منطق

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ * لا الہٰ الا اللہ محمّد رسول اللہ * قُلْ هُوَ اللّـٰهُ اَحَدٌ - اَللَّـهُ الصَّمَدُ - لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُوْلَدْ - وَلَمْ يَكُنْ لَّـهٝ كُفُوًا اَحَدٌ

2017-07-16 05:38:12    50 Views یورپ میں دہریت کے اسباب  /  محمد اسحاق قریشی

یورپ میں دہریت کے اسباب

زمانہ قدیم میں چرچ زندگی کے تمام معاملات میں اس قدر حاوی تھا کہ سلطنتوں کے خارجہ تعلقات تک چرچ کی مرضی سے تشکیل دیئے جاتے تھے۔ وقت کا بادشاہ تک چرچ کا مطیع اور فرمانبردار تھا اور چرچ کے فیصلے کے خلاف جانے کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔
٭ زمانہ وسطیٰ میں جب کائناتی تحقیقت شروع ہوئیں تو اس سے قبل چرچ نے عوام اور عوامی شعبوں پر زبردست فوقیت حاصل کر لی تھی ۔ ان کا سلوک اور رویہ آمرانہ ہو گیا تھا۔ہر بات کے احکام کی چرچ کے نام سے جبراََ تعمیل کرائی جاتی تھی ۔بادشاہوں اور ان کی سلطنتوں کے معاملات میں بھی غیر ضروری مداخلتیں ہونے لگیں۔حتیٰ کہ قیصر روم اور شاہ انگلستان کو بھی چرچ کے احکامات کے آگے سر جھکانا پڑتا تھا۔جس کی وجہ سے چرچ اور مذہب کے خلاف ایک عام تنفر پھیل گیا۔
٭ دوسری وجہ یہ تھی کہ پڑھا لکھا طبقہ چرچ کی اس بالا دستی سے محفوظ نہ رہ سکا۔ کٹر قسم کے ان پڑھ اور جاہل پادریوں کی تنگ دلی اور تعصب نے پڑھے لکھے اور قابل سائنس دانوں کے حوصلے پست کر دیئے۔ان کی علمی تحقیقات اور تجربات کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کی گئیں۔کائناتی تحقیقات کو جرم قرار دے کر ان کو تکالیف اور اذیتیں دی گئیں۔ان کی تحقیقاتی کتابوں کے پڑھنے پر پابندی لگا دی گئی۔ جس کی وجہ سے سائنس دان مذہب اور چرچ سے متنفر ہو گئے۔
٭ تیسری وجہ یہ تھی کہ وہ تمام مذہبی کتابیں جن پر وہ لوگ یقین رکھتے تھے ان کی علمی جستجو کی پیاس نہ بجھا سکیں۔تخلیق کائنات کے متعلق ان کی کتابوں میں ایسے اشارات بھی نہیں تھے جو ان کی راہنمائی کر سکیں۔ ان کو اپنے مذہب کی کم وسعتی کا احساس ہونے لگا۔چنانچہ ان کے دلوں میں مذہب سے کنارہ کشی کی رغبت پرورش پانے لگی۔
٭ چوتھی وجہ یہ تھی کہ سائنسی تحقیقات عجیب و غریب اور حیرت انگیز رازوں کا انکشاف کر رہی تھیں ۔ جن کا ذکر ان کی کتابوں میں اشارتاََ بھی نہیں تھا۔خاص طور پر بائبل شدید تنقید کا شکار ہو چکی تھی۔اور بطلیموس کا نظریہ بری طرح فیل ہو چکا تھا۔انہوں نے سائنسی تحقیقات کو مذہبی نظریات پر فوقیت و ترجیح دی۔ان کو وہ تمام کائناتی قصے مضحکہ خیز نظر آنے لگے جو اس سے پہلے صحیح سمجھے جاتے تھے۔انہوں نے اپنی تحقیقات کو سائنس کا نام دے کر مذہب اور چرچ کی پابندیوں سے آزاد ہونا شروع کر دیا ۔ جو اس وقت ان کی تحقیقات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ تھے۔
٭ پانچویں وجہ یہ تھی کہ اگر وہ مادہ کی تخلیق کو ذات الہٰی سے وابستہ کر دیتے تو اس کا مطلب چرچ کی بالا دستی کو تسلیم کرنا اور اس کے ان پڑھ اور جاہل پادریوں کے سامنے اپنا سر جھکانا تھا جو اپنے آپ کو چرچ کا ٹھیکیدار سمجھے ہوئے تھے۔اس زمانے میں کلیسا کے تقریباََ تمام پادری ان پڑھ تھے بعض معمولی لکھنا پڑھنا جانتے تھے۔اس لیئے انہوں نے اپنی تحقیقات کو پادریوں کا مرہون منت نہیں بنانا چاہا اور تخلیق کائنات کو جو کہ ایک کثیر مادہ کا سراغ دے رہی تھی ، خدا سے وابستہ کرنے سے گریز کیا۔انہوں نے یونانی مفکرین کی طرح ہی مادہ کو اصل اور ہیولیٰ سمجھ کر اللہ کے وجود سے ہی انکار کر دیا۔ اور دہریہ کہلانے لگ گئے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ دہریت عام ہو گئی اور ہر تعلیم یافتہ اپنے آپ کو دہریہ کہلوانے میں فخر محسوس کرنے لگ گیا۔
٭ چھٹی وجہ یہ تھی کہ سائنسی تحقیقت کو جرم قرار دے کر فلکیاتی تحقیقات میں مصروف تقریباََ تین لاکھ سائنس دانوں کو مختلف سزائین دی گئیں۔اور کم و بیش تیس ہزار سائنس دانوں کو زندہ جلا دیا گیا۔ جس کی وجہ سے پڑھے لکھے لوگوں کے ذہنوں میں چرچ سے بغاوت کا خیال مضبوطی پکڑتا گیا اور لوگ ان سائنس دانوں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے دہریے بن گئے اور نتیجہ کے طور پر دہریت میں اضافہ ہوا

جگہ براۓ اشتہار

جگہ براۓ اشتہار