منطق

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ * لا الہٰ الا اللہ محمّد رسول اللہ * قُلْ هُوَ اللّـٰهُ اَحَدٌ - اَللَّـهُ الصَّمَدُ - لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُوْلَدْ - وَلَمْ يَكُنْ لَّـهٝ كُفُوًا اَحَدٌ

2017-06-23 14:58:42    167 Views جزیہ پر اعتراض کا جواب  /  محمد اسحاق قریشی

جزیہ پر اعتراض کا جواب

 جزیہ ایک ٹیکس ہے جو اسلامی مملکت کے غیر مسلم شہریوں سے وصول کیا جاتا ہے ۔جو اسلامی مملکت کی بالادستی کو قبول کرتے ہوئے ایک پر امن شہری کی طرح وہاں آباد ہونے کا معاہدہ کریں ۔دشمنان اسلام نے جزیہ کی وجہ سے اسلامی نظام سیاست پر اعتراضات کی بوچھاڑ کی ہےاور اسلام کے بارے میں لوگوں کے ذہنوں میں غلط تصورات پیدا کرنے کی مساعی ناپاک کی ہے۔اس لیئے یہ ضروری ہے کہ جزیہ کے متعلق زرا تفصیل سے لکھا جائے تاکہ معترضین کے اعتراضات کی حقیقت طشت از بام کی جا سکےاور اسلام کے اس بے لاگ انصافی کے نظام کے متعلق شکوک و شبہات کا ازالہ کیا جا سکے۔ اسلامی مملکت کے باشندوں کوہم دو حصوں میں تقسیم کر سکتے ہیں ٭مسلم رعایا ٭ غیر مسلم رعایا غیر مسلم رعایا کی بھی آگے دو قسمیں ہیں ۔ ایک وہ جنہوں نے جنگ کیئے بغیر صلح کی اور صلح نامے کے مطابق اسلامی مملکت کی شہریت قبول کر لی اور دوسرے وہ جنہوں نے جنگ میں شکست کھانے کے بعد گھٹنے ٹیکے اور اسلامی مملکت میں پر امن شہری کے طور پر سکونت پذیر ہو گئے ۔ان دونوں قسموں کو آسانی سے ہم اہل ذمہ کے نام سے موسوم کر سکتے ہیں ۔ مملکت اسلامیہ میں سکونت پذیر ان تینوں طبقات کی جان ومال عزت و آبرو کی حفاظت کی مکمل ذمہ داری اسلامی حکومت پرعائد ہوتی ہے ۔یہ ذمہ داری صرف قول کی حد تک نہین بلکہ عملی طور پر اس سے عہدہ برآ ہونا اسلامی حکومت کا دینی فریضہ ہے۔ غیر مسلم رعایاکی جان و مال اور عزت و آبرو کی حفاظت کے لیئے ہادی برحق ﷺ نے جو تاکیدی ارشادات فرمائے ان کی فصاحت و بلاغت اور زور بیاں سے پتھر دل بھی پسیج جاتے ہیں اور رعونت سے اکڑی گردنیں جھک جاتی ہیں ۔
ان ان گنت فرامین میں سے چند ایک درج ذیل ہیں :۔
٭ ایک دفعہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے ایک صحابی حضرت عبد اللہ بن ارقم رضی اللہ عنہ کو اہل ذمہ سے جزیہ وصول کرنے کو بھیجا ۔ جب وہ بارگاہ رسالت سے رخصت لے کر روانہ ہوئے تو نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والتسلیم نے انہیں اپنے پاس بلایا اور ارشاد فرمایا:۔ "اے عبد اللہ ! ! جس نے بھی کسی معاہد (اہل ذمہ) پر ظلم کیا، یا اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف دی ،یا اسے نقصان پہنچایا، یا اس کی رضامندی کے بغیر اس کی کوئی چیز لی تو قیامت کے روز میں اس کا گریبان پکڑوں گا ۔"
(کتاب الخراج امام ابو یوسف یعقوب بن ابراہیم ص 150)
غور فرمایئے جو شخص حضور اکرم ﷺ کو اپنا نبی اور ہادی تسلیم کرتا ہے کیا وہ برداشت کر سکتا ہے کہ وہ ایسے جرم کا ارتکاب کرے جس کے باعث روز قیامت شفیع المذنبین ﷺ اس کا گریبان پکڑ کر اللہ عزوجل کی بارگاہ میں پیش کریں۔اس سے بلیغ تر اسلوب ناممکن ہے ۔
٭ حضرت نافع حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ "آپ نے بتایا کہ رسول اللہ ﷺ نے دنیا سے انتقال فرماتے ہوئے جو آخری بات فرمائی وہ یہ تھی کہ میں نے جن لوگوں کی جان و مال عزت و آبرو کی حفاظت کی ذمہ داری اٹھائی ہے اس کی لاج رکھنا اور اس پر آنچ نہ آنے دینا۔"
(ابو یعلی محمد بن الحسین الفراء الحنبلی، الاحکام السلطانیہ ص 154)
کیا شان ہے اس نبی رحمت ﷺ کی کہ آخری وقت میں بھی مملکت اسلامیہ کی غیر مسلم رعایا کا اتنا خیال رہا اور اپنی امت کو وصیت کی اور اس طرف توجہ دلائی کہ کسی غیر مسلم پر زیادتی کر کے تم یہ نہ سمجھو کہ تم نے غیر مسلم پر صرف زیادتی کی ہے بلکہ درحقیقت تم نے میرے عہد کو توڑا ہے۔جس کے ایفاء کی میں نے ذمہ داری قبول کی تھی ۔اس کی سنگینی اور سزا کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔ پہلی حدیث کے ذریعہ سے بھی مسلمانوں کی توجہ اس حقیقت کی طرف دلائی کہ اگر تم نے اسلامی مملکت کے کسی غیر مسلم شہری کی جان و مال عزت و آبرو پر دست درازی کی تو تم یہ نہ سمجھنا کہ تمہارے مسلمان ہونے یا اعمال حسنہ کی وجہ سے پردہ پوشی کر لی جائے گی ۔ ہر گز نہیں بلکہ میں خود روز قیامت تمہارا گریبان پکڑ کر بارگاہ ایزدی میں تمہارے خلاف مقدمہ دائر کروں گا ! حضور نبی کریم روؤف الرحیم ﷺ کے خلفاء راشدین نے بھی اس حکم نامے کو ہمیشہ اپنے پیش نظر رکھا ۔یہاں تک کہ حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے بھی جو آخرئ وصیت فرمائی اس کا تعلق بھی غیر مسلم رعایا سے تھا ۔آپ شدید زخمی ہیں زندگی کے آخری لمحے ہیں اس وقت آپ نے جو گفتگو فرمائی وہ بھی ملاحظہ فرمائیں تاکہ یہ بات واضح ہو جائے کہ اسلامی سلطنت کی غیر مسلم رعایا کی جان و مال عزت و آبرو کی اسلام کے نزدیک کیا قدر ومنزلت ہے! قاضی امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ :۔
" حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی وفات کے وقت جو گفتگو فرمائی وہ یہ تھی کہ میں اپنے بعد منصب خلافت کے لیئے مقرر ہونے والے خلیفہ کو رسول اللہ ﷺ کے ذمہ کی وصیت کرتا ہوں ۔ یعنی اہل ذمہ کے ساتھ جو معاہدہ کیا گیا ہے وہ اسے پورا کرے۔اگر ان پر بیرونی یا اندرونی دشمن حملہ آور ہو تو اپنی فوجوں سے ان کا دفاع کرے ۔اور ان پر کوئی ایسا بوجھ نہ ڈالے جس کو اٹھانے کی ان میں طاقت نہ ہو۔"
(کتاب الخراج 149)
اسلام کا فوجداری اور دیوانی قانون مسلم و غیر مسلم کے لیئے بلکل یکساں ہے ۔یعنی اگر کوئی مسلمان کسی ذمی کو قتل کرے گا تو مسلمان ہونے کی وجہ سے اس کے ساتھ کوئی رعایت نہ برتی جائے گی بلکہ اس سے اسی طرح قصاص لیا جائے گا جیسے مسلم مقتول کا لیا جاتا ہے ۔ چنانچہ ایک دفعہ عہد رسالت میں ایک مسلمان نے ایک ذمی کو قتل کر دیا۔ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اس قاتل کو قصاص میں قتل کر دیا جائے۔ چنانچہ اس کا سر قلم کر دیا گیا ۔حضور اکرم ﷺ نے فرمایا: "میں سب سے زیادہ اس بات کا حق دار ہوں کہ اپنی ذمہ داری کو پورا کروں۔"
(العنایہ شرح الہدایہ امام محمد بن محمود البابرتی)
اسی طرح سیدنا علی کرم اللہ وجہہ کے زمانے میں بھی ایک مسلمان نے ذمی کو قتل کر دیا مقتول کے بھائی نے قاتل کو معاف کر دیا۔ لیکن حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو اطمینان نہ ہوا آپ نے اسے اپنے پاس بلایا اور پوچھا کہ شاید ان لوگوں نے تمہیں ڈرایا ہو یا دھمکی دی ہو اور اس لیئے تم نے قصاص معاف کر دیا ہو۔ اس نے عرض کی اے امیر المؤمنین!میں نے اپنے مقتول بھائی کی دیت لے لی ہے اور میں نے اس کا خون معاف کر دیا ہے۔ تب آپ نے اس قاتل کو رہا کر دیا اور ایک ایسا جملہ ارشاد فرمایاجس میں اسلام کے قانون کا خلاصہ بیان کر دیا گیا ۔ فرمایا: " ان لوگوں نے اس لیئے ذمی کے معاہدے کو قبول کر لیا ہے تاکہ ان کا مال ہمارے مالوں کی طرح اور ان کے خون ہمارے خونوں کی طرح ہو جائیں "
(برہان شرح مواہب الرحمان)
یہ ہے اپنی غیر مسلم رعایا کے بارے میں اسلام کا طرز عمل ! کیا دنیا کا کوئی اور نظام اس کی ہمسری کا دعویٰ کر سکتا ہے ؟ جب مملکت اسلامیہ کے ہر شہری کی جان و مال عزت و آبرو کی ذمہ داری اسلامی حکومت کی ہے تو ہر محب وطن شہری پر بھی لازم ہے کہ وہ اپنی استطاعت کے مطابق بیت المال میں حصہ داخل کرے تاکہ اسلامی مملکت کی سرحدوں کی حفاظت اور اندرون ملک امن و امان برقرار رکھنے کے لیئے اخراجات برداشت کر سکے ۔مسلمان رعایا بیت المال میں جو رقم جمع کراتی ہے اسے زکوٰۃ و عشر کہتے ہیں ۔یہ زکوٰۃ و عشر مردوو عورت اور بچوں(بچوں پر صرف عشر) سب پر فرض ہے۔اور ذمی رعایا جو رقم بیت المال میں جمع کراتی ہے اسے جزیہ کہتے ہیں ۔یہ وہ جزیہ ہے جس کے بارے میں اسلام کے سیاسی حریفوں نے کہرام مچا کر رکھا ہوا ہے۔اسلام کے رخ زیبا کو شکوک و شبہات کی گرد سے غبار آلود کرنے میں اپنی ساری قوتیں صرف کر رہے ہیں ۔کبھی کہتے ہیں کہ غیر مسلموں کے ساتھ امتیازی سلوک برتا جاتا ہے ۔ جزیہ صرف غیر مسلموں سے وصول کیا جاتا ہے مسلمانوں سے نہیں کیا جاتا۔ ایک مملکت کا شہری ہونے کے ناطے دونوں کے ساتھ مساویانہ سلوک ہونا چاہیئے تھالیکن اسلام نے غیر مسلموں کے ساتھ امتیازی سلوک برتا ہے ۔ کبھی ہتے ہیں کہ غیر مسلموں کی مالی مشکلات بڑھانے کے لیئے ان پر جزیہ کی ادائیگی ضروری قرار دی گئی ہے ۔ ان کے تمام اعتراضات کی تان اس پر آ کر ٹوٹتی ہے کہ جزیہ کا اصل مقصد یہ ہے کہ غیر مسلموں پر یہ مالی تاوان لگا کر انہیں مجبور کیا جائے کہ وہ اسلام قبول کر لیں ! ان اعتراضات کا حقائق کی روشنی میں جائزہ لیتے ہیں :۔
کہا جاتا ہے کہ جزیہ صرف غیر مسلموں سے وصول کیا جاتا ہے مسلمانوں سے وصول نہیں کیا جاتا۔اور یہ ناروا سلوک ہے۔ اس کے بارے میں عرض ہے کہ یہ بلکل جھوٹا الزام ہے جیسا کہ پہلے بھی بتایا جا چکا مسلمان بھی اپنے کمائے ہوئے مال سے حصہ دیتے ہیں جسے زکوٰۃ و عشر کہا جاتا ہے ۔اور وہ مقدار میں جزیہ سے کئی گناہ زیادہ ہے۔ نیز اگر مسلمانوں کے پاس مویشی ہوں بھیڑ ، بکریاں، گائے، بھینس، گھوڑے اور اونٹ تو ان کی بھی زکوٰۃ مسلمانوں کوا دا کرنی پڑتی ہے۔حالانکہ ذمی رعایا سے مویشیوں پر کسی بھی قسم کا لگان یا ٹیکس ادا نہیں کرنا پڑتا۔ مسلمان عورت اگر صاحب نصاب ہو یا بچہ اگر اگر صاحب نصاب ہو تو اس کو بھی لازمی طور پر اپنے اموال کی زکوٰۃ و عشر دینا پڑتا ہے۔اس کے برعکس کسی ذمی عورت اور بچے سے کوئی جزیہ نہیں لیا جاتا۔خود ہی سوچیئے کہ اسلام نے مالی ذمہ داریوں کے نقطہ نظر سے ذمیوں کو کس قدر مراعات سے بہرہ ور کیا ہے۔ بجائے اس کے کہ ان حقائق کو سمجھا جاتا ، اعتراف کیا جاتا، اور اسلام کی فیاضی کا شکریہ ادا کیا جاتا، الٹا یہ الزام عائد کیا جاتا رہا کہ اسلام غیر مسلم رعایا سے امتیازی سلوک روا رکھتا ہے۔اب خود ہی فیصلہ کریں کہ یہ الزام کس حد تک درست ہے ؟ دوسرا یہ الزام کے جزیہ ایک مالی تاوان ہےجس سے اسلامی حکومت اپنی غیر مسلم رعایا کو زیر بار کرتی ہےاور ان کو مالی دشواریوں سے دوچار کرتی ہےاس کے بارے میں اتنا ہی کہنا کافی ہے کہ اگر آپ جزیہ کی مقدار سے آگاہ ہو جائیں تو یہ الزام خود بخود کالعدم ہو جائے گا ۔
امام اعظم امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے مطابق غیر مسلموں کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ دولت مند طبقہ متوسط طبقہ فقراء امراء پر اڑتالیس درہم سالانہ یعنی چار درہم ماہوار، متوسط طبقہ پر چوبیس درہم سالانہ یعنی دو درہم ماہوار اور تیسرے طبقہ پر بارہ درہم سالانہ یعنی ایک درہم ماہوار ! اب آپ خود سوچیئے کہ کیا یہ اتنا بڑا "بوجھ" ہے جو ان کے لیئے ناقابل برداشت ہے ؟؟؟ اور ان کو طرح طرح کی مالی پریشانیوں میں مبتلاء کرنے کا باعث بن سکتا ہے ؟یہ ایک نہایت قلیل اور حقیر سی رقم ہے جو قطعاََ بوجھ تصور نہیں کیا جا سکتا۔ ان کی آخری تہمت کہ جزیہ وصول کرنے کا مقصد یہ ہے کہ غیر مسلموں کو اسلام قبول کرنے پر مجبور کیا جائے ۔ اس کے سراسر کذب و افتراء ہونے میں کوئی شک و شبہہ نہیں ۔جس دین کا بنیادی اصول ہی ہو "لا اکراہ فی الدین" ، اس دین کے پیروکار کسی پر جبر کر کے اسے مسلمان بنانے میں کیوں اپنی طاقت اور وقت صرف کریں گے ؟کیا عقیدہ اتنی حقیر اور کم مایہ چیز ہے کہ اتنی قلیل سی رقم کی ادائیگی سے بچنے کے لیئے انسان اپنے پہلے عقیدے کو چھوڑ کر ایک نیا عقیدہ قبول کر لے جس کو اس کا ضمیر تسلیم نہیں کرتا ۔لوگ تو اپنے عقیدہ کے لیئے وطن چھوڑ دیتے ہین اپنی عمر بھر کی کمائی پر لات مار دیتے ہیں اور اپنے عقیدہ کی راہ میں سر کٹانا پڑے تو اس کو بھی بصد مسرت قبول کر لیتے ہیں ۔ عقیدہ اتنی سستی اور ارزاں چیز نہیں کہ لوگ اتنی حقیر اور قلیل رقم کے بدلے تبدیل کر لیں ۔
یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ ہر غیر مسلم پر جزیہ کی ادائیگی لازم نہیں بلکہ اس کے لیئے کچھ شرائط کاپایا جانا ضروری ہے ۔ اگر ان شرائط میں سے کوئی شرط نہیں پائی جائے گی تو جزیہ ساقط ہو جائے گا۔ جزیہ ادا کرنے کی شرائط درج ذیل ہیں ٭ عاقل و بالغ ہو اور مرد ہو۔ ٭ جسمانی عوارض سے محفوظ ہو ۔ یعنی اپاہج، اندھا، پیر فرتوت اور دائم المرض نہ ہو۔ ٭ آزاد ہو ٭ ایسا مفلس نہ ہو جو بے روزگار ہو۔ ان شرائط سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ نابالغ، دیوانہ، بچہ ، عورت، اپاہج، اندھا، پیر فرتوت، دائم المرض، غلام اور بے روزگار سے جزیہ وصول نہیں کیا جاتایہ سب لوگ جزیہ کے حکم سے مستشنیٰ ہیں۔اگر جزیہ کا مقصد غیر مسلموں کو جبراََ مسلمان بنانا ہوتا تو ان سب پر ضرور جزیہ لگایا جاتا۔کم از کم نابالغ بچے اور عورت سے تو ضرور جزیہ وصول کیا جاتا کیونکہ نابالغ مسلمان بچے اور عورت سے بھی زکوٰۃ اور عشر لیا جاتا ہے ان تمام افراد کو مستشنیٰ کرنے سے کیا ان لوگوں کے اس الزام کی تردید نہیں ہو جاتی کہ جزیہ کا مقصد لوگوں کو جبراََ مسلمان بنانا ہے ؟ اور یہ صرف نظریات ہی نہیں بلکہ مسلمانوں نے اپنے عہد اقتدار میں ان احکامات پر عمل بھی کیا ہے ۔
امام ابو یوسف رحمہ اللہ اپنی کتاب الخراج میں فرماتے ہیں کہ : حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے جن غیر مسلم قوموں اور قبیلوں سے صلح کی ان کو صلح نامے لکھ کر دیئے ان میں یہ جملہ موجود ہے کہ "اگر کوئی بوڑھا کام کرنے کے قابل نہ رہے یا بدنی بیماریوں میں سے اسے کوئی بیماری لگ جائےیا پہلے وہ غنی تھا اب محتاج ہو گیا اور اس کے مذہب والے اس کو صدقہ و خیرات دینے لگیں، ان حالات میں اس سے جزیہ ساقط ہو جائے گا۔اور اس کا اور اس کے اہل و عیال کا خرچ بیت المال سے ادا کیا جائے گا جب تک سلطنت اسلامیہ میں سکونت پذیر رہے ۔" جزیہ کی اصل وجہ :۔ جزیہ کے متعلق اسلام کے سیاسی حریفوں کے پیدا کیئے شکوک و شبہات کے طشت ازبام ہونے کے بعد یہ بات تو بلکل واضح ہو چکی کہ جزیہ کا مقصد نہ تو غیر مسلم رعایا سے امتیازی سلوک ہے نہ انہیں زیربار لانا ہے اور نہ ہی زبردستی اسلام قبول کرانا۔ آیئے دیکھتے ہیں کہ اس کی اصل وجہ کیا ہے ؟ مسلم اور غیر مسلم سے جو الگ الگ رقم وصول کی جاتی ہے اس کے مختلف ناموں کی وجہ یہ ہے کہ زکوٰۃ یا عشر جو مسلمانوں کے ذمہ واجب الادا ء ہےیہ اسلام کی دوسری عبادتوں کی طرح ہی ایک عبادت ہے۔اور غیر مسلم رعایا جو اسلام کو نہیں مانتی ان کی ادا کی گئی رقم کو زکوٰۃ یا عشر سے موسوم کرنا قرین انصاف نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اسلام ان کو اپنے نظام عبادات پر عمل کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جو اس کی سچائی کو مانتے ہی نہیں ۔یہ کتنی بے انصافی کی بات ہے کہ ان غیر مسلموں کو اسلام کے پیش کردہ نظام عبادات کا پابند بنایا جائے۔ اسلام کی عادلانہ روح اس چیز کو قبول نہیں کر سکتی۔ اس لیئے ان کے ذمہ جو واجبات ہیں ان کو الگ نام دیا گیا اور ان کی مقدار بھی کم رکھی گئی تاکہ مسلمانوں کے واجبات اور غیرم مسلم ذمیوں کے واجبات کے درمیان امتیاز باقی رہے۔ اس قدر عادلانہ اور انسانی حقوق کے پاسدار دین کی مخالفت کرنا سورج کو چراغ دکھانے اور چاند پر تھوکنے کے مترادف ہے !

جگہ براۓ اشتہار

جگہ براۓ اشتہار