منطق

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ * لا الہٰ الا اللہ محمّد رسول اللہ * قُلْ هُوَ اللّـٰهُ اَحَدٌ - اَللَّـهُ الصَّمَدُ - لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُوْلَدْ - وَلَمْ يَكُنْ لَّـهٝ كُفُوًا اَحَدٌ

2017-07-18 13:15:35    54 Views شخصیت پرستی اور ہم  /  ثمرینہ علی

شخصیت پرستی اور ہم

ٹی وی پر کوئی سا نیوز چینل لگا لیں۔۔ ایک بندہ بشر منہ سے کف اڑاتے ، ہاتھ ہلاتے ہوئے اپنے لیڈر کی تعریف میں زمین آسمان کے قلابے ملاتا ہوا اور مخالف لیڈر کی ایسی کی تیسی کرتا ہوا نظر آئے گا۔۔۔ اور جو حسرت ٹی وی پر نہ نکل سکے وہ سوشل میڈیا کے ذریعے پوری کی جاتی ہے جہاں لوگ اپنے پسندیدہ لیڈر کے گن گان گاتے اور مخالف پر دشنام طرازی کرتے نظر آئیں گے۔ یہ شدت پسندانہ رویہ ہمیں ہر شعبے اور مکتبہ فکر کے لوگوں میں نظر آتا ہے ۔ اسی رویہ کا نام شخصیت پرستی ہے۔۔

شخصیت پرستی کا رحجان قدیم زمانے سے ہی کسی نا کسی شکل میں موجود رہا ہے۔ زمانہ قدیم میں مختلف قبائل کے سردار اپنے آپ کو دیوتا کہلواتے تھے ۔ یونان اور روما کے بادشاہ اپنے آپ کو دیوتاوں کا پسندیدہ قرار دیتے تھے اور رعیت کو فرض قرار دیتے تھے۔ تاریخ میں ایسے کئی نیک اور اللہ کے پسندیدہ بندوں کے نام ملتے ہیں جن کے مرنے کے بعد ان کی قوم نے ان کے مجسمے اور تصاویر بنا لیں اور تعلیمات کو بھلا کر ان مجسموں کی پرستش کرنے لگے۔ شخصیت پرستی کو انسانی فطرت قرار دیا جا سکتا ہے۔ اسی فطرت کے ہاتھوں مجبور ہو کر اس نے اپنے جیسے انسان کو سر آنکھوں پر بیٹھایا، اسے اپنے سے برتر اور بالادست سمجھا۔اس کی خامیوں سے صرفِ نظر کرکے اس کی خوبیوں کو بڑھا چڑھا کر بیان کیا ۔ کسی بھی کام کے غلط یا درست ہونے کا پیمانہ اس شخص کی ذاتی پسند نا پسند کو ٹھہرایا۔ شخصیت پرستی کے زیر اثر ہم سنی سنائی باتوں اور افواہوں پر یقین کر لینے، چھوٹی چھوٹی عنائیتو ں سے خوش ہو جانے ، جھوٹے وعدوں پر یقین کر لینے ، جذباتی تقاریر سے جوش میں آجانے اور ان شخصیات کے لیے لڑنے مرنے پر آمادہ ہو جاتے ہیں۔

دیکھا جائے تو انسان کا طرہ امتیاز سوچ سمجھنے کی صلاحیت ہے جو کہ اس کو باقی نوع سے منفرد کرتی ہے۔ دیگر نوع عقل و شعور سے بیگانہ ہوتیں ہیں جبکہ اللہ تعالی نے انسان کو عقل و شعور اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ودیعت کی اور اگر حضرت انسان اسی سوچنے سمجھنےکو بالائے طاق رکھ کر دوسروں کے احکام اور پسند کے مطابق کام کرے تو کیا اسے باشعور اور عقل مندانہ رویہ کہا جائے گا؟؟ یقیناََ جواب نہیں ہوگا۔

یہ اسی شخصیت پرستی کا اعجاز ہے آج ہمارا معاشرہ مسائلستان بن چکا ہے۔

سمجھنے کی بات یہ ہے کہ ہر '' انسان '' میں خوبیاں بھی ہوتیں اور خامیاں بھی۔ ہر انسان اپنے فائدہ کے لیے کبھی سچ اور جھوٹ کا سہارا لے سکتا ہے۔اس لیے کسی بھی فرد کی بیجا حمایت یا مخالفت کرنا صحت مندانہ رویہ نہیں ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے رویوں پر نظر ثانی کریں اور اس شدت پسند رویہ کی ہر سطح پر نفی کریں ، کیونکہ شخصیت پرستی میں جکڑے ہوئے لوگ اس ہجوم کی طرح ہیں جو کہ شور و غوغا تو کر سکتے ہیں لیکن معاشرے کی اصلاح نہیں۔

اللہ تعالی ہمیں سیدھی راہ پر چلنے اور عمل کرنے کی توفیق عطا کرے ۔ آمین

جگہ براۓ اشتہار

جگہ براۓ اشتہار