منطق

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ * لا الہٰ الا اللہ محمّد رسول اللہ * قُلْ هُوَ اللّـٰهُ اَحَدٌ - اَللَّـهُ الصَّمَدُ - لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُوْلَدْ - وَلَمْ يَكُنْ لَّـهٝ كُفُوًا اَحَدٌ

2017-07-08 06:59:20    42 Views کیا ہم جنیاتی طور پر ہندو ہیں؟؟  /  ثمرینہ علی

کیا ہم جنیاتی طور پر ہندو ہیں؟؟

کچھ دنوں پہلے ایک گروپ میں بات کرتے ہوئے یہ الفاظ پڑھے کہ ہم جنیاتی طور پر ہندو ہیں ۔۔۔ کچھ سمجھ میں نہیں آیا سو وضاحت کا کہا ۔۔ جب وضاحت ملی تو ذہن میں مذیدالجھن بڑھ گئی ،سوچا اب کہ خود ہی اس سوال کا جواب تلاش کیا جائے۔ پتا تو چلے حقیقت کیا ہے؟؟؟ آئیے دیکھتے ہیں جینز کیا ہے؟؟؟ کروموسومز کا ایک بڑا حصہ جینز کہلاتا ہے۔۔ جینز دراصل ایک ایسا مورثی مادہ ہے جو والدین کی خصوصیات مثلاََ جلد، آنکھوں، بالوں وغیرہ کی رنگت، شکل و صورت اورعادتوں کو بچے میں منتقل کرتا ہے۔اسکے علاوہ جدید ریسرچ کی مدد سے ہم بچے کی پیدائش سے پہلے اسکی موروثی بیماری کا علاج کرسکتے ہیں، مجرموں کو پکڑ سکتے ہیں۔ یاد رکھنے کی بات کہ جینز والدین یا ان کے آباوّ اجداد کی شکل و صورت کی خصوصیات اور کچھ مخصوص عادتوں کو منتقل کرتا ہے۔ نہ کہ عقائد اور نظریات کو۔ ہماری رویے کی سائنس جسے عرف عام میں سائیکولوجی بھی کہا جاتا ہے کہتی ہے کہ '' اگرچہ کچھ رویوں کی بنیاد جینز پر ہے لیکن ماحول کو بنیادی حثیت حاصل ہے''۔ نفسیات کے ماہرین کہتے ہیں کہ فرد کےکردار ، نظریات ، عقائد اور اعمال اس کی پرورش اور اردگرد کے ماحول کے تابع ہوتے ہیں ۔ اگرچہ کچھ ریسرچیز کہتی ہے کہ کہ فرد کے وراثتی عادات میں اسکی جینز کا ہاتھ ہوتا ہے لیکن اس وراثتی جینز کا کردار فرد کے ماحول سے اکتساب شدہ رویے کی نسبت بہت کم ہوتا ہے۔ صرف اتنا ہی کہ جتنا ہم بعض اوقات کسی کے ترغیب دینے سے کوئی کام کرنے پر آمادہ ہو جاتے ہیں۔ رویے کو جانچنے والے ماہر نفیسات متفق ہیں کہ کسی بھی فرد کے رویے کو جانچنے کے لیے اس کے خاندان یا جینز سے زیادہ اس کے ماحول اور ماحول کے عوامل کو جاننا ضروری ہے، اور فرد کے ماحولیاتی عوامل کی بدولت ہی اس کے بارے میں بہتر پیشن گوئی کی جاسکتی ہے نہ کہ اسکے جینز کے بارے میں جاننے کے بعد۔اسکے ساتھ ساتھ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ انہیں اس بات پر شک ہے کہ انسانی رویے جینز کے تابع ہیں۔ اور پھر انسان کے ماحول، جگہ، گھر کی تبدیلی کے ساتھ ساتھ اس کے مزاج میں بھی تبدیلی رونما ہوتی ہے۔ عمر کے ساتھ ساتھ بھی انسان کے خیالات ، نظریات اور رویہ بدلتے رہتے ہیں ۔ اگر مزاج اور رویہ جینز کے تابع ہوتا تو کیا ایسا ممکن ہوتا؟؟؟ چلیں اگر تھوڑی دیر کو مان بھی لیں کہ جینز ہمارے مذہبی عقائد و نظریات پر اثر انداز ہوتی ہے تو آج سے چودہ سو سال پہلے یہ کیسے ممکن ہوا کہ ایک ایسا فرد جو کہ مشرکانہ ماحول اور تربیت میں پروان چڑھا وہ صرف اور صرف اپنے مذہبی عقائد اور نظریہ کی تبدیلی کی بنا پر اپنے قبیلے اور خاندان کا دشمن ہو جاتا؟؟؟؟ بطور مسلمان ہم نوزائیدہ بچے کے دائیں کان میں اذان دیتے ہیں اور بائیں کان میں اقامت کہی جاتی ہے۔۔۔ کیوں ؟؟؟ کیا صرف بطور رسم؟؟؟ یقیناََ رسم کے طور پر بھی دی جاتی ہے ۔ ماہرین نفسیات کہتے ہیں کہ انسانی دماغ کے دو حصے ہیں بالکل ہمارے جسمانی اعضاء کی طرح۔ جیسے ہمارے اعضاء اکٹھے کام کرنے کے علاوہ علیحدہ علیحدہ کام کرسکتے ہیں اسی طرح انسانی دماغ کے دو حصے ہیں۔ بائیں حصے کا تعلق ہماری باہر کی دنیا سے ہے جبکہ دائیں حصے کا تعلق ہماری باطنی قوتوں سے ہیں۔ یہ دونوں حصے علیحدہ علیحدہ کام کرنے کے علاوہ اکھٹے بھی کام کرتے ہیں۔ غور کریں نوزائیدہ بچے کے دائیں کان میں اذان دی جاتی ہے کہا جاتا ہے '' اللہ سب سے بڑا ہے اللہ سب سے بڑا ہے۔ میں گواہی دیتا/ دیتی ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔میں گواہی دیتا/دیتی ہوں کہ حضرت محمد ﷺاللہ کے آخری رسول ہے۔۔۔ تو یہ بات تو بچے کے لاشعور تک اتر گئی۔ اسی طرح جب بائیں جانب اقامت کہی جاتی ہے تو یہ الفاظ شعور میں داخل ہو جاتے ہیں۔اور اسطرح شعوری اور لاشعوری طور پر بچے کے دماغ کی اتھاہ گہرائیوں میں اتر جاتے ہیں۔ جب عقلی طور پر ایک فرد ان الفاظ کو اپنے دماغ میں سمو کر پروان چڑھے گا تو کیسے کوئی جینز اس پر اثر انداز ہوگی؟؟؟؟ اب جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ ان کا تعلق جینیاتی طور پر ہندووّں سے ہے اس میں کتنی حقیقت ہے ؟؟؟ اس کا اندازہ آپ خود لگا لیں۔ اب سوال یہ ہے کہ اپنے آپ کو جینیاتی طور پر ہندو کیوں کہا جائے۔۔۔ اس زہریلی سوچ کے ڈانڈے '' اکھنڈ بھارت'' کی خواہش رکھنے والوں سے جا ملتے ہیں۔ جو کہ کبھی یکساں ثقافت کا نعرہ لگاتے ہیں اور کبھی یکساں زبان کا۔ جن کو کبھی انسانیت کا نعرہ بھاتا ہے اور کبھی وہ خونی بٹوارہ کی دہائی دیتے نظر آتے ہیں۔ ان آوازوں کو مضبوطی دیتے ہیں میر جعفر و میر صادق کی روایات کے امین ہمارے اپنے۔ جن سے بچنے کے لیے ہمیں اپنے کان، آنکھ کھلا رکھنے کی اشد ضرورت ہے تاکہ ہمیں دوستوں دشمنوں میں فرق کا علم ہو سکے۔ اللہ تعالی پاکستان کو اپنے حفظ و امان میں رکھے۔ آمین

جگہ براۓ اشتہار

جگہ براۓ اشتہار