منطق

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ * لا الہٰ الا اللہ محمّد رسول اللہ * قُلْ هُوَ اللّـٰهُ اَحَدٌ - اَللَّـهُ الصَّمَدُ - لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُوْلَدْ - وَلَمْ يَكُنْ لَّـهٝ كُفُوًا اَحَدٌ

2017-07-08 07:02:59    40 Views شہادت سے آزادی تک۔۔  /  ثمرینہ علی

شہادت سے آزادی تک۔۔

پندرہ سالہ بچہ اپنے بڑے بھائی پر ہونے والے تشدد کے خلاف ہتھیار اٹھاتا ہے۔۔۔۔ فلمی سا لگتا ہے ۔۔ لیکن حقیقت ہے۔ اسکول کے پرنسپل کا بیٹا اور ممتاز طالب علم برہان وانی کے بھائی خالد وانی کو 2010ء میں عسکریت پسندوں کی بھرتیاں کرنے کے الزام میں ہندوستانی فورسز نے تشدد کا نشانہ بنایا۔ یہ واقعہ پندرہ سالہ برہان وانی کے ہتھیار اٹھانے کا سبب بنا اور وہ حزب المجاہدین میں شامل ہوگیا۔ اپنی شہادت سے ایک سال پہلے برہان وانی کی ایک ویڈیو منظر عام پر آئی تھی جس میں انہوں نے کشمیری نوجوانوں کو ہندوستان کے خلاف مسلح جدو جہد کا حصہ بننے کی دعوت دی تھی، یہ پہلا موقع تھا کہ کسی عسکری تنظیم کی جانب سے باقاعدہ طور پر نوجوانوں کو ہندوستانی فورسز کے خلاف مسلح جدوجہد میں حصہ لینے کی دعوت دی گئی تھی۔وانی کشمیر میں ہندوؤں کی آباد کاری کے خلاف تھا لیکن وہ کشمیری پنڈتوں کا کشمیر پر حق تسلیم کرتا تھا۔وہ مسئلہ کشمیر کے فلسطین کے طرز پر حل کے مخالف تھا۔وانی پہلا فرد تھا جس نے سوشل میڈیا کو تحریکِ آزادی کے لیے اپنا ہتھیار بنایا۔ اس نے پہلی بار گوریلا جنگ کے نئے اصول متعارف کروائے۔ نقاب اتار دیے، فوجی وردی زیب زن کی، بکتر بند گول ٹوپی پہنے یہ نوجوان اچانک نمودار ہو ہندوستانی فوج کا غرور خاک میں ملانے لگے۔ برہان وانی کے اس طرزِ عمل سے ہندوستان کا یہ پروپگینڈا خاک میں مل گیا کہ کشمیری نوجوان تحریک آزادی سے لا تعلق ہیں۔ وانی نے تحریک آزادی کو مقبول کر دیا کہ میر واعظ جیسے لیڈر یہ کہنے پر مجبور ہو گئے کہ تحریک آزادی کشمیر اب ہمارے ہاتھ سے نکل کر نوجوانوں میں منتقل ہوگئی ہے۔ سوشل میڈیا کو ہتھیار بنانے اور کشمیری نوجوانوں کو تحریک میں شامل کرنے کی پاداش میں 8 جولائی 2016ء کو برہان وانی کو دو ساتھیوں سمیت شہید کردیا۔ ان کے جنازے میں لاکھوں افراد نے شرکت کی ۔ برہان وانی کے جسد کو پاکستانی پرچم میں لپیٹ کر دفنایا گیا۔ یہ پاکستان کے لیے اعزاز کی بات ہے۔ شاید ہندوستان کا خیال تھا کہ برہان وانی کی شہادت کے بعد وہ کشمیر کی آزادی کی تحریک کو دبا لے گا۔ لیکن وانی کی شہادت کے بعد سے ہونے والے مظاہروں کا سلسلہ کسی نہ کسی شکل میں ابھی تک جاری و ساری ہے۔ ہندوستان پوری طاقت کے استعمال کے باوجود ان پر قابو نہیں پا سکا۔ اب تک کشمیری140 جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں۔ جبکہ پیلٹ گن سے نابینا ہونے والے لوگوں کی تعداد 7760 ہے جبکہ زخمی لاتعداد ہیں۔ انگنت قربانیوں کے بعد بھی کشمیریوں کا جذبہ حریت مانند نہیں پڑا ۔ وہ دن دور نہیں جب انہیں ہندوستان کے جابرانہ تسلط سے نجات مل جائے گی۔ گو کہ ہماری نالائق اور مفاد پرست لیڈر شپ اپنا فرض ادا نہ کر سکی لیکن پاکستانی عوام کے دل اپنے کشمیری بھائی بہنوں کے لیے ہمیشہ دعا گو رہتے ہیں۔ اللہ تعالی مقبوضہ کشمیر کے عوام کو آزادی کی نعمت سے سرفراز کرے۔ آمین

جگہ براۓ اشتہار

جگہ براۓ اشتہار