منطق

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ * لا الہٰ الا اللہ محمّد رسول اللہ * قُلْ هُوَ اللّـٰهُ اَحَدٌ - اَللَّـهُ الصَّمَدُ - لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُوْلَدْ - وَلَمْ يَكُنْ لَّـهٝ كُفُوًا اَحَدٌ

2017-07-03 14:01:26    123 Views زندگی کیسے گزاریں  /  صباءسعید

زندگی کیسے گزاریں

یہ تحریر ان بچوں اور بچیوں کے لیے ہے جو لڑکپن سے جوانی میں داخل ہورہے ہوتے ہیں. یعنی ٹین ایجر بچے. جن کی عمریں 14 سے 19 کے درمیان ہیں.
عموماً جو بچے اس عمر سے گزر رہے ہوتے ہیں. ان میں آنے والی تبدیلیاں ان کے ذہنی خیالات کو یکسر بدل رہی ہوتی ہیں. جب بچے اور بچیاں لڑکپن سے جوانی میں داخل ہورہے ہوتے ہیں تو قدرتی طور پر ان کے چہرے ہشاش بشاش یعنی تروتازہ ہوتے ہیں. بچوں کو بار بار آئینہ دیکھنا اور سراہے جانا اچھا لگتا ہے. وہ اپنے لیے ہر خوبصورت چیز , لباس وغیرہ کا انتخاب کرنا چاہتے ہیں اور اکثر کرتے بھی ہیں. اپنے متعلق منفی باتیں یا نصیحتیں ذرا کم ہی سنتے ہیں. والدین انہیں کم عمر بچوں کی ٹریٹ کرتے ہیں جبکہ وہ خود کو میچور سمجھتے ہیں. لہذا اپنے فیصلوں میں شراکت انہیں ناگوار گزرتی ہے اور اکثر اسکا برملا اظہار بھی کر دیتے ہیں. دوست احباب بنانے کا بڑا کریز ہوتا ہے. اس کے ساتھ ساتھ سوشل لائف میں انٹرسٹڈ نظر آتے ہیں. اکثر اس عمر کے بچوں کو شاعری سے بھی لگاؤ ہوتا ہے. پڑھائی سے توجہ ہٹتی تو نہیں لیکن پڑھائی کرنے کے طریقے بھی تبدیل کرنا چاہتے ہیں. مثلاً کمرہ بند کر کے اکیلے پڑھنا چاہتے ہیں تاکہ گھر والا کوئی انہیں ڈسٹرب نہ کرے یا دوستوں کے ساتھ گروپ سٹڈیز کرنا چاہتے ہیں. الیکٹرانک اشیاء میں دلچسپی بڑھنے لگتی ہے. موبائل, ٹیبلیٹ, کمپوٹر وغیرہ کی ڈیمانڈ کرنے لگتے ہیں. اگر منع کیا جائے تو بُرا مان جاتے ہیں. موبائل کا استعمال تو اس قدر ضروری سمجھتے ہیں گویا یہ جوانی کا سرٹیفیکیٹ ہے. گھر میں والدہ یا والد کا موبائل اکثر ان کے ہاتھ میں ہوتا ہے. پاکٹ منی بچا بچا کر ایزی لوڈ کرواتے ہیں تاکہ دوستوں سے رابطہ رہے. اس عمر کے بچے چونکہ جوانی کی حدود میں داخل ہورہے ہوتے ہیں تو مخالف جنس میں کشش محسوس کرنے لگتے ہیں. یہ ایک قدرتی امر ہے. اسی لیے اسلام جلدی شادی کی ترغیب دیتا ہے. خیر یہ الگ موضوع ہے. انہیں موبائل میسج اور سوشل میڈیا جیسی سہولیات میسر ہوتی ہیں. تورابطہ میں آسانی رہتی ہے. اور آگے کیا ہوتا ہے سب واقف ہیں. اچھا یہ سب آپکو نصیحتیں کرنے کے لیے نہیں لکھا جارہا. بلکہ طرزِ زندگی کو تھوڑا سا بہتر کیسے بنایا جاسکتا ہے اس متعلق کچھ مشورے یا تجاویز دینے کے لیے یہ موضوع چُنا گیا. اس عمر کے بچے اور بچیاں اگر کچھ باتوں کو سنجیدگی سے لیں تو بامقصد زندگی گزار سکتے ہیں. اور بامقصد زندگی تو سب ہی کی خواہش ہوتی ہے.

سب سے پہلے تو بچوں اور بچیوں کو چاہیے کہ اپنے گھر کے حالات سے واقفیت رکھیں آپکے والد صاحب یا سربراہ خاندان کس محنت سے کام کرتے ہیں ان کے کام کرنے کا طریقہ, انکے اوقاتِ آرام کا جائزہ لیں. والدہ کس طرح گھر کو مینج کرتی ہیں. انکی دن بھر کی مصروفیات کیا ہیں. آیا وہ آرام بھی کرتی ہیں یا نہیں. اس سے آپ کے دل میں والدین کی قدروقیمت اور ان کے لیے عزت و احترام میں اضافہ ہوگا. ساتھ ہی ساتھ آپ یہ سبق بھی سیکھ جائیں گے کہ اپنی چادر دیکھ کر پاؤں پھیلانے چاہیے. بلاوجہ کی فرمائشیں آپ کے والدین کے لیے مشکلات میں اضافہ کرسکتی ہیں. گھر کا ماہانہ بجٹ خراب ہوسکتا ہے. والدین کو دن بھر کام میں جُتا دیکھ کر آپ میں احساسِ ذمہ داری پیدا ہوگا. سادہ لیکن صاف ستھرا اور ساتر لباس زیب تن کیجیے یہ آپکی عظمت و وقار میں اضافہ کرے گا. بار بار آئینہ دیکھنے سے گریز کریں کہ اس سے غرورو تکبر جیسی کیفیات کا اندیشہ ہے اور غرورو تکبر اللہ کو سخت ناپسند ہے. بچے اپنے ساتھ دن بھر پیش آنے والے واقعات اپنے والد صاحب سے شئیر کریں اور بچیاں والدہ کے ساتھ. اگر روزانہ کی بنیاد پر وقت نہ مل سکے تو ویک اینڈ پر اپنے والدین سے اپنے معمولات ضرور ڈسکس کریں. کوئی بھی نئ یا انہونی بات یا واقعہ دیکھیں تو ان سے اس بارے میں ضرور بات کریں. کیونکہ والدین سے بہتر کوئی دوست نہیں ہوتا. اور اگر وہ آپ کے ساتھ پیش آنے والے حالات و واقعات سے واقف ہونگے تب ہی آپ کو درپیش مصائب سے محفوظ رکھ پائیں گے.

اپنے دوستوں کو والدین سے ضرور ملوایے اس سے والدین کے دل میں آپ کے دوستوں کی قدر بڑھے گی اور وہ آپکو دوستوں سے ملنے سے نہیں روکیں گے. دوست بھی اس طرح آپ کے والدین کی عزت کریں. پڑھائی پر فوکس کرنا ضروری ہے لیکن کمرہ بند ہوکر پڑھنے سے مسائل ہوسکتے ہیں. ایک تو اگر بند کمرے میں آپکی طبیعت خراب ہوجائے تو آپ کے لیے مشکلات ہوجائیں گی. اسی طرح تنہائی میں آنے والے خیالات بھی آپکو پریشان کرسکتے ہیں. اگر آپ دروازہ کھلا رکھتے ہیں تو اردگرد کے حالات سے بھی واقف رہیں گے. والدین کو کسی چیز کی ضرورت ہو تو وہ مہیا کرسکتے ہیں اور آپکو کوئی ضرورت ہو تو وہ بھی پوری کر سکتے ہیں. اور فضول خیالات سے بھی نجات مل جائے گی. کمبائن یا گروپ سٹڈیز کے لیے ان دوستوں کا انتخاب کریں جن کو آپکے والدین پسند کرتے ہیں. الیکٹرانک اشیاء موبائل, لیپ ٹاپ, کمپیوٹر وغیرہ کا استعمال مخصوص اوقات میں کریں. زیادہ استعمال نظر کی خرابی کا باعث بنتا ہے اور وقت کا بھی ضیاع ہے. سوشل میڈیا پر جان پہچان کے لوگوں کو دوست بنایے. انجان لوگوں سے اپنی ذاتیات ڈسکس مت کیجیے. تصاویر اپ لوڈ کرنے یا ان باکس سے گریز کیجیے. کہ اکثر انجان لوگ انکا غلط استعمال کر سکتے ہیں. کسی کی ذات سے متاثر نہ ہوں. کسی پر اندھا اعتماد مت کریں. کوئی شخص کامل نہیں ہوتا خود میں ایسے اوصاف پیدا کیجیے کہ ہر دل عزیز کہلائے جائیں. اسلامی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کی کوشش کیجیے. اپنے کردار کو ہمیشہ مضبوط رکھیے. اپنی ذات کی حدود میں کسی کو داخلہ کی اجازت نہ دیں. اپنی عزت نفس کو سب سے پہلے رکھیے. اپنی عزت وعصمت کی امانت کی طرح حفاظت کریں. کسی کو اپنی ذات پر بات کا موقع نہ دیں. اخلاقیات کا دامن کبھی نہ چھوڑیں. کہ عمدہ اخلاق سے دشمن کو بھی زیر کیا جاسکتا. اپنے مقصد حیات کو اللہ کی رضا کے مطابق بنایے. عبادات کو ان کے اوقات پر ادا کریں. رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی ہمارے لیے بہترین اسوہ حسنہ ہے. سیرت پاک کا مطالعہ ضرور کریں. کتابیں بہترین دوست ہوتی ہیں. اچھی کتابوں کا مطالعہ کریں. دنیاوی زندگی کو ایسے گزارنے کا عزم کریں کہ مقصود رضائے ربانی ہو. اللہ پاک تمام بچوں اور بچیوں کی حفاظت فرمائے اور انہیں باکردارو باعمل زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے.

آمین

جگہ براۓ اشتہار

جگہ براۓ اشتہار