منطق

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ * لا الہٰ الا اللہ محمّد رسول اللہ * قُلْ هُوَ اللّـٰهُ اَحَدٌ - اَللَّـهُ الصَّمَدُ - لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُوْلَدْ - وَلَمْ يَكُنْ لَّـهٝ كُفُوًا اَحَدٌ

2017-06-15 03:36:59    67 Views عارضہ نرگسیت  /  صباءسعید

عارضہ نرگسیت

عارضہ نرگسیت
(معالج: لادینیت یا اسلام؟)

نرگسیت (Narcissism)
یونانی دیو مالائی قصوں میں نرگس ایک حسین شہزادی کا نام ہے. جو اپنے حسن جہاں سوز پر بے حد نازاں تھی. ایک بار جھیل میں غسل کرتے ہوئے شفاف پانی میں اسکی نگاہ اپنے ہی عکس جمیل پر پڑی تو اسی پر فریفتہ ہوگئ.
نرگسیت کی اصطلاح سگمنڈ فرائیڈ نے اسی قصے سے مستعار لی ہے. نرگسی شخصیت کا حامل خود بین,  خود پرست اور حُب ذات میں ڈُوبا ہوا ایک شخص ہے. جس کی تمام تر دلچسپیوں کا مرکز خود اسکا اپنا وجود ہے. انتہائی حالت میں ایسا شخص خبط عظمت اور احساسِ کبریائی کا شکار ہوجاتا ہے. اسکی توجہ اپنی ذات سے نہیں ہٹتی. اسے دوسرے تمام لوگ خود سے کمتر محسوس ہوتے ہیں. کبریائی کا زعم اس پر ایسا حاوی ہوتا ہے کہ وہ سمجھتا ہے یہ دنیا صرف اُسی کے لیے تخلیق کی گئ ہے. بسا اوقات وہ جنسی تنزلی کا اس قدر شکار ہوجاتا ہے کہ وہ جنسی جذبات کی تسکین کے لیے جنسیت کا فرق بھی سمجھ نہیں پاتا. نرگسی شخصیت کی پہچان کسی فرد کے پوشیدہ و ظاہری افکارواعمال اور گفتارو کردار کے بغور تجزیہ سے کی جاسکتی ہے. تاہم چند علامات حسبِ ذیل ہیں.
* ذوق خود آرائی
* توجہ طلبی
* بدگمانی 
* حسدو رقابت
* خوشامد پسندی
* ضعیف الاعتقادی
* غروروتکبر
ہم میں سے ہر انسان خواہ وہ مرد ہویا عورت کسی نہ کسی حد تک نرگسیت مزاج کا حامل ہے. اگر حدِ اعتدال پر رہیں تو نرگسیت شخصیت کی نشونما کا اہم جزو ثابت ہوتی ہے.  اب اعتدال پر بغیر اصول و ضوابط کے قائم نہیں رہا جاسکتا. وہ اصول و ضوابط جو انسانی نفسیات کو قابو میں رکھیں اور شخصیت و ذہنیت پر مثبت اثر انداز ہوں. مذہب اس سلسلے میں بہت اہم کردار ادا کرتا ہے. اورایسا مذہب جو فطرتِ انسانی پر مبنی اصول و ضوابط پیش کرتا ہو اس کی حقانیت کا اس سے بڑا ثبوت کیا ہوگا. دین اسلام فطرتِ انسانی کے تمام  اصول و ضوابط کی تعلیمات پر مبنی ہے. یہ  انسان کو غرورو تکبر, حسدورقابت, خوشامد پسندی, ذوق خود آرائی, توجہ طلبی, بدگمانی, ضعیف الاعتقادی جیسے جذبات و احسات کو معتدل رکھنے کی نہ صرف تعلیمات دیتا ہے بلکہ توجیحات بھی پیش کرتا ہے. اسکے ساتھ انسان کو سادگی, میانہ روی, خدمتِ خلق, عاجزی, عمدہ اخلاق اور اچھا گمان رکھنے کی تلقین کرتا ہے. جو بیک وقت باعث قلبِ سکینت وذہنی آسودگی کا سبب ہے.
اکثر دیکھنے میں آیا ہے جو لادینیت کا شکار ہوتے ہیں وہ نفسیاتی طور پر بھی کمزور ہوتے ہیں. احساسِ نرگسیت ان پر اسلیے زیادہ حاوی ہوتا ہے کہ وہ اپنے لیے مذہبی اصول و ضوابط کا انتخاب نہیں کرتے یا ایسے اصول و ضوابط منتخب کرتے ہیں جو نہ انسانی نفسیات کی تسکین کا باعث  بن سکتے ہیں اور نہ ہی معاشی اقدار و حقوق العباد کو پورا کرنے میں معاون ثابت ہوتے ہیں. انسان اپنی نرگسی نفسیات کو خود ساختہ اصولوں سے کبھی قابو نہیں رکھ سکا اور مستقبل میں بھی اس کے آثار کم ہی نظر آتے ہیں. لادین افراد اکثر اپنی ذات کے زعم میں مبتلا نظر آتے ہیں. اور چند افراد (جو انہی جیسی ذہنیت و اصولوں پر کاربند ہوتے ہیں) کے علاوہ سب کو کم تر اور کم علم سمجھتے ہیں. اور اسکا برملا اظہار کرتے بھی نظر آتے ہیں. جنسیت میں فرق کا امتزاج ان کے لیے ممکن نہیں ہوتا. اور ہم جنس پرستی کو نہ صرف درست سمجھتے ہیں بلکہ اس کی ترویج کرتے بھی نظر آتے ہیں. 
انسان کے خودساختہ قوانین اور اصول و ضوابط اگر اسکے لیے کافی ہوتے تو وہ خلافِ فطرتِ انسانی اور اخلاقی پستی کا شکار ہرگز نہ ہوتا.

جگہ براۓ اشتہار

جگہ براۓ اشتہار