منطق

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ * لا الہٰ الا اللہ محمّد رسول اللہ * قُلْ هُوَ اللّـٰهُ اَحَدٌ - اَللَّـهُ الصَّمَدُ - لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُوْلَدْ - وَلَمْ يَكُنْ لَّـهٝ كُفُوًا اَحَدٌ

2017-07-13 13:06:54    90 Views گستاخ رسول ﷺ کے متعلق علما و فقہا کے فتاوی جات  /  محمد اسحاق قریشی

گستاخ رسول ﷺ کے متعلق علما و فقہا کے فتاوی جات


1. امام مالک فرماتے ہیں : من سب رسول اللہ ا او شتمہ او عابہ او تنقصہ قتل مسلما کان او کافرا ولا یسطاب (الصارم المسلول ص ۵۲۶) ’’
جس شخص نے حضورا کو گالی دی یا آپ کی طرف عیب منسوب کیا یا آپ کی شان اقدس میں تحقیر و تنقیص کا ارتکاب کیا خواہ وہ مسلمان ہو یا کافر اسے قتل کر دیا جائے گا اس کی توبہ بھی قبول نہیں کی جائے گی

2. امام احمد بن حنبل فرماتے ہیں : کل من شتم النبی او تنقصہ مسلما کان او کافرا فعلیہ القتل (الصارم المسلول ص ۵۲۵)

3.امام ابو یوسف فرماتے ہیں : وایما رجل مسلم سب رسول ا او کذبہ او عابہ او تنقصہ فقد کفر با اللہ وبانت منہ زوجہ۔ (کتاب الخراج ص ۱۸۲)
ترجمہ:کوئی بھی مسلمان جو رسول اللہ ا کو گالی دے یا آپ کی تکذیب کرے یا عیب جوئی کرے یا آپ کی شان میں کمی کرے اس نے یقینا اللہ کا انکار کیا اور اس کی بیوی اس کے نکاح سے نکل گئی ۔ (جد ا ہو گئی)

4.قاضی عیاض علیہ الرحمۃ بیان کرتے ہیں : ہر شخص جس نے رسول اکرم ا کو گالی دی اور آپ کی طرف عیب منسوب کیا یا آپ کی ذات اقدس کے متعلق اور نسب وحسب اور آپ کے لائے ہو ئے دین اسلام یا آپ کی عادات کریمہ میں سے کسی عادت کی طرف کوئی نقص وکمی منسوب کی یا اشارۃً کنائۃً آپ کی شان اقدس میں نا مناسب وناموزوں بات کہی یا آپ کو کسی شے سے گالی دینے کی طریق پر تشبیہہ دی یا آپ کی شان وعظمت وتقدس اور رفعت کی تنقیص وکمی چاہی یا آپ کے مقام و مرتبے کی کمی کا خواہش مند ہو یا عیب جوئی کی تو فھو سب والحکم فیہ حکم الساب لیقتل (الشفا ء ج ۲ ص ۲۲) ’’یہ شخص سب وشتم کرنے والا ہے اس میں گالی دینے والے کا حکم ہی جاری ہو گا اور وہ یہ کہ قتل کر دیا جائے گا ‘‘۔
امام احمد بن سلمان نے فرمایا: من قا ل ان النبی کان اسود یقتل (الشفا ء ج ۲ ص ۶۳۹)
’’جس شخص نے کہا حضور ا کا رنگ سیاہ ہے وہ قتل کر دیا جائے گا ‘‘۔

5. امام ابو بکر بن علی نیشا پوری فرماتے ہیں ـ: اجمع عوام اہل العلم علی ان من سب النبی یقتل قال ذالک مالک بن انس واللیث واحمد واسحاق وھو مذہب الشافعی وھو منتھیٰ قول ابی بکر
(الصارم المسلول درالمختار ۲۳۲)
’’سب اہل علم کا اس بات پر اجماع ہے کہ جس شخص نے نبی اکرم ا کو سب وشتم کیا وہ قتل کیا جائے گا ۔ جن آئمہ کرام نے یہ فتوی دیا ان میں امام مالک امام لیث امام احمد وامام اسحاق شامل ہیں یہی امام شافعی کا مذہب ہے اور یہی حضرت ابو بکر صدیق کے قول کا مدعا ہے ‘‘۔
تنویر الابصار اور در مختار فقہ حنفی کی بڑی مستند کتابیں ہیں ان میں یہ عبارت در ج ہے : کل مسلم ارتدفتو بتہ مقبولۃ الا الکافر بسب نبی من الانبیاء فانہ یقتل حدا ولا تقبل توبتہ مطلقاً ‘‘(در المختار جلد ۴ صفحہ ۲۳۱) ’’جو مسلمان مرتد ہو اس کی توبہ قبول کی جائے گی سوائے اس کافر ومرتد کے جو انبیاء علیہم السلام میں سے کسی بھی نبی کو گالی دے تو اسے حداً قتل کر دیا جائے گا اور مطلقا اس کی توبہ قبول نہ کی جائے گی ‘‘

6. امام ابن سحنون مالکی نے فرمایا : اجمع المسلمون ان شاتمہ کافر وحکمہ القتل ومن شک فی عذابہ وکفرہٖ کفر (در المختار جلد ۴ صفحہ ۲۳۳)
 ’’مسلمانوں کا اس امر پر اجماع ہے کہ حضور نبی ا کو گالی دینے والا کافر ہے اور اس کا حکم قتل ہے جو اس کے عذاب اور کفر میں شک کرے وہ کافر ہے ‘

7. مام ابن عتاب مالکی نے حضور اکرم ا کی بے ادبی اور گستاخی کرنے والے کے لئے سزائے موت کا فتویٰ دیا ہے : الکتاب والسنۃ موجبان ان من قصد النبی باذی او نقص معرضا او مصر حاوان قل فقتلہ واجب فھدا الباب کلہ مماعدہ العلماء سبا او تنقصا وجب قتل قائلہ لم یختلف فی ذالک متقدمھم ولا متاخرھم ۔ ’’
قرآن وسنت اس بات کو واجب کرتے ہیں کہ جو شخص رسول اللہ ا کی ایذا کا ارادہ کرے صریح وغیر صریح طور پر یعنی اشارہ وکنایہ کے انداز میں آپ کی تنقیص کرے اگرچہ قلیل ہی کیوں نہ ہو تو ایسے شخص کو قتل کرنا واجب ہے اس باب میں جن جن چیزوں کو آئمہ وعلماء کرام نے سب وتنقیص میں شمار کیا ہے آئمہ متقدمین ومتاخرین کے نزدیک بالاتفاق اس کے قائل کا قتل واجب ہے ‘‘۔

8. امام ابن الھمام حنفی کا فتوی : والذی عند ی من سبہ او نسبہ مالا ینبغی الی اللہ تعالیٰ وان کانوا لا یعتقد ونہ کنسبۃ الولدالی اللہ تعالیٰ وتقدس عن ذالک اذا اظھرہ یقتل بہ وینتقض عھدہ ۔ (فتح القدیر ج ۵ ص ۳۰۳) ’’میرے نزدیک مختار یہ ہے کہ ذمی نے اگر حضور ا کو گالی دی یا غیر مناسب چیز اللہ تعالیٰ کی طر ف منسوب کی جو کہ ان کے عقائد سے خارج ہے جسے اللہ تعالیٰ کی طرف بیٹے کی نسبت حالانکہ وہ اس سے پاک ہے جب وہ ایسی چیز کا اظہار کرے گا تو اسے قتل کیا جائے گا اور اس کا عہد ٹوٹ جائے گا ‘‘۔

9. امام ابو سلیمان خطابی کا فتویٰ : لا اعلم احدا من المسلمین اختلف فی وجوب قتلہ اذا کان مسلما ۔ (الشفاء ۲ ص ۹۳۵)
’’میں مسلمانوں سے کسی ایک فرد کو بھی نہیں جانتا جس نے گستاخ رسول کی سزائے قتل کے واجب ہو نے میں اختلاف کیا ہو جبکہ وہ مسلمان بھی ہو ‘

10. بو بکر الجصاص کا فتوی : ولا خلاف بین المسلمین ان من قصد النبی صلی اللہ بذالک فھو فمن ینتحل الاسلام انہ مرتد یستحق القتل (احکام القرآن للجصاص ج ۳ ص ۱۰۹)
 ’’مسلمانوں کے مابین اس میں کسی کا اختلاف نہیں کہ جس نے رسول اللہ ا کی اہانت وایذا کا قصد کیا حالانکہ وہ خود کو مسلمان بھی کہلواتا ہو تو ایسا شخص مرتد اور مستحق قتل ہے ‘‘۔

11. امام حصکفی کا فتویٰ : من نقص مقام الرسالۃ بقولہ بان سبہ او بفعلہ بان بغضہ بفعلہٖ قتل حدا (درالمختار ۴ص ۲۳۲)
’’جس شخص نے مقام رسالت مآب ا کی تنقیص وتحقیر اپنے قول کے ذریعے بایں صورت کہ آپ کو گالی دی یا اپنے فعل سے اس طرح کہ دل سے آپ سے بغض رکھا تو وہ شخص بطور حد قتل کر دیا جائے گا ‘‘

12. علامہ ابن تیمیہ مزید لکھتے ہیں : واذا کان کذالک وجب علینا ان ننصر لہ ممن انتھک عرضہ والانتصار لہ با لقتل لان انتھاک عرضہ انتھاک دین اللہ (الصارم المسلول ص ۲۱۱)
’’اور جب یہ حقیقت ہم پر لازم ہے کہ حضور ا کی خاطر اس شخص کے خلاف صدائے احتجاج بلند کریں جو آپ کی شان میں گستاخی کرے اور احتجاج یہ ہے کہ اسے قتل کردیں اس لئے آپ ا کی عزت کو پامال کر نا اللہ کے دین کی اہانت کرنا ہے ‘

13. فتاوٰی حامدیہ میں ہے : فقد صرح علماء نافی غالب کتبھم بان من سب رسول اللہ ا أو احدا ً من الانبیاء علیھم الصلٰوۃ والسلام وااستخف بھم فانہ یقتل حدا ولا توبۃ لہ اصلاً سواء بعد القدرۃ علیہ والشھادۃ او جاء تایباً من قبل نفسہ لا تہ حق تعلق بہ حق البعد فلا یسقط بالتوبۃ کسائر حقوق الآدمیین ووقع فی عبارۃ البزازیہ ولو عاب نبیاً کفر (فتاوٰی حامدیہ صفحہ ۱۷۳)
’’ہمارے علماء کرام نے اپنی اکثر کتب میں اس بات کی تصریح فرمائی ہے کہ جو شخص رسول اللہ ا کی توہین کرے یا انبیاء کرام میں سے کسی بھی نبی کی توہین کرے ۔ یا ان کا استخفاف کرے تو اس کو بطور حد قتل کیا جائے گا ۔ اس کی توبہ اصلاً قبول نہیں ۔ خواہ گرفتار ہونے اور شہادت پیش ہونے بعد توبہ کرے یا گرفتاری اور شہادت سے قبل از خود توبہ کر لے بہر صورت ا س کی توبہ مقبول نہیں ۔ کیونکہ یہ ایسا حق ہے جس کے ساتھ حق عبد متعلق ہو چکا ہے ۔ لہذا انسانوں کے تمام حقوق کی طرح یہ حق بھی توبہ سے ساقط نہیں ہو گا اور بزازیہ کی عبارت میں ہے جو شخص کسی نبی پر عیب لگائے وہ اس کے سبب کا فر ہو جائے گا ‘‘۔

14. گستاخ رسول کے قتل پر صحابہ کا اجماع : علامہ ابن تیمیہ مذکورہ مسئلے میں صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کے اجماع کا ذکر ان الفاظ میں کرتے ہیں ۔ اما اجماع الصحابہ فلان ذالک نقل عنھم فی قضا یا متعددۃ ینتشر مثلھا ویستفیض ولم ینکر ھا احد منھم فصارت اجماعا (الصارم المسلول ۲۰۰)
 ’’مذکورہ مسئلے پر اجماع صحابہ کا ثبوت یہ ہے کہ یہی بات (گستاخان رسول ا واجب القتل ہے ان کے بہت سے فیصلوں سے ثابت ہے مزید برآں کہ ایسی چیز مشہور ہو جاتی تھی لیکن اس کے باوجود کسی صحابی نے بھی اس کا انکار نہیں کیا جو اس کی بین دلیل ہے

15۔ ۔ قاضی ثناء اللہ پانی پتی تفسیر مظہری میں فرماتے ہیں : من اذی رسول اللہ بطعن فی شخصہ ودینہ او نسبہ او صفتہ من صفاتہ او بوجہ من وجوہ الشین فیہ صراحۃ وکنایۃ او تعریضا او اشارۃ کفرو لعنھم اللہ فی الدنیا واعد لہ عذاب جہنم (۱ تفسیر مظہری ج ۷ صفحہ ۳۸۱)
’’جس شخص نے رسول اللہا کو اشارۃ وکنائۃ صریح وغیر صریح طریق سے عیب کی جملہ وجوہ میں سے کسی ایک وجہ سے یا آپ کی صفات میں سے کسی ایک صفت میں ، آپ کے نسب ، میں آپ کے دین میں یا آپ کی ذات مقدسہ کے متعلق کسی قسم کی زبان طعن دراز کی تو وہ کافر ہوا ۔ اللہ تعالیٰ نے دنیا اور آخرت میں اس پر لعنت کی اور اس کے لئے جہنم کا عذاب تیار کر رکھا ہے۔

16. قد حکیٰ ابو بکر الفارسی من اصحاب الشافعی اجماع المسلمین علی ان حد من سب النبی القتل کما ان حد من سب غیرہ الجلد وھذا لا جماع الذی حکاہ محمول علی الصدر الاول من الصاحبۃ والتابعین اوانہ ارادا جماعھم علی ان ساب النبی یجب قتلہ اذا کان مسلما (الصار م المسلول ۳)
’’امام ابو بکر فارسی جو اصحاب شافعی میں سے ہیں انہوں نے امت مسلمہ کا ا س بات پر اجماع بیان کیا ہے کہ جس شخص نے حضور ا کو گالی دی تو اس کی سزا حد اً قتل ہے جس طرح کہ کسی غیر نبی کو گالی دینے والے کی سزا (حد )کوڑے لگانا ہے یہ اجماع صدر اول کے یعنی صحابہ وتابعین کے اجماع پر محمول ہے یا اس سے مراد یہ ہے کہ حضور ا کو گالی دینے والا اگر مسلمان ہے تو اس کے وجوب قتل پر اجماع ہے ‘‘۔

17. ابوبکر بن منذر رحمہ اللہ نے کہا ھے کہ عام اھل علم کا اس بات پر اجماع ھے کہ جو شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دے اسے قتل کردینا چاہیئے۔ یہی بات امام مالک، لیث، احمد، اسحاق وغیرہ رحمہم اللہ نے بھی کہی ھے یہی امام شافعی رحمہ اللہ کا مذھب ھے۔۔۔ یہی حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالی عنہکے قول کا تقاضا ھے ۔۔۔ ایسے شخص کے مباح الدم ھونے میں کوئی اختلاف نہیں(الشفا٢٢٠)

18. ابن القاسم رحمہ اللہ نے العتبیة میں لکھا ھے کہ جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دے یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر عیب لگائے یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم میں نقص نکالے ، اسے قتل کیا جائے گا اور ساری امت کے نزدیک اسکو قتل کرنے کا حکم اسی طرح ھے جس طرح زندیق کو قتل کرنے کا حکم ھے ، اس لئے کہ اللہ تعالی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم و توقیر کو فرض قرار دیا ھے(٢٢١)

19. امام مالک رحمہ اللہ سے روایت ھے کہ جس شخص نے یہ کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی چادر یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قمیض کے کنارے میلے ھیں اور اس سے اس کا ارادہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تحقیر کا ھو تواسے قتل کیا جائے ۔
20. ابو الحسن قالبسی رحمہ اللہ نے ایسے شخص کو قتل کرنے کا فتوی دیا جس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں پر بوجھ اور ابو طالب کے یتیم تھے

21. :علامہ شرنبالی رحمہ اللہ لکھتے ہیں :
ولا تقبل توبة ساب النبی علیہ السلام سواء جاء تائبا من قبل نفسہ او شھد علیہ بذلک


22. :علامہ خفاجی رحمہ اللہ نسیم الریاض ص٣٩٩ پر لکھتے ہیں :
کسی کیلئے روا نہیں کہ نبی کی شان میں گستاخی سنے سوائے اسکے کہ یاتو اس گستاخ کی جان لے لے یا اپنی جان فی سبیل اللہ دے دے

23۔ تفسیر مظہری (اردو)ص٥٣٤ج ھفتم میں ہے کہ :
حتی کہ علماء نے یہاں تک کہا ہے کہ اگر کسی نے نشہ کی حالت میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے غلیظ الفاظ استعمال کئے تو اسے قتل کردیا جائے۔۔ الخ

علامہ شامی رحمہ اللہ شاتم الرسول کے مباح الدم ہونے پر آئمہ اربعہ کا اجماع نقل کرتے ہیں :
لا شک ولا شبھة فی کفر شاتم النبی صلی اللہ علیہ وسلم و فی استباحة قتلہ وھو منقول عن الائمة الاربعة۔۔ الخ (شامی ص٤٠٦ج٣)
شاتم رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے کفر اور قتل کے جائز ہونے میں کوئی شک شبہہ نہیں ہے ،چاروں اماموں (امام اعظم ابوحنیفہ، امام مالک، امام شافعی، امام احمد بن حنبل رحمہم اللہ) سے یہی منقول ہے۔
علامہ شامی رحمہ اللہ واسعہ آئمہ اربعہ کے گستاخ رسول ﷺ کے متعلق مذہب کو آج کل کے نام نہاد دانشوران سے بہتر جاننے والے تھے ،،،،،یہاں سے ہی گستاخ رسول ﷺ کی سزا موت کے متعلق امت مسلمہ کا اجماع ثابت ہوتا ہے

یہ ہے گستاخ رسول ﷺ کی ایک ہی سزا موت پر تمام امت مسلمہ کے اجماع کا ثبوت ،،،،،،،،،،،،،،،،،
اب بھی اگر کوئی ہٹ دھرمی سے کام لے تو اسے اپنے ایمان کی فکر کرنی چاہئے
یہ ان علما و فقہا کے فتاوی جات ہیں جو بلاشبہ آج کل کے نام نہاد مفکرین اور مجتہدین سے کہیں بہتر کتاب و سنت کو جاننے والے تھے اور ان میں سے اکثر اس بات پر امت مسلمہ کا اجماع نقل کرتے ہیں ،،،، اب بھی اگر کوئی ان کو چھوڑ کر ٓج کل کے غامدی جیسے راہزن دین و ایمان کے پیچھے چلنے کو ترجیح دے تو اس کے بدمذہب ہونے پر کوئی شک نہیں ،،،،
وماعلینا الا البلاغ المبین

جگہ براۓ اشتہار

جگہ براۓ اشتہار