منطق

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ * لا الہٰ الا اللہ محمّد رسول اللہ * قُلْ هُوَ اللّـٰهُ اَحَدٌ - اَللَّـهُ الصَّمَدُ - لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُوْلَدْ - وَلَمْ يَكُنْ لَّـهٝ كُفُوًا اَحَدٌ

2017-06-20 22:02:53    58 Views قرآن اور مقامِ انسانیت  /  صباءسعید

قرآن اور مقامِ انسانیت

قرآن اور مقامِ انسانیت اللہ پاک نے انسان کو اپنی شاہکار تخلیق بنایا. اسے عقل, ذہانت اور شعور بخشا. بہترین صورت گری فرمائی. دنیا کے تمام مخلوقات پر نا صرف اسے برتری دی بلکہ تمام مخلوقات کو اس کے تابع فرمادیا. اس کے لیے رزق کا بہترین بندوبست فرمایا. اسے جسمانی طاقت کے ساتھ ساتھ ذہنی صلاحیت سے نوازہ. اسے علم سکھایا. اشرف المخلوق کا نام دیا. قرآن کی عالی ترین تعریفیں بھی انسان کے بارے میں ہیں اور سخت ترین مذمت بھی. انسان کو کائنات کو مسخر کرنے والا بھی بتایا گیا اور فرشتوں سے برتر مقام بھی دیا گیا. اخلاق و کردار کا بہترین نمونہ قرار دیاگیا. اور انسانیت کے لیے رحمت بھی بتایاگیا. ساتھ ہی ساتھ انسان کے بدترین روپ کا تذکرہ بھی کیا گیا . اور بتایا کہ انسان اپنے بُرے اعمال کی پاداش میں اسفل السافلین میں بھی گر سکتا ہے. اپنے غلط محرکات کی بدولت جہل کا سردار کہلا سکتا ہے. ابلیس کا پیروکار بن سکتا ہے. اور انسانیت کے لیے دہشت و بربریت کی مثال بھی بن سکتا ہے. اللہ پاک قرآن پاک میں انسانیت کے بلند ترین کرداروں کا تذکرہ کچھ ایسے فرماتے ہیں.

انسان بحیثیت خلیفہ

وَ اِذْ قَالَ رَبُّکَ لِلْمَلٰٓئِکَۃِ اِنِّیْ جَاعِلٌ فِی الْاَرْضِ خَلِیْفَۃً قَالُوْٓا اَتَجْعَلُ فِیْہَا مَنْ یُّفْسِدُ فِیْہَا وَیَسْفِکُ الدِّمَآء َ وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِکَ وَنُقَدِّسُ لَکَ قَالَ اِنِّیْٓ اَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ() ’’اور یاد کرو جب تمہارے رب نے فرشتوں سے فرمایامیں زمین میں اپنا نائب بنانے والا ہوں ۔بولے کیا ایسے کو نائب کرے گا جو اس میں فساد پھیلائے اور خونریزیاں کرے اور ہم تجھے سراہتے ہوئے تیری تسبیح کرتے اور تیری پاکی بولتے ہیں فرمایا مجھے معلوم ہے جو تم نہیں جانتے ۔‘‘ ( سورہ بقرہ، آیت ۳۰)

مقام و مرتبہ

وَہُوَ الَّذِیْ جَعَلَکُمْ خَلٰٓئِفَ الْاَرْضِ وَرَفَعَ بَعْضَکُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجٰتٍ لِّیَبْلُوَکُمْ فِیْ مَآ اٰتٰیکُمْ اِنَّ رَبَّکَ سَرِیْعُ الْعِقَابِ وَ اِنَّہ لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ ’’اور وہی ہے جس نے زمین میں تمہیں نائب کیا اور تم میں ایک کو دوسرے پر درجوں بلندی دی کہ تمہیں آزمائے اس چیز میں جو تمہیں عطا کی بے شک تمہارے رب کو عذاب کرتے دیر نہیں لگتی اور بے شک وہ ضرور بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ (سورہ انعام ،آیت ۱۶۵)۔

علمی استعداد میں تمام مخلوقات پر برتری

وَعَلَّمَ اٰدَمَ الْاَسْمَآء َ کُلَّہَا ثُمَّ عَرَضَہُمْ عَلَی الْمَلٰٓئِکَۃِ فَقَالَ اَنْبِـُوْنِیْ بِاَسْمَآء ِ ہٰٓؤُلَآء ِ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ() ’’اور اللّٰہ تعالیٰ نے آدم کو تمام اشیاء کے نام سکھائے پھر سب اشیاء ملائکہ پر پیش کرکے فرمایا سچے ہو تو ان کے نام تو بتاؤ ۔‘‘ ( پ ۱،سورہ بقرہ ِآیت۳۱)۔

یک اور مقام پر ارشادربانی ہے

قَالُوْا سُبْحٰنَکَ لَا عِلْمَ لَنَآ اِلَّا مَا عَلَّمْتَنَا اِنَّکَ اَنْتَ الْعَلِیْمُ الْحَکِیْمُ() ’’بولے پاکی ہے تجھے ہمیں کچھ علم نہیں مگر جتنا تو نے ہمیں سکھایا بے شک تو ہی علم و حکمت والا ہے۔ ‘‘( پ۱،سورہ بقرہ، ِآیت ۳۲ )

مخلوق کی خالق سے شناسائی وَ اِذْ اَخَذَ رَبُّکَ مِنْ بَنِیْٓ اٰدَمَ مِنْ ظُہُوْرِہِمْ ذُرِّیَّتَہُمْ وَاَشْہَدَہُمْ عَلٰٓی اَنْفُسِہِمْ اَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ قَالُوْا بَلٰی شَہِدْنَا اَنْ تَقُوْلُوْا یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ اِنَّا کُنَّا عَنْ ہٰذَا غٰفِلِیْنَ()۔ ’’اور اے محبوب یاد کرو جب تمہارے رب نے اولاد آدم کی پشت سے انکی نسل نکالی اور انہیں خود ان پر گواہ کیا،کیا میں تمہارا رب نہیں سب بولے کیوں نہیں ہم گواہ ہوئے کہ کہیں قیامت کے دن کہو کہ ہمیں اس کی خبر نہ تھی۔‘‘( سورہ اعراف آیت ۱۷۲)

خالق کی دی ہوئی ذمہ داری کا امین

اِنَّا عَرَضْنَا الْاَمَانَۃَ عَلَی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ الْجِبَالِ فَاَبَیْنَ اَنْ یَّحْمِلْنَہَا وَ اَشْفَقْنَ مِنْہَا وَ حَمَلَہَا الْاِنْسٰنُ اِنَّہ کَانَ ظَلُوْمًا جَہُوْلًا ()۔ ’’بیشک ہم نے امانت پیش فرمائی آسمانوں اور زمین اور پہاڑوں پر تو انہوں نے اس کے اٹھانے سے انکار کیا اور اس سے ڈر گئے اور آدمی نے اٹھالی بیشک وہ اپنی جان کو مشقت میں ڈالنے والا بڑا نادان ہے ۔‘‘ ( پ۲۲،سورہ احزاب، آیت ۷۲)

مخلوقات پر فضیلت

وَلَقَدْ کَرَّمْنَا بَنِیْٓ اٰدَمَ وَحَمَلْنٰہُمْ فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ وَرَزَقْنٰہُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ وَفَضَّلْنٰہُمْ عَلٰی کَثِیْرٍ مِّمَّنْ خَلَقْنَا تَفْضِیْلًا ۔’’اور بیشک ہم نے اولادِ آدم کو عزت دی اوران کو خشکی اور تری میں سوار کیا اور ان کو ستھری چیزیں روزی دیں اور ان کو اپنی بہت مخلوق سے افضل کیا ۔‘‘ (پ۱۵ سورہ بنی اسرائیل آیت۷۰)

قلبی اطمینان عطا فرمایا

اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَتَطْمَئِنُّ قُلُوْبُہُمْ بِذِکْرِ اللّٰہِ اَلَا بِذِکْرِ اللّٰہِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوْبُ ۔ ’’وہ جو ایمان لائے اور ان کے دل اللّٰہ کی یاد سے چین پاتے ہیں سن لو اللّٰہ کی یاد ہی میں دلوں کا چین ہے۔‘‘ ( سورہ رعد آیت۲۸)

نعمتیں تمام فرما دی

ہُوَ الَّذِیْ خَلَقَ لَکُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا ()ثُمَّ اسْتَوٰٓی اِلَی السَّمَآء ِ فَسَوّٰیہُنَّ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ وَہُوَ بِکُلِّ شَیْء ٍ عَلِیْمٌ()۔’’: وہی ہے جس نے تمہارے لئے بنایا جو کچھ زمین میں ہے پھر آسمان کی طرف استواء (قصد)فرمایا تو ٹھیک سات آسمان بنائے وہ سب کچھ جانتا ہے ۔‘‘ (پ۱،سورہ بقرہ آیت ۲۹)

اپنی نشانیوں سے شناسائی عطا فرمائی

سَخَّرَ لَکُمْ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا مِّنْہُ اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَکَّرُوْنَ ()’’ اور تمہارے لئے کام میں لگائے جو کچھ آسمانوں میں ہیں اور جو کچھ زمین میں اپنے حکم سے بے شک اس میں نشانیاں ہیں سوچنے والوں کے لئے ۔‘‘ ( پ۲۵،سورہ جاثیہ، آیت ۱۳)۔

قرآن پاک میں اللہ پاک انسانیت کے پست ترین کرداروں کا تذکرہ ایسے فرماتے ہیں. خالق سے غفلت

وَ لَا تَکُوْنُوْا کَالَّذِیْنَ نَسُوا اللّٰہَ فَاَنْسٰیہُمْ اَنْفُسَہُمْ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الْفٰسِقُوْنَ () ’’اور ان جیسے نہ ہو جو اللّٰہ کو بھول بیٹھے تو اللّٰہ نے انہیں بَلا میں ڈالا کہ اپنی جانیں یاد نہ رہیں وہی فاسق ہیں ۔‘‘ ( سورہ حشر آیت۱۹)

موت کے بعد غفلت کا انجام بتایا

لَقَدْ کُنْتَ فِیْ غَفْلَۃٍ مِّنْ ہٰذَا فَکَشَفْنَا عَنْکَ غِطَآء َکَ فَبَصَرُکَ الْیَوْمَ حَدِیْدٌ ()۔ ’’بیشک تو اس سے غفلت میں تھاتو ہم نے تجھ پر سے پردہ اٹھایا تو آج تیری نگاہ تیز ہے ۔‘‘ ( پ۲۶،سورہ ق ،آیت ۲۲)

کفار اور منافقوں سے جہاد کا حکم

یٰٓاَیُّہَا النَّبِیُّ جٰہِدِ الْکُفَّارَ وَالْمُنٰفِقِیْنَ وَاغْلُظْ عَلَیْہِمْ وَمَاْوٰیہُمْ جَہَنَّمُ وَبِئْسَ الْمَصِیْرُ ۔ ’’اے غیب کی خبریں دینے والے (نبی)جہاد فرماؤ کافروں اور منافقوں پراور ان پر سختی کرو اور ان کا ٹھکانا دوزخ ہے اور کیا ہی بری جگہ پلٹنے کی ۔‘‘ (پ۱۰،سور ۃ التوبۃ ،آیت:۷۳)۔

کفار کو ڈھیل

وَاَصْحٰبُ مَدْیَنَ وَکُذِّبَ مُوْسٰی فَاَمْلَیْتُ لِلْکٰفِرِیْنَ ثُمَّ اَخَذْتُہُمْ فَکَیْفَ کَانَ نَکِیْرِ () ’’اور مدین والے اور موسٰی کی تکذیب ہوئی تو میں نے کافروں کو ڈھیل دی پھر انہیں پکڑا تو کیسا ہوا میرا عذاب۔ ‘‘(پ۱۷،سورۃ الحج ،آیت۴۴)

جلد باز انسان

وَیَدْعُ الْاِنْسٰنُ بِالشَّرِّ دُعَآء َہ بِالْخَیْرِ وَکَانَ الْاِنْسٰنُ عَجُوْلًا () ۔ ’’اور آدمی برائی کی دعا کرتا ہے جیسے بھلائی مانگتا ہے اور آدمی بڑا جلد باز ہے ۔ ( پ۱۵،سورہ اسرائیل، آیت ۱۱)

غافل انسان کا تعارف اور انجام

وَلَقَدْ ذَرَاْنَا لِجَہَنَّمَ کَثِیْرًا مِّنَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ لَہُمْ قُلُوْبٌلَّایَفْقَہُوْنَ بِہَا وَلَہُمْ اَعْیُنٌ لَّایُبْصِرُوْنَ بِہَا وَلَہُمْ اٰذَانٌ لَّایَسْمَعُوْنَ بِہَا اُولٰٓئِکَ کَالْاَنْعٰمِ بَلْ ہُمْ اَضَلُّ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الْغٰفِلُوْنَ() ’’اور بے شک ہم نے جہنّم کے لئے پیدا کئے بہت جن اور آدمی وہ دل رکھتے ہیں جن میں سمجھ نہیں اور وہ آنکھیں جن سے دیکھتے نہیں اور وہ کان جن سے سنتے نہیں وہ چوپایوں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بڑھ کر گمراہ وہی غفلت میں پڑے ہیں۔‘‘ ( پ ۹،سورہ اعراف ،آیت۱۷۹ )

قرآن پاک کو اگر تعصب کی عینک اتار کر پڑھا جائے تو اللہ پاک نے اس میں واضح اپنے محبوب بندوں کا تعارف بہت خوبصورتی کے ساتھ دیا ہے. ساتھ ہی ساتھ انسان کی غفلت, ہٹ دھرمی, منافقت اور جلد بازی کے بارے میں بھی بتادیا اور ان دونوں طرح کے انسانوں کے انجام سے بھی خبردار فرما دیا. انسان کے سامنے اچھائی اور برائی کے راستے کھول کر بیان فرما دیے تاکہ وہ عقل و شعور کو بروئے کار لاتے ہوئے انسانیت کی معراج کو پا سکے. اللہ پاک فرماتے ہیں. :

وَالْعَصْرِ ()اِنَّ الْاِنْسٰنَ لَفِیْ خُسْرٍ ()اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ تَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَ تَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ() ’’اس زمانہِ محبوب کی قسم ۔بے شک آدمی ضرور نقصان میں ہے۔مگر جو ایمان لائے اور اچھے کام کئے اور ایک دوسرے کو حق کی تاکید کی اور ایک دوسرے کو صبر کی وصیت کی۔‘‘ (پ ۳۰،سورۃ العصر)

جگہ براۓ اشتہار

جگہ براۓ اشتہار