79 : 27 - 33) کیا تمہارا پیدا کرنا زیادہ مشکل ہے یا (پوری) سماوِی کائنات کا، جسے اُس نے بنایا؟o اُس نے آسمان کے تمام کرّوں(ستاروں) کو (فصائے بسیط میں پیدا کر کے) بلند کیاo پھر اُن (کی ترکیب و تشکیل اور اَفعال و حرکات) میں اِعتدال، توازن اور اِستحکام پیدا کر دیاo اور اُسی نے آسمانی خلا کی رات کو (یعنی سارے خلائی ماحول کو مثلِ شب) تارِیک بنایا اور (اُس خلا سے) اُن (ستاروں) کی روشنی (پیدا کر کے) نکالیo اور اُسی نے زمین کو اُس (ستارے سورج کے وُجود میں آ جانے) کے بعد (اُس سے) الگ کر کے زور سے پھینک دِیاo اُسی نے زمین میں سے اُس کا پانی (الگ) نکال لیا اور (بقیہ خشک قطعات میں) اُس کی نباتات نکالیںo اور اُسی نے (بعض مادّوں کو باہم ملا کر) زمین سے محکم پہاڑوں کو اُبھار دیاo (یہ سب کچھ) تمہارے اور تمہارے چوپایوں کے فائدہ کے لئے (کیا)o الَّذِي خَلَقَ فَسَوَّىO وَالَّذِي قَدَّرَ فَهَدَىO وَالَّذِي أَخْرَجَ الْمَرْعَىO فَجَعَلَهُ غُثَاءً أَحْوَىO (الاعلی، 87 : 2 - 5) جس نے (کائنات کی ہر چیز کو) پیدا کیا، پھر اُسے (جملہ تقاضوں کی تکمیل کے ساتھ) درُست توازُن دِیاo اور جس نے (ہر ہر چیز کے لئے) قانون مقرر کیا، پھر (اُسے اپنے اپنے نظام کے مطابق رہنے اور چلنے کا) راستہ بتایاo اور جس نے (زمین سے) چارہ نکالاo پھر اُسے سیاہی مائل خشک کر دیاo

جدید انسانی مسائل اور سیرت رسول ص

2017-07-27 06:04:39 

جدید اِنسانی مسائل کے تناظر میں سیرۃُ الرسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مطالعہ سیرت الرسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عصری اور بین الاقوامی اہمیت کا دوسرا پہلو جدید انسانی مسائل کے حوالے سے اجاگر ہوتا ہے۔ آج انسانیت عالمی سطح پر کئی پیچیدہ مسائل میں گھری ہوئی ہے، اقوام متحدہ (UNO) سے لے کر ہر ملک کی غیر سرکاری سماجی تنظیمات (NGOs) تک ان انسانی مسائل کے حل کے لئے پریشان ہیں۔ مگر یہ حقیقت تقویتِ ایمان کا باعث ہے جو عالمی انسانی مسائل موجودہ دور میں پریشانی کا باعث بن رہے ہیں سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قرآن و سنت کی تعلیمات اور اسوہ حسنہ کی صورت میں ان کا حل چودہ صدیاں قبل ہی عطا فرما دیا تھا۔ اب ہماری ذمہ داری ان عصری مسائل کا حل تلاش کرنا نہیں بلکہ بارگاہ مصطفوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ملنے والے حل کو نافذ اور رُو بہ عمل کرنا ہے۔ آج بین الاقوامی سطح پر پریشان کن اہم انسانی مسائل میں سے چند ایک درج ذیل ہیں : 1۔ آفاقی اَقدارکا قیام (Establishing Universal Values) آج کے دور کا یہ المیہ ہے کہ بین الاقوامی تعلقات اور سیاسی روابط کی بنیاد ان اقدار پر رکھ دی گئی جو مقامی اور محدود مفادات ہی کی حفاظت کرنے والی ہیں۔ اسلام اپنے مزاج کے لحاظ سے محدود اور مقامی مفادات کا تحفظ کرنے والی اقدار کی بجائے آفاقی اور انسانی اقدار کا امین نظام حیات ہے۔ اس حقیقت کا اعتراف کرتے ہوئے ایک مغربی مفکر لکھتا ہے : Christianity and Islam -offer universal values to the community of mankind. When aliens are made in societies about 'cultural authenticity', they are most often made about religious totems.(1) ’’عیسائیت اور اسلام بنی نوع انسان کیلئے آفاقی اقدار پیش کرتے ہیں۔ جب معاشرے میں اجنبی عناصر سے ثقافتی ثقاہت کا مطالبہ کیا جاتا ہے تو اکثر و بیشتر اس کا تعلق مذہبی نشانات سے ہوتا ہے۔‘‘ (1) Simon Murden, Culture in World Affairs in John Baylis & Steve Smith's The Globalization of World Politics, OUP, 2001, p. 457. فطری امر تو یہ تھا کہ آج ایک عادلانہ، منصفانہ اور انسانیت نواز عالمی نظام کا قیام اسلام ہی کا منصب ہوتا جیسے کہ اسلام کے غلبہ کاابتدائی دور میں رہا۔ لیکن اسلام کے اپنے اس فطری منصب سے انحراف کا نتیجہ یہ ہے کہ عالمی نظام کی تشکیل ان اقوام و ملل کے ہاتھوں میں چلی گئی جو آج تک نسلی، لسانی اور جغرافیائی بندہنوں سے آزاد نہیں ہو سکی۔ اس امر کا اظہار آج کے مغربی سیاسی مفکرین کی تحریروں سے بھی ہوتا ہے۔ A universal civilization, Huntington argues, is purely a Western dream; civilizations have been maintaining and even reinforcing their distinctions throughout the late 20th century However, if civilizations do adapt to meet new conditions, especially material conditions, as the modern view might suggest and if life within the world's major civilizations is gradually encountering similar, if not identical, material conditions, then those civilizations should tend to converge, at least to some degree, in the face of those similar challenges.(1) ’’ہنٹنگٹن کے مطابق عالمی تہذیب خالصتاً مغربی خواب ہے۔ پوری بیسویں صدی کے دوران تہذیبیں اپنے امتیازات کو قائم رکھنے اور انہیں نافذ کرنے کے لیے جدوجہد کرتی رہیں۔ تاہم اگر تہذیبیں نئے حالات کو اختیار کر لیں، خصوصاً مادی صورتحال کو جیسا کہ جدید نکتہ نظر تجویز کرے گا اور اگر دنیا کی بڑی تہذیبوں میں زندگی بتدریج اس طرح کی گو غیر مماثل مادی صورتحال کا سامنا کرے تو ان تہذیبوں کو کم از کم اس درجے تک ان ایک جیسے چیلنجز کا سامنا کرنے کیلئے اکٹھا ہو جانا چاہیے۔‘‘ (1) Christian Stracke; The Clash of Civilizations and the Remaking of the World Order, Journal of International Affairs, Vol. 51, 1997. یہی وجہ ہے کہ مغرب کے تصادم پر مبنی سیاسی فلسفے کا اثر ان اقوام کے فکر وعمل میں بڑا واضح نظر آتا ہے۔ مثلا یورپ کے سیاسی طرز فکرو عمل کو متعین کرنے میں کئی حوالوں سے سیموئل ہنٹٹنگٹن کی فکر نے کلیدی کردار ادا کیا : Huntington's focus upon an Islamic threat to the EU paralleled the approach of European strategists. His explicit identification of a "danger" to the Union from outside and from inside was not an approach that senior EU figures pursued publicly : it did however complement the position taken by populist politicians and by organizations of the extreme Right.(1) ’’ہنٹٹنگٹن کا اسلامی دنیا کو یورپی یونین کے لیے خطرہ قرار دینا یورپی حکمت عملی کے متوازی رہا۔ یورپی یونین کے لیے اندرون اور بیرون کی طرف سے خطرے کی اس واضح نشاندہی ایسا نقطہ نظر نہ تھا جسے پوری یونین کی اعلیٰ شخصیات قبول اور اختیار کر لیتیں۔ تاہم اس مؤقف کو اتنی تقویت ضرورملی کہ اسے انتہائی دائیں بازو کے عوامی سیاستدانوں، تنظیموں نے اختیار کیا۔‘‘ (1) Philip Marfleet, The "Clash" Thesis : War and Ethnic Boundaries in Europe, Arab Studies Quarterly, vol. 25, 2003. جبکہ آج کے عالمی سیاسی منظر نامہ اس امر کا متقاضی ہے کہ بین الاقوامی تعلقات کی بنیاد ایسے اقدار پر رکھی جائے جو بقائے باہمی کی ضامن ہوں۔ اس تقاضے کی اہمیت کو بیان کرتے ہوئے ایک مغربی مفکر لکھتا ہے : For the furtherance of peace in this world and the reception of human rights into all cultures, these difficult questions should be discussed in a dialogical way, that is, openly with mutual understanding, reciprocal witnessing and critical questioning. In such a dialogue western individualism will be subject to correction.(1) ’’دنیا میں امن کے فروغ اور تمام ثقافتوں میں انسانی حقوق کے فروغ کے لئے ان مشکل سوالات کو مکالماتی طور پر زیر بحث لانے کی ضرورت ہے یعنی وسیع طور پر باہمی افہام و تفہیم، باہمی شہادتوں اور تنقیدی سوالات کے ذریعے۔ ایک ایسے مکالمے میں انجام کار مغربی تصور فرد کو اپنی تصحیح کرنا ہوگی۔‘‘ (1) Abd Allah Ahmad Na'im, Human Rights and religious Values, p. vii. یہ تصور کہ دنیا کا موجودہ عالمی نظام جس فکر پر مبنی ہے وہ کئی حوالوں سے محل نظر ہے آج مغرب کے سلیم الفکر مفکرین میں عام ہو رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سیموئل ہنٹٹنگٹن کا پیش کردہ نظریہ تنقید کا نشانہ بھی بن رہا ہے : Even Huntington's most ardent admirers have viewed the thesis in this light : Robert Kaplan, for example, sees it as an analysis of American security needs set "in the most tragic, pessimistic terms.(2) ’’ہنٹنگٹن کے بہت پر جوش مداح بھی اس کے نظریئے کو تنقید کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ مثلاً رابرٹ کیپلین، اسے امریکی تحفظ کا ایسا تجزیہ قرار دیتا ہے جو بہت ہی المیاتی اور مایوس کن انداز سے کیا گیا ہے۔‘‘ (2) Philip Marfleet; The "Clash" Thesis : War and Ethnic Boundaries in Europe, Arab Studies Quarterly, Vol. 25, 2003. اندریں حالات انسانیت کو آفاقی اقدار پر مبنی نظام کی احتیاج صرف حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عطا کردہ تعلیمات پر مبنی نظام ہی پوری کر سکتا ہے۔ جس کا سب سے بڑا ثبوت حقوق انسانی کا ہمہ گیر چارٹر خطبہ حجۃ الوداع ہے۔ 2۔ تصادم کی بجائے مکالمے کی ضرورت (Preferring Dailogue on Clash) آج کی جدید سیاسی فکر نے بین الاقوامی تعلقات اور بین الملل روابط ثقافت کو قرار دیا ہے۔ ہر قوم کی اپنی نمایاں اور انفرادی ثقافتی شناخت ہوتی ہے لحاظہ جہاں کہیں ثقافتی اقدارمیں اختلاف و تضاد واقع ہو گا، ثقافتی شناخت کو ترجیح دینے کے ناطے یہ تصادم پر منتج ہو گا۔ ثقافت کے اس کردار کا ذکر کرتے ہوئے ایک مغربی مصنف لکھتا ہے : Toynbee's influence on Huntington is clear throughout his treatment of what civilizations are and why they are important. Civilizations, Huntington explains, are broad cultural entities that unite individuals around common mores, traditions and institutions. As such, they are "the most enduring of human associations," and are therefore the foundations of long-term historical continuity Because civilizations are, after blood and tribe, the most important factors binding individuals together into potential political identities, they are naturally the most important actors in the field of global politics.(1) ’’تہذیبوں کی نوعیت اور ان کی اہمیت بیان کر نے کے پورے عمل کے دوران ہنٹٹنگٹن پر ٹوائن بی کا اثر بڑا واضح ہے۔ ہنٹٹنگٹن کی وضاحت کے مطابق تہذیبیں وسیع ثقافتی حقیقتیں ہیں جو افراد کو مشترک سماجی اقدار، طور طریقوں، روایات اور اداروں پر متحد کرتی ہیں۔ اس طرح سے یہ انسانی ہم آہنگی اور وابستگی کی دیرپا بنیادیں ہیں اور اس لئے یہ طویل المیعاد تاریخی تسلسل کی بنیاد بھی ہیں ۔چونکہ تہذیبیں خون اور قبیلے کے رشتے کے بعد افراد کو مخفی سیاسی شناخت میں منسلک کرنے کرنے والی سب سے موثر ترین عوامل ہیں، سو قدرتی طور پر یہ عالمی سیاست کے میدان میں بہت ہی اہم عوامل ہیں۔‘‘ (1) Christian Stracke, The Clash of Civilizations and the Remaking of the World Order, Journal of International Affairs, vol. 51, 1997. تاریخی ارتقاء پر نظر رکھنے والے اہل علم سے یہ امر پوشیدہ نہیں کہ مغرب کا تصادم کا یہ تصور نیا نہیں بلکہ صدیوں پرانا ہے : The clash thesis is not novel. It draws upon a tradition that emerged in Europe at the birth of the nation-state and accompanied European expansion across the world. This was the idea that, notwithstanding the intense rivalry between such states, people of Europe held in common attributes superior to those of all other human beings. Expressed in the "civilizing" missions of specific states these gave meaning to colonialism and had the effect of complementing ideologies of nation which were of immense importance in cohering unstable domestic populations. The idea of a civilizing Europe was as important "at home" as it was abroad : it was indeed a "security" measure much like Huntington's defense of U.S. interests in the 1990s. Here "civilization" has an ideological function in the classical sense : it is part of a body of ideas which endorse relations of inequality and of domination of a majority of people by a small number of others.(1) ’’تصادم کا نظریہ کوئی نئی بات نہیں۔ اس کی بنیاد اس روایت پر ہے جو یورپ میں قومی سیاست کی ابتداء سے وجود میں آئی اور دنیا پر یورپی توسیع کے ساتھ بڑھتی گئی۔ یہ تصور یوں تھا کہ ان ریاستوں کے مابین شدید رقابت کے باوجود یورپ کے لوگوں نے بقیہ عالم انسانیت سے کچھ فائق خصوصیات اختیار کرلیں۔ کچھ خاص ریاستوں کے تہذیبی مشن کے اظہار کے مطابق انہوں نے نوآبادیت کو معنی دیا اور قوم کی تکمیل کرنے والے نظریات پر اس کا اثر ہوا جو کہ غیر مستقل مقامی آبادی کے باہمی ربط کے قیام میں نمایاں اہمیت کا حامل تھا۔ ایک تہذیب پذیر یورپ کا تصور جتنا اندرون ملک عام تھا اتنا بیرون ملک بھی۔ یہ بلاشبہ ایک طرح کا حفاظتی اقدام تھا جیسا کہ 1990ء کی دہائی میں ہنٹٹنگٹن نے امریکی مفادات کا دفاع کیا۔ یہاں کلاسیکل معنوں میں تہذیب کا ایک نظریاتی عمل ہے۔ یہ ان تصورات پر مشتمل ہے جو غیر مساویانہ تعلقات اور اکثریتی آبادی پر دوسری قوم کے چند لوگوں کے غلبے کی توثیق کرتے ہیں۔‘‘ (1) Philip Marfleet, The "Clash" Thesis : War and Ethnic Boundaries in Europe , Arab Studies Quarterly, vol. 25, 2003. ثقافتی شناخت کی بنیاد پر پیدا ہونے والے موجودہ عالمی تصادم کی جڑیں حصول بقا کو لاحق خوف میں موجود ہیں۔مغربی دنیا بزعم خویش اپنے ثقافتی نظام کیلئے اسلام کی ثقافتی اقدار کو ایک خطرہ تصور کرتی ہیں : For Huntington, the clash of civilizations was an historic development. The history of the international system had been essentially about the struggles between monarchs, nations, and ideologies within Western civilization. The end of the cold war inaugurated a new period, where non-Westerners were no longer the helpless recipients of Western power, but now counted amongst the movers of history. The rise of civilizational politics intersected four long-run processes at play in the international system : 1. The relative decline of the West. 2. The rise of the Asian economy and its associated 'cultural affirmation', with China poised to become the greatest power in human history. 3. A population explosion in the Muslim world, and the associated resurgence of Islam. 4. The impact of globalization, including the extra ordinary expansion of transnational flows of commerce, information, and people. The coincidence of these factors was forging a new international order.(1) ’’ہنٹٹنگٹن کے مطابق تہذیبوں کا تصادم ایک تاریخی عمل ہے۔ بین الاقوامی نظام کی تاریخ شہنشاہوں، قوموں اور مغربی تہذیب میں بھی نظریات کے مابین جدوجہد پر مشتمل ہے۔ سرد جنگ کے خاتمے نے ایک نئے دور کا آغاز کیا۔ جہاں غیر مغربی طاقتوں کے سامنے محض بے یارو مددگار اثر قبول کرنے والے ہی نہ تھے بلکہ اب وہ تاریخ کی حرکت کا حصہ بھی تھے۔ تہذیبی سیاست کے عروج نے بین الاقوامی نظام میں 4 طویل المیعاد رُو بہ عمل عوامل کو متاثر کیا : مقابلتاً مغرب کا زوال ایشائی معیشت کا عروج، اس کا چین کے ساتھ ثقافتی تعاون ہوتے ہوئے انسانی تاریخ کی عظیم ترین طاقت بننے کا امکان مسلم دنیا میں آبادی کا اضافہ اور اسلام کا عروج عالمگیریت کے اثرات جس میں بین الممالک تجارت، اطلاعات اور لوگوں کی غیر معمولی پھیلاؤ اور تبادلہ شامل ہیں۔ (1) Simon Murden, Sulture in World Affairs in John Baylis & Steve Smith's The Globalization of World Politics, OUP, 2001, p. 461-2. ان تمام عوامل کی بیک وقت موجودگی ایک نئے بین الاقوامی نظام کو تشکیل دے رہی ہے۔‘‘ اسی تصور کو دوسرے مقام پر یہ مفکر یوں بیاں کرتا ہے Huntington observed that Islam had particularly 'bloody borders', a situation that would continue until Muslim population growth slowed in the second or third decade of the twenty-first century. At the 'macro-level', a more general competition for capabilities and influence was evident, with the principal division between the 'West' and, to varying degrees, the 'Rest'. According to Huntington, the hegemony of the West was most contested by the two most forceful non-Western civilizations, the Sinic and Islamic. Resistance to the West was most evident over issues such as arms control and the promotion of Western political values. Western efforts to project their democracy and human rights were widely regarded as a form of non-imperialism.(1) ’’ہنٹنگٹن نے بیان کیا کہ اسلام بطور خاص خونی سرحدوں کا حامل ہے۔ یہ صورتحال جاری رہے گی تاوقتیکہ اکیسویں صدی کی دوسری یا تیسری دہائی میں مسلمانوں کی آبادی میں اضافہ کم نہ ہو جائے۔ بڑی سطح پر مغرب اور بقیہ دنیا کے درمیان واضح تقسیم کے ساتھ اہلیتوں اور اثر رسوخ کیلئے عمومی مقابلہ بڑا واضح ہے۔ ہنٹنگٹن کے مطابق مغرب کی برتری کو دو بہت ہی طاقتور غیر مغربی تہذیبوں یعنی چینی، اور اسلامی کے مقابلے کا سامنا ہے۔ مختلف مسائل مثلاً تخفیف اسلحہ اور مغرب کی سیاسی اقدار کے فروغ میں ان کی طرف سے مزاحمت بہت ہی نمایاں ہے۔‘‘ (1) Simon Murden, Sulture in World Affairs in John Baylis & Steve Smith's The Globalization of World Politics, OUP, 2001, p. 462. تاہم مغرب کاتہذیبی تصادم کا یہ تصور اپنے تاریخی پس منظر کے علاوہ ان مغالطوں کا مرہون منت بھی جس کا اس نظریے کو تشکیل دینے والے شکار ہیں : Huntington's anti-modern perspective, which rejects the dominant modern notion of history as progress and instead proposes history as continuity, is even more radically anti-modern considering his general treatment of civilizations as actors. Any truly modern, post-Wittgenstein understanding of civilization would necessarily include the concept of civilization as construct, which implies first the inherent artificiality of any civilization and second the constant potential for the innovation of civilizational content. Such a view of innovation within civilizations is perhaps best seen in a standard modern understanding of the history of Western civilization as a progressive fusion of classical, Christian and Enlightenment ideals, the latter being rooted in the past but in some important sense new and unprecedented. Under this modern conception, Western civilization, with all its internal divisions and constant innovational struggles, would have an extraordinarily difficult time trying to behave as a unitary actor.(1) ’’ہنٹٹنگٹن کا غیر جدید تناظر جو تاریخ کے ترقی پذیر ہونے کی جدید غالب تصور کی نفی کرتا ہے اور اس کے بجائے اسے ایک تسلسل قرار دیتا ہے۔ یہ تہذیب کو ایک عامل سمجھنے کے تصور سے بھی زیادہ جدیدیت مخالف تصور ہے۔ تہذیب کا کوئی بھی وٹگنسٹائن کے بعد کا جدید فہم تہذیب کے ساخت ہونے کے تصور پر مشتمل ہے۔ جو اولاً تہذیب کی اندرونی مصنوعیت اور ثانیاً تہذیب کے اختراع کی مستقل اہلیت پر مشتمل ہے۔ تہذیب میں اختراع کا ایسا تصور بہتر طور پر مغربی تہذیب کی تاریخ کے جدید فہم میں دیکھا جا سکتا ہے۔ جو کلاسیکل، عیسائی اور روشن خیالی کے تصورات کی ترقی پذیر آمیزش پر مشتمل ہے۔ جن میں سے آخر الذکر کی جڑیں تو ماضی میں ہیں لیکن کئی اہم حوالوں سے یہ نیا اور عدیم النظیر ہے۔ جدید تصورات کے مطابق مغربی تہذیب اپنی تمام تر اندرونی تقسیم اور مستقل اختراعی جدوجہد کے باعث ایک واحد عامل کے طور پر روبہ عمل ہونے کے لیے غیر معمولی مشکلات سے دو چار ہے۔‘‘ (1) Christian Stracke; The Clash of Civilizations and the Remaking of the World Order, Journal of International Affairs, vol. 51, 1997. اندریں حالات یہ اندازہ کرنا کوئی مشکل امر نہیں کہ اگر موجودہ عالمی حالات آگے بڑتے رہے تو اس عالمی تصادم کا انجام کیا ہو گا گویا آج انسانیت کو اپنی بقا کے لئے ایک ایسے عالمی نظام کی ضرورت ہے جس کی بنیاد تصادم کی بجائے مکالمہ ہو۔ اور یہ ضروت صرف اسلام پوری کر سکتا ہے جس نے پہلے دن سے تعالوا الی کلمۃ سواء بیننا وبینکم کا منشور عطا کر کے ایک وسیع بنیاد فراہم کر دی۔ 3۔ اِسلام کا بطور نظام حیات اِبلاغ (Presentation of Islam as Code of Life) انسانیت کے لئے دین حیات ہونے کے ناطے جس اعتماد کو ہونا چاہے تھا آج نہ صرف وہ اعتماد اہل اسلام کے ہاں مفقود ہے بلکہ دوسری تہذیبیں اس اعتماد سے سرشار نظر آتی ہیں : However, no civilization is completely distinct from the influence of others and in particular, all have been affected by the model culture and modernity pioneered in the west.(1) ’’تاہم کوئی تہذیب بھی مکمل طور پر الگ تھلگ اور دوسروں کے اثرات سے آزاد نہیں بلکہ سب اس مثالی کلچر اور جدیدیت سے متاثر ہیں جس کا آغاز مغرب نے کیا۔‘‘ (1) Simon Murden, Sulture in World Affairs in John Baylis & Steve Smith's The Globalization of World Politics, OUP, 2001, p. 458. یہی وجہ کہ اسلام کے بارے میں اظہار کرتے ہوئے مغربی مفکرین اسلام کو اپنی تنقید کا نشانہ بناتے ہیں تو ان کا اندازہ اپنی تہذیب کی برتری کو ظاہر کرتے ہوئے اسلام کی تحقیر کی حدوں کو چھونے لگتا ہے۔ فوکویاما (F. Fukuyama) اسلام کے تہذیبی کردار کے بارے میں اظہار کرتے ہوئے لکھتا ہے : Islam represented a systematic and coherent ideology. . . with its own code of morality and doctrine of political and social justice. The appeal of Islam [was] potentially universal; reaching out to all men as men. . . And Islam has indeed defeated liberal democracy in many parts of the Islamic world, posing a grave threat to liberal practices even in countries where it has not achieved political power directly. . . Despite the power demonstrated by Islam in its current revival, however, it remains the case that this religion has virtually no appeal outside those areas that were culturally Islamic to begin with. The days of Islam's cultural conquests, it would seem, are over. It can win back lapsed adherents, but has no resonance for the young people _Berlin, Tokyo, or Moscow. And while nearly a billion are culturally Islamic-one-fifth of the world's population-they cannot challenge liberal-democracy on its own territory on the level of ideas. Indeed, the Islamic world would seem more vulnerable to liberal ideas in the long run than the reverse. (1) ’’اسلام ایک منظم اور مربوط نظریۂ حیات ہے جس کا اپنا ضابطۂ اخلاق اور سیاسی اور سماجی انصاف کا نظام ہے۔ (ابتداً) اسلام کی مقبولیت آفاقی تھی جو عام انسانوں تک پہنچی۔ (دور جدید میں) بلا شبہ اسلام نے مسلم دنیا کے کئی حصوں میں آزاد خیال جمہوریت کو شکست دی اور اس سے یہ ان ممالک میں بھی آزاد خیال روش کے لیے خطرہ ثابت ہوا جہاں یہ براہ راست سیاسی قوت نہیں حاصل کر سکا۔ تاہم موجودہ احیائی جدوجہد کے دوران اسلام کی طرف سے قوت کے اظہار کے باوجود حقیقت یہی ہے کہ اس مذہب میں ان ممالک سے باہر جہاں اسلام ثقافتی طور پر شروع ہوا کوئی کشش نہیں۔ ایسے لگتا ہے کہ اسلام کی ثقافتی فتوحات کا زمانہ گزر چکا ہے یہ کچھ غلط فہمیوں کا شکار وابستہ افراد کا دل تو جیت سکتا ہے لیکن اس میں برلن، ٹوکیو اور ماسکو کے نوجوانوں کیلئے کوئی صدائے بازگشت موجود نہیں۔ دنیا میں ایک بلین یعنی دنیا کی آبادی کا پانچواں حصہ ثقافتی طور پر اسلامی ہوتے ہوئے بھی مسلمان لبرل جمہوریت کو اپنے علاقے میں بھی نظریات کی بنیاد پر چیلنج نہیں کر سکتے۔ بلا شبہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اسلامی دنیا لبرل تصورات کو شکست دینے کی بجائے ان کے سامنے عاجز اور ناتواں ثابت ہوتی چلی جائے گی۔‘‘ (1) Simon Murden, Sulture in World Affairs in John Baylis & Steve Smith's The Globalization of World Politics, OUP, 2001 p. 461. جب سے اسلام کے مطابق دوسری تہذیبوں کو فروغ اور غلبہ حاصل ہوا ہے اسلام کی تہذیبی حیثیت شکوک و شبہات اور اعتراضات کی زد میں ہے۔ اس کا بنیادی سبب افکار و تعلیمات اور بنیادی اقدر کا وہ فرق ہے جو اسلام اور دیگر تہذیبوں میں حائل ہے : In reality, the differences between civilizations ran deep : they were about man and God, man and woman, the individual and the state, and notions of rights, authority, obligation, and justice. Culture was about the basic perceptions of life that had been constructed over centuries.(1) ’’حقیقت میں تہذیبوں میں موجود اختلافات بہت گہرے ہیں۔ یہ انسان اور خدا، مرد اور عورت، فرد اور ریاست، تصورات اور حقوق، اختیار، اطاعت اور انصاف سے متعلق ہیں۔ کلچر زندگی کے ان بنیادی تصورات سے متعلق ہے جو صدیوں کے عمل کے بعد ظہور پذیر ہوئے۔‘‘ (1) Simon Murden, Sulture in World Affairs in John Baylis & Steve Smith's The Globalization of World Politics, OUP, 2001, p. 462. اسلام کو درپیش اس چیلنج کے پیش نظر اس امر کی ضروت ہے آج عصری تقاضوں کو مستحضر رکھتے ہوئے دلائل و براہین کے ساتھ اسلام کو بطور نظام حیات دنیا کے سامنے پیش کیا جائے۔ 4۔ عالمی برداشت کے کلچر کا فروغ (Culture of Tolerance at International Level) آج کی جدید دنیا مختلف النوع انتہا پسندی کے رجحانات کے تحت برداشت کے کلچر سے محروم ہوتی جا رہی ہے۔ ان رجحانات میں ایک بنیاد پرسی بھی ہے جس کا سبب سیاسی، اقتصادی، سماجی اور مذہبی محرومیاں ہیں : Fundamentalism is more than a political protest against the West or the prevailing establishment. It also reflects deep-seated fear of modern institutions and has paranoid visions of demonic enemies everywhere. It is alarming that so many people in so many different parts are so pessimistic about the world that they can only find hope in fantasies of apocalyptic catastrophe. Fundamentalism shows a growing sense of grievance, resentment, displacement, disorientation, and anomie that any humane, enlightened government must attempt to address.(1) ’’بنیاد پرستی مغرب یا موجود اسٹیبلشمنٹ کے خلاف سیاسی احتجاج سے زیادہ بھی کچھ ہے۔ یہ جدید اداروں سے گہرے خوف اور ہر طرف پھیلے ہوئے دشمنوں کو اپنے مصائب کا ذمہ دار سمجھنے کا مظہر بھی ہے۔ یہ بات بہت خوفناک ہے کہ دنیا کے اتنے زیادہ حصوں میں اتنے لوگ دنیا کے بارے میں اتنے مایوس ہیں کہ انہیں کسی ناگہانی انقلاب کے تصورات میں ہی امید کی کرن نظر آتی ہے۔ بنیاد پرستی شکایات، رنجیدگی، شعوری انتقالیت، بیگانگی اور بے ضابطگی کا اظہار ہے جس کا ازالہ اور اصلاح کرنا کسی بھی ہمدرد اور روشن خیال حکومت کی ذمہ داری ہے۔‘‘ (1) Simon Murden, Sulture in World Affairs in John Baylis & Steve Smith's The Globalization of World Politics, OUP, 2001, p. 461. تاہم یہ امر ایک المیے سے کم نہیں کہ بین الاقوامی سطح پر انسانیت کو در پیش مسائل کا صحیح تجزیہ کرنے کی بجائے اسلام کو ثقافی نزاع کا سبب قرار دیا جارہا ہے : In much of the post-cold war discourse on cultural conflict, it was Islam that came into the frame. Islam, seem to represent a particular source of conflict both as a homeland and as a diaspora. Certainly, Islamic peoples were locked in violent conflicts against adjoining civilizations and secular states across the Balkans, West and East Africa, the Middle East, the Caucasus, Central Asia, India, Indonesia, and the Philippines, with their efforts to promulgate Islamic law a particularly explosive issue.(1) ’’سرد جنگ کے بعد ثقافتی نزاع پر ہونے والے مباحثے میں اسلام ہی مرکز توجہ بنا۔ اسلام اندرون ملک اور ممالک سے باہر آبادی میں تنازعہ کے سبب کے طور پر سامنے آیا۔ یقیناً مسلمان متصل تہذیبوں اور سیکولر ریاستوں کے ساتھ بلقان، مغربی اور مشرقی افریقہ، مشرق وسطی، قفقار، وسط ایشیاء، انڈیا، انڈونیشیا اور فلپائن کے ساتھ شدید تنازعات میں الجھے ہوئے ہیں۔ اس کوشش کے ساتھ کہ وہاں اسلامی قانون کو جو کہ سلگتا ہوا مسئلہ ہے فروغ دیں۔‘‘ (1) Simon Murden, Sulture in World Affairs in John Baylis & Steve Smith's The Globalization of World Politics, OUP, 2001 p. 463. ان مذکورہ بالا مسائل کا حل بنیاد پرستی اور غلط فہمیوں پر نظام کو فروغ دینے کی بجائے عالمی برداشت کے کلچر کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ گویا یہ صرف عالم اسلام ہی نہیں بلکہ عالم انسانیت کی بنیادی ضرورت ہے کہ مستقبل میں بقائے باہمی کے امقانا ت کو روشن کرنے کے لئے برداشت کے کلچر کو فروغ ملے جو سیرت الرسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ملنے والی سے ہی ممکن ہے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی تعلیمات اور اسوہ و سیرت کے ذریعے انسانیت کو وہ نظام زندگی، حقوق و فرائض، احکام و آداب اور امر و نواہی عطا فرمائے ہیں جن کو عملاً اپنانے اور نافذ کرنے سے مذکورہ بالا مسائل حل ہوجاتے ہیں۔ 5۔ وحدتِ نسلِ اِنسانی کا تصور (Unity of Humanity) وحدت نسل انسانی کے تصور کو رنگ و نسل کے امتیاز کے خاتمہ کا موثر ترین ذریعہ بنایا ہے۔ قرآن و سنت کے ذریعے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بنی نوع انسان کو یہ تعلیم دی ہے : 1. يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُم مِّن ذَكَرٍ وَأُنثَى وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ. ’’اے لوگو! ہم نے تمہیں مرد اور عورت سے پیدا فرمایا اور ہم نے تمہیں (بڑی بڑی) قوموں اور قبیلوں میں (تقسیم) کیا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو۔ بیشک اﷲ کے نزدیک تم میں زیادہ باعزت وہ ہے جو تم میں زیادہ پرہیزگار ہو۔‘‘ الحجرات، 49 : 13 2. الناس مستوون کأسنان المشط ليس لأحد علی أحد إلا تقوی اﷲ. ’’تمام انسان کنگھی کے دندانوں کے طرح برابر ہیں کوئی بھی دوسرے پر فضیلت نہیں رکھتا سوائے اللہ کے تقویٰ کے۔‘‘ ديلمی، الفردوس بمأثور الخطاب، 6 : 301 3. إن اﷲ قد أذهب عنکم عبية الجاهلية وتعاظمها بآبائها فالناس رجلان : برّ تقی کريم علی اﷲ وفاجر شقی هيّن علی اﷲ والناس بنو آدم وخلق اﷲ آدم من تراب، قال اﷲ : ﴿إن أکرمکم عند اﷲ أتقاکم﴾. ’’اے لوگو! اللہ تعالیٰ نے تم سے جاہلیت کا غرور اور ایک دوسرے پر خاندانی فخر دور کردیا ہے پس اب دو قسم کے لوگ ہیں : ایک نیک متقی شخص جو اللہ تعالیٰ کے ہاں معزز ہے اور ایک بدکار و بدبخت جو اللہ تعالیٰ کے ہاں ذلیل و خوار ہے تمام لوگ آدم ں کی اولاد ہیں اور آدم ں کو اللہ تعالیٰ نے مٹی سے پیدا کیا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ’’بے شک اللہ کے ہاں تم میں سے زیادہ عزت والا وہی ہے جو تم میں سے زیادہ پرہیزگار ہے۔‘‘ ترمذی، الجامع الصحيح، کتاب التفسير، باب سورة الحجرات، 5 : 339، رقم : 3270 6۔ معاشی عدل و اِحسان کا حکم (Eradication of Economic Exploitation) اسلام نے معاشی عدل و احسا کے تصور کو انسانی زندگی میں معاشی جبر و استحصال کے مسئلے کا موثر ترین حل بنایا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ عالم انسانیت اسے بین الاقوامی اور ریاستی سطح پر بنیادی نظام کے طور پر نافذ کرے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قرآن و سنت کے ذریعے بنی نوع انسان کو یہ تعلیم دی ہے : وَيَسْأَلُونَكَ مَاذَا يُنفِقُونَ قُلِ الْعَفْوَ. ’’اور آپ سے یہ بھی پوچھتے ہیں کہ کیا کچھ خرچ کریں؟ فرما دیں : جو ضرورت سے زائد ہے (خرچ کر دو)۔‘‘ البقره، 2 : 219 يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ لاَ تَأْكُلُواْ أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ. ’’اے ایمان والو! تم ایک دوسرے کا مال آپس میں ناحق طریقے سے نہ کھاؤ۔‘‘ النساء، 4 : 29 كَيْ لَا يَكُونَ دُولَةً بَيْنَ الْأَغْنِيَاءِ مِنكُمْ. ’’تاکہ (سارا مال صرف) تمہارے مال داروں کے درمیان ہی نہ گردش کرتا رہے (بلکہ معاشرے کے تمام طبقات میں گردش کرے)۔‘‘ الحشر، 59 : 7 7۔ صدقہ و انفاق اور اِطعام الطعام کا وجوبی حکم (Obligatory Instructions for Economic Support) اسلام نے صدقہ و انفاق اور اطعام الطعام کے حکم کو قحط و فاقہ کے انسانی مسئلہ کا حتمی حل بنایا ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ اسے افراد اور اقوام دونوں سطحوں پر وجوباً نافذ کیا جائے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قرآن و سنت کے ذریعے بنی نوع انسان کو یہ تعلیم دی ہے : 1. وَآتُوهُم مِّن مَّالِ اللَّهِ الَّذِي آتَاكُمْ. ’’اور تم (خود بھی) انہیں اللہ کے مال میں سے (آزاد ہونے کے لئے) دے دو جو اس نے تمہیں عطا فرمایا ہے۔‘‘ النور، 24 : 33 2. وَفِي أَمْوَالِهِمْ حَقٌّ لِّلسَّائِلِ وَالْمَحْرُومِO ’’اور اُن کے اموال میں سائل اور محروم (سب حاجتمندوں) کا حق مقرر تھاo‘‘ الذاريات، 51 : 19 3. أطعموا الجائع وعودوا المريض وفکّوا العافي. ’’بھوکے کو کھانا کھلاؤ، بیمار کی عیادت کرو اور قیدی کو آزاد کراؤ۔‘‘ 1. بخاری، الصحيح، کتاب الأطعمة، باب قول اﷲ تعالی کلو من طيبات، 5 : 2055، رقم : 5058 2. أبوداود، السنن، کتاب الجنائز، باب الدعاء للمريض، 3 : 187، رقم : 3105 3. بيهقی، السنن الکبری، 3 : 379، رقم : 6367 4. من کان عنده فضل ظهر فليعد به علی من لا ظهر له، ومن کان عنده فضل زاد فليعد به علی من لا زاد له. ’’جس کے پاس کوئی زائد سواری ہے تو وہ اسے دے جس کے پاس سواری نہیں ہے اور جس کے پاس زائد زاد راہ ہے وہ اسے دے جس کے پاس زاد راہ نہیں ہے۔‘‘ 1. أبوداود، السنن، کتاب الزکوٰة، باب فی حقوق المال، 2 : 125، رقم : 1663 2. ابو عوانه، المسند، 4 : 200، رقم : 2490 5. إن اﷲ فرض علی أغنياء المسلمين فی أموالهم بقدر الذی يسع فقراءهم. ’’اللہ نے مسلمان امیروں پر ان کے مالوں میں ایک حصہ مقرر کردیا ہے۔ جس سے ان کے غریبوں کی ضروریات پوری ہوں۔‘‘ 1. طبرانی، المعجم الصغير، 1 : 275، رقم : 453 2. منذری، الترغيب والترهيب، 1 : 306، رقم : 1130 6. ليس المؤمن الذی يشبع وجاره جائع. ’’وہ شخص مومن نہیں جو خود سیر ہوکر کھاتا ہے اور اس کا ہمسایہ بھوکا رہتا ہے۔‘‘ 1. بيهقی، السنن الکبری، 10 : 3، رقم : 19452 2. أبو يعلی، المسند، 5 : 92، رقم : 2699 3. منذری، الترغيب والترهيب، 3 : 243، رقم : 3875 7. أن رجلا سأل النبی صلی الله عليه وآله وسلم : أي الإسلام خير؟ قال : تطعم الطعام. ’’کسی شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا : کس قسم کا اسلام اچھا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : کھانا کھلانے والے کا۔‘‘ 1. بخاری، الصحيح، کتاب الإيمان، باب إطعام الطعام من الإسلام، 1 : 13، رقم : 12 2. بخاری، الصحيح، کتاب الإيمان، باب إفشاء السلام، 1 : 19، رقم : 28 3. مسلم، الصحيح، کتاب الإيمان، باب في تفاضل الإسلام، 1 : 65، رقم : 39 4. أبو داود، السنن، کتاب الأدب، باب في إفشاء الاسلام، 4 : 350، رقم : 5194 5. ابن ماجه، السنن، کتاب الأطعمة، باب إطعام الطعام، 2 : 1083، رقم : 3253 8. من احتکر طعاماً أربعين يوماً فقد بري من اﷲ تبارک وتعالیٰ و بري اﷲ تبارک و تعالی منه. ’’جو شخص چالیس دن غلہ روکے رکھتا ہے وہ اللہ تعالی کے ذمہ سے بری اور اللہ تعالی اس کے ذمہ سے بری ہوا۔‘‘ هيثمی، مجمع الزوائد، 6 : 100 9. المحتکر ملعون. ’’مال کو مہنگا بیچنے کی غرض سے روکنے والا ملعون ہے۔‘‘ 1. حاکم، المستدرک، 2 : 14، رقم : 164 2. عبدالرزاق، المصنف، 8 : 204، رقم : 14893 8۔ اَصل رزق اور بنیادی ضروریات زندگی میں سب کی برابری کا تصور (Principle Equality in Livelihood) اسلام نے اصل رزق اور بنیادی ضروریات زندگی میں سب کی برابری کے تصور کے ذریعے بے گھر ہونے اور بعض لوگوں کے دیگر حاجات اصلیہ سے محروم ہونے کے مسئلے کو بھی حل کیا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قرآن و سنت کے ذریعے بنی نوع انسان کو یہ اصول فراہم فرمایا ہے۔ 1. وَّلَكُمْ فِي الْأَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَّمَتَاعٌ إِلَى حِينٍO ’’اب تمہارے لئے زمین میں ہی معیّنہ مدت تک جائے قرار ہے اور نفع اٹھانا مقدّر کر دیا گیا ہےo‘‘ البقرة، 2 : 36 2. وَلَقَدْ مَكَّنَّاكُمْ فِي الْأَرْضِ وَجَعَلْنَا لَكُمْ فِيهَا مَعَايِشَ. ’’اور بے شک ہم نے تم کو زمین میں تمکّن و تصرّف عطا کیا اور ہم نے اس میں تمہارے لئے اسبابِ معیشت پیدا کئے۔‘‘ الأعراف، 7 : 10 3. وَقَدَّرَ فِيهَا أَقْوَاتَهَا فِي أَرْبَعَةِ أَيَّامٍ سَوَاءً لِّلسَّائِلِينَO ’’(یہ سب کچھ اس نے) چار دنوں (یعنی چار ارتقائی زمانوں) میں مکمل کیا، (یہ سارا رِزق اصلًا) تمام طلب گاروں (اور حاجت مندوں) کے لئے برابر ہےo‘‘ حم السجدة، 41 : 10 4. وَاللّهُ فَضَّلَ بَعْضَكُمْ عَلَى بَعْضٍ فِي الْرِّزْقِ فَمَا الَّذِينَ فُضِّلُواْ بِرَآدِّي رِزْقِهِمْ عَلَى مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ فَهُمْ فِيهِ سَوَاءٌ أَفَبِنِعْمَةِ اللّهِ يَجْحَدُونَO ’’اور اللہ نے تم میں سے بعض کو بعض پر رزق (کے درجات) میں فضیلت دی ہے (تاکہ وہ تمہیں حکمِ انفاق کے ذریعے آزمائے)، مگر جن لوگوں کو فضیلت دی گئی ہے وہ اپنی دولت (کے کچھ حصہ کو بھی) اپنے زیردست لوگوں پر نہیں لوٹاتے (یعنی خرچ نہیں کرتے) حالانکہ وہ سب اس میں (بنیادی ضروریات کی حد تک) برابر ہیں، تو کیا وہ اللہ کی نعمتوں کا انکار کرتے ہیںo‘‘ النحل، 16 : 71 5. ليس لابن اٰدم حق في سوی هذه الخصال بيت يسکنه وثوب يواری عورته و جلف الخبز والماء. ’’انسان کی لئے ان اشیاء کے سوا کوئی حق نہیں، رہنے کے لئے مکان، سترِ عورت کے لئے کپڑا، سالن کے بغیر روٹی اور پانی۔‘‘ ترمذی، السنن کتاب الزهد : باب ماجاء فی الزهادة فی الدنيا 6 : 571، رقم : 2341 9۔ عورت کی عزت اور حقوق کے تحفظ کا حکم (Protection of Women's Rights) اسلام نے معاشرے میں عورت کی عزت کی بلندی اور اس کے سماجی، معاشی، قانونی، عائلی اور اخلاقی حقوق کا تعین و تحفظ کر کے حیثیت نسواں کے مسئلہ کا ایک متوازن حل دیا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قرآن و سنت کے ذریعے بنی نوع انسان کو یہ ہدایت فرمائی ہے۔ 1. يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُواْ رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُم مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالاً كَثِيرًا وَنِسَاءً. ’’اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو جس نے تمہاری پیدائش (کی ابتداء) ایک جان سے کی پھر اسی سے اس کا جوڑ پیدا فرمایا پھر ان دونوں میں سے بکثرت مردوں اور عورتوں (کی تخلیق) کو پھیلا دیا۔‘‘ النساء، 4 : 1 2. وَلَهُنَّ مِثْلُ الَّذِي عَلَيْهِنَّ بِالْمَعْرُوفِ. ’’اور دستور کے مطابق عورتوں کے بھی مردوں پر اسی طرح حقوق ہیں جیسے مردوں کے عورتوں پر۔‘‘ البقرة، 2 : 228 3. وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ. ’’اور ان کے ساتھ اچھے طریقے سے برتاؤ کرو۔‘‘ النساء، 4 : 19 4. خيرکم خيرکم لأهله و أنا خيرکم لاهلی. ’’تم میں بہتر وہ ہے جو اپنی بیوی کے لئے بہتر ہو اور میں اپنی بیوی کے لئے بہتر ہوں۔‘‘ 1. ابن ماجه، السنن، کتاب النکاح : باب حسن معاشرة النساء، 1 : 636، رقم : 1977 2. ترمذی، السنن، کتاب المناقب، باب أزواج النبی، 5 : 709، رقم : 3895 5. ما أکرمهن إلا کريم وما أهانهن إلا لئيم. ’’ان (عورتوں) کی عزت، عزت والا ہی کرتا ہے اور ان سے توہین آمیز سلوک وہی کرتا ہے جو خود ذلیل (اور کمینہ) ہو۔‘‘ عسقلانی، لسان الميزان، 6 : 128 6. الجنة تحت أقدام الأمهات. ’’جنت ماؤں کے قدموں تلے ہے۔‘‘ هندی، کنز العمال، 16 : 634، رقم : 45439 7. ما من مسلم تدرکه ابنتان فيحسن صحبتهما إلا أدخلتاه الجنة. ’’جس مسلمان کو بھی دو بیٹیاں میسر ہوں اور وہ ان کو اچھی طرح تعلیم و تربیت دے تو وہ دونوں اس کو جنت میں داخل کرائیں گی۔‘‘ بخاری، الأدب المفرد، 1 : 41، رقم : 7 8. لا يکون لأحد ثلاث بنات أو ثلاث أخوات فيحسن إليهن إلا دخل الجنة. ’’جس کی بھی تین بیٹیاں یا بہنیں ہوں اور وہ ان کے ساتھ حسنِ سلوک کرتا ہے تو وہ ضرور جنت میں داخل ہوگا۔‘‘ ترمذی، السنن کتاب البر والصله، باب ماجاء فی رحمة الولد، 4 : 318، رقم : 1912 9۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا گیا : يا رسول اﷲ، من أحق الناس بحسن الصحبة؟ قال : أمک، ثم أمک، ثم، أمک، ثم أبوک، ثم أدناک أدناک. ’’ایک شخص نے عرض کیا : یا رسول اللہ! میرے حسن سلوک کا زیادہ حق دار کون ہے؟ آپ نے فرمایا : تیری ماں، پھر تیری ماں، پھر تیری ماں پھر تیرا باپ پھر جو قریب ہو، قریب ہو۔‘‘ 1. مسلم، الصحيح، کتاب البر والصلة، باب بر الوالدين، 4 : 1974، رقم : 2528 2. بخاری، الصحيح، کتاب الأدب، باب البر والصلة، 5 : 2227، رقم : 5626 10. الدنيا متاع و خير متاع الدنيا المرأة الصالحة. ’’تمام دنیا متاع (سامان) ہے اور دنیا میں بہترین متاع نیک اور پرہیزگار عورت ہے۔‘‘ مسلم، الصحيح، کتاب الرضاع، باب خير متاع الدنيا، 2 : 1090، رقم : 1467 10۔ جائز جنسی تسکین کے لئے نکاح کا تصور (Law of Marriage) اسلام نے جنسی زندگی کو باقاعدہ نظم دینے اور اسے اخلاقی بے راہ روی سے بچانے کے لئے نکاح کا شرعی تصور اور ازدواج کا باقاعدہ نظام دیا ہے۔ جس کے ذریعے انسانیت کو جنسی مسئلہ کا نہایت مناسب حل میسر آگیا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قرآن و سنت کے ذریعے اس باب میں واضح ہدایات ارشاد فرمائی ہیں : 1. فَانكِحُواْ مَا طَابَ لَكُم مِّنَ النِّسَاءِ مَثْنَى وَثُلاَثَ وَرُبَاعَ. ’’تو ان عورتوں سے نکاح کرو جو تمہارے لئے پسندیدہ اور حلال ہوں، دو دو اور تین تین اور چار چار (مگر یہ اجازت بشرطِ عدل ہے)۔‘‘ النساء، 4 : 3 2. من تزوج أحرز نصف دينه. ’’جس نے شادی کی اس نے اپنا آدھا دین بچا لیا۔‘‘ جوزی، العلل المتناهية، 2 : 612 3. يا معشر الشباب، من استطاع منکم الباء ة فليتزوج فإنه أغض للبصر و أحصن للفرج. ’’اے جوانو کی جماعت! تم میں سے جو نکاح کی استطاعت رکھتا ہو وہ نکاح کرے کیونکہ یہ نگاہ کو نیچے رکھتا ہے اور شرم گاہ کی حفاظت کرتا ہے۔‘‘ 1. بخاری، الصحيح، کتاب النکاح، باب قول النبی صلی الله عليه وآله وسلم : من استطاع منکم الباءة، 5 : 1950، رقم : 4778 2. مسلم، الصحيح، کتاب النکاح، باب استحباب النکاح، 2 : 1018، رقم : 1400 3. ابن ماجه، السنن، کتاب النکاح، باب ماجاء فی فضل النکاح، 1 : 592، رقم : 1845 11۔ نوجوانوں کی پریشان خیالی کا اِسلامی علاج (Addressing Youth Problems) اسلام نے نوجوانوں میں پریشان خیالی کے خاتمہ کے لئے روحانی، ذہنی اور جسمانی سرگرمیوں کی صورت میں مثبت طرز فکر عطا کیا تاکہ ان کی سیرت و کردار کو انتشار سے بچا کر محبت و عبادت الٰہی، تقویٰ و صالحیت اور جوانمردی و جانفشانی کی زندگی سے ہمکنار کیا جائے۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نوجوانوں کو پریشان خیالی اور بے راہ روی سے بچانے کے لئے روحانی فکر و عمل کے سانچے میں ڈھالنے کی تلقین فرمائی اور اس کے لئے موثر ہدایات و تعلیمات عطا فرمائیں۔ 1. سبعة يظلهم اﷲ فی ظله يوم لا ظل إلا ظله : إمام عادل و شاب نشاء في عبادة اﷲ و رجل معلق قلبه في المساجد و رجلان تحابا في اﷲ، اجتمعا عليه و تفرقا عليه، و رجل دعته امرأة ذات منصب و جمال فقال : إني أخاف اﷲ و رجل تصدق بصدقة فاخفاها حتي لا تعلم شماله ما تنفق يمينه و رجل ذکر اﷲ خاليًا ففاضت عيناه. ’’سات شخص اللہ تعالیٰ کے سایہ (رحمت) میں ہوں گے جبکہ اس دن کسی کا سایہ نہ ہوگا۔ عادل حکمران، وہ جوان جو خدا کی اطاعت میں پلا بڑھا ہو۔ وہ شخص جس کا دل مسجد میں اٹکا رہے، دو آدمی جو ایک دوسرے کو صرف اللہ کے لئے چاہتے ہیں ملیں تو اسی لئے اور جدا ہوں تو اسی لئے، وہ جسے حسن و دولت والی عورت برائی پر اکسائے مگر وہ کہے میں اللہ سے ڈرتا ہوں، وہ جس نے صدقہ دیا اور اسے یوں مخفی رکھا کہ بائیں ہاتھ کو پتہ نہ چل سکا کہ دائیں ہاتھ نے کیا کیا اور وہ شخص جس نے خلوت میں خدا کو یاد کیا اور آنکھیں اشک بار ہوگئیں۔‘‘ 1. بخاری، الصحيح، کتاب الزکوٰة : باب الصدقه باليمين، 2 : 517، رقم : 1357 2. مسلم، الصحيح، کتاب الزکاة ، باب فضل إخفاء الصدقة، 2 : 715، رقم : 1031 3. ترمذي، الصحيح، کتاب الزهد، باب ماجاء في الحب في الله، 4 : 598، رقم : 2391 2. لا يلج النار رجل بکي من خشية اﷲ . . . ولا يجتمع غبار في سبيل اﷲ و دخان جهنم. ’’اللہ تعالیٰ کے خوف سے رونے والا جہنم میں نہیں جائے گا۔ اور اللہ تعالیٰ کے راستے میں (لگی ہوئی) غبار اور جہنم کا دھواں ایک جگہ جمع نہیں ہوسکتے۔‘‘ ترمذی، الجامع الصحيح، کتاب الزهد، باب ماجاء فی فضل البکاء، 4 : 555، رقم : 2311 3. عليک بتقوي اﷲ فإنها جماع کل خير وعليک بالجهاد في سبيل اﷲ فإنها رهبانية المسلمين و عليک بذکر اﷲ وتلاوة کتابه فإنها نور لک في الأرض وذکر لک في السماء. ’’اللہ سے ڈرنا اپنے اوپر لازم کرلو بے شک یہ ہر نیکی اور بھلائی کا جامع ہے اور اللہ کے راستے میں جہاد کرنا اپنے اوپر لازم کرلو کہ یہی مسلمانوں کی رہبانیت ہے اور اپنے اوپر اللہ کا ذکر اور اس کی کتاب کو پڑھنا اور اس پر عمل کرنا لازم کرلو کہ زمین میں یہ تمہارے لئے روشنی ہے اور آسمان میں تمہارا ذکر ہے۔‘‘ 1. طبرانی، المعجم الصغير، 2 : 156، رقم : 949 2. أبو يعلی، المسند، 2 : 283، رقم : 1000 4. أدبوا أولادکم علی ثلاث خصال حبّ نبيکم وحبّ أهل بيته وقرأة القرآن. ’’اپنی اولاد کو تین امور کی تربیت دیں، اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت کی، آپ کے اہلِ بیت کی محبت کی اور قرآن پڑھنے کی۔‘‘ 1. هندی، کنز العمال، 16 : 623، رقم : 45409 2. عجلونی، کشف الخفاء، 1 : 76 اسی طرح حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی سنت مبارکہ کے ذریعے نوجوانوں کو جہاد، محبت الٰہی اور محبت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے علاوہ صحت مندسرگرمیوں اور کھیلوں کی بھی ترغیب دی جن میں فوجی اور دفاعی فنون کے علاوہ شہ سواری، تیر اندازی، کشتی، پیراکی، دوڑیں، نیزہ بازی اور ویٹ لفٹنگ ایسی کھیلوں (Sports) کی سرپرستی اور حوصلہ افزائی بھی براہ راست حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ثابت ہے جن کے ذریعے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نوجوانوں اور بچوں کو مثبت اور صحت مند جسمانی مشاغل سے وابستہ فرماتے تھے۔ 12۔ دماغی اور نفسیاتی دباؤ کا روحانی علاج (Spiritual Treatment of Psychological Problems) اسلام نے دماغی اور نفسیاتی دباؤ کے علاج کے لئے ایک خاص طرز فکر، نمونہ حیات اور روحانی اعمال و مشاغل کا نظام عطا کیا ہے جس کی تفصیل سیرت محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے میسر آتی ہے۔ اس میں قناعت اور صبر و شکر کا زاویہ نگاہ، حسد، حرص اور لالچ ایسے رذائل سے اجتناب، غصہ اور بغض و کینہ سے پرہیز، توکل اور رضائے الٰہی کا تصور، ذکر و عبادت الٰہی اور انفاق و احسان کی یہ ترغیب سب معاملات بڑی اہمیت کے حامل ہیں۔ ارشادِ الٰہی ہے : الَّذِينَ آمَنُواْ وَتَطْمَئِنُّ قُلُوبُهُم بِذِكْرِ اللّهِ أَلاَ بِذِكْرِ اللّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُO ’’جو لوگ ایمان لائے اور ان کے دل اﷲ کے ذکر سے مطمئن ہوتے ہیں، جان لو کہ اﷲ ہی کے ذکر سے دلوں کو اطمینان نصیب ہوتا ہےo‘‘ الرعد، 13 : 28 إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ إِذَا ذُكِرَ اللّهُ وَجِلَتْ قُلُوبُهُمْ وَإِذَا تُلِيَتْ عَلَيْهِمْ آيَاتُهُ زَادَتْهُمْ إِيمَانًا وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَO ’’ایمان والے (تو) صرف وہی لوگ ہیں کہ جب (ان کے سامنے) اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے (تو) ان کے دل (اس کی عظمت و جلال کے تصور سے) خوفزدہ ہو جاتے ہیں اور جب ان پر اس کی آیات تلاوت کی جاتی ہیں تو وہ (کلامِ محبوب کی لذت انگیز اور حلاوت آفریں باتیں) ان کے ایمان میں زیادتی کر دیتی ہیں اور وہ (ہر حال میں) اپنے رب پر توکل (قائم) رکھتے ہیں (اور کسی غیر کی طرف نہیں تکتے)o‘‘ الأنفال، 8 : 2 تَقْشَعِرُّ مِنْهُ جُلُودُ الَّذِينَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ ثُمَّ تَلِينُ جُلُودُهُمْ وَقُلُوبُهُمْ إِلَى ذِكْرِ اللَّهِ. ’’(جس کی آیتیں) بار بار دہرائی گئی ہیں، جس سے اُن لوگوں کے جسموں کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں، پھر اُن کی جلدیں اور دل نرم ہوجاتے ہیں (اور رِقّت کے ساتھ) اللہ کے ذکر کی طرف (محو ہو جاتے ہیں)۔‘‘ الزمر، 39 : 23 الَّذِينَ يُنفِقُونَ فِي السَّرَّاءِ وَالضَّرَّاءِ وَالْكَاظِمِينَ الْغَيْظَ وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ وَاللّهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَO ’’یہ وہ لوگ ہیں جو فراخی اور تنگی (دونوں حالتوں) میں خرچ کرتے ہیں اور غصہ ضبط کرنے والے ہیں اور لوگوں سے (ان کی غلطیوں پر) درگزر کرنے والے ہیں، اور اللہ احسان کرنے والوں سے محبت فرماتا ہےo‘‘ آل عمران، 3 : 134 يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ اسْتَعِينُواْ بِالصَّبْرِ وَالصَّلاَةِ إِنَّ اللّهَ مَعَ الصَّابِرِينَO ’’اے ایمان والو! صبر اور نماز کے ذریعے (مجھ سے) مدد چاہا کرو، یقیناً اﷲ صبر کرنے والوں کے ساتھ (ہوتا) ہےo‘‘ البقرة، 2 : 153 فإن فی الصلاة شفاء. ’’بے شک نماز میں شفاء ہے۔‘‘ 1. ابن ماجه، السنن، کتاب الطب، باب الصلاة شفاء، 2 : 1144، رقم : 3458 2. أحمد بن حنبل، المسند، 2 : 390، رقم : 9054 7. إياکم و الحسد فإن الحسد يأ کل الحسنات کما تأکل النار الحطب. ’’حسد سے بچو بیشک حسد نیکیوں کو اس طرح کھا جاتا ہے جیسے آگ لکڑیوں کو کھا جاتی ہے۔‘‘ أبوداود، السنن، کتاب الأدب، باب فی الحسد، 4 : 276، رقم : 4903 13۔ شراب نوشی اور دیگر منشیات کی کلی حرمت (Prohibition of Norcotics) اسلام نے شراب نوشی اور دیگر تمام منشیات (Norcotics) کو کلیتا حرام قرار دے کر ہمیشہ کے لئے اس مسئلہ کو حل کردیا ہے دنیا بھر میں منشیات کی روک تھام کے لئے جو عالمی مہم آج چلائی جا رہی ہے پیغمبر اسلام نے اس کا آغاز اس اعلان کے ذریعے 14 صدیاں قبل ہی فرما دیا تھا۔ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنصَابُ وَالْأَزْلاَمُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَO ’’اے ایمان والو! بیشک شراب اور جُوا اور (عبادت کے لئے) نصب کئے گئے بُت اور (قسمت معلوم کرنے کے لئے) فال کے تیر (سب) ناپاک شیطانی کام ہیں۔ سو تم ان سے (کلیتاً) پرہیز کرو تاکہ تم فلاح پا جاؤo‘‘ المائده، 5 : 90 2. کل مسکر خمر و کل مسکر حرام. ’’ہر نشہ آور چیز خمر (شراب) ہے اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔‘‘ 1. مسلم، الصحيح، کتاب الأشربة، باب عقوبة من شرب الخمر، 3 : 588، رقم : 2002 2. ابن ماجه، السنن، کتاب الأشربة، باب کل مسکر حرام، 2 : 1124، رقم : 3390 3. ما أسکر کثيره فقليله حرام. ’’جس چیز کا کثیر حصہ نشہ لائے اس کا تھوڑا حصہ بھی حرام ہے۔‘‘ أبوداود، السنن، کتاب الأشربة، باب النهی عن المسکر، 3 : 327، رقم : 3681 ابن ماجه، السنن، کتاب الأشربة، باب ما أسکر کثيره، 2 : 1124، رقم : 3392 ترمذی، السنن، کتاب الأشربة، باب ماجاء ما أسکر، 4 : 292، رقم : 1865 4. لعن اﷲ الخمر وشاربها وساقيها وبائعها ومبتاعها وعاصرها ومعتصرها وحاملها والمحمولة إليه. ’’اللہ تعالیٰ نے شراب پر لعنت کی ہے اور اسے پینے والے اور پلانے والے پر اور اسے بیچنے والے اور خریدنے والے پر اور اسے نچوڑنے والے پر اور نچڑوانے والے پر اور اسے اٹھانے والے اور جس کے لئے اٹھائی گئی اس پر بھی لعنت کی ہے۔‘‘ أبو داؤد، السنن، کتاب الأشربة، باب العنب يعصر للخمر، 3 : 326، رقم : 3674 14۔ ماحولیاتی صحت کے لئے صفائی اور شجرکاری وغیرہ کا حکم (Ecological Health & Plantation) اسلام نے ماحولیاتی صحت کے لئے صفائی اور شجرکاری کے احکام صادر فرما کر اس مسئلہ کے حل کی واضح بنیاد فراہم کردی ہے۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت طیبہ اس امر کا عملی نمونہ نظر آتی ہے۔ ارشاد گرامی ہے : 1. وَيُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِينَO ’’اور خوب پاکیزگی اختیار کرنے والوں سے محبت فرماتا ہےo‘‘ البقرة، 2 : 222 2. الطهور نصف الإيمان. ’’پاکیزگی نصف ایمان ہے۔‘‘ ترمذی، السنن، کتاب الدعوات : باب منه، 5 : 536، رقم : 3519 ابن أبی شيبة، المصنف، 6 : 171، رقم : 30433 3. الإيمان بضع و سبعون شعبة فأفضلها قول لا إله إلا اﷲ و أدناها إماطة الأذی عن الطريق. ’’ایمان کی ستر سے زائد شاخیں ہیں۔ ان سب میں افضل لا الہ الا اﷲ کہنا ہے اور ان سب میں ادنی راستے میں سے کسی موذی چیز کا ہٹانا ہے۔‘‘ 1. مسلم، الصحيح، کتاب الإيمان، باب بيان عدد شعب الإيمان، 1 : 63، رقم : 35 2. أبوداود، السنن، کتاب السنة، باب فی رد الإرجاء، 4 : 219، رقم : 4676 4. حق الطريق قال : غض البصر و کف الأذی ورد السلام. ’’راستے کا حق، نظر نیچی رکھنا ایذا رسانی سے پرہیز کرنا اور سلام کا جواب دینا ہے۔‘‘ اسی طرح حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شجرکاری کو صدقہ قرار دیا اور حکم فرمایا کہ شجرکاری کرو خواہ روز قیامت میں ہی ایک درخت لگانے کی فرصت مل جائے۔ ارشاد گرامی ہے : 1. بخاری، الصحيح، کتاب المظالم، باب أفنية الدور والجلوس، 2 : 870، رقم : 2333 2. مسلم، الصحيح، کتاب، باب کراهة التفرع، 3 : 1675، رقم : 2121 3. أبوداود، السنن، کتاب الأدب، باب فی الجلوس، 4 : 256، رقم : 4815 5. ما من مسلم يغرس غرسًا إلا کان ما أکل منه له صدقه. ’’جو مسلمان درخت لگائے پھر اس میں سے کوئی کھائے تو لگانے والے کو صدقے کا ثواب ملے گا۔‘‘ 1. مسلم الصحيح، کتاب المساقاه، باب فضل الغرس والزرع، 3 : 1188، رقم : 1552 2. ترمذی، السنن، کتاب الأحکام، باب ماجاء فی فضل الفرس، 3 : 666، رقم : 1382 إن قامت الساعة وبيد أحدکم فسيلة فإن استطاع أن لا يقوم حتی يغرسها فليفعل. ’’اگر قیامت کی گھڑی آجائے اور تم میں سے کسی کے ہاتھ میں پودا ہے اور وہ اس کو لگا سکتا ہے تو لگائے بغیر کھڑا نہ ہو۔‘‘ أحمد بن حنبل، المسند، 3 : 191، رقم : 13004 دوسری جنگ عظیم کے خاتمے کے بعدلیگ آف نیشنز اور اقوام متحدہ کا قیام اقوام عالم کی اس آرزو کی طرف پیش رفت ہے جو عالمی سطح پر پائدار اور دیرپا امن کے قیام سے عبارت ہے۔ لیکن تاحال سامنے آنے والے حالات اس امر کے گواہ ہیں کہ ان اقدامات کے باوجود امن عالم کا خواب تا حال تشنہ تعبیر ہے۔ کمزور اور پسماندہ اقوام اب بھی طاقت ور اور غالب اقوام کی ظلم و ستم کا تختہ مشق بنی ہوئی ہیں۔ سیرت الرسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا عصری اور بین الاقوامی تناظر میں مطالعہ، جس کی تفصیلات گزشتہ صفحات میں گزر چکی ہیں، اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ انسانیت کے لئے مقامی اور بین الاقوامی سطح پر بقائے باہمی اور قیام امن کا حامل نظام صرف تعلیمات نبوی کی روشنی میں ہی تشکیل دیا جا سکتا ہے۔

ظہورِ اسلام سے قبل ورلڈ آرڈر کی صورت حال

2017-07-27 05:54:29 
ظہورِ اِسلام سے قبل ورلڈ آرڈر کی صورت حال اگر ہم چھٹی صدی عیسوی سے دنیا کی تاریخ کا جائزہ لیں تو ہمیں معلوم ہوگا کہ چھٹی صدی عیسوی میں اس دنیا میں روم اور فارس کی دو بڑی سلطنتیں آپس میں خونریز جنگوں کی شکل میں محاذ آرا تھیں۔ فاتح سلطنت ہر جنگ کے بعد ایک ورلڈ آرڈر جاری کرتی جس کے تحت چھوٹی ریاستوں کو اپنا مطیع بنا لیا جاتا۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت کے وقت دنیا میں ملوکیت اور بادشاہت کا دور تھا۔ سرِ زمین عرب کا جنوبی حصہ سلطنتِ حبش کے پاس تھا، مشرقی حصہ سلطنتِ فارس کے قبضہ میں تھا اور شمالی حصہ پر سلطنتِ روم قابض تھی۔ ملک عرب ایک وحدت کی بجائے کئی خود مختار قبیلوں میں منقسم تھا۔ دو طاقتی نظام رائج تھا۔ طاقت کا توازن اس وقت کی دو بڑی سلطنتوں روم اور فارس نے سنبھالا ہوا تھا۔ مگر یہ نظام بری طرح ناکام ہوا اور عالمی امن قائم نہ رہ سکا۔ کیونکہ ان میں سے کسی سلطنت کا ورلڈ آرڈر انصاف، صلح اور مساوات پر مبنی نہ تھا بلکہ یہ ورلڈ آرڈر توسیع سلطنت کی خواہش اور اقتدار کی ہوس پر مبنی تھا۔ خطبہ حجۃ الوداع اور اِسلامک ورلڈ آرڈر کا اِعلان ان حالات میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت ہوئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے 23 سال کی جد و جہد کے بعد ایک ایسا معاشرہ قائم کر کے دکھایا جو قیامت تک کے لئے قابلِ تقلید تھا اور پوری دنیا کی رہنمائی کے لئے ایک ورلڈ آرڈر جاری کیا جس کا باضابطہ اعلان خطبہ حجۃ الوداع میں کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : لوگو! خبردار! پچھلا عالمی نظام جو استحصال، ظلم، ناانصافی اور جبر و تشدد پر مبنی تھا آج وہ ختم ہو رہا ہے۔ اسے میں اپنے قدموں تلے روند رہا ہوں اور کائناتِ انسانی کو نیا عالمی نظام عطا کر رہا ہوں۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے 10ھ میں آخری حج ادا فرمایا جسے حجۃ الوداع کے نام سے تعبیر کرتے ہیں۔ اس موقع پر بتاریخ 9 ذی الحجہ میدان عرفات میں آپ نے خطبہ حجۃ الوداع ارشاد فرمایا جو عالم انسانیت کے لئے انسانی حقوق کا پہلا باقاعدہ چارٹر (Charter of Human Rights) اور اقوام عالم کے لئے نیا عالمی نظام (New World Order) تھا۔ خطبہ حجۃ الوداع کو تاریخ انسانی میں نیو ورلڈ آرڈر کی حیثیت کیسے حاصل ہے اس حقیقت کی طرف حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے درج ذیل الفاظ میں خود اشارہ فرما دیا ہے : 1۔ نئے عالمی نظام کا آغاز إنّ الزمان قد استدار کهيئته يوم خلق اﷲ السماوات والأرض. ’’(اور دیکھو) اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان (یعنی نظامِ عالم) کو جس حالت پر پیدا کیا تھا، زمانہ اپنے حالات و واقعات کا دائرہ مکمل کرنے کے بعد پھر اس مقام پر دوبارہ آگیا ہے۔‘‘ 1. بخاری، الصحيح، کتاب بدء الخلق، باب ما جاء في سبع أرضين، 3 : 1168، رقم : 3025 2. بخاری، الصحيح، کتاب الأضاحی، باب من قال الأضحی يوم النحر، 5 : 2110، رقم : 5230 3. مسلم، الصحيح، کتاب القسامه، باب تغليظ تحريم الدماء، 3 : 1305، رقم : 1679 4. أبو داود، السنن، کتاب المناسک، باب الأشهر الحرم، 2 : 195، رقم : 1947 5. ابن کثير، البداية والنهاية، 1 : 19 6. شيباني، الکامل في التاريخ، 2 : 171 7. ابن خلدون، تاريخ ابن خلدون، 2 : 480 8. طبری، تاريخ الأمم والملوک، 2 : 205 9. ابن سعد، الطبقات الکبریٰ، 2 : 186 گویا زبانِ نبوت اس امر کا اعلان فرما رہی تھی کہ نظام عالم کے ایک دور کا خاتمہ ہوچکا ہے اور آج سے دوسرے دور کا آغاز ہو رہا ہے اور میں دنیائے انسانیت کو نظامِ عالم کے نئے دور کے آغاز پر ’’خطبہ حجۃ الوداع‘‘ کے ذریعے بالخصوص اور اپنی تعلیمات و ہدایات کے ذریعے بالعموم نیا عالمی نظام عطا کر رہا ہوں۔ 2۔ سابقہ جاہلانہ اور ظالمانہ نظام کی منسوخی ضروری تھا کہ اس موقع پر آپ پچھلے نظام اور اس کے جاہلانہ اُمور کو منسوخ کرنے کا اعلان بھی فرماتے۔ سو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ألا! کلّ شيء من أمر الجاهلية تحت قدمي موضوع، ودماء الجاهلية موضوعة، . . . ورباء الجاهلية موضوع. ’’خبردار! دورِ جاہلیت کا سارا (ظالمانہ اور استحصالی) نظام میں نے اپنے پاؤں تلے روند ڈالا ہے۔ آج سے نظامِ جاہلیت کے سارے خون (قصاص، دیت اور انتقام) کالعدم قرار دیئے جاتے ہیں اور آج سے نظامِ جاہلیت کے سارے سودی لین دین بھی ختم کئے جاتے ہیں۔‘‘ 1. مسلم، الصحيح، کتاب الحج، باب حجة النبی، 2 : 889، رقم : 1218 2. ابن حبان، الصحيح، 9 : 257، رقم : 3944 3. دارمی، السنن، 2 : 69، رقم : 1850 ان دو اعلانات کے بعد اس امر میں کسی شک کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہ جاتی کہ خطبہ حجۃ الوداع فی الحقیقت ’’نیو ورلڈ آرڈر‘‘ کا ہی اعلان تھا۔ اب ہم یہ جائزہ لیتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عطا کردہ نیو ورلڈ آرڈر کے اہم پہلو کیا تھے؟ 3۔ عالمی اَمن کے قیام کا اِعلان اس اسلامک ورلڈ آرڈر کا سب سے اہم پہلو عالمی سطح پر قیام امن تھا۔ اقوام، ممالک اور قبائل ہمہ وقت قتل و غارت گری اور جنگ وجدال کے فساد انگیز عمل میں مبتلا رہتے تھے۔ قبائل میں لامتناہی جنگوں کے سلسلے جاری رہتے تھے، انسانی خون نہایت ارزاں ہوگیا تھا اور معمولی معمولی بات پر تلواریں نکل آتیں اور دیکھتے ہی دیکھتے نسلیں خون آشام منظر کی بھینٹ چڑھ جاتیں۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان ہولناک حالات میں عالمی سطح پر قیام امن کا اعلان ان الفاظ میں فرمایا : فإن دماء کم وأموالکم وأعراضکم عليکم حرام کحرمة يومکم هذا في بلدکم هذا في شهرکم هذا. ’’اے بنی نوع انسان! بیشک تمہاری جانیں اور تمہارے اموال اور تمہاری عزتیں تم پر حرام کر دی گئی ہیں جس طرح آج کے دن کی حرمت اور اس مہینہ کی حرمت تمہارے اس شہر میں برقرار ہے۔‘‘ 1. بخاری، الصحيح، کتاب الحج، باب الخطبة أيام الحج، 2 : 619، رقم : 1652 2. مسلم، الصحيح، کتاب القسامة، باب المجازة بالدماء، 3 : 1306، رقم : 1678 3. ترمذی، السنن، کتاب تفسير القرآن، باب ومن سورة التوبة، 5 : 273، رقم : 3087 4. ابن ماجه، السنن، کتاب المناسک، باب الخطبة يوم النحر، 2 : 1016، رقم : 3058 5. أحمد بن حنبل، المسند، 4 : 337، رقم : 18986 جس میں تم ایک دوسرے کی بے حرمتی نہیں کر سکتے اسی طرح تم کبھی ایک دوسرے کی جان و مال کی بے حرمتی بھی نہیں کر سکتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس حکم کو مزید ان الفاظ کے ذریعے مؤکد فرمایا : ألا فلا ترجعوا بعدی ضلالًا يضرب بعضکم رقاب بعض. ’’خبردار! تم میرے بعد پلٹ کر پھر گمراہ نہ ہوجانا یوں کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو (یہ سب سے بڑی گمراہی ہوگی)۔‘‘ 1. بخاری، الصحيح، کتاب المغازی، باب حجة الوداع، 4 : 1599، رقم : 4144 2. بخاری، الصحيح، کتاب التوحيد، باب قول اﷲ تعالی، 6 : 2710، رقم : 7009 3. مسلم، الصحيح، کتاب القسامة، باب تغليظ تحريم الدماء، 3 : 1305، رقم : 1679 4. أحمد بن حنبل، المسند، 5 : 37 5. ابن حبان، الصحيح، 13 : 313، رقم : 5974 6. بيهقی، السنن الکبریٰ، 5 : 165، رقم : 9554 4۔ عالمی اِنسانی مساوات کا قیام حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انسانی نسلوں، طبقوں اور معاشروں کی ایک دوسرے پر مصنوعی فضیلت و برتری کے سب دعوؤں کو ختم فرما دیا اور انسانی مساوات کا عالمی اعلان فرما کر ساتھ ہی باہمی فضیلت کا دائمی عادلانہ اصول بھی مقرر فرمادیا۔ ارشاد فرمایا : الناس بنو آدم وآدم من تراب. ’’تمام بنی نوع انسان، آدم کی اولاد ہیں اور آدم مٹی سے تخلیق کئے گئے تھے۔‘‘ 1. ترمذی، السنن، کتاب المناقب، باب فضل الشام، 5 : 735، رقم : 3956 2. أبوداود، السنن، کتاب الأدب، باب فی التفاخر، 6 : 331، رقم : 5116 ألا! کل مأثرة أو دم أو مال يدعی به فهو تحت قدمی هاتين. ’’اب فضیلت و برتری کے سارے (جھوٹے) دعوے، جان و مال کے سارے مطالبے اور سارے انتقام میرے پاؤں تلے روندے جاچکے ہیں۔‘‘ ابن کثير، تفسير القرآن العظيم، 1 : 516 طبری، تاريخ الأمم والملوک، 2 : 161 أيها الناس، إن ربکم واحد وأباکم واحد. ’’اے لوگو! تم سب کا رب ایک ہے، اور باپ بھی ایک ہے۔‘‘ هيثمی، مجمع الزوائد، 3 : 266 إن أکرمکم عند اﷲ أتقاکم فليس لعربی علی عجمی فضل ولا لعجمی علی عربی ولا لأسود علی أبيض ولا لأبيض علی أسود فضل إلا بالتقوي. (اس وحدت نسل انسانی کے باعث تم سب برابر ہو) مگر تم میں بزرگ و برتر وہی ہے جو زیادہ پرہیزگار (بہتر کردار کا مالک) ہے۔ پس کسی عربی کو عجمی پر اور کسی عجمی کو عربی پر کوئی برتری نہیں اور نہ ہی کسی کالے کو گورے پر اور کسی گورے کو کالے پر برتری حاصل ہے ساری برتریاں، کردار و عمل پر مبنی ہیں۔‘‘ طبرانی، المعجم الکبير، 18 : 12، رقم : 16 یہ مساوات انسانی کا وہ عالمی اصول تھا جس پر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بین الاقوامی سطح پر جمہوری اور عادلانہ انسانی معاشرے کی بنیاد رکھی یہی اصول آگے چل کر عالمی جمہوریت کے قیام (Establishment of World Democracy) کا باعث بنا۔ 5۔ معاشی و اِقتصادی اِستحصال کا خاتمہ (Eradication of Economic Exploitation) حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسی ورلڈ آرڈر کے ذریعے سود کو استحصالی نظام قرار دے کر اسے کلیتاً مسترد بلکہ ختم کرنے کا اعلان فرمایا۔ ارشاد فرمایا : وإن کل ربا موضوع ولکم رؤوس أموالکم لا تظلمون ولا تظلمون. ’’بے شک آج سے ہر قسم کا سود (اور سارا سودی نظام) منسوخ کیا جاتا ہے تم اپنے سرمائے کے سوا نہ کچھ لے سکتے ہو اور نہ کچھ دے سکتے ہو۔ نہ تم سودی لین دین کی شکل میں ایک دوسرے پر ظلم کرو اور نہ قیامت کے دن تم پر ظلم کیا جائے گا۔‘‘ ابويعلی، المسند، 3 : 139، رقم : 1596 قضی اﷲ أنه لا ربا. ’’یہ فیصلہ اللہ تعالیٰ نے فرما دیا ہے کہ سود (اور اس پر مبنی ہر قسم کا اقتصادی استحصال) ممنوع ہے۔‘‘ طبری، تاريخ الأمم والملوک، 2 : 205 ابن خلدون، تاريخ ابن خلدون، 2 : 480 6۔ عورتوں کے حقوق کا تحفظ (Protection of Women Rights) حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سابقہ عالمی نظام میں خواتین پر روا رکھے گئے تمام مظالم کے خاتمے کا اعلان فرمایا اور ان کے حقوق کے تحفظ کی ضمانت فراہم کی۔ ارشاد فرمایا : أيها الناس! فإن لکم علی نسائکم حقًا ولهن عليکم حقًا . . . واستوصوا بالنساء خيرًا، فاتقوا اﷲ في نسائکم. ’’اے لوگو! بے شک تمہارے کچھ حقوق عورتوں پر واجب ہیں اور اسی طرح عورتوں کے کچھ حقوق تم پر واجب ہیں (ان کی پوری طرح حفاظت کرنا) عورتوں سے ہمیشہ بہتر سلوک کرنا اور عورتوں کے حقوق کے معاملے میں ہمیشہ اللہ سے ڈرتے رہنا۔‘‘ طبری، تاريخ الأمم والملوک، 2 : 206 ابن خلدون، تاريخ ابن خلدون، 2 : 480 7۔ زیردست اور افلاس زدہ اِنسانیت کے حقوق کا تحفظ (Protection of Rights of the Poor and Depressed Classes) حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عالمی سطح پر عادلانہ اور غیر استحصالی انسانی معاشرہ قائم کرنے کے لئے یہ عظیم انقلابی اعلان بھی فرمایا : أرقّائکم أرقّائکم اطعموهم مما تأکلون واکسوهم مما تلبسون. ’’لوگو! زیردست انسانوں کا خیال رکھنا، زیر دستوں کا خیال رکھنا۔ انہیں وہی کچھ کھلاؤ جو خود کھاتے ہو اور ایسا ہی پہناؤ جیسا تم خود پہنتے ہو۔‘‘ 1. ابن سعد، الطبقات الکبری، 2 : 185 2. طبرانی، المعجم الکبير، 22 : 243، رقم : 636 3. منذری، الترغيب والترهيب، 3 : 150، رقم : 3449 اس اعلان نے عالمی نظام سے غلامی کے خاتمے کی بنیاد رکھ دی۔ اور انسانی طبقات میں غیر فطری تفاوت کے خلاف انقلاب آفریں نظام وضع کردیا۔ الغرض حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے خطبہ حجۃ الوداع کے ذریعے انسانیت کو ایسا نیو ورلڈ آرڈر (نیا عالمی نظام) عطا فرمایا جو آج بھی زندہ و تابندہ ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ آج عالم اسلام عملاً اس کی قدر و قیمت کا صحیح اندازہ کر رہا ہے یا نہیں۔ اسلام کی تاریخ میں یہ نیو ورلڈ آرڈر آج بھی دنیا کو ایسے اصول فراہم کرتا ہے جن پر عمل پیرا ہوکر دنیا امن کا گہوارہ بن سکتی ہے اس لئے امت مسلمہ کو رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عطا کئے ہوئے ورلڈ آرڈر کی موجودگی میں کسی اور ورلڈ آرڈر کی ضرورت نہیں۔ اسلامک ورلڈ آرڈر کے تحت پوری دنیا سے ظلم و نا انصافی کے خاتمے اور نظام مساوات و انصاف کے نفاذ کی عملی جدوجہد کا آغاز ہوا اور جلد ہی اسلام کی اس ابھرتی ہوئی طاقت نے روم اور فارس کی دونوں عالمی استحصالی طاقتوں کو چیلنج کردیا اور ان طاقتوں کو عبرتناک شکست سے دوچار ہونا پڑا۔ یوں دنیا میں اسلامک ورلڈ آرڈر کا نفاذ کر دیا گیا۔ اس ورلڈ آرڈر کے نفاذ سے بدامنی اور ظلم و بربریت کا خاتمہ ہوگیا اور ایک ایسے بین الاقوامی معاشرے کا آغاز ہوا جس میں خیر، تعمیر، ارتقاء اور عدل ہی عدل تھا۔ جو انسان کے بنیادی حقوق کا ضامن تھا۔ جس میں بین الاقوامی قوانین کی پاسداری، عالمی امن کے قیام، پر امن بقائے باہمی، غلامی سے نجات، حق کی معاونت اور ظلم سے نجات کے سنہری اصول دیئے گئے تھے۔ اسلامک ورلڈ آرڈر کے سنہری اصولوں کے تحت خلفائے راشدین کے عہد خلافت میں 661ء تک مسلمانوں نے جتنے علاقوں کو فتح کیا وہاں کے غیر منصفانہ اور مستبدانہ قوانین کو منسوخ کردیا گیا۔ اور وہاں کی آبادی کو ہی اقتدار میں شریک کیا گیا۔ عہد خلافت راشدہ اور دور بنو امیہ سے لے کر سلطنت عثمانیہ (موجودہ بیسویں صدی عیسوی کے اوائل) تک مسلمانوں نے اسلامک ورلڈ آرڈر کے اصولوں کے مطابق بین الاقوامی سیاست میں نمایاں کردار ادا کیا اور مسلمانوں کے ہر فاتح نے انہی اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی داخلہ و خارجہ پالیسیوں کو تشکیل دیا۔

منتخب تحریریں

ظہورِ اِسلام سے قبل ورلڈ آرڈر کی صورت حال اگر ہم چھٹی صدی عیسوی سے دنیا کی تاریخ کا جائزہ لیں تو ہمیں معلوم ہوگا کہ چھٹی صدی عیسوی میں اس دنیا میں روم اور فارس کی دو بڑی سلطنتیں آپس میں خونریز جنگوں کی شکل میں محاذ آرا تھیں۔ فاتح سلطنت ہر جنگ کے بعد ایک ورلڈ آرڈر جاری کرتی جس کے تحت چھوٹی ریاستوں کو اپنا مطیع بنا لیا جاتا۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت کے وقت دنیا میں ملوکیت اور بادشاہت کا دور تھا۔ سرِ زمین عرب کا جنوبی حصہ سلطنتِ حبش کے پاس تھا، مشرقی حصہ سلطنتِ فارس کے قبضہ میں تھا اور شمالی حصہ پر سلطنتِ روم قابض تھی۔ ملک عرب ایک وحدت کی بجائے کئی خود مختار قبیلوں میں منقسم تھا۔ دو طاقتی نظام رائج تھا۔ طاقت کا توازن اس وقت کی دو بڑی سلطنتوں روم اور فارس نے سنبھالا ہوا تھا۔ مگر یہ نظام بری طرح ناکام ہوا اور عالمی امن قائم نہ رہ سکا۔ کیونکہ ان میں سے کسی سلطنت کا ورلڈ آرڈر انصاف، صلح اور مساوات پر مبنی نہ تھا بلکہ یہ ورلڈ آرڈر توسیع سلطنت کی خواہش اور اقتدار کی ہوس پر مبنی تھا۔ خطبہ حجۃ الوداع اور اِسلامک ورلڈ آرڈر کا اِعلان ان حالات میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت ہوئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے 23 سال کی جد و جہد کے بعد ایک ایسا معاشرہ قائم کر کے دکھایا جو قیامت تک کے لئے قابلِ تقلید تھا اور پوری دنیا کی رہنمائی کے لئے ایک ورلڈ آرڈر جاری کیا جس کا باضابطہ اعلان خطبہ حجۃ الوداع میں کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : لوگو! خبردار! پچھلا عالمی نظام جو استحصال، ظلم، ناانصافی اور جبر و تشدد پر مبنی تھا آج وہ ختم ہو رہا ہے۔ اسے میں اپنے قدموں تلے روند رہا ہوں اور کائناتِ انسانی کو نیا عالمی نظام عطا کر رہا ہوں۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے 10ھ میں آخری حج ادا فرمایا جسے حجۃ الوداع کے نام سے تعبیر کرتے ہیں۔ اس موقع پر بتاریخ 9 ذی الحجہ میدان عرفات میں آپ نے خطبہ حجۃ الوداع ارشاد فرمایا جو عالم انسانیت کے لئے انسانی حقوق کا پہلا باقاعدہ چارٹر (Charter of Human Rights) اور اقوام عالم کے لئے نیا عالمی نظام (New World Order) تھا۔ خطبہ حجۃ الوداع کو تاریخ انسانی میں نیو ورلڈ آرڈر کی حیثیت کیسے حاصل ہے اس حقیقت کی طرف حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے درج ذیل الفاظ میں خود اشارہ فرما دیا ہے : 1۔ نئے عالمی نظام کا آغاز إنّ الزمان قد استدار کهيئته يوم خلق اﷲ السماوات والأرض. ’’(اور دیکھو) اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان (یعنی نظامِ عالم) کو جس حالت پر پیدا کیا تھا، زمانہ اپنے حالات و واقعات کا دائرہ مکمل کرنے کے بعد پھر اس مقام پر دوبارہ آگیا ہے۔‘‘ 1. بخاری، الصحيح، کتاب بدء الخلق، باب ما جاء في سبع أرضين، 3 : 1168، رقم : 3025 2. بخاری، الصحيح، کتاب الأضاحی، باب من قال الأضحی يوم النحر، 5 : 2110، رقم : 5230 3. مسلم، الصحيح، کتاب القسامه، باب تغليظ تحريم الدماء، 3 : 1305، رقم : 1679 4. أبو داود، السنن، کتاب المناسک، باب الأشهر الحرم، 2 : 195، رقم : 1947 5. ابن کثير، البداية والنهاية، 1 : 19 6. شيباني، الکامل في التاريخ، 2 : 171 7. ابن خلدون، تاريخ ابن خلدون، 2 : 480 8. طبری، تاريخ الأمم والملوک، 2 : 205 9. ابن سعد، الطبقات الکبریٰ، 2 : 186 گویا زبانِ نبوت اس امر کا اعلان فرما رہی تھی کہ نظام عالم کے ایک دور کا خاتمہ ہوچکا ہے اور آج سے دوسرے دور کا آغاز ہو رہا ہے اور میں دنیائے انسانیت کو نظامِ عالم کے نئے دور کے آغاز پر ’’خطبہ حجۃ الوداع‘‘ کے ذریعے بالخصوص اور اپنی تعلیمات و ہدایات کے ذریعے بالعموم نیا عالمی نظام عطا کر رہا ہوں۔ 2۔ سابقہ جاہلانہ اور ظالمانہ نظام کی منسوخی ضروری تھا کہ اس موقع پر آپ پچھلے نظام اور اس کے جاہلانہ اُمور کو منسوخ کرنے کا اعلان بھی فرماتے۔ سو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ألا! کلّ شيء من أمر الجاهلية تحت قدمي موضوع، ودماء الجاهلية موضوعة، . . . ورباء الجاهلية موضوع. ’’خبردار! دورِ جاہلیت کا سارا (ظالمانہ اور استحصالی) نظام میں نے اپنے پاؤں تلے روند ڈالا ہے۔ آج سے نظامِ جاہلیت کے سارے خون (قصاص، دیت اور انتقام) کالعدم قرار دیئے جاتے ہیں اور آج سے نظامِ جاہلیت کے سارے سودی لین دین بھی ختم کئے جاتے ہیں۔‘‘ 1. مسلم، الصحيح، کتاب الحج، باب حجة النبی، 2 : 889، رقم : 1218 2. ابن حبان، الصحيح، 9 : 257، رقم : 3944 3. دارمی، السنن، 2 : 69، رقم : 1850 ان دو اعلانات کے بعد اس امر میں کسی شک کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہ جاتی کہ خطبہ حجۃ الوداع فی الحقیقت ’’نیو ورلڈ آرڈر‘‘ کا ہی اعلان تھا۔ اب ہم یہ جائزہ لیتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عطا کردہ نیو ورلڈ آرڈر کے اہم پہلو کیا تھے؟ 3۔ عالمی اَمن کے قیام کا اِعلان اس اسلامک ورلڈ آرڈر کا سب سے اہم پہلو عالمی سطح پر قیام امن تھا۔ اقوام، ممالک اور قبائل ہمہ وقت قتل و غارت گری اور جنگ وجدال کے فساد انگیز عمل میں مبتلا رہتے تھے۔ قبائل میں لامتناہی جنگوں کے سلسلے جاری رہتے تھے، انسانی خون نہایت ارزاں ہوگیا تھا اور معمولی معمولی بات پر تلواریں نکل آتیں اور دیکھتے ہی دیکھتے نسلیں خون آشام منظر کی بھینٹ چڑھ جاتیں۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان ہولناک حالات میں عالمی سطح پر قیام امن کا اعلان ان الفاظ میں فرمایا : فإن دماء کم وأموالکم وأعراضکم عليکم حرام کحرمة يومکم هذا في بلدکم هذا في شهرکم هذا. ’’اے بنی نوع انسان! بیشک تمہاری جانیں اور تمہارے اموال اور تمہاری عزتیں تم پر حرام کر دی گئی ہیں جس طرح آج کے دن کی حرمت اور اس مہینہ کی حرمت تمہارے اس شہر میں برقرار ہے۔‘‘ 1. بخاری، الصحيح، کتاب الحج، باب الخطبة أيام الحج، 2 : 619، رقم : 1652 2. مسلم، الصحيح، کتاب القسامة، باب المجازة بالدماء، 3 : 1306، رقم : 1678 3. ترمذی، السنن، کتاب تفسير القرآن، باب ومن سورة التوبة، 5 : 273، رقم : 3087 4. ابن ماجه، السنن، کتاب المناسک، باب الخطبة يوم النحر، 2 : 1016، رقم : 3058 5. أحمد بن حنبل، المسند، 4 : 337، رقم : 18986 جس میں تم ایک دوسرے کی بے حرمتی نہیں کر سکتے اسی طرح تم کبھی ایک دوسرے کی جان و مال کی بے حرمتی بھی نہیں کر سکتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس حکم کو مزید ان الفاظ کے ذریعے مؤکد فرمایا : ألا فلا ترجعوا بعدی ضلالًا يضرب بعضکم رقاب بعض. ’’خبردار! تم میرے بعد پلٹ کر پھر گمراہ نہ ہوجانا یوں کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو (یہ سب سے بڑی گمراہی ہوگی)۔‘‘ 1. بخاری، الصحيح، کتاب المغازی، باب حجة الوداع، 4 : 1599، رقم : 4144 2. بخاری، الصحيح، کتاب التوحيد، باب قول اﷲ تعالی، 6 : 2710، رقم : 7009 3. مسلم، الصحيح، کتاب القسامة، باب تغليظ تحريم الدماء، 3 : 1305، رقم : 1679 4. أحمد بن حنبل، المسند، 5 : 37 5. ابن حبان، الصحيح، 13 : 313، رقم : 5974 6. بيهقی، السنن الکبریٰ، 5 : 165، رقم : 9554 4۔ عالمی اِنسانی مساوات کا قیام حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انسانی نسلوں، طبقوں اور معاشروں کی ایک دوسرے پر مصنوعی فضیلت و برتری کے سب دعوؤں کو ختم فرما دیا اور انسانی مساوات کا عالمی اعلان فرما کر ساتھ ہی باہمی فضیلت کا دائمی عادلانہ اصول بھی مقرر فرمادیا۔ ارشاد فرمایا : الناس بنو آدم وآدم من تراب. ’’تمام بنی نوع انسان، آدم کی اولاد ہیں اور آدم مٹی سے تخلیق کئے گئے تھے۔‘‘ 1. ترمذی، السنن، کتاب المناقب، باب فضل الشام، 5 : 735، رقم : 3956 2. أبوداود، السنن، کتاب الأدب، باب فی التفاخر، 6 : 331، رقم : 5116 ألا! کل مأثرة أو دم أو مال يدعی به فهو تحت قدمی هاتين. ’’اب فضیلت و برتری کے سارے (جھوٹے) دعوے، جان و مال کے سارے مطالبے اور سارے انتقام میرے پاؤں تلے روندے جاچکے ہیں۔‘‘ ابن کثير، تفسير القرآن العظيم، 1 : 516 طبری، تاريخ الأمم والملوک، 2 : 161 أيها الناس، إن ربکم واحد وأباکم واحد. ’’اے لوگو! تم سب کا رب ایک ہے، اور باپ بھی ایک ہے۔‘‘ هيثمی، مجمع الزوائد، 3 : 266 إن أکرمکم عند اﷲ أتقاکم فليس لعربی علی عجمی فضل ولا لعجمی علی عربی ولا لأسود علی أبيض ولا لأبيض علی أسود فضل إلا بالتقوي. (اس وحدت نسل انسانی کے باعث تم سب برابر ہو) مگر تم میں بزرگ و برتر وہی ہے جو زیادہ پرہیزگار (بہتر کردار کا مالک) ہے۔ پس کسی عربی کو عجمی پر اور کسی عجمی کو عربی پر کوئی برتری نہیں اور نہ ہی کسی کالے کو گورے پر اور کسی گورے کو کالے پر برتری حاصل ہے ساری برتریاں، کردار و عمل پر مبنی ہیں۔‘‘ طبرانی، المعجم الکبير، 18 : 12، رقم : 16 یہ مساوات انسانی کا وہ عالمی اصول تھا جس پر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بین الاقوامی سطح پر جمہوری اور عادلانہ انسانی معاشرے کی بنیاد رکھی یہی اصول آگے چل کر عالمی جمہوریت کے قیام (Establishment of World Democracy) کا باعث بنا۔ 5۔ معاشی و اِقتصادی اِستحصال کا خاتمہ (Eradication of Economic Exploitation) حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسی ورلڈ آرڈر کے ذریعے سود کو استحصالی نظام قرار دے کر اسے کلیتاً مسترد بلکہ ختم کرنے کا اعلان فرمایا۔ ارشاد فرمایا : وإن کل ربا موضوع ولکم رؤوس أموالکم لا تظلمون ولا تظلمون. ’’بے شک آج سے ہر قسم کا سود (اور سارا سودی نظام) منسوخ کیا جاتا ہے تم اپنے سرمائے کے سوا نہ کچھ لے سکتے ہو اور نہ کچھ دے سکتے ہو۔ نہ تم سودی لین دین کی شکل میں ایک دوسرے پر ظلم کرو اور نہ قیامت کے دن تم پر ظلم کیا جائے گا۔‘‘ ابويعلی، المسند، 3 : 139، رقم : 1596 قضی اﷲ أنه لا ربا. ’’یہ فیصلہ اللہ تعالیٰ نے فرما دیا ہے کہ سود (اور اس پر مبنی ہر قسم کا اقتصادی استحصال) ممنوع ہے۔‘‘ طبری، تاريخ الأمم والملوک، 2 : 205 ابن خلدون، تاريخ ابن خلدون، 2 : 480 6۔ عورتوں کے حقوق کا تحفظ (Protection of Women Rights) حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سابقہ عالمی نظام میں خواتین پر روا رکھے گئے تمام مظالم کے خاتمے کا اعلان فرمایا اور ان کے حقوق کے تحفظ کی ضمانت فراہم کی۔ ارشاد فرمایا : أيها الناس! فإن لکم علی نسائکم حقًا ولهن عليکم حقًا . . . واستوصوا بالنساء خيرًا، فاتقوا اﷲ في نسائکم. ’’اے لوگو! بے شک تمہارے کچھ حقوق عورتوں پر واجب ہیں اور اسی طرح عورتوں کے کچھ حقوق تم پر واجب ہیں (ان کی پوری طرح حفاظت کرنا) عورتوں سے ہمیشہ بہتر سلوک کرنا اور عورتوں کے حقوق کے معاملے میں ہمیشہ اللہ سے ڈرتے رہنا۔‘‘ طبری، تاريخ الأمم والملوک، 2 : 206 ابن خلدون، تاريخ ابن خلدون، 2 : 480 7۔ زیردست اور افلاس زدہ اِنسانیت کے حقوق کا تحفظ (Protection of Rights of the Poor and Depressed Classes) حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عالمی سطح پر عادلانہ اور غیر استحصالی انسانی معاشرہ قائم کرنے کے لئے یہ عظیم انقلابی اعلان بھی فرمایا : أرقّائکم أرقّائکم اطعموهم مما تأکلون واکسوهم مما تلبسون. ’’لوگو! زیردست انسانوں کا خیال رکھنا، زیر دستوں کا خیال رکھنا۔ انہیں وہی کچھ کھلاؤ جو خود کھاتے ہو اور ایسا ہی پہناؤ جیسا تم خود پہنتے ہو۔‘‘ 1. ابن سعد، الطبقات الکبری، 2 : 185 2. طبرانی، المعجم الکبير، 22 : 243، رقم : 636 3. منذری، الترغيب والترهيب، 3 : 150، رقم : 3449 اس اعلان نے عالمی نظام سے غلامی کے خاتمے کی بنیاد رکھ دی۔ اور انسانی طبقات میں غیر فطری تفاوت کے خلاف انقلاب آفریں نظام وضع کردیا۔ الغرض حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے خطبہ حجۃ الوداع کے ذریعے انسانیت کو ایسا نیو ورلڈ آرڈر (نیا عالمی نظام) عطا فرمایا جو آج بھی زندہ و تابندہ ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ آج عالم اسلام عملاً اس کی قدر و قیمت کا صحیح اندازہ کر رہا ہے یا نہیں۔ اسلام کی تاریخ میں یہ نیو ورلڈ آرڈر آج بھی دنیا کو ایسے اصول فراہم کرتا ہے جن پر عمل پیرا ہوکر دنیا امن کا گہوارہ بن سکتی ہے اس لئے امت مسلمہ کو رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عطا کئے ہوئے ورلڈ آرڈر کی موجودگی میں کسی اور ورلڈ آرڈر کی ضرورت نہیں۔ اسلامک ورلڈ آرڈر کے تحت پوری دنیا سے ظلم و نا انصافی کے خاتمے اور نظام مساوات و انصاف کے نفاذ کی عملی جدوجہد کا آغاز ہوا اور جلد ہی اسلام کی اس ابھرتی ہوئی طاقت نے روم اور فارس کی دونوں عالمی استحصالی طاقتوں کو چیلنج کردیا اور ان طاقتوں کو عبرتناک شکست سے دوچار ہونا پڑا۔ یوں دنیا میں اسلامک ورلڈ آرڈر کا نفاذ کر دیا گیا۔ اس ورلڈ آرڈر کے نفاذ سے بدامنی اور ظلم و بربریت کا خاتمہ ہوگیا اور ایک ایسے بین الاقوامی معاشرے کا آغاز ہوا جس میں خیر، تعمیر، ارتقاء اور عدل ہی عدل تھا۔ جو انسان کے بنیادی حقوق کا ضامن تھا۔ جس میں بین الاقوامی قوانین کی پاسداری، عالمی امن کے قیام، پر امن بقائے باہمی، غلامی سے نجات، حق کی معاونت اور ظلم سے نجات کے سنہری اصول دیئے گئے تھے۔ اسلامک ورلڈ آرڈر کے سنہری اصولوں کے تحت خلفائے راشدین کے عہد خلافت میں 661ء تک مسلمانوں نے جتنے علاقوں کو فتح کیا وہاں کے غیر منصفانہ اور مستبدانہ قوانین کو منسوخ کردیا گیا۔ اور وہاں کی آبادی کو ہی اقتدار میں شریک کیا گیا۔ عہد خلافت راشدہ اور دور بنو امیہ سے لے کر سلطنت عثمانیہ (موجودہ بیسویں صدی عیسوی کے اوائل) تک مسلمانوں نے اسلامک ورلڈ آرڈر کے اصولوں کے مطابق بین الاقوامی سیاست میں نمایاں کردار ادا کیا اور مسلمانوں کے ہر فاتح نے انہی اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی داخلہ و خارجہ پالیسیوں کو تشکیل دیا۔