منطق

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ * لا الہٰ الا اللہ محمّد رسول اللہ * قُلْ هُوَ اللّـٰهُ اَحَدٌ - اَللَّـهُ الصَّمَدُ - لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُوْلَدْ - وَلَمْ يَكُنْ لَّـهٝ كُفُوًا اَحَدٌ

2017-06-15 13:01:09    91 Views اسلام اور سائنس  /  محمد اسحاق قریشی

اسلام اور سائنس

سائنس عقل کے تابع ہے اور وحی عقل سے ماورا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔! اللہ رب العزت کی وحی کا پہلا لفظ تھا "اقراء " یعنی پڑھو ۔ لیکن "باسم ربک الذی خلق" اس رب کے نام کے ساتھ جس نے تمہیں پیدا کیا ! "خلق الانسان من علق" کس چیز سے پیدا فرمایا "علق" یعنی خون کے جمے ہوئے لوتھڑے سے ۔ مزید آگے فرمایا "علم الانسان مالم یعلم" یعنی انسان کو وہ سب سکھایا جو وہ پہلے نہیں جانتا تھا ۔ پہلی وحی میں ہی اللہ عزوجل نے انسان کی تخلیق کے متعلق آگاہ فرما دیا کہ انسان جمے ہوئے خون کے لوتھڑے سے پیدا کیا گیا ! اور اس انسان کو اللہ عزوجل نے وہ علم سکھایا جس نے اسے تمام مخلوقات میں سب زیادہ معزز و محترم اور شرف والا بنا دیا۔ جس نے انسان کو مسجود ملائکہ بنا کر تمام مخلوقات میں عزت بخشی !جس نے انسان کو عقل و شعور اور علم کی روشنی عطا فرما کر زمین پر اپنا نائب و خلیفہ بنایا ! اور انسان کو وہ سب کچھ سکھا دیا جس سے انسان اس سے قبل واقف تک نہ تھا ! انسان کو جو بھی علم ملا وہ اللہ رب العزت نے عطا فرمایا ! اللہ رب العزت نے انسان کے اندر تحقیق و جستجو کی لگن اور تڑپ پیدا کی ۔ اپنی آخری الہامی کتاب "قرآن عظیم" میں متعدد بار کائنات پر غور و فکر کرنے کی دعوت دی ! انسان کو مظاہر فطرت پر غور کرنے کی ترغیب دلائی ! دن کے رات میں بدلنے اور رات کے دن میں بدلنے کو اپنی نشانیاں قرار دیا ! ان نشانیوں میں غور و فکر اور تدبر کرنے کا حکم دیا ! فرمایا:۔ إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ وَاخْتِلاَفِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَالْفُلْكِ الَّتِي تَجْرِي فِي الْبَحْرِ بِمَا يَنفَعُ النَّاسَ وَمَا أَنزَلَ اللّهُ مِنَ السَّمَاء مِن مَّاء فَأَحْيَا بِهِ الأرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَبَثَّ فِيهَا مِن كُلِّ دَآبَّةٍ وَتَصْرِيفِ الرِّيَاحِ وَالسَّحَابِ الْمُسَخِّرِ بَيْنَ السَّمَاء وَالأَرْضِ لآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَعْقِلُونَ (البقرۃ ۔ 164) بیشک آسمانوں اور زمین کی پیدائش، رات اور دن کا ہیر پھیر ، کشتیوں کا لوگوں کو نفع دینے والی چیز کو لیے ہوئے سمندروں میں چلنا ، آسمان سے پانی اتار کر مردہ زمین کو زندہ کر دینا ، اس میں ہر قسم کے جانوروں کو پھیلادینا ، ہواؤں کے رخ بدلنا، اور بادل، جو آسمان اور زمین کے درمیان مسخر ہیں ۔،ان میں عقلمندوں کے لیے قدرتِ الہٰی کی نشانیاں ہیں " آج سائنس بھی اس بات کو تسلیم کرتی ہے کہ تخلیق کے وقت زمین انتہائی گرم تھی اور گیسوں سے گھری ہوئی تھی ۔اس حالت میں زمین پر پانی کی موجودگی ناممکن تھی ! زمین پر پانی کہاں سے آیا اس کی ابتداء کیسے ہوئی آج تک سائنس بتانے سے قاصر ہے سوائے تک بندیوں اور مفروضوں کے ! اور یہ پانی صرف زمین ہی پر کیوں آیا دیگر سیاروں پر کیوں نہیں اترا اس معاملے میں سائنس خاموش ہے ۔ یہاں اللہ عزوجل خالق و مالک کائنات فرماتا ہے " وَمَا أَنزَلَ اللّهُ مِنَ السَّمَاء مِن مَّاء فَأَحْيَا بِهِ الأرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا" یہ اللہ عزوجل ہی ہے جو آسمانوں سے پانی برسانے والا ہے مردہ زمین پر ! اس زمین پر جو اپنے اندر زندگی کو قائم رکھنے کی صلاحیت نہیں رکھتی ۔ اس مردہ زمین پر پانی برسا کر اسے زندہ کرنا یعنی اسے زندگی کو قائم رکھنے کے قابل بنانے والا اللہ عزوجل ہی تو ہے ! وہی تو ہے جو زمین کو زندہ کر کے اس میں جانداروں کا پیدا کرنے والا ہے ! وہی تو ہے جو ہواؤں کے رخ بدلتا ہے !وہی تو ہے جو دن کو رات میں اور رات کو دن میں بدلتا ہے ! وہی تو ہے جو ہر شئے کا خالق ہے ! وہی تو ہے جو اپنے منکرین کو یوں کہہ کر غور و فکر کی دعوت دیتا ہے :۔ " نَحْنُ خَلَقْنَاكُمْ فَلَوْلَا تُصَدِّقُونَ () أَفَرَأَيْتُمْ مَا تُمْنُونَ () أَأَنْتُمْ تَخْلُقُونَهُ أَمْ نَحْنُ الْخَالِقُونَ (الواقعہ:۵۷۔۵۹) ''ہم ہی نے تم سب کو پیدا کیا ہے پھر تم کیوں باور نہیں کرتے۔اچھاپھر یہ بتلائوکہ جو منی تم ٹپکاتے ہو۔ کیا اس کا (انسان)تم بناتے ہو یا پیدا کرنے والے ہم ہی ہیں۔ '' أَفَرَأَيْتُمْ مَا تَحْرُثُونَ () أأَنْتُمْ تَزْرَعُونَهُ أَمْ نَحْنُ الزَّارِعُونَ () لَوْ نَشَاءُ لَجَعَلْنَاهُ حُطَامًا فَظَلْتُمْ تَفَكَّهُونَ (الواقعہ:۶۳۔۶۵) ''اچھاپھریہ بھی بتلائو کہ تم جو کچھ بوتے ہو،اسے تم ہی اُگاتے ہو یا ہم اُگانے والے ہیں۔ اگر ہم چاہیں تو اسے ریزہ ریزہ کر ڈالیں اور تم حیرت کے ساتھ باتیں بناتے رہ جاؤ۔'' أَفَرَأَيْتُمُ النَّارَ الَّتِي تُورُونَ () أَأَنْتُمْ أَنْشَأْتُمْ شَجَرَتَهَا أَمْ نَحْنُ الْمُنْشِئُونَ (الواقعہ:۷۱،۷۲) کبھی تم نے خیال کیا کہ یہ آگ جو تم سلگاتے ہو، اس کا درخت تم نے پیدا کیا ہے یا اس کے پیدا کرنے والے ہم ہیں؟"'' اللہ عزوجل غور و فکر کرنے کی دعوت دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ غور تو کرو نطفے سے انسان تخلیق کرنے والا کون ہے ؟ بیج تم اگاتے ہو ؟ یا خالق کائنات؟ جس درخت کو جلا کر تم آگ حاصل کرتے ہو اس کا پیدا کرنے والا کون ہے ؟ یہ ایسے سوالات ہیں جن کے جواب سے سائنس قاصر ہے ! وَمِنْ آيَاتِهِ خَلْقُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافُ أَلْسِنَتِكُمْ وَأَلْوَانِكُمْ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ لِلْعَالِمِينَ (الروم:۲۲) ''اس( کی قدرت )کی نشانیوں میں سے آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور تمہاری زبانوں اور رنگتوں کا اختلاف (بھی ) ہے۔ دانش مندوں کے لیے اس میں یقینا بڑی نشانیاں ہیں ۔'' اتنی بڑی اور وسیع و عریض زمین اور اس پر چھت کی مانند آسمان اس کو کس نے پیدا کیا؟ کیا یہ سب کچھ یونہی بلاوجہ بلامقصد پیدا ہو گیا ؟ مذہب تو دور کی بات کیا عقل اس بات کو تسلیم کرتی ہے کہ اتنی بڑی زمین اور اتبا بڑا آسمان خود بخود ہی پیدا ہو گیا ؟ زمین کے ہر خطہ میں موجود انسانوں کی رنگت الگ الگ ہے کوئی سرخ ہے کوئی سفید کوئی کالا ہے کوئی سانولا، اسی حساب سے ہر ایک کی زبان بھی الگ الگ ہے ! کیا سائنس اور عقل اس کی کوئی توجیح کر سکتے ہیں ؟ جب انسان کی پیدائش کا مآخذ ایک تو رنگت و زبان الگ الگ کیوں ہیں ؟ کیا سائنس یہ بتا سکتی ہے کہ جانور جو گھاس چرتا ہے وہ اس کے پیٹ میں سے گوبر اور دودھ کی شکل میں کیسے الگ الگ ہو جاتی ہے ؟ الغرض کائنات کی ہر شئے کائنات کا ذرہ ذرہ مشیت الٰہی کے تابع ہے ! سائنس جہاں بے بسی کی انتہاؤں کی چھوتی نظر آتی ہے وہاں میرے رب کریم کی صدا آتی ہے "کن " ہو جا "فیکون" پس وہ ہو جاتا ہے سائنس لاکھ چاہے خالق کی موجودگی کا انکار نہیں کر سکتی ! کیونکہ انکار ایسے ایسے سوالات کو جنم دیتا ہے جن سے نبرد آزما ہونا سائنس کے بس کی بات نہیں ! سائنس کا علم محدود ہے ! اس کے نظریات میں تغیر و تبدل واقع ہوتا رہتا ہے ! آج ایک نظریہ پیش کرتی ہے کل اسی کی نفی کرتی نظر آتی ہے ! اس کے برعکس دین اسلام کے عقائد و نظریات اٹل، قطعی اور ناقابل تردید ہیں جن میں صدہا سال سے کسی بھی قسم کا تغیر و تبدل واقع نہیں ہوا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔! اس لیئے دین اسلام کو سائنس کی کسوٹی پر نہیں بلکہ سائنس کو دین اسلام کی کسوٹی پر پرکھنا ہی منطقی اور عقلی لحاظ سے درست ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔!

جگہ براۓ اشتہار

جگہ براۓ اشتہار