منطق

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ * لا الہٰ الا اللہ محمّد رسول اللہ * قُلْ هُوَ اللّـٰهُ اَحَدٌ - اَللَّـهُ الصَّمَدُ - لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُوْلَدْ - وَلَمْ يَكُنْ لَّـهٝ كُفُوًا اَحَدٌ

2017-06-23 07:24:01    94 Views پردہ" جو عقل پر پڑ گیا"  /  ثمرینہ علی

پردہ" جو عقل پر پڑ گیا"

عام طور پر حجاب کا لفظ '' نقاب '' کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے ۔حجاب کا لفظ عربی زبان کے لفظ حجب سے نکلا ہے جسکے معنی ہیں کسی کو کسی چہرہ تک رسائی حاصل کرنے سے روکنا۔ آجکل حجاب کی اصطلاح صرف سر پر اسکارف لینے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ عموماََ '' حجاب یا پردہ '' کو مسلمانوں سے منسوب کیا جاتا ہے جبکہ اگر ہم تاریخ کا جائیزہ لیں تو اس کا استعمال قدیم زمانے سے ہی چلا آرہا تھا۔ پردے کا رواج آشوریوں، بابلیوں، میسوپوٹیمیا، سومریوں، اور قدیم یونان میں بھی پایا جاتا تھا۔ گھر سے باہر نکلتے وقت خواتین سر ڈھانپا کرتی تھیں ۔ سر کو کھلا چھوڑنا ایک کبیرہ گناہ سمجھا جاتا تھا اور اس کی خلاف ورزی کرنے والی عورت کو سخت سزا دی جاتی تھی۔ عبرانی زبان میں لفظ حجاب '' ھتصاعیف'' کا مترادف ہے اور اصطلاحاََ ایسی چادر کو کہتے ہیں جو بد ن اور بلخصوص سر کو چھپاتی ہو۔ تلمود یہودی خواتین پر حجاب فرض کرتا ہے جس کے بغیر انہیں باہر نکلنے کی اجازت نہیں اور شوہر کو یہ حق دیتا ہے کہ خلاف ورزی کرنے پر اپنی بیوی کو طلاق دے دے۔ یہودی علماء کے نزدیک عورت کا سر ننگا کرنا ایسا ہی گویا اس نے اپنے جنسی اعضاء نمایاں کیے ہوں۔ یہودی شریعت میں نمازیں اور دعائیں کسی ننگے سر کی عورت کی موجودگی میں قبول نہیں ہوتیں کیوں کہ اسے عریانیت سمجھا جاتا تھا اور ننگے سر کے جرم کے پاداش میں جرمانہ تک کیا جاتا تھا۔ اس کے برعکس فاحشاوّں اور طوائفوں کو یہودی معاشرے میں سر ڈھانپنے کی اجازت نہیں تھی تاکہ آزاد اور غلام عورت میں فرق کیا جاسکے۔ مسیحیت میں بھی اسی قسم کے حجاب کی تائید کی گئی ہے ۔ بائبل میں حجاب کے لیے مترادف لفظ '' peplum '' کا ذکر ہو اہے جسکے معنی ایسی چادر یا رداء کے ہیں جس کو عورت اپنے سر پر اس طرح رکھتی ہے کہ جیسے یونانی عورتیں رکھتیں تھیں اور یہ بدن کے ساتھ ساتھ چہرے کو بھی چھپاتی تھی اور صرف آنکھیں نظر آتیں تھیں۔ آج بھی اگر راہبہ کو دیکھا جائے تو وہ سر تا پاوں ملبوس نظر آتی ہے اور اسی طرح عام مسیحی عورتیں بھی کچھ عرصہ پہلے تک ملبوس نظر آتیں تھیں اور سر کو باقاعدہ ڈھانپتی تھیں۔ آج بھی چرچوں میں حضرت مریم کا جو مجسمہ بنایا جاتا ہے اسمیں چہرہ کے علاوہ پورا جسم ڈھکا ہوتا ہے۔ میسوپوٹیمیا میں بھی عزت دار خواتین پردہ کیا کرتی تھیں اور طوائفوں کو پردہ کرنا منع تھا تاکہ دونوں کے درمیان امتیاز ہوسکے۔ یونان کے ابتدائی دور میں پردے اور نکاح کا رواج تھا اور مردان خانے اور زنان خانے الگ الگ تھے۔ ہندووں میں اگر پردے کا جائیزہ لیا جائے تو وہاں بھی پردے کی اہمیت رہی ہے۔ سیتا کا مشہور واقعہ ہے جب راون نے اسے اغوا کیا تھا تو رام جی کے چھوٹے بھائی لکشمن سیتا کو پہچان نہ سکے تھے کیوں کہ انہوں کے کبھی اپنی بھاوج کی صورت نہیں دیکھی تھی۔ ہندو سماج میں اونچی ذات کی عورتیں پردہ کیا کرتی تھیں۔ اب بھی مارواڑیوں ، کائستوں ، پرانی وضع کے برہمن خاندانوں اور راجھستانیوں میں گھونگٹ نما پردے کا رواج ہے۔ حتی کہ زرتشت کی کتاب '' اوستا'' کے باقیات میں عورتوں پر حجاب واجب اور نامحرم کی طرف دیکھنا حرام ہے۔ اگر دینِ اسلام کا جائیزہ لیا جائے تو اسمیں بھی '' پردے '' کو خصوصی اہمیت حاصل ہے لیکن اسے ادنی و اعلی کی تمیز کے بغیر سب خواتین کے لیے لازمی قرار دیا گیا۔ جیسا کہ قرآن پاک میں سورہ نور آیت ۳۱ میں ارشاد ہے ترجمہ : اور ایمان والیوں سے کہہ دو کہ اپنی نگاہ نیچی رکھیں اور اپنی عصمت کی حفاظت کریں اور اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں مگر جو جگہ اس میں سے کھلی رہتی ہے، اور اپنے دوپٹے اپنے سینوں پر ڈالے رکھیں، اور اپنی زینت ظاہر نہ کریں مگر اپنے خاوندوں پر یا اپنے باپ یا خاوند کے باپ یا اپنے بیٹوں یا خاوند کے بیٹوں یا اپنے بھائیوں یا بھتیجوں یا بھانجوں پر یا اپنی عورتوں پر یا اپنے غلاموں پر یا ان خدمت گاروں پر جنہیں عورت کی حاجت نہیں یا ان لڑکوں پر جو عورتوں کی پردہ کی چیزوں سے واقف نہیں، اور اپنے پاؤں زمین پر زور سے نہ ماریں کہ ان کا مخفی زیور معلوم ہوجائے، اور اے مسلمانو! تم سب اللہ کے سامنے توبہ کرو تاکہ تم نجات پاؤ۔ سورہ احزاب آیت ۵۹ کا ترجمہ ہے : اے نبی اپنی بیویوں اور بیٹیوں اور مسلمانوں کی عورتوں سے کہہ دو کہ اپنے مونہوں پر نقاب ڈالا کریں، یہ اس سے زیادہ قریب ہے کہ پہچانی جائیں پھر نہ ستائی جائیں، اور اللہ بخشنے والا نہایت رحم والا ہے دیکھا جائے تو '' حجاب یا پردہ '' ہر تہذیب و تمدن میں اشرافیہ خواتین کے لیے عزت و وقار کی علامت رہا ہے ، جسے دینِ اسلام نے بلا تخصیص عام و خاص کے لیے لازم قرار دیا۔ وقت کے ساتھ ساتھ دیگر تہذیب اور مذاہب نے اسے ترک کردیا لیکن مسلم معاشروں میں آج بھی پردہ کی روایت زندہ ہے گو کہ اس میں خاصی کمی واقع ہو گئی ہے لیکن اسے مکمل طور پر ترک نہیں کیا گیا ۔ آج پردے کو صرف مسلمانوں سے منسوب کر دیا گیا ہے اور اس بناء پر انہیں توہین و تضحیک کا نشانہ بنایا جاتا ہے انہیں دقیانوسی اور اجڈ کہہ کر پکارا جاتا ہے تاکہ معاشرے میں بےشرمی اور بےحیائی کو فروغ حاصل ہو، خاندانی نظام اور اسلامی اقدار کا خاتمہ کیا جاسکے۔ ذہن میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب پردہ ہر تہذیب و معاشرت اور مذہب کا حصہ رہا ہے تو اس کا خاتمہ کیوں کر ممکن ہوا؟؟ موجودہ مغربی تہذیب کی بنیاد کا جائیزہ لیا جائے تو اس کی بنیاد صرف اور صرف مادہ پرستی پر رکھی گئی ہے۔ اسمیں صرف اس فرد کو اہمیت حاصل ہے جو کہ کسی نہ کسی طور پر فائدہ مند ہو۔یہی وجہ ہے کہ جب صنعتی ترقی کی بدولت افرادی قوت میں کمی کے باعث عورتوں کو گھر سے باہر نکالنے کا فیصلہ کیا گیا۔ ترغیب دینے کے لیے نعرہ لگایا گیا '' آزادی نسواں اور مردوں کے برابر حقوق '' کا ۔ لیکن آزادی نظر آئی تو صرف عریانیت کی شکل میں، آزادی نظر آئی تو صرف مرد و زن کے آزادانہ اخطلاط میں ، آزادی ملی تو صرف بدکاری کو، آزادی ملی تو صرف مردوں کو اپنے فرائض سے ادائیگی کی۔ آزادی کے نام پر عورت کوتنہا کردیا گیا، اسے ہر ایک کے لیے سہلِ حصول بنا دیا گیا ہے، معاشی آزادی کے نام پر اسے کولہو کا بیل بنا دیا گیا ہے ، ضرورتِ زندگی کی تکمیل کے لیے اسے پست ترین ملازمت تک اختیار کرنی پڑتی ہے اور آسان ترین جاب '' سیکس ورکر '' کی ہے۔ عموماََ سترہ سال کی عمر کے بعد باپ اور اہلِ خانہ اس کے مصارف برداشت کرنے کے پابند نہیں ہوتے اس لیے اپنے لیے کام تلاش کرنا پڑتا ہے۔ شادی کے بعد اسے مساوی حقوق کی وجہ سے شوہر کے شانہ بشانہ گھر کے اخراجات کے لیے ملازمت کرنا پڑتی ہے حتی کہ وہ بوڑھی ہوجائے اور اسکے بچے مالدار ہوں تب بھی اسے اپنے اخراجات خود کرنے پڑتے ہیں۔ عورت کا کام صرف تکمیل شہوات ہے، اس کا نتیجہ یہ ہے کہ وہ نہ اولاد کی تربیت کر سکتی ہے اور نہ ہی اولاد اس کا احترام کرتی ہے ۔ سو اہلِ مغرب کا پورا خاندانی نظام مفلوج و منتشر ہے۔ عورت کی بے پردگی نے مغرب کو صرف اور صرف اخلاقی پستی کی آزادی دی ہے۔ اہلِ مغرب اس بات پر فخر کرتے ہیں کہ انہوں نے دنیا کو '' آزادی '' کا تحفہ دیا ہے جسمیں ہر فرد کو اظہارِ خیال کی اپنی تہذیبی اور ثقافتی شناخت کے ساتھ رہنے کی اور اپنے مذہب پر عمل کرنے کی اجازت ہے اور اور کسی پر کوئی رائے زبردستی نہیں تھوپی نہیں جا سکتی۔ لیکن عالم اسلام پر اس کا دباو ہے کہ وہ اپنے ہاں خواتین کومغربی تہذیب و تمدن کے مطابق زندگی گزارنے کی اجازت دیں ۔کیایہ ان کی مروجہ آزادی کی اصل روح کے منافی اقدام نہیں ہے؟؟ اہلِ مغرب میں شاید آزادی کا حقییقی مفہوم فرد کو اخلاقی اور مذہبی قدروں سے آزاد کرنا ہے نہ کہ آزادی سے ہمکنار کرنا ۔ اس لیےاہلِ مغرب مسلمانوں کو ان کی مذہبی شناخت سے محروم کرنے اور خواتین کی آزادی کے نام پر پردے کے خلاف نہ جانےکیسی کیسی مہم چلاتا رہتا ہے۔ سوچا جائے تو بے پردگی یا عریانیت اس دور کی یادگار ہے جب انسان تہذیب و تمدن اور شعور سے انجان برہنہ گھوماکرتا تھا۔ جب اس نے تہذیبی و تمدنی ترقی کی تو اپنے بدن کو ڈھانپا۔ آج اسی ''ترقی'' کے نام پر انسان برہنگی پر اتر آیا ہے۔ یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ''پردہ '' علامت ہے عورت کے وقار کا ، حیا کا ، نسوانیت کا ، اعلی اخلاق و کردار کا ۔ اسے کسی قسم کی '' قید'' سے منسوب کرنا بالکل غلط ہے۔ دینِ اسلام عورت کی عزت و آبرو کا تحفظ چاہتا ہے اسلیے اسے '' پردہ '' کرنے کا حکم دیتا ہے۔ اللہ تعالی ہمیں دینِ اسلام کا کی تعلیمات پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین

جگہ براۓ اشتہار

جگہ براۓ اشتہار