منطق

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ * لا الہٰ الا اللہ محمّد رسول اللہ * قُلْ هُوَ اللّـٰهُ اَحَدٌ - اَللَّـهُ الصَّمَدُ - لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُوْلَدْ - وَلَمْ يَكُنْ لَّـهٝ كُفُوًا اَحَدٌ

2017-06-19 08:59:13    42 Views زرے سے بھی کمتر اور خدا پرنکتہ چیں  /  لئیق احمد دانش

زرے سے بھی کمتر اور خدا پرنکتہ چیں

انسان بھی بہت عجیب چیز ہے ماننے پر آئے تو اپنے آپ کو بندر  کا پتر مان لے(ملحد) اور نہ ماننے پر آئے تو دنیا کے خالق کا بھی انکار کر دے ایک ملحد کہتا ہےکہ حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش اور انکی نبوت کا دعویٰ اور خدا کا تصور عجیب ہے ہم پہلے بات کرتے ہیں کہ عجیب کیا ہے آج سے 1400 سال پہلے جب ایک عظیم شخص نے جسے اسکے خالق نے قاسم بنا کر بھیجا اس نے دعویٰ کیا کہ میرا اور آپکا خالق وہ اللہ کی زات ہے جو مسبب الاسباب ہے یعنی ہر کام سبب کے تحت کرتا ہے جس نے ہمارے رہنے کیلئے آسمانی کائنات اور زمین جو اکائی میں جڑے ہوئے تھے انھیں پھاڑ کر جدا کر دیا (سورہ الانبیاء 30 ) تو اس وقت موجود لوگوں کے لیے*یہ عجیب تھا* پھر جب اسی شخص نے جسے اسکے خالق نے رحیم بنا کر بھیجا اس نے ایک دھماکے کے بعد کائنات کے وجود کا نظریہ پیش کیا (سورہ فلق 1-2) تو *یہ عجیب تھا* جب اسی لاجواب شخصیت نے جسے اسکے خالق نے دنیا کے لیے ناصر بنا کر بھیجا اس نے کہا کہ یہ چمکتے ہوئے ستارے گر پڑیں گے(توسورہ الانفطار2) تو *یہ عجیب تھا* پھر جب اس بے مثال شخصیت جسکو اسکے خالق نے کامل بنا کر بھیجا اس نے سورج کی روشنی ختم ہوجانے کا نظریہ پیش کیا (سورہ التکویر1)تو *یہ عجیب تھا* پھر جب اسی امین اور صادق شخصیت جسے اسکے خالق نےشھید اور گواہ بنا کر بھیجا اس نے سات آسمانوں کا نظریہ پیش کیا (سورہ النباء12) تو *یہ عجیب تھا* پھر جب اسی محسن انسانیت نے جسے اسکے خالق نے ولی بنا کر بھیجااس نے ان سات آسمانوں کے درمیان فاصلے کے نظریے کو پیش کیا (سورہ نوح 15)تو *یہ عجیب تھا* پھر جب اس نہایت ہی مشفیق شخصیت نے جسے اسکے خالق نے رشید بنا کر بھیجا اس نے نظاہر چمکتے ہوئے چاند کی خود کی روشنی نہیں ہے کا نظریہ پیش کیا (سورہ یونس 5 )تو *یہ عجیب تھا* پھر جب اسی مہربان شخصیت نے جسے اسکے خالق نے عادل بنا کر بھیجا اس نے چاند کے سفر کو اسکا گھٹنے اور بڑھنے کا نظریہ دیا (سورہ یٰسین 39) تو *یہ عجیب تھا* پھر جب اسی رحمت اللعالمین جسے اسکے خالق نے غیب کی خبریں دینے والا بنا کر بھیجا جب اس نے چاند تک پہنچ جانے کی خبر دی( سورہ الانشقاق 18-20) تو *یہ عجیب تھا* ایسی لاتعداد مثالیں ہیں کہ بیان کرتے کرتے ایک کتاب مرتب ہو جائے بہرحال *یہ سب عجیب تھا*مگر اس وقت *عجیب نہ رہا* جب سائنس نے اس عظیم شخصیت کے عظیم نظریے کو بگ بینگ کے نظریے کے تحت ثابت کردیا گیا یہ پھر اس عظیم شخصیت کا دوسرا عظیم نظریہ کہ جب ستارے گرپڑیں گے جو عجیب تھا مگر اس وقت *عجیب نہ رہا* جب سائنس نے ستاروں میں کشش ثقل کا نظام بگڑنے اور آپس میں ٹکرا کر گرجانے کے نظام کو مان لیا پھر جب اس عظیم شخصیت نے سورج کی روشنی ختم ہو جانے کا نظریہ پیش کیا تو *یہ عجیب* مگر اس وقت *عجیب نہ رہا* جب سائنس نے سورج کی عمر 9 ارب سال بتائی اسکے بعد یہ اپنی روشنی کھو کر بے نور ہو جائے گا اور قیامت آجائے گی کے نظریے کو مان لیا پھر جب اس عظیم شخصیت نے سات آسمانوں کا نظریہ پیش کیا تو *یہ عجیب تھا* مگر اس وقت *عجیب نہ رہا* جبکہ سائنس نے خلائی میدان سے بیرونی میدان تک سات آسمانوں کے نظریے کو قبول کیا پھر جب اس عظیم شخصیت نے آسمانوں کے بیچ کافی فاصلے کے عظیم نظریے کو پیش کیا تو *یہ عجیب تھا* مگر اس وقت *عجیب نہ رہا* جب سائنس نے آسمان کی پہلی تہہ کو 65 کھرب کلومیٹر کا فاصلہ بتایا اور آخری تہہ کو لا محدود اور عقل سے ماورا قرار دے کر آج کے عقل مند لوگوں کو اس چیلنج کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا اس عظیم شخصیت نے اس وقت چیلنج کیا تھا کہ اگر طاقت رکھتے ہو تو زمین و آسمان کے کنارے سے نکل جاؤ *یہ عجیب تھا* مگر اس وقت *یہ عجیب نہ رہا* جب اس چیلنج کے سامنے انسان اس وقت بے بس ہو گیا جب وہ ساتویں آسمان کی تہہ اور مسافت کے اندازوں سے بھی ماورا ہوگیا نکلنا تو دور کی بات پھر اس عظیم شخصیت نے جب چمکتے ہوئے چاند کو مٹی کا ایک گولا کہا تو *یہ عجیب تھا*مگر اس وقت *عجیب نہ رہا* جب سائنس نے ثابت کیا کہ چاند کی اپنی روشنی نہیں بلکہ وہ منعکس کرتا ہے پھر اس عظیم شخصیت نے جب چاند کے گھٹنے اور بڑھنے کو اسکے سفر کے مرہون منت جانا تو *یہ عجیب تھا* مگر اس وقت *عجیب نہ رہا*جب سائنس نے چاند کے اپنے مدار میں گردش کو اسکا گھٹنا اور برھنا قرار دیا پھر اس عظیم شخصیت نے جب چاند تک پہنچ جانے کی اس وقت پیشن گوئی کی جب گدھوں گھوڑوں اور اونٹوں پر سفر کیا جاتا تھا تو *یہ عجیب تھا* مگر اس وقت عجیب نہ رہا جب ناسا کی طرف سے نیل آرمسٹرانگ ایڈون بز اور کولنز نے اس غیب کے علم کو سچائی کا روپ دے کر دینا کو یہ بات ماننے پر مجبور کر دیا کہ اس عظیم شخصیت کا علم کمال تھا انکے نظریات کمال تھے انکی حق گوئی کمال تھی اور انکی باتوں کا اقرار کرنے والے کمال تھےاور پھر جب اس دور کا موجودہ ملحد جب یہ کہتا ہے کہ یہ عجیب کہانی ہے اور اسکے ماننے والے بیوقوف ہیں تو مجھے یہ بہت عجیب لگتا ہے کہ ہمارے نظام کائنات کے بنانے والے نے جب کھربوں سیاروں کو بنایا ان میں ایک چھوٹا سا سیارا سورج بنایا اس چھوٹے سے سیارے جسکا حجم اس پورے نظام میں ایک نقطے کے برابر ہے اب اس نقطے کے برابر جسم کے اردگرد مزید ایک چھوٹا سا سیارا زمین ہے جو اسکے ارد گرد گھوم رہا ہے اسکا اپنا حجم سورج جیسے نقطے کے سامنے اتنا ہی ہے کہ ایک لاکھ کم و بیش زمین اس نقطے میں سما جائے پھر اس زمین میں موجود ایسے ملحد جسکی صرف اتنی اوقات ہے جتنی کہ سمندر میں موجود ایک قطرہ اب اتنی اوقات رکھنے والا جب اتنے سپر پاور خالق پر انگلی اٹھاتا ہے تو حقیقت میں یہی *عجیب ہوتا ہے*جب ایک شخص اتنے بڑے نظام کائنات میں موجود اپنی اوقات سے بڑھ جاتا ہے تو وہ اپنے خالق پر انگلی اٹھاتا ہے تو یہی عجیب ہوتا ہے جب یہ بہت چھوٹی سی مخلوق اپنے اتنے عظیم خالق پر انگلی اٹھاتی ہے تو اس وقت اسکا خالق اپنا جبار اور قہار ہونا ظاہر کرتا ہے اور پوری پوری بستیوں کو ایک سبب کے تحت الٹ کر رکھ دیتا ہے تو اس وقت جب کوئی ملحد کہتا ہے کہ یہ بہت عجیب ہے تو واقعی یہ بہت عجیب ہوتا ہے جب ملحد اس عظیم ہستی جسے دنیا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نام سے جانتی ہے اسکی ہر ہر بات سائنس ثابت کر رہی ہے تو یہ کیونکر عجیب ہو سکتا ہے کہ اتنا سپر پاور خالق تخلیق آدم میں کن کہے اور فیکون کے ساتھ وہ چیز رونما نہ ہوجائے جب اس عظیم شخصیت کا کوئی بھی نظریہ جو بظاہر عجیب تھا مگر اب عجیب نہ رہا تو دنیا اس بات پر مجبور ہے کہ وہ شخصیت کے نظریے کو قبول کرے اور کن فیکون کے فیصلے کو مانے یا پھر اس عظیم شخصیت کے چیلنج کو قبول کرے جو کہتا ہے کہ میری بات مانو اگر نہیں تو پھر دلیل لاؤ اور میری بات کا رد کر کے دکھاؤ کیونکہ یہ اس عظیم شخصیت کے اپنے نظریے نہیں بلکہ یہ وہ حقائق ہیں جنکے تحت اس پاور فل خالق نے دنیا کو تخلیق کیا یہاں ایک چھوٹی سی بات بتا دوں کہ اسی ہستی نے یہ بھی فرما دیا کہ سمجھنے والوں کے لیے نشانیاں ہیں شاید ان سمجھنے والوں میں بندر کی اولاد کا شمار نہیں *********اور یہی عجیب ہے**********

جگہ براۓ اشتہار

جگہ براۓ اشتہار