منطق

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ * لا الہٰ الا اللہ محمّد رسول اللہ * قُلْ هُوَ اللّـٰهُ اَحَدٌ - اَللَّـهُ الصَّمَدُ - لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُوْلَدْ - وَلَمْ يَكُنْ لَّـهٝ كُفُوًا اَحَدٌ

2017-06-23 07:22:41    67 Views کامیابی کا راز  /  ثمرینہ علی

کامیابی کا راز

آج ہمارے معاشرے میں لوگ ہر حال میں دوسروں سے آگے نکلنے کی دھن میں جائز و ناجائیز ہتھکنڈے استعمال کرنے سے نہیں چوکتے۔ معاشرہ دن بدن اخلاقی پستی اور تنزلی کی طرف گامزن ہے اور نمایاں طور پر جو چیز ہمارے معاشرے کو گھن کی طرح کھائے جا رہی ہے وہ منافقت، بیجا خوشامد اور چاپلوسی کرنا ہے۔ اگرچہ تعریف کرنا بری بات نہیں ، تعریف ہمیشہ آپ کو مذید بہتر کام کرنے کا حوصلہ اور ہمت عطا کرتی ہے ۔ اس سے نہ صرف ترقی کی راہوں پر گامزن ہونے میں آسانی ہوتی ہے بلکہ اس سے تعلقات میں استواری بھی پیدا ہوتی ہے ۔۔۔ لیکن خرابی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب تعریف حد سے زیادہ تجاوز کر جائے اور وہ فرد تعریف کا حقدار بھی نہ ہو، ایسی صورت میں تعریف اپنی حدود سے نکل کر چاپلوسی، خوشامد اور منفاقت کے دائرے میں داخل ہو جائے۔ منافقت ، خوشامد اور چاپلوسی ایک فرد کو تو فائدہ دیتی ہے لیکن باقی معاشرے کو نقصان پہنچاتی ہے۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے ہم نے اقبال کا کہا مانا، خودی کے ہاتھوں مرتے رہے جھکنے والوں نے رفعتیں پائیں ، ہم خودی کو بلند کرتے رہے آجکل چاپلوسی، خوشامد کو لوگوں نے اپنی ترقی کرنے کا زینہ بنا لیا ہے۔ اس سے معاشرہ دو طرح سے خرابی کا شکار ہوتا ہے ایک تو یہ کہ خوشامد اور چاپلوس شخص ایک قابل اور اہل فرد کی جگہ سنبھال لیتا ہے اور دوسرا بیجا خوشامد اور چاپلوسی سے فرد کو غرور اور تکبر میں مبتلا کر دیتا ہے اور اس طرح اسکی ترقی کی راہیں مسدود کر دیتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں جہاں سسٹم اور میرٹ نام کی چیز موجود ہی نہیں ایسے میں اس عادت نے معاشرے کی حالت دگر گوں کر دی ہے کوئی بھی شخص اختلافِ رائے کی جرات نہیں کرتا اور اگر کوئی کرتا بھی ہے تو اسے ذاتی عناد اور دشمنی کا نام دے دیا جاتا ہے۔ ہمارا دین اسلام بھی اس فعل کی سخت مذمت کرتا ہے۔ حضرت معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے سنا ایک دوسرے کی خوشامد اور بے جا تعریف سے بچو کیونکہ یہ ذبح کرنے ہلاک کرنے کے مترادف ہے۔ امام شافی کا قول ہے کہ '' جو تمہارے ایسے اوصاف بیان کرے جو تم میں نہ ہوں وہ تمہارے ایسے عیوب بھی بیان کرے گا جو تم میں نہیں ہوں گے'' اسی طرح امام احمد بن حنبل کہتے ہیں کہ '' دشمن سے ہمیشہ بچو، لیکن دوست سے اس وقت بچو جب وہ تمہاری تعریف کرے۔'' چاپلوسی، منافقت اور خوشامد سے افراد اور قومیں کبھی بھی ترقی نہیں کر سکتی اس لیے ہمیں اپنے معاشرے میں اختلافِ رائے کو سننے اسے برداشت کرنے اور اس سے مثبت نتیجہ نکالنے کی روایات کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔ اللہ تعالی ہمیں اسلام کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا کرے۔ آمین

جگہ براۓ اشتہار

جگہ براۓ اشتہار