منطق

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ * لا الہٰ الا اللہ محمّد رسول اللہ * قُلْ هُوَ اللّـٰهُ اَحَدٌ - اَللَّـهُ الصَّمَدُ - لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُوْلَدْ - وَلَمْ يَكُنْ لَّـهٝ كُفُوًا اَحَدٌ

2017-07-05 10:23:45    76 Views یہودی عالِم کا قبول اسلام  /  محمد اسحاق قریشی

یہودی عالِم کا قبول اسلام

یہود کا کتمان حق
حضرت عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ یہودیوں کے بہت بڑے عالم اور تورات کے حافظ تھے ۔آپ حضرت سیدنا یوسف علیہ السلام کی اولاد میں سے تھے ۔اسلام سے قبل ان کا نام حصین ابن سلام تھا ۔ قبول اسلام کے بعد حضور اکرم ﷺ نے ان کا نام عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ رکھا۔قرآن عظیم میں ان کی شان یوں بیان ہوئی ہے :۔
"اور بنی اسرائیل میں سے کوئی گواہ اس جیسی کتاب پر گواہی دے کر ایمان لائےاور تم تکبر ہی میں رہو۔" (سورۃ الاحقاف آیہ 10)
حضرت عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ بنی قینقاع کے یہود میں سے تھے ۔ جس دن رسول اکرم ﷺ ہجرت فرما کر مدینہ میں حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے مکان میں تشریف لائے اسی دن یہ آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ خود حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے ہی روایت ہے کہ جب حضور اکرم ﷺ مدینہ تشریف لائے تو لوگ جوق در جوق آپ ﷺ کی زیارت کے لیئے آپ کے پاس آنے لگے ۔چنانچہ میں بھی انہی لوگوں میں شامل تھا ۔جونہی میں نے آنحضرت ﷺ کے چہرہ مبارک پر پہلی نظر ڈالی میرے دل نے گواہی دی کہ یہ چہرہ اقدس کسی جھوٹے کا نہیں ہو سکتا !
اس کے بعد میں نے آپ ﷺ کو یہ فرماتے سنا:۔ "لوگو! سلام کو زیادہ سے زیادہ عام کرو۔رشتہ داروں کے حقوق ادا کرو ۔ لوگوں کو کھانا کھلاؤ یعنی اپنا دسترخوان وسیع رکھو ۔اور راتوں کو اس وقت اللہ کا نام لو اور عبادت کرو جب لوگ سو رہے ہوں اور ان اعمال کے نتیجہ میں سلامتی کے ساتھ جنت کے حقدار بن جاؤ۔"
حضرت عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے جیسے ہی حضور اکرم ﷺ کا یہ فرمان سنا فوراََ پکار اٹھے "میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ ﷺ سچے ہیں اور سچائی لے کر آئے ہیں۔"
وہ کہتے ہیں کہ پھر میں اپنے گھر واپس آیا اور اپنے گھر والوں کو بھی اسلام قبول کرنے کی دعوت دی چنانچہ وہ بھی مسلمان ہو گئے ۔مگر میں نے اپنا اور اپنے گھر والوں کا اسلام ابھی ظاہر نہیں کیا۔اس کے بعد میں حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے مکان میں آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی کہ :۔ اے رسول اللہ ﷺ آپ کو معلوم ہے کہ میں سردار ابن سردار ہوں اور خود بھی ان کے مذہب کا سب سے بڑا عالِم ہوں اور سب سے بڑے عالِم کا بیٹا ہوں۔میں چاہتا ہوں کہ میں یہاں ایک طرف پوشیدہ ہو کر بیٹھوں اور یہودی آپ ﷺ کے پاس آئیں، آپ انہیں اسلام کی دعوت دیجئے اس سے قبل کہ انہیں میرے قبول اسلام کا علم ہو میرے بارے میں ان کی رائے پوچھیئے ۔ کیونکہ یہود ایک ایسی قوم ہیں کہ ان کے دل میں کچھ اور ہوتا ہے اور زبان پر کچھ اور۔یہ لوگ پرلے درجے کے جھوٹے اور مکار ہیں اگر انہیں میرے قبول اسلام کا پہلے علم ہو گیا تو یہ مجھ میں ایسے ایسے عیب نکالیں گے جو مجھ میں ہیں ہی نہیں۔لہذا ان کی رائے معلوم کرنے کے بعد ان سے عہد لے لیجئے کہ اگر میں آپ کی پیروی کر لوں اور آپ ﷺ پر نازل کردہ کتاب پر ایمان لے آؤں تو کیا یہ لوگ بھی آپﷺ اور آپ پر نازل کردہ کتاب پر ایمان لے آئیں گے ۔
چنانچہ حضور اکرم ﷺ نے یہود کو بلایا جب وہ آپ ﷺ کے پاس آ گئے تو آپ ﷺ نے فرمایا:۔
اے گروہ یہود! تم پر افسوس ہے اللہ سے ڈرو قسم ہے اس ذات کی جس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں تم جانتے ہو کہ میں حقیقت میں اللہ کا رسول ہوں اور میں تمہارے پاس حق اور سچائی لے کر آیا ہوں ۔ اس لیئے اسلام قبول کر لو۔
اس پر یہودیوں نے کہا ہم آپ ﷺ کے بارے میں کچھ نہیں جانتے۔آپﷺ نے یہی بات تین مرتبہ ان سے کہی اور ہر بار انہوں نے یہی جواب دیا۔آخر آپ ﷺ نے فرمایا :۔
اچھا یہ بتلاو ابن سلام رضی اللہ عنہ تم میں سے کس قسم کا آدمی ہے ؟
یہودیوں نے کہا
وہ ہمارے سردار ہیں اور سردار کے بیٹے ہیں ۔ ہم میں سب سے بڑے عالِم ہیں اور عالِم کے بیٹے ہیں ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ وہ ہم میں سب سے بہترین آدمی ہیں اور بہترین آدمی کے بیٹے ہیں ۔ اللہ کی کتاب تورات کو سب سے زیادہ جاننے والے ہیں ہمارے سردار ہیں ہمارے بزرگ ہیں اور ہم میں سے سب سے افضل ہیں ۔
آپ ﷺ نے فرمایا
اگر وہ اس بات کی گواہی دے دیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں اور اللہ کی کتاب پر ایمان لے آئیں تو کیا تم بھی ایمان لے آؤ گے ؟
یہودیوں نے کہا ہاں ! چنانچہ آپﷺ نے نے ابن سلام رضی اللہ عنہ کو آواز دی کہ باہر آ جاؤ۔جب وہ باہر آ گئے تو آپ ﷺ نے پوچھا اے ابن سلام رضی اللہ عنہ ! کیا تم اس بات کو نہیں جانتے کہ میں اللہ کا رسول ہوں ۔ میرے متعلق تم نے تورات میں خبریں پڑھی ہوں گی جہاں اللہ تعالیٰ نے تم یہودیوں سے عہد لیا ہے کہ تم میں سے جو بھی میرا زمانہ پائے میری پیروی کرے۔
ابن سلام رضی اللہ عنہ نے کہا:۔ ہاں اے گروہ یہود تم پر افسوس ہے اللہ سے ڈرو ۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں تم بخوبی اس بات کو جانتے ہو کہ یہ اللہ کے رسول ہیں اور حق اور سچ لے کر آئے ہیں ۔ بعض روایات میں ان الفاظ کا اضافہ ہے کہ تم تورات میں آنحضرت ﷺ کا نام اور حلیہ بھی لکھا ہوا پاتے ہو۔
یہودی یہ بات سن کر بگڑ گئے اور اپنی بات سے پھر کر انہوں نے ابن سلام رضی اللہ عنہ سے کہا
"تو جھوٹ بولتا ہے تو ہم میں سے خود بھی بدترین ہے اور بدترین کا بیٹا ہے"
اس روایت میں یہودیوں نے "انت اشرنا و ابن اشرنا" کے الفاظ استعمال کیئے جو تیسرے درجے کے بازاری اور عامیانہ الفاظ ہیں 
غرض یہ سن کر ابن سلام رضی اللہ عنہ نے کہا :۔ یا رسول اللہ ﷺ! میں اسی بات سے ڈرتا تھا میں نے آپ ﷺ سے عرض کیا تھا کہ یہ لوگ بڑے جھوٹے ، دغا بازاور کمینہ خصلت ہیں۔
اس کے بعد آپ ﷺ نے یہودیوں کو واپس کر دیا اور عبد اللہ ابن سلام رضی اللہ عنہ نے اپنے قبول اسلام کا اعلان کر دیا۔ اور اس کے بعد اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی 
"اور بنی اسرائیل میں سے کوئی گواہ اس جیسی کتاب پر گواہی دے کر ایمان لائےاور تم تکبر ہی میں رہو۔" (سورۃ الاحقاف آیہ 10)

جگہ براۓ اشتہار

جگہ براۓ اشتہار