منطق

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ * لا الہٰ الا اللہ محمّد رسول اللہ * قُلْ هُوَ اللّـٰهُ اَحَدٌ - اَللَّـهُ الصَّمَدُ - لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُوْلَدْ - وَلَمْ يَكُنْ لَّـهٝ كُفُوًا اَحَدٌ

2017-06-23 07:29:39    112 Views آزادی اظہارِ رائے یا آزادی توہین و تذلیل  /  ثمرینہ علی

آزادی اظہارِ رائے یا آزادی توہین و تذلیل

آزادی اظہارِ رائے یا آزادی توہین و تذلیل آزادی اظہارِ رائے کا مطلب بولنے کی آزادی ہے، اسکے ساتھ اسمیں بولنے اور لکھنے کی آزادی کو بھی شامل کیا جاتا ہے ۔ اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی شق نمبر19 کے مطابق '' ہر شخص کو اپنی رائے رکھنے اور اظہارِ رائے کی آزادی کا حق حاصل ہے۔ اس حق میں یہ امر بھی شامل ہے کہ وہ آزادی کے ساتھ اپنی رائے قائم کرے اور جس ذریعے سے چاہے بغیر ملکی سرحدوں کا خیال کئے علم اور خیالات کی تلاش کرے، انہیں حاصل کرے اور ان کی تبلیغ کرے'' ۔ اس شق میں اظہارِ رائے کی آزادی کی کوئی حد بیان نہیں کی گئی ہے، جس سے شر پسندوں کو دوسروں کی ہتک اور تذلیل و توہین کرنے کا موقع مل گیا ہے ۔ عام طور پر اسلام پر الزام لگایا جاتا ہے کہ اسلام اظہار رائے کی آزادی نہیں دیتا جبکہ اصل حقیت یہ ے کہ اسلام ہی وہ واحد مذہب ہے جس نے نہ صرف آزادی اظہارِ رائے کا فلسفہ دیا بلکہ اسکے حددو قیود بھی بتائے۔ قران پاک کی سورہ الحجرات میں ارشادِ باری تعالی ہے : ترجمہ '' اے ایمان والو! کوئی قوم کسی قوم کا مذاق نہ اڑائے۔ عین ممکن ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں اور نہ ہی خواتین ، دوسری خواتین کا مذاق اڑائیں۔ ہوسکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں۔ ایک دوسرے کی عیب جوئی نہ کرو اور نہ ہی ایک دوسرے کو برے القاب سے یاد کرو۔ ایمان کے بعد فسق و فجور کے نام بہت بری چیز ہیں۔ جو لوگ توبہ نہ کریں ، وہی ظالموں میں سے ہیں'' جبکہ دوسری طرف اگر ہم مغربی آزادی اظہارِ رائے کا مطالعہ کریں توتضادات کا مجموعہ نظر آتی ہے ۔ اگر مغرب کے ماضی کی طرف نظر دوڑائے تو جب یورپ میں کلیسا کی حکمرانی تھی تو اسکے خلاف لکھنے بولنے کے نتائج بہت بھیانک ہوتے تھے۔ گلیلیو اور وچ ہنٹ کی مثال کلیسا کے مظالم کی ایک چھوٹی سی مثال ہیں مغرب میں آزدی اظہار پر پابندی اور ظلم و جبرکے مترادف سمجھا جاتا ہے اسی لیے مغربی اقوام نے اپنے قوانین اور آئین میں آزادی اظہار کو بنیادی حثیت دی۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ کسی بھی مغربی ملک میں آزادی اظہارِ رائے مکمل طور پر نافذ نہیں ہے ۔ بیشتر ممالک میں منافرتی تحریر و تقریر پر پابندی ہے۔ ہالوکاسٹ کے بارے میں لکھنے اور بات کرنے پر قانوناََ پابندی ہے۔ کئی ممالک میں مخصوص قومی اداروں مثلا فوج، عدلیہ اور پارلیمان کی توہین کو غیر قانونی قرار دیا گیا ہے ۔ امریکہ کی بعض ریاستیں ایسی ہیں جن کی دستوری کتب میں اہانت مذہب کے قوانین موجود ہیں۔ کینڈا کے قانون میں عیسائیت کی توہین کرنا جرم ہے۔ اور دوسری طرف یہ ممالک ہی اسلام کی توہین کرتے ہیں ۔ اسکارف پر پابندی ہے۔ امریکہ میں لوگوں کے فون ٹیپ کئے جاتے ہیں،عیب جوئی کرنا، تمسخر اڑانا وہاں معمول کا حصہ ہے۔ مشہور کہاوت ہے کہ انسان کی آزادی دوسرے کی ناک تک ہے۔ یعنی جہاں سے دوسرے انسان کی ناک شروع ہوتی ہے وہاں آپ کی آزادی کی حد ختم ہو جاتی ہے۔ دنیا کا کوئی بھی ملک ایسا نہیں ہے جہاں پر فرد کو مکلمل آزادی حاصل ہو۔ ریاستی قوانین کی پابندی اس کی ایک واضح مثال ہیں۔ آزادی اظہار کی اپنی حدود و قیود ہیں۔ امریکہ چیف جسٹس اولیور وینڈل ہومر نے امریکی سپریم کورٹ کے ایک فیصلے میں اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہا '' ”آزادی اظہار کا سب سے مضبوط تحفظ بھی اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ کوئی شخص کسی تھیٹر اورعوامی مقام میں اشتعال انگیزی سے غلط چلائے اور افراتفری پھیلائے''۔ اقوامِ متحدہ کے موجودہ سیکرٹری بانکی مون نے کہا '' ”اس اظہار خیال کی آزادی ہے جو اجتماعی فلاح کے لیے ہو لیکن وہ آزادی اظہار جس سے دوسروں کے لطیف جذبات مجروح ہوں یا ان کے اقدار اور ایمان کو ٹھیس پہنچے ان کو یہ قانون کوئی دفاع مہیا نہیں کرتا''۔ پوپ فرانس نے فرانس حملوں کے پس منظر میں بیان دیتے ہوئے کہا '' اظہارِ رائے کی آزادی میں کچھ ضروری حدود و قیود ہوتی ہیں خصوصا جب کسی کی مذہبی دل آزاری کی جائے۔ بہت سے لوگ مذاہب کے بارے میں بڑی تحقیر آمیز گفتگو کرتے ہیں، دوسروں کے مذاہب کا مذاق اڑاتے ہیں، یہ لوگ درحقیقت اشتعال دلانے کا کام کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے ساتھ وہی سلوک کیا جائے گا جو میرے دوست ڈاکٹر گیسپری کے ساتھ ہوگا۔ اگر وہ میری ماں کے خلاف کوئی توہین آمیز لفظ بولتا ہے ایسے عمل پر اسے میری طرف سے ایک مکے کی توقع ہی کرنی چاہیے''۔ پوپ صاحب نے بالکل درست کہا۔ یہ انسانی فطرت ہے کہ کوئی بھی شخص اپنے پیاروں کے بارے میں اہانت آمیز گفتگو برداشت نہیں کرسکتا اور مشتعل ہو جاتا ہے۔ اشتعال کے عالم وہ کسی بھی قسم کے ردِ عمل کا اظہار کرسکتا ہے۔ اور کوئی بھی ذی ہوش شخص اس ردِ عمل کے لیے اُس کو موردِ الزام نہیں ٹھہرا سکتا کہ اصل مجرم تو اشتعال دلانے والا ہے۔ مسلمان بہت سے فورمز پر اس بات کا برملا اظہار کر چکے ہیں کہ اللہ اور اللہ کے پیارے رسول ، ان کے متعلقین ہمیں اپنے عزیزوں سے بھی زیادہ عزیز ہیں، لیکن اس کے باوجود ان کے بارے میں توہین آمیز تحریر و تقریر کی نشر و اشاعت کھلے عام ہو رہی ہے ۔ احتجاج کے باوجود اسکی روک تھام کے لیے اقدامات نہیں کئے جارہے۔ اس تناؤ کی ذمداری کس پر عائد ہوتی ہے ؟؟؟ اور مسلمان اگر اس پر اپنے شدید ردِ عمل کا اظہار کریں تو ذمہ دار کون؟؟؟ بغیر حدود و قیود کے اظہارِ رائے کی آزادی فساد کا باعث بن رہی ہے اور اگر اس کی روک تھام نہ کی گئی تو شدید نوعیت کے نزاع کا باعث بھی بن سکتی ہے۔ یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ آزادی اظہارِ رائے کا مطلب دوسروں کی دل آزاری کرنا یا ان کے جذبات کو ٹھیس پہنچانا ہر گز ہے۔ اس ضمن میں بات بھی قابلِ غور ہے کہ عموما مسلمانوں پرالزام تراشی کی جاتی ہے کہ وہ جاہل، بے شعور،عدم برداشت کے حامل اور انسانیت دشمن ہیں۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آپ پڑھے لکھے، باشعور،با تحمل اور انسانیت دوست ہیں تو آپ ایسے مواد کی حوصلہ افزائی کیوں کرتے ہیں جو کہ نفرت اور شر انگیزی کو فروغ دے اور اشتعال کا باعث بنے؟؟؟؟ ایک ایسے عمل کو جس کی بدولت ایک پورے طبقے کو تکلیف پہنچتی ہو، ان کی دل آزاری ہوتی ہو اور وہ نفرت کے فروغ کا باعث ہو اس کس طرح ہم آزادی اظہارِ رائے کے تحت جائز قرار دے سکتے ہیں؟؟؟؟ جبکہ اقوامِ متحدہ کے پہلے آرٹیکل کی شق ۳ کے تحت ان حقوق کو ان الفاظ میں تسلیم کیا گیا ہے '' یہ قرار دیا جاتا ہے کہ معاشی، سماجی، ثقافتی اور اِنسانی نوع کے عالمی مسائل و تنازعات کے حل کے لیے اور انسانی حقوق کے اِحترام کے فروغ و حوصلہ اَفزائی کے لیے اور تمام بنی نوع انسان کے لیے نسل، جنس یا مذہب کی تفریق کے بغیر بنیادی اِنسانی حقوق کے تحفظ کی خاطر عالمی برادری کا تعاون حاصل کیا جائے گا''۔ اللہ تعالی مسلمانوں کو شر پسندوں سے محفوظ رکھے اور ہمیں دینِ اسلام پر استقامت عطا کرے ۔ آمین

جگہ براۓ اشتہار

جگہ براۓ اشتہار