منطق

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ * لا الہٰ الا اللہ محمّد رسول اللہ * قُلْ هُوَ اللّـٰهُ اَحَدٌ - اَللَّـهُ الصَّمَدُ - لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُوْلَدْ - وَلَمْ يَكُنْ لَّـهٝ كُفُوًا اَحَدٌ

2017-06-28 02:21:06    86 Views وجود باری تعالیٰ فلاسفہ کے نظریات کا رد  /  محمد اسحاق قریشی

وجود باری تعالیٰ فلاسفہ کے نظریات کا رد

کیا وجود باری تعالی ذہنی ارتقاء کی ایجاد ہے ؟

یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ جب انسان کو کسی چیز کی حقیقت یا اس کے اسباب و محرکات کی کہنہ معلوم نہ ہو تو وہ اس کے بارے میں قیاس آرائی شروع کر دیتا ہے۔اور اپنی عقل سے اس قیاس کو معقولیت کا جامہ پہنانے کی کوشش کرتا ہے۔اور اپنے اسی قیاس کو یقین باور کرانے پر بھی اصرار کرتا ہے۔اور جو شخص اس کے ایجاد کردہ قیاسی نظریہ کے خلاف لب کشائی کی جرات کرتا ہےتو اسے نادانی یا کم عقلی سے تعبیر کرتا ہے۔یہی حال آج کل ان کور چشم نام نہاد فلاسفروں کا ہےجو ہستی باری تعالیٰ کو ذہنی ارتقاء کا نتیجہ مانتے ہیں۔اور پھر لطف یہ کے اس بارے میں ان کا کوئی متفقہ خیال بھی نظر نہیں آتا۔بلکہ وہ مختلف قیاسات دوڑاتے ہیں۔گو قیاسات اصولاََ تو متفق نظر آتے ہیں کہ وجود باری تعالیٰ کا یہ مسئلہ ذہنی ارتقاء کا نتیجہ ہےمگر ارتقائی زاویہ فکریعنی اس کی ترقی کے اسباب و منازل کی تفصیلات بلکل مختلف بلکہ بعض اوقات مخالف نظر آتی ہیں۔اس لیئے اس کی جزئیات پر الگ الگ جرح تو محال ہے البتہ اجمالاََ اصولی طور پر اس نظریہ کی تغلیط کے دلائل درج  ذیل ہیں :۔

مسئلہ ارتقاء میں توسیع:

اس سے پہلے میں ارتقاء والوں کی ایک لغزش کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ اول اول اس مسئلہ کو حیوانات کی مختلف انواع تک ہی محدود رکھا گیا کہ یہ چیزیں اپنی ادنیٰ حالتوں سے ترقی پا کر موجودہ صورتوں تک پہنچی ہیں ۔ مگر رفتہ رفتہ یہ ایک وسیع مسئلہ بن گیا ہے اور یہاں تک اس کو بڑھایا گیا کہ انسانی تاریخ و خیالات، توہمات و عقائد سب کچھ ارتقاء ہی کے زیر اثر سمجھا جانے لگا۔ اسی طرح وجود باری تعالیٰ کی توجیہ بھی ارتقاء کے ذریعے ہونے لگی ۔

ارتقاء کے تین نظریات:

بعض لوگوں کا یہ نظریہ ہے کہ وجود باری تعالیٰ انسانوں کے جذبہ خوف کا نتیجہ ہے۔وہ کہتے ہیں کہ جب انسان میں شعور  پیدا ہوا تو اس نے اپنے اردگرد ایک خوفناک  اور پر ہول ماحول کو پایا۔ مثلاََ خونخوار درندے، خطرناک وبائیں، قدرتی قحط، زلزلے اور اسی طرح وہ فوق الفہم اور حیرت انگیز نظام شمسی جس نے انسان کے اندر حیرت اور خوف کے جذبات پیدا کر دیئے۔اور ظاہر ہے کہ انسان ہمیشہ حیرت اور خوف کے جذبات میں گھر کر زندگی بسر نہیں کر سکتا تھا۔ اس لیئے اپنی ڈھارس و پناہ، سکون و اطمینان کے لیئے اس کے نفس نے یہ تجویز کی کہ کہ ان خوفناک اور ڈراؤنی اشیاء کو لجاجت و خوشامد کے ذریعے راضی کیا جا سکتا ہے۔چنانچہ اس نے ان کی پوجا شروع کر دی ۔اور پھر جوں جوں اس کا شعور ترقی کرتا گیا اور ذہنی رفعت اس کو حاصل ہوتی گئی اسی نسبت سے وہ اپنے قدرتی جذبہ خوف سے پناہ ڈھونڈتا ڈھونڈتا ایک ایسے خدا کا قائل ہو گیا جو تمام طاقتوں کا مالک ہے۔

اسی طرح ماہر نفسیات پروفیسر فرائیڈ کا ذہنی اختراع یہ ہے کہ چونکہ انسانی فطرت کی بنیاد نفسانیت و شہوانیت پر ہے اور ہر شخص اس دنیا میں آزادانہ طور پر ان خواہشات کو پورا نہیں کر سکتا اور جب دو افراد کی خواہش ٹکرا جائے تو لڑائی کی صورت حال پیدا ہو جاتی ہے ۔اس لیئے وہ ان خواہشات کی تکمیل صرف ایک ہی صورت میں کر سکتے تھے جب افراد حتی الوسع ایک دوسرے سے امن میں رہتے ہوں۔اور امن کے لیئے یہ ناگزیر ہے کہ وہ اپنی خواہشات  ایک دوسرے کے لیئے قربان کر دیں۔اور یہ قربانی بھی اس وقت تک محال ہے جب تک اس کا کائی معاوضہ نہ ہو۔چونکہ دنیا میں انسانی قربانی کا کوئی حقیقی معاوضہ نہ ہو سکتا تھا اس لیئے اس نے ایک خیالی معاوضہ(خدا) تجویز کیا۔اور یہی خیالی معاوضہ ارتقائی منازل طے کرتا ہوا موجودہ صورت کو پہنچا۔

اس سلسلہ میں تیسرا نظریہ ماہرین اقتصادیات کا ایجاد کردہ ہے جو موجودہ تمدن کے سخت دشمن ہیں اور اس کی بنیادوں کو ہلانا چاہتے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ وجود باری دراصل امراء اور غرباء کی تمدنی کشمکش کا نتیجہ ہے۔ کیونکہ ایک امیر اپنی امارت میں استقلال کے لیئے یہی چاہتا ہے کہ غریب ہوشیار ہو کر اپنی حالت نہ بدلیں۔اور غرباء کو غافل رکھنے کے لیئے ان کے دل میں یہ خیال بٹھانا ضروری ہوا کہ غربت و امارت وغیرہ امور مقدور سے تعلق رکھتے ہیں۔اور ایک نگران خدا ہے جو خوب جانتا ہے کہ نظام عالم چلانے کے لیئے دولت کی تقسیم کس طرح ہونی چاہیئے۔جو امیر و غریب میں دولت کی تقسیم خدا نے کر رکھی ہے اسی تقسیم پر ہر انسان کو قانع رہنا چاہیئے۔ پس عدم مساوات کو قائم رکھنے اور امیر و غریب کی تفریق کے استحکام کی خاطرغرباء کو غافل رکھنے کے لیئے امراء نے وجود باری کا عقیدہ تجویز کیا ہے۔ اور ابتداََ یہ صرف خیالی تھا اور بعد میں رفتہ رفتہ عادتاََ اور حقیقتاََ انسانوں میں رائج ہو گیا۔

قیاسی نظریہ:

مندرجہ بالا تینوں نظریات پر یکجا نظر ڈالنے سے صاف محسوس ہوتا ہے کہ یہ قیاسی نظریات ہیں جن کا حقیقت کے ساتھ کوئی  تعلق نہیں ۔اس کی مثال ایسی ہے جیسے رات کے دو بجے کوئی شخص گلی سے گزر رہا ہو۔تو اس کے بارے میں یہ قیاس کیا جا سکتا ہے کہ وہ کوئی داکٹر ہے ، پولیس کا آدمی ہے یا کوئی ایسا مریض ہے کو نیند کی حالت میں چلنا شروع کر دیتا ہے۔یا ممکن ہے کہ وہ کوئی ایسا شخص ہو جس کے گھر میں کسی مریض کی حالت ناگفتہ بہ ہو اور وہ ڈاکٹر کو لینے جارہا ہو۔ الغرض مختلف قسم کے قیاسات قائم کر کے اس کے عقلی ثبوت بھی دیئے جا سکتے ہیں۔ اسی طرح ان ارتقاء والوں نے بھی اپنے نظریات و قیاسات ثابت کرنے کے لیئےان لوگوں کے ھالات زندگی سے استدلال کرنے کی کوشش کی ہے جن کا مذہب ایک مسخ شدہ حالت میں ہوتا ہے۔ظاہر ہے اگر ایک بگڑے ہوئے مذہب پر قیاس آرائی شروع کر دی جائے  تو اس سے غلط نتائج اور فاحش نظریات ہی قائم کیئے جا سکتے ہیں۔اور یہی ان کی بنیادی لغزش ہے۔ اگر وہ اپنے نظریات کو انبیاء کرام علیہم السلام کی زندگیوں پر چسپاں کر کے دکھاتے جو دراصل ایک مذہب کے بانی ہیں تو تب ان کے نظریات کی ساری قلعی ہی کھل جاتی ۔اسی وجہ سے ان کے نظریات و قیاسات محض خیال آرائی ہی ثابت ہوتے ہیں۔

ذیل میں ان کے نظریات پر تنقیدی نظر ڈالتے ہیں !

وجود باری تعالیٰ اور خوف:

جو لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ وجود باری تعالیٰ محض خوف اور جذبہ حیرت کی کارستانی ہےیہ اس لیئے درست نہیں کہ اگر وجود باری تعالیٰ کا عقیدہ خوف کا نتیجہ ہوتا تو  اس عقیدہ کے بانی انبیاء کرام علیہم السلام  معاذ اللہ سب سے زیادہ بزدل ہوتے اور دنیا کی مادی قوتوں سے خوف کھاتے۔لیکن کیا یہ حقیقت نہیں کہ وہ اس عقیدہ کی تلقین و تبلیغ کی خاطراور اس کے قیام کے سلسلہ میں اپنی جان و آبرو کو بھی خطرے میں ڈالتے رہے ہیں۔اور دنیا کا کوئی خطرہ دنیا کا کوئی بھی خوف ان کے پائے استقلال کو متزلزل نہ کر سکا۔اور اسی طرح اگر عقیدہ مختلف اوہام کا نتیجہ ہے تو انبیاء اکرام علیہم السلام کو معاذ اللہ سب سے زیادہ توہمات میں گرفتار ہونا چاہیئے تھا۔اور سب سے زیادہ شکوک و شبہات کا شکار ہونا چاہیئے تھا۔ لیکن اس کے برعکس اشد ترین مخالف اور مذہب کا انکار کرنے والے بھی اس بات کی شہادت دیتے ہیں کہ ان کی زندگی حق الیقین کے اس بلند و بالا اور مستحکم چٹان پر پر قائم رہتی ہے جس سے دنیا بھر کی مخالفتیں، سارے خوف و اوہام ٹکرا کر پاش پاش ہو جاتے ہیں۔

اسی طرح اگر یہ عقیدہ خوف کا لازمہ تھاتو پھر عقل یہ کہتی ہے کہ جوں جوں ہم کسی نبی کے زمانہ کے قرب کی طرف بڑھتے چلے جائیں اسی نسبت سے خوف و اوہام بڑھتے نظر آنے چاہیئں۔ لیکن یہ امر واقعہ ہے کہ نبی کے اپنے زمانے اور قریب تر زمانے میں شکوک و شبہات اور اوہام کا وجود تک نہیں ملتا۔بلکہ ہوتا یوں ہے کہ جوں جوں کسی نبی کے زمانے سے دور ہوتے چلے جائیں جائیں گے شکوک و شبہات اور اوہام میں اضافہ نظر آئے گا۔جیسے اسلام کے علاوہ دیگر مذاہب میں شجر پرستی، کواکب پرستی، آفتاب پرستی اور اس طرح کی دیگر  غلط اور خلاف مذہب عبادات رواج پذیر ہو گئی ہیں تو ایسے مسخ شدہ مذہب اور گم گشتہ راہ اہل مذاہب کے خیالات و عقائد فاسدہ اور اوہام باطلہ سے استدلال عقلمندی کا مذاق اڑانا ہے اور نتیجہ یہ نکالنا کہ اس طرح خدا پرستی بھی جذبہ خوف کی ایجاد ہے قرین انصاف نہیں ۔ ایسے لوگوں کے طرز عمل سے استدلال کرتے ہوئے وجود باری تعالیٰ کو خوف کا نتیجہ قرار دینا انتہائی نادانی ہے۔

فرائیڈ کا نظریہ:

اسی طرح یہ نظریہ کہ جذباتی کشمکش میں توازن برقرار رکھنے کا علاج دوسروں ی خاطر قربانی دینے کا معاوضہ خدا کی صورت مین تجویز کیا گیا ہے بایں وجہ باطل ہے کہ اگر یہ خیال درست ہوتا توسب سے زیادہ انقباض  طبیعت اور جذباتی کشمکش انہی لوگوں میں پائی جاتی جو وجود باری تعالیٰ کے ناشر تھے۔کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ انبیاء کرام علیہم السلام میں عمر کے کسی بھی حصہ میں ایسا انقباض یا جذباتی کشمکش پائی جاتی ہے ؟ہر گز نہیں !اس کے برعکس انبیاء رام علیہم السلام اپنے بچپن و جوانی، ادھیڑ عمر و بڑھاپے میں سکینت کی ایک حسیں تصویر نظر آتے ہیں۔چنانچہ کسی بھی نبی کی زندگی پر نظر ڈالوسکینت ہی سکینت پاؤ گے۔ان کو اپنی خواہشات سے کبھی جنگ نہیں کرنا پڑی۔اگر وجود باری تعالیٰ انقباض و جذباتی کشمکش کا نتیجہ ہوتا تو ان انبیاء اکرام علیہم السلام کی تعلیمات میں کوئی ربط نظر نہ آتا ان کی ساری باتیں مجنونانہ ہوتیں لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ان کی تعلیم ان کے احکام انتہائی دانائی سے پر ہوتے ہیں۔حتی کہ دنیا تمدنی و علمی ، سیاسی و معاشی امور میں ساری دانائی اپنے انبیاء کرام علیہم السلام سے ہی لیتی ہے ۔

عدم مساوات کا نظریہ:

اسی طرح ماہرین اقتصادیات کا یہ کہنا کہ وجود باری تعالیٰ کا تصور عدم مساوات کو جاری و قائم رکھنے کے لیئے وجود میں آیا مذہب پر صریح الزام ہے۔کاش کہ وہ انبیاء کرام علیہم السلام کی زندگی اور انسانوں کے ساتھ ان کے سلوک کو ایک نظر دیکھتے تو کبھی ایسا قیاس نہ کرتے۔اگر بالفرض ان کا یہ قیاس صحیح ہوتا تو پھر انبیاء کرام علیہم السلام  کو سب سے زیادہ عدم مساوات کا حامی ہونا چاہیئے تھا کیونکہ وہ اس عقیدہ کے بانی تھے ۔مگر اس کے برعکس وہ عدم مساوات کے خلاف ایک زبردست محاذ قائم کر کے ایک ایسا معاشرہ قائم کرتے ہیں جس میں دنیوی دولت و ثروت کو کوئی امتیاز حاصل نہیں ہوتا۔وہ ایسی تعلیم اور ایسے احکام دیتے ہیں جن سے دنیوی امارت و ثروت کو استقلال اور دوام حاصل ہو ہی نہیں سکتا۔اس سلسلہ میں انبیاء کرام علیہم السلام کی اقتصادی تعلیم سے درگزر کرتے ہوئے اس نظریہ کے قائلین کی توجہ اسلام کے اقتصادی اور معاشی اصول کی طرف دلانا چاہوں گا ۔ ذرا غور فرمایئے کیا اسلام نے اپنی عبادات اور تہذیب و تمدن  کی بنیاد ہی مساوات کے اصول پر قائم نہیں کی  ؟

کیا اس نے معیار تکریم اور وجہ تفوق امارت و ثروتاور دنیوی جاہ حشمت کے بجائے تقویٰ اور خدا ترسی کو نہیں بنایا؟

اسلام میں سود کا امتناع، ایتاء زکوٰۃکا حکم جو دراصل سرمایہ کاری پر ایک ضرب کاری ہے اور اسی طرح قانون وراثت جو دولت کو صرف ایک ہی شخص کی تجوری میں بند نہیں رکھتا ۔اور اسی طرح نظام صدقہ و خیرات کے متعلق احکام کیا عدم مساوات اور امیر و غریب کی تفریق مٹانے کو کامیاب علاج اور یقینی تریاق نہیں ؟

علاوہ ازیں اگر امراء ہی وجود باری تعالیٰ کے مؤجد ہوتے تو کیا وجہ ہے کہ جب بھی کوئی نبی ؑخدا  کی توحید قائم کرنے کے لیئے کھڑا ہوتا ہے تو امراء ہی سب سے زیادہ اس کی مخالفت میں پیش پیش ہوتے ہیں ؟اور غرباء ہی سب سے پہلے اس کی تائید کرتے ہیں ؟جبکہ حقیقت یہ ہوتی ہے کہ انبیاء کرام علیہم السلام کی تحریک کو سب سے زیادہ غرباء ہی کی تائید حاصل ہوتی ہے اور امراء پیچھے رہ جاتے ہیں ۔

پس ماہرین اقتصادیات کا یہ کہنا کہ یہ عقیدہ  عدم مساوات، امیر و غریب کی تفرق کو قائم رکھنے  کے لیئے وجود میں آیا صریحاََ غلط ہے !

یہ عقیدہ الہامی ہے :

خدا کے وجود کو ذہنی ارتقاء کا نتیجہ سمجھنے والوں کے قیاسات اس قدر بودے اور کمزور ہیں کہ تار عنکبوت سے زیادہ حثیت نہیں رکھتے۔ اگر قدیم سے قدیم اقوام کے عقائد اور بعد میں آنے والی اقوام کے عقائد کا موازنہ کیا جائے تو ان میں کوئی نمایاں فرق نظر نہین آتا بلکہ ان میں ایسی مماثلت نظر آتی ہے جو ایک انسان کو ورطہ حیرت  وا ستعجاب میں ڈالنے کے لیئے کافی ہے۔اور اس مماثل عقیدہ کو ہر دور میں بعض مخصوص اور معین ہستیوں نے قائم کیا۔اور انہی پاک ہستیوں کی تاثیر و شہادت سے اس زمانہ کے لوگوں نے قبول کیا۔ذرا غور کیا جائے تو یہ ناممکن نظر آتا ہے کہ کسی ذہنی اختراع سے پیدا شدہ عقیدہ جس کی کوئی حقیقت نہ ہو اس قدر عظیم انقلاب برپا کر سکتا ہے جو اس عقیدہ نے برپا کر دکھایا۔

بے شک شروع میں انبیاء کرام علیہم السلام ی تعلیم شروع شروع میں نئی نظر آتی ہے لیکن ان معنوں میں ہر گز نہیں  کہ جس کو ہم ذہنی اختراع سے تعبیر کر سکیں۔دنیا میں کئی ایسے فلاسفر موجود ہیں جو اپنے ذہن سے نئے نئے خیال پیدا کرتے ہیں اور بعد میں اکثر غلط بھی ثابت ہو جاتے ہیں لیکن ان فلاسفروں کی کبھی بھی مخالفت نہیں کی جاتی جو بے سروپا نظریات قائم کرتے ہیں۔اور اگر مخالفت کی بھی جاتی ہے تو انتہائی معمولی۔ لیکن کیا یہ حقیقت نہیں کہ انبیاء کرام علیہم السلام جو عقیدہ دنیا کے سامنے پیش جرتے ہیں اس کی شدید ترین مخالفت کی جاتی ہے۔چھوٹابڑا اپنا پرایا سبھی مخالفت پر تل آتے ہیں اور انہی مخالف حالات کے بوجود وہ اپنا مشن قائم کر جاتے ہیں۔ ہر نبی ؑ کا خطرناک مقابلہ کیا جاتا رہاہےکیا کوئی بتا سکتا ہے کہ ارتقائی اشیاء و خیالات کی بھی کہیں اس درجہ مخالفت ہوئی ہے ؟ہر گز نہیں ! مخالفت تو کجا ان کا احساس تک نہیں ہوتا کہ یہ چیزیں کب، کیسے اور کس وجہ سے معرض وجودد میں آئیں۔ پس یہ شدت مخالفت خود اس بات کا ثبوت ہے کہ اس امر کا اس عقیدہ کے ساتھ ارتقاء سے کوئی تعلق نہیں ۔ذہنی ارتقاء نے اس مسئلہ کو ایجاد نہیں کیا بلکہ بذریعہ الہام اسے انسانی ذہن میں بٹھایا گیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ وجود باری تعالیٰ کا عقیدہ پرانی سے پرانی اور نئی سے نئی ہر قوم میں پایا جاتا ہے۔پھر من حیث المجموع اس کی ذات و صفات کے بارہ میں یکساں خیال موجود ہے۔ پس یہ ہم آہنگی اور اس عقیدہ کے قیام میں انبیاء کرام علیہم السلام کی شدید ترین مخالفت اور ان سے یکساں سلوک اور ان دانا و فہیم اور پاک ہستیوں کی ثقہ شہادت اور اسی قسم کے شواہد و نظائر از قبیل نشانات و پیشنگوئیاں مسئلہ وجود باری تعالیٰ کے ارتقائی نہ ہونے اور الہامی ہونے پر کافی و شافی دلیل ہیں ۔

جگہ براۓ اشتہار

جگہ براۓ اشتہار