منطق

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ * لا الہٰ الا اللہ محمّد رسول اللہ * قُلْ هُوَ اللّـٰهُ اَحَدٌ - اَللَّـهُ الصَّمَدُ - لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُوْلَدْ - وَلَمْ يَكُنْ لَّـهٝ كُفُوًا اَحَدٌ

2017-07-08 06:52:52    38 Views مذہبی ریاستیں اور ملحدین کے بہانے  /  ثمرینہ علی

مذہبی ریاستیں اور ملحدین کے بہانے

قیامِ پاکستان کا پسِ منظر: 14اگست1947ء میں دنیا کے نقشے پر پہلی مذہبی بنیاد پر نظریاتی ریاست '' پاکستان '' کا قیام عمل میں آیا۔ قائد اعظم نے کہا تھا'' پاکستان اسی دن وجود میں آ گیا تھا جب پہلا غیر مسلم مسلمان ہوا تھا'' ۔ یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ ہندووں میں نیشل ازم کا کا کوئی تصور کبھی بھی موجود نہیں رہا۔ مسلمانوں کی آمد سے قبل بھی ہندوستان مختلف راجوں کے درمیان بٹا ہوا تھا۔ ذات پات کے نظام میں بٹے ہوئے ہندوستان کے باشندوں کو محمد بن قاسم نے باقاعدہ اسلام سے روشناس کروایا، اور ذات پات کی پابندیوں سے کچلے ہوئے انسانوں نے اسلام کے وسیع دامن میں پناہ لی۔ اسکے بعد مسلمان حکمرانوں اور صوفیاء نے اسلام کی تبلیغ جاری رکھی۔ہندوستان کو مسلمانوں نے فتح کیا تھا نہ صرف تلوار سے بلکہ اپنے اخلاق سے بھی۔ شہاب الدین غوری پہلا مسلم حکمران تھا جس نے برصغیر پاک و ہند مسلم حکمرانی کی داغ بیل ڈالی اور ۱۸۵۷ء کی انگریزوں کے خلاف لڑی جانے والی جنگِ آزادی تک قائم رہی۔ '' بلاد اسلامیہ ہند'' کے نام سے معروف اس ملک کو انگریزوں نے اپنی مکاری اور ریشہ دوانی سے قبضہ میں لیا۔ چونکہ حکمرانی مسلمانوں سے چھینی تھی تو ان کے ساتھ بغض رکھتے ہوئے ہندووّں کی سرپرستی کی ۔ ان کے زیرِ سایہ ہندووں نے انگریزی تعلیم حاصل کرنے میں پہل کی اور انگریزوں کے سیاسی و انتظامی ڈھانچے میں داخل ہو گئے۔ حتی کہ آل انڈیا کانگریس کی بنیاد ایک انگریز '' ایلن اوکٹیوین ہیوم '' نے 1885ء میں رکھی۔ تعلیم یافتہ ہندووں نے یورپ کی صنعتی ترقی سے نمو پانے والے جمہوری نظام کی بدولت اپنی عددی برتری اور اہمیت کو سمجھا اور نیشنل ازم کا نعرہ لگاتے ہوئے ہر آئینی اصلاحات میں مسلمانوں کا حصہ کم کرنے کی کوشش کی اور مسلمانوں کے مفاد میں کوئی کام نہ ہونے دیتی۔اسی وجہ سے مسلمانانِ ہند نے اپنے الگ تشخص کی حفاظت اور مسلمانوں کے حقوق کی حفاظت کے لیے '' آل انڈیا مسلم لیگ''1906ء میں قائم کی۔ دوسری عالمی جنگ کے اختتام تک پاک و ہند میں سیاسی سرگرمیاں اپنے عروج پر پہنچ چکیں تھیں اور انگریز متحدہ ہندوستان کو اگلی حکومت کے سپرد کرنا چاہتے تھے۔ ہندو پورے ملک پر بلا شرکتِ غیرے اپنی حکمرانی کا خواب دیکھ رہے تھے جبکہ مسلمان اپنے علیحدہ تشخص کی حفاظت اور حصول کے لیے کوششیں کر رہے تھے۔ ایسے میں برطانوی وزیر اعظم ایٹلی نے 1945-1946ء کو عام انتخابات کا اعلان کیا اور48ء تک انتقالِ اقتدار کی تاریخ دے دی۔ مسلم لیگ انتخابات میں مسلمانوں کی واحد نمائیندہ جماعت بن کر سامنے آئی۔ انتقالِ اقتدار کا فارمولا طے کرنے کے لیے کیبنٹ مشن ہندوستان آیا اور اس ضمن میں ڈھیلے ڈھالے وفاق کی صورت میں متحدہ ہندوستان کی تجویز دی گئی تھی جسے کانگریس نے اپنی برتری کے زعم میں بلا شرکتِ غیرے ہندوستان پر حکومت کرنے کے زعم میں مسترد کر دیا ، اگرچہ مسلم لیگ نے انتخاب پاکستان کے نام پر جیتا تھا لیکن وہ اس تجویز پر رضا مند ہوگئی لیکن کانگریس کے مسترد کرنے پر اپنے فیصلے کو واپس لیتے ہوئے 16اگست کو ڈائریکٹ ایکشن ڈے منایا جس پر ہندو مسلم فسادات پھوٹ پڑے اور تین چار ماہ تک یہ سلسلہ نہ رک سکا۔ مارچ 1947ء کو لارڈ ماونٹ بیٹن وائسرائے ہند بن کر آیا۔ اس کا رویہ مسلمان رہنماوں سے معاندانہ جبکہ کہ ہندو رہنماوں سے دوستانہ تھا۔ سو بنگال اور پنجاب کو تقسیم کرنےا اور باقی صوبوں کے عوام کی دونوں ممالک میں سے کسی ایک کے ساتھ رہنے کی مرضی معلوم کرنے کی شرط کو تسلیم کرتے ہوئے ریڈ کلف کے فیصلے کو قبول کیا ۔ 14 اگست 1947ء کو ایک لٹا پُٹا، کٹا پھٹا اور لاکھوں مسلمانوں کی جانوں، مالوں اور بیٹیوں کی آبرووں کی قربانی سے ''پاکستان '' معرضِ وجود میں آیا۔ اسکے نو ماہ بعد 14مئی1948ء میں پہلی باقاعدہ یہودی ریاست '' اسرائیل '' کے قیام کا اعلان کیا گیا۔ اسرائیل کے قیام کا پسِ منظر:- حضرت یعقوب علیہ السلام کا لقب تھا '' اسرائیل '' اسرائیل کا مطلب ہے اللہ کا بندہ۔ بنی اسرائیل کے اولاد '' یہودی '' کہلائے۔ '' یہودیت'' اصلاَ نسل پرست مذہب ہے یہ بنی اسرائیل کے علاوہ کسی بھی فرد کو یہودی ماننے سے انکار کرتا ہے اور نہ ہی کوئی فرد '' یہودیت '' قبول کرکے '' یہودی '' کہلا سکتا ہے۔ حضرت عیسی علیہ السلام کا انکار کرکے اور انہیں قتل کرنے کی کوشش کے جرم میں '' یہودی '' اللہ کے عذاب کا شکار ہوئے۔ جب سلطنتِ روما حضرت عیسی علیہ السلام پر ایمان لے آئی تو یہودیوں پر عرصہ حیات تنگ ہونے لگا۔ سیاسی طور پر تو وہ پہلے ہی پسماندگی کا شکار تھے لیکن رومیوں کے عیسائیت قبول کرلینے کے بعد ان پر زمین تنگ ہونے لگی۔ ان کی پہلی سلطنت ۱۹۴۵ء میں قائم ہوئی جب انہوں نے عیسائیوں سے صلح کی اور ان کی سیاسی و تمدنی بالادستی کو قبول کیا۔ انیسویں صدی میں سیاست پر مذہب کی اجارہ داری ختم ہوچکی تھی ، مذہبی عصبیت کی جگہ وطنی عصبیت نے لے لی تھی ، انسان اپنا تعارف مذہب کی بجائے قومیت سے کروانے لگا تھا، اس بات کا سب سے زیادہ فائدہ '' یہودی '' قوم نے اٹھایا۔ انہوں نے اپنے آپ کو علمی و مالی طور پر منظم کرنا شروع کیا۔ دوسری طرف اگر عالمِ اسلام کا جائیزہ لیا جائے تو اس وقت خلافت ترکی کے پاس تھی۔ 1517ء میں عثمانی ترکوں نے مملوک خاندان سے اقتدار چھینا اور فلسطین پر قبضہ کر لیا۔ اسی دور میں مصر سمیت مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ بھی ترکوں کے قبضہ میں چلے گئے۔ ترکوں کا عربوں کے ساتھ رویہ حاکمانہ تھا چنانچہ جگہ جگہ بغاوتیں پھوٹتی اور ترک سختی کے ساتھ ان کو کچلتے۔ پورے عالمِ عرب میں ترکوں کے خلاف نفرت کے جذبات پیدا ہوچکے تھے جس کا فائدہ برطانیہ نے اٹھایا۔ یورپ میں برطانیہ اور جرمنی ترقی کی دوڑ میں سب سے آگے تھے۔ پہلی جنگِ عظیم میں ترکی نے جرمنی کا ساتھ دیا، اس وجہ سے برطانیہ نے ترکی کو شکست دینے کے لیے ایک طرف تو یہودیوں کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی تو دوسری طرف عرب طاقتوں کی حمایت کا اعلان کیا جو ترکوں کے خلاف برسرِ پیکار تھے۔ یہودی اس وقت تک اپنے آپ کو کافی حد تک منظم کر چکے تھے اور ان کی تنظیم '' صیہون ۸'' سب سے آگے تھی۔ اس زمانے میں کمیسٹری کا پروفیسر ڈاکٹر وائزمین صیہونی تحریک کا سربراہ تھا، اس نے برطانیہ کو چند ایسی ایجادات بنا کر دیں جن سے جنگ میں برطانیہ کا پلڑا بھاری ہوگیا۔ اس کے عوض اس نے حکومتِ برطانیہ سے وعدہ لیا کہ جنگِ عظیم میں کامیابی کی صورت میں فلسطین میں یہودیوں کے لیے ایک قومی وطن قائم کیا جائے گا۔ چنانچہ نومبر 1917ء میں وزیر خارجہ لارڈ بالفور نے ایک خفیہ خط کے ذریعے یہ وعدہ کرلیا۔ اس خط کو اعلانِ بالفور بھی کہا جاتا ہے۔ یوں یہودیوں کی تمام تر ہمدردیاں برطانیہ، فرانس اور اسکے دیگر اتحادیوں کے ساتھ ہوچکیں تھیں۔ 1917ء میں جب برطانوی افواج یروشلم پہنچی تو تمام شہریوں نے شہر سے باہر آ کر ان کا والہانہ استقبال کیا۔ اسکے اگلے تیس برس تک برطانیہ نے فلسطین میں یہودی آبادکاری کے لیے ہر جائیز و ناجائیز ہتھکنڈہ استعمال کیا۔شام اور لبنان میں بیٹھے ہوئے زمینداروں نے منہ مانگی قیمت پر اپنی زمینیں یہودیوں کے ہاتھ فروخت کیں، فلسطینیوں کی بھی ایک بڑی تعداد نے زیادہ قیمت کی لالچ میں اپنی زمینیں یہودیوں کے ہاتھ فروخت کیں۔ مسلمانوں کو کافی عرصہ بعد ہوش آیا کہ یہودی ان کی زمین فلسطین پر قابض ہوتے چلے جا رہے ہیں چنانچہ 1936ء سے لیکر1939ء تک فلسطینیوں نے برطانوی حکومت کے خلاف بغاوت کی۔ لیکن اس بغاوت کو برطانوی اور یہودی اتحاد نے کچل دیا۔ دوسری جنگِ عظیم کے دوران جرمنی سے بھاگ کر آنے والے یہودیوں کی وجہ سے بھی فلسطین میں انکی آبادی بڑھی اور اسکے ساتھ ساتھ دنیا بھر سے یہودی اپنے مستقبل کے قومی وطن کی خواہش لیے فلسطین آتے گئے۔ ۱۹۴۸ء میں اسرائیل کے قیام کے وقت وہاں سات لاکھ اٹھاون ہزار یہودی آباد تھے۔ برطانیہ نے اس علاقے کو اقوامِ متحدہ کے حوالے کردیا۔ اقوامِ متحدہ نے ایک قرار داد کے ذریعے فلسطین کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کا اعلان کیا۔ اسرائیل کو کل رقبے کا چھپن فیصد دیا گیا اور فلسطینیوں کو چوالیس فیصد ۔ آبادی کے لحاظ سے یہ ایک ناجائیز تقسیم تھی۔ اس لیے فلسطینیوں اور دیگر عرب ممالک نے اسے ماننے سے انکار کردیا۔ یوں14 مئی 1948ء میں خالصتاََ مذہبی ریاست اسرائیل نے اپنے قیام کا اعلان کیا۔ اسمیں کوئی شک نہیں کہ یہودیوں نے اپنی مملکت کے قیام کے لیے ناجائیز ہتکھنڈے استعمال کئے لیکن وہ آج بھی بہت سے ممالک کی مخالفت کے باوجود ایک مذہبی ریاست قائم کئے ہوئے ہیں اور بہت سو کی ناپسندیدگی کے باوجود ایک ترقی یافتہ ایٹمی ملک ہے۔ اسرائیل جیسی صہیویانی ریاست کے مقابلہ میں پاکستان جیسی اسلامی ریاست ہر ایرے غیرے کی آنکھ میں کھٹکتی ہے۔ ہمارے نام نہاد روشن خیال دانشور قیامِ پاکستان پر تنقید کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ بہت سو کا اعتراض ہوتا ہے کہ کیا دینا بھر میں کہیں بھی مذہبیت یا نظریات کے نام پر کسی ریاست کا وجود ہے؟؟ حیرت ہوتی ہے ان دانشوروں پر جو کہ اسرائیل جیسی کٹر مذہبی اور نظریاتی ریاست کا قیام بھول جاتے ہیں اور پاکستان پر چڑھائی کردیتے ہیں۔ اکثر روشن خیال دانشوروں کا یک اعتراض یہ بھی ہوتا ہے کہ ہندوستان یا برصغیر پاک و ہند ہندووں کی سرزمین ہے اور مسلمان حملہ آور اور قابض تھے۔ اسلیے وہ پاکستان بنانے کا حق نہیں رکھتے۔ لیکن یہ اعتراض کرتے ہوئے وہ بھول جاتے ہیں کہ ان حملہ آوروں کے حسنِ اخلاق سے متاثر ہو کر اسلام قبول کرنے والے مقامی افراد کس گنتی میں شمار ہونگے؟؟؟ کیا اسلام قبول کرنے کے بعد ان کا '' بلاد اسلامیہ ہند '' کی زمین پر حق ختم ہوگیا؟؟؟ کیاوہ اس زمین کے مالک نہ تھے؟؟؟ دنیا بھر سے یہودیوں کو اسرائل لا کر بسایا گیا ۔۔ ہمارے روشن خیالوں کو یہ تو گوارا ہے لیکن ہند کی اپنی سرزمین کے مالک باشندوں کے لیے الگ وطن گوارہ نہیں کیونکہ وہ اپنے آپ کو مسلمان کہلواتےہیں۔ ہمارے بعض دانشوروں کا اعتراض یہ بھی ہوتا ہے کہ دو قومی نظریہ اگر مختلف قوموں کو آپس میں جوڑتا تو بنگلہ دیش وجود میں نہ آتا۔ یہ بات کرتے ہوئے وہ بنگلہ دیش کے قیام کا پسِ منظر بھول جاتے ہیں کہ کس طرح ہندوستان کی سازشوں کا شکار کچھ بنگالیوں اور باقی ہندوستانیوں پر مشتمل مکتی باہنی تیار کی گئی تھی اور مفاد پرست سیاستدانوں نے اپنے مفاد کی خاطر ملکی مفاد کو پسِ پشت ڈال دیا۔ سقوطِ ڈھاکہ پر اندرا گاندھی نے کہا تھا کہ '' آج ہم نے مسلمانوں سے اپنی ہزار سالہ غلامی کا بدلہ لے کر دو قومی نظریہ خلیج بنگال میں ڈبو دیا ہے '' ،ایسی بات تھی تو اس نے ہندو اکثریتی بنگال کا الحاق بنگلہ دیش کے ساتھ کیوں نہیں کیا تاکہ دو قومی نظریہ کا مکمل خاتمہ ہو جاتا۔ پر دو قومی نظریہ ایک ازلی و ابدی حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے کہ جو قومیں ہزار سال کے بعد بھی اپنا رہن سہن، ثقافت، تہذیب و تمدن ، زبانیں نہ بدل سکیں وہ اب کیا بدلیں گی۔ ہمارے روشن خیال اور بیدار مغز دانشور جتنا مرضی زور لگا لیں وہ اس اختلاف کو قطعاََ ختم نہیں کر سکتے۔ ہندوستان بذاتِ خود ایک نظریاتی '' ہندوانہ '' ریاست ہے جس نے سیکولر ازم کا لبادہ اوڑھ رکھا ہے اور ہر دم اپنی ہزار سالہ غلامی کا بدلہ لینے کے لیے پاکستان پر وار کرنے کو تیار رہتا ہے۔ پاکستان میں ہونے والے لسانی ، علاقائی، سیاسی ، مذہبی منافرت ہر جھگڑے کے ڈانڈے ہندوستان سے جا ملتے ہیں اور اس کا ہاتھ مضبوط کرنے والے ہیں ہمارے '' روشن خیال'' ذہن۔ اللہ تعالی پاکستان کو اپنے حفظ و امان میں رکھے ۔ آمین

جگہ براۓ اشتہار

جگہ براۓ اشتہار