منطق

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ * لا الہٰ الا اللہ محمّد رسول اللہ * قُلْ هُوَ اللّـٰهُ اَحَدٌ - اَللَّـهُ الصَّمَدُ - لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُوْلَدْ - وَلَمْ يَكُنْ لَّـهٝ كُفُوًا اَحَدٌ

2017-06-13 04:09:30    59 Views توحید  /  محمد اسحاق قریشی

توحید

توحید

 اللہ واحد ہے اسکا کوئی شریک نہیں : جان لو انبیا و رسل کی دعوت کا خلاصہ توحید ہے سب سے پہلے نبی اپنی قوم کو توحید ہی کی دعوت دیتا ہے کما فی قولہ تعالی : ولقد بعثنا فی کل امة رسولا ان اعبدوااللہ واجتنبواالطاغوت ۔ نحل 36 وقال تعالی : وماارسلنا من قبلک من رسول الا نوحی الیہ انہ لاالہ الا انا فاعبدون ۔انبیاء 25 ۔
 کوئی شے خدا کی مثل نہیں : اس پر اتفاق ہے کہ کوئی شے خدا کی مثل نہیں ۔ نہ ذات میں نہ صفات میں اور نہ ہی افعال میں ' کمافی قولہ تعالی : لیس کمثلہ شیئ و ھو السمیع العلیم ۔ شوری 11 ۔ جو خدا کو مخلوق کے مشابہ بتاتے ہیں انکے رد میں مذکورہ آیت کا پہلا جز لیس کمثلہ شیئ فرمایا گیا اور جو خدا کی ذات کا تو اقرار کرتے ہیں مگر اسے معطل اور بےکار متصور کرتے ہیں انکے رد میں وھو السمیع البصیر فرمایا گیا 
 کوئی شے خدا کو عاجز اور تھکا نہیں سکتی کیونکہ اسکی قدرت کامل ہے قال تعالی : ان اللہ علی کل شیئ قدیر ۔ بقرہ 20 ۔ وقال : وکان اللہ علی کل شیئ مقتدرا : کھف 45 ۔ وقال تعالی : وماکان اللہ لیعجزہ من شیئ فی السماوات ولا فی الارض انہ کان علیما قدیرا ، فاطر 44 ۔ وسع کرسیہ السموات والارض ولا یوودہ حفظھما و ھو العلی العظیم : بقرہ 255 ۔ اسی طرح ہمارا خدا ظلم نہیں کرتا کیونکہ وہ اسکا عدل کامل ہے کقولہ تعالی : ولایظلم ربک احدا : کھف 49 ۔ کوئی شے اسکے علم سے خارج نہیں کیونکہ وہ کامل علم والا ہے کقولہ تعالی : لایعزب عنہ مثقال ذرة فی السماوات ولا فی الارض : سبا :4 ۔ وہ تھکتا نہیں کیونکہ اسکی قدرت کامل کقولہ تعالی : ومامسنا من لغوب : ق 38 وہ اپنی صفت حیات اور قیومیت میں کامل کما فی قولہ لا تاخذہ سنة ولا نوم : بقرہ : 255 ۔ کوئی مخلوق اسکی کنہ کا ادراک نہیں کرسکی کیونکہ اسکا جلال ' اسکی عظمت اور اسکی کبریائی کامل کمافی قولہ تعالی : لاتدرکہ الابصار :انعام 103 
اللہ قدیم بلا ابتداء دائم بلا انتہاء 
 خدا قدیم و ازلی و ابدی ہے : نہ اسکی ابتدا نہ اسکی انتہا ۔ وہ ذات غیر متناہی ہے کمافی قولہ تعالی : ھو الاول و الاخر : حدید 3 وقال صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم : اللہم انت الاول فلیس قبلک شیئ وانت الاخر فلیس بعدک شیئی :اخرجہ مسلم ، قول باری تعالی و حدیث کا مستفاد یہی کچھ ہے کہ مخلوق ساری متناہی اور خالق کائنات غیر متناہی ۔

لایفنی ولا یبید 
 اسکی ذات کو فنا نہیں قال تعالی : کل من علیھا فان ویبقی وجہ ربک ذو الجلال والاکرام : رحمان : 26 ' 27 ۔

ولایکون الا مایرید 
وہی ہوتا ہے جو وہ ارادہ کرتا ہے کما فی قولہ تعالی : ولکن اللہ یفعل مایرید : بقرہ 2533 ۔

لاتبلغہ الاوھام ولاتدرکہ الافہام 
 اوہام و افہام کی اسکی بارگاہ میں رسائی نہیں عقل اس راہ میں راندہ درگاہ ہی رہی عقول نے جتنا اس کی ذات میں سوچا پریشان ہی رہی ۔۔۔
وہ حی لا یموت ہے قیوم لاینام ہے وہ ذات خالق بلا حاجة ہے رازق بلامونة ہے '  ممیت بلا مخافة ہے اور باعث بلامشقة ہے 
 اسکی ذات کی کنہ اور حقیقت تک رسائی محال البتہ من وجہ جس قدر اسنے اپنے انبیاء کی معرفت کتب و صحائف میں ہمیں آگاہی بخشی سب پر ہمارا ایمان و اتقان ہے 

تحریر: ابوالحقائق احمد 

جگہ براۓ اشتہار

جگہ براۓ اشتہار