منطق

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ * لا الہٰ الا اللہ محمّد رسول اللہ * قُلْ هُوَ اللّـٰهُ اَحَدٌ - اَللَّـهُ الصَّمَدُ - لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُوْلَدْ - وَلَمْ يَكُنْ لَّـهٝ كُفُوًا اَحَدٌ

2017-06-23 07:20:58    70 Views کثرت ازدواج - کیا عورت کی حق تلفی ہے؟  /  ثمرینہ علی

کثرت ازدواج - کیا عورت کی حق تلفی ہے؟

آج ہمارے معاشرے معاشرے میں ترقی پسندیدیت اور روشن خیالی کے نام پر ایسے بہت سے رحجانات مقبولیت اختیار کر چکے ہیں جو کہ براہِ راست اسلام کی تعلیمات سے متصادم ہیں۔ ان میں اسے ایک اہم مسئلہ کثرتِ ازداج بھی ہے بلکہ پاک و ہند کے مخصوص معاشرتی پس منظر کی وجہ سے یہ ایک Taboo کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ کچھ دن پہلے ایک خاتون کی جانب سے ایک نہایت جذباتی تحریر پڑھنے کا اتفاق ہوا جسمیں خاتون اپنے احساسات اور جذبات کی دہائی دیتے ہوئے تحریر کرتی ہیں کہ ۱-'' جس فرد کے ساتھ زندگی گزارنے کے حسین خواب دیکھے ہوں تو اس کی محبت میں کسی اور کی شراکت کیونکر برادشت کی جا سکتی ہے؟'' ۲-آگے چل کر مذید فرماتی ہیں کہ '' انہیں تاریخ سے کثرت ازدواج کی مثال نہ دی جائے اور نہ ہی بزرگوں میں تعداد ازدواج کا بتایا جائے کیونکہ یہ سراسر مردانہ بالادستی ہے جس کے ذریعے مرد ان بزرگوں کی آڑ لیتے ہوئے عورتوں کے ساتھ حق تلفی اور نا انصافی کرتے ہیں''۔ ۳-مزید آگے چل کر کہتی ہیں کہ '' جب مرد یہ برداشت نہیں کر سکتے کہ آپ کے نام کی مہر لگی ہوئی خاتون کو کوئی اور دیکھے تو خود ایسا کیوں کرتے ہیں؟؟ '' ۱- ایک خاتون ہونے کے ناطے میں اچھی طرح سمجھتی ہوں کہ تخلیقِ صنف نازک میں اللہ سبحان تعالی نے جذبات و احساسات کی فراوانی رکھی ہے۔ لیکن جذبات و احساسات کی فروانی کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ وہ کمزور ہے۔ ارشادِ باری تعالی ہے '' الذی خلقکم من نفس واحدۃ '' یعنی مرد اور عورت کو ایک ہی نفس سے پیدا کیا۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ خلقی اعتبار سے مرد و زن برابر ہیں اور انہیں ایک ہی قسم فکر، ارادوں ، صلاحتوں، طاقتوں اور جذبات کے ساتھ پیدا کیا۔ اگر کوئی بات کسی مرد کے لیے پسندیدہ ہے تو اسے عورت بھی پسند کرسکتی ہے اور اگر کوئی بات ناپسندیدہ ہے تو یہ عورت بھی اسے نا پسند کر سکتی ہے۔ عورت میں جذبات کی فروانی ہی جو کہ اسے اسے سردیوں میں اپنے شیرخوار کی گیلی جگہ پر سلاتا ہے، اپنوں کو کسی تکلیف یا مشکل میں دیکھتے ہوئے اپنے جذبات و ضروریات کو ایک طرف رکھتے ہوئے ان کے لیے ایثار و قربانی کرنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ یہی جذبہ ہے جو اسے ہر مشکل اور کٹھن صورتحال میں مردانہ وار مقابلہ کرنے کی جرات دیتا ہے۔ ہم عام مشاہدہ کر سکتے ہیں کہ ایک بیوہ عورت کسی قسم کے وسائل نہ ہونے کے باوجود اپنے بچوں کی خاطر دوڑ دھوپ کرنے گھر سے باہر نکل آتی ہے اور ہر مشکل کا مقابلہ کرتی ہے۔ لیکن اگر انہیں جذبات کو عورت اپنی کمزوری بنا لے تو تحریر کرنے والی خاتون کی کیفیت پیدا ہوتی ہے۔ جب کوئی عورت کسی سے شادی کرتی ہے تو وہ مرد بلا شرکتِ غیرے صرف اسی کا ہی نہیں ہوتا۔ بلکہ اس کا ''کچھ'' بننے سے پہلے بہت سے رشتوں سے جڑا ہوتاہے۔جب ہم ان رشتوں کے ساتھ اپنے شوہر کی شرکت گوارا کر لیتے ہیں تو پھر کسی دوسری عورت کے ساتھ کیوں نہیں ؟؟ کسی بھی چیز میں کسی دوسرے کی'' شراکت ''مشکل ضرور ہوتی ہے لیکن بعض صورتوں میں '' لازمی '' ہو جاتی ہے۔ ایک عورت کے لیے یہ اتنا مشکل کام نہیں ہے جتنا میری بہن نے اپنے جذباتی پن کی وجہ سے بیان کیا ہے۔ ۲- ایک مسلم خاتون ہونے کے ناطے ہمارے لیے یہ سمجھنا بہت ضروری ہے کہ اگر اللہ تعالی نے مردوں کو چار شادیوں کی اجازت دی ہے تو اس کی وجہ کیا ہے؟؟؟ کیا اس کی وجہ مردوں کی بالا دستی ہے ؟؟؟ اور زیادہ شادیاں کرنے سے خواتین کی حق تلفی ہوتی ہے؟؟ '' مرد دوسری خواتین میں دلچسپی کیوں لیتا ہے ؟'' کے حوالے سے ایک ریسرچ پڑھی جو کہ درج ذیل نکات پر مشتمل تھی۔ - مرد حیاتیاتی نقطہ نظر سے خلقی طور پر خواتین کی طرف کھینچتا چلا جاتا ہے اور کھینچنے والی قوت جنسی تسکین کی خواہش ہوتی ہے۔ - عورتوں کی نسبت مرد آسانی سے آمادہ رومان ہو جاتے ہیں اور فریق مخالف سے ہر قیمت پر وابستہ رہنا چاہتے ہیں۔ اس کی ظاہری وجہ قدرتی کیمیکل '' پی ای اے '' ہے جو خواتین کی نسبت مردوں پر زیادہ اثر انداز ہوتا ہے۔ - مردوں میں حیاتی کیمیائی مادہ '' ٹیسٹرون'' عورتوں کی با نسبت دس سے بیس گنا زیادہ پایا جاتا ہے جو ان کی جنسی خواہش کو بڑھاتا ہے۔ اسکے علاوہ اگر ہم دنیا کی آبادی کا جائیزہ لیں تو مرد و زن کی تعداد قریب قریب برابر ہوتی ہے لیکن کچھ معاشروں میں مردوں کی تعداد زیادہ ہوتی ہے اور کچھ میں عورتوں کی ۔ طبی ریسرچیز کہتی ہیں کہ بچیوں کی قوتِ مدافعت لڑکوں کی نسبت زیادہ ہوتی ہے ۔ اسلیے لڑکوں کی نسبت لڑکیاں کی تعداد زیادہ ہوتی ہیں ۔ اس کے علاوہ دنیا بھر میں ہونے والے مختلف حادثات اور جنگوں میں مرنے والے افراد میں زیادہ تر مرد حضرات ہوتے ہیں ، تو لازمی بات ہے کہ معاشرے میں عوتوں کی تعداد میں اضافہ ہو جائے گا۔ اس کے علاوہ بعض جگہوں پر عورتوں کی تعداد مردوں کی نسبت زیادہ ہوتی ہے۔ چونکہ عورت صنفی اعتبار سے نازک اور جذباتی واقع ہوئی ہے تو لامحالہ عورت کو ایک مرد کے معاشی و جذباتی سہارے کی ضرورت ہے تو بیوہ خواتین یا جن معاشروں میں عورتوں کی تعداد زیادہ ہوگی وہاں کی عورتیں کس سے سہارا طلب کریں؟؟ اور سہارا نہ ہونے کی صورت میں اپنے جذبات کی بدولت کیا برائی کی طرف مائل نہ ہونگی؟؟؟ اب ایک فطری طلب کو اور بعض صورتوں میں معاشرتی محبوری کو '' بالادستی '' کا نام دینا جائیز ہے یا ناجائیز؟؟ فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے۔ اب بات کرتے ہیں کثرت ازدواج کے متعلق احکام کی ۔۔۔ اگر ہم دنیا کے مختلف مذاہب کا جائیزہ لیں تو یہودیت، عیسائیت سمیت ہندو مت میں بھی کثرتِ ازدواج کا رواج ملتا ہے بلکہ ایک ساتھ دو بہنوں کو بیویاں بنانے کا رواج بھی ملتا ہے اور تعداد میں کسی قسم کی پابندی نہیں ملتی ۔ یہودیوں نے کثرت ازدواج پر ۱۹۵۰ء میں پابندی لگائی اسی طرح عیسائیت میں بھی کتھولک فرقہ ایک شادی پر سختی سے عمل درآمد کرواتا ہے، اسی طرح ہندوستان میں بھی کثرت ازدواج پر پابندی ۱۹۵۴ء میں لگائی گئی۔ اب اگر ہم اسلام میں کثرتِ ازدواج کے بارے میں فرمانِ الہی دیکھیں تو سورہ النساء کی آیت ۳ کا ترجمہ ہے : ''اور اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ تم یتیم لڑکیوں کے بارے میں انصاف نہ کر سکو گے تو ان عورتوں سے نکاح کرو جو تمہارے لیے پسندیدہ اور حلال ہوں ، دو دو اور تین تین اور چار چار [ مگر یہ اجازت بشرطِ عدل ہے ]، پھر اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ تم [ زائد بیویوں میں ] عدل نہ کر سکو گے تو صف ایک ہی عورت سے [ نکاح کرو] یا وہ کنیزیں جو [ شرعاََ ] تمہاری ملکیت میں آئی ہوں ، یہ بات اس سے قریب تر ہے کہ تم سے ظلم نہ ہو۔ '' اس حکم کے ذریعے اللہ تعالی نے شادیوں کی تعداد کی حد مقرر کردی ، جبکہ دیگر مذاہب میں ایسی کوئی پابندی نہیں تھی۔ اور ساتھ ہی شرط بھی عائد کردی '' عدل '' کی اور کہا کہ اگر عدل نہ کر سکو تو صرف ایک ہی عورت سے نکاح کرو۔ اسی صورت میں آگے آیت ۱۲۹ میں مردوں کو ان کی فطرت کے بارے میں بتا کر انہیں تنبیہہ کی گئی ترجمہ : '' اور تم ہرگز اس بات کی طاقت نہیں رکھتے کہ [ ایک سے زائد ] بیویوں کے درمیان [ پورا پورا ] عدل کرسکو اگرچہ تم کتنا بھی چاہو۔ پس [ ایک کی طرف ] پورے میلان طبع کے ساتھ[ یوں] نہ جھک جاو کہ دوسری کو [درمیان] میں لٹکتی ہوئی چیز کی طرح چھوڑ دو۔ اور اگر تم اصلاح کر لو اور [حق تلفی و زیادتی] سے بچتے رہو تو اللہ بڑا بخشنے والا نہایت مہربان ہے۔ '' دونوں آیات سے واضح ہو جاتا ہے کہ دوسری شادی ایک لازمی حکم نہیں ہے [ جیسا کہ بعض مرد کہتے ہیں ] بلکہ مرد کی فطرت کو دیکھتے ہوئے یہ ایک شرائط اور تنبیہہ کے ساتھ دی جانے والی اجازت ہے اور ضابطہ ہے ۔ اگر ہمارے معاشرے میں رائج جاہلانہ جہالت کے سبب ایک مرد ایک سے زائد شادیاں کرتا ہے اور ان کے درمیان انصاف کے تقاضے پورے نہیں کرتا تو وہ اس کا جوابدہ ہے۔ نہ صرف اللہ کو بلکہ اسکی بیوی اور معاشرہ اسلام کے واضح حکم کے تحت اس سے جواب طلب کر سکتا ہے۔ جس کا کہ ہمارے معاشرے میں بالکل بھی رواج نہیں ۔ اس میں قصور اسلام کا نہیں بلکہ ہمارا ہے جنہیں نہ تو اپنے فرائض کا علم ہے اور نہ ہی حقوق کا۔۔۔ بس الزام سیدھا مذہب پر دھر دیتے ہیں ۔ ایسے میں یہ کہنا کہ مرد کو ایک سے زائد شادیوں کی اجازت دینا بیوی کی '' حق تلفی '' تو اس کے اس جاہلانہ رویہ پر افسوس ہی کیا جاسکتاہے۔ ۳- تیسری بات جو کہ بہن نے کی اگر مرد یہ برداشت نہیں کر سکتے کہ ان کے نام سے منسوب عورت کو کوئی دیکھے تو خود ایسا کیوں کرتے ہیں؟؟ مرد خود سے منسوب عورت کے لیے کسی اور کا دیکھنا برداشت نہیں کرتے تو یہ بھی ان کی فطرت میں شامل ہے۔ تاریخ عالم پر نظر دوڑا لیں لا تعداد ایسی جنگوں ، قتل و غارت کی داستانیں مل جائیں گی جس کی بنیادی وجہ عورت کی وجہ سے ہونے والی رقابت بنی۔ جہاں تک رہ گیا کہ '' خود کیوں ایسا کرتے ہیں '' تو جب مرد کی فطرت میں عورت کی طرف میلان زیادہ ہے اور اس پر معاشرے میں آزادنہ مرد و زن کا اختلاط عام ہوگا تو ظاہر ہے مرد اپنی فطرت کی وجہ سے ایسا تو کرے گا۔ اب یا تو ترقی پسندیدیت اور روشن خیالی کے نام پر ہونے والے آزادانہ اختلاط پر پابندی لگائیں یا مرد کی فطرت کو برداشت کریں ۔ کہ اسی روشن خیالی اور ترقی پسندیدیت کی دین ہے کہ ہمارے ہاں عورت کا گھر رہنا ایک '' قید '' کے مترادف سمجھا جانے لگا ہے۔ ہمارے معاشرے میں ترقی پسندیدیت اور روشن خیالی کی بدولت آزادانہ اختلاطِ مرد و زن بڑھ گیا ہے جس کی وجہ سے صنفی خواہش اور تلذذ کو بھڑکانے کے عوامل اور محرکات میں اضافہ ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مرد اپنی بیوی کے علاوہ دوسری خواتین سے تعلقات بڑھانے میں عار محسوس نہیں کرتا لیکن ان تعلقات کو قانونی شکل دینے سے کتراتا ہے کیونکہ ہمارے معاشرے میں رائج چلن اس کے لیے بہانے کا کام کرتے ہیں ۔ اور وہ پہلی بیوی کے ردِ عمل کا۔ یہ اسی روشن خیالی اور ترقی پسندیدیت کی ہی دین کہ معاشرے میں '' نکاح '' سے زیادہ '' زنا عام ہوگیا ہے۔ ناجائیز بچوں کی شرح میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ نکاح کی صورت میں مرد پابند ہو جاتا ہے عورت اور اسکے ہونے والے بچوں کے نان و نفقے کا۔ اور مرد انہیں ذمہ داریوں سے فراریت کے لیے پہلی بیوی کو بطور ہتھیار استعمال کرتے ہیں اور ہم مسلم بیویاں اسلام کے دیئے گئے احکام کو سمجھے بغیر دوسری شادی میں رکاوٹ بن جاتی ہیں اور معاشرے میں '' زنا '' کے اضافے کا سبب بنتی ہیں اور اللہ تعالی کی نافرمانی کی موجب بھی ٹھہرتی ہے۔ معاشرے میں '' زنا '' کے عام ہونے سے بہتر ہے '' نکاح '' عام ہو جائے ۔ اسی میں خیر کا پہلو ہے۔ اللہ تعالی ہمیں دینِ اسلام کو سمجھنے اور عمل کرنے کی توفیق عطا کرے ۔ آمین 

جگہ براۓ اشتہار

جگہ براۓ اشتہار