منطق

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ * لا الہٰ الا اللہ محمّد رسول اللہ * قُلْ هُوَ اللّـٰهُ اَحَدٌ - اَللَّـهُ الصَّمَدُ - لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُوْلَدْ - وَلَمْ يَكُنْ لَّـهٝ كُفُوًا اَحَدٌ

2017-07-06 17:42:55    231 Views امام غزالی اور ڈیکارٹ کی تشکیکیت میں فرق  /  صباءسعید

امام غزالی اور ڈیکارٹ کی تشکیکیت میں فرق

امام غزالی اور ڈیکارٹ کی تشکیکیت میں فرق؟ اعتراض کیا جاتا ہے کہ "امام غزالی" اور "رینے ڈیکارٹ" کی تشکیکیت میں کوئی فرق نہیں ہے. جبکہ دونوں کی تشکیکیت میں واضح فرق موجود ہے صرف تعصب کی عینک اتار کر دیکھنے کی ضرورت ہے. امام غزالی کی تشکیکیت اور نتائج: امام غزالی کو دینی علوم کے ساتھ علومِ فلسفہ و منطق سے بھی کافی شغف رہا ہے، چنانچہ آپ کی تصانیف میں جا بجا منطقی اور فلسفیانہ طرز کی بحثیں، منطقی استدلال اور فلاسفہ کے اقوال ملتے ہیں۔ بعض مقامات پر امام صاحب نے منطق کو میزان العلوم، تک قرار دیا ہے، جو یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہے کہ علومِ عقلیہ پر انہیں کس قدر اعتبار و اعتماد تھا۔ "اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ (امام) غزالی کی ذات کو فلسفہ میں کس قدر عجز تھا اور وہ اس سے خروج حاصل کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے تھے۔ کیونکہ انہوں نے معرفتِ حقیقت کے لیے اسے حاصل کیا تھا۔ پس ان کی نیت ایسے اسباب حاصل کرنے کی رہتی تھی جس میں فلسفہ کی کثرت ہو اور وہ اسی فلسفہ کی پرواز تخیل میں (مگن) رہتے تھے۔ اور بعض مقامات پر اختلافِ شریعت کر گئے .لیکن فلسفہ پر مکمل عبور تھا اور منفی و اختلافِ شریعت کے تجربات سے گزرنے کے بعد وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ فلسفی درحقیقت لا دین ہیں ۔اس ضمن میں امام غزالیؒ نے فلسفیوں کے استدلال کی بنیادی خامیوں کو زیر بحث لاتے ہوئے ان کی منطق کے پرخچے اڑا دئیے اور اپنے علم ،مطالعہ اور ذہانت کی بدولت یہ ثابت کیا کہ ابدیت کے بارے میں ان کا اعتقاد درست نہیں ،ارواح اور اساطیری اجسام کے بار ے میں ان کے نظریات صریحاً گمراہ کن ہیں، فلسفیوں کا نظریۂ علت و معلول درست ہے اور نہ ہی وہ روح کی ابدیت کو ثابت کرنے میں کامیاب ہو سکے ہیں اور مزید یہ کہ خدا کے وجود سے متعلق ان کے دلائل نقائص سے پاک نہیں۔اس قسم کے بیس نکات کو زیر بحث لاتے ہوئے امام غزالی ؒفلسفیوں کے خلاف تین الزامات لگاتے ہوئے انہیں لا دین ہونے کا مرتکب پاتے ہیں۔پہلا، کائنات کی ابدیت، دوسرا، زمان و مکاں کے بارے میں خدا کے علم سے انکار اور تیسرا،حیات بعد از موت سے انکار۔ امام غزالیؒ کا ماننا تھا کہ خدا اس کائنات کو عدم سے وجود میں لے کر آیا اور ماضی کے ایک لمحے میں تخلیق کیا اور ماضی کا وہ لمحہ حال سے ایک متعین فاصلے پر ہے ،لا محدود نہیں ہے ۔خدا مادے کے ساتھ ساتھ وقت کا بھی خالق ہے جس کا ایک معین آغاز تھا لہٰذا وقت لامتناہی نہیں ہو سکتا۔امام غزالیؒ کی فلسفیوں سے بنیادی اختلاف کی وجہ یہ تھی کہ ان کے خیال میں فلاسفہ کے دلائل منطقی اعتبار سے درست نہیں تھے اپنے نظریات کو سچا ثابت کرنے کی غرض سے فلسفیوں نے بعض جگہوں پر اپنے ہی دلائل کی نفی کرتے ہوئے متضاد باتیں کہی تھیں۔ امام غزالیؒ کے خیال میں فلسفیوں نے جن مفروضوں کی بنیاد پر اپنے عقائد کی عمارت کھڑی کی وہ مفروضے ہی سراسر غلط تھے۔ امام غزالیؒ نے ثابت کیا کہ ان مفروضوں کی منطقی اعتبار سے تشریح کی جا سکتی ہے اور نہ ہی یہ وحی کے ذریعے سے اپنے آپ آشکار ہوتے ہیں ۔ رینے ڈیکارٹ کی تشکیکیت اور نتائج: اپنے فلسفیانہ تفکر کے آغاز میں ڈیکارٹ خدا، دنیا اور حواس خمسہ سمیت ہر شے کو اپنی تشکیک کا ہدف بناتا ہے۔ لیکن اس تشکیک میں اس کو یقین کا ایک نکتہ ہاتھ آجاتا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ وہ ہر شے کی بابت شک کرتا رہا، لیکن اپنی ذات، یعنی شک کرنے والی شے، پر شبہ نہ کرسکا۔ اگر شک کرنے والی شے غیر حقیقت یا عدم وجود کی حامل ہے، تو پھر شک کرنے کے عمل کو کون انجام دے رہا ہے۔ مزید برآں تشکیک تفکر پر دلالت کرتی ہے۔ لہذا تفکر پر مبنی عمل تشکیک کے ذریعہ وہ اس نتیجہ پر پہنچا کہ میں سوچتا ہوں، اس لیے میرا وجود ہے۔ اس نکتہ یقین سے اس نے بقیہ تمام نتائج ریاضیات کی طرح اخذ کیے ہیں۔ وہ اپنی ذات کا تنقیدی تجزیہ کرتا ہے اور اس نتیجہ پر پہنچتا ہے کہ اس کے ذہن میں بعض وہبی تصورات پائے جاتے ہیں۔ ان تصورات میں ایک اکمل ذات یا خدا کا تصور ہے۔ اس کے ذہن میں اس تصور کا خالق، خود خدائے اکمل کے علاوہ کوئی اور نہیں ہوسکتا ہے۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ خدا کا وجود ہے۔ خدا کے وجود کے اثبات کے سلسلہ میں یہ اس کی کونیاتی Cosmological یا علیِّ دلیل ہے۔ خدا کی ذات کے اثبات میں وہ وجودیاتی Ontological دلیل بھی دیتا ہے۔ اگر خدا کی ذات اکمل ہے تو پھر اس کا وجود بھی لازمی ہے، اس لیے کہ وجود کا فقدان عدم اکملیت کے مترادف ہے۔ چنانچہ ایک اکمل ذات کے تصور میں لازمی طور پر اس کے وجود کا تصور بھی شامل ہے، اور اسکا مطلب ہے خدا نہیں ہے. جس طرح ایک مثلث کے تصور میں یہ تصور بھی شامل ہے کہ اس کے تین زاویے ہونگے اور ان زاویوں کا مجموعہ دو زاویہ قائمہ کے برابر ہوگا۔ اپنے فلسفہ کو جوہر کے تصور پراستوار کرتے ہوئے ڈیکارٹ خدا کو ایک موجود بالذات اور خود مختار جوہر قرار دیتا ہے جو دیگر اشیا کا محتاج نہیں ہوتا۔ اس کے نزدیک جوہر وہ ہے جو وجود بالذات رکھتا ہو اور مخلوق بالذات ہو یعنی اپنے وجود کے لیے کسی اور علت کا پابند نہ ہو۔ اس تعریف کی رو سے جوہر ایک ہی ہوسکتا ہے اور وہ خدا ہے۔ لیکن ایک طبعیات داں کی حیثیت سے وہ مادے کے وجود سے منکر نہ ہوسکا۔ لہذا خدا کے علاوہ دو اور جوہروں کے وجود میں بھی وہ یقین رکھتا ہے جن کو وہ ممتد جوہرExtended Substance اور مفکر جوہرThinking Substance کے ناموں سے موسوم کرتا ہے اور جن سے وہ علی الترتیب نفس یا روح اور مادہ مراد لیتا ہے۔ یہ صحیح ہے کہ ان کا مبدا خدا کی ذات ہے لیکن یہ دونوں ثانوی جواہر بھی ضمنی اعتبار سے وجود بالذات کے حامل میناور اپنے اپنے دائرہ کار میں مکمل طور پر آزاد ہیں۔ تمام طبعی دنیا ایک جوہر ممتد ہے جو میکانیکی قوانین فطرت کی تابع ہے اور یہی متحرک مادہ بالآخر طبعی دنیا کو وجود میں لانے کا سبب بنتا ہے۔ پھر اس کے نظریہ تعامل کو بعد کے فلسفیوں نے تسلیم نہیں کیا، بلکہ خود ڈیکارٹ کے پر جوش حامیوں کو یہ قابل قبول نہ ہوا۔ چنانچہ انھوں نے اس کی تعاملیت کو سخت تنقید کا ہدف بنایا ہے۔ ڈیکارٹ دراصل ثانویت پرست(Humanist) ہے۔ اس کا نظریہ تعامل بھی اس کی ثانویت کا ہی ضمنی نتیجہ ہے۔ ذہن و جسم کے مابین نظریہ تعامل کے ذریعہ ہم آہنگی پیدا کرنے کی محض کوشش کرنا ایک عالمانہ معجز نمائی سے کام لینا ہے۔ ڈیکارٹ کی ثانویت کے لیے منطقی بنیاد فراہم کرنا مشکل ہے۔ تاہم اس کا ثانویتی نظریہ جدید طبعی علوم کو فروغ دینے میں بے حد معاون ثابت ہوا ہے۔ اس نے ان کی ترقی کے لیے ٹھوس بنیاد فراہم کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس کی بدولت ان علوم کو میکانیکی قوانین کے معروضے پر عمل کرتے ہوئے اپنے اپنے دائروں میں ترقی کرنے کی آزادی میسر آئی ہے۔

جگہ براۓ اشتہار

جگہ براۓ اشتہار