منطق

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ * لا الہٰ الا اللہ محمّد رسول اللہ * قُلْ هُوَ اللّـٰهُ اَحَدٌ - اَللَّـهُ الصَّمَدُ - لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُوْلَدْ - وَلَمْ يَكُنْ لَّـهٝ كُفُوًا اَحَدٌ

2017-07-08 06:54:53    65 Views نشہ حرام ہے ۔۔۔  /  ثمرینہ علی

نشہ حرام ہے ۔۔۔

نشہ حرام ہے۔۔۔ کوئی بھی ایسی چیز جو کہ آپ کی جسمانی و ذہنی فعالیت پر اثر انداز ہو کر آپ کی فعالیت کو بدل دے نشہ کہلاتی ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ارشاد نبوی ﷺ ہے ''ہر نشہ آور چیز 'خمر' ہے او رہر نشہ آور چیز حرام ہے۔'' حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک جمعہ کے خطبے میں خمر کے معنی کسی چیز کو ڈھانپ دینا ہے، اور خمر سے مراد ہر وہ چیز ہے جو عقل پر پردہ ڈالتی ہے۔ ہمارے معاشرے میں نشے کی بہت سی اقسام پائی جاتی ہیں ۔ جن میں سرفہرست عاشقی و معشوقی کا نشہ ہے ، جسمیں بعض اوقات فریق واحد اور بعض اوقات دونوں '' گوڈے گٹے '' سمیت غرق ہوتے ہیں لیکن اس عاشقی و معشوقی کو اذنِ رشتہ ازدواج ملنے کے بعد ذمہ داری کے جھٹکوں کے بعد عاشقی و معشوتی کا نشہ ہرن ہوجاتا ہے۔ کچھ لوگوں کو اپنی دولت کا نشہ بھی ہوتا ہے اور وہ اس نشے میں اتنے مدہوش ہوتے ہیں کہ اپنے جیسے انسان کو انسان سمجھنے سے انکاری ہوتے ہیں اور اسی طرح کچھ افراد کے سر پر اپنی طاقت ، عہدے، اقتدار اور اختیار کا نشہ ہوتا ہے جس کے زیرِ اثر انسان ان کے لیے کیڑے مکوڑوں کی حثیت رکھتا ہے جسے وہ کسی بھی طرح استعمال اور کچل سکتا ہے۔ ایک اور بہت خاص قسم کا نشہ ہمیں انگریزوں کی غلامی سے تحفے میں ملا ہے اور وہ ہے تہذیب و تمدن میں انگریزوں کی تقلید کرنا۔ اور ہم حقِ غلامی ادا کرتے ہوئے بہت فخر سے منہ ٹیڑھا کرکے انگریزی بولتے ہیں اور اپنے بچوں کو انگلش میڈیم اسکولوں میں پڑھانا فخر سمجھتے ہیں۔ یہ اور بات ہے کہ ان انگلش میڈیم اسکولوں سے فارغ التحصیل افراد بھی یہ بولتے سنائی دیتے ہیں کہ آج ان کےسر میں بہت pain ہے ۔ نشے تو اور بھی بہت سارے ہیں لیکن آج کے زمانے میں جو نشہ سر چڑھ کر بول رہا ہے وہ '' آزادی '' کا نشہ ہے۔ نہ نہ ۔۔ کسی جابر حکومت سے آزادی کا نشہ نہیں بلکہ شخصی و فکری آزادی کا نشہ۔ گلوبلائزیشن کے اس دور نے اس نشے کی طلب میں بہت اضافہ کردیا ہے۔حضرت انسان کا مطالبہ ہے ہر قسم کی آزادی ۔۔۔ جو کہ کسی مذہبی ، معاشرتی و اخلاقی حدود و قواعد کو نہیں مانتی۔ اب چاہے ان کی اس آزادی کی چاہ میں معاشرے عریانیت، تعیش پسندی اور مفاد پرستی، انتشار ، لاقانونیت سے زیر و بم ہو جائیں انہیں اپنی آزادی سے مطلب ہے۔ ایک اور نشہ '' آزادی نسواں '' کے نام کا بکتا ہے۔ ہمارے معاشرے کی دبی اور کچلی ہوئی عورت کو سننے میں تو بہت ہی فرحت بخش لگتا ہے لیکن اس کے مضمرات کا اندازہ ان معاشروں کے مطالعے سے با خوبی لگایا جاسکتا ہے جن میں یہ نشہ وافر مقدار میں موجود ہے۔ مساویانہ حقوق کا نعرہ لگاتی مغربی خواتین آج میڈیا کی مہربانی سے '' کمیوڈیٹی '' کی حثیت اختیار کر گئی ہیں اور فیکٹریوں ، کارخانوں ، ہوٹلوں ، دکانوں پر شوپیس کی طرح سج سنور کے کھڑی ہیں۔ اعلی عہدوں پر حال حال ہی خواتین نظر آتی ہیں، زیادہ تر خواتین ایکٹریس، ڈانسرز، کال گرلز ، ائیر ہوسٹس ، سیلز گرلز، ویٹریس کی صورت میں نظر آئیں گی۔ یاد رکھیں کہ یہ اس معاشرے کی حالت ہے جہاں خواتین اپنی مساویانہ حثیت سے موجود ہیں اور آج اسی نشے کی طلب ہماری معاشرے کی عورتوں میں پیدا تو کی جاچکی ہے اب بڑھانے کا کام جاری ہے۔ دورِ جدید کا ابھرتا ہوا اورنئی نسل کو اپنی اثر پذیری سے گھیرے میں لیتا ہوا نشہ ہے '' دانشوری '' ۔ جی ہاں دانشوری۔۔ لیکن یہ بحث پھر کبھی کہ دانشور میں دانشوری کا عنصر پایا جاتا ہے یا نہیں ۔۔۔لیکن آج کے '' دانشور'' کی حثیت ایک ایسے پیر کی ہوگئی ہے جس کے اندھے مقلد میڈیا کی آزادی کی بدولت اس کی ٹوٹی پھوٹی دانشوری سےکم اور اسکے فاسد خیالات و نظریات سے زیادہ فیضیاب ہوتے ہیں اور ان اندھے مقلدوں کو پتا بھی نہیں چلتا کہ یہ دانشور ان کی عقل و ذہن کو اپنے نظریات کی نکیل ڈال کر ادھر اُدھر گھسیٹ رہا ہوتا ہے اور اپنے مفادات کے تحت ان کے نظریات و عقائد میں تبدیلی پیدا کر رہا ہوتا ہے۔معصوم مقلد اپنی کم عقلی، جذباتیت، کتب بینی سے دوری اور تحقیق نہ کرنے کی بدولت اپنی رائے رکھنے کی بجائے اپنے اس دانشور پر کلی بھروسہ کرتے ہیں اور خود تو ذہنی خلجان، ہیجان اور انتشار کا شکار ہوتے ہی ہیں اور اس کے اثرات معاشرے میں پھیلانے کا باعث بھی بنتے ہیں ۔ یہ تو تھیں کچھ نشے کی اقسام جن سے ہمارے معاشرہ نبرد آزما ہے۔ اسلام نے ہر شخص کے لئے پانچ بنیادی ضروریات کی حفاظت کو لازمی قرار دیا ہے۔ دین، مال، جان، عزت اور عقل۔ اس لئے وہ چیزیں جو عقل کو ڈھانپ لیتی ہیں یا نقصان پہنچاتی ہیں اسلام اس سے منع کرتا ہے اور حرام قراردیتا ہے سو ہمیں شعوری کوشش سے ان نشوں سے بچنا چاہیے۔ اللہ تعالی ہمیں ہر قسم کے نشے میں مبتلا ہونے سے محفوظ رکھے ۔ آمین

جگہ براۓ اشتہار

جگہ براۓ اشتہار