منطق

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ * لا الہٰ الا اللہ محمّد رسول اللہ * قُلْ هُوَ اللّـٰهُ اَحَدٌ - اَللَّـهُ الصَّمَدُ - لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُوْلَدْ - وَلَمْ يَكُنْ لَّـهٝ كُفُوًا اَحَدٌ

2017-06-14 13:18:02    71 Views فتح مکہ ایک عظیم کامیابی  /  صباءسعید

فتح مکہ ایک عظیم کامیابی

فتح مکہ ایک عظیم کامیابی:

صلح حدیبیہ کا دس سالہ معاہدہ پورا ہونے کو ہی تھا کہ قریشِ مکہ کے ایک اتحادی قبیلے بنو بکر نے مسلمانوں کے اتحادی قبیلہ بنو خزاعہ پر حملہ کردیا. اس حملہ میں قریشِ مکہ بھی چہروں پر نقاب ڈالے شامل تھے . حملہ کے نتیجے میں بنو خزاعہ کا جانی اور مالی نقصان ہوا.
 
قریشِ مکہ کا سردار ابوسفیان اس صُلح کو جاری رکھنا چاہتا تھا لیکن قریشِ مکہ غلطی پر تھے انکی طرف سے معاہدہ کی خلاف ورزی کی گئ تھی. لہذا وہ مدینہ پہنچا اور اپنی بیٹی ام حبیبہ رض اللہ عنہا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجیت میں تھیں ان کے گھر پہنچا. ام حبیبہ رض اللہ عنہا نے رسول اللہ سے کمال وفاداری کا ثبوت دیا اور یہاں تک کہ ابوسفیان کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بستر مبارک پر بھی بیٹھنے کی اجازت نہ دی. ابو سفیان نے پوچھا بیٹی تم ایسا کیوں کرتی ہو. ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا آپ نجس ہیں اب تک اسلام قبول نہیں کیا.میں آپکو بسترِ رسول پر بیٹھنے کی اجازت نہیں دونگی. سب سے بڑھ کر آپ نے معاہدہ کی خلاف ورزی کی. لہذا یہاں سے چلے جائیے. 

ادھر بنو خزاعہ کے لوگ فریاد لے کر رسولِ پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچے اور شاعرانہ انداز میں انتہائی درد ناک طریقہ سے تمام صورت حال آپ کے گوش گزار کی. رسول پاک صلی اللہ وسلم نے بنو خزاعہ کی فریاد کے جواب میں انہیں تسلی دی اور مسلمانوں اور تمام اتحادیوں کو مکہ کی جانب کوچ کرنے کا حکم دیا.
 
دوسری طرف قریشِ مکہ کا سردار ابو سفیان فکر مندی سے اپنے کمرے کے چکر لگا رہا تھا. وہ جانتا تھا حملہ کا ردعمل ضرور آئے گا. لیکن رد عمل کیا آئے گا وہ بے خبر تھا. اسی چیز نے اسکی بے چینی میں کئ گنا اضافہ کردیا کہ آخر مسلمان اب کیا کریں گے.لوگوں کے خیال میں صلحِ حدیبیہ ابھی قائم تھی اس لیے کسی کے گمان میں نہ تھا کہ یہ تیاری مکہ جانے کے لیے ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مدینہ سے باہر جانے والے راستوں پر نگرانی بھی کروائی تاکہ یہ خبریں قریش کا کوئی جاسوس باہر نہ لے جائے۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دعا بھی کی کہ اے خدایا آنکھوں اور خبروں کو قریش سے پوشیدہ کر دے تاکہ ہم اچانک ان کے سروں پر ٹوٹ پڑیں.

 10 رمضان 8ھ کو روانگی ہوئی۔ کسی کو معلوم نہ تھا کہاں جانا ہے۔ ایک ہفتہ میں مدینہ سے مکہ کا فاصلہ طے ہو گیا۔ مکہ سے کچھ فاصلہ پر 'مرالظہران' کے مقام پر لشکرِ اسلام خیمہ زن ہو گیا۔ لوگوں کو معلوم ہو چکا تھا کہ مکہ کا ارادہ ہے۔ ابوسفیان مسلسل بے چینی کا شکار تھا. اس کی آنکھیں کئ راتوں کی بے خوابی کی وجہ سے سوجھی ہوئیں تھیں.  جنگ تو ہوئی نہیں مگر احوال کچھ یوں ہے کہ مر الظہران کے مقام پر حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تاکید کی کہ لشکر کو بکھیر دیا جائے اور آگ جلائی جائے تاکہ قریشِ مکہ یہ سمجھیں کہ لشکر بہت بڑا ہے اور بری طرح ڈر جائیں اور اس طرح شاید بغیر خونریزی کے مکہ فتح ہو جائے۔ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عظیم حکمت عملی کا ہی نتیجہ تھا کہ مکہ بڑی شان سے فتح ہوا.

 مشرکین کے سردار ابوسفیان نے دور سے لشکر کو دیکھا۔ ایک شخص نے کہا کہ یہ شاید بنو خزاعہ کے لوگ ہیں جو بدلہ لینے آئے ہیں مگر اس نے کہا کہ اتنا بڑا لشکر اور اتنی آگ بنو خزاعہ کے بس کی بات نہیں۔ اس کے بعد ابوسفیان حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے امان پانے کے لیے لشکرِ اسلام کی طرف حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چچا عباس کی پناہ میں چل پڑا۔ کچھ مسلمانوں نے اسے مارنا چاہا مگر چونکہ عباس بن عبدالمطلب نے پناہ دے رکھی تھی اس لیے باز آئے۔ رات کو قید میں رکھ کر صبح ابوسفیان کو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا گیا۔ ابو سفیان نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اسلام قبول کیا. اور ان سے امان مانگی. وہ عہدہ کا خواہاں تھا. رسول اللہ نے اس کی خواہش کو رد نہ کیا اور فرمایا جو ابوسفیان کے گھر پناہ لے وہ امان میں ہے. ابو سفیان کو واپس بھیج دیاگیا. ابو سفیان مکہ واپس آیا تو اس پر مسلمانوں کی ہیبت طاری تھی. 

ادھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لشکر کو چار حصوں میں ترتیب دے کر اس تاکید کے ساتھ مکہ میں داخل کیا کہ جو تم سے لڑے صرف اسی سے لڑو. جو اپنے گھر کا دروازہ بند کرلے یا ابوسفیان کے گھر پناہ لے اس پر ہتھیار نہ اٹھاؤ.چاروں طرف سے شہر کا محاصرہ کر لیا گیا اور مشرکین کے پاس ہتھیار ڈالنے کے علاوہ کوئی راستہ نہ رہا۔ صرف ایک چھوٹے گروہ نے لڑائی کی جس میں صفوان بن امیہ بن ابی خلف اور عکرمہ بن ابی جہل شامل تھے۔ ان کا ٹکراؤ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی قیادت کردہ دستے سے ہوا۔ مشرکین کے 28 افراد انتہائی ذلت سے مارے گئے۔ صفوان بن امیہ فرار ہوگیا. لیکن کچھ عرصہ بعد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر اسلام قبول کر لیا. ایسی حالت میں کہ وہ زار و زار روتا جاتا تھا. اسکی بیوی پہلے ہی مسلمان ہو چکی تھی. 

لشکر اسلام انتہائی فاتحانہ طریقہ سے شہرِ مکہ میں داخل ہوا جہاں سے آٹھ سال پہلے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ہجرت کرنا پڑی تھی۔ 17 رمضان المبارک 8 ہجری کو مکہ فتح ہوا. رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اونٹنی پر سوار تھے اور مکہ کی گلیوں اور چھتوں پر طلع البدرو علینا کی صدائیں بلند ہونے لگیں.

 کچھ آرام کے بعد حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مجاہدین کے ہمراہ کعبہ کہ طرف روانہ ہوئے۔ کعبہ پر نظر پڑتے ہی سواری کی ہی حالت میں حجرِ اسود کو بوسہ دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تکبیر بلند کرتے تھے اور لشکرِ اسلام آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے جواب میں تکبیر بلند کرتے تھے۔ کعبہ میں داخل ہونے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تمام تصاویر کو باہر نکال دیا اور تمام بتوں کو توڑ دیا۔ یہاں تک کہ کعبہ کو شرک کی تمام علامتوں سے پاک کر دیا۔ کعبہ میں اذان کے لیے بلال حبشی رضی اللہ عنہ کو بلایا جنہوں نے پر سوز آواز میں اذان دی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امامت میں مسلمانوں نے نماز پڑھی.

 مکہ والوں نے بڑے پرتپاک طریقہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا استقبال کیا. اللہ پاک نے اپنے حبیب کی اپنے مقدس شہر میں شان بلند کردی. قریش مکہ کے تمام مظالم جنہوں نے حبیب اللہ کو ہجرت پر مجبور کردیا تھا معاف فرما دیے گئے. اس موقع پر فاتح مکہ نے عام معافی کا اعلان کردیا. سب کو امان دی.صرف نو لوگوں کو سزا سنائی گئ جن کے جرائم انتہائی سنگین سازشوں اور گستاخیِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر مشتمل تھے. ان کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ وآلہ وسلم نے فرمایا انہیں قتل کردیا جائے. ان کے نام یہ ہیں.
(۱) عبد العزیٰ بن خَطل 
(۲) عبد اللہ بن سعد بن ابی سرح
(۳) عکرمہ بن ابی جہل 
(۴) حارث بن نُفیل بن وہب 
(۵) مقیس بن صبابہ 
(۶) ہبّار بن اسود 
(۷،۸) ابن ِ خطل کی دولونڈیاں جو نبیﷺ کی ہجو گایا کرتی تھیں 
(۹) سارہ جو اولاد عبدالمطلب میں سے کسی کی لونڈی تھی، اسی کے پاس حاطب کا خط پایا گیا تھا۔

بعد ازاں ان میں سے 5 نے اسلام قبول کرلیا اور 4 کو قتل کردیا گیا.

بے شک اللہ نے اپنا وعدہ پورا فرمایا اور اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر بلند فرما دیا

وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ

جگہ براۓ اشتہار

جگہ براۓ اشتہار