منطق

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ * لا الہٰ الا اللہ محمّد رسول اللہ * قُلْ هُوَ اللّـٰهُ اَحَدٌ - اَللَّـهُ الصَّمَدُ - لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُوْلَدْ - وَلَمْ يَكُنْ لَّـهٝ كُفُوًا اَحَدٌ

2017-07-13 18:14:29    101 Views فرانسیسی مستشرق مورس بکائلے اور قرآن  /  صباءسعید

فرانسیسی مستشرق مورس بکائلے اور قرآن

مورس بکائلے نے قرآن اور بائبل دونوں کو جدید سائنسی علوم کی روشنی میں پرکھا ہے- اور وہ جس نتیجے پر پہنچا ہے اسے اس نے اپنی کتاب The bible, The Quran and Science میں بیان کیا ہے یہاں ہم اس کے چند تاثرات نقل کرتے ہیں- اور بعد میں قرآن کریم کی ان آیات کی جھلک پیش کریں گے جنہوں نے مورس بکائلے کے قلم کو ان تاثرات کے اظہار پر مجبور کیا ہے-مشترق مذکور لکھتا ہے-

یہ سائنسی خیالات جن کا قرآن کے ساتھ بڑا گہرا تعلق ہے انہوں نے ابتداء میں مجھے حیرت میں مبتلا کردیا-اس وقت تک میں نے یہ سوچا تک نہ تھا کہ ایک کتاب جو تیرہ صدیوں سے زیادہ عرصہ پہلے تالیف ہوئی اس میں بے شمار ایسے بیانات کا موجود ہونا ممکن ہے جو سب کے سب سائنسی معلومات کلیتہ ہم آہنگ ہیں-تخلیق کائنات فلکیات اور ایسے معاملات کی تشریح جن کا تعلق زمین بناتات حیوانات اور انسانی افزائش نسل سے ہے-

بائیبل میں بے شمار غلطیاں موجود ہیں لیکن قرآن حکیم میں کسی ایک غلطی کی نشاندہی نہ کرسکا -میں مجبور ہوکر رک گیا اور اپنے آپ سے سوال کیا اگر کوئی انسان ہی قرآن کا مصنف ہوتا تو وہ ساتویں صدی میں ایسی چیزیں کیسے لکھ سکتا تھاجن کے متعلق آج یہ ظاہر ہورہا ہے کہ وہ جدید سائنسی معلومات سے کلیتہ ہم آہنگ ہیں- اس بارے میں قطعا کوئی شک نہیں کہ آج قرآن کا جو متن ہمارے سامنے ہی یہ بعینہ وہی ہے جو ساتویں صدی میں تھا- اس مشاہدے کی انسانی توجیہ کیا ہو سکتی ہے؟ میری رائے میں اس کی کوئی انسانی توجیہ ممکن نہیں-اس بات کی کوئی خاص وجہ نظر نہیں آتی کہ جس زمانے میں فرانس پر ٰڈیگوبرٹٰ بادشاہ حکومت کررہا تھا اس زمانے میں جزیرہ عرب پرایک شخص کے پاس مختلف موضوعات پر اتنی سائنسی معلومات ہوں جو خود ہمارے دور سے بھی دس صدیاں آگے کی ہیں- مستشرق مذکور کہتا ہے کہ قرآن حکیم میں ایسے سائنسی انکشافات بھی ہیں جن تک ابھی سائنس نہیں پہنچ سکی لیکن وہ ان رک پہنچنے کے لیے مصروف عمل ہے-

وہ کہتا ہے اس ضمن میں میرا خیال ہے کہ مجھے قرآن میں ایسے بیانات نظر آئے جو اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ کائنات میں کچھ ایسے سیارےموجود ہیں جو بالکل زمین کے مشابہ ہیں - یہاں اس بات کا اضافہ کرنا ضروری ہے کہ اکثر سائنس دان اسکو ایک مکمل طور پر ممکن حقیقت تسلیم کرتے ہیں اگر چہ موجودہ سائنسی معلومات نے ابھی تک اس بات کے یقینی ہونے کا کوئی اشارہ نہیں دیا- حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کو مصنف قرآن کہنے والوں کے بارے میں مورس بکائلے کہتا ہے: ۴-یہ مشاہدہ ان لوگوں کے دعوے کو قطعی طور پر ناقابل مدافعت بنادیتا ہے جو محمدصلی اللہ علیہ وسلم کو قرآن کا مصنف قرار دیتے ہیں- یہ کیسے ممکن تھا کہ ایک شخص ناخواندگی کی حالت میں ابھرتا اور اہم ترین مصنف بن جاتا اور اس کی تصنیف اپنی ادبی خوبیوں کی وجہ سے تمام ادب پر چھا جاتی اور یہ کیسے ممکن تھا کہ وہ شخص سائنسی نوعیت کی ایسی سچائیوں کا اعلان کرتا جن تک اس دور کے کسی انسان کی رسائی نہ تھی اور ان اعلانات میں اس سے ذرہ برابر غلطی نہ ہوتی- آخر میں اپنا فیصلہ سناتے ہوئے مورس بکائلے کہتا ہے-

ان خیالات سے یہ نتیجہ برآمد ہوگا کہ یہ بات بالکل ناقابل تصور ہے کہ ساتویں صدی عیسوی میں رہنے والا ایک انسان قرآن میں مختلف موضوعات پر ایسی چیزیں بیان کرتا جن کا تعلق اس کے زمانے سے نہ تھا اور اس کے بیانات ان حقائق سے بالکل ہم آہنگ ہوتے جن کا انکشاف کئ صدیاں بعد ہوا - میرت نزدیک قرآن کے انسانی کلام ہونے کی کوئی توجیہ ممکن نہییں-

موعس بکائلے قرآن کریم کی جن آیات سے بے حد متاثر ہوا وہ درج ذیل ہیں-

"کیا کفار نہیں دیکھتے کہ زمین وآسمان باہم ملے ہوئے تھے پھر ہم نے ان کو الگ الگ کیا اور ہم نے ہر زندہ شے پانی سے بنائی"-

"مزید براں اللہ تعالی آسمان کی طرف موجہ ہوا جب کہ یہ دھواں تھا اور اس سے اور زمین سے فرمایا-"

"کیا تم نے دیکھا کہ کس طرح اللہ نے سات آسمان پیدا کیے ایک کے اوپر دوسرا اور اس نے چاند کو روشنی اور سورج کو چراغ بنایا-"

"ہم نے تمہارے اوپر سات مضبوط آسمان بنائے ہیں اور ایک بھڑکتا ہوا سورج رکھا-"

"نہ سورج چاند کوپیچھے سے پکڑسکتاہے اور نہ رات دن سے آگے نکل سکتی ہے - سب ایک مدار میں اپنی ذاتی حرکت سے محوسفر ہیں-"

"وہ لپیٹتا ہے دن کو رات پر اور رات کو دن پر-"

"اے گروہ جن وانس ! اگر تم آسمان اور زمین کے خطوں سے پار ہوسکتے ہوتو ہوجاو تم بغیر طاقت کے ان سے پار نہیں ہوسکتے-"

"اللہ تعالی وہ ہے جس نے آسمان سے پانی اتارا اور اس کے ذریعے ہم نے نباتات کے کئ جوڑے نکالے- ہر جوڑا دوسرے جوڑے سے مختلف ہے-"

"اور اللہ تعالی نے تمام پھلوں کے دو دو جوڑے بنائے-"

"تمہارے رب نے شہد کی مکھی کے دل میں یہ بات ڈال دی بناو اپنی رہائش گاہ پہاڑوں میں درختوں کے اندر اور ان چھپروں میں جو لوگ بناتے ہیں- کھا ہر قسم کے پھلوں سے اور چلتی رہ اپنے رب کے راستوں پر عاجزی کے ساتھ- ان کے جسموں سے مختلف رنگوں کا ایک مشروب نکلتا ہے جس میں لوگوں کے لیے شفاء ہے-"

"کیا انسان تولیدی مادہ کی ایک معمولی مقدار نہ تھا جسے ٹپکایا جاتا ہے- اس کے بعد وہ ایک ایسی چیز تھا جو چمٹ جاتی ہے اور اللہ تعالی نے اسے درست اعضاء کے ساتھ پیدا فرمایا-"

ان تمام تحقیقات و وجوہات کی بنا پر مورس بکائلے نے بلآخرحق کو پہچان لیا اور اسلام قبول کر لیا.

الحمد للہ علی العظیم

جگہ براۓ اشتہار

جگہ براۓ اشتہار