منطق

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ * لا الہٰ الا اللہ محمّد رسول اللہ * قُلْ هُوَ اللّـٰهُ اَحَدٌ - اَللَّـهُ الصَّمَدُ - لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُوْلَدْ - وَلَمْ يَكُنْ لَّـهٝ كُفُوًا اَحَدٌ

2017-06-29 11:41:16    121 Views امام اعظم امام ابوحنیفہ ؒ کا ملحدین سے مناظرہ  /  محمد اسحاق قریشی

امام اعظم امام ابوحنیفہ ؒ کا ملحدین سے مناظرہ

ایک دفعہ بغداد میں کافی علماء جمع ہو گئے کہ دہروں کے ساتھ خدا کے وجود کے متعلق مناقشہ کریں ۔ ان علماء نے امام ابو حنیفہ ؒ کے استاد امام حماد ؒ کو اپنا نمائیند ہ مقرر کیا۔اتنے میں امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ تشریف لے آئے۔اور فرمایا کہ میرے استاد خود اس لیئے نہیں آئے اور مجھے بھیج دیا کہ یہ بہت معمولی مسئلہ ہے ۔ چنانچہ بحث شروع ہوئی ۔
فریق مخالف:۔ تمہارا خدا کس سن میں پیدا ہوا
امام صاحب ؒ:۔خدا پیدا نہیں ہوا بلکہ وہ ہمیشہ سے ہے چنانچہ کتاب اللہ میں ہے"لم یلد ولم یولد" نہ وہ پیدا ہوا اور نہ اس کو کسی نے پیدا کیا"
فریق مخالف: تمہارا رب کس سال وجود میں آیا
امام صاحب ؒ:۔اللہ پاک وقت کی قیود سے آزاد ہے وہ قدیم ہے اس کے وجود کے لیئے ابتداء نہیں ہے۔
فریق مخالف: ہمیں چند ایسے محسوس واقعے بیان کرو جن سے تمہارے جواب کی وضاحت ہو جائے
امام صاحب ؒ :۔ چار سے پہلے کون سا عدد ہے؟
فریق مخالف:۔ تین
امام صاحب ؒ :۔ تین سے پہلے؟
فریق مخالف:۔ دو
امام صاحب ؒ :۔ دو سے پہلے
فریق مخالف :۔ ایک
امام صاحب ؒ:۔ ایک سے پہلے
فریق مخالف:۔ کچھ نہیں 
امام صاحب ؒ:۔ اچھا گنتی کے ایک سے پہلے کچھ نہیں ہو سکتا تو پھر واحد حقیقی یعنی خدا سے پہلے کچھ کیونکر ہو سکتا ہے ؟ خدا قدیم ہے اس لیئے ابتداء نہیں ہے۔
فریق مخالف:۔ آپ کا خدا کس طرف منہ کرتا ہے؟
امام صاحب ؒ :۔ اگر ایک تاریک کمرے میں لالٹین رکھ دی جائے تو اس کی روشنی کا منہ کس طرف ہو گا؟
فریق مخالف :۔ سب اطراف کو۔
امام صاحبؒ:۔یہ تو مصنوعی روشنی کا حال ہے کہ سب اطراف کو پھیل جاتی ہے تو اس آسمانوں اور زمین کے نور یعنی خدا کے بارے میں کیا خیال ہے کہ کس طرف منہ کرتا ہے ؟
فریق مخالف:۔ ہمیں اپنے رب کے بارے میں یہ بتا دیں کہ وہ لوہے کی طرح سخت ہے ، پانی کی طرح سیال یا دھوئیں اور بخار کی طرح اوپر اٹھنے والا؟
امام صاحبؒ:َ آپ کبھی ایسے مریض کے قریب بیٹھے ہیں جو قریب المرگ ہو یعنی اس پر حالت نزع طاری ہو؟
فریق مخالف:۔ ہاں
امام صاحبؒ:َ۔ وہ آپ کے ساتھ بات کیا کرتا تھا ۔ پہلے متحرک تھا موت کے بعد ساکن ہو ا ۔ اس کی حالت کس نے بدل ڈالی؟
فریق مخالف:۔ روح کے نکلنے نے 
امام صاحبؒ:۔ اس کی روح نکل گئی اور آپ بیٹھے تھے ؟
فریق مخالف:۔ جی ہاں
امام صاحبؒ:۔ اس روح کی تعریف کیجئے آیا یہ لوہے کی طرح سخت تھی، پانی کی طرح سیال تھی یا دھوئیں اور بخار کی طرح اوپر کو اٹھنے والی؟
فریق مخالف:۔ ہم روح کی تعریف نہیں کر سکتے
امام صاحبؒ:۔ مطلب یہ کہ روح کی حقیقت تک تو آپ کی رسائی ہو نہیں سکتی تو پھر آپ مجھ سے ذات الہٰی کی حقیقت کیسے معلوم کرتے ہیں ؟
فریق مخالف:۔ آپ کا رب کس جگہ موجود ہے ؟
امام صاحبؒ:۔ دودھ کے بھرے ہوئے پیالے میں گھی کہاں موجود ہوتا ہے ؟
فریق مخالف:۔ گھی کسی خاص مقام پر نہیں ہوتا بلکہ سارے دودھ میں پھیلا ہوتا ہے 
امام صاحبؒ:، جب ایک تخلیق شدہ چیز کے لیئے کوئی خاص جگہ متعین نہیں کی جا سکتی تو پھر ذات الہٰی کے لیئے مخصوص جگہ کا تعین کیسے کیا جا سکتا ہے ؟
فریق مخالف:۔ جب سارے امور کی تقدیر تخلیق کائنات سے پہلے ہی مقرر کی جا چکی ہے تو اس میں تمہارے رب کا کارنامہ کیا ہے ؟
امام صاحب ؒ:۔ خدا امور کو ظاہر کرتا ہے ان کی ابتداء نہیں کرتا ۔
فریق مخالف: جب دخول جنت کے لیئے ابتداء ہے تو اس کے لیئے انتہا بھی ضروری ہے جبکہ جنتی ہمیشہ جنت میں رہیں گے ؟
امام صاحبؒ:۔ گنتی کے ہندسوں کے لیئے ابتداء ہے انتہا نہیں ۔ (جب گنتی کے ہندسوں کے لیئے انتہا نہیں تو جنت میں قیام کی انتہا کیسے ہو سکتی ہے)
فریق مخالف:۔ ہم جنت میں کھائیں گے پیئں گے لیکن بول و براز نہیں کریں گے ؟
امام صاحب ؒ:۔ ہم ، آپ اور سب مخلوق رحم مادر میں نو مہینے رہتے ہیں کھاتے ہیں پیتے ہیں لیکن بول و براز نہیں کرتے (تو جنت جیسی پاک و صاف جگہ پر کیسے کر سکتے ہیں)
فریق مخالف:۔جنت کی چیزیں خرچ کرنے سے کیسے بڑھتی ہیں حالانکہ ہونا یہ چاہیئے تھا کہ یہ خرچ کرنے سے گھٹتیں؟
امام صاحب ؒ:۔ علم جب خرچ کیا جاتا ہے تو بڑھتا ہے گھٹتا نہیں 
آخر میں ان تینوں نے آپ ؒ سے سوال کیئے 
پہلا :۔ آپ کہتے ہیں کہ خدا موجود ہے میں چاہتا ہوں کہ اسے دیکھ لوں۔
دوسرا:۔ آپ کہتے ہیں کہ قیامت کے دن آگ کا عذاب دیا جائے گا ۔ جن تو آگ سے پیدا کیئے گئے ہیں انہیں آگ کیسے عذاب پہنچائے گی ؟
تیسرا:۔ آپ کہتے ہیں کہ ہر ایک چیز قضا و قدر کے ذریعے وجود میں آتی ہے اگر آپ کی بات ٹھیک ہے تو پھر انسان کو اس کے عمل کی سزا نہیں دی جانی چاہیئے ۔
امام صاحب ؒ نے جواب میں کچھ بھی نہیں فرمایا بس ایک مٹی کی ٹوکری لی اور مٹی ان کے چہروں پر ڈال دی اور فرمایا کہ یہ آپ لوگوں کے سوالات کے جوابات ہیں۔
وزیر الدولہ جو اس مباحثے کے دوران وہاں موجود تھا اس نے آپ سے اس فعل کے متعلق دریافت کیا 
آپ نے فرمایا :۔
ان کی آنکھوں میں مٹی ڈالنا میری طرف سے ان کے سوالات کا واضح جواب تھا 
پہلے نے پوچھا تھا کہ میں اس کو خدا دکھاؤں۔ میں اس سے پوچھتا ہوں مجھے وہ درد دکھاؤ جو مٹی ڈالنے پر تمہیں محسوس ہوا ہے ؟ اس کے بعد میں تمہیں خدا دکھاؤں گا ۔
حقیقت یہ ہے کہ بہت ساری چیزیں ایسی ہیں جو نظر تو نہیں آتیں لیکن ان کا وجود ہے مثلاََ عقل انسانی موجود ہے لیکن نظر نہیں آتی !
دوسرے نے پوچھا تھا کہ جن تو آگ سے پیدا ہوئے ہیں انہیں آگ کیسے عذاب میں مبتلا کر سکتی ہے 
تو اسے بتائیں کہ وہ بھی تو مٹی سے پیدا ہوا ہے پھر اس مٹی سے اسے اس قدر تکلیف کیوں پہنچی ؟
پھر تیسرے نے کہا کہ میں ضرور بالضرور اس کی یہ منطق مان لوں کہ انسان اپنے اعمال میں مجبور محض ہے وہ یہ بھول گیا ہے کہ انسان مختار بھی ہے ۔
جب میں اس کی آنکھوں میں مٹی ڈالنے پر مجبور تھا تو اس نے اس بات کا شکوہ کیوں کیا ؟ اعظم رحمہ اللہ نے اپنے جوابات سے یوں ملحدین کو خائب و خاسر اور لاجواب کر دیا !

جگہ براۓ اشتہار

جگہ براۓ اشتہار