منطق

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ * لا الہٰ الا اللہ محمّد رسول اللہ * قُلْ هُوَ اللّـٰهُ اَحَدٌ - اَللَّـهُ الصَّمَدُ - لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُوْلَدْ - وَلَمْ يَكُنْ لَّـهٝ كُفُوًا اَحَدٌ

2017-06-30 22:29:47    138 Views حرم رسوا ہوا پیرِ کارواں کی کم نگاہی سے  /  صباءسعید

حرم رسوا ہوا پیرِ کارواں کی کم نگاہی سے

حرم رسوا ہوا پیر کارواں کی کم نگاہی سے

یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ آج اخلاقی بگاڑ ہماری زندگی کے ہر شعبے میں موجود ہے. ہم اخلاقیات سے اس قدر عاری ہوچکے ہیں کہ نہ ہمیں خوشی منانے کا سلیقہ ہے نہ غم جھیلنے کا ڈھنگ. منتہائے جذباتیت ہمارے اعمال کا لازمی جزو بن چکا ہے. ہم ہر عمل میں شدت پسند ہیں. قوت برداشت کا عنصر مفقود اور طاقت و زور آزمائی میں ہم دشمن کی پہچان ہی بھلا چکے ہیں. ایک دوسرے سے اس طرح دست و گریباں ہیں گویا یہی مقصودِ حیات ہے. ہم میں سے ہر ایک اپنی ڈیڑھ انچ کی الگ مسجد بنا کر بیٹھا ہے. نیکی کرنا ہمارے لیے مشکل ترین فعل ہے. ہم بولتے ہیں تو جھوٹ ہماری باتوں کا حصہ ہوتا ہے. ہم سننا چاہتے ہیں تو صرف خوشامد, دیکھنا چاہتے ہیں تو رنگا رنگ محافل و امارت کے سنہرے خواب. ہم بحیثیت قوم ایسی اخلاقی پستی کا شکار ہیں کہ گوڈے گوڈے مادیت پرستی میں ڈوبے ہوئے ہیں. حالانکہ ہمارے اسلاف تو وہ تھے جو کفار کی پیش کردہ ہیرے جواہرات و خزانوں سے بھری طشتریاں اور حسین غلماء و کنیزیں نظر ڈالے بغیر واپس پلٹا دیتے تھے. جو اونچے محلوں کے نرم و گداز بستر چھوڑ کر دین اسلام کی تلواریں لیے میدانِ جنگ میں اپنی جانوں پر کھیل جاتے. جو راجاؤں کے ہاتھیوں پر مشتمل لشکروں کا مقابلہ رمضان کے روزوں کی بھوک وپیاس کے ساتھ کیا کرتے. جن کی فلگ شگاف آوازیں اللہ اکبر کے نعروں کے ساتھ انکے عزم و جذباتیت کا اظہار کرتیں. جو راتوں کو اسکی بارگاہ میں روتے, دن کو اس کے دین کی سر بلندی کی خاطر کٹ جاتے. جو فتح یاب ہوتے تو دشمن پر بھی مہربانیاں کرتے. جو حقوقِ اللہ اور حقوق العباد کی بہترین پاسداری کرتے. اخلاقیات کے ایسے نمونہ کہ اپنے مکان و مال اپنے بہن بھائیوں پر نچھاور کردیتے. مہمان نواز ایسے کہ خودآل واولاد بھوکے سوتے مہمان کی خوب خاطر تواضع کرتے. جو علم و ہنر کی ایسی مثال کہ اغیار انہیں اساتذہ کا درجہ دیتے. انکے دیے القابات کو سر کا تاج سمجھا جاتا. پھر ہمیں کیا ہوا؟؟؟ ہم اخلاقیات سے اس قدر عاری کیونکر ہوئے؟؟؟ ہم نے کس کی تقلید میں اپنے اسلاف کے اعلیٰ نمونہ حیات کو پس پشت ڈال دیا؟؟؟ حرمِ پاک کی عزت و ناموس کی بجائے ہم مے کدوں کے مشروبات کے شیدا اور رسیا کیونکر ہوگئے؟؟؟ آج ہمارا اتحاد پارہ پارہ ہوچکا ہے.اس لیے کہ اتحاد کی پہلی شرط ایمان دارانہ حق شناسی، دوسروں کی برتری کا شریفانہ اعتراف اور ایثار جیسی صفات ہیں۔ دشمن سے مقابلے کی بجائے ہم اپنوں کے گلے کاٹنے میں مصروف ہیں. ہماری میان سے نکلی سیف سے دشمن کا نہیں بلکہ اپنے ہی بھائی کا خون ٹپکتا ہے. ہم اغیار پرستی میں اس قدر کھوئے ہوئے ہیں کہ جہاں موقع ملے ایک دوسرے کو دھوکہ دے کر اغیار کو متاثر کرنے میں لگے رہتے ہیں. اپنے تھوڑے سے مفاد کی خاطر اپنوں کے خون سے ہاتھ رنگنے سے بھی دریغ نہیں کرتے. مادیت پرستی نے ہماری قابلیت و ذہانت کو زنگ لگا دیا ہے. ہم خود سے ہی ناامید ہیں. ہمارے خواص چاہے وہ علماء ہوں یا حاکم ہماری تربیت و حکومت کی اہلیت نہیں رکھتے. ہم اپنے خواص کے چناؤ میں نا اہل ہیں. ہمارے خواص ہم پر بصورتِ عذاب مسلط ہیں. ہم میں اکثر علم والے, عقل والے, شعور والے موجود ہیں. متعدد وہ ہیں جو صحیح اور غلط کی پہچان رکھتے ہیں. لیکن شخصیت پرستی میں مبتلا ہیں. اور اپنی مخالفت میں بولنے والوں کو دشمن سے بدتر سمجھتے ہیں. ہم تھوڑے سیکھے پر زیادہ بولنے لگتے ہیں. ہم متضاد باتیں چاہے وہ حقائق پر مبنی ہوں سننا نہیں چاہتے. ہم صبر کا سبق بھول چکے ہیں. اور اوقات آزمائش میں واویلا مچانے لگتے ہیں. سر پیٹنے لگتےہیں. صدمہ پر سینہ کوبی کرنے لگتے ہیں. شکر ہماری زندگیوں کا حصہ نہیں رہا. عبادات کو ہم نے رسم و رواج کی طرح پسِ پشت ڈال دیا اور رسم و رواج کو عبادات کی طرح معمولاتِ زندگی کا حصہ بنا لیا. ہم نے سیکھنا چھوڑدیا. ہم نے سکھانا بھی چھوڑدیا. ہم داعی نہیں رہے. نہ دعوت حق دیتے ہیں نہ سنتے ہیں. پتھرکھا کر لہولہان ہونے کے بعد دعا دینے کا حوصلہ تو دور ہم اس جملہ پر قائم ہوچکے ہیں کہ "نیکی کا تو زمانہ ہی نہیں". کیا واقعی نیکی کا زمانہ نہیں؟ کیا نیکی کی دعوت کے لیے رسول اللہ صلی علیہ وسلم , اصحاب , خلافاء کا زمانہ موضوع تھا؟ جنہوں نے پتھر بھی کھائے, تیر بھی, ننگے بدن ریت پر گھسیٹے بھی گئے لیکن حق گوئی نہ چھوڑی. ہمیں تو دین پلیٹ میں رکھا ہوا ملا. اور ہم ہیں کہ اسلاف کی قربانیوں کو رائیگاں کرنے پر تُلے ہوئے ہیں. نیکی کی دعوت تو دور نیکی کرنا بھی مشکل سمجھتے ہیں. اخلاقیات کو ہم نے نت نئ گالی, غم و غصہ, بد زبانی, لالچ, منافقت اور شر انگیز حرکات کے نیچے دبا دیا. یہی وجہ ہے آج دشمن ہم پر چاروں جانب سے حملہ آور ہے. قدرتی آفات ہم پر پے در پے آن وارد ہیں. اور ہم ہیں کہ آپس میں دست و گریبان ہیں. فرقہ واریت میں اس قدر ملوث ہیں کہ اپنے فرقہ کے علاوہ دوسرا ہر کوئی ہمیں کافر نظر آتا ہے. ہم پر ہر طرف سے ذلت مسلط ہے. اگر اب بھی ہم نے دین کے احکامات کی پاسداری نہ کی اور اسلاف کے نمونہ حیات کو اپنی زندگیوں کا حصہ نہ بنایا. اغیار کی فتنہ پرور محافل ومجالس کو حرم پاک کی ناموس پر قربان نہ کیا. اپنی صفیں حرم پاک کی سیدھ میں ترتیب نہ دیں اور اپنے منتشر ذرات کو اتحاد کی زنجیر سے نہ باندھا.تو ہمارا انجام بھی ایمان فروش اقوام سے کچھ مختلف نہ ہوگا.

جگہ براۓ اشتہار

جگہ براۓ اشتہار