منطق

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ * لا الہٰ الا اللہ محمّد رسول اللہ * قُلْ هُوَ اللّـٰهُ اَحَدٌ - اَللَّـهُ الصَّمَدُ - لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُوْلَدْ - وَلَمْ يَكُنْ لَّـهٝ كُفُوًا اَحَدٌ

2017-06-23 07:26:25    88 Views ماڈرن ازم ''عورت'' کی تذلیل  /  ثمرینہ علی

ماڈرن ازم ''عورت'' کی تذلیل

علامہ اقبال نے کہا تھا: وجودِ زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ اس کے ساز سے ہے زندگی کا سوز دروں بلاشبہ عورت ہر رشتہ میں مرد کے لیے دوست، غمخوار، مددگار اور راحت کا باعث ہے۔ عورت معاشرے کا ایک اہم رکن ہے۔ چونکہ عورت گھرکے امور کی ذمہ دار اس لیے گھر کے افراد کی تعلیم و تربیت، کردار سازی اور ذہن سازی میں عورت کا کردار اہم ہے۔ ذرا تصور کریں کہ اگر گھر کامحاذ سنبھلنے والی عورت غلط اور فاسد خیالات کی حامل ہو گی تو اس گھر کا کیا حشر ہوگا؟؟ یقیناََ اس کے نتائج اچھے نہیں نکلیں گے۔ آج ہمارا کچھ ایسا ہی حال ہے۔ آج ہم نے ماڈرن ازم کے نام پر مغربی تہذیب و تمدن کی پیروی کو اپنا اہم فریضہ سمجھ لیا ہے۔ آزادی نسواں کے حسین اور پُرفریب نعرہ کو لگاتے ہوئے آج کی عورت سماجی، سیاسی، معاشی غرض ہر سطح پر بدترین استحصال اور تذلیل کا سامنا کر رہی ہے۔ ہالی وڈ کی مشہور اداکارہ کیٹ ہڈسن نے ۲۰۰۴ء میں ایک بھارتی روزنامہ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا : '' یہ ایک بہترین امر ہے کہ اگر آپ ایک خاتون ہیں جو باہر اور مقامات پر کام کرتی ہیں تو سب سے بہتر اور محفوظ مقام آپ کے لیے آپ کا گھر ہے۔ میری خواہش ہے کہ کاش میں ایک وفاشعار بیوی اور شفیق ماں ہوتی۔'' ایک معاشی طور پر مستحکم اور ہزاروں دلوں کی دھڑکن اداکارہ کی جانب سے ایسی خواہش کا اظہار اس سوچ اور پراپیگنڈہ کے منہ پر طمانچہ ہے جو خود مختار عورت کو ماڈرن ازم کی معراج سمجھتے ہیں۔ گلوبلائیزیشن کے بڑھتے ہوئے رحجان کے تناظر میں آزادی نسواں کا نعرہ دنیا بھر کی خواتین کا پسندیدہ نعرہ بن چکا ہے۔۔ اس کے اغراض و مقاصد یہ ہے کہ معاشرہ مساواتِ مرد و زن کے بنیادی اصول پر استوار ہو۔ اس تحریک کے حامیوں کا دعوی ہے کہ عورت کو اس کے حقوق اسی تحریک کے ذریعے ملے ہیں مگر اگر ایمانداری سے تجزیے کیا جائے تو اسی تحریک کے نتائج یہ ہے کہ آج کی ماڈرن عورت کا دامن نسائیت، عصمت و عفت، احساسِ تحفظ، امن و سکون، احترام و وقار سے خالی ہے ۔ مغرب کے سرمایہ دارانہ ذہنیت نے خواتین کو گھر سے باہر نکلنے کی ترغیب دیکر صرف اور صرف اپنے لیے معاشی فوائد حاصل کئے ہیں اور انہیں شمعِ محفل بنا ڈالا ہے۔ ایک طرف تو اس ذہنیت نے عورت کو گھروں سے باہر نکال فیکٹریوں، کارخانوں، دکانوں پر لاکھڑا کیا ہے تو دوسری طرف اسی سوچ نے عورت کو میڈیا کی دنیا میں ''کمیوڈیٹی ''کے طور پر استعمال کیا ہے۔ عورت کی حثیت مخص '' شو پیس'' کی سی ہے۔ ایک طرف تو مادر پدر آزادی کا حق دیا جاتا ہے اور دوسری طرف منفعت کے لیے جسم فروشی کو جائیز قرار دیا جاتا ہے۔ تمام اعلی عہدوں پر مغربی مرد قابض ہیں جبکہ عورتوں کو اشتہار بنا دیا گیا ہے ،اس بیچاری کو اداکارائیں، گلوکارائیں، رقاصائیں،ماڈل گرل، کال گرل،ائیرہوسٹس، ویٹریس، سیلز گرل اور پورنو گرافی کے دلدل میں پھینک کر نعرہ دیا گیا ہے آزادی نسواں کے نام پر مردوں سے برابری کا۔ آج کی مغربی عورت معاشرے میں جنسی تسکین کے حصول کا ایک ٹول یا ذریعہ ہے۔ جوں جوں اس کی عمر بڑھتی جاتی ہے وہ معاشرے کے لیے عضوِ معطل کی حثیت اختیار کر لیتی ہے اور اس کی آخری منزل اولڈ ہاوس ہوتے ہیں۔ یہ اسی آزادی مساوات کے ثمرات ہیں کہ آج کی مغربی عورت حقوق تو برابر کے ملے نہیں لیکن فرائض ضرور برابر کے ادا کرنے پڑتے ہیں۔ وہ معاشی میدان میں مرد کے مساویانہ خرچ کی ذمہ دار ہے تو گھر آ کر اپنے حصے کا آدھا گھریلو کام بھی کرتی ہے۔ پھر اسے اپنے شوہر کے معاشقوں کو بھی کھلے دل کے ساتھ برداشت کرنا پڑتا ہے کہ یہ ان کی ننگی تہذیب و تمدن کا حصہ ہے۔اس پر مستزاد اگر شوہر اپنی گرل فرینڈ کے ساتھ وقت گزار کر آیا ہے اور واپس آکر بیوی سے منہ پھیر کر سو گیا ہے تو آزادی نسواں کے نام پر مغربی عورت کو پورن فلمز سے اپنا دل بہلانا پڑتا ہے۔ اور پھر اگر ان کے شوہر ان کو چھوڑ کر چلے گئے ہیں تو بچوں کی پرورش بھی اس کی ہی ذمہ داری ہے۔ کیا ماڈرن کہلوانے والی عورت کی اس سے بڑھ کر اور تذلیل ہو سکتی ہے؟؟؟؟ مغربی معاشرے کی اخلاقی ساکھ اور گھریلو نظام تباہی کے دہانے پر ہے ۔ آج اسی تہذیب و تمدن کو آزادی نسواں اور ماڈرن ازم کے پُرفریب نعرے کے پردے کے پیچھے سے مسلم خواتین کو اپنی طرف متوجہ کیا جا رہا ہے ۔ اسمیں کوئی شک نہیں کہ ہمارا معاشرہ عورتوں کے حقوق کے حوالے سے مثالی معاشرے کہلوانے کا مستحق نہیں لیکن اس کی بھی اصل وجہ دین سے دوری اور غیر ملکی تہذیب و تمدن سے متاثر ہونا ہے۔ اسکے باوجود مشرقی عورت کو آج بھی گھر کے چراغ کی حثیت حاصل ہے۔ جوں جوں اس کی عمر بڑھتی ہے اس کے حفظ و مراتب اور عزت میں اضافہ ہوتا جاتا ہے۔ نہ صرف گھر میں بلکہ معاشرہ بھی اسے تکریم و عزت دیتا ہے۔ اسلام میں معاشی و معاشرتی ذمہ داری مرد کے کندھے پر ڈالی گئی ہےاور عورت کی اولین ذمہ داری گھر اور بچوں کو قرار دیتا ہے۔ لیکن اس کے باوجود دین ِ اسلام انہیں نوکری کی بھی اجازت دیتا ہے اور کاروبار کی۔ انہیں اپنی املاک رکھنے کا حق حاصل ہے ۔ انہیں تعلیم کا بھی اتنا ہی حق ہے جتنا کہ مرد کو ہے۔ اسکے باوجود اسلام دشمن اسلام کے خلاف پروپیگنڈا کرتے ہیں کہ اسلام عورتوں کی حق تلفی کرتا ہے۔ انہیں بچارگی اورمظلوم ہونے کا احساس دلا کر دین اور تہذیب و تمدن سے دور کیا جا رہا ہے کیوں کہ اسلام دشمنوں کوعلم ہے اگر مسلم عورت بھی مغربی تہذیب و تمدن کے رنگ میں رنگ گئی تو نظریاتی تعلیم و تربیت کا ایک اور دروازہ بند ہو جائے گا اور اِنہیں دینِ اسلام کے خاتِمہ کے لیے حسبِ منشا نتائج حاصل کرنے میں آسانی ہوگی۔ اللہ تعالی ہمیں دشمنوں کی چالوں کو سمجھنے اور ان کی شر سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

جگہ براۓ اشتہار

جگہ براۓ اشتہار