منطق

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ * لا الہٰ الا اللہ محمّد رسول اللہ * قُلْ هُوَ اللّـٰهُ اَحَدٌ - اَللَّـهُ الصَّمَدُ - لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُوْلَدْ - وَلَمْ يَكُنْ لَّـهٝ كُفُوًا اَحَدٌ

2017-07-08 16:34:24    95 Views قرات سبعہ پر اعتراض کا جواب  /  محمد اسحاق قریشی

قرات سبعہ پر اعتراض کا جواب

مستشرقین کاایک طریقہ کار یہ بھی ہے کہ وہ اپنے صحائف میں جو قابل اعتراض بات دیکھتے ہیں یا قرآن حکیم ان پر جو اعتراض کرتا ہے وہ قرآن پر ہی لوٹانے کی کوشش کرتے ہیں۔ عہد نامہ قدیم اور عہد نامہ جدید کی کتابیں تضادات سے بھر پور ہیں ۔ان کے مختلف فرقوں کے نزدیک ان کتابوں کی تعداد میں بھی اختلاف ہے۔ تاریخی بیانات اور اعداد و شمار کے اختلافات جابجا نظر آتے ہیں۔
مسٹر ہارن نے عہد نامہ قدیم و جدید میں اس قسم کے اختلافات کے اسباب یہ بتائے ہیں :۔
٭نقل کرنے والوں کی غلطیاں
٭ جس دستاویز سے نقل کی جا رہی ہے اس میں غلطیوں کا موجود ہونا
٭ کاتبوں کا کسی سند اور ثبوت کے بغیر متن میں اصلاح کی کوشش کرنا
٭ مختلف مذہبی فریقوں کا اپنے مؤقف اور مدعا کو ثابت کرنے کے لیئے قصداََ تحریف کرنا
مسٹر ہارن نے جو کچھ لکھا ہے اس کا ثبوت ہمیں بائبل کے مختلف ورژن کے مطالعے میں جابجا ملتا ہے۔ اناجیل اربعہ کے مصنفوں نے ایک ہی واقعہ لکھنے میں ایک دوسرے سے اختلاف کیا ہے۔ ہر انجیل کے مختلف ورژن ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ ایک زبان کی انجیل کچھ کہتی ہے اور اس کا دوسری زبان میں ترجمہ کچھ کہتا ہے۔اور عیسائیوں کے پاس ایسا کوئی طریقہ بھی نہیں جس سے وہ صحیح غلط کی تمیز کر سکیں۔
مستشرقین قرآن حکیم میں بھی اسی صورت حال کو ثابت کرنا چاہتے ہیں اور اس کے لیئے مختلف حربے استعمال کرتے رہتے ہیں ۔ان مختلف حربوں میں سے ایک حربہ قرآن کی قرآت مختلفہ کو غلط رنگ میں پیش کرنا ہے۔وہ یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ جس طرح بائبل کے مختلف ورژن ہیں اسی طرح قرآن کی یہ قراتیں بھی اس کا مختلف ورژن ہیں۔
چنانچہ جارج سیل اپنی کتاب "دی قرآن" میں لکھتا ہے کہ :۔ 
"قرآن کے ایڈیشنوں کا ذکر کرنے کے بعد قارئین کو اس حقیقت سے آگاہ کرنا نامناسب نہ ہو گا کہ قرآن کے ابتدائی ایڈیشن سات ہیں۔اگر ان کو ایڈیشن کہنا مناسب ہو یا ہم ان کو قرآن کی سات نقلیں کہہ سکتے ہیں۔ جن میں سے دو مدینہ میں شائع ہوئیں اور وہیں استعمال ہوتی رہیں تیسری مکہ میں ، چوتھی کوفہ میں ، پانچویں بصرہ میں ، چھٹی شام میں اور ساتویں نقل کو عام ایڈیشن کہہ سکتے ہیں ۔"
جارج سیل نے قرآن حکیم کی یہ تاریخ کہاں سے نقل کی ہے اس کا مآخذ کیا ہے کچھ کہا نہیں جاسکتا ۔ اس نے جن شہروں کے ساتھ قرآن کے ایڈیشنوں کو منسوب کرنے کی کوشش کی ہے دور رسالت میں تو ان میں سے اکثر اسلامی قلمرو میں شامل ہی نہیں ہوئے تھے ۔حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی خلافت تک لوگ مختلف لہجوں میں قرآن کی تلاوت کیا کرتے تھے ۔ لیکن آُ نے لغت قریش کے مطابق قرآن حکیم کے مختلف نسخے تیار کرا کر مختلف شہروں کو بھیجے جو اسلامی قلمرو کا حصہ تھے۔
غالباََ جارج سیل نے قرآن حکیم کی مختلف قراتوں اور اور حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے مختلف شہروں میں قرآن کی نقلیں بھیجنے کے واقعات کو اکٹھا کر کے اپنے تخیل کے زور پر یہ افسانہ گھڑا ہے۔ وہ یہ تاثر دینا چاہتے ہیں کہ جس طرح رومن کیتھولک عیسائیوں کی بائبل اور ہے اور عیسائی پروٹسٹنٹ کی اور ، اسی طرح مدینہ کے مسلمانوں کا قرآن اور تھا اور مکہ کے مسلمانوں کا قرآن اور ، کوفہ، بصرہ اور شام والوں کا اور، اور ایک قرآن ایسا بھی تھا جو عام تھا جس کی تخصیص نہ تھی۔ اگر بالفرض محال صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کے دور میں اس قدر قرآن مروج ہوتے تو آج ان کی تعداد ہزاروں سے بھی متجاوز ہوتی۔لیکن آج ہم جارج سیل کے پسماندگان کو چیلنج کرتے ہیں کہ وہ پوری دنیا کا چکر لگائیں دنیا کے تمام براعظموں کا سروے کریں پوری دنیا میں انہیں قرآن عظیم کے کروڑوں نسخے ملیں گے لیکن ان میں سرمو اختلاف ثابت کر کے دکھائیں ؟
وہ جہاں بھی جائیں انہیں ان شاء اللہ العزیز ایک ہی قرآن نظر آئے گا۔جو قرآن عربوں کے پاس ملے گا افریقہ کے حبشیوں کے پاس بھی وہی قرآن ہو گا۔ عالم اسلام میں جنم لینے والوں کے پاس جو قرآن ہو گا یورپ کے نومسلموں کے پاس بھی وہی قرآن ہو گا۔ جارج سیل کے پسماندگان نے غالباََ اسی قسم کا ایک سروے کیا ہے اسی لیئے انسائیکلوپیڈیا آف بریٹانیکا کا مقالہ نگار لکھتا ہے کہ :۔
"حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی نظر ثانی سے جو نسخہ تیار ہوا وہ ساری ملت اسلامیہ کے لیئے ایک معیاری نسخہ قرار پایا اور آج تک اس کی یہ حثیت مسلّم ہے۔"
(انسائیکلوپیڈیا آف بریٹانیکا جلد 13 ص 480)
آج اگر ساڑھے چودہ سو سال بعد بھی قرآن ایک ہی ہے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ دور صحابہ میں اس کے سات مختلف اصلی ایڈیشن موجود ہوں ؟
مستشرقین نے قرآن حکیم میں اختلاف کے مفروضے کا محل تعمیر کرنے کے لیئے قرآن کی سات قراتوں کو بنیاد بنایا ہے۔ وہ قرآن حکیم کی سات قراتوں کے الفاظ پر تو زور دیتے ہیں لیکن یہ ظاہر کرنے سے احتراز کرتے ہیں کہ اس اختلاف کی نوعیت کیا تھی ۔ یہاں ہم اختلاف قرات کی چند ایک مثالیں پیش کرتے ہیں تاکہ اس اختلاف کی نوعیت ظاہر ہو سکے۔
٭ يَآ اَيُّـهَا الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوٓا اِنْ جَآءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَاٍ فَتَبَيَّنُـوٓا اَنْ تُصِيْبُوْا قَوْمًا بِجَهَالَـةٍ فَتُصْبِحُوْا عَلٰى مَا فَعَلْـتُـمْ نَادِمِيْنَ
الحجرات آیہ 6 

اے ایمان والو ! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لائے تو اس کی خوب تحقیق کر لیا کرو ۔ ایسا نہ ہو تم کسی قوم کو لاعلمی میں ضرر پہنچا بیٹھو۔
اس آیت کے لفظ "فتبینو" کو حضرت حفص کے علاوہ دیگر حضرات نے " فَتَثَبَّتُوا" پڑھا ہے ۔ "فَتَبَیَّنُوا" کا معنی ہے تحقیق کرنا اور معاملے کی چھان بین کرنا۔اور فَتَثَبَّتُوا کا معنی بھی بلکل یہی ہے ۔ چنانچہ "المنجد" میں تثبت کا معنی یوں لکھا ہے :۔
"کسی معاملے میں جلد بازی نہ کرنا، اس رائے کے متعلق مشورہ کرنا اور اس کی خوب تحقیق کرنا "
(افترءات المستشرقین علی الاسلام)
یہاں اختلاف قرات سے مفہوم میں کوئی تبدیلی نہیں آئی بلکہ مفہوم میں وسعت آ گئی کہ جب مسلمان کوئی مشکوک خبر سنیں تو اس کے مطابق عمل کرنے میں جلد بازی نہ کریں بلکہ باہم مشورہ کریں ، معاملہ کی خوب تحقیق کریں اور جب معاملہ بلکل واضح ہو جائے تو پھر کارروائی کریں ۔ اختلاف قرات میں ایک حکمت یہ بھی ہے کہ اس سے آیات کے معنی میں وسعت پیدا ہوتی ہےجس سے امت مستفید ہوتی ہے اور اس سے زندگی کے بے شمار مسائل کو حل کرنے میں مدد ملتی ہے۔
٭ وَقَالُوا اتَّخَذَ اللّـٰهُ وَلَـدًا ۙ سُبْحَانَهٝ
البقرہ آیہ 116

"اور یہ کہتے ہیں کہ بنا لیا ہے اللہ نے (اپنا) ایک بیٹا۔ پاک ہے وہ (اس تہمت سے)۔
ابن عامر نے اس کو بغیر واؤ کے پڑھا ہے۔ لیکن جمہور قراء نے اس کو واؤ کے ساتھ پڑھا ہے جو حضرات بغیر واؤ کے پڑھتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ یہاں سے ایک نیا جملہ شروع ہو رہا ہےاور جو اس کو واؤ کے ساتھ پڑھتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ اس کا اپنے ماقبل پر عطف ہے۔ دونوں صورتوں میں معنی ایک ہی رہتا ہے کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوتی۔
3۔ سورۃ البقرہ کی آیہ نمبر 185 میں ہے کہ "ولتکملو العدۃ" یعنی اور (چاہتاہے) کہ تم گنتی پوری کر لیا کرو
اس لفظ کو جمہور قراء نے میم کی شد کے بغیر جزم کے ساتھ پڑھا ہے جبکہ ابو بکر و یعقوب نے اس کو میم کی شد کے ساتھ پڑھا ہے۔ دونوں جگہ مادہ ایک ہے صرف ابواب کا فرق ہے ۔ اس مادہ کے باب افعال اور باب تفعیل کا معنی علماء لغت کے نزدیک ایک ہی ہے۔
یہ ہے قراتوں میں اختلاف کی حقیقت، یہاں معنی میں تضاد کی کوئی گنجائش نہیں ۔ قرات کے اس اختلاف کا اس تناقض سے دور دور تک کوئی واسطہ نہیں جو عہد نامہ قدیم اور عہدنامہ جدید میں ہے۔اور جس کو یہود و نصاریٰ کے علما وقتاََ فوقتاََ دور کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔
"افترءات المستشرقین علی الاسلام " کے مؤلف نے تورات کے تناقض کی ایک مثال کتاب التواریخ دوم کے باب اکیس اور بائیس سے دی ہے۔ باب اکیس بتاتا ہے کہ "یورام" فوت ہوا تو اس کی عمر چالیس سال تھی۔لیکن باب بائیس بتاتا ہے کہ یورام کی موت کے بعد اس کا بیٹا "اخزیا" تخت نشین ہوا اور تخت نشینی کے وقت اس کی عمر بیالیس سال تھی۔ یعنی بیٹا باپ سے بھی دو برس بڑا تھا۔لیکن اب "نیو ورلڈ بائیبل ٹرانسلیشن کمیٹی" نے 1971ء کی نظر ثانی کے بعد نیو یارک سے 1981ء میں بائیبل کا جو ایڈیشن شائع کروایا ہے اس کی کتاب التاریخ ثانی کے باب بائیس میں اخزیا کی تخت نشینی کے وقت عمر بائیس سال لکھی گئی ہے۔
بیالیس کا ترجمہ بائیس بنا دینا یہود و نصاریٰ کے لیئے معمولی بات ہے ۔ان کے اس ترجمے یا اصلاح سے بیٹے کے باپ سے بڑا ہونے کی الجھن تو دور ہو جاتی ہے لیکن یہ الجھن برقرار رہتی ہے کہ جو نسخہ بیالیس سال عمر بتا رہا تھا وہ درست ہے یا جس نسخے میں بائیس سال لکھی گئی ہے وہ درست ہے ؟
بائبل کے اختلافات اور قرآن مجید کے اختلاف قرات کا جائزہ لینے سے یہ بات بلکل واضح ہو جاتی ہے قرآن حکیم بائبل کی طرح کے اختلافات اور تناقضات سے مطلقاََ پاک ہے۔ اور مزید برآں قرآن میں قرات کے معمولی اختلاف کو بھی عام مسلمانوں کی صوابدید پر نہیں چھوڑا گیا بلکہ وہ قرات بھی حضور اکرم ﷺ سے مروی ہیں۔چنانچہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:۔ 
"حضرت جبرائیل علیہ السلام نے مجھے قرآن حکیم پڑھ کر سنایا۔ میں نے دوبارہ پڑھنے کے لیئے کہا۔ انہوں نے دوبارہ پڑھا۔میں قراتوں میں اضافے کے لیئے کہتا رہا وہ قراتوں میں اضافہ کرتے گئے ۔ حتیٰ کہ معاملہ سات قراتوں تک جا پہنچا۔"
(صحیح بخاری جلد دوم باب انزال القرآن علی سبعۃ احرف)
یہاں بھی حضور اکرم ﷺ کی اپنی امت کے لیئے شفقت و رحمت اپنا رنگ دکھا رہی ہے ۔ آپ ﷺ کی تمنا ہے کہ آپ ﷺ کی امت کو ایک سے زائد قراتوں کی اجازت ہو تاکہ آپ ﷺ کی امت مشقت سے بچ سکے۔ایک اور حدیث پاک حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ :۔ 
"حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے ہشام بن حزام کو سورۃ الفرقان پڑھتے سنا۔ وہ اس سے مختلف پڑھ رہے تھے جیسا کہ میں پڑھتا تھا۔ اور مجھے تو خود رسول اللہ ﷺ نے سورۃ الفرقان پڑھائی تھی۔قریب تھا کہ میں ان کو سزا دیتا لیکن میں نے انہیں مہلت دی ۔ جب وہ واپس آئے تو میں نے انہیں چادر سے پکڑا اور حضور اکرم ﷺ کی خدمت میں لے آیا۔مین نے حضور اکرم ﷺ سے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ! یہ سورۃ الفرقان اس سے مختلف پڑھ رہے تھے جیسے آپ ﷺ نے مجھے پڑھائی تھی۔حضور اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا پڑھو ! انہوں نے اسی طریقے سے پڑھا جیسے میں نے انہیں پڑھتے ہوئے سنا تھا۔حضور اکرم ﷺ نے فرمایا: یہ سورت یونہی نازل ہوئی ہے۔پھر آپ ﷺ نے مجھے حکم دیا کہ تم پڑھو۔ میں نے پڑھا تو حضور اکرم ﷺ نے فرمایا : یہ سورت یونہی نازل ہوئی ہے ۔ یہ قرآن سات قراتوں پر نازل ہوا ہے ۔ تمہیں جو آسان محسوس ہو تم ویسے پڑھ لیا کرو۔"
(الصحیح مسلم جلد اول باب انزل القرآن علی سبعۃ احرف)
تمام عربوں کی زبان ایک تھی مگر لہجوں میں فرق تھا۔کسی عرب کو چونکہ دوسرے عربوں کے لہجوں کے مطابق قرآن پڑھنا مشکل تھا اس لیئے ابتداء میں ہر ایک کو اپنے اپنے لہجے کے مطابق قرآن پڑھنے کی اجازت تھی ۔زکریا ہاشم زکریا اپنی کتاب" المستشرقون و لاسلام "میں لکھتے ہیں کہ :۔
"ابتداء میں قرآن حکیم مختلف عربی لہجوں میں پڑھنے کی اجازت تھی۔ لیکن جب نزول قرآن کا سلسلہ مکمل ہو گیا تو ایک کے علاوہ باقی سبھی لہجے منسوخ ہو گئے۔اور حضور اکرم ﷺ کے ساتھ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے قرآن حکیم کا جو آخری دور کیا تھا وہ ایک ہی لہجے کے مطابق تھا۔اور ایک ہی لہجہ کے اندر بھی تمام متواتر قراتوں کا احتمال موجود تھا۔"
یہی مصنف ایک اور جگہ لکھتے ہیں کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے زمانے میں قرآن حکیم کا جو نسخہ تیار ہوا تھا ، اس کو نقطوں اور اعراب کے بغیر لکھنے کی حکمت یہ تھی کہ تمام منزل قراتوں کا احتمال باقی رہے ۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قرات میں اختلاف کی نوعیت کتنی معمولی تھی کہ اگر عبارت پر نقطے نہ ہوں توتمام قراتوں کے مطابق پڑھنا ممکن ہو جاتا ہے۔ہم نے اختلاگ قرات کی جو مثالیں سطور بالا میں ذکر کی ہیں ان میں سے ایک اختلاف قرات "فَتَبَیَّنُوا" اور " فَتَثَبَّتُوا" ہے۔ اگر اس لفظ سے نقطے اور اعراب مٹا دیئے جائیں تو "مسسوا" کی شکل میں لکھا جائے گا اور اس کو دونوں طریقوں سے پڑھنا ممکن ہوگا۔
جس طرح آبگینہ معمولی سی ٹھوکر کو بھی برداشت نہیں کر سکتا اسی طرح قرآن حکیم کا تقدس اتنے معمولی سے اختلاف کو بھی برداشت نہیں کر سکتا تھااس لیئے اس کو عام عوام کی صوابدید پر نہیں چھوڑا گیا بلکہ تمام قراتیں اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائیں۔حضور اکرم ﷺ نے انہیں صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کو پڑھ کر سنایا اور صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین نے ان کو روایت کیا۔مختلف لہجے ابتداء میں لوگوں کی سہولت کے لیئے جائز قرار دیئے گئے لیکن قرآن حکیم کا نزول مکمل ہونے کے بعد اس جواز کو ختم کر دیا گیا۔
جب تک اسلامی قلمرو کی حدود عرب تک محدود تھیں اس وقت تک تو مختلف لہجوں مین قرآن حکیم کی تلاوت سے کوئی فرق نہ پڑتا تھاکیونکہ عرب جانتے تھے کہ لہجوں کے اس اختلاف سے معنی میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔حضرت جبرائیل علیہ السلام کے ساتھ حضور اکرم ﷺ کے قرآن کے آخری دور میں اسے لغت واحد پر جمع کر دیا گیا۔ لیکن جب دور عثمان غنی رضی اللہ عنہ میں کچھ لوگوں کو منسوخ لہجوں کے مطابق قرآن پڑھتے دیکھا گیا جس سے غیر عرب نو مسلموں میں انتشار کے بھی آثار نظر آئے ۔ تو حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے ایک جماعت صحابہ کو حکم دیا کہ وہ قرآن کو صرف لغت قریش کے مطابق جمع کریں۔اس جماعت نے لغت قریش کے مطابق کو نسخہ تیار کیا اس کی نقلیں مختلف صوبوں میں بھیجی گئیں اور لغت قریش کے برخلاف سبھی لہجوں میں قرآن کے نسخوں کو تلف کرنے کا حکم دیا۔
وہ اختلافات جو ملت کے انتشار کا باعث بن سکتے تھے انہیں عہد رسالت ہی میں ختم کر دیا گیا۔ لیکن قراتیں جو ملت اسلامیہ کے لیئے رحمت خداوندی کا مظہر تھیں وہ اب بھی موجود ہیں لیکن ان کی موجودگی کے باوجود قرآن حکیم کے نسخوں میں مشرق و مغرب میں ساری ملت اسلامیہ صرف ایک ہی قرات پر جمع ہے۔ دوسری قراتیں کتب احادیث و تفاسیر میں تواتر کے ساتھ نقل ہوتی چلی آ رہی ہیں اور ان سے علماء مسائل کا بھی استنباط کرتے ہیں ۔ یہ بھی قرآن حکیم کی صداقت کی دلیل ہے کہ سات قراتوں میں سے جو بھی قرات تلاوت کی جائے قرآن حکیم کی شان اعجاز اسی طرح باقی رہتی ہے۔
جو لوگ عربی زبان سے واقفیت رکھتے ہیں وہ بخوبی جانتے ہیں کہ عربی الفاظ میں اعراب نہیں لگائے جاتے اس لیئے کئی الفاظ کو مختلف طریقے سے پڑھنے کا احتمال رہتا ہے۔ قرآن حکیم بھی ابتداء میں اعراب بلکہ نقطوں کے بھی بغیر لکھا جاتا تھا۔ اگر قرآن صرف ایک ہی قرات پر نازل ہوتا تواس قسم کے مقامات جہاں الفاظ کو مختلف طریقوں سے پڑھنے کا احتمال ہوتا، منزل طریقے کے علاوہ کسی اور طریقے پر پڑھنے میں تحریف لازم آتی۔ لیکن اللہ عزوجل نے اپنے حبیب ﷺ کی امت کو اس مشقت سے بچا لیا۔ اس لیئے وہ ان سات منزل قراتوں میں سے جو بھی قرات پڑھتے اس میں تبدیلی و تحریف کا کوئی اندیشہ نہ تھا۔
مستشرقین نے یہ بھی ثابت کرنے کی ناکام کوشش کی ہے کہ مسلمان قرآن حکیم کی روایت بالمعنی کو جائز سمجھتے ہیں۔(الاستشراق والخلفیۃ الفکریہ للصراع الحضاری) اپنے اس مفروضے کو بھی انہوں نے قرات سبعہ سے منسلک کرنے کی ناکام کوشش کی ہے کہ مسلمان قرآن حکیم کے معانی کو اپنے اپنے الفاظ میں بیان کرتے تھے اس لیئے قرات سبعہ وجود میں آئیں۔ وہ یہ بھی ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ روایت بالمعنی کی آزادی کے ماحول میں قرآن حکیم کی تدوین کا عمل مکمل ہوا۔ ان کا مدعا یہ ہے کہ یہ ثابت کیا جائے کہ جب روایت بالمعنی مسلمانوں کے ہاں مسلم ہے تو قرآن کے الفاظ میں تبدیلی لازم ہو جاتی ہے۔ 
لیکن حقیقت اس کے بلکل برعکس ہے۔ مسلمانوں کی کوئی ایک بھی جماعت ایسی نہیں جو روایت بالمعنی کو جائز مانتی ہو۔ تمام مسلمانوں کا ایمان ہے کہ قرآن حکیم کے الفاظ اور معنی دونوں منزل من اللہ ہیں۔اور دونوں تواتر کے ساتھ مروی ہو کر ہم تک پہنچے ہیں۔
اختلاف قرات کا روایت بالمعنی سے کوئی تعلق نہیں ۔ روایت بالمعنی کے جائز ہونے کا مطلب تو یہ ہے کہ قرآن حکیم کے الفاظ کو عام انسانوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جائے۔ روایت بالمعنی کی صورت میں تو قرآن حکیم کی وہی کیفیت ہو جاتی جو اناجیل کی ہے کہ ایک ہی واقعہ کو "متی" نے کسی اور طریق سے بیان کیا ہے اور "مرقس" نے اس سے الٹا راستہ اختیار کیا ہے۔لیکن بفضلہٖ تعالیٰ قرآن حکیم اس صورت حال سے یکسر پاک ہے۔ اگر قرآن کی روایت بالمعنی کی اجازت دی گئی ہوتی تو الفاظ انسانی ہوتے اور ان کی نظیر پیش کرنا انسانوں کے لیئے ناممکن نہ ہوتا۔ قرآن کی نظیر پیش کرنے سے عربوں کا ساڑھے چودہ سو سال سے عاجز رہنا اس بات کی دلیل ہے کہ قرآن کے الفاظ، معنی اور عبارات سب الہامی ہیں اور کسی انسان کے لیئے یہ ممکن ہی نہیں کہ وہ ان کی نظیر پیش کر سکے۔مستشرقین اور دیگر دشمنان اسلام کا یہ اعتراض بھی ان کے دیگر اعتراضات کی طرح ایک بے بنیاد اور لایعنی وسوسے کے سوا پرکاہ جتنی حثیت بھی نہیں رکھتا۔

جگہ براۓ اشتہار

جگہ براۓ اشتہار