منطق

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ * لا الہٰ الا اللہ محمّد رسول اللہ * قُلْ هُوَ اللّـٰهُ اَحَدٌ - اَللَّـهُ الصَّمَدُ - لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُوْلَدْ - وَلَمْ يَكُنْ لَّـهٝ كُفُوًا اَحَدٌ

2017-07-08 06:58:02    37 Views کیا پاکستان کا نصاب نظریاتی ہونا چاہیے؟  /  ثمرینہ علی

کیا پاکستان کا نصاب نظریاتی ہونا چاہیے؟

بچے کسی بھی ملک کا اثاثہ ہوتے ہیں کیوں کہ ان ہی ذہنی و فکری تربیت کی بدولت معاشرہ ارتقاء کی منزلیں طے کرتا ہے۔ تعلیم بچوں کی ذہنی و فکری تعمیر میں ممدو و معاون ثابت ہوتی ہے۔ تعلیم ہی سے معاشرتی، تہذیبی، دینی،سیاسی ،اقتصادی اور تاریخی راہیں استوار ہوتی ہیں۔ فی زمانہ تعلیم کے شعبے کو اتنی اہمیت حاصل ہوگئی ہے کہ اگر کسی طاقت ورملک نے کسی ملک پر قبضہ کرنا ہو تو وہ اپنے مقصد کے حصول کے لیے نصابِ تعلیم کو اپنا ہدف بناتا ہے اور اسکی کوشش ہوتی ہے کہ اس ملک کے ایسے نظریات و عقائد کو ختم کر کے اپنے من پسند نظریات و عقائد ٹھونسے جائیں تاکہ زمینی قبضہ سے پہلے ذہن ان کے قابو میں آ جائے۔ اور اسطرح زمینی قبضہ کی بھی ضرورت باقی نہیں ۔ وطنِ عزیز کی صورتحال کا جائیزہ لیا جائے تو نام نہاد لبرلز اور سیکولرز اور ان کی بنائی گئی این جی اوز پاکستان کے نصابِ تعلیم کے بارے میں اکثر واویلا کرتے نظر آتی ہے کہ یہ نصاب فرسودہ مذہبی رحجانات ، پاکستان کے ثقافتی اقدار، مسلم ہیروز اور تاریخ کی مسخ شدہ شکل پر مبنی ہے، بچوں میں انتہا پسندی کو فروغ دیتا ہے۔ اس لیے اسمیں سے اسلامیات اور مطالعہّ پاکستان جیسے مضامین کو ختم کردینا چاہیے۔ کیا واقعی ایسا ہے؟؟؟؟ دیکھتے ہیں۔ نصاب کے لیے انگریزی کا لفظ '' cirriculm '' استعمال کیا جاتا ہے جو کہ یونانی لفظ '' curree '' سے نکلا ہے جسکے معنی رن وے یا ایسا راستہ ہے جس پر دوڑا جاتا ہے ۔ ماہرین تعلیم کے نزدیک' نصاب '' کے معنی ایسا عمل ہے جس میں تعلیمی کتابیں اور ان کو پڑھانے کے مدارج شامل ہیں جس کے ذریعے طلباء کو ذہنی، فکری اور جسمانی طور پر تیار کیا جاتا ہے ۔ نصابِ تعلیم ہمیشہ قومی نظریات و عقائد سے ہم آہنگ ہوتا ہے . تاکہ بچوں کو ذہنی اور فکری طور پر قومی امنگوں کے مطابق تیار کیا جاسکے ۔ پاکستان دو قومی نظریے کی بنیاد پر معرضِ وجود آیا۔ دوقومی نظریہ یہ تھا کہ مسلمانِ برصغیرہندووّں سے علیحدہ قوم ہیں۔ جن کے عبادت کرنے کا طریقہ ، تہذیب و ثقافت ہے، رسوم و رواج ہنددوّں سے جدا ہیں حتی کے کھانے پینے کے طریقے تک جدا ہیں ۔ جو لوگ مسلمانوں کے ہیروز ہیں وہی ہندووّں کے دشمن ہیں۔ بطور پاکستانی مسلمان ہم چاہتے ہیں کہ نصابِ تعلیم نہ صرف قومی بلکہ اسلامی روایات کا ترجمان ہو۔ جبکہ لبرلز و سیکولرز حلقے یہ چاہتے ہیں کے بچوں کو عقائد و نظریات نہ پڑھائیں جائیں۔ اگر دینا بھر کے نصاب کا جائیزہ لیا جائے تو تمام ممالک اپنے نصاب کو اپنی قومی تہذیب و ثقافت اور نظریاتی ضروریات کے تحت اسے مرتب کرتے ہیں۔ خاص طور پر اپنے ملک کی تاریخ، نظریات، تہذیب، ثقافت، مذہب اور ہیروز کے بارے میں بچوں کو پڑھایا جاتا ہے تاکہ ان کی اپنے ملک سے گہری وابستگی پیدا ہو۔ اور ہماری ذہنی پستی کا عالم یہ ہے کہ ہم اپنے تہذہب و ثقافت، تاریخ، اور مذہب کو پڑھانے سے انکاری ہیں کیوں کہ ہم میں سے بعض ذہنی اور شاید بکے ہوئے غلاموں کے نزدیک یہ دقیانوسیت، جہالت اور ملائیت کی علامات ہیں، اور وہ اپنی روزشن خیالی اور بدلتے ہوئے عالمی حالات کارونا رو کر نصابِ تعلیم کو اپنی مغربی فکر و نظر کے مطابق ترتیب دینا چاہتے ہیں۔ چونکہ پاکستان ایک نظریاتی اسلامی مملکت کے طور پر وجود میں آیا تو اپنی آئیندہ نسلوں کو اس کے بارے میں بتانا اور ان کو ان نظریات کے ساتھ ہم آہنگ کرنا ہمارا قومی فریضہ ہے اور اسکے ساتھ ساتھ اپنی قومی زبان کی ترقی و ترویج بطور قوم ہمارا حق ہے۔ تاکہ پاکستانی اقوامِ عالم کی بھیڑ میں اپناالگ تشخص اور پہچان قائم رکھ سکیں۔ ایسے میں وہ افراد جو اپنی تاریخ پر شرمسار ہیں، اپنے مذہب سے بیزار ہیں اور مغرب سے مرعوب ہیں ان کو یاد رکھنا چاہیے کہ جو افراد اغیار کی تقلید کرتے ہیں وہ اپنی پہچان اور انفرادیت کھو دیتے ہیں۔ پس ایک نظریاتی مملکت کا نصابِ تعلیم نظریاتی بنیادوں پر استوار ہونا چاہیے تاکہ جدید عصری علوم کے ساتھ ساتھ ہمارے مستقبل کے معماروں کو اپنی بنیادی اساس سے آگہی ہو اور وہ پاکستان کی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا کرسکیں۔ اللہ تعالی پاکستان کا حامی و ناصر ہو اور دوستوں کے بھیس میں چھپے ہوئے دشمنوں سے محفوظ رکھے۔ آمین

جگہ براۓ اشتہار

جگہ براۓ اشتہار