منطق

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ * لا الہٰ الا اللہ محمّد رسول اللہ * قُلْ هُوَ اللّـٰهُ اَحَدٌ - اَللَّـهُ الصَّمَدُ - لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُوْلَدْ - وَلَمْ يَكُنْ لَّـهٝ كُفُوًا اَحَدٌ

2017-06-23 07:27:42    126 Views سیکس ایجوکیشن۔۔۔ گمراہی کا ہتھکنڈہ  /  ثمرینہ علی

سیکس ایجوکیشن۔۔۔ گمراہی کا ہتھکنڈہ

ابتدائے آفرینش سے ہی انسان اور شیطان کے درمیان نیکی اور بدی کی جنگ جاری ہے۔ شیطان نے پہلا وار انسان کی شرم و حیا پر ہی کیا تھا جسکے نتیجے میں انسان کو جنت سے نکلنا پڑا۔ شرم و حیا انسان کی فطرت کا بنیادی جزو ہے۔ یہ اگر عورت کا زیور ہے تو مرد کے لیے زینت ہے۔ اللہ تعالی نے مرد و عورت کے درمیان فطری کشش پیدا کی ہے جس کا مقصد نسلِ انسانی کی بقا ہے۔لیکن شیطان مردود اس جذبے کو استعمال کرتے ہوئے انسان کو اشرف المخلوقات سے اسفل السافلین کے درجے پر دھکیلنے میں مسلسل کوشاں ہے۔ سیکس ایک فطری جذبہ ہے جو کہ قدرت نے ہر جاندار میں پیدا کیا ہے۔ اللہ تعالی کی طرف سے یہ ودیعت کردہ جذبہ ایک دوسرے کے لیے الفت و محبت کا سبب بنتا ہے جسکے ذریعے ایک جوڑا نہ صرف اپنی نسل میں اضافہ کرتا ہے بلکہ اپنی پوری زندگی ایک دوسرے کے ساتھ بسر کرتا ہے۔ لیکن آجکل اسی فطری جذبے کو مغرب تہذیب نے نوجوان نسل کو شخصی آزادی کے نام پر مادر پدر آزادی دی ہے اور اسے صرف جسمانی تسکین اور عیاشی کا ذریعہ بنا لیا ہے۔ جسکے نتیجہ میں میں ہر دوسری لڑکی کی گود میں ناجائیز بچہ ہوتا ہے جسکے باپ کا بھی کوئی علم نہیں ہوتا۔ہم جنس پرستی عام ہے۔ شادی اور خاندان جیسے انسیٹیوٹ تباہی کی دہانے پر ہیں۔ میاں بیوی کے درمیان پیار و محبت نام کی کوئی چیز نظر نہیں آتی ۔محرم یا نامحرم کی تمیز کئے بغیر صرف جنسی تسکین ہی مقصود ہوتی ہے۔ حتی کے فیملی سیکس کے نام پر مغربی معاشرہ اپنی غلاضت کی آخری حد کو چھو رہا ہے۔مغربی معاشرے میں زندگی کا مفہوم صرف اور صرف جنسی تسکین اور عیاشی ہی رہ گیا ہے۔ مغربی اخبارات لیے گئے اعدادو شمار کے مطابق صرف برطانیہ میں ناجائیز بچوں کی تعداد اکتالیس فیصد اور امریکہ میں تنتیس فیصد ہے۔ برطانیہ میں طلاق کا تناسب اکاون اور امریکہ میں پچاس فیصد ہے۔ ہالینڈ میں '' سیکس فری '' قانون کے مزے لوٹنے والوں میں تیس فیصد سے زائد لڑکیاں ایسی ہیں جو کہ اپنے ہی سگے باپ یا بھائی کے گناہ کا نتیجہ بھگت رہی ہوتی ہیں۔ امریکہ میں ہر چھ منٹ کے بعد عصمت دری کا واقعہ پیش آتا ہے اور سویڈن جیسے مہذب ملک میں ستر فیصد لڑکیاں شادی سے پہلے حاملہ ہوجاتی ہیں۔ گلوبلائزیشن کے اس دور میں ماڈرن ازم اور سیکس ایجوکیشن کے نام پر اسلامی معاشرے میں بھی اسی آزادی کی ترویج کی کوشش کی جا رہی تاکہ نوجوان نسل کو ذہنی عیاشی کا عادی بنایا جائے۔ اور اس کا ہتھیار بنے ہوئے ہیں ہمارے مغربی تہذیب اور نام نہاد ماڈرن ازم کے دلدادہ افراد جو کہ سیکس ایجوکیشن کے نام پر عریانیت کی ترویج اور اسلام کے خلاف پروپیگنڈا میں مصروف ہیں۔ نوجوان کسی بھی معاشرے کا سرمایہ ہوتے ہیں، اگر ان کے ذہنوں کو ملک و قوم اور مذہب کے خلاف کر دیا جائے تو اس قوم کو نیست و نابود کرنے کا سامان ہو جاتا ہے۔ یہی آج ہمارے نوجوانوں کے ساتھ ہو رہا ہے۔۔۔ سیکس ایجوکیشن کے نام پر ان کے شہوانی جذبے کو ہوا دی جا رہی ہے اور مذہب کی طرف سے عائد کردہ پابندیوں کو ان کے لیے دقیانوسی اور ناروا کہہ ان کے ذہنوں میں اپنے من پسند نظریات ٹھونسے جا رہے ہیں۔ کوشش کی جا رہی ہے کہ معاشرہ مغربی شہوانیت پرستی کے سیلاب میں بہہ کر حیوانیت کی سطح پر اتر آئے۔ یہی وجہ ہے کہ آج ہمیں معاشرے میں بےراہ روی،بےحیائی، انتشار اور نفسانفسی کا عالم نظر آتا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ معاشرتی اقدارو اخلاق کو شکست و ریخت سے بچانے کی خاطر معاشرے کا ہر فرد اپنا کردار ادا کرے اور اپنے آپ کو دینِ اسلام کے قالب میں ڈھالے۔ اللہ تعالی ہمیں دشمنانِ اسلام کےشر سے محفوظ فرمائے۔ آمین

جگہ براۓ اشتہار

جگہ براۓ اشتہار